4
ویکوم محمد بشیر
1910 تا 1994
ویکوم محمد بشیر کی ولادت کیرالا میں ہوئی۔ ان کے والد عمارتی لکڑی کے ٹھیکے دار تھے۔ کاروبار میں بڑے نقصان سے دوچار ہونے کی وجہ سے ان کا گھرانا غریبی اور تنگ دستی کا شکار ہوگیا۔
محمد بشیر بچپن ہی سے بڑے ذہین اور ملنسار انسان تھے۔ نہایت حسّاس طبیعت رکھتے تھے۔ دس گیارہ برس کی عمر میں وہ آزادی کی تحریک میں شامل ہوگئے۔ اس کی وجہ سے انھیں اسکول چھوڑنا پڑا۔ رفتہ رفتہ ان کی سیاسی اور انقلابی سرگرمیاں اتنی بڑھ گئیں کہ ان کی وجہ سے انھیں کیرالا بھی چھوڑنا پڑا۔ وہ بے سروسامانی کے عالم میں ملک کے مختلف حصّوں میں گھومتے پھرے اور طرح طرح کے لوگوں سے ملتے جلتے رہے۔ یہ دور تجربات کے لحاظ سے ان کی زندگی میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انھیں رفتہ رفتہ یقین ہوتا گیا کہ زندگی اپنی رنگارنگی کے باوجوددنیا میں ہر جگہ ایک جیسی ہوتی ہے۔ ہر فرد اپنی پیدائش اور موت کے درمیانی وقفے کوکسی نہ کسی طور گزار دینے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔
محمد بشیر نے 1937 کے آس پاس لکھنا شروع کیا ۔ اس وقت ان کی عمر 27 سال تھی۔ وہ زندگی کا جو وسیع اور رنگا رنگ تجربہ حاصل کر چکے تھے، اس سے بہت کم لوگ گزرتے ہیں۔ دراصل یہی تجربات بشیر کی زندگی کے قیمتی سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ویکوم محمدبشیر کی پہلی اہم تخلیق ’’بچپن کی ساتھی‘‘ (مطبوعہ 1944)ہے جسے انھوں نے اپنی ’’کتابِ زندگی کا ایک ورق‘‘ قرار دیا۔ اس کہانی نے ملیالم کے افسانوی ادب کونئی راہ دکھائی۔ محمد بشیر کی کہانیاں زندگی کی حقیقتوں سے لبریز ہوتی ہیں۔ انھوں نے جو کچھ لکھا، اس کی بنیاد ان کے حقیقی تجربے تھے۔ وہ اپنی بات نہایت سادہ، سلیس اور عام فہم انداز میں لکھنے پر قدرت رکھتے تھے۔ ملیالم ناول اور افسانے کی زبان پر ان کی تخلیقات کے گہرے اثرات ہیں۔ اس کا اعتراف کئی نقادوں نے کیاہے۔
ویکوم محمد بشیر کو ان کی ادبی خدمات کے پیش نظر کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔ 1970 میں ساہتیہ اکادمی کی فیلوشپ ملی۔1982 میں حکومت ہند نے ’’پدم شری‘‘ کا خطاب دیا اور 1987 میں کالی کٹ یونیورسٹی نے اپنے اس عظیم فنکار کوجو رسمی تعلیم حاصل نہ کرسکا تھا، ڈاکٹر آف لیٹرز کی اعزازی سند عطا کی۔
محمد بشیر نے انتقال سے پہلے اپنا آخری مضمون ان الفاظ پر ختم کیا تھا: ’’میں اپنے سفر کے خاتمے پر پہنچ رہا ہوں۔ کون جانے شاید یہ کسی دوسرے سفر کا آغاز ہو۔ وقت صرف خدا کے خزانے میں ہے، وہی میری راہ متعین کرے گا۔ میں دنیا کی خوش حالی کی تمنّا کرتا ہوں اور ہر فرد وبشر کی مسرت اور اس کے سکون واطمینان کی دعا کرتا ہوں۔‘‘
جنم دن
مکرام کی آٹھویں تاریخ ہے، آج میرا جنم دن ہے۔ میں اپنے معمول کے خلاف صبح سویرے ہی اٹھ گیا۔ نہادھوکر کھدّر کی قمیض ، دھوتی اور سفید کینوس کے جوتے پہنے اورآرام کرسی پرتکیہ لگاکر بجھے ہوئے دل سے دراز ہوگیا۔ میرا پڑوسی میتھیو جو بی۔اے۔ کا طالب علم تھا، مجھے اتنے سویرے بیدار دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ اس نے مسکراکرمجھے سلام کیا۔
’’ہیلو !گڈمارننگ‘‘ اس نے انگریزی میں کہا۔
’’جی !‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’گڈمارننگ۔‘‘

اس نے پوچھا— ’’آج آپ اتنی جلدی کیسے اٹھ گئے…کیا کہیں جاناہے؟‘‘
’’نہیں‘‘ میں نے بتایا : ’’آج میرا جنم دن ہے۔‘‘
’’آپ کا برتھ ڈے‘‘اس نے انگریزی میں پوچھا؟
’’جی ہاں‘‘
’’خوشی کا یہ دن تمھاری زندگی میں باربار آئے۔‘‘
’’شکریہ‘‘
میتھیواپنے دانتوں میں برش دبائے ہوئے غسل خانے میں داخل ہوا۔ چاروں طرف سے شوروغل کی آوازیں آرہی تھیں۔ ان ملی جلی آوازوں میں پیار کے نغمے بھی شامل تھے۔ وہ لوگ طالب علم اور کلرک تھے۔ ’’کیاان میں سے کسی کو کوئی پریشانی تھی؟‘‘ ان کے لیے زندگی تو بہت خوشگوار تھی، لیکن میں سوچ رہاتھا، مجھے ایک کپ چائے کس طرح مل سکے گی۔ دوپہر کا کھانا یقینی تھا۔کل جب میں بازار جارہا تھا تو حامد نے مجھے بغیر کسی وجہ کے دوپہر کے کھانے کی دعوت دے دی۔ وہ ایک معمولی سا شاعر لیکن امیرآدمی ہے، لیکن میں لنچ کے وقت تک بغیرچائے کے نہیں رہ سکتاتھا۔ کمرے میں بیٹھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ میتھیوکا بوڑھا نوکراس کے لیے چائے بنانے میں مصروف ہے۔ میرا کمرہ میتھیو کے باورچی خانے کا اسٹور بناہواتھا۔ مالک مکان نے آٹھ آنے ماہوار پر مجھے کرایے پر دیاتھا۔ یہ پوری عمارت میں سب سے چھوٹا کمرہ ہے۔ میری آرام کرسی، میز، الماری اورپلنگ کے بعد مشکل سے سانس لینے کو جگہ بچتی ہے۔ احاطے کی دیوارسے گھری تین عمارتوں کے تمام کمروں میں طالب علم اورکلرک رہتے ہیں۔ میں واحد آدمی ہوں جسے مالک مکان پسند نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں پابندی سے کرایہ ادا نہیں کرتا۔
آج میرا جنم دن ہے۔ میں اپنے گھر سے دور ہوں۔ میرے پاس پیسے بھی نہیں اور قرض لینے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں۔ جو کپڑے پہنے ہوئے ہوں، وہ خود میرے دوستوں کے ہیں۔ کوئی چیز بھی ایسی نہیں جسے اپنا کہہ سکوں۔ میتھیو نے جب مجھے جنم دن پر بہت سی نیک خواہشات پیش کیں تو میرا دل غم زدہ ہوگیا۔
سات بجے : مجھے یاد آرہاہے۔ آرام کرسی پر بیٹھے ہوئے میں نے سوچا: کم سے کم اس روز مجھے کسی غلط کام سے بچنا چاہیے۔ آج کے دن مجھے کسی سے قرض نہیں لیناچاہیے اور آج کوئی غلط بات نہیں ہونی چاہیے۔ آج کے ’’میں‘‘ کو میرے ان سینکڑوں رنگ بدلتے چہروں سے بالکل مختلف ہونا چاہیے جو ماضی کے سفید وسیاہ شب وروز میں نظرآرہے ہیں۔ آج میری عمرکتنی ہوگئی؟ پچھلے سال کے مقابلے میں ایک برس اوربڑا ہوگیاہوں… پچھلے سال …چھبیس(26) نہیں بتیس (32)یا سینتالیس(47)؟
میرا ذہن بے حد پریشان تھا۔ میں نے اُٹھ کر آئینے میں دیکھا: میں اتنا بڑا تو نہیں ہوں۔ ایک خاصا منفرد چہرہ، اونچی اور کشادہ پیشانی، ٹھہری ٹھہری آنکھیں ، ایک خمیدہ تلوار کی طرح باریک مونچھیں۔ بہ حیثیتِ مجموعی برانہیں تھا۔ اس سوچ کے دوران مجھے ایک ایسی چیز نظر آئی جس سے مجھے دھکّا لگا۔ میرے کان کے اوپر کالے بالوں کے درمیان سفید لکیرسی دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے کوشش کرکے اسے کھینچ کرنکال دیا۔ پھر میں اپنے سرپر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پشت پر سے میرا سرخاصا ہموار تھا۔ سرپر ہاتھ پھیر نے کے دوران مجھے سر میں ہلکا سادرد محسوس ہوا۔ ممکن ہے کہ چائے نہ پینے کی وجہ سے ہو۔
نوبجے: ہوٹل کے مالک نے دور سے دیکھ لیا اور وہ چہرہ بسورتا ہوا اندر واپس چلاگیا۔ ہوٹل کا مَیلا کچیلا چھوکرا جس نے چائے بنائی تھی، نقد پیسے مانگنے لگا۔
میں نے کہا : ’’ارے بھائی، پیسے کل دے دوں گا۔‘‘
اسے مجھ پر اعتبار نہیں تھا : ’’آپ نے کل بھی یہی کہاتھا۔‘‘
اس نے پلٹ کر جواب دیا۔
’’مجھے خیال تھا کہ مجھے آج کچھ پیسے مل جائیں گے۔‘‘
’’مجھے حکم ہے کہ جب تک پہلے کے پیسے نہ دے دیں آپ کو چائے نہیں دی جائے۔‘‘
’’اوہ‘‘
دس بجے: میرے ہونٹ سوکھ گئے۔ میرا حلق خشک ہورہاتھا۔ دوپہر کی سخت گرمی کی وجہ سے میرا دل بوجھل ہورہاتھا۔ اسی لمحہ آٹھ دس سال کی عمر کے پتلے دبلے زرد چہرے والے دو عیسائی لڑکے لکڑی کی کھڑاؤں بیچتے ہوئے میرے دروازے پر آئے۔ انھوں نے آواز لگائی: تین آنے جوڑا۔
’’لڑکو! مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’لیکن، اگرآپ جیسے لوگ بھی نہیں خریدیں گے تو پھر کون خریدے گا؟‘‘
لڑکو! مجھے ضرورت نہیں ہے… میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔‘‘
’’اوہ‘‘
ان کے چہروں پر بے اعتباری تھی۔ وہ اتنے معصوم تھے کہ ظاہر کے پیچھے حقیقت کو نہیں سمجھ پائے۔ میرے کپڑوں، میری آرام کرسی کو دیکھ کر مجھے سرکہہ کر مخاطب کیاجاتاہے۔ لیکن آرام کرسی، قمیض، دھوتی، جوتے… ان میں سے کچھ بھی میرا نہیں ہے۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ میرا بدن بھی کیا میرا اپناہے؟ ہندوستان کا ہر شہر میں نے گھوما ہے اور کتنی الگ الگ جگہوں پر الگ الگ طرح سے رہتارہا ہوں۔ میرا خون، میرا گوشت پوست اورمیری ہڈّیاں تک ہندوستانی ہیں۔ کنیاکماری سے کشمیر تک، کراچی سے کلکتہ تک۔ دراصل ہندوستان کے تقریباً ہر حصّے میں میرے دوست موجود ہیں۔ مرد، عورت، میرے سبھی دوست ایک ایک کرکے میرے ذہن میں آرہے ہیں۔ پورے چاند کی چاندنی کی طرح معطّر میری محبت پورے ہندوستان میں پھیل جائے۔ میری یہ خواہش ہے، لیکن مجھے جاننے والا مجھ سے محبت کرنے والاکون ہے؟میں سب کچھ ہوں لیکن واقعتا میں کیا ہوں؟ ’آہ‘ مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے! درد سے میرا سر پھٹا جارہا ہے۔ کیونکہ میں نے چائے نہیں پی تھی؟ درد کی وجہ سے سراٹھانے میں بھی تکلیف ہو رہی تھی۔ بہتر ہے کہ میں جاکر کھاناکھاؤں۔ اسی سردرد کی حالت میں مجھے ایک میل کی مسافت طے کرناہے لیکن کم سے کم بھرپیٹ کھاناتو مل جائے گا۔
گیارہ بجے: حامد دکان پر نہیں تھا۔ کیا وہ گھر چلاگیا؟
زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلتا۔ ممکن ہے وہ بھول گیا ہو۔ میں اس کے گھر جاؤں تو؟
ساڑھے گیارہ بجے : حامد کے دومنزلہ گھر کے آہنی دروازے بند ہوچکے تھے۔ میں نے کھٹکھٹایا: ’’مسٹرحامد‘‘
ایک عورت نے جواب دیا: ’’وہ نہیں ہیں۔‘‘ وہ کہاں گئے ہیں؟ کوئی جواب نہیں۔ تنگ آکرواپس جانے سے پہلے میں نے ایک بار پھر دروازے پر دستک دی۔
میں نے کسی کے قدموں کی آہٹ، چوڑیوں کی کھنکھناہٹ سُنی۔ تھوڑا سادروازہ کُھلا۔ ایک جوان خاتون دکھائی دی۔
’’میں نے اس سے پوچھا کہ حامدکہاں گئے ہیں۔‘‘
’’انھیں فوری طورپر کسی ضروری کام سے جانا پڑگیاہے۔‘‘
’’وہ کب واپس آئیں گے؟‘‘
’’شام کو دیر سے آئیں گے۔‘‘
’’شام کو دیر سے؟‘‘
’’جب وہ واپس آجائیں تومہربانی کرکے انھیں میرے آنے کے بارے میں بتادینا۔‘‘
’’میں کیانام بتاؤں؟‘‘
’’میں کون ہوں؟‘‘
’’میں … اوہ … کچھ نہیں ،میں کیا بتاؤں؟ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ریت گرم خشک چینی کی طرح ہورہی تھی۔ جھیل کاپانی شیشے کی طرح چمک رہاتھا۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔میں بہت پریشان تھا۔ میری ہڈّیاں جل رہی تھیں۔ بھوک اورپیاس۔ میں فاقے سے تھا۔ مجھے اتنی بھوک لگ رہی تھی کہ اگر مٹّی ملتی تواس کو بھی کھالیتا۔ میری بھوک کی شدت اس احساس کی وجہ سے اور بڑھ گئی۔ میرے پاس کھانا حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ شب وروز کا ایک لامتناہی سلسلہ میرے سامنے تھا لیکن کھانا ملنے کی کوئی توقّع نہیں تھی۔ میں نقاہت سے گراجارہاتھا۔
ساڑھے گیارہ بجے:میرے شناسا میرے پاس سے اس طرح سے گزر گئے کہ جیسے انھوں نے مجھے دیکھا ہی نہیں۔ ’’اے میرے دوستو! میرے جنم دن پر میرے لیے خوشی کی دعائیں کرو۔‘‘
میں اپنے آپ سے سرگوشیوں میں کہہ رہا تھا۔ ان کے سائے میرے قریب سے گزرتے گئے۔ ایسا کیوں ہوا کہ میرے دوستوں نے مجھے دیکھ کر مجھ سے بات تک نہیں کی؟
کیا یہ اس وجہ سے تو نہیںتھا کہ ایک سی۔ آئی۔ڈی۔ کاآدمی میرے پیچھے لگا ہواتھا۔
ایک بجے: میں مسٹر ’’پی‘‘ کے پاس پہنچا جو پہلے ایک اخبار کے ایڈیٹر تھے اور اب ایک دکان کے مالک۔ مجھے بھوک کی شدّت میں مشکل سے نظر آرہاتھا۔ پی نے پوچھا کہ ’’انقلاب‘‘ آنے میں کتنی دیر ہے۔
’’بہت جلد آنے والا ہے۔‘‘
’’اہا۔ہا۔کیا کوئی خاص بات؟
’’ارے کوئی بات نہیں، بس یوں ہی آگیا۔‘‘
میں اس کے قریب پڑی ہوئی کرسی پربیٹھ گیا۔ میرے بہت سے مضامین اس کے نام سے شائع ہوچکے تھے۔ اپنی شان دکھانے کی غرض سے اُس نے بہت سے پُرانے پرچوں کو یکجا کرکے جلد بندھوائی تھی۔ چکراتے ہوئے سرکے ساتھ اس کو دیکھنے لگا۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہاتھا اوراس سے آواز آرہی تھی ’’میں ایک کپ چائے پیناچاہتاہوں اور بہت تھکاہوا ہوں۔‘‘ ’’پی‘‘ مجھ سے چائے کے لیے کیوںنہیں پوچھ رہا ہے؟ کیا اُسے میری تکان نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ سنجیدگی سے گلے کے پاس بیٹھا ہواتھا۔ میں گونگا بناہواگلی کی طرف دیکھنے لگا۔ دوبھکاری لڑکے کوڑے کے ڈھیر میں پڑے ہوئے ایک ڈوسے کے ٹکڑے پر جھگڑ رہے تھے۔ میرے پورے وجود نے ایک خاموش التجا کی۔
’’ایک کپ چائے‘‘— ’’پی‘‘ نے اپنا بکس کھولا اور اس میں سے ایک آنہ نکال کر ایک لڑکے کو دے دیا۔
’’چائے لاؤ‘‘ اس نے کہا۔ میری کچھ ڈھارس بندھی۔ لڑکا چائے لینے کے لیے چلاگیا ’’پی‘‘ نے لڑکے کے لائے ہوئے چائے کا کپ لے کر میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’کیا تم چائے پیو گے؟‘‘
میں نے کہا ’’نہیں‘‘ او رمیں اپنے جوتے کے فیتے باندھنے کے بہانے جھک گیا۔ ’’پی‘‘ نے شکایت کی— ’’تم نے مجھے اپنی کوئی کتاب نہیں دی ہے۔‘‘
’’میں ضرور دوں گا۔‘‘
’’میں ان پر تبصرے پڑھتارہاہوں۔‘‘
’’خوب!‘‘ میں نے مسکرانے کی کوشش کی، لیکن جب دل بجھاہوا ہو تو چہرے پر مسکراہٹ کیسے آسکتی ہے؟
میں اُٹھااور سڑک پر چل دیا۔
سی۔آئی۔ڈی۔ کاآدمی میر اتعاقب کررہاتھا۔
دوبجے: میں تھکاماندہ اپنے کمرے میں آرام کرسی پر پڑا ہواتھا۔ ایک اجنبی عورت جو عمدہ کپڑے پہنے ہوئے تھی، میرے دروازے پر آئی۔ وہ کسی دور دراز علاقے سے آئی تھی۔ اس کاشہر سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگیاتھا۔
’’بہن، میرے پاس کچھ نہیں ہے۔کہیںاورجاؤ۔‘‘
’’اوہ‘‘ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ کورا جواب پاکر اٹھلاتی ہوئی چلی گئی۔ کیا مہک چھوڑگئی۔
تین بجے: اگر میں کسی سے قرض لیتاہوں تو اس میں کیابات ہے؟ میری نقاہت انتہاکو پہنچ چکی تھی، عجب بے بسی کاعالم تھا۔
میں کس کے پاس جاؤں؟ میرے ذہن میں بہت سے نام آرہے تھے لیکن کسی سے قرض لینا اپنی خودداری کو مجروح کرناہے…… کیا میں خود کشی کرلوں؟ موت کیسی ہوگی؟
ساڑھے تین بجے: میری زبان لڑکھڑاگئی۔ کاش میں اپنے آپ کسی سمندر کے ٹھنڈے پانی میں ڈوب سکتا! اسی حالت میں پڑا ہواتھا کہ مجھے کچھ ایڈیٹروں کے خط ملے۔ ان کا مطالبہ واپسی ڈاک میں کہانیاں مانگنے کاتھا۔ خطوں کو ایک طرف پھینک کر میں بے بسی سے پڑا رہا۔ بینک کلرک کرشنا پلّے کا ملازم لڑکا ماچس مانگنے آیا۔ میں نے اس سے پانی کاایک گلاس منگواکرپیا۔
’’مالک، کیا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے؟‘‘ لڑکا جانناچاہتاتھا۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
توپھر… ’’کیا آپ نے کھانانہیں کھایاہے؟‘‘
’’نہیں‘‘
’’کیوں نہیں کھایا؟‘‘
بچّے کا معصوم چہرہ، کالی آنکھیں، کالے دھبّے لگاہواکپڑا، جسے وہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ جواب کاانتظار کررہاتھا۔ میں نے اپنی آنکھیں بندکرلیں۔ اس نے آہستہ سے پکارا ’’مالک۔‘‘
’’ہوں‘‘ میں نے اپنی آنکھیں کھولیں۔
’’میرے پاس دوآنے ہیں۔‘‘
’’تو‘‘
اس نے جھینپتے ہوئے کہا۔
’’اگلے مہینے میرے گھر جانے سے پہلے آپ یہ پیسہ واپس دے دیں۔‘‘
میں اس کی بات سے بہت متاثر ہوا۔
’’لے آؤ‘‘ میں نے کہا۔
میری بات پوری طرح سُنے بغیر ہی وہ چلاگیا۔
اسی وقت میرا دوست گنگادھر آگیا۔ وہ سفید کھادی کی دھوتی اورسفید کھدّر کا جبّہ پہنے ہوئے تھا۔ اس کے کندھے پرنیلے رنگ کی شال پڑی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پرسنجیدگی طاری تھی۔ مجھے آرام کرسی پر بے تعلّق ساپڑا دیکھ کر اس نیتا نے مجھ سے کہا: ’’تم توبڑے بورژوا ہوگئے ہو۔‘‘ اگرچہ میرا سرچکرارہاتھا۔ پھربھی میں ہنس پڑا۔ مجھے تعّجب ہورہاتھا کہ یہ نیتا جو کپڑے پہنے ہوئے ہے، کس کے ہیں! میری باطنی آنکھوں کے سامنے اپنے ہر جاننے والے قومی کارکن کی تصویر گزر رہی تھی۔
’’تم کیوں ہنس رہے ہو؟‘‘ گنگا دھر نے پوچھا۔
’’ارے ، کچھ نہیں، بیٹے، مجھے تمہارے حلیے کو دیکھ کر ہنسی آگئی۔‘‘
’’مذاق بندکرو اور میری بات سنو۔ ایک بڑی پریشانی آپڑی ہے۔ قریب تین ہزار مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ وہ ڈیڑھ ہفتے سے بھوکے مررہے ہیں۔ یہ مصیبت بڑھ سکتی ہے۔‘‘
’’کیا بات ہے؟ اخباروں میں تو یہ خبرپڑھی نہیں۔‘‘ ’’اخباروں میں اس خبر کی اشاعت پر پابندی لگادی گئی ہے۔‘‘
’’یہ اچھی بات ہے۔‘‘
’’اس کے بارے میں مجھ سے کیا چاہتے ہو۔‘‘ اس سلسلے میں ایک جلسہ ہورہا ہے، میں اس کا صدر ہوں۔ وہاں کشتی سے پہنچنے کے لیے ایک آنے کی ضرورت ہے۔ آج میں نے کچھ نہیں کھایا…
’’تم میرے ساتھ چلو۔‘‘
’’بیٹے یہ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن میرے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے۔ کئی روز سے میرے منھ میں کھیٖل تک نہیں گئی ہے۔ آج میرا جنم دن ہے۔ میں نے اب تک کچھ نہیں کھایا۔ پھر بھی دیکھتے ہیں، تھوڑا انتظار کرو۔‘‘پھرگنگادھر، مزدوروں، قومی کارکنوں اورگورنمنٹ کے بارے میں بولنے لگا۔ میں اخبار کے ایڈیٹروں اورادیبوں کے بارے میں ذکر کرتا رہا۔ اس دوران ملازم لڑکا واپس آیا۔ میں نے اس سے ایک آنہ لیا اور چائے، بیڑی اور ڈوسا وغیرہ لانے کو کہا۔ وہ چائے اور چند بیڑیاں، ایک ڈوسا جو چھوٹا ساپاپڑ لگ رہا تھا، لے آیا۔ کسی امریکی اخبار کے کاغذ کا ٹکڑا جس میں ڈوسا لپٹا ہوا تھا۔ اس پر ایک تصویر چھپی ہوئی تھی، جو میری توجّہ کامرکز بن گئی۔ میں اور گنگا دھر ڈوسا کھانے لگے۔ ایک گلاس پانی پی کر چائے پی اور بیڑی جلائی اور ایک آنا گنگا دھر کو دے دیا۔ چلتے وقت اس نے مذاقاً مجھ سے کہا۔ ’’آج آپ کا جنم دن ہے نا۔ کیا آپ دنیا کے نام کوئی پیغام دیناچاہتے ہیں۔‘‘
میں نے کہا، ’’ہاں بیٹا‘‘ انقلاب سے متعلق ایک پیغام!
’’مجھے بتاؤ‘‘
’’ہرجگہ انقلاب کے شعلے بھڑکادو۔ موجودہ سماجی نظام کو جلاکر راکھ کردو اور ایک نئی دنیا پیداکرو۔‘‘
’’بہت اچھا، یہ پیغام مزدوروں تک پہنچادوں گا۔‘‘
گنگادھر تیزی سے چلاگیا۔ میں متعدد قومی کارکنوں اور ادیبوں کے بارے میں سوچ رہاتھا۔ یہ سب لوگ کس طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ لیٹ کر سوچتے سوچتے میں نے اخبار کا وہ ٹکڑا اٹھایا جس میں ڈوسا لپٹا ہوا تھا۔ تب ہی میں نے دیکھا کہ مالک مکان غصے کے عالم میں دروازے سے میری طرف آیا۔ میں شش وپنج میں تھا کہ اس سے کیا بہانہ کروں گا۔ اس لیے میں تصویر دیکھنے لگا۔ تصویر میں ایک ایسا شہر تھا جو فلک بوس عمارتوں سے بھرا پڑاتھا۔ ان عمارتوں کے درمیان ایک آدمی سراُٹھائے آہنی زنجیروں سے بندھا ہوا زمین پر کھڑا تھا لیکن وہ نہ تو زنجیروں کی طرف دیکھ رہا تھا اور نہ ہی زمین کی طرف۔ وہ بہت دور ستاروں سے پرے لامحدود خلا میں شعائیں بکھیرتے ہوئے روشنی کے ایک بڑے منبع کی طرف دیکھ رہاتھا۔ اس کے پیروں میں ایک کُھلی کتاب رکھی تھی۔ اس کے کھلے دوصفحات پر درحقیقت بنی نوع انسان کی تاریخ لکھی ہوئی تھی۔ وہ تحریر اس طرح تھی۔ ’’حالانکہ وہ زمین پر زنجیروں سے بندھا تھا لیکن اس کی نظریں زمان ومکاں سے ماورا مستقبل میں ہونے والی شاندار ترقّی پر تھیں۔
کہیے جناب، مالک مکان نے سرد مہری کے ساتھ کہا۔
’’کیا آج آپ کرایہ اداکرسکتے ہیں؟‘‘
میںنے کہا، ’’مجھے اب تک میرا پیسہ نہیں ملا ہے۔ چند روز میں ضرور اداکردوں گا۔‘‘ ’’ایسی زندگی کس کام کی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
یہ بات صحیح تھی۔ ایسی زندگی کس کام کی؟
تین سال پہلے میں اس عمارت میں آیاتھا۔ میں نے باورچی خانوں کی مرمّت کرائی تھی۔ ان میں سے ہر ایک خاصے اچھے کرائے پر اُٹھاہوا ہے۔ اب میں نے چوتھا اسٹور روم بنادیا ہے۔ تب وہ مجھ سے یہ کہتا ہے کہ یہ زیادہ کرائے پراُٹھ سکتا ہے۔ اگر میں اس کا زیادہ کرایہ نہیں دے سکتا تو میں اس کو خالی کردوں۔
نہیں۔ میں اس کمرے کو خالی نہیں کروں گا!
چاربجے:میں اس ملک سے اُکتاگیاہوں۔ اس شہر میں دلچسپی کی کوئی چیز نہیں ہے، مجھے یہاں وہی دکانیں، وہی سڑکیں اوروہی چہرے نظر آتے ہیں اور وہی باتیں سننے میں آتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ میں ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکتا۔
چھ بجے: شام سہانی تھی۔ ڈوبتا سورج خون کے ایک ایسے گولے کی طرح لگ رہاتھا جسے سمندر نے نگل لیاہو۔ آسمان کے مغرب میں سنہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سمندر بیکراں نظرآرہاتھا۔ نزدیک ہی لہریں مارتی ہوئی جھیل تھی۔ اس کا ساحل کتنا پُرسکون تھا۔ من چلے نوجوان سگریٹ پیتے ہوئے چہل قدمی کررہے تھے۔ نوجوان عورتیں شاندار ساڑیاں پہنے ہوئے دُزدیدہ نگاہوں اورشرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ وہاں آرام کررہی تھیں۔ دل لُبھانے کے لیے عشقیہ فلموں کے گیت بھی سُنے جاسکتے تھے۔ فضا میں پھولوں کی بھینی مہک گُھلی ہوئی… لیکن میرا دل ڈوبا جارہاتھا۔
سات بجے: ایک سپاہی گھر پر آیا اورمجھے دوبارہ اپنے ساتھ لے گیا۔ مجھے چکاچوند کردینے والے پیٹرومیکس لیمپ کے سامنے بٹھا دیاگیا۔ جب میں پولس والوں کے سوالوں کے جواب دے رہاتھا تو ڈپٹی کمشنر ٹہلتے ہوئے میرے چہرے کے تاثرات کا بڑی توجہ کے ساتھ مشاہدہ کررہاتھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی میرے چہرے سے نظرنہیں ہٹائی۔ ان نظروں میں کتنی حقارت تھی جیسے میں نے کوئی خوفناک جرم کیا ہو۔ مجھ سے ایک گھنٹے تک پوچھ تاچھ ہوتی رہی۔ کون کون میرے دوست ہیں؟ میرے پاس خط کہاں سے آتے ہیں۔کیامیں کسی خفیہ تنظیم کا ممبر تونہیں ہوں، جو حکومت کا تختہ اُلٹ دینا چاہتی ہے؟
’’میں آج کل کو ن سی نئی چیز لکھ رہا ہوں۔‘‘ مجھے صحیح صحیح پوری بات بتانا چاہیے۔
’’تم جانتے ہو کہ میں تمھیں شہر بدر کرسکتاہوں۔‘‘
’’میں جانتاہوں کہ میں بالکل بے بس ہوں ۔ اگر صرف ایک سپاہی چاہے تو گرفتار کرکے حوالات میں ڈال سکتا ہے۔‘‘
ساڑھے سات بجے: میں اپنے کمرے میں واپس آگیااور اندھیرے میں بیٹھا پسینہ پسینہ ہورہاتھا۔ آج میرے کمرے میں روشنی بھی نہیں تھی۔ تھوڑا سابھی مٹّی کاتیل کہاں سے لاتا اور بھوک کو مٹانے کے لیے کچھ کھانا بھی ضروری تھا۔ مجھے کھانا کون دے گا۔ کسی سے قرض بھی نہیں لے سکتا۔ اگر میتھیو سے کہاجائے تو؟ نہیں، میں چشمہ لگانے والے اس طالب علم سے قرض کے طورپر ایک روپیہ لوںگا۔ وہ اگلی عمارت میں رہتا ہے۔ اس نے اپنی حالیہ بیماری کے دوران انجکشنوں پر خاصی رقم خرچ کی تھی۔ آخرکار، وہ میری چار آنے والی دوا سے ٹھیک ہوا۔ اس کے بدلے میں وہ مجھے ایک مرتبہ سنیما دکھانے لے گیا تھا۔ اگر میں اس کے پاس جاکر ایک روپیہ مانگوں تو وہ انکار نہیں کردے گا۔
آٹھ بج کر پینتالیس منٹ: راستے میں میں نے میتھیو کے بارے میں معلوم کیا۔ وہ سنیما دیکھنے گیا ہواتھا۔ زور سے بولنے اور قہقہوں کی آواز سن کر میں دوسری عمارت کی بالائی منزل پر پہنچ گیا۔ وہاں سے سگریٹ کے دھویں کی بو اور گیس کی لالٹین کی روشنی آرہی تھی۔ میں بے بسی کا مجسّمہ بناہوا کر سی پر بیٹھ گیا۔ انھوں نے اپنی بات چیت جاری رکھی۔ قومی معاملات، سنیما، کالج کی لڑکیوں کی باتیں۔ ان لڑکیوں کاذکر جو دن میں دوبارساڑیاں بدلتی ہیں۔ اور اس طرح کی بہت سی باتیں۔ میں بھی ان کی باتوں میں شامل ہوکر اپنی رائے کااظہار کرنے لگا۔
نوبجے: میں نے اپنا بستر بچھایااور لیٹ گیا۔ لیکن مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ میرے سر میں درد ہورہاتھا۔ لیکن بستر پر پڑا رہا۔ مجھے دنیا کے بے بس غریب لوگوں کا خیال آیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں کروڑوں لوگ بھوکے پڑے ہوں گے۔ میں بھی ان کروڑوں لوگوں میں سے ایک تھا۔ مجھ میں کیا خاص بات ہے؟ میں بھی ایک غریب آدمی ہوں اور بس، جبکہ میں اس طرح سے لیٹاہوا سوچ رہاتھا…… میرے منھ میں پانی بھر آیا۔
میتھیوکے باورچی خانے سے سرسوں کے پروسنے کی آواز آرہی تھی…… اور اُبلے ہوئے چاولوں کی خوشبو بھی۔
ساڑھے نوبجے: میں کمرے سے باہر آیا۔ میرا دل اتنی تیزی سے اُچھل رہا تھا جیسے کہ وہ پھٹ جائے گا۔ اگر کسی نے دیکھ لیاتو! میں پسینے میں شرابور تھا۔ صحن میں کچھ دیر رُکا۔ قسمت سے بوڑھا نوکر ایک برتن اورلیمپ لیے ہوئے نکلا۔ اس نے دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا چھوڑدیا اورنل کی طرف چلاگیا۔ کم از کم اُسے دس منٹ ضرور لگیں گے۔ میں نے دروازہ کھولا اور باورچی خانے میں داخل ہوگیا۔
دس بجے: میں پسینے سے شرابور باورچی خانے سے نکلا لیکن میرا پیٹ بھرا ہواتھا۔ جب بوڑھا آدمی واپس آرہاتھا، میں نل کی طرف چلاگیا۔ تھوڑا پانی پیااور ہاتھ، منھ، پاؤں دھوئے۔ کمرے میں پہنچ کر بیڑی سلگائی اور کش لینے لگا۔ میں بالکل تھک چکا تھا۔ اس لیے لیٹ گیا۔ سونے سے پہلے مجھے یہ خیال آرہاتھا، کہیں بوڑھے کوپتا تونہیں چل گیا۔ اگر ایسا ہے تو میتھیو کو ضرور پتا چل جائے گا اور دوسرے طالب علموں اورکلرکوں کو بھی معلوم ہوجائے گا۔کم سے کم اپنے جنم دن پر آرام سے سوتو سکوں گا۔ یہ سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔ تب ہی ایک شخص میرے کمرے پرآیا۔
’’ہیلومسٹر…! میتھیو کی آواز آئی۔ مجھے پسینہ آنے لگا۔ میری نیند اڑگئی۔ سارا کھایا پیا برابر ہوگیا۔ میں سمجھ گیا کہ میتھیو کو پتا چل گیا ہے۔ بوڑھے کو پتا چل گیا ہوگا۔ میں نے دروازہ کھولا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسا کہ اندھیرے میں یکایک میں فلیش لائٹ کی زد میں آکر پکڑا گیاتھا۔
میتھیوکیاپوچھنے والاتھا؟
مجھے ایسا لگا جیسے خوف کے مارے دم نکل جائے گا۔
’’میں نے کہا: میں سنیما دیکھنے گیاتھا۔ وکٹرہیوگوکی لائزیبل لگی ہوئی ہے۔ یہ پکچرآپ کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ــ‘‘
’’ہوں، ہوں‘‘
’’کیاآپ کھاناکھاچکے ہیں؟ مجھے قطعی بھوک نہیں ہے۔ راستے میں ہم لوگ مارڈن ہوٹل چلے گئے تھے۔‘‘
’’بہت بہت شکریہ، میں کھاناکھاچکاہوں۔‘‘
’’اوہ! تو آپ آرام کیجیے۔‘‘
’’گڈنائٹ۔‘‘
’’اچھا ! گڈنائٹ۔‘‘
(ویکوم محمدبشیر)
(مترجم : ضیا الرحمن صدیقی)
مشق
سوالات
1. اس افسانے کاعنوان’’جنم دن‘‘ کیوں رکھاگیاہے؟ وضاحت کیجیے۔
2. ’جنم دن‘ افسانے کا خلاصہ بیان کیجیے۔
3. افسانہ نگار کے جنم دن کے واقعات میں کس واقعے نے آپ کو بے حد متاثر کیا اور کیوں؟
4. افسانے کے مرکزی کردار کی معاشی تنگدستی کا حال اپنے لفظوں میں لکھیے۔