Skip to content
QR5258CH02

2

ڈراما

عالمی ادب میں صنفِ ڈراما کو ہمیشہ سے بلند مقام حاصل رہا ہے۔ وہ ہندوستان ہو، یونان ہو یا برطانیہ، ہر جگہ اس صنف کی پذیرائی اور ترقی ہوئی ہے۔ ڈرامے کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں۔ مگر اس کی ایک سادہ سی تعریف یہ ہے کہ ’’ڈراما کسی قصّے یا واقعے کواداکاروں کے ذریعے، ناظرین کے روبرو عملاً پیش کرنے کا نام ہے۔‘‘ اس سے واضح ہوا کہ ڈراما ناول یا افسانے کی طرح صرف لکھے یا پڑھے جانے تک محدود نہیں۔ اس کے لیے پیش کش ضروری ہے بلکہ یہ مکمل ہی تب ہوتا ہے جب اسے عملاً اسٹیج پر پیش کر دیا جائے۔ ناول اور افسانے کی طرح ڈرامے میں بھی پلاٹ ، کردار، مکالمہ اور کوئی نہ کوئی مرکزی خیال ہوتا ہے۔ مگر قصّے کی عملی پیش کش ہی اسے ناول اور افسانے سے ممیز کرتی ہے۔
بنیادی طور پر ڈرامے کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 1۔ٹریجڈی( المیہ) 2۔کامیڈی (طربیہ) ۔اِن دونوں عناصر، یعنی الم و طرب کے امتزاج سے بھی ڈرامے لکھے گئے ہیں۔ اس طرح المیہ طربیہ وجود میں آیا۔ اس کے علاوہ’’ میلو ڈراما‘‘، ’’فارس‘‘، ’’ڈریم‘‘ اور ’’اوپیرا‘‘ بھی ڈرامے کی اقسام میں شامل ہیں۔ 
اردو ڈرامے کی ابتدا  1844 سے 1855 کے دوران واجد علی شاہ کی ڈرامائی پیش کش اور امانت و مداری لال کی اندرسبھاؤں سے لکھنؤ میں ہوئی۔ مگر اسے عروج حاصل ہوا پارسی اسٹیج کے ڈراموں سے۔ جس زمانہ میں لکھنؤ اور اس کے گردو نواح میں اندر سبھاؤں کی دھوم مچی ہوئی تھی، اسی زمانے میں ممبئی میں مغربی اثرات کے تحت ایک نئے قسم کا ڈراما وجود میں آ رہا تھا جسے پارسی اسٹیج کا نام دیا گیا۔یہ نام اسے اس لیے دیا گیا کیونکہ اس کی ابتدا اور ترقی میں پارسیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ 
پارسی اسٹیج کا پہلا ڈراما ’’خورشید‘‘ ہے جسے 1870 میں ایدل جی گھوری نے لکھا تھا۔ اس سے پہلے بھی کچھ ڈرامے لکھے گئے مگر وہ دستیاب نہیں ہیں۔ پارسی اسٹیج کے ڈرامے بھی ابتدائی اردو ڈراموں کی طرح منظوم ہوتے تھے۔ ان میں رقص، موسیقی اور گانوں کا استعمال بھی ویسا ہی تھا۔ قصے اور کردار بھی فوق فطری ہوتے تھے مگر پیش کش کا انداز ابتدائی ڈراموں سے مختلف تھا۔ ’’پروسینیم‘‘ یعنی آگے گرنے والے پردے کا استعمال پارسی اسٹیج سے شروع ہوا۔ اب اسٹیج کی پچھلی دیوار پر سین سینریوں والے پردے لگائے جانے لگے۔ ہر ذیلی سین پر بھی پردہ گرنے اور اٹھنے لگا۔ اسٹیج پر طرح طرح کی مشینوں کا استعمال ہونے لگا۔ مکالموں میں دھیرے دھیرے نثر کا استعمال بڑھا۔ گانے کم ہو گئے۔ فوق فطری واقعات اور کرداروں کے بجائے روز مرّہ زندگی کے واقعات اور مسائل ڈرامے کا موضوع بننے لگے۔ 
11

آغا حشر کاشمیری

1876/79 تا  1931/1935

 ا ٓغاحشراترپردیش کے شہربنارس میں پیدا ہوئے، اصل نام محمد شاہ تھا۔ آغا حشر نے عربی، فارسی اور اردو کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔بعد میں انگریزی تعلیم کے لیے اسکول بھی بھیجے گئے مگر پڑھنے لکھنے سے زیادہ ان کا دل سیرو تفریح اورشعرو شاعری کی محفلوں میں لگتا تھا۔ وہ بہت ذہین تھے۔ جو کچھ پڑھتے حرف بہ حرف یاد ہو جاتا تھا۔ 
اس دور میں پارسی تھیٹر کی کمپنیاں شہر شہر گھوم کر ڈرامے دکھایا کرتی تھیں۔ 1897 میں ’’الفریڈجوبلی کمپنی‘‘بنارس پہنچی۔ اس کے اہم ڈراما نگار احسن لکھنوی تھے۔ آغا حشر ڈرامے دیکھنے جاتے تو احسن سے ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔ ایک روز کسی بات پر احسن سے الجھ گئے اور یہ کہہ کر چلے آئے کہ ایسے ڈرامے تو میں ایک ہفتے میں لکھ سکتا ہوں۔ لہٰذا اپنا پہلا ڈراما ’’آفتاب محبت‘‘ لکھا جو 1897 میں بنارس کے ’’جواہر اکسیر پریس‘‘ سے شائع ہوا۔اس ڈرامے کی اشاعت سے ان کی بہت ہمّت افزائی ہوئی۔
ڈراما نگاری کے شوق میں آغا حشر بمبئی پہنچے تو وہاں ان کا مقابلہ بڑے بڑے تجربہ کار ڈرامانگاروں سے تھا۔چنانچہ انھوں نے ڈرامے لکھنے اور ادبی و علمی لیاقت بڑھانے کے لیے خوب محنت کی۔ انھیں ڈراما نگار کی حیثیت سے پہلی نوکری ’’الفریڈ تھیٹریکل کمپنی ‘‘ میں ہی ملی، جس کے لیے انھوں نے پہلا ڈراما ’’مریدشک‘‘ لکھا ۔اس کی مقبولیت نے آغا حشر کو بہت جلد شہرت کی بلندیوں تک پہنچادیااور یہ شہرت روزبروزبڑھتی گئی۔ 
فلمی کہانیوں کو شامل کر کے ان کے ڈراموں کی کل تعداد اڑتیس(38)ہے۔ ان کے ڈراموںمیں تین طرح کے پلاٹ پائے جاتے ہیں۔ پہلے وہ جو مغربی ڈراموں سے ماخوذ ہیں۔ دوسرے وہ جو تاریخی یا نیم تاریخی واقعات پر مبنی ہیں۔ تیسرے وہ جو سماجی اور اصلاحی موضوعات پر لکھے گئے ہیں۔ 
’’یہودی کی لڑکی‘‘ آغا حشر نے 1913 میں لکھا۔ یہ اُن کے سب سے زیادہ مقبول ڈراموں میں شامل ہے۔ آغا حشر نے اس میں بظاہر رومن سلطنت اور یہودی قوم کے درمیان کش مکش دکھائی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہودی قوم اور رومن مذہبی پیشوا کے پردے میں انگریزی حکومت اور ہندوستانی عوام کے درمیا ن جاری کش مکش کو پیش کیا گیا ہے۔اس طرح براہ راست مفہوم کے ساتھ ساتھ اس ڈرامے کا ایک علامتی مفہوم بھی نکلتا ہے ۔
اس ڈرامے میں کردار نگاری اوسط درجے کی ہے، کوئی ایسا کردار نہیں جو ہمارے دلوں پر نہ مٹنے والا نقش چھوڑ جائے ۔پھر بھی، وقتی طور پر، اس کے کردارہمیں متاثر ضرور کرتے ہیں۔ اس میں مکالمے چھوٹے اور برجستہ ہیں، جن میں گفتگو کا انداز پایا جاتا ہے۔ زبان سلیس اور رواں ہے۔ جو بات نثر میں کہی جاتی ہے، آغا حشر اس میں زور پیدا کرنے کے لیے اسے شعر میں بھی دہراتے ہیں۔ یہ طریقہ اس وقت پسندیدہ تھا مگر اب یہ تکرار گراں گزرتی ہے۔ اس ڈرامے میں متفرق اشعار کم ہیں۔ نثر کو پُرکشش بنانے کے لیے کہیں کہیں اس میں قافیے کا استعمال ہوا ہے۔ تشبیہ و استعارے کے استعمال سے بھی وہ اپنی نثر کوپُراثر بناتے ہیں۔
پیش کش کے لحاظ سے بھی یہ ڈراما نہایت موزوں ہے۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے اسٹیج پر پیش کرنے میں دقّت ہو۔ اسٹیج کی ضروریات کو نظر میں رکھ کر ہی اسے لکھا گیاہے۔ 
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ اردو کا ایک شاہکار ڈراما ہے،جو طویل بھی ہے اور جسے مکمل طور پر اس کتاب میں نہیں پیش کیاجاسکتا۔ چنانچہ اسے مختصر کرکے پیش کیا گیا ہے۔  اس میں اصل قصے کے ساتھ ساتھ ایک مزاحیہ قصہ ’’نصیبن ‘‘ اور ’’کرامت‘‘ کا بھی چلتا رہتا ہے، جس کا اصل قصے سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔لہٰذااسے نکال دیا گیا ہے ۔غیر ضروری اشعار اور گانے بھی خارج کردیے گئے ہیں۔ کچھ مکالمے بھی نکال دیے گئے ہیں۔ مگر یہ اس سلیقے کے ساتھ کیا گیا ہے کہ کہانی میں تسلسل برقرار رہے اور اصل قصہ کہیں مجروح نہ ہو۔
اس ڈرامے کا قصہ اس طرح ہے کہ سلطنت روما میں رومن کے علاوہ یہودی قوم بھی آباد ہے۔ ایک نوجوان مارکُس کو عِزرا یہودی کی لڑکی حنّا سے محبت ہوجاتی ہے ۔ حنّا بھی اس سے سچی محبت کرتی ہے مگر مختلف وجوہات کی بنا پر، اسے شبہہ ہوجاتا ہے کہ مارکُس یہودی نہیں ہے ۔ وہ مارکُس سے زور دے کر حقیقت دریافت کرتی ہے تو وہ رومن ہونے کا اقرار کرلیتا ہے ۔ مگر اس سے سچی محبت کا یقین بھی دلاتا ہے اور گھر سے کہیں دور چل کر شادی کرلینے کے لیے کہتا ہے۔ پہلے تو حنّا تیار نہیں ہوتی، مگر مارکُس خودکشی کرلینے کی دھمکی دیتا ہے تو حنّا کو اس کی محبت پر یقین آجاتا ہے ۔ دونوں گھر سے جانا ہی چاہتے ہیں کہ عِزرا سامنے آجاتا ہے، جو چھپ کر ساری باتیں سن رہا تھا۔ دونوں اس سے معافی مانگتے ہیں اور رحم کی درخواست کرتے ہیں ۔ عِزرا شادی کے لیے تیار ہوجاتا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ مارکُس یہودی مذہب اختیار کرلے ۔ مارکُس تیار نہیں ہوتا اور وہاں سے چلا جاتا ہے۔
ایک روز حنّا اور مارکُس کی ملاقات ہوتی ہے تو وہ اسے بتاتا ہے کہ وہ عام آدمی نہیں بلکہ اس ملک کا ولی عہد ہے۔ اگر وہ اپنا مذہب تبدیل کرلیتا تو اسے سلطنت سے ہاتھ دھوناپڑتا ۔ وہیں حنّا کو پتہ چلتا ہے کہ مارکُس کی شادی کل شہزادی آکٹیویا سے ہونے جا رہی ہے، جو پہلے سے طے تھی۔ اسے بے حد رنج ہوتا ہے اور وہ اسے روکنے کا تہیہ کرلیتی ہے ۔
شادی کے موقعے پر عِزرا یہودی اپنی قوم کی طرف سے نذرانہ پیش کرنے کے لیے دربار میں حاضر ہوتا ہے ۔ حنّا بھی وہاں پہنچ جاتی ہے اور بادشاہ کو ساری بات بتا کر انصاف کی طلب گار ہوتی ہے۔ بادشاہ شہزادہ مارکُس سے پوچھتا ہے تو وہ اپنے جرم کا اقرار کرلیتا ہے۔ بادشاہ اسے قید کرکے مذہبی عدالت میں مقدمہ چلانے کا حکم دیتا ہے ۔
اسی روز شہزادی، حنّا کے پاس جاتی ہے اور شہزادے کو معاف کردینے کی درخواست کرتی ہے۔ حنّا کو مارکُس پر رحم آجاتا ہے اوراپنا الزام واپس لے لیتی ہے مذہبی پیشوا بروٹس جو یہودیوں سے نفرت کرتا ہے اور پہلے بھی ان پر کافی ظلم کر چکا ہے ، شہزادے پر جھوٹا الزام لگانے کے جرم میں حنّا اورعِزرا کو جلتے ہوئے تیل میں ڈال دیے جانے کا حکم دیتا ہے ۔ مارکُس ان کے لیے رحم کی درخواست کرتا ہے ، تو بروٹس، عِزرا کو مذہب تبدیل کرنے کی شرط پر معافی دینے کو تیار ہوجاتا ہے ۔ عِزرا اسے نہیں مانتا ہے اور اسے سولہ سال پہلے کا واقعہ یاد دلاتا ہے، جب شاہ’’نیرو‘‘کے حکم سے شہر روما میں چاروں طرف آگ بھڑک رہی تھی۔ اس آگ میں بروٹس کی بیوی جل کر خاک ہوگئی تھی۔مگر اس کی شیر خوار بیٹی کو آگ سے اسی نے بچالیا تھا۔اور اب یہی اس کی بیٹی ہے، جسے اس نے اپنی بیٹی کی طرح پالا ہے۔ بروٹس ثبوت مانگتا ہے ۔عِزرا یہودی حنّا کے گلے میں پڑا ہوا شاہی خاندان کا تعویذ اور مروارید کی مالا دکھاتا ہے۔ بروٹس اسے پہچان کر تصدیق کرتا ہے ۔ اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے ۔دونوں سے معافی مانگتا ہے اور آئندہ کے لیے نیک زندگی گزارنے کا عہد کرتا ہے ۔
اس وقت آکٹیویا حنّا سے کہتی ہے کہ تم بھی شاہی خاندان سے ہو، تو کیوں نہ میری ہر راحت اور خوشی میں برابر کی شریک ہوجاؤ۔ بادشاہ بھی اس کی اجازت دے دیتا ہے مگر حنّا یہی کہتی ہے کہ مجھے اس جھوٹی دنیا کی کوئی ـــ چیزنہیں چاہیے۔تم دونوں جیو اور خوش رہو۔ـیہیں ڈراما ختم ہوجاتاہے۔

یہودی کی لڑکی

 کردار

                                                     مرد

1. مارکُس     رومن شہزادہ                                                                    
 2. بروٹس     مذہبی رہنما    
 3.  عِزرا       ایک بوڑھا یہودی                                                    
 4.  بادشاہ      رومن بادشاہ
5.  سپاہی       رومن فوج کا سپاہی                                                              6.کیشیش رومنسردار
   
                                                                                                                                                       

                                                   خواتین

 1.  حنّا       مارکُس کی معشوقہ                                                                  
2. آکٹیویا     رومن شہزادی اور مارکُس کی منگیتر
3. جونا آکٹیویا کی ملازمہ
                                                                           
                                                                           


پہلا ایکٹ — پہلا سین

محل

مارکُس : آکٹیویا، تم اور یہاں؟
آکٹیویا : ؎
جو نظر اب ہے وہ پہلے تری بے دید نہ تھی
اس طرح آنکھ بدل لے گا یہ اُمید نہ تھی
آخر اس بے رخی کا سبب؟
12
مارکُس : کوئی نہیں۔
آکٹیویا        :    اس ناراضگی کا باعث؟
مارکُس : کچھ نہیں۔
آکٹیویا       :     تو پھر کیا ہوگیا؟
مارکُس : سودا ہوگیا۔
آکٹیویا : ہوش و حواس کدھر گئے؟
مارکُس : مرحوم آرزوؤں کے ساتھ وہ بھی مر گئے۔
آکٹیویا : تو کیا اب مجھے تم سے کوئی آس نہیں ؟
مارکُس :  آس دلانے والی چیز ہی میرے پاس نہیں۔
آکٹیویا       :     میرے پیارے وہ کیا؟
مارکُس       :    دل   ؎
میں دل کو روؤں گا اور روئے گا دل عمر بھر مجھ کو 
نہ میری ہے خبر دل کو نہ دل کی ہے خبر مجھ کو

پہلا ایکٹ  – دوسرا سین

یہودیوں کا محلّہ

(مارکُس کا یہودیوں کے لباس میں آنا)

مارکُس : پیاری حنّا۔ میری یہ خواہش ہے کہ تم چہرے پر نقاب ڈالے بغیر گھر سے باہر نہ نکلا کرو۔
حنّا           : اس کی وجہ؟
مارکُس       :    وجہ یہ ہے کہ جس طرح بارش سے دھلے ہوئے شفاف آسمان پر شفق کی سرخی شہاب پاشی کرتی ہوئی حدّ نظر تک پھیل جاتی ہے تو تمام دنیا بے پایاں مستی میں ڈوبی ہوئی پُر شوق نگاہوں سے اس کی دلفر یبیوں پر قربان ہونے لگتی ہے اسی طرح جب تمھارے گلابی گالوں کے عکس سے کائنات کا ذرہ ذرہ جگمگانے اور ہنسنے لگتا ہے تو قدرت کی مخلوق ہی نہیں خود قدرت بھی تمھیں پیار سے دیکھنے لگتی ہے۔   ؎
ہے نظر کاتب کی اپنے ہاتھ کی تحریر پر
خود مُصور بھی مٹا جاتا ہے اس تصویر پر
13
حنّا           :    تو میرے پیارے۔ تم رشک کرتے ہو؟
مارکُس       :    رشک؟ میں اُس لباس پر رشک کرتا ہوں جو تمھارے خوبصورت جسم کو اپنی آغوش میں لیے رہتا ہے۔ یہاں تک کہ میں تمھارے سائے سے رشک کرتا ہوں جو ان قدموں سے                      لپٹا ہوا ساتھ ساتھ چلتا ہے۔  ؎
اسیر پنجہ عہد شباب کرکے مجھے
کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے
کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے
خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے 
(دونوں کا گاتے ہوئے جانا۔ رومن سرداروں کا داخل ہونا)
سپاہی نمبر1 : تو کیا آپ اس مشرقی ستارہ کو روم کی کلیوپٹیرا کا خطاب دیتے ہیں؟
کیشیش           :   ہاں۔ اور اس خطاب پر بھی مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے حسن خدا داد کی داد دینے میں بُخل سے کام لے رہا ہوں۔
سپاہی نمبر2       :    جب تو اُس کے حُسن کی غلامی کرنے کے لیے رومن سورماؤں میں سے بہت سے سینرر و اینٹونیو پیدا ہو جائیں گے۔ 
سردار             :   دیکھو دیکھو وہ کافرادا یہودن اسی طرف آ رہی ہے۔
کیشیش            :   قسم ہے رومن خون کی۔ میں اس روم کی سب سے زیادہ حسین دوشیزہ کے حسن کی داد دیے بغیر کبھی یہاں سے نہ جاؤں گا۔
سپاہی نمبر1        :    اس کی مرضی کے خلاف؟
کیشیش            :     ہاں۔ہاں۔
سپاہی نمبر3        :      جبراً؟
کیشیش            :     بے شک۔ ہم کون ہیں؟
سپاہی نمبر2        :      معزز رومن۔
کیشیش            :       اور یہودی کون ہیں؟
سپاہی نمبر4        :        رومنوں کے ادنیٰ غلام۔
کیشیش            :     تو بس پس و پیش بیکار ہے۔ غلام اور غلام کے مال پر آقا کو ہر طرح کا اختیار ہے۔

(حنّا کا آنا)

حنّا                 :         (پھول سے مخاطب ہو کر)   ؎
فدا ہوں جس طرح اُس گل پہ تجھ پر بھی فدا ہوتی
جو تجھ میں اُس کی رنگت، اس کی بو، اس کی ادا ہوتی
کیشیش           :   ؎
فقط یہ پھول ہی کیا مستحق ہے مہربانی کا
اِدھر بھی اک اُچٹتی سی نظر، صدقہ جوانی کا
حنّا               : جناب آپ کون ہیں؟ اور کیا چاہتے ہیں؟
کیشیش          : میں یہ پوچھتا ہوں کہ یہ پھول زیادہ نظر فریب ہے یا یہ؟ یہ زیادہ خوبصورت ہے یا یہ؟ اس کی پنکھڑیوں کو دیکھ کر طبیعت للچاتی ہے یا ان پنکھڑیوں کو؟   
حنّا               :      صاحب آپ ہوش میں ہیں؟
کیشیش          :   ؎
رحم کرتی ہیں کہیں، یہ نرگس مے نوش بھی
اک نظر میں دل بھی چھینا ساتھ دل کے ہوش بھی
حنّا               : بس بس۔ ایک غیرت دار شریف زادی اس سے زیادہ اپنی توہین برداشت نہیں کر سکتی۔
کیشیش          :     ؎
مست مے نشاط بھی ہیں باغ باغ بھی
آنکھیں بھی شاد کام ہوئیں اور دماغ بھی
منت پذیر حسن خدا داد کیجیے
یہ ہونٹ رہ گئے ہیں انھیں شاد کیجیے

(حنّاکو پکڑ لینا)

حنّا              : چھوڑ دے۔ چھوڑ دے بے رحم موذی مجھے چھوڑ دے۔
کیشیش         :     ؎
صرف کر دے زور، جتنا بھی پر و بازو میں ہے
چھٹ چکا وہ صید جو صیاد کے قابو میں ہے
حنّا              :       دوڑو۔ بچاؤ۔ یہ کمینہ میری عزت پر حملہ کرتا ہے۔

(مارکُس کا یہودی کے لباس میں آنا)

مارکُس         :        خبردار۔ او بدمعاش پاجی۔ اگر ایک انچ بھی آگے بڑھا تو یہ بالشت بھر کی چھری قبضے تک سینے میں اتار دوں گا۔
کیشیش        : تو کون؟
مارکُس         : تجھ پر لعنت بھیجنے والی زبان، تجھے سزا دینے والا ہاتھ۔  
کیشیش : حقیر ہستی۔ کیا تو رومن قوم کے معزز نوجوان کا مقابلہ کرنے آیا ہے؟
مارکُس        :     معزز؟ ایسی کمینی حرکتیں اور معزز؟ جب تمھارادِل، تمھارا خیال، تمھاری ہرچیز ذلیل ہے تو پھر تمھارے معزز ہونے کی کیا دلیل ہے؟  
کیشیش       :    بس خاموش۔ شاید تیرے دل میں اپنی زندگی کا پیار نہیں ہے۔ کیا تو رومن قوم کے غرور، غصہ اور ہیبت ناک انتقام سے خبردار نہیں ہے؟
مارکُس        :   ذلیل غلام۔ تو اپنے پاجیانہ خیالات کے اظہار میں تمام رومن قوم کو کیوں شامل کرتا ہے؟  ؎
یہ طرز زیست ہے ان کی نہ یہ قرینہ ہے
وہ سب کمینے نہیں صرف تو کمینہ ہے
کیشیش       :     بس یہ اپنی بد زبانی سے اپنی موت کے فتوے پر مہر کر چکا۔ سپاہیوں باندھ لو اس باغی کو۔
مارکُس        :     بد بخت، نامراد۔ بھالے نیچے جھکا دو۔
کیشیش : کس کے حکم سے؟
مارکُس        :     میرے حکم سے۔
کیشیش       :      تو کون؟
مارکُس        :       دیکھ۔

(مارکُس کا سینہ کھول کر نشان شاہی دکھانا)

کیشیش      : کون شہزادہ مارکُس؟ آپ ؟
مارکُس       :      چُپ۔
(سپاہیوں کا بھالے جھکا دینا اور حنّا کا مارکُس سے لپٹ جانا)

پہلا ایکٹ–چھٹا سین

عِزرا کا مکان

(حنّااور مارکُس آتے ہیں)

حنّا : میں حیران ہوں کہ اس روز ان انسان نما درندوں کے زور کس قوت نے گھٹا دیے۔ تم میں وہ کون سی چھپی ہوئی طاقت ہے جسے دیکھتے ہی ظالم رومنوں نے اپنے خونی برچھے اورمغرور سر، زمین کی طرف جھکا دیے۔  
مارکُس   :     پیاری حنّا۔ جس طرح اکثر لوگ سانپ اور بچھوکا منتر جانتے ہیں، اسی طرح ان رومنوں پر قابو پانے کے لیے میرے پاس بھی ایک طلسم ہے۔  
حنّا : مگر دیکھنا پیارے ۔خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے۔  ؎
                کہیں ایسا نہ ہو، کچھ ان کا اثر ہو جائے
                اس وفا اور محبت کو نظر ہو جائے
مارکُس    : پیاری حنّا۔ اگر کچھ سنانے ہی کو جی چاہتا ہے تو جی بھر کر سنا لو۔ مگر فال بد منھ سے نہ نکالو۔  

(عِزرا کا اندر آنا)

عِزرا      : ظالم، بے دین، یہاں بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ حنّا۔ حنّا۔ 
حنّا        :      حکم پیارے ابّا۔
عِزرا      :       رومنوں کے بادشاہ کی بھتیجی اور ولی عہد سلطنت کی منگیتر شہزادی آکٹیو یا اس طرف سے گذر رہی تھی۔ اتفاقاً ایک ستون سے ٹکرا کر اس کے رتھ کا پہیہ چور چور ہو گیا اور اس کا شاہی غرور اپنی غریب رعیت سے پناہ اور مدد مانگنے کے لیے مجبور ہو گیا۔
مارکُس    :        تو کیا وہ آپ کے یہاں قیام کرنا چاہتی ہے؟
عِزرا      :      ہاں۔ دوسری سواری کے آنے یا پہلی کے درست ہو جانے تک وہ پاک قوم کی لڑکی ایک ناپاک یہودی کے گھر میں ٹھہرنا چاہتی ہے۔  
حنّا        : تو ابا جان جائیے۔ مہمان بن کر آنا چاہتی ہے تو ضرور بلالائیے۔
مارکُس    :  (خود کلامی) آکٹیو یا اور عِزرا کے گھر میں۔ کیا اپنی منگیتر کی موجودگی میں میرا راز راز رہ سکے گا۔ (مخاطب ہو کر) ہاں۔ کیا میں ہٹ جاؤں؟
عِزرا      :       کیوں؟
مارکُس     : شاید شہزادی ایک غیر شخص کی موجودگی پسند نہ کرے۔
عِزرا : ٹھہرو۔ مجھے اس ناخواندہ مہمان کے آنے کے بعد تمھاری مدد کی ضرورت ہوگی۔
(جانا)
مارکُس     :      (خود کلامی)  ؎
چغلیاں کھائے گا گھبراے ہوئے چہرے کا رنگ
کھول دے گی بھید دونوں پر پریشانی مری

(آکٹیویا کا عِزرا کے ساتھ اندر آنا)
آکٹیویا      :    ہاں عِزرا۔ گاڑی کے اتفاقیہ ٹوٹ جانے سے مجھے قدرے تکلیف تو ہوئی تاہم اس تکلیف میں بھی اپنے لیے ایک طرح کی خوشی محسوس کرتی ہوں۔ اگر یہ ناشدنی واقعہ پیش نہ آتا تو مجھے اپنے چچا کی ایک وفادار رعیت کے جوہرپہچاننے اور یہودی قوم کی اخلاقی خوبیوں کو جاننے کا کبھی موقع نہ ملتا۔
عِزرا       :       میں اس نوازش کا ممنون ہوں۔ اگر حضور کے ہم قوم، ہمارے آقا، ہماری جان و مال کے مالک معزز رومن بھی اپنی رعایا کے ساتھ یہی برتاؤ رکھیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی حکومت چاند اور سورج کی عمر پا سکتی ہے۔
آکٹیویا     :         (مارکُس کو دیکھ کر خود کلامی) تعجب، حیرت۔ کس قدر ملتی جلتی صورت۔ ایک قلم کی دو تصویریں۔ یہودی فریم میں رومن تصویر؟
مارکُس     :         (خود کلامی)  ؎
آج توقیر گئی، بات گئی، شان گئی
کچھ بنائے نہ بنے گی، جو وہ پہچان گئی
آکٹیویا     : عِزرا۔ یہ نوجوان شخص کون ہے؟
عِزرا      :      حضور۔ یہ میرے ایک ہم مذہب کی آنکھ کا تارا ہے اور مجھے اولاد سے بھی زیادہ پیارا ہے۔
آکٹیویا     :       کیوں جونا۔کیا یہ چہرہ دیکھنے والے کے دل میں حیرت پیدا نہیں کرتا؟
جونا       :       جی ہاں۔ اگریہ آدمی یہودی کے لباس میں نہ ہوتاتو میں ضرور شہزادہ مارکُس سمجھ کر دو زانو ہو کر اس کے دامن کو بوسہ دیتی۔
عِزرا      :       حضور۔ میں تھوڑی دیر کی غیر حاضری کی معافی چاہتا ہوں۔
آکٹیویا     :  خوشی کے ساتھ۔
مارکُس     :        ضرورت ہو تو میں بھی ساتھ چلوں؟
عِزرا       :       ٹھہرو۔ کیا انگاروں کے فرش پر کھڑے ہو؟

(عِزرا اور حنّا کا جانا)

مارکُس      :      (خود کلامی)  ؎
یہ کہاں سے آ گئی حیران کرنے کے لیے
اور دروازے نہ تھے کیا اس کو مرنے کے لیے
آکٹیویا     :       جونا۔ میں اس نوجوان یہودی سے کچھ گفتگو کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے کہہ کہ میرے نزدیک آئے۔
جونا       :        ذرا قریب آنا بھائی۔
آکٹیویا    :        جونا۔ میں اپنی زندگی میں اس سے زیادہ کبھی حیرت زدہ نہیں ہوئی جتنی آج اس کی اور اپنے پیارے کی ملتی جلتی صورت دیکھ کر ہوئی ہوں۔   ؎
                              دل پوچھ رہا ہے آنکھوں سے، یہ بہتر یا وہ اعلیٰ ہے
                             قدرت نے ایک ہی سانچے میں کیا دو سکّوں کو ڈھالا ہے

(عِزرا اور حنّا کا دوبارہ آنا)

حنّا        :     (خود کلامی)  ؎
آنکھوں میں باتیں ہوتی ہیں ہونٹوں پہ اگرچہ تالا ہے
جس چاند کی میں دیوانی ہوں کیا یہ بھی اسی کا ہالا ہے
عِزرا      :   (خود کلامی)  ؎
اس کے بھی رنگ عجب سے ہیں اس کا بھی طور نرالا ہے
ہے یہ بھی چپ اور یہ بھی چپ کچھ دال میں کالا کالا ہے

(سپاہی کا آنا)
سپاہی : حضور عالیہ۔ سواری تیار ہے۔ صرف حضور کا انتظار ہے۔
آکٹیویا      :      اچھا عِزرا۔ میں نے تمھیں بہت تکلیف دی۔ اگر پھر کبھی اس طرف سے گذری تو ضرور تم سے ملنے کی خوشی حاصل کروں گی۔ 
عِزرا : حضور کی رعیت نوازی سے مجھے ایسی ہی امیدہے۔

(آکٹیویا،جونا اور سپاہی کا جانا)

مارکُس : (خود کلامی)  ؎
میں تو سمجھا تھا، کہ پوری آج رسوائی ہوئی
خیر گذری، ٹل گئی، سر سے بلا آئی ہوئی
حنّا          :    یہ شہزادی تم سے واقف ہے؟
مارکُس      : اتنا ہی جتنا وہ تم سے واقف ہے۔
حنّا          :    ہوں۔ اس روز رومن سرداروں کا یک بیک تمھارے آگے جھک جانا، آج شہزادی آکٹیویا کا تمھیں دیکھ کرحیرت میں آنا ظاہر کرتاہے کہ تم پر اندھا بھروسا عقل کا قصور ہے۔ تمھارا رومنوں سے کوئی نہ کوئی پوشیدہ تعلق ضرور ہے۔
مارکُس      :   پیاری حنّا۔ اس بات کا جواب دینے کی نہ مجھ میں جرأت ہے اور نہ میں اس کی ابھی ضرورت سمجھتا ہوں۔  
(دونوں کا جانا)

پہلاایکٹ—آٹھواں سین

باغ

(مارکُس اور حنّا کا باتیں کرتے دکھائی دینا)

حنّا : بس بس۔ میں اب تشویش اور خوف کی حالت میں ا یک نامعلوم مدت تک رہنا نہیں چاہتی۔
مارکُس   : دماغ خیال کا اور خیال لفظوں کا ساتھ نہیں دیتے۔ مجھے جواب دینے کے لیے کچھ مدت دو۔
14
حنّا : بس آج ہی یا کبھی نہیں۔ میرا دل اس کانٹے کی چھبن کو زیادہ برداشت نہیں کرسکتا۔  ؎
یہ رنج جائے یہ تکلیف و اضطراب مٹے
کہو کہو کہ کسی طرح یہ عذاب مٹے
مارکُس   :     تو پیاری حنّا۔ حقیقت کے چہرے سے نقاب دور ہوتی ہے دیکھو اصلیت کی بھیانک شکل دیکھ کر خوفزدہ نہ ہونا۔نفرت نہ کرنا ۔میں آج تک یہودی کے لباس میں ایک دھوکے باز عاشق کا پارٹ کررہا تھا۔آہ کہنے کی جرأ ت نہیں ہوتی۔ اچھا سنو سچ یہ ہے کہ ۔   ؎
ہر اک گمان الگ ہے ہر اک یقین الگ 
تمھارا دین الگ ہے ہمارا دین الگ
حنّا      :    تو کیا تم ہمارے ہم مذہب نہیں ہو؟
مارکُس  :    نہیں ۔میں تمھارے مذہب کے دشمنوں کی ڈالی ہوئی بنیاد ہوں۔یعنی رومن خون اور رومن باپ کی اولاد ہوں۔
حنّا      : تم یہودی نہیں ہو ؟
مارکُس  :     نہیں۔
حنّا      : تو پھر تمھیں یہودی بننے کو کس نے کہا؟
مارکُس  : تمھاری محبت نے ۔
حنّا      :      بس بے درد بس! ایک دغا باز رومن ایک معصوم یہودی لڑکی کے چہرے کی طرف دیکھنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ 
مارکُس  : تو کیا تم میری مجبوریوں کا خیال کرکے میرا گناہ نہیں معاف کرسکتیں؟
حنّا      :        نہیں۔
مارکُس  :       تو کیا اپنا دل مجھ سے پھیر لوگی؟
حنّا      :     آہ کاش یہ ممکن ہوتا۔مگر نہیں سب کچھ ہوسکتا ہے ۔یہی نہیں ہوسکتا ۔   

(عِزرا کا آنا اور چھُپ کر دونوں کی باتیں سننا)

مارکُس   :       تو پھر میرے ہاتھ میں ہاتھ دینے سے کیوں انکار ہے؟
حنّا       :      اس لیے کہ اس دل پر میرا قبضہ ہے مگر اس ہاتھ پر میرے باپ کا اختیار ہے۔
مارکُس   :       اگر تمھیں انکار ہے تو پھر میرا اس دنیا میں جینا بیکار ہے۔ 

 ( اپنے آپ کو خنجر مارنے کی کوشش کرتا ہے)

حنّا       :     ٹھہرو۔ پیارے ٹھہرو۔
 مارکُس  : بس ہاں یا نہیں۔ ایک لفظ
حنّا       :     تھوڑی دیر۔ غور کرنے کے لیے، تھوڑی دیر۔
مارکُس   :     ایک منٹ نہیں۔
حنّا       :   آہ۔۔۔
مارکُس   :  بس کہو کہ مجھے منظور ہے۔
حنّا       :  لے چل خوبصورت جادوگر، لے چل۔ حنّا اس دل سے مجبور ہے۔
تیری ہوں، تیرے ساتھ ہوں، دیتی ہوں زباں میں 
اب سایہ کے مانند جہاں تو ہے وہاں میں

(دونوں جانا چاہتے ہیں کہ عِزر ا سامنے آجاتا ہے)

عزِرا    : ٹھہرو۔ کہاں جاتے ہو؟ کہا ں بھاگ کر چھُپنا چاہتے ہو؟  
حنّا      :     رحم۔ پیارے ابا ہم گہنگاروں پر رحم۔
عزِرا    :     رحم۔ ایسے نابکار پر؟ رحم تجھ جیسی ناہنجار پر؟ کیا اسی دن کے لیے میں نے تجھے پالا تھا؟ اور کیوں او رومن قوم کے نجس کتے۔ جس نے ہمیشہ محبت سے تیری پیٹھ کوتھپتھپایا۔ جس نے تجھے شریف اور وفادار سمجھ کر تیرے منھ پر ٹھو کر مارنے کے بدلے تجھے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھایا۔ اسی محسن کے کلیجے میں اپنے زہریلے دانت گڑونے کے لیے تیار ہوا۔  
حنّا      :      ابا۔ پیارے ابا۔ بے شک ہم دونوں محبت کرنے کے مجرم ہیں مگر ہمارا جرم گناہ کی آلودگی سے پاک ہے۔ اس لیے ہم سے نفرت کرنا انصاف کے خلاف ہے۔
مارکُس  :   ؎
ہے پاک گناہوں سے ہماری یہ خطا بھی
غارت ہوں، اگر ہم کو بدی نے ہو چھوا بھی
ہم چشمہ الفت میں ہیں مانند کنول کے
جو پانی کے اندر بھی ہے پانی سے جدا بھی
عزِرا     : تو کیا تم محبت کرنے کے سوا اور ہر طرح بے قصور ہو۔ چاند کی طرح اس زمین کی برائیوں سے دور ہو؟
مارکُس   :   ہاں بزرگ عِزرا۔ ایسا ہی ہے۔   
عزِرا     :   افسوس۔ میں نے کیا سوچ رکھا تھا اور یہاں کیا واقعہ روبہ کار ہے۔ سچ ہے جس طرح دریا کی رو کے سامنے ایک تنکا بے بس ہے۔ اسی طرح تقدیر کے آگے تدبیر ناچار ہے۔   
حنّا       :    ابا۔ پیارے ابا۔
عزِرا     : تو کیاتم اسے عزیز رکھو گے؟
مارکُس    : اپنی جان کی طرح۔
عزِرا      :    اچھا تو میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں اور خوشی سے اس کا ہاتھ تمھارے ہاتھ میں دیتا ہوں آگے بڑھو۔ دو زانو ہو—نہیں سنا۔ دو زانو ہو۔
مارکُس    : کیا آپ مجھ سے کوئی مزید اقرار کرانا چاہتے ہیں؟
 عزِرا     : ہاں۔ بغیر مذہب بدلے۔ ایک رومن، یہودی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا ۔ اس لیے سب سے پیش تر تمھیں اسرائیلی عقائد کی تعلیم دے کر اپنے مذہب میں لاؤں گا اور پھر موسوی شریعت کے مطابق تم دونوں کا ہاتھ ملا کر باپ کے فرض سے ادا ہو جاؤں گا۔
مارکُس     :      ؎
کس کو چاہوں، کس کو چھوڑوں، کشمکش میں جان ہے
اک طرف یہ حور ہے اور اک طرف ایمان ہے
عزِرا      :   جواب دو۔ کیا خیال ہے؟
مارکُس    :    میں حنّا کوچھوڑ سکتاہوں مگر اپنا مذہب چھوڑنا محال ہے۔
عزِرا      : توپھر نہیں؟
مارکُس    :     نہیں۔
عزِرا      :     تب کیا۔ رومن قوم کے ذلیل کتے۔ کیا تو معصومیت کے معبد میں گناہوں کی بدبو پھیلانے، فسق وفجور کا جال بچھا کر ایک بھولی بھالی لڑکی کو حرام کاری کا راستہ بتانے آیا تھا۔  
حنّا        : پیارے۔ میرے پیارے۔ یہ کیا؟  ؎
ہم وہی اور تم وہی پھر یک بیک کیا ہو گیا
با وفا دل آج کیوں بے درد ایسا ہو گیا
مارکُس    :    حنّا۔ میری قوت فیصلہ بیکار ہو گئی۔ میرے چاروں طرف تاریکی چھا گئی۔ اب مجھے جانے دو۔ 
(پردہ)

دوسرا ایکٹ – پہلا سین

شاہی محل

(مارکُس اور آکٹیویا کا آنا)

مارکُس     :     پیاری آکٹیویا۔ احمق، شرابی اور پاگل، ان میں سے کوئی جرم کرے تو در گذر کی جا سکتی ہے مگر جس گناہ میں عقل تمیز اور ارادہ شامل ہو اس سے چشم پوشی نہیں ہو سکتی۔ میں کس منھ سے معذرت پیش کروں؟  
آکٹیویا     :     میرے دل کے مالک۔ انسان اور غلطی ایک ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ جو گناہ نہیں کرتا وہ بے شک سزاوار توصیف ہے۔ مگر جو گناہ کرکے نادم ہوتا ہے اور تلافی کرتا ہے وہ اس سے بھی زیادہ قابلِ تعریف ہے۔
مارکُس     :     تب تم میری گذشتہ بے اعتنائیوں کو معاف کرتی ہو؟
آکٹیویا      :  میرے پیارے بار بار معافی کا لفظ دُہرا کر مجھے کیوں شرمندہ کرتے ہو؟  

(آکٹیویا کا جانا)

مارکُس : (خود کلامی) دغاباز مارکُس۔ بے وفا رومن۔ تو کتنا ذلیل شخص ہے؟ کہ زبان سے آکٹیویا کے ساتھ محبت کا اظہار کر رہا ہے۔ مگر تیرا دل ابھی تک حنّا کو پیار کر رہا ہے۔ کیا ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ کرے گا؟ کیا ایک شریف یہودن کی زندگی اور اس رومن شہزادی کا بھی حال و مستقبل تباہ کرے گا؟  

(جانا چاہتا ہے کہ حنّا آتی ہے)

15
حنّا      :   ٹھہرو۔    ؎
جاتے کہاں ہو مجھ کو ٹھکانے لگا کے جاؤ
مارا ہے جس کو اس کا جنازہ اٹھا کے جاؤ
مارکُس   : حنّا۔ تم اور یہاں؟
حنّا       :     ہاں۔
مارکُس   : کیوں آئیں۔ کس کے پاس آئیں؟
حنّاّ       :     اپنے صیاد کے پاس۔قتل کرکے بھول جانے والے جلاد کے پاس۔  
مارکُس   : حنّا۔ تم آج سے پہلے مجھے کیا سمجھتی تھیں؟
حنّا       : ایک نیک یہودی۔
مارکُس   :      اور اب کیا سمجھتی ہو؟
حنّا       :      ایک بے وفا رومن۔
مارکُس   : لیکن میں نہ وہ تھا نہ یہ ہوں۔
حنّا       :        تو پھر۔
مارکُس   :  میں سلطنت روم کا ولی عہد یعنی اس ملک کا ہونے والا شہریار ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنا مذہب تبدیل کرنے سے لاچار ہوں۔
حنّا       :     تم ولی عہد ہو؟ اس ملک کے ہونے والے بادشاہ ہو؟
مارکُس   : ہاں۔ اب تم ہی منصف ہو۔ اگر میں تمھارے باپ کی شرط منظور کر لیتا تو مجھے مذہب کے ساتھ سلطنت کی امید بھی چھوڑ دینی پڑتی۔
حنّا       :    تو کیا سلطنت سچی محبت سے زیادہ قیمتی ہے۔ شاہی تخت عورت کے پاک دل سے زیادہ مقدس ہے۔ غلاموں اور درباریوں کا شور تنہائی میں گونجتی ہوئی پیار کی راگنی سے زیادہ میٹھا ہے۔شہزادے صاحب۔ اگر مرد کو دنیا میں عورت کی سچی محبت مل جائے تو اسے سلطنت کیا بہشت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
مارکُس    : جو ہو چکا اُس کا باعث مجبوری ہو یا بھول لیکن اب میں دوبارہ وہ خواب نہیں دیکھ سکتا۔
حنّا        :    کیوں؟
مارکُس    :     کیونکہ کل شہزادی آکٹیویا سے میری شادی ہونے والی ہے۔ 
حنّا        :     شادی؟
مارکُس    :    ہاں۔
حنّا        : کان مجھے دھوکا تو نہیں دیتے ، اپنے لفظوں کو پھر دہراؤ۔ شہزادی آکٹیویا سے تمھاری شادی ہوگی؟
مارکُس    : ہاں۔ ہاں۔
حنّا        :   ظالم بے درد۔ تو کیا اسے بھی اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر مجھ ناشاد و نا مراد کی طرح اُس غریب کی جوانی اور زندگی کو بھی خاک میں ملانا چاہتا ہے۔ اُس منحوس دن کا سورج کبھی طلوع نہ ہوگا میں تیرے بھولے شکار کو ہوشیار کر دوں گی کہ تو فریبی ہے، جھوٹا ہے، دغاباز ہے۔ یہ شادی ایک عورت کی زندگی کا انجام اور دوسری عورت کی تباہی کا آغاز ہے۔
مارکُس    :    مگر یہ شادی کل کے دن مقرر ہو چکی ہے اور کل کا دن مقدر کے فیصلے کی طرح اٹل ہے۔
حنّا        :   تو مقدر کا یہ فیصلہ ہے کہ یہ شادی ہر گز نہ ہوگی۔
مارکُس    :     یہ ناممکن ہے۔
حنّا        :     اگر یہ ناممکن ہے تو میں یہ سمجھوں گی کہ ظالموں اور موذیوں کے لیے میدان صاف ہے۔ روم میں نہ کوئی بادشاہ ہے ، نہ قانون ہے، نہ انصاف ہے۔   ؎
باطن میں بزدلے ہیں بظاہر دلیر ہیں
یہ دور سے ڈرانے کو مٹی کے شیر ہیں
مارکُس : ہُشت۔
(جانا)

دوسرا ایکٹ–دوسرا سین

دربار

(سہیلیوں کا ناچتے گاتے دکھائی دینا)

16
چوبدار      :   دولت و اقبال پائندہ، رعایائے روم کے رواج قدیم کے مطابق اس شہر کا مشہور سوداگر عِزرا یہودی اپنی قوم کی  طرف سے عقیدت مندانہ نذرانہ پیش کرنے کے لیے حاضر ہوا ہے اور عالی مرتبت شہزادی سے شرفِ حضوری کی اجازت چاہتا ہے۔
آکٹیویا : کون آیا ہے؟ عِزرا۔ وہ یہودیوں میں سب سے زیادہ شریف و معزز بوڑھا۔ میں اسے دیکھ کر ضرور خوش ہوں گی۔ حاضر کرو۔
بروٹس      :    (خود کلامی) دیوتا خیر کریں۔ یہ نحوست کی نشانی، مصیبت کا پیش خیمہ اس ہنسی خوشی کے جلسے میں کہاں سے نازل ہوا؟ (مخاطب ہو کر) شہزادی رواج کی سرپرستی جلسے سے باہر بھی ہو سکتی ہے۔ حکم دیجیے کہ نذرانہ لے کر اس نامبارک عبرانی کو دروازے ہی سے واپس کر دیا جائے۔
آکٹیویا : بزرگ باپ۔ ایک بے ضرر یہودی سے اتنی نفرت؟ کیا وہ کوئی چور یا خونی ہے؟
بروٹس      : وہ ایک کافر نعمت۔ سنگ دل۔ زر پرست۔ دیوتاؤں کی راندہ اور دنیا کی مردود کی ہوئی قوم کا ایک شخص ہے۔ اس لیے اس مبارک جلسے میں اس کا شریک ہونا سخت بدشگونی ہے۔
آکٹیویا       :    مگر اُس کی موجودگی سے ہمارا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟
بروٹس      :   راتوں کو ایک کونے میں بیٹھ کر رونے والا کتا کیا نقصان پہنچاتا ہے جو فوراً محلہ سے مار کر بھگا دیا جاتا ہے۔ مکان کی چھت پر بیٹھ کر غم زدہ آواز میں بولنے والا اُلّو کیا تکلیف دیتا ہے جو فوراً بانس اور ڈھیلوں سے اڑا دیا جاتا ہے۔جس طرح یہ دونوں اپنی موجودگی سے نحوست پھیلاتے ہیں اسی طرح یہ نجس یہودی بھی جہاں جاتے ہیں کوئی نہ کوئی مصیبت ضرورساتھ لے جاتے ہیں۔

(عِزرا کا داخلہ)

آکٹیویا : عِزرا۔ خوش آمدید۔ تمھیں اس خوشی کے جلسے میں دیکھ کر مجھے بڑی مسرت ہوئی۔
عِزرا        :   معزز شہزادی۔ سلطنت آپ کے گھر میں موجود ہے۔ زریں لباس آپ کے توشہ خانے میں بھرے پڑے ہیں۔   زر و جواہر آپ کی ٹھوکروں میں کھیلتے پھرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس کی آپ کو پرواہ  و ضرورت ہو۔ اس لیے میں اپنی اور اپنے قوم کی طرف سے ان کے دلوں کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دعاؤںکا لازوال تحفہ پیش کرتا ہوں۔اسے قبول فرمائیے۔
آکٹیویا : میں اس تحفے کو تمام دنیا کے خزانوں سے زیادہ قیمتی سمجھتی ہوں۔ 
عِزرا        :    اس فراخ مشربی و بے تعصبی کے صلے میں اُس آسمانی خدا کی بہترین برکتیں آپ پر سایہ گستر ہوں— اور اُس ملعون رومن پر جس نے میری بھولی بچی کی راحت و زندگی تباہ کردی، بدترین عذاب نازل ہو۔
بروٹس      :      عزیز شہزادی۔ اگر اس نجس یہودی کی موجودگی ضروری ہے تو پہلے اسے مندر میں بھیج کر پاک بنایا جائے۔ اس کے بعد شادی کے جلسے میں بلایا جائے اور شرکائے جلسہ کی روحیں اس کی پرچھائیں پڑنے سے گندی نہ ہو جائیں،اس لیے احتیاطاً دور بٹھایا جائے۔
سردار1     :      ناعاقبت اندیش یہودی خاموش رہ۔ کیا زندگی سے ناامید ہے؟(بروٹس سے مخاطب ہوکر) بزرگ باپ۔ ایک فرسودہ حواس بوڑھے کو اپنا مخاطب بنانا آپ کے رتبہ اور شان سے بعیدہے۔
بادشاہ      :       میں بھی اس رائے کو پسند کرکے آپ کو اس کی احمقانہ جرأت سے چشم پوشی کرنے اور اس یہودی کو خاموش رہنے کا حکم دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ اٹھیے اور میرے عزیز بچوں کو شادی کی برکت دیجیے۔

(بروٹس کا اٹھ کر مارکُس اور آکٹیویا کا ہاتھ ملانا)

بروٹس ــ:      ؎
خوش اور ایک دوسرے پر مہرباں رہو
دنیا میں بامراد رہو شادماں رہو

(حنّا کا آنا)
حنّا : ٹھہرو۔ جب تک انصاف کی عدالت میں بادشاہ عادل کے روبرو ایک باوفا کی عرضی پیش ہوکر دغابازی کے مقدمے کا فیصلہ نہ ہولے۔ اُس وقت تک ٹھہرو۔
بادشاہ   : یہ کون؟
بروٹس  : تو کون؟
مارکُس   :       (خود کلامی)   ؎
باعثِ تکلیف راحت میں گراں جانی ہوئی
سن رہا ہوں صاف اک آواز پہچانی ہوئی
عِزرا     :      حنّا۔ تو یہاں کیوں آئی؟
حنّا : انصاف کے لیے۔
عِزرا     : کیا تجھے یقین ہے کہ ایک رومن شہزادے کے برخلاف ایک یہودی لڑکی کی فریاد سنی جائے گی؟
حنّا       :     اگر اس دربار کا دعویٰ ہے کہ یہاں امیر و غریب دونوں کا یکساں انصاف ہوتا ہے تو اس دعوے کی شرم رکھنے کے لیے اسے میری فریاد سننی پڑے گی۔
بادشاہ    :    اجنبی لڑکی۔ صاف لفظوں میں حال بیان کر۔ اگر تو مظلوم ہے تو تیرا حریف چاہے شاہی نسل ہی کا آدمی کیوں نہ ہو مگر انصاف ضرور تیری طرفداری کرے گا۔ بول۔ کس کی ستائی ہے؟ اور کس کے خلاف فریاد لائی ہے؟
حنّا       :     مجھے ستانے والا، دین و دنیا سے مٹانے والا۔  ؎
جفا پیشہ، وفا دشمن، ستم گر کون ہے؟ یہ ہے
شکایت جس کی کرتا ہے مقدر کون ہے؟ یہ ہے
آکٹیویا    :  کون؟ شہزادہ مارکُس؟
بادشاہ    :    ولی عہدِ سلطنت؟
حنّا : یہی، یہی۔  
بادشاہ    :   مارکُس۔ سنتا ہے؟ اس الزام کا تیرے پاس کیا جواب ہے؟ 
مارکُس    :     ؎
ستائی گئی ہے، بُرا کہہ رہی ہے
یہ جو کہہ رہی ہے بجا کہہ رہی ہے
آکٹیویا     :   دیوانی عورت۔ الزام لگانے سے پہلے انجام سوچ لے۔
حنّا        :    بچئے۔ بچیے۔ شہزادی صاحبہ ۔اس خوبصورت سانپ کے زہر سے بچیے۔  
آکٹیویا     :    بس بس خاموش۔ میں اپنے پیارے کی نسبت ایسا کوئی لفظ سننا نہیں چاہتی جس سے اس کی توہین ہو۔
حنّا         : شہزادی۔   ؎
سراسر مکر، سرتاپا دغا، نا آشنا ہے یہ
مری آنکھوں سے دیکھو تم تو ہو معلوم کیا ہے یہ
کنواری رہنا بہتر جانیے اس عقد ہونے سے
وفا کی ہے عبث اُمّید مٹی کے کھلونے سے
بروٹس      : عالم پناہ اگر میری نصیحت قبول فرمائیں تو میں یہ کہوں گا کہ عورت کے بیان پر کبھی یقین نہ کرنا چاہیے۔
عِزرا         :  سر یر آراے عدالت، سلطنت کا ایک معزز رکن ہو کر انصاف کے راستے میں روڑا اٹکانا، دباؤ ڈال کر شاہی انصاف اور شاہی رائے کو ایک مظلوم فریادی کے خلاف بنانا کیا ان جیسےمقدس اور مذہبی پیشوا کو سزاوار ہے۔ کیا سلطانِ عادل کا انصاف مظلوموں کا سر پرست ہونے کے بدلے ظالموں کا طرفدار ہے؟
بادشاہ       :    نہیں عبرانی کبھی نہیں۔ جس طرح آفتاب کی روشنی، امیر کے محل اور غریب کے جھونپڑے میں کوئی فرق نہیں کرتی اسی طرح میں بھی انصاف کے وقت ادنیٰ اور اعلیٰ سب کویکساں جانتا ہوں۔ اپنی ذمہ داری اور اپنا فرض اچھی طرح پہچانتا ہوں۔
عِزرا         :    بس تو پھر جھگڑا صاف ہے۔ آج کے روز آپ کے لیے صرف ایک ہی کام ہے اور وہ ان دونوں کا انصاف ہے۔
بادشاہ        :   میں انصاف کو استعمال کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت صرف کر دوں گا۔ 
حنّا           :    خدا آپ کو مظلوموں کی حفاظت کے لیے قیامت تک زندہ رکھے۔ فرمائیے۔ آپ کی رعایا میں سے اگر کوئی شخص شادی کا وعدہ کرکے کسی عورت کو اپنی محبت میں گرفتار کرے اوراسے چھوڑ کر کسی دوسری عورت کو اپنی دغابازی کا شکار کرے تو حضورِ والا کا قانون اس کے لیے کیا سزا تجویز کرتا ہے؟ 
بادشاہ       :   موت۔ بغیر رحم کے موت۔
عِزرا        : بس تو ہو چکا ۔ فیصلہ ہو چکا۔ آپ شاہی نام کی عزت ہیں۔ تختِ سلطنت کے اہل ہیں۔ قلم اٹھائیے اور ولی عہد کے سزاے موت کے کاغذ پر دستخط فرمائیے۔
بادشاہ      :     مگر مجھے پہلے اس کا گناہ تو معلوم ہونا چاہیے؟
حنّا         :      یہ آپ کی عزت اور شہرت کو برباد کرنے والا، اس ملک کی غریب لڑکیوں کے سر پر تباہی لا رہا ہے۔ اس نے شادی کا وعدہ کرکے پہلے مجھے دھوکا دیا اور اب شہزادی آکٹیویا کو اپنی پُر فریب محبت کے پھندے میں پھنسا رہا ہے۔  
بادشاہ      : مارکُس۔ سنتا ہے؟ اٹھ کھڑا ہو۔ اس کا جواب دے۔ ورنہ بدترین قسم کی سزائے موت تیرے لیے تیار ہے۔
مارکُس      :   بے شک غلام اس کا خطاوار ہے اور عاجزی کے ساتھ حضور والا سے رحم کا امیدوار ہے۔
بادشاہ       :     رحم یہ کر سکتی ہے میں نہیں کر سکتا۔
بروٹس      :  خاقانِ عالم۔
بادشاہ       :    بس۔
بروٹس      :      عالی جاہ۔
بادشاہ : کچھ نہیں۔
بروٹس      : یہ نہ ہونا چاہیے۔
بادشاہ       :     یہ ضرور ہوگا۔
بروٹس      :    میری یہ عرض ہے کہ قانون گمراہوں کے واسطے ہے نہ کہ بادشاہوں کے واسطے۔
 بادشاہ      :       مگر انصاف کی تلوار آقا اور غلام دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔  
بروٹس      :   عشق کا جوش ایک طرح کا جنون ہوتا ہے۔
حنّا           :   تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ امیروں کے سر تو تاج زر کے لیے ہیں اور غریبوں کے سر امیروں کی ٹھوکروں کے لیے ہیں۔
بروٹس : بے شک۔
عِزرا         :     واہ رے مذہب۔ اور واہ رے مذہبی پیشوا۔   ؎
تمھارا غم ہے غم، مفلس کا غم بس اک کہانی ہے
تمھارا عیش ہے عیش اور ہمارا عیش فانی ہے
یہاں بچپن بڑھایا واں بڑھاپا بھی جوانی ہے
تمھارا خون ہے خون اور ہمارا خون پانی ہے
یہ نخوت اور یہ زر کیا لے کے اپنے ساتھ جائے گا
یہیں رہ جائے گا سب یاں سے خالی ہاتھ جائے گا
حنّا : عادل سلطان۔ اب مجھے انصاف ملنے میں کیا دیر ہے؟ اگر آپ نے ابھی تک نہ سنا ہو تو میں اس سے بھی زیادہ   بلند آواز سے انصاف پکار سکتی ہوں۔
بادشاہ   :    اُف کیا کروں اور کیا نہ کروں؟
عِزرا    : عادل بادشاہ۔ کیا بیٹے کی محبت اورانصاف میں جنگ ہو رہی ہے؟ 
بادشاہ   : ہاں۔ مگر فتح انصاف ہی کو ملے گی۔
حنّا      :     تو پھر انصاف ملنا چاہیے۔
بادشاہ   :    ضرور ملے گا۔
حنّا       : آپ سے؟
بادشاہ    :   ہاں مجھ سے۔
حنّا       :   کہاں؟
بادشاہ   :     یہاں۔
حنّا      :      کب؟
بادشاہ   :   اسی وقت۔ بڑھو اے شاہی حکم کے پرستارو۔ اس ناخلف کو حراست میں لے لو اور کل مذہبی عدالت میں انصاف  کے لیے پیش کرو۔
بروٹس   :  حضور والا۔
بادشاہ    : خبر دار۔جو ایک لفظ بھی زبان سے نکالا۔
(موسیقی)

دوسرا ایکٹ–چوتھا سین

محل

(آکٹیویا کا آنا)

آکٹیویا : میری پیاری بہن، اتنی سخت نہ بن۔ نرمی اور رحم جو عورت کی بہترین صفتیں ہیں، ان کو غصے پر قربان نہ کر۔ بُرے کے ساتھ تو بھی بُری نہ بن۔  
حنّا          : نہیں ہر گز نہیں۔ اب اس کے لیے ایک سوئی کی نوک کے برابر بھی میرے دل میں جگہ نہیں ہے۔
آکٹیویا       :      دیکھو میں بھی تمھاری طرح ایک عورت ہوں اور معزز قوم کی عورت ہوں۔ ساتھ ہی ایک بادشاہ کی بیٹی اور دوسرے بادشاہ کی بھتیجی ہوں مگر اس پر بھی اس کی زندگی بھیک میں پانے کے لیے ایک فقیرنی کی طرح تمھارے سامنے دامن پھیلاتی ہوں۔  
حنّا           : بچاؤں گی۔ بچاؤں گی۔ جب تم اور یہ دل دونوں اس کی طرفداری کرتے ہیں، تو ضرور بچاؤں گی۔   ؎

                                                            جاؤ اور کہہ دو وفا کی شرط پوری کر گئی

                                                             تم رہو جیتے کہ تم پر مرنے والی مر گئی

دوسرا ایکٹ —پانچواں سین

مذہبی عدالت

 (مارکُس اور حنّاکا الگ الگ کٹھ گھروں میں کھڑے دکھائی دینا ایک طرف عِزرا اوردوسری طرف آکٹیویا کا 
بیٹھے ہوئے نظر آنا۔ بروٹس کا اجلاس کی کرسی پر بیٹھنا۔ چند سپاہیوں کا حنّا اور مارکُس کو اپنی حراست میں لینا)
17
بروٹس : حنّا تو ہوش میں ہے؟
حنّا           : ہاں۔
بروٹس       :   تجھ پر کوئی دباؤ تو نہیں ڈالا گیا؟
حنّا            :  نہیں۔
بروٹس        :  تو بنا جبرو اکراہ اپنا پہلا بیان واپس لیتی ہے؟
حنّا            :  بیشک
عِزرا          :     حنّا۔ حنّا۔ کیوں محبت میں اندھی بن رہی ہے؟
حنّا            :    اس لیے کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
عِزرا          : کیوں اپنے ہاتھوں سے قبر تیار کررہی ہے؟
حنّا            :    اس لیے کہ قبر میں جاؤں گی تو ایک بے وفا کے ظلم سے نجات پاؤں گی۔
عِزرا          :     عدالت اس کی باتوں کا یقین نہ کرے۔ یقینا اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
بروٹس : حنّا۔ میںروم کے قانون کے مطابق تجھ سے تیسری مرتبہ دریافت کرتا ہوں کہ تو شہزادہ مارکُس پر لگائے ہوے تمام الزامات واپس لیتی ہے؟
حنّا           :      ہاں۔ لفظ بہ لفظ
عِزرا         :   آہ  
بروٹس       :    یہودی۔ چونکہ تم بھی اس دعوے میں تائید کرنے والے تھے اس لیے اب تم کیا کہتے ہو؟
عِزرا         :      جس قدر افریقہ کے بیابان میں ریت کے ذرے ہیں ان سے بھی زیادہ میرے پاس بولنے کے لیے الفاظ تھے لیکن اس ناعاقبت اندیش چھوکری کی وجہ سے میں اب کچھ کہنا نہیں چاہتا اور قسمت کے فیصلے کے سامنے سر جھکاتاہوں ۔
بروٹس       :    تواب میرا صرف اتنا فرض رہ گیا ہے کہ اپنا آخری حکم سنادوں۔۔۔۔ شہزادہ مارکُس آپ کو عزت وآبرو کے ساتھ رہا کیا جاتا ہے۔۔۔ اور حنّا اورعِزرا، تمھیں ایک رومن شہزادے پر جھوٹا الزام لگانے کے جرم میں زندہ آگ میںجلائے جانے کی سزاد ی جاتی ہے۔
حنّا           :     سزا۔ کس کو؟ مجھ کویا میرے باپ کو؟
بروٹس : دونوں کو۔
حنّا           :     مگریہ انصاف کے خلاف ہے۔
بروٹس : میرا یہ فیصلہ مطابق انصاف ہے۔
حنّا           :    ارے نہیں نہیں۔   
بروٹس : قانون اپنے فیصلے میں کسی ترمیم کی گنجائش نہیں دیکھتا۔۔۔ جاؤ اور اپنی قسمت کے موجودہ فیصلے کو صبر کے ساتھ برداشت کرو۔
مارکُس : بزرگ باپ اپنے شہزادے اور اس ملک کے ہونے والے بادشاہ پر ایک عنایت۔
بروٹس : کیا؟
مارکُس       :   تھوڑی شفقت۔
بروٹس : یعنی؟
مارکُس       :   اپنی طاقت اور اثر کو کام میں لائیے۔ جس طرح ممکن ہوان دونوں کی جان بچائیے۔
بروٹس : مگر عدالت؟
مارکُس : وہ آپ کے قبضے میں ہے۔
بروٹس       :     قانون؟
مارکُس : وہ آپ کا حکم ہے۔
بروٹس      :   موجودہ فیصلہ؟
مارکُس       :     وہ آپ کی رائے ہے۔
بروٹس      :     بادشاہ کی مرضی؟
مارکُس : وہ آپ کی مٹھی میں ہے۔
بروٹس      :      اپنے فیصلے کی آخری سطریں لکھتے وقت جب میں نے اس یہودی دو شیزہ کے بھولے چہرے کی طرف دیکھا تھا تو ایک نامعلوم جذبے کے اثر سے میری انگلیاں تھرتھرانے لگی تھیں اور اب بھی جب کہ یہ موت کی طرف جارہی ہے۔ اپنی روح میںایک عجیب ولولہ اورا ضطراب محسوس کررہا ہوں۔۔۔ اچھا آپ جائیے۔ مجھ سے جو ممکن ہوگا وہ کروں گا۔
مارکُس :    تومیں ان دونوں کی زندگی آپ کو بطور امانت کے سپرد کرتا ہوں۔
بروٹس : میں کوشش کروںگا کہ دیانت دار امین ثابت ہوں (مارکُس جاتا ہے) حنّا تم اپنے باپ کو پیار کرتی ہو؟
حنّا           :     اپنے مذہب کی طرح۔
بروٹس : اولاد کے لیے ماں باپ اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں؟
عِزرا         : یقینا
بروٹس       :    تو اولاد کی سلامتی کے لیے تمھیں روایت پرستی کے عقائد کونثار کرنا ہوگا ۔ جان بچانا چاہتے ہو تو اپنے بزرگوں کا مذہب چھوڑ کر تم دونوں کورومن دین اختیار کرنا ہوگا۔
عِزرا         :  فکر، دکھ، بیماری اور بڑھاپے کے بوجھ کے نیچے دبی ہوئی زندگی کی قیمت، مذہب سے ادا کروں؟ اس چند روزہ دنیا کے لیے ابراہیم اورموسیٰ کے خدا سے دغا کروں؟  
بروٹس : میں نے تیری قوم کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ اسی کی مستحق تھی مگر اب میری رحم دلی دیکھ کہ تجھے سراسر مجرم پاتا ہوں اور پھر بھی تیری جان بچاتا ہوں۔
عِزرا         :    جان۔ جان کی اب مجھے کوئی پروا نہیں۔ البتہ اتنی آرزو ہے کہ مرنے سے پہلے، ایک قاتل، پرفن، بے رحم رومن کا سب کس بل نکال دوں۔ ا س کے پتھر جیسے کلیجے میں چٹکیاں لے لے کر سوراخ ڈال دوں۔  
بروٹس : میں تجھے سخت بیوقوف پا تاہوں۔
عِزرا         :      میں تجھے آج سے سولہ برس پہلے کا واقعہ یاد دلاتا ہوں۔ جس وقت شاہ نیرو کے حکم سے شہر روما میںچاروں طرف آگ بھڑک رہی تھی، اُس وقت تیرے گھر میں ایک خوبصورت بیوی اوراس کی گود میں ایک چھ ماہ کی بچی تھی۔
بروٹس : اس بات کی یاد دلانے سے تیری مراد کیا ہے؟
عِزرا         : میں پوچھتا ہوں کہ ان دونوں کے آگ میں جل جانے کا واقعہ تو تجھے یاد ہے؟
بروٹس       :      ہاں۔ میںاُس منحوس دن کو، جس روز موت نے میری بیوی اور بچی کو مجھ سے چھین لیا، کبھی نہیں بھول سکتا۔  
عِزرا         :        نیرو کی آگ تیری بیوی کے لیے آتشیں کفن ثابت ہوئی مگر اس کے سینے سے لپٹی ہوئی تمھاری چھ ماہ کی معصوم بچی،  جو مردہ لاش پر قدرت کی آنکھ سے ٹپکا ہوا افسوس کا آنسومعلوم پڑتی تھی۔۔۔۔۔
بروٹس : کیا وہ زندہ رہی؟
عِزرا         :       ہاں۔
بروٹس       : اور ابھی تک زندہ ہے؟
عِزرا         : ہاں
بروٹس       :      اسے کس نے بچایا؟
عِزرا         : خدا کی ذات نے
بروٹس       : کس نے آگ سے نکالا؟
عِزرا          :     نہیں بتا سکتا۔
بروٹس        :    اس کا ٹھکانہ؟
عِزرا           : نہیں بتاسکتا۔
بروٹس         :    اُس سے ملنے کا طریقہ؟
عِزرا            : نہیں بتا سکتا
بروٹس          :    نہیں عِزرا تجھے بتانا ہوگا۔
عِزرا            :     ہرگز نہیں۔ یہ میرا راز ہے، جومیری جان کا دم ساز ہے۔
بروٹس          : عِزرا۔عِزرا۔ مجھ پررحم کر۔
عِزرا             :    رحم۔ رحم۔ آج یہ پہلا روز ہے کہ رحم کا لفظ تمھاری زبان سے نکلا اب تو تمھیں معلوم ہوگا کہ رحم کی ضرورت مظلوم یہودیوں ہی کو نہیں بلکہ ظالم رومنوں کو بھی ہوا کرتی ہے۔ ایک کنگال مفلِس یہودی کے پاس رحم کہاں سے آیا؟ جاؤ اپنے بیدرد قانون سے مانگو۔ اپنی ظالم قوم سے طلب کرو۔ اپنے نامنصف دیوتاؤں کے آگے ہاتھ پھیلاؤ۔ بھیک مانگو۔ گڑگڑاؤ۔  
بروٹس          :      بتادے عِزرا۔ بتادے میں اپنے قصوروں کی تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور سر جومذہبی پیشوا کا تاج پہننے کے بعد اس ملک کے بادشاہ کے سامنے بھی نہیں جھکا، آج تیرے قدموں پر جھکاتا ہوں۔
عِزرا             :   کیوں؟ کیسا جھٹکالگا؟
بروٹس           :       توانکار؟
عِزرا             : لاکھ بار۔
بروٹس           :     نہیں جواب دے گا؟
عِزرا              :     نہیں۔
بروٹس            :       نہیں بتائے گا؟
عِزرا               :      نہیں۔
بروٹس             :    نہیں رحم کرے گا؟
عِزرا                :     نہیں۔ نہیں ۔ نہیں۔
بروٹس              :      اچھا نہیں تو نہیں سہی۔ اب میں زبردستی تیرے سینے سے یہ راز اگلواؤں گا۔ تیری ایک ایک بوٹی کا قیمہ کرکے اپنے کتوں کوکھلواؤں گا۔ جاؤ لے جاؤ   ؎
رکھے اسے بھی وہیں، جس جگہ یہ آپ رہے
اب اس زمین پہ بیٹی رہے نہ باپ رہے
حنّا                : اے رومن سردار۔
بروٹس           :     مردار۔
عِزرا             :      خبردار۔
(پردہ)

تیسرا ایکٹ— پہلا سین 

راستہ

(حنّا سپاہیوں کے ساتھ قید خانے کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے)

18

تیسرا ایکٹ — دوسرا سین

دارالعذاب

بروٹس : عِزرا ! تودعویٰ کرتا ہے کہ یہودی ہم رومنوں سے مذہب، نیکی اور فراخ دلی میں افضل ہیں؟
عِزرا         : بے شک
 بروٹس     :        تواس کا ثبوت دے۔
عِزرا         :     کس طرح؟
بروٹس      :  ثابت کر کہ تو درگذر اور نیکیوں کا دلدادہ ہے۔ ثابت کر کہ تیری روح میں انتقام سے رحم کا مادہ زیادہ ہے۔
عِزرا        :     مگر میں رحم کس پرکروں؟
بروٹس     :    مجھ پر۔   
عِزرا        :   سب ہوگا۔ یہی نہیں ہوگا۔
بروٹس      :      عِزرا جو مفلس ہے وہ دولت چاہتا ہے۔ جس کے پاس دولت ہے وہ خطاب چاہتا ہے۔ جس کے پاس خطاب ہے وہ حکومت چاہتا ہے۔ میں تمھیں یہ تمام چیزیں بیک وقت دینے کویتار ہوں۔ یہ سب لے لے اور اپنے دل کا راز مجھے دے دے۔
عِزرا        :       خود غرض رومن۔ تیرے ظلم وستم کا کفارہ دولت سے ادا نہیں ہوسکتا۔دولت اور خطاب زندگی کے خیالی سائے ہیں۔ اگر تو تمام دنیا کی دولت سمیٹ کر مجھے دے دے، تو بھی یہ ان آنسوؤں کی قیمت نہیں ہوسکتی جو تیرے ظلم و ستم نے مظلوموں کی آنکھوں سے ٹپکائے ہیں۔  
بروٹس : تو ظلم کررہا ہے۔
عِزرا         :      تجھ سے تھوڑا۔
بروٹس : تو بے رحم ہے۔
عِزرا         :    تجھ سے کم۔
بروٹس       :    تو جہنم میں جائے گا۔
عِزرا         :   تیرے بعد۔
بروٹس : تو نہیں؟
عِزرا         :      نہیں۔
بروٹس : کب تک؟
عِزرا         : موت تک۔
بروٹس       : اچھا تو دونوں کو حوالۂ عذاب کرو۔ موت کے کڑوے پیالے کواور زیادہ کڑوا بنانے کے لیے، باپ سے پہلے بیٹی کو کباب کرو۔  
حنّا           :     ابا پیارے ابا۔ مرنے سے پہلے مجھے برکت دو کہ میرے دل سے موت کا خوف نکل جائے اور عورت کی فطرت بات پر جان دینے والے مرد کے ارادے سے بدل جائے۔   
عِزرا          :     اُف!  اس لڑکی کی محبت اور میرے ارادے میںجنگ شروع ہوگئی۔ بچاتا ہوں تو یہودی مذہب کی برکت اور نجات سے محروم رہی جاتی ہے اور نہیں بچاتا تو جنگل کی سوکھی ہوئی لکڑی کی طرح بھاڑ میں جھونک دی جاتی ہے۔کیا کروں اور کیا نہ کروں۔
بروٹس        :     عِزرا۔ دنیا کے کسی باپ کے کلیجے میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ اپنی اولاد کی درد ناک موت اپنی آنکھ سے دیکھ سکے۔ عقل سے پھر صلاح لے۔ تو دو حرف دے کر اس کی زندگی مجھ سے مول لے سکتا ہے۔   
بروٹس : جب اسے تبدیل مذہب سے انکار ہے، تو دیر بے کار ہے۔ ڈال دو کڑھاؤ میں۔
 عِزرا        : بروٹس۔ اس پر رحم کر۔
بروٹس       :   نہیں
عِزرا         : اسے چھوڑ دے۔
بروٹس       :        ہرگز نہیں۔
عِزرا         :     اس کی زندگی بھیک میں دے دے۔
بروٹس : کبھی نہیں۔ اگر اپنی اوراس کی زندگی کا پیار ہو تو وہ سوال جس کو میں دہراتے دہراتے تھک گیا ہوں اس کا جواب دینے کو تیار ہو۔
عِزرا         : اچھا بتا تا ہوں۔
بروٹس : بتاتا ہوں؟
عِزرا          :   ہاں۔
 بروٹس       :    تو بول
عِزرا          :      ایک شرط سے۔
 بروٹس : بیان کر
عِزرا          :       ان کو تاکید کر دے کہ جس وقت میںتیری لڑکی کا حال بیان کر چکوں تو پس وپیش کے خیال کودل سے نکال دیں اور بغیر دوسرا حکم پائے اس لڑکی کواٹھا کرتیل کے کڑھاؤ میں ڈال دیں۔
بروٹس : میں ا س شرط کو منظور کرتا ہوں۔
عِزرا         :     دل وجان سے؟
بروٹس : دین وایمان سے۔
عِزرا         :      اچھا تو سنو۔ شہر روما کے جلنے سے دو برس پہلے کا واقعہ ہے کہ تو نے محض سلام نہ کرنے کے جرم میں میری پانچ برس کی بچی کواس کی ماں کی گود سے زبردستی چھین کر شیروں کے پنجرے میں ڈال دیا تھا۔ مگر اب ایک یہودی کا سلوک دیکھ کہ اُس وقت جب کہ ظالم نیرو کے حکم سے تمام شہرمیں آگ لگی ہوئی تھی میں نے تیرے جلتے ہوئے محل میں گھس کر تیری چھ ماہ کی اکلوتی بچی کو موت کے منھ سے باہر نکالا اور انتقام اور کینہ کو جس سے میرا سینہ جل رہا تھا، بھول  گیااوراسے اپنی اولاد کی طرح پالا۔
بروٹس : تو نے نکالا؟ تو نے پالا؟
عِزرا         :     ہاں میں نے۔ میں نے ظالم رومن ۔ ایک یہودی نے اور اس یہودی نے جسے تم ٹھوکریں مارتے تھے۔ جسے کتا سمجھ کر دھتکارتے تھے۔   ؎
روئی جو اس کے حال پہ، اُس چشم نم کو دیکھ
اپنے ستم کو دیکھ، ہمارے کرم کو دیکھ
بروٹس : مگر وہ کہاں ہے؟
 عِزرا        :     کیاجن آنکھوں سے خدا کی ہزاروں قوتوں کو دیکھ کر بھی اُسے شناخت نہیں کرسکتے، ان آنکھوں سے اپنی لڑکی کوبھی نہیں پہچان سکتے؟ دیکھو۔ غور سے دیکھو۔ خون آپ سے آپ جوش مارے گا۔ اگر تمھارا ہی لہو ہوگا تو رگوں کے اندر سے پکارے گا۔
بروٹس       :      نہیں عِزرا نہیں۔تو مجھ سے انتقام لینا چاہتا ہے۔ تیر و تلوار سے نہیں مار سکتا، اس لیے جھوٹی خوشی دلا کر دیوانہ بنا دینا چاہتا ہے۔ 
عِزرا         :      وہ دیکھ۔ تیرے سامنے ہڈی اور خون سے بنا ہوا ایک آئینہ کھڑا ہے۔ اُسی آئینے میں تجھے، تیری کھوئی ہوئی لڑکی کی صورت نظر آئے گی۔ جو تیرے کلیجے کو ٹھنڈک پہنچائے گی۔
بروٹس       :   یہ تو ایک یہودن لڑکی ہے۔
عِزرا          :   یہودن نہیں، رومن نژاد ہے۔ میری نہیں تیری اولاد ہے۔
بروٹس       :      میری؟
عِزرا          : ہاں تیری۔ یہی وہ لڑکی ہے جسے میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے باہر نکا لا اور اپنی اولاد بنا کر حنّا کے نام سے پالا۔
بروٹس        :     اس کا ثبوت؟
عِزرا          : تیرے خاندان کی یادگار یہ تعویذ وعقیق کی مالا۔   ؎
خدا کی دین سے ملتا ہے یہ نصیبوں سے
ہے رحم سیکھنا تو سیکھ ہم غریبوں سے
بروٹس        :   ٹھیک یہ وہی مالا ہے جو پیدائش کے روز نظر بد سے محفوظ رکھنے کے لیے میں نے لڑکی کے گلے میں پہنائی تھی۔ پہچان لیا۔ وہی۔ وہی ۔۔۔ آ۔۔۔ میرے دل کا سرور۔۔۔ میری آنکھوں کا نور ۔۔۔آ۔
حنّا            : ابا جان۔
عِزرا          :      ٹھہرو۔ میرا وعدہ پورا ہوچکا۔ اب تمھارا وعدہ پورا ہونے کا وقت آیا۔ چلو۔ فکر وحیرت کودل سے نکال دو اور باپ کے سامنے بیٹی کواٹھا کر تیل کے کڑھاؤ میں ڈال دو۔
بروٹس : نہیں عِزرا۔ اب یہ نہیں ہوسکتا۔
عِزرا         :   نہیں ہوسکتا۔ کیوں نہیں ہوسکتا؟  
                     حیرت اور خوف کی تصویریں بن کر حرکت کرنا کیوں بھول گئے؟ ثابت کرو کہ تم زندہ ہو۔
بروٹس      :       نہیں عِزرا نہیں۔ میری غرور کی زندگی ختم ہوگئی۔ میرے اقتدار کا سر بلند قلعہ ایک ہی زلزلے میں ریزہ ریزہ ہو کراپنی خاک میں کفن پوش ہوگیا۔   ؎
جب پڑی خود اپنے سر پر ضرب، عبرت ہوگئی
غیر کا بھی دکھ ہے دکھ ، مجھ کو نصیحت ہوگئی

تیسرا ایکٹ—تیسرا سین

دربار

(سب کا خوشی میں بیٹھے ہوے دکھائی دینا)

بروٹس         :    میرے محسن عِزرا۔ میرے عزیز بھائی۔ اگرچہ محبت پدری کا کچھ اور ہی ارادہ ہے۔ مگر حنّا پر مجھ سے تمھارا حق زیادہ ہے۔ اس لیے جس دین و مذہب میںاس نے پرورش پائی ہے اسی دین ومذہب میںرہے گی۔ جس طرح آج تک تمھیں اپنا باپ کہتی رہی ہے۔اُسی طرح ہمیشہ کہے گی۔
مارکُس         :   پیاری حنّا۔ میں تمھارا گنہ گار ہوں ۔ اور جو سزا تجویز کرو اس کو بخوشی برداشت کرنے کے لیے تیارہوں۔
حنّا            :     میں تمھیں یہی سزا دیتی ہوں کہ جس طرح مجھے دھوکا دیا ہے، اسی طرح آئندہ کسی عورت کودھوکا نہ دینا۔
آکٹیویا        :  پیاری بہن۔ جب تم رومن نسل اور رومن باپ کی اولاد ہو تو تمھارا بادشاہ تمھارے لیے شادی کے قانون میں ضرور ترمیم کردے گا۔
بادشاہ        : ایساہی ہوگا۔
آکٹیویا         :   اس لیے میںچاہتی ہوں کہ اب جو دور تھا وہ قریب ہو۔ میری خوشی ا ور راحت میں تم برابر کی شریک ہو۔
حنّا           :      بس اب میں راحت، خوشی، آرام، اس جھوٹی دنیا کی کوئی چیز نہیں چاہتی۔۔۔۔ تم دونوں جیواور خوش رہو۔
آکٹیویا       :      تو بہن۔ تم اس جھوٹی دنیا میں تنہا رہ کر کیونکر زندگی بسر کرو گی؟
حنّا          :     میں۔۔۔۔۔۔۔
 (حنّا کا گانا)
اپنے مولا کی میں جوگن بنوں گی
جوگن بنوں گی، بروگن بنوں گی
اپنے مولا۔۔۔۔۔

                                           (پردہ)

                                                                                            (آغا حشر کاشمیری)


                                مشق

سوالات

1.  ڈرامے کی تعریف اوراجزائے ترکیبی کی وضاحت کیجیے۔
2.   آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری کے امتیازات پر روشنی ڈالیے۔
3.  ڈراما ’یہودی کی لڑکی‘ کے اہم کرداروں پر تبصرہ کیجیے۔