Skip to content
Juzvimaashiatkatarruf-002

باب  2

1

صارف رویہ کا نظریہ (Theory of Consumer Behaviour)

اس باب میں ہم ایک انفرادی صارف کے رویہ کا مطالعہ کریں گے۔صارف کویہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کس طرح خرچ کرے۔ معاشیات میں اسے انتخاب کا مسئلہ کہتے ہیں۔ فطری طورپر کوئی بھی صارف ایسی اشیا1کا مجموعہ حاصل کرنا چاہے گا جس سے اس کو سب سے زیادہ تسکین حاصل ہوسکے۔ سب سے اچھامجموعہ کیا ہوسکتا ہے؟اس کا انحصار صارف کی پسند اور اس بات پرہوگا کہ اس کی قوت خریدکتنی ہے۔ صارف کی پسند کو ’’ترجیحات‘‘بھی کہا جاسکتاہے، اور ایک صارف کیا خریدسکتا ہے،اس کا انحصار اشیا کی قیمت اورصارف کی آمدنی پرہوتا ہے۔ اس باب میں صارف کے رویہ کی وضاحت کے لیے دومختلف طریقے پیش کیے گئے ہیں۔(i)عددی افادیت کا تجزیہ اور(ii)ترتیبی افادیت کا تجزیہ۔

ابتدائی اعدادی علامات اورمفروضات (Preliminary Notations andAssumptions)

عام طورپرایک صارف کئی اشیا کا استعمال کرتا ہے،لیکن آسانی کے لیے ہم صارف کے انتخاب کے مسئلے کوایک ایک صورت حال میں سمجھیں گے جہاں صرف دواشیا2 موجودہیں: کیلا اورآم۔ان دونوں اشیا کے کئی مجموعے کی مقدار کوکم ہم صرف ایک بنڈل کہیں گے۔عام طورپر ہم متغیرx1کااستعمال کیلوں کی مقدار کے لیے اورx2 کااستعمال آم کی مقدار کے لیے کریں گے۔x1اورx2مثبت ہوسکتے ہیں یا صفر۔(x2،x1) کے معنی ہوں گے کہ کیلے کے مقدار x1 اورآم کی مقدارx1کی مقدارپر مشتمل ہے۔ x1 اور x2کے خاص قدروں کے لیے (x1,x2)کا مخصوص بنڈل دیں گے۔ مثال کے طورپر بنڈل(10,5)کیلوں کی 10تعداد اورآم کی 5 تعداد پر مشتمل ہے۔

2.1  افادیت  (Utility)

ایک صارف عام طورپر کسی شے کے لیے اپنی مانگ کا فیصلہ اس شے سے حاصل ہونے والی افادیت (یا تسکین) کی بنیاد پر کرتاہے۔ افادیت(Utility)کیا ہے؟ کسی شے کی افادیت اس کی مانگ کو تسکین پہنچانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ جتنی زیادہ کسی شے کی ضرورت یا اس کو حاصل کرنے کی خواہش ہوگی اتنی ہی زیادہ اس شے سے افادیت حاصل ہوگی۔
افادیت کا انحصار مختلف عناصر پرہوتا ہے۔ مختلف افراد کوایک ہی شے سے الگ الگ افادیت حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر کوئی شخص جیسے چاکلیٹ بہت پسند ہیں۔ ایک چاکلیٹ سے جتنی افادیت حاصل کرے گا اتنی ایک دوسرے شخص کوحاصل نہیں ہوگی جو چاکلیٹ کا اتنا شوقین نہیں ہے۔اس کے علاوہ ایک شخص کوکسی شے سے حاصل ہونے والی افادیت وقت اور مقام میں تبدیلی کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ مثال کے طورپر ایک روم ہیٹر کی افادیت اس بات پر منحصر ہے کہ یہ شخص لداخ میں ہے یا چنئی میں(مقام)یا یہ موسم سرماہے یا موسم گرما(وقت)۔

1 شے کی اصطلاح شے اور خدمات دونوں کے لیے کریں گے۔

2  یہ مفروضہ کہ صرف دواشیا دستیاب ہیں، تجزیہ کوکافی حدتک آسان بنادیتی ہیں اور ہمیں ایک سادہ ڈائی گرام کے ذریعہ اہم تصورات کوسمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

2.1.1عددی افادیت کا تجزیہ  (Cardinal Utility Analysis)

عددی افادیت کا تجزیہ(Cardinal Utility Analysis)کے لیے فرض کیا جاتا ہے کہ افادیت کو اعداد میں ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طورپر ہم ایک قمیص سے حاصل ہونے والی افادیت کوناپ سکتے ہیں یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس قمیص سے 50یونٹ افادیت حاصل ہوتی ہے۔اس پرمزید یہ بحث کرنے سے پہلے، افادیت کے دواہم پیمانوں پرنظرڈالنا ضروری ہے۔

افادیت کے پیمانے(Measures of Utility)

کسی شے کی مقررہ مقدارسے حاصل ہونے والی کل افادیت(ٹی یو) مثال کے طورپر xکی مقررہ مقدار سے حاصل ہونے والی کلی تسکین ہے۔ xکی زیادہ مقدار صارف کو زیادہ تسکین فراہم کرتی ہے۔ اس لیے ٹی یو کا انحصار استعمال کی گئی شے کی مقدار پرہوتا ہے۔ اس لیے TUnکامطلب xشے کے nیونٹ کے استعمال سے حاصل ہونے والی کل افادیت ہوگی۔

حاشیائی افادیت(Marginal Utility)

حاشیائی افادیت(MU)کسی شے کے ایک اضافی یونٹ کے استعمال کی وجہ سے کل افادیت میں ہونے والی تبدیلی ہے۔ مثال کے طورپر 4کیلوں سے ہمیں کل افادیت 28یونٹ حاصل ہوتی ہے اور5کیلوں سے ہمیں30یونٹ کی کل افادیت حاصل ہوتی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 5کیلوں کے استعمال سے کل افادیت میں 2یونٹ(28یونٹ سے 30یونٹ)کا اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے 5کیلوں کی حاشیائی افادیت 2یونٹ ہوگی۔
MU5 = TU5 – TU4 = 30 – 28 = 2
عام طورپر MUn = TUn – TUn-1جس میںn،شے کے nویں یونٹ کا اظہارکرتا ہے۔
کل افادیت اورحاشیائی افادیت کومندرجہ ذیل طریقے سے بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔
TUn = MU1 + MU2 + … MUn-1 + MUn
اس کا سیدھامطلب یہ ہے کہ کیلوں کے nیونٹ کواستعمال کرنے سے حاصل ہونے والی TUدراصل پہلے کیلے کی حاشیائی افادیت(MU1)،دوسرے کیلے کی حاشیائی افادیت(MU2)،اور اسی طرح سے nویں کیلے کے استعمال سے حاصل ہونے والی حاشیائی افادیت کی کل جمع ہے۔
جدول2.1اورشکل2.1میں کسی شے کی مختلف مقدار کے استعمال سے حاصل ہونے والی حاشیائی افادیت اورکل افادیت کی تصوراتی مقدار کو پیش کرتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کسی شے کی کچھ مقدار حاصل ہونے کے بعد صارف کی مزید شے حاصل کرنے کی خواہش کمزورہوجاتی ہے۔ یہی چیز جدول اورگراف میں پیش کی گئی ہے۔

جدول:2.1کسی شے کی مختلف مقدار کے استعمال سے حاصل ہونے والی کل افادیت(TU)اورحاشیائی افادیت (MU)

یونٹ کل افادیت حاشیایئ افادیت
1
2
3
4
5
6
12
18
22
24
24
22
12
6
4
2
0
2-
آپ دیکھیں گے کہ MU3،MU2سے کم ہے۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ کل افادیت (TU)میں اضافہ ہوتا ہے لیکن گھٹتی ہوئی شرح سے۔ کسی شے کے استعمال کی مقدار میں تبدیلی کی وجہ سے کل افادیت میں ہونے والی تبدیلی کی شرح حاشیائی افادیت کا پیمانہ ہے۔ یہ حاشیائی افادیت استعمال میں اضافے کے ساتھ کم ہوتی ہے یعنی 12سے6،6سے 4اوراسی طرح سے آتے۔ اس سے گھٹتی ہوئی حاشیائی افادیت کا قانون بتاتا ہے کہ کسی شے کے ہراضافی یونٹ کے استعمال سے حاشیائی افادیت، شے کے استعمال میں اصافے کے ساتھ کم ہوتی ہے جبکہ دیگراشیا کا استعمال ساکن ہو۔
3

شے کی مختلف مقدار کے استعمال سے حاصل کی گئی حاشیائی افادیت اورکل افادیت کی اقدار ۔ شے کے استعمال میں اضافے کے ساتھ حاشیائی افادیت گھٹتی جاتی ہے۔

MUایک سطح پر آکرصفرہوجاتا ہے جبکہ TUساکن رہتا ہے۔ مذکورہ مثال میں 5ویں یونٹ کے استعمال پر TUمیں تبدیلی نہیں ہوتی اوراس لیے MU5=0ہوتا ہے۔ اس کے بعد TUکم ہونے لگتا ہے جبکہ MUمنفی ہوجاتا ہے۔

واحد شے کے معاملے میں خط طلب کا استخراج(گھٹی ہوئی حاشیائی افادیت کا قانون)

عددی افادیت تجزیہ کوایک شے کا خط طلب اخذ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔طلب کیا ہے؟ اورخط طلب کیا ہے؟ ایک صارف کسی شے کی مقررہ قیمت پر اور اپنی مقررہ آمدنی کے پیش نظر ایک شے کی جتنی مقدار خریدنے کا خواہش مند ہے، اور اسے خریدنے کی سکت بھی رکھتا ہے، وہ اس شے کی طلب کہلاتی ہے۔ ایک شے xکے لیے مانگ (طلب)،خودxکی قیمت علاوہ کئی دیگرعناصر پر منحصر ہوتی ہے جیسے دوسری اشیا کی قیمتوں (جیسے متبادل اورتکمیلی 2.4.4)،صارف کی آمدنی اورصارف کی پسند اور ترجیحات۔خط طلب کسی صارف کی ایک شے کو اس کی مختلف قیمتوں پر خریدنے کی مقدار کا ایک گراف کے ذریعہ اظہار ہے جس میں دیگر متعلقہ اشیا کی قیمتیں اورصارف کی آمدنی میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔
4
شکل2.2میں ایک صارف کی xشے کی مختلف قیمتوں پر فرضی مانگ کوپیش کیا گیا ہے۔مقدار افقی سمت میں دکھایاگیا ہے جبکہ قیمت کو عمودی سمت ظاہر کیا گیا ہے۔
نیچے کی جانب گرتا ہوا خط طلب اس بات کوظاہر کرتا ہے کہ صارف کم قیمت پرxاشیا کی زیادہ مقدار خریدنے کا خواہش مند ہے لیکن زیادہ قیمت پر xاشیا کی کم مقدارخریدنے کا خواہش مند ہے۔ اس لیے کسی شے کی قیمت اور اس شے کی مانگ کی مقدار میں منفی تعلق ہے اوراسے طلب کا قانون(Law of Demand)کہا جاتا ہے۔
نیچے گرتے ہوئے خط طلب کا تصورگھٹتی ہوئی حاشیائی افادیت پر واضح ہوتا ہے ۔گھٹتی ہوئی حاشیائی افادیت کا قانون کہتا ہے کہ ایک شے کا ہراضافی یونٹ کم ترحاشیائی افادیت فراہم کرتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی فرد ہراضافی یونٹ کے لیے اتنی ادائیگی کرنے کا خواہش مند نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں طلب کا خط نیچے کی جانب گرنے لگتا ہے۔ ایک xشے کی قیمت اگر 40روپے فی یونٹ ہے اوراس شے کے لیے کوئی شخص 40روپے فی یونٹ کی در سے xکے5یونٹ خریدنے کا خواہش مند ہے۔لیکن xشے کے چھٹے یونٹ سے حاصل ہونے والی تسکین 5ویں یونٹ سے حاصل ہونے والے یونٹ سے کم ہوگی۔ یہ شخص اس xشے کا چھٹا یونٹ اس وقت خریدنے کا خواہش مندہوگا جب کہ اس کی قیمت 40روپے سے کم ہو۔ اس طرح کم ہوتی ہوئی حاشیائی افادیت اس بات کوواضح کرتی ہے کہ خط طلب منفی سمت کیوں جاتا ہے۔

2.1.2 ترتیبی افادیت کا تجزیہ (Ordinal Utility Analysis)

عددی افادیت کا تجزیہ سمجھنے میں توآسان ہے لیکن افادیت کو اعداد میں شمارکرنا ایک بڑی خامی ہے۔ حقیقی زندگی میں ہم افادیت کوکبھی بھی اعداد میں ظاہر نہیں کرتے۔ زیادہ سے زیادہ ہم مختلف مجموعوں کوکم یا زیادہ افادیت والی درجہ بندی میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں صارف افادیت کی پیمائش اعداد میں نہیں کرتا ،البتہ وہ الگ الگ مجموعہ کے بنڈلوں کی درجہ بندی کرتا ہے۔ یہی چیز ہمارے مضمون’’ترتیبی افادیت کے تجزیہ کا آغاز ‘‘ہے۔
کسی شے کے دستیاب بنڈلوں سے متعلق ایک صارف کی ترجیحات کو ڈائی گرام کے ذریعہ پیش کیا جاتا ہے۔ ہم یہ پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ صارف کودستیاب بنڈلوں کو دو۔رخی ڈائی گرام میں پوائنٹ کے طورپر پیش کیا جاسکتا ہے۔ ایسے پوائنٹ جوصارف کو برابر افادیت دیتے ہیں ان کوعام طورپر ایک خط کے ذریعہ پیش کیا جاسکتا ہے جیسا کہ شکل2.3میں دکھایا گیا ہے۔ صارف مختلف بنڈلوں کے بارے میں بے نیاز ہوتا ہے کیونکہ بنڈل کے ہرپوائنٹ سے صارف کوبرابر کی افادیت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے ایسا خط جوان تمام پوائنٹ پرسکتا ہے جو مختلف بنڈلوں کا ظاہر کرتے ہیں،تو ایسے خط کو خط بے نیازی کہا جاتا ہے۔شکل 2.3سے ظاہرہوتا ہے کہ تمام پوائنٹ جیسے A،B،C اورDایک ہی خط بے نیازی پرواقع ہیں اورصارف کویکساں سطح کی افادیت فراہم کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات واضح ہے کہ اگرصارف مزید ایک کیلا حاصل کرنا چاہتا ہے تواسے کچھ آم چھوڑنے ہوں گے اس طرح اس کی افادیت کی سطح یکساں رہے گی اور وہ ایک ہی خط بے نیازی پرقائم رہے گا۔ اس لیے خط بے نیازی نیچے کی جانب ڈھلتا ہوا ہوتا ہے۔ 
5
خط بے نیازی۔ ایک خط بے نیازی بنڈلوں کوظاہرکرنے والے ان تمام نقطوں پر ملتا ہے جن کے بارے میںصارف بے نیاز ہوتا ہے

صارف کو ایک اضافی کیلے کے لیے آم کی جتنی مقدار چھوڑنی ہوگی،جبکہ اس کی افادیت کی سطح اپنی جگہ برقرار رہے،اسے حاشیائی شرح تبادلہ Marginal Rate of Substitution (MRS)کہاجاتاہے۔دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ MRSوہ شرح ہے جس پرصارف آم کے بدلے کیلے حاصل کرتا ہے جبکہ اس کوحاصل افادیت کی سطح اپنی جگہ برقراررہتی ہے۔
اس لیے MRS =| ∇Y / ∇X |3.۔
آپ یہ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ جدول2.2میں جب ہم کیلے کی مقدار میں اضافہ کرتے ہیں تو کیلے کے ہراضافی یونٹ کے لیے تیاگکیے جانے والے آموں کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔دوسرے الفاظ میں کیلوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ MRSکم ہوتی جاتی ہے۔ جیسے جیسے صارف کے پاس کیلوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے،ہراضافی کے لیے سے حاصل ہونے والی حاشیائی افادیت (MU)کم ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح آم کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ آم سے حاصل ہونے والی حاشیائی افادیت (MU) میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے کیلوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ صارف کوتیاگ کے لیے میلان میں کمی ہوگی اور وہ کم تعداد میں آم کو تیاگ کرے گا۔ اس لیے کیلوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ MRSکے لیے رجحان میں کمی ہوگی۔ اسی کوگھٹتی ہوئی حاشیائی شرح متبادل کا قانون کہا جاتا ہے۔یہ چیز شکل 2.3میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ Aپوائنٹ سے Bپرجانے کے لیے صارف کو اکیلے کے لیے 3آم چھوڑنے پڑتے ہیں لیکن Bپوائنٹ سے Cپرجانے کے لیے صارف 2آم ہی چھوڑتا ہے۔اس کے بعد Cپوائنٹ سے Dپرجانے کے لیے صارف اکیلے کے بدلے 1ہی آم چھوڑتا ہے۔اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ صارف ہراضافی کیلے حاصل کرنے کے لیے آم کی کم سے کم مقدارکوچھوڑتا ہے۔

6

                                                                                   خط بے نیازی کی شکل

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گھٹتی ہوئی حاشیائی شرح تبادلہ کے قانون کی وجہ سے خط بے نیازی ابتدا میں محدب ہوتا ہے۔ یہ خط بے نیازی کی سب سے عام شکل ہے۔ لیکن ایسی صورت میں جبکہ کسی شے کا مکمل متبادل موجود ہو تبادلہ کی حاشیائی شرح نہیں گھٹتی4۔یہ اسی طرح رہتی ہے۔ آئیے ایک مثال سے سمجھیں۔

جدول:2.3:  گھٹتی ہوئی حاشیائی شرح تبادلہ کے قانون کی نمائندگی

مجموعہ(بنڑل) کیلوں کی تعداد(QX) آم کی تعداد(QY) MRS
A 1 15 -
B 2 12 3:1
C 3 10 2:1
D 4 9 1:1
یہاں صارف کسی بھی مجموعے (بنڈل)سے بے نیاز ہے کیونکہ پانچ روپے کے نوٹوں اور پانچ روپے کے سکوں کا کل میزان برابر ہی ہے۔ صارف کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسے پانچ روپے کے سکے ملتے ہیں یا پانچ روپے کے نوٹ۔ اس لیے اس بات کے برعکس کے صارف کے پاس کتنے پانچ روپے کے نوٹ ہیں، صارف پانچ روپے کے ایک سکے کے بدلے پانچ روپے کا ایک ہی نوٹ چھوڑے گا۔ چونکہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کا مکمل متبادل ہیں،اس لیے ان کوظاہر کرنے والا خط بے نیازی ایک سیدھی لائن میں ہوگا۔
شکل 2.4میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک صارف پانچ روپے کے اتنے ہی سکے چھوڑتا ہے جتنے وہ اضافی پانچ روپے کے نوٹ حاصل کرتا ہے۔
9
مکمل متبادل کے لیے خط بے نیازی۔ خط بے نیازی جودومختلف اشیا کا ظاہرکرتی ہے جو مکمل متبادل ہیں،وہ ایک سیدھا خط ہوتا ہے۔

4مکمل متبادل وہ اشیا ہوتی ہیں جنھیں ایک کی جگہ دوسری کو استعمال کیا جاسکتا ہے اوراس سے صارف کوقطعی ایک جیسی افادیت حاصل ہوتی ہے۔

یک کیفی ترجیحات

صارف کی ترجیح کوباورکیا جاتا ہے کہ وہ دوبنڈلوں (x1,x2) اور(y1,y2)میں سے اگر (x1,x2)میں(y1,y2)کے مقابلے کم ازکم ایک شے زیادہ ہوگی اور (y1,y2)سے کسی بھی طرح کم نہیں ہوگی،توصارف کی ترجیح(x1,x2)کا ہی بنڈل ہوگا۔اس طرح کی ترجیحات کویک کیفی ترجیحات کہا جاتا ہے۔ اس لیے کسی صارف کی ترجیح اس وقت یک کیفی (Monotonic)ہوگی جب دوبنڈلوں میں صارف اس بنڈل کوترجیح دے جس میں کم ازکم ایک شے زیادہ ہے اور دوسرے بنڈل کے مقابلے اس میں کوئی بھی شے کم نہیں ہے۔

 بے نیازی کا نقشہ

تمام بنڈلوں میںصارف کی ترجیح کوخط بے نیازی کے مجموعے کے ذریعہ پیش کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ شکل2.5میں دکھایا گیا ہے۔ خط بے نیازی پرتمام نقطے بنڈلوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن کے بارے میں صارف بے نیازہے۔ ترجیحات کی یک کیفی سے ظاہرہوتا ہے کہ کسی دوخطوط بے نیازی کے درمیان اوپر والے خط پر موجود بنڈل کونچلے خط پردیے گئے بنڈل سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔

10
بے نیازی کا نقشہ: خط بے نیازی کا ایک مجموعہ۔ یہاں تیرا اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ اونچے خط بے نیازی پرموجود بنڈلوں کوصارف نچلے خط بے نیازی پر موجود بنڈلوں پرترجیح دیتا ہے۔

خط بے نیازی کی خصوصیات

1۔ خط بے نیازی دائیں سے بائیں جانب اوپرسے نیچے کی طرف آتا ہے:۔ ایک خط بے نیازی اوپرسے نیچے کی طرف بائیں سے دائیں جانب آتا ہے اس کا مطلب ہے کہ زیادہ کیلے حاصل کرنے کے لیے صارف کوآم کی تعداد میں کمی کرنی ہوگی۔ اگرصارف آم کی تعداد میں کمی نہیں کرتا اور کیلے کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ صارف کو اتنی ہی تعداد میں آم کے ساتھ ساتھ کیلے کے تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور اس طرح یہ اوپر والے خط بے نیازی پر پہنچ جائے گا ۔اس لیے جب تک صارف ایک ہی خط بے نیازی پربرقرار ہے تو اسے کیلوں کی تعداد میں اضافے کے لیے آم کی تعداد میں کمی کرنی ہی ہوگی ۔
11
بے نیازی کی ڈھلان: خط بے نیازی نیچے کی جانب بڑھتا ہے۔خط بے نیامی پرکیلے کی تعداد میں اضافہ آموں کی تعداد میں کمی کوظاہرکرتا ہے۔
اگر67
2۔ اونچا خط بے نیازی زیادہ افادیت فراہم کرتا ہے:
جب تک کسی شے کی حاشیائی افادیت مثبت رہتی ہے، تو ایک شخص اس شے کی مزید مقدار کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ شے کی زیادہ مقدارتسکین کی سطح میں اضافہ کرے گی۔

جدول:2.4:  اشیا کے مختلف بنڈل کی افادیت کی مختلف سطح کی نمائندگی

اشیا کا بنڑل کیلوں کی تعداد آم کی تعداد
A 1 10
B 2 10
C 3 10
جدول 2.4میں کیلوں اورآم کے مختلف بنڈل A،Bاور Cکے طورپر دکھائے گئے ہیں۔A،BاورCکے بنڈل میں آم کی تعدادیکساں ہے لیکن کیلوں کی تعداد الگ الگ ہے۔ چونکہ Bبنڈل میں کیلوں کی تعداد Aبنڈل سے زیادہ ہے، اس لیے Bبنڈل صارف کو زیادہ تسکین فراہم کرے گا۔ اس لیے B،زیادہ اونچے خط بے نیازی پرہوگا۔ اسی طرح سے بنڈل میں Bکے مقابلے زیادہ کیلے ہیں (آم کی تعدادB اورC میں برابرہے) اس لیے C،Bسے زیادہ تسکین فراہم کرے گا۔ اوراسی وجہ سے C،Bکے مقابلے اورزیادہ اونچے خط بے نیازی پرواقع ہے۔
13
اونچا خط بے نیازی، جس میں آم کی تعداد یا کیلوں کی تعداد زیادہ ہے، یا دونوں کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ بنڈل زیادہ اونچائی پرہوگا اورتسکین کی زیادہ سطح کی نمائندگی کرتی ہے۔
3۔دوخط بے نیازی کبھی ایک دوسرے کو قطع نہیں کرتے:
ایک دوسرے کوقطع کرتے ہوئے دوخط بے نیازی متضاد نتائج ظاہرکرتے ہیں۔اس کی وضاحت کرنے کے لیے آئے ہم دوخط بے نیازی کوآپس میں ایک دوسرے سے قطع کرتے ہیں(جیسا کہ شکل 2.8میں دکھایاگیاہے)چونکہ AاورBپوائنٹ، ایک ہی خط بے نیازی،IC1پر موجود ہیں،اس سے ظاہرہوتا ہے کہ بنڈل AاوربنڈلB،دونوں سے یکساں تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح پوائنٹAاورC،ایک ہی خط بے نیازی IC2پرواقع ہیں۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ بنڈلA اور بنڈل Bسے یکساں سطح کی تسکین حاصل ہوگی۔
اس سے یہ بھی ظاہرہوتا ہے کہ پوائنٹ Bاورپوائنٹ Cسے حاصل ہونے والی افادیت یکساں ہے۔لیکن ظاہر ہے یہ ایک مہمل بات ہے کیونکہ Bپوائنٹ پر،صارف کوزیادہ تعداد میں آم میسرہوتے ہیں جبکہ کیلوں کی تعدادبرابرہے۔ اس طرح صارف کوCپوائنٹ کے مقابلے Bپوائنٹ پرزیادہ اچھا متبادل حاصل ہے۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایک دوسرے کو قطع کرتے ہوئے خط بے نیازی، متضاد نتائج پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوخط بے نیازی کبھی ایک دوسرے کوقطع نہیں کرسکتے۔

2.2صارف کا بجٹ(The Consumer's Budget) 

ایک صارف کے بارے میں غورکریں جس کے پاس دو اشیا پرخرچ کرنے کے لیے محدود رقم(آمدنی)موجود ہے۔ان دونوں اشیا کی قیمتیں بازارمیں دی گئی ہیں۔صارف کے لیے ان دونوں اشیا جن کوصرف کرنا چاہتا ہے، کسی بھی یا ہرایک اتصال کوخریدلینا ممکن نہیں ہے۔ صرف بنڈل جوصارف کے لیے دستیاب ہیں وہ دونوں اشیا کی قیمتوں اورصارف کی آمدنی پرمنحصر ہے۔
صارف کی محدود آمدنی اوردونوں اشیا کی قیمتوں کی وجہ سے صارف صرف وہ بنڈل ہی خریدسکتا ہے جو کہ یا تواس کی آمدنی سے کم ہوں یا اس کے برابرہوں۔


15

2.2.1مجموعہ بجٹ اوربجٹ لائن(Budget Set and Budget Line) 

مان لیجیے کہ صارف کی آمدنی Mہے اوردونوں متعلقہ اشیا کی5 قیمتیںp1اورp2ہیں۔اگر صارف شے 1کی x1اکائیاں خریدنا چاہتا ہے تو اسے p1x2رقم کی مقدارخرچ کرنی ہوگی۔ اسی طرح اگرصارف شے 2کی x2اکائیاں خریدنا چاہتا ہے تواسے رقم کی x2p2مقدار خرچ کرنی ہوگی۔اس لیے اگرصارف شے 1کی x1اکائی اورشے 2کیx2 اکائی سے بنڈل خریدنا چاہتا ہے تواسے رقم کیp2x1+p2x2 مقدار خرچ کرنی ہوگی۔صارف یہ بنڈل اسی صورت میں خریدسکتا ہے جب اس کے پاس کم سے کمp1x1+p2x2رقم کی مقدارہو۔ اشیا کی دوقیمتیں اور صارف کی آمدنی کودیکھتے ہوئے صارف کسی بھی ایسے بنڈل کا انتخاب کرسکتا ہے جس کی قیمت اس کی آمدنی کے برابرہو یا اس سے کم ہو۔ دوسرے لفظوں میں صارف کوئی بھی بنڈل) (x1,x2خریدسکتا ہے جب تک کہ:

5ایک شے کی قیمت کی مقدار ہے جو کہ صارف اپنی خواہش کے مطابق خریداری کے لیے شے کی ایک اکائی کے لیے اداکرتا ہے۔ اگرروپیہ زر کی اکائی ہے اور شے کی مقدار کلوگرام میں ہے تو کیلے کی p1قیمت کے صارف کیلے کوخریدنے کا یہ مطلب ہے کہ 1کلوگرام کیلے کے عوض میں p1روپے ادا کرے گا۔

68
اس غیرمساوات(2.1)کوصارف کی بجٹ بندش(budget constraint)کہاجاتا ہے بنڈلوں کا مجموعہ جوصارف کے لیے دستیاب ہے اس کومجموعہ بجٹ(budget set)کہتے ہیں۔ اس طرح سے بجٹ سیٹ ان تمام بنڈلوں کا مجموعہ ہے جن کوصارف موجود قیمتوں پراپنی آمدنی سے خریدسکتاہے۔

مثال2.1_____

مثال کے طورپر ایک ایسے صارف کے بارے میں غورکریں جس کے پاس 20روپے ہیں اوربالفرض دونوں اشیا کی قیمت5روپے ہیں اور دونوں صرف تکملہ اکائیوں(integral units)میں ہی دستیاب ہیں۔جو بنڈل صارف خریدسکتا ہے وہ ہیں(0,0)، (0,1)،(0,2)،(0,3)،(0,4)،(1,0)،(1,2)،(1,3)،(2,0)،(2,1)،(2,2)،(3,0)،(3,1)،اور(4,0) ان بنڈلوں میں سے (0,4)،(1,3)،(2,2)،(3,1)اور(4,0)کی لاگت پورے 20روپے کی ہے۔ اور بقیہ تمام بنڈل میں20روپے سے کم لاگت آتی ہے۔ صارف جن بنڈلوں کوخریدنے کی حیثیت نہیں رکھتا یہ ہیں جیسے کہ (3,3)اور (4,5)کیونکہ موجود قیمتوں میں ان کی لاگت 20روپے سے زیادہ ہوتی ہے۔
اگردونوں اشیا6 پوری طرح تقسیم ہوسکتی ہیں توصارف کا بجٹ سیٹ(x1x2)کے تمام بنڈلوں پرمشتمل ہوگا جب کہx1 اورx2 کا کوئی بھی ایسا عدد ہوسکتا ہے جو کہ صفرسے بڑے یا برابرہوں اورp1x1اور p2x2کا جوڑMسے کم یاM کے برابرہوں۔بجٹ سیٹ کوہم ایک ڈائی گرام کے ذریعہ دکھاسکتے ہیں جیسا کہ شکل 2.9میں دکھایاگیا ہے۔
16
بجٹ سیٹ: کیلے کی مقدار افقی محور کے ساتھ پیمائش پذیر ہوتی ہے اور آم کی مقداری پیمائش عمودی محور کے ساتھ ہوتی ہے۔ شکل میں کوئی بھی نقطہ دونوں اشیا کے بنڈل کی نمائندگی کرتا ہے۔بجٹ سیٹ ان تمام نقطوں پرمشتمل ہے جو کہ سیدھی لائن پریا اس کے نیچے ہیں جس کی مساوات ہے 69

6 مثال2.1میں جن اشیا کولیاگیا ہے وہ تقسیم نہیں کی جاسکتی تھیں۔اور وہ صرف عدد صحیح اکائیوں(integerunits)میں ہی دستیاب تھیں۔ ایسی بہت اشیا ہیں جو کہ تقسیم ہوسکتی ہیں یعنی کہ وہ غیرعدد صحیح اکائیوں(Non-integerunits)میں بھی دستیاب ہیں۔ایک کاآدھاسنترہ یا ایک کا چوتھائی کیلا نہیں خریداجاسکتالیکن آدھا کلوگرام چاول یا ایک چوتھائی لیٹر دودھ خریداجاسکتاہے۔

مثبت کے مربع دائراہ میں وہ تمام بنڈل جو کہ لائن پریا اس کے نیچے ہیں بجٹ سیٹ میں شامل ہیں لائن کا مساوات (equation)یہ ہے۔
70
                            
یہ لائن ان تمام بنڈلوں پرمشتمل ہے جو کہ Mکے پوری طرح سے برابرہیں۔ یہ لائن بجٹ لائن کہلاتی ہے۔ لائن کے نیچے کے نقطے ان بنڈلوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن کی لاگتMسے قطعی طورپرکم ہے۔
مساوات 2.2 (equation)کوہم اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں:7
17
بجٹ لائن ایک سیدھی لائن ہے۔ جس میں18 افقی مائل(افقی مقطوعہ)ہورہا ہے اور19عمودی مائل اس بنڈل کی نمائندگی کرتا ہے جو کہ صارف اگراپنی تمام آمدنی اگرشے1خرچ کرسکے تو خریدسکتا ہے۔اسی طرح سے عمودی مائل اس بنڈل کی نمائندگی کرتا ہے جس کے صارف اپنی تمام آمدنی شے2خرچ کرنے پہ خریدسکتاہے۔ بجٹ لائن کا ڈھلوان ہے 20

قیمت تناسب اوربجٹ لائن کی ڈھلوان (Price Ratio and Slope of the BudLine)

بجٹ لائن پرکسی نقطے کے بارے میں سوچیں۔ ایسا ایک نقطہ ایک ایسے بنڈل کی نمائندگی کرتا ہے جس کوخریدنے کے لیے صارف کو اپنے پورے بجٹ کوخرچ کرنا ہوگا۔ اب مان لیں کہ صارف شے 1کی ایک اور اکائی لینا چاہتا ہے۔ایسا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صارف کو دوسرے شے کی کچھ مقدار کوچھوڑنا پڑے گا۔ ایک زائد اکائی شے کے لیے اس شے 2کی کتنی مقدار چھوڑنی ہوگی؟ یہ دونوں اشیا کی قیمتوں پہ منحصرکرے گا۔ شے 1کی ایک اکائی کی قیمتp1ہے۔ اس لیے صارف کوشے 2پرخرچ کرنے کے لیے p1مقدار کے حساب سے کم کرنا ہوگا۔p1کے ساتھ وہ شے 2کی 21اکائیاں چھوڑنی ہوں گی۔ دوسرے لفظوں میں بازار کی ان حالات میں صارف شے 2کوشے1سے22کے حساب سے بدل سکتا ہے۔ بجٹ لائن ڈھلان کی مطلق قدر(absolute value)8شے 2کوشے1سے بدلنے کی شرح کی پیمائش کرتی ہے جب کہ صارف اپنے تمام بجٹ کوخرچ کررہا ہے۔

7 اسکول کی ریاضی میں آپ نے سیدھی لائن کی مساوات(equation)یعنی  y=c+mxکے بارے میں جانا ہے۔ یہ مقطوعہ ہوسکتا ہے اور m سیدھی لائن کا ڈھلوان (slope)ہے غورکریں مساوات(2.3)کی شکل بھی یہی ہے۔)

8  نمبرxکی مطلق قدرx(absolute value)کے برابرہوگی اگرx>0اور-xکے برابرہوگی اگر-x<0عام طورسےxکی مطلق قدر کی علامت |x|سے ہوتی ہے۔

بجٹ لائن کی ڈھلان کا استخراج (Derivation of the slope of the Budget line)

بجٹ لائن کی ڈھلان شے2میں تبدیلی کی مقدارکی پیمائش کرتا ہے جو کہ بجٹ لائن کے ساتھ شے1کی ایک اکائی کی تبدیلی کے لیے ہونی چاہیے۔ کسی دونقطوں (x1,x2)اور (x1+Dx1,x2+Dx2) جو بجٹ لائن پر ہیں، غورکریں۔a یہ ضرور ہوگا کہ+p2x2=M(2.4)  p1x1 :اور میں سے  p1(x1+Dx1) + p2(x2+Dx2)=M  (2.5)گھٹانے پرہمیں حاصل ہوگا
25
(2.6)کی اصطلاحوں کوپھرسے ترتیب دینے سے ہمیں حاصل ہوگا
26

∇ a(ڈیلٹا)ایک یونانی حرف ہے۔ ریاضی میں کبھی کبھی∇کا استعمال تبدیلی کی علامت کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے 27میں تبدیلی بتاتا ہے اور 29میں تبدیلی کی علامت ہے۔


24

2.2.2 بجٹ سیٹ میں تبدیلیاں(Changes in the Budget Set)

دستیاب بنڈلوں کا سیٹ دونوں اشیا کی قیمتوں اور صارف کی آمدنی پر منحصرہے۔ جب دونوں اشیا میں سے کسی ایک کی ہی قیمت یا صارف کی آمدنی میں تبدیلیاں آتی ہے تودستیاب بنڈلوں کے سیٹ میں بھی تبدیلی کا امکان ہوتا ہے۔ مان لیں کہ صارف کی آمدنی Mسے تبدیل ہوکر M'ہوجاتی ہے لیکن دونوں اشیا کی قیمتیں وہی رہتی ہیں۔ نئی آمدنی سے صارف کی حیثیت تمام (x1;x2)بنڈلوں کوخریدنے کی ہوجاتی ہے جب کہ p1x1+p2x2<M'ہوتا ہے۔ اب بجٹ لائن لائن کی مساوات یہ ہے:

32

مساوات(2.8)کو ہم اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں:

33
یہ بات غورطلب ہے کہ نئی بجٹ لائن ڈھلان وہی ہے جو کہ صارف کی آمدنی میں تبدیلی سے پہلے کی بجٹ لائن کی ڈھلان تھا۔ لیکن عمودی مقطوعہ ہونے کی جگہ آمدنی میں تبدیلی کے بعد بدل گئی ہے۔ اگرآمدنی میں اضافہ ہے یعنی M'>Mتو عمودی مقطوعہ کی ایک متوازی بیرونی منتقلی ہوتی ہے۔ اگر آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے تو صارف موجود بازاری قیمتوں پہ اور مزیداشیا خرید سکتاہے۔ اسی طرح اگرآمدنی کم ہوجاتی ہے یعنی M'<Mتوعمودی مقطوعہ کی جگہ بھی کم ہوجاتی ہے اوراس لیے ایک متوازی اندرونی منتقلی واقع ہوتی ہے۔جب آمدنی کم ہوتی ہے تواشیا کی دستیاب کم ہوجاتی ہے۔ صارف کی آمدنی میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ دستیاب بنڈلوں کے سیٹ میں ہونے والی تبدیلیاں جب اشیا کی قیمتیں تبدیل نہ ہوں شکل 2.10میں دکھائی گئی ہیں۔
34
دستیاب بنڈلوں کی سیٹ میں صارف کی آمدنی میں تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیاں۔آمدنی میںکمی بجٹ لائن میںمتوازی اندرونی منتقلی لاتی ہے۔ جیسا کہ (a)شکل میں دکھایا گیا ہے۔آمدنی میںاضافہ بجٹ لائن میں متوازی بیرونی منتقلی لاتا ہے جیسا کہ شکل (b)میں دکھایاگیا ہے۔
اب مان لیجیے کہ شے 1کی قیمت p1 سے تبدیل ہوکر p1ہوجاتی ہے لیکن شے 2کی قیمت اورصارف کی آمدنی تبدیل نہیں ہوتی۔ شے 1کی نئی قیمت پرصارف تمام (x1,x2)بنڈل خریدسکتا ہے جب کہp'1x1+p2x2<M ہوتا ہے۔ بجٹ لائن کی مساوات یہ ہے۔
35
مساوات (2.10)کو ہم اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں:
36
آپ دیکھتے ہیں کہ عمودی مقطوعہ کی جگہ نئی بجٹ لائن میں وہی ہے جو کہ شے1کی قیمتوں میں تبدیلی سے پہلے بجٹ لائن کے عمودی حائل ہونے والی جگہ تھی۔ لیکن بجٹ لائن کی ڈھلان قیمت بدلنے کے بعد بدل گئی ہے۔ اگرشے1کی قیمت بڑھتی ہے یعنیp'1>p1 تو بجٹ لائن کوڈھلان کی مطلق قدربڑھتی ہے۔(بجٹ لائن اور زیادہ کھڑی ہوجاتی ہے۔ (یعنی تقریباً عمودی مائل جگہ کے قریب اندر بڑھتی ہے)۔ اگرشے1کی قیمت گھٹتی ہے یعنیp'1<p1 تو بجٹ لائن کی ڈھلان کی مطلق قدر گھٹتی ہے۔ اوراس سے بجٹ لائن اورچپٹی ہوجاتی ہے(بجٹ لائن عمودی محورپر مائل کی جگہ کے آس پاس بیرونی طرف بڑھتی ہے)شے 1کی قیمت میں تبدیلی کی وجہ سے دستیاب بنڈل میں تبدیلیوں کوجب کہ شے2کی قیمت اورصارف کی آمدنی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے، شکل 2.11میں دکھایا گیا ہے۔
شے 2کی قیمت میں تبدیلی ،جب شے 1کی قیمت اور صارف کی آمدنی میں کوئی تبدیلی نہ ہوتوصارف کے بجٹ سیٹ میں اسی طرح تبدیلی لائے گی۔

38
شے 1کی قیمت میں تبدیلی کی وجہ سے دستیاب اشیا کے بنڈلوں میں تبدیلی۔شے1کی قیمت میں اضافہ بجٹ لائن کو اورکھڑا بناتا ہے جیسا کہ (a)میں ہے۔ شے 1کی قیمت میں کم بجٹ لائن کواورچپٹی (flatter)بنتا ہے جیسا کہ (b)میں دکھایا گیا ہے۔

2.3صارف کا انسب انتخاب (OPTIMAL CHOICE OF TCONSUMER)

بجٹ سیٹ میں وہ تمام بنڈل شامل ہوتے ہیں جوصارف کودستیاب ہیں اورصارف بجٹ سیٹ میں اپنے استعمال کا بنڈل منتخب کرسکتا ہے۔ لیکن وہ دستیاب بنڈلوں میں سے اپنے استعمال کے لیے بنڈل کا انتخاب کس بنیاد پر کرے گا۔معاشیات میں فرض کیا جاتا ہے کہ ایک صارف اپنے استعمال کے لیے بنڈل کا انتخاب اپنی پسند اور ترجیحات کی بنیادپر کرتا ہے۔ یہ بھی عام طورپر فرض کیا جاتا ہے کہ صارف تمام ممکنہ بنڈلوں میں اپنی ترجیحات کواچھی طرح سمجھتا ہے اور وہ کسی بھی دوبنڈلوں کے درمیان موازنہ کرسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں صارف کس دوبنڈلوں میں سے ایک کودوسرے پر ترجیح دے سکتا ہے یا ان دونوں کے بارے میں بے نیاز رہ سکتا ہے۔
معاشیات میں یہ باورکیا جاتا ہے کہ صارف ایک معقول شخص ہے اورایک عاقل شخص یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کسی دی گئی صورت حال میں اس کے لیے کیا اچھا ہے اورکیا برابرہے۔ صارف ہمیشہ اپنے لیے سب سے بہتر چیزحاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ایک صارف کودستیاب بنڈلوں کے سیٹ میں اپنی ترجیحات کاپوراعلم ہے اور وہ اپنی ترجیح کی بنیاد پرہی انتخاب کرتاہے۔ ایک عاقل صارف دستیاب بنڈلوں میں سے ہمیشہ اس بنڈل کا ہی انتخاب کرتا ہے جس سے اسے سب سے زیادہ تسکین حاصل ہوتی ہے۔
پہلے کے سیسکشنوں میں یہ دیکھاگیا تھا کہ بجٹ سیٹ صارف کے دستیاب بنڈلوں کے بارے میں بتاتا ہے۔ اوران دستیاب بنڈلوں کے لیے اس کی ترجیحات کی نمائندگی عام طورسے نقشہ بے نیازی کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔ اس بنا پرصارف کے مسئلے کو اس طرح بھی بتایاجاسکتا ہے۔عاقل صارف کے لیے سب سے اونچے ممکنہ خط بے نیازی کے ایک نقطے چنتا ہے جو کہ اس کے بجٹ سیٹ میں ممکن ہو۔
اگرایساایک نقطہ ہوسکتا ہے تووہ کہاں واقع ہوگا؟ وہ انسب نقطہ (Optimum point)بجٹ لائن پرکیا پایا جاسکے گا۔ بجٹ لائن کے نیچے کا ایک نقطہ مناسب نہیں ہوسکتا۔ بجٹ لائن کے نیچے کسی نقطہ کے مقابل بجٹ لائن پر ہمیشہ کوئی نقطہ ہوتا ہے جو کہ کم ازکم ایک شے پر مشتمل ہوتا ہے اور دوسری شے اس سے کم نہیں ہوتی اور اس لیے ایک سری ترجیحات رکھنے والا صارف اسے ترجیح دیتا ہے۔ اس لیے اگر صارف کی ترجیحات یک سری ہیں توبجٹ لائن کے نیچے کے ایک نقطے کے لیے ہمیشہ کوئی نقطہ بجٹ لائن ہوتا ہے جس کو صارف ترجیح دیتا ہے۔ بجٹ لائن کے اوپر کے نقطے صارف کودستیاب نہیںہوتے۔ اس لیے انسب (سب سے زیادہ ترجیح والے) بنڈل بجٹ لائن پرملیں گے۔

متبادل کی معمولی شرح اور قیمتوں کے تناسب کی برابر

صارف کا بہترین بنڈل ایسے نقطے پرپایا جاتا ہے جہاں بجٹ لائن خطوط بے نیازی میں سے ایک کومماس (tangent)کرتی ہے۔ ایک بجٹ لائن خط بے نیازی کے ایک نقطے پرمماس ہے توخط بے نیازی (MRS)کی ڈھلان کی مطلق قدر اوربجٹ لائن(قیمت تناسب)کی مطلق قدراس نقطہ پر برابرہوتی ہیں۔ ہمارے مذکورہ ذکر کویادکریں کہ خط بے نیازی کی ڈھلان وہ شرح ہے جس پرصارف ایک شے کے لیے دوسری شے کوتبدیل کرنے پر آمادہ ہے۔ بجٹ لائن کی ڈھلان وہ شرح ہے جس پرصارف بازار میں ایک شے سے دوسری شے بدل سکتا ہے۔ بہترین نقطے پردونوں شرحیں برابرہونی چاہئیں۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ ایسا کیوں  ہے،آئیے ایک ایسے نقطے کودیکھیں جہاں ایسا نہیں ہے۔ مان لیجیے کہ اس نقطے پر 2MRSہے اورفرض کریں کہ دونوں اشیا کی قیمت برابرہے۔ اس نقطے پر صارف شے 2کی2اکائیاں چھوڑنے کے لیے آمادہ ہے اگراسے شے 1کی ایک سے زائد کائی مل جائے۔ لیکن بازارمیں وہ شے 1کی ایک زائد کائی خریدسکتا ہے اگر وہ شے 2کی صرف 1اکائی چھوڑدے۔ اس لیے اگر وہ شے 1کی زائد کائی خریدتا ہے تو وہ دونوں اشیا بمقابل اس بنڈل کے جس کی نمائندگی وہ نقطہ کررہا ہے،زیادہ لے سکتا ہے اوراس لیے وہ اپنے ترجیح والے بنڈل پرآسکتا ہے۔ چنانچہ ایک نقطہ جس پر MRSزیادہ ہے اس پرقیمت تناسب بہترین یا انسب نہیں ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کی ایک دلیل کسی بھی نقطے کے لیے جس پر MRSقیمت تناسب (price ration)سے کم ہو۔صحیح ثابت ہوتی ہے۔

بجٹ لائن پربہترین بنڈل کہاں پایا جائے گا؟ وہ نقطہ جہاں بجٹ لائن خط بے نیازی کوچھوتی (مماسtangent-ہے) بہترین(optimum)9ہوگا۔یہ دیکھنے کے لیے کہ ایسا کیوں ہے یہ بات ذہن نشین کریں کہ بجٹ لائن پر علاوہ اس نقطے کے جس پر خط بے نیازی کوچھوتی ہے، کوئی بھی نقطہ نچلے خط بے نیازی پرہوتاہے اور اس لیے وہ ادنیٰ(inferior)ہے۔اس لیے ایسا کوئی نقطہ صارف کا بہترین نقطہ نہیں ہوسکتا۔ بہترین بنڈل خط بے نیازی کے اس نقطے پر پایا جاتا ہے جہاں بجٹ لائن ایک خط بے نیازی کومماس کرتی ہے۔
شکل 2.12صارف کا بہترین بنڈل دکھاتی ہے۔(x*1,x*2)پربجٹ لائن کا لے رنگ کے خط بے نیازی کومماس کرتی ہے۔ 

 9   بات کواورصحیح طورسے بتانے کے لیے صورت حال یہ ہے جو کہ 2.12میں دکھائی گئی ہے،انسب وہاں واقع ہوگا جہاں بجٹ لائن کسی خط بے نیازی کو مماس کرتا ہے۔لیکن دوسری صورت حال بھی ہوتی ہیں جس میں بہترین انسب اس نقطے پر ہوتا ہے جہاں صارف اپنی آمدنی صرف ایک شے کے لیے ہی خرچ کردیتا ہے۔

پہلے ذہن نشین کرنے کی ہے وہ خط بے نیازی ہے جوبجٹ لائن کوبس چھوہی رہا ہے وہ صارف کے جوبنڈل اس کے اوپر کے بے نیازی میں ہوتے ہیں جیسا کہ سلیٹی رنگ والا ہے۔ ان کوصارف خریدنہیں سکتاہے۔ وہ نقشے جو اس کے نیچے کے غیرجانداری خطوط بے نیازی پرہیں وہ یقینا ان نقطوں سے ادنیٰ ہیں جو کہ اس خط بے نیازی میں جو کہ بجٹ لائن کوصرف چھورہا ہے۔ کوئی اور نقطہ جو ہوگا وہ نچلے کے کسی خط بے نیازی پرہوگا اوراس لیے وہ ادنیٰ ہوگا۔ اس طرح(x*1,x*2)صارف کا بہترین بنڈل ہے۔
39
صارف کا بہترین: نقطہ(x*1,x*2)جس پر بجٹ لائن ایک خط بے نیازی کو مماس کرتی ہے اس نقطہ کوصارف کا بہترین بنڈل کہتے ہیں۔

2.4 مانگ (DEMAND)

پچھلے سیکشن میں ہم نے صارف کے انتخاب کے مسئلے کو پڑھا اورصارف کے بہترین بنڈل کوماخوذ کیا۔ اس کے لیے ہمارے پاس اشیا کی قیمتیں، صارف کی آمدنی اوراس کی ترجیحات تھیں۔ یہ دیکھا گیا تھا کہ صارف اپنے بہترین طریقہ سے ایک شے کی جتنی مقدار کا انتخاب کرتا ہے وہ شے کی قیمت، دوسرے اشیا کی قیمتوں، صارف کی آمدنی اوراس کے ذوق اورترجیحات پرمنحصرکرتا ہے۔یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک صارف کسی شے کو انسب طریقے سے منتخب کرتا ہے تواس کاانحصار خوداس کی قیمت دوسری اشیا کی قیمت صارف کی آمدنی، اس کی پسند اور ترجیحات پرہوتا ہے۔ صارف کسی شے کی دی گئی قیمت،صارف کی پسند اورترجیحات اور اس کی قوت خرید کودیکھتے ہوئے صارف اس شے کی کتنی مقدار خریدنے کا خواہاں ہے۔ وہ اس شے کی مانگ کہلاتی ہے جب کبھی مذکورہ بالا میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو صارف کے ذریعہ منتخب کردہ شے کی مقدار میں بھی تبدیلی آنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہاں ہم ایک دیے گئے وقت میں ان میں سے کچھ میں تبدیلی کرتے دیکھیں گے کہ اس تبدیلی کا صارف کے ذریعہ منتخب کردہ شے کی مقدار میں کی تبدیلی ہوسکتی ہے۔

40
خط طلب ،مانگ کا خط: خط طلب دراصل صارف کے ذریعہ مقدار منتخب کردہ شے کی مقدار اور اس شے کی قیمت کے درمیان ظاہرکرتا ہے۔آزاد متغیر(قیمت)کوافقی محور پرناپا جاتا ہے جبکہ اس پر منحصر متغیر (مقدار)کوعمودی محورپر دکھایا جاتا ہے۔ خط طلب الگ الگ قیمت پر مقدار کی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔

تفاعلات(Functions)

کسی  دومتغیراتxاورyپرغورکریں۔ایک تفاعل
y=f(x)
دونوں متغیراتxاورyکے درمیان ایساتعلق ہے کہ xکی قدر کے لیے متغیرہyکی ایک جداگانہ قدرہے۔ دوسرے لفظوں میںf(x)ایک قانون ہے جو کہ ہرxکی قدر کے لیے yکی ایک جداگانہ قدردیتی ہے۔چونکہ yکی قدر xکی قدرپرمنحصر ہوتی ہے تو yکوہم منحصر متغیرہ اورxکوآزاد متغیرہ کہتے ہیں۔

مثال1___

مثال کے طورایک صورت حال کودیکھیں جس میں xکی قدریں 0،1،2،3ہیں اور مان لیں کہ yکی متعلقہ قدریں 10،15،18،اور20ہیں۔ یہاں yاورxکا درمیانی تعلق ایک تفاعل y=f(x)سے ہے جس کی تعریف یہ ہے:f(0)=10؛ f(1)=15؛f(2)=18 ؛f(3)=20 

مثال1___

ایک اور صورت حال کودیکھیں جہاں xکی قدر 0،5،10،اور20ہوسکتی ہیں اورمان لیں کہ yکی متعلقہ قدریں 100،90،70اور40ہیں۔ یہاںyاورxکا درمیانی تعلق ایک تفاعلy=f(x) سے ہے جس کی تعریف حسب ذیل ہے:
f(0)=100؛  f(10)=90 ؛f(15)=70 ؛f(20)=20 
اکثر دونوں متغیرات کے درمیان تفاعلی تعلق کو الجبرا کی شکل میں لکھ سکتے ہیں جیسے کہ :
y=5+xاورy=50-x
ایکy=f(x) ایک بڑھتا تفاعل ہے اگرyکی قدرxکی قدربڑھنے سے گھٹتی نہیں ہے۔اوریہ ایک گھٹتا تفاعل ہے اگرyکی قدرxکی قدربڑھنے سے نہیں بڑھتی ہے۔ مثال1میں تفاعل ایک بڑھتا تفاعل ہے اوراسی طرح تفاعلy=x+5بھی بڑھتا تفاعل ہے۔مثال 2کاتفاعل گھٹتا تفاعل ہے۔تفاعلy=50-xبھی ایک گھٹتا تفاعل ہے۔

تفاعل کی گرافی نمائندگی

(Graphical Representation of a Function)
تفاعلy=f(x)کاایک گراف ہے اس تفاعل کی ایک ڈائی گرامی نمائندگی ہے ۔اوردی گئی مثالوں میں تفاعلات کے گراف حسب ذیل ہیں۔ 
عام طورسے ایک گراف میں آزاد متغیرہ افقی محور کے ساتھ کی جاتی ہے اورمنحصر متغیرہ کی پیمائش عمودی محورپر کی جاتی ہے۔ لیکن معاشیات میں اکثراس کے برخلاف بھی کیا جاتا ہے۔ خط طلب ،مثال کے طورپرآزاد متغیرہ(قیمت)کوعمودی محورسے لے کر بنایا جاتا ہے اورمنحصر متغیرہ(مقدار)کوافقی محورپر لے کر بنایا جاتا ہے۔ ایک بڑھتے تفاعل کا گراف اوپر کی طرف ڈھلواں ہوتا ہے یا اور گھٹتے تفاعل کا گراف نیچے ڈھلواں ہوتا ہے۔ جیسے کہ ہم دیے گئے نقشوں میں دیکھ سکتے ہیںy=5+xکاگراف اوپرکی طرف ڈھلواں ہے اورy=50-x نیچے ڈھلواں ہے۔

41

2.4.1خطِ طلب اورمانگ کا قانون(Demand Curve and the Law of Demand)

اگردوسری اشیا کی قیمتیں، صارف کی آمدنی اوراس کے ذوق اورترجیحات تبدیل نہیں ہوتے تو ایک شے کی مقدارجو ایک صارف انسب طریقے سے منتخب کرتا ہے،تو وہ اس کی قیمت پر مکمل طورسے منحصرہوجاتی ہے۔ صارف کی ایک شے کی مقدار کے بہترین انتخاب اوراس شے کی قیمت کے درمیان کا تعلق بہت اہم ہوتا ہے اوریہ تعلق مانگ تفاعل(Demand function)کہلاتاہے۔ اس طرح ایک شے کے لیے صارف کا مانگ تفاعل اس شے کی وہ مقدار ہے جو کہ صارف اس کی قیمت کی مختلف سطحوں پرمنتخب کرتا ہے جب کہ دوسری چیزوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ ایک شے کے لیے صارف کی مانگ اس کی قیمت کے تفاعل کی حیثیت سے اس طرح لکھی جاسکتی ہے:
(2.12)       x=f(p)
جہاں مقدارکی علامت ہے اورpاس شے کی قیمت کی علامت ہے۔
مانگ تفاعل گراف کے ذریعہ بھی دکھایا جاسکتا ہے جیسا کہ شکل 2.13میں دکھایا گیا ہے۔
مانگ تفاعل کی گراف کے ذریعہ دکھائی گئی تصویر کوخطِ طلب(demand curve)کہتے ہیں۔
صارف کی ایک شے کے لیے مانگ اور اس شے کی قیمت کے درمیان تعلق عام طورسے منفی ہوتا ہے۔دوسرے لفظوں میں ایک شے کی مقدار جس کا صارف ایک بہترین طریقے سے انتخاب کرتا ہے شے کی قیمت گھٹنے سے امکانی طورسے بڑھے گی اورشے کی قیمت بڑھنے سے امکانی طورسے گھٹے گی۔

2.4.2  خطِ بے نیازی اور تحدیدسے خطِ طلب کا استخراج:۔

فرض کریں ایک شخص جس کی آمدنی Mہے (x1)کے اور (x2)آم استعمال ہے جبکہ x1اورx2کی مارکیٹ قیمت بالترتیب p1اورp2ہے۔ تصویر (a)میں صارف کے استعمال کا توازن Cپوائنٹ پردکھایاگیا ہے جہاں وہ کیلے اور آم کی x1اورx2خریدتاہے۔ تصویر2.14کے پنسل(b)میں ہم p1کو x1کے سامنے رکھتے ہیں جوخطِ طلب پرx1کیلے پہلا پوائنٹ ہے۔
42
بجٹ تحدید اورخط بے نیازی سے خطِ طلب کااستخراج

فرض کیجیے کہ x1کی قیمت کم ہوکر p1کے ساتھ p2تک ہوجاتی ہے جبکہ Mاپنی جگہ قائم ہے۔ توپنسل(a)میں بجٹ سیٹ پھیلتا ہے اورصارف کے لیے اونچے والے خطِ بے نیازی پرDپوائنٹ پر نیاتوازن قائم ہوتا ہے۔ اس پوائنٹ پر صارف کیلوں کی زیادہ تعداد خریدسکتا ہے43 ۔اس لیے جب کیلے کی قیمت میں کمی آئی تو اس کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ہم پنسل(b)میں 44کو45 کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ خط طلب پرx1 کیلے۔دوسرا پوائنٹ حاصل کرسکیں۔ اسی طرح کیلے کی قیمت مزیدکم ہوکرp1ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں کیلے کے صرف میں مزیداضافہ ہوتا ہے اور یہx1 ہوجاتا ہے p1کوجب ہم x1کے سامنے رکھتے ہیں تواس سے ہمیں خط طلب پرتیسراپوائنٹ حاصل ہوتا ہے ۔اس طرح ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ کیلے کی قیمت کم ہونے پرصارف کے ذریعہ کیلوں کی کوالٹی میں اضافہ ہوتا ہے جس سے صارف کو زیادہ سے زیادہ افادیت حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیلے کے لیے خط طلب منفی جھکاؤ والا ہوتا ہے۔
خطِ طلب کے منفی جھکاؤ کودواثرات کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے یعنی متبادل اثراورآمدنی کا اثر اور یہ اثراس وقت ہوتا ہے جب اشیا کی قیمت میں تبدیلی ہوتی ہے۔ جب کیلے سستے ہوتے ہیں توصارف قیمت میں تبدیلی کے پیش نظریکساں تسکین حاصل کرنے کی خاطر آم کے بدلے کیلے کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے اوراس کے نتیجے میں کیلے کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ جب کیلے کی قیمت میں کمی ہوتی ہے توصارف کی قوت خریدمیں اضافہ ہوتا ہے جس سے کیلے (آم)کی مانگ میں اوراضافہ ہوتا ہے۔اسے قیمت میں تبدیلی کاآمدنی پراثر ہے جس کی وجہ سے کیلے کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔
طلب (مانگ) کا قانون: طلب کا قانون بتاتا ہے کہ اگردیگرتمام چیزیں اپنی جگہ قائم ہیں توکسی شے کے لیے مانگ اورقیمت کے درمیان منفی تعلق ہوتاہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتیہ یں کہ جب کسی شے کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تواس کی مانگ میں کمی آجاتی ہے اورجب اس شے کی قیمت کم ہوتی ہے تواس کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے بشرطیکہ دیگرتمام چیزوں میں کوئی تبدلی نہ ہو۔

خطی مانگ (Linear Demand)

ایک خطی مانگ کوخط اس طرح لکھا جاسکتا ہے
71  (2.13)       
جہاں aعمودی مائل،-bمانگ خط کی ڈھلان ہے 0قیمت پر مانگ aہے اوراس a-bکے برابرکی قیمت پر مانگ 0ہے۔ مانگ خط کے ڈھلان قیمت کے لحاظ سے مانگ میں تبدیلی کی شرح کی پیمائش کرتی ہے۔ شے کی قیمت میں ایک اکائی کا اضافہ کے لیے مانگ bاکائیاں گرتی ہے شکل 2.15ایک خطی مانگ خط دکھاتی ہے۔
46
خطی مانگ خط: تصویر مساوات2.13میں دیے گئے خطی خط کودکھاتی ہے۔

2.4.3  عام اورادنیٰ اشیا(Normal and Inferior Goods) 

مانگ کا تفاعل صارف کی ایک شے کے لیے مانگ اوراس کی قیمت کے درمیان تعلق رکھتا ہے جب کہ دوسری چیزیں دی گئی ہوں۔ کسی کی مانگ اوراس کی قیمت کے درمیان تعلق کا مطالعہ کرنے کے بجائے ہم 1شے کے لیے صارف کی مانگ اور صارف کی آمدنی کے درمیان کے تعلق کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیں۔ ایک شے کی مقدارجس کی ایک صارف مانگ کرتا ہے آمدنی کے بڑھنے سے بڑھ سکتی ہے یا گھٹ سکتی ہے۔ یہ شے کی نوعیت پرمنحصر ہے۔ زیادہ تراشیا کے لیے صارف کی منتخب کی ہوئی مقدار صارف کی آمدنی کے بڑھنے سے ہی بڑھتی ہے اور آمدنی کے کم ہونے سے گھٹتی ہے۔ اس طرح کے اشیا کوعام اشیا (normal goods)کہتے ہیں۔ اس طرح عام اشیا کے لیے صارف کی مانگ اسی سمت میں چلتی ہے جس سمت میں صارف کی آمدنی۔لیکن کچھ ایسی اشیا ہیں جن کی مانگ صارف کی ا‘ٓمدنی کی سمت کے مخالف چلتی ہے۔ ایسی اشیا کو ادنیٰ اشیا کہتے ہیں۔ صارف کی آمدنی جیسے جیسے بڑھتی ہے ادنیٰ اشیا کی مانگ کم ہوتی ہے۔ اورآمدنی کے کم ہونے کے ساتھ ادنیٰ اشیا کی مانگ بڑھتی جاتی ہے۔ ادنیٰ اشیا کی مثالوں میں کم تردرجے کی جیسے کھانے کے مدمیں موٹے قسم کے اناج شامل ہیں۔
ایک شے صارف کی آمدنی کی کچھ سطحوں پرعام شے ہوسکتی ہے اوردوسری سطحوں پراس کے لیے ادنیٰ شے ہوسکتی ہے۔ آمدنی کی بہت نیچے کی سطحوں پرنچلے قسم کے اناجوں کے لیے صارف کی مانگ آمدنی کے ساتھ بڑھ سکتی ہے۔ لیکن ایک سطح کے بعد صارف کی آمدنی میں اضافہ اس کا استعمال کے مدوں کا صرف کم کرسکتا ہے۔

صارف کی آمدنی میں اضافہ کوکبھی کبھی اشیا کے استعمال میں تخفیف کی جانب آمادہ کرسکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں متبادل کا اثراور آمدنی اثرایک دوسرے کے برعکس کام کرنے لگتے ہیں۔ اشیا کی مانگ مثبت اورمنفی طورپر اس کی قیمت پرمنحصرہوسکتی ہے جو کہ مخالف اثرات والی قوتوں سے متعلق ہے۔ اگرمتبادل کااثر،آمدنی اثرسے زیادہ ہے تو ایسی صورت میں شے کی مانگ اورشے کی قیمت متضاد طورپر متعلق ہوں گی۔ حالاں کہ اگرآمدنی اثر، متبادل کے اثر سے زیادہ ہے توشے کی مانگ اس کی قیمت سے مثبت طورپر متعلق ہوگی۔ اس طرح کی شے کو ’’گفین شے‘‘ کہتے ہیں۔

2.4.4  متبادل اورتکملہ(Substitutes and Complements)

ہم ایک شے کی مقدارجس کا صارف انتخاب کرتا ہے اورایک متعلقہ شے کی قیمت کے درمیان تعلق کا مطالعہ بھی کرسکتے ہیں۔ایک صارف کی منتخب شے کی مقدار متعلقہ شے کی قیمت میں اضافہ کے ساتھ بڑھ سکتی ہے اورکم ہوسکتی ہے۔یہ بات پرمنحصر ہے کہ دونوں اشیا ایک دوسرے کے لیے متبادل ہیں یا تکملی ایسی اشیا جو کہ ایک ساتھ صرف کی جاتی ہیں وہ تکملی اشیا کہی جاتی ہیں۔ان اشیا کی مثالیں جو کہ ایک دوسرے کی تکملہ ہیں ان میں حسب ذیل اشیا شامل ہیں:چائے اورشکر، جوتے اورموزے، قلم اورروشنائی وغیرہ۔ چونکہ چائے اورشکرایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔شکر کی قیمت میں اضافہ چائے کی مانگ میں کمی لاسکتا ہے اورشکرکی قیمت میں کمی چائے کی مانگ میں اضافہ کرسکتی ہے۔ دوسرے تکملہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ عام طورسے ایک شے کی مانگ اس کے تکملہ شے کی قیمت مخالف سمت میں چلتی ہے۔
تکملہ کے برخلاف ایسی اشیا جیسے کہ چائے اورکافی ایک دوسرے کے ساتھ استعمال نہیں کی جاتیں۔ درحقیقت یہ ایک دوسرے کی متبادل ہیں۔ چونکہ چائے کافی کے لیے متبادل ہے اس لیے کافی کی قیمت بڑھتی ہے توصارف چائے کی طرف جاسکتے ہیں۔ اس لیے چائے کا متبادل صرف امکانی طورسے بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف اگرکافی کی قیمت گرتی ہے توچائے کاصرف امکانی طورسے گرسکتا ہے۔عام طورسے ایک شے کی مانگ اس کے متبادل کی قیمت کی سمت میں چلتی ہے۔

2.4.5  خط طلب میں منتقلی(Shifts in the Demand Curve)

خط طلب یہ فرض کرکے بنایاگیا تھا کہ صارف کی آمدنی دوسری اشیا کی قیمتیں اورصارف کی ترجیحات دی گئی ہیں۔ان میں سے کسی ایک چیزکے بدلنے سے خط طلب میں کیا تبدیلی آئے گی؟
دوسری اشیا کی قیمتیں اور ایک صارف کی ترجیحات دیے جانے پراگرآمدنی بڑھتی ہے تو شے کی مانگ ہرقیمت کی سطح پر تبدیل ہوگی اور اس لیے خط طلب میں منتقلی آئے گی۔ عام اشیا کے لیے خط طلب دائیں طرف منتقل ہوتاہے اور ادنیٰ اشیا کے لیے بائیں طرف صارف کی آمدنی اوراس کی ترجیحات دی جانے پر ایک متعلق شے کی قمیت تبدیل ہوتی ہے توشے کی مانگ اس کی قیمت کی ہرایک کی سطح پرتبدیل ہوگی۔ اوراس لیے خط طلب میں منتقلی آئے گی۔ اگر ایک متبادل شے کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو خط طلب دائیں طرف منتقل ہوتی ہے ۔دوسری طرف اگرایک امدادی شے کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو خط طلب بائیں طرف منتقل ہوتی ہے۔
خط طلب صارف کے ذوق اوراس کی ترجیحات میں تبدیلی آنے کی وجہ سے بھی منتقل ہوسکتی ہے۔ اگرصارف کی ترجیحات ایک شے کے حق میں بدلتی ہیں تواس شے کے لیے خط طلب دائیں طرف منتقل ہوتی ہے۔ دوسری طرف ایک صارف کی ترجیحات میں غیرموافق تبدیلی کی وجہ سے خط طلب بائیں طرف منتقل ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر آئس کریم کے لیے خط طلب گرمیوں میں امکانی طورپر دائیں جانب منتقل ہوگی کیوں کہ گرمیوں میں آئس کریم کے لیے ترجیح میں اضافہ ہوتا ہے۔اس حقیقت کا انکشاف کے ٹھنڈے مشروبات صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں ٹھنڈے مشروبات کے لیے ترجیحات میں تبدیلی لاسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹھنڈے مشروبات کے خط طلب میں امکانی طورپر بائیں طرف کی منتقلی ہوگی۔
خط طلب میں منتقلی کوشکل 2.16میں دکھایا گیا ہے۔
47
مانگ خط  میں منتقلی: پینل(a)میں خط طلب بائیں جانب منتقل ہورہا ہے اور پینل (b)میں دائیں جانب۔

2.4.6  خط طلب میں حرکت اور خط طلب میں منتقلی

(Movements along the Demand Curve and Shifts in the Demand Curve)

جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا ہے کہ صارف کی منتخب شے کی مقدارشے کی قیمت،دوسری اشیا کی قیمتوں، صارف کی آمدنی، اس کے ذوق اور ترجیحات پرمنحصرہوتی ہے۔ مانگ تفاعل شے کی مقدار اوراس کی قیمت کے درمیان کا تعلق ہے جب دوسری چیزوں میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔خط طلب یا مانگ تفاعل کی گرافک نمائندگی۔ اونچی قیمتوں پرمانگ کم ہوتی ہے اور نچلی قیمتوں پریہ مانگ زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح قیمت میں کوئی تبدیلی ہونے سے خط طلب کی سمت میں حرکت ہوتی ہے۔ دوسری طرف چیزوں میں سے کسی میں بھی تبدیلی آنے سے خط طلب میں منتقلی ہوتی ہے۔ شکل 2.17خط طلب کی سمت میں حرکت اور خط طلب میں ایک منتقلی کودکھایا گیا ہے۔

48
خط طلب کی سمت میں حرکت اورخط طلب کی منتقلی: پینل(a)میںخط طلب کی سمت میں حرکت دکھائی گئی ہے۔ پینل (b)خط طلب کی منتقلی دکھاتا ہے۔

2.5  بازار طلب (MARKET DEMAND)

پچھلے سیکشن میں ہم نے ایک منفرد صارف کے مسئلہ انتخاب کے بارے میں پڑھا اور صارف کی خط طلب کوتیار کیاگیا ۔لیکن ایک شے کے بازارمیں بہت سے صارف ہوتے ہیں۔ شے کی بازار میں مانگ معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک خاص قیمت پر ایک شے کی بازارمیں قیمت تمام صارفوں کی مجموعی طورپر مانگ ہے۔ ایک شے کی بازارکی مانگ کا خط منفرد خط طلب سے کیا جاسکتا ہے۔ مان لیں کہ بازارمیں ایک شے کے صرف دوصارف ہیں۔فرض کریں کہ P'قیمت پرصارف1کی مانگ q'1اور صارف کی 2کی مانگ q2ہے۔ اس صورت میں P'پرشے کی بازارمیں مانگ p'1+p'2ہے۔اسی طرح Pقیمت پراگر صارف 1کی مانگ q1ہے اور صارف 2کی q2ہے توشے کی Pقیمت پر بازار کی مانگ  p'1+p'2ہے۔اس لیے شے کی بازارمیں مانگ پر ایک قیمت پردونوں صارفوں کی مانگوں کواس قیمت کے لیے جوڑ کراخذ کی جاسکتی ہے۔ اگرایک شے کے لیے بازارمیں صارفوں کی تعداد دو سے زیادہ ہے تو اسی طرح سے بازارمانگ کا پتہ کیا جاسکتا ہے۔
ایک شے کی بازار مانگ کا استخراج کاگراف کے ذریعے منفرد خطوط سے افقی طورپر مانگ خطوط کوجوڑکرکیا جاسکتا ہے جیسا کہ شکل 2.18میں دکھایا گیا ہے۔ دوخطوط کوجوڑنے کا یہ طریقہ افقی جوڑکہلاتا ہے۔
49
خط مانگ بازار کا استخراج: منفرد مانگ خطوط کا افقی جوڑکربازار مانگ خط کا استخراج کیا جاسکتا ہے۔

دوخطی مانگ خطوط کوجوڑنا(Adding up Two Linear Demand Curves)
ایک بازار پربطورمثال غورکریں جہاں دوصارف ہیں اوردونوں صارفوں کے مانگ خطوط اس طرح دیے گئے ہیں۔

72
علاوہ ازیں کسی بھی قیمت پرجو کہ 10سے زیادہ ہوصارف 1شے کی 0اکائی کی مانگ کرتا ہے اوراسی طرح سے 15کے اوپر کی کسی ایک قیمت پر صارف 2شے کی 10اکائی کی مانگ کرتا ہے۔ مساوات(2.12)اور(2.13)کوجوڑکرہم بازارمانگ ناکل سکتے ہیں۔ 10سے کم یا اس کے برابرکی کسی قیمت پر بازار قیمت 25-2pسے ملے گی اور 10سے بڑھی کسی قیمت کے لیے اور15سے کم یا برابر کی قیمت کے لیے بازاراور مانگ 15-pہے اور 15سے زیادہ کی کسی قیمت کے لیے بازار مانگ 0ہے۔

2.6  مانگ کی لچک(ELASTICITY OF DEMAND)

ایک شے کی مانگ اس کی قیمت کی مخالف سمت میں حرکت کرتی ہے۔ لیکن قیمت میں تبدیلی کا اثرہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک شے کی مانگ کی قیمت میں معمولی تبدیلی سے ہی کافی بڑی تبدیلی آجاتی ہے۔ دوسری طرف کچھ اشیا میں قیمت کی تبدیلی سے مانگ پر کوئی خاص اثرنہیں پڑتا ہے۔ کچھ اشیا کی مانگوں میں قیمت کی تبدیلیوں کے تئیں بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔ جبکہ کچھ اور اشیا کی مانگوں پرقیمت کی تبدیلی سے کوئی خاص اثرپذیری نہیں ہوتی۔ مانگ کی قیمت لچک ایک شے کی مانگ پر اس کی قیمت میں تبدیلی کی اثرپذیری کی ایک پیمائش ہے۔ شے کے لیے مانگ کی قیمت لچک کوشے کے لیے مانگ میں فیصد تبدیلی کے طورپر بیان کیا جاتا ہے جوشے کی قیمت میں فیصد تبدیلی سے تقسیم کرکے حاصل ہونے والی قدر ہے۔ ایک شے کی قیمت۔ مانگ لوچ:

73
ایک شے کے خط طلب پرغورکریں۔ مان لیں کہ قیمتpoہے شے کی مانگ qoہے اورقیمت p1شے مانگ q1ہے اگر قیمت poسے p1تبدیل ہوتی ہے تو شے کی قیمت میں تبدیلی ∇p=p1-po ہوئی اور شے کی مقدار میں تبدیلی∇q=q1-qo ہوئی۔ قیمت میں فیصد تبدیلی یہ ہے:
51
یہ ذہن نشین کرنا اہم ہے کہ مانگ کی لچک ایک عددہے اور ان اکائیوں پرمنحصر نہیں ہوتی ہے جن سے شے کی قیمت اور شے کی مقدار کی پیمائش ہوتی ہے۔
یہ غورکریں کہ مانگ کی قیمت لچک ایک منفی عددہے کیونکہ ایک شے کی مانگ شے کی قیمت سے منفی تعلق رکھتی ہے۔ لیکن آسانی کے لیے ہم ہمیشہ لوچ کی مطلق قدر کے حوالے سے بات کریں گے۔
شے کے لیے مانگ کی اس کی قیمت کے تئیں زیادہ اثرپذیری ہے شے کے لیے قیمت-مانگ کی لوچ زیادہ ہوگی۔اگرکسی قیمت پر ایک شے کی مانگ میں فیصد تبدیلی،اس کی قیمت میں فیصد تبدیلی سے کم ہے تب اوراس قیمت پر شے کی مانگ بے لوچ کہا جاتا ہے۔ اگرکسی پر شے کے لیے مانگ میں تبدیلی فیصد تبدیلی کے برابر ہے توقیمت میں تبدیلی اورشے کی مانگ اس قیمت پربرابر ہے اورشے کی مانگ اس قیمت پر لوچ دار کہی جاتی ہے۔

2.6.1 خطی خط طلب کی سمت میں لچک

(Elasticity along a Linear Demand Curve)

آئیے ایک خطی خط طلب q=a-bpپرغورکریں۔ خط طلب کے کسی بھی نقطے پرمانگ میں تبدیلی کی اکائی قیمت میں تبدیلی74 کی قدر کوبدلنے میں(2.16b)ملتا ہے
75    (2.17)
یہ صاف ہے کہ مانگ کی لچک ایک (2.17)خطی خط لچک 0ہے۔q=0پرلچک 8ہے۔ 76پر لچک 1ہے۔کسی بھی قیمت پرجو کہ 0سے بڑی اور 77سے کم ہوتو1سے کم ہے اورکسی بھی قیمت پر جو کہ 77سے خطی ہوتا ہے۔تو لچک ایک سے زیادہ ہوگی۔ ایک خطی خط طلب کی سمت میں لچک کوجو کہ مساوات(2.19)سے ملا تھا شکل میں دکھایا گیا ہے۔
57
ایک خطی خط طلب کی سمت میں لچک: خطی خط طلب پر مانگ کی قیمت لچک مختلف نقطوں پر مختلف ہوتی ہے۔

خطی خط طلب کی سمت میں لچک کا جیومیٹری ناپ (Geometric Measure of Elasticity along a Linear Demand Curve)

خطی خط طلب کی لچک آسانی کے ساتھ جیومیٹری کے طریقے سے ناپی جاسکتی ہے۔ ایک سیدھی لائن کے خط طلب پرکسی بھی نقطہ پر مانگ کی لچک اس نقطہ پر نیچے کے حصے اوراوپرکے حصے کے تناسب سے ملتی ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ ایسا کیوں ہے۔ نیچے کی شکل پرغورکریں جو کہ ایک سیدھی لائن خط طلب q=q-bpکودکھاتی ہے۔
مان لیجیے کہ قیمت Poکی شے کی مانگqoہے اب قیمت میں ایک چھوٹی سی تبدیلی پرغورکریں ۔نئی قیمتP1ہے اوراس قیمت پر شے کی مانگq1 ہے۔

58
59

ایک سیدھی لائن خط طلب کے مختلف نقطوں پر مانگ کی لچک کا استخراج اس طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔ اس نقطے پر جہاں خط طلب افقی محور سے ملتا ہے۔ اوریہ اس نقطے پر78ہے جہاں خط طلب عمودی محور سے ملتا ہے۔ خط طلب کے درمیانی نقطے پر لچک 1ہے۔ کسی بھی نقطے پرجودرمیانی نقطے کے بائیں طرف ہے وہ 1سے زیادہ ہے اورکسی بھی نقطے پر جو درمیانی نقطے کے دائیں طرف ہے وہ 1سے کم ہے۔
نوٹ کریں کہ افقی محبور کی سمت میں p=0ہے عمودی محبور کی سمت میں q=0کا اورخط طلب کے درمیانی نقطے پر 60

خطی خط طلب کی قائم لچک (Constant Elasticity Demand Curve)

ایک خطی خط طلب پر مختلف نقطوں کے لیے مانگ کی لچک مختلف ہوتی ہے اور78سے تک بدلتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی خط طلب پر۔ غورکریں،جیسا کہ ایک شکل 2.20(a)میں دکھایا گیا ہے۔ قیمت کی جوبھی سطح ہو مانگ qسطح پر دی گئی ہے۔ قیمت میں کوئی تبدیلی ایسے خط طلب کے لیے کبھی مانگ میں تبدیلی نہیں لاتی اور |eD|ہمیشہ 0رہتا ہے۔ اس لیے ایک عمودی خط طلب پوری طرح سے بے لوچ ہوتا ہے۔
61
قائم لوچ خط طلب: عمودی خط طلب کی سمت میں تمام نقطوں پرمانگ کی لوچ جیسے کہ پینسل(a)میں دکھایا گیا ہے oہے۔ خط طلب تمام نقطوں پر لوچ پینسل (b)میں1ہے۔

شکل2.20 (b)میں ایک خط طلب دکھایا گیا ہے جس کی شکل ایک مستطیل نماہائیپربولا (rectangular hyperbola)ہے۔ اس خط طلب کی ایک اچھی خصوصیت ہے کہ خط طلب کی سمتوں میں قیمت میں فیصد تبدیلی ہمیشہ مقدار میں برابر کی فیصد تبدیلی لاتی ہے۔ اس لیے اس خط طلب کے ہرنقطے پر |eD| = 1کاخط طلب اکائی لچک خط طلب (unitary elastic demand curve)کہلاتا ہے۔

2.6.2کسی شے کے لیے مانگ کی قیمت لچک کا تعین کرنے والے عوامل

(Factors Determining Price Elasticity of Demand for a Good)

ایک شے کے لیے مانگ کی قیمت لچک شے کی نوعیت اورشے کے قریبی متبادل کی دستیابی پرمنحصر ہے۔ مثال کے طورپر ضروریات جیسے کہ غذا کی ضرورت پرغورکریں۔ایسی اشیا زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ اور ایسی اشیا کی مانگ ان کی قیمت میں تبدیلی کے اثرسے کوئی تبدیلی نہیں لاتی ہے۔ کھانے کی مانگ کھانے کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود زیادہ تبدیل نہیں ہوتی ہے۔ دوسری طرف تعیشیات کی مانگ، قیمت میں تبدیلی سے بے حداثرپذیرہوسکتی ہے۔ 
عام طورسے ایک ضرورت کی مانگ کے لیے قیمت بے لچک ہوسکتی ہے جب کہ ایک تعیشی شے کی مانگ امکانی طورپر قیمت لچک دار ہوتی ہے۔ مثال کے طورپردالوں کی ایک خاص قسم کے بارے میں سوچیں اگراس قسم کی دال کی قیمت اوپرجاتی ہے تولوگ کسی اورقسم کی دال کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں جو اس کا قریبی متبادل ہو۔ ایک شے کی مانگ امکانی طورپر لچک دار دار ہوسکتی ہے اگرقریبی بدل آسانی سے دستیاب ہیں۔ دوسری طرف اگرقریبی بدل آسانی سے دستیاب نہیں ہیں تو شے کی مانگ امکانی طورپر بے لچک ہوگی۔

2.6.3لچک اور اخراجات(Elasticity and Expenditure)

ایک شے پر اخراجات شے کی مانگ ضرب اس کی قیمت کے برابر ہے۔ اکثر یہ جاننا اہم ہوتا ہے کہ قیمت میں تبدیلی کے نتیجے کے طورپر ایک شے پراخراجات میں کیا تبدیل آتی ہے۔ایک شے کی قیمت اورشے کی مانگ ایک دوسرے سے معکوس تعلق (inversely relation)  رکھتی ہیں۔ شے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے شے پرخرچ بڑھتا یا کہ کم ہوتا ہے۔ یہ اس بات پرمنحصر ہے کہ شے کی مانگ، قیمت میں تبدیلی سے کتنی اثرپذیرہوئی ہے۔
ایک شے کی قیمت میں اضافے پرغورکریں۔ اگرمقدار میں فی صدکم قیمت میں فی صداضافے سے زیادہ ہے تو شے پرخرچ کم ہوگا۔ دوسری طرف اگرمقدارمیں فیصدکمی قیمت میں فیصد اضافے سے کم ہے توشے پرخرچ بڑھے گا۔ اوراگرمقدار میں فی صد کمی قیمت میں فی صد اضافہ کے برابر ہے توشے پرخرچ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
اب شے کی قیمت پرغورکریں۔ اگرمقدار میں فیصد اضافہ قیمت میں فی صد کمی سے زیادہ ہے توشے کا خرچ بڑھے گا۔ دوسری طرف،اگر مقدار میں فیصد اضافہ قیمت میں فیصد کم سے کم ہے توشے پر خرچہ کم ہوگا۔ اوراگر مقدارمیں فیصد اضافہ قیمت میں فیصد کمی کے برابر ہے توخرچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
شے پر اخراجات قیمت میں تبدیل کی سمت کے خلاف تبدیل ہوگا اوراگرصرف اگرمقدار میں فیصد تبدیلی قیمت میں فی صد تبدیلی سے زیادہ ہے۔ اگرمقدار میں تبدیلی کا فیصد قیمت میں تبدیلی کے فیصد سے کم ہے یعنی شے کی قیمت بے لچک تواس صورت میں شے پر اخراجات اس کی قیمت کی سمت میں ہی بڑھیں گے۔ شے پراخراجات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی وہ اس صورت میں کہ مقدار میں تبدیلی کا فیصد قیمت میں تبدیلی کے فیصد کے برابر ہے یعنی شے یونٹ میں لچک والی ہوگی۔

مستطیل نماہائپر بولا(Rectangular Hyperbola)

یہ ایک مساوات(equation)ہے جو کہ اس طرح سے ہے 
xy=c
جہاںxاورyدومتغیرات ہیں اورcایک مستقلہ ہے اوریہ ہمیں ایک خط دیتی ہے جس کو مستطیل نماہائپر بولا کہتے ہیں۔یہ ایک نیچے کی طرف ڈھلواں خط ہے جو کہ x-yسطح میں ہے جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔ کسی دو نقطوں Pاورqجوخط پر میں دونوں مستطیل 0,y1px1اور0y2qx2ایک میں اورcکے برابر ہیں۔
اگر ایک خط طلب کی مساواتpq=eکی شکل لیتی ہے جہاں eایک مستقلہ ہے تو یہ ایک مستطیل نماہائپر بولا ہوگا جہاں قیمت(p)ضرب مقدار(q)ایک مستقلہ ہے۔ اس طرح کے خط طلب کے لیے صارف چاہے کسی بھی نقطے پر صرف کرے اس کا خرچ ہمیشہ ایک اورeکے برابر رہتا ہے۔
79

لوچ اورایک شے پر خرچ میں تبدیلی کے درمیان تعلق

مان لیجیے کہ قیمت pپرایک شے کی مانگqہے اورقیمت80شے کی مانگ 81ہے۔
قیمت pپرشے پر کل خرچ pqہے اور قیمت82شے کا کل خرچ یہ ہے85۔
اگر قیمتpسے(p+Dp)ہوجاتی ہے شے پر خرچ میں تبدیلی یہ ہے۔
83
p∇اورq∇کی چھوٹی قدروں کے لیے∇qاورq∇کی قدر نظر انداز کی جاسکتی ہے اوراس صورت حال میں شے پر خرچ میں تبدیلی تقریباًq∇p+p∇qدیتا ہے۔
84
غورکریں کہ 
اگر86اوراس لیے E∇کی علامتp∇سے برعکس رہا ہے۔
اگر87اوراس لیے E∇کی علامت وہی ہے جوp∇کی ہے۔
اگر88اوراس لیے=0 E∇۔

خلاصہ

•   بجٹ سیٹ ان اشیا کے بنڈلوں کا مجموعہ ہے جو کہ صارف اپنی آمدنی سے رائج بازار قیمت پرخرید سکتا ہے۔
•   بجٹ لائن ان سبھی بنڈلوں کی نمائندگی کرتی ہے جن پر صارف کی تمام آمدنی خرچ ہوجاتی ہے۔ بجٹ لائن منفی ڈھلان ہے۔
•   اگر قیمت یا آمدنی میں سے کوئی ایک بدلتا ہے توبجٹ سیٹ بدلتا ہے۔
•   تمام امکانی بنڈلوں کے مجموعے کے بارے میں صارف کی ترجیحات صاف ہیں۔ وہ اپنی ترجیحات کے حوالے سے دستیاب بنڈلوں کی درجہ بندی کرسکتا ہے۔
•   صارف کی ترجیحات یک سری مانی جاتی ہیں۔
•   ایک خط بے نیازی ان تمام بنڈلوں کی نمائندگی کرنے والے نقطوں کا مقام ہے جن میں صارف بے تعلق ہے۔
•   ترجیحات کے یک سری ہونے کے معنی ہیں کہ خط بے نیازی نیچے کی طرف ڈھلواں ہے۔
•   ایک صارف کی ترجیحات کی عام طورسے نقشہ بے نیازی کے ذریعہ نمائندگی کی جاسکتی ہے۔
•   ایک صارف کی ترجیحات کی عام طورسے افادہ تفاعل کے ذریعہ بھی نمائندگی کی جاسکتی ہے۔
•   عاقل صارف(rational consumer)اپنے بجٹ سے ہمیشہ سب سے زیادہ ترجیح والے بنڈل کا انتخاب کرتا ہے۔
•   صارف کا بہترین بنڈل بجٹ لائن اورخط بے نیازی کے درمیان مماسیت نقطہ(tangency point)پرپایا جاتا ہے۔
•   صارف کا خط طلب شے کی مقدار ہے جو کہ صارف قیمت کی مختلف سطحوں پر منتخب کرتا ہے جب کہ دوسری اشیا کی قیمتیں ، صارف کی آمدنی اوراس کے ذوق اورترجیحات میں تبدیلی نہیں آتی ہے۔
•   خط طلب عام طورسے نیچے کی طرف ڈھلواں ہوتا ہے۔
•   عام شے کی مانگ صارف کی آمدنی کے بڑھنے (گھٹنے)سے بڑھتی(گھٹتی)ہے۔
•    ادنیٰ شے کی مانگ صارف کی آمدنی کے بڑھنے(گھٹنے) سے گھٹتی(بڑھتی)ہے۔
•   خط مانگ باار میں تمام صارفوں کی مجموعی طورپر مانگ کی شے کی مختلف قیمت سطحوں پرنمائندگی کرتا ہے ۔
•   عام شے کی مانگ کی قیمت لچک شے کی مانگ میں فی صد تبدیلی کواس کی قیمت میں فی صد تبدیلی سے تقسیم کرنے سے ملنے والی قدر ہے۔
•   مانگ خالص عدد ہے۔
•   ایک شے کی مانگ کی لچک اورشے پر کل خرچ قریبی طورسے متعلق ہیں۔

 کلیدی تصورات

بجٹ سیٹ          Budget set                     بجٹ لائن                       Budget line
ترجیحات            Preference                     لاتعلقی                          Indifference
خط بے نیازی   Indifference curve            متبادل کی شرح      Rate of substitution
یک سری یا یک کیفی ترجیحات  Monotonic   گھٹتی متبادل کی شرح Diminishing rate of substitution
                                preferences
نقشہ بے نیازی افادہ تفاعل Indifference map, صارف کا انسب Consumer’s
                                           Utility function                        optimum
مانگ                 Demand                       مانگ کا قانون       Law  of demand
خط طلب    Demand curve                 متبادل کا اثر          Substitution effect
آمدنی اثر       Income effect                  عام شے                      Normal good
ادنیٰ شے        Inferior good                 مانگ کی قیمت لچک    Price elasticity of demand
تکملہ             Complement                متبادل                                Substitute

مشقیں

1۔   صارف کے بجٹ سیٹ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
2۔   بجٹ لائن کیا ہے؟
3۔   سمجھائیں کہ بجٹ لائن نیچے کی طرف ڈھلواں کیوں ہے؟
4۔    ایک صارف دواشیا کوصرف کرنا چاہتا ہے۔ دونوں اشیا کی قیمت4روپے اور5روپے ہیں صارف کی آمدنی 20روپے ہے۔
(i)   بجٹ لائن کی مساوات لکھیں۔
(ii)  شے 1کی کتنی مقدارصارف صرف کرسکتا ہے اگروہ اپنی تمام آمدنی اس شے پر خرچ کرتا ہے؟
(iii)  شے 2کی کتنی مقدار صارف صرف کرسکتا ہے اگروہ اپنی تمام آمدنی اسی شے پرخرچ کرتا ہے۔
(iv)  بجٹ لائن کی ڈھلان کیا ہے؟

سوالات5،6اور7سوال4سے متعلق ہیں۔

5۔   اگرصارف کی آمدنی بڑھ کر 40روپے ہوجاتی ہے لیکن قیمتیں وہی رہتیں ہیں توبجٹ لائن میں کیا تبدیلی آئے گی؟
6۔   اگرشے2کی قیمت1روپیہ کم ہوجاتی ہے لیکن شے1کی قیمت اورصارف کی آمدنی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے توبجٹ میں کیا تبدیلی آئے گی؟
7۔   اگردونوں قیمتیں اورآمدنی دوگنی ہوجاتی ہیں توبجٹ سیٹ میں کیا تبدیلی ہوگی؟
8۔   مان لیں کہ صارف اگراپنی تمام آمدنی خرچ کرتا ہے تووہ شے 1کی 6اکائیاں اورشے2کی 8اکائیاں خرید سکتا ہے۔ دونوں اشیا کی اپنی قیمتیں 6روپے اور8روپے ہیں۔ صارف کی آمدنی بتائیں؟
9۔   مان لیں ایک صارف دواشیا کوصرف کرنا چاہتا ہے جو کہ صرف عدد صحیح(integer)اکائیوں میں ہی دستیاب ہیں دونوں اشیا کی قیمت10روپے ہے اورصارف کی آمدنی 40روپے ہے۔
(i)   صارف کو دستیاب تمام بنڈل کون سے ہیں،بتائیں۔
(ii)   جوبنڈل صارف کودستیاب ہیں ان میں سے ان بنڈلوں کی نشان دہی کریں  کی لاگت صارف کو پوری40روپے  پڑے گی۔ جن 
10۔   آپ یک سری ترجیحات کے کیا معنی سمجھتے ہیں؟
11۔   اگر ایک صارف کی ترجیحات یک سری ہیں تو کیا وہ بنڈل(10,8)اور(8,6)کے درمیان سے بے تعلق ہوسکتا ہے؟
12۔   مان لیں کہ ایک صارف کی ترجیحات یک سری ہیں تو(10,10)،(10,9)اور(9,9)بنڈلوں کے لیے اس کی ترجیحات کی درجہ بندی کے بارے میں آپ کیا کہہ سکتے ہیں؟
13۔   مان لیں کہ آپ کا دوست (5,6)اور(6,6)بنڈلوں کے لیے بے تعلق ہے توکیا آپ کے دوست کی ترجیحات یک سری ہیں؟
14۔  مان لیں کہ ایک شے کے لیے بازار میں دوصارف ہیں اوران کی مانگ تفاعل اس طرح ہیں:
d1(p)-20pکسی قیمت جو کہ 15سے کم یا برابر ہے اورd1(p)=0کسی قیمت جو کہ      15سے بڑی ہو 
کسی بھی قیمت پر جو کہ 15سے کم یا اس کے برابر ہوd1(p)=30-2اور15سے زیادہ کی کسی بھی قیمت پر d1(p)=0بازاری کا مانگ تفاعل بتائیں؟
15۔   مان لیں کہ کسی ایک شے کے 20صارف ہیں اوران کے مانگ تفاعل بالکل ایک جیسے ہیں:
0=d(p)=10-3p،کے برابر یا اس ے کم کسی قیمت پر اورd1(p)=0کسی قیمت پر جو کہ 10سے زیادہ ہو بازارکامانگ تفاعل بتائیں؟
16۔  ایک بازار کے بارے میں غور کریں جہاں صرف دوہی صارف ہیں اورمان لیں کہ شے کے لیے ان کی مانگیں درج ذیل ہیں:
شے کے لیے بازار کی مانگ بتائیں۔
17۔  آپ عام شے کے کیا معنی سمجھتے ہیں؟
18۔  آپ ادنیٰ شے کے کیا معنی سمجھتے ہیں؟کچھ مثالیں دیں۔
19۔  آپ متبادل کے کیا معنی سمجھتے ہیں دواشیا کی مثالیں دیں جو کہ ایک دوسرے کی متبادل ہیں۔
20۔  آپ تکملہ کے کیا معنی سمجھتے ہیں؟دواشیا کی مثالیں دیں جو کہ ایک دوسرے کی تکملہ ہیں۔
21۔  مانگ کی قیمت لچک کوسمجھائیں۔
22۔  ایک شے کی مانگ پر غورکریں قیمت جب 4روپے ہے توشے کی مانگ25اکائیاں ہے۔ مان لیں کہ شے کی قیمت بڑھ کر5روپے ہوجاتی ہے اور نتیجے میں مانگ گرکے 20اکائیاں ہوجاتی ہے۔ قیمت لچک نکالیے۔
23۔   خط طلب D(P)=10-3Pپرغورکریں۔قیمت5/3پہ لچک کیا ہے؟
24۔   مان لیں کہ ایک شے کی مانگ کی قیمت لوچ-0.2ہے۔اگر شے کی قیمت میں %5 اضافہ ہوتا ہے توشے کی مانگ کتنے فی صد گرے گی؟
25۔ مان لیں کہ ایک شے کی مانگ کی قیمت لچک-0.2ہے اگر شے کی قیمت میں%10 اضافہ ہوتا ہے توشے کے خرچ پراس کا کیا اثرہوگا؟
26۔   مان لیں کہ کسی شے کی قیمت میں4%کمی آتی ہے اوراس کے نتیجے میں شے پرخرچ%2بڑھ گیا۔مانگ کی لچک کے بارے میں آپ کیا کہہ سکتے ہیں؟
d2 d1 p
24
20
18
16
14
12
9
8
7
6
5
4
1
2
3
4
5
6