Skip to content
Juzvimaashiatkatarruf-001

باب ایک 1  

1

تعارف  Introduction 

 1.1  ایک سادہ معیشت    (A Simple Economy)

کسی ایک معاشرہ کے بارے میں سوچیں۔ ہر معاشرے میں لوگوں کو روز مرہ کی زندگی میں مختلف اشیا اور خدمات درکار ہوتی ہیں جس میں کھانا، کپڑے، مکان،نقل وحمل کی سہولیات مثلاً سڑکیں ، ریلوے ، ڈاک خدمات اور مختلف دوسری خدمات جیسے ڈاکڑوں اور اساتذہ کی خدمات شامل ہیں۔ دراصل وہ اشیا اور خدمات جن کی عام طور سے ایک شخص کو ضرورت ہوتی ہے ان کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ معاشرے کے کسی شخص کو ان تمام چیزوں کا حاصل کرپاناممکن ہے۔ ہر شخص کے پاس اپنی ضرورت کی کچھ اشیاء اور خدمات کی تھوڑی مقدار ہی حاصل ہوتی ہیں۔ ایک کنبہ کی اراضی میں تھوڑی زمین، کچھ اناج، کھیتی کے کچھ اوزار، جیسے بیلوں کا ایک جوڑا اور کنبے کے اشخاص کی اپنی محنت اور کاشتکاری کی صلاحتیں شامل ہوسکتی ہیں۔ ایک بُنکر کے پاس کچھ روئی، سوت اور کپڑا بُننے کا کچھ اوزار ہوسکتے ہیں۔ مقامی اسکول کے استاد کے پاس طلبہ کو تعلیم دینے کی مطلوبہ صلاحیت ہوتی ہے۔ معاشرے میں دیگر کچھ اور لوگوں کے پاس سواے  خود اپنی جسمانی محنت وغیرہ کی خدمات کے کوئی دوسرے وسائل نہیں ہوتے۔ ان تمام فیصلہ کن اکائیوں میں سے ہر ایک اکائی، کچھ اشیااور خدمات اپنے وسائل کا استعمال کرکے فراہم کرسکتی ہیں۔ جن میں سے کچھ کی بدولت یہ اپنی ضرورت کی دوسری بہت سی اشیا اور حذمات کو حاصل کرسکتی ہے۔ مثلاً ایک کنبہ، آراضی مکاّ پیدا کرسکتا ہے۔ جس کا کچھ حصہ اپنے استعمال کے لیے خرچ کرتا ہواور بقیہ پیداوار کے عوض میں کپڑے، مکان اور دیگر خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح بُنکراپنے کپڑوں کے عوض میں اپنی ضرورت کی اشیا اور خدمات حاصل کرسکتا ہے۔ استاداسکول میں تعلیم دے کر کچھ رقم حاصل کرتا ہے۔ اور اس رقم کا استعمال کرکے اپنی خواہش کے مطابق اشیا اور خدمات حاصل کرے۔ ایک مزدور اپنی ـضروریات کسی اور کے لیے مزدوری کرکے حاصل ہوئے پیسوں سے پوری کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس طرح ہر فرد اپنے وسائل کا استعمال اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کر تا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اپنی ضرورت کے مقابلے کسی بھی فرد کے پاس لامحدود وسائل نہیں ہوسکتے ہیں۔ مکیّ کی مقدار جو کنبے کے کھیت میں پیدا کی جاسکتی ہے وہ کمیٹی کے وسائل کی بنیاد پر محدود ہے۔ اور اس طرح سے مختلف اشیا اور خدمات کی مقدار جو کہ مکیّ کے عوض میں حاصل ہوسکتی ہیں وہ بھی محدود ہوجاتی ہیں۔

 اشیا کے معنی میں حیاتیاتی، مادی چیزیں شامل ہیں جن کے استعمال سے انسان اپنی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرناہے۔ اشیا کی  اصطلاح کے بمقابل خدمات کی اصطلاح مختلف ہے۔ جو کہ غیر مادی ہونے والی ضرورت اور خواہشات کے پورا ہونے کو بیان کرتی ہے۔ کھانے کی چیزیں اور کپڑے جو کہ اشیا کی مثالیں ہیں کے مقابلے میں ہم طبیبوں اور اساتذہ کے کاموں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو خدمات میں آتی ہیں۔

ایک فرد سے ہمارا مطلب ایک انفرادی فیصلہ کن اکائی سے ہے۔ یہ فیصلہ کن اکائی ایک شحص یا ایک گردہ جیسے کہ ایک گھرانہ، ایک فرم یا کوئی ایک تنظیم بھی ہوسکتی ہے۔

 وسیلہ سے مراد وہ اشیا اور خدمات ہیں جن کی مدد یا استعمال سے دوسری اشیا اور خدمات پیدا کی جائیں۔ مثلاً اراضی، محنت، اوزاریں یا کام کے اوزار اور مشینیں وغیرہ۔

نتیجتاً ایک خاندان مختلف اشیا اورخدمات میں سے کچھ ہی کا انتخاب کرنے کے لیے مجبور ہوتا ہے۔ اشیا اور خدمات کی زیادہ حصولیابی کے لیے کچھ دوسری اشیا اور خدمات کی مقدار کو کم کرنا یا کچھ کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ مثلاً اگر ایک خاندان کو ایک بڑے گھر کی ضرورت ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کے لیے اسے مزید کا شتکاری کے قابل زمین لینے کے خیال کو ترک کرنا پڑجائے۔ انھیں اپنے بچوں کو مزید بہتر تعلیم دینے کی خواہش ہے تو ممکن ہے کہ زندگی کے چند عیش وعشرت کو ترک کرنا پڑے۔ معاشرے کے تمام دوسرے افراد کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ ہر شخص کو وسائل کی قلت درپیش ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس کو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطراپنے محدود وسائل کاسب سے بہتر طریقے سے استعمال کرنا ہوتا ہے۔
عام طور سے معاشرے کاہرفرد کچھ اشیا اور خدمات حاصل کرنے میں مشغول ہوتا ہے۔ اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ مختلف اشیا اور خدمات جن کو عام طور پر وہ خود نہیں پیدا کرتا وہ بھی اسے حاصل ہوں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ معاشرے میں لوگ جو مجموعی طور پر حاصل کرناچاہتے ہیں اور وہ جو کچھ پیدا کرتے ہیں ان کے درمیان مناسبت ہونی چاہیے۔ مثلاً ایک کسان کنبہ اور معاشرے کی دوسری کاشتکاری اکائیوں کے ذریعے مجموعی طور پر ہونے والی مکیّ کی پیداوار اور لوگوں کی مجموعی طور پر صرف ہونے والی مکیّ کی مقدار ایک دوسرے سے متوازن ہونی چاہیے۔ اگر لوگوں کو مکیّ کی اس قدر مقدار نہیں چاہیے جتنی کہ تمام کاشتکاری اکائیاں پیدا کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں تو ان اکائیوں کو ان دوسری اشیا اور خدمات کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جن کی مانگ زیادہ ہے۔ اس کے برعکس اگر لوگوں کو دوسری اشیا اور خدمات کی بہ نسبت مکیّ کی پیداوار اس مقدار سے زیادہ چاہیے جو کہ کاشتکاری کی اکائیاں دے رہی ہیں تو کچھ وسائل جو دوسری اشیا اور خدمات پیدا کرتے ہیں ان کو مکیّ کی پیداوار فراہم کرنی ہوگی۔ بالکل ایسی طرح دوسری تمام اشیا اور خدمات کے بارے میں سمجھنا چاہیے۔ جس طرح سے ایک فرد کے وسائل قلیل ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے معاشرے کے وسائل بھی لوگوں کی مجموعی خواہش کی بہ نسبت قلیل ہوتی ہیں۔ معاشرے کے قلیل وسائل کا مختلف اشیا اور خد مات کی پیداورا کے لیے لوگوں کی پسند اور نا پسند کو نظر میں رکھتے ہوئے تسلی بخش انتخاب ضروری ہے۔
معاشرے کے وسائل کے کسی بھی تعین کا نتیجہ مختلف اشیا اور خدمات کے ایک خاص مجموعہ(combination) کی پیداوار کی شکل میں نکلے گا۔ اس طرح سے پیدا ہونے والی اشیا اور خدمات کو معاشرے کے افراد میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ محدود وسائل کا تعین اور اشیا اور خدمات کی آخری آمیزگی کی تقسیم معاشرے کے دو بنیادی معاشی مسئلے ہیں۔
درحقیقت کوئی بھی معیشت مذکورہ بالا معاشرے کی بہ نسبت زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ہم نے سماج کے بارے میں جو جہاں تک ہمیںمعلوم ہے، اس کی روشنی میں آئیے معاشیات کی بنیادی معاملات کا ذکر کریں جن میں سے کچھ کے بارے میں ہم اس کتاب میں آگے بھی پڑھتے رہیں گے۔

یہاں ہم یہ مان کر چل رہے ہیں کہ ایک معاشرے میں تمام اشیا اور خدمات کی پیداوار معاشرے کے لوگ صرف کرتے ہیں اور معاشرے کے باہرسے کسی چیز کی حصولیابی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ درحقیقت یہ صحیح نہیں ہے۔ بہرحال جوبات یہاں اشیا اور خدمات کی پیداوار اور ان کے صرف کے درمیان مناسبت کے بارے میں کہی گئی ہے وہ کسی بھی ملک اور یہاں تک کہ پوری دنیا کے بارے میں لاگو ہوتی ہے۔

وسائل کے تعین(Allocation)سے ہماری مراد ہے کہ کسی وسیلے کی کتنی مقدار ہر ایک شئے اور خدمات کی پیداوار کے لیے مختص کی گئی ہے۔

1.2معیشت کے مرکزی مسائل (The Central Problems of aEconomy)

اشیا اور خدمات کی پیداوار، مبادلہ اور صرف زندگی کی بنیادی معاشی سرگرمیاں ہیں۔ ان بنیادی معاشی سرگرمیوں کے دوران ہرمعاشرہ وسائل کی قلت یا کمیابی کا سامنا کرتا ہے اور یہ وسائل کی قلت انتخاب(Choice)کے مسئلے پیدا کرتی ہے۔معیشت کے قلیل وسائل کا استعمال سے مقابلہ رہتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہر معاشرے کو یہ فیصلہ کرنا ہوتاہے کہ وہ اپنے قلیل وسائل کا استعمال کس طرح سے کرے۔ایک معیشت کے مسائل کا اکثر خلاصہ اسی طرح کیا جاتا ہے:

کون سی شے  پیدا کی جائے اور کس مقدار میں پیدا کی جائے؟

ہر معاشرے کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ مختلف اشیا اور خدمات میں سے ہر ایک کو وہ کتنی مقدار میں پیدا کرے گا۔کھاناکپڑے اور مکانات زیادہ پیدا ہوں عیش عشرت اشیا کی پیداوار زیادہ ہو، کاشتکاری کی اشیا زیادہ ہوں یا کہ صنعتی اشیااور خدمات۔ تعلیم اور صحت میں زیادہ وسائل کا استعمال ہو کہ فوجی خدمات کی تعمیرمیں۔ بنیادی تعلیم زیادہ فراہم کی جائے یا اونچی تعلیم زیادہ فراہم کی جائے یا صرف زیادہ فراہم ہونے والی اشیا تیار ہوں کہ سرمایہ کاری والی اشیا(Investment goods)جیسے کہ مشین جو کہ پیداوار اور صرف کو مستقبل میں بڑھا سکیں گی۔

ان اشیا کو کیسے پیدا کیا جائے؟

ہر معاشرہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سے وسائل کی کتنی مقدار ہر ایک مختلف اشیا اور خدمات کی پیداواری میں استعمال ہوگی۔ مشینوں کا استعمال زیادہ ہو یا کہ مزدوری کا۔ ہرایک اشیا کی پیداوار میں کون سی دستیاب ٹکنالوجی کو اپنایا جائے؟

ان اشیا کی پیداوار کن کے لیے کی جاتی ہے؟

معیشت میں ہونے والی اشیا میں سے کس کو کتنا ملتا ہے؟ معیشت کی پیداوار کی تقسیم معیشت کے افراد میں کس طرح سے ہو؟ کس کو زیادہ ملنا ہے اور کس کو کم؟ معیشت میں ہر ایک فرد کے صرف کی کم سے کم مقدار کو یقینی بنایا جانا چاہیے یا نہیں۔ بنیادی تعلیم اور بنیادی صحت کی خدمات معیشت کے ہر فرد کے لیے مفت دستیاب ہوں یا نہ ہوں۔
اس طرح معیشت کو اپنی ممکنہ اشیا اور خدمات کی پیداوار کے لیے اور پھر پیدا شدہ اشیا اور خدمات کا معیشت کے لوگوں میں تقسیم کے بارے میں اپنے قلیل وسائل کے تعین کا مسئلہ درپیش ہے۔ قلیل وسائل کا تعین اور تیارشدہ اشیا اور خدمات کی تقسیم ہر معیشت کے مرکزی مسئلے ہیں۔

پیداوارامکان کی حد  (production possibility frontier)

جس طرح سے افراد کو وسائل کی قلت درپیش ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح ایک معیشت کے وسائل بھی معیشت کے لوگوں کی مجموعی مانگ کے مقابلے ہمیشہ محدود ہوتے ہیں۔ قلیل دیگر استعمال بھی ہوتے ہیں اور ہر سماج یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مختلف اشیا اور خدمات کی پیداوار کے لیے اپنے وسائل میں سے ہر ایک کتنی مقدار میں استعمال کرے۔ دوسرے لفظوں میں ہر معاشرے کو یہ طے کرنا ہے کہ قلیل وسائل کا مختلف اشیا اور خدمات کے واسطے تخصیص کیسے ہو۔
معیشت کے قلیل وسائل کومختص کرنے سے اشیا اور خدمات کے ایک خاص مرکب پیدا کرتا ہے۔ اگر وسائل کی کل مقدار معلوم ہو تو وسائل کا تعین مختلف طریقوں سے کیا جاسکتا ہے۔ اور اس طرح سے تمام اشیا اور خدمات کے مختلف مرکبّات حاصل ہوسکتے ہیں۔ تمام ممکن اشیا اور خدمات کے ممکنہ مرکب، جو کہ ایک وسائل کی مخصوص مقدار سے پیدا کیے جاسکتے ہیں، ان کا اور ایک دیے گئے تکنیکی علم کے ذخیرے کا مجموعہ، معیشت کا پیداوارکے امکان کا مجموعہ(Production Possibility Set) کہلاتاہے۔

مثال1—————————

ایک معیشت کے بارے میں غور کیجیے جو کہ اپنے وسائل کا استعمال کر کے مکاّ یا کپاس پیدا کرسکتی ہے۔ جدول1.1 میں مکیّ اور روئی کا، جو کہ معیشت پیدا کرسکتی ہے،اتصال پیش کرتی ہے۔
اگر مکّے کی پیداوار میں تمام وسائل کا استعمال ہوتا ہے تو زیادہ سے زیادہ مکّے کی چار اکائیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اور اگر کپاس کی پیداوار میں تمام وسائل کا استعمال کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ روئی کی10اکائیاں پیدا کی جاسکتی ہیں۔اس کے علاوہ معیشت مکّے کی 1اکائی اور کپاس کی 9اکائیاں یامکّے کی 12اکائیاں اورکپاس کی 7اکائیاں یا مکّے کی 3اکائیاں اور کپاس کی 4اکائیاں بھی پیدا کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور امکانات بھی ہوسکتے ہیں۔تصویر میں معیشت کی پیداوار کے امکانات دکھائے گئے ہیں۔ خط پر یا اس کے نیچے کا کوئی بھی نقطہ مکّے اور کپاس کے ایک اتصال کی نمائندگی کرتا ہے جو کہ معیشت کے وسائل سے پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ خط دکھاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مکاّ جوکہ کپاس کی ایک دی گئی مقدار کے لیے پیدا ہوسکتا ہے وہ کتناہوگا ہے اور اسی طرح سے زیادہ سے زیادہ کپاس جو کہ مکّے کی ایک دی گئی مقدار کے لیے پیدا ہوسکتی ہے وہ کتنی ہوگی۔ یہ خط حد امکان پیداوارکہلاتا ہے۔ یہ حدامکان پیداوار مکے اور کپاس کی مختلف اتصال فراہم کرتی ہے جو، تب پیدا ہوسکتی ہیں جب معیشت کے وسائل سے پوری طرح استفادہ کرلیا گیا ہو۔ 

امکانات مکا کپاس
A 0 10
B 1 9
c 2 7
D 3 4
E 4 0
 
یہ بات اہم ہے کہ ایک نقطہ اگر پیداوار امکان کی حد کے نیچے ہے تو وہ یہ بتاتا ہے کہ کپاس اور مکیّ کااتصال اس وقت پیدا ہوگا جبکہ تمام وسائل یا کچھ وسائل کا یا تو کم استعمال ہوا ہے یا مسرفانہ طریقے سے ہوا ہے۔
اگر کمیاب وسائل کے زیادہ استعمال مکّے کی پیداوار کے لیے ہوتا ہے تو کپاس کی پیداوار کے لیے کم وسائل دستیاب ہونگے جو اس کے برعکس ہونگے۔ اس لیے اگر ہم ایک شئے زیادہ مقدار میں چاہتے ہیں تو دوسری شئے کم مقدار میں ملے گی۔ اس طرح ایک شئے کی زیادہ پیداوار ہونے کی ہمیشہ ایک لاگت ہوتی ہے جو دوسری شئے کی اس کے مقابل لاگت ادا کرنی ہوتی ہے، جسے ترک لیا گیا ہو۔ جو مناسبت رکھتی ہے اور جو کہ پیدا نہیں کی گئی ہو۔ اس کا اشیا کی ایک مزید اکائی کی لاگت بدل (Opportunity Cost) کہتے ہیں۔
ّ7
ہر معیشت میں امکانات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔دوسرے لفظوں میں معیشت کے کئی پیداوار امکانات میں سے کسی ایک کاانتخاب معیشت کے بنیادی مسائل میں سے ایک ہے۔

 یہ بات غور طلب ہے کہ لاگت بدل(Opportunity Cost)کاتصور ایک فرد اور معاشرہ دونوں پرعائد ہوتا ہے۔یہ تصورّ بہت اہم ہے اور معاشیات میں کئی بار استعمال کیا جاتا ہے۔ معاشیات میں اپنی اہمیت کی وجہ سے لاگت بدل کومعاشی لاگت(Economic Cost)بھی  کہا جاتا ہے۔

1.3معاشی سرگرمیوں کا ادارہ  (Organisation of Economic Activities)  

بنیادی مسائل کا حل اور اپنے مقاصد میں کوشاں افراد آپس میں بات چیت یا تعامل کے ذریعہ یا جیساکہ ہے بازار میں کیا جاتا ہے۔ یا پھر منصوبہ بندطریقے سے حکومت جیسی کسی مرکزی اختیاریہ کے ذریعہ نکالا جاسکتاہے۔

1.3.1مرکزی منصوبہ بند معیشت (The Centrally Planned Economy)

ایک مرکزی منصوبہ بند معیشت میں، حکومت یا مرکزی اتھارٹی کے ذریعے معیشت کی تمام اہم سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ اشیا اور خدمات کی پیداوار،مبادلہ اور صرف سے متعلق تمام اہم فیصلے حکومت لیتی ہے۔ حکومت وسائل کا خاص تعین کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں اشیا اور خدمات کی تیار ترتیب کی تقسیم پورے معاشرے کے فائدے کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے انجام دینے کی کوشش کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک شئے یا خدمت جو کہ پوری معیشت کے لیے فائدہ مند اورخوش حالی کا سبب ہوسکتی ہے، جیسے کہ تعلیم یاصحت کی خدمت اور اس کی پیداوار اپنے طور پر افراد اسقدر نہیں کر رہے ہیں جتنی کہ ہونی چاہیے بہرحال حکومت لوگوں کو حسبِ ضرورت پیداوار کے لیے آمادہ کر سکتی ہے۔ یا بصورت دیگرحکومت خود اس شئے یا خدمت کی پیداوار شروع کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے ایک دوسرے سلسلے میں اگر معیشت میں کچھ لوگوں کو تیار اشیا اور خدمات میں سے اتنا کم حصہ مل رہا ہے جس سے کہ ان کے وجود کو باقی رکھنا بہت مشکل ہورہا ہے حکومت مداخلت کرکے اشیا اور خدمات کی منصفانہ تقسیم انجام دے سکتی ہے۔

 1.3.2  بازار کی معیشت   (The Market Economy)

مرکزی منصوبہ بند معیشت کے بالکل برعکس بازار کی معیشت میں تمام معاشی سرگرمیاں بازار ہی مرتب کرتا ہے۔ معاشیات میں بازار ایک ایسا ادارہ ہے جو کہ اپنی معاشی سرگرمیوں میں مشغول افراد کاردِّعمل(effect)آزادانہ طورپر منظم کرتا ہے۔ دوسرے لفظوںمیں بازاربندوبست کی ایسی صورت ہے جہاں معاشی دلال ایک دوسرے سے کھل کر اپنی اشیا اور اِثاثے کا مبادلہ کر سکتے ہیں یہاں یہ غور کرنا اہم ہے کہ معاشیات بازار کی جو اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ؛ عام طور سے لوگ جو سمجھتے ہیں دونوں بالکل الگ ہیں۔ خاص طور سے اس کا واسطہ بازار سے قطعی نہیں ہے جس کا خیال عام طور سے ہمارے ذہن میں لفظ بازار سے آتا ہے۔ اشیا کی خریدو فروخت کے لیے لوگ ایک حقیقی محل وقوع پر ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ خرید اور فردخت کرنے والا ایک دوسرے سے کئی طرح کی جگہوں پر مل سکتے ہیں جیسے کہ گاؤں کا چوراہا یا شہر کا سپر بازاریا بصورت دیگر خریدار اور فروختکار ایک دوسرے سے اصلاحاتی نظام کے ذریعے اپنی اشیا کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح انتظامات جو لوگوں کو اشیا کی خریدوفروحت آزادی کے ساتھ کرنے کی آسانی مہیا کراتے ہیں، وہ بازار کی تعریفی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔
کسی بھی نظام کی بہتر کارکردگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس نظام کے مختلف اجزائے ترکیبی کی سرگرمیوں کے درمیان مبادلہ واقع ہو۔ ورنہ نظام ورہم برہم ہوجائے گا۔ آپ سوچیں گے کہ آخر وہ کون سی طاقتیں ہیں جو لاکھوں علاحدہ  علاحدہ  افراد کے درمیان ربط بنائے رکھتی ہیں۔
ایک بازارِ رابطہ یا نظام میں تمام اشیا اور خدمات کی قیمتیں ہوتی ہیں۔جو خریدار اور فروخت کار دونوں کو قبول کرنی ہوتی ہیں۔اور جن پر ان کے درمیان مبادلہ واقع ہوتا ہے۔ کسی شئے یا خدمت کی قیمت اوسطاً معاشرے کی اسی شئے یا خدمت کی قدر کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر خریدار کسی خاص شئے کو زیادہ لینا چاہیں تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ یہ اس شے کی پیداوار کرنے والے(Producer)کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ معاشرے کو اس شے کی زیادہ کی ضرورت ہے اور پیداکارممکن ہے کہ اس شئے کی پیداوار میں اضافہ کردیں۔ اس طرح اشیا اور خدمات کی قیمتیں تمام بازار کے افراد کو اہم معلومات فراہم کرتی ہیں اور بازار کے نظام میں ربط بنانے میں مددگارہوتی ہیں۔اسطرح بازارِ نظام میں کتنا اور کیا پیدا کیا جاتا ہے اس کے متعلق مرکزی مسائل کو معاشی سرگرمیوں میں قیمتوں کے اشارے سے  ارتباط قائم کرنے کے ذریعہ حل کیا جاتا ہے۔
درحقیقت تمام معیشتیں مخلوط معیشت (mixed economics)ہیں جن میں اہم فیصلے حکومت کرتی ہے اور معاشی سرگرمیاں زیادہ تر بازار کے ذریعہ چلائی جاتی ہیں۔ فرق اتناہے کہ حکومت کس حد تک معاشی سرگرمیوں کو انجام دینے میں فیصلے لیتی ہے۔امریکہ میں حکومت کا رول کم سے کم ہے۔ مرکزی منصوبہ بند معیشت(Centrally planned economy) کی سب سے اچھی مثال بیسویں صدی کے زیادہ تر عرصے میں سوویت یونین (Soviet Union) کی ہے۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد حکومت کا معاشی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی میں کافی اہم رول رہا ہے۔حالانکہ پچھلی چنددہائیوں میں ہندوستان کی معیشت میں حکومت کا رول کافی گھٹا ہے۔

کسی ادارے(Institution)کی تعریف عموماََ ایک تنظیم کے طورپر کی جاتی ہے جس  کے کچھ مقاصد کے  ہوتے ہیں۔

1.4  مثبت اور معیاری معاشیات       (Positive and normative Economics)

پہلے یہ بتایا جاچکا ہے، کہ اصولی طور پہ کسی معیشت کے مرکزی مسئلوں کو حل کرنے کے لیے ایک سے زیادہ طریقے ہیں۔ عام طور سے یہ مختلف ترکیبیں(mechanism)ان مسئلوں کے مختلف حل دیتی ہیں۔ وسائل کے مختلف تعین اور معیشت کی اشیا اور خدمات کی مختلف طورپر تقسیم ہوتی ہے اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان مختلف طریقوں میں سے کون سا طریقہ معیشت کے لیے بہتر ہوگا۔ معاشیات میں ہم ان مختلف طریقوں کا تجزیہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مختلف طریقوں سے کیا نتائج نکلتے ہیں۔ہم ان ترکیبوں کی پرکھ ایسے بھی کرتے ہیں کہ ان سے حاصل شدہ نتیجے کتنے فائدہ مند رہیں گے۔ اکثر مثبت معاشی تجزیے اور معیاری معاشی تجزیے کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔جو اس بات پر منحصر کرتاہے کہ کیا ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہ ایک یا تکنییات کس طرح سے کام کرتی ہے۔ یا کہ وہ کتنی فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ مثبت معاشی تجزیے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ترکیب کس طرح کام کرے گی۔ اور معیاری معاشی تجزیے میں ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ترکیبیں خاطر خواہ ہیں یا نہیں۔ حالانکہ ان دونوں کے درمیان کا فرق بہت صاف نہیں ہے۔ مرکزی معاشی مسائل کے مطالعے میں مثبت اور معیاری مسلے ایک دوسرے سے قریبی تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو اچھی طرح سے سمجھنے کے لیے دوسرے کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

1.5 جزوی معاشیات اور کلی معاشیات   (Microeconomics and Macroecomomics)

روایتی طورپر معاشیات کا مطالعہ دو بڑی شاخوں میں بٹا ہوا ہے:جزوی معاشیات اور کلی معاشیات۔جزوی معاشیات میں ہم مختلف اشیا اور خدمات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک معاشی ایجنٹ کے برتاؤ کا مطالعہ کرتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان بازاروں میں افراد بین عمل کے ذریعہ اشیا اور خدمات کی قیمتیں اور مقدار کس طرح مقرر ہوتی ہیں۔ دوسری طرف کلی  معاشیات میں ہم معیشت کو کامل طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لیے ہم اپنی توجہ کل پیمائشوں پہ مرکوز کرتے ہیں ۔ جیسے کہ کل ماحصل روزگار، اورمجموعی قیمت کی سطح، یہاں ہم یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ کل پیمائشوں کی سطح کس طرح پتہ چلے اور وقت کے ساتھ یہ سطحیں کس طرح بدلتی ہیں۔ جزوی معاشیات میں کچھ اہم سوال جن کا ہم مطالعہ کرتے ہیں وہ ہیں: معیشت میں کل پیداوار کی سطح کیا ہے؟ کل پیداوار کس طرح طے کیا جائے؟ کل پیداوار کس طرح وقت گزرنے پر بدلتی ہے؟ کیا معیشت کے وسائل (جیسے محنت) کا پورا استعمال ہوا ہے؟وسائل کا پورا استعمال نہیں کئے جانے کی وجہ کیا ہے؟ قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوتا ہے؟اس طرح کلی معاشیات میں بجائے مختلف بازاروں کا مطالعہ کرنے کے، جو ہم جزوی معاشیات میں کرتے ہیں، ہم معیشت کی کاکردگی کے برتاؤ کے مجموعی یا کلی طریقے سے مطالعہ کرتے ہیں۔

1.6کتاب کی ترتیب  (Plan of the Book)

اس کتاب کا مقصد ہے جزوی معاشیات کے بنیادی خیالات سے آپ کا تعارف ہو سکے۔ اس کتاب میں ہم انفرادی صارف (Individual Consumers)اور ایک واحد شئے کے پیداکاروں کے برتاؤ پر روشنی ڈالیں گے۔ اور تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ بازار میں کسی واحد شئے کی قیمت اور مقدارکس طرح طے کی جاتی ہے۔باب 2 میں ہم صارف کے برتاؤ کا مطالعہ کریں گے۔ باب 3 میں پیداوار اور لاگت کے بنیادی تصورات پڑھیں گے۔ باب 4 پیداکارکے برتاؤ کے بارے میں ہے۔ باب5میں ہم مطالعہ کریں گے کہ ایک شئے کی قیمت اور مقدار ایک مکمل طور پر مسابقتی بازارمیں کس طرح سے طے کی جاتی ہیں۔ باب6میں بازار کی کچھ دیگر شکلوں کا مطالعہ کر یں گے۔

کلیدی تصوّرات

صرف     Consumption          کلی معاشیات Macro economics
قلت یا کمیابی           Scarcity             مبادلہ                      Exchange  
بازار                     Market             لاگت بدل       Opportunity cost
مخلوط معیشت Mixed Economy         مرکزی منصوبہ بند معیشت   Centrally
 جزوی معاشیات    Micro economics                 planned economy
پیداوار                Production          معیاری تجزیہ  Normative analysis
پیداواری امکانات    Production possibilites
بازار معیشت                  Market economy
مثبت تجزیہ                   Positive analysis

مشقیں

1۔   ایک معیشت کے مرکزی مسائل بیان کریں۔
2۔   معیشت کے پیداواری امکانات سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
3۔   پیداوار امکان کی حد کیا ہے؟
معاشیات کے مضمون پر بحث کریں۔
5۔   مرکزی منصوبہ بند معیشت اور بازار معیشت میں امتیاز کیجیے۔
6۔   مثبت معاشی تجزیہ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
7۔   معیاری معاشی تجزیہ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
8۔   جزوی معاشیات اور کلی معاشیات میں امتیاز کیجیے۔