Skip to content
QR5258CH05


5

15

نِرمَل ورما

1929 تا  2005
نرمل ورما ہندی زبان کے منفرد اور ممتاز فکشن نگارہیں۔ وہ  3؍اپریل  1929کو شملہ (ہماچل پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت وہیں ہوئی۔ اس کے بعد دہلی آگئے جہاں سینٹ اسٹیفنس کالج (دہلی یونیورسٹی) سے تاریخ میں ایم۔اے۔ کیا۔ کچھ عرصے تک تدریس کا کام بھی کیا۔ 1959میں چیکو سلو واکیہ کے مصنفین کی انجمن کی دعوت پر پراگ (چیکوسلوواکیہ) چلے گئے اور سات سال تک وہیں رہے۔ اس دوران میں انھوں نے کئی چیک شاہکاروں کے ہندی ترجمے کیے۔ اپنے قیام یورپ کے دوران انھوں نے ’’ٹائمس آف انڈیا‘‘ کے لیے وہاں کے تہذیبی وثقافتی اور سیاسی وسماجی مسائل پر کئی فکر انگیز مضامین اور رپورتاژ بھی لکھے۔ 
نرمل ورما ایک بے مثال تخلیق کار ہیں۔ انھوں نے افسانہ، ناول، ڈراما، سفر نامہ اور ڈائری، غرض کہ کئی صنفوں میں اپنی صلاحتیوں کا اظہار کیا ہے۔ ’’پرندے‘‘ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ اس کے بعد شائع ہونے والے افسانوی مجموعوں میں ’’جلتی جھاڑی‘‘، ’’پچھلی گرمیوں میں‘‘، ’’بیچ بحث میں‘‘، ’’کوّے اور کالا پانی‘‘ وغیرہ ہیں۔ نرمل ورما کے ناول ’’وے دن‘‘، ’’لال ٹین کی چھت‘‘، ’’ایک چیتھڑا سُکھ‘‘، ’’رات کا رپورٹر‘‘، ’’انتم ارنیہ‘‘ ناموں سے شائع ہوچکے ہیں۔ ’’چیڑوں پر چاندنی‘‘، ’’ہر بارش میں‘‘ وغیرہ ان کے سفر نامے ہیں۔ تنقیدی اور تہذیبی مسائل پر مضامین کے کچھ مجموعے اس کے علاوہ ہیں۔ 
نرمل ورما کو ان کی ادبی خدمات پر مختلف اداروں کی طرف سے متعدد انعامات واعزازات سے نوازا جاچکا ہے جن میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ،سادھنا سمّان، رام منوہر لوہیا سمّان، مورتی دیوی ایوارڈ، میتھلی شرن گپت سمّان اور بھارتیہ گیان پیٹھ کا انعام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ 2001 میں حکومت ہند نے انھیں پدم بھوشن کے اعزاز سے سرفراز کیا۔نرمل ورما کا انتقال دہلی میں ہوا۔


جلتی جھاڑی 


میں اس شہر میں پہلی بار آیا تھا۔ سوچا تھا، چند دن رہ کر آگے چلا جاؤں گا لیکن بعض ناگزیر وجوہات سے یہاں رُک جا نا پڑا۔ دن بھر ہوٹل میں رہتا اور جب اوٗب جاتا تو اکثر گھومتے ہوئے اُس مقام کی طرف قدم بڑھ جاتے۔ اجنبی شہروں میں بھی ہر مسافر اپنے پسندیدہ گوشے ڈھونڈ لیتا ہے۔
کئی بار وہاں جانے کی طبیعت ہوئی۔ رات کو کسی سستے ریسٹورینٹ کی تلاش کرتے وقت اکثر اس طرف نگاہ چلی جاتی یا کبھی ٹرام کی کھڑکی سے پُل پار کرتے ہوئے ایک دبی سی خواہش جاگ اٹھتی ۔ دل چاہتا، یہیں اُتر جاؤں لیکن ایک ہلکی سی ہچک ابھرآتی اور میں اس کے نیچے دَب جاتا ہوں۔
وہ دن کچھ الگ سارہا ہوگا۔ میں دن بھر ہوٹل کے کمرے میں سوتا رہا۔ کچھ ضروری خط لکھے اور انہیں پوسٹ کرنے کے بہانے باہر چلا آیا۔
واپسی میں مَیں نے جان بوجھ کر راستہ بدل لیا ۔ ممکن ہے کہ میں نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا ہو۔ ایسا اکثر ہوتا ہے۔ جب کبھی میں دن بھر سوکر باہر آتا ہوں تب خود کو ایک نئے سرے سے ڈھیلا چھوڑدینے کی خواہش ہوتی ہے۔ خاص طور پر اجنبی شہروں میں جہاں ہمیں کوئی نہیں پہچانتا اور ہم کسی شرمندگی اور جھجھک کے بغیر ایک راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر ہولیتے ہیں۔
ایسا ہی پت جھڑ کا ایک دن تھا جب میں وہاں چلا آیا تھا۔ وہ ایک جزیرہ تھا۔ شہر کے کنارے جہاں پہاڑی شروع ہوئی ہے، ندی کے دو دھارے قینچی کی طرح اسے بیچ سے کاٹ گئے تھے۔ پُل کے نیچے لمبی گھاس پانی میں بھیگی رہتی تھی۔ کنارے پر دور دور لال تختوں کی بنچیں پڑی تھیں۔ ان دنوں یہ اکثر خالی رہتی تھیں۔ بالکل خالی بھی نہیں۔ پتّے لگاتار اُن پر جھڑتے رہتے۔ جب کبھی ہوا کا کوئی جھونکا انھیں اُڑالے جاتا تو وہی جھونکا واپس مُڑکر دوسرے پتّوں کو اُن پر بکھیر دیتا۔ وہ کبھی زیادہ دیر تک خالی نہیں رہتی تھیں۔ پانی بہتا رہتا۔ اس کی آواز کے ساتھ ہمیشہ ایک اور آواز دل میں آتی تھی …… کسی دن وہاں جاؤں گا۔
ایسے ہی ایک پت جھڑکے دن میں وہاں چلا آیا تھا۔کنارے کنارے چلتے ہوئے میں ان بچّوں سے الگ تھا جو پُل کے نیچے کھیل رہے تھے۔ انھوں نے شاید مجھے دیکھا بھی نہیں۔ وہ پتّوں کا ڈھیر بنا دیتے تھے اور انھیں ماچس سے جلا کر بھاگ جاتے تھے۔ شام کی مدّھم دھوپ میں دھوئیں کے دائرے پھیل جاتے۔ ایک سوندھی بوٗ جزیرے کے اِرد گرد ہوا میں پھیل جاتی تھی۔
میں پُل سے دور چلا آیا۔ دوسری طرف پیڑوں کی ننگی شاخیں پانی کو چھوٗرہی تھیں۔ وہاں گیلی گھاس کا ایک ٹکڑا ندی کے کنارے تک چلا گیا تھا۔ ڈھلان پر اُترتے ہی نگاہ اچانک اس پر ٹک گئی۔ پاؤں ٹھٹھک گئے۔ 
وہ بوڑھا آدمی تھا۔ ایک چھوٹی سی کرسی پر بیٹھا تھا۔ بالکل خاموش، بے حس وحرکت۔ منھ میں پائپ دبی تھی، جو نہ جانے کب کی بجھ چکی تھی۔ ہاتھ میں مچھلی پکڑنے کا کانٹا تھا — ندی کے کنارے گندلے پانی میں دور تک ڈوبا ہوا لیکن اس کا دھیان کانٹے کی طرف نہیں تھا۔ وہ جزیرے سے پَرے شہر کے پُلوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ رہ رہ کر منھ میں دَبی پائپ ہِل اٹھتی تھی۔
وہ جزیرے کا ساکت کنارہ تھا۔ میں بے مقصد گھومتا ہوا تھک گیا تھا۔ اپنا چمڑے کا بیگ میں نے بھیگی گھاس پر رکھ دیا اور وہیں بیٹھ گیا۔
میرے بالکل قریب ایک ننگا درخت کھڑا تھا۔ بارش میں بھیگا لیکن گرم۔ اس کی گرمی دھیرے دھیرے مجھے چھوٗنے لگی۔ پچھلے ایک ہفتے سے اس شہر میں پانی برستا رہاتھا۔ گھاس کے نیچے مٹّی نم تھی اور اتنی ملائم کہ پیر نیچے دبنے لگتے تھے۔
یہ پہلا دن تھا جب بارش تھمی تھی۔ بادل اب بھی تھے۔ کچھ جزیرے پر، کچھ ہٹ کر شہر کی پہاڑی پر لیکن اب وہ خالی اور ہلکے تھے اور ہوا میں اُڑتے معلوم ہوتے تھے۔
16
میں بہت دیر تک وہاں بیٹھا رہا۔ اس دوران بوڑھے نے ایک بھی مچھلی نہیں پکڑی۔ ایک بار کانٹا ہِلا تھا۔ اس نے لپک کر ڈنڈی کھینچی۔ میں نے سوچا، اب ایک تڑپتا ہوا گوشت کا لوتھڑا اوپر آئے گا۔ میں خود شاید اُتاؤلے پن میں پانی کے پاس چلا آیا لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس نے ندی سے کانٹا باہر نکالا ۔ پھر میری طرف دیکھ کر ہنسنے لگا۔ کانٹا خالی تھا۔ مچھلی بہت صفائی سے اپنا کھانا چُرا لے گئی تھی۔
ہم دونوں پھر اپنی اپنی جگہ چپ چاپ بیٹھے رہے۔ بوڑھے نے اپنے کانٹے میں چارہ بھرا اور پھر دور ہوا میں اُچھال کر اسے پانی میں ڈبودیا۔ بہتے پانی پر ایک چوڑا سا دائرہ پھیل گیا۔ دھوپ میں پارے کی طرح چمکتا ہوا اور پھر مٹ گیا۔
اس نے اپنی پائپ دوبارہ سُلگالی اور پُرانے اوورکوٹ کے کالر اوپر کانوں تک چڑھالیے۔ پانی پر تیرتی دھوپ کا ایک حصّہ بچّوں کے لٹّو سا گھومتا ہوا کنارے آلگتا تھا اور ٹوٹ جاتا تھا، لیکن بوڑھے کا دھیان اُدھر نہیں تھا۔ میں طے نہیں کرپایا کہ اس کی آنکھیں کس خاص مرکز پر ٹکی ہیں۔ اس کی آنکھیں کھلی ہیں یا بند، یہ بھی ٹھیک ٹھیک کہہ پانا مشکل تھا۔
لیکن رفتہ رفتہ میرا گمان پختہ ہوتا گیا۔ یہ اندیشہ کس بات کے لیے تھا، میں آج تک ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا لیکن یہ سچ ہے کہ انجانے شبہات ضرور تھے۔ وہ صرف ایک بار مجھے دیکھ کر ہنسا تھا لیکن حیرت ہے کہ اُس وقت بھی اس نے مجھے پورے طور پر نہیں دیکھا تھا، میری طرف متوجّہ ہوکر اُسے ہنسنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
مجھے اپنے اندر ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہونے لگی۔ اُسے میرے وجود کا ذرا بھی احساس نہیں۔ حالاں کہ میں اس کے اتنے قریب بیٹھا ہوں — یہ مجھے بے حد غیر فطری معلوم ہوا۔ انجانے شہر میں اپنائیت کی بھوک اتنی مستحکم ہوتی ہے، یہ اس سے پہلے میں نہیں جان پایا تھا۔
بے شک وہ کسی مخصوص شے پر اپنی آنکھیں ٹکائے ہوئے تھا، ایسا کچھ جو میری آنکھوں کے دائرے سے باہر تھا۔
لیکن میں نے کوشش کی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے شہر کا سب سے پرانا پُل تھا۔ اُس کے پَرے نیشنل تھیٹر کی دیواریں اور چھت اور بیچ میں پُل کا ٹاور جو شام کی ڈوبتی روشنی میں جِھلملا رہا تھا، لیکن یہ ایسی چیزیں تھیں جنھیں اس شہر میں چلتے ہوئے اور گلیوں سے گزرتے ہوئے ہم روز دیکھتے تھے۔ ان میں کچھ خاص یا غیر معمولی کم از کم اس بوڑھے کے لیے تو نہیں تھا جو شاید برسوں سے اس شہر میں رہتا تھا۔ میرا گمان پھر بیدار ہونے لگا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ہے انوکھا یا بالکل علاحدہ…
لیکن کیا یہ آدمی دیکھ سکتا ہے؟ اچانک میرے ذہن میں یہ بے تکا خیال اُبھرا۔ وہ بہت بوڑھاہے۔ ہوا کا ہلکا سا جھونکا آیا ۔ دھوپ دھیرے دھیرے اُترنے لگی۔ پورے جزیرے پر ایک منجمد خاموشی گھِرنے لگی۔ پتّے پانی پر جھڑتے تھے اور بہہ جاتے تھے۔ صرف دھوپ کے ٹکڑے باقی رہ گئے تھے— پتّھروں پر، ٹہنیوں پر۔ کچھ دیر بعد شام انھیں لے کر چلی جائے گی— صرف ہم دونوں وہاں بنے رہیں گے۔
لیکن نہیں … وہ جا رہا ہے۔ میری نگاہیں اچانک اوپر اُٹھ گئیں۔ وہ سچ مچ جارہا تھا۔ اس نے مچھلی پکڑنے کے کانٹے کو پانی سے باہر نکال لیا۔ کینوس کی کرسی کو لپیٹ کر بغل میں دبا لیا۔ اس نے بہت پُرانا زردباؤلر ہیٹ پہنا اور پائپ منھ سے نکال کر جیب میں رکھ لیا۔ مچھلی پکڑنے کا جھولا جو خالی تھا اس نے کانٹے کی ڈنڈی پر لٹکا لیا تھا۔
نہ جانے کیوں اس لمحے میرے اندر ایک عجیب سی جُھرجھری پھیل گئی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت پیچیدہ طریقے سے اُس آدمی پر منحصر ہوگیا ہوں اور اس کے جانے سے ہی میں وہ کھو دوں گا جو ایک مدّت سے میرے اندر پلتا رہا ہے۔ اس کا یہاں رہنا شاید میرے رہنے سے جُڑا ہوا ہے لیکن اس لمحے شاید کچھ ہوا۔ شاید سوکھے پتّوں کی کھڑکھڑاہٹ یا شاید کوئی پتّھر پانی میں لُڑھک گیا ہوگا اور وہ چونک گیا۔ اس کے پاؤں دھرتی پر بندھے سے رہ گئے جیسے کسی نے اُسے پکڑ لیا ہو۔اُس نے ایک بار پیچھے مُڑ کر دیکھا۔ندی کے بہتے پانی کی طرف اور پھر تیزی سے قدم بڑھاتا ہوا میرے سامنے سے نکل گیا۔
جاتے ہوئے اس نے ایک بار بھی میری طرف نہیں دیکھا۔ کچھ دیر تک جزیرے میں اس کے نیچے دبتے پتّوں کی چرمراہٹ سُنائی دیتی رہی۔ پھر سب پہلے جیسا خاموش ہوگیا۔
چند لمحوں کے بعد میں اپنی جگہ سے اٹھا اور اسی جگہ پر بیٹھ گیا جہاں کچھ دیر پہلے بوڑھا مچھوارا بیٹھا ہوا تھا۔ گیلی مٹّی پر اُس کے جوتوں کے نشان اب بھی دکھائی دیتے تھے۔ بہت لمبے نہیں لیکن کافی چوڑے اور آگے کی طرف تھوڑے بے ڈول۔ وہ مجھے معمولی معلوم ہوئے اور زیادہ دیر تک میرا دھیان اُن پر نہیں ٹِک سکا۔
تھوڑا اور وقت گزرا۔ بعد میں جب میرا دھیان اپنی طرف گیا تو مجھے حیرانی سی ہوئی۔ در اصل ایک وقفے سے میں بغیر کسی خاص ارادے کے اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں کچھ دیر پہلے بوڑھے کی آنکھیں لگی تھیں۔ کنارے کے پاس لگی جھاڑیوں پر کچھ پرندے اُڑے۔ پُشتے سے کچھ دور ایک بہت پُرانے گرجا گھر کے شیشے پر آخری دھوپ کا دھبّا چمک رہا تھا۔ اس کا سایہ ایک ڈبڈباتی سرخ آنکھ کی طرح دریا کے بیچ چمک جاتا تھا۔
میں نے سوچا، کوئی نہیں جانے گا کہ کچھ دیر پہلے تک وہ بوڑھا یہاں، اسی جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس خیال سے مجھے اطمینان ہوا کہ میں نے اس سے چھٹکارا پالیا۔ بہت ممکن ہے کہ وہ محض گمان ہو، ایک جھوٹا بھٹکا ؤ جو اکثر اجنبی شہروں میں گھومتے ہوئے ہو جاتا ہے۔ ہوٹل کے کمرے میں پہنچتے ہی جب میں اپنے کو نئے سرے سے اکیلا پاؤں گا تو ہر چیز اپنے موزوں اور اصلی دائرے میں لوٹ آئے گی۔
سامنے پُل پر ٹرام جارہی تھی۔ اس کی بتیّوں کا سایہ چمکیلے جھالر کی طرح پانی پر پھسلتا رہا۔ کچھ لوگ کھڑکی سے باہر اس جزیرے کو دیکھ رہے تھے بالکل اسی طرح فطری ڈھنگ سے جیسے میں آرپار جاتے ہوئے دیکھا کرتا تھا، لیکن اب میں کھڑکی سے لٹکے ہوئے ان کے چہروں کو دیکھ کر بے چین ہوگیا۔ اپنے آپ پر شبہ ہونے لگا جیسے یہاں آکر میں نے کوئی غلطی کرڈالی ہو… مجھے بھی اُن کی طرح پُل کے پار سیدھے چلے جانا چاہیے تھا۔
کوشش کروں تو اَب بھی جاسکتا ہوں صرف…
مجھے اپنے پیچھے ہلکی سی آہٹ سنائی دی۔ دو لڑکے میری طرف بہت دھیمی رفتار سے چلے آرہے تھے۔ اس شہر کے دوسرے لڑکوں کی طرح اُن کے سَر گول اور نیلی ٹوپیوں سے ڈھکے تھے۔ چھوٹے لڑکے کے ہاتھ میں ایک چوڑا رنگ برنگا رومال تھا۔ وہ پیڑوں سے جھڑے ہوئے پیلے اور مرجھائے پتّوں کو اُس رومال میں بٹورتا جارہا تھا۔ بڑا لڑکا— جو پہلے سے قد میں اونچا تھا لیکن عمر میں زیادہ بڑا نہیں لگتا تھا، بے دلی سے ایک چھوٹی سی ٹہنی ہوا میں گُھماتا ہوا چل رہا تھا۔ دونوں جزیرے کے آخری کنارے تک آگئے تھے۔ اس جگہ تک جہاں کنارے پر لگی جھاڑیاں پانی میں بھیگ رہی تھیں۔
چھوٹا لڑکا دبے قدموں سے ڈھلان پر اُترا اوراس نے رومال میں بندھے سارے پتّوں کو پانی میں ڈال دیا۔ پھر اُس نے اپنے کوٹ کی دونوں جیبوں سے کچھ اور پتّے نکالے— گیلی مٹّی میں لتھڑے پتّے— اور پھر انھیں بھی دونوں ہاتھوں سے بہتے پانی میں اُس نے بہادیا۔ اس بیچ مجھے محسوس ہوا کہ بڑا لڑکا مجھے دیکھ رہا ہے — اب بھی وہ چھوٹی سی ننگی ٹہنی ہوا میں گھما رہاتھا۔ اس کے دانتوں کے بیچ گھاس کا ایک تنکا تھا جسے وہ برابر چبائے جارہاتھا۔ چھوٹا لڑکا پتّوں کو بہا کر اوپر آگیا۔ دونوں اب ایک ساتھ کھڑے مجھے دیکھ رہے تھے۔ 
ایک نگاہ ہوتی ہے— سیدھی، مستقل اور مستحکم۔ اس میں ہم بندھ جاتے ہیں اور ریل کی طرح کھنچتے چلے جاتے ہیں۔ مجھے اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔ سوئی کی نوک کے نیچے جیسے کوئی کیڑا دب جاتا ہے، بدحواس ہوکر تلملاتا ہے پھر ٹھہرجاتا ہے، حواس باختہ، بے ہوش اور ساکت … ویسے ہی، بالکل ویسے ہی۔
پھر بڑا لڑکا آگے بڑھا۔ بڑی سادگی سے وہ میرے نزدیک چلا آیا۔ مجھے محسوس ہوا، اس کا میرے پاس چلا آنا بالکل فطری تھا۔ ایسا لگا کہ پچھلے چند لمحوں سے میں خود اس کے لیے منتظر تھا۔
آج کیسے ہو؟ اس نے پوچھا۔ میں کچھ بھی کہہ پاتا لیکن مجھے محسوس ہوا، پیچھے کھڑا لڑکا بہت ہی نفرت آمیز انداز میں مسکرارہا ہے۔
’’آج بھی خالی ہاتھ ہو؟‘‘
’’خالی ہاتھ؟‘‘ میری آنکھیں اپنے ہاتھوں پر جُھک گئیں۔ وہ سچ مچ خالی تھے۔
’’میرا مطلب ان سے نہیں ہے‘‘۔ بڑے لڑکے نے اسی پُر اعتماد اور واضح آواز میں کہا: ’’آج بھی تم کچھ نہیں پکڑپائے؟‘‘
’’لیکن تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں وہ نہیں ہوں، جسے تم تلاش کررہے ہو۔ وہ تو کب کا چلا گیا۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
میں نے اپنے چاروں طرف دیکھا۔ جزیرے پر ڈوبتے سورج کی پیلی اور مَیلی سی لالی پھیل گئی تھی۔ دورپُل کے پاس جلتے پتّوں کے ڈھیر سے اب بھی دھواں اُٹھ رہا تھالیکن وہ کہیں بھی نہیں تھا۔ صرف ہوا چلنے سے پتّے بنچوں سے لڑھک کر زمین پر گرنے لگے تھے۔
’’وہ اب یہاں نہیں ہے‘‘میں نے کہا لیکن نہ جانے کیوں اس بار میری آواز میں پہلے جیسا استحکام نہیں تھا۔
’’لیکن تم تو یہاں ہر روز آتے ہو؟‘‘چھوٹے لڑکے نے کہا۔’’ ادھر دیکھو، تمھارے بوٹ کے نشان اب بھی ہیں۔‘‘
میں نے دیکھا، میرے پیر سے قریب، اب بھی وہ نشان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بھرا بھرا سا، چوڑا اور آگے کی طرف سے ذرا بے ڈول۔ ٹوٹی، اُکھڑی ہوئی گھاس کے بیچ جوتے کی صاف اور سالم چھاپ۔ بدن کے ایک کٹے حصّے کی طرح وہ نشان گیلی زمین سے چپکارہ گیا تھا۔
’’لیکن وہ میرا نہیں ہے۔‘‘ کچھ بے یقینی کے ساتھ کمزور لہجے میں مَیں نے ردِّ عمل کا اظہار کیا۔ دونوں چپ چاپ کھڑے رہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ دونوں انتظار کررہے ہیں کہ ثبوت دینے کے لیے اپنے پاؤں آگے بڑھاؤں گا۔ خود میرے لیے یہ بات غیرفطری نہیں تھی لیکن کوئی طاقت مجھے روک رہی تھی۔ میں پوری طاقت سے اپنے پیروں کو لمبی گھاس میں چھپائے کھڑا رہا۔ 
اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایسا محسوس ہوا کہ ان کی دل چسپی میری ذات میں ختم ہوگئی۔ چھوٹا لڑکا حسبِ سابق اپنے رومال میں نیچے گرے پتّوں کو بٹورتاہوا دور نکل گیا۔ بڑا لڑکا وہاں کچھ دیر تک کھڑارہا  —میری طرف سے بے فکر اور لاتعلّق۔ 
میں اچانک چونک گیا۔ وہ اسی جگہ کھڑا تھا جہاں بوڑھا چلتے چلتے چند لمحوں کے لیے ٹھٹھک گیا تھا۔ اسی جگہ اس کی آنکھیں کسی مرکز پر جاٹِکی تھیں، جہاں بوڑھا اتنی دیر سے ایک ٹک دیکھ رہا تھا۔ 
یہ محض اتّفاق تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں کیوں کہ کچھ دیر بعد ہی اُس نے اپنے پاس پڑے ایک ڈھیلے کو ٹھوکر مار کر پانی میں لڑھکادیا۔ پانی ہِلا۔ کہیں بہت نیچے بہت سی پرتیں کُھلتی چلی گئیں۔ جھاڑی کے پاس گیلی مٹّی پر رینگتے ہوئے کیڑوں کی قطار لمحہ بھر رُک کر پھر آگے بڑھ چلی۔ اس نے منھ کا تنکا پانی میں تھوک دیا۔ سر سے ٹوپی اُتار کر اُسے ہوا میں ایک دوبار جھٹکا کر اُس نے پہن لیا۔ پھر اسی پُرانے انداز سے ٹہنی کو ہوا میں گھماتا ہوا چھوٹے لڑکے کے پیچھے چل دیا۔
اتنا ہی ہوا۔ دونوں چلے گئے تھے، مجھے اپنے حال پر چھوڑ کر ۔ میں پھر وہاں اکیلا چھوٹ گیا لیکن اُن کے جانے کے بعد پہلے جیسا اکیلا پن واپس نہیں آیا۔ جب تک اکیلا پن ساتھ رہتا ہے،صحیح معنوں میں تب ہم اکیلے ہوتے ہیں۔ اب میں صرف اپنے ساتھ تھا اور مجھے یہ خیال خوف ناک لگا کہ وہ دونوں مجھ سے کچھ چھین کر لے گئے ہیں جو اَب تک میرے ساتھ تھا۔ 
اس کے بعد میں زیادہ دیر تک وہاں نہیں بیٹھ سکا۔ میں پھر اپنی پُرانی جگہ واپس آگیا – پیڑ کے تنے کے پاس  – جہاں اَب بھی میرا بیگ رکھا تھا۔
شہر کی پہاڑیاں اب اندھیرے میں چھپ گئی تھیں لیکن ان کے اوپر پیچھے کی طرف سے اٹھتے ہوئے گوتھک گرجا کے مینار ایک نیم فراموش خواب کی طرح ہوا میں ٹنگے تھے۔ انھیں دیکھ کر لگتا تھا جیسے ایک لحیم شحیم پرندہ اڑتا ہوا اچانک ٹھٹھک گیا ہو، پہاڑی اور کُھلے آکاش کے درمیان اس کے دونوں پر اوپر کی طرف مڑ گئے ہوں اور پتھرا گئے ہوں خالی ہوا میں۔
جزیرے سے کچھ دور شہر کے پُرانے پُل کی بتّیاں جھجھکتی سی ایک کے بعد ایک جلنے لگی تھیں۔ بہتے پانی میں ان کا سایہ ٹمٹماتی موم بتّیوں کی طرح کانپ جاتا تھا۔
بہتے پانی کو دیکھنا ایک عجیب احساس ہے۔ زیادہ دیر تک ٹکٹکی لگا کر دیکھتے رہو تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے وجود میں سے بھی کچھ ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے ساتھ بہہ رہا ہے۔ ہمارے اندر دوری کے جو حصّے ہیں، جنھیں کبھی کبھار سوتے ہوئے نیند کی لہریں بھگو کر واپس لوٹ جاتی ہیں جو ہماری آدھی اندھیری زندگی کا حصہ ہیں۔ لگتا ہے، جیسے وہ سیاہ گہرے پانی کے اندر سے انھیں جھانک رہے ہوں، ہمیں دیکھ رہے ہوں۔
کیا پہلے میں نے کبھی دیکھا ہے — ان دونوں لڑکوں کو، جو ابھی ابھی یہاں سے چلے گئے۔ اس شہر میں میں اجنبی ہوں۔ اگر آج رات اچانک میں یہاں سے چلا جاؤں تو ہوٹل کے مینیجر اور پولیس کے علاوہ کسی کو کچھ بھی پتا نہیں چلے گا ۔ نہیں ، یہ صرف میرا گمان ہے۔ انھوں نے مجھے پہچاننے میں غلطی کی ہے۔ ایسا دھوکا اکثر ہوجاتا ہے۔ ہوسکتا ہے، وہ مذاق کر رہے ہوں۔ بچے اکثر غیر ملکیوں کو دیکھ کر مذاق کرتے ہیں۔
مجھے ذرا سی خوشی ہوئی کہ وہ چلے گئے۔ میں جان بوجھ کر اس خوشی کو چھپاتا رہا جیسے میں اس پر شرمندہ ہوں۔ جزیرے پر صرف جلتے ہوئے پتّوں سے دوچار بجھتی ہوئی لپٹیں اُٹھ جاتی تھیں۔ بچے انھیں اسی طرح جلتا ہوا چھوڑکر بہت پہلے جاچکے تھے۔ اب چاروں طرف خاموشی تھی — اسی طرح تواتر کے ساتھ، جیسے بہتے پانی کی آواز۔ اس بیچ جزیرہ اور ندی کی سرحد مٹ گئی تھی یا شاید مٹی نہیں تھی۔ اندھیرے میں پانی کو پہچاننا مشکل تھا۔ بہت غور سے دیکھنے پر ایک ہلکی سفید رقیق لکیر نظرآتی تھی جس پر شام کی ہوا تھی جو کبھی پانی میں پُل کی بتّیوں کو جھکجھوڑ کر آگے کھسک جاتی تھی۔
سردی اچانک بڑھ گئی۔ میں وہاں سے جانے کا ارادہ کررہا تھا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ میں وہاں بالکل اکیلا نہیں ہوں۔ دائیں جانب، جہاں جھاڑی تھی، ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی۔ پہلے دو دھندلے سائے دکھائی دے رہے تھے، بعد میں انھیں صاف صاف الگ دیکھ پایا۔ لڑکی کے اسکرٹ کا اگلا حصہ شاید جھاڑی میں پھنس گیا تھا۔ اور وہ اسے نکالنے کے لیے نیچے جُھکی تھی۔ شاید جھاڑی کی سرسراہٹ نے ہی میرا دھیان اُن کی طرف کھینچا۔ اُس کے پیچھے جو دوسرا آدمی تھا، اُسے میں پہلی نگاہ میں دیکھ نہیں پایا تھا۔ شاید اس لیے بھی کہ وہ بغیر ہِلے ڈلے بالکل خاموش کھڑا تھا۔ شاید اس لیے بھی کہ اس کے لمبے اوور کوٹ نے اندھیرے میں اسے کچھ اس ڈھنگ سے چھپا لیا تھا کہ غور سے دیکھے بغیر اس کے علاحدہ وجود کو پہچاننا ناممکن تھا۔
میں نے سوچا: مجھے وہاں سے چپ چاپ اُٹھ کر چلے جانا چاہیے…
دوسرے دن صبح میں وہ شہر ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلا گیا۔

                                                                                                               

                                                                                                              (نرمل ورما)

                                             مشق

سوالات

1.  نرمل ورما نے سیر وسیاحت کے دوران مسافر کی جن کیفیات کا ذکر کیا ہے، انھیں اپنے لفظوں میں بیان کیجیے۔
2.  افسانہ نگار نے بوڑھے مچھوارے کی تصویر کشی کس انداز میں کی ہے؟ 
3.  جزیرے کے کنارے اور پُل کے ساتھ غروبِ آفتاب کے جو مناظر نرمل ورما نے پیش کیے ہیں، ان پر تبصرہ کیجیے۔
4.  نرمل ورما کے اس افسانے کو مختصراً اپنے لفظوں میں بیان کیجیے۔