Skip to content
QR5258CH06

6

 انشائیہ

لفظ انشا اردو میں کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے۔انشائیہ بھی اسی لفظ سے بنا ہے۔محققین کا خیال ہے کہ لفظ Essay  عربی لفظ ’’السّعی‘ ‘سے نکلا ہے جو لفظ انشاکا بدل ہے۔ ’السّعی‘ فرانسیسی میںEssai  اور انگریزی میںEssay بنا۔ 
      ابتدا میں مضمون نگاری اور انشائیہ نگاری میں زیادہ فرق نہیں تھا،مگر رفتہ رفتہ ان میں فرق پیدا ہوتا گیا،یہاں تک کہ انشائیہ ایک علاحدہ صنف قرار پائی۔انشائیہ نگاراپنے مخصوص ذاتی مشاہدات اور تاثرات کو بے باکی اور بے تکلفی سے بیان کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انشائیہ میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ موضوعات سے متعلق خیال کے تمام مرحلے خوش طبعی کے ساتھ طے کیے جاتے ہیں۔یہ بات میں بات پیدا کرنے کا فن ہے۔انشائیہ نگار مفہوم سے خالی گفتگو میں بھی معنی پیدا کردیتا ہے لیکن کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔اختصار اس کی پہچان ہے۔ اس میں مزاح یا ٹھٹھول کی جگہ ہلکی پھلکی زیرِ لب ہنسی پنہاں ہوتی ہے۔خیال آفرینی اس کی ایک اہم خصوصیت ہے ۔
اردو میں انشائیے کی ابتدا سر سید احمد کے رسالے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ سے ہوتی ہے۔ مولوی نذیر احمد اور ذکاء اللہ کے بعد ’’اودھ پنچ‘‘ اور’’مخزن‘‘ نے اسے فروغ دیا۔میرناصر علی، سجاد حیدر یلدرم، سلطان حیدر جوش، سجاد انصاری ،نیاز فتح پوری، مہدی افادی، فرحت اللہ بیگ،قاضی عبدالغفار، پطرس بخاری، سید محفوظ علی بدایونی، خواجہ حسن نظامی رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی نے اس صنف کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
17

پَطرس بخاری

1958 تا   1898

ان کا اصلی نام احمد شاہ بخاری تھا۔ اردو ادب میں پَطرس کے قلمی نام سے مشہور ہوئے۔ پشاور میں پیدا ہوئے۔ انگریزی میں   ایم۔ اے کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں انگریزی کے استاد مقرّر ہوئے۔ اس کے بعد دہلی ریڈیو اسٹیشن سے وابستہ ہوکرڈائرکٹر جنرل کے عہدے پر مامور رہے۔
پَطرس بخاری اردو ادب کے معدُودے چند لکھنے والوں میں سے ہیں جنھوں نے اگرچہ کم لکھا،  لیکن شہرت بہت حاصل کی۔ پطرس کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ’’ مضامینِ پطرس‘‘ کُل گیارہ مضامین پر مشتمل ہے، مگر اس مختصر کتاب میں قہقہوں کی ایک رنگا رنگ دنیا آباد ہے۔ انھوں نے انگریزی ادب کے مطالعے سے فائدہ اٹھایا۔ ان کی تحریر پر انگریزی طرز کی گہری چھاپ ہے۔ ان کی عبارت میں شوخی، شگفتگی، روانی اور بے ساختہ پن نمایاں ہے۔ سیدھی سادی باتوں سے مِزاح پیدا کرنا، لفظوں کے اُلٹ پھیر سے جملے چُست کرنا اور خود کو مذاق کا موضوع بنا کر اپنے اوپر ہنسنا ان کا خاص انداز ہے۔ وہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی سچّائیوں پر نظر رکھتے ہیں اور اپنے پڑھنے والوں کو خوب ہنساتے ہیں۔ ان کی ظرافت نہایت خوش گوار اثر چھوڑتی ہے۔
زیر نظر مضمون ’’مرحوم کی یاد میں‘‘ پطرس بخاری کا شاہکار ہے۔ اس میں انھوں نے اپنے ایک دوست کی پرانی سائیکل کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس پرانی سائیکل پر سوار ہوکر اپنے سفر کرنے کی روداد اتنے دلچسپ پیرائے میں بیان کی ہے کہ اسے بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔پطرس کے مزاح میں شائستگی اور خوش مذاقی کا انداز بہت نمایا ں ہے۔ اپنے فطری مزاح کی وجہ سے پطرس کی تحریر یں ہمیشہ شوق کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔

مرحوم کی یاد میں


ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چُپ چاپ بیٹھے تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہوجائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں، یہی حالت ہماری تھی۔ ہم دونوں اپنے اپنے خیالات میں غرق تھے۔ مرزا صاحب تو خدا جانے کیا سوچ رہے تھے، لیکن میں زمانے کی ناسازگاری پر غور کررہا تھا۔ دور سڑک پر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک موٹرکار گزر جاتی تھی، میری طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں جب کبھی کسی موٹر کار کو د یکھتا ہوں، مجھے زمانے کی ناسازگاری کا خیال ضرور ستانے لگتا ہے اور میں کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگتا ہوں جس سے دنیا کی تمام دولت سب انسانوں میں برابر تقسیم کی جاسکے۔ اگر میں سڑک پر پیدل جارہا ہوں اور کوئی موٹر اس ادا سے گزر جائے کہ گرد وغبار میرے پھیپھڑوں، میرے دماغ، میرے معدے اور میری تلی تک پہنچ جائے تو اس دن گھر میں آکر علم کیمیا کی وہ کتاب نکال لیتا ہوں جو میں نے ایف۔ اے۔ میں پڑھی تھی اور اس غرض سے اس کا مطالعہ کرنے لگتا ہوں کہ شاید بم بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آجائے۔
میں کچھ دیر تک آہیں بھرتا رہا۔ مرزا صاحب نے کچھ توجہ نہ کی، آخر میں نے خاموشی کو توڑا اور مرزا صاحب سے مخاطب   ہوکر بولا۔
’’ مرزا! ہم میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہے؟‘‘
مرزا صاحب بولے، ’’بھئی کچھ تو ہوگا نہ آخر!‘‘
میں نے کہا، ’’میں بتاؤں تمھیں؟‘‘
کہنے لگے ’’بولو۔‘‘
میں نے کہا، ’’کوئی فرق نہیں — سنتے ہو مرزا کوئی فرق نہیں، ہم میں اور حیوانوں میں، کم از کم مجھ میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں  — ہاں ہاں، میں جانتا ہوں کہ تم میم میخ نکالنے میں بڑے طاق ہو، کہہ دو گے حیوان جُگالی کرتے ہیں، تم نہیں کرتے، ان کے دُم ہوتی ہے تمھارے نہیں ہوتی  — لیکن ان باتوں سے کیا ہوتا ہے؟ ان سے تو صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے افضل ہیں لیکن ایک بات میں، میں اور وہ بالکل برابر ہیں، وہ بھی پیدل چلتے ہیں، میں بھی پیدل چلتا ہوں، اس کا تمھارے پاس کیا جواب ہے؟ جواب نہیں۔ کچھ ہے تو کہو — بَس چُپ ہوجاؤ، تم کچھ نہیں کہہ سکتے، جب سے میں پیدا ہوا ہوں اسی دن سے پیدل چل رہا ہوں۔
’’پیدل —! تم پیدل کے معنی نہیں جانتے، پیدل کے معنی ہیں سینۂ زمین پر اس طرح سے حرکت کرنا کہ دونوں پاؤ ں میں سے ایک ضرور زمین پر رہے، یعنی تمام عمر میرے حرکت کرنے کا طریقہ یہی رہا ہے کہ ایک پاؤں زمین پر رکھتا ہوں، دوسرا اٹھاتا ہوں دوسرا رکھتا ہوں، پہلا اٹھاتا ہوں۔ ایک آگے ایک پیچھے۔ خدا کی قسم اس طرح کی زندگی سے دماغ سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔  حو اس بیکار ہوجاتے ہیں، تخیّل مرجاتا ہے۔ آدمی گدھے سے بد تر ہوجاتا ہے۔
مرزا صاحب میری اس تقریر کے دوران کچھ اس بے پروائی سے سگریٹ پیتے رہے کہ دوستوں کی بے پروائی پر رونے کو دل چاہتا تھا۔ میں نے از حد حقارت اور نفرت کے ساتھ منہ ان کی طرف سے پھیر لیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مرزا کو میری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا۔ گویا میں جو اپنی تکالیف بیان کررہا ہوں وہ محض خیالی ہیں، یعنی میرا پیدل چلنے کے خلاف شکایت کرنا قابل توجہ ہی نہیں، یعنی میں کسی سواری کا مستحق ہی نہیں۔ میں نے دل میں کہا اچھا مرزا یوں ہی سہی، دیکھو تو، میں کیا کرتا ہوں۔
میں نے اپنے دانت پچّی کرلیے اور کرسی کے بازو پر سے جھُک کر مرزا کے قریب پہنچ گیا۔ مرزا نے بھی سر میری طرف موڑا، میں مسکرا دیا، لیکن میرے تبسم میں زہر ملا ہوا تھا۔ جب مرزا سننے کے لیے بالکل تیار ہوگیا تو میں نے چبا چبا کر کہا :
’’مرزا ! میں ایک موٹر خریدنے لگا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر میں بڑے استغنا کے ساتھ دوسری طرف دیکھنے لگا۔
مرزا بولے۔
’’کیا کہا تم نے؟ کیا خریدنے لگے ہو؟‘‘
میں نے کہا، ’’سنا نہیں تم نے۔ میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔ موٹر کار ایک ایسی گاڑی ہے جس کو بعض لوگ موٹر کہتے ہیں، بعض لوگ کار کہتے ہیں۔ لیکن چونکہ تم ضرورت سے زیادہ ذہین ہو، اس لیے میں نے دونوں لفظ استعمال کردیے تاکہ تمھیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔‘‘
مرزا بولے۔
’’ہوں  —‘‘
اب کے مرزا نہیں، میں بے پروائی سے سگریٹ پینے لگا۔ بھویں میں نے اوپرکو چڑھالیں، پھر سگریٹ والا ہاتھ منہ تک اس انداز سے لاتا اور ہٹاتاتھا کہ بڑے بڑے ایکٹراس پر رشک کریں۔
تھوڑی دیر کے بعد مرزا بولے۔ ’’ہوں۔‘‘
میں نے سوچا اثر ہو رہا ہے، مرزا صاحب پر رعب پڑ رہا ہے — میں چاہتا ہوں کہ مرزا کچھ بولے تاکہ مجھے معلوم ہو کہ کہاں تک مرعوب ہوا ہے، لیکن مرزا نے پھر کہا۔
’’ہوں۔‘‘
میں نے کہا ’’مرزا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نے اسکول اور کالج اور گھر میں دو تین زبانیں سیکھی ہیں اور ان کے علاوہ تمھیں کئی ایسے الفاظ بھی آتے ہیں، جو کسی اسکول اور کالج یا شریف گھرانے میں نہیں بولے جاتے، پھر بھی اس وقت تمھارا کلام ’’ہوں‘‘ سے آگے نہیں بڑھتا۔ تم جلتے ہو مرزا۔ اس وقت تمھاری جو ذہنی کیفیت ہے اُسے عربی زبان میں حسد کہتے ہیں۔‘‘
مرزا صاحب کہنے لگے ’’نہیں، یہ بات تو نہیں، میں تو صرف خریدنے کے لفظ پر غور کررہا تھا، تم نے کہا میں ایک موٹر کار خریدنے لگا ہوں، تو میاں خریدنا تو ایک ایسا فعل ہے کہ اس کے لیے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’’وغیرہ‘‘ کا بندبست تو بخوبی ہوجائے گا، لیکن روپے کا بند وبست کیسے کروگے؟‘‘
’’یہ نکتہ مجھے بھی نہ سوجھا تھا، لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے کہا۔‘‘
’’میں اپنی کئی قیمتی اشیا بیچ سکتا ہوں۔‘‘
مرزا بولے ’’کون کون سی۔ مثلاًـ؟‘‘
میں نے کہا ’’ایک تو میں اپنا سگریٹ کیس بیچ ڈالوں گا۔‘‘
مرزا کہنے لگے، ’’چلو دس آنے تو یہ ہوگئے۔ باقی ڈھائی تین ہزار کا انتظام بھی اسی طرح ہوجائے تو سب کام ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
اس کے بعد ضروری یہی معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے روک دیا جائے۔ چنانچہ میں مرزا سے بیزار ہوکر خاموش ہورہا۔ یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ لوگ روپیہ کہاں سے لاتے ہیں؟ بہت سوچا اور آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ لوگ چوری کرتے ہیں — اِس سے ایک گونہ اطمینان ہوا۔
مرزا بولے۔
’’میں تمھیں ایک ترکیب بتاؤں  — ایک بائیسکل لے لو۔‘‘
میں نے کہا ’’وہ روپے کا مسئلہ تو پھر بھی جوں کا توں رہا۔‘‘
کہنے لگے ’’مفت۔‘‘
میں نے حیران ہوکر پوچھا ’’مفت —! وہ کیسے؟‘‘
کہنے لگے ’’مفت ہی سمجھو — آخر دوست سے قیمت لینا بھی کہاں کی شرافت ہے، البتّہ تم احسان قبول کرنا گوارا نہ کرو تو اور بات ہے۔‘‘
ایسے موقعے پر جو ہنسی میں ہنستا ہوں، اس میں معصوم بچے کی مسرت، جوانی کی خوش دلی، اُبلتے  ہوئے فوّاروں کی موسیقی اور بلبلوں کا نغمہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں یہ ہنسی ہنسا اور اس طرح ہنسا کہ کھلی ہوئی باچھیں پھر گھنٹوں تک اپنی اصلی جگہ پر واپس نہ آئیں۔ چنانچہ جب مجھے یقین ہوگیا کہ یک لخت کوئی خوش خبری سننے سے دل کی حرکت بند ہوجانے کا جو خطرہ ہوتا ہے اس سے محفوظ ہوں، تو میں نے پوچھا۔
’’ہے کس کی —؟‘‘
مرزا بولے، ’’میرے پاس ایک بائیسکل پڑی ہے وہ تم لے لو۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’پھر کہنا — پھر کہنا۔‘‘
کہنے لگے۔ ’’بھئی ایک بائیسکل میرے پاس ہے، جب میری ہے تو تمھاری ہے، تم لے لو۔‘‘
یقین مانیے مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ شرم کے مارے میں پانی پانی ہوگیا۔ چودھویں صدی میں ایسی بے غرضی اور ایثار بھلا دیکھنے میں کہاں آتا ہے۔ میں نے کرسی سرکاکر مرزا کے پاس کرلی۔ سمجھ میں نہ آیا کہ اپنی ندامت اور ممنونیت کا اظہار کن الفاظ   میں کروں۔
میں نے کہا ’’مرزا سب سے پہلے تو میں اس گستاخی اور دُرُشتی اور بے ادبی کے لیے معافی مانگتا ہوں جو ابھی ابھی میں نے تمھارے ساتھ گفتگو میں روارکھی، دوسرے آج میں تمھارے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میری صاف گوئی کی داد دو گے اور مجھے اپنی رحم دلی کے صدقے میں معاف کردو گے، میں ہمیشہ تم کو از حد کمینہ، مُمْسک، خود غَرَض اور عَیّار انسان سمجھتا رہا ہوں۔ دیکھو ناراض مَت ہو۔ انسان سے غَلَطی ہو ہی جاتی ہے، لیکن آج تم نے اپنی شرافت اور دوست پروری کا ثبوت دیا ہے اور مجھ پر ثابت کردیا ہے کہ میں کتنا قابلِ نفرت، تنگ خیال اور حقیر شخص ہوں، مجھے معاف کردو۔‘‘
میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے، قریب تھا کہ میں مرزا کے ہاتھ کو بوسہ دیتا اور اپنے آنسوؤں کو چُھپانے کے لیے اس کی گود میں سر رکھ دیتا۔ لیکن مرزا صاحب کہنے لگے۔ 
’’واہ، اس میں میری  فیّاضی کیا ہوئی۔ میرے پاس ایک بائیسکل ہے، جیسے میں سَوار ہوں ویسے تم سوار ہوئے۔‘‘
میں نے کہا، مرزا مفت نہ لوں گا۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘
مرزا کہنے لگے ’’بس اسی بات سے میں ڈرتا تھا۔ تم حسّاس اتنے ہو کہ کسی کا احسان لینا گوارا نہیں کرتے  — حالاں کہ خدا گواہ ہے  — احسان اس میں کوئی نہیں  —‘‘
میں نے کہا  — ’’خیر کچھ بھی سہی، تم سچ مچ مجھے اس کی قیمت بتا دو۔‘‘
مرزا بولے، ’’قیمت کا ذکر کر کے گویا تم مجھے کانٹوں میں گھسیٹتے ہو اور جس قیمت پر میں نے خریدی تھی، وہ بہت زیادہ تھی اور اب تو وہ اتنے کی رہی بھی نہیں۔‘‘
میں نے پوچھا ’’تم نے کتنے میں خریدی تھی؟‘‘
کہنے لگے۔ میں نے پونے دوسو روپے میں خریدی تھی، لیکن اس زمانے میں بائیسکلوں کا رواج ذرا کم تھا۔ اس لیے قیمتیں ذرا زیادہ تھیں۔‘‘
میں نے کہا ’’کیا بہت پرانی ہے؟‘‘
بولے، ’’نہیں ایسی پُرانی بھی کیا ہوتی ، میرا لڑکا اس پر کالج آیا جایا کرتا تھا۔ اور اسے کالج چھوڑے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ آج کل کی بائیسکلوں سے ذرا مختلف ہے، آج کل تو بائیسکلیں ٹین کی بنتی ہیں جنھیں کالج کے سرپھرے لونڈے سستی سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔ پرانی بائیسکلوں کے ڈھانچے مضبوط ہوا کرتے تھے۔‘‘
’’مگر مرزا، پونے دو سو روپے تو میں ہرگز نہیں دے سکتا۔ اتنے روپے میرے پاس کہاں سے آئے، میں تو اس کی آدھی قیمت بھی نہیں دے سکتا۔‘‘
مرزا کہنے لگے ’’تو میں تم سے پوری قیمت تھوڑی ہی مانگتا ہوں  — اوّل تو قیمت لینا نہیں چاہتا  — لیکن  — ‘‘
میں نے کہا ’’نامرزا قیمت تو تمھیں لینی پڑے گی  — اچھا تم یوں کرو — میں تمھاری جیب میں کچھ روپے ڈالے دیتا ہوں — تم گھر جاکر گن لینا  — اگر تمھیں منظور ہو تو کل بائیسکل بھیج دینا —  ورنہ روپے واپس کردینا  — اب یہاں بیٹھ کر میں تم سے سوداچکا ؤں — یہ تو کچھ دوکانداری کی سی بات معلوم ہوتی ہے۔‘‘
مرزا بولے ’’ بھئی جیسی تمھاری مرضی، میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ قیمت ویمت جانے دو، لیکن میں جانتا ہوں تم نہ مانو گے۔‘‘
میں اٹھ کر اندر کمرے میں آیا — میں نے سوچا، استعمال شدہ چیزوں کی قیمت لوگ عام طور پر آدھی دیتے ہیں  — لیکن جب میں نے مرزا سے کہا میں آدھی قیمت بھی نہیں دے سکتا  — تو مرزا اس پر معترض نہ ہوا تھا۔ وہ تو بیچارہ بلکہ یہی کہتا تھا کہ تم مفت ہی لے لو، لیکن مفت میں کیسے لے لوں، آخر بائیسکل ہے، ایک سواری ہے، فِٹنوں، گھوڑوں ، موٹروں اور تانگوں کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ بکس کھولا تو معلوم ہوا کہ ہست وبود کل چالیس روپے ہیں، چھیالیس روپے تو کچھ ٹھیک رقم نہیں، پینتالیس یا پچاس ہوں جب بات ہے ۔پچاس تو ہو نہیں سکتے اوراگر پینتالیس ہی دینے ہیں توچالیس ہی کیوں نہ دیے جائیں۔ جن رقموں کے آگے صفر آتا ہے، وہ رقمیں کچھ زیادہ معقول معلوم ہوتی ہیں، بس ٹھیک ہے چالیس روپے دے دوں گا۔
خدا کرے مرزا قبول کرلے۔
باہر آیا، چالیس روپے مُٹھّی میں بند کرکے مرزا کی جیب میں ڈال دیے اور کہا، ’’مرزا اس کو قیمت نہ سمجھنا، لیکن اگر ایک مفلس دوست کی حقیر سی رقم منظور کرنا تمھیں اپنی توہین معلوم نہ ہو تو کل بائیسکل بھجوادینا۔‘‘
مرزا چلنے لگے تو میں نے پھر کہا ’’مرزا کل صبح ضرور بھجوا دینا۔‘‘ رخصت ہونے سے پہلے میں نے ایک دفعہ پھر کہا۔
’’کل صبح آٹھ نو بجے تک پہنچ جائے — دیر نہ کرنا — خدا حافظ — اور دیکھو مرزا میرے تھوڑے سے روپوں کو بھی زیادہ سمجھنا  — خدا حافظ — اور تمھارا بہت بہت شکریہ — میں تمھارا بہت ممنون ہوں — اور میری گستاخی کو معاف کردینا، دیکھونا کبھی کبھی یوں ہی بے تکلّفی میں — کل صبح آٹھ نو بجے تک — ضرور — خدا حافظ —ـ‘‘
مرزا کہنے لگے ’’ہاں ہاں، وہ سب کچھ ہوجائے گا۔‘‘
رات کو بستر پر لیٹا تو بائیسکل پر سیر کرنے کے مختلف پروگرام تجویز کرتا رہا۔ یہ ارادہ تو پختہ کرلیا کہ دو تین دن کے اندر اندر  اِرد گِردکی تمام مشہور تاریخی عمارات اور کھنڈروں کو نئے سِرے سے دیکھ ڈالوں گا اس کے بعد اگلے گرمی کے موسم میں ہوسکا تو بائیسکل پر کشمیر وغیرہ کی سیر کروں گا، صبح صبح ہوا خوری کے لیے ہر روز نہر تک جایا کروں گا اور شام کو ٹھنڈی سڑک پر جب اور لوگ سیر کو نکلیں گے، میں بھی سڑک کی صاف شفّاف سطح پر ہلکے ہلکے خاموشی کے ساتھ ہاتھی دانت کی ایک گیند کی طرح گزر جاؤں گا۔ ڈوبتے ہوئے آفتاب کی روشنی جب بائیسکل کے چمکیلے حصوں پر پڑے گی تو بائیسکل جگمگا اٹھے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ جیسے ایک  راج ہنس زمین کے ساتھ ساتھ اُڑ رہا ہو وہ مسکراہٹ جس کا ذکر کرچکا ہوں ابھی تک میرے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی، بارہا دل چاہا کہ بھاگ کر جاؤں—اوراسی وقت مرزا کو گلے سے لگا لوں۔ رات کو خواب میں دعائیں مانگتا رہا کہ خدا یا مرزا بائیسکل دینے پر رضامند ہوجائے۔ صبح اٹھتے ہی نوکر نے خوشخبری سُنائی کہ حضور، وہ بائیسکل آگئی ہے۔ 
میں نے کہا ’’اتنے سویرے؟‘‘
نوکر نے کہا ’’وہ تو رات ہی آگئی تھی۔ آپ سوگئے تھے، میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور ساتھ ہی مرزاصاحب کا آدمی ڈِبریاں کسنے کا ایک اوزار بھی دے گیاہے۔‘‘
میں حیران ہوا کہ مرزا صاحب نے بائیسکل بھجوانے میں اتنی عجلت کیوں کی —لیکن اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی نہایت شریف اور دیانت دار ہیں، روپے لے لیے تھے تو سائیکل کیوں روک رکھتے۔
نوکر سے کہا ’’دیکھو یہ اَوزار یہیں چھوڑ جاؤ اور دیکھو، بائیسکل کو کسی کپڑے سے خوب اچھّی طرح جھاڑ لو اور یہ موڑ پر جو بائیسکل والا بیٹھتا ہے اس سے جاکر بائیسکل میں ڈالنے کا تیل لے آؤ اور دیکھو ابے بھاگا کہاں جاتا ہے، ہم ضروری بات تم سے کہہ رہے ہیں۔ بائیسکل والے سے تیل کی ایک کپّی بھی لے آنا اور جہا ں جہاں تیل دینے کی جگہ ہے وہاں تیل دے دینا اور کہنا کہ کوئی گھٹیا سا تیل نہ دیدے جس سے تمام پرزے خراب ہوجائیں، بائیسکل کے پُرزے بڑے نازک ہوتے ہیں اور بائیسکل باہر نکال کر رکھو۔ ہم ابھی کپڑے پہن کر آتے ہیں۔ہم ذرا سیر کو جارہے ہیں اوردیکھو صاف کردینا اور بہت زور زور سے کپڑا بھی نہ رگڑنا بائیسکل کا پالش گھس جاتاہے‘‘۔ ذرا جلدی جلدی چائے پی، غسل خانے میں بڑے جوش وخروش کے ساتھ، ’’چل چنبیلی باغ میں‘‘ گاتا رہا۔ اس کے بعد کپڑے بدلے، اوزار کو جیب میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکلا۔ برآمد ے میں آیا تو ایک عجیب وغریب مشین پر نظر پڑی، ٹھیک طرح پہچان نہ سکا کہ کیا چیز ہے۔ نوکر سے دریافت کیا ’’کیوں بے! یہ کیا چیز ہے؟‘‘
نوکر بولا ’’حضور یہ بائیسکل ہے۔‘‘
میں نے کہا ’’بائیسکل ! کس کی بائیسکل؟‘‘
کہنے لگا ’’مرزا صاحب نے آپ کے لیے بھجوائی ہے۔‘‘
میں نے کہا ’’اور جو سائیکل رات کو انھوں نے بھجوائی تھی وہ کہاں گئی؟‘‘
کہنے لگا ’’یہی تو ہے۔‘‘
میں نے کہا ’’کیا بکتا ہے جو بائیسکل مرزا صاحب نے کل رات کو بھیجی تھی وہ بائیسکل یہی ہے؟‘‘
کہنے لگا ’’جی ہاں —‘‘
میں نے کہا ’’اچھا —‘‘اور پھر اُسے دیکھنے لگا۔
’’اِس کو صاف کیوں نہیں کیا؟‘‘
’’حضور دو تین دفعہ صاف کیا ہے۔‘‘
’’تو یہ میلی کیوں ہے؟‘‘
نوکر نے اِس کا جواب دینا شاید مناسب خیال نہ کیا۔
’’اور تیل لایا؟‘‘
’’ہاں حضور لایا ہوں۔‘‘
’’دیا؟‘‘
’’حضور وہ تیل دینے کے چھید ہوتے ہیں، وہ نہیں ملتے۔‘‘
’’کیا وجہ —؟‘‘
’’حضور دُھروں میں مَیل اور زنگ جما ہے، وہ سوراخ کہیں بیچ میں ہی دب دبا گئے ہیں۔‘‘
رفتہ رفتہ میں اس چیز کے قریب آیا جس کو میرا نوکر بائیسکل بتا رہا تھا، اس کے مختلف پرزوں پر غور کیا تو اتنا ثابت ہوگیا کہ بائیسکل ہے، لیکن مجمل ہیئت سے یہ صاف ظاہر تھا کہ ہل، رَہَٹ، چرخہ اور اسی طرح کی جدید ایجادات سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ پھر پہیے کو گھما گھما کر سوراخ تلاش کیا جہاں کسی زمانے میں تیل دیا جاتا تھا لیکن اب اس سوراخ میں سلسلۂ آمد و رفت بند تھا۔ چنانچہ نوکر بولا۔

18
’’حضور وہ تیل تو سب اِدھر اُدھر بہہ جاتا ہے، بیچ میں تو جاتا ہی نہیں۔‘‘
میں نے کہا، ’’اچھا اوپر ہی اوپر ڈال دو، یہ بھی مفید ہوتا ہے۔‘‘
آخر کار بائیسکل پر سوار ہوا، پہلا ہی پاؤں چلایا تو معلوم ہوا کہ جیسے کوئی مردہ ہڈیاں چٹخا چٹخا کراپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہو — گھر سے نکلتے ہی کچھ تھوڑی سی اُترائی تھی، اس پر بائیسکل خود بخود چلنے لگی لیکن اس رفتار سے کہ جیسے تارکول زمین پر بہتا ہے اور ساتھ ہی مختلف حصّوں سے طرح طرح کی آوازیں بر آمد ہو نا شروع ہوئیں۔ ان آوازوں کے مختلف گروہ تھے۔ چیں چاں، چوں کی قسم کی آوازیں زیادہ تر گدّی کے نیچے اور پچھلے پہییّے سے نکلتی تھیں …کھٹ، کھڑ، کھڑڑ کھڑڑ کے قبیل کی آوازیں مڈگارڈوں سے آتی تھیں۔ چر، چرخ، چر، چرخ قسم کے سُر زنجیر اور پیڈل سے نکلتے تھے۔ زنجیر ڈھیلی ڈھالی تھی۔ جب کبھی میں پیڈل پر زور ڈالتا تھا زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوجاتی تھی جس سے وہ تن جاتی تھی اور چڑچڑ بولنے لگتی تھی اور پھر ڈھیلی ہوجاتی تھی۔ پچھلا پہیّا گھومنے کے علاوہ جھومتا تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا اور اس کے علاوہ دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو بھی نشان بن جاتا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کر نکل گیا ہے۔
مڈگارڈ تھے تو سہی، لیکن پہیوں کے عین اوپر نہ تھے، ان کی مدد سے صرف یہ معلوم ہوتا تھا کہ انسان شمال کی سمت سیر کو نکلے اور آفتاب مغرب میں غروب ہورہا ہو تو مڈگارڈوں کی بدولت ٹائر دھوپ سے بچے رہیں گے۔
اگلے پہیے کے ٹائر میں ایک بڑا سا پیوند لگا تھا، جس کی وجہ سے پہیّہ ہر چکر میں ایک دفعہ قدرے زمین سے اوپر کو اٹھ جاتا تھا اور میرا سرپیچھے کو یوں جھٹکے کھارہا تھا جیسے کوئی متواتر ٹھوڑی کے نیچے مکّے مارے جارہا ہو، پچھلے اور اگلے پہیے کو ملا کر چوں چوں، پھٹ پھٹ، چوں چوں کی صدائیں نکل رہی تھیں۔ جب اُتار پر سائیکل ذرا تیز ہوئی تو فضا میں ایک بھونچال سا آگیا اور بائیسکل کے کئی اور پرزے جو اَب تک سورہے تھے بیدار ہو کر گویا ہوئے۔ اِدھر اُدھر کے لوگ چونکے، ماؤں نے اپنے بچوں کو سینے سے لگا لیا۔ کھرڑ کھرڑ کے بیچ میں پہیّوں کی آواز جُدا سنائی دے رہی تھی لیکن چوں کہ بائیسکل اب پہلے سے تیز تھی اس لیے چوں چوں پھٹ پھٹ ، چوں چوں پَھٹ پَھٹ کی آواز نے اب چچوں پَھٹ چچوں پَھٹ کی صورت اختیار کرلی تھی۔ تمام بائیسکل کسی اَدق افریقی زبان کی گردانیں دُہرا رہی تھی۔
اِس قدر تیز رفتاری بائیسکل کی طبعِ نازک پر گراں گزری، چنانچہ اس میں یک لخط دو تبدیلیاں واقع ہوگئیں۔ ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑگیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جاتا تو سامنے کو رہا تھا لیکن میرا تمام جسم دائیں طرف کو مڑا ہو ا تھا۔ اس کے علاوہ بائیسکل کی گدّی دفعتاً چھ انچ کے قریب نیچے کو بیٹھ گئی۔ چنانچہ جب پیڈل چلانے کے لیے میں ٹانگیں اوپر نیچے کررہا تھا تو میرے گھٹنے ٹھوڑی تک پہنچ جاتے تھے۔ کمر دوہری ہوکر باہر نکلی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اگلے پہیوں کی اٹھکھیلیوں کی وجہ سے سر برابر جھٹکے کھا رہا تھا۔
گدّی کا نیچا ہونا از حد تکلیف دِہ ثابت ہوا، اس لیے میں نے مناسب یہی سمجھا کہ اس کو ٹھیک کرلوں، چنانچہ میں نے بائیسکل کو ٹھہرا لیا اور نیچے اترا۔ بائیسکل کے ٹھہر جانے سے یک لخت جیسے دنیا میں خاموشی سی چھا گئی۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میں کسی ریل اسٹیشن سے باہر آیا ہوں۔ جیب کے اندر سے میں نے اَوزار نکالا۔ گدّی کو اونچا کیا کچھ ہینڈل کو ٹھیک کیا اور دوبارہ سوار ہوگیا۔
دس قدم بھی نہ چلنے پایا تھا کہ ہینڈل یک لخت نیچا ہو گیا، اتنا کہ گدی اب ہینڈل سے کوئی فٹ بھر اونچی تھی، میرا تمام جسم آگے کو جھکا ہوا تھا، تمام بوجھ دونوں ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہاتھا۔ آپ میری حالت کاتصور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ میں دور سے ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی عورت آٹا گوندھ رہی ہو، مجھے اس مشابہت کا احساس بہت تیز تھا جس کی وجہ سے میرے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ میں دائیں بائیں لوگوں کو کنکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ یوں تو ہر شخص میل بھر پہلے ہی مڑ مڑ کر دیکھنے لگتا تھا لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کے لیے میری حالت ضیافتِ طبع کا باعث نہ ہو۔ ہینڈل تو نیچا ہو ہی گیا تھا، تھوڑی دیر کے بعد گدّی بھی پھر نیچی ہوگئی اور میں ہمہ تن زمین کے قریب پہنچ گیا۔ ایک لڑکے نے کہا ’’دیکھو یہ آدمی کیا کررہا ہے؟‘‘ گویا اس بدتمیز کے نزدیک میں کوئی کرتب دکھا رہا تھا۔ میں نے اتر کر پھر ہینڈل اور گدّی کو اونچا کیا۔
لیکن تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک نہ ایک پھر نیچا ہوجاتا۔ وہ لمحے جن کے دوران میں میرے ہاتھ اور میرے جسم دونوں برابر ایک ہی بلندی پر واقع ہوں بہت ہی کم تھے اور ان میں بھی میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ اب کے گدّی پہلے بیٹھے گی یا ہینڈل؟ چنانچہ نڈر ہو کر نہ بیٹھتا بلکہ جسم کو گدی سے قدرے اوپر ہی رکھتا، لیکن اس سے ہینڈل پر اتنا بوجھ پڑجاتا کہ وہ نیچا ہوجاتا۔
جب دو میل گزر گئے اور بائیسکل کی اُٹھک بیٹھک نے ایک مقرر باقاعدگی اختیار کرلی تو میں نے فیصلہ کیا کہ کسی مستری سے پینچ کسوالینے چاہییں، چنانچہ بائیسکل کو ایک دکان پر لے گیا۔
بائیسکل کی کھرڑ کھرڑ سے جتنے لوگ کام کررہے تھے سب کے سب سر اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگے، لیکن میں نے جی کڑا کر کے کہا، ’’ذرا اس کی مرمّت کردیجیے۔‘‘
ایک مستری آگے بڑھا، لوہے کی سلاخ اس کے ہاتھ میں تھی جس سے اُس نے مختلف حصوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ ٹھونک بجا کر دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا، اُس نے بڑی تیزی سے حالات کا اندازہ لگالیا ہے، لیکن پھر بھی مجھ سے پوچھنے لگا ’’کس کس پرزے کی مرمت کرائیے گا۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’بڑے گستاخ ہو تم، دیکھتے نہیں کہ صرف ہینڈل اور گدّی کو اونچا کروا کے کسوانا ہے، بس اور کیا؟ ان کو مہربانی کرکے فوراً ٹھیک کردو اور بتاؤ کتنے پیسے ہوئے؟‘‘
مستری کہنے لگا۔ ’’مڈگارڈ بھی ٹھیک نہ کردوں؟‘‘
میں نے کہا۔ ’’ہاں وہ بھی ٹھیک کردو۔‘‘
کہنے لگا۔ ’’اگر باقی چیزیں بھی ٹھیک کرالو تو اچھا ہے۔‘‘
میں نے کہا ’’اچھا کردو۔‘‘
بولا ’’یوں تھوڑا ہی ہوسکتا ہے، دس پندرہ دن کا کام ہے۔ آپ اسے ہمارے پاس چھوڑجائیے۔‘‘
’’اور پیسے کتنے ہوں گے؟‘‘
کہنے لگا ۔’’ بس تیس چالیس روپے لگیں گے۔‘‘
 میں نے کہا ’’بس جی، جوکام تم سے کہا ہے وہ کردو اور باقی ہمارے معاملات میں دخل مت دو۔‘‘
تھوڑی دیر میں ہینڈل اور گدّی پھر اونچی کر کے کَس دی گئی، میں چلنے لگا تو مستری نے کہا ’’میں نے تو کس دیا ہے لیکن پینچ سب گھِسے ہوئے ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر میں سب ڈھیلے پڑجائیں گے۔‘‘
میں نے کہا ’’بد تمیز کہیں کا۔ دو آنے مفت میں لے لیے۔‘‘
بولا ’’جناب آپ کو یہ بائیسکل بھی مفت میں ملی ہوگی، آپ کے دوست مرزا صاحب کی ہے نا؟‘‘ لَلّو یہ وہی بائیسکل ہے جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے کو لائے تھے، پہچانی تم نے؟ بھئی صدیاں گزر گئیں لیکن اس بائیسکل کی خطا معاف ہونے میں نہیں آتی۔‘‘
میں نے کہا ’’واہ مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے۔ ان کو ابھی کالج چھوڑے ہوئے دوسال بھی نہیں ہوئے۔‘‘
مستری نے کہا ’’ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود جب کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے پاس بھی تو یہی سائیکل تھی۔‘‘
میری طبیعت یہ سُن کر کچھ مردہ سی ہوگئی۔ میں بائیسکل کو ساتھ لیے آہستہ آہستہ پیدل چل پڑا، لیکن پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔ اس بائیسکل کے چلانے میں ایسے ایسے پٹّھوں پر زور پڑتا تھا جو عام بائیسکلوں کے چلانے میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس لیے ٹانگوں، کندھوں، کمر اور بازوؤں میں اس قدر درد ہورہا تھا جو برداشت کے قابل نہ تھا۔ مرزا کا خیال رہ رہ کر آتا تھا، لیکن میںہر بار کوشش کرکے اس کو دل سے ہٹا دیتا تھا، ورنہ میں پاگل ہوجاتا اور جنون کی حالت میں پہلی حرکت مجھ سے یہ سرزد ہوتی کہ مرزا کے مکان کے سامنے بازار میں ایک جلسہ مُنعَقِد کرتا جس میں مرزا کی مکّاری، بے ایمانی اور دغابازی پر ایک طویل تقریر کرتا۔ کُل بنی نوع انسان اور آئندہ آنے والی نسلوں کو مرزا کی ناپاک فطرت سے آگاہ کردیتا اور اس کے بعد ایک چِتا جلا کر اس میں زندہ جل کر مرجاتا۔
میں نے بہتریہی سمجھا کہ جس طرح ہوسکے اب اس بائیسکل کو اَونے پَونے بیچ کر جو وصول ہو اُسی پر صبر وشکر کروں۔ بلا سے دس پندرہ روپے کا خسارہ ہی سہی چالیس کے چالیس روپے تو ضائع نہ ہوں گے۔ راستے میں بائیسکلوں کی ایک دکان آئی، وہاں ٹھہر گیا۔
دکان دار بڑھ کر میرے پاس آیا، لیکن میری زبان کو جیسے قُفل لگ گیا تھا ۔ عمر بھر کبھی کسی چیز کے بیچنے کی نوبت نہ آئی تھی، مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں، آخر بڑے سوچ بچار اور بڑے تامّل کے بعد منہ سے صرف اتنا نکلا کہ ’’یہ بائیسکل ہے۔‘‘
دکان دار کہنے لگا ’’پھر؟‘‘
میں نے کہا ’’لوگے؟‘‘
کہنے لگا ’’کیا مطلب؟‘‘
میں نے کہا ’’بیچتے ہیں ہم۔‘‘
دکان دار نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا کہ مجھے یہ محسوس ہوا جیسے مجھ پر چوری کا شبہ کررہا ہے۔ پھر بائیسکل کو دیکھا — پھر مجھے دیکھا — پھر بائیسکل کو دیکھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فیصلہ نہیں کرسکتا۔ آدمی کون سا ہے اور بائیسکل کون سی ہے، آخر کار بولا:
’’کیا کریں گے آپ اس کو بیچ کر —؟‘‘
ایسے سوالات کا جواب خدا جانے کیا ہوتا ہے۔ میں نے کہا ’’کیا تم یہ پوچھنا چاہتے ہو کہ جو روپے مجھے وصول ہوں گے اُن کا مصرف کیا ہوگا؟‘‘
کہنے لگا ’’وہ تو ٹھیک ہے، مگر کوئی اس کو لے کر کیا کرے گا۔‘‘
میں نے کہا ’’اس پر چڑھے گا اور کیا کرے گا؟‘‘
کہنے لگا — ’’اچھا چڑھ گیا پھر — ؟‘‘
میں نے کہا ’’پھر کیا؟ پھر چلائے گا اور کیا؟‘‘
دکان دار بولا ’’اچھا،ہوں — خدا بخش ذرا یہاں آنا، یہ بائیسکل بکنے آئی ہے۔‘‘
جن حضرت کا نام خدا بخش تھا، انھوں نے بائیسکل کو دور ہی سے دیکھا، جیسے بو سونگھ رہے ہوں۔
اِس کے بعد دونوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ آخر میں وہ جن کا نام خدا بخش نہیں تھا، میرے پاس آئے اور کہنے لگے ’’تو آپ سچ مچ بیچ رہے ہیں؟‘‘
میں نے کہا ’’تو اور کیا۔ محض آپ سے ہم کلام ہونے کا فخر حاصل کرنے کے لیے میں گھر سے یہ بہانہ گھڑ کر لایا تھا؟‘‘
کہنے لگا ’’تو کیا لیں گے آپ؟‘‘
میں نے کہا ’’تم ہی بتاؤ؟‘‘
کہنے لگا ’’سچ مچ بتاؤں؟‘‘
میں نے کہا ’’ہاں۔‘‘
پھر کہنے لگا ’’سچ مچ بتاؤں؟‘‘
میں نے کہا ’’اب بتاؤ گے بھی یا یونہی ترساتے رہو گے۔‘‘
کہنے لگا ’’تین روپے دوں گا اس کے۔‘‘
میرا خون کھول اُٹھا اور میرے ہاتھ پاؤں اور ہونٹ غصے کے مارے کانپنے لگے۔ میں نے کہا۔
’’اوصَنعت وحرفت سے پیٹ پالنے والے انسان! مجھے اپنی توہین کی پروا نہیں، لیکن تو نے اپنی بیہودہ گفتاری سے اس بے زبان چیز کو جو صدمہ پہنچایا ہے اس کے لیے میں تجھے قیامت تک معاف نہیں کرسکتا۔‘‘یہ کہہ کر میں بائیسکل پر سوار ہوگیا اور   اندھا دھند پاؤں چلانے لگا۔
مشکل سے بیس قدم گیا ہوں گاکہ مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے زمین یک لخت اُچھل کر مجھ سے آ لگی اور آسمان میرے سر پر سے ہٹ کر ٹانگوں کے بیچ میں سے گزر گیااور اِدھر اُدھر کی عمارتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بدل لی ہے۔ جب حواس بجا ہوئے تو معلوم ہو اکہ میں زمین پر اس بے تکلّفی سے بیٹھا ہوں گویا بڑی مدّت سے مجھے جس بات کا شوق تھا آج پورا ہوگیا۔ ارد گرد کچھ لوگ جمع تھے، جن میں سے اکثر ہنس رہے تھے۔ سامنے وہ دکان تھی جہاں ابھی ابھی میں نے اپنی ناکام گفت وشنید کا سلسلہ منقطع کیا تھا۔ میں نے اپنے گرد وپیش پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میری بائیسکل کا اگلا پہیا بالکل الگ ہو کر لڑھکتا ہوا سڑک کے اس پار جا پہنچا ہے اور باقی سائیکل میرے پاس پڑی ہے۔ میں نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا، جو پہیّا الگ ہو گیا تھا اس کو ایک ہاتھ میں اٹھایا، دوسرے ہاتھ میں باقی ماندہ سائیکل کو تھاما اور چل کھڑا ہوا۔ یہ محض ایک اضطراری حرکت تھی ورنہ وہ بائیسکل مجھے ہر گز اتنی عزیز نہ تھی کہ میں اس کو اس حالت میں ساتھ ساتھ لیے پھرتا۔
جب میں یہ سب کچھ اٹھا کر چل دیا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا ’’یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کہاں جارہے ہو؟ تمھارا ارادہ کیا ہے؟ یہ دو پہیے کا ہے کو لے جارہے ہو؟‘‘
سب سوالوں کا جواب یہی ملا کہ دیکھا جائے گا۔ فی الحال تم یہاں سے چل دو سب لوگ تمھیں دیکھ رہے ہیں۔ سر اونچا رکھو اور چلتے جاؤ، جو ہنس رہے ہیں انھیںہنسنے دو۔ اس قسم کے بیہودہ لوگ ہر قوم اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں، آخر ہوا کیا ۔ محض ایک حادثہ، بس دائیں بائیں مت دیکھو، چلتے جاؤ۔
لوگوں کے نا شائستہ کلمات بھی سنائی دے رہے تھے، ایک آواز آئی ’’بس حضرت غصّہ تھوک ڈالیے۔‘‘ ایک دوسرے صاحب بولے ’’بے حیا بائیسکل گھر پہنچ کر تجھے مزہ چکھاؤں گا۔‘‘ایک بزرگوار اپنے لختِ جگر کی انگلی پکڑے جارہے تھے، میری طرف اشارہ کر کے کہنے لگے ’’دیکھو بیٹا یہ سر کس کی بائیسکل ہے۔ اس کے دونوں پہیے علا حدہ ہوتے ہیں‘‘ لیکن میں چلتا گیا۔ تھوڑی دیر بعد آبادی سے دور نکل گیا۔ اب میری رفتار میں ایک عزیمت پائی جاتی تھی۔ میرا دل جو کئی گھنٹوں سے ایک کش مکش میں مبتلا تھا،     پیچ وتاب کھا رہا تھا اب بہت ہلکا ہوگیا تھا، میں برابر چلتا گیا، حتیٰ کہ ایک دریا پر جا پہنچا۔ پُل کے اُوپر کھڑے ہوکر میں نے دونوں پہیوں کو ایک ایک کرکے اس بے پروائی کے ساتھ دریامیں پھینک دیا جیسے کوئی لیٹر بکس میں خط ڈالتا ہے اور واپس شہر کو روانہ ہوگیا۔ سب سے پہلے مرزا کے گھر گیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا مرزا بولے ’’اندر آجاؤ۔‘‘
میں نے کہا ’’آپ ذرا باہر تشریف لائیے، میں آپ جیسے خدا رسیدہ بزرگ کے گھر میں وُضو کیے بغیر کیسے داخل ہوسکتا ہوں؟‘‘
مرزا صاحب باہر تشریف لائے تو میں نے وہ اوزار ان کی خدمت میں پیش کیا جو انھوں نے بائیسکل کے ساتھ ہی مفت میں مجھ کو عنایت فرمایا تھا اور کہا۔
’’مرزا صاحب آپ ہی اس اوزار سے شوق فرمایا کیجیے، میں اب اِس سے بے نیاز ہو چکا ہوں۔‘‘
گھر پہنچ کر میں نے پھر علمِ کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا جو میں نے ایف۔ اے کے کورس میں پڑھی تھی۔

                                                                                                                  (پطرس بخاری)

                                      مشق

سوالات

1.  اس سبق میں مرحوم کسے کہا گیا ہے؟
2.  موٹر کو دیکھ کر مصنّف کو کیا خیال آیا اور وہ کیا سوچنے لگا؟
3.  مصنّف نے بائیسکل کو دریا میں کیوں پھینک دیا؟
4.  گھر پہنچ کر مصنّف نے کس کتاب کا مطالعہ کیا اور کیوں؟