باب 4
مکمل مسابقت کے تحت فرم کا نظریہ
(The Theory of the Firm under Perfect Competition)
پچھلے باب میں ہم نے ایک فرم کے تفاعل پیداوار اور لاگت خطوط سے متعلق تصورات کا مطالعہ کیا۔ اس باب کا خدوخال مختلف ہے۔ یہاں ہم یہ دیکھیں گے کہ ایک فرم یہ کس طرح فیصلہ کرسکتی ہے کہ اس کو کتنی پیدا وار کرنی ہے؟ ہمارے اس سوال کا جواب کسی طرح آسان یا غیرمتنازعہ نہیں ہے۔ ہمارے جواب کی بنیاد ناقدانہ ،کسی حد تک استد لال سے عاری ،فرم کے برتاؤ کے بارے میں مفروضے پر قائم ہوگی۔ کوئی بھی فرم منافع کو انتہا تک بڑھانے کا کام کرتی ہے۔ اس لیے ایک فرم بازار میں وہ مقدار پیدا کرتی اور بیچتی ہے جس سے اس کا منافع بیش ترین ہوسکے۔
اس باب کی ساخت مندرجہ ذیل ہے۔ ہم پہلے ایک فرم کے انتہائی منافع کمانے کے مسئلے کو رکھ کر اس کا تفصیل سے مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم فرم کے خط رسد کا استخراج کرتے ہیں۔ خط رسدماحصل کی ان سطحوں کودکھاتا ہے جسے فرم، بازار کی قیمت کی مختلف قدروں کے لیے پیدا کرنے میں منتخب کرتی ہے۔ بالآخرہم اس بات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ منفرد فرموں کے خطو ط رسد کو کس طرح یکجاکیا جائے اور بازار سے خط رسدکس طرح حاصل کیا جاتا ہے۔
4.1مکمل مسابقت:واضح خصوصیات (Perfect Competition : Defining Features)
ایک فرم کے منافع کو انتہا تک بڑھانے کے مسئلے کا تجزیہ کرنے کے لیے ہمیں پہلے بازار کے ماحول کے بارے میں صاف طور سے بتانا پڑے گا جس میں فرم کام کرتی ہے۔ اس باب میں ہم ایک ایسے بازارکے ماحول کا مطالعہ کریں گے جس کو مکمل مسابقت (Perfect competition)کہتے ہیں۔ ایک مکمل مسابقتی بازار کی دو نمایاں خصوصیات ہیں۔
1۔ بازار خریداروں اور فروخت کا روں (یعنی فرموں) پر مشتمل ہوتا ہے۔بازار میں تمام فرمیں ایک خاص ہم جنس (یعنی غیر امتیازی) شے کی پیداوارکرتی ہیں۔
2۔ بازار میں ہر خریدار اور فروخت کار قیمت کو اختیار کرنے والا ہوتا ہے۔
چونکہ ایک مکمل مسابقتی بازار کی پہلی خصوصیت سمجھنا آسان ہے اس لیے ہم دوسری خصوصیت پر توجہ مبذول کریں گے۔ ایک فرم کے نقطہ نظرسے قیمت کوقبول کرنے میں ضروری باتیں کیا شامل ہوتی ہیں؟ایک قیمت قبول کرنے والی فرم یہ یقین رکھتی ہے کہ بازار قیمت سے اونچی قیمت رکھ کر وہ اپنی پیداکردہ اشیا کی کچھ مقدار ہی فروخت کر سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر مقررہ قیمت بازارکی قیمت کے برابر یا کم ہے تو فرم اس شے کی جتنی اکائیاں کی بیچنا چاہتی ہے بیچ سکتی ہے۔ ایک خریدار کے نقطہ نظر سے قیمت قبول کرنے کے لیے مطلوبہ شرائط کیا ہیں؟ ایک خریدار ظاہر ہے کہ شے کو سب سے کم قیمت پر خریدنا چاہے گا۔ لیکن قیمت قبول کرنے والا خریداریہ یقین رکھتا ہے کہ اگر وہ بازارکی قیمت سے کم پر خریدنا چاہے گا توکوئی فرم اسے فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ دوسری طرف اگر پوچھی گئی قیمت بازارکی قیمت سے زیادہ ہے یا اس کے برابر ہے تو خریدار شے کی جتنی اکائیاں چاہتا ہے خرید سکتا ہے۔
چونکہ یہ باب مکمل طور سے فرموں کے بارے میں ہے اس لیے ہم خریدار کے برتاؤ کے بارے میں اور چھان بین نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ہم ان حالات کی نشاندہی کرتے ہیں جن میں قیمت کو قبول کرنے والی فرموں کے لیے ایک معقول مفروضہ ہے۔ قیمت قبول کرنا اکثر اس صورت میں معقول مفروضہ سمجھا جاتا ہے جب بازار میں کئی فرمیں موجود ہوتی ہیں اور خریداروں کو بازار میں رائج قیمتوں کے بارے میں پوری معلومات فراہم ہوتی ہے۔ آخرکیوں؟ آئیے ایک ایسی صورت حال سے شروعات کرتے ہیں جس میں بازار کی ہر ایک فرم ایک جیسی بازار قیمت اختیار کرتی ہے اور شے کی کچھ مقدار بیچتی ہے۔ مان لیجیے کہ اب خاص فرم اپنی قیمت بازار قیمت سے بڑھادیتی ہے۔ مشاہدہ کریں کہ چونکہ تمام فرمیں ایک شے ہی پیدا کررہی ہیں اور تمام خریدار بازار قیمت سے آگاہ ہیں اس لیے مذکورہ فرم اپنے تمام خریداروں سے محروم ہوجاتی ہے۔ مزیدبر آں یہ خریدار جیسے جیسے اپنی خریداری دوسری فرموں سے کرتے ہیں کوئی موافقت کا مسئلہ نہیں اٹھتا ہے، جب بازار میں کئی فرمیں ہوتی ہیں توان کی مانگیں آسانی سے پوری ہوجاتی ہیں۔ اب یاد کریں کہ ایک منفرد فرم کی بازار قیمت سے زیادہ قیمت پر شے کی کوئی بھی مقدار بیچ سکنے میں نااہل ہونابے کم و کاست وہی بات ہے جو کہ قیمت قبول کرنے کا مفروضہ بتاتا ہے۔
4.2 محاصل (Revenue)
ہم یہ پہلے بتاچکے ہیں کہ ایک مکمل مسابقتی بازار میں ایک فرم کو یقین ہوتا ہے کہ بازارقیمت کے برابر یاا س سے کم قیمت مقرر کر کے وہ شے کی جتنی اکائیاں فروخت کرنا چاہتی ہے فروخت کرسکتی ہے۔ لیکن اگر صورت حال یہ ہے تو یقینا بازاری قیمت سے کم قیمت مقرر کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر فرم شے کی کچھ مقدار بیچنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو جو قیمت وہ مقرر کرتی ہے وہ بازار قیمت کے بالکل برابر ہوتی ہے۔
ایک فرم بازار میں اپنی پیدا کی ہوئی شے کی فروخت کے ذریعہ محاصل (revenue)کماتی ہے۔ مان لیجیے کہ شے کی ایک اکائی کی بازار قیمت pہے مان لیں کہ پیداکی گئی شے کی مقدار qہے۔ اور اس لیے فرم کے ذریعے قیمت pپر جاتی ہے۔ تب فرم کی کل محاصل (TR)کی تعریف اس طرح ہے کہ یہ شے کی بازار قیمت(p)سے فرم کے ماحصل(q)کا ضرب ہے۔
اس لیے:
TR=p×q
اس بات کو اور پختہ بنانے کے لیے ذیل کی عددی مثال پر غور کریں۔ مان لیں کہ موم بتیوں کا بازار مکمل مسابقتی ہے اور موم بتیوں کے ایک ڈبے کی قیمت 10روپیے ہے۔ ایک موم بتیوں کے کارخانے دار کے لیے جدول4.1یہ دکھاتا ہے کہ کل محاصل(Revenue) کا ماحصل(Output) سے کیا تعلق ہے۔ دھیان دیجیے کہ جب کوئی بھی ڈبہ تیار نہیں ہے تو TRصفر کے برابر ہے، اگر موم بتیوں کا ایک ڈبے کی پیداکاری ہوتی ہے تو TRبرابر ہوگا 10×1روپیے 10 =روپیے ۔اگر موم بتیوں کے مزید 2ڈبے بنائے جاتے ہیں تو TRبرابر ہوگا 10×2 روپیے 20 =روپیے ۔ اور اسی طرح آگے بھی حساب چلتا ہے۔
| بیچےگئے ڈبے | TR (روپےمیں) |
|---|---|
0
1
2
3
4
5
|
0
10
20
30
40
50
|
اس مثال کے بعد آئیے اب زیادہ عام صورت حال کے طرف لوٹیں۔ ایک مکمل مسابقتی بازار میں ایک فرم کی بازار قیمت(p)دی ہوئی ہے۔ بازار قیمتp پر قائم رہتے ہوئے کل محاصل خط فرم کے کل محاصل (y۔محور) اور فرم کی ماحصل (x۔محور) کے درمیان تعلق دکھاتا ہے۔ شکل4.1 فرم کا کل محاصل خط دکھاتا ہے۔ یہاں تین مشاہدات مناسب ہیں۔ پہلا، جب ماحصل صفر ہے تو فرم کی کل محاصل بھی صفر ہے۔ اس لیےTRخط نقطۂ صفر سے گزرتا ہے۔ دوسرا ، جب ماحصل میں اضافہ ہوتا ہے تو کل محاصل بڑھتا ہے۔
علاوہ ازیں مساوات TR=pxq،سیدھی لائن کی مساوات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ TRخط اوپر کی طرف اٹھتی ہوئی سیدھی لائن ہے۔ تیسرا، اس سیدھی لائن کی ڈھلان پہ غور کریں۔ جب ماحصل ایک اکائی ہے (افقی دوری0q1 شکل4.1)، کل محاصل (عمودی اونچائی Aq1 شکل4.1 ہیں) px1=p ہے۔ اس لیے علاوہ ازیں مساوات TR=pxq،سیدھی لائن کی مساوات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ TRخط اوپر کی طرف اٹھتی ہوئی سیدھی لائن ہے۔ تیسرا، اس سیدھی لائن کی ڈھلان پہ غور کریں۔ جب ماحصل ایک اکائی ہے (افقی دوری0q1 شکل4.1)، کل محاصل (عمودی اونچائی Aq1 شکل4.1 ہیں) px1=p ہے۔ اس لیے سیدھی لائن کی ڈھلان Aq1/Oq1=pہے۔
کل محاصل خط: ایک فرم کا کل محا صل خط فرم جو کل محاصل کماتاہے اور فرم کے ماحصل کی سطح کے درمیان کا تعلق دکھاتا ہے۔خط کی ڈھلان،Aq1بازارکی قیمت فراہم کرتی ہے۔
اب شکل 4.2پر غور کریں۔ یہاں ہم فرم کی محاصل (-xمحور) کی مختلف قدروں کے لیے بازار قیمت (-yمحور) کا نقشہ بناتے ہیں۔ چونکہ بازار قیمتpپر قائم ہے۔ ہم ایک افقی سیدھی لائن حاصل کرتے ہیں جو کہ-yمحورکوp کے برابر اونچائی پرکاٹتی ہے۔ یہ افقی سیدھی لائن کہلاتی ہے قیمت لائن ایک فرم کے خط طلب کو بھی دکھاتی ہے۔ مشاہدہ کریں کہ شکل4.2 پردکھائی گئی ہے کہ بازار قیمتpفرم کی ماحصل پرمنحصر نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک فرم قیمتpپرجتنی شئےکی اکائیاں بیچنا چاہے بیچ سکتی ہے۔
قیمت لائن : قیمت لائن بازار میں قیمت اور فرم کی ماحصل سطح کے درمیان تعلق دکھاتی ہے۔ قیمت لائن کی عمودی اونچائی بازاری قیمتpکے برابر ہے۔
فرم کے اوسط محاصل(average revenue) ARکی تعریف یہ ہے کہ یہ ماحصل کی ایک اکائی پر کل محاحصل ہے۔ غور کریں کہ اگر فرم کی ماحصل qہے اور بازار قیمت pہے تو TRبرابر ہےp×qکے۔ اس لیے
دوسرے لفظوں میں ایک قیمت قبول کرنے والی فرم کے لیے اوسط محاصل بازار قیمت کے برابر ہے۔
فرم کی حاشیائی محاصل (marginal revenue) MRکی تعریف یہ ہے کہ فرم کے ماحصل کی ایک اکائی میں اضافے کے لیے محاصل میں اضافہ ہے۔ ایک ایسی صورت حال پر غور کریں جس میں فرم کی ماحصلq0سے بڑھاکر (q0+1)کردی جاتی ہے۔ بازار قیمت pدی گئی ہے۔ غور کریں کہ(ماحصلq0سےTR )۔ ماحصل(q0+1)سے TR)MR=
الجبرا کو الگ رکھتے ہوئے، اس نتیجے کا وجدان کافی آسان ہے۔ ایک فرم اپنے ماحصل کو ایک اکائی بڑھاتی ہے تو یہ زائد اکائی بازار قیمت پر بکتی ہے۔ اس لیے ایک اکائی ماحصل اضافے سے فرم کے کل محاصل میں اضافہ یعنیMRبے کم وکاست بازار قیمت ہے۔
4.3 منافع بیش کاری (Profit Maximisation)
ْٓایک فرم ایک شے کی ایک خا ص مقدار پیدا کرتی ہے اور بیچتی ہے۔ فرم کا منافع جس کے لیےp علامت کا استعمال ہوتا ہے ،اس کی تعریف فرم کا کل محاصل (TR) اور کل لاگت پیداوار(TC) 1کے درمیان کا فرق ہے۔ دوسرے لفظوں میں
صاف طور سے TRاورTCمیں فرق لاگت نکال کر فرم کی آمدنی ہے۔ایک فرم اپنے منافع کو بڑھاکر انتہا تک کرنا چاہتی ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ ماحصل کی کس سطح پر فرم کا منافع اپنی انتہا پر ہوگا؟ یہ مانتے ہوئے کہ فرم کا ما حصل مکمل طور پر تقسیم ہو سکتا ہے۔ ہم اب یہ دکھاتے ہیں کہ اگر ماحصل کی سطح مثبت ہے،q0جس پر منافع بیش ترین ہے تو تین شرطیں پوری ہونا ضروری ہیں:
1۔ بازار قیمت q0 p پر حاشیائی لاگت کے برابر ہے۔
2۔ q0 پر حاشیائی لاگت ناگھٹنے والی ہے۔
3۔ قلیل مدت میں بازاری قیمت Pکوq0 پراوسط متغیر لاگت کے برابر یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے۔ طویل مدت میں بازار قیمتpکوq0 پر اوسط لاگت کے برابر یا اس سے زیادہ ہونا چاہیے۔
4.3.1 شرط Condition 1) 1 )
شرط 1 پر غور کریں۔ہم دکھاتے ہیں کہ شرط1صحیح ہے۔ اس کے لیے یہ دلیل ہے کہ ایک منافع کو انتہاتک پہچانے والی فرم ایک ایسی ماحصل کی سطح پر پیداکاری نہیں کرے گی جہاں بازار قیمت حاشیائی لاگت سے زیادہ ہویا حاشیائی لاگت بازار قیمت سے زیادہ ہو۔ہم دونوں معاملات کودیکھیں گے۔
صورت حال 1 : قیمت کا (MC) حاشیائی لاگت سے زیادہ ہونا ممکن نہیں ہے۔
شکل 4.3 پر غور کریں اور دھیان دیں کہ ماحصل سطحq2 بازاری قیمت pیااشیائی لاگت سے زیادہ ہورہی ہے۔ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ q2 منافع کو انتہا تک بڑھانے والی ماحصل سطح نہیں ہو سکتی ہے۔ کیوں نہیں؟
مشاہدہ کریں کہ تمام ماحصل سطحوں کے لیے جوq2کے تھوڑی دائیں طرف میں بازار قیمت حاشیائی لاگت سے بڑھتی ہے۔ اس لیے ایک ماحصل سطحq3کو جوq2کے تھوڑا دائیں جانب ہے منتخب کریں۔ یہ اس طرح ہو کہ q2اور q3کے درمیان کے تمام ماحصل سطحوں کے لیے بازاری قیمت حا شیائی لاگت سے بڑھی ہوئی ہو۔
اب مان لیں کہ فرم اپنی ماحصل سطح کوq2سے بڑھاکرq3کرتی ہے۔ فرم کے کل محاصل میں اضافہ جو کہ اس ماحصل میں اضافہ سے ہوا ہے صرف بازار قیمت کو مقدار میں تبدیلی سے ضرب دینے سے حاصل ہونے والی قدر ہے۔ یعنی یہ مستطیل q2=q3 CBکا رقبہ ہے۔ دوسری طرف کل لاگت میں اضافہ ہے جو کہ اس ماحصل میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے وہ ماحصل سطح q2اورq3کے درمیان حاشیائی لاگت خط کے نیچے کا رقبہ ہے۔ یعنی علاقےq2q3XWکا رقبہ۔ لیکن دونوں رقبوں کا موازنہ دکھاتا ہے کہ فرم کا منافع زیادہ ہوتا ہے جب کہ ماحصل سطحq2نہیں ہے بلکہ q3 ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو q2منافع کو انتہاتک بڑھانے والی ماحصل سطح نہیں ہوسکتی ہے۔
1معاشیات میں منافع کو یونانی حرف کی علامت سے دکھانے کا چلن ہے۔ یا حاشیائی لاگت بازاری قیمت سے زیادہ ہے۔ ہم دونوں صورتحال کا معائنہ کریں گے۔
صورت حال 2: قیمت کا حاشیائی لاگت(MC) سے کم ہونا ممکن نہیں ہے۔
شکل4.3 پر غور کریں، ماحصل سطحq5 پر بازار قیمت حاشیائی لاگت سے کم ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہq5منافع کو انتہا تک بڑھانے والی ماحصل سطح نہیں ہو سکتا۔ کیوں؟
مشاہدہ کریں q5کے تھوڑا بائیں جانب کے تمام ماحصل سطحوں کے لیے بازار قیمت حاشیائی لاگت سے کم رہتی ہے۔ اس لیے q5سے تھوڑا بائیں طرف کے ایک ایسے ماحصل سطح کا انتخاب کریں کہq4کے درمیان تمام ماحصل کی سطحوں کے لیے حاشیائی لاگت سے بازار قیمت کم ہے۔
اب مان لیں کہ فرم اپنے ماحصل سطح کوq5سے کاٹ کرq4 دیتی ہے۔ فرم کی کل محاصل میں کمی جو کہ اس ماحصل کے سکڑنے کی وجہ سے ہوئی ہے وہ بازار قیمت اور مقدار میں تبدیلی کا ضرب ہے، یعنی مستطیل q4q5 EFکا رقبہ۔ دوسری طرف کل لاگت میں کمی جو کہ اس ماحصل کے سکڑنے سے آتی ہے وہ حاشیائی لاگت خط کے نیچے کا رقبہ ہے جو ماحصل سطحوں q4اورq5کے درمیان ہے یعنیq4q5ZYکے علاقے کا رقبہ۔ لیکن دونوں رقبوں کا موازنہ یہ دکھاتا ہے کہ فرم کا منافع اس وقت زیادہ ہے جب ماحصل سطحq4ہے نہ کہq5۔ لیکن اگر یہ صورت حال ہے تو q5منافع کو بیش ترین کرنے والی ماحصل سطح نہیں ہو سکتی ہے۔
4.3.2 شرط Condition 2) 2 )
دوسری شرط پر غور کریں جو کہ انتہائی منافع کی ماحصل سطح کے مثبت ہونے پر صحیح ثابت ہوگی۔ ایسا کیوں ہے کہ انتہائی منافع کی ماحصل سطح پر حاشیائی لاگت خط نیچے کی طرف ڈھلواں نہیں ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ایک بار پھر شکل 4.3کو دیکھیں دھیان دیں کہ ماحصل سطحq1 پر بازار قیمت حاشیائی لاگت کے برابر ہے، حالانکہ حاشیائی لاگت خط نیچے کی طرف ڈھلواں ہے۔
منافع میں انتہائی اضافہ کرنے کی شرائط 1اور2 ۔ یہ شکل بتاتی ہے کہ جب بازار قیمتpہے تو انتہائی منافع کرنے والی فرم کلی ماحصل سطحq1نہیں ہوسکتی ہے۔ (حاشیائی لاگت خطMCنیچے کی طرف ڈھلواں ہے۔)۔q2(بازار قیمت حاشیائی لاگت سے زیادہ ہے) ، یا q5حاشیائی لاگت بازاری قیمت سے زیادہ ہے)۔
ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہq1انتہائی منافع کی ماحصل سطح نہیں ہوسکتی ہے۔ کیوں؟
مشاہدہ کریں کہ q1کے تھوڑا بائیں جانب تمام ماحصل سطحوں کے لیے بازارقیمت حاشیائی لاگت سے کم ہے۔لیکن سیکشن 4.3.1 کی صورت حال 2 میں دی گئی دلیل کے معنی یہ ہیں کہ فرم کا وہ منافع جو q1 سے کچھ کم ماحصل سطح پر ہے وہ q1 کی ماحصل سطح سے متعلقہ منافع سے بڑھ جاتا ہے۔یہ صورت حال ہونے پر q1 انتہائی منافع دینے والی ماحصل سطح نہیں ہوسکتی ہے۔
4.3.3 شرط Condition 3) 3 )
تیسری شرط پر غور کریں جو کہ اس وقت صحیح ثابت ہوگی جب انتہائی منافع کرنے والی ماحصل سطح مثبت ہوتی ہے۔ غور کریں کہ تیسری شرط کے دو حصے ہیں: ایک حصہ قلیل مدت اور ایک حصہ طویل مدت میں لاگو ہوگا۔
صورت حال1: قلیل مدت میں قیمتAVCسے زیادہ یا اس کے برابر ہونی چاہیے۔
ہم یہ دکھائیں گے کہ صورت حال 1کابیان (اوپر دیکھیں) صحیح ہے۔ اس کے لیے ہم یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایک انتہائی منافع تک پہنچانے والی فرم قلیل مدت میں ماحصل سطح پر پیداکاری نہیں کرے گی جس میں بازاری قیمت AVC سے کم ہے۔
قیمت۔AVC اور انتہائی منافع کرنا (قلیل مدت) کے درمیان تعلق۔ یہ شکل دکھاتی ہے کہ منافع انتہائی حدکو بڑھانے والی فرم قلیل مدت میں صفر ماحصل دیتی ہے جب بازار قیمتpاس کے اوسط متغیر لاگت(AVC)کی کم سے کم قدر سے کم ہے۔ اگر فرم کی ماحصل سطحq1ہے تو فرم کی کیا متغیر لاگت اس کی محاصل سے بڑھ جاتی ہے جو کہ مستطیلpEBAکے رقبہ کے برابر کی مقدار کے بہ قدر ہے۔
آئیے شکل4.4کی طرف واپس لوٹیں۔ مشاہدہ کریں کہq1ماحصل کی سطح پہ بازاری قیمتAVC p1سے کم ہے۔ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ منافع انتہا تک پہنچانے والی ماحصل سطح نہیں ہو سکتی ہے۔ کیوں؟
غور کریں کہ فرم کی کل محاصلq1پر اس طرح سے ہے
قیمتxمقدار TR=
عمودی اونچائیx0pچوڑائی=0q1
مستطیلOp Aq1کا رقبہ
اسی طرح سے q1پر فرم کی کل متغیر لاگت اس طرح سے ہے۔
اوسط متغیر لاگتxمقدارTVC=
عمودی اونچائیxOEچورائی= 0q1
مستطیلOEBq1کا رقبہ =
اب یاد کریں کہ فرم کاq1پر منافعTR- (TVC+TFC) ہے ؛ یعنی (مستطیلOpAq1کا رقبہ)۔ (مستطیلOEBq1کا رقبہ)۔ TFC – اگر فرم صفر ماحصل پیدا کرتی ہے تو کیا ہوگا؟ چونکہ ماحصل صفر ہے تو TRاورTVCبھی صفر ہیں۔ اس لیے فرم کا صفر ماحصل پرمنافع ۔TFCکے برابر ہوگا۔لیکن مستطیلOpAq1کا رقبہ یقینی طور پرمستطیل OEBq1کے رقبہ سے کم ہے۔ اس لیےq1پر فرم کا منافع یقینی طور پر اس سے کم ہے وہ جو کچھ بھی پیدا کاری نہ کرسکنے کی صورت میں حاصل ہوتا۔ اس کے معنی ہیں کہ یقیناq1منافع انتہا تک بڑھانے والی ماحصل سطح نہیں ہوسکتی ہے۔
صورت حال2: طویل مدت میں قیمتACسے زیادہ یا اس کے برابر ہونی چاہیے۔
ہم د کھائیں گے کہ صورت حال2 کا بیان(اوپر دیکھیں) صحیح ہے اور اس کے لیے یہ دلیل ہے کہ طویل مدت میں ایک منافع انتہا تک بڑ ھانے والی فرم اس ماحصل کی سطح پر پیدا کاری نہیں کرے گی اس میں بازار قیمتACسے کم ہے۔
قیمت AVC اورمنافع انتہاتک بڑھانے: (طویل مدت) کے درمیان تعلق۔شکل دکھاتی ہے کہ منافع انتہا تک بڑھانے والی فرم طویل مدت میں صرف ماحصل دیتی ہے جب کہ بازاری قیمت اس کی طویل مدت کی اوسط لاگت (LRAC) کی سب سے کم قدر سے کم ہے۔اگر فرم کا ماحصل کی سطح q1 ہے تو فرم کی کل لاگت اس کی محاصل سے اس مقدار کے برابر بڑھتی ہے جو کہ مستطیل pEBA کے رقبہ کے برابر ہے۔
آئیے شکل4.5 کی طرف رخ کریں۔مشاہدہ کریں کہq1ماحصل کی سطح پر بازار قیمتp (طویل مدت) ACسے کم ہے۔ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ q1منافع انتہا تک برھانے والی ماحصل سطح نہیں ہوسکتی ہے۔ کیوں؟
دھیان دیں کہ فرم کا کل محاصلTR پر q1ہے مستطیل Op Aq1کا رقبہ ہے (قیمت اور مقدار ) جب کہ فرم کی کل لاگتTCمستطیل OEBq1 (اوسط قیمت اور مقدار کا ماحصل)۔چوکہOEBq1 کے رقبہ مستطیلOpAq1کے رقبے سے بڑی ہے۔ فرم کو q1ماحصل کی سطح پر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ لیکن طویل مدت کی صورت میں ایک فرم جو اپنی پیداوار بند کر دیتی ہے اس کامنافع صفر ہوتا ہے۔ یقینی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہq1ایک منافع انتہا تک بڑھانے والی ماحصل کی سطح نہیں ہے۔
4.3.4 منافع انتہاتک بڑھا نے کا مسئلہ : گراف کے ذریعہ وضاحت The Profit Maximisation Problem: Graphical Representation
3.1،3.2اور3.3سیکشنوں کے مواد کے استعمال سے آئیے ایک فرم کے قلیل مدت کی صورت میں منافع کی انتہا تک بڑھانے کے مسئلے کو گراف کے ذریعہ دیکھیں۔ شکل4.6 پر غور کریں۔ بازار قیمتpہے۔ بازاری قیمت کو( قلیل مدت) حاشیائی لاگت کے برابر کرکے ہمیں ماحصل کی سطحq0ملتی ہے۔ مشاہدہ کریں کہq0پرSMCاوپر کی طرف ڈھلواں ہے اور،AVC pسے زیادہ ہے۔چونکہ تینوں شرائط جن کا3.1سے 3.3 سیکشنوں میں ذکر کیا گیا ہےq0 پہ پوری ہورہی ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ منافع انتہا تک بڑھانے والی ماحصل کی سطحq0ہے۔
q0پر کیا ہوتا ہے؟ فرم کا کل محاصل q0 پر مستطیل OpAq0کا رقبہ ہے (قیمت اور مقدار کا ضرب)۔ جب کہ q0پرکل لاگتOEBq0 ہے( قلیل مدت اوسط لاگت اور مقدار کا ضرب ) اس لیے فرم q0پر مستطیل EpABکے رقبہ کے برابر منافع کماتی ہے۔
(قلیل مدت) منافع انتہا تک بڑھانے کی جمومیٹری نمائندگی دی گئی بازار قیمت pپر ایک منافع انتہا تک بڑھانے والی فرم کا ماحصل سطح q0 ہے۔q0 پر فرم کا منافع مستطیل EpAB کے رقبہ کے برابر ہے۔
4.4 ایک فرم کا خط رسد ( Supply Curve Of a Firm)
ْٓ ایک فرم کا خط رسد ماحصل کی سطحوں (جس کا خاکہx-محورپر ہے) دکھاتا ہے۔ان کو فرم پیدا کاری کے لیے بازار قیمت کی مختلف متعلقہ قدروں کے لیے (خاکہ y-محور پر بنتا ہے) منتخب کرتی ہے۔ دی گئی بازار قیمت کے لیے انتہاتک بڑ ھانے والی فرم کی ماحصل کی سطح اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا ہم قلیل مدت یاطویل مدت پر غور کررہے ہیں۔ اسی لحاظ سے ہم قلیل مدت خط رسد اور طویل مدت خط رسد میں امتیاز کرتے ہیں۔
4.4.1 ایک فرم کا قلیل مدت خط رسد (Short Run Supply Curve Of a Firm)
آئیے شکل4.7کو دیکھیں اور ایک فرم کا قلیل مدت خط رسد اخذ کریں۔ ہم اس اخذ کردہ نتائج کو دوحصوں میں الگ کردیں گے۔ ہم پہلے فرم کا منافع انتہا تک بڑھانے کی ماحصل سطح کا تعین کریں گے جب بازار قیمت سب سے کم AVCکے برابر یا اس سے زیادہ ہے۔ یہ ہونے کے بعد ہم فرم کی اس منافع انتہاتک بڑھانے والی ماحصل کی سطح کا تعین کریں گے جب بازاری قیمت کم سے کم AVC سے کم ہے۔ بازار قیمت قدریں۔ شکل ان ماحصل کی سطحوں کی دکھاتی ہے جن کو ایک منافع انتہاتک بڑھانے والی فرم قلیل مدت میں بازار قیمت کی دوقدروں p1اورp2کے لیے منتخب کرتی ہے۔ جب بازارقیمتp1ہے تو فرم کی ماحصل کی سطحq0ہے جب بازار قیمتp2ہے تو فرم صفر ماحصل دیتی ہے۔
بازاری قیمت قدریں:شکل ان ماحصل کی سطحوں کو دکھاتی ہے جن کو ایک منافع انتہا تک بڑھانے والی فرم قلیل مدت میں بازاری قیمت کی دوقدروں p1 اور p2 کے لیے منتخب کرتی ہے۔جب بازاری قیمت p1 ہے تو فرم کی ماحصل کی سطح q1ہے جب بازاری قیمت p2 ہے تو فرم صفر ماحصل دیتی ہے۔
صورت حال 1: قیمت کم سے کم AVCسے زیادہ ہے یا اس کے برابر ہے
مان لیں کہ بازار قیمت p1ہے جوکہ سب سے کم AVC سے زیادہ ہے۔ ہم شروعات کرتے ہیں کہSMCخط کے اوپر اٹھتے حصے پر p1اورSMCکو برابرکرکے ؛ یہ ماحصل سطحq1 تک پہنچاتا ہے۔ یہ بھی غور کریں کہ q1پر AVC بازار قیمتp1سے زیادہ نہیں
بڑ ھتی ہے۔ اس طرح سیکشن3میں بیان کی گئی تینوں شرائط q1پر لاگو ہوتی ہیں۔ اس لیے جب بازارقیمتp1ہے تو فرم کی قلیل مدت میں ماحصل سطحq1کے برابر ہے۔
صورت حال2: قیمت کم سے کم AVCسے کم ہے
مان لیں کہ بازار قیمت p2جو کہ کم سے کم AVCسے کم ہے۔ ہماری دلیل (سیکشن 3کی شرط3دیکھیں) یہ ہے کہ اگر ایک منافع انتہاتک بڑھانے والی فرم ایک مثبت ماحصل کی پیدا کاری قلیل مدت میں کرتی ہے تو بازار قیمتp2ماحصل سطح پرAVCکے برابر یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے۔ لیکن شکل 4.7میں اس بات پر دھیان دیں کہ تمام مثبت ماحصل سطحوحات کے لیےAVCیقینی طور پرp2 سے زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایسا نہیں ہوسکتا کہ فرم ایک مثبت ماحصل مہیا کرائے۔ اس لیے اگر بازار قیمت p2ہے تو فرم صفر ماحصل کی پیدا کاری کرے گی۔
ایک فرم کا قلیل مدت خط رسد جس کی بنیاد اس کی قلیل مدت حاشیائی خط لاگت (SMC)اور اوسط متغیر لاگت خط(AVC) پر ہے کو موٹی لائن سے دکھایا گیا ہے۔
صورت حال 1اور صورت حال 2کو یکجا کرتے ہوئے ہم ایک اہم نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ ایک فرم قلیل مدت خط مدت رسد SMCخط کا اوپر اٹھتا ہوا وہ حصہ ہے جو کہ کم سے کم AVCسے کم اور اس کے ساتھ کم سے کم قیمتوں کے لیے صفر ماحصل بھی ہے۔ شکل 4.8 میں موٹی لائن فرم کے قلیل مدت خط رسد کی نمائندگی کرتی ہے۔
4.4.2 ایک فرم کا طویل مدت خط رسد (Long Run Supply Curve of a Firm)
آئیے شکل4.9کو دیکھ کر فرم کے طویل مدت خط رسد اخذ کریں۔ قلیل مدت کی صورت حال کی طرح ہم اخذشدہ کو دوحصوں میں بانٹتا ہے۔ ہم پہلے فرم کے منافع کوانتہاتک بڑھانے والی ماحصل سطح کا تعین کرتے ہیں۔
جب کہ بازار قیمت کم سے کم (طویل مدت) AC سے زیادہ ہے یا اس کے برابر ہے۔ اس کے بعد ہم فرم کے منافع انتہا تک بڑھانے والی ماحصل سطح کا تعین اس صورت کے لیے کرتے ہیں جب بازار قیمت کم سے کم(طویل مدت)ACسے کم ہے۔
صورت حال1: قیمت کم سے کمLRACسے زیادہ یا اس کے برابر ہے۔
ما ن لیں کہ بازار قیمت p1ہے جو کم سے کم LRAC سے زیادہ ہے۔LRMCخط کے اوپر اٹھتے ہوئے حصے پر p1کو LRMCسے برابر کرکے ہم ماحصل سطح q1حاصل کرتے ہیں۔ یہ بھی دھیان میں رکھیں کہq1 پر LRAC بازاری قیمتp1سے زیادہ نہیں ہے۔ اس لیے تینوں شرائط جو سیکشن 3میں بیان کی گئی تھیں وہq1پر لاگو ہوتی ہیں۔ اس لیے بازار قیمتp1ہے تو ما ن لیں کہ بازار قیمت p1ہے جو کم سے کم LRAC سے زیادہ ہے۔LRMCخط کے اوپر اٹھتے ہوئے حصے پر p1کو LRMCسے برابر کرکے ہم ماحصل سطح q1حاصل کرتے ہیں۔ یہ بھی دھیان میں رکھیں کہq1 پر LRAC بازاری قیمتp1سے زیادہ نہیں ہے۔ اس لیے تینوں شرائط جو سیکشن 3میں بیان کی گئی تھیں وہq1پر لاگو ہوتی ہیں۔ اس لیے بازار قیمتp1ہے تو فرم کے طویل مدت میں رسد کی سطحq1 برابر ہوجاتی ہے۔
مختلف بازاری قیمت کی قدروں کے لیے طویل مدت میں منافع کو بیش ترین کرنا۔شکل میں منافع انتہا تک بڑھانے والی ایک فرم کی طویل مدت میں بازار قیمت کی دو قدروں p1اور p2 کے لیے فرم کی چُنی ہوئی ماحصل کی سطحوں کو دکھایا گیا ہے۔ جب بازاری قیمت p1 ہے تو فرم کی ماحصل سطح q1 ہے۔جب بازاری قیمت p2 ہے تو فرم صفرماحصل دیتی ہے۔
صورت حال2 : قیمت کم سے کم LRACسے کم ہے۔
مان لیں کہ بازار قیمت q2ہے جو کہ کم سے کم LRAC سے کم ہے۔ ہم نے یہ دلیل دی تھی (سیکشن 3 کی شرط 3 دیکھیں) کہ اگر ایک منافع انتہاتک بڑھانے والی فرم ایک مثبت ماحصل طویل مدت میں پیدا کرتی ہے تو بازار قیمت q2اس ماحصل سطح پرLRAC سے زیادہ یا اس کے برابر ہونا چاہیے۔ لیکن دھیان دیں کہ شکل4.9 میں تمام مثبت ماحصل سطحوں کے لیے LRACیقینی طور پر p2سے زیادہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ فرم مثبت ماحصل مہیاکراتی ہے۔ اس لیے جب بازار قیمت p2ہے تو فرم صفر ماحصل کی پیدا کاری کرتی ہے۔
ایک فرم کا طویل مدتی خط رسد : ایک فرم کا طویل مدت خط رسد جس کی بنیاد اس کی طویل مدت حاشیائی لاگت خط (LRMC)اورطویل مدت اوسط لاگت خط (LRAC) پر ہے اس کی نمائندگی شکل میں موٹی لائن سے کی گئی ہے
صورت حال1 اور صورت حال2کو یکجا کر کے ہم ایک اہم نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ ایک فرم کا طویل مدت خط رسد LRMCخط کا اوپر اٹھتا ہوا حصہ ہے جو کم سے کم LRACسے اوپر ہے۔ اور اس کے ساتھ کم سے کم LRACسے کم تمام قیمتوں کے لیے صفر ماحصل بھی ہے۔ شکل 4.10 میں موٹی لائن فرم کے طویل مدتی خط رسد کی نمائندگی کرتی ہے۔
4.4.3 پیدا کاری بندکرنے کا نقطہ(The Shut Down Point)
اس سے قبل خط استخراج کے دوران ہم یہ بتا چکے ہیں کہ فرم اس وقت تک پیدا کاری جاری رکھتی ہے جب تک قیمت کم سے کمAVCسے زیادہ یا اس کے برابر رہتی ہے۔ اس لیے جب ہم خط رسد کے ساتھ نیچے کی طرف چلتے ہیں توآخری قیمت ۔ماحصل اتصال جس پہ فرم مثبت ماحصل کی پیدا کاری کرتی ہے وہ نقطہ ہے جہاں AVCسب سے کم ہے اور SMCخط AVCخط کو کاٹتا ہے۔ اس کے نیچے پیداکاری نہیں ہوتی ہے۔ یہ نقطہ فرم کا قلیل مدت پیداکاری بند کر نے کا نقطہ کہلاتا ہے۔ لیکن طویل مدت میں پیدا کاری بند کرنے کا نقطہLRACخط کا سب سے کم نقطہ ہے۔
4.4.4 عام منافع اور بے نقصان نقطہ (The Normal Profit and Break-even Point)
کوئی فرم ایک پیداکاری کے عمل میں مختلف قسم کی ماد خلوں کا استعمال کرتی ہے۔ ان میں سے کچھ کو حاصل کرنے کے لیے فرم کو سیدھی قیمت چکانی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر فرم مزدوروں کو رکھتی ہے تو اس کی مزدوری ادا کرنی ہوتی ہے؛ اگر وہ کچھ خام مال کا استعمال کرتی ہے تو فرم کو یہ خریدنے پڑتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی مادخل ہوسکتے ہیں ۔ جو فرم کی ملکیت ہوتے ہیں اور ان کے لیے فرم کو کسی کو بھی قیمت ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مادخل حالانکہ ظاہری طور پر فرم کے لیے کوئی لاگت نہیں دکھاتے ہیں لیکن فرم کے لیے لاگت بدل ان کی وجہ سے ہوتی ہے فرم ان مادخلوں کو حال کے پیدا کاری عمل میں استعمال نہ کرکے کچھ دوسرے کاموں میں استعمال کرسکتی ہے اور کچھ فائدہ حاصل کرسکتی ہے۔ یہ چھوڑ ا گیا فائدہ فرم کا لاگت بدل ہے۔ فرم عام طور سے امید کرتی ہے کہ حاصل کیا گیا منافع ظاہری لاگت اور اس کے ساتھ لاگت بدل کو پورا کرسکے گا۔ منافع کی وہ سطح جو کہ بس فرم کی ظاہری لاگت اور لاگت بدل کو پورا کرسکے وہ عام منافع کہلاتا ہے۔ اگر ایک فرم اپنے کل لاگت کے حساب میں ظاہری لاگت اور لاگت بدل دونوں کو شامل کر لیتی ہے تو عام منافع وہ سطحی منافع بن جاتا ہے جب کل محاصل کل لاگت کے برابر ہوجاتا ہے۔ یعنی منافع کی سطح صفر۔ ایک فرم عام منافع کے اوپر جو منافع کماتی ہے وہ منافع بیش نارمل منافع (Super-Normal Profit)کہلاتا ہے۔ طویل مدت میں اگر ایک فرم نارمل منافع سے کم کماتی ہے تو وہ پیداکاری نہیں کرتی ہے۔ قلیل مدت میں لیکن اگر منافع اس سطح سے کم ہے تو بھی فرم پیدا کاری کرسکتی ہے۔ خط رسد پر وہ نقطہ جس پر ایک فرم عام منافع کماتی ہے اس کو فرم کا بے نقصان نقطہ کہتے ہیں۔ کم سے کم اوسط لاگت کا نقطہ جس پرخط رسدLRACخط (قلیل مدت میں SACخط) کو کاٹتا ہے وہ نقطہ اس لیے ایک فرم کا بے نقصان نقطہ ہے۔
لاگت بدل (Opportunity Cost)
معاشیات میں اکثر لاگت بدل کا تصور ملتا ہے ۔ لاگت بدل کسی سرگرمی کا دوسراسب سے عمدہ سر گرمی سے چھوڑا گیا فائدہ ہے۔ مان لیجیے آپ کے پاس1,000روپیے ہیں آپ خاندانی تجارت میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے اس عمل کی لاگت بدل ہوگی ہے؟ اگر آپ روپیے کی سرمایہ کاری نہیں کرتے تو یا تو آپ اس کو اپنے گھر میں حفاظت سے رکھتے ہیں جس سے آپ کو صفر فائدہ ہوتا ہے یا پھر آپ اس رقم کو بینک1-میں یا بینک2-میں جمع کر سکتے ہیں جہاں آپ کو 10فی صد اور 5فی صد کی شرح سے سود حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے دوسری متبادل سرگرمیوں سے جو سب سے زیادہ فائدہ آپ حاصل کرسکتے ہیں وہ بینک1-سے حاصل ہونے والا سود ہے۔لیکن یہ موقع اس صورت میں نہیں ملے گا جب کہ آپ اس رقم کو اپنی خاندانی تجارت میں لگا دیتے ہیں ۔ اس لیے اپنی خاندانی تجارت میں اس سرمایہ کاری کرنے کی لاگت بدل بینک1-سے چھوڑا ہوا سود ہے۔
4.5فرم کے خط رسد کے تعینی عوامل Determinants of a Firm's Supply Curve
پچھلے سیکشن میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ فرم کا خط رسد اس کی حاشیائی لاگت خط کا حصہ ہے۔ اس لیے کوئی بھی عوامل جو فرم کی حاشیائی لاگت خط پر اثر ڈالتا ہے وہ یقینا فرم کے خط رسد کا عوامل ہے۔ اس سیکشن میں ہم ایسے تین عوامل کا ذکرکریں گے۔
4.5.1تکنیکی ترقی(Technological Progress)
مان لیجیے کہ ایک فرم پیدا کاری کے دو عوامل سرمایہ اور مزدوری کا استعمال ایک خاص شے بنانے کے لیے کرتی ہے۔ تنظیمی جدت کے نتیجے کے طور پر سرمایہ اور مزدوری کی پہلے والی سطح پر ہی اب ماحصل کی اور زیادہ اکائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کو دوسری طرح سے ایسے کہہ سکتے ہیں کہ ماحصل کی ایک خاص سطح کی پیداکاری کرنے کے لیے تنظیم کی جدت فرم کو پہلے سے کم مادخل کی اکائیوں کا استعمال کرنے کے قابل بنادیتی ہے۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ اس سے فرم کی حاشیائی لاگت میں ماحصل کی بھی سطح پر کمی آئے گی یعنی حاشیائی لاگت(MC) خط میں دائیں طرف(یا نیچے کی طرف) منتقلی ہوتی ہے۔ چونکہ فرم کا خط رسد بنیادی طور پرMCخط کا حصہ ہے،ٹکنالوجیکل ترقی فرم کے خط رسد کو دائیں طرف منتقل کرتی ہے۔ کسی بھی دی گئی بازار قیمت پر اب فرم ماحصل کی اور زیادہ اکائیاں مہیا کرتی ہے۔
4.5.2 مادخل قیمتیں (Input Prices)
مادخل کی قیمتوں میں تبدیلی بھی فرم کے خط رسد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر ایک مادخل کی قیمت (جیسے کہ مزدور کی مزدوری کی شرح) بڑھتی ہے تو پیدا کاری کی لاگت بڑھتی ہے۔ فرم کی اوسط لاگت میں نتیجے کے طور پر ہوا ضافہ، جو کہ ماحصل کے کسی بھی سطح پر ہو وہ عام طور پر ماحصل کے کسی بھی سطح پر فرم کی حاشیائی لاگت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے , یعنی حاشیائی لاگت MCخط بائیں جانب زیادہ اوپر کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ فرم کا خط رسد بائیں جانب منتقل ہوتا ہے: کسی بھی دی گئی بازار قیمت پر فرم ،ماحصل کی پہلے سے کم اکائیاں مہیا کرتا ہے۔
4.5.3 اکائی ٹیکس (Unit Tax)
اکائی ٹیکس وہ ٹیکس ہے جو کہ حکومت ماحصل کی ایک اکائی کی فروخت پرلگاتی ہے۔ مثال کے طورپرمان لیں کہ حکومت2روپیے اکائی ٹیکس لگاتی ہے۔ اب اگر فرم شے کی10اکائیاں پیدا کرکے فروخت کرتی ہے، تو کل ٹیکس جو فرم حکومت کو ادا کرے گی وہ ہے 2x10 روپیے 20=روپیے
فرم کا طویل مدت خط رسد اکائی ٹیکس لگنے سے کس طرح تبدیل ہوتا ہے؟ آئیے شکل4.11کو دیکھیں۔ اکائی ٹیکس لگنے سے پہلے ،LRMC0اورLRAC0 طویل مدت حاشیائی لاگت خط اور طویل مدت اوسط لاگت خط ہیں۔ اب مان لیں کہ حکومتtروپیے اکائی ٹیکس لاگو کرتی ہے۔ چونکہ اب فرم کوہر پیدا ہونے والی شے کی اکائی کے لیےt روپیے زائد ادا کرنے ہوں گے فرم کاطویل مدت اوسط خط اور طویل مدت حاشیائی لاگت خط ماحصل کی کسی بھی سطح کے لیے tروپیے کے حساب سے بڑھیں گے۔ شکل4.11 میںLRMC1 اور LRAC2 فرم کے طویل مدت حاشیائی لاگت خط اور طویل مدت اوسط لاگت اکائی ٹیکس لگنے کے بعد کے ہیں۔
لاگت خطوط اور اکائی ٹیکس LRAC1اورLRMC1طویل مدت اوسط لاگت خط اور طویل مدت حاشیائی لاگت خط فرم کے اکائی ٹیکس tروپے لاگو ہونے کے پہلے کے ہیں۔LRAC1اورLRMC1 علی الترتیب فر م کے طویل مدتی اوسط لاگت خط اور طویل مدتی حاشیائی لاگت خط tروپے اکائی ٹیکس لگنے کے بعد کے ہیں ۔
یاد کریں کہ ایک فرم کا طویل مدت خط رسد LRMCخط کا اوپر اٹھتا ہوا حصہ ہے جو کہ کم سے کمLRACسے اور اس کے اوپر سے اور کم سے کم LRACسے کم قیمتوں کے لیے صفر ماحصل کے ساتھ ساتھ ہے۔ اس مشاہدے کو شکل 4.12میں استعمال کرتے ہوئے ہم دیکھے ہیں کہS0اورS1طویل مدت خط رسد ہیں جوعلی الترتیب فرم کے اکائی ٹیکس لگنے سے پہلے اور اس کے بعد کے ہیں۔ دھیان دیں کہ اکائی ٹیکس فرم کے طویل ٹیکس فرم کے طویل مدت خط رسد میں بائیں جانب منتقلی کرتا ہے۔ کسی بھی دی گئی بازار قیمت پہ فرم اب ماحصل کی پہلے سے کم سے کم اکائیاں مہیا کرتا ہے۔
رسد اور اکائی ٹیکس S0فرم کا خط رسد اکائی ٹیکس لاگو ہونے سے پہلے کا ہے۔S1- فرم کے خط رسد کو tروپیے اکائی ٹیکس لاگو ہونے کے بعد کے لیے دکھاتا ہے۔
4.6 بازار خط رسد(Market Supply Curve)
بازار خط رسد ان ماحصل کی سطحوں (-xمحور پربنے خاکہ) کو دکھاتا ہے جو کہ بازار میں فر میں مجموعی طور پر بناتی ہیں اور بازار قیمت کی مختلف قدروں سے مطابق ہوتی ہیں۔(-yمحور پر بنا خاکہ)
بازار خط رسد کس طرح اخذ ہوتاہے؟ ایک بازار کے بارے میں غور کریں اس میں nفرمیں ہیں فرم1 ،فرم2،فرم3وغیرہ۔ مان لیں کے بازار قیمتpپر مقرر کردی گئی ہے۔تو n فرموں کی مجموعی طور پرپیدا کیا گیا ماحصل یہ ہے: (قیمت pپر فرم 1کا رسد) + (قیمت pپر فرم2کا رسد) +......+ (قیمت pپر فرمnکا رسد)۔ دوسرے لفظوں میںp قیمت پربازار کا رسد اس p قیمت پر منفرد فرموں کے رسد کا جوڑ ہے۔
آئیے اب بازار خط رسد کو جیومیڑی کی مدد سے دیکھیں ، بازار میں صرف دو فرموں فرم 1فرم2کے ساتھ بنائیں۔ ان دونوں فرموں کی لاگت ساخت الگ الگ ہیں۔ اگر بازار قیمت
سے کم ہے تو فرم1کوئی پیدا کاری نہیں کرے گی۔ جب کہ فرم 2کوئی پیدا کاری نہیں کرے گی کیونکہ بازارقیمت
سے کم ہے۔ یہ بھی فرض کریں کہ
سے زیادہ ہے۔
شکل 4.13کے پینل (a)میں فرم 1کا خط رسد دکھایا گیا ہے اس کی علامتS1ہے؛ پینل (b)میں فرم 2کا خط رسد دکھایا گیا ہے جس کی علامتS2ہے۔پینل (c)بازار خط رسد دکھاتا ہے جس کی علامت Smہے۔جب بازارقیمت
سے بالکل کم ہے تو دونوں فرمیں شے کی کوئی بھی مقدار نہیں بنانے کا فیصلہ کرتی ہیں؛ اس لیے اس طرح کی سبھی قیمتوں کے لیے بازار رسد بھی صفر ہوگا۔
کے برابر یا اس سے زیادہ بازار قیمت کے لیے لیکن
سے یقینی طور پر کم قیمت کے لیے صرف فرم 1شے کی مثبت مقدار کی پیداکاری کرے گی۔ اس لیے اس صورت حال کے لیے بازار خط رسد فرم 1کے خط رسد سے میل رکھتا ہے۔ p2کے برابر یا اس سے بڑی بازار قیمت کے لیے دونوں فرموں کی ماحصل سطحیں مثبت ہوںگی۔ مثال کے طور پر ایک ایسی صورت حال پر غور کریں جہاں بازار قیمت کی قدرp3فرض کی جاتی ہے۔ (دھیان دیں کہ p3 ،
سے زیادہ ہے) ۔دی گئیp3 کے لیے فرم 1ماحصل کی q3اکائیاں مہیا کرتی ہے اور فرم 2ماحصل کیq4اکائیاں مہیاکرتی ہے۔ اس لیے قیمت p3 پربازار رسدq5ہے جہاں-q5=q3+q4دھیان دیں کہ بازار خط رسدSm(پینل(a)ہیں) کس طرح سے بنایا جا رہا ہے: ہم Smکو بازار کی دونوں فرموں کے خطوط رسد S1اورS2کے افقی جوڑ کو لے کر حاصل کرتے ہیں۔
یہ بات ذہین نشین ہونی چاہیے کہ بازار خط رسد کا استخراج بازار میں فرموں کی ایک مقررہ تعداد کے لیے کیا گیا ہے۔ جب فرموں کی تعداد بدلتی ہے تو بازارخط رسد بھی تبدیل ہوتا ہے۔ اگر بازار میں فرموں کی تعداد بڑھتی (گھٹتی) ہے تو بازار خط رسد دائیں جانب ( بائیں جانب) منتقل ہوتا ہے۔
اب ہم اوپر دیے گئے گراف کے ذریعہ تجزیے کو ایک متعلقہ عددی مثال سے سمجھاتے ہیں۔ ایک بازار پر غور کریں جس میں دو فرمیں:فرم1اور فرم2ہیں۔ مان لیجیے کہ فرم 1کا خط رسد درج ذیل ہے۔
بازارخط رسد پینل : (a)فرم1کا خط رسد دکھاتا ہے۔پینل(b)فرم 2کا خط رسد دکھاتا ہے۔ پینل(c)بازار خط رسد دکھاتا ہے جو کہ دونوں فرموں کے خطوط رسد کے افقی جوڑسے حاصل کیا گیا ہے۔
غورکریں کہS1(p)اشارہ کرتا ہے کہ (1)اگر بازار قیمت0,pسے یقینی طور پر کم ہے تو فرم1کی ماحصل کی پیدا کاری صفر ہے۔ اور(2)اگر بازار قیمت 10سے زیادہ یا اس کے برابر ہے تو فرم 1کی ماحصل کی پیدا کاری (p-10) ہے۔فرض کریں کہ فرم 2کا خط رسد مندرجہ ذیل ہے۔
S2(p)کا مفہوم اور S1(p)کا مفہوم یکساں ہیں اور اس کے لیے یہاں اس کو چھوڑدیا گیا ہے۔ اب بازار خط رسد دونوں فرموں کے خطوط رسد کو صرف جمع کردیتا ہے؛ دوسرے لفظوں میں:
لیکن اس کے معنی ہیں کہ Sm(p)مندرجہ ذیل ہے۔
4.7 رسد کی قیمت میں لچک (Price Elasticity of Supply)
ْٓایک شے کی رسد کی قیمت میں لچک ، شے کی قیمت میں تبدیلی کے لیے مہیا کی گئی مقدار کی اثرپذیری کی پیمائش کرتی ہے۔ اور صاف طورپر رسد کی قیمت میں لچک کی علامت(es)کی تعریف مندرجہ ذیل ہے۔
رسد کی قیمت میں لچک= (es)مہیا کی گئی مقدار میں فی صد تبدیلی
قیمت میں فی صد تبدیلی
اگر ایک شے کا بازار خط رسد دیا گیا ہے یعنیSm(p)تو مان لیں کہ بازار قیمتp0پر بازار کو مہیا کی گئی شے کی مقدار q0 ہے۔ کسی وجہ سے شے کی بازار قیمتp0سےp1ہوجاتی ہے۔ مان لیں کہ جب بازار قیمت p1تو بازار کو مہیا کی گئی شے کی مقدارp1ہے۔دھیان دیں کہ جب بازار قیمتp0سے p1ہوجاتی ہے تو قیمت میں فی صد تبدیلی
ہے۔اسی طرح سے جب مہیاکی گئی مقدارq0سےq1ہوجاتی ہے۔ مہیا کی گئی مقدار کی فی صد تبدیلی
ہے۔ اس لیے
اس بات کو اور پختہ بنانے کے لیے ذیل کی عددی مثال پر غور کریں۔ مان لیں کہ کرکٹ کی گیندوں کے لیے بازار کامل طور سے مقابلے کا ہے۔ جب کرکٹ بال کی قیمت10روپیے ہے تو فرض کریں کہ بازار میں کل فرمیں مجموعی طور پر200کرکٹ گیندوں کی پیدا کاری کرتی ہیں۔جب ایک کرکٹ گیند کی قیمت بڑھ کر30روپیے ہو جاتی ہے تو فرض کریں کہ بازار میں فرموں کی مجموعی پیدا کاری1,000کرکٹ گیندوں کی ہے۔ تب
جب خط رسد عمودی ہے تو رسد پر قیمت کاکوئی اثر نہیں ہے اور رسد کی لچک صفر ہے۔ دوسرے لفظوںمیں ،جب خط رسد مثبت طور سے ڈھلواں ہے تو قیمت بڑھنے پر رسد بڑ ھتا ہے اور اس لیے رسد کی لچک مثبت ہے۔ قیمت میں لچک طلب کی طرح قیمت لوچ رسد بھی اکائیوں پر منحصر نہیں ہے۔
4.7.1 جیومیٹری طریقہ(The Geometric Method)
شکل4.11پہ غور کریں۔ پینل (a)ایک سیدھی لائن خط رسد دکھاتا ہے۔S خط رسد پر ایک نقطہ ہے۔ یہ قیمت محور کو اس کے مثبت حصہ پر کاٹتا ہے۔ اور جب ہم سیدھی لائن کو بڑھاتے ہیں تو یہ مقدار۔محور کوMپر کاٹتاہے جو کہ اس کے منفی حصے میں ہے۔نقطہsپر اس خط رسد کی قیمت لوچ Mq0/0q0 تناسب سے ملتی ہے۔ اس طرح کے خط رسدپر کس نقطے sکے لیے ہم دیکھتے ہیں کہ Mq0>0q0 اس لیے اس طرح کے خط رسد پر کسی بھی نقطے پر لوچ 1سے زیادہ ہوگا۔
پینل(c)میں ہم ایک سیدھی لائن خط رسد پر غور کرتے ہیں اور اس پر S ایک نقطہ ہے۔ یہ مقدار۔محور کوMپرکاٹتا ہے۔ جو کہ اس کے مثبت حصہ پر ہے۔ ایک بار پھر نقطے Sپر اس خط رسد کی قیمت لوچ تناسب Mq0/0q0 سے ملتا ہے۔ اب Mq0>0q0 ہے۔ اور اس لیے es<1 خط رسد پر کوئی نقطہ ہوسکتا ہے۔ اور اس لیے اس طرح کے خط رسد پر تمام نقطوں پر es<1 ہے۔
اب ہم پینل (b)پر غور کرتے ہیں۔ یہاںپر خط رسد آغاز سے ہوکرگزرتا ہے۔ ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ نقطہMاور آغاز یہاں ایک ہی ہیں یعنیMq0یہاں 0q0کے برابر ہوگیا ہے۔ نقطہ Sاس خط رسد کی قیمت لوچ 0q0/0q0 تناسب سے ملتی ہے جو کہ1کے برابر ہے۔ سیدھی لائن خط رسد پر جو کہ آغاز سے گزرتا ہے، کسی بھی نقطے پر قیمت لوچ1ہوگی۔
سیدھی لائن خطوط رسد سے متعلق قیمت لوچ۔ پینل (a)میں قیمت لوچ(es)نقطہ پر 1 سے زیادہ ہے S۔ پینل (b)میںS پر قیمت لوچ1(es)کے برابر ہے۔ پینل (c)میں S پر قیمت لوچ 1(es)سے کم ہے۔
خلاصہ
۰ ایک مکمل مسابقتی بازار میں فر میں قیمت قبول کار ہوتی ہیں۔
۰ ایک فرم کی کل محاصل شے کی بازار قیمت ہے جو فرم کی شے کا ماحصل کے ذریعہ دیا گیاہے۔
۰ قیمت قبول کار فرم کا اوسط محاصل بازار قیمت کے برابر ہے۔
۰ قیمت قبول کار فرم کا حاشیائی محاصل بازارقیمت کے برابر ہے۔
۰ ایکمکمل مسابقتیبازار میں فرم کا خط طلب کامل طور سے لچک دار ہوتا ہے؛ یہ بازار قیمت پر ایک افقی سیدھی لائن ہے۔
۰ فرم کا منافع کل محاصل اور کل لاگت کے درمیان کا فرق ہے۔
۰ اگر قلیل مدت میں فرم کے ماحصل کی ایک مثبت سطح پر فرم کا منافع بڑھ کر انتہا تک پہنچتا ہے تو اس ماحصل کی سطح پر تین شرطیں پوری ہونی چاہئیں:
(p=SMC (i
(SMC (iiگھٹ نہیں رہا ہے۔
(p> AVC (iii
۰ اگر طویل مدت میں فرم کے ماحصل کی ایک مثبت سطح پر فرم کا منافع بڑھ کر انتہاتک پہنچتا ہے تو اس ماحصل کی سطح پر تین شرطیں پوری ہونی چاہئیں:
(p= LRMC (i
(LRMC (iiگھٹ نہیں رہا ہے۔
(P>LRMC (iii
۰ فرم کا قلیل مدت خط رسدSMCخط کا اوپر اٹھتا ہوا حصہ ہے جو کہ کم سے کم AVCسے اور اس کے اوپر سے اٹھ رہا ہے اور اس کے ساتھ کم سے کم AVCسے کم کی تمام قیمتوں کے لیے صفر ماحصل ہے۔
۰ فرم کا طویل مدت سے خط رسد LRMCکے خط کا اوپر اٹھتا ہوا حصہ ہے جو کہ کم سے کم LRAC سے اور اس کے اوپر سے اٹھ رہا ہے اور اس کے ساتھ کم سے کم LRAC سے کم کی تمام قیمتوں کے لیے صفر ماحصل ہے۔
۰ فرم کا طویل مدت خط رسد LRMCخط کا اوپر اٹھتا ہوا حصہ ہے جو کہ کم سے کم LRACسے اوپر اور اس کے اوپر سے اٹھ رہا ہے اور اس کے ساتھ کم سے کم LRACسے کم کی تمام قیمتوں کے لیے صفر ماحصل ہے۔
۰ ٹیکنا لوجیکل ترقی کسی فرم کے خط رسد کو دائیں طرف منتقل کرسکتی ہے۔
۰ مادخل کی قیمتوں میں اضافہ (کمی) سے امکان ہے کہ ایک فرم کا خط رسد بائیں طرف (دائیں طرف) منتقل ہوجاتاہے۔
۰ اکائی ٹیکس لاگو ہونے سے فرم کا خط رسد بائیں جانب منتقل ہوتا ہے۔
۰ منفرد فرموں کے خطوط رسد کے افقی جوڑ سے بازاری خط رسد حاصل ہوتا ہے۔
۰ ایک شے کی رسد کی قیمت کی لچک مہیا کی گئی مقدار میں فی صد تبدیلی ہے جو کہ شے کی بازار قیمت میں ایک فی صد تبدیلی کی و جہ سے ہوتی ہے۔
کلیدی تصورات
مکمل مسابقتی Perfect Competition محاصل، منافع منافع بیش کاری یا Revenue, Profit
منافع بیش کاری Profit Maximisation بازار خط رسد Market Supply Curve
فرم کا خط رسد Firm's Supply Curve رسد کی قیمت کی لچک Price Elasticity of Supply
مشقیں
1۔ مکمل مسابقتی با زار کی خصوصیات کیا ہیں؟
2۔ فرم کی کل محاصل، بازار قیمت اور بیچی گئی مقدار کا ایک دوسرے سے کس طرح کا تعلق ہے؟
3۔ قیمت لائن کیا ہے؟
4۔ ایک قیمت قبول کار فرم کے کل محاصل کا خط اوپر کی طرف ڈھلواں سیدھی لائن ہے؟خط کیوں آغاز(مبتدا)سے ہوکر گزرتا ہے۔
5۔ ایک قیمت ۔قبول کار فرم کی بازار قیمت اور اوسط محاصل کے درمیان کیا رشتہ ہے؟
6۔ ایک قیمت ۔ قبول کار فرم کی بازار قیمت اور حاشیائی محاصل کے درمیان کیا رشتہ ہے؟
7۔ اگر ایک مسابقتی بازار میں منافع ۔انتہا تک بڑھانے والی فرم مثبت ماحصل کی پیدا کاری کرتی ہے تو کس شرط کو پورا ہونا چاہیے؟
8۔ کیا ایک مسابقتی بازار میں ماحصل کی ایک مثبت سطح ہوسکتی ہے جو کہ ایک منافع انتہاتک بڑھانے والی فرم پیدا کاری کرتی ہے جس پربازار قیمت، حاشیائی لاگت کے برابر نہیں ہے؟ سمجھائیے ۔
9۔ کیا ایک مسابقتی بازار میں منافع انتہاتک بڑھانے والی فرم ماحصل کی مثبت سطح کی پیداکاری کرے گی جو اس حصہ میں ہو جہاں حاشیائی لاگت کررہی ہے؟ سمجھائیے ۔
10۔ کیا ایک مسابقتی بازار میں منافع انتہاء تک بڑھانے والی فرم قلیل مدت میں ماحصل کی مثبت سطح کی پیدا کاری کرے گی اگر بازارقیمت کم سے کمAVC سے کم ہے؟ سمجھائیے ۔
11۔ کیا ایک مسابقتی بازار میں منافع انتہا بڑھانے والی فرم طویل مدت میں ماحصل کی مثبت سطح کی پیداکاری کرے گی اگر بازاری قیمت ACسے کم ہے؟ سمجھائیے ۔
12۔ قلیل مدت میں فرم کا خط رسد کیا ہے؟
13۔ طویل مدت میں فرم کا خط رسد کیا ہے؟
14۔ فرم کے خط رسد پرٹیکنا لوجیکل ترقی کا کیا اثر ہوتا ہے؟
15۔ فرم کے خط رسد پراکائی ٹیکس لگانے کا کیا اثر ہوتا ہے؟
16۔ ایک مادخل کی قیمت میں اضافہ فرم کے خط رسد پر کیسے اثر اندار ہوتا ہے؟
17۔ ایک بازار میں فرموں کی تعداد میں اضافہ بازار کے خط رسد پرکیسے اثر اندار ہوتا ہے؟
| فروخت کی گئی مقدار | TR | MR | AR |
|---|---|---|---|
0
1
2
3
4
5
6
|
18۔ رسد کی قیمت لچک کے کیا معنی ہیں؟ ہم اس کی پیمائش کس طرح سے کرتے ہیں؟
19۔ ذیل میں دیے گئے جدول میں کل محاصل، حاشیائی محاصل اور اوسط محاصل گوشواروں کے حساب لگائیے۔ شے کی ایک اکائی کی بازار قیمت 10روپیے ہے۔
20۔ ذیل کا جدول ایک مسابقتی فرم کے کل محاصل اور کل لاگت شے گوشوارہ کو دکھاتا ہے ماحصل کی ہر سطح پر منافع کتنا ہوگا؟ شے کی بازار قیمت بھی بتائیے۔
| فروخت کی گئی مقدار | (روپیے)TR | (روپیے)MR | نفع |
|---|---|---|---|
0
1
2
3
4
5
6
7
|
0
5
10
15
20
25
30
35
|
5
7
10
12
15
23
33
40
|
21۔ درج ذیل جدول ایک فرم کا کل لاگت گوشوراہ دکھاتا ہے۔سطح پر منافع بتایئے۔شے کی بازارقیمت بھی بتائیے ماحصل کا منافع انتہا تک بڑھانے والی سطح بتا ئیے ۔
| قیمت (روپیے) | TC (روپیے)میں |
|---|---|
0
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
|
5
15
22
27
31
38
49
63
81
101
123
|
22۔ ایک بازار کے بارے میں غورکریں جس میں صرف دو فرمیں ہیں۔ذیل کاجدول فرموں کے رسد گوشوارے دکھاتا ہے:SS1 کالم فرم کا رسدگوشوارہ دیتا ہے اور SS2 کا فرم 2کا رسد گوشوارہ دیتاہے۔بازار رسد گوشوارے کا حساب لگائیے ۔
| قیمت(روپیے) | SS1 اکائیاں | SS2 اکائیاں |
|---|---|---|
0
1
2
3
4
5
6
|
0
0
0
1
2
3
4
|
0
0
0
1
2
3
4
|
23 فرموں کے ایک بازار کے بارے میں سوچیے۔ذیل کی قیمت روپیے میں جدول میں کالم SS1 اور کالم SS2 فرم اور 2کے رسد گوشوارے دیتے ہیں۔بازار رسد گوشوارہ بتائیے ۔
| قیمت (روپیے) | SS1 (کلوگرام) | SS1 (کلوگرام) |
|---|---|---|
0
1
2
3
4
5
6
7
8
|
0
0
0
1
2
3
4
5
6
|
0
0
0
0
0.5
1
1.5
2
2.5
|
24۔ ایک بازار میں تین یکساں فرمیں ہیں۔نیچے دیے گئے جدول میں فرم1کا رسد گوشوارہ دکھایا گیا ہے۔بازاررسد گوشوارہ بتایئے۔
| قیمت (روپیے) | SS1(اکائیاں) |
|---|---|
0
1
2
3
4
5
6
7
8
|
0
0
2
4
6
8
10
12
14
|
25۔ جب ایک شے کی بازار قیمت 10روپیے ہے تو فرم محاصل 50روپیے کماتی ہے۔بازار قیمت بڑھ کر 15روپیے ہوجاتی ہے۔ فرم کی خط رسد کی قیمت لوچ کیا ہے؟
26۔ ایک شے کی بازار قیمت 5روپیے سے 20روپیے ہوجاتی ہے۔نتیجے کے طور پہ فرم جو مقدار مہیا کراتی ہے وہ بڑھ کر 15اکائیاں ہوجاتی ہیں۔فرم کی خط رسد کی قیمت لوچ0.5 ہے۔فرم کے شروع کا اور آخری سطح ماحصل بتایئے۔
27۔ ایک فرم بازار قیمت10روپیے پر ماحصل کی 4اکائیاں مہیا کرتی ہے۔بازار قیمت بڑھ کے 30روپیے ہوجاتی ہے۔فرم کے رسد کی قیمت لوچ 1.25ہے۔فرم نئی قیمت پر کتنی مقدار مہیا کرے گی؟