Skip to content

Juzvimaashiatkatarruf-006

باب 6

1

غیرمسابقتی بازار

 (Non-competitive Markets)

ہمیں یاد ہے کہ مکمل مسابقتی بازار کی نظریہ سازی بازار کی ایک ساخت کے طور پر کی گئی تھی جہاں صارفین اورفرمیں دونوں قیمت کے اختیار کنندگان تھے۔باب 4میں ایسی صورت حال میں فرم کے برتاؤ کا بیان کیا گیا تھا۔ہم نے غورکیا تھا کہ ایک مکمل مسابقتی بازار کی ساخت ایک ایسے بازار کی طرح ہوتی ہے، جہاں درج ذیل شرائط کو پورا کیا جاتا ہے:
(i)     جہاں فرم اور شے کے صارفین کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔سبھی فرموں کے کل ماحصل کے مقابل پر ایک فرم کے ذریعہ فروخت کی گئی پیداوار کی مقدار برائے نام یعنی بہت کم ہوتی ہے اور اسی طرح ہر ایک صارف کے ذریعہ خریدی گئی مقدار مجموعی طور پر سبھی صارفین کے ذریعہ خریدی گئی مقدار کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے؛
(ii)    شے کی پیداوار کرنے یا اسے بند کرکے روک دینے کے لیے فرمیں آزاد ہوتی ہے؛
(iii)    کسی صنعت میں ہر ایک فرم کے ذریعہ پیدا کیا گیا ماحصل اور دیگر فرم کے پیدا کیے گئے ماحصل میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا ہے اور کسی دیگر صنعت کا برآمدپر اس برآمد کا بدل نہیں ہوسکتے؛ اور
(iv)   صارفین اور فرمیں دونوں کے ماحصل ، مادخل اور ان کی قیمتوں کی پوری واقفیت ہوتی ہے۔
        اس باب میں ہم ان صورت حال کا ذکر کریں گے جہاں پر ان میں سے ایک یا ایک سے زیادہ شرائط کی تکمیل نہیں ہوتی۔اگر مفروضہ (i)اور (ii)کو چھوڑ دیا جائے تو ہمیں بازار کی                 جوساخت حاصل ہوتی ہے اسے اجارہ داری یا محدود مقابلہ آرائی کہتے ہیں۔اگر مفروضہ (iii) کو چھوڑدیا جائے تو ہمیں بازار کی ایک ایسی ساخت حاصل ہوتی ہے جو اجارہ دارانہ مسابقت کہلاتی         ہے۔مفروضہ(iv) کو چھوڑنے پر اسے جوکھم کی معاشیات کے طور پر لیا جاتا ہے۔اس باب میں ہم اجارہ داری،اجارہ دارانہ مسابقت اورمحدود مقابلہ آرائی ساخت کا جائزہ لیں گے۔

6.1  شے بازار میں سادہ اجارہ داری (Simple Monopoly in the Commodity Makret)

ایک بازارکی ساخت جس میں ایک اکیلا فروخت کار ہوتا ہے اجارہ داری کہلاتی ہے۔اس ایک جملے کی تعریف میں چھپی شرائط کو واضح طور پر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ایک اجارہ دارانہ بازار کی ساخت میں یہ ضروری ہے کہ کسی مخصوص شے کا واحد پیداکار ہو اس شے کی کوئی متبادل شے نہ ہو اور اس صورت کو لمبے وقت تک بنائے رکھنے کے کافی انتظام کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کسی دیگر فرم کو بازار میں داخلے کے لیے شے کی فرو خت کرنے سے روکا جاسکے گا۔ 
بازارکی دیگر ساختوں کے مقابل شے بازار میں اجارہ داری کے نتیجے میں توازن میں فرق کی جانچ کے سلسلے میں ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ دیگر سبھی بازار مکمل مسابقت کی حالت میں ہوتے ہیں۔خاص طور پر یہ ضرورت ہوگی کہ (i)مخصوص شے کی بازار کی مانگ کی جانب مکمل مسابقت ہو یعنی سبھی صارفین قیمت کو قبول کرنے والے ہوں؛ اور (ii) اس شے کی پیداوار میں استعمال ہونے والے مادخل کا بازار رسد اور مانگ دونوں رخ سے پوری طرح مسابقتی ہو۔
اگر درج بالا سبھی شرائط کی تکمیل ہورہی ہو تو ہم اس صورت حال کو واحد شے بازار میں اجارہ کے طور پر متعین کرسکتے ہیں۔

2

مسابقتی برتاؤ بنام مسابقتی ساخت (Competitive Behaviour versus Competitive Structure)

مکمل مسابقتی بازار کی تعریف ایک ایسے بازار کے طور پر کی گئی ہے۔جہاں بازار میں پیداوار کی فروخت جس قیمت پر ہوتی ہے، اس قیمت کو متاثر کرنے میں انفرادی فرم نا اہل ہوتی ہے۔چونکہ انفرادی فرم کے ماحصل کی کسی بھی سطح کے لیے قیمت یکساں رہتی ہے، اس لیے ایسی فرم کسی بھی مقدار کو فروخت کرپاتی ہے جتنی مقدار کی وہ دی ہوئی بازار قیمت پر فروخت کرنے کی خواہش مند ہیں، لہٰذا اسے اپنی پیداوار کے لیے بازار حاصل کرنے کے لیے دیگر فرموں سے مسابقت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ واضح طور پر اس تصور کے برعکس ہے جو عام طور پر مسابقت یا مسابقتی برتاؤ کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ کوک اور پیپسی فروخت کی زیادہ اونچی سطح یا بازار میں زیادہ حصہ داری حاصل کرنے کے لیے کئی طرح سے ایک دوسرے کی مسابقت کرتے ہیں۔اس کے برخلاف، ہم انفرادی کسانوں کو بہت زیادہ مقدار میں اناج فروخت کرنے کے لیے آپس میں مسابقت کرتے ہوئے نہیں دیکھتے ہیں۔ایسا اس لیے ہے کیونکہ کوک اور پیپسی جیسے مشروبات کی بازار قیمت پر اثر ڈالنے کی استعداد ہے جبکہ انفرادی کسان کے پاس نہیں ہے۔
لہٰذا مسابقتی برتاؤ اور مسابقتی بازار ساخت عام طور پر معکوسی طور پر متعلق ہوتے ہیں، بازار ساخت زیادہ مسابقتی ہوتی ہے تو فرموں کا برتاؤ کم مسابقتی ہوتا ہے۔دوسری طرف بازار ساخت کم مسابقتی ہوتی ہے تو مسابقتی فرموں کا برتاؤ ایک دوسرے کے تئیں زیادہ مسابقتی ہوتا ہے۔خالص اجارہ داری زیادہ واضح استثنیٰ ہے۔

 6.1.1   مانگ بازارکا خط اوسط خط محاصل ہے (Market Demand Curve is the Average Revenue Curve)

3
مانگ بازار خط: اس مقدار کو دکھاتا ہے جو صارف مختلف قیمتوں پر مجموعی طور پر خریدنا چاہتے ہیں

شکل 6.1میں مانگ بازار خط دکھایاگیاہے جسے صارف مختلف قیمتوں پر مجموعی طور پر خریدنے کا خواہش مند ہے۔اگربازار قیمت اونچی سطح p0 پر ہو تو صارف کم مقدار q0 خریدنے کے خواہش مند ہوں گے۔ دوسری طرف، اگر بازار قیمت نچلی سطح p1 ہوتو صارف زیادہ مقدار q1خریدنے کے خواہش مند ہوں گے۔ یعنی قیمت بازار میں صارف کے ذریعہ مانگ کی گئی مقدار کو متاثر کرتی ہے۔اسے اس طرح بھی ظاہرکیا جاسکتا ہے کہ صارفین کے ذریعہ خریدی گئی مقدار قیمت کا گھٹتا تفاعل ہے۔ اجارہ دارفرم کے لیے درج بالا دلیل خود معکوس سمت کو ظاہر کرتی ہے۔ بڑی مقدار میں فروخت کرنے کی اجارہ دار فرم کا فیصلہ کم قیمت پر ہی ممکن ہے۔اس کے برعکس اگر اجارہ دار فرم کم مقدار میں فروخت کرنے کے لیے شے کو بازار میں لائے، تو اس کے لیے اونچی قیمت پر شے کو فروخت کرنا ممکن ہوگا لہٰذا اجارہ دار فرم کے لیے قیمت، فروخت کی گئی اشیاکی مقدار پر انحصار کرتی ہے۔اسے اس طرح بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیمت فروخت کی گئی مقدار کا گھٹتا تفاعل ہے۔لہٰذا اجارہ دار فرم کے لیے مانگ بازار خط تکمیل کی مختلف مقدار کے لیے دستیاب قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔اس بیان میں یہ خیال ظاہر ہوا ہے کہ اجارہ دار فرم کو مانگ بازار خط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
درج بالا تصور پر ایک دوسرے زاویے سے غور کیا جاسکتا ہے۔چونکہ یہ مان لیا جاتا ہے کہ فرم کو خط مانگ بازار کی پوری معلومات ہے، اس لیے اجارہ دار فرم جس قیمت پر اپنی شے فروخت کرنا چاہتی ہے اور شے کی جتنی مقدار فروخت کرنا چاہتی ہے، دونوں کے بارے میں فیصلہ لے سکتی ہے۔مثال کے لیے شکل 6.1 کی دوبارہ جانچ کرنے پر ہم دیکھتے ہیں کہ اجارہ دار فرم DDخط کی شکل سے واقف رہتی ہے اس لیے وہ poقیمت پر شے کو فروخت کرے گی کیونکہ po قیمت پر صارف qo کی مقدار خریدنے کی خواہش مند ہے۔یہ خیال اس نعرے کوتقویت دیتا ہے کہ’’ اجارہ دار فرم قیمت ساز ہوتی ہے‘‘
مکمل مسابقتی بازار میں فرم کے برعکس ساخت زیادہ واضح ہونی چاہیے۔ اس صورت میں فرم بازار میں اتنی مقدار میں شے لائے گی جتنی لانے کی وہ خواہش مند ہوگی اور اسے اسی قیمت پر فروخت کرے گی۔چونکہ اجارہ دار فرم کے لیے ایسا نہیں ہوتا، اس لیے شے کی فروخت کے ذریعہ حاصل رقم کی مقدار کا پھر جائزہ لینا ہوگا۔

ہم ایک شیڈول، ایک گراف اور ایک سیدھے خط طلب کی سہل مساوات کا استعمال کرکے اس کی مشق کریں، ایک مثال کے طور پر مانگ کے تفاعل کو درج ذیل مساوات کی شکل میں مان لیں۔
                        q = 20 - 2 p
جدول  6.1:قیمتیں اور محاصل
MR AR TR p q
-
9.5
8.5
7.5
6.5
5.5
4.5
3.5
2.5
1.5
0.5
1.5-
2.5-


-
9.55
9
8.5
8
7.5
7
6.5
6
5.5
5
4.5
4
3.5


0
9.5
18
25.5
32
37.5
42
45.5
48
49.5
50
49.5
48
45.5


10
9.5
9
8.5
8
7.5
7
6.5
6
5.5
5
4.5
4
3.5



0
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13



جہاں q فروخت کی گئی مقدار اور Pروپیے میں قیمت ہے۔اس مساوات کو pکی شکل میں اس طرح لکھا جاسکتا ہے:
p = 10 - 0.5q
0تا 13سے qکی مختلف اقدار کو بدل کرنے پر 10سے 3.5تک کی قیمت حاصل کرتے ہیں، انھیں   جدول 6.1کے کالم qاور pمیں دکھایا گیا ہے۔ان اعداد کوشکل 6.2میں ایک گراف میں ظاہر کیا گیا ہے جس میں قیمت عمودی محور پر اور مقدار افقی محور پر دکھائی گئی ہے۔شے کی مختلف مقدار کے لیے دستیاب قیمتوں کو خط مستقیم Dسے دکھایا گیا ہے۔
شے کی فروخت سے فرم کے ذریعہ حاصل کل محاصل  (TR) پیداوار قیمت اور فروخت کی گئی مقدار کے حاصل کے بقدر ہوتا ہے۔اجارہ دار فرم کے معاملے میں کل محاصل خط مستقیم میں نہیں ہوتے۔اس کی شکل خط طلب کی شکل پر منحصر ہوتی ہے۔ریاضی کے اصول  پر کل محاصل کی فروخت کی گئی مقدار کے تفاعل کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔لہٰذا ہماری مثال میں:
5   
یہ خط مستقیم کی مساوات نہیں ہے۔یہ ایک مربعی مساوات ہے جس میں مربع والی رسم میں ایک منفی سر ہوتا ہے۔ اس طرح کے مساوات سے ایک معکوس عمودی مکافی  (Parabola) کا اظہار ہوتا ہے۔

6
کل اوسط اور حاشیائی برآمد  محاصل خطوط کل محاصل، اوسط محاصل اور حاشیائی محاصل خطوط یہاں دکھائے گئے ہیں
سوال: ۔  جدول 6.1میں q=10پرMRصفر کے برابرکیوں نہیں ہے؟ یہ اس لیے کہ ہم MRکی پیمائش مجرد طریقے سے کررہے ہیں یعنی یونٹ 9سے براہ راست یونٹ10پرآتے ہیں۔ اگرآپ10کے قریبqکی قدر یعنی 9.5،9.7یا9.9کے لیے TRکی دوبارہ تحسیب کریں توآپ 50کے قریب پہنچ جائیں گے۔مثال کے طورپر جب 9.9=qہوتا تو49.995=TRہوگا۔
جدول6.1میں کل حاصل کالم pاور qکالموں کے حاصل کی نمائندگی کرتا ہے۔اس پر غور کیا جاسکتا ہے کہ جیسے جیسے مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، کل حاصل میں بھی 50روپیے تک اضافہ ہوتا ہے جب تک ماحصل 10اکائی ہوجاتا ہے۔برآمد کی اس سطح کے بعد کل محاصل میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی شکل 6.2میں دکھائی دیتا ہے۔
فرم کے ذریعہ شے کی فی اکائی فروخت سے حاصل آمدنی اوسط کومحاصل کہتے ہیں،ریاضیاتی طور پر AR=TR/q۔ جدول 6.1میں اوسط محاصل کالم کل محاصل (TR) کی قدر فراہم کرتا ہے۔ یہ دیکھاجاسکتا ہے کہ اوسط محاصل قدر p کالم کی قدر جیسی رہتی ہے۔صرف یہی توقع کی جاتی ہے۔
7
چونکہ  TR = pxq،  اسے ARمساوات میں تحریر کرنے پر 
8
جیسا کہ پہلے دیکھا گیا ہے، pکی قدر مانگ بازار خط کو ظاہر کرتی ہے جیسا کہ شکل 6.2میں دکھایا گیا ہے۔لہٰذا اوسط محاصل کا خط مانگ بازار خط پر ہی بنے گا۔اس بیان سے ظاہر ہے کہ اجارہ دار فرم کے لیے مانگ بازار خط ہی اوسط محاصل خط ہوتا ہے۔
گراف کے طور پر فروخت کی گئی مقدار کی کسی بھی سطح کے لیے اوسط محاصل (AR) کی قدر کل محاصل قدر TRخط سے حاصل کیا جاسکتی ہے۔اسے شکل6.3میں دی گئی سادہ ساخت کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔جہاں، جب مقدار6دی گئی اکائیاںہیں تب افقی محور پر قدر سے 6سے ہوکر ایک عمودی خط گزرتا ہے۔یہ خط کل محاصل خط کو 'a'کے ذریعہ نشان زد42کے برابر کی اونچائی پر کاٹے گا۔ مبدا0اور نقطہ'a'کوملاتے ہوئے ایک سلسلے میں لائن کھینچیں، نقطہ آغاز سے کسی ایک نقطے تک اس کرن کے ڈھلواں سے کل محاصل پر اوسط محاصل کی قدر حاصل ہوتی ہے اس کرن کی ڈھلان7کے برابر ہے۔ لہٰذا اوسط محاصل کی قدر 7ہے۔اس کی تصدیق جدول 6.1 سے بھی کی جاسکتی ہے۔

9

اوسط محاصل اور کل محاصل خط کے درمیان تعلق: برآمد کی کسی بھی سطح پر اوسط محاصل کو نقطہ آغاز اور زیر غور برآمد کے موافق کل محاصل خط پر ایک متعین نقطہ کو جوڑنے والے خط کے ڈھلواں کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔

6.1.2  کل، اوسط اور حاشیائی محاصل(Total, Average and Marginal Revenues)  

جدول6.1کو غور سے دیکھنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مقدار میں ہر ایک اکائی اضافہ کے لیے کل محاصل TRمیں اسی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔پہلی اکائی کی فروخت سے کل محاصل میں 0روپیے سے تبدیلی ہوتی ہے، جب مقدار 0اکائی سے بڑھ کر 1اکائی ہوتی ہے تو کل محاصل میں 9.5 روپیے کی تبدیلی ہوتی ہے ۔ یعنی 2.5روپیے بڑھتا ہے ۔آگے جیسے جیسے مقدار میں اضافہ ہوتا جاتا ہے کل محاصل میں اضافہ کم ہوتا ہے۔مثال کے طور پرشے کی پانچویں اکائی کے لیے کل محاصل میں 5.5روپیے (5ویں اکائی کے لیے  37.5 روپیے 4اکائی کا 32روپیے گھٹانے پر) کا اضافہ ہوتا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ پیداوار کی 10اکائی مابعد کل محاصل میں کمی ہونے لگتی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ 10اکائیوں سے زیادہ مقدار کی فروخت سے کل محاصل کی سطح 50روپیے سے کم ہوگی اس طرح 12ویں اکائی سے کل محاصل میں اضافہ48-49.50=-1.50روپیے یعنی 1.50 روپیے کی کمی درج ہوتی ہے۔
ایک اضافی اکائی کی فروخت سے کل محاصل میں تبدیلی کو حاشیائی محاصل یا آمدنی کہتے ہیں۔جدول 6.1میں اسے آخری کالم میں دکھایا گیا ہے۔ایک کے بعد حاشیائی محاصل کالم کی ہر قطار کی قدر اس قدر کی کل محاصل قدر سے پچھلی قطار کی محاصل قدر گھٹانے پر حاصل قدر کے مساوی ہوتی ہے۔پچھلے پیراگراف میں یہ دکھایا گیا تھا کہ جیسے جیسے فروخت کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے کل محاصل (آمدنی) میں بھی دھیرے دھیرے اضافہ ہوتا جاتا ہے اور 10ویں اکائی کے بعد اس میں کمی آنی شروع ہوتی ہے۔اس کا مشاہدہ حاشیائی محاصل کی قدر کے ذریعہ بھی کیا جاسکتا ہے جو کہ مقدار qمیں اضافہ ہونے پر گھٹتی ہے۔شکل6.2 میں حاشیائی محاصل کو نقطے دار خط کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔
گرافی طور پر خط حاشیائی محاصل قدر کو کل محاصل خط کی ڈھلوان  (slope) کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔کسی ہموار خط کے ڈھلان کی تعریف اس نقطے پر خط کے مماس کی ڈھلان کے طور پر کی جاتی ہے۔اس کا اظہار شکل 6.4 میں کیا گیا ہے۔کل محاصل (TR)خط پر نقطہ پر حاشیائی محاصل قدر کو خط L1  اور نقطہ  'b'  پر خط  L2 کی ڈھلان مثبت ہے لیکن خط  L2  خط  L1سے زیادہ سپاٹ ہے یعنی اس کی ڈھلان کم ہے۔جب شے کی 10اکائیوں کی فروخت کی جاتی ہے تو کل محاصل کا مماس افقی ہوتا ہے۔یعنی اس کی ڈھلان صفر ہوتی ہے۔ایک ہی مقدار کے لیے حاشیائی محاصل کی قدر صفر ہوتی ہے۔کل خط محاصل پر نقطہ19پر مماس کی ڈھلان منفی ہوتا ہے، حاشیائی محاصل قدر منفی ہوتی ہے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جب کل محاصل میں اضافہ ہوتا ہے تو حاشیائی محاصل مثبت ہوتا ہے اور جب کل محاصل میں کمی پیدا ہوتی ہے تو حاشیائی محاصل منفی ہوتی ہے اوسط محاصل اور حاشیائی محاصل خطوط میں دوسرا رشتہ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

10

 حاشیائی محاصل اور کل محاصل خطوط کے درمیان رشتہ: برآمد کی کسی بھی سطح پر حاشیائی محاصل کو برآمد کی اس سطح پر کل محاصل خط کی ڈھلان کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔

شکل 6.2 میں ظاہر ہے کہ حاشیائی محاصل خط اوسط محاصل خط کے نیچے رہتا ہے جدول 6.1میں بھی اسے دیکھاجاسکتا ہے جہاں برآید کی کسی بھی سطح پر حاشیائی محاصل قدر اوسط محاصل کی موافق قدر سے کم ہے۔ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اگر اوسط محاصل خط (یعنی خط طلب) بہت زیادہ ڈھلواں ہوتا ہے تو حاشیائی خط محاصل اوسط محاصل خط سے زیادہ نیچے رہتا ہے ۔دوسری طرف اگر اوسط محاصل خط کی ڈھلان کم ہوتی ہے تو اوسط محاصل خط اور حاشیائی محاصل کے خط کے درمیان عمودی دوری کم ہوتی ہے۔شکل 6.5 (a)میں اوسط محاصل خط زیادہ سپاٹ ہے جبکہ 6.5 (b) میں اوسط محاصل خط کا ڈھلان زیادہ ہے۔شے کی یکساں اکائیوں کے لیے اوسط محاصل اور حاشیائی محاصل کے درمیان فرق پینل(a)میں پینل (b)کی نسبت کم ہے۔
11
 اوسط محاصل اور حاشیائی محاصل خطوط کے درمیان رشتہ: اگر اوسط محاصل خط کی ڈھلان زیادہ ہو تو حاشیائی محاصل خط اوسط محاصل خط سے بہت نیچے ہوتا ہے۔

6.1.3 حاشیائی محاصل اور مانگ کی قیمت لچک (Marginal Revenue and Price Elasticity of Demand)  

حاشیائی محاصل کی قدر کا تعلق مانگ کی قیمت لچک کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔یہاں تفصیلی تعلق نہیں اخذ کیا گیاہے۔ایک ہی پہلو پر توجہ دینا کافی ہے: جب حاشیائی محاصل کی قدر مثبت ہوتی ہے تو مانگ کی قیمت لچک یا لچک سے زیادہ ہوتی ہے اور جب حاشیائی محاصل کی قدر منفی ہوتی ہے تو اکائی سے کم ہوجاتی ہے۔اسے جدول 6.2 میں دیکھا جاسکتا ہے جس میں وہی اعداد وشمار دکھائے گئے ہیں جو جدول 6.1 میں ہے۔جیسے جیسے شے کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، حاشیائی محاصل کی قدر گھٹتی ہے اور مانگ کی قیمت لچک کی قدر بھی بہت کم ہوجاتی ہے۔یاد کیجیے کے خط طلب کی لچک اس نقطے پر ہوتی ہے جہاں قیمت لچک اکائی سے زیادہ ہوتی ہے، یہ اس نقطے پر ہوتی ہے جہاں قیمت لچک اکائی سے زیادہ ہوتی ہے، یہ اس نقطے پر بے لچک ہوتی ہے جہاں قیمت لچک اکائی سے کم ہوتی ہے اور جب قیمت لچک 1کے برابر ہوتی ہے تو خط طلب اکائی لچک میں ہوتی ہے۔جدول 6.2میں دکھایا گیا ہے کہ جب مقدار 10اکائیوں سے کم ہے تب حاشیائی محاصل مثبت ہوتا ہے اور خط طلب لچک دار ہے اور جب مقدار 10اکائیوں سے زیادہ ہے تب مانگ بے لچک ہے۔مقدار کی 10اکائی کی سطح پر خط طلب لچک دار ہے۔

6.1.4 اجارہ دار فرم کا قلیل مدتی توازن (Short Run Equilibrium of the Monopoly Firm)

مکمل مسابقہ کی حالت میں ہم اجارہ دار فرم کو زیادہ سے زیادہ منافع کمانے والی فرم کی شکل میں دیکھتے ہیں۔اس سیکشن میں ہم زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے اس برتاؤ کا تجزیہ اجارہ دار فرم کے ذریعہ پیداوار کی مقدار اور قیمت کو جس پر اس کی فروخت کی جاتی ہے ، متعین کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ہم مان لیں گے کہ ایک فرم تیار شے کی مقدار کے ذخیرہ کو قائم نہیں رکھتی ہے اور کل تیار مقدار کو فروخت کے لیے پیش کرتی ہے۔

صفر لاگت کی عام صورت(The Simple Case of Zero Cost)

مان لیجیے کہ کوئی گاؤں دیگر گاؤں سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔اس گاؤں میں ایک ہی کنواں ہے جس میں پانی دستیاب رہتا ہے۔ سبھی باشندے پانی کی ضرورت کے لیے پوری طرح اسی کنویں کے پانی پر منحصر ہیں کیونکہ وہ کنویں میں سے پانی نکالنے کے لیے لوگوں کو روکنے میں کامیاب ہے لوگوں کے پاس پانی خریدنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔۔اس کنویں سے پانی خریدنے والے خود ہی پانی نکالتے ہیں۔ کنویں کا مالک اس طرح ایک اجارہ دار فرم ہے جسے شے پیداکرنے میں صفر لاگت آتی ہے۔ ہم اس اجارہ داری کی صورت کا تجزیہ فروخت جہاں لاگت صفر ہے، اس پانی کی مقدار اور اس کی قیمت جس پر فروخت کیا جاتا ہے، کا تعین کرنے کے لیے کریں گے۔
جدول 6.2 حاشیائی آمدنی اور قیمت لوچ
q P
MR
حاشیائی آمدنی
لوچ
0
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13

10
9.5
9
8.5
8
7.5
7
6.5
6
5.5
4.5
4
3.5


-
9.5
8.5
7.5
6.5
5.5
4.5
3.5
2.5
1.5
0.5
1.5-
2.5-


-
19
9
5.67
4
3
2.33
1.86
1.5
1.22
1
0.82
0.67
0.54


شکل 6.6 میں 6.2کی طرح ہی کل محاصل، اوسط محاصل اور حاشیائی محاصل خطوط کو دکھایا گیا ہے۔فرم کے ذریعہ حاصل کیا گیا منافع فرم کی آمدنی سے واقع ہونے والی لاگت کو گھٹانے پر ملے محاصل کے برابر ہوتا ہے یعنی منافع =کل محاصل(TR) -- کل لاگت(TC) چونکہ اس صورت میں TCصفر ہے تب منافع افقی محور تک کے عمودی خط حصے کی لمبائی کے ذریعہ دی گئی ہے۔ 

13
صفرلاگت کے ساتھ اجارہ داری کا قلیل مدتی توازن: برآمد کی جس سطح کے لیے کل محاصل زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے ۔اس سطح پر اجارہ داری کا منافع زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے۔

جس قیمت پر یہ ماحصل فروخت ہوگا صارف مجموعی طور پر اسی قیمت کی ادائیگی کرنے کا خواہش مند ہوگا۔اسے مانگ بازار خط Dکے ذریعہ دیا گیا ہے۔10 اکائی کی برآمد سطح پراس کی قیمت 5روپیے ہے۔چونکہ اجارہ دار فرم کے مانگ بازار خط ہی حاشیائی محاصل خط ہے اس لیے فرم کے ذریعہ حاصل اوسط محاصل اور فروخت کی مقدار کے حاصل ضرب یعنی  5 روپیے  10 اکائیاں=50 روپیے کے ذریعہ دیا گیا ہے یہ گہرے رنگ کے مستطیل کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔
مکمل مسابقت کے ساتھ موازنہ (Comparison with Perfect Competition)درج بالا نتیجے کا موازنہ ہم اس نتیجے سے کریں گے جو مکمل مسابقتی بازار کی ساخت سے حاصل ہوگا۔مان لیجیے کہ اس طرح کے بے شمار کنویں ہیں۔اگر ایک کنویں کا مالک 50 روپیے منافع حاصل کرنے کے لیے پانی ہر ایک اکائی کے لیے 5 روپیے فی اکائی قیمت لگاتا ہے ۔ایک دوسرے کنویں کا مالک یہ سوچتاہے کہ صارف کم شرح پر پانی کو خریدنا چاہتے ہیں، لہٰذا وہ 5روپیے سے کم یعنی 4روپیے فی اکائی پانی کی قیمت مقرر کرتا ہے۔اب صارف دوسرے پانی بیچنے والے سے پانی خریدنے کا فیصلہ کریں گے اور 12 اکائی مقدار کی پانی کی مانگ کریں گے جس سے 48 روپیے کل محاصل کی تخلیق ہوگی۔اس طرح ایک اور پانی فروخت کرنے والا محاصل کے لیے اور زیادہ کم قیمت یعنی 3روپیے پر پانی فروخت کرنا چاہتا ہے اور پانی کی 14اکائیوں سے 42روپیے آمدنی حاصل کرتا ہے چونکہ فرموں کی تعداد بے شمار ہے، اس لیے قیمت لامحدود طور پر نیچے گرے گی اور تب تک گرے گی جب تک کہ صفر نہ ہوجائے، اس برآمد پر یعنی 20 اکائی پانی کو فروخت کیا جائے گا اور منافع صفر ہوجائے گا۔
موازنہ کے ذریعہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مکمل مسابقتی توازن کے نتیجے میں کم قیمت پر زیادہ مقدار کی فروخت ہوتی ہے۔اب ہم پیداوار کی مثبت لاگت والی عام صورت پر غور کرتے ہیں۔

مثبت لاگت کا تعارف(Introducing Positive Costs)                                    

کل خطوط کے استعمال کے ذریعہ تجزیہ

(Analysing Using Total Curves)

باب 3 میں ہم نے لاگت کے تصور کل لاگت خط کی شکل پرغور کیا ہے جسے شکل6.7میں کل لاگت (TC)کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔اس ڈائیگرام میں کل محاصل (TR) خط کو بھی دکھایا گیا ہے۔کل محاصل سے کل لاگت کو گھٹانے پرجوباقی بچتا ہے فرم کا منافع ہے۔شکل میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جب مقدار  q1 کی پیداوار ہوتی ہے تو کل محاصل TR1 اور کل لاگت TC1ہے۔لہٰذا TR1--  TC1کا فرق حاصل کیا گیا منافع ہے۔اسے جزوخط ABکی لمبائی یعنی برآمدq1 سطح پر کل محاصل اور کل لاگت خطوط کے درمیان کی عمودی دوری سے دکھایا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ عمودی فاصلہ بر آمد کی مختلف سطحوں کے لیے بدلتا رہتا ہے۔جب برآمد سطح q2 سے کم ہوتو کل لاگت خط کل محاصل سے اوپر واقع ہوگا۔یعنی کل لاگت کل محاصل سے زیادہ ہوگی۔لہٰذا منافع منفی ہوتا ہے اور فرم کو نقصان ہوتا ہے۔

14
 کل لاگت کی اصطلاح میں اجارہ دار کا توازن: اجارہ دار کا فائدہ برآمد  کی اس  سطح پر زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے جس پر کل محاصل اور کل لاگت کے درمیان عمودی فاصل زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے اور کل ماصل خط کل لاگت کے اوپر واقع ہوتا ہے۔

یہی صورتq3 سے زیادہ برآمد سطح کے لیے بھی موجود رہتی ہے۔لہٰذا فرم کل محاصل خط اور کل لاگت کے درمیان عمودی پیداوار سطحوں q2اورq3 ہی مثبت منافع کما سکتی ہے۔ اجارہ دار فرم پیداوار کی اس سطح کو چنتی ہے جس سے اس کا منافع پیش ترین ہوتا ہے۔ پیداوار میں وہ سطح ہوگی جس کے لیے کل محاصلTRاور کل لاگت TCکے درمیان فاصلہ زیادہ سے زیادہ ہوگا اور کل محاصل خط کل لاگت خط کے اوپر واقع ہوگا، یعنی کل محاصل۔کل لاگت زیادہ سے زیادہ ہے۔ اب برآمدq0 کی سطح پر ہوتا ہے۔اگر کل محاصل۔کل لاگت کے فرق شمار کیا جائے اور ایک گراف کی شکل میں اسے دکھایا جائے تو یہ شکل 6.7میں درج منافع جیسا ہوگا۔یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ پیداوار سطحq0 پر خط پر اس کی منافع کی قدر زیادہ سے زیادہ ہوگی۔

15
اوسط اور حاشیائی خط کی جزونسبت میں اجارہ داری کا توازن: اجارہ دار کا منافع برابر  زیاد ہ ہوتا ہے جس کے لیے حاشیائی محاصل (MR) =حاشیائی لاگت (MR) اور حاشیائی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔

جس قیمت پر اس اجارہ دارماحصل کو فروخت کیا جاتا ہے صارف اشیا کی اسq0 مقدارکے لیے اس قیمت کو ادا کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔لہٰذا اجارہ دارفرم خط طلب پر متعلقہ سطح مقدارq0 پر قیمت تعین کرے گی۔

اوسط اور حاشیائی خطوط کے استعمال کے ذریعہ (Using Average and Marginal Curves)

درج بالا تجزیے کو اوسط اور حاشیائی محاصل اور اوسط اور حاشیائی لاگت کے استعمال کے ذریعہ انجام دیاجاسکتا ہے۔اگرچہ یہ طریقہ تھوڑا پیچیدہ ہے لیکن اس سے عمل کو زیادہ واضح طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
شکل 6.8 میں اوسط لاگت (AC) اور اوسط متغیرہ لاگت (AVC) اور حاشیائی لاگت خطوط کو مانگ (اوسط محاصل) خط اور حاشیائی محاصل خط کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ q0 کے نیچے برآمد سطح پر حاشیائی محاصل(MR) سطح حاشیائی لاگت (MC) سطح سے اونچی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ شے کی ایک اضافہ اکائی کے فروخت سے حاصل کل محاصل میں اضافہ اس اضافی اکائی کی پیداوارلاگت میں اضافے سے زیادہ ہوتا ہے۔اس سے مراد ہے کہ ماحصل (output) کی اضافی اکائی سے اضافی منافع کی تخلیق ہوگی۔چونکہ منافع میں تبدیلی=کل محاصل (TR) میں  تبدیلی–کل لاگت (TC) میںتبدیلی۔لہٰذا اگر فرم q0سے کم سطح پر برآمد کا پیداوار کررہی ہے تو وہ اپنے برآمد میں اضافہ لانا چاہے گی کیونکہ اس سے اس کے منافع میں اضافہ ہوگا۔جب تک حاشیائی محاصل (MR) خط، حاشیائی لاگت (MC) خط کے اوپر واقع ہے، تب تک درج بالا دلیل کا اطلاق ہوگا۔لہٰذا فرم اپنے برآمد میں اضافہ کرے گا ۔اس عمل میں تب رکاوٹ آئے گی جب برآمد کی سطح q0پرپہنچے گی، کیونکہ اس سطح پر حاشیائی محاصل اور حاشیائی لاگت یکساں ہوں گی اور برآمد میں اضافے سے فائدے میں کسی طرح کا اضافہ نہیں ہوگا۔
جب کہ دوسری طرف اگر فرم q0سے زیادہ مقدار میں برآمد کی پیداوار کرتی ہے تو حاشیائی لاگت حاشیائی محاصل سے زیادہ ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ برآمد کی ایک اکائی کم کرنے سے کل لاگت میں جو کمی ہوتی ہے، وہ اس کمی کے سبب کل محاصل میں ہوئے نقصان سے زیادہ ہوتا ہے۔لہٰذا فرم کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ برآمد میں کمی لائے۔یہ دلیل تب تک مناسب ہوگی جب تک حاشیائی لاگت خط حاشیائی محاصل خط کے اوپر واقع ہوگا اور فرم اپنے برآمد میں کمی کو جاری رکھے گا۔ ایک باربرآمد سطح کےq0 پرپہنچنے پر حاشیائی لاگت اور حاشیائی لاگت یکساں ہوگی اور برآمد میں اضافے سے منافع میں کسی طرح کا اضافہ نہیں ہوگا۔
دوسری طرف اگر فرم q0سے زیادہ مقدار میں ماحصل کی پیداوار کرتی ہے تو حاشیائی لاگت محاصل (Revenue)سے زیادہ ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ماحصل(Output) کی ایک اکائی کم کرنے سے کل لاگت میں جو کمی ہوتی ہے، وہ اس کمی کے سبب کل محاصل میں ہوئے نقصان سے زیادہ ہوتی ہے۔لہٰذا فرم کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ برآمد یا پیداوارمیں کمی لائے۔یہ دلیل تب تک مناسب رہے گی جب تک حاشیائی لاگت خط، حاشیائی محاصل خط کے اوپر واقع ہوگا اور فرم اپنے ماحصل میں کمی کو جاری رکھے گی۔ ایک بار ماحصل سطح کےq0 پرپہنچنے پر حاشیائی لاگت اور حاشیائی محاصل کی قدر مساوی ہوجائے گی ا ور فرم اپنے ماحصل میں کمی کو روک دے گی۔
چونکہ فرم لازمی طور پر q0ماحصل سطح پر پہنچتی ہے، اس لیے اس سطح کو ماحصل کی توازنی سطح کہا جاتا ہے کیونکہ یہ توازن سطح اس نقطے کے مطابق ہوتی ہے۔ جہاں حاشیائی محاصل، حاشیائی لاگت کے برابر ہوتی ہے۔اس مساوات کو اجارہ دار فرم کے ذریعہ پیش کیے گئے برآمد کے لیے توازن کی شرط کہا جاتا ہے۔
dماحصل(Output) کے سطح توازن پر اوسط لاگت نقطہ 'd'کے ذریعہ دی گئی ہے جہاں عمودی خط q0سے اوسط لاگت خط کو کاٹتا ہے۔لہٰذا اوسط لاگت کوq0 dکی اونچائی پر دکھایا گیا ہے۔ چونکہ کل لاگت، اوسط لاگت اور پیداوار کی مقدار q0کے حاصل ضرب کے برابر ہوتا ہے اس لیے اسے مستطیل Oq0dc کے ذریعہ دکھایا گیا ہے
جیسا کہ پہلے دکھایا گیا ہے کہ ایک بار تیار ماحصل(Output) کی مقدار کا تعین ہونے پر جس قیمت پر ماحصل کی فروخت ہوتی ہے، وہ اس مقدار سے متعین ہوتی ہے جس کی صارف ادائیگی کرنا چاہتا ہے۔اسے بازار مانگ خط کے ذریعہ ظاہر کیا گیا ہے۔لہٰذا قیمت نقطہ 'a' سے دکھائی گئی ہے، جہاں q0سے ہوکر عمودی خط مانگ بازار خط Dسے ملتی ہے۔اس سے aq0کی اونچائی کے ذریعہ دکھائی گئی قیمت حاصل ہوتی ہے۔چونکہ فرم کے ذریعہ حاصل قیمت ماحصل کی فی اکائی محاصل ہوتی ہے۔لہٰذا یہ فرم کے لیے اوسط محاصل ہے۔کل محاصل اوسط محاصل اورماحصل q0کی سطح کا حاصل ضرب ہوتا ہے اس لیے اسے مستطیلOq0ab کے رقبے کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔
اس ڈائیگرام سے ظاہرہے کہ مستطیل Oq0abکا رقبہ مستطیل کے Oq0dcرقبے سے بڑا ہے یعنی کل محاصل کل لاگت سے زیادہ ہے۔مستطیل cdab کا رقبہ ان کے درمیان فرق ہے۔لہٰذا منافع=کل محاصل-کل لاگت کو cdab کے رقبے سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔

دوبارہ مکمل مسابقت کے ساتھ موازنہ (Comparison with Perfect Competition again)

ہم اجارہ دار فرم کی توازنی مقدار اور قیمت کا موازنہ مکمل مسابقتی فرم کی توازنی مقدار اور قیمت سے کریں گے۔یادرہے کہ مکمل مسابقتی فرم قیمت کی اختیار کنندہ ہوتی ہے۔اگر بازار کی قیمت دی ہوئی ہو تو مکمل مسابقتی بازار ساخت میں فرم یہ یقین کرتی ہے کہ وہ ماحصل(Output) کی زیادہ یا کم پیداوار کرکے قیمت کو نہیں بدل سکتی ہے۔
مان لیجیے کہ اوپر ہم نے جس فرم کے بارے میں غور کیا ہے، وہ مانتی ہے کہ وہ مکمل مسابقتی فرم ہے۔ دی گئی برآمد سطح q0اور شے کی قیمت aq0=Obپر وہ قیمت کے Obپر قائم رہنے کی توقع کرے گا اور اس طرح وہ ماحصل(Output) کی ہر ایک اضافی اکائی کو اسی قیمت پر فروخت کرنا چاہے گی۔چونکہ ایک اضافی اکائی کی پیداوار جو کہ حاشیائی لاگت بھی ہے،eq0 کے ذریعہ ظاہر ہے، جو کہ aq0سے کم ہے فرم پھر یہ یقین کرتی ہے کہ زیادہ مقدار میں ماحصل کی پیداوار کرنے سے اس کے فائدے میں اضافہ ہوگا۔یہ تب تک چلتا رہے گا جب تک قیمت حاشیائی لاگت سے زیادہ مقدار میں ماحصل کی پیداوار کرنے سے اس کے فائدے میں اضافہ ہوگا۔یہ تب تک چلتا رہے جب تک قیمت حاشیائی لاگت سے زیادہ رہے گی۔شکل 6.8میں نقطہ f پر جہاں پر حاشیائی لاگت (MC) خط، خط طلب کو کاٹتا ہے، فرم کے ذریعہ حاصل قیمت حاشیائی لاگت کے برابر ہوجاتی ہے۔لہٰذا اب یہ مکمل مسابقتی فرم کے ذریعہ نہیں مانا جاتا ہے کہ ماحصل میں اضافے کے لیے یہ صورت حال مفید رہے گی۔اس کا سبب یہ ہے کہ قیمت=حاشیائی لاگت کو مکمل مسابقتی فرم کے لیے توازن کے شرط کے طور پر مانا جاتا ہے۔
ڈائیگرام سے ظاہرہوتا ہے کہ ماحصل(Output) کی اس سطح پر پیدا کی گئی مقدار سے q0,qcسے زیادہ ہے۔صارف کے ذریعہ ادا کی گئی قیمت میں qcپرکم تر ہوگی۔اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ مکمل مسابقتی بازار اجارہ دار فرم کے مقابل شے کی زیادہ سے زیادہ مقدار اور فروخت فراہم کرتا ہے مکمل مسابقت میں شے کی قیمت اجارہ دار کے مقابلے کم ترین ہوتی ہے اور اس میں فرم کے ذریعہ حاصل منافع بھی اجارہ دار کے مقابلے بہت کم ہوتا ہے۔

طویل مدت میں (In the Long Run) 

باب 5 میں، ہم نے دیکھا کہ آزادانہ داخلے اور اخراج کے ساتھ مکمل مسابقتی فرم صفرفوائد حاصل کرتی ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر فرم کے ذریعہ کمایا گیا منافع مثبت ہے تو بازارمیں زیادہ فرمیں داخل ہوں گی اورماحصل(Output) میں اضافہ ہوگا جس سے قیمت گھٹ جائے گی اور اس سے موجودہ فرم کی کمائیوں میں کمی ہونے لگے گی۔ا سی طرح اگر فرم نقصان کی حالت میں ہو کچھ فرمیں پیداوار بند کردیں گی اورماحصل(Output)  میں کمی پیدا ہوگی۔جس سے قیمت میں اضافہ ہوگا اور موجودہ فرموں کی کمائی میں اضافہ ہوگا۔اجارہ دار فرم کے لیے ایسی صورت حا ل نہیں پیدا ہوتی ہے۔چونکہ دیگر فرموں کے بازار میں داخلے پر پابندی رہتی ہے اس لیے اجارہ دار فرم کی کمائی طویل مدت تک بنی رہتی ہے۔

کچھ تنقیدی خیالات (Some Critical Views) 

درج بالا پیش کیے گئے نتائج سے شے بازار میں اجارہ داری اثر کی انتہائی منفی تصویر ظاہر ہوتی ہے۔اجارہ دار فرم کا فائدہ پوری طرح صارفین پر منحصر ہوتا ہے۔اجارہ دار فرم طویل مدت میں زیادہ منافع اور مثبت فائدہ حاصل کرتی ہے۔دوسری طرف، صارفین کو ماحصل(Output) کی نہایت قلیل مقدار حاصل ہوتی ہے اور صارف کو ہر ایک اکائی کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
تاہم اجارہ داری کے بارے میں ماہرین معاشیات نے مختلف خیالات ظاہر کیے ہیں۔اولاً یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اوپر جس طرح کی اجارہ داری کی تشریح کی گئی ہے، وہ عملاً نہیں پائی جاتی ہے کیونکہ ہر شے کا کوئی نہ کوئی بدل ہوتا ہے۔ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ چونکہ حتمی تجزیے میں شے سے پیدا کرنے والی سبھی فرموں کی مسابقت آمدنی حاصل کرنے کے معاملے میں صارفین پر ہی منحصر ہوتی ہے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ خالص اجارہ داری کی حالت میں بھی فرموں کے درمیان مسابقت ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ معیشت کبھی ساکت نہیں ہوتی ۔ اس میں اجارہ دار فرم ہمیشہ مسابقت کی حالت میں ہوتی ہے بلکہ قلیل مدت میں بھی مسابقت کا اندیشہ بنا رہتا ہے اور اجارہ دار فرم اس طرح سے برتاؤ نہیں کرپاتی جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔
ایک اور خیال کے مطابق اجارہ داری کا وجود سماج کے لیے فائدہ مند ہوگا چونکہ اجارہ دار فرم زیادہ منافع کماتی ہے اس لیے اس کے پاس تحقیق وترقی کے لیے کافی فنڈ ہوتا ہے۔ لیکن مکمل مسابقتی فرم اس کام کو پورا کرنے میں ناکام ہوتی ہے۔اسی طرح تحقیقی عمل کے ذریعہ اجارہ دار فرم اچھے معیاروخوبیوں والی اشیا کی پیداوار کرتی ہے۔اجارہ دار فرم نہایت جدید ٹکنالوجی کے استعمال سے اپنی حاشیائی لاگت کو اتنا کم لیتی ہے جہاں حاشیائی لاگت (MC) پہ حاشیائی محاصلMRمکمل مسابقت کی حالت میں بھی اس سے زیادہ ہوسکتا ہے۔

6.2  دیگر غیرمکمل مسابقتی بازار  (Other Non-perfectly Competitive Markets)

6.2.1  اجارہ دارانہ مسابقت (Monopolistic Competition)  

اب ہم ایک ایسی بازار ساخت پر غور کریں جس میں فرموں کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے اور فرموں کا آزادانہ داخلہ اور اخراج ہوتا ہے، لیکن ان کے ذریعہ تیار اشیا یکساں نہیں ہوتی ہیں۔ایسی بازار ساخت کو اجارہ دارانہ مسابقت کہا جاتا ہے۔
اس طرح کی ساخت عام طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔  بسکٹ کی پیداوار کرنے والی متعدد فرمیں اس کی مثال ہیں۔لیکن کئی   بسکٹ  کچھ برانڈسے جڑے ہوئے نام  اور اس برانڈ نام اور پیکنگ کے سبب یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ان کے ذائقے میں بھی تھوڑا فرق ہوتا ہے۔دھیرے دھیرے صارف کو ایک خاص برانڈ والے   بسکٹ  کھانے کی عادت پڑجاتی ہے۔یا کسی وجہ سے وہ اس سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔لہٰذا وہ اس خاص برانڈ کے بسکٹ کو دوسرے بسکٹ سے بدل کرنے کے خواہش مند نہیں ہوتے، لیکن اگر قیمت میں فرق زیادہ ہو تو صارف دوسرے برانڈ والے   بسکٹ کا انتخاب کرنا چاہیں گے۔صارف کے لیے استعمال کی گئی برانڈ کو بدلنے کے لیے مطلوبہ قیمت میں فرق مختلف ہوسکتا ہے۔لہٰذا اگر کسی خاص برانڈ کی قیمت کم ہو تو صارف اس برانڈ کا استعمال کرنے لیے اس کی طرف منتقل ہوں گے ۔لہٰذا قیمت کم کرنے سے زیادہ سے زیادہ صارفین کو کم قیمت والی برانڈ کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔
لہٰذا فرم کے سامنے خط طلب مکمل مسابقتی حالت میں افقی (مکمل لوچ دار) نہیں ہوگا۔فرم کے سامنے خط طلب اجارہ دار کی طرح خط طلب بھی نہیں ہے۔اجارہ دار مسابقت کی حالت میں فرم کم قیمت پر مانگ میں تھوڑے اضافے کی توقع رکھتی ہے۔اس لیے حاشیائی (MR)محاصل اوسط محاصل(AR) سے تھوڑا کم ہوتا ہے۔جب حاشیائی محاصل حاشیائی لاگت سے زیادہ ہوتا ہے تو فرم اپنے برآمد کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔چونکہ حاشیائی محاصل قیمت سے کم ہے، اس لیے مکمل مسابقت کے مقابلے ماحصل(Output) کی کم سطح پر حاشیائی محاصل حاشیائی لاگت کے برابر ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ اجارہ دار مسابقتی فرم میں مکمل مسابقتی۔فرم کے مقابلے ماحصل کی کم مقدار کی پیداوار ہوتی ہے۔چونکہ صارف شے کی فی اکائی کو زیادہ قیمت ادا کرنے کے خواہش مند ہیں اس لیے دی ہوئی کم تربرآمد سطح پر شے کی قیمت۔مکمل مسابقت کے مقابلے اونچی ہوتی ۔
متذکرہ بالا صورت حال قلیل مدت میں موجود رہتی ہے۔لیکن اجارہ داری مسابقت کی بازار ساخت میں نئی فرموں کا آزادانہ داخلہ ہوتا ہے۔اگر صنعت میں فرم قلیل مدت میں مثبت منافع حاصل کررہا ہو تو اس سے نئی فرم اس صنعت میں شے کی پیداوارشروع کرنے کے لیے راغب ہوں گے (بازار میں داخلے کے لیے) جیسے جیسے شے کی پیداوار بڑھے گی بازار میں قیمت اسی طرح گرنے لگے گی۔یہ صورت حال تب تک جاری رہے گی جب تک منافع صفر نہ ہوجائے۔اس کے بعد اس صنعت خاص میں داخلہ نئی فرموں کے لیے باعث کشش نہیں رہ جائے گا ۔معکوسی طور پر اگر قلیل مدت میں صنعت میں فرموںکو نقصان ہورہا ہو تو کچھ فرمیں پیداوار بند کردیں گی(بازار سے اخراج) اور شے کی کل پیداوار کی مقدار میں کم سے کم شے کی قیمت اونچی ہوجائے گئی۔ ایک بار منافع صفر ہونے کے بعد داخلہ اور اخراج رک جائے گا اور اس سے طویل مدت میں توازن حاصل ہوگا۔

6.2.2  محدوداجارہ داری میں فرمیں کیسا برتاؤ کرتی ہیں؟ (?How do Firms behave in Oligopoly)

اگر کسی شے خاص کے بازار میں ایک سے زیادہ فروخت کنندہ ہوں لیکن فروخت کنندگان کی تعداد بہت کم ہو تو اس بازار کی ساخت کو محدوداجارہ داری کہتے ہیں۔محدود اجارہ داری کی ایک خاص حالت جس میں صرف دو فروخت کنندہ ہوتے ہیں اسے دواجارہ کہتے ہیں۔اس بازار ساخت کے تجزیے میں ہم مان لیتے ہیں کہ دونوں فرموں کے ذریعہ فروخت کی گئی پیداوار یکساں ہیں اور کسی دوسری فرم کے ذریعہ اس پیداوار کی بدل نہیں تیار کی جاتی ہے۔
فرض کیجیے کہ چند فرمیں ہیں اور ہرفرم مارکیٹ کے سائز کے لحاظ سے کافی بڑی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہرفرم اس پوزیشن میں ہے کہ وہ مارکیٹ میں کل رسد کومتاثر کرسکتی ہے اور اس طرح مارکیٹ کی قیمت کومتاثرکرسکتی ہے۔ مثال کے طورپر دواجاری فرمیں سائز کے لحاظ سے برابرہیں اوران میں سے ایک فرم اپنی ماحصل(Output)دوگناکرنے کا فیصلہ کرتی ہے،تواس صورت میں مارکیٹ میں کل رسد میں کافی اضافہ ہوجائے گا جس کے نتیجے میں قیمت گرجاتے ہیں۔ قیمت میں یہ کمی، اس صفت میں موجود سبھی فرموں کے منافع پر اثراندازہوگی۔دیگر فرمیں اپنے منافع کے تحفظ کے لیے رد عمل ظاہرکریں گی اوراپنے ماحصل(Output)کوبڑھانے سے متعلق نیا فیصلہ کریں گی۔ اس لیے کسی صفت میں ماحصل(Output)کی سطح، قیمت کی سطح اوراس کے ساتھ ساتھ منافع کی سطح، اس بات کا نتیجہ ہوگا کہ یہ فرمیں آپس میں کس طرح برتاؤ کرتی ہیں۔ 
ایک انتہائی صورت میں،فرمیں اپنا یکجا منافع بیش ترین کرنے کی خاطر آپس میں گٹھ جوڑ کرسکتی ہیں۔ اس صورت میں یہ گٹھ جوڑ اجارہ داری کے طورپر کام کرے گا۔صفت کے ذریعہ سپلائی کی گئی مشترکہ مقدار اوران کے لیے حاصل کی جانے والی قیمت اس طرح یکساں ہوگی جس طرح اجارہ داری کی صورت میں ہوتی ہے۔
دوسری انتہائی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ،فرمیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ آرائی کا فیصلہ کریں۔ مثال کے طورپر ایک فرم،اپنے ماحصل کی قیمت دوسری فرموں کے مقابلے کچھ کم کرسکتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ صارفین کوراغب کرسکے۔ ظاہر ہے کہ دوسری فرمیں بھی اسی طرح کا اقدام کرتے ہوئے رد عمل ظاہر کریں گی۔ اس صورت میں اس شے کی قیمت اس وقت تک کم ہوتی رہے گی جب تک کہ فرمیں ایک دوسرے کی قیمت سے کم ترکرنے کا فیصلہ کرتی رہیں گی۔ یہ سلسلہ اسی وقت ختم ہوگا جب کہ قیمتیں حاشیائی لاگت(MC)تک نہیں گرجائیں۔ (کوئی بھی فرم حاشیائی لاگت سے کم قیمت پر سپلائی نہیں کرے گی)۔یہ صورت حال بالکل اسی طرح ہوجائے گی جس طرح مکمل مسابقت کے بازار میں ہوتی ہے۔
عملی طورپر، اس طرح کا تعاون حاصل کرنا،جس کا نتیجہ اجارہ داری ہو، حقیقی دنیا میں بہت مشکل ہے۔ دوسری جانب، فرمیں اس بات کو سمجھ سکتی ہیں کہ قیمتوں میں مسلسل کمی کرکے سخت مسابقت کرنا سے ان کے خود کے منافع کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے محدود اجارہ داری میں توازن، دوانتہائی صورتوں، یعنی اجارہ داری اورمکمل مسابقت کے درمیان حاصل کیا جاسکتا ہے۔

خلاصہ

•   جس بازار ساخت میں صرف ایک فروخت کنندہ ہوتا ہے اسے اجارہ داری کہا جاتا ہے۔
•   اگر شے کا ایک فروخت کنندہ ہو، شے کا کوئی متبادل نہ ہو اور صنعت میں دیگر فرموں کا داخلہ ممنوع ہو تو اس شے بازار کی ساخت اجارہ دار ساخت کہا جاتا ہے۔
•   شے کی بازار قیمت اجارہ دار فرم کی رسد کی مقدار پر منحصر ہوتی ہے۔اجارہ دار فرم کے خط بازار طلب ہی اوسط محاصل خط کہلاتا ہے۔
•   کل محاصل خط کی شکل اکثراوسط خط محاصل کی شکل پر منحصر ہوتی ہے۔منفی ڈھلان والی سیدھے خطی خط طلب کے مقابلے میں کل خط حاصل معکوسی عمودی مکافی(parabola)  کے شکل میں ہوتا ہے۔
•   کسی بھی مقدار سطح کے لیے اوسط محاصل کی پیمائش کل خط محاصل پر نقطہ ء آغاز سے متعلق نقطے کی طرف جاتے ہوئے خط کی ڈھلان سے دی جاتی ہے۔
•   کسی بھی مقدار سطح کے لیے حاشیائی محاصل کی پیمائش کل خط حاصل کو واقع متعلقہ نقطے کے مماس کی ڈھلان سے کی جاتی ہے۔
•   دیگر حاشیائی محاصل کی قدر اوسط محاصل کی قدر سے کم ہو تو اوسط خط محاصل نیچے کی طرف ہوتا ہے۔
•   منفی ڈھلان والا خط طلب انتہائی ڈھلواں ہوتا ہے اور یہ حاشیائی خط محاصل کے نیچے ہوتا ہے۔خط طلب تب لوچدار ہوتا ہے، جب  اشیائی محاصل کی قدر مثبت ہوتی ہے اور یہ تب بے لچک ہوتا ہے جب حاشیائی محاصل کی قدر منفی ہوتی ہے۔
•   اگر اجارہ دار فرم کی لاگت صفر ہو یا صرف قائم لاگت ہو تو توازن میں رسد کی مقدار کو اس نقطے کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے جس پر حاشیائی محاصل صفر ہوتا ہے، اس کے برخلاف مکمل مسابقت میں توازن کی مقدار اس نقطے کے ذریعہ دکھائی جاتی ہے جس پر اوسط محاصل صفر ہوتا ہے۔
•   اجارہ دار کے توازن کی تعریف اس نقطے سے کی جاتی ہے جس پر حاشیائی محاصل یہ حاشیائی لاگت اور حاشیائی لاگت اضافے کی حالت میں ہوتی ہے، یہ نقطہ ء پیداوار کے توازن کی مقدار کو بتاتا ہے۔دی ہوئی توازن مقدار سے خط طلب کے ذریعہ توازن قیمت کو دکھایا جاتا ہے۔
•   اجارہ دار فرم کا مثبت فائدہ طویل مدت میں بھی جاری رہتا ہے۔
•   شے بازار میں اجارہ دار مسابقت غیرمتجانس شے کے سبب پیدا ہوتی ہے۔
•   اجارہ دار مسابقت میں قلیل مدتی توازن کے نتیجے میں مکمل مسابقت کے مقابل پیدا وار کی مقدار کم ہوتی ہے اور قیمت زیادہ ہوتی ہے۔یہ صورت حال طویل مدت میں بھی قائم رہتی ہے لیکن طویل مدت میں منافع صفر ہوتا ہے۔
•   شے بازار میں محدود اجارہ داری کی حالت تب ہوتی ہے جب یکساں اشیا کی پیداوار فرموں کی تعداد کم ہوتی ہے۔

کلیدی تصورات

اجارہ داری                                         Monopoly                                        
اجارہ دارانہ مسابقت       Monopolistic Compitition        
محدوداجارہ داری                                    Oligopoly                                      

مشقیں

1۔   خط طلب کی شکل کیا ہوگی تاکہ کل خط محاصل
   (a)  ایک نقطہ ء آغاز کے ذریعہ گزرتا ہوا مثبت ڈھلان والا خط مستقیم ہو؟
   (b)  ایک افقی خط ہو؟
2۔   نیچے دیے گئے جدول سے کل خط محاصل اور مانگ کی قیمت لوچ کا شمار کیجیے۔
مقدار 1 2 3 4 5 6 7 8 9
حاشیائی محاصل (MR) 10 6 2 2 2 0 0 0 5-
 3۔   جب خط طلب لوچ دار ہو تو حاشیائی محاصل کی قدر کیا ہوگی؟
4۔   ایک اجارہ دار فرم کی کل قائم لاگت 100روپیے اور درج ذیل مانگ جدول ہے:
مقدار 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
قیمت 100 90 80 70 60 50 40 30 20 10
قلیل مدت میں توازن کی مقدار، قیمت اور کل منافع حاصل کیجیے۔طویل موت میں توازن کیا ہوگا؟ جب کل لاگت 1,000 روپیے ہوتو قلیل مدت اور طویل مدت میں توازن کا بیان کریں۔
5۔   اگر مشق 3کی اجارہ دار فرم عوامی شعبہ کی فرم ہو تو حکومت اس کے انتظام کے لیے دی ہوئی سرکاری قائم قیمت (یعنی وہ قیمت کا اختیار کنندہ ہے اور اس لیے مکمل مسابقتی بازار کے فرم جیسابرتاؤ کرتا ہے؟ قبول کرنے کے لیے ضوابط تیار کرے گی اور حکومت متعین کرے گی کہ ایسی قیمت متعین ہو جس سے بازار میں مانگ اور رسد یکساں ہوں، اس صورت میں قیمت، مقدار اور منافع کیا ہوگا؟
6۔   اس صورت میں حاشیائی محاصل کی شکل پر تبصرہ کیجیے کس میں کل خط محاصل 
         (i)    مثبت ڈھلان والا سیدھا خط ہو               (ii)       افقی سیدھا خط ہو۔
7۔    نیچے جدول میں شے کی خط بازار طلب اور شے کی پیداکار اجارہ داراورفرم کے لیے کل لاگت دی ہوئی ہے۔ان کا استعمال کرکے درج ذیل کا شمار کریں۔
مقدار 0 1 2 3 4 5 6 7 8
قیمت 52 44 37 31 26 22 19 16 13
 (a) حاشیائی محاصل(Revenue) اور حاشیائی لاگتMC جدول
 (b)  وہ مقدار جس پر حاشیائی محاصل اور حاشیائی لاگت برابر ہو
(c)  ماحصل (Output)کے مقدار توازن اور شے کی قیمت توازن
 (d)  توازن میں کل محاصل، کل لاگت اور کل منافع۔
8۔   برآمد بہتر قلیل مدت میں اگر نقصان ہو تو کیا قلیل مدت میں اجارہ دار فرم پیداوار کو جاری رکھے گی؟
9۔   اجارہ داری مسابقت میںکسی فرم کے خط طلب کی ڈھلان منفی کیوں ہوتی ہے؟ تشریح کیجیے۔
10۔   اجارہ داری مسابقت میں طویل مدت کے لیے کسی فرم کا توازن صفرمنافع پر ہونے کی کیا وجہ ہے؟
11۔   تین مختلف طریقوں کی فہرست بنائیے جس میں محدوداجاری فرم برتاؤ کرسکتی ہے۔
12۔  اگر دواجاری فرم کا برتاؤنوٹ کے بیان کیے گئے برتاؤ جیساہو تو خط بازار طلب کو مساوات q = 200 – 4p  کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے اور دونوں فرموں کی لاگت صفر ہوتی ہے۔ہر ایک فرم کے ذریعہ اور توازنی بازار قیمت میں پیداوار کی مقدار معلوم کیجیے۔
13۔   قیمتوں کے بے لوچ ہونے سے کیا مراد ہے؟ محدوداجارہ داری کے برتاؤ سے اس طرح کا نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے؟