Skip to content
QR5258CH03

3

11

چے خف

1860 تا  1904

آنتوں پافلووچ چے خف شمالی کوہ قاف کی سرحدوں کے نزدیک روس کی ایک نسبتاً گم نام بندرگاہ تگان روگ میں پیداہوئے۔ ان کا تعلق جنوبی روس کے ایک تاتاری خاندان سے تھا۔ اسکول کی تعلیم پوری کرنے کے بعد1879 میں چے خف ماسکو چلے گئے، یہاں انھیں ایک میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔
خاندان کی مالی دشواریوں کو دور کرنے کے لیے چے خف نے افسانہ نویسی کی مشق شروع کردی۔ شہر کے معمولی اخباروں اور رسالوں میں ا ن کے مزاحیہ افسانے شائع ہونے لگے۔ اس سے چے خف کو کسی قدر معقول آمدنی بھی ہونے لگی۔ اس لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے ڈاکٹری کے بجائے افسانہ نویسی کو ہی اپنا ذریعۂ معاش بنالیا۔
1886 میں ان کا تعارف ایک مشہور نقاد گریگورو وِچ اور ماسکو کے سب سے بڑے اخبار کے ایڈیٹر سووورن سے ہوگیا۔ ان دونوں کی سرپرستی کی بدولت، روس کی ادبی دنیا میں چے خف کو ایک خاص حیثیت حاصل ہوگئی۔ جب سووورن کے اخبار میں ان کے افسانے شائع ہونے لگے تو انھوں نے مزاحیہ افسانے لکھنا ترک کردیا۔ اب ان کے افسانوں میں وہ خاص تحیّر آمیزرنگ پیداہوگیاتھا، جوان کی امتیازی صفت ہے۔
1890میں مشرقی سائیبیریاجاکر ا نھوں نے سزایافتہ مجرموں کی حالت کا معائنہ کیا۔ 1891 میں انھوں نے بڑی جانفشانی کے ساتھ، قحط زدہ لوگوں کی خدمت انجام دی۔
چے خف کو جوانی میں ہی دِق کی بیماری لاحق ہوگئی تھی۔دھیرے دھیرے ان کا مرض زور پکڑتا گیا۔ آخر میں یہی بیماری ان کی موت کا باعث بنی۔
چے خف افسانہ نویسی میں ایک نئے اور نرالے طرز کے موجد مانے جاتے ہیں۔ عام طورسے ان کا ملنا جلنا متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ لوگوں سے تھا۔ ان کے افسانوں میں زیادہ تر، انہی کی زندگی کے نقشے کھینچے گئے ہیں۔ کہانی کو معنی خیز بنانے کے لیے وہ غیرمعمولی حادثوں کا سہارا نہیں ڈھونڈتے۔ ان کے افسانے سیدھی سادی حقیقت کی بہ دولت لطیف اور دلکش ہوجاتے ہیں۔چے خف کی زندگی ہی میں ان کے اکثر افسانوں اور ڈراموں کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکاتھا۔ اردو زبان میں بھی چے خف کے بہت سے افسانوں اور ڈراموں کے ترجمے ہوچکے ہیں۔ چے خف کا شمار افسانے کی صنف کے سب سے ممتاز نمائندوں میں کیا جاتا ہے۔ اس نے اس فن میں عالم گیر شہرت حاصل کی ہے ۔ مشرق و مغرب کی زبانوں کے کئی ادیب چے خف کے اسلوب کی تقلید کرتے ہیں اور چے خف کے افسانوں سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔



کلرک کی موت


وہ رات بہت اچھی تھی، جب ایوان دمترچ چیرویا کوف جو پیشے سے ایک کلرک تھا، تھیٹر کی دوسری قطار میں بیٹھا دوربین کی مدد سے ’’لے کلوش دے کارنویل‘‘ نام کے کھیل سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ وہ اسٹیج کی طرف دیکھ رہا تھا، اوراپنے آپ کو انتہائی خوش نصیب انسان سمجھ رہاتھا کہ دفعتاً اس کا چہرہ متغیّر ہوا، دیدے اوپر کی طرف چڑھ گئے، سانس رُک گیا… وہ دوربین سے منہ ہٹاکر اپنی نشست پر دوہرا ہوگیا اور …آخ چھیں!!! یعنی اسے چھینک آئی …اب یہ تو ظاہر ہے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ جہاں بھی چاہے چھینکے … کسان، پولیس انسپکٹر یہاں تک کہ بڑے بڑے سرکاری افسر بھی چھینکتے ہیں …ہر شخص چھینکتا ہے … ہر شخص — چیرویاکوف کو ذرا بھی گھبراہٹ نہ ہوئی، اس نے جیب سے رومال نکال کر ناک پونچھی، اور ایک صاحبِ اخلاق کی طرح اپنے چاروں طرف مڑکر دیکھا کہ میری چھینک کسی کے لیے خلل انداز تو نہیں ہوئی؟ اور تب تو اسے واقعی الجھن محسوس ہوئی، کیونکہ اس نے دیکھا کہ پہلی قطار میں بالکل اس کے سامنے بیٹھا ہوا ایک پستہ قامت بوڑھا شخص بڑی احتیاط سے اپنی گنجی چاند اور گردن کو اپنے دستانے سے صاف کررہاہے اور ساتھ ہی ساتھ کچھ بڑبڑاتا جارہا ہے… چیرویا کوف نے پہچان لیا کہ یہ بوڑھا شخص وزارت رسل ورسائل کا سول جنرل بری ژالوف ہے۔
12
چیرویاکوف نے سوچا— ’’یہ درست کہ یہ میرا افسر نہیں لیکن پھر بھی برا لگتا ہے، مجھے معافی مانگ لینی چاہیے…‘‘
’’مجھے معاف کردیجیے — میں…یہ پہلے سے سمجھی بوجھی چیز نہیں تھی!‘‘
’’مہربانی کرکے آپ خاموش ہوجائیں تو اچھا ہے، مجھے سننے دیجیے!‘‘
چیرویاکوف کچھ بوکھلا گیا۔ ندامت آمیز انداز میں مسکرایا— اوراسٹیج کی طرف توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرنے لگا— وہ ایکٹروں کو دیکھتا رہا، لیکن اب اپنے کو خوش نصیب انسان محسوس نہ کرسکتا تھا— پریشانی اسے کھائے جارہی تھی— انٹرویل میں وہ بری ژالوف کے نزدیک پہنچا ۔… کچھ دیر تک ہچکچاتا رہا اورآخر جھجھک پر قابو پاکر سرگوشی کے انداز میں بولا:
’’جناب عالی! میں نے آپ پر چھینک دیا… معاف کیجیے … آپ جانتے ہیں… میرا مطلب یہ نہیں تھا…‘‘
’’اچھا… میں تو اسے بھول بھی گیا تھا… اسے دہرانا ضروری ہے کیا؟‘‘ جنرل بولا— اس کا نچلا ہونٹ بے صبری سے پھڑک رہاتھا—
’’کہتا ہے، میں بھول بھی گیا تھا — لیکن اس کی نظروں کا انداز مجھے پسند نہیں‘‘ بے چینی کے عالم میں جنرل کی طرف دیکھتے ہوئے چیرویاکوف نے سوچا— ’’مجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا، اسے سمجھنا چاہیے کہ میرا منشا نہیں تھا … یہ تو فطرت کا قانون ہے، ورنہ وہ سمجھے گا کہ میں ا س پر تھوکنا چاہتاتھا، اگر ابھی ایسا نہیں بھی سوچا تو بعد میں سوچ سکتاہے!…‘‘
گھر پہنچ کر چیرویاکوف نے اپنی بیوی سے اپنی غیرشریفانہ حرکت کاذکرکیا — اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کی بیوی نے پورے قصّے کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی — یہ صحیح ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے وہ چونک گئی تھی— لیکن جب معلوم ہوا کہ بری ژالوف ’’ہمارا‘‘ افسر نہیں ہے تو اسے اطمینان ہوگیا۔
’’لیکن پھر بھی میرا خیال ہے کہ تم جاکر معافی مانگ لو‘‘ وہ بولی— ’’ورنہ وہ سمجھے گا کہ تمھیں کسی محفل میں بیٹھنے کا سلیقہ نہیں ہے۔‘‘
’’یہی توبات ہے! میں نے معذرت کرنے کی کوشش کی — لیکن اس کا رویّہ عجیب تھا— ایک بات بھی عقل کی نہیں کی— اس کے علاوہ بات کرنے کا وقت بھی نہیں تھا —‘‘
دوسرے دن چیرویاکوف نے اپنی نئی وردی پہنی، بال کٹوائے اوربری ژالوف کے پاس اس واقعے کو سمجھانے کے لیے چل دیا… جنرل کا ملاقاتیوں کا کمرہ درخواست گزاروں سے بھرا ہوا تھا— خود جنرل وہیں موجود تھا— اور درخواستیں لے رہاتھا — چندلوگوں سے ملاقات کے بعد جنرل نے چیرویاکوف کے چہرے پر نظر ڈالی—
’’حضور کو یاد ہوگا کہ کل رات ’’ارکیدیا‘‘ میں…‘‘ کلرک نے کہناشروع کیا۔ ’’میںنے …ار … چھینک دیاتھا اور …ار… ایسا ہوا کہ …میری درخواست ہے…‘‘
’’ہش! یہ کیا بکواس ہے!‘‘ جنرل بولا— ’’تمھیں کیا چاہیے؟‘‘ اس نے دوسرے شخص سے مخاطب ہوکر پوچھا—
’’میری بات بھی نہیں سنے گا!‘‘ چیرویاکوف نے سوچا اوراس کارنگ زرد پڑگیا— ’’اس کے معنی یہ ہیں کہ غصّے میں ہے… ایسے وقت تو میں چھوڑ نہیں سکتا … اسے سمجھانا ہی پڑے گا…‘‘
آخری درخواست لینے کے بعد جب جنرل اپنے نجی کمرے میں جانے کے لیے مڑا تو چیرویاکوف بُدبداتا اس کے پیچھے چلا—
’’معاف کیجیے، حضور! انتہائی شرمندگی کے احساس کی وجہ سے مجھے حضور کو تکلیف دینے کی ہمّت پڑرہی ہے…‘‘
جنرل نے اس طرح دیکھا کہ بس چیخنے والا ہے اور اسے چلے جانے کا اشارہ کیا—
’’آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں جناب!‘‘ وہ بولااور دھڑ سے دروازہ بند کردیا—
’’مذاق!‘‘ چیرویاکوف نے سوچا ’’اس میں مذاق کی تو کوئی بات مجھے نظر نہیں آتی— اس کی عقل میں نہیں سماتی اورجنرل بنا ہے— اچھی بات ہے— اب میں ان حضرت کو اپنی معذرت سے پریشان نہ کروں گا— اب دوبارہ نہیں جاؤں گا۔ اُسے صرف خط لکھ دوں گا! بس اب بالکل نہیں جاؤں گا!‘‘
گھر جاتے ہوئے چیرویاکوف یہی کچھ سوچتا رہا، لیکن اس نے خط نہیں لکھا— بہت سوچا لیکن سمجھ میں نہ آیا کہ لکھے کیا۔ اس لیے دوسرے دن اسے پھر جنرل کے یہاں جانا پڑا تاکہ معاملہ رفع دفع ہوجائے—
’’کل میں نے حضور کو زحمت دینے کی جرأت کی تھی‘‘ جنرل نے اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا، چیرویاکوف نے اُس پر کوئی دھیان دیے بغیر کہنا شروع کردیا: ’’اس لیے نہیں کہ میں آپ کا مذاق اڑانا چاہتا تھا، جیسا کہ حضور نے فرمایا تھا— میں تو معذرت کے لیے آیاتھا، کہ میں نے چھینک کر آپ کو تکلیف پہنچائی… اور جہاں تک آپ کا مذاق اڑانے کا سوال ہے توایسی بات تو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا— میری ہمت کیسے پڑ سکتی ہے! اگر ہم نے لوگوں کا مذاق اُڑانا شروع کردیاتو پھر کوئی عزّت ہی باقی نہ رہ جائے گی … اپنے سے بڑوں کی عزّت ہی نہ رہ جائے گی…‘‘
’’نکل جاؤ یہاں سے!‘‘ جنرل چیخا— غصّے کی وجہ سے وہ کانپ رہاتھااور نیلا پڑگیاتھا  —
’’جی  — کیا؟‘‘ چیرویاکوف جو خوف سے سہم گیا تھا، ہکلانے لگا  —
’’نکل جاؤ!‘‘ جنرل نے پاؤں پٹکتے ہوئے دہرایا  —
چیرویاکوف کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی ہو — وہ دروازے کی طرف مڑا تو اسے نہ کچھ سنائی دے رہا تھا، نہ کچھ نظر آرہاتھا  — سڑک پر پہنچا اور چلتا گیا — لڑکھڑاتا ہوا وہ بالکل بے حِس ہوگیا، اپنے گھرپہنچا — اوراپنی سرکاری وردی پہنے پہنے جس حلیے میں تھا،اسی میں صوفے پر لیٹ گیا اور … مرگیا  —

         (چے خف)

(روسی سے ترجمہ :  ظ–انصاری)


                                 مشق

سوالات

1.  چیرویاکوف کو ایک صاحبِ اخلاق انسان کیوں کہاگیاہے؟
2.  دفعتاً چھینک آنے پر چیرویاکوف کاردِّ عمل کیاتھا؟
3.  آپ کے نزدیک جنرل بری ژالوف کے کردارکاکون سا پہلو ناپسندیدہ ہے؟ 
4.  چیرویاکوف کی موت کاسبب کیاہے؟