Skip to content
QR5273CH07


1

باب 7

پروجیکٹ کام کے لیے تجاویز

(Suggestions for Project Work)

یہ باب کچھ چھوٹے چھوٹے عملی تحقیقی منصوبوں کے بارے میں تجاویز پیش کرتا ہے جن پر آپ کام کرسکتے ہیں۔ تحقیق کے بارے میں پڑھنے اور اسے عملاً انجام دینے میں کافی فرق ہوتا ہے۔ کسی سوال کا جواب دینے کے لیے عملی تجربے کی کوشش کرنا اور منظم طریقے سے اس کی تصدیق کرنے والے کوائف اکٹھے کرنا ایک نہایت گراں قدر تجربہ ہے یہ تجربہ،امید ہے آپ کو سماجیاتی تحقیق کی کچھ دشواریوں سے ہی نہیں بلکہ اس کے محرکات سے بھی متعارف کرائے گا۔ اس باب کو پڑھنے سے پہلے براہ کرم ایک بار پھر گیارھویں جماعت کی درسی کتاب، سماجیات کا تعارف، کے با ب5 (سماجیات: تحقیقی طریقۂ کار) سے رجوع کریں۔
پروجکٹ کے سلسلے میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان میں ان امکانی مسائل کا خیال رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جو مختلف سیاق وسباق میں واقع مختلف طرح کے اسکولوں میں ایسے تحقیقی کاموں کے دوران اکثر طلبا کو پیش آسکتے ہیں۔ان کا مقصد محض تحقیق کے لیے ایک احساس پیدا کرنا ہے۔ ایک ’حقیقی‘ تحقیقی منصوبہ یقینا زیادہ تفصیلی ہوگا اور اسے انجام دینے کے لیے طلبا، کو اسکول میں دستیاب وقت سے کہیں زیادہ وقت دینے اور کوشش کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ صرف تجاویز ہی ہیں۔ آپ اپنے اساتذہ سے مشورہ کرکے اپنے خود کے دیگر تحقیقی منصوبوں پر کام کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
ہمیں ایک تحقیقی سوال پر کام کرنے کے لیے ایک مناسب یا موزوں تحقیقی طریقے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سوال کا جواب اکثر ایک سے زیادہ طریقوں سے دیا جاسکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک تحقیقی طریقہ سبھی سوالوں کے لیے موزوں ہو۔ دوسرے لفظوں میں زیادہ تر تحقیقی سوالوں کے لیے محقق کے پاس امکانی طریقوںک کو چننے کی آزادی ہوتی ہے لیکن یہ انتخاب عام طور پر محدود ہوتا ہے۔ تحقیقی سوال کے محتاط تعین کے بعد محقق کا سب سے پہلا کام مناسب طریقۂ کا رکا انتخاب کرنا ہوتاہے۔ یہ انتخاب تکنیکی کسوٹیوں ( یعنی سوال اور طریقۂ کار کے درمیان ہم آہنگی کا درجہ) کے مطابق ہی نہیں بلکہ عملی لحاظ سے کیا جانا چاہیے۔ اس عملی لحاظ میں کئی باتیں شامل ہوسکتی ہیں جیسے،تحقیق کے لیے دستیاب وقت کی مدت،لوگوں اور سامان دونوں کی شکل میں دستیاب وسائل،وہ حالات یا صورت حال جن میں تحقیق کی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔
مثال کے لیے، فرض کیجیے کہ آپ مخلوط تعلیم کے اسکولوں ، اور صرف لڑکوں،یاصرف لڑکیوں والے اسکولوں کے درمیان موازنہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ظاہر ہے،یہ ایک جامع موضوع ہے۔اس لیے سب سے پہلے آپ ایک خاص سوال تیار کریں جس کا آپ جواب دینا چاہتے ہوں۔ مثال کے لیے کیا مخلوط تعلیم کے اسکولوں کے طلبا صرف لڑکوں یا صرف لڑکیوںکے اسکولوں کے طلبا کی نسبت پڑھائی میں زیادہ بہتر مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیا صرف لڑکوں والے اسکول کھیل کود میں مخلوط تعلیم کے اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی نسبت زیادہ خوش رہتے ہیں یا اسی طرح کے دیگر سوالات۔ ایک مخصوص سوال چن لینے کے بعد اگلا قدم ہوتاہے موزوں طریقۂ کار کا انتخاب۔
آخری سوال کے لیے،کیا واحد جنس والے اسکولوں کے بچے زیادہ خوش رہتے ہیں؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے آپ مختلف طرح کے اسکولوں کے طلبا سے انٹرویوز کا طریقہ چن سکتے ہیں۔ انٹرویو کے طریقے میں آپ طلبا سے سیدھے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے اسکول کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔ پھر آپ اس طرح اکھٹیّ کیے گئے سوالوں کا تجزیہ یہ دیکھنے کے لیے کرسکتے ہیں کہ کیا مختلف قسم کے اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے جوابوں میں کیا کوئی اختلاف ہے؟ تحقیقی سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے لیے متبادل کے طو رپر ایک دوسرا طریقہ بھی اپنا سکتے ہیں جیسے کہ براہ راست مشاہدہ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو مخلوط تعلیم والے یا واحدصنف والے اسکولوں میں کچھ وقت یہ مشاہدہ کرنے میں گزارنا ہوگا کہ وہا ں کے طالب علم کیسا برتاؤ کرتے ہیں ۔آپ کو کچھ کسوٹیاں متعین کرنی ہوں گی جن کی بنیاد پر آپ یہ کہہ سکیں گے کہ طلبا اپنے اسکول سے کتنا خوش ہیں۔ اس طرح کافی وقت مختلف قسم کے اسکولوں کا عام مشاہدہ کرنے کے بعد آپ اپنے سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب دینے کی امید کرسکیں گے۔آپ ایک تیسرا طریقہ، سروے کا طریقۂ کا ربھی اپنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو طلبا سے ان کے اسکول کے بارے میں ان کے خیالات جاننے کے لیے ایک سوال نامہ تیار کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اپنے سوال نامے کو ہمیں ہر طرح کے اسکولوں میں یکساں تعداد میں طلبا کو تقسیم کرنا ہوگا۔ اس کے بعد آپ طلبا کے ذریعے پر کیے گئے ان سوال ناموں کو جمع کرکے ان کے نتائج کا تجزیہ کریں گے۔
یہاں کچھ عملی دشواریوں کی مثالیں دی گئی ہیں جو اس طرح کی تحقیق کرتے وقت شاید آپ کے سامنے آسکتی ہیں مان لیجیے کہ آپ سروے کرنے کا فیصلہ لیتے ہیں۔آپ کو سب سے پہلے سوال نامے کی بہت ساری کاپیاں تیار کرنی ہوں گی۔ اس کا م میں وقت، کوشش اور رقم لگتی ہے۔ اس کے بعد آپ کو طلبا کو ان کی جماعتوں میں سوال نامہ تقسیم کرنے کے لیے اساتذہ کی منظوری بھی لینی ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو پہلی بار میں یہ اجازت نہ ملے یا یہ کہہ دیا جائے کہ بعد میں آنا۔ سوال نامے کی تقسیم کے بعد یہ صورتِ حال بھی پیدا ہوسکتی ہے کہ جن طلبا کو آپ نے سوال نامہ دیاتھا، ان میں سے اکثر نے تو اسے پر کرکے واپس کرنے کی زحمت ہی نہ کی ہو یا سبھی سوالوں کے جواب ہی نہ دیے ہوں۔ اس طرح کے اور بھی کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ تب آپ کو یہ فیصلہ لینا ہوگا کہ ایسے مسائل سے کیسے نپٹا جائے۔ کیا ادھورے جواب دینے والے جواب دہندگان کے پاس جاکر یہ کہا جائے کہ وہ اپنے سوال نامے کو پوری طرح بھریں یا نا مکمل سوال ناموں کو ایک طرف چھوڑ کر ٹھیک سے بھرے گئے سوال ناموں پر ہی غور کیاجائے؟ پورے دیے گئے جوابات کی بنیاد پر ہی اپنا فیصلہ لیں وغیرہ۔ تحقیقی کام کے دوران آپ کو ایسے عملی مسائل سے نپٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

7.1  طریقۂ کار کی کثیرالجہتی

شاید آپ کو گیارھویں جماعت کی درسی کتاب سماجیات کا تعارف کے پانچویں باب میں تحقیقی طریقوں پر کی گئی بحث یا دہو۔ آپ کے پاس باب کے دوبارہ پڑھ کر  اپنی یادداشت کو تا زہ کرنے کا اچھا موقع ہے۔

سروے کا طریقۂ کار

سروے کے تحت عام طور پر متعین سوالوں کو نسبتاً بڑی تعداد میں لوگوں سے پوچھا جاتاہے( یہ2000,100,30یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے،بڑی تعداد سے مانا جائے گا کہ یہ سیاق وسباق اور موضوع کی قسم پر منحصر ہے)۔ یہ سوال تفتیش کنندہ کے ذریعے ذاتی طور پر پوچھے جاسکتے ہیں جہاں جواب دہندہ سوال سن کر ان کا جواب دیتا ہے اور تفتیش کنندہ ان سوالوں کے جواب لکھ لیتا ہے۔ یا سوال نامہ جواب دہندہ کو سونپ دیا جاتاہے اور جواب دینے والا خود ان سوالوں کو بھر کر تفتیش کنندہ کو واپس کردیتا ہے۔سروے کے طریقۂ کا ر کا خاص فائدہ یہ ہے کہ اس کے تحت ایک ساتھ کافی بڑی تعداد میں لوگوں کے خیالات جانے جاسکتے ہیں۔ اس لیے اس کے نتائج متعلقہ گروپ پریا آبادی کے خیالات کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں۔ اس طریقۂ کار کی کمزوری یہ ہے کہ اس کے ذریعہ جو سوال پوچھے جاتے ہیں وہ پہلے ہی سے متعین ہوتے ہیں۔  سوال پوچھتے وقت اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے اگر جواب دہندہ کسی سوال کو ٹھیک سے نہیں سمجھ پاتے تو غلط یا گمراہ کن تنائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی جواب دہندہ کوئی دلچسپ بات کہتا ہے تو اس کے بارے میں کوئی نئے سوال نہیں پوچھے جاسکتے کیوں کہ آپ کو سوال نامے کی متعین حدوں میں ہی رہنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ سوال نامے ایک خاص وقت پر کھینچی گئی تصویر کی طرح کی ہی تصویر پیش کرتے ہیں۔یہ صورت حال آگے چل کر بدل بھی سکتی ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے اس کی شکل آج جیسی نہ رہی ہو لیکن سروے میں اس بدلی ہوئی صورت حال کو شامل نہیں کیا جاسکتا۔

انٹرویو

انٹرویو، سروے سے اس طرح مختلف ہے کہ یہ ہمیشہ انفرادی طور پر کیا جاتا ہے اور اس طریقۂ کار میں نسبتاً کافی کم لوگوں (جیسے 5،20یا40،عام طور پر اس سے زیادہ نہیں) کو شامل کیا جاتا ہے۔ انٹرویو ساختہ ہوسکتے ہیں یعنی ان میں پہلے ہی سے متعین کیے گئے سوال پوچھے جاتے ہیں یا غیر ساختی ہوتے ہیں جس میں کچھ ہی موضوع پہلے سے متعین کیے جاتے ہیں اور اصل سوال بات چیت کے دوران ابھر کر آتے ہیں۔ انٹرویوز زیادہ یا کم عمیق اس معنی میں ہوسکتے ہیں کہ انٹرویو لینے والا ایک فرد کا لمبے وقت (2 سے 3گھنٹے ) تک انٹرویو لے سکتا ہے یا ان کی کہانی کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے بار بار انٹرویو کرسکتا ہے۔ 
انٹرویوکے طریقۂ کار کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انٹرویو میں لچیلا پن ہوتا ہے۔ یعنی کہ متعلقہ موضوعات پر تفصیل سے بحث کی جاسکتی ہے،سوالوں کو ضرورت کے مطابق دقیق بنایاجاسکتا ہے یا ترمیم کی جاسکتی ہے اور جواب دہندہ سے اس کے ذریعہ دیے گئے جواب کو واضح کرنے کے لیے بھی کہا جاسکتا ہے۔ انٹرویو کے طریقے کی ایک کمزوری یہ ہے کہ اس میں بہت زیادہ لوگوں کو شامل نہیں کیا جاسکتا ہے اور افراد کے ایک منتخب گروپ کے خیالات کو ہی پیش کرسکتا ہے۔

مشاہدہ

مشاہدہ ایک طریقہ ہے جہاں محقق کو اپنی تحقیق کے لیے منتخب سیاق وسباق یا صورتِ حال میں کیا کچھ واقع ہو رہا ہے اس پر باریکی سے نظر رکھنی ہوتی ہے اور اس کا ریکارڈ تیار کرنا ہوتا ہے۔ یہ بظاہر تو بہت آسان دکھائی دیتا ہے لیکن عملاً ہمیشہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ کون ساواقعہ تحقیقی عمل کے لحاظ سے موزوں ہے اور کون سا نہیں ہے اس کا فیصلہ پہلے سے کیے بغیر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر محتاط طور پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی جو واقع نہیں ہورہا ہے وہ جو اصل میں واقع ہوتا ہے اتنا ہی دلچسپ اور اہم ہوتا ہے ۔ مثال کے لیے اگر آپ کا تحقیقی سوال یہ ہو کہ مختلف زمروں کے لوگ کچھ مخصوص مقامات( جیسے باغ،پارک یا میدان یا دیگر عوامی مقامات) کا استعمال کیسے کرتے ہیں تب یہ جاننا بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے کہ ایک مخصوص طبقے یا گروپ کے لوگ (جیسے مثال کے لیے غریب متوسط طبقے کے لوگ) اس جگہ کبھی نہ گئے ہوں یا انھوں نے اسے کبھی دیکھا نہ ہو۔

ایک سے زیادہ طریقوں کی آمیزش

آپ ایک ہی تحقیقی سوال پر مختلف زاویوں سے غور کرنے کے لیے طریقوں کی آمیزش بھی کرسکتے ہیں۔ درحقیقت اسی آمیزش کو اپنانے کے لیے اکثر سفارش کی جاتی ہے۔ مثال کے لیے اگر آپ سماجی زندگی میں اخبارات اور ٹیلی ویژن جیسے ذرائع ابلاغ کی بدلتی ہوئی حالت کے بارے میں تحقیق کررہے ہیں تو سروے اور تاریخی طریقہ کار سے آپ کو یہ پتہ چل سکے گا کہ پہلے میگزین، اخبارات یا ٹیلی ویژن کے پروگرام کیسے ہوتے تھے۔

7.2  چھوٹے تحقیقی پروجیکٹوں کے لیے ممکنہ مرکزی خیالات اور موضوعات

یہاں کچھ ممکنہ تحقیقی موضوعات کے بارے میں تجاویز پیش کی جارہی ہیں،یہ محض تجاویز ہی ہیں،آپ اپنے اساتذہ سے مشورہ کرکے دیگر موضوع چن سکتے ہیں۔یادرکھیں کہ یہ صرف موضوعات ہیں۔ آپ کو ان موضوعات پر مبنی مخصوص سوالات کو منتخب کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بھی یاد رکھیں کہ ان میں سے زیادہ تر موضوعات کے لیے زیادہ تر طریقوں کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے، لیکن آپ نے جس مخصوص سوال کو چنا ہے،اس کے لیے اپنائے جانے والے طریقے موزوں ہونے چاہئیں۔ آپ طریقوں کی آمیزش بھی کرسکتے ہیں۔ مجوزہ موضوع کسی خاص ترتیب میں نہیں دیے گئے۔ جو موضوع آپ کی درسی کتابوں سے واضح یا براہ راست طور پر نہیں لیے گئے ہیں،ان پر خصوصی زور دیاگیا ہے کیوں کہ درسی مواد سے متعلق اپنے پروجیکٹ سے متعلق خیالات پر غور کرنا آپ کو اور آپ کے اساتذہ کو زیادہ آسان لگے گا۔

1۔ عام وسائل نقل وحمل

لوگوں کی زندگی میں اس کا کیا کردار ہے؟ اس کی ضرورت کہاں ہوتی ہے؟ انھیں اس کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ مختلف قسم کے لوگ عام وسائل نقل وحمل پر کتنا منحصر ہیں؟ عوامی نقل وحمل میں کس طرح کے مسائل اور امور جڑے ہوتے ہیں۔ عام نقل وحمل کے وسائل یا ان کی شکلیں وقت کے ساتھ کسی طرح بدلتی رہی ہیں۔ کیا عوامی نقل وحمل کی موجودگی میں فرق آنے سے سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں؟ کیا ایسے گروپ ہیں جنھیں عام وسائل نقل وحمل کی ضرورت نہیں ہوتی؟ ان کی اس کے تئیں کیا سوچ ہے؟ کیاآپ نقل وحمل کے کسی ایک خاص ذریعے جیسے تانگہ یا رکشہ یا ریل گاڑی کو بھی چن سکتے ہیں اور اپنے قصبے یا شہر کے ضمن میں اس کی تاریخ لکھ سکتے ہیں۔ نقل وحمل کے ان وسائل میں اب تک کیاکیا تبدیلیاں ہوئی ہیں؟ اس کا دیگر کن کن وسائل کے ساتھ زبردست مقابلہ رہا ہے؟ طریقوں کے ساتھ اس مقابلے میں کس کی جیت یا ہار ہوئی؟ اس ہار یا جیت کی وجوہات کیا تھیں؟ نقل وحمل کے اس طریقے کا مستقبل کیسا ہوگا ؟کیا کوئی اس کی کمی محسوس کرے گا؟
اگر آپ دہلی میں رہتے ہیں تو دلی میٹرو (ریل) کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کیا آپ سائنس پر مبنی کہانی لکھ سکتے ہیں کہ آج سے تقریباً50سال بعد یعنی2050یا2060میں یہ میٹرو ٹرین کیسی ہوگی ؟ (یاد رہے ایک اچھی سائنسی کہانی لکھنا آسان نہیں ہوتا! آپ جو بھی تصور کریں اس کے اسباب ضرور بیان کریں۔ یہ تخیلات موجودہ اشیا، حالات اور رشتوں سے الگ ہوتے ہوئے بھی ان سے کسی معنی میں جڑے بھی ہونے چاہیے۔ اس لیے آپ کو یہ تخیل کرنا ہوگا کہ مستقبل میں عام وسائل نقل وحمل موجودہ صورت حال میںکس طرح فروغ پائیں گے اور آج کے مقابلے میٹرو کی اہمیت مستقبل میں کیسی ہوگی) ۔

2

2۔سماجی زندگی میں ذرائع ترسیل کا کردار

ترسیلی ذرائع میں ذرائع ابلاغ جیسے اخبارات، ٹیلی ویژن، فلمیں، انٹرنیٹ وغیرہ شامل ہوسکتے ہیں جو اطلاع فراہم کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے ذریعہ دیکھے جاتے ہیں یا بڑی تعداد میں لوگ ان کا استعمال کرتے ہیں۔ ان میں وہ ذرائع بھی شامل کیے جاسکتے ہیں جن کا استعمال لوگ باہمی رابط کے لیے کرتے ہیں جیسے ٹیلی فون،خطوط،موبائل فون،ای میل اور انٹرنیٹ۔ان میدانوں میں آپ مثال کے لیے سماجی زندگی میں ذرائع ابلاغ کے بدلتے ہوئے مقام اور مطبوعہ مواد،ریڈیو،ٹیلی ویژن اور دیگر اہم ذرائع میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں تحقیق کرسکتے ہیں۔ ایک اور سطح پر آپ فلموں، کتابوں وغیرہ کے بارے میں کچھ خاص گروپوں (طبقات،عمرگروپوں،جنس) کی پسند اور ناپسند کے بارے میں کئی طرح کے سوال پوچھ سکتے ہیں۔ جدید ترسیلی ذرائع (جیسے موبائل فون انٹرنیٹ) اور ان کے اثرات کے بارے میں لوگوں کا زاویۂ نگاہ کیا ہے؟ لوگوں کی زندگی میں ان کا مقام کیا ہے۔ اس بارے میں ہم مشاہدہ اور پوچھ تاچھ کے ذریعہ کیا جان سکتے ہیں؟مشاہدہ کے ذریعہ آپ کہی گئی باتوں اور عملی برتاؤ کے درمیان فرق (اگر کوئی ہو) کو جان سکتے ہیں۔ لوگ جتنے گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھنے کے بارے میں سوچتے ہیں کیا وہ حقیقتاً اتنے ہی گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں یا ان کے خیال سے کتنے گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھنا مناسب ہوگا، وغیرہ)۔ ترسیلی ذرائع کی بیرونی شکل میں تبدیلی ہوجانے کے کچھ نتائج کیا ہیں؟ (مثال کے لیے،کیا ٹیلی ویژن نے ریڈیو اور اخبارات کی اہمیت کو درحقیقت کم کردیا ہے یا ہر ایک ذرائع کا اپنا مقام ہے) وہ کون سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے لوگ کسی ایک یادیگر ذرائع کو زیادہ پسند کرتے ہیں؟
متبادل کے طور پر آپ ذرائع ابلاغ (اخبارات،میگزین، ٹیلی ویژن وغیرہ) کے مواد کے تجزیہ کی بنیاد پر خواہ جتنے پروجکٹوں پر کام کرنے کی بات سوچ سکتے ہیں اور یہ بھی کہ ان ذرائع نے کچھ خاص موضوعات یا مرکزی خیال جیسے اسکول اور اسکولی تعلیم،ماحول،ذات،مذہبی تنازعات،کھیل کود کے پروگرام، مقامی بنام قومی یا علاقائی خبروں وغیرہ کا کیسا تجزیہ کیا ہے۔

3

گھروں میں کام آنے والے سازوسامان اورگھریلو کام کاج

ایسے گھریلو سازوسامان کا مطلب ہے وہ سبھی سازوسامان جو گھریلو کام میں استعمال کیے جاتے ہیں جیسے گیس،مٹی کے تیل والے یادیگر قسم کے اسٹوو،مکسیاں، گرنڈر مختلف قسم کے فوڈ پروسسر اور کپڑوں پر استری کرنے کے لیے بجلی یا دیگر قسم کی استریاں کپڑے دھونے کی مشینیں،اوون،ٹوسٹر، پریشر کو کر وغیرہ۔ وقت کے ساتھ گھریلو کام کاج میں کیسی تبدیلی ہوتی ہے؟ کیا ان سازوسامان کے آجانے سے کام کی شکل خاص طور پر گھروں میں محنت کی تقسیم کی شکل بدل گئی ہے۔ وہ لوگ کون ہیں جو ان سازوسامان کا استعمال کرتے ہیں؟ کیا وہ زیادہ تر مرد یا عورتیں جوان یا بوڑھے، تنخواہ یافتہ یا غیر تنخواہ یافتہ کام کرنے والے لوگ ہیں؟ ان سازوسامان کا استعمال کرنے والے ان کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں؟ کیا ان سازوسامان نے کام کو واقعی آسان بنا دیاہے؟ عمر کے لحاظ سے گھروں میں کیے جانے والے کاموں میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ (یعنی کیا اب جوان/بوڑھے لوگوں کے ذریعہ کیے جانے والے مختلف قسم کے کاموں میں پہلے کے مقا بلے کوئی فرق آیا ہے؟)
متبادل کے طور پر آپ صرف اس با ت پر ہی توجہ مرکوز کرسکتے ہیں کہ گھر خاندان کے اندر گھریلو کاموں کی تقسیم کیسے کی جاتی ہے۔ کون کیا کرتا ہے اور کیا اس سلسلے میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے؟
4

4۔عام مقامات کا استعمال

یہ تحقیقی موضوع ان عا م مقامات (جیسے کھلا میدان،سڑک کے کنارے کی جگہ یافٹ پاتھ،رہائشی بستیوں میں خالی پڑے مقامات، عوامی دفاتر کے باہر کی خالی جگہ وغیرہ) کے بارے میں ہے جن کا استعمال مختلف طرح سے کیا جاتاہے۔ مثال کے لیے،کچھ خالی جگہوں میں تو کئی طرح کے چھوٹے چھوٹے کاروبار چلتے ہیں جیسے سڑک کے کنارے کی خالی جگہ میں چھوٹے چھوٹے دوکاندار سامان فروخت کرنے وا لے کھڑے ہوتے ہیں۔ چھوٹی موٹی عارضی دوکانیں ہوتی ہیں یا گاڑی کھڑی کی جاتی ہے۔ دیگر جگہیں ویسے تو خالی دکھائی دیتی ہیں لیکن وقتاً فوقتاًمختلف طریقوں سے کام میں لائی جاتی ہیں جیسے شادی یا مذہبی تقاریب کے لیے عوامی جلسوں کے لیے یا کئی طرح کی چیزیں پھینکنے کے لیے کئی خالی جگہوں پر بے گھر غریب لوگ رہنے لگتے ہیں اور اس طرح وہاں ان کے گھر ہی بن جاتے ہیں۔ اس عام موضوع پر کچھ تحقیقی سوال تیار کرنے کی کوشش کریں:مختلف طبقوں کے لیے عام مقامات کے استعمال کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں؟ ان طبقوں کے لیے اس خالی جگہ کاکیا استعمال ہوسکتا ہے ؟ آپ کے پڑوس میں واقع کسی خالی جگہ کا استعمال،وقت کے ساتھ کیسے بدلتا رہا ہے؟ کیا اس کی وجہ سے کوئی لڑائی جھگڑا یا تناؤ پیدا ہوتاہے؟ ان جھگڑوں کی وجوہات کیا ہیں؟

5

5۔ مختلف عمر گروپوں کی بدلتی ہوئی خواہشات

کیا آپ کی پوری زندگی میں آپ کی تمنائیں ہمیشہ ایک جیسی ہی رہی ہیں؟ زیادہ تر لوگ خاص طور پر چھوٹی عمر کے لوگ اپنے مقصد بدلتے رہتے ہیں۔ اس تحقیقی موضوع کے تحت یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ تبدیلی کون سی ہے اور کیامختلف گروپوں میں ان تبدیلیوں کی کوئی خاص شکل ہے۔ اس بارے میں تحقیقی عمل کرنے کے لیے آپ مختلف قسم کے اسکولوں میں مختلف عمر گروپوں (جیسے پانچویں،آٹھویں اور گیارھویں جماعت کے بچوں،مرد عورت مختلف والدینی پس منظر وغیرہ کے لوگوں کو چن سکتے ہیں اور یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ان میں تبدیلی کی کوئی خاص شکل دکھائی دیتی ہے۔آپ اپنے تحقیقی عمل میں بالغوں کو بھی شامل کرسکتے ہیں اور یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا انھیں کوئی ایسی تبدیلی یاد آتی ہے اور کیا اسکول جانے والے بچوں میں تبدیلیوں کے مقابلے اسکولی تعلیم ختم کر چکے بچوں میں تبدیلیوں کی کوئی مخصوص شکل ہے۔

۔ایک شے کی روئداد

آپ اپنے گھر میں موجود ایک خاص صرفی شے جیسے ٹیلی ویژن، موٹرسائیکل، قالین یا فرنیچر کے بارے میں سوچیں۔یہ تصور کرنے کی کوشش کریں کہ اس شے کی تاریخ حیات کیا رہی ہوگی۔ آپ خود کو وہ شے مان کر اپنی آپ بیتی،لکھیں اس شے کو اپنی موجودہ حالت تک پہنچنے کے لیے مبادلے کے کن دوروں سے گزرنا پڑا ہے ؟ کیا آپ ان سماجی رشتوں کو تلاش کرسکتے ہیں جن کے ذریعہ وہ شے بنائی،فروخت اور خریدی گئی تھی؟ اس کی اس کے مالکوں یعنی آپ،آپ کے خاندان، کمیونٹی کے لیے کیا علامتی اہمیت ہے؟
اگر آپ کا ٹیلی ویژن (یا صوفہ سیٹ یا موٹر سائکل) خود سوچ یابول سکتا تو وہ ان لوگوں کے بارے میں کیا کہتاجن کے ربط میں وہ آیا ہے؟(جیسے کہ آپ کے خاندان یا دیگر خاندانوں یا گھر جن کا آپ تخیل کرسکتے ہوں)


6


تحقیق تحقیقی طریقہ کار/ تکنیک کی قسم
موضوع / میدان مشاہدہ سروے
عام وسائل نقل وحمل کے طریقے، مقامی ریلوے یا بس اسٹیشن برتاو کا طریقہ متوقع آداب و اخلاق ، جگہ کی حصہ داری وقت کے ساتھ ہوئی تبدیلیوں کے بارے میں رائے تجربہ ، مشکلات وغیرہ
گھریلو ساز وسامان ( کھانا بنانے کے ایندھن کے طریقے ، پنکھے، کولر، ایر کنڈیشن، استری، فریج مکسی۔۔۔) استعمال کی شکل، محنت کی گھریلو تقسیم جنسی پہلو مختلف قسم کے سازوسامان سے متعلق رویے/ یادداشت
عوامی جگہوں کا استعمال ( سڑک کے کنارے، خالی زمین وغیرہ ) مشاہدہ کیجیے کہ مختلف جگہوں پر خالی جگہوں کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟ مخصوص عوامی مقامات کے مختلف قسم کے استعمال کے بارے میں لوگوں کے مختلف طبقوں کی رائے
مختلف عمر میں  ( جیسےپانچویں، آٹھویں گیارھویں جماعت کے طلبا ) اسکولی بچوں کی بدلتی خواہشات موزوں نہیں مختلف نسلوں کے بالغوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کا سروے ( یادداشت کی بنیاد پر )
سماجی زندگی میں ترسیلی ذرائع ( موبائل فون سے لے کر سٹیلائٹ ویزن تک ) کا مقام غور کریں کہ عوامی مقامات پر لوگ موبائل فون کا استعمال کیسے کرتے ہیں ، ان کی زندگی میں ان ساز وسامان کی کیا اہمیت ہے؟ مختلف قسم کے لوگ کتنا ٹیلی ویزن دیکھتے ہیں اور ان کے پسندیدہ پروگرام کیا ہیں؟
 

تحقیقی طریقئہ کار تکنیک کی قسم
تاریخی
انٹرویو تبصرات / تجاویز
تبدیلی کی تاریخ کو جاننے کے لیے اخبارات اور دیگر وسائل باقاعدگی سے یا کبھی کبھی استعمال کرنے والوں کے خیالات کا مرد بنام عورتیں وغیرہ نسبتاً بڑے شہروں کے لیے ہی مناسب
مختلف قسم کے سازوسامان کے اشتہارات کی شکل مخصوص سازوسامان کے بارے میں مختلف قسم کے لوگوں کا رد عمل کیا ہے؟ اس کام کو کرنے کے لیے لڑکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ یہ موضوع ، لڑکیوں کا ہی نہ بن کر رہ جائے
پچھلے سالوں میں کسی مخصوص مقام کو کن الگ الگ طریقوں سے استعمال کیا جاتا تھا؟ کیا مختلف سماجی طبقات، گروپوں کے لوگ خالی جگہ کے استعمال کے بارے میں مختلف خیالات رکھتے ہیں؟ بہتر یہی ہوتا ہے کہ تحقیقی عمل کے لیے ایسے مقامات کو چنا جائے جن سے لوگ اچھی طرح واقف ہوں اور تعلق رکھتے ہوں
ماضی سے مواد ( جیسے اس موضوع پر اسکول میں لکھے گئے مضامین ) کی دستیابی پر منحصر ایک گروپ سے ان کی اپنی ترقی کے بارے میں بات چیت کریں یا مختلف عمر گروپ کے لوگوں سے بات چیت کریں انٹرویو لینے کے لیے چنے گئے طالب علم اپنے ہی اسکول کے نہیں ہونے چاہئیں
کسی بھی موجودہ دلچسپ معاملے کو ترسیلی دائرے میں دی گئی اہمیت کا تجزیہ فون کی دستیابی کے بعد لوگ خط لکھنے کے سلسلے میں آئی کمی کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں؟ اس معاملے پر کوئی پہلے سے فیصلہ نہ لیں ( جیسے یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ خط لکھنےکے معاملے میں اتنی کمی آئی ہے ) بلکہ ان سے دریافت کریں انھیں بتائیں نہیں