باب 5
بازار توازن(Market Equilibrium)
یہ باب 2اور 4کی بنیادوں پر مبنی ہے، جن میں ہم نے صارف اور فرم کے برتاؤ کو قیمت قبول کرنے والے کے طور پر مطالعہ کیا ہے۔باب 2میں ہم نے دیکھا کہ کسی شے کے لیے ایک فرد کا خط طلب اس شے کی مقدار ظاہر کرتا ہے، جسے ایک صارف مختلف قیمتوں پر خریدنا چاہتا ہے جب کہ وہ قیمت دی ہوتی ہے۔خط بازار مانگ ہمیں بتاتا ہے کہ سبھی صارفین مل کر مختلف قیمتوں پر شے کی کتنی مقدار خریدنے کے خواہش مند ہیں، جب کہ ہر ایک کے لیے قیمت دی جاتی ہے۔ باب 4 میں ہم نے دیکھا کہ ایک انفرادی فرم کا خط رسد ہمیں ایک شے کی ایک مقدار کو بتاتا ہے جسے کہ ایک منافع بیش کاری کرنے والی فرم مختلف قیمتوں پر فروخت کرنے کی خواہش مند ہوتی ہے جب کہ قیمت دی جاتی ہے اور خط رسد بازار ہمیں مختلف قیمتوں پر کسی شے کی اس مقدار کو بتاتا ہے جسے سبھی فرمیں مجموعی طور پر رسدر سانی کی خواہش مند ہوں گی جب کہ ہر ایک فرم کے لیے قیمت دی جاتی ہے۔
اس باب میں ہم صارفین اور فرموں کے برتاؤ کو شامل کریں گے۔مانگ و رسد کے تجزیے اور کس قیمت پر توازن قائم ہوگا، اس کے تعین کے ذریعہ بازار توازن کا مطالعہ کریں گے۔ہم توازن پر مانگ اور رسد میں منتقلی کے اثرات کا بھی جائزہ لیں گے ۔باب کے آخر میں ہم مانگ ورسد کے تجزیے کے کچھ اطلاق پر بھی نظرڈالیں گے۔
5.1 توازن، زائد مانگ، زائدرسد (Equilibrium, Excess Demand, Excess Supply)
ایک مکمل مسابقتی بازار ا، خریداروں اور فروخت کاروں پر مشتمل ہوتا ہے ۔جو اپنے ذاتی مفاد کے مقاصد کے ذریعہ محرک ہوتے ہیں۔باب2اور 4میں آپ نے دیکھا کہ صارفین کا مقصداپنی اپنی ترجیح کو انتہاپر پہنچانا اور فرموں کا مقصد اپنے اپنے منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے۔توازن کی صورت میں صارفین اور فرموں دونوں کے مقاصد ہم آہنگ ہوتے ہیں۔توازن کی تعریف ایک ایسی صورت حال کے طور پر کی جاتی ہے جہاں بازار میں سبھی صارفین اور فرموں کے منصوبے میل کھاتے ہیں اور بازار خالی ہوجاتا ہے۔توازن کی صورت میں جہاں کل مقدار کو فرمیں فروخت کرنا چاہتی ہیں،وہ اس مقدار کے برابرہوتی ہے جسے سبھی صارفین خریدنا چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں بازار کی رسد، بازار کی مانگ کے برابر ہوتی ہے۔جس قیمت پر توازن قائم ہوتا ہے اسے توازن قیمت اور اس قیمت پر خریدی اور فروخت کی گئی مقدار کو توازنی مقدار کہا جاتا ہے۔لہٰذا، (p*,q*) ایک توازن ہے اگر
qD)(p*) = qs p*)
جہاں P* توازنی قیمت کو اور (P*) qDاورqS(P*)قیمت پرعلی الترتیب اشیا کی بازار مانگ اور بازار رسد کا اظہار کرتا ہے۔اگر کسی قیمت پر بازار رسد، بازار مانگ سے زیادہ ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس قیمت پربازار میں زائد رسد ہے اور اگر کسی قیمت پر بازار میں زائد مانگ ہیتو ہم اس قیمت پر بازار میں زائد مانگ کہتے ہیں۔لہٰذا مکمل سابقتی بازار میں متبادل طور پر توازن کی تعریف صفر زائد مانگ۔صفر زائد رسد کی صورت میں کی جاسکتی ہے۔جب کبھی بازار کی رسد بازار کی مانگ کے برابر نہ ہو اور اس کے لیے توازن نہ ہو تو قیمت میں تبدیلی کا رجحان بنے گا۔اگلے دوسیکشنوں میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ اس تبدیلی کے محرکات کیا ہیں۔
توازن سے الگ رویہ(Out-of-equilibrium Behaviour)
ایڈم اسمتھ کے زمانے (1723-1790) سے یہ مانا جاتا رہا ہے کہ جب بازار میں توازن نہیں ہوتا تو مکمل مسابقتی بازار میں ایک ’ان دیکھا ہاتھ‘ قیمتوں میں تبدیلی پیدا کردیتا ہے۔ہمارا فوری ورک بھی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ ’ان دیکھا ہاتھ‘ زائد مانگ کی صورت میں قیمتوں میں اضافہ اور زائد رسد کی صورت میں قیمتوں میں کمی کرے گا۔ہمارے پورے تجزیے کے دوران ہم یہی مانیں گے کہ اس ’ان دیکھے ہاتھ‘ کا کردار بہت اہم ہے۔اس کے علاوہ ہم یہ مانیں گے کہ اس عمل کے ذریعہ ’ان دیکھا ہاتھ‘ توازن قائم کرتا ہے۔اس کتاب میں ہم جو بحث کریں گے اس میں یہ مفروضہ شامل رہے گا!
5.1.1 بازار توازن: فرموں کی مقررہ تعداد (Market Equilibrium: FixedNumber of Firms
آپ کویاد ہوگا، باب 2میں ہم نے قیمت اختیار کرنے والے صارفین کے لیے بازار خط طلب اور باب4میں قیمت اختیار کرنے والی فرموں کی مقررہ تعداد کے مفروضے کی بنیاد پر بازار کے خط رسد کو اخذ کیا ہے۔اس سیکشن میں فرموں کی مقررہ تعداد کی بنیاد پر ان دو خطوط کی مدد سے یہ دیکھیں گے کہ رسد اور مانگ کی قوتیں کس طرح بازار میں توازن کے تعین کے لیے ایک ساتھ کام کرتی ہیں۔ہم یہ بھی مطالعہ کریں گے کہ کس طرح مانگ اور رسد خطوط میں منتقلی کے سبب توازنی قیمت میں اور مقدار میں تبدیلی ہوتی ہے۔
شکل 5.1 فرموں کی مقررہ تعداد کے ساتھ ایک مکمل مسابقتی بازار میں توازن کا اظہار کرتی ہے۔یہاں کسی شے کے لیے SSبازار رسد خط کو اور DDبازار مانگ خط کو ظاہر کرتا ہے۔بازار رسد خط SSشے کی اس مقدار کو دکھاتا ہے جس کی رسد مختلف قیمتوں پر فرمیں کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔گراف کے طور پر توازن ایک نقطہ ہے جہاں بازار خط رسد بازار خط طلب کا تقاطع کرتا ہے کیونکہ یہ وہ نقطہ ہے جس پر بازار کی مانگ بازار کی رسد کے برابر ہے۔کسی بھی دیگر نقطے پر یا تو زائد رسد ہے یا زائد مانگ دیکھنے کے لیے کہ کسی دی ہوئی قیمت پر بازار رسد، بازار مانگ کے برابر نہ ہونے پر کیا ہوتا ہے، آئیے شکل 5.1 پر نظر ڈالیں جہاں کسی قیمت پر برابری نہیں ہے۔
فرموں کی مقررہ تعداد کی صورت میں بازار توازن: بازار خط طلبDD اور بازارخط رسد SS تقاطع نقطہ توازن ظاہر کرتا ہے۔توازن کی مقدار q*ہے اور توازنی قیمت p*ہے۔اور اس p*کے زیادہ قیمت پر زائد رسد ہوگی p*اور کے مقابل کم قیمت پر زائد مانگ ہوگی۔
شکل 5.1میں اگر رائج قیمت p1ہے تو بازار مانگ q1ہے جب کہ بازار رسد q'1ہے لہٰذا بازار میں q1 q1کے مساوی زائد مانگ ہے۔کچھ صارفین جو شے کو حاصل کرنے میں یا تو پوری طرح نا اہل ہیں یا اسے ناکافی مقدار میں حاصل کرپاتے ہیں، وہp1 سے زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہوں گے۔بازار قیمت میں اضافے کا رجحان ہوگا۔دیگر باتیں یکساں رہنے پر جیسے جیسے قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، مانگ کی مقدار میں کمی آجاتی ہے، رسد کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور بازار ایک ایسے نقطے کی طرف بڑھتا ہے، جہاں فرم کے ذریعے فروخت کرنے کی مطلوبہ مقدار، صارف کے ذریعہ خریدی جانے والی مطلوبہ مقدار کے برابر ہوتی ہے۔p*پر ایک فرم کا رسد فیصلہ، صارفین کے مانگ فیصلے سے میل کھاتا ہے۔
اسی طرح اگر رائج قیمتp2 ہے تواس قیمت پر بازار رسد (q2) بازار مانگ (q'2) سے زیادہ ہے تو q'2q2کے برابرزائد رسد کو ظاہر کرتا ہے ۔ایسی صورت میں کچھ فرمیں اپنی مطلوبہ مقدار کے لحاظ سے فروحت کرنے میں اہل نہیں ہوں گی۔لہٰذا وہ اپنی قیمت کم کریں گی۔دیگر باتیں یکساں رہنے پر جیسے جیسے قیمت گھٹتی ہے، شے کی طلب کی گئی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، رسد کی مقدار گھٹتی ہے اورp* پر فرم اپنی مطلوبہ پیداوار فروخت کرنے کی اہل ہوتی ہیں، کیونکہ اس قیمت پر بازار مانگ بازار رسد کے برابر ہے۔اس لیے p*توازنی قیمت ہے اور اس سے متعلق مقدارq* توازنی مقدار ۔
توازنی قیمت اور مقدار کے تعین کو زیادہ واضح طور پر سمجھنے کے لیے آئیے ایک مثال لیتے ہیں۔
مثال 5.1----
آئیے، ایک ایسے بازار کی مثال لیتے ہیں جو ایک جیسی کوالٹی والے گیہوں کی پیدا کرنے والے یکساں1کھیت پر مشتمل ہوں۔مان لیجیے گیہوں کے لیے بازار خط طلب اور بازار خط رسد درج ذیل ہیں:
جہاں qDاور qSگیہوں کے لیے (کلوگرام میں) علی الترتیب مانگ اور رسد کو دکھاتے ہیں اور pگیہوں کی فی کلوگرام قیمت روپیوں میں دکھاتا ہے کیونکہ توازنی قیمت پر بازار خالی ہوجاتا ہے۔ہم بازار مانگ اور بازار رسد کو برابر کرکے توازنی قیمت ( p*کے ذریعے ظاہر کی گئی) معلوم کرتے ہیں اور (p*) کے لیے حل کرتے ہیں۔
1 یہاں یکساں سے ہماری مراد سبھی کھیتوں کے لیے لاگت ساخت کا یکساں ہونا ہے۔
لہٰذا گیہوں کی توازنی قیمت 40روپیے فی کلوگرام ہے۔توازنی قیمت کو خط مانگ یا رسد کی مساوات میں بدل کر توازنی مقدار (q*کے ذریعے دکھائی گئی) حاصل کی جاتی ہے، چونکہ توازن کی صورت میں مانگ اور رسد دونوں کی مقدار برابر ہوتی ہے۔
qD = q* = 200 – 40 = 160
متبادل طور پر
qs = q* = 120 + 40 = 160
اس طرح توازنی مقدار 160کلوگرام ہے۔
p*کی نسبت کم قیمت پر، مان لیجیے 25= p1
لہٰذا 25 = p1 پر، qD >qs جس سے مراد ہے کہ اس قیمت پر زائد مانگ ہے۔الجبری طورپر،زائد مانگ (ED) کو اس طرح دکھایا جاسکتا ہے۔
غورکیجیے درج بالاعبارت سے ظاہر ہے کہ(=40) p* سے کم کسی بھی قیمت کے لیے زائد مانگ مثبت ہوگی۔ اسی طرح، p* سے زیادہ قیمت پر مان لیجیے p2 = 45
qD = 200 - 45 = 155
qs = 120 + 45 = 165
لہٰذا اس قیمت پر qs > qD یعنی زائد رسد ہے۔الجبری طور پر زائد رسد (ES)اس طرح ظاہر کی جاسکتی ہے۔
غورکیجیے، درج بالا عبارت سے یہ واضح ہے کہ (=40) p* سے کسی قیمت کے لیے زائد رسد مثبت ہوگی۔
لہٰذا P* سے زیادہ کسی بھی قیمت پر زائد رسد اور p* سے کم کسی بھی قیمت پر زائد مانگ ہوگی۔
محنت بازار میں اجرت کا تعین (Wage Determination in Labour Market)
یہاں ہم مانگ ورسد کے تجزیے کے ذریعہ ایک مکمل مسابقتی بازار کی ساخت میں اجرت کے تعین کے اصول پر مختصراً بحث کریں گے۔ایک محنت بازار اور اشیا کے بازار میں بنیادی فرق رسد اور مانگ کے ذرائع کے لحاظ سے ہے۔محنت بازار میں محنت کی فراہمی کرنے والے اہل خاندان ہیں اور محنت کی مانگ فرموں سے آتی ہے جب کہ اشیا کے بازار میں صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے، یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ محنت سے مراد،اجرت کے ذریعہ کیے گئے کام کے گھنٹوں سے ہے نہ کہ اجرت کی تعداد ہے۔اجرت کی شرح کا تعین محنت کے لیے مانگ اور رسد خطوط کے نقطۂ تقاطع پر ہوتا ہے جہاں محنت کی مانگ اور رسد توازن میں ہو۔اب ہم دیکھیں گے کہ مزدور کی مانگ اور فراہمی کے خطوط کیسے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک واحد فرم کے ذریعہ محنت کی مانگ کی جانچ کے لیے ہم یہ مان لیتے ہیں کہ محنت پیداوار کا واحدمتغیرہ عامل ہے اور محنت بازار پوری طرح مسابقتی ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ ہر ایک فرم کے لیے مزدوری کی شرح دی ہوئی ہے۔جس فرم کے بارے میں ہم ذکرکررہے ہیں وہ بھی فطری طور پر مکمل مسابقتی ہے اور منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے مقصد سے پیداوار کرتی ہے۔ہم یہ بھی فرض کرکے چلتے ہیں کہ فرم کی دستیاب ٹیکنالوجی پر گھٹتا حاشیائی پیداوار کا قانون(Law of diminishing marginal product) لاگوہوتا ہے۔
بیش کاری منافع کرنے والی فرم ہمیشہ اس نقطہ تک محنت کا استعمال کرے گی جس پر محنت کی آخری اکائی کے استعمال کی زائد لاگت ۔ اس اکائی سے حاصل اضافی فائدے کے برابرہے۔محنت کی ایک زائد اکائی کو استعمال میں لانے کی زائد لاگت ۔شرح اجرت (w) ہے۔محنت کی اضافی اکائی کے ذریعہ زائد حاصل پیداوار اس کی حاشیائی آمدنی (MP1)ہے۔ لہٰذا محنت کی ہر زائد اکائی کے لیے اسے جو اضافی فائدہ حاصل ہوتا ہے، وہ حاشیائی آمدنی اور حاشیائی پیداوار کے ضرب کے برابرہوتاہے،اسے محنت کی حاشیائی پیداوار آمدنی (MR) کہتے ہے۔لہٰذا فرم اس نقطے تک محنت کو استعمال میں لاتی ہے جہاں،
(محنت کی حاشیائی پیداوار آمدنی)
چونکہ ہم ایک مکمل مسابقتی فرم کا مطالعہ کررہے ہیں، حاشیائی آمدنی شے کی قیمت کے برابر ہے، اور اس صورتحال میں محنت کی حاشیائی پیداوار کی قدر (VMPl )کے مساوی ہے۔
جب تک محنت کی حاشیائی پیداوار کی قیمت شرح اجرت سے زیادہ ہے، فرم محنت کی ایک اضافی اکائی کا استعمال کرکے زیادہ منافع حاصل کرسکتی ہے اور اگر VMPlمحنت استعمال کی کسی بھی سطح پر محنت کی حاشیائی پیداوار قدر اجرت کی شرح کی نسبت کم ہے، تو فرم محنت کی ایک اکائی کم کرکے اپنے فائدے میں اضافہ کرسکتی ہے۔
دئیے گئے گھٹتے حاشیائی پیداوار کے قانون کے مفروضے پر فرم PL w = VM کی قدر پر ہی ہمیشہ پیداوار کرتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ محنت کے لیے خط طلب نیچے کی طرف ڈھلواں ہے۔اس وضاحت کے لیے کہ ایسا کیوں ہے، آئیے مان لیتے ہیں کہ کسی شرح اجرتw1 پرمحنت کے لیے مانگ Iہے۔اب مان لیجیے کہ اجرت کی شرح بڑھ کر w2 ہوجاتی ہے۔ اجرت VMPLمحنت کی حاشیائی پیداوار کی قدر میں مساوات بنائے رکھنے کے لیے محنت کی حاشیائی پیداوار کی قیمت میں بھی شے کی قیمت ثابت رہتے ہوئے اضافہ ہونا چاہیے۔یہ تبھی ممکن ہے جب محنت کی حاشیائی پیداوارمیں اضافہ ہو، جس کا مطلب ہے کہ محنت کی گھٹتی حاشیائی پیداوار کے سبب کم محنت کا استعمال کیا جائے۔لہٰذا اونچی اجرت پر کم قیمت کی مانگ ہوتی ہے، نتیجتاً خط طلب نیچے کی طرف ڈھلواں ہوجاتا ہے۔
انفرادی فرموں کے خطوط طلب سے بازار کی مانگ کا خط معلوم کرنے کے لیے ہم عام طورپر مختلف اجرت کی شرح پر انفرادی فرموں کے ذریعہ محنت کی مانگ کو جوڑدیتے ہیں، اگرچہ ہر ایک فرم اجرت بڑھنے پر کم محنت کی مانگ کرتی ہے۔ بازار خط طلب بھی نیچے کی جانب ڈھلواں ہوتا ہے۔
اجرت ایک ایسے نقطے پرمتعین ہوتی ہے جہاں محنت کی مانگ اور محنت کی رسد کے خطوط ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں۔
مانگ کے رخ کی دریافت کے بعد اب ہم رسد کے پہلوپر آتے ہیں جب پہلے بتایا جاچکا ہے کہ کسی دی ہوئی شرح اجرت پر کتنی محنت کی فراہمی کی جانی چاہیے۔اس کا تعین اہل خاندان کرتے ہیں۔ان کی فراہمی کا فیصلہ لازمی طور پر آمدنی اور فرصت کے درمیان ایک انتخاب ہے۔ایک طرف فرد فرصت میں رہناچاہتا ہے کیونکہ وہ کام کو بوجھل مانتاہے اور دوسری طرف وہ آمدنی کو اہمیت دیتے ہیں جس کے لیے انھیں کام کرنا پڑتا ہے۔
لہٰذا فرصت سے محظوظ ہونے اور زیادہ گھنٹوں تک کام کرنے کے درمیان اور ایک ادل بدل ہوتا ہے۔ایک اکیلے فرد کی محنت کی مانگ اخذ کرنے کے لیے ہم مان لیتے ہیں کہ کسی شرح اجرتw1 پرایک شخص 11 محنت کی اکائیوں کی فراہمی کرتا ہے۔اب مان لیجیے کہ اجرت کی شرح بڑھ کر w2ہوجاتی ہے۔اجرت کی شرح میں اس اضافے کے دواثرہوں گے پہلا شرح اجرت میں اضافے کے سبب لاگت بدل میں اضافہ ہوگا جو فرصت کو زیادہ مہنگا بنادے گا۔لہٰذا فرد فرصت سے کم استفادہ کرے گا۔ اس کے نتیجے میں وہ زیادہ گھنٹے کام کرے گا۔دوسرا،شرح اجرت میںw2 تک کے اضافے کے سبب فرد کی قوت خرید میں اضافہ ہوجاتا ہے۔لہٰذا وہ فرصت یا آرام سے متعلق سرگرمیوں پر زیادہ خرچ کرنا چاہے گا ۔ ان دونوں اثرات میں سے جو زیادہ قوی ہوگا، اجرت کی شرح میں اضافے کا آخری اثراسی پر انحصار کرے گے۔کم اجرت پر پہلا اثر دوسرے اثر سے زیادہ غالب رہتا ہے اور اس لیے فرد کی خواہش اجرت میں ہر ایک اضافے کے ساتھ زیادہ محنت کی فراہمی کی ہوگی۔لیکن اونچی شرح اجرت پر دوسرا اثر پہلے اثر سے زیادہ قوی ہوتا ہے اور فرد شرح 2اجرت میں ہر ایک اضافے پر کم محنت فراہمی کرے گا۔اس طرح ہم پیچھے کی طرف جھکاؤ والے انفرادی خط رسد محنت حاصل کرتے ہیں جو یہ دکھاتا ہے کہ ایک متعین شرح اجرت تک اجرت میں ہر ایک اضافے کے ساتھ محنت کی فراہمی میں اضافہ ہوتا ہے۔اس شرح اجرت کے بعد، شرح اجرت میں ہر ایک اضافے سے رسد محنت گھٹ جائے گی تاہم، محنت کا بازار رسد خط، جسے ہم مختلف شرح مزدوری پر اشخاص کی فراہمی کو جوڑ کر حاصل کرتے ہیں، یہ اوپر کی طرف ڈھلواں کے لیے ہوگی کیونکہ اونچی شرح اجرت پر بھی کچھ افراد کم کام کرنے کے خواہش مند ہوں گے،اس کے سبب زیادہ زیادہ محنت کی فراہمی کے لیے متوجہ ہوں گے۔
ایک اوپر کی طرف ڈھلواں والا خط رسد اور نیچے کی طرف ڈھلواں والے خط کے مطلب کے ذریعہ توازنی شرح اجرت اس نقطے پر متعین ہوتی ہے، جہاں یہ دونوں خطوط ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں، دوسرے لفظوں میں وہاں خاندان کے ذریعہ محنت کی فراہمی کے ذریعہ محنت کی مانگ کے برابر ہوتی ہے۔یہ درج ذیل ڈائیگرام میں دکھایا گیا ہے۔
چونکہ فرم مکمل سابقتی ہے لہٰذا ایسا مانا جاتا ہے کہ یہ شے کی قیمت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔
مانگ اور رسد میں تبدیلی(Shifts in Demand and Supply)
مندرجہ بالاسیکشن میں ہم نے بازار توازن کا مطالعہ اس مفروضے کے ساتھ کیا کہ صارفین کی دلچسپیاں اور ترجیحات، متعلقہ اشیا کی قیمتیں، صارفین کی آمدنی، ٹکنالوجی، بازار کا حجم، پیداوار میں استعمال ہونے والے درآیدے کی قیمتیں وغیرہ ثابت رہتی ہیں۔تاہم، ان میں سے ایک یا ایک سے زیادہ عوامل میں تبدیلیوں کے ساتھ یا تو خط رسد یا خط طلب یا دونوں ہی توازنی قیمت اور مقدار کو متاثر کرتے ہوئے تبدیل ہوسکتے ہیں۔یہاں ہم پہلے ایک عام نظریے کو فروغ دیں گے جو توازن پر ان تبدیلیوں کے اثر کا خاکہ پیش کرے گا اور اس کے بعد توازن پر درج بالا کچھ عوامل میں تبدیلیوں کے اثرات پر بحث کریں گے۔
مانگ میں تبدیلی(Demand Shift)
شکل 5.2پر غور کیجیے، جس میں فرموں کی تعداد ثابت ہونے پر مانگ میں تبدیلیکا اثر دکھایا گیا ہے۔یہاں ابتدائی توازنی نقطہ Eجہاں بازار خط طلب DD0 اوربازار خط رسد SS0 ایک دوسرے کو اس طرح قطع کرتے ہیں کہq0 اور p0 علی الترتیب توازنی مقدار اور قیمت کو ظاہر کرتے ہیں۔
مان لیجیے کہ باز ار خط طلب، خط طلب کےSS0 پر ثابت رہنے پر دائیں طرف DD2 پرتبدیل ہوجاتا ہے، جیسا کہ پینل (a) میں دکھایا گیا ہے۔یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ کسی بھی قیمت پر مانگی گئی مقدار پہلے سے زیادہ ہے۔اس لیےp0 قیمت پر اب بازار میں q0 q0"کے برابر زائد مانگ ہے۔اس زائد مانگ کے سبب کچھ فرد اونچی ادائیگی کو تیار ہوں گے اور قیمت میں بڑھنے کا رجحان ہوگا۔نیا توازن Gنقطے پر ہوگا جہاں توازن کی مقدار سے q2،q0سے زیادہ ہے اورقیمت توازن p2 ،p0 سے زیادہ ہے۔
مانگ میں تبدیلی: ابتدا میں ، بازار توازن Eپر ہے۔مانگ کے دائیں طرف تبدیلی کے سبب نیا توازن Gپر ہے جیسا کہ پینل (a)میں دکھایا گیا ہے۔دائیں طرف تبدیلی کے ساتھ توازنی مقدار اور قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، جب کہ بائیں طرف تبدیلی کے ساتھ توازنی مقدار اور قیمت میں کمی ہوتی ہے۔
اسی طرح، جیسا کہ پینل(b) میں دکھایا گیا ہے، اگر Eخط طلبDD1پربائیں طرف تبدیل ہوجاتا ہے تو کسی بھی سمت پر مانگ کی مقدارتبدیلی سے پہلے کی نسبت کم ہوگی۔لہٰذا ابتدائی توازن قیمتp0 پراب بازار میں q0'q1کے برابرزائد رسد ہے جس کے سبب کچھ فرمیں اپنی شے کی قیمت کم کردیں گی تاکہ وہ شے کی مطلوبہ مقدار کو فروخت کرسکیں۔نیا نقطۂ توازن Fپر ہے جس پر خط طلب DD1 اور خط رسد SS0ایک دوسرے کے متقاطع ہوتے ہیں اور نتیجتاً توازنی قیمت p0،p1کی نسبت کم ہے اور مقدارq0،q0سے کم ہے۔غور کیجیے کہ جب خط طلب تبدیل ہوتا ہے تو توازنی قیمت اور مقدار میں تبدیلی کی سمت یکساں ہے۔
ایک عام نظریے کے فروغ کے بعد، اب ہم یہ سمجھنے کے لیے کچھ مثال لیتے ہیں کہ کس طرح پہلے مذکورہ عوامل میں تبدیلی کے سبب خط طلب اور توازنی مقدار اور توازنی قیمت متاثر ہوتی ہے، جن کابیان باب 2میں بھی کیا گیا ہے۔خاص طور پر ہم صارف کی آمدنی میں اضافہ اور صارفین کی تعداد میں اضافے کے توازن پر اثر کا تجزیہ کریں گے۔
مان لیجیے کہ صارفین کی تنخواہوں میں اضافے کے سبب ان کی آمدنیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔یہ کس طرح سے توازن کو متاثر کرے گا؟ آمدنی میں اضافے کے سبب صارف کو کچھ اشیا پر زیادہ رقم خرچ کرنی پڑسکتی ہے۔لیکن دوسرے باب میں ہم نے دیکھا کہ صارف کی آمدنی میں اضافہ ہونے پر ادنی اشیا پر کم خرچ کریں گے جب کہ ایک عام شے کے لیے جہاں سبھی اشیا کی قیمت اور صارف کی دلچسپی اور ترجیحات ثابت ہیں، ہر ایک اضافہ قیمت پر ہم شے کی مانگ میں اضافے کی توقع کریں گے جس کے نتیجے میں بازار خط طلب دائیں طرف شفٹ ہوجائے گا۔یہاں ہم کپڑے جیسی ایک عام شے کی مثال لیتے ہیں، جس کی مانگ صارفین کی آمدنی میں اضافے کے ساتھ بڑھتی ہے اور اس کے سبب خط طلب دائیں طرف تبدیل ہوجاتا ہے۔تاہم اس آمدنی میں اضافے کا خط رسد پرکوئی بھی اثر نہیں پڑتا جو صرف فرموں کی ٹکنالوجی سے متعلق عوامل میں اور پیداوارلاگت میں کچھ تبدیلیوں کے سبب شفٹ ہوتا ہے۔لہٰذا خط رسد پھرمتبادل رہتا ہے۔شکل 5.2 (a) میں خط طلب میں DD0سے DD2تک شفٹ کے ذریعہ دکھایا گیا ہے لیکن خط رسدSS0پرپھرمتبادل رہتا ہے۔شکل 5.2سے ظاہر ہے کہ نئے توازن پر کپڑوں کی قیمت زیادہ ہے اور مانگی گئی اور فروخت کی گئی مقدار بھی زیادہ ہے۔
اب ہم دوسری مثال لیتے ہیں۔مان لیجیے کسی وجہ سے بازار میں کپڑوں کے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔دیگرباتیں یا عوامل اگر تبدیل نہ ہوں تو جیسے جیسے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوتاہے، کپڑوں کی مانگ پر یقینا قیمت میں اضافہ ہوگا، لہٰذا خط مانگ دائیں طرف تبدیل ہوجائے گا۔لیکن صارفین کی تعداد میں یہ اضافہ خط رسد پر کوئی بھی اثر نہیں ڈالتا کیونکہ خط رسد صرف فرموں کے برتاؤ سے متعلق پیرامیٹروں میں تبدیلیوں کے سبب یا فرموں کی تعداد میں اضافہ کے سبب ہی شفٹ ہوسکتا ہے جیسا کہ باب میں خط طلب DD0، DD2 پر دائیں طرف تبدیل ہوتا ہے جب کہ خط رسد SS0پر غیرتبدیل ہے۔یہ شکل واضح طور پر دکھاتی ہے کہ نئے توازن نقطےG پر پرانے نقطۂ توازن Eکی نسبت قیمت اور مقدار، مانگ ورسد میں اضافہ ہوتا ہے۔
رسد میں تبدیلی(Supply Shift)
شکل5.3 میں ہم خط رسد میں تبدیلی کا اثر توازنی قیمت پر اور مقدار پر دیکھتے ہیں، مان لیجیے شروع میں نقطہ Eپر بازار توازن میں ہے، جہاں بازار مانگ خط DD0بازار خط رسد SS0کواس طرح تقاطع کرتا ہے کہ توازنی قیمت p0اور توازنی مقدار q0ہے
رسد میں تبدیلی: شروع میں بازار توازنEپر ہے۔خط رسد کے بائیں طرف شفٹ کے سبب نیا نقطہ توازن Gہے جیسا کہ پینل (a)میں دکھایا گیا ہے اور دائیں طرف شفٹ کے سبب نیا نقطہ توازن F ہے جیسا کہ پینل (b)میں دکھایا گیا ہے۔دائیں طرف تبدیلی کے ساتھ توازنی مقدار میں رسد میں تبدیلی: شروع میں بازار توازنEپر ہے۔خط رسد کے بائیں طرف شفٹ کے سبب نیا نقطہ توازن Gہے جیسا کہ پینل (a)میں دکھایا گیا ہے اور دائیں طرف شفٹ کے سبب نیا نقطہ توازن F ہے جیسا کہ پینل (b)میں دکھایا گیا ہے۔دائیں طرف تبدیلی کے ساتھ توازنی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمت گھٹتی ہے، جبکہ بائیں طرف تبدیلی کے ساتھ توازن مقدار گھٹتی ہے اور قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اب مان لیجیے کہ کسی وجہ سے بازار خط رسد SS0پر بائیں طرف تبدیل ہوتا ہے اور خط طلب غیرتبدیل رہتا ہے، جیسا کہ پینل(a)میں دکھایا گیا ہے۔اس تبدیلی کے سبب رائج قیمت p0پر بازارمیں q0*q0کے برابر زائد مانگ ہوگی۔کچھ صارف جو شے کو حاصل کرنے میں ناکام ہیں، زیادہ قیمت ادائیگی کرنے کے خواہش مند ہوں گے اور بازار قیمت میں اضافے کا رجحان ہوگا۔نقطہ Gپر نیا توازن حاصل ہوگا جہاں خط رسد SS0خط طلب DD0کو اس طرح تقاطع کرتا ہے کہp2قیمت پر q2مقدار خریدی اور فروخت کی جائے گی۔اسی طرح خط رسددائیں طرف تبدیل ہوتا ہے، جہاں شے کی زائد رسدq0q'0 کے برابرہوگی جیسا کہ پینل (b)میں دکھایا گیا ہے۔اس زائدرسد کے سبب کچھ فرمیں اپنی شے کی قیمت کرادیں گی اور Fپر نیا توازن ہوگا، جہاں خط رسد SS1خط طلب DD0کواس طرح تقاطع کرتا ہے کہp1 نئی بازار قیمت ہے جس پرq1 مقدارخریدی فروخت کی جاتی ہے۔غورکیجیے کہ جب بھی خط رسد تبدیل ہوتا ہے قیمت اور مقدار میں تبدیلی کی سمتیں مخالف ہوتی ہیں۔
اب اس سمجھ کے ساتھ ہم توازنی قیمت اور مقدار کے برتاؤ کا تجزیہ کرتے ہیں جب بازار کے مختلف پہلوؤں میں تبدیلی ہوتی ہے۔ یہاں ہم توازن پر درآمد قیمتوں میں اضافہ اور فرموں کی مقدار میں اضافے کے اثرات پر غور کریں گے۔
آئیے ایک ایسی صورتحال پر غورکرتے ہیں جہاں دیگر سبھی باتیں قائم رہتی ہیں اور شے کی پیداوار میں استعمال کسی درآمد کی گئی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔درآمد کا استعمال کرنے والی فرموں کی پیداوار کی حاشیائی لاگت میں اضافہ ہوگا۔اس لیے ہر ایک کی قیمت پر بازار کی رسد پہلے سے کم ہوگی۔لہٰذا خط رسد بائیں طرف تبدیل ہوجاتا ہے۔شکل 5.3 (a)میں اسے خط رسد کوSS0سے SS2تک شفٹ کے ذریعہ دکھایا گیا ہے، لیکن درآمدقیمت میں اس اضافے کی صارفین کی مانگ پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ یہ درآمدوں کی قیمت پر براہ راست منحصر نہیں ہوتا، لہٰذا خط طلب غیرتبدیل رہتی ہے۔ شکل 5.3 (a)میںDD0 پراسے خط طلب کو غیر تبدیل رکھ کر دکھایا گیا ہے۔نتیجتاً سابقہ توازن کی نسبت اب بازار قیمت میں اضافہ ہوتا ہے اور پیداواری مقدار کم ہوجاتی ہے۔
آئیے ہم فرموں کی تعداد میں اضافے کے اثر پر بحث کرتے ہیں۔چونکہ ہ ایک قیمت پر اب زیادہ فرمیں شے کی فراہمی کریں گی، خط رسد دائیں طرف تبدیل ہوجائے گا، لیکن خط طلب پر اس کا کوئی بھی اثر نہیں ہوتا ہے اس مثال کو شکل (b) 5.3 کے ذریعہ دکھایا جاسکتا ہے جہاں خط رسدDD0سے SS1پرتبدیل ہوجاتا ہے، جبکہ خط طلب DD0پرمتبادل رہتا ہے شکل سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ شے کی قیمت میں کمی ہوگی اور ابتدائی صورتحال کے مقابلے پیداواری مقدار میں اضافہ ہوگا۔
مانگ اور رسد کی ایک ساتھ تبدیلی(Simultaneous Shifts of Demand and Supply)
جب مانگ اور رسد خطوط میں ا یک ساتھ تبدیلی ہوتی ہے، تب کیا ہوتا ہے؟ چار ممکنہ طریقوں سے ایک ساتھ تبدیلی ہوسکتی ہے:
(i) مانگ اور رسد خطوط دونوں کا دائیں جانب تبدیلی
(ii) مانگ اور رسد خطوط دونوں کا بائیں جانب تبدیلی
(iii) خط رسد کا بائیں طرف اور خط طلب کا دائیں جانب تبدیلی
(iv) خط رسد کا دائیں جانب اور خط طلب کا بائیں جانب تبدیلی
توازنی قیمت اور مقدار کا اثر سبھی چارحالتوں میں جدول 5.1میں دکھایا گیا ہے۔جدول کی ہر ایک قطار اس سمت کو بتاتی ہے جس میں ہرممکنہ مانگ اور رسد خطوط میں ایک ساتھ تبدیلی کے اتحاد کے لیے توازنی قیمت اور مقدار میں تبدیلی ہوگی۔مثال کے طور پر جدول کی دوسری قطارسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مانگ اور رسد خطوط دونوں میں دائیں طرف تبدیلی کے سبب توازنی مقدار میں یقینی طور پر اضافہ ہوتا ہے لیکن توازنی قیمت میں یا تو اضافہ ہوسکتا ہے یا کمی پیدا ہوسکتی ہے یا وہ متبادل بھی رہ سکتی ہے۔حقیقی سمت میں جس میں قیمت تبدیل ہوگی وہ تبدیلی کی مقدار پرمنحصر ہوگی۔تبدیلی کی مقدار میں تبدیلی کرکے اس صورتحال کی آپ خود جانچ کریں۔پہلی دوصورتوں میں، جو جدول کی پہلی دوقطاروں میں دکھائے گئے ہیں،توازنی مقدار پر اثر ظاہر ہے لیکن توازنی قیمت میں تبدیلی کسی بھی سمت میں ہوسکتی ہے۔جو شفٹ کے حجم پر منحصر ہوگا۔اگلی دو صورتوں میں جو جدول کی آخری دوقطاروں میں دکھائی گئی ہیں، قیمت پر اثر ظاہر ہے جب کہ مقدار پر اثر دونوں خطوط میں تبدیلی کی مقدار پر انحصار کرتا ہے۔
جدول 5.1 : ایک ساتھ تبدیلی کا توازن پر اثر
| مانگ میں شفٹ | رسد میں شفٹ | مقدار | قیمت |
|---|---|---|---|
| بائیں جانب دائیں جانب بائیں جانب دائیں جانب |
با ئیں جا نب
دائیں جانب
دائیں جانب
بائیں جانب
|
کمی
اضافہ
اضافہ،کمی یا کوئی تبدیلی نہیں
اضافہ،کمی یا کوئی تبدیلی نہیں
|
اضافہ، کمی یا کوئی تبدیلی نہیں
اضافہ، کمی یا کوئی تبدیلی نہیں
کمی
اضا فہ
|
یہاں ہم شکل 5.4میں صورت (ii)اور صورت (iii)کے لیے ڈائیگرام پیش کررہے ہیں اور دیگر کوپڑھنے والوں کی مشق کے لیے چھوڑدیتے ہیں۔
مانگ اور رسد میں ایک ساتھ تبدیلی: شروع میں توازن Eپر ہے جہاں خط DD0اورخط رسد SS1ایک دوسرے کے متقاطع ہوتے ہیں۔پینل (a)میں مانگ ورسد کے خطوط دونوں دائیں طرف شفٹ ہوتے ہیں، قیمت غیر تبدیل رہتی ہے لیکن مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔پینل (b)میں خط رسد دائیں اور خط طلب بائیں طرف شفٹ ہوتا ہے، مقدار غیرتبدیل رہتی ہے لیکن قیمت گھٹ جاتی ہے۔
شکل 5.4 (a)میں ہم دیکھتے ہیں کہ خط طلب اور خط رسد دونوں کے دائیں طرفتبدیلی کے سبب توازنی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، جب کہ توازنی قیمت غیرتبدیل رہتی ہے اور شکل 5.4(b)میں خط طلب کے بائیں اور خط رسد کے دائیں طرف منتقلی کے سبب توازنی مقدار یکساں رہتی ہے جب کہ قیمت گھٹ جاتی ہے۔
5.1.2 بازارتوازن: آزادانہ داخلہ اور اخراج (Market Equilibrium:Free Entry and Exit)
پچھلے سیکشن میں بازار توازن کا مطالعہ اس مفروضے پر کیا گیا کہ فرموں کی تعداد مقررہ ہے۔اس سیکشن میں ہم بازار توازن کا مطالعہ کریں گے، جب فرمیں آزادانہ بازارمیں داخلہ یا اخراج کرسکتی ہیں۔آسانی کے لیے ہم یہاں مان لیتے ہیں کہ بازار میں سبھی فرمیں یکساں ہیں۔
داخلے اور اخراج کے مفروضے سے کیا مراد ہے؟ اس مفروضے سے مراد یہ ہے کہ پیداوار میں بنے رہ کر توازن میں کوئی بھی فرم نہ معمول سے زیادہ منافع کماتی ہیں اور نہ ہی نقصان اٹھاتی ہیں۔دوسرے لفظوں میں قیمت توازن فرموں کی کم سے کم اوسط لاگت کے برابر ہوتی ہے۔
یہ دیکھنے کے لیے کہ ایسا کیوں ہے، مان لیجیے، رائج بازار قیمت پر ایک فرم بیش نارمل منافع(معمول سے زیادہ) کمارہی ہے۔بیش نارمل منافع کمانے کا امکان نئی فرموں کے لیے باعث کشش ہوگا جس سے بیش نارمل منافع میں کمی ہوگی۔ جب فرموں کی تعداد زیادہ ہوگی جو آخرکار صرف نارمل منافع کمارہی ہیں توکسی اور فرم کے داخلے کے لیے کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی۔اسی طرح، اگر رائج قیمت پر فرمیں نارمل سے کم منافع کمارہی ہیں تو کچھ فرمیں اخراج کرجائیں گی جس سے منافع میں اضافہ ہوگا اور ہر ایک فرم کا منافع بڑھ کر نارمل منافع کی سطح پر آجائے گا۔اس نقطے پر اور زیادہ فرمیں اخراج کرنے کی خواہش مند نہیں ہوں گی کیونکہ یہاں سبھی فرمیں نارمل منافع کمارہی ہوںگی۔لہٰذا داخلہ اور اخراج کے ذریعہ ہر ایک فرم رائج بازارقیمت پر ہمیشہ نارمل منافع کمائیں گی۔
پچھلے سیکشن میں ہم نے دیکھا کہ جب تک قیمت کم تر اوسط لاگت سے ز یادہ ہے، فرمیں بیش نارمل منافع کمائیں گی اور کم ترین اوسط لاگت سے کم قیمتوں پر نارمل سے کم منافع حاصل کریں گی۔
لہٰذا کم ترین اوسط لاگت سے زیادہ قیمتوں پر نئی فرمیں داخل ہوں گی اور کم سے کم اوسط لاگت سے کم قیمتوں پر موجودہ فرمیں اخراج کرنا شروع کریں گی۔فرموں کی کم ترین اوسط لاگت کی مساوی قیمت پر ہر فرم نارمل منافع کمائیں گی۔ اس طرح نئی فرم کے لیے بازار میں کوئی کشش نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ موجودہ فرمیں بازار نہیں چھوڑیں گی کیونکہ اس نقطے پر ان کونقصان نہیں اٹھانا پڑا رہا ہے۔ اس طرح بازار میں یہ رائج رہے گی۔ لہٰذا، فرموں کا آزاد داخلہ اور اخراج اس بازار قیمت کو ظاہر کرتا ہے جوکم ترین اوسط لاگت کے ہمیشہ برابر ہو یعنی
کم ترین اوسط لاگت=p
مندرجہ بالا سے یہ پتہ چلتا ہے کہ توازنقیمت فرموں کی کم ترین اوسط لاگت کی مساوی ہوگی۔ توازن میں اس قیمت پربازار مانگ کے ذریعہ رسد کی مقدار متعین ہوگی۔تبھی یہ دونوں برابر ہوتی ہیں۔گراف کے طور پر اسے شکل 5.5میں دکھایا گیا ہے، جہاں بازار کا توازن Eنقطے پر ہوگا اور خط طلب DD، =P0کم سے کم اوسط لاگت خط کو اس طرح قطع کرتا ہے کہ بازار قیمت p0 کا کل مانگی گئی مقدار اور رسد q0کے برابر ہوجاتی ہے۔
کم ترین اوسط لاگتP0= پر ہر ایک فرم یکساں مقدار q0کی فراہمی کرتی ہے لہٰذا بازار میں فرموں کی توازنی تعداد فرموں کی اس تعداد کے برابر ہے، جو P0پیداوار یا ماحصل پر q0 رسد کے لیے ضروری ہے۔ہر ایک فرم اس قیمت پر q0f مقدار کی فراہمی کرے گی۔ اگر ہم n0 کے ذریعہ فرموں کی توازنی مقدار کو دکھاتے ہیں تو
قیمت توازن اور مقدار کے تعین کو زیادہ واضح طور پر سمجھنے کے لیے ہم درج ذیل مثال پر نظر ڈالتے ہیں۔
مثال---- 5.2
ایک بازار کی مثال لیتے ہیں، جہاں گیہوں کے لیے خط طلب اس طرح دیا گیا ہے۔
مان لیجیے کہ بازار میں یکساں اراضی ہیں۔کسی اکیلی اراضی کا خط رسد اس طرح دیا گیا ہے۔
فرموں کے آزادانہ داخلے اور اخراج کا مطلب یہ ہوگا کہ فرمیں کم ترین اوسط لاگت سے کم لاگت پر پیداوار نہیں کریں گی ورنہ انھیں پیداوار سے نقصان ہوگا اور وہ بازار سے اخراج کرجائیں گی۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں، آزادنہ داخلے اور اخراج کے ساتھ ساتھ بازار کا توازن قیمت پر ہوگاجو فرموں کی کم ترین اوسط لاگت کے برابر ہے۔لہٰذا قیمت توازن ہے:
p0 = 20
اس قیمت پر بازار اس مقدار کی فراہمی کرے گا جو بازار کی مانگ کے برابر ہے، لہٰذا خط طلب سے ہمیں توازنی مقدار حاصل ہوتی ہے۔
q0 = 200 – 20 = 180
p0 = 20 پر ہر ایک فرم بہم رسانی کرتی ہے۔
qof = 10+20 = 30
لہٰذافرموں کا مقدار توازن ہے:
اس طرح آزادانہ داخلے اور اخراج کے ساتھ قیمت توازن، مقدار اور فرموں کی تعداد علی الترتیب 20 روپے، 180کلوگرام اور 6ہے۔
مانگ میں تبدیلی(Shifts in Demand)
آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ فرمیں جب بازارمیں آزادانہ داخلہ اور اخراج کرسکتی ہیں تو قیمت توازن اور مقدار پر مانگ میں تبدیلی کا کیا اثر پڑتا ہے۔پچھلے سیکشن سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ فرموں کے آزادانہ داخلے اور اخراج سے مراد ہے سبھی حالات میں قیمت توازن موجودہ فرموں کی کم ترین اوسط لاگت کے برابر ہو۔اس صورت حال میں، اگر بازار خط طلب کسی بھی صورت میں تبدیل ہوتا ہے تو نئے توازن پر بازار اس قیمت پر مطلوبہ مقدار کی بہم رسانی کرے گا۔
شکل 5.6 میں DD0 بازار خط طلب ہے جو بتاتا ہے کہ مختلف قیمتوں پر صارفین کے ذریعہ کتنی مقدار مانگی جائے گی اور p0اس قیمت کو بتاتا ہے جو فرموں کی کم ترین اوسط لاگت کے برابر ہے۔ابتدائی توازن Eنقطے پر ہے جہاں خط طلب P0، DD0کم ترین اوسط خط لاگت کو کاٹتا ہے اور مانگ ورسد کی کل مقدار q0ہے۔اس صورت میں فرموں کی توازنی مقدارn0 ہے
اب مان لیجیے کہ خط طلب کسی وجہ سے دائیں طرف شفٹ ہوتا ہے۔نقطہp0 ہر شے کے لیے زائد مانگ ہوگی۔کچھ غیرمطمئن صارف شے کی زیادہ قیمت دینے کے خواہش مند ہوںگے، لہٰذا قیمت میں اضافے کا رجحان ہوگا۔اس سے بیش نارمل منافع کمانے کا امکان ہوگا جو نئی فرموں کے لیے باعث کشش ہوگا۔ان نئی فرموں کا داخلہ بیش نارمل فائدہ ختم کردے گا اور قیمت دوبارہ p0پرپہنچ جائے گی ۔اب اونچی مقدار کی فراہمی اسی قیمت پر ہوگی۔ پینل (a) سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نیا خط طلب DD1 ،p0کم ترین اوسط خط لاگت کو نقطہ Fپر کاٹتا ہے۔اس طرح، نیا توازن (P0, q1) ہوگا جہاں q1،q0کے مقابلے زیادہ ہے۔نئی فرموں کے داخلے کے سبب فرموں کی نئی توازنی مقدار n1 ،n0سے زیادہ ہے۔ اسی طرح خط طلب کے DD2پر بائیں طرف تبدیل ہونے پر p0قیمت پر زائد رسد ہوگی۔اس زائد رسد کے سبب کچھ فرمیں جو قیمت پر اپنی شے کی مطلوبہ مقدار نہیں فروخت کریں گی، اپنی قیمت کم کرنا چاہیں گی۔قیمت گھٹنے کا رجحان ہوگا، نتیجتاً کچھ موجودہ فرمیں اخراج کریں گی۔قیمت دوبارہ p0 آجائے گی، جوگھٹتی ہوئی مانگ کے برابر ہوگی ۔اسے پینل (b)میں دکھایا گیا ہے، جہاں خط طلب کے DD0 سے DD2پرتبدیل ہونے کے سبب مانگ اور رسد کی مقدار گھٹ کرq2 ہوجاتی ہے جب کہ p0پر قیمت غیرتبدیل رہتی ہے۔یہاں کچھ موجودہ فرموں کے اخراج کے سبب، فرموں کی توازنی مقدارn2،n0 سے کم ہے۔لہٰذا مانگ میں دائیں (بائیں) تبدیلی کے سبب، توازنی مقدار اور فرموں کی تعداد میں بیشی (کمی) ہوگی جب کہ قیمت توازن غیرتبدیل رہے گی۔
ہمیں یہاں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ فرموں کے آزادانہ داخلے اور اخراج کے ساتھ مانگ میں تبدیلی کا اثر، فرموں کی مقررہ تعدادکے مقابلے مقدار میں زیادہ ہوتا ہے۔لیکن فرموں کی مقررہ تعداد کے برخلاف یہاں ہم قیمت توازن پر کوئی اثر نہیں پائیں گے ۔
مانگ میں تبدیلی: شروع میں خط طلبDD0 توازنی مقدار اورر قیمت علی الترتیب q0اورP0تھی۔خط طلب کے DD1پر دائیں طرف تبدیلی کے سبب جیسا کہ پینسل (a)میں دکھایا گیا ہے، توازنی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور خط طلب کےDD2 پر بائیں طرف تبدیلی کے سبب جیسا کہ پینسل (b)میں دکھایا گیا ہے، توازنی مقدار گھٹ جاتی ہے۔دونوں ہی صورت میں قیمت توازنPo پر غیرتبدیل رہتی ہے۔
5.2 اطلاق(Applications)
اس سیکشن میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح رسدومانگ میں تجزیے کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔بطور خاص قیمت کنٹرول کی شکل میں سرکاری مداخلت کی ہم دو مثال لیتے ہیں۔جب کچھ اشیا اور خدمات کی قیمتیں مطلوبہ سطح سے یا تو زیادہ اونچی یا زیادہ کم ہوجائیں تو اکثر حکومت کے ذریعہ ان کو منضبط کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ہم مکمل مسابقت کے ڈھانچے میں ان امور کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کنٹرول کا اشیا کے بازار پر کیا اثر پڑتا ہے۔
5.2.1 بیش ترین قیمت(Price Ceiling)
ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں حکومت کچھ اشیا کی زیادہ سے زیادہ قابل قبول قیمت متعین کرتی ہے۔کسی شے یا خدمت کی حکومت کے ذریعہ مقررہ قیمت کی اوپری حد کو بیش ترین قیمت کہا جاتا ہے۔عام طورپر ضروری اشیا جیسے گیہوں، چاول، مٹی کا تیل، چینی کے لیے ایسی قیمت طے کی جاتی ہے اور یہ بازار کے متعین قیمت سے نیچے ہوتی ہے کیونکہ ان سبھی اشیا کواس بازار متعین قیمت پر حاصل کرنے کے لیے آبادی کا کچھ حصہ مقدور نہیں ہوگا۔آئیے گیہوں کے بازار کی مثال کے ذریعہ بازار توازن پر زیادہ سے زیادہ متعین قیمت کے اثرات کو دیکھیں۔
شکل 5.7گیہوں کے لیے بازار خط رسد SSاور بازار طلب DDکو ظاہر کرتی ہے۔
گیہوں بازار میں بیش ترین متعین قیمت، قیمت توازن اور مقدار علی الترتیب P*اور q*ہیں۔Peپر بیش ترین قیمت متعین ہونے سے گیہوں بازار میں زائد مانگ کی صورت پیدا ہوتی ہے۔گیہوں کی قیمت توازن اور مقدار علی الترتیب P* اور q*ہے۔گیہوں بازار میں جب حکومت pcپر بیش ترین قیمت متعین کرتی ہے جو سطح توازن قیمت سے کم ہوتی ہے تو صارف qcکلوگرام گیہوں کی مانگ کرتے ہیں جب کہ فرموں کے ذریعہ رسد q'c کلوگرام ہے۔لہٰذا اسی قیمت پر بازار کی زائد مانگ ہوگی۔
گیہوں بازار میں بیش ترین قیمت: قیمت توازن اور مقدارعلی الترتیب P* اورq* ہیں۔ جب کہ pc پر بیش ترین قیمت متعین ہونے سے گیہوں بازار میں زائد مانگ کی صورت پیدا ہوتی ہے۔
اگرچہ حکومت کا ارادہ صارفین کی مدد کرنا ہے، لیکن میں اس سے گیہوں کی کمی ہوجائے گی۔لہٰذا سبھی کے لیے گیہوں کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے صارفین کو راشن کے کوپن جاری کیے جاتے ہیں تاکہ کوئی بھی فرد ایک مقررہ مقدار سے زیادہ گیہوں نہ خرید سکے اور گیہوں کی یہ مشروط مقدار راشن کی دوکانوں سے فروخت کی جاتی رہے، جنھیں مناسب قیمت کی دوکانیں بھی کہا جاتا ہے۔
عام طور پر راشن کے ساتھ شے کی بیش ترین قیمت کے صارفین پر درج ذیل مخالف اثر ہوسکتے ہیں،(a) ہر ایک صارف کو دوکانوں سے اشیا کو خریدنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔(b) چونکہ سبھی صارفین مناسب قیمت کی دوکانوں سے حاصل اشیا کی مقدار سے مطمئن نہیں ہوں گے، لہٰذا ان میں سے کچھ زیادہ قیمت دینے کے لیے آمادہ ہوں گے۔اس سے کالابازاری کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔
5.2.2 زیریں قیمت(Price Floor)
کچھ اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں ایک سطح خاص سے نیچے کمی ہونا مطلوبہ نہیں ہوتا۔لہٰذا حکومت ان اشیا اورخدمات کے لیے زیریں یا کم ترین حدکو زیریں متعین قیمت کہا جاتاہے۔زیریں قیمت کی معروف مثال زراعتی قیمت معاون پروگرام اور کم ترین اجرت کی قانون سازی ہے ۔
زراعتی معاون قیمت پروگرام کے ذریعہ حکومت کچھ زرعی اشیا کے لیے قیمت خرید کی کم ترین حد مقرر کردیتی ہے اور عام طور پر ان اشیا کی قیمت بازار کی متعین قیمت سے اونچی سطح پر مقرر کی جاتی ہے۔اسی طرح کم اجرتی قانون سازی کے ذریعہ حکومت پر یقینی بناتی ہے کہ اجرت کی شرح مزدوری ایک خاص سطح سے نیچے نہ گرے۔یہاں بھی کم ترین اجرت شرح کو متوازن شرح اجرت کہا جاتا ہے۔
اشیا کے لیے بازار پر زیریں متعین قیمت کا اثر یہ (p*, q*) پر بازارتوازن Pf پر زیریں قیمت متعین عائد کرنے سے زائد رسد بڑھ جاتی ہے۔
شکل 5.8 ایک ایسی شے کے خط بازار رسد اورخط بازار طلب کو دکھاتی ہے، جس کی قیمت کم سے کم متعین کی گئی ہے۔یہاں توازن بازار قیمتP* اور مقدار q* ہے۔لیکن جب حکومت کم ترین حد قیمت، قیمت توازن سے زیادہ Pfپر متعین کرتی ہے تب بازار مانگ qf ہو جب کہ فرمیں q1f مقدار کی فراہمی کرنا چاہتی ہے، جس کے سبب q1fqf کے برابر بازار میں زائد رسد ہوتی ہے۔
زرعی اور امدادی صورت میں زائد رسد کے سبب قیمتوں کو گرنے سے روکنے کے لیے حکومت کو پہلے سے زائد کو متعین قیمت پر خریدنا پڑتا ہے۔
خلاصہ
• توازن وہ صورت حال ہے، جہاں کسی تبدیلی کا کوئی رجحان نہیں ہوتا۔
• ایک مکمل مسابقتی بازار میں توازن وہاں قائم ہوتا ہے، جہاں بازار کی مانگ اور بازار کی رسد برابر ہوتی ہے۔
• فرموں کی تعداد مقررہونے پر مثبت توازن اور مقدار بازار کی مانگ اور بازار رسد خطوط کے باہمی تقاطع نقطہ پر متعین ہوتی ہے۔
• ہر ایک فرم محنت کا استعمال اس نقطے تک کرتی ہے جہاں محنت کی حاشیائی حاصل پیداوار شرح اجرت کے برابر ہوتی ہے۔
• خط رسد کے غیرتبدیل رہنے پر جب خط طلب دائیں (بائیں) طرف شفٹ ہوتی ہے تو فرموں کی مقررہ تعداد پر توازنی مقدار میں اضافہ (کمی) ہوتا ہے اور توازنی قیمت میں کمی(اضافہ) ہوتی ہے۔
• جب مانگ اور رسد دونوں خطوط یکساں سمت میں تبدیل ہوتے ہیں تو توازنی مقدار پر اس کا اثرواضح طور پر متعین کیا جاسکتا ہے، جب کہ توازنی قیمت پر اس کا اثر تبدیلی کی مقدار پر انحصار کرتا ہے۔
• جب مانگ اوررسد خطوط مخالف سمتوں میں شفٹ ہوتے ہیں تو توازنی قیمت پر اس کا اثرواضح طور پر متعین کیا جاسکتا ہے جب کہ توازنی مقدار پر اثر شفٹ کی مقدار پر انحصار کرتا ہے۔
• ایک مکمل سابقتی بازار میں یکساں فرموں کے ساتھ اگر فرمیں بازار میں آزادانہ داخلہ اور اخراج کرسکتی ہیں تو توازنی قیمت ہمیشہ فرموں کی کم ترین اوسط لاگت کے ہی برابر ہوتی ہے۔
• آزادنہ داخلے اور اخراج ہونے پر مانگ میں تبدیلی کا قیمت توازن پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن توازنی مقدار اور فرموں کی تعداد میں تبدیلی مانگ کی سمت میں تبدیلی کے طور پر ہوتی ہے۔
• فرموں کی مقررہ تعداد والے بازار کے مقابلے آزادانہ داخلے اور اخراج والے بازار میں خط طلب کی تبدیلی کا توازن مقدار پر اثر زیادہ قوی ہوگا۔
• توازنی قیمت سے کم قیمت کی بیش ترین متعین قیمت سے زائد مانگ پیدا ہوتی ہے۔
• زائد سے زیادہ قیمت کی کم سے کم متعین قیمت کے تعین سے زائد رسد پیدا ہوتی ہے۔
کلیدی تصورات
توازن Equilibrium
زائد مانگ Excess demand
زائد رسد Excess Supply
محنت کی حاشیائی حاصل پیداوار Marginal revenue product of labour
محنت کی حاشیائی پیداوار کی قدر Value of marginal product of labour
بیش ترین قیمت ، زیریں قیمت Price celling, Price floor
مشقیں
1۔ بازار توازن کی وضاحت کیجیے۔
2۔ ہم کب کہتے ہیں کہ بازار میں کسی شے کے لیے زائد مانگ ہے؟
3۔ ہم کب کہتے ہیں کہ بازار میں کسی شے کے لیے زائد رسد ہے؟
4۔ کیا ہوگا اگر بازار میں رائج قیمت :
(i) قیمت توازن سے زیادہ ہو
(ii) قیمت توازن سے کم ہو
5۔ فرموں کی ایک مقررہ تعداد کے ہونے پر مکمل مسابقتی بازار میں قیمت کا تعین کس طرح ہوتا ہے؟ وضاحت کیجیے۔
6۔ مان لیجیے کہ مشق5 میں قیمت توازن بازار میں فرموں کی کم ترین اوسط لاگت سے زیادہ ہے۔اب اگر ہم فرموں کے آزادانہ داخلے اور اخراج کی گنجائش پیدا کریں تو بازار قیمت اس کے ساتھ کس طرح مطابقت کرے گی؟
7۔ جب بازار میں آزادانہ داخلے اور اخراج کی گنجائش موجودہے تو فرمیں مکمل مسابقتی بازار میں قیمت کی کس سطح پر بہم رسانی کرتی ہیں؟ ایسے بازار میں توازنی تعداد کس طرح متعین ہوتی ہے؟
8۔ ایک بازار میں فرموں کی توازنی تعداد کس طرح متعین ہوتی ہے جب انھیں آزادانہ داخلے اور اخراج کی اجازت ہو؟
9۔ توازنی مقدار اور قیمت کس طرح متاثر ہوتی ہے جب صارفین کی آمدنی میں
(a) اضافہ ہوتا ہے۔ (b) کمی ہوتی ہے۔
10۔ رسد وطلب خطوط کا استعمال کرتے ہوئے دکھائیے کہ جوتوں کی قیمتوں میں اضافہ خرید و فروخت کیے جانے والے موزوں کی جوڑی کی قیمتوں کو اور مقدار پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے؟
11۔ کافی کی قیمت میں تبدیلی، چائے کی قیمت توازن کو کس طرح متاثر کرے گا۔ایک ڈائیگرام کے ذریعہ توازنی مقدار پر پڑنے والے اثر کو بھی سمجھا ئیے۔
12۔ جب پیداوارمیں استعمال درآمدوں کی قیمتوں میں تبدیلی ہوتی ہے تو کسی شے کی قیمت توازن اور مقدار کس طرح تبدیل ہوتی ہے؟
13۔ اگر شے Xکی متبادل (y)کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو شے Xکی قیمت توازن اور مقدار پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے؟
14۔ بازار فرموں کی تعداد متعین ہونے پر آزادانہ داخلے اور اخراج کی صورت میں خط طلب کی تبدیلی کے توازن اثر کا موازنہ کیجیے۔
15۔ مانگ اور رسد خطوط دونوں کے دائیں طرف شفٹ کا قیمت توازن اور مقدار پر اثر کو ایک ڈائیگرام کے ذریعہ سمجھائیے۔
16۔ قیمت توازن اور مقدار کس طرح متاثر ہوئی ہے جب
(a) مانگ اور رسد دونوں خطوط یکساں سمت میں تبدیل ہوتے ہیں
(b) مانگ اور رسدخطوط مخالف سمت میں تبدیل ہوتے ہیں
17۔ بازار اشیا میں اور محنت بازار میں مانگ اور رسد خطوط کس طرح مختلف ہوتے ہیں؟
18۔ ایک مکمل مسابقتی بازار میں محنت کی انسب مقدار کس طرح متعین ہوتی ہے؟
19۔ ایک مکمل مسابقتی محنت بازارمیں شرح مزدوری کس طرح متعین ہوتی ہے؟
20۔ کیا آپ کسی ایسی شے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جس پر ہندوستان میں بیش ترین قیمت لاگو ہے؟ متعین بیش ترین قیمت حد کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں؟
21۔ خط طلب میں تبدیلی کی قیمت پر زیادہ اور مقدار پر اثر کم پڑتا ہے جب کہ فرموں کی تعداد ثابت رہتی ہے۔صورت حال کا موازنہ کریں جب آزادانہ داخلے اور اخراج کی اجازت ہو۔تشریح کرکیجیے۔
22۔ مان لیجیے ایک مکمل مسابقتی بازار میں شے xکی مانگ اور خط رسد خطوط درج ذیل دیے گئے ہیں:
فرض کیجیے بازار میں یکساں یا مماثل فرمیں ہیں۔ 15روپیے سے کم کسی بھی قیمت پر شے xکی بازار رسد کے صفر ہونے کے سبب کی شناخت کیجیے۔
اس شے کے لیے توازنی قیمت کیا ہوگی؟ توازن کی صورت میں x کی کتنی مقدار کی پیداوار ہوگی؟
23۔ مشق 22میں دئیے گئے یکساں خط یکساں خط طلب کو لیتے ہوئے، آئیے فرموں کو شے x کی پیداوار کرنے کے آزادانہ داخلے اور اخراج کی اجازت دیتے ہیں۔یہ بھی مان لیجیے کہ بازار یکساں فرموں پر مشتمل ہے جو شے xکی پیداوار کرتی ہیں۔ ایک اکیلی فرم کا خط رسد درج ذیل ہے۔
(a P = 20کی کیا اہمیت ہے؟
(b) بازار میں xکے لیے کس قیمت پر توازن ہوگا؟ اپنے جواب کی وجہ بتائیے۔
(c) توازنی مقدار اور فرموں کی تعداد کا شمار کیجیے۔
24۔ مان لیجیے کہ نمک کی مانگ اور رسد کے خطوط اس طرح دیے گئے ہیں۔
qD = 1,000 – p qs = 700 + 2p
(a) قیمت توازن اور مقدار معلوم کیجیے۔
(b) اب مان لیجیے کہ نمک کی پیداوار کے لیے استعمال کیے گئے ایک درآمد کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے اورنیا خط رسد ہے:
qs = 400 + 2p
قیمت توازن اور مقدار کس طرح تبدیل ہوتی ہے؟ کیا تبدیلی ہوتی ہے؟ کیا تبدیلی آپ کی توقع کے مطابق ہے؟
c) مان لیجیے، حکومت نمک کی فروخت پر 3روپیے فی اکائی ٹیکس لگادیتی ہے۔یہ قیمت توازن اور مقدارکو کس طرح متاثر کرے گا؟
25۔ مان لیجیے کہ اپارٹمنٹوں کے لیے بازار کا مقررہ کرایہ اتنا زیادہ ہے کہ عام لوگ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔اگرحکومت کرائے پر اپارٹمنٹ لینے والوں کی مدد کے لیے کرایہ کنٹرول نافذکرتی ہے تو اس کا اپارٹمنٹ کے بازار پر کیا اثر پڑے گا؟