Skip to content
QR5258CH01


1

ناول

     نثری اصناف میں ناول اس وقت دنیا کی مقبول ترین صنفوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔ ناول دنیا بھر کی زبانوں میں لکھے اور پڑھے جاتے ہیں۔ مختلف ادیبوں نے اپنے اپنے طور پر ناول کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن زندگی ہی کی طرح ناول کی بھی کوئی ایسی تعریف ممکن نہیں جسے مکمل یا قطعی کہا جا سکے۔ پھر بھی ناول کا اطلاق سادہ اور سلیس زبان میں لکھی گئی، ایسی طویل اور بھرپور کہانی پر کیا جا سکتا ہے جس میں عام زندگی کے حالات و واقعات، مسائل اور معاملات کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہو۔
روایتی ناول کے عام اجزائے ترکیبی میں پلاٹ، کردار نگاری، منظر نگاری، مکالمہ نگاری اور مرکزی خیال کو شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں پلاٹ اور کردار نگاری کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ علاوہ اس کے، ناول میں زندگی کے مشاہدے اور انسانوں کے نفسیاتی مطالعے سے بھی کچھ لکھنے والوں نے بہت کام لیا ہے۔ ہر ناول کسی نہ کسی نظریۂ حیات کا حامل ہوتا ہے۔ اسی بنا پریہ بھی کہا جاتا ہے کہ ناول مصنّف کے نظریۂ حیات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
اردو زبان میں ناول نگاری کا آغاز انیسویں صدی کے نصف آخر میں ہوا۔ یہ دور دو تہذیبوں کے تصادم اور کشمکش کا دور تھا، جس پر بڑی شدّت کے ساتھ انگریزی ادب کے اثرات بھی پڑرہے تھے۔ نذیرؔ احمد،رتن ناتھ سرشارؔ، عبدالحلیم شررؔاورمرزا محمد ہادی رسواؔ اردو کے اہم ترین ناول نگار کہے جاتے ہیں۔ بیسویں صدی میں اردو ناول نے بڑی ترقی کی۔ اس عہد کے ناول نگاروں میں پریم چند، عزیز احمد، حیات اللہ انصاری، کرشن چندر ،عصمت چغتائی، ممتازمفتی، قرۃ العین حیدر، عبد اللہ حسین ، شوکت صدیقی، خدیجہ مستور، جمیلہ ہاشمی، انتظار حسین، قاضی عبدالستار، جیلانی بانو اور جوگندر پال وغیرہ اہم ہیں۔
 ناول کی صنف نے مغربی ناول، خاص طور پر انگریزی اور روسی ناول سے گہرے اثرات قبول کیے ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں قدیم ہندوستانی فکشن کے اسالیب سے بھی بعض لکھنے والوں نے بہت روشنی حاصل کی ہے۔ چنانچہ اردو کی پرانی داستانوں، کتھا سرت ساگر اور الف لیلہ کی روایت کا اثر بھی چند نئے ناول نگاروں کے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ 

11

پریم چند

1880 تا  1936

پریم چند کی پیدائش بنارس کے ایک گاؤںلمہی میں ہوئی۔ اُن کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ کنبے کے لوگ نواب رائے بھی کہتے تھے۔ دادا گُر سہائے لال، پٹواری تھے اور والد عجائب لال ڈاک خانے میں منشی تھے۔ والدہ آنندی دیوی کے مائیکے کے لوگ بھی تعلیم یافتہ تھے۔ 
پریم چند کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں ہوئی۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد 1899 میں بنارس کے قریب چنار گڑھ  کے ایک مشن اسکول میں اسسٹینٹ ماسٹر کی حیثیت سے ملازم ہوگئے۔ اسی زمانے میں ادب کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا۔ چنار مشن اسکول کے بعد، جولائی 1900 میں بہرائچ کے ضلع اسکول میں ماسٹر کی حیثیت سے ملازم ہوئے۔ اسی سال ستمبر میں، فرسٹ ایڈیشنل ماسٹر کی حیثیت سے اُن کا تبادلہ پرتاپ گڑھ ہوگیا۔ 1902 میں تدریس کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنے کے لیے الہ آباد کے ٹریننگ کالج میں داخلہ لیا اور فرسٹ ڈویژن میں کامیابی حاصل کی۔ اسی زمانے میں انھوں نے ہندی اور اردو اسپیشل ورنا کیولر کا امتحان بھی پاس کیا۔ ٹریننگ کے بعد 1904 میں الہ آباد کے ایک ماڈل اسکول میں ہیڈ ماسٹر رہے۔ 1905 میں کان پور کے ضلع اسکول میں ماسٹر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ جون1909 میں مہوبہ،ضلع ہمیرپور (یوپی) کے لیے تبادلہ ہوگیا اور تدریس کے بجائے اسکول کے معائنے کا کام سپرد کیا گیا۔ مہوبہ کے قیام کے دوران 1916 میں انٹرمیڈئیٹ اور 1919 میں گورکھپور کے زمانۂ قیام میں الہ آباد یونیورسٹی سے پرائیویٹ طور پر بی۔اے۔ کا امتحان پاس کیا۔ تحریک عدمِ تعاون کے دوران گورکھ پور کے ایک جلسہ میں مہاتما گاندھی کے ایما پر انھوں نے 1920 میں سرکاری نوکری چھوڑ کر تصنیف وتالیف کو ہی معاش کا ذریعہ بنالیا۔
پریم چند کو مضامین لکھنے کاشوق بچپن سے تھا۔ اُن کی پہلی تصنیف ایک ڈراما تھا جو انھوں نے تقریباً تیرہ سال کی عمر میں لکھا تھا۔ اس کا عنوان تھا: ایک ماموں کا رومان۔ یہ ڈراما شائع نہیں ہوا۔ پریم چند کے ابتدائی دور کے مضامین اور ایک ناول بنارس کے ہفتہ وار اخبار ’’آوازِ خلق‘‘ میں شائع ہوئے۔ ناول کا عنوان تھا: اسرارِ معابد۔ یہ اخبار کے اکتوبر 1903 سے فروری 1905تک کے شمارے میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ اس پر مصنف کا نام ’’دھنپت رائے عرف نواب رائے الہ آبادی‘‘ لکھا جاتا تھا۔ پریم چند کا دوسرا ناول ’’ہم خُرما وہم ثواب‘‘ ہے جو غالباً 1906 میں کانپور سے منشی دیا نرائن نگم نے شائع کیا تھا۔ وہ ایک ماہانہ رسالہ ’’زمانہ‘‘ بھی شائع کرتے تھے، جس میں پریم چند کے بہت سے مضامین،تبصرے اور افسانے شائع ہوئے۔ 1910تک اُن کی تصانیف نواب رائے کے نام سے چھپتی رہیں۔ پریم چند کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ بھی نواب رائے کے نام سے شائع ہوا تھا لیکن جب حکومت کو محسوس ہوا کہ اِن کہانیوں میں وطن سے محبت اور آزادی حاصل کرنے کی ترغیب، پڑھنے والوں میں بغاوت کا جذبہ پیدا کرسکتی ہے تو مجموعہ ضبط کرلیا گیا۔ مصنّف سے کہا گیا کہ وہ آئندہ جو کچھ لکھے وہ کلکٹر کو دکھا کر اور اجازت لے کر چھپنے کے لیے بھیجے۔ اِس پابندی کے بعد انھوں نے اپنا قلمی نام پریم چند رکھ لیا۔ رسالہ ’’زمانہ‘‘ کے دسمبر 1910 کے شمارے میں اُن کی کہانی ’’بڑے گھر کی بیٹی‘‘ شائع ہوئی۔
پریم چند کے ناول ’’اسرار معابد‘‘ اور ’’سوزِ وطن‘‘ میں شامل کہانیوں کا یہ پہلو بہت واضح ہے کہ انھوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے سماج کی برائیوں اور انگریز ی حکومت کی چال بازیوں سے عوام کو آگاہ کیا۔ اس طرح وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے تھے۔پریم چند کے اس ارادے کی وجہ ہندوستانی معاشرے میں پھیلا ہوا انتشار تھا۔
دیہات اور شہروں کی یہ حالت دیکھتے ہوئے ملک کے بڑے سیاسی رہنماؤں، خاص کر گاندھی جی کی طرح، پریم چند نے بھی محسوس کیا کہ اِس بھیانک بگاڑ کی جڑ غلامی کی مٹّی اور فضا کی وجہ سے مضبوط ہورہی ہے۔ لہٰذا ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے بعد ہی یہاں کے غریب لوگ انسانوں کی طرح جی سکیں گے۔ اپنے اس احساس کو سیاسی لوگوں نے جدوجہدِ آزادی کا روپ دیا اور پریم چند نے اپنے اِس احساس کو تحریر میں ڈھال کر ناولوں اور افسانوں کے ذریعے عوام تک پہنچایا۔
پریم چند کی سوانح پڑھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے زندگی کے جیسے جیسے دور دیکھے، انھیں کسی ذہین اور حسّاس شخص کی طرح اپنے دل ودماغ پر نقش کرلیا۔ ان پر غور کرنے کے بعد، یہ فیصلہ کیا کہ زندگی کی ان سچائیوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے ناولوں، افسانوں اور مضامین سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔ اپنے تجربوں اور مشاہدوں کو عوام تک پہنچانے کے لیے پریم چند نے بہت سادہ، سلیس اور پُر اثر زبان کا ستعمال کیا۔ اُن کے قلم سے نکلی ہوئی باتیں پڑھنے والے کے دل ودماغ پرگہرا اثر ڈالتی ہیں۔ وہ اردو کے ساتھ ساتھ روز مرّہ کی ہندی کے الفاظ بھی مناسب جگہوں پر استعمال کرتے ہیں۔ اُن کے ناولوں اور افسانوں میں مقصدپرستی اورسماجی فلاح وبہبود کے احساس کے ساتھ ساتھ دل چسپ کردار اور مزاحیہ کردار بھی ہیں۔ پریم چند نے ان کے ذریعے زندگی کا خوش گوار پہلو پیش کیا ہے اور پڑھنے والوں پر واضح کیا ہے کہ آدمی سخت سے سخت حالات میں بھی ،زندگی سے جی لگانے اور دکھوں کو برداشت کرنے کے پہلو نکال ہی لیتاہے۔
پریم چند کے ناولوں کا ماحول اور اُن کے کردار زیادہ تر دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پریم چند بھی، گاندھی جی اور ٹیگور وغیرہ کی طرح، اِس حقیقت سے واقف تھے کہ ہندوستان کی اصل آبادی گاؤں میں بستی ہے اور گاؤں کے باشندوں کی سادگی اور معصومیت ہندوستانی معاشرے کی روح کا ایک ناگزیر جزو ہے۔ 
آپ نے اپنی پچھلی جماعتوں میں داستان اور افسانے پڑھے ہیں۔انھیں پڑھتے ہوئے آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ داستان کا مصنف کردار یا واقعے کا بیان کئی زاویے اختیار کرتا ہے اور بہت تفصیل سے کام لیتا ہے۔ افسانے کا مصنّف، داستان لکھنے والے کے مقابلے میں، بہت اختصارکے ساتھ اور اشاروں کنایوں میں اپنی بات کہتا ہے۔ اِن اشاروں کنایوں کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پڑھنے والے کو بہت چوکنّا رہنا پڑتا ہے۔اگر اُس کی نظر سے کوئی فقرہ یا لفظ چوک جائے تو افسانے کے معنی خبط ہوسکتے ہیں۔ یہ صورت ناول میں نہیں ہوتی کیوں کہ اس میں کردار اور واقعات اکثر پورے پھیلاؤ کے ساتھ بیان ہوتے ہیں۔
ناول ’’بیوہ‘‘کے آغاز میں دان ناتھ اور امرت رائے کی باتوں پر غور کیجیے، تو اندازہ ہوجائے گا کہ پریم چند نے تین چار صفحات میں ہی وہ خیال اپنے پڑھنے والوں پر اچھی طرح واضح کردیا ہے، جس پر ناول کی تعمیر ہوئی ہے۔
آپ کی اِس کتاب میں ناول ’’بیوہ‘‘ کے ابتدائی نو باب شامل ہیں تاکہ آپ اِس صنفِ ادب سے بخوبی متعارف ہوسکیں۔ پریم چند کا ناول بہت مختصر ہے، یعنی صرف 182 صفحات کا۔ یہ چند صفحات پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ پریم چند کتنے درد مند دل کے مالک تھے۔ اُن کی یہ درد مندی اور انسان دوستی اُن کے تمام ناولوں میں مرکزی قوّت کا درجہ رکھتی ہے۔
پریم چند نے افسانوں کی طرح اپنے ناولوں میں بھی دیہات کے ساتھ ساتھ شہر کے مسائل کا بیان کیا ہے۔ اُن کے زیادہ تر ناول ایسے ہیں کہ جو شہری اور دیہی زندگی میں بٹے ہوئے ہیں مگر ’’گؤدان‘‘ اور ’’بازارِ حسن‘‘ میں شہر اور گاؤں یکجا ہیں اور ایک دوسرے کے مقابل رکھے ہوئے آئینے بن گئے ہیں۔
ناول ’’بیوہ‘‘ پڑھنے سے پہلے اگر یہ بات آپ کے ذہن میں رہے کہ خود پریم چند نے بھی اپنی دوسری شادی ایک بال بیوہ شیورانی دیوی سے کی تھی تو آپ پریم چند کے کردار کے ایک اہم پہلو سے واقف ہو جائیں گے۔پریم چند ادیب کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سماجی مصلح بھی تھے اور ادب کے ذریعے انھوں نے قومی اصلاح اور تعمیر کا بیڑا بھی اٹھایا تھا۔

بیوہ

کاشی کے آریہ مندر میں پنڈت امر ناتھ کی تقریر ہو رہی ہے، ناظرین مسحور سے بیٹھے ہوئے ہیں۔پروفیسر دان ناتھ نے آگے کھسک کر اپنے دوست بابو امرت رائے کے کان میں کہا ’’رٹی ہوئی تقریر ہے۔‘‘ 
امرت رائے اسپیچ سننے میں محو تھے۔ اس کا جواب نہ دیا۔  
دان ناتھ نے پھر کہا ’’صاف رٹی ہوئی تقریر ہے۔ یہاں بیٹھنا فضول ہے، ٹینس کا وقت نکلا جارہا ہے۔‘‘
امرت رائے نے پھر بھی کچھ جواب نہ دیا۔ آخر دان ناتھ نے مایوسانہ انداز سے کہا۔ ’’بھئی میں تو جاتا ہوں۔‘‘
امرت رائے نے ان کی طرف بغیر دیکھے ہی کہا ’’ جاؤ شوق سے۔‘‘
’’تم کب تک بیٹھے رہو گے؟‘‘
’’میں تو آخر تک تقریر سن کر آؤں گا۔‘‘
’’بالکل بکلول ہو۔ یہ آخر اس تقریر میں ہے کیا؟‘‘
12
’’تو تم جاؤ۔ میں تمھیں جبراً روکتا تو نہیں۔‘‘
’’اجی گھنٹوں بولے گا۔ رانڈ کا چرخہ ہے یا تقریر ہے۔‘‘
’’سننے بھی دو، بیکار بک بک کررہے ہو۔ تمھیں جانا ہو تو جاؤ۔ میں تقریر ختم کرکے ہی اٹھوں گا۔‘‘
’’پچھتاؤ گے۔ آج پریما بھی کھیلنے آئے گی۔‘‘
’’تم اس سے میری طرف سے معافی مانگ لینا۔‘‘
’’مجھے کیا غرض ہے کہ آپ کی طرف سے معافی مانگوں۔‘‘
دان ناتھ آسانی سے گلا چھوڑنے والے آدمی نہ تھے۔گھڑی نکال کر دیکھی، پہلوبدلا اور بے صبری کے انداز سے پھر امرت رائے کی طرف دیکھنے لگے۔ان کی توجہ تقریر کی طرف نہیں، مقرر کی ڈاڑھی کی طرف تھی۔ڈاڑھی کی جنبش پیہم میں انہیں بڑا مزا آرہا تھا۔کچھ نہ کچھ بولتے رہنے کا مرض تھا۔ایسا دلچسپ نظارہ دیکھ کر خاموش کیسے رہتے ؟ امرت رائے کا ہاتھ دبا کر بولے ’’آپ کی ڈاڑھی کتنی صفائی سے ہل رہی ہے۔جی چاہتا ہے کہ نوچ کر رکھ دو۔‘‘
امرت رائے نے مکدّر ہو کر کہا ’’تم بڑے بد نصیب ہو کہ ایسی دل آویز اور پُر اثر تقریر کا لطف نہیں اُٹھا سکتے۔‘‘ 
مقرّر نے کہا۔ ’’میں آپ صاحبوں کے روبرو تقریر کرنے نہیں کھڑا ہوا ہوں۔‘‘
دان ناتھ۔ (آہستہ سے) ’’اور کیا آپ گھاس کھودنے آئے ہیں۔‘‘
مقرّر ’’باتیں بہت ہوچکیں اب عمل کا موقع ہے۔‘‘
دان ناتھ (آہستہ سے) ’’جب آپ کی زبان آپ کے قابو میں رہے۔‘‘
مقرر ’’جو اصحاب اپنی رفیق زندگی کا داغ اٹھا چکے ہیں وہ براہ کرم اپنے ہاتھ اٹھائیں۔‘‘
دان ناتھ۔ (دبی آواز سے) ’’افوہ! یہاں تو آدھے سے زیادہ رنڈوے نکل آئے۔‘‘
مقرر۔’’جواصحاب اس خیال سے متفق ہوں کہ رنڈووں کو کنواریوں سے شادی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے وہ براہِ کرم اپنے ہاتھ اٹھائیں۔‘‘
صرف ایک ہاتھ اٹھتا ہے! یہ بابو امرت رائے کا ہاتھ ہے۔ اہل جلسہ ان کی طرف پُر سوال دلچسپی کی نگاہوں سے دیکھنے لگتے ہیں۔
دان ناتھ نے امرت رائے کے کان میں کہا ’’یہ کیا بیہودہ حرکت ہے؟ ہاتھ نیچے کرو۔‘‘
امرت رائے ’’میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں اس سے بہتر دوسرا معاشرتی اصول نہیں ہے۔‘‘
مقرر نے امرت رائے کو ان کی اخلاقی جرأت پر مبارک باد دی۔ چند جملوں میں ناظرین کی پست ہمتی پر افسوس کیا اور بیٹھ گئے۔ جلسہ ختم ہوگیا۔
اہل جلسہ ایک ایک کر کے رخصت ہوگئے، دان ناتھ بھی باہر چلے آئے مگر امرت رائے ابھی تک محویت کی حالت میں دنیا ومافیہا سے بے خبر اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ دان ناتھ نے ایک منٹ تک باہر کھڑے ہو کر انتظار کیا، تب اندر جاکر بولے ’’ارے اب تو چلو گے یا یہیں ڈھئی دو گے؟‘‘
امرت رائے نے چونک کر کہا ’’ہاں ہاں چلو –‘‘
دونوں دوست آکر موٹر میں بیٹھے ، موٹر چل پڑی۔
دان ناتھ کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ پوچھا ’’آج تمھیں یہ حماقت کیا سوجھی‘‘ امرت رائے نے تمسخر کے انداز سے جواب دیا ’’ وہی سوجھی جو تمھیں سوجھی۔‘‘
’’پریما سنے گی تو کیا کہے گی؟‘‘
’’بے حد خوش ہوگی۔‘‘ کم سے کم اسے خوش ہونا چاہیے۔ اپنے احباب کو فرض کے سامنے سر جھکاتے دیکھ کر کون خوش نہیں ہوتا؟‘‘
دان ناتھ نے ملامت کی ’’اجی جاؤ بھی، باتیں بناتے ہو۔ اسے تم سے کتنی محبت ہے یہ تم سے پوشیدہ نہیں ہے، ابھی شادی نہیں ہوئی (حالانکہ تم خود اس کے ذمہ دار ہو) یہ درست ہے۔ لیکن سارا شہر جانتا ہے کہ وہ تمھاری منگیتر ہے سوچو اس کے اور تمھارے درمیان کتنی خط کتابت ہو چکی ہے۔ وہ دل میں تمھیں اپنا شوہر تسلیم کرچکی ہے، ایسی نازنین تمھیں دنیا کے پردے پر نہیں ملے گی۔ یہ سمجھ لو کہ تمھاری زندگی تباہ ہوجائے گی۔ اپنے ساتھ اس کی زندگی بھی خراب کردو گے۔ فرض کے نام پر جو چاہو کرو مگر پریما کو دل سے نہیں نکال سکتے۔‘‘
امرت رائے متانت سے بولے ’’یہ سب میں خوب سمجھ رہا ہوں بھائی جان، لیکن میرا ضمیر کہہ رہا ہے کہ مجھے اس سے شادی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، پنڈت امر ناتھ کی تقریر نے میری آنکھیں کھول دیں۔ـ‘‘
امر ناتھ کانام آتے ہی دان ناتھ نے ناک سکوڑ کر کہا۔
’’کیا کہنا ہے واہ! اس نے رٹ کر ایک تقریر کردی اور تم لٹو ہوگئے۔ یہ اچھا اصول ہے کہ جس کی پہلی بیوی مرچکی ہو وہ کسی کنواری لڑکی سے شادی نہ کرے۔‘‘
امرت رائے نے کہا ’’انصاف تو یہی کہتا ہے۔‘‘
دان ناتھ بولے ’’تو بس ایک تمھارے انصاف پر چلنے سے قوم کی نجات ہوجائے گی، تم تنہا کچھ نہیں کرسکتے، ہاں نکوبن سکتے ہو۔‘‘
امرت رائے نے پر زور نظروں سے تاکتے ہوئے کہا ’’آدمی تنہا بھی بہت کچھ کرسکتا ہے۔ تنہا آدمیوں نے خیالات میں انقلاب پیدا کردیے ہیں۔ دنیا کی صورت بدل دی ہے۔ افراد کی داستانِ عمل سے تاریخیں پُرہیں۔ گو تم بدھ کون تھا؟ وہ تنہا حق کی تلاش میں نکلا تھا اور اس کے دوران حیات میں ہی آدھی دنیا اس کے قدموں پر سر جھکا چکی تھی، افراد کے نام سے قوموں کے نام روشن ہیں، قومیں تباہ ہوگئیں آج ان کا نشان بھی باقی نہیں، مگر مخصوص ہستیوں کے نام ابھی باقی ہیں۔میں اکیلا کچھ نہ کرسکوں، یہ دوسری بات ہے ۔اکثرجماعتیں بھی کچھ نہیں کرسکتیں۔میرا خیا ل ہے کہ جماعتیں کبھی کچھ نہیں کرسکتیں، لیکن آدمی اکیلا کچھ نہیں کرسکتا، میں اس کلّیے کو کبھی تسلیم نہ کروں گا۔‘‘
دان ناتھ سہل پسند آدمی تھے۔کسی اصول کے لیے تکلیف اٹھانا انہوں نے سیکھا ہی نہ تھا۔ایک کالج میں پروفیسرتھے۔گیارہ بجے جاتے تھے۔ دوبجے لوٹ آتے تھے۔باقی سارا وقت کتب بینی اور سیروتفریح میں اڑادیتے تھے۔
اس کے برعکس امرت رائے اصول پرور آدمی تھے اور بڑے دھن کے پکے۔ایک بارکوئی فیصلہ کرکے اس سے منحرف نہ ہوتے تھے۔پیشہ وکالت تھا مگر اس پیشے سے انہیں نفرت تھی۔بنائے ہوئے مقدمے بھول کر بھی نہ لیتے تھے، لیکن جو مقدمہ لے لیتے اس کے لیے جان لڑادیتے تھے۔یہی سبب تھا، انہیں ناکامی کاصدمہ بہت کم اٹھانا پڑتا تھا۔ان کی پہلی شادی اس وقت ہوئی تھی جب وہ کالج میں پڑھتے تھے۔ایک لڑکا بھی پیدا ہوا لیکن زچّہ اور بچّہ دونوں زچّہ خانہ ہی میں داغ مفارقت دے گئے۔امرت رائے کو اپنی بہن سے بڑی محبت تھی۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب کبھی شادی نہ کروں گالیکن جب بہن کی شادی ہوگئی اور والدین بھی ایک ہفتہ کے اندر ہیضے کے شکار ہوگئے تو سونا گھر پھاڑ کھانے لگا۔دوسال سیروسیاحت میں بسرکیے، لوٹے تو ہولی کے دن ان کے سُسرنے اس تقریب میں ان کی دعوت کی، وہ امرت رائے کے اطوار پر پہلے ہی سے فدا تھے۔ان کی چھوٹی لڑکی پریما اب شادی کے قابل ہوگئی تھی۔ اس کے لیے امرت رائے سے بہتر شوہر انھیں دوسرا نظرنہ آیا۔دوسال قبل امرت رائے نے پریما کو دیکھا تھا۔ وہ شگفتہ کلی اب ایک شگفتہ پھول تھی جس کی نزاکت اور لطافت آنکھوں کو لبھاتی تھی۔امرت رائے کا غم نصیب دل یہاں سے محبت کا اثرلے کرلوٹا۔تب سے جب طبیعت گھبراتی سسرال چلے جاتے اور دوگھڑی ہنس بول کر چلے آتے۔ ایک دن ان کی ساس نے ان سے مطلب کی بات کہہ دی، امرت رائے تو پریما کے رنگ وبو پر پہلے ہی نثار تھے۔ اندھے کو جیسے آنکھیں مل گئیں۔ شادی طے ہوگئی اسی مہینے شادی ہونے والی تھی کہ آج امرت رائے نے عام جلسے میں اس نئے اصول کو تسلیم کر کے اپنا ارادہ فسق کردیا۔
دان ناتھ نے ان کی لمبی تقریر سن کر کہا ’’تو تمھارا یہ قطعی فیصلہ ہے۔‘‘
’’بیشک۔‘‘
’’اور پریما کو جواب دو گے؟‘‘
’’اسے مجھ سے بہت اچھا شوہر مل جائے گا۔‘‘
دان ناتھ نے دلسوزی کے ساتھ کہا ’’کیا باتیں کرتے ہو۔ تم سمجھتے ہو، محبت کوئی بازار کا سودا ہے ۔جی چا ہا لیا، جی چاہا نہ لیا۔ مگر تمھارا یہ خیال غلط ہے۔ پریما محض تمھاری منگیتر نہیں ہے، تمھاری معشوقہ بھی ہے۔ یہ خبر پاکر اس کے دل کی کیاکیفیت ہوگی۔ شاید اس کا اندازہ تم نہیں کرسکتے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ تم اپنے ساتھ ہی اس کے ساتھ بھی بڑی بے انصافی کر رہے ہو۔‘‘
امرت رائے ایک لمحہ کے لیے فکر میں ڈوب گئے۔ اپنے متعلق تو انھیں ذرا بھی اندیشہ نہ تھا، وہ اپنے تئیں فرض پر نثار کرسکتے تھے۔ لیکن پریما کا کیا حال ہوگا، اس کا خیال انھیں نہ آیا تھا۔ ہاں اتنا وہ جانتے تھے کہ پریما بلند خیال عورت ہے اور ان کے ایثار کی اس کی نگاہوں میں ضرور وقعت ہوگی۔ اگر وہ اتنی ہی فرض شناس ہے جتنا میں سمجھتا ہوں تو میرے اس فیصلے پر اسے مطلق رنج نہ ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ اسے خوشی ہوگی، کم از کم مجھے یہ امید ضرور ہے۔‘‘
دان ناتھ نے منہ بنا کر کہا ’’تم سمجھتے ہوگے کہ بڑا میدان مار آئے ہو اور جو سنے گا وہ پھولوں کا ہار لے کر تمھارے گلے میں ڈالنے دوڑے گا۔ لیکن میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ تم محض شہرت کے بھوکے ہو۔ لیکن عورتوں کو شہرت کی اتنی ہوس نہیں ہوتی۔پریما کتنی ہی پاکیزہ خیال ہو وہ یہ کبھی پسند نہ کرے گی کہ تم اس سے اتنی بے دردی کے ساتھ کنارہ کش ہوجاؤ۔‘‘
امرت رائے کا بنگلہ آگیا۔موٹر رک گیا۔امرت رائے اترکر اپنے کمرہ کی طرف چلے۔دان ناتھ ذرا اس انتظار میں کھڑے رہے کہ یہ مجھے بلائیں تو میں جاؤں، لیکن جب امرت رائے نے ان کی طرف پھر کر بھی نہ دیکھا تو انہیں خوف ہوا کہ شاید میری باتیں انہیں ناگوار گذریں۔کمرے کے دروازے پر جاکر بولے ’’کیوں بھائی مجھ سے ناراض ہوگئے۔؟‘‘
امرت رائے نے پرنم آنکھوں سے دیکھ کر کہا ’’نہیں دان ناتھ تمھاری جھڑکیوں میں مزا ہے جو دوسروں کی واہ واہ میں نہیں۔میں جانتا ہوں تم نے اس وقت جو کہا ہے وہ محض محبت سے کہا ہے، دل میں تو تم خوب سمجھتے ہو کہ میں شہرت کا حریص نہیں بلکہ زندگی میں کچھ کام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
دان ناتھ نے اندرجاکر امرت رائے کا ہاتھ پکڑلیا اور بولے ’’پھر سوچ لو۔ایسا نہ ہو پیچھے پچھتانا پڑے۔‘‘
امرت رائے نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔’’اس کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔بھائی جان سچ پوچھو تو آج میں اپنے دل میں جس عالی ہمتی کا احساس کررہا ہوں، وہ ایک نیا تجربہ ہے۔آج کئی ماہ کی کشمکش کے بعد میں نے اپنے اوپر فتح پائی ہے۔مجھے پریما سے جتنی محبت ہے، اس سے کئی گنی محبت میرے ایک دوست کو اس سے ہے۔اس شریف آدمی نے کبھی بھول کر بھی اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا لیکن میں جانتا ہوں اس کی محبت کتنی جاں سوز، کتنی گہری اور کتنی پاکیزہ ہے۔میں تقدیر کی کتنی چوٹیں سہہ چکا ہوں۔ایک چوٹ اور بھی سہہ سکتا ہوں۔لیکن میرے اس دوست نے ابھی ناکامی کی ایک چوٹ بھی نہیں سہی ہے اور یہ ناکامی اس کے لیے سوہان روح ہوجائے گی۔‘‘
یہ اشارہ کس کی طرف تھا، دان ناتھ سے مخفی نہ رہا۔ جب امرت رائے کی بیوی کا انتقال ہوا اسی وقت پریما سے دان ناتھ کی شادی کا تذکرہ درپیش تھا۔ جب پریما کی بہن کا انتقال ہو گیا تو اس کے والد لالہ بدری پرشاد نے دان ناتھ کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ دان ناتھ علم، دولت اور وقار، کسی بات میں بھی امرت رائے کے مد مقابل نہ تھے۔ سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ پریما بھی امرت رائے کی جانب زیادہ متوجہ معلوم ہوتی تھی۔ دان ناتھ اتنے مایوس ہوئے کہ طے کرلیا کبھی شادی نہ کروں گا۔ دونوں دوستوں میں ذرا بھی کدورت نہ پیدا ہوئی۔ دان ناتھ یوں بظاہر تو ہمیشہ خوش رہتے تھے لیکن دنیا سے ان کا دل بیزار ہوگیا تھا۔ زندگی بار معلوم ہوتی تھی۔ امرت رائے کو اپنے دلی دوست کی حالت پر افسوس ہوتا تھا اور وہ اپنے دل کو اس آزمایش کے لیے مہینوں سے تیار کر رہے تھے لیکن پریما جیسی عدیم المثال نازنین سے دست بردار ہوجانا آسان نہ تھا۔ ایسی حالت میں دان ناتھ کا یہ اصرار دوستانہ ہمدردی پر اتنا زیادہ مبنی نہ تھا جتنا امرت رائے کے جذبۂ ایثار کی گہرائی تک پہنچنے کی خواہش پر، جس تمنا کو انھوں نے سینہ کو چیر کر نکال ڈالا تھا۔ جس کے پورے ہونے کی اس کی زندگی میں مطلق امید نہ تھی، وہی تمنا آج ان کے سینے میں مشعل کی طرح روشن ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی امرت رائے کے اس ملکوتی ایثار نے ان کے دل پر بہت گہرا اثر پیدا کیا۔ رقت آمیز لہجے میں بولے ’’تو کیا اسی خیال سے تم نے آج یہ فیصلہ کرلیا۔ اگر تمھارا وہ دوست اس فیصلے سے فائدہ اٹھائے تو میں کہوں گا کہ وہ تمھارا دوست نہیں دشمن ہے۔ اور پھر کیا معلوم ہے کہ اس حالت میں پریما کی شادی تمھارے دوست سے ہی ہو۔‘‘
امرت رائے نے تشویش ناک لہجے میں کہا ’’ہاں یہ اندیشہ ضرور ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ میرادوست اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے گا۔‘‘
دان ناتھ نے افسردہ خاطر ہو کر کہا ’’تم اسے اتنا کمینہ سمجھنا چاہو تو سمجھ لو لیکن میں کہے دیتا ہوں کہ میں اس دوست کو پہچان سکا ہوں تو وہ اپنے عوض تمھیں ناکامی کا شکار نہ بننے دے گا۔‘‘
یہ کہتے ہوئے دان ناتھ باہر نکل آئے اور امرت رائے دروازے پر کھڑے انھیں پر غرور نگاہوں سے دیکھتے رہے وہ دل میں کہہ رہے تھے، اس شخص میں کتنا ضبط ہے۔‘‘

(2)

ادھر دونوں دوستوں میں باتیں ہو رہی تھیں ادھر لالہ بدری پرشاد کے گھر میں ماتم سا چھایا ہوا تھا۔ بڑی دیر کے بعد ان کی بیوی دیوکی نے کہا  ’’تم ذرا امرت رائے کے پاس چلے کیوں نہیں جاتے؟‘‘
بدری پرشاد نے اعتراض کے انداز سے کہا ’’جاکر کیا کروں۔ ‘‘
’’جاکر سمجھاؤ اور کیا کروگے ۔‘‘
’’میں اس چھوکرے کے پاس نہیں جا سکتا ۔‘‘
’’آخر کیوں ؟کوئی ہرج ہے ۔‘‘
’’اب تم سے کیا بتاؤں ۔ جب مجھے اس کا فیصلہ معلوم ہو گیا تو میرا اس کے پاس جانا غیر مناسب ہی نہیں، اہانت آمیز ہے ۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ بد ھوا بواہ (بِدھوابیاہ) کے ہامی ہیں ۔ سمجھتے ہیں اس سے ملک آسمان پر پہنچ جائے گا ۔ میں سمجھتا ہوں بِد ھوا بِواہ ملک کے لیے زہر قاتل ہے اس سے ہندوعظمت اور پاکیزگی کے رہے سہے نشان بھی مٹ جائیں گے ۔ ایسی حالت میں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا ۔‘‘
دیوکی نے جواب دیا’’یہ کوئی بات نہیں ہے ۔ آج اگر ہمارا کملا مسلمان ہو جائے تو کیا ہم اس کے پاس آنا جانا چھوڑدیں گے ؟ ہم سے جہاں تک ہو سکے گا اسے سمجھائیں گے اور اسے سیدھے راستے پر لانے کی کو شش کریں گے ۔‘‘
دیوکی کے اس جواب سے بدری پرشاد کچھ نرم تو پڑے لیکن پھر بھی قائل نہ ہوئے ۔ بولے ’’بھئی میں تو اب امرت رائے کے پاس نہ جاؤں گا۔تم اگر سوچتی ہو کہ وہ سمجھانے سے راہ راست پر آجائیں گے تو انھیں بلا لو، خود چلی جاؤ لیکن مجھ سے جانے کو نہ کہو، میں انھیں دیکھ کر شاید آپے سے باہر ہوجاؤں ۔کہو تو جاؤں ؟‘‘
دیوکی- ’’نہیں معاف کیجیے ۔اس سے تو یہی اچھا ہے کہ تم نہ جاؤ ۔میں کل انھیں بلالو ں گی۔ 
بدری- ’’بلا نے کو بلالو،لیکن یہ میں کبھی پسند نہ کروں گا کہ تم ان کی خوشامد کرو‘‘میں پریما کو ان کے گلے لگانا نہیں چاہتا ۔ اس کے لیے بر کی کمی نہیں ہے ۔‘‘
دیوکی- ’’پریما ان لڑکیوں میں نہیں ہے کہ تم اس کی شادی جس کے ساتھ چاہوکر دو،ذرا جاکر اس کی حالت تو دیکھو تو معلوم ہو، جب سے یہ خبر ملی ہے اکیلی چھت پر پڑی رورہی ہے۔ ‘ ‘
بدری- ’’اجی یہ تو لڑکیوں کا قاعدہ ہے، دس پانچ روز میں آپ ہی آپ سنبھل جائے گی ۔ ‘‘
دیوکی- ’’کون پریما ؟ میں کہتی ہوں وہ اس غم میں رو کر جان دے دے گی۔ تم ابھی اسے نہیں جانتے ۔‘‘ بدری پرشاد نے جھنجھلا کر کہا ’’اگر وہ رو رو کر مر جاناچاہتی ہے تو مر جائے لیکن میں امرت رائے کی خوشامد نہ کروں گا ۔‘‘
بدری پرشاد باہر چلے گئے ، دیوکی بڑے شش و پنج میں پڑگئی ۔ شوہر کی عادت سے خوب واقف تھی۔ لیکن انھیں اتناکج فہم اس نے نہ سمجھا تھا ۔ اسے پوری امید تھی کہ امرت رائے سمجھا نے پراپنا فیصلہ تبدیل کردیں گے لیکن ان کے پاس کیسے جائے،شوہر سے راڑکیسے مول لے ۔ 
دفعتاً پریما اوپر سے آکر چا رپائی کے پاس کھڑی ہو گئی ،اس کی آنکھیں سرخ تھیں ،دیوکی نے سمجھا کر کہا ’’رو مت بیٹی ۔ میں کل انھیں بلالوں گی ،میری بات وہ کبھی نہ ٹالیں گے ۔‘‘
پریما نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا ’’ نہیں اماں آپ کے پیروں پڑتی ہوں، ان سے کچھ نہ کہیے ۔ میں کار خیر میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتی ۔ انھوں نے ہماری بد نصیب بہنوں کی خاطر یہ فیصلہ کیا ہے ۔ ہمار ے یہاں کتنے ایسے آدمی ہیں جو اتنی جرات کر سکیں۔ میں ان کے اس نیک ارادہ میں حائل نہ ہوں گی ۔‘‘
دیوکی نے حیرت زدہ نگاہ ہوں سے پریما کو دیکھا ۔ لڑکی کیا کہہ رہی ہے ،ان کی سمجھ میں نہ آیا ۔ 
 پریما پھر بولی ’’اگر ایسے نیک طبیعت اور روشن خیال آدمی قربانیاں نہ کریں گے تو کون کرے گا؟‘‘
دیوکی نے پوچھا ’’اورتواپنے دل کو کیسے سمجھائے گی بیٹی۔ اس خیال سے تجھے تسکین ہوگی ؟‘‘
پریما نے متانت سے جواب دیا ’’مجھے اس کا بالکل دکھ نہیں ہے ‘اماں جی !میں آپ سے سچ کہتی ہوں،میں بھی اس کام میں ان کی مدد کروں گی ۔ جب تک آپ لوگوں کا ہاتھ میرے سر پر ہے مجھے کس بات کی فکر ہے ۔ آپ لوگ میرے لیے ذرا بھی اندیشہ نہ کریں ۔ میں کنواری رہ کر بہت سکھی رہوں گی۔‘‘
دیوکی نے پر اشک نگاہوں سے دیکھ کر کہا ۔ ’’ماں باپ کس کے سدا بیٹھے رہتے ہیں بیٹی ! اپنی آنکھوں کے سامنے ذرا جو کام ہو جاوے وہی اچھا ۔ لڑکی تو ان کی بھی کنواری نہیں رہنے پاتی جن کے گھر وں میں کھانے کاٹھکانا نہیں ہے ۔ بھیک مانگ کر لوگ لڑکی کا بیاہ کرتے ہیں۔ محلہ میں کوئی لڑکی یتیم ہو جاتی ہے تو چندہ سے اس کا بیاہ کردیا جاتا ہے، میرے یہاں کس بات کی کمی ہے؟ میں تمھارے لیے کوئی اور لڑکا تلاش کروں گی۔ یہ جانے سنے آدمی تھے۔ اتنا ہی تھا ورنہ برادری میں ایک سے ایک پڑے ہوئے ہیں۔ میں کل تمھارے بابو جی کو بھیجتی ہوں۔‘‘
پریما کا دل کانپ اٹھا۔ آج تین برس سے امرت رائے کی مورت کو اپنے دل کے مندر میں بٹھا کر وہ پوجتی چلی آئی تھی، اس مورت کو اس کے دل سے کون نکال سکتا تھا۔ دل میں اس مورت کو بٹھائے ہوئے کیا وہ کسی دوسرے شخص سے بیاہ کرسکتی تھی؟ وہ بیاہ ہوگا یا بیاہ کاڈھونگ؟ اس زندگی کا خیال کتنا خوفناک، کتنا دل ہلادینے والا تھا؟ پریما نے زمین کی طرف تاکتے ہوئے کہا۔
’’نہیں اماں جی! میرے لیے کوئی فکر نہ کریں۔ میں نے کنواری ہی رہنے کا قصد کرلیا ہے۔‘‘
’’بابو کملا پرشاد کی آمد آمد کا شور سنائی دیا، آپ سنیما کے بے طرح دلدادہ تھے۔ روز ہی جایا کرتے تھے۔ نوکروں سے وہ سختی کے ساتھ کام لیتے تھے۔ خصوصاً باہر سے آنے پر تو کسی ایک کی مرمّت سے باز نہ رہ سکتے تھے۔ ان کے بوٹ کی چرچراہٹ سنتے ہی نوکروں میں ہلچل پڑجاتی تھی۔
کملا پرشاد نے آتے ہی کہار سے پوچھا ’’برف لائے؟‘‘
کہار نے دبی زبان سے کہا ’’ابھی تو نہیں سرکار۔‘‘
کملا پرشاد نے گرج کر کہا ’’زور سے بولو، برف لائے یا نہیں؟ منہ میں زبان نہیں ہے۔‘‘
کہار کی آواز اب بالکل بند ہوگئی۔ کملا پرشاد نے کہار کے دونوں کانوں کو پکڑ کر ملاتے ہوئے کہا ’’ہم پوچھتے ہیں برف لائے یا نہیں؟‘‘
کہار نے دیکھا کہ اب بغیر منہ کھولے ہوئے کانوں کے اکھڑ جانے کا احتمال ہے تو آہستہ سے بولا۔ نہیں سرکار!
کملا –کیوں نہیں لائے ؟ 
کہار –پیسے نہ تھے۔ 
کملا–کیوں پیسے نہ تھے؟ گھر میں جاکر مانگے تھے؟ 
کہار –’’ہاں سرکار کسی نے سنا نہیں۔‘‘
کملا –’’جھوٹ بولتا ہے ۔ میں جاکر دریا فت کر تا ہوں، اگر معلوم ہو اکہ تو نے پیسے نہیں مانگے تو کچا ہی کھا جاؤں گاراسکل ۔ ‘‘
کملا پرشاد نے کپڑے بھی نہیں اتارے ۔ غصہ میں بھر ے ہوئے گھر میں جاکر ماں سے پوچھا ’’کیوں اماں !بد لوتم سے برف کے لیے پیسے مانگنے آیا تھا ۔‘‘
دیوکی نے بغیر ان کی طر ف دیکھے ہی کہا ’’آیا ہوگا ،یاد نہیں آتا،بابو امرت رائے سے ملا قات تو نہیں ہوئی ؟
کملا –’’نہیں ان سے تو ملاقات نہیں ہوئی۔ان کی طرف گیا تھا لیکن جب سنا کہ وہ کسی جلسہ میں گئے ہیں تو میں سنیما دیکھنے چلاگیا۔ جلسوں کا توانھیں مرض ہے اور میں بالکل فضول سمجھتاہوں، کوئی فائدہ نہیں۔ بغیرلکچر سنے بھی آدمی زندہ رہ سکتا ہے اورلکچر دینے والوں کے بغیردنیا کے پاتال میں چلے جانے کا اندیشہ نہیں۔ جہاں دیکھو لکچرار ہی لکچرار نظرآتے ہیں۔ برساتی مینڈکوں کی طرح ٹرٹرکیا اور چلتے ہوئے۔ اپنا وقت کھویا اوردوسروں کو پریشان کیا۔ سب کے سب بیوقوف ہیں۔‘‘
دیوکی-’’امرت رائے نے تو آج ناؤ ہی ڈبودی ،اب کسی بدھوا سے بیاہ کرنے کی ٹھان لی ہے‘‘ کملا پرشاد نے زور سے قہقہ لگا کر کہا ’’اور یہ جلسے والے کریں گے کیا؟ یہی تو ان سبھوں کو سوجھتی ہے۔ لالہ اب کسی بیوہ سے شادی کریں گے؟ اچھی بات ہے میں ضروربارات میں جاؤں گا۔ خواہ اور کوئی جائے یا نہ جائے۔ ذرا دیکھوں نئے ڈھنگ کی شادی کیسی ہوتی ہے۔ وہاں بھی سب لکچربازی کریں گے۔ ان لوگوں کے لیے اورکیاہوگا۔ سب کے سب بیوقوف ہیں۔ عقل کسی کو چھو نہیں گئی۔‘‘
دیو کی-’’تم ذراان کے پاس چلے جاتے۔‘‘
کملا- ’’اس وقت تو بادشاہ بھی بلائے تو نہ جاؤں۔ ہاںکسی روز جاکر ذرا خیروعافیت پوچھ آؤں گا۔ مگر ہے پوراخبطی! میں توجانتا تھا کہ اس میں کچھ سمجھ ہوگی مگر نرا بونگا نکلا! اب بتاؤ زیادہ پڑھنے سے کیا فائدہ ہوا؟ بہت اچھا ہوا کہ میں نے پڑھنا چھوڑ دیا۔ بہت پڑھنے سے عقل ماری جاتی ہے۔ جب آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں تو عقل کیسے بچی رہ سکتی ہے؟ تو کوئی بیوہ بھی ٹھیک ہوگئی یا نہیں؟ کہاں ہے مصرانی؟ کہہ دوکہ اب تمھاری چاندی ہے۔ کل ہی سندیس بھیج دیں۔ کوئی اور نہ جائے تو میں جانے کو تیارہوں۔ بڑا مزارہے گا! کہیں ہے مصرانی۔ اب ان کی قسمت کھل رہے گی۔ برادری ہی کی بیوہ ہے نا،کہ برادری کی قید بھی نہیں رہی؟۔
دیو کی- یہ تو نہیں جاتی اب کیا ایسے بھرشٹ (ناپاک) ہوجائیں گے۔
کملا-’’یہ سبھاوالے۔ جو کچھ نہ کر گزریں وہ تھوڑا۔ ان سبھوں کو بیٹھے بیٹھے ایسی بے پر کی اڑانے کی سوجھتی ہے۔ ایک روز پنجاب سے کوئی بوکھل (خبطی) آیاتھاکہہ گیا کہ ذات پات توڑدو، کیوں کہ اس سے ملک میں پھوٹ بڑھتی ہے۔ بس سب کے سب بیٹھے یہی سوچاکرتے ہیں کہ کوئی نئی بات نکالنی چاہیے۔ گاندھی جی کواور کچھ نہ سوجھی توسوراج ہی کاڈنکاپیٹ چلے۔ سبھوں نے عقل بیچ کھائی ہے۔‘‘ اتنے ہی میں ایک حسینہ نے صحن میں قدم رکھا۔ کملا پرشاد کو دیکھ کر ڈیوڑھی پر ٹھٹھک گئی۔ دیو کی نے کملا سے کہا۔
 ’’تم ذرا کمرہ میں چلے جاؤ۔ پورنا ڈیوڑھی پر کھڑی ہے۔‘‘
پورنا کو دیکھتے ہی پریما دوڑ کر اس کے گلے سے لپٹ گئی۔ پڑوس میں ایک پنڈت بسنت کمار رہتے تھے۔ کسی دفتر میں نوکر تھے، پورنا انھیں کی بیوی تھی، بہت ہی حسین، بہت ہی نیک، مکان میں کوئی دوسرا نہ تھا۔ جب دس بجے پنڈت جی دفتر چلے جاتے تو وہ یہیں چلی آتی اور دو سہیلیاں شام تک بیٹھی ہنستی بولتی رہتیں۔ پریما کو اس سے اتنی محبت تھی کی اگر کسی دن وہ کسی سبب سے نہ آتی، وہ خود اس کے یہاں جاتی۔ آج بسنت کمار کہیں دعوت میں گئے تھے، پورنا کا جی گھبرایا تو وہ یہاں چلی آئی۔ پریما اس کا ہاتھ پکڑے اوپر کمرے میں لے گئی۔
پورنا نے چادر الگنی پر رکھتے ہوئے کہا۔ ’’تمھارے بھیا آنگن میں کھڑے تھے اور میں منہ کھولے چلی آئی تھی۔ مجھ پر ان کی نظر پڑگئی ہوگی۔‘‘
پریما – ’’بھیا میں کسی کو تاکنے کی لت نہیں ہے۔ یہی تو ان میں ایک گن (وصف) ہے۔ آپ کے پنڈت جی کہیں گئے ہیں کیا؟‘‘
پورنا – ’’ہاں آج ایک نیوتے (دعوت) میں گئے ہیں۔‘‘
پریما – ’’سبھا میں نہ گئے۔ آج تو بہت بھاری سبھا ہوئی ہے؟‘‘
پورنا – ’’وہ کسی سبھا سماج میں نہیں جاتے۔ کہتے ہیں کہ ایشور نے دنیا بنائی ہے اور وہی اپنی مرضی سے ہربات کا بندوبست کرتا ہے۔ میں اس کے کاموں کو سدھارنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔‘‘
پریما – ’’آج کی سبھا دیکھنے کے لائق تھی۔ تم ہوتیں تو میں بھی جاتی۔ سماج سدھار پر ایک مہاشے کا بڑا اچھا لکچر ہوا۔‘‘
پورنا – ’’عورتوں کے سدھار کا رونا رویا گیا تھا۔‘‘
پریما – ’’تو کیا عورتوں کے سدھار کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
پورنا – ’’پہلے مرد لوگ تو اپنی دشا (حالت) سدھار لیں۔ پھر عورتوں کی دشا سدھاریں گے۔ ان کی دشا سدھر جائے تو عورتیں آپ ہی آپ سدھر جائیں۔‘‘
’’ساری برائیوں کی جڑ مرد ہی ہیں۔‘‘
پریمانے ہنس کر کہا۔ ’’نہیں بہن! سماج میں عورت مرد دونوں ہی ہیں اور جب تک دونوں کا سدھار نہ ہوگا زندگی میں سکھ نہ ملے گا۔ مردوں کے ودوان ہونے سے کیا عورتیں ودوان ہوجائیں گی۔ مرد تو زیادہ تر سادے ہی کپڑے پہنتے ہیں۔ پھر عورتیں کیوں گہنوں پر جان دیتی ہیں۔ قیمتی کپڑوں کی تو کوئی بات نہیں۔ مردوں میں تو کتنے ہی بن بیاہ رہ جاتے ہیں۔ عورتوں کو کیوں بن بیاہا رہنے میں زندگی بیکار معلوم ہوتی ہے؟ بتاؤ میں تو سوچتی ہوں کہ بن بیاہا رہنے میں جو سکھ ہے وہ بیاہ کر رہنے میں نہیں۔‘‘
پورنا نے آہستہ سے پریما کو دھکا دے کر کہا۔ ’’چلو بہن تم بھی کیسی باتیں کرتی ہو۔ بابو امرت رائے سنیں گے تو تمھاری خوب خبر لیں گے۔ میں انھیں لکھ بھیجوں گی کہ یہ اپنا بیاہ نہ کریں گی، آپ کوئی دوسرا دروازہ دیکھیں۔‘‘
پریما نے امرت رائے کے عہد کا حال نہ کہا۔ وہ جانتی تھی کہ اس سے پورنا کی نگاہ میں ان کی قدر بہت کم ہوجائے گی۔بولی ’’وہ خود بیاہ نہ کریں گے۔‘‘
پورنا – ’’چلو جھوٹ بکتی ہو۔‘‘
پریما – ’’نہیں بہن جھوٹ نہیں۔ شادی کرنے کی ان کی خواہش نہیں ہے۔ دیدی (بڑی بہن) کے مر جانے کے بعد وہ کچھ تیاگی سے ہوگئے تھے۔ بابو جی کے بہت گھیرنے پر اور مجھ پر رحم کرکے وہ شادی کرنے پر تیار ہوئے تھے، مگر اب ان کا ارادہ بدل گیا ہے۔ اور میں بھی سمجھتی ہوں کہ جب ایک شخص خود گرہستی کے جھنجھٹ میں نہ پھنس کر سماج کی سیوا کرنا چاہتا ہے تو اس کے پیر کی بیڑی بننا ٹھیک نہیں ہے۔ میں تم سے سچ کہتی ہوں پورنا، مجھے اس کا رنج نہیں ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی میں بھی کچھ کرے جاؤں گی۔‘‘ پورنا کی حیرت بڑھتی ہی گئی بولی۔ ’’آج چار بجے تک تم ایسی باتیں نہ کرتی تھیں۔ یکایک یہ کیسی کایا پلٹ ہوگئی۔انھوں نے کسی سے کچھ کہاہے کیا۔‘‘
پریما-’’بلاکہے بھی توآدمی اپنی خواہش ظاہر کرسکتا ہے۔‘‘
پورنا- ’’میں ایک خط لکھ کر ان سے پوچھوں گی۔‘‘
پریما-’’ نہیں پورنا،تمھارے پیروں پڑتی ہوں، خط وط نہ لکھنا، میںکسی کے نیک ارادے میں رکاوٹ نہ ڈالوں گی، میں اگر اورکوئی مدد نہیں کرسکتی تو کم سے کم ان کی راہ کا کانٹا نہ بنوں گی۔‘‘
پورنا-’’ساری عمرروتے کٹے گی کہے دیتی ہوں۔‘‘
پریما - ’’ایسا کوئی دکھ نہیں ہے جو آدمی سہہ نہ سکے۔ وہ جانتے ہیں کہ مجھے اس سے دکھ نہیں سکھ ہوگا۔ ورنہ وہ کبھی ایسا ارادہ نہ کرتے۔ میں ایسے حوصلے والے آدمی کا حوصلہ بڑھانااپنا فرض سمجھتی ہوں۔ اسے گرہستی میں نہیں پھنسانا چاہتی۔ پورنا نے بے پروائی سے کہا۔ ’’تمھاری مایا (لیلا) میری سمجھ میں نہیں آتی۔ بہن، معاف کرنا۔ میں کبھی نہ مانوںگی کہ تم کو اس سے دکھ نہ ہوگا۔‘‘
پریما- ’’توپھرا نھیں بھی ہوگا۔؟‘‘
پورنا- ’’مردوں کا دل سخت ہوتاہے۔‘‘
پریما- ’’تو میں بھی اپنا دل سخت بنالوں گی۔‘‘
پورنا-’’اچھا بنالینا- لو اب نہ کہوں گی۔ لاؤ باجہ، تمھیں ایک گیت سناؤں پریما نے ہار مونیم سنبھالا اور پورنا گانے لگی۔‘‘

(3)

ہولی کادن آیا، محلے کے دوچار بے فکرے جمع ہوگئے ۔ کوئی مر چ پیسنے لگا۔ کوئی بادام چھیلنے لگا۔ دوآدمی دودھ کا بندوبست کرنے کے لیے گئے دو آدمی سل بٹادھونے لگے۔ ایک ہنگامہ برپاہوگیا۔
دفعتاً بابوکملا پرشاد آپہنچے۔ یہ جمگھٹادیکھ کر بولے۔’’ کیا ہورہا ہے بھئی! ہمارا بھی حصہ ہے نا؟‘‘
بسنت کمار نے آگے بڑھ کر خیر مقدم کیا۔ بولے ’’ضرور میٹھی پیجیے گاکہ نمکین؟‘‘
کملا-اجی میٹھی پلاؤ نمکین کیا۔ مگر یارزعفران اور کیوڑا ضرورہو۔ کسی کو بھیجئے۔ میرے یہاں سے لے آئے۔ کسی لڑکے کو بھیجیے جو اندر جاکر پریما سے مانگ لائے، کہیں بیوی صاحبہ کے پاس نہ چلا جائے ورنہ مفت گالیاں ملیں، تیوہار کے دن ان کامزاج گرم ہوجایا کرتاہے۔ یاربسنت کمار بیویوں کے خوش رکھنے کا آسان نسخہ بتاؤ میں توعاجزآگیا۔‘‘
بسنت کمار نے مسکرا کر کہا۔ ’’ہمارے یہاں تو یہ مرض کبھی نہیں ہوتا۔‘‘
کملا-’’تو یار تم بڑے خوش نصیب ہو، کیا پورنا تم سے کبھی نہیں روٹھتی؟‘‘
بسنت –’’کبھی نہیں۔ــ‘‘
کملا–’’کبھی کسی چیز کے لیے ضدنہیں کرتی ۔‘‘
بسنت– ’’کبھی نہیں‘‘ یہاں تو دوامی قید ہوگئی ہے اور گھڑی بھربھی گھر سے باہر رہوں توجواب طلب ہوتاہے۔ سنیما روزانہ جاتاہوں اورہرروز گھنٹوں مناؤ کرناپڑتاہے۔‘‘
بسنت –’’تو سنیما دیکھنا چھوڑ دیجیے۔‘‘
کملا – ’’واہ واہ۔ یہ تو تم نے خوب کہی، قسم اللہ پاک کی خوب کہی، جس کل وہ بٹھائے اسی کل بیٹھ جاؤں۔ پھر جھگڑا ہی نہ ہو۔ کیوں؟ اچھی بات ہے۔ کل دن بھر گھر سے نکلوں گا نہیں۔ دیکھوں تو تب کیا کہتی ہے۔ دیکھنا اب تک وہ چھوکرا زعفران اور کیوڑالے کر نہیں لوٹا۔ کان میں بھنک پڑ گئی ہوگی، پریما کو منع کردیاہوگا۔ اب تو نہیں رہا جاتا۔ آج جو کوئی میرے منہ لگا تو برا ہوگا۔ میں ابھی جاکر سب چیزیں بھیجے دیتا ہوں۔ مگر جب تک میں نہ آؤں آپ تیار نہ کرائیے گا۔ یہاں اس فن کے استاد ہیں۔ موروثی بات ہے۔ دادا ایک تولہ کاناشتہ کرتے ہیں۔ عمر میں کبھی ایک دن کا بھی ناغہ نہیں کیا، مگر کیا مجال کہ نشہ ہوجائے۔‘‘
یہ کہہ کر کملا پرشاد جھلائے ہوئے گھر چلے گئے۔ بسنت کمار کسی کام سے اندر گئے تو دیکھا کہ پورنا ابٹن پیس رہی ہے۔ پنڈت جی کے بیاہ کے بعد یہ دوسری ہولی تھی۔ پہلی ہولی میں بے چارے خالی ہاتھ تھے۔ پورنا کی کچھ خاطر نہ کر سکے تھے۔ مگر اب کے انھوں نے بڑی تیاریاں کی تھیں۔ محنت کرکے کوئی ڈیڑھ سو روپیے پیدا کیے تھے۔ اس میں پورنا کے لیے ایک عمدہ ساڑھی لائے تھے۔دو ایک چھوٹی موٹی چیزیں بھی بنوادی تھیں۔پورنا آج وہ ساڑھی پہن کر انھیں اپسرا سی معلوم پڑنے لگی۔ پاس جاکر بولے۔ ’’آج تو جی چاہتا ہے تمھیں آنکھوں میں بٹھا لوں۔‘‘
پورنا نے ابٹن ایک پیالی میں اٹھاتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنکھیں ملاکر کہا ’’یہ دیکھو میں تو پہلے ہی بیٹھی ہوئی ہوں۔‘‘
بسنت – ’’ذرا اشنان کرتا آؤں۔ کملا بابو اب دس بجے سے پہلے نہ لوٹیں گے۔‘‘
پورنا – ’’پہلے ذرا یہاں آکر بیٹھ جاؤ۔ ابٹن تو لگادوں۔ پھر نہانے جانا۔‘‘
بسنت-’’نہیں نہیں،رہنے دو-میں ابٹن نہ لگاؤں گا۔ لاؤ میری دھوتی دو۔‘‘
پورنا-’’واہ ابٹن کیوں نہ لگاؤگے۔ آج کی یہ رسم ہے۔ آکے بیٹھ جاؤ۔ ‘‘
بسنت- ’’بڑی گرمی ہے۔ بالکل جی نہیں چاہتا۔‘‘
پورنا نے لپک کر انکاہاتھ پکڑلیا اورابٹن بھراہاتھ ان کے بدن پر پھیر دیا۔بولی ’’سیدھے سے کہتی تھی تو نہیں مانتے تھے۔ اب تو بیٹھوگے۔‘‘
بسنت نے جھینپ کر کہا– ’’مگر ذرا جلدی کرنا دھوپ ہورہی ہے۔‘‘
پورنا– ’’اب گنگا جی کہاں جاؤ گے یہیں نہا لینا‘‘
بسنت -’’نہیں-آج گنگا کنارے بڑی بہار ہوگی۔‘‘
پورنا-’’اچھاتوجلدی لوٹ آنا۔ یہ نہیں کہ ادھر ادھر تیرنے لگو۔ نہاتے وقت تم بہت دور تک تیر جایاکرتے ہو۔‘‘
پنڈت جی ابٹن لگواکر نہانے کے لیے چلے گئے۔ ان کا قاعدہ تھا کہ گھاٹ سے ذرا الگ نہایاکرتے تھے۔ تیراک بھی اچھے تھے۔ کئی بار شہر کے اچھے تیراکوں سے بازی جیت چکے تھے۔ اگر چہ آج گھر سے وعدہ کرکے چلے تھے کہ تیروں گا نہیں۔ مگر ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے اورصاف پانی میں اٹھتی ہوئی لہریں ایسی بھلی معلوم ہوتی تھیں کہ دل تیرنے کے لیے بے قرارہواٹھا۔ وہ فوراًپانی میں کود پڑے اور ادھر ادھر کلیلیں کرنے لگے۔ دفعتاً انھیں منجدھار میں کوئی سرخ چیز بہتی نظرآئی۔ غورسے دیکھا توکنول تھے۔ آفتاب کی شعاعوں میں چمکتے ہوئے وہ ایسے خوشنما معلوم ہوتے تھے کہ بسنت کمار کا جی ان پر للچاگیا۔ سوچا کہ اگر یہ مل جائیںتو پورنا کے کانوں کے لیے جھومک بناؤں۔ اس کی خوشی کا اندازہ کرکے ان کا دل ناچ اٹھا۔ بیچ دھارے تک تیر جانا ان کے لیے کوئی بڑی بات نہ تھی۔ انھیں پورا یقین تھا کہ میں پھول لاسکتاہوں۔ جوانی دیوانی ہے۔ یہ نہ سوچا کہ جیوں جیوں میں آگے بڑھوں گا پھول بھی تو بڑھیں گے۔ ان کی طرف چلے اور کوئی پندرہ منٹ میں منجدھار میں پہنچ گئے۔
مگر وہاں جاکر دیکھا تو پھول اتنی ہی دور آگے تھے۔ اب کچھ تکان معلوم ہونے لگی تھی۔ مگر بیچ میں کوئی ریت بھی نہ پڑتی تھی جس پر بیٹھ کر دم لیتے۔ آگے ہی بڑھتے گئے کبھی ہاتھ کبھی پیروں سے زور لگاتے، پھولوں تک پہنچے۔ مگر اس وقت تک کل اعضا سست پڑ گئے تھے۔ یہاں تک کہ انھوں نے جب پھولوں کو پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھانا چاہا تو ہاتھ نہ اٹھ سکا۔ آخر ان کو دانتوں میں دبا لیا اور پلٹ پڑے۔ مگر جب وہاں سے انھوں نے کنارے کی طرف دیکھا تو ایسا معلوم ہواگویا ہزاروں کوس کی منزل ہے۔ بدن بالکل نڈھال ہوگیا تھا اور پانی کا بہاؤ بھی خلاف تھا۔ ان کی ہمت چھوٹ گئی۔ ہاتھ پیر ڈھیلے پڑ گئے۔ قریب کوئی کشتی یا ڈونگی نہ تھی اور کنارے تک آواز ہی نہ پہنچ سکتی تھی۔ سمجھ گئے یہیں غرق دریا ہونا پڑے گا۔ ایک لمحہ کے لیے پورنا کی یاد آئی۔ ہائے وہ ان کی راہ دیکھ رہی ہوگی۔ اسے کیا معلوم وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرچکے۔ بسنت کمار نے ایک بار پھر زور لگایا مگر ہاتھ پیر نہ ہل سکے۔ اب ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ کنارے پر سے لوگوں نے انھیں دیکھا۔ دو چار آدمی پانی میں کود پڑے۔ مگر ایک ہی لمحہ میں بسنت کمار لہروں میں سماگئے۔ صرف کنول کے پھول پانی میں تیرتے رہ گئے گویازندگی کا خاتمہ ہوجانے کے بعد اس کی ناکام آرزوئیں اپنا خونیں جلوہ دکھا رہی تھیں۔

(4)

لالہ بدری پرشاد کی شرافت مشہور تھی۔ ان سے ٹھگ کر کوئی پیسہ بھی نہ لے سکتا تھا۔ مذہب کے معاملہ میں وہ بہت ہی فراخ دل تھے۔ خود غرضیوں سے وہ کوسوں بھاگتے تھے، مگر محتاجوں کی مدد کرنے میں کبھی نہ چوکتے تھے۔ پھر پورنا تو ان کی پڑوسن ہی نہیں برہمنی بھی تھی، اس پر ان کی لڑکی کی سہیلی، اس کی مدد وہ کیوں نہ کرتے؟ پورنا کے ساتھ دو چار معمولی گہنوں کے سوا اور کیا تھا۔ تیرہویں کے دن اس نے وہ سب گہنے لاکر لالہ جی کے سامنے رکھ دیے اور آبدیدہ ہوکر بولی۔ ’’میں اب انھیں رکھ کر کیا کروں گی۔‘‘
بدری پرشاد نے رقت آمیز لہجہ میں کہا ’’ میں انھیں لے کر کیا کروں گا بیٹی! تم یہ نہ سمجھو کہ میں دھرم یا پُن سمجھ کر یہ کام کررہا ہوں۔ یہ میرا فرض ہے۔ ان گہنوں کو اپنے پاس رکھو۔ کون جانے کس وقت ان کی ضرورت پڑے۔ جب تک میں زندہ ہوں تمھیں اپنی بیٹی سمجھتا رہوں گا۔ تمھیں کوئی تکلیف نہ ہوگی۔‘‘
تیرھویں بڑی دھوم سے ہوئی۔ کئی سو برہمنوں نے کھانا کھایا۔ دان دچھنا میں بھی کوئی کمی نہ کی گئی۔
رات کے بارہ بج گئے تھے۔ لالہ بدری پرشاد برہمنوں کو کھانا کھلا کر لوٹے تو دیکھا کہ پریما ان کے کمرے میں کھڑی ہے۔ بولے ’’یہاں کیوں کھڑی ہو بیٹی! رات بہت ہو گئی جاکر سو رہو۔‘‘
پریما – آپ نے ابھی کھانا نہیں کھایا ہے نا؟
بدری – اب اتنی رات گئے میں کھانا نہ کھاؤں گا۔ تھک بھی بہت گیاہوں لیٹتے ہی سوجاؤں گا۔
یہ کہ کر بدری پرشاد پلنگ پر بیٹھ گئے اورایک لمحہ کے بعد بولے۔ ’’کیوں بیٹی پورنا کے مائیکہ میں کوئی نہیں ہے؟ میں نے اس سے نہ پوچھا کہ شاید اس کو رنج ہو۔‘‘
پریما-مائیکے میں کون ہے،ماں باپ پہلے ہی مرچکے تھے، ماما نے بیاہ کردیا تھا۔ مگر جب سے بیاہ ہوا پھر کبھی جھانکے تک نہیں۔ سسرال میں بھی سگا کوئی نہیں ہے۔ پنڈت جی کے دم سے ناتاتھا۔
بدری پرشاد نے بستر کی چادر برابر کرتے ہوئے کہا ’’میں سوچتاہوں کہ پورنا کواپنے ہی مکان میںرکھوں تو کیا ہرج ہے؟ اکیلی عورت کیسے رہے گی؟‘‘
پریما-ہوگا بہت اچھا-مگراماں جی مانیں تب تو۔
بدری۔ مانیں گی کیوں نہیں، پورنا تو انکا رنہ کرے گی؟
پریما– ’’پوچھوں گی– میں سمجھتی ہوں کہ انھیں انکارنہ ہوگا۔‘‘
بدری-’’اچھامان لوکہ وہ اپنے ہی گھر میں رہے تواس کا خرچ کوئی بیس روپیہ میں چل جائے گا۔‘‘
پریما نے احسان مندنگاہوں سے والد کی طرف دیکھ کرکہا’’بڑے مزے سے۔ پنڈت جی پچاس ہی روپیہ توپاتے تھے۔‘‘
بدری پرشادنے تشویش کے لہجہ میں کہا ’’میرے لیے بیس، پچیس، تیس سب برابر ہیں۔ مگر مجھے اپنی زندگی ہی کی بات تو نہیں سوچنی ہے۔ اگر آج نہ رہوں تو کملا کل کوئی کوڑی پھوڑ کر نہ دے گا، اس کے لیے کوئی مستقل بندوبست کردینا چاہتاہوں۔ ابھی ہاتھ میں روپیہ نہیں ہے، ورنہ کل ہی چار ہزار روپیہ کسی معتبر بینک میں جمع کردیتا۔ سود سے اس کی پرورش ہوتی رہتی۔ یہ شرط کردیتا کہ اصل میں سے اس کو کچھ نہ دیا جائے۔‘‘
دفعتاً کملا پرشاد آنکھیں ملتے ہوئے آکر کھڑے ہوئے اوربولے۔ ’’ابھی آپ سوئے نہیں۔ گرمی لگتی ہے توپنکھا لاکر رکھ دوں۔ رات زیادہ ہوگئی۔‘‘
بدری- ’’نہیں گرمی نہیں ہے۔ پریما سے کچھ باتیں کرنے لگاتھا۔ تم سے بھی کچھ صلاح لینا چاہتاتھا۔ تم آپ ہی آپ آگئے۔ میں سوچتاہوں پورنا یہیں آکر رہے توکیا ہرج ہے۔‘‘
کملاپرشاد نے آنکھیں پھاڑکر کہا ’’یہاں اماں نہ راضی ہوں گی۔‘‘
بدری-’’اماں کی بات چھوڑدو ۔ تمھیں توکوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں تم سے پوچھنا چاہتاہوں۔‘‘
کملاپرشاد نے زور دے کر کہا ’’میں توکبھی صلاح نہ دوں گا۔ دنیا میں سبھی طرح کے آدمی ہیں۔ نہ جانے لوگ کیا سمجھیں۔ ذرا دور تک سوچیے۔‘‘
بدری- ’’اس کی پرورش کے لیے تو کوئی نہ کوئی انتظام کرناہی ہوگا۔‘‘
کملا۔ ’’ہم کیاکرسکتے ہیں۔‘‘
بدری-’’تواورکون کرے گا۔‘‘
کملا۔ ’’شہر میں ہمیں تونہیں ہیں؟ اور بہت سے مالدار لوگ ہیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق ہم بھی کچھ امداد کریں گے۔‘‘
بدری پرشاد نے تمسخر کرتے ہوئے کہا ’’توچندہ کھول دیاجائے -کیوں؟ اچھی بات ہے توجاؤ گھوم گھوم کر چندہ وصول کرو۔‘‘
کملا- ’’میں کیوں چندہ جمع کرنے لگا۔‘‘
بدری- ’’تب کون کرے گا؟‘‘
کملاپرشاد نے اس معاملہ میں مطلق غورنہ کیاتھا۔ بیدلی سے بولا۔ ’’آخر آپ نے کوئی تجویز تو سوچی ہوگی جو مناسب سمجھیے وہ کیجیے۔‘‘
بدری ۔ ’’میں کیاکروں گا۔ میری تجویز کی اب وقعت ہی کیا ہے۔ چراغ سحری ہوں۔ میری زندگی کا کیا ٹھکانا۔ آج مراکل دوسرادن۔ میری آنکھیں بند ہوتے ہی تم سب درہم برہم کرڈالو تو مفت میں اور بدنامی ہو۔‘‘
کملاپرشاد نے بہت رنجیدہ ہوکر کہا ’’آپ مجھے اتنا کمینہ خیال کرتے ہیں یہ مجھے معلوم نہ تھا۔‘‘
بدری پرشاد بیٹے کو بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔ یہ دیکھ کرکہ میری باتوں سے اسے صدمہ پہنچا ہے، انھوں نے فوراً بات بنائی۔ ’’نہیں نہیں میں تمھیں کمینہ نہیں سمجھتا۔ بہت ممکن ہے کہ آج ہم جو بات کرسکتے ہیں وہ کل کے حالات تبدیل ہوجانے کے بعد نہ کرسکیں۔‘‘
کملا – ’’ایشور نہ کرے کہ میں وہ مصیبت جھیلنے کے لیے بیٹھا رہوں۔ لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ آپ جو کچھ کر جائیں گے، اس میں کملا پرشاد کو بھی کسی حالت میں اعتراض نہ ہوگا۔ آپ گھر کے مالک ہیں۔ آپ ہی نے یہ دولت پیدا کی ہے۔ آپ کو اس پر پورا اختیار ہے۔ تجویز کرنے کے پیشتر میں جو چاہے کہوں۔ جب آپ ایک بات طے کردیں گے تو میں اس کے خلاف زبان تک نہ ہلاؤں گا۔‘‘
بدری – ’’توکل چار ہزار روپے پورنا کے نام بینک میں جمع کردو اور یہ شرط لگا دو کہ وہ اصل میں سے کچھ نہ لے سکے۔ اس کے بعد روپے ہمارے ہوجائیں گے۔ کملا کو گویا چوٹ سی لگی۔ بولے ’’خوب سوچ لیجیے۔‘‘
بدری پرشاد نے تصفیہ کے لہجے میں کہا ’’خوب سوچ لیا ہے۔ دیکھناصرف یہ ہے کہ وہ اسے منظور کرتی ہے یا نہیں۔‘‘
کملا – ’’کیا اس کی منظوری میں بھی کوئی شرط ہے۔‘‘
بدری پرشاد نے حقارت آمیز لہجہ میں کہا ’’تمھاری یہ بری عادت ہے کہ تم سب کو خود غرض سمجھنے لگتے ہو۔ کوئی شریف آدمی  دو سروں کا احسان سر پر نہیں لینا چاہتا۔ انسان کی فطرت ہی ایسی ہے۔ گئے گذروں کی بات جانے دو لیکن جس میں خود داری کا ذرا بھی شائبہ ہے وہ دوسروں سے مدد نہیں لینا چاہتے۔ مجھے تو شک نہیں بلکہ یقین ہے کہ پورنا کبھی اس پر رضا مند نہ ہوگی۔ وہ محنت کرے گی لیکن جب تک مجبور نہ ہوجائے ہماری مدد کو قبول نہ کرے گی۔پریما نے بڑے جوش سے کہا ’’مجھے بھی یہی شبہ ہے۔ راضی ہوگی بھی توبڑی مشکل سے۔‘‘
بدری – ’’تم اس سے اس کا ذکر کرنا۔ کل ہی۔‘‘
پریما – ’’نہیں دادا، مجھ سے نہ بنے گا۔ وہ اور میں دونوں ہی اب تک بہنوں کی طرح رہی ہیں۔ مجھ سے اس طرح کی گفتگو اب کیسے ہوگی۔ میں تو رونے لگوں گی۔‘‘
بدری – ’’تو میں ہی طے کرلوں گا۔ ہاں کل شاید مجھے فرصت نہ ملے، تب تک تمھاری اماں سے باتیں ہوں گی۔ میرا خیال ہے وہ راضی ہو جائیں گی۔‘‘
کملا پرشاد خانہ داری کے انتظام میں اپنے کولا ثانی سمجھتے تھے۔ یوں تو عقل میں وہ اپنے کو افلاطون سے رتّی بھر کم نہ سمجھتے تھے، لیکن خانہ داری میں تو ان کا کمال مسلمہ تھا۔ سینما روز دیکھتے تھے مگر کیا مجال جو جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ کریں۔ منیجر سے دوستی کر رکھی تھی۔ اس کے یہاں کبھی کبھی دعوت کھا آیا کرتے تھے۔ پیسوں کا کام دھیلوں میں نکالتے تھے اور بڑی خوب صورتی سے کبھی کبھی لالہ بدری پرشاد سے اس معاملہ میں ان کی ٹھن بھی جایا کرتی تھی۔ بوڑھے لالہ جی بیٹے کی اس تنگ دلی پر کبھی کبھی کھری کھری کہہ ڈالتے تھے۔ کملا پر شاد سمجھ گئے کہ لالہ جی اس وقت کوئی اعتراض نہ سنیں گے بلکہ اعتراض سے ان پر الٹا ہی اثر پڑے گا۔ اس لیے انھوں نے مصلحت سے کام لینے کا ارادہ ۱کیا۔ علی الصباح پورنا کے دروازے پر جاکر آواز دی۔ پورنا پہلے تو ان سے پردہ کرتی تھی مگر اب بہو بن کر بیٹھنے سے کام نہ چل سکتا تھا۔ انھیں اندر بلا لیا، کملا بابو اندر جاکر چارپائی پر بیٹھے۔ ایک لمحہ میں پورنا ان کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ پورنا کی پیشانی گھونگھٹ سے ڈھکی ہوئی تھی لیکن دونوں نم آنکھیں تشکر سے بھری ہوئی زمین کی طرف تک رہی تھیں۔
کملا اسے دیکھ کرسکتے میں آگیا۔ وہ اس ارادے سے آیا تھا کہ اسے کسی طرح سے یہاں سے ٹال دوں۔ میکے چلے جانے کی تحریک کروں۔ اسے اس کی ذرابھی پرواہ نہ تھی کہ آیندہ اس بے کس کا کیا حشرہوگا۔ اس کی گذربسر کیسے ہوگی۔ اس کی حفاظت کون کرے گا۔ وہ اس وقت اپنے یہاں سے ٹال کر اپنے سرکا بوجھ ہٹادیناچاہتا تھالیکن اس بیوہ کی بھولی بھالی معصوم صورت دیکھ کر اس تنگدلی پرغیرت آئی۔کون آدمی ایسا سنگ دل ہے جو کسی گل نازک کو توڑ کر بھاڑ میں جھونک دے۔زندگی میں پہلی باراس کا دل حسن سے متاثر ہوا۔ اندھیرے گھر میں چراغ جل اٹھا۔ تمھیں اب یہاں اکیلے رہنے میں بڑی تکلیف ہوگی،ادھر پریما بھی اکیلی گھبرا یاکرتی ہے، اگر تم بھی جاکر اس کے ساتھ رہو تو کیا ہرج ہے۔‘‘
پورنا سرنیچا کیے ایک لمحہ تک سوچنے کے بعد بولی ’’ہرج کیا ہے یہاں بھی توآپ ہی لوگوں کے بھروسے پر پڑی ہوں؟‘‘
کملا-’’توآج چلی چلو، بابو جی کی بھی یہی خواہش ہے،میں جاکر آدمیوں کو اسباب لے جانے کے لیے بھیجے دیتاہوں۔‘‘
پورنا-’’نہیں بابوجی ،اتنی جلدی نہ کیجیے۔ سوچ لینے دیجیے۔‘‘
کملا-’’ اس میں سوچنے کی کون سی بات ہے۔ یہاں اکیلی کیسے پڑی رہوگی؟‘‘
پورنا- ’’اکیلی تو نہیں ہوں۔ مہری بھی یہیں سونے کو کہتی ہے۔‘‘
کملا- اچھا! وہ بلّو، ہاں بڑھیا ہے توسیدھی مگر ٹرّی ہے۔ آخر میرے گھر چلنے میں تمھیں کیا پس وپیش ہے۔
پورنا- ’’کچھ نہیں ۔ پس وپیش کیا ہے۔‘‘
کملا- ’’توآدمیوں کو جاکر بھیج دوں؟‘‘
پورنا-بھیج دیجیے گا ابھی جلدی کیاہے؟
کملا۔ ’’تم ناحق اتنا سوچاکرتی ہو، پورنا! کیا تم سمجھتی ہو کہ تمھارا جانامیرے گھر کے اور لوگوں کو برا معلوم ہوگا؟‘‘
کملا کا قیاس درست نکلا۔پورنا کو واقعی یہی اعتراض تھا۔ مگر وہ لحاظ کے سبب اسے ظاہر نہ کرسکتی تھی۔ اس نے سمجھا بابوجی نے میرے دل کی بات تاڑلی۔ا س سے وہ نادم ہوئی۔ بابو صاحب کے گھروالوں کے متعلق ایسا خیال اسے نہ ہونا چاہیے تھا۔ مگر کملا پرشاد نے اس کے پس وپیش کاخاتمہ کردیا۔ بولے۔ ’’تمھارا یہ خیال بالکل قدرتی ہے پورنا۔ مگر سوچو، میرے مکان میں ایسا کون سا آدمی ہے جو تمھاری مخالفت کرسکے۔ بابوجی کی خود ہی یہ خواہش ہے۔ مجھے تم خود ہی جانتی ہو ۔ پنڈت بسنت کمار سے میری کتنی گہری دوستی تھی۔ یہ تم سے پوشیدہ نہیں۔پریما تمھاری سہیلی ہی ہے۔ بابو جی کو تم سے کتنی محبت ہے، تم یہ جانتی ہو، رہ گئی سومترا اسے ذرا برا لگے گا۔ تم سے کوئی پردا نہیں مگر اس کی پرواہ کون کرتاہے۔ اسے خوش رکھنے کا بھی تمھیں ایک گربتائے دیتاہوں۔ کبھی کبھی یہ منتر پڑھ دیا کرنا۔ وہ تمھاری برائی نہ کرے گی۔ بس اس کی خوبصورتی کی تعریف کردینا۔ تم یہ نہ سمجھناکہ تعریف کرنے سے وہ سمجھ جائے گی کہ یہ مجھے بنا رہی ہے۔ تم چاہے جتنا سرا ہو، وہ اسے ٹھیک ہی سمجھے گی۔ اسی منتر سے میں اسے نچایا کرتاہوں۔ وہی منتر تمھیں بتائے دیتاہوں۔‘‘
پورنا کو ہنسی آگئی بولی ’’آپ توان کی ہنسی اڑارہے ہیں۔ بھلا ایسا کون ہوگا جسے اتنی سمجھ نہ ہو۔‘‘
کملا-اتنی سمجھ کو تم معمولی بات سمجھ رہی ہو۔ تم کو یہ سن کر تعجب ہوگا۔ مگر اپنی تعریف سنکر ہم اتنے متوالے ہوجاتے ہیں کہ پھر ہم میں اچھا برا سمجھنے کی تمیز ہی نہیں رہ جاتی ۔ بڑے سے بڑا مہاتمابھی اپنی تعریف سن کر خوشی سے پھول اٹھتا ہے۔ ہاں تعریف کرنے والے کے لفظوں میں بھگتی (عقیدت) کی جھلک ہوناضروری ہے۔ اگرایسا نہ ہوتا تو شعرا کو جھوٹی تعریفوں کے پل باندھنے کے لیے راجے مہاراجے انعام واکرام کیوں دیتے۔ بتاؤ راجا صاحب طمنچہ کی آواز سن کر چونک پڑتے ہیں۔ کانوں میں انگلی ڈال لیتے ہیں اور گھر میں بھاگتے ہیں۔ مگر دربار کا شاعر شجاعت میں ارجن اور درونا چار یہ سے دو ہاتھ اور اونچا اٹھا دیتا ہے تو راجا صاحب کی بانچھیں کھل جاتی ہیں۔ انھیں مطلق یہ خیال نہیں ہوتا کہ میرا مضحکہ اڑایا جارہا ہے۔ ایسی تعریفوں میں ہم الفاظ کو نہیں، ان کے چھپے ہوئے جذبات کو دیکھتے ہیں۔ سمترا رنگ روپ میں اپنے برابر کسی کو نہیں سمجھتی۔ اسے نہ جانے یہ خبط کیسے ہوگیا۔ یہ کہتے ہوئے بہت رنج ہوتا ہے۔ مگر ایسی عورت کے ہاتھوں میری زندگی خراب ہوگئی۔ مجھے معلوم ہی نہیں ہوا کہ محبت کسے کہتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ بدنصیب آدمی ہوں۔ شاید پچھلے جنم کے گناہوں کا پرائشچت کررہا ہوں۔ سمترا سے بولنے کو جی نہیں کرتا لیکن منہ سے کچھ نہیں کہتا کہ گھر میں کہرام نہ مچ جائے۔ لوگ سمجھتے ہیں میں آوارہ ہوں۔ تفریح کے لیے سنیما اور تھیٹر جاتا ہوں لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں پورنا میں ان تماشوں میں محض اپنے درد دل کو بہلانے کے لیے جاتا ہوں۔ اپنی گرسنہ آرزوؤں کو اور کیسے سمجھاؤں۔ دل کی آگ کو کیسے بجھاؤں۔ کبھی کبھی جی میں آتا ہے کہ سنیاسی ہوجاؤں اور شاید، ایک دن مجھے … یہی کرنا پڑے گا۔ تم سمجھتی ہوگی یہ حضرت کہاں کا پچھڑا لے بیٹھے۔ معاف کرنا۔ نہ جانے میں آج کیوں تم سے یہ تذکرہ کرنے لگا۔ آج تک میں نے ان خیالات کو کبھی ظاہر نہیں کیا تھا۔ حسرت نصیب دل ہی سے ہمدردی کی امید ہوتی ہے۔ بس یہ سمجھ لو، تو میں جاکر آدمیوں کو بھیجے دیتا ہوں۔ تمھارا اسباب اٹھالے جائیں۔پورنا کو اب کیا عذر ہو سکتا تھا۔ اس کا جی اب بھی گھر چھوڑنے کو نہ چاہتا تھا لیکن اب وہ اس تحریک کو نہ ٹال سکی۔ اسے یہ خوف بھی ہوا کہ میرے انکار سے ان کو ملال نہ ہو۔ اس بے کس کے لیے اس وقت تنکے کا سہارا بھی بہت تھا، توبھلا اس کشتی کو کیسے حقیر سمجھتی۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ وہ اسے پارلے جانے والی کشتی نہیں بلکہ ایک خوفناک دریائی جانور ہے جو اس کی روح کو نگل جائے گا۔

(5)

 پورناکو اپنے گھر سے نکلتے وقت بہت رنج ہونے لگا۔ اس نے اپنی بامسرت زندگی کے تین سال اسی گھر میں کاٹے تھے۔ یہیں سہاگ کے سکھ دیکھے۔ یہیں رنڈاپے کے دکھ بھی دیکھے۔اس گھر کو چھوڑتے اس کا دل پھٹتا جاتا تھا۔ جس و قت چاروں کہار اس کا اسباب اٹھانے کے لیے گھر میں آئے تو یکایک رو پڑی۔ اس کے دل میں کچھ ایسے جذبات پیدا ہوگئے جیسے نعش کے اٹھاتے وقت سوگ کرنے والوں کے دل میں پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ نعش گھر میں نہیں رہ سکتی اور جتنی جلدی اس کا کفن دفن ہوجائے اتنا ہی اچھا۔ وہ ایک لمحہ کے لیے اس کی محبت کے جوش میں آکر اس کے پانوسے لپٹ جاتے ہیں اور پابوسی سے پاگل ہو کر ہلادینے والی آواز میں رو پڑتے ہیں۔ یہ گمان باطل کہ شاید لاش میں زندگی کے کچھ آثار باقی ہوں، ایک پردہ کی طرح آنکھوں کے سامنے سے دور ہوجاتا ہے اور دنیاوی محبت کا آخری رشتہ شکست ہوجاتا ہے۔اسی طرح پورنا بھی مکان کے ایک گوشہ میں منہ چھپا کر رونے لگی۔ اپنے پیارے سوامی کی یادگار کا یہ سہارا بھی رنج کے بحر بے کراں میں غائب ہوگیا۔ اس مکان کا ایک ایک گوشہ اس کے لیے دل کش یادگاروں سے مملو تھا، سہاگ کے سورج کے غروب ہوجانے پر بھی یہاں اس کی کچھ چمک نظر آتی تھی۔ سہاگ کے سہانے گیت کے ختم ہوجانے پر بھی یہاں اس کی گونج اٹھ رہی تھی۔ اس مکان میں ادھرادھرچلتے ہوئے اسے اپنے سہاگ کا دکھ بھرا گھمنڈ محسوس ہوتارہتا تھا۔ آج اس سورج کی آخری چمک مٹی جارہی تھی۔ آج اس گیت کی وہ گونج ایک غیرمحدود خلا میں ڈوبی جاتی تھی۔ آج گھمنڈ دل کو چیر کرنکلاجارہاتھا۔
پڑوس کی عورتوں کو جب معلوم ہوا کہ پورنا یہاں سے جارہی ہے تو سب اسے رخصت کرنے آئیں۔پورنا کے اخلاق وانکسار نے سبھی کے قلوب کو مسخر کرلیاتھا۔ پورنا کے پاس دولت نہ تھی مگر میٹھی باتیں تھیں۔ بشاش چہرہ تھا۔ ہمدردی تھی۔ خدمت گزاری تھی جو دولت کی بہ نسبت کہیں زیادہ قیمتی جواہر ہیں اور جن کی ضرورت لوگوں کو دولت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ پورنا ان سبھوں سے گلے مل کر رخصت ہوئی، گویا لڑکی سسرال جاتی ہو۔ شام کے وقت وہ اپنی مہری بلو کے ساتھ روتی ہوئی اس طرح چلی گویا کوئی جلاوطن ہو۔ پیچھے مڑمڑ کر اپنے پیارے گھر کو دیکھتی جاتی تھی۔ گویااس کا دل وہیں رہ گیا ہو۔
پریما اپنے دروازے پر کھڑی اس کا انتظار کررہی تھی۔ پورنا کو دیکھتے ہی دوڑ کر اس کے گلے سے لپٹ گئی۔ اس گھر میں پورنا عموماً روز ہی آیا کرتی تھی۔ یہاں آتے ہی اس کا دل خوش ہوجاتاتھا۔ ہنسی کھیل میں وقت کٹ جاتاتھا مگر آج اس گھر میں قدم رکھنے میں پس وپیش ہورہاتھا۔ شاید وہ پچھتارہی تھی کہ ناحق ہی آئی۔پریما کے گلے مل کر بھی اس کا دل خوش نہ ہوا تب وہ سہیلی کی حیثیت سے آتی تھی۔ آج وہ ان کی دست نگر بن کر آئی تھی۔ تب اس کا آنا معمولی بات تھی ۔ اس کی کوئی خاص آؤ بھگت نہ ہوتی تھی۔ لوگ اس کی پیشوائی کے لیے نہ دوڑتے تھے۔ آج اس کے آتے ہی دیو کی مودی خانہ کادروازہ کھلا چھوڑ کر نکل آئی۔ سمترا اپنے بال گتھارہی تھی۔ آدھی گتھی ہوئی چوٹی پر آنچل ڈال کر بھاگی۔ مہریاں اپنے اپنے کام چھوڑ کر نکل آئیں۔ کملا پرشاد پہلے ہی آنگن میں کھڑے تھے۔ لالہ بدری پرشاد سندھیا کرنے جارہے تھے۔ اسے ملتوی کرکے آنگن میں آپہنچے۔ یہ خاطرداریاں دیکھ کر پورنا کا دل بیٹھا جارہاتھا۔ اس دل جوئی کاباعث اعزاز نہیں رحم تھا۔
دیو کی کو سمترا کی کوئی بات نہ بھائی تھی۔ اس کا ہنسنا، بولنا، چلنا،پھرنا اٹھنا بیٹھنا، پہننا، اوڑھنا،سبھی انھیں پھوہڑپن کی انتہائی حد سے تجاوز کرتاہوا معلوم ہوتاتھا اور وہ ہمیشہ اس کی سخت تنقید کرتی رہتی تھیں۔ ان کی تنقیدوں میں محبت اور بزرگانہ نصیحت کارنگ تھایامنافرت کا، اس کا فیصلہ کرنامشکل تھا۔ سمتراتو اسے منافرت ہی سمجھتی تھی اس لیے وہ انھیں اور بھی چڑھاتی رہتی تھی۔ دیو کی سویرے اٹھنے کی تاکید کرتی تھی۔ سمترا پہروں دن چڑھے اٹھتی۔ دیو کی گھونگھٹ نکالنے کو کہتی تھی۔ سمترا اس کے جواب میں آدھا سرکھلارکھتی تھی۔ دیو کی مہریوں سے احتراز کرنے کی تعلیم دیتی تھی، سمترا مہریوں سے ہنسی دل لگی کرتی رہتی تھی۔ دیو کی کو پورنا کایہاں آنااچھا نہیں لگ رہاتھا۔ سمترا اسے بھانپ گئی۔ پہلے ہی سے اس نے شوہر کی اس تجویز پر ناک سکیڑی تھی۔ یہ جان کر کہ یہ تجویز پوری ہوکر رہے گی، اس نے اس سے اختلاف کرکے اپجس(اَپیَش) لینا مناسب نہ سمجھا تھا۔ وہ ساس کے دل کارنگ سمجھ رہی تھی۔ یہ بھی جانتی تھی کہ پورنا بھی سمجھ رہی ہے۔اس لیے پورنا سے اسے محبت اورہمدردی پیدا ہوگئی۔ اب تک دیو کی پورنا کو دکھا کر سمترا کو شرمندہ کرناچاہتی تھی اس لیے سمترا پورناسے جلتی تھی۔ آج دیو کی پورنا سے بے اعتنائی کررہی تھی اس لیے سمترا کا اس سے بہنا پاہوجانالازم ہوگیا۔
پورنا آج بھی بہت دیر تک پریما کے پاس نہ بیٹھی۔ دل بہت اداس تھا۔ آج اسے اپنی حالت کا اندازہ ہواتھا۔ اتنی جلدی اس کی حالت کیاسے کیا ہوگئی تھی۔ یہ آج اس کی سمجھ میں آرہاتھا۔یہ گھر اس کے کھپریل والے گھر سے کہیں زیادہ آرام دہ تھا۔ اس کے کمرے میں فرش تھا، چارپائی تھی، الماریاں تھیں، برقی روشنی تھی، پنکھا تھا، مگر اس وقت بجلی کی روشنی اس کی آنکھوں میں چبھ رہی تھی اور پنکھے کی ہوا شعلہ کی طرح جسم کو جھلسائے ڈالتی تھی۔ پریما کے بہت اصرار کرنے پر بھی وہ آج کچھ نہ کھا سکی۔ تقدیر اس کے ساتھ کیسا کھیل کھیل رہی تھی۔ اس کے سرتاج کو اس کے ہاتھ سے چھین کر اب اس کو کھلونے سے خوش کرنا چاہتی تھی۔ اس کی دونوں آنکھیں پھوڑ کر اسے سہانے منظر کی سیر کرارہی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ کاٹ کر جل بہار کرنے کے لیے اتھاہ سمندر میں ڈھکیل رہی تھی۔
گیارہ بج گئے تھے۔ پورنا روشنی سے آنکھیں ہٹا کر تاریکی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس گہری تاریکی میں اسے کتنے خوش نما منظر نظر آرہے تھے۔ وہی اپناکھپریل کا مکان تھا۔ وہی پرانی چارپائی تھی۔ وہی چھوٹا سا صحن تھا اور اس کے شوہر دفتر سے آکر اس کی طرف ہنستے ہوئے اور محبت بھری نگاہوں سے تاکتے ہوئے جیب سے کوئی چیز نکال کر دکھاتے اور چھپالیتے تھے۔ وہ بیٹھی ہوئی پان لگا رہی تھی۔ جھپٹ کر اٹھی اور شوہر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر بولی ’’دکھا دو کیا ہے؟‘‘ شوہر نے مٹھی بند کرلی، اس کی دلچسپی اور بڑھی۔ اس نے خوب زور لگا کر مٹھی کھولی۔ مگر اس میں کچھ نہ تھا، آہ، آج اس کھیل، اس چھیڑ چھاڑ میں اسے اپنی زندگی کی تفسیر چھپی ہوئی معلوم ہورہی تھی۔
دفعتاً سمترا نے آکر پوچھا ’’ارے تم وہاں کھڑکی کے سامنے کھڑی ہو۔ میں نے سمجھا تھا تمھیں نیند آگئی ہوگی۔‘‘
پورنا نے آنسو پونچھ ڈالے اور سنبھل کر کہا ’’یہ تو تم جھوٹ کہتی ہو بہن۔ یہ سوچتیں تو تم آتیں کیوں؟‘‘
سمترا نے پلنگ پر بیٹھے ہوئے کہا ’’سوچا تو یہی تھا سچ کہتی ہوں، مگر نہ جانے کیوں چلی آئی۔ شاید تمھیں سوتا دیکھ کر لوٹ جانے ہی کے لیے آئی تھی، سچ کہتی ہوں۔ اب لیٹونارات تو بہت ہوگئی۔‘‘
پورنانے کچھ متفکرہوکر پوچھا ’’اب تک تم کیسے جاگ رہی ہو؟‘‘
سمترا- تمام دن سویاجوکرتی ہوں۔
پورنا- توکیوں سوتی ہوتمام دن؟
سمترا- یہی رات کو جاگنے کے لیے۔
سمترا ہنسنے لگی، ایک لمحہ میں یکایک اس کا چہرہ سنجیدہ ہوگیا۔ بولی ’’اپنے ماں باپ کی زرپرستی کا پرائشچت کررہی ہوں بہن اور کیا‘‘ یہ کہتے کہتے وہ آبدیدہ ہوگئی۔
پورنا یہ سن کر متحیرہوگئی۔ اس کی زندگی کے نغمۂ شیریں میں یہ کرخت آواز کیوں؟
سمترا کسی اندرونی تکلیف سے بے قرار ہوکر بولی ’’تم دیکھ لینا بہن! ایک روز یہ محل ڈھہہ جائے گا۔ یہ بددعا میرے منہ سے باربار نکلتی ہے۔‘‘
پورنانے تعجب سے کہا ’’ایسا کیوں کہتی ہو بہن‘‘ پھر اسے ایک بات یاد آگئی ،پوچھا‘‘کیا ابھی بھیا جی نہیں آئے۔‘‘
سمترا دروازے کی طرف خوف زدہ نگاہوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
’’ابھی نہیں‘ بارہ ہی تو بجے ہیں، اتنی جلدی کیوں آئیں گے؟ نہ ایک، نہ دو، نہ تین۔ میرا بیاہ تو اس محل سے ہوا ہے۔ لالہ بدری پرشاد کی بہو ہوں۔ اس سے زیادہ سُکھ کا خیال کون کرسکتاہے؟ بھگوان نے کس لیے مجھے جنم دیا، سمجھ میں نہیں آتا۔ اس گھر میں میراکوئی اپنا نہیں ہے بہن! میں زبردستی پڑی ہوئی ہوں۔ میرے مرنے جینے کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ تم سے یہی التجا ہے کہ مجھ پر رحم کرنا۔ ٹوٹے ہوئے تاروں سے میٹھے سرنہیں نکلتے تھے۔ تم سے نہ جانے کیا کیا کہوں گی۔ کسی سے کہہ نہ دینا، نہیں تو اور مصیبت میں پھنس جاؤں گی۔ ہم دونوں دکھیا ہیں۔ تمھارے دل میں میٹھی یادیں ہیں، میرے دل میں وہ بھی نہیں۔ میں نے سکھ دیکھا ہی نہیں، اور نہ دیکھنے کی امید ہی رکھتی ہوں۔‘‘
پورنا نے ایک لمبی سانس کھینچ کر کہا ’’میری تقدیر سے اپنی تقدیر کا مقابلہ نہ کرو بہن، دست نگری سے بڑی مصیبت بد نصیبی کے خزانے میں بھی نہیں ہے۔‘‘
سمترا سوکھی ہنسی ہنس کر بولی۔ ’’وہ مصیبت کیا میرے سر نہیں ہے بہن! اگر مجھے کہیں ٹھکانا ہوتا، اس گھر میں لمحہ بھر بھی نہ رہتی۔ سینکڑوں بار والدین کو لکھ چکی ہوں کہ مجھے بلالو میں عمر بھر تمھاری خدمت کرتی رہوں گی۔ مگر انھوں نے بھی میری طرف سے اپنا دل سخت کرلیاہے۔ جواب میں نصیحتوں کا ایک دفتر آجاتا ہے، جسے میں کبھی نہیں پڑھتی۔ اس گھر میں صرف میرے سسر ہیں جنھیں ایشور نے دل دیا ہے۔ اور سب کے سب پتھر کے دیوتا ہیں۔ میں تم سے سچ کہتی ہوں بہن! مجھے اس کا رنج نہیں ہے کہ یہ حضرت کیوں اتنی رات گئے گھر کو آتے ہیں یا ان کا دل کسی اور سے اٹکا ہوا ہے۔ اگر آج مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ کسی محبت میں گرفتار ہوگئے ہیں تو میری آدھی تکلیف مٹ جائے۔ میں موسلوں سے ڈھول بجاؤں۔ مجھے تو یہ رونا ہے کہ ان کے دل ہی نہیں بلکہ دل کی جگہ  خود غرضی کا ایک روڑا رکھا ہوا ہے۔ نہ کتابوں سے دلچسپی، نہ گانے سے نہ کھیل سے۔ دلچسپی ہے صرف پیسے سے! مجھے تو یقین نہیں کہ انھیں سنیما میں مزہ آتا ہوگا، وہاں بھی کوئی نہ کوئی غرض ہے لین دین، سوائے ڈیوڑھے، گھاٹے، نفع میں ان کی جان بسی رہتی ہے اور مجھے ان باتوں سے نفرت ہے۔ کمرے میں آتے ہیں تو پہلی بات جو ان کے منہ سے نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ بتی ابھی تک کیوں نہیں بجھائی۔ وہ دیکھو سواری آگئی۔ اب گھنٹے دو گھنٹے کفایت کی نصیحت سننی پڑے گی۔ یوں میں روپے کو ہیچ نہیں سمجھتی۔ جمع کرنا اچھی بات ہے مگریہ کیا، کہ آدمی روپے کا غلام ہوجائے۔ صرف انھیں چڑھانے کے لیے کچھ نہ کچھ فضول خرچی کیاکرتی ہوں۔ مزا تو یہ ہے کہ انھیں اپنے ہی پیسوں کی ماکھ نہیں ہوتی، میں اپنے پاس سے کچھ خرچ نہیںکرسکتی! پتا جی (والد صاحب) مہینے میں چالیس پچاس روپے بھیج دیتے ہیں۔ورنہ اس گھر کی کانی کوڑی نہ ملے۔ میری جو خواہش ہوتی ہے، کرتی ہوں۔ سو وہ بھی آپ سے نہیں دیکھاجاتا۔ اس پر بھی کئی بار جھگڑا ہوچکا ہے۔ سونے لگنا تو بتی بجھا دینا۔ بہن جاتی ہوں۔‘‘
سمترا چلی گئی۔ پورنا نے بتی بجھادی اورلیٹی۔ مگر نیند کہاں؟ آج ہی اس مکان میں قدم رکھا تھا اور آج ہی اس کو اپنی جلدبازی پر افسوس ہورہاتھا۔ یہ یقینی تھا کہ وہ بہت دن یہاں نہ رہے گی۔

(6)

لالہ بدری پرشاد کے لیے امرت رائے سے اب کوئی واسطہ رکھنا غیرممکن تھا۔ شادی تو دوسری بات تھی، سماج میں اتنی زبردست بداخلاقی کامویدبن کرامرت رائے نے خود کو ان کی نظروں سے گرادیا تھا۔ ان سے اب کسی قسم کا تعلق پیدا کرنا بدری پرشاد کے لیے ذلت کی بات تھی۔ امرت رائے کے بعد دان ناتھ سے بہتر شخص انھیں کوئی اورنظر نہ پڑا۔ زیادہ پرسش وجستجو کرنے کااب موقع بھی نہ تھا۔ امرت رائے کے انتظار میں پہلے ہی بہت دیر ہوچکی تھی۔ برادری میں لوگ انگشت نمائی کرنے لگے تھے۔ نئے شخص کی جستجو میں شادی کے ایک غیرمعین وقت تک ٹل جانے کااندیشہ تھا۔ اس لیے دل کو ادھر ادھر نہ دوڑا کر انھوں نے دان ناتھ ہی کے ساتھ عقدپختہ کرنے کاتہیہ کرلیا، دیو کی نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا۔ پریما نے اس معاملہ میں لاپرواہی ظاہر کی۔ اب اس کے لیے سبھی مرد برابر تھے اور ہر کسی کے ساتھ زندگی کا نباہ کرسکتی تھی۔ اس کی چلتی تو وہ دوشیزہ ہی رہنا پسند کرتی۔ مگر جوان لڑکی بیٹھی رہے یہ خاندان کے لیے بدنامی کی بات تھی۔ اس معاملے میں وہ کسی قسم کی بے جا ضد کرکے والدین کا دل نہ دکھانا چاہتی تھی۔
جس دن امرت رائے نے وہ زبردست عہد کیا۔ اسی دن پریما نے سمجھ لیا کہ اب زندگی میں میرے لیے سکھ کا خاتمہ ہوگیا مگر بن بیاہ رہ کر اپنا مضحکہ کرانے کی بہ نسبت کسی کی ہو کر رہنا کہیں زیادہ بہتر تھا۔ آج سے دو تین برس قبل دان ناتھ ہی سے اس کے بیاہ کی بات چیت ہورہی تھی۔ اسے وہ جانتی ہی تھی۔ درمیان میں حالات تبدیل نہ ہوگئے ہوتے تو آج وہ دان ناتھ کے گھر میں ہوتی۔ دان ناتھ کو وہ کئی بار دیکھ بھی چکی تھی۔ اس میں محبت ہے، شرافت ہے، علمیت ہے، یہ باتیں اسے معلوم تھیں، ان کی نیک چلنی پر بھی کسی کو شبہہ نہ تھا۔ وہ دیکھنے میں بھی بہت سجے گٹھے آدمی تھے۔ برہمچریہ (تجرّد) کی رونق چہرے پر نمایاں تھی۔ انھیں اس سے محبت تھی۔ یہ راز پریما سے مخفی نہ تھا۔ آنکھیں دل کے راز کو آشکار کر ہی دیتی ہیں۔ امرت رائے نے مذاق ہی مذاق میں پریما سے اس کا تذکرہ بھی کردیا تھا۔ یہ سب ہوتے ہوئے بھی پریما کو ان کا اگر کچھ خیال تھا تووہ اتنا ہی کہ وہ امرت رائے کے دلی دوست ہیں۔ ان میں بڑی محبت ہے۔ وہ دولت مند نہیں تھے مگر یہ کوئی عیب نہ تھا، کیوں کہ پریما شوقین نہ تھی۔ کیوں اس کا دل امرت رائے کی طرف رجوع ہوتا تھا۔ اس کا کوئی خاص سبب اس کو نہ معلوم تھا۔ مگر ایسی حالت میں اس کے لیے کوئی اور تدبیر نہ تھی۔ اب تک اس نے دان ناتھ کو کبھی اس نگاہ سے نہ دیکھا تھا۔ مگر اب دل میں وہ جگہ خالی ہوجانے کے بعد دان ناتھ کو اس میں بٹھانے میں اسے تکلیف نہ ہوئی۔ اس نے دل کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے ایسا معلوم ہوا کہ وہ دان ناتھ سے محبت بھی کرسکتی ہے۔بدری پرشاد شادی کے معاملے میں اس کی رضامندی ضروری سمجھتے تھے۔ پریما تیارتھی۔ اس لیے دان ناتھ کے پاس پیغام بھیج دیا۔
دان ناتھ اب بڑے شش وپنج میں پڑے۔ یہ پیغام پاتے ہی انھیں خوشی سے پھول اٹھنا چاہیے تھا۔ مگر یہ بات نہ ہوئی۔ انھیں اپنی منظوری لکھ بھیجنے میں ایک ہفتہ سے زائد لگ گیا۔ طرح طرح کے اندیشے ہوتے تھے۔ وہ پریما کو خوش رکھ سکیں گے؟ اس کے دل پر قابو پاسکیں گے؟ ایسا نہ ہو کہ زندگی وبال ہوجائے؟ ان کا دل ان سوالات کا بہت ہی تشفی بخش جواب دیتاتھا۔ محبت میں اگر دل کو کھینچنے کی طاقت ہے تو وہ ضرورکامیاب ہوں گے لیکن اخلاقی اعتبار سے انھیں اپنا طرز عمل دوستی ہی کے خلاف نہیں، شرافت کے خلاف بھی معلوم ہوتاتھا۔ اپنی جان سے زیادہ پیارے دوست کی بے نفسی سے فائدہ اٹھانے کاخیال انھیں پریشان کردیتاتھا۔ ایسا معلوم ہوتاتھا گویااس کاگھر جل رہا ہے اوروہ تاپ رہے ہیں۔ انھیں یقین تھا کہ پریما سے جتنی محبت مجھے ہے، اتنی امرت رائے کو نہیں ہے۔ اس کے بغیر انھیں اپنی زندگی خشک معلوم ہوتی تھی۔ ان کا میلان متاہل زندگی کی جانب تھا۔ خدمت کے جذبات ان کی فطرت میں نہ تھے۔ نام ونمود کی تمنا بھی نہ تھی۔ ایثار کاذکر تو بہت دور کی بات تھی۔
بالآخر بہت غورخوض کے بعد انھوں نے طے کیا ’’ایک بارامرت رائے کو پھر ٹٹولنا چاہیے۔ اگر اب بھی وہ ان کی رائے تبدیل کرسکے توعین خوشی کی بات ہوگی۔ زندگی کی مسرت توتمنا میں ہے۔ بالفرض یہ خواہش پوری ہوئی تو کوئی دوسری آکھڑی ہوگی۔ جب ایک نہ ایک خواہش کا موجود رہنا یقینی ہے تویہی کیوں نہ رہے، اس سے اور مسرت انگیز دوسری کونسی خواہش ہوسکتی ہے؟ اس کے سوا یہ اندیشہ بھی توتھا کہ کہیں زندگی کا یہ ناٹک فراقیہ نہ ثابت ہو۔ پہلی محبت کتنی لافانی ہوتی ہے اسے وہ خوب جانتے تھے۔
آج کل کالج تو بند تھا مگر دان ناتھ ’’ڈاکٹر‘‘ کے لقب کے لیے ایک نئی کتاب لکھ ہے تھے۔ کھانا کھا کر کالج چلے جاتے تھے۔ یہاں کتب خانے میں بیٹھ کر جتنی آسانیاں تھیں وہ مکان پر نہ ہوسکتی تھیں۔ آج وہ تمام دن کتب خانے میں بیٹھے رہے مگر نہ تو ایک حرف لکھا اور نہ ایک سطر پڑھی۔ انھوں نے مشکل کام کر ڈالنے کا آج تہیہ کرلیا تھا جسے وہ کئی روز سے ٹالتے آرہے تھے۔ کیا کیا باتیں ہوں گی، دل میں یہی سوچتے ہوئے وہ امرت رائے کے بنگلے پر جا پہنچے۔ آفتاب پھولوں اور پتیوں پر اپنی آخری برکت کی زریں بارش کرتا ہوا چلا جارہا تھا۔ ٹم ٹم تیار کھڑی تھی مگر امرت رائے کا پتا نہ تھا۔ نوکر سے پوچھا تو معلوم ہوا کمرے میں ہیں۔ کمرے کے دروازے کا پردہ اٹھاتے ہی بولے ’’بھلے آدمی، تمھیں گرمی بھی نہیں لگتی، یہاں سانس لینی مشکل ہے اور بیٹھے ہوئے تپسیا کررہے ہیں۔‘‘
روشنی کی ایک باریک شعاع چق کے اندر جاتی ہوئی امرت رائے کے چہرے پر پڑی۔ دان ناتھ چونک پڑے، وہ چہرہ زرد ہورہا تھا، آٹھ دس روز قبل جو رونق تھی اس کا کہیں نام ونشان تک نہ تھا۔ گھبرا کر کہا ’’یہ تمھاری کیا حالت ہے؟ کہیں لوٗ تو نہیں لگ گئی؟ کیسی طبیعت ہے؟‘‘
امرت رائے نے دان ناتھ کو گلے لگاتے ہوئے کہا ’’ ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ تم نے مجھے دیکھ کر یہ کہا ہو، آج کل تم خوب تندرست ہو۔ تمھیں تو میں ہمیشہ ہی بیمار نظر آتا ہوں۔ ہر مرتبہ پیشتر سے زیادہ۔ جیتا کیسے ہوں، یہ ایشور ہی جانے مگر ذرا اپنی صورت تو دیکھو۔ دنیا بھر کے اصولوں کو چاٹے بیٹھے ہو مگر اتنا نہیں ہو سکتا کہ شام کو سیر ہی کرلیا کرو۔‘‘
دان ناتھ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’میرے پاس ٹم ٹم ہوتی تو سارا دن دوڑتا۔ گھوڑا بھی یاد کرتا کہ کسی سے پالا پڑا تھا۔ پیادہ پاتو مجھے گھومنے میں لطف نہیں آتا۔ تمھیں دنیا میں بڑے بڑے کام کرنے ہیں۔ جسم کی حفاظت کرو۔ تمہی نے دنیا کی نجات کا ٹھیکہ لیا ہے۔ یہاں کیا ایک روز چپکے سے دنیا سے چل دینا ہے۔ چاہتا تو میں بھی ہوں کہ باقاعدہ زندگی بسر کروں مگر جب نبھ جاوے تب تو۔ کتنی بارڈنڈ، مگدر، ڈینل شروع کیا، مگر کیا کبھی نباہ سکا؟ آخر سمجھ گیا تندرستی میرے لیے ہے ہی نہیں، پھر اس کے لیے کیوں مفت حیران ہوں؟ اتنا جانتا ہوں کہ دائم المریض لوگوں کی عمریں طویل ہوتی ہیں۔ تم ایک بار ملیریا کے موسم میں مرکے جیتے ہو۔ تمھیں بخار آتا ہے۔ سیدھا 106 درجہ تک جا پہنچتا ہے۔ مجھے ایک تو بخار آتا ہی نہیں، اور آیا بھی تو 101 درجے سے آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہیں کرتا۔ دیکھ لینا تم مجھ سے پہلے رخصت ہوگے۔ حالاں کہ میری دلی تمنا یہی ہے کہ تمھاری گود میں میری جان نکلے۔ اگر تمھارے سامنے مروں تو میری یاد گار ضرور قائم کرنا۔ تمھاری یادگار قائم کرنے والے تو بہت نکل آئیں گے مگر میری دوڑ تو تمھیں تک ہے! میری عظمت سے اور کون واقف ہے۔‘‘
ان شرارت آمیز الفاظ میں مذاق کے ساتھ کتنا لگاؤ، کتنی زبردست محبت بھری ہوئی تھی کہ دونوں ہی دوستوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دان ناتھ مسکرا پڑے۔ مگر امرت رائے کا چہرہ متین ہوگیا۔ دان ناتھ ہنس مکھ تھے مگر مذاق کا طرز سوزِ باطن کا پتا دے رہا تھا۔ امرت رائے نے پوچھا۔ ’’لال بدری پرشاد کے یہاں سے کوئی پیغام آیا؟ تم ادھر کئی روز سے دکھائی نہیں دیے۔ میں سمجھ گیا کہ وہاں اپنا رنگ جمارہے ہوگے اس لیے گیا بھی نہیں۔‘‘
امرت رائے نے اس معاملے کو چھیڑ کر دان ناتھ پر بڑا احسان کیا۔ ورنہ وہ یہاں گھنٹوں غپ شپ کرتے رہنے پر بھی وہ بات زبان پر نہ لاسکے۔ اب بھی ان کے بشرے سے کچھ ایسا معلوم ہوا کہ تذکرہ فضول چھڑ گیا۔ بڑے تامّل کے ساتھ بولے۔’’ہاں پیغام تو آیا ہے، مگر میں نے جواب دے دیا۔‘‘
امرت رائے نے گھبرا کر پوچھا ’’کیا جواب دے دیا؟‘‘
دان ناتھ – ’’جو میرے جی میں آیا۔‘‘
امرت – ’’آخر سنوں تو تمھارے جی میں کیا آیا؟ ‘‘
دان ناتھ – ’’یہی کہ مجھے منظور نہیں۔‘‘
امرت – ’’یہ کیوں بھئی، کیا پریما تمھارے قابل نہیں؟‘‘
دان ناتھ- ’’نہیں یہ بات نہیں۔ میں خود اس کے قابل نہیں ہوں۔‘‘
امرت رائے نے تیز لہجہ میں کہا۔ ’’اس کے قابل نہیں ہوتو اتنے دنوں سے اس کے لیے تپسیا کیوں کررہے ہو؟ میں درمیان میں نہ آپڑ تا تو اس میں بھی کیا کوئی شبہہ ہے کہ اس سے تمھارا عقد ہوگیاہوتا؟ میں نے دیکھا کہ تم اس غم میں اپنی زندگی برباد کیے ڈالتے ہو۔ تم نے کتنے ہی پیغام لوٹا دیے، حتیٰ کہ مجھے اس کے سواکوئی چارہ کارنہ رہاکہ میں تمھارے راستے سے ہٹ جاؤں۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ اس کی جدائی میں گھلتے گھلتے کہیں تم ایک دن مجھے تنہا چھوڑ کر چلتا دھندانہ کرو۔ میں نے اپنے دل کو ٹٹولا تومعلوم ہو اکہ میں اس صدمے کو برداشت کرسکتا ہوں، مگر تم نہیں برداشت کرسکتے۔ بھلے آدمی! تمھارے لیے تو میں نے اپنے دل پراتنا بڑا جبرکیا اور اب تم کاوے کاٹ رہے ہو۔ اب اگر تم نے ذرا بھی چون و چرا کی تو میں مارہی ڈالوں گا۔ سمجھ لینا۔ چپکے سے میری ٹمٹم پر بیٹھو اورلالہ بدری پرشاد کے پاس جاکر معاملہ طے کرآؤ۔‘‘
دان ناتھ نے برقی بٹن دباتے ہوئے کہا۔ ’’تم اس کام کو جتنا آسان سمجھتے ہواتنا آسان نہیں ہے، کم از کم میرے لیے۔‘‘
امرت رائے نے دوست کے چہرے کو محبت آمیز نگاہوں سے دیکھ کر کہا۔ ’’میں یہ جانتا ہوں، بیشک آسان نہیں ہے۔ میں ہی رکاوٹ ڈالنے والا تھا۔ میں اب بھی ہوں لیکن تم جانتے ہو کہ میں نے ایک بارجوبات ٹھان لی۔ اب برہما بھی اتر آئیں تو مجھے منحرف نہیں کرسکتے۔ پنڈت امرناتھ کا کہنا میرے دل نشیں ہوگیا۔ مجھے ایسا معلوم ہوتاہے کہ پریما ہی نہیں کسی بھی دوشیزہ سے شادی کرنے کا حق مجھے نہیں ہے۔ ایشور نے وہ حق مجھ سے چھین لیا۔ پریما جیسی بیش بہا جنس کو پاکر چھوڑدینے کا مجھے کتنا رنج ہورہاہے، یہ میں ہی جانتاہوں اور کچھ کچھ تم بھی جانتے ہو۔ مگراس رنج میں خواہ میری جان ہی جاتی رہے جس کا کوئی امکان نہیں ہے، تو بھی اپنی اس زندگی میں پریما کو داخل نہ رہنے دوںگا۔اب تم میری طرف سے مطمئن ہوگئے؟‘‘
دان ناتھ اب بھی مطمئن نہ ہوئے تھے۔ ان کے دل میں ایک نہیں سیکڑوں رکاوٹیں پیداہورہی تھیں۔ یہ سمجھ کر کہ یہ نئی بات سن کر امرت راے ہنس نہ پڑیں وہ خود ہنس کر بولے۔ ’’مجھ جیسے چھچورے کو پریما قبول کرے گی، یہ بھی خیال آیاہے آنجناب کو؟‘‘
امرت رائے نے زور سے قہقہہ لگایا۔ ’’بھئی واہ کیا بات سوچی ہے‘ مانتا ہوں! ارے احمق داس‘ جب لالہ بدری پرشاد نے تمھارے یہاں پیغام بھیجا تو سمجھ لو کہ انھوں نے پریما سے دریافت کرلیا ہے۔ ایسا کیے بغیروہ کبھی پیغام نہ بھیجتے۔ لڑکی کو اعلیٰ تعلیم دینے کا کفّارہ توانھیں ادا کرنا ہی پڑتاہے۔ چند باتوں میں تووہ ہم لوگوں سے بھی زیادہ فراخ دل ہیں، اور چند باتوں میں جہلاسے بھی پست تر۔ پردے سے انھیں چڑہے‘ یہ جانتے ہی ہو۔ بدھو ابِواہ (بیاہ) ان کی آنکھوں میں بدترین اخلاقی گناہ ہے۔ تمھارا یہ اندیشہ توبے بنیاد ثابت ہوا۔ ہاں یہ اندیشہ ہوسکتا ہے کہ پریما کو تم سے محبت نہ ہو۔ مگر ایسا خیال کرنا پریما کے ساتھ سخت ناانصافی کرنا ہے۔ وہ خاندانی رواج پرمٹنے والی سچی دیوی ہے۔ اس کی محبت کے معنیٰ ہی ہیں ’’شوہرپرستی‘‘ ۔ محبت کی کسی دوسری صورت سے وہ واقف ہی نہیں، اور نہ شاید واقف ہوگی۔ مجھ سے اس کو اس لیے محبت تھی کہ وہ مجھے اپنا ہونے والا شوہر خیال کرتی تھی۔ پس اس کی محبت اس فرض شناسی پر محمول ہے۔ ایسے فضول اندیشوں میں مفت دن گذار رہے ہو۔ سہالگ نکل جائے گا تو پھر ایک سال امیدواری کرنی پڑے گی۔‘‘
دان ناتھ فکر میں ڈوب گئے۔ اگر چہ ان کے اعتراضوں کی تردید ہوچکی تھی، مگر اب بھی ان کے دل میں ایسی متعدد باتیں تھیں جنھیں وہ ظاہرنہ کرسکتے تھے۔ شک دلیل سے دور ہوجانے پر بھی بالکل مٹ نہیں جاتا۔ دوست سے بے وفائی کا خیال ان کے دل میں کچھ اس قدر چھپ کر بیٹھا ہوا تھا کہ اس پر کوئی حربہ کارگر ہوہی نہیں سکتا تھا۔
دفعتاً امرت رائے نے گھنٹی بجائی۔ ایک بوڑھا آدمی سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ امرت رائے نے بدری پرشاد کے نام ایک خط لکھا اور دان ناتھ سے بولے۔ ’’اس پر دستخط کرو۔‘‘
دان ناتھ دریچہ کے سامنے کھڑے سگار پی رہے تھے۔ پوچھا۔
’’کیسا خط؟‘‘
امرت – ’’پڑھ لو سامنے تو ہے۔‘‘
دان – ’’تم میری گردن پر چھری چلا رہے ہو۔‘‘
امرت – ’’بس چپکے سے دستخط کردو۔ مجھے ایک جلسہ میں جانا ہے۔ دیر ہو رہی ہے۔‘‘
دان – ’’تو گولی ہی کیوں نہ ماردو کہ ہمیشہ کا جھنجھٹ مٹ جائے۔ ‘‘
امرت – ’’بس اب چیں چیڑ نہ کرو ورنہ یاد رکھو، پھر تمھاری صورت نہ دیکھوں گا۔ یہ دھمکی اپنا کام کر گئی۔ دان ناتھ نے خط پر دستخط کردیے اور تب بگڑ کر بولے۔ ’’دیکھ لینا، میں آج سنکھیا کھا لیتا ہوں کہ نہیں، یہ خط دھرا ہی رہ جائے گا۔ سویرے ’’رام نام ست‘‘ ہوگا۔‘‘
امرت رائے نے خط ایک لفافے میں بند کرکے بوڑھے کودیا۔ بدری پرشاد کا نام سنتے ہی بوڑھا مسکرایا اور خط لے کر چلا گیا۔
تب امرت رائے نے ہنس کر کہا۔ ’’سنکھیا نہ ہوتو میں دیدوں گا۔ ایک بار کسی دوا میں ڈالنے کے لیے منگوائی تھی۔‘‘ دان ناتھ نے بگڑ کرکہا۔ ’’میں تمھارا سرتوڑدوں گا، تم ہمیشہ سے مجھ پر حکومت کرتے آئے ہو، اور اب بھی کرناچاہتے ہو۔ لیکن اب مجھ پر تمھارا کوئی داؤں نہ چلے گا۔ آخرمیں بھی تو کوئی چیزہوں۔‘‘
امرت رائے اپنی ہنسی ضبط نہ کرسکے۔

(7)

لالہ بدری پرشاد کودان ناتھ کاخط کیا ملا۔ صدمے کے ساتھ ہی ذلت بھی ملی۔ وہ امرت راے کی تحریر پہچانتے تھے۔ اس کی ساری عاجزی اورالتجا اس تحریر میں گم ہوگئی۔ غصہ سے ان کا دماغ گرم ہوگیا۔ دان ناتھ کے کیاہاتھ ٹوٹ گئے تھے، جو اس نے امرت رائے سے یہ خط لکھایا؟ کیااس کے پیروں میں منہدی لگی تھی جو یہاں تک نہ آسکتاتھا۔ اوریہ امرت رائے بھی کتنا بے حیا ہے! وہ ایسا خط کس طرح لکھ سکا۔ ذرا بھی شرم نہ آئی۔
اب تک لالہ بدری پرشاد کو کچھ کچھ امید تھی کہ شاید امرت رائے کاجوش میں کیاہوا عہدکچھ مدھم پڑجائے۔ تحریر دیکھ کر پہلے وہ یہی سمجھے تھے کہ امرت رائے نے معافی مانگی ہوگی۔ لیکن خط پڑھا تو امید کا وہ باریک رشتہ بھی منقطع ہوگیا۔ دان ناتھ کا خط پاکرشاید وہ امرت رائے کو بلا کر دکھا تے اوران کے جذباتِ حسد کو مشتعل کرکے اپنے پنجے میں لانے کی کوشش کرتے۔ اس امید کی بھی دھجیاں اڑگئیں۔ اس نے جلے پرنمک چھڑک دیا۔ امرت رائے کی تحریردیکھ کر غصّے سے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے انھوں نے دان ناتھ کو یہ خط لکھا۔
’’لالہ دان ناتھ جی! آپ نے امرت رائے سے یہ خط لکھا کر میری اور پریما کی جتنی توہین کی ہے، اس کاآپ مطلق اندازہ نہیں کرسکتے۔ مناسب تویہی تھا کہ میں اسے پھاڑ کر پھینک دیتااور آپ کو کوئی جواب نہ دیتا لیکن …‘‘
یہیں تک لکھنے پائے تھے کہ دیوکی نے آکر بڑے شوق سے پوچھا۔ ’’کیا لکھا ہے امرت رائے نے؟‘‘
بدری پرشاد نے کاغذ کی طرف سرجھکائے ہوئے کہا۔ ’’ان کا کوئی خط نہیں آیا۔‘‘
دیو کی – ’’چلو کوئی خط کیوں نہیں آیا۔ میں نے کوٹھے پر دیکھا، ان کا آدمی ایک خط لیے لپکا آرہا تھا۔‘‘
بدری – ’’ہاں آدمی تو ان ہی کا تھا مگر خط تھا دان ناتھ کا!اُسی کاجواب لکھ رہا ہوں۔ حضرت نے امرت رائے سے لکھوایا ہے اور نیچے اپنے دستخط کردیے ہیں۔ اپنے ہاتھ سے لکھتے شرم آتی تھی۔ بے ہودہ، شہدہ۔‘‘
دیو کی – ’’خط میں تھا کیا؟‘‘
بدری – ’’یہ پڑا ہے۔ پڑھ کیوں نہیں لیتیں۔‘‘
دیوکی نے خط پڑھ کر کہا۔ ’’تو اس میں اتنا بگڑنے کی کونسی بات ہے؟ ذرا دیکھوں سرکار نے اس کا کیا جواب لکھا ہے؟‘‘
بدری – لو دیکھو، ابھی تو شروع کیا ہے۔ ایسی خبر لوں گا کہ بچہ سارا شہدہ پن بھول جائے گا۔
دیوکی نے بدری پرشاد کا خط پڑھا اور پھاڑ کر پھینک دیا۔
بدری پرشاد نے کڑک کر پوچھا ’’پھاڑ کیوں ڈالا؟ تم کون ہوتی ہو میرا خط پھاڑنے والی؟‘‘
دیوکی – تم کون ہوتے ہو ایسا خط لکھنے والے؟ امرت رائے کو کھو کر کیا ابھی بھر نہیں پایا۔ جواب دانو کو بھی کھودینے کی فکر کرنے لگے۔ تمھارے خط کا نتیجہ یہی ہوگا کہ دانو پھر تمھیں اپنی صورت کبھی نہ دکھائے گا۔ زندگی تو میری لڑکی کی خراب ہوگی، تمھارا کیا بگڑے گا؟
بدری – ’’ہاں اور کیا۔ لڑکی تو تمھاری ہے، میری تو کوئی ہوئی نہیں۔‘‘
دیوکی – ’’آپ کی کوئی ہوتی تو اسے کنویں میں ڈھکیلنے کو یوں تیار نہ ہو جاتے۔ یہاں دوسرا کون لڑکا ہے پریما کے لائق، ذرا سنوں۔‘‘
بدری – ’’دنیا لائق لڑکوں سے خالی نہیں ہے، ایک سے ایک بڑھ کر پڑے ہوئے ہیں۔ ‘‘
دیوکی – ’’پاس کے دو تین شہروں میں تو کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ ہاں باہر کی میں نہیں کہتی، ستّوباندھ کر کھوجنے نکلو گے تو معلوم ہوگا۔ برسوں دوڑتے گزر جائیں گے، پھر بھی بے جانے پہچانے گھر میں لڑکی کون بیا ہے گا اور پریما کیوں ماننے لگی۔‘‘
بدری – ’’اس نے اپنے ہاتھ سے کیوں خط نہیں لکھا۔ میرا تو یہ کہنا ہے کہ کیا اسے اتنا بھی نہیں معلوم کہ اس سے میری کتنی توہین ہوئی۔ سارے امتحانات تو پاس کیے بیٹھا ہے، ڈاکٹر بھی ہونے جارہا ہے۔ کیا اسے اتنا بھی نہیں معلوم۔ صاف بات ہے کہ دونوں مل کر میری توہین کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
دیوکی – ’’ہاں شہدے تو ہیں ہی، تمھاری توہین کرنے کے سوا اور ان کا کام ہی کیا ہے؟ صاف بات تو ہے اور تمھاری سمجھ میں نہیں آتی۔ نہ جانے عقل تقسیم ہوتے وقت تم کہاں چلے گئے تھے؟ پچاس کے ہوئے اور اتنی موٹی سی بات نہیں سمجھ سکتے۔‘‘
بدری پرشاد نے ہنس کر کہا۔ ’’میں تمھیں کھوجنے گیا تھا۔‘‘
دیوکی ادھیڑ ہونے پر بھی خوش مذاق تھی، بولی ’’واہ میں پہلے ہی پہنچ کر کئی حصے اڑالے گئی۔ دونوں میں کتنی دوستی ہے، یہ تو جانتے ہی ہو۔ دان ناتھ لحاظ سے خود نہ لکھ سکا ہوگا۔ امرت بابو نے سوچا ہوگا، کہ لالہ جی کوئی اور لڑکا نہ ٹھیک کرنے لگیں۔ اس لیے یہ خط دانو سے جبراً دستخط کرالیے ہوں گے۔‘‘
بدری پرشاد نے خفّت سے کہا۔ ’’اتنا تو میں بھی سمجھتاہوں، کیاایساگنوار ہوں۔‘‘
دیوکی- ’’تب کس لیے اتنا جامہ سے باہرہو رہے تھے؟ بلاکر کہہ دو منظور ہے۔ بیچاری بوڑھی ماں کے بھاگ کھل جائیں گے۔ مجھے تواس پر ترس آتا ہے۔‘‘
بدری- ’’مجھے اب یہ افسوس ہورہاہے کہ پہلے ہی دانو سے کیوںنہ بیاہ کر دیا، اتنے دنوں تک کیوں امرت رائے کامنہ تاکتارہا، آخروہی کرناپڑا۔‘‘
دیوکی-’’تقدیر کو کون جانتاتھا اورحق تو یہ ہے کہ دانو نے پریما کے لیے تپسیا بھی بہت کی۔ چاہتا تو اب تک کبھی کی اس کی شادی ہوگئی ہوتی۔ کہاں سے پیغام نہیں آئے۔ رشتہ داروں نے کتنا سمجھایا مگر اس نے کبھی ہاں نہ کی۔ پریما ا س کے دل میں بسی ہوئی ہے۔‘‘
بدری- ’’لیکن پریما اسے قبول کرے گی۔ پہلے یہ تجویز کرلو۔ ایسا نہ ہوکہ میں یہاں منظور کرلوں اور پریما انکار کردے۔ اس بارے میں اس کی منظوری لے لینی چاہیے۔‘‘
دیو کی- ’’پھر تم مجھے چڑھانے لگے۔ دانو میں کون سی برائی ہے جو وہ انکار کرے گی۔ لاکھوں میں ایک لڑکا ہے، ہاں یہ ضد ہوکہ کروں گی تو امرت رائے سے کروںگی ورنہ بے بیاہی رہوں گی، تو جنم بھر ان کے نام پر بیٹھی رہے۔ امرت رائے تو اب کسی بدھواہی سے بیاہ کرے گا۔ ممکن ہے بیاہ ہی نہ کرے، اس کا دید ہی دوسرا ہے۔ میری بات مانو۔ دانوکو خط لکھ دو۔ پریما سے پوچھنے جانچنے کاکام نہیں۔ دل ایسی چیز نہیں جو قابو میں نہ آجائے۔ میرا دل تواپنے پڑوس کے وکیل صاحب سے کرنے کا تھا۔ انھیں کوٹ پتلون پہنے بگھی پر کچہری جاتے دیکھ کر میں خوش ہوجاتی تھی۔ مگر تمھارے نصیب جاگے، ماں باپ نے تمھارے پلّے باندھ دیا— تو میں نے کیاکیا۔ دوایک دن تو ضرور رنج ہوا مگر پھر ان کی طرف خیال بھی نہ گیا۔ تم شکل وصورت، عقل وتمیز، دولت وثروت، کسی بات میں ان کی برابری نہ کرسکتے تھے مگر قسم لوجو میں نے شادی کے بعد کبھی بھولے سے ان کی یاد کی ہو۔‘‘
بدری— ’’اچھا جبھی تم باربار مائیکے جایاکرتی تھیں!‘‘
دیوکی— ’’مجھے چھیڑوگے تو میں کچھ کہہ بیٹھوں گی۔‘‘
بدری— ’’تم نے اپنی بات کہہ ڈالی تو میں بھی کہے دیتاہوں۔ میری بھی ایک عیسائی لڑکی سے محبت ہوگئی تھی۔ میں عیسائی ہونے والا تھا۔ رنگ روپ میں پری تھی۔ تم اس کے پیروں کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ مجھے اب تک اس کی یاد ستاتی ہے۔‘‘
دیو کی— ’’جھوٹے کہیں کے! جب میں آئی تو مہینہ بھر تک تو تم مجھ سے بولتے شرماتے تھے۔ عیسائی عورت سے محبت کرتے تھے! وہ تو تمہیں بازار میں بیچ آتی! اور پھر تم لوگوں کی بات میں نہیں چلاتی، سچ بھی ہوسکتی ہے۔‘‘
بدری— ’’ذرا پریما کو بلا لو پوچھ لینا ہی اچھا ہے۔‘‘
دیو کی— ’’(جھنجھلاکر) اس سے کیا پوچھوگے، اور وہ کیا کہے گی۔ یہی میری سمجھ میں نہیں آتا۔ مجھ سے جب اس بارے میں باتیں ہوتی ہیں وہ یہی کہتی رہی ہے کہ میںکنواری رہوں گی، وہی پھر کہے گی۔ مگر اتنا میں جانتی ہوں کہ جس کے ساتھ تم بات چیت پکّی کروگے اسے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اتنا وہ جانتی ہے کہ گرہست لڑکی کنواری نہیں رہ سکتی۔‘‘
بدری—’’رورو کر جان تو نہ دے گی؟‘‘
دیو کی— ’’نہیں میں ایسا نہیں سمجھتی! فرض کا اسے بڑا خیال رہتا ہے اوریوں تو پھر دکھ ہی ہے جسے دل میں اپنا سوامی سمجھ چکی تھی، اسے دل سے نکال کر پھینک دینا کوئی سہل کام ہے؟ یہ زخم کہیں برسوں میں بھرے گا۔ اس سال وہ بیاہ کرنے پر راضی نہ ہوگی۔‘‘
بدری  —’’اچھا میں ابھی آیا۔ پورنا سے پوچھوں— ان پڑھی لکھی لڑکیوں کا مزاج کچھ اور ہی ہوجاتا ہے۔ اگر فرض اور محبت میں مخالفت ہوگئی توان کی ساری زندگی ہی رنج میں گذرتی ہے وہ محبت اورفرض پر ایثار کرنا نہیں جانتیں یا نہیں چاہتیں۔ ہاں محبت اور فرض میں میل ہوجائے تو ان کی زندگی اعلیٰ زندگی ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی مزاج پریما کامعلوم ہو تاہے۔ میں دانو کولکھے دیتاہوں کہ مجھے کوئی عذر نہیں ہے۔ مگر پریما سے پوچھ کر ہی تصفیہ کرسکوں گا۔‘‘
دفعتاً کملاپرشاد آکر بولے۔ ’’آپ نے کچھ سنا ہے؟ بابو امرت رائے تو ایک بدھوا آشرم کھولنے جارہے ہیں۔ کمانے کا یہ ڈھنگ نکالاہے۔‘‘
بدری پرشاد نے ذرا چیں بہ جبیں ہوکر پوچھا۔ ’’کمانے کا یہ ڈھنگ کیسا؟ میں نہیں سمجھا۔‘‘
کملا — ’’وہی جو اور لیڈر کرتے ہیں۔ آشرم میں بیواؤں کی پرورش و پرواخت کی جائے گی، انھیں تعلیم بھی دی جائے گی۔ چندے کی رقمیں آئیںگی اوریارلوگ مزے کریں گے۔ کون جانتا ہے، کہاں سے کتنے روپے آئے، پھر مہینے بھر میں ایک جھوٹا سچا حساب چھپوادیا۔ سنا ہے کئی رؤسانے بڑے بڑے چندے دینے کا وعدہ کیاہے۔ پانچ لاکھ کا تخمینہ ہے۔اس میں کم ازکم پچاس ہزار تو یاروں کے ہیں! وکالت میں اتنے روپے اتنی جلدی کہاں ملے جاتے تھے؟‘‘
بدری —’’پچاس ہزار ہی بنائے تو کیا بنائے۔ میں توسمجھتاہوں کہ ایک لاکھ سے کم پرہاتھ صاف نہ کریں گے۔‘‘
کملا — ’’ان لوگوں کو سوجھتی خوب ہے، ایسی باتیں ہم لوگوں کو نہیں سوجھتیں۔‘‘
بدری —’’جاکردونوں ان کی شاگردی کرو۔ اس کے سوا اور کوئی تدبیر نہیں ہے۔‘‘
کملا —’’توکیا میں کچھ کہتاہوں۔‘‘
بدری—’’ ذرا بھی نہیں، تم کبھی جھوٹ بولے ہی نہیں۔ بھلا آج کیوںجھوٹ بولنے لگے۔ سچائی کے اوتار تمھیں تو ہو۔‘‘
دیو کی — ’’سچ کہا ہے کہ ہَوَن کرتے ہاتھ جلتے ہیں۔ وہ بے چارا تو اُپکار کے لیے اپنا سب کچھ ہَوَن کیے بیٹھا ہے اور تمھاری نگاہوں میں اس نے دنیا والوں کو ٹھگنے کے لیے ایک سوانگ رچاہے! آپ تو کچھ نہیں کرسکتے۔ دوسروں کے بھلے کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کو تیار! انھیں ایشور نے کیا نہیں دیا ہے جو یہ ڈھونگ رچتے؟‘‘
کملا —’’اچھا میں ہی جھوٹا سہی۔ اس میں جھگڑا کا ہے کا؟ تھوڑے دنوں میں آپ ہی قلعی کھل جائے گی۔ آپ جیسے سیدھے سادے لوگ دنیا میں نہ ہوتے تو ایسے مکّاروں کی تھیلیاں کون بھرتا؟‘‘
دیو کی —’’بس چپ بھی رہو۔ ایسی باتیں تمھیں منہ سے نکا لتے شرم نہیں آتی۔ کہیں پریما کے سامنے ایسی بے سرپیر کی باتیں نہ کرنے لگنا۔ یاد ہے کہ تم نے ایک بارامرت رائے کو جھوٹا کہا تھا تو اس نے تین دن تک کھانا نہیں کھایا تھا۔‘‘
کملا— ’’یہاں ان باتوں سے نہیں ڈرتے، خوشامد کی باتیں کرنا مجھے نہیں آتا۔ کہوں گا سچ ہی، چاہے کسی کو بھلا لگے یابرا۔ وہ ہماری توہین کرتے ہیں توہم ان کی پوجانہ کریں گے۔ آخر وہ ہمارے کون ہوتے ہیں جو ہم ان کے کرتوتوں پر پردہ ڈالیں؟ میں انھیں اتنا بدنام کروں گا کہ سارے شہر میں کسی کو منہ نہ دکھاسکیں گے۔‘‘
یہ کہتاہواکملا چلاگیا۔ اسی وقت پریمانے کمرے میں قدم رکھا۔ اس کی پلکیں نم تھیں۔ گویاابھی روتی رہی ہو۔ اس کانازک جسم ایسا لاغرہوگیاتھا گویا کسی نغمہ کی آوازِ بازگشت ہو۔ چہرہ کسی ہجراں نصیب کی یاد ماضی کی طرح نحیف اوراداس تھا۔ اس نے آتے ہی کہا۔ ’’داداجی‘‘ آپ ذرا بابودان ناتھ کو بلاکر سمجھا دیں کہ وہ کیوں جیجا پر جھوٹا الزام لگاتے پھرتے ہیں۔‘‘
بدری پرشاد نے متحیرہوکر کہا۔ ’’دان ناتھ! وہ بھلاکیوں امرت رائے پر حملہ کرنے لگے۔ ان میں جیسی دوستی ہے ویسی تو میں نے اورکہیں دیکھی ہی نہیں۔‘‘ پریما۔ ’’یقین تومجھے بھی نہیں آتا مگر بھیا جی یہی کہہ رہے ہیں۔ بدھوا آشرم کھولنے کاجیجاجی کا بہت دنوں سے ارادہ تھا۔ کئی بار مجھ سے اس کے متعلق گفتگو ہوچکی ہے لیکن بابودان ناتھ اب یہ کہتے پھرتے ہیں کہ وہ اس چندہ سے روپیہ جمع کرکے زمینداری خریدناچاہتے ہیں۔‘‘
بدری— ’’کملاکہتے تھے؟‘‘
پریما — ’’ہاں بھیاجی کہتے تھے۔ دان ناتھ نے ان سے کہا ہوتو تعجب ہی کیا ہے۔‘‘
بدری — ’’کملا جھوٹ بول رہا ہے، سراسرجھوٹ، دانو کو میں خوب جانتا ہوں اس کا سا شریف آدمی میں نے بہت کم دیکھا ہے۔ مجھے تویقین ہے کہ آج امرت رائے کے نفع کے لیے جان دینے کا موقع آجائے تو دانو شوق سے اپنی جان قربان کردے گا۔ آدمی کیا ہیرا ہے۔مجھ سے جب ملتا ہے بڑی عاجزی سے پیر چھولیتا ہے۔‘‘
دیوکی— ’’کتناہنس مکھ ہے، میں نے اسے جب دیکھا ہنستے ہی دیکھا۔ بالکل بچوں کا مزاج ہے۔ اس کی ماں رویاکرتی ہے کہ میں مرجاؤں گی تو دانو کو کون کھلاپلا کرسلائے گا؟ دن بھر بھوکا بیٹھارہے گا۔ مگر کھانانہ مانگے گا اوراگر کوئی بلابلا کر کھلائے تو تمام دن کھاتا ہی رہے گا۔ بڑی سادہ طبیعت کاہے۔ غرور تو چھوبھی نہیں گیا۔‘‘
بدری —’’اب کے ڈاکٹر ہوجائے گا۔‘‘
لالہ بدری پرشادان آدمیوں میں تھے جود ُبدھے میں نہیں رہناچاہتے۔ کسی نہ کسی فیصلہ پر پہنچ جانا ان کے دلی اطمینان کے لیے ضروری تھا۔ دان ناتھ کے خط کا تذکرہ کرنے کا ایسا نادر موقعہ پاکر وہ ضبط نہ کرسکے۔ بولے۔ ’’یہ دیکھو! پریما: دانو نے ابھی ابھی یہ خط بھیجا ہے۔ میں تم سے مشورہ کرنے جاہی رہا تھا کہ تم خود ہی یہاں آگئیں۔‘‘
خط کا مطلب کیاہے، پریما اسے فوراً تاڑگئی۔ اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے خط لے لیا۔ مگر تحریر دیکھی تو صاف امرت رائے کی ہے۔ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
تحریر دیکھ کر ایک دن اس کا دل کتنا خوش ہو جاتاتھا۔ آج وہی تحریر اس کی آنکھوںمیں کانٹا بن کر چبھنے لگی۔ ایک ایک لفظ بچھو کی طرح اس کے دل پر ڈنک مارنے لگا۔ اس نے خط لے کر دیکھا۔ وہی تحریر تھی۔ وہی اس کی جانی بوجھی خوشنما صاف تحریر، جو دلی اطمینان کو ظاہرکرتی ہے۔ اس کا مطلب وہی تھا جو پریما نے سمجھا تھا۔ وہ اس کے لیے پہلے ہی سے تیار تھی۔ اسے یقین تھا کہ دان ناتھ اس موقع پر نہ چوکیں گے۔ اس نے خط کا جواب پہلے ہی سے سوچ رکھاتھا، شکریہ کے ساتھ، صاف انکار مگر یہ امرت رائے کے قلم سے نکلے گا، جس کا امکان ہی اس کے وہم وگمان سے باہرتھا۔ امرت رائے اتنے بے درد ہیں، اس کا اسے خیال بھی نہ ہوسکتا تھا۔ وہی دل جو امرت رائے کے ساتھ مصیبت کے سخت ترین صدمے اورآفتوں کی ناقابل برداشت تکلیفیں سہنے کو تیار تھا، آج اس بے اعتنائی کی ٹھیس نہ سہہ سکا۔ وہ بے مثال محبت، وہ غیر محدود عقیدت جو پریما نے ان میں برسوں سے مرکوزکر رکھی تھی، ایک آہِ سرد کے ساتھ جاتی رہی۔ اسے معلوم ہواگویا اس کے سارے اعضا سست پڑگئے ہیں۔ گویا دل بھی ساکت ہوگیا ہے۔ گویا اس کی اپنی زبان پر بھی بالکل قابونہیں ہے۔ اس کے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکل پڑے۔ ’’آپ کی جومرضی ہوکیجیے، مجھے سب منظور ہے۔‘‘ وہ کہنے جارہی تھی، جب کنوئیں میں گرناہی ہے تو جیسے کچاویسے پکا، اس میں کوئی فرق نہیں، مگر جیسے اس کو کسی نے خبردار کردیا۔ وہ فوراً خط کووہیں پھینک کر اپنے کمرہ میں لوٹ آئی اور دریچے کے سامنے کھڑی ہوکر زاروقطار رونے لگی۔
شام ہوگئی تھی، آسمان میں ایک ایک کرکے تارے نکلتے آتے تھے۔ پریما کے دل میں اسی طرح ایک ایک کرکے یادداشتیں آنے لگیں۔ دیکھتے دیکھتے سارا آسمان تاروں سے جگمگا اٹھا۔ پریما کا دل بھی یادداشتوں سے بندھ گیا۔ مگر ان بے شمار تاروں سے آسمان کی تاریکی کیااور بھی گہری نہیں ہوگئی تھی۔
بیساکھ میں پریما کی شادی دان ناتھ کے ساتھ ہوگئی۔ بڑی دھوم دھام رہی۔ کُل شہر کے رؤسا کو مدعو کیاگیا۔ لالہ بدری پرشاد نے دونوں ہاتھوں سے دولت لٹائی۔ مگردان ناتھ کی طرف سے کوئی تیاری نہ تھی۔ امرت رائے چندہ کی فراہمی کے لیے بہار کی طرف چلے گئے تھے اور تاکید کرگئے تھے، ’’دھوم دھام مت کرنا۔‘‘ دان ناتھ ان کی مرضی کے خلاف کیسے چلتے۔
ادھرپورنا کے آنے سے سومترا کو گویا آنکھیں مل گئیں۔ اس کے ساتھ باتیں کرنے سے سومترا کو سیری نہ ہوتی۔ آدھی رات تک اپنا دکھڑا سنایاکرتی۔ زندگی میں اس کا کوئی ساتھی نہ تھا۔ شوہر کی بے رخی روز ہی اس کے دل میں چبھا کرتی تھی، اس بے رخی کا سبب کیاہے، یہ مسئلہ اس سے حل نہ ہوتا تھا۔ وہ بہت خوبصورت نہ تھی، پھر بھی اسے کوئی بدصورت نہ کہہ سکتا تھا۔ بناؤ سنگھار کا تو اسے مرض ساہوگیاتھا۔ شوہر کے دل لبھانے کے لیے وہ نت نیا سنگھار کرتی تھی اور مقصد بر اری نہ ہونے سے اس کے دل میں آگ سی جلتی تھی! گھی کے چھینٹوں سے بھڑکنا توآگ کے لیے قدرتی تھا۔ وہ پانی کے چھینٹوں سے بھی بھڑکتی تھی! کملا پرشاد جب اسے اپنی محبت جتاتے تواس کے دل میں آتا کہ سینے میں چھری مارلوں —زخموں میں یونہی کیا کم درد ہوتا ہے کہ کوئی اس پرنمک چھڑکے؟آج سے تین برس پہلے سومترا نے کملا کو پاکر اپنے کو دھنیہ ماناتھا۔ دوتین مہینے اس کے سکھ سے کٹے، مگر جوں جوں ہر دوطبائع کا تضاد آشکارا ہونے لگا، دونوں ایک دوسرے سے کھینچنے لگے۔ سومترافیاض تھی، کملا اعلیٰ درجہ کا ممسک! وہ پیسہ کو ٹھیکری سمجھتی تھی، کملاکوڑیوں کو دانت سے پکڑتا تھا۔ سومترا عموماً فقیروں کو بھیک دینے جاتی تو اتنادیتی کہ وہ ’’چٹکی‘‘ کی انتہائی حد سے تجاوز کرجاتاتھا۔ اس کے مائیکے سے ایک مرتبہ برہمنی کوئی خوش خبری لے آئی تھی، اسے اٹھاکر نئی ریشمی ساڑھی دے دی۔ ادھر کملا کا یہ حال تھا کہ فقیر کی آواز سنتے ہی گرج اٹھتے تھے۔ رول اٹھاکر مارنے دوڑتے تھے۔ دوچار کوپیٹ بھی دیاتھا۔یہاں تک کہ ایک مرتبہ دروازہ پرجاکر کسی فقیر کی اگر کملا پرشاد کی مڈبھیڑ ہوگئی تواسے دوسری مرتبہ وہاں جانے کی ہمت نہ پـڑتی تھی۔ سومترا میں انکسار اوررحم تھا۔ کملا میں گھمنڈ،  چھچھورا پن اورخودغرضی۔ ایک آسمان پرکا جاندار تھا اور دوسرا زمین پر رینگنے والا، ان میں میل کیسے ہو؟
دان ناتھ نے آکر کہا۔ ’’کملا!‘‘
پورنا کی آمد سے کملااور سومترا ایک دوسرے سے اور بھی علاحدہ ہوگئے۔ سومترا کے دل کا بوجھ ہلکا ساہوگیا۔ یہاں تو وہ دن کادن بے پروائی سے پلنگ پر پڑے رہنے میں گذاردیتی، کہاں اب وہ ہر وقت ہنستی بولتی رہتی، کملا کی اس نے پرواہی کرناچھوڑدی۔ وہ کب گھر میں آتاہے اور کب جاتا ہے۔ کب کھاتا ہے اور سوتاہے۔ ان باتوں کی اسے ذرا بھی فکرنہ رہی۔ کملاپرشاد بدقماش نہ تھا۔ سب کا یہی خیال تھا کہ اس میں خواہ کتنے ہی عیوب ہوں مگر عیاشی کا عیب نہ تھا۔ کسی عورت پر تاک جھانک کرتے اسے کسی نے نہ دیکھاتھا۔پھر پورنا کے حسن نے اسے کس طرح گرویدہ کرلیا، یہ راز کون سمجھ سکتاہے؟ شاید پورنا کی سادگی، عاجزی اوربے کسی نے کملا کی نفسیاتی خواہشوں کو متحرک کردیا۔ اس کی کنجوسی اوربزدلی ہی اس کے اخلاق کی بنیاد تھی۔ عیاشی گراں چیزہے۔ جیب کے روپے خرچ کرکے بھی کسی آفت میں مبتلا ہوجانے کا جہاں ہرلمحہ امکان ہو، ایسے کام میں کملا پرشاد جیسا ہوشیار آدمی نہ پڑسکتاتھا۔ پورنا کے بارے میں اسے کوئی تردّد نہ تھا وہ اتنی سیدھی سادی تھی کہ اسے قابو میں لانے کے لیے کسی بڑی ریاضت کی ضرورت نہ تھی۔ اورپھر یہاں تو نہ کسی کا خوف تھا نہ پھنسنے کااندیشہ اور نہ مارکھانے کا خیال۔ پورنا کی بے کسی نے ان تمام اندیشوں کو غیرمسلّح بنادیاتھا۔ اس نے سمجھا تھا کہ اب اس کے راستہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ صرف گھر والوں کی آنکھ بچالینا کافی ہوگا اور یہ بات کچھ مشکل نہ تھی مگر یہاں بھی ایک رکاوٹ پیداہوگئی اور وہ سومترا تھی! سومترا پورناکو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چھوڑتی تھی۔ دونوں کھاناکھانے ساتھ جاتیں۔ چھت پردیکھو تو ساتھ۔ کمرے میں دیکھو تو ساتھ، رات کو ساتھ، دن کو کبھی دونوں ساتھ ہی ساتھ سوجاتیں۔ کملا جب خواب گاہ میں جاکر سومترا کاانتظاہر کرتا کرتا سوجاتا تو نہ جانے کب وہ اس کے پاس آجاتی۔ پورنا سے تنہائی میں کوئی بات کرنے کا اسے موقع نہ ملتاتھا۔ وہ دل میں سومترا پر جھنجھلا کررہ جاتا۔ آخرایک روز اس سے ضبط نہ ہوسکا۔ رات کو جب سومترا آئی تواس نے کہا:
’’تم رات دن پورنا کے پاس کیوں بیٹھی رہتی ہو؟ وہ اپنے دل میں سمجھتی ہوگی کہ یہ تو اچھی بلا گلے پڑی۔ ایسی توبڑی سمجھدار بھی نہیں ہوکہ تمھاری باتوں میں اسے مزا آتا ہو، تمھاری بے وقوفی پر ہنستی ہوگی۔‘‘
سومترا نے کہا۔ ’’اکیلی پڑی پڑی کیاکروں؟ یہ بھی تو اچھا نہیں لگتاکہ میں آرام سے سوؤں اور وہ اکیلی رویاکرے، اٹھنا بھی چاہتی ہوں تو وہ لپٹ جاتی ہے۔ چھوڑتی ہی نہیں‘ دل میں میری بے وقوفی پرہنستی ہے یانہیں، یہ کون جانے؟ مگر میرا ساتھ اسے اچھا نہ لگتاہو، یہ بات نہیں۔‘‘
کملا —’’تمھیں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ اس کی اور تمھاری کوئی برابری نہیں۔ وہ تمھاری سہیلی بننے کے قابل نہیں ہے۔‘‘
سومترا —’’میں ایسا نہیں سمجھتی۔‘‘
کملا —’’تمھیں اتنی سمجھ ہی نہیں۔ سمجھوگی کیا؟‘‘
سومترا —’’ایسی سمجھ کا نہ ہونا ہی اچھاہے۔‘‘
اس روز سے سومترا سائے کی طرح پورنا کے ساتھ رہنے لگی۔
کملاپرشاد کے طریقوں میں اب ایک عجیب تبدیلی سی ہوتی جاتی تھی۔ سنیما دیکھنے کا اب اسے شوق نہ تھا۔ نوکروں پرڈانٹ پھٹکار بھی کم ہوگئی۔ کچھ فراخ دست بھی ہوگیا۔ ایک روز بازار سے بنگلہ مٹھائی لایا۔ سومترا کودیتے ہوئے کہا۔ ’’ذرا اپنی سکھی کو چکھانا‘‘سومترا نے مٹھائی لے لی مگر پورنا سے اس کا ذکر نہ کیا۔ دوسرے روز کملا نے پوچھا۔ ’’پورنا نے مٹھائی پسند کی ہوگی۔؟‘‘ سومترا نے جواب دیا۔ بالکل نہیں۔ وہ کہتی تھیں کہ مجھے مٹھائی سے کبھی رغبت نہیں رہی۔‘‘
کئی روز کے بعد ایک روز کملا پرشاد دو ریشمی ساڑھیاں لائے اور بے دھڑک اپنے کمرے میں گھس گئے۔ دونوں سہیلیاں ایک ہی پلنگ پرلیٹی باتیں کر رہی تھیں۔ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئیں۔ پورنا کاسرکھلاہوا تھا۔ شرم کے مارے اس کے جسم میں پسینہ آگیا۔ سومترا نے شوہر کی طرف غصہ بھری نگاہوں سے دیکھا۔
کملا نے کہا۔ ’’ارے پورنا بھی یہیں ہیں۔ معاف کرنا پورنا مجھے معلوم نہ تھا۔ یہ دیکھو سومترا، دوساڑیاں لایاہوں۔ سستے داموںمیں مل گئیں۔ ایک تم لے لو اورایک پورناکودے دو۔‘‘
سومترا نے ساڑیوں کو بے چھوئے ہی کہا، ان کی تو آج کوئی ضرورت نہ تھی۔ میرے پاس ساڑیوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور پورناریشمی ساڑیاں پہننا چاہیں گی تو میں اپنی نئی ساڑیوں میں سے ایک دے دوں گی۔ ’’کیوں بہن! ان میں سے لوگی کوئی ساڑی؟‘‘
پورنانے سرہلاکر کہا۔ ’’نہیں، ریشمی لے کر کیا کروں گی؟‘‘
کملا — ’’کیوں ریشمی ساڑی تو کوئی چھوت کی چیز نہیں۔‘‘
سومترا —’’چھوت کی چیز نہیں مگرشوق کی چیز تو ہے۔ سب سے پہلے تو تمھاری والدہ ماجدہ ہی چھاتی پیٹنے لگیں گی۔‘‘
کملا —’’مگراب تو میں لوٹا نے نہ جاؤںگا۔ بزاز سمجھے گا دام سن کرڈرگئے۔‘‘
سومترا —’’بہت اچھی ہوں تو پریما کے پاس بھیج دوں۔ تمھاری خریدی ہوئی ساڑھی پاکر اپنا بھاگ سراہیں گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ آج کل کہیں کوئی رقم مفت ہاتھ آگئی ہے۔ سچ کہنا کس کی گردن ریتی ہے؟ گانٹھ کے روپے خرچ کرکے تم ایسی بے کار چیز کبھی نہ لیتے ہوگے۔‘‘ کملا نے غضب آلود نگاہوں سے سومترا کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’تمھارے باپ کی تجوری توڑی ہے اوربھلا کہاں ڈاکہ ڈالنے جاتا؟‘‘
سومترا —’’مانگتے تو وہ یوں بھی دے دیتے۔ تجوری توڑنے کی نوبت نہ آتی۔ مگر عادت کو کیا کرو۔‘‘
کملا نے پورنا کی طرف منہ کرکے کہا۔ ’’سنتی ہو پورنا، ان کی باتیں! شوہر سے باتیں کرنے کا یہی طریقہ ہے؟ تم بھی انھیں نہیں سمجھاتیں۔ اور کچھ نہ سہی توآدمی سیدھے منہ بات تو کرے۔ جب سے تم آئی ہو ان کا دماغ اور بھی آسمان پرچڑھ گیاہے۔‘‘
پورناکو سومترا کی سختی بری معلوم ہورہی تھی۔ تنہائی میں کملا پرشاد سومترا کو جلاتے ہوں ، مگر اس وقت سومترا ہی انھیں جلارہی تھی۔ اسے اندیشہ ہو اکہ کہیں کملا مجھ سے ناراض ہوگئے تو مجھے اس گھر سے نکلنا پڑے گا۔ کملاکو ناراض کرکے یہاں ایک دن بھی نباہ نہیں ہوسکتا، وہ یہ جانتی تھی اس لیے وہ سومترا کو سمجھاتی رہتی تھی، بولی۔ ’’میں تو برابر سمجھایاکرتی ہوں۔ بابوجی پوچھ لیجیے۔ جھوٹ کہتی ہوں۔‘‘
سومترا نے تیز لہجہ میں کہا۔ ’’ان کے آنے سے میرا دماغ کیوں آسمان پر چڑھ گیا، ذرا یہ بھی بتادو، مجھے انھوں نے راج گدّی پر نہیں بٹھادیا تھا۔ ہاں تب اکیلی پڑی رہتی تھی۔ اب گھڑی دوگھڑی ان کے ساتھ بیٹھ لیتی ہوں۔ کیا تم سے اتنا بھی نہیں دیکھا جاتا؟‘‘
کملا —’’تم فضول بات بڑھاتی ہو سومترا! میں یہ کب کہتاہوں کہ تم ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترک کردو۔ میں نے توکوئی ایسی بات نہیں کہی۔‘‘
سومترا — ’’اورکہنے کامطلب ہی کیا ہے کہ جب سے یہ آئی ہیں، تمھارا دماغ آسمان پر چڑھ گیاہے؟‘‘
کملا —’’کچھ جھوٹ کہہ رہاہوں؟ پورنا خود دیکھ رہی ہیں۔ تمھیں ان کی نیک صحبت سے کچھ اچھی باتیں سیکھنی چاہیے تھیں۔ یہاں انھیں لاکر رکھنے میں میرا ایک مقصد یہ بھی تھا مگر تم پر ان کی صحبت کا الٹا ہی اثر ہوا۔ یہ بیچاری سمجھاتی ہوںگی مگر تم کیوں ماننے لگیں؟ جب تم مجھی کو کچھ نہیں گنتیں تو یہ بے چاری کس گنتی میں ہیں؟ بھگوان سب کچھ دے مگر برے کاساتھ نہ دے۔ تم ان میں سے ایک ساڑھی رکھ لو پورنا۔ دوسری میں پریما کے پاس بھیجے دیتاہوں۔‘‘
سومترا نے دونوں ساڑیوں کو اٹھاکر دروازہ کی طرف پھینک دیا۔ دونوں کاغذ میں تہہ کی ہوئی رکھی تھیں۔ صحن میں جاکر گریں۔ مہری اس وقت صحن دھورہی تھی، جب تک وہ دوڑ کر ساڑیاں اٹھائے، کاغذ بھیگ گیا اور ساڑیوں میں داغ پڑگئے۔ پورنانے حقارت کے لہجہ میں کہا۔ ’’بہن دیکھو توساڑیاں خراب ہوگئیں۔‘‘
کملا — ’’ان کی کرتوتیں دیکھتی جاؤ۔ اس پر میں ہی براہوں۔ مجھی میں دنیا بھر کے عیب ہیں۔‘‘
سومترا —’’تولے کیوں نہیں جاتے اپنی ساڑیاں؟‘‘
کملا —’’میں تمھیں تونہیں دیتا۔‘‘
سومترا — ’’پورنا بھی نہ لیں گی۔‘‘
کملا —’’تم ان کی طرف سے بولنے والی کون ہوتی ہو؟ تم نے اپنا ٹھیکہ لیا ہے یازمانے بھرکا؟ بولوپورنا، ایک رکھ دوں نا؟ یہ سمجھ لو کہ تم نے انکار کردیا تو مجھے بڑا رنج ہوگا۔‘‘
پورنا بڑے شش وپنج میں پڑگئی، اگر ساڑی لیتی ہے تو سومترا کو برا لگتا ہے، اگر نہیں لیتی تو کملا برا مانتے ہیں۔ سومترا! کیوں اتنی ہٹ کر رہی ہے۔ کیوںاتنا جامے سے باہر ہورہی ہے، یہ بھی اس سے پوشیدہ نہ رہا۔ دونوں پہلوؤں پر غور کرکے اب اس نے سومترا ہی کو خوش رکھنے کا ارادہ کرلیا۔ کملا روٹھ کر اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، زیادہ سے زیادہ اسے یہاں سے چلاجانا پڑے گا۔ سومترا ناراض ہوگئی تو نہ جانے کیاغضب ڈھائے، نہ جانے اس کے دل میں کیسے کیسے برے خیالات پیدا ہوں، بولی:
’’بابوجی ریشمی ساڑیاں پہننے کی مجھے مناہی ہے، تولے کرکیا کروںگی؟ ایسا ہی ہے تو کوئی موٹی مہین دھوتی لادیجیے گا۔‘‘

یہ کہہ کر اس نے کملا پرشاد کی طرف معذور نگاہوں سے دیکھا۔ ان میںکتنی عاجزی، کتنی معذوری بھری ہوئی تھی گویا وہ کہہ رہی تھیں کہ لینا تو چاہتی ہوںمگرلوں کیسے؟ انھیں آپ دیکھ رہے ہیں۔ کیا گھر سے نکالنے کی خواہش ہے؟ 

کملا پرشاد نے کوئی جواب نہ دیا۔ ساڑیاں چپکے سے اٹھالیں اورپیر پٹکتے ہوئے باہر چلے گئے۔

                                                                 (پریم چند)



مشق  

سوالات

1۔  پریم چند کی ناول نگاری کی خصوصیات پر ایک تنقیدی مضمون لکھیے۔
2۔  ناول ’بیوہ‘ کے اہم کردار کون سے ہیں اور پریم چند ان کی عکاسی میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں؟
3۔  ناول ’بیوہ‘ کے ذریعے پریم چند ہمیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ وضاحت کیجیے۔