باب 1

تعارف
بنیادی جزوی (خردہ) معاشیات کے مطالعے سے آپ پہلے ہی واقف ہوچکے ہیں ۔اس باب کے شروع میں آپ کے لیے ایک سہل توجیہ پیش کی گئی ہے کہ کس طرح کلی معاشیات ،جز وی یا خردہ معاشیات سے مختلف ہوتی ہے۔
آپ میں سے جو بعد میں اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے معاشیات کا انتخاب کریں گے وہ کلی معاشیات کے مطالعے کے دوران ماہرین معاشیات کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے پیچیدہ تجزیوں کے بارے میں جانیں گے، لیکن کلی معاشیات کے مطالعے کے بنیاد ی سوالات وہی باقی رہیں گے اورآپ دیکھیں گے کہ یہ دراصل وسیع معاشی سوالات ہیں جن کا تعلق سبھی شہریوں سے ہے :کیا قیمتیں مجموعی طورپر بڑھیں گی یاکم ہوںگی ؟ کیا پورے ملک میں یا معیشت کے کچھ شعبوں میں روزگار کی صورتحال بہتر ہورہی ہے یا پھر خراب ہورہی ہے ؟ وہ کیا معقول اشارات ہوں گے جو یہ بتائیں کہ معیشت بہتر ہے یابدتر ؟ ریاست کیا اقدامات کرسکتی ہے (اگر کوئی ہوں)یا لوگ معیشت کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے کن اقدامات کی مانگ کرسکتے ہیں ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جومجموعی طورپر ملک کی معیشت کی مضبوطی کے بارے میں ہمیں سوچنے کی ترغیب دیتے ہیں کلی معاشیات میں ان سوالات کے بارے میں پیچیدگی کی مختلف سطحوں پر غور کیا جاتا ہے ۔
اس کتاب میں آپ کا تعارف کلی معاشی تجزیے کے بنیادی اصولوں سے ہوگا ،جہاں تک ممکن ہوسکے گا ،ان اصولوں کو آسان زبان میں بیان کیاجائے گا۔کسی دشواری کے سامنے آنے پر اس کےحل میں بعض جگہ ابتدائی الجبرا کا استعمال کیا جائے گا۔ اگر ہم کسی ملک کی معیشت کا مشاہدہ مجموعی طورپرکریں توہم دیکھیں گے کہ معیشت میں سبھی اشیا اور خدمات کی ماحصل (Out put) کی مقدار میں ایک ساتھ حرکت کرنے کا میلان پایا جاتا ہے ۔مثال کے طورپراگر اناج کی برآمد میں اضافہ ہوتا ہے توعام طورپر صنعتی اشیا کی برآمد سطح میں بھی ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا ہے ۔صنعتی اشیا کے زمرے میں بھی مختلف قسم کی اشیا کی برآمدمیں ایک ساتھ اضافہ یاگراوٹ کا رجحان ہوتاہے اسی طرح مختلف اشیااور خدمات کی قیمت میں بھی عام طورپر ایک ساتھ بڑھنے یاگھٹنے کا رجحان رہتا ہے ،ہم مختلف پیداواری اکائیوں میں روزگار کی سطح کو بھی ایک ساتھ گھٹتے یا بڑھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔
اگر کسی معیشت کی مختلف پیداوار کامجموعہ قیمت کی سطح یاروزگار کی سطح ایک دوسرے کے ساتھ قریبی طورپر متعلق ہو توپوری معیشت کا تجزیہ نسبتاً آسان ہوجاتا ہے ۔ درج بالا تغیرات کا انفرادی (غیر اجتماعی )سطح پر غور کرنے کے بجائے ہم معیشت کے تحت پیش سبھی اشیا اور خدمات کی ایک نمائندے کی شکل میں ایک شے پرغور کرسکتے ہیں۔ اس نمائندہ شے کی سطح پیداوار سبھی اشیا اور خدمات کی اوسط سطح پیداوار کے مو افق ہوگی ۔ اسی طرح اس نمائندہ شے کی سطح قیمت یاروزگار کی سطح معیشت کی عام قیمت اورروزگار کی سطح کو ظاہر کرے گی ۔
کلی معاشیات میں ہم عام طورپر اس تجزیہ کو آسان بنا تے ہیں کہ ایک اکیلی خیالی شے پر توجہ مبذول کرنے پر کس طرح ملک کی کل پیداوار اور روزگار کی سطح ان صفات (جنھیں تغیرات کہا جاتا ہے )جیسے قیمت، شرح سود ،شرح مزدوری ،منافع وغیرہ سے متعلق ہوتی ہے۔اوراس میں کیا واقع ہوتا ہے ۔ہم اس تسہیل کو قائم رکھنے کے اہل ہیں اور اس طرح کارگرطریقے سے یہ مطالعہ کرنے سے بچ جائیں گے کہ ان کے سبب حقیقی اشیا کے ساتھ اصلاً کیا واقع ہوتا ہے جو بازار میں خریدی اورفروخت کی جاتی ہیں کیونکہ ہم عام طورپر دیکھتے ہیں کہ جو کسی ایک شے کے لیے قیمتوں ،سود ،مزدوریوں اورمنافع وغیرہ کے ساتھ واقع ہوتا ہے وہی کم وبیش دوسری اشیاکے ساتھ بھی ہوتا ہے ، خاص طورپر جب ان صفات میں تیزی سے تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے جیسے جب قیمتیں بڑھتی ہیں (جسے افراط زر کہا جاتا ہے )، روزگاریاپیدار وار کی سطح نیچے آجاتی ہے (جسے کسادبازار ی کہتے ہیں)، ان متغیرات کی حرکات کا رخ سبھی انفرادی اشیاکے لیے عام طورپر اس طرح ہوتا ہے جیسا مجموعی طورپر معیشت کے لیے کل ملاکر دکھائی دیتاہے ۔
حالانکہ مختلف اشیا کے بجائے کسی نمائندے پر توجہ مرکوز کرنا آسان ہوسکتا ہے۔ اس عمل میں انفرادی اشیا کی کچھ اہم امتیازی خصوصیات کو نظر اندازنہیں کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طورپر زراعت اورصنعتی اشیا کی پیداوار ی شرائط مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں یاسبھی طرح کی مزدوری کواگر ہم نمائندگی کے طورپر محنت کے ایک ہی زمرے میں رکھیں تو ہم کسی فرم کے منیجرکی محنت اور فرم کے اکاؤنٹ کی محنت میں فرق نہیں کرسکیں گے۔لہٰذاکئی معاملوں میں شے ( محنت یاپیداوارٹکنا لوجی) کے ایک نمائندہ زمرہ کے بجائے ہم تھوڑی مختلف قسم کی اشیاکو لے سکتے ہیں ۔ مثال کے طورپر معیشت کے اندرپیداہونے والی سبھی طرح کی اشیا کی نمائندگی کے طورپر تین عام قسم کی اشیا لی جاسکتی ہیں ، جیسے زراعتی اشیا اور صنعتی اشیا اورخدمات۔ ان اشیا کی پیداواری تکنیک اورقیمت میں فرق ہوسکتا ہے۔کلی معاشیات میں یہ بھی تجزیہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مختلف اشیا کی انفرادی برآمد سطح ،قیمتیں اورروزگار کی سطح وغیرہ کا تعین کیسے کیا جائے ۔
ہم آگے دیکھیں گے کہ کبھی کبھی اس مفیدتسہیل سے ہم اس وقت کیوں انحراف کرتے ہیں جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ امتیاز ی شعبوں پر مشتمل ملک کی معیشت مجموعی طورپر بہتر دیکھی جاسکتی ہے۔ کچھ مخصوص مقاصدکے لیے معیشت کے شعبوں (مثال کے طورپرزراعت یاصنعت) کاباہمی انحصار (یادونوں کے درمیان رقابت بھی )شعبوں کے درمیان تعلق (جیسے گھریلوشعبہ، کاروباری شعبہ یاجمہوری ڈھانچے میں حکومت ) صرف معیشت کو مجموعی طورپر دیکھنے کی نسبت ملک کی معیشت میں واقع ہونے والی کچھ چیزوں کو سمجھنے میں ہماری مددکرتے ہیں۔
یہاں کی گئی بحث اور جزوی معاشیات کے بار ے میں پہلے کیے گئے مطالعے سے آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ کلی معاشیات ،جزوی معاشیات سے کس طرح مختلف ہے ۔مختصراً اعادہ سے آپ دیکھیں گے کہ جزوی معاشیات میں آپ کو انفرادی معاشی عوامل (باکس دیکھیے) اوران محرکات کی فطرت کا پتہ چلے گا جو آپ کو محرک کرتی ہیں ۔ یہ جزوی (micro معنی خردہ) عوامل (Agents) یعنی صارفین جو اپنی مخصوص دلچسپیوں اورآمدنیوں کے لحاظ سے اشیا کے متعلقہ نسبت مجموعوں کاانتخاب کرتے ہیں ،پیداوارکرنے والے جو اپنی تیار کردہ اشیاسے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے اپنی لاگت کو کم سے کم رکھتے ہیں اور اشیا کو بازار میں اونچی سے اونچی قیمت پر فروخت کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں ،جزوی معاشیات مانگ اوررسدکے انفرادی بازاروں کامطالعہ ہے اور معاشی کردار نبھانے والے یا فیصلہ ساز افراد (خریداریافروخت کاریہاں تک کہ کمپنیاں بھی) ہیں جواپنے منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے (ایک پیداکار یا ایک فروخت کار کی حیثیت سے) اوراپنی ذاتی تسکین اوربہبود (صارفین کے طورپر) کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاں کہ بڑی کمپنی بھی اس مفہوم میں خورد (micro ) ہیں کہ یہ اسے اپنے حصہ (شیئر) حاملین کے مفادمیں کام کرنے پر مجبور کرتی ہیں جو ضرور ی نہیں کہ پورے ملک کی مفاد میں ہی ہو۔جزوی معاشیات کے لیے لفظ macro (معنی بڑا) پوری معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے جیسے افراط زریابے روزگاری ،جن کا نہ تو ذکر تھا اور نہ اسے اس طرح لیا گیا تھا ۔یہ تغیرات نہیں تھے کہ انفرادی خریداریا فروخت کنندہ تبدیلی کرسکیں ۔جزوی یاخوردمعاشیات کلی معاشیات کی قریب ترین تب ہی ہوسکتی ہے جب عمومی توازن یعنی مانگ اوررسدکا توازن معیشت کے ہر ا یک بازار میں دکھا جاسکے ۔
کلی معاشیات میں پیش مجموعی معیشت کی صورت حال کو برتنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔جدید معاشیات کے بانی ایڈم اسمتھ نے مشورہ دیاتھا کہ اگر ہر ایک بازار میں خریدار اور فروخت کرنے والے اپنے نجی مفاد کو ذہن میں رکھ کرہی فیصلہ لیں گے تو ماہر ین معاشیات کو پورے ملک کی دولت اور فلاح وبہبود کے بارے میں الگ سے غور کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی لیکن ماہرین معاشیات تدریجی طورپر یہ دریافت کریں گے کہ انہیں آگے کیاکرنا ہے۔
معاشی ایجنٹ
معاشی اکائیوں یا معاشی ایجنٹ سے ہمارای مرادان افراد یا اداروں سے ہے جو معاشی فیصلے لیتے ہیں۔ یہ صارف ہوسکتے ہیں جو یہ فیصلے کرتے ہیں کہ کیا اور کتنا صرف کرنا ہے ۔یہ اشیا اور خدمات کے پیداکار بھی ہوسکتے ہیں جو یہ فیصلہ لیتے ہیں کہ کس کی اور کتنی پیداوارکرنی ہے۔حکومت، کار پوریشن، بینک جیسے ادارے ہوسکتے ہیں جو کئی طرح کے فیصلے لیتے ہیں ،جیسے کتنا خرچ کرنا ہے، قرض پر کتنا شرح سود لینا ہے ،کتنا ٹیکس لگانا ہے وغیرہ ۔
ماہرین معاشیات نے دیکھا کہ اوّل توکچھ معاملوں میں بازار موجود نہیں ہوتایارہتا ۔ دوسرا یہ کہ کچھ دیگر معاملات میں بازار کاوجود تو رہتا ہے لیکن مانگ اوررسد کا توازن پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے ۔تیسرا جوکہ زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ زیادہ تر صورتوںمیں سماج (یاریاست یا مجموعی طورپر عوام ) کچھ اہم سماجی اہداف کے حصوں کے لیے بے غرض کام (رو ز گار،انتظامیہ،دفاع ،صحت اورتعلیم جیسے شعبوںمیں) کرنے کا فیصلہ لینا پڑتا ہے جن کے لیے انفرادی معاشی ایجنٹوں کے ذریعہ لیے گئے جزوی معاشی فیصلوں کے کچھ مجموعی اثرات میں ترمیم کرنی پڑتی ہے ۔ ان مقاصد کے لیے ماہرین کلی معاشیات کو ٹیکس اوردیگربجٹ کی پالیسیوں میں اور زررسد میں واقع تبدیلیوں کے لیے شرح سود،مزدوری روزگار اوربرآمد کے بازاروں میں پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے ۔لہٰذا کلی معاشیات کی جڑیں جزوی یا خردہ معاشیات میں گہری ہوتی ہیں ۔کیونکہ اس میں بازار وں میں مانگ ا وررسد قوتوں کے مجموعی اثرات کا مطالعہ کرنا ہوتا ہے ۔ اگر ضروری ہواتو ان قوتوں میں تبدیلی کے لیے مقصود پالیسیوں کا بھی استعمال کرنا ہوتاہے تاکہ بازار کے باہر سماج کے انتخاب کی تقلید کی جاسکے ،ہندستان جیسے ترقی پذیر ملکمیں اس طرح کے ا نتخاب بے روزگاری کو دور کرنے یاکم کرنے کے لیےسبھی شہر یوں کے لیے تعلیم اور ابتدائی طبی دیکھ بھال،اچھا انتظامیہ فراہم کرنے اورملک کے معقول دفاع وغیرہ فراہم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں ۔کلی معاشیات کی دو عام خصوصیات ہیں جن کو بالا صورتحال میں بڑے واضح طورپر برتاجاسکتا ہے ان کا مختصراً ذکر ذیل میں کیا گیا ہے ۔
ایڈم اسمتھ
ایڈیم اسمتھ کو جدید علم معاشیات کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ (اس وقت اسے سیاسی معیشت کے نام سے جانا جاتا تھا) وہ اسکاٹ لینڈ کے باشندے تھے اور گلیسگو یونیور سٹی میں پروفیسر تھے۔ ایک فلسفی کے طور پر تربیت یافتہ ایڈم اسمتھ کی کتاب’این انکوائری ان ٹو دی نیچر اینڈ کار آف ویلتھ آف نیشنز(1776) کو اس موضوع پر پہلی اہم اور جامع کتاب سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کتاب کے ایک پیراگراف میں لکھا ہے ’’ یہ قصائی یا نان بائی یا شراب کشید کرنے والے کی میز بانی نہیں ہے کہ جس پر ہم اپنے عشائیہ کی امید کرتے ہیں بلکہ وہ سب کچھ ان کے اپنے مفاد میں ہوتا ہے۔ ہم اپنی ضرورت کو ان کے ساتھ انسانی ہمدردی کے لیے پورا نہیں کرتے بلکہ ان کا کام خود ان کے لیے ہوتا ہے اور ہم کبھی ان سے اپنی ضروریات کے بارے میں بات نہیں کرتے بلکہ ان کے نفع کے بارے میں بات کرتے ہیں جسے عام طور پر آزاد مارکیٹ کی معیشت کی وکالت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
فرانس کے سیاسی- معاشی ماہرین اسمتھ سے پہلے سیاسی معیشت کے ممتاز مفکر تھے۔

پہلا یہ کہ کلی معاشیات میں فیصلہ ساز (یاکھلاڑی) کون ہوتے ہیں ؟کلی معاشی پالیسیوں کی پابندی خود ریاست یا قانونی اداروں جیسے ریزروبینک آف انڈیا (RBI )سیکورٹیز اینڈ ایکسچنج بورڈ آف انڈیا (SEBI )یااسی طرح کے اداروں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔مثال کے طورپر قانون یاخود ہندوستان کے آئین میں جیسا کہ تعریف کی گئی ہے کہ ایسے ہر ایک ادارے کوایک یا زیادہ کو عوامی ہدف کی تعمیل کرنی ہوگی یہ مقاصد ان انفرادی معاشی ایجنٹوں کے ہدف نہیں ہیں جو نجی فائدے یا بہبود کو زیادہ سے زیادہ کرنا چاہتے ہیں ،لہٰذا کلی معاشیات کے ایجنٹ (عوامی) بنیادی طور پرانفرادی فیصلہ سازوں سے مختلف ہوتے ہیں۔
دوسرایہ کہ کلی معاشیات کے فیصلہ ساز کیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ؟ ظاہر ہے انھیں اکثر معاشی مقاصد سے الگ جانا پڑتا ہے اور جن عوامی ضرورتوں کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے ان کے لیے معاشی وسائل کو بروئے کار لانے کا فیصلہ لینا ہوتا ہے اس طرح کی سرگرمیوں کا ہدف انفرادی مفادات کی تعمیل کرنا نہیں ہوتا ہے ان کی تعمیل پورے ملک اوراس کی عوام کی بہبود کے لیے ہوتی ہے ۔
1.1 کلی معاشیات کا ظہور (EMERGENCE OF MACROECONOMICS)
کلی معاشیات کا ظہور معاشیات کی ایک الگ شاخ کے طور پر برطانوی ماہر اقتصادیات جان مینارڈکینس کی مشہور کتاب ’دی جنرل تھیوری آف ایمپلائمنٹ ،انٹر یسٹ اینڈ منی کے 1936 میں شائع ہونے کے بعد ہوا ۔کینس سے پہلے معاشیات میں یہ فکر حاوی تھی کہ سارے مزدور جو کام کر نے کے خواہش مند ہیں انھیں کام ملے گا اورسارے کارخانے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کرتے رہیں گے ۔ اس مکتب فکر کو کلاسیکی روایت کے طورپر جانا جاتا ہے ۔لیکن 1929 کی عظیم کسادبازاری اوراس کے بعد کے سالوں میں دیکھا گیا کہ یورپ اورشمالی امریکا جیسے ممالک میں برآمداور روزگار کی سطح میں کافی گراوٹ آئی اس کا اثر دنیا کے دیگر ملکوں پربھی پڑا ۔ بازارمیں اشیا کی مانگ کم تھی اورکئی کارخانے بے کار پڑے تھے ،مزدوروں کو کام سے نکال دیا گیا تھا ۔ریاست ہائے متحدہ امریکا میں 1929سے 1933 تک بے روزگاری کی شرح 3 فی صد سے بڑھ کر 25 فی صد (بے روزگاری کی شرح کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ لوگوں کی تعداد جو کام کی تلاش میں ہیں لیکن کام نہیں کررہے ہیں میں لوگوں کی کل تعداد جو کام کرنے کی خواہش مند ہے یا کام کررہی ہے سے تقسیم دے کرحاصل ہوتی ہے) اس مدت کے دوران ریاست ہائے متحدہ امریکا میں کل برآمد میں تقریبا 33 فی صد کی کمی آئی ۔ان واقعات نے ماہرین معاشیات کو نئے طریقے سے معیشت کے تفاعل کے بارے میں سوچنے کی ترغیب دی ۔ یہ حقیقت ہے کہ جس معیشت میں بے ر وزگار ی طویل مدت تک موجود رہے گی وہاں ایک نظر سے بازیابی اور اس کی توضیح کی ضرو رت ہوگی،کینس کی کتاب میں اس سمت میں کوشش کی گئی ہے ۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس ان کا نظریہ معیشت کے کام کرنے والوں اور مختلف شعبوں کے باہمی انحصار کاجائز ہ لینا تھا۔ تب کلی معاشیات جیسے مضمون کا ظہور ہوا ۔
جان مینار ڈکینس
برطانوی ماہرمعاشیات جان مینار ڈکینس 1883 میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے برطانیہ میں کیمبرج یونیور سٹی کے کنگس کالج میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں وہیں Dean مقرر ہوئے۔ ایک ممتاز دانشور ہونے کے علاوہ انھوں نے پہلی جنگ عظیم کے بعد کئی برس تک بین الاقوامی ڈپلومیسی میں سرگرم رہے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’دی اکنامک کانسیکوینسز آف پیس‘‘ (1919) میں جنگ کے بارے میں امن معاہدے کے ٹوٹنے کی پیشن گوئی کی ۔ ان کی کتاب ’’جنرل تھیوری آف ایمپلائمنٹ، انٹریسٹ اینڈ منی‘‘ (1936) کو بیسویں صدی کی معاشیات کی سب سے موثر کتاب سمجھا جاتا ہے۔ وہ بیرونی کرنسی کے بارے میں بھی اہم پیشن گوئیاں کرتے تھے ۔

1.2 کلی معاشیات کی موجودہ کتاب کا سیاق وسباق
(CONTEXT OF THE PRESENT BOOK OF MACROECOMOMICS)
ہم جانتے ہیں کہ زیر مطالعہ مضمون کا ایک خصوصی تاریخی سیاق وسباق ہے ۔ ہم اس کتاب میں سرمایہ دار ملک کے کام کا جائزہ لیں گے۔ سرمایہ دار ملک میں پیدا واری سرگرمیاں بطور خاص جوسرمایہ دار کاروباری اداروں کے ذریعہ انجام دی جاتی ہیں ۔کسی مخصوص سرمایہ دار کاروباری ادارے کے ایک یا متعددایسے مہم جولوگ (جو بڑے فیصلوں پر کنٹرول کرتے ہیں اورفرم سے متعلق سب کچھ برداشت کرتے ہیں) ہوتے ہیں۔ وہ کاروباری ادارے کو چلانے کے لیے خود پونجی کی فراہمی کرتے ہیں یا وہ پونجی ادھار لیتے ہیں۔ کاروبار کو چلانے کے لیے انھیں قدرتی وسائل کی بھی ضر ورت پڑتی ہے ان میں سے کچھ وسائل (جیسے کچے مال) کا استعمال پیداوار کے عمل میں ہوتا ہے اورکچھ تو منتقل پونجی کی شکل میں رہتا ہے (جیسے قطعہ زمین)پیداوار کو انجام دینے کے لیے انھیں انسانی محنت کی نہایت اہم عنصر کے طورپر ضرورت ہوتی ہے ۔جس کا ہم محنت (Labour )کے طورپر حوالہ دیں گے ۔ان تین طرح کے عوامل پیداوار جیسے پونجی ،زمین ،محنت کی مدد سے برآمد کی پیدا وار کے بعد مہم جو تیار اشیا کو بازار میں فروخت کرتے ہیں ۔اس سے حاصل زر کو محاصل یاآمدنی کہا جاتا ہے۔ اس محاصل کا کچھ حصہ زمین کواس کے استعمال کے لیے کرائے کے طورپر ادا کیا جاتاہے اسی طرح کچھ حصہ پونجی پرسود کی شکل میں ا ور کچھ حصہ محنت کی مز دوری کی شکل میں فراہم کیا جاتا ہے باقی محاصل جو مہم جو کی کمائی ہے۔ اسے منافع کہاجاتا ہے۔ اس منافع کا استعمال پیدا کار آگے نئی مشین خریدنے یانئے کارخانے لگانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ پیداوار کی وسعت ہو۔
پیداوار ی صلاحیت میں اضافہ کے لیے جو خرچ کیا جاتا ہے اسے سرمایہ کاری اخر اجات کہا جاتا ہے ۔مختصراً سرمایہ دارانہ معیشت کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ معیشت وہ ہے جس میں زیادہ تر معاشی سرگرمیوں کی درج ذیل خصوصیات ہوں (a) پیداوار ذرائع پر نجی ملکیت ہوتی ہے ۔ (b ) بازار میں برآمد کو فروخت کرنے کے لیے ہی پیداوار کی جاتی ہے ۔ (c ) مزدوری کی خدمات کی خریدوفروخت جس قیمت پر کی جاتی ہے اسے شرح مزدوری کہا جاتا ہے (محنت کی اجرت کے بدلہ خرید وفروخت کی جاتی ہے، اسے اجرتی مزدوری کہا جاتا ہے)
اگر ہم درج بالہ چاروں کسوٹیوں کا اطلاق پر دنیا کے ممالک کریں توہم دیکھیں گے کہ سرمایہ دار ملک صرف پچھلے تین چارسو سالوں کے دوران وجود میں آئے ہیں، اس کے علاوہ صحیح معنی میں اس وقت بھی شمالی امریکا ،یورپ اورایشیا کے کچھ ہی ملک سرمایہ دارملکوں کے زمرے میں آئیں گے ۔کئی ترقی پذیر ممالک میں (خاص طورپر زراعت ) میں پیداواری عمل کسان خاندانوں کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے ۔ اجرتی مزدوری کا استعما ل کبھی کبھی ہوتا ہے اور زیادہ تر محنت خاندان کے افرادخود کرتے ہیں ۔ پیداوار صرف بازار کے لیے نہیں ہوتی ہے ۔ پیداوار کا ایک بڑا حصہ خاندان کے ذریعہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اکثر کسانوں کی پونجی میں وقت کے ساتھ ساتھ کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا ۔ بہت سے قبائلی سماجوں میں زمین کی ملکیت نہیں ہوتی ہے ۔زمین کی ملکیت پورے قبیلے کی ہوتی ہے۔ اس کتاب میں ہم نے جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ ایسے سماجوں پر قابل اطلاق نہیں ہوگا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ کئی ترقی پذیر ممالک میں جو پیداوار کی اکائیاں موجود ہیں وہ سرمایہ دارانہ اصولوں کے مطابق ہیں ۔اس کتاب میں پیداوار ی اکائیوں کو فرم کہاگیا ہے۔ کسی فرم کے کاروبار کو چلانے کی ذمہ داری مہم جو کی ہوتی ہے ۔ مہم جو بھی بازار سے مزدوروں کو مزدوری پر رکھتا ہے ۔ وہ پونجی کی خدمات کے ساتھ ساتھ زمین کا ا ستعمال کرتا ہے ان در آمدیوں کو کرائے پر لانے کے بعد پیداوار کا عمل انجام دیتا ہے اشیااور خدمات کی پیداوار (جس کابرآمد کے طورپر حوالہ دیا جاتا ہے)کے لیے اس کا مقصد بازار میں ان کو فروخت کرنا اوراس سے فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ اس عمل میں اسے غیر یقینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مثال کے طورپروہ جن اشیا کی پیداوار کرتا ہے وہ اونچی قیمت پر نہیں فروخت ہوپاتی ہیں ۔ اس سے مہم جوکے منافع میں کمی ہوتی ہے یہ غور کیا جاسکتا ہے کہ سرمایہ دارملکوں میں پیداوار کے عوامل اپنی آمدنی کی تخلیق پیداواری کے عمل اوراس سے حاصل برآمدسے کرتے ہیں۔
ترقی یافتہ اورتر قی پذیر دونوں طرح کے ملکوں میں نجی سرمایہ دارانہ شعبہ کے علاوہ ریاست کا ادارہ ہوتا ہے ۔ ریاست کا کردارقانون بنانے ، اسے نافذ کرنے او رانصاف دلانے میں ہوتا ہے ۔کئی ایسی مثالیں ہیں جہاں پیداوار کی ذمہ داری بھی اسی کی ہوتی ہے ۔ٹیکس لگانے اور عوامی بنیادی ساختوں کی تعمیر پر خرچ کے علاوہ ریاست کے ذریعہ اسکول ،کالج بھی چلائے جاتے ہیں اورطبی خدمات میں فراہم کی جاتی ہیں ۔جب ہم کسی ملک کی معیشت کا بیان کریں تو ریاست کے معاشی افعال کا ذکر کرنا ضروری ہوجاتاہے آسانی کے لیے ہم ریاست کے لیے اصطلاح’’ حکومت ‘‘کا استعمال کریں گے ۔
کسی معیشت میں فرم اورحکومت کے علاو ہ دوسرا جو بڑاشعبہ ہوتا ہے اسے گھریلو یا اہل خانہ شعبہ کہتے ہیں ۔یہاں اہل خانہ سے ہماری مراد ایک اکیلے فرد سے ہے جو اپنے صرف سے متعلق فیصلہ کرتا ہے یاکئی افرادکے گروپ سے ہے جن کے لیے صرف سے متعلق فیصلہ متحدہ طورپر لیا جاتا ہے ۔ اہل خانہ بچت بھی کرتے ہیں اورٹیکس بھی اداکرتے ہیں ۔ انھیں ان سرگرمیوں کے لیے رقم کیسے ملتی ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ اہل خاندان میں کئی لوگ ہوتے ہیں یہ لوگ فرموں میں مزدوروں کے طورپر کام کرتے ہیں اورمزدوری حاصل کرتے ہیں۔ وہ سرکاری محکموں میں کام کرتے ہیں اورتنخوہ حاصل کرتے ہیں یاوہ فرموں کے مالک بھی ہوسکتے ہیں جو منافع کماتے ہیں۔ فرموں کی مصنوعات کی جس بازار میں فروخت ہوتی ہے وہ واقعی اہل خانہ کی مانگ کے بغیر کام کرہی نہیں سکتا ہے ۔
ابھی تک ہم نے گھریلومعیشت میں اہم عوامل کا ذکر کیا ہے لیکن دنیا کے سارے ممالک بیرونی تجارت بھی کرتے ہیں ۔ بیرونی ِشعبہ ہمارے مطالعے میں چوتھا اہم شعبہ ہے ۔ بیرونی شعبہ سے تجارت دو طرح سے ہوسکتی ہے ۔
1۔ جب کوئی ملک اپنی گھریلواشیا کودنیا کے دیگرملکوں میں فروخت کرتے ہیں تواسے برآمد ات کیا جاتا ہے ۔
2۔ معیشت دنیا کے باقی حصوں سے اشیا خرید بھی سکتی ہے انھیں درآمدات کہا جاتا ہے ۔برآمدات اوردرآمدات کے علاوہ دوسری طرح سے دنیا کے دیگر ممالک کسی ملک کی معیشت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں ۔
3 ۔ کسی ملک کی معیشت میں غیر ملکی سرمائے کا بھی بہاو ہوسکتا ہے یاکوئی ملک غیر ممالک میں بھی پونجی کی برآمد کرسکتا ہے ۔
خلاصہ
کلی معاشیات میں کسی معیشت کے مجموعی معاشی تغیرات پر غور کیا جاتا ہے اس میں مختلف باہم مربوط سلسلوں پر بھی غور کیا جاتا ہے جو معیشت کے مختلف شعبوں میں موجود رہتے ہیں یہی و جہ ہے کہ یہ جزوی معاشیات سے مختلف ہوتا ہے اس میں اکثر کسی معیشت کے مخصوص شعبوں کے افعال کا جائزہ لیا جاتا ہے اورمعیشت کے دیگرشعبوں کو یکساں مان لیا جاتا ہے ۔کلی معاشیات کا ظہور ایک الگ مضمون کے طورپر 1930 میں کینس کے سبب ہوا عظیم کساد بازاری میں ترقی یافتہ ممالک پر کافی ضرب بڑی اورکینس کو اپنی کتاب لکھنے کی تحریک ملی ۔ اس کتاب میں ہم اکثر سرمایہ دارنہ معیشت کے طریقۂ کار کا ہی مطالعہ کریں گے ۔لہٰذا اس میں ترقی پزیر ملکوں کے افعال کو شامل کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔لہٰذا اس میں ترقی پزیر ملکوںاور افعال کو شامل کرنا ممکن نہیں ہو گا کلی معاشیات میں معیشت کو خاندان فرم ،حکومت اوربیرونی شعبوں کے اجتماع کی طورپر دیکھا جاتا ہے۔
کلیدی تصورات
| شرح سود | Rate of interest | شرح مزدوری | Wage rate |
|---|---|---|---|
| منافع | Profits | معا شی ایجنٹ یا اکائیا ں | Economic agents or units |
| عظیم کسادبازاری | Great Depression | بے روزگاری کی شرح | Unemploymint rate |
| پیداوار کے چار عوامل | Four factors of productio | پیداور کے ذرائع | Means of Production |
| درآمد | Inputs | زمین | Land |
| محنت | Labour | پونجی | Capital |
| کاراندازیا چھوٹے صنعتکار | Entrepreneurship | سرمایہ کاری اخراجات | Investment expenditure |
| اجرتی مزدوری | Wage Labour | سرمایہ دارنہ معیشت یاسرمایہ دار ملک | Capitalist country or capitalist economy |
| فرمیں | Firms | سرمایہ دارانہ فر میں | Capitalist Firms |
| ما حصل | Output | اہل خانہ | Households |
| حکومت | Government | بیرونی سیکٹر | External sector |
| برآمدات | Exports | درآمدات | Imports |
مشقیں
1۔ جزوی معاشیات اورکلی معاشیات کے درمیان کیا فرق ہے؟
2۔ سرمایہ دارانہ معیشت کی اہم خصوصیات کیا ہیں؟
3۔ کلی معاشیات کے زاویۂ نگاہ سے کسی معیشت کے چار اہم شعبوں کی تفصیل میں بیان کریں ۔
4۔ 1929 کی عظیم کسادبازار ی کا بیان کریں ۔
مجوزہ مطالعات
1۔ بھادری، اے۔ Macroeconomics: The Dynamics of Commodity Production,
pages 1 – 27, Macmillan India Limited, New Delhi, 1990.
2۔ مانگیو، این۔ جی۔ Macroeconomics, pages 2 – 14, Macmillan Worth Publishers, New York, 2000.