Skip to content
5271CH01


6

قومی آمدنی کا حساب

اس باب میں ہم عام معیشت کے بنیادی طریقۂ کار سے متعارف کرایں گے۔سیکشن 2.1 میں ہم نے کچھ ابتدائی تصورات کا بیان کیا ہے، جن کے ساتھ ہمیں عمل کرنا ہے۔ دائری راہ پر معیشت کے شعبوں سے گزرنے والی پوری معیشت کی مجموعی آمدنی پر ہم کیسے غور کر سکتے ہیں سیکشن 2.2 میں ہم نے یہ بیان کیا ہے ۔ اسی سیکشن میں قومی آمدنی کے شمار کے تین طریقوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ طریقے ہیں:طریقہ پیداوار ، طریقۂ خرچ اور طریقۂ آمدنی۔ آخری سیکشن 2.3 میں قومی آمدنی کے مختلف ذیلی زمروں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف قیمت اشاریوں جیسے مجموعی ملکی پیداواری (GDP)تقلیل کار، صارف قیمت اشاریہ، تھوک قیمت اشاریوں کی بھی تعریف کی گئی ہے اور اس ملک کی مجموعی پیداوار کو لینے میں جو مسائل سامنے آتے ہیں اس پر بحث کی گئی ہے۔

2.1 کلی معاشیات کے کچھ بنیادی تصورات

آج کل ہم جس مضمون کو معاشیات کہتے ہیں ، اس کے اولین لوگوں میں ایک تھے ایڈم اسمتھ ۔ انھوں نے اپنی سب سے اہم تخلیق کو An Enquiry in to the Nature  and cause of the wealth of Nationsکا نام دیا۔ کسی ملک کی معاشی دولت کی تخلیق کیسے ہوتی ہے؟ ملک امیر یا غریب کیسے بنتے ہیں؟ یہ معاشیات کے کچھ مرکزی سوالات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جن ملکوں کو معدنیات یا جنگلات یا زیادہ زر خیز زمین جیسی قدرتی دولت عطا ہوتی ہیں، وہ ملک قدرتی طور پر سب سے امیر مما لک ہیں۔ درحقیقت وسائل سے بھر پو ر افریقہ اور لیٹن امریکا دنیا کے غریب ترین ممالک ہیں جب کہ بہت سے خوشحال ملکوں کے پاس قدرتی دولت بہت کم ہے۔ ایک وقت تھا جب قدرتی وسائل پر قبضے کو زیادہ اہم تصور کیا جاتا تھا لیکن تب بھی پیداوارکے عمل کے ذریعہ وسائل کی شکل بدل دی جاتی تھی۔
معاشی دولت یا کسی ملک کی امیری کے لیے اس کے پاس وسائل کا ہونا ضروری نہیں ہے ، خاص بات یہ ہے کہ ان وسائل کا استعمال کیسے کیا جا ئے جس سے پیداوار میں روانی پیدا ہو اور اس عمل کے ذریعہ کیسے آمدنی اور دولت کی تخلیق کی جائے۔
آئیے اس پیداوار کی روانی پر غور کریں۔ پیداوارکیسے ہوتی ہے؟ پیداوار کی روانی کی تخلیق کے لیے لوگ اپنی توانائیوں کو ایک سماجی اور تکنیکی ڈھانچے کے تحت قدرتی اور انسانی ساختہ ماحول میں ایک ساتھ لگاتے ہیں۔
ہمارے جدید معاشی نظام میں پیداوار کی اس روانی کی تخلیق لاکھوں چھوٹی بڑی کاروباری مہم جوئی کے ذریعہ اشیا اور خدمات کی پیداوار سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کاروباری اداروں میں بڑے بڑے کارپوریشن (جن میں لوگوں کی بڑی تعداد ملازمت میں ہوتی ہے) سے لے کر ایک اکیلے کاروباری منتظم کا ر تک شامل ہیں۔ لیکن پیداوار کے بعدا ن اشیا کا کیا ہوتا ہے؟ ہر شے کے پیداکاروں کو اپنے بر آمد (ماحصل) کو فروخت کرنے کا رجحان ہوتا ہے۔ اس لیے پن یا بٹن جیسے چھوٹے مادوں سے لے کر ہوائی جہاز ، آٹو موبائیل ، بڑی مشینری یا کوئی قابل فروخت خدمات جیسے ڈاکٹر، وکیل یا مالیاتی صلاح کاروں کی خدمات تک، سبھی اشیا اور خدمات کی پیداوار صارفین کو فروخت کرنے کے لیے کی جاتی ہے ۔ صارف کوئی فرد ہو سکتا ہے یا کوئی مہم جو، ان کے ذریعہ خریدی جانے والی شے یا خدمات آخری استعمال یا مزید پیداوار میں استعمال کے لیے ہو سکتی ہے۔ جب اس کا استعمال آگے کی پیداوار کے لیے کیا جاتا ہے تب اکثر یہ مخصوص شے اپنی خصوصیات کھو دیتی ہے اور پیداواری عمل کے ذریعہ کسی دوسری شے کی شکل میں تبدیل ہو جا تی ہے۔ کپاس کے کسان دھاگا تیار کرنے والی مل کو کپاس فروخت کرتے ہیں ، جہاں کپاس سے دھاگے تیار کیے جاتے ہیں، ان دھاگوں کو کپڑے کی مل میں فروخت کیا جاتا ہے جہاں پیداواری عمل کے ذریعہ یہ کپڑے کی شکل میں آجاتا ہے اور اس کپڑے کو دیگر پیداواری عمل کے ذریعہ پہننے لائق کپڑے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اب یہ کپڑا صارفین کے آخری استعمال کے لیے فروخت ہوتا ہے۔ لہٰذا شے کی ایسی مد یا قسم جن کا آخری استعمال صارفین کے ذریعہ ہوتاہے اور جنھیں پھر پیداواری عمل کے کسی مرحلے سے گزرنا نہیں پڑتا ہے یا جن میں دوبارہ کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ انھیں آخری شے کہا جاتا ہے۔
 ہم اسے آخری شے کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ایک باریہ فروخت ہونے کے بعد سرگرم معاشی بہاو سے باہرہو جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی بھی پیداکار کے ذریعہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا تی ہے۔ تاہم آخری خرید ار کے ذریعہ اس کی شکل تبدیل کی جا سکتی ہے۔ دراصل کئی آخری اشیا ایسی ہوتی ہیں جن میں صرف کے دوران تبدیلی ہوتی ہے ۔ اس طرح چائے کی پتی کا صرف ہم اسی شکل میں استعمال نہیں کرتے جیسا کہ ہم خرید تے ہیں بلکہ اس کا استعمال پینے کے لائق چائے کی شکل میں تبدیل کرنے کے بعدکرتے ہیں جس کو صرف کیا جا تاہے۔ اسی طرح ہمارے باورچی خانہ میں اکثر چیزوں کو کھانا پکانے کے عمل کے ذریعہ تبدیل کیا جاتا ہے۔لیکن گھروں میں کھانا پکانے کا کام معاشی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہے حالانکہ پیداوار تبدیلی کے مرحلے سے گزرتی ہے۔ گھر میں بنایا گیا کھانا بازار میں فروخت کے لیے نہیں جاتاہے۔ تاہم اگر اسی طرح کے کھانا بنانے یا چائے بنانے کا کام کسی ریسٹورنٹ میں کیا جائے جہاں پکائی گئی اشیا صارفین کو فروخت کی جائیں تب یہی مدیں جیسے کہ چائے کی پتی آخری اشیا نہیں ہوپائیں گی اور انھیں درآمد(inputs)کے طور پر شمار کیا جائے گا جس کی معاشی قدرمیں اضافہ واقع ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کوئی شے اپنی فطرت کے سبب نہیں بلکہ اپنے استعمال کی معاشی فطر ت کے لحاظ سے آخری شے بنتی ہے۔
تیار شدہ اشیا میں بھی صارف اشیا اور اشیا اصل میںہم فرق کر سکتے ہیں۔ غذا اور لباس جیسی اشیا اور تفریح جیسی خدمات کا صرف اسی وقت ہوتا ہے جب انھیں آخری صارفین کے ذریعہ خریداجاتا ہے انھیں صرفی اشیا کہا جاتا ہے (ا س میں خدمات بھی شامل ہیں جنھیں صرف کیا جاتا ہے لیکن آسانی کے لیے ہم انھیں صرفی اشیا کہہ سکتے ہیں)۔
اس کے بعد کچھ دیگر اشیا ہیں جو پائیدار نوعیت کی ہوتی ہیں اور پیداواری عمل کاری میں ان کا استعمال کیا جاتاہے۔ یہ اوزار، ساز وسامان اور مشینیں ہیں۔حالانکہ یہ دیگر قابل عمل اشیا کی پیداوار تو کرتی ہیں لیکن پیداواری عمل میں ان کی خود کی شکل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ تیار شدہ اشیا بھی ہیں لیکن یہ وہ آخری اشیا نہیں ہیں جنھیں آخری طور پر صرف کیا جاتا ہے۔ہم نے اوپر جن آخری اشیا کاذکر ہے ان کے برعکس یہ کسی بھی پیداواری عمل کی فیصلہ کن اساس ہوتی ہیں جس سے پیداوار میں مدد ملتی ہے اور پیداوار ممکن ہوتی ہے۔ ان اشیا سے پونجی کی ایک جزوی تشکیل ہوتی ہے جو کہ پیداوار کا ایک اہم عامل ہے۔ اس میں پیداکار مہم جو نے سرمایہ لگا یا ہے اور وہ پیداواری عمل کو پیداواری گردش (چکّر)میں جاری رکھنے کا اہل بناتی ہے۔ یہ اشیا اصل ہیں اور ان میں بتدریج ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہتی ہے لہٰذا وقتاً فوقتاً اس میں مرمت کی جاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اسے بدل دیا جاتا ہے ۔کسی معیشت میں شامل پونجی کے ذخیرے کو محفوظ کیا جاتا ہے، اسے برقرار رکھا جاتا ہے اور جزوی یا مکمل طور پر اس کی تجدید کی جاتی ہے اور یہی اس کی ایک اہم خصوصیت ہے جس کامطالعہ کیا جائے گا۔
یہاں یہ یاد رہے کہ کچھ اشیا جیسے ٹیلی ویژن سیٹ ، آٹو موبائیل ، گھریلو کمپیوٹر، اگر چہ یہ آخری صرف کے لیے ہیں پھر بھی ان میں اشیا اصل کی بھی خصوصیت پائی جاتی ہے یعنی یہ بھی پائیدار ہوتی ہیں ۔ یعنی یہ فوری یا قلیل مدتی صرف میں ختم نہیں ہوتیں۔ یہ غذا اور لباس جیسی اشیا کی بہ نسبت زیادہ عرصے تک قائم رہتی ہیں۔ صرف ہونے پر ان میں بھی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور مرمت یا پرزے کے بدلنے کی طرح ان کی بھی حفاظت رکھ رکھاو اور تجدید کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہم ان کو پائیدار صرفی اشیا کہتے ہیں۔
اس طرح کسی معیشت میں ایک دی ہوئی مدت میں تیار کی گئی سبھی تیار  اشیایا خدمات پر اگر ہم غور کریں تو وہ یا تو صرف کی اشیا پائیدار یا غیر پائیدار کی شکل میں ہوتی ہیں یا اشیا اصل کی شکل میںہوتی ہیں۔ تیار شدہ اشیاکے طور پر انھیں معاشی عمل میں مزید تبدیلی کے مر حلے  سے نہیں گزرنا پڑتا ہے۔
معیشت میں کل پیداوار کی ایک بڑی مقدار آخری صرف کے طورپر ختم نہیں ہوتی ہے اور یہ اشیا اصل بھی نہیں ہیں۔ ایسی اشیا کا استعمال دیگر پیداکاروں کے ذریعہ در آمد یا مادخل مواد کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثالیں ہیں:آٹو موبائیل بنانے کے لیے اسٹیل کی چادر کا استعمال اور برتنوں کے بنانے میں تانبے کا استعمال ۔ یہ درمیانی اشیا ہیں جن کا استعمال اکثر دیگر اشیا کی پیداوار کے لیے کچے مال یا در آمدکے طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ آخری اشیا نہیں ہیں۔
اب معیشت میں پیداوار کی کلی روانی کے بارے میں جامع تصور کے لیے ہمیں معیشت میں آخری طور پر تیار اشیا کی مجموعی سطح کی مقدار پیمائش کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حالانکہ مقداری تعین قدر حاصل کرنے کے لیے معیشت میں تیار سبھی اشیا اور خدمات کی پیمائش میں ظاہر ہے کہ ہمیں ایک عام پیمائشی پیمانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کپڑوں کی پیمائش کے لیے جس میٹر کا استعمال کیا جاتا ہے، اس سے ہم ٹنوں میں چاول کی پیمائش نہیں کرسکتے اور نہ ہی آٹو موبائیل یا مشین کی تعداد معلوم کر سکتے ہیں ۔ ہمارا عام پیمائش پیمانہ زر ہے۔ چونکہ ان میں سے ہر ایک شے کی پیداوار فروخت کی غرض سے کی جاتی ہے۔ اسی لیے ان میں مختلف اشیا کی زری قدر کی کل جمع سے آخری بر آمد کی پیمائش حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ہم صرف آخری شے کا تعین قدر کیوں کرتے ہیں؟ یقینا درمیانی اشیا کسی پیداواری عمل کا نہایت اہم در آید ہے اور ان اشیا کی پیداوار میں قوت افراد اورپونجی اسٹاک کا ایک اہم حصہ شامل ہوتا ہے ۔ الگ سے ان کا شمار کرنے پر دو بارہ شمار کرنے سے بچا جا سکتا ہے جب کہ درمیانی اشیا پر غور کرنے سے کل معاشی سرگرمیوں کی پوری تفصیل حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر بھی ان کے شمار سے ہماری معاشی سرگرمیوں کی آخری قدر مبالغہ آمیز ہو سکتی ہے۔
اس مرحلے میں اسٹاک اور بہاو (روانی) کے تصورات کا تعارف زیادہ اہم ہے۔ اکثر ہم سنتے ہیں کہ کسی کی اوسط تنخواہ 10,000روپیے ہے یا فولاد صنعت کا بر آید اتنے ٹن یا اتنے روپیے کے بقدر ہے۔ لیکن یہ بیان نا مکمل ہے کیونکہ یہ ظاہر نہیں ہے کہ جس آمدنی کی بات کہی گئی ہے، وہ سالانہ ہے یا ماہانہ یا یومیہ ہے اور یقینا اس سے ایک بڑا فرق پیدا ہوتا ہے کبھی بھی سیاق و سباق سے واقفیت ہوتی ہے تو ہم فرض کرتے ہیں کہ مد ت معلوم ہے اس لیے اس کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ لیکن ایسے سارے بیانوں میں ایک مقررہ مدت واضح ہوتی ہے ورنہ ایسے بیان بے معنی ہیں ۔ اس طرح آمدنی یا بر آید یا منافع ایسے تصورات ہیں جن سے صرف جب ہی مفہوم پیدا ہوتا ہے جب مدت کی صراحت کی گئی ہو۔ انھیں بہاو (Flow) کہا جاتاہے کیونکہ یہ ایک مدت میں واقع ہوتے ہیں ۔لہٰذا ہمیں ان کی مقداری پیمائش حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص مدت کو درج کر ناپڑتا ہے۔ چونکہ کسی معیشت میں زیادہ تر حسابی عمل سالانہ ہوتے ہیں ، اس لیے ان میں سے زیادہ تر کو سالانہ طورپر ظاہر کیا جاتا ہے جیسے سالانہ منافع یا پیداوار ۔ بہاو کا ایک خاص مدت کے لیے تعین کیا جاتاہے۔
اس کے برعکس در ج مدت وقت میں ایک بارتیار کی گئی اشیا اصل یا پونجی اشیا یا پائیدار صارف اشیا میں نہ ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور نہ ہی ان کا صرف ہوتا ہے۔ درحقیقت اشیا اصل ہمیں پیداوار کے مختلف دور میں خدمات فراہم کرتی ہیں۔ فیکٹری کی عمارت اور مشین مخصوص مدت وقت سے غیر وابستہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی نئی مشین کو شامل کیا جاتا ہے یا مشین استعمال میں نہیں ہوتی اور اسے بدلا نہیں جاتا تب اس میں اضافہ یا تخفیف ہو سکتی ہے۔ اسٹاک کی تعریف ایک مخصوص وقت میں کی جاتی ہے۔ لیکن ہم ایک متعین وقت میںاسٹاک میں تبدیلی کی پیمائش کر سکتے ہیں جیسے کتنی مشینیں شامل کی گئیں ۔ لہٰذا اسٹاک میں اس طرح کی تبدیلی کو بہاو کہتے ہیں جن کی پیماش ایک مخصوص مدت میں کی جاسکتی ہے۔ کوئی خاص مشین کئی سالوں تک (اگر ٹوٹ پھوٹ نہ ہو) پونجی اسٹاک (اصل کا ذخیرہ ) کا حصہ ہو سکتی ہے، لیکن وہ مشین پونجی اسٹاک میں شامل نئی مشینوں کے بہاو کاحصہ صرف ایک سال کے لیے ہو سکتی ہے۔
اسٹاک اور بہاو کے درمیان فرق کو مزید سمجھنے کے لیے، مان لیجیے کہ ایک نل سے کسی حوض کو بھرا جا رہا ہے۔ نل سے فی منٹ جتنا پانی حوض میں بھرا جا رہا ہے وہ بہاو ہے لیکن جتنا پانی حوض میں کسی وقت خاص میں دستیاب ہوتا ہے، وہ اسٹاک ہے۔
اب ہم آخری ماحصلکی پیمائش کی بحث کا ذکر کرتے ہیں، ہمارے آخری ماحصل کا وہ حصہ جو اشیا اصل (Capital Goods) پر مشتمل ہوتا ہے، کسی معیشت کی مجموعی سرمایہ کاری کی تشکیل کرتا ہے1۔ یہ مشینیں ، اوزار اور عمارتیں ، سازوسامان دفتر گودام یا سڑکیں، پل ، ہوائی اڈے یا بندرگاہ وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک سال میں تیار ساری اصل اشیا پہلے سے موجودپونجی اسٹاک میں مزید اضافہ نہیں کرتیں ۔ اشیا اصل کے موجودہ ماحصل کا ایک اہم حصہ موجود اشیا اصل کے اسٹاک جزو کے رکھ رکھاو یا پرزوں کے بدلنے میں چلا جاتاہے ایسا اس لیے ہے کہ پہلے موجودہ پونجی اسٹاک میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے او اس کے رکھ رکھاو اور بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشیا اصل کا ایک حصہ جو اس سال تیار ہوتا ہے۔وہ موجودہ اشیا اصل کو بدلنے میں چلا جاتا ہے اور پہلے سے موجود اشیا اصل کے اسٹاک میں اضافہ نہیں کر تا اور خالص سرمایہ کی پیمائش کرنے کے لیے مجموعی سرمایہ کاری سے اس کی قدر کو گھٹا نے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشیا اصل کی حسب معمول ٹوٹ پھوٹ کے مطابق مجموعی سرمایہ کاری کی قدر سے جو حذف ہوتا ہے اسے فرسودگی (Depreciation) کہا جاتا ہے۔


1۔ماہرین معاشیات نے سرمایہ کاری کی اس طرح تعریف کی ہے ۔ اسے سرمایہ کاری کے عام مفہوم کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیے جس کا اظہار زر کے استعمال کے ذریعہ مادی یا مالیاتی اثاثوں کو خریدنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس طرح اصطلاح سرمایہ کاری کے اس استعمال کا شیئروں یا جائداد کی خریداری یہاں تک کہ بیمہ پالیسی کے ساتھ بھی ماہرین معاشیات کے ذریعہ تعریف کی گئی سرمایہ کاری سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ہمارے لیے سرمایہ کاری ہمیشہ پونجی کی تشکیل ہے یعنی پونجی اسٹاک میں مجموعی یا خالص اضافہ ہے۔


لہٰذامعیشت میں پونجی اسٹاک میں نئے اضافے کی پیمائش خالص سرمایہ کاری یا نئے تشکیل اصل کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ جسے اس طرح ظاہر کرتے ہیں ۔
خالص سرمایہ کاری =کل سرمایہ کاری-فرسودگی
اب ہم فرسودگی کی اصطلاح کا تفصیلی جائزہ لیں۔ مان لیجیے کوئی فرم مشین میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ یہ مشین اگلے 20سالوں تک کام کر سکتی ہے، جس کے بعد اس کی مرمت یا اسے بدلنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ جسے ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ہر ایک سال کے پیدا واری عمل میں مشین کو بتدریج بھر پور استعمال کیا جا تا رہا تو ہر ایک سال اس کی حقیقی قدر میں 20ویں حصے کے برابر فرسودگی پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا 20 سال کے بعد بدلنے کے لیے تھوک سرمایہ کاری پر غور کرنے کے بجائے ہم ہر سال سالانہ فرسودگی پر غور کر سکتے ہیں ۔ یہ ایک عام مفہوم ہے جس میں اصطلاح فرسودگی کا استعمال کیا گیا ہے اور اس کا تصور موجود ہے، وہ یہ کہ ایک خالص شے اصل کی متو قع مدت عمل کیا ہے جیسے مشین کی ہماری مثال میں بیس سال ہے، فرسودگی اس طرح شے کی اصل 2 کی ٹوٹ پھوٹ کا سالانہ الاؤنس ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ شے کی لاگت ہے جسے اس کی کار آمد زندگی سالوں کے تعداد سے تقسیم کیا جا تاہے۔
3۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ فرسودگی ایک حسابی تصور ہے۔ کوئی حقیقی خرچ در اصل ہر سال واقع نہیں ہوتاہے لیکن فرسودگی کا حساب سالانہ طورپر لگایا جاتاہے۔کسی معیشت میںمختلف طرح کی مشینوںکا استعمال ہوتاہے۔ ہزاروں کاروباری ادارے عموماًکسی ایک سال میں بڑی مقدار میں انھیں بدلنے پر رقم خرچ کرتے ہیں لہٰذا ہم واقعی یہ تصور کر سکتے ہیں کہ حقیقی بدلی اخراجات کابہاو یکساں ہوگا جو اس معیشت میں ہونے والی سالانہ فرسودگی کی مقدار کے حساب سے کم وبیش میل کھائے گا۔
 اگر ہم کسی معیشت میں تیار کل آخری ماحصل پر ایک نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ اس میں صارف اشیا،خدمات اور اصل اشیا کے برآید ہوتے ہیں ۔ صارف اشیا سے معیشت کی پوری آبادی کا صرف جاری رہتا ہے۔ صارف اشیا کی خرید ان اشیا پر خرچ کرنے کی لوگوں کی قوت پر مبنی ہوتی ہے جو ان کی آمدنی پر منحصر ہوتی ہے آخر ی اشیا کا دوسرا حصہ اشیا ئے اصل ہے جس کی خرید کاروباری یا مہم جوکاروباری یا صنعت میں رکھ رکھاوکے لیے یا اپنی پونجی کے اسٹاک میں اضافہ کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی پیداوار کا بہاو قائم رہے یااس میںوسعت ہو۔ ایک مخصوص مدت میں جیسے کسی ایک سال میں آخری اشیا کی کل پیداوار چاہے تو صرف کی شکل میں ہو یا سرمایہ کاری کی صورت میں اس طرح ایک تصفیہ قائم ہوتا ہے۔اگرکسی معیشت میں آخری اشیا کی رواں پیداوار میں صارف اشیا کی پیداوار زیادہ ہوگی تو اس کی سرمایہ کاری اشیا کم پیدا ہوگی اور اس کے بر عکس بھی ہو سکتا ہے۔


2۔فرسودگی غیر متوقع یا اچانک ہونے والی بر بادی یا پونجی کے غلط استعمال جو کہ حادثہ ، قدرتی آفات یاپھر اس طرح کی دیگر بیرونی صورت حال کے سبب پیدا ہوتی ہے ان سے متعلق نہیں ہوتی ہے۔
3۔اس کے بجائے یہاں ہم اثاثوں کی اصل قدروں کی بنیادی فرسودگی کا ایک عام مفروضہ قائم کر رہے ہیں کہ فرسودگی کی شرح مستقل ہے حقیقی عمل میں فرسودگی کی شرح کے دیگر طریقے ہو سکتے ہیں۔

عام طو ر پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اشیا اصل جتنی کارگزار ہوگی اشیا کی پیداوار کے لیے اتنی ہی محنت کی پیداوار زیادہ ہوگی۔ روایتی بنکر کوایک ساذی بنانے میں مہینوں لگیں گے لیکن جدید مشینری کے ذریعہ ایک دن میں ہزاروں ساڑیاں تیار کی جاتی ہیں پر امڈ یا تاج محل جیسی عظیم تاریخی یادگاروں کو بنانے میں دسیوں سال لگے لیکن جدید تعمیراتی مشینری سے کچھ ہی سالوں میں آسمان کو چھونے والی عمارتیں بنائی جاسکتی ہیں۔ اشیا اصل کی نئی قیمتوں کی زیادہ پیداوار کی وجہ سے صارف اشیا کے زیادہ پیداوار میں مدد ملے گی۔
لیکن یہاں ہم کیا خود باہم متناقض نہیں ہورہے ہیں؟ پہلے ہم نے دیکھا کہ ایک معیشت میں آخری اشیا کی کل ماحصل کا ایک چھوٹا حصہ صرف کی اشیا کے لیے دستیاب ہوتا ہے، جب کہ پیداوار کا زیادہ تر حصہ اشیا اصل کی پیداوار میں صرف ہوتا ہے اور اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زیادہ اصل اشیا کا مطلب زیاوہ صرفی اشیا ہے ۔ گرچہ یہاں کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہاں جس چیز کی اہمیت ہے وہ ہے وقت۔ ایک مخصوص مدت میں معیشت کی پیداوار کی دی گئی سطح پر ، یہ صحیح ہے کہ اگر اصل اشیا کی پیداوار زیادہ ہوگی تو صرفی اشیا کی پیداوار کم ہوگی۔ لیکن زیادہ اصل اشیا کی پیدا وار سے مراد یہ ہے کہ مستقبل میں محنت کشوں کے پاس کام کرنے کے لیے زیادہ اصل اشیا دستیاب ہوں گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس کے نتیجے میں معیشت میں اشیا کی پیداوار کی زیادہ صلاحیت ہوگی اور زیادہ اشیا تعداد میں محنت کش پیداوار کرتے ہیں۔ جب ہم اسی کا موازنہ کم اصل اشیا کی پیداوار سے کرتے ہیں تو یہ کل پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ اگر کل پیداوار ہے زیادہ تو یقینا صرفی پیداوار اشیا کی مقدار زیادہ ہوجائے گی۔ اس طرح معاشی دور نہ صرف اصل اشیا کی زیادہ پیداوار ہی نہیں کرتا بلکہ اس میں توسیع بھی کرتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بحث میں دوسرے دوری بہاو (روانی) کو بھی ہم شامل کر سکتے ہیں۔ 
چونکہ ہم بازار کے لیے پیداکی جانے والی سبھی اشیا اور خدمات کی بات کر رہے ہیں تو اہم عامل جو ایسی فروخت کو ممکن بناتا ہے وہ ہے ایسی اشیا کے لیے مانگ جس کو قوت خرید کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ کسی کے پاس اشیا کو خرید نے کی ضروری استعداد ہونی چاہیے ۔ ورنہ اشیا کے لیے کسی کی ضرورت کو بازار کے ذریعہ منظوری حاصل نہیں ہوتی ہے۔
ہم نے اوپر پہلے ہی بحث کی ہے کہ کسی کی اشیا خرید نے کی استعداد آمدنی سے پیدا ہوتی ہے جو کوئی ایک مزدور کے طورپر (مزدوری حاصل کرنے کے طور پر )یا کاروباری مہم جو کے طور پر (منافع کمانے کے طور پر) یا زمین کے مالک کے طورپر (لگان یا کرایہ حاصل کرنے کے طور پر)یا پونجی کے مالک کے طورپر (سود کمانے کے طورپر ) کماتاہے۔مختصراً پیداوار کے عوامل کے طور پر لوگ جو آمدنی حاصل کرتے ہیں، ان کا استعمال وہ شے اور خدمات کی اپنی مانگ کی تکمیل کے لیے کرتے ہیں لہٰذا ہم یہاں ایک دوری بہاو دیکھ سکتے ہیں جس میں بازارکے ذریعہ آسانی پیدا ہوتی ہے۔
چنانچہ ہم اسے آسان طور پر پیش کریں گے، پیداواری عمل کو چلانے کے لیے پیداوار کے عوامل کی مانگ جو فرم کرتی ہے، اس سے لوگوں کی ادائیگیوں کی تخلیق ہوتی ہے، نتیجتاً اشیا اور خدمات کی لوگوں کی مانگ سے فرموں کے لیے ادائیگی کی تخلیق ہوتی ہے اور اس سے ان کے ذریعہ تیار مصنوعات کی فروخت ہوتی ہے۔
لہٰذا صرف اور پیداوار کا سماجی عمل پیچیدہ طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور در حقیقت ایک دائری علت یا سبب واقع ہوتا ہے ۔ کسی معیشت میں پیداوار کا عمل پیداوار میں حصہ لینے والے عوامل کے لیے آمدنی فراہم کرتاہے اور پیداوار کی بر آمد کی شکل میں اشیا اور خدمات کی تخلیق ہوتی ہے اور اس طرح تخلیق کی گئی آمدنی سے آخری صرفی اشیا کو خرید نے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کاروباری مہم جو کے ذریعہ ان کی فروخت ممکن ہوتی ہے جو ان کی پیداوار کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ پیداواری عمل میں تخلیق شدہ اشیا اصل بھی ان کے پیداکاروں کو آمدنی، مزدوری کا منافع و غیرہ کمانے کا اسی انداز میں اہل بناتی ہیں ۔ اشیا اصل سے کسی معیشت کے پونجی اسٹاک میں یا تو اضافہ ہوتا ہے یا اسٹاک قائم رہتا ہے اور اس سے دیگر اشیا کی پیداوار ممکن ہوتی ہے۔

2.2 آمدنی کی دائری روانی اور قومی آمدنی کے شمار کے طریقے

پچھلے سیکشن میں معیشت کے بارے میں جو بیان کیا گیا، اس سے ہم یہ جاننے کے اہل ہو گئے ہیں کہ کوئی سادہ معیشت والی حکومت ، بیرونی تجارت یا کسی بچت کے بغیر کس طرح کام کرسکتی ہے ۔جیسا کہ ہم نے پہلے ہی ذکر کیا ہے کہ اشیا اور خدمات کی پیداوار کے دوران چار طرح کے بنیادی اشتراک کیے جا سکتے ہیں۔ (a) انسانی محنت کے ذریعہ کیا گیا اشتراک جس کا معاوضہ مزدوری کہلاتا ہے۔(b) پونجی کا اشتراک جس کا معاوضہ سود ہے (c) کاروباری مہم جوئی کا اشتراک جس کا معاوضہ منافع ہے (d)معین قدرتی وسائل (جسے زمین کہا جاتا ہے) کا اشتراک جس کا معاوضہ لگان ہے۔
اس تسہیل شدہ معیشت میں صرف ایک طریقہ ہے جس میں خاندان یا اہل خاندان اپنی آمدنی کو صرف کر سکتے ہیں یعنی وہ اپنی پوری آمدنی کو گھریلو فرموں کے ذریعہ پیدا شدہ اشیا اور خدمات پر صرف کر سکتے ہیں ۔ ان کی آمدنی کے خرچ کرنے کے دیگرذرائع بند ہوتے ہیں : ہم نے یہ فرض کیا ہے کہ اہل خانہ بچت نہیں کرتے۔ حکومت کو ٹیکس نہیں ادا کرتے کیونکہ یہاں کوئی حکومت نہیں ہے اور نہ ہی وہ در آمد کی ہوئی اشیا خرید تے ہیں کیونکہ سادہ معیشت میں کوئی بیرونی تجارت نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں پیداوار کے عوامل اپنے معاوضے کا استعمال ان اشیا اور خدمات کی خریدمیں کرتے ہیں جن کی پیداوار میں وہ معاون ہوتے ہیں ۔ معیشت کے اہل خانہ کے ذریعہ مجموعی صرف فرموں کے ذریعہ پیدا اشیا اور خدمات پر ہوئے کل مصارف کے برابر ہوتا ہے ۔ لہٰذا فروخت کے محاصل کی شکل میں معیشت کی کل آمدنی پیداکاروں کے پاس پھر واپس آجاتی ہے۔اس نظام میں کسی طرح کارساو نہیں ہوتا یعنی فرم کے ذریعہ عامل ادائیگیوں (جو کہ پیداوار کے چار عوامل کے ذریعہ کمایاگیا کل معاوضہ ہے) کی شکل میں تقسیم کی گئی مقدار کی کل اور ان کے ذریعہ فروخت محاصل کی شکل میں کل مجموعی صرفی اخراجات کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا۔
اگلی مدت میں فرمیں اشیا اور خدمات کی ایک بار پھر پیداوار کرتی ہیں اور پیداوار کے عوامل کو معاوضہ ادا کرتی ہیں۔ ان معاوضوں کا استعمال پھر اشیا اور خدمات کی خرید کے لیے ہوگا۔ لہٰذا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ معیشت کی کل آمدنی ہر سال دو شعبوں،فرموں اور اہل خاندان کے درمیان دائری راہ پر رواں رہے گی۔ اسے شکل 2.1 میں ظاہر کیا گیاہے۔ جب آمدنی کو فرم کے ذریعہ پیدا اشیا اور خدمات پر خرچ کیا جاتا ہے تو یہ کل خرچ کی شکل میں فرموں کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔ چونکہ اخراجات کی قدر اشیا اور خدمات کے برابر ہونی چاہیے اس لیے ہم کل آمدنی کی پیمائش فرم کے ذریعہ پیدا کی گئی اشیا اور خدمات کی کل قدر کو شمار کرکے کرتے ہیں۔ جب فرم کے ذریعہ حاصل کیے گئے کل محاصل کے ادئیگی پیداوار کے عوامل کے ذریعہ کی جاتی ہے تو یہ کل آمدنی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
شکل 2.1 میں سب سے اوپر تیر جو خاندان کو فرم سے جوڑتی ہے فرم کے ذریعہ تیار کی گئی اشیا اور خدمات کی خرید پر خاندان یا اہل خاندان کے خرچ کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسرا تیر جو فرم کو خاندان سے جوڑتا ہے اوپرکے تیر کے مشابہ ہے ۔ یہ فرم سے خاندان کی طرف رواں شے اور خدمات کو بتاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ وہ روانی ہے جو کہ خاندان خرچ کرکے فرموں سے حاصل کرتے ہیں۔ مختصراً اوپر سے دو تیر اشیا اور خدمات کے بازار کو ظاہر کرتے ہیں۔ اوپر کا تیر اشیا اور خدمات کی ادائیگی کے بہاو کو ، نیچے کا تیر اشیا اور خدمات کے بہاو کوظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح شکل کے نچلے حصے کے دو تیر پیداواراور بازار کے عوامل کو ظاہر کرتے ہیں۔ سب سے نیچے جو خاندان کو فرم سے جوڑتا ہے ، خاندان کے ذریعہ فرم کو فراہم کی گئی خدمات کی تاویل کرتا ہے۔ ان خدمات کو استعمال کر کے فرم بر آمد کی تخلیق کرتی ہے۔ اس کے اوپر کا تیر جو فرم کو خاندان سے جوڑتا ہے ، فرم کے ذریعہ خاندان کو ان کی خدمات کے لیے کی گئی ادائیگیوں کو ظاہر کرتاہے۔
 شے اور خدمات کی کل قدرکو ظاہر کرتے ہوئے زر کی ایک ہی قدر دائری راہ پر حرکت کرتی ہے ۔ اگر ہم شے اور خدمات کی کل قدروں کا ایک سال کے دوران شمار کرنا چاہیں تو ڈائیگرام میں ظاہر کسی بھی نقطہ دار خط پر واقع روانی کی سالانہ قدر کی پیمائش کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم سبھی فرموں کے ذریعہ تیارشدہ آخری اشیا اور خدمات کی کل قدر کا تعین کرتے ہوئے (A) پر روانی کی پیمائش کر سکتے ہیں ۔ یہ طریقۂ ، طریقۂ اخراجات کہلاتا ہے۔ اگر ہم (B) پرسبھی فرموں کے ذریعہ اشیا اور خدمات کی کل قدروں کی پیمائش کرتے ہیں تب یہ طریقہ ، طریقۂ پیداوار کہلاتا ہے۔ (C) پرسبھی عوامل کی ادائیگیوں کی کل جمع کی پیمائش طریقۂ آمدنی کہلاتاہے۔
مشاہدہ کیجیے کہ معیشت کا کل خرچ پیداوار کے عوامل کے ذریعہ کمائی گئی آمدنی کے برابر ہوتاہے (Aاور Cپر روانی یکساں ہے)۔ اب مان لیجیے کہ کسی وقت خاص میں خاندان فرموں کے ذریعہ تیارکردہ شے اور خدمات پر زیادہ خرچ کرنے کا فیصلہ لیتے ہیں ۔ کچھ دیر کے لیے ، ہم اس سوال کو چھوڑ دیں کہ اضافی خرچ کے لیے ان کے پاس زر کہاں سے آئے گا، کیونکہ وہ پہلے ہی اپنی پوری آمدنی خرچ کر چکے ہیں (وہ اضافی خرچ کے لیے ادھار لے سکتے ہیں)۔ اب اگروہ اشیا اور خدمات پر زیادہ خرچ کرتے ہیں تو فرم اس اضافی مانگ کی رسد کے لیے زیادہ پیداوار کرے گی ۔ چونکہ وہ زیادہ پیداوار کریں گی، اس لیے فرموں کو پیداوار کے عوامل کو اضافی معاوضہ دینا چاہیے زر کی کتنی زائد رقم کی ادائیگی فرمیں کریں گی؟ اضافی ادائیگیاں تیارشدہ اضافی اشیا اور خدمات کی قدر کے برابر ہونی چاہئیں۔ اس طرح خاندان کو آخرکار اضافی آمدنی حاصل ہوگی جس سے اسے اپنے ابتدائی اضافی خرچ کی بھر پائی کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسرے لفظوں میں، خاندان ابتدائی طورپر اضافی خرچ کرنے کا فیصلہ لے سکتے ہیں جوان کے ذرائع سے زیادہ ہوگی اور آخر میں ان کی آمدنی اتنی ہی بڑھے گی جتنا کہ اسے اضافی خرچ کے لیے ضرورت ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ کوئی معیشت آمدنی کی موجودہ سطح سے زیادہ خرچ کرنے کا فیصلہ لے سکتی ہے۔ لیکن ایسا کرنے سے اس کی آمدنی آخر کار خرچ کی اعلیٰ سطح کے ساتھ یکساں طورپر بڑھے گی یہ پہلی نظر میں تھوڑا متناقض لگ سکتا ہے لیکن آمدنی چونکہ ایک دائری انداز میں حرکت کرتی ہے، اس لیے یہ بتانا مشکل نہیں ہے کہ ایک نقطہ پر روانی میں اضافے سے سبھی سطحوں پر روانی یا بہاو میں اضافہ ہوگا۔ یہ اکیلے معاشی ایجنٹ (بالغرض ایک خاندان )کارویہ کل معیشت کے کام سے کیسے مختلف ہے، اس کی ایک اور مثال ہے۔ اول الذکر میں خاندان کی انفرادی آمدنی سے خرچ محدود رہتا ہے ۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ ایک مزدور زیادہ خرچ کرنے کا فیصلہ لے اور اس سے اس کی آمدنی میں مساوی اضافہ ہو۔ ہم اگلے باب میں اسے زیادہ تفصیل سے پڑھیں گے کہ کس طرح زیادہ فی الجملہ اخراجات سے، آمدنی میں تبدیلی تیزی سے ہوتی ہے؟
معیشت کی درج بالا سرسری توضیح بالاتفاق ایک سادہ معیشت کے طور پر مانی جاتی ہے۔ ایسی کہانی جو ایک خیالی معیشت کی فعالیت کوبیان کرتی ہے اسے کلی معاشی ماڈل کہا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ماڈل میں حقیقی معیشت کا تفصیل سے بیان نہیں ہوتا۔ مثال کے طورپر ہمارے ماڈل میں یہ مان لیا جاتا ہے کہ خاندان بچت نہیں کرتے ہیں، حکومت نہیں ہوتی اور دیگر ملکوں سے تجارت نہیں ہوتی۔ اگر چہ ماڈلوں میں معیشت کا ہر ہر لمحہ تفصیل سے بیان کر نا ضروری نہیں سمجھا گیا ہے لیکن ان کا مقصد معاشی نظام کے طریقۂ عمل کی ضروری خصوصیات کو نمایاں کرنا ہی ہے۔ لیکن یہاں یہ احتیاط برتنی ہوگی کہ مواد کی تسہیل اس طرح نہ ہو کہ معیشت کی لازمی فطرت کی غلط نمائندگی ہو۔ معاشیات معاشی ماڈلوں سے بھر پور ایک مضمون ہے۔ اس کتاب میں کئی ماڈلوں کو پیش کیا جائے گا۔ ایک ماہر معاشیات کا کام یہ دکھانا ہے کہ کون سا ماڈل کسی حقیقی زندگی کی صورت حال میں قابل اطلاق ہو سکتاہے۔
اگر ہم اوپر بیان کیے گئے آسان ماڈل میں تبدیلی کریں اور بچت کو لیں تو اس سے یہ خصوصی نتیجہ بدل جائے گاکہ معیشت کی آمدنی کا کل تخمینہ ناقابل تبدیل ہوگا۔ خواہ اس کا شمار B,Aیا Cکسی صورت میں کیا جائے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نتیجہ بنیادی طریقے سے نہیں بدلتا ۔نظام کتناپیچیدہ کیوں نہ ہو، تینوں طریقوں سے تخمینہ کردہ اشیا اور سالانہ پیداوار ایک سی ہوں گی۔ہم نے دیکھا کہ کسی معیشت میں اشیا اور خدمات کی کل قدر کا شمار تین طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اب ہم ان شماریات کاتفصیلی مراحل میں ذکر کریں گے۔
ہم نے دیکھا کہ کسی معیشت میں پیدا کی جانے والی اشیا اور خدمات کی مجموعی قدر کو تین طریقوں سے شمار کیا جا سکتا ہے۔اب ہم اس شمار کے تفصیلی اقدامات کے بارے میں بحث کریں گے۔



خرچ 


اشیا اور خدمات

اہل خانہ                          فرمیں
عامل ادائیگیاں 
عامل خدمات

7

شکل 2.1: سادہ معیشت میں آمدنی کی دائری روانی

2.2.1 مصنوعات یا اضافی قدرکاطریقہ (The Product or Value Added Method)

پیداواری طریقے میں ہم تیار اشیا اور خدمات کی سالانہ قدر کا شمار کرتے ہیں (اگر ایک سال وقت کی اکائی ہو)۔ اس کا شمار کیسے کیا جائے؟ کیا ماہرین معیشت کی سبھی فرموں کے ذریعہ تیار کی گئی اشیا اور خدمات کو جمع کرتے ہیں؟ ان سوالات کو سمجھنے میں درج ذیل مثال سے مدد ملے گی۔
مان لیجیے کہ معیشت میں صرف دو طرح کی پیداکارہیں۔ وہ گیہوں کے پیدا کار (کسان) اور بریڈ بنانے والے (Bakers) ہیں۔ گیہوں کے پیداکار گیہوں اگاتے ہیں اور انھیں انسانی محنت کے علاوہ کسی طرح کی در آمد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ وہ گیہوں کا کچھ حصہ بریڈ بنانے والے کو فروخت کرتے ہیں ۔ بریڈ بنانے والے کو بریڈ کی پیداوار میں گیہوں کے علاوہ دیگر کسی کچے مال کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ مان لیجیے کہ ایک سال میں کسانوں کے ذریعہ گیہوں کی جو پیداوار کی گئی ہے اس کی قیمت 100روپیے ہے ۔ اس میں سے وہ 50 روپیے کا گیہوں بیکری والے کو فروخت کرتے ہیں۔ بیکری والے گیہوں کی اس مقدار کا استعمال کر کے ایک سال کے دوران 200 روپیے کی بریڈ بناتے ہیں ۔معیشت میں کل پیداکار کی قیمت کتنی ہے؟ اگر ہم شعبوں کی پیداوار کی قدروں کی جمع آسان طریقے سے نکالیں تو ہم 200 روپیے (بیکری والوں کی پیداوارکی قیمت) اور 100روپیے (کسانوں کی پیداوار کی قیمت) کو جوڑ دیں گے تو نتیجہ 300 روپیے آئے گا۔
تھوڑی سی غور و فکر کے بعد ہم دیکھیں گے کہ کل پیداوار کی قیمت 300 روپیے نہیں ہے۔ کسان 100 روپیے کے گیہوں کی پیداوار کرتا ہے جس کے لیے اسے کسی طرح کے درآمدات کے مدد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔لہٰذا کسان جائز طور پر پورے 100 روپیے کے اشتراک کا حق دار ہے۔ لیکن یہ بات بیکری والوں کے بارے میں سچ نہیں ہے ۔ بیکری والوں کو اپنی بریڈ کی پیداوار کے لیے 50 روپیے کا گیہوں خریدنا پڑتا ہے ۔ 200 روپیے کا بریڈ جس کی وہ پیداوار کرتے ہیں، اس میں ان کا پوری طرح اشتراک نہیں ہے۔ بیکری والوں کے خالص اشتراک کے شمار کے لیے ہمیں گیہوں کی قیمت کوگھٹانا ہوگا جو کہ وہ کسان سے خرید تے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو دوہرے شمار کی غلطی ہوجائے گی۔ کیونکہ گیہوں کی 50 روپیے کی قیمت کا شمار دو بار ہو جائے گا ۔ پہلی بار تو اس کا شمار کسانوں کے ذریعہ کی گئی پیداوار ماحصل کے حصے کے طور پر ہوگا ۔ دوسری بار اس کا شمار بیکری والوں کے ذریعہ تیار کی گئی بریڈ میں گیہوں کی منسوب قیمت کی شکل میں ہوگا۔
لہٰذابیکروں کا خالص اشتراک =150 200-50 روپیے ہے۔ لہٰذا اس سادہ معیشت میں اشیاکی کل پیداوار 100 روپیے (کسانوں کا خالص اشتراک ) 150+ روپیے (بیکروں کا خالص اشتراک) 250 روپیے ہے۔
فرم کے خالص اشتراک کو ظاہر کرنے کے لیے جس اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔اسے اضافۂ قدر کہاجاتاہے۔ ہم نے دیکھا کہ کوئی فرم دوسری فرم سے جو کچا مال خریدتی ہے۔ اس کو پیداواری عمل میں پوری طرح صرف کر لیاجاتا ہے انھیں درمیانی اشیا کہا جاتا ہے۔ لہٰذا کسی فرم کی اضافۂ قدرفرم کی پیداوار کی قیمت –فرم کے ذریعہ استعمال شدہ درمیان اشیا کی قیمت ہے۔فرم کی اضافۂ قدرکی تقسیم پیداوار کے چاروں عوامل میں کی جاتی ہے۔ یہ عوامل ہیں : محنت ، پونجی، کاروباری مہم جوئی اور زمین۔ اس لیے ایک فرم کے ذریعہ ادا کی گئی مزدوری ، سود ، منافع اور لگان کو اضافۂ قدرمیں جوڑاجاناچاہیے ۔ اضافۂ قدرایک رواں متغیر ہ ہے ۔ 
درج بالا مثالوں کو جدول 2.1 کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

جدول 2.1: پیداوار ، درمیانی اشیا اور اضافۂ قدر


کسان  بیکری والا
کل پیداوار 100 200
استعمال کی گئی درمیانی اشیا 0 50
اضافئہ قدر 100 150=200-50
یہاں پر سبھی متغیرات کا اظہار زر کی شکل میں کیا گیا ہے۔ ہم یہاں درج فہرست مختلف متغیرات کی قدر شناسی کے لیے اشیا کی بازاری قیمت پر غور کر سکتے ہیں۔ ہم پیداوار کے سلسلے میں اور زیادہ عوامل کو شامل کر سکتے ہیں اور اسے زیادہ حقیقی اور پیچیدہ بنا سکتے ہیں ۔ مثال کے طورپر، کسان گیہوں کی پیداوار کے لیے فرٹلا یزروں یا کپڑے مار ادویات کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ان در آمدات کی قیمت کوگیہوں کی بر آمد کی قیمت سے گھٹانا ہوگا یا بیکری والے بریڈ ریسٹورینٹ کو فروخت کر سکتے ہیں جس کی اضافۂ قدرکا شمار درمیانی اشیا کی قیمت کو گھٹا کر (بریڈ کے معاملے میں )کرنا ہوگا۔
ہم نے پہلے ہی فرسودگی کا تعارف کرایا ہے، جسے قائم اصل کے صرف کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ چونکہ پیداوار کے عمل کو انجام دینے کے لیے استعمال کی جانے والی پونجی میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔ پونجی کی قدر کو قائم رکھنے کے لیے پیداکار کو بدل سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے۔ بدل سرمایہ کاری پونجی کی فرسودگی ہی ہے۔ اگر ہم اضافۂ قدرمیں فرسودگی کو شامل کرتے ہیں تو ہمیں اضافۂ قدرکی جو پیمائش حاصل ہوگی اسے کل اضافۂ قدرکہا جاتا ہے ۔ اگر ہم کل اضافۂ قدرسے فرسودگی کو گھٹائیں تو خالص اضافۂ قدرحاصل ہوتا ہے۔ کل اضافۂ قدر کے بر عکس خالص اضافۂ قدرمیں پونجی کی ٹوٹ پھوٹ شامل نہیں ہے۔مثال کے طور پر کوئی فرم سالانہ 100 روپیے قیمت کی پیداوار کرتی ہے اس سال 20 روپیے کی درمیانی اشیا کا ستعمال کیا جاتاہے اور پونجی صرف کی قدر 10 روپیے ہے تو فرم کی کل اضافۂ قدر 100 – 20= 80 روپیے سالانہ ہوگی۔ خالص اضافۂ قدر 100– 2010– =70 روپیے سالانہ۔
غور کیجیے کہ اضافۂ قدرشمار کرتے وقت فرم کی پیداوار کی قدر شمارکی جاتی ہے۔ لیکن فرم اپنی ساری پیداوار کو فروخت نہیں کر پاتی ہے۔ اس صورت میں سال کے آخر میں اس کے پاس کچھ غیر فروخت شدہ اسٹاک ہوگا۔ اس کے برعکس ایسا بھی ہوسکتاہے فرم کے پاس پیداوارشروع کرنے سے پہلے کچھ غیر فروخت شدہ اسٹاک موجودہوسال کے دوران فرم کے ذریعہ بہت کم پیداوارہوگی لیکن اس سال کے شروع میں جو اسٹاک اس کے پاس تھا۔ اسے فروخت کر کے بازار میں مانگ کی تکمیل ہوگی۔ ہم ان اسٹاکوں کے ساتھ کیابرتاو کریں گے جو کوئی فرم ارادتاً یا نہ چاہتے ہوئے اپنے پاس رکھتی ہے؟ مزید برآں ہم یہ بھی یاد رکھیں کہ ایک فرم دوسری فرم سے کچا مال خریدتی ہے۔ کچے مال کا وہ حصہ جو پورا صرف ہو جاتاہے اسے درمیانی شے کے طور پر زمرہ بند کیا جاتاہے اس حصے کاکیا ہوتا ہے جس کا پوری طرح استعمال نہیں ہوتا ہے؟
معاشیات میں غیر فروخت شدہ اشیا یانیم تیارشدہ اشیا یا کچے مال کا اسٹاک جو کوئی فرم ایک سال سے اگلے سال تک رکھتی ہے، اسے مال نامہ (Inventory) کہتے ہیں۔ مال نامہ ایک اسٹاک متغیرہ ہے ۔ سال کے شروع میں اس کی کم قدر ہو سکتی ہے اور سال کے آخر میں اس کی زیادہ قدر ہو سکتی ہے اس صورت میں ، مال نامہ میں اضافہ (ذخیرہ ) ہوتا ہے۔ اگر مال نامہ کی قدر سال کے شروع کے مقابلے سال کے آخر میں کم ہو تو مال نامہ میں کمی (غیر جمع کاری) ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم یہ نتیجہ اخذکر سکتے ہیں کہ ایک سال کے دوران کسی فرم کے مال نامے میں تبدیلی سال کے دوران فرم کی پیداوار -سال کے دوران فرم کی فروخت ۔
نشان مماثلہ کو ظاہر کرتا ہے ۔مساوات (’=‘) نشان کے برعکس مماثلہ نشان میں دائیں طرف کی اشیا اوربائیں طرف کی اشیا کے درمیان مساوات نہیں دیکھی جاتی بلکہ مماثلت ہمیشہ ان سے قطع نظر ہوتی ہے مثال کے طورپرہم 4,2 + 2 لکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمیشہ صحیح ہے لیکن 2 × x = 4.ہمیں ضر ور لکھنا چاہیے کیونکہ x کی ایک خاص مقدارکو 2 سے ضرب کرنے پر حاصل 4 ہوتا ہے (یعنی جب 2=  x) ہمیشہ نہیں ۔ 4.2 × xہم نہیں لکھ سکتے ہیں ۔
مشاہدہ کیجیے کہ فرم چونکہ کی پیداوار  اضافۂ قدر+فرم کے ذریعہ استعمال اشیا ایک سال کے دوران فرم کے مال نامے میں تبدیلی    قیمت افزودہ +فرم کے ذریعہ استعمال شدہ درمیانی اشیا سال کے دوران فرم کی فروخت ۔
مثال کے طورپر مان لیجیے کہ فرم کے پاس سال کے شروع میں 100 روپیے قیمت کا نافروخت اسٹاک تھا ۔سال کے دوران اس نے 1,000 روپیے کی شے کی پیداوار کی جس میں سے 800 روپیے کی اشیاکی فروخت ہوئی ۔لہٰذا پیداو ار اورفروخت کے درمیان فرق 200 روپیے مال نامے میں تبدیلی ہے ۔ یہ 100 روپیے قیمت کے مال نامے میں جڑجائے گا جس سے کہ فرم نے پیداوار شروع کی تھی۔لہٰذا سال کے آخر میں مال نامہ 100 200+ =300 روپیے ہے ۔یادرکھیں کہ مال نامے میں تبدیلی ایک مدت کے ہوتی ہے اس لیے اسے بہاو متغیرہ (Flow variable ) کہتے ہیں ۔
مال نامہ پونجی کے طورپر سمجھا جاتا ہے فرم کے پونجی اسٹاک میں اضافہ کو سرمایہ کاری کہتے ہیں ۔لہٰذا مال نامے میں تبدیلی کو سرمایہ کاری کے طورپر سمجھا جاتا ہے ۔سرمایہ کاری کے تین اہم زمرے ہیں ۔پہلا،ایک فرم کی ایک سال میں مال نامہ کی قدر میں اضافہ ،اسے فرم کی سرمایہ کاری یااصلی اخراجات کہاجاتاہے ۔اصل کاری کا دوسرا زمرہ مقررہ کا روباری اصل کا ری ہے ،جیسے مشینری ،فیکٹری ،عمارت ،فرم کے ذریعہ لگائے سازوسامان میں اضافہ کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے ۔اصل کاری کا آخری زمرہ رہائشی اصل کاری ہے جو رہائشی سہولت کے اضافہ کو ظاہرکرتی ہے۔ 
مال نامے میں تبدیلی منصوبہ بند یا غیرمنصوبہ بند ہوسکتی ہے ۔فروخت میں غیر متوقع گرواٹ کی حالت میں فرم کے پاس اشیاکا غیرفروخت شدہ اسٹاک ہوگا،جس کے بارے میں وہ توقع نہیں کرتی تھی ۔لہٰذا یہ مال نامے کی غیر منصوبہ بند جمع کاری ہوگی اس کے برعکس جہاں فروخت میں غیر متوقع اضافہ ہوگا ۔ وہاں مال نامے میں غیرمنصوبہ بند غیرجمع کاری ہوگی ۔
اس کی وضاحت درج ذیل مثال کی مدد سے کی جاسکتی ہے ۔ مان لیجیے کوئی فرم قمیص بناتی ہے اس کے پاس سال کے شروع میں 100 قمیص کا مال نامہ ہے ۔ اگلے سال وہ 1000 قمیص فروخت کرنے کی امید کرتی ہے ۔ لہٰذا وہ 1000 قمیص کی پیداوارکرتی ہے اورسال کے آخر میں 100 قمیص کا مال رکھنا چاہتی ہے ۔لیکن سال کے دوران غیر متوقع طورپر قمیص کے فروخت میں کمی آجاتی ہے ،فرم صرف 600 قمیص ہی فروخت کرپاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 400 قمیص غیرفروخت شدہ رہ جاتی ہے ۔سال کے آخر میں فرم کے پاس 400+100 = 500 قمیص ہیں ۔مال نامے میں 400 کا غیر متوقع اضافہ مال نامہ میں جمع کاری کی مثال ہے ۔ اس کی برعکس اگر فروخت 1000 سے زیادہ ہوتی تو وہ بھی مال نامے میں غیرمنصوبہ بند غیرجمع کاری ہوتی ۔ مثال کے طورپراگر فروخت 1050 ہوتی تونہ صرف 1000 قمیصوں کی فروخت ہوتی بلکہ فرم کو مال نامے سے بھی 50 قمیص کی فروخت کرنی پڑتی۔ مال نامے میں یہ 50 کی  غیر متوقع کٹوتی مال نامے میں غیر متوقع غیرجمع کاری کی مثال ہے ۔
 مال نامے میں منصوبہ بند جمع کاری یاغیرجمع کاری کی مثال کیا ہوسکتی ہے ؟ مان لیجیے کسی سال کے دوران فرم مال نامے میں 100 قمیص سے 200 قمیص کا اضافہ کرنا چاہتی ہے۔سال کے دوران 1000 کی امیدکرتے ہوئے (پہلے کی طرح) فرم 1100=100+1000 قمیصوں کی پیداوار کرتی ہے ۔اگر فروخت واقعی میں 1000قمیص ہے تو فرم کے مال نامے میں واقعی اضافہ ہوتا ہے ۔ مال نامے کانیا اسٹاک 200 قمیص ہے جو اصل میں فرم کا منصوبہ تھا ۔ یہ اضافہ مال نامے میں منصوبہ بند جمع کاری کی مثال ہے ۔اس کے برعکس اگر فرم مال نامے میں 100 سے 25 تک کٹوتی کرنا چاہتی ہے ،تو وہ 925=75-1000 قمیص کی پیداوار کرتی ہے کیونکہ 100 قمیص کے مال نامے میں سے وہ 75 قمیص فروخت کرنے کا ارادہ کرتی ہے (تاکہ سال کے آخر میں مال نامہ 25=75–100 قمیص ہوجائے۔ جو فرم کی مرضی ہے) اگر فرم کے ذریعہ کی گئی فروخت اصل میں 1000 ہوگئی تو فرم کے منصوبے کے مطابق مال نامہ کٹ کر25 ہوجائے گا۔
مال فہرست میں غیر منصوبہ بند او رمنصوبہ بند تبدیلی کے درمیان فرق کے بارے میں ہم اگلے ابواب میں مزید ذکر کریں گے ۔
مال نامے میں تبدیلی کی آگاہی کے لیے ہم اسے اس طرح لکھ سکتے ہیں :
فرم کی کل اضافۂ قدر(GVAi ) فرم i کے ذریعہ پیدا کی گئی برآمد کی کل قدر (Qi )– فرم کے ذریعہ استعمال کی گئی درمیانی اشیا کی قدر (Zi )
GVAi  فرم کی فروخت کی گئی قدر (Vi )+ مال نامے میں تبدیلی کی قدر (Ai )–فرم کے ذریعہ استعمال شدہ درمیانی اشیا کی
 قدر (Zi )      (2.1)
مساوات (2.1 )اس طرح اخذ کیا گیا ہے : سال کے دوران فرم کے مال نامے میں تبدیلی سال کے دوران فرم کی پیداوار۔سال کے دوران فرم کی فروخت ۔
یہ قابل ذکر ہے کہ فرم کی فروخت میں گھر یلوخریداروں کو کی گئی فروخت ہی نہیں بیرونی خریداروں کوکی گئی فروخت بھی شامل ہوتی ہے (اسے برآمد کہا جاتا ہے )یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اوپر بیان کیے گئے سارے متغیرات بہاؤمتغیرات ہیں ۔عام طورپر ان کی پیمائش سالانہ بنیادپر ہوتی ہے ،لہٰذایہ سالانہ بہاؤ کی قدر کی پیمائش کرتے ہیں ۔
فرم i کا خالص قیمت یااضافۂ قدر فرم  i کی  فرسودگی (Di )
اگر ہم ایک سال میں معیشت کی سبھی فرموں کی کل اضافۂ قدر کی جمع نکالیں تو ہمیں سال میں معیشت میں پیدا اشیا اورخدمات کی کل مقدار کی قدر حاصل ہوتی ہے (جیسے کہ ہم نے پہلے گیہوں بریڈوالی مثال میں کیا تھا) اس طرح کاشمار کل گھر یلوپیداوار(Gross Domestic Product) (GDP )کہلاتا ہے ۔لہٰذا GDP معیشت کی سبھی فرموں کی کل اضافۂ قدر کی کل جمع ہوتی ہے۔
اگر معیشت میں لازم فرم ہوں اورہر ایک کو L سے N نمبر شمار میں لکھا جائے تو GDP معیشت کی سبھی فرموں کے کل اضافۂ قدر کی کل جمع  
9
(2.2)


 علامت10  مختصر نویسی ہے : اس کا استعمال کل جمع کو ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔مثال کے طورپر  11
12   کے برابر ہوگا ،اس معاملے میں  13
سبھی N فرموںکی کل اضافۂ قدر کی کل جمع کو بتاتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ فرم i کا خالص اضافۂ قدر 14
کل اضافۂ قدرمیں سے فرم کے ذریعہ استعمال شدہ پونجی کی ٹوٹ پھوٹ کو گھٹانے پر حاصل ہوتا ہے ۔
اس طرح 15
اس طرح  16
یہ i فرم کے لیے ہے ۔فرم کی تعداد N  تک ہے ،لہٰذا پوری معیشت کی کل گھر یلو پیداوار جوکہ سبھی N فرموں کی اضافۂ قدر کی کل جمع ہے ، N فرموں کے خالص اضافۂ قدراور فرسودگی کی کل جمع ہوگی ۔(مساوات 2.2 سے) 
دوسرے لفظوں میں 17
اس سے پتہ چلتا ہے کہ معیشت کی کل گھریلو پیداوار (GDP) معیشت کی سبھی فرموں کے خالص اضافۂ قدر اور فرسودگی کی کل جمع ہوتی ہے۔ سبھی فرموں کی خالص اضافۂ قدر کی جمع کو خالص گھریلو پیداوار(Net Domestic Product) (NDP)کہتے ہیں۔ 
علامتی طور پر  18


2.2.2  طریقۂ خرچ (Expenditure Method)

کل گھریلو پیداوار کے شمار کا ایک متبادل طریقہ جو پیداوار کی مانگ کے رخ کو نظر میں رکھتا ہے ،اسے طریقۂ خرچ کہتے ہیں۔ درج بالا کسان بیکروالی مثال میں جس کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں ،معیشت میں طریقۂ خرچ سے برآمد کی کل قدر کا شمار درج ذیل طریقے سے ہوگا ۔اس طریقہ میں ہر ایک فرم کے ذریعہ حاصل آخر ی ا خراجات کی جمع حاصل کرتے ہیں ، آخری خرچ ،خرچ کا وہ جزوہے جسے ثانوی مقاصد سے اختیار نہیں کیا جاتا ہے ۔بیکر کسان سے 50 روپیے قیمت کا گیہوں خریدتاہے یہاں گیہوں درمیان شے ہے ۔لہٰذایہ آخری خرچ کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔ اس طرح معیشت کی بر آمد کی کل قدر 200 روپیے (بیکر کے ذریعہ حاصل آخری خرچ) 50+ روپیے (کسان کے ذریعہ حاصل آخری خرچ)250= روپیے سالانہ ۔
فرم i درج ذیل کھا توں میں آخری خرچ کرسکتی ہے (a) فرم کے ذریعہ پیدا اشیا اورخدمات کے آخری صرف پرکیاگیاخرچ ۔ اسے ہم سے ظاہر کرتے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ ا کثر خاندان صرف پرہی خرچ کرتے ہیں ۔ اس کا استثنا بھی ہوسکتا ہے جیسے فرم اپنے مہمانوں کے ملا زموں کے لیے قابل صرف اشیاخریدتی ہے ۔(b) فرم i کی ذریعہ پیدا کی گئی اصل کا ری اشیا پر دوسرے فرموں کے ذریعہ واقع آخری اصل کاری خرچ ہیں ۔ مشاہدہ کیجیے کہ درمیانی اشیاجو کل گھر یلو پیداوار کے شمار میں شامل نہیں ہیں لیکن درمیانی اشیاکے خرچ کے بر خلاف اصل کاری خرچ کو شامل کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ اصل کاری اشیافرم کے پاس ہوتی ہے جب کہ پیداواری عمل میں درمیانی اشیا کا صرف ہوجاتاہے ۔(c) وہ خرچ جو حکومت فرم i کے ذریعہ تیارشدہ آخری اشیااورخدمات پر کرتی ہے ۔ہم اسے کے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں ہم دکھا سکتے ہیں کہ حکومت کے ذریعہ واقع آخری خرچ میں صرف اوراصل خرچ دونوں شامل ہیں ۔ (d)برآمد محاصل جو فرم غیر ملکوںمیں اپنی اشیا اورخدمات کو فروخت کرکے کماتی ہے اسے کے ذریعہ ظاہر کیا جائے گا ۔
اس طرح فرم کے ذریعہ حاصل محاصل کی کل جمع کو درج ذیل طورپر دکھایا جاتا ہے
R V = فرم کے ذریعہ حاصل آخری صرف ، اصل کاری حکومتی اور برآمد سے متعلق اخراجات کی کل جمع 
19
اگر فرموں کی تعداد N ہوتو N تک فرموں کی کل جمع ہمیں حاصل ہوگی ۔
20  معیشت کی سبھی فرموں کے ذریعہ حاصل آخری صرف ،اصل کاری حکومتی اوربرآمد سے متعلق اخراجات کی کل جمع 
21(2.3)
کل معیشت کا کل آخری صرف خرچ  C  مان لیجیے ۔غورکیجیے کہ C کاایک جزو صرفی اشیاکے در آمد ات پر خرچ کیا جاتا ہے مان لیجیے کہ صرفی اشیاکی درآمد پر خرچ 22
کے  ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے ۔لہٰذ 23  سے گھریلو فرموں کے اوپر کل آخری صرف ظاہر ہوتا ہے۔اس طرح ،24 سے گھریلوفرموں کے اوپر کل آخری اصل کاری خرچ ظاہر ہوتا ہے ۔جہاں I معیشت کا کلی آخری اصل کاری خرچ ہے اور اس میں سے 25    غیر ملکی اصل کاری اشیا پر خرچ کیاجاتا ہے ۔اسی طرح  26  کل آخری سرکاری خرچ کا جز ہے جس کا خرچ گھر یلوفرموں پر ہوتا ہے جہاں معیشت میں حکومت کا کل خرچ G ہے اور وہ جز ہے ،جس کا خرچ حکومت درآمدات پر کرتی ہے۔ 
لہٰذا   27  معیشت میں سبھی فرموں کے ذریعہ حاصل آخری صرفی خرچ کی کل جمع  
معیشت میں سبھی فرموں کی ذریعہ آخری اصل کاری خرچ کی کل جمع  28  معیشت میں سبھی فرموں کی ذریعہ حاصل آخری سرکاری خرچ کی کل جمع
30مساوات 2.3 میں ان کو رکھنے پر پرہمیں حاصل ہوگا ۔
31
یہاں  32  معیشت کی برآمد پر غیر ملکیوں کے ذریعہ کیے گئے کل خرچ کو ظاہر کرتا ہے ۔معیشت کے ذریعہ واقع کل درآمد خرچ ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ 33 معیشت میں سبھی فرموں کی ذریعہ حاصل آخری خرچ کی کل جمع ۔
دوسرے لفظوں میں 
34
 مساوات (2.4) طریقۂ خرچ کے مطابق کل گھریلو پیدا وار کو ظاہر کرتی ہے۔غور کررنے والی بات یہ ہے کہ دائیں جانب دیے گئے پاچوں متغیرات میں ۔1 سے زیادہ غیر مستحکم ہے 

2.2.3 طریقۂ آمدنی 

شروع میں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ معیشت میں آخری صرف کی جمع پیداوار کے سبھی عوامل کی شامل آمدنی (آخری شے پر کیا گیا خرچ ہے ،اس میں درمیانی شے پر کیا گیا خرچ شامل نہیں ہے)کے برابر ہوتی ہے یہاں اس عام تصورکی تعمیل ہوتی ہے کہ سبھی فرموں کے ذریعہ مجموعی کمائی گئی آمدنیوں کی تقسیم پیداوار کے عوامل کے درمیان تنخواہوں،اجرتوں ،منافع ،سود کی کمائیوں اورکرایوں کے طورپر ہونی چاہیے۔ مان لیجیے کہ معیشت میں خاندانوں کی تعداد M ہے ۔ iویں خاندان کے ذریعہ کسی خاص سال میں حاصل مزدوری اورتنخواہ کو یہاں مان لیں ۔اس طرح علی الترتیب لگان،سودکی ادائیگی اورکل منافع مان لیں جو کہ i ویں خاندان کے ذریعہ کسی مخصوص سال میں حاصل ہوتا ہے ،لہٰذا کل گھر یلو پیداواردرج ذیل طورپر ظاہر کی جائے گی۔



35
2.2 )،(2.4 ) اور (2.5) کو ایک ساتھ لینے پر ہمیں حاصل ہوگا 
363ert   


یہ ظاہر ہے کہ مماثلہ2.6) (میں I فرم کے ذریعہکی گئی منصوبہ بنداورغیر منصوبہ بنداصل کاری کے مجموعہ جمع کوظاہر کرتا ہے ۔
چونکہ مماثلہ (2.2) ،(2.4) اور2.6) (ایک ہی طرح کے متغیرہ ،کل گھریلو پیداوار کی الگ الگ شکلیںہیں ،اس لیے ہم شکل 2.2  کے ذریعہ مساوات کوپیش کرسکتے ہیں ۔
آئیے اب ہم ایک عدد مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مذکورہ تینوں طریقوں سے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ٹی پی) کا تخمینہ یکساں ہی حاصل ہوگا۔ 
مثال :۔ فرض کیجیے کہ دو فرمیں، A اور B ہیں۔ فرض کیجیے کہ فرم A کوئی خام مال استعمال کیے بغیر ہی 50 روپے کی کپاس پیدا کرتی ہے۔ اور اپنی کپاس فرم B کو فروخت کر دیتی ہے۔ فرم B اس کپاس سے کپڑا تیار کرتی ہے اور یہ کپڑا صارفین کو 200 روپے میں فروخت کرتی ہے  

(1) پیداوار یا قدر میں اضافے کے طریقۂ کار سے جی ڈی پی :
یاد کریں۔ = VA2 فروخت -   درمیانی اشیا
یعنی ۔ = 50 – 0 = 50   VAA
200 – 50 = 150
GDP = VA+VAB = 200
یہ جدول 2.2 میں دکھا سکتے ہیں
جدول2.2                               





فرم اے (A) فرم بی (B)
فروخت 50 200
درمیانی اشیا کا استعمال 0 50
قدرمیں اضافہ 50 150
                

(A) اخراجات کے طریقہ کار میں جی ڈی پی :
یاد کریں۔ جی ڈی پی =    کل اخراجات کا جوڑ یا اشیا اور خدمات پر صارفین کے ذریعہ کیے گئے اخراجات
یعنی۔ جی ڈی پی =    200
(3) آمدنی کے طریقہ کار سے جی ڈی پی :
آئیے ہم پھر فرم A اور فرم B کی مثال دیکھیں ۔ فرض کریں فرم A نے جو 50 روپے حاصل کیے اس میں فرم نے 20 روپے مزدوری کے ادا کردیئے اور باقی 30 روپے اپنا منافع رکھا۔ اسی طرح فرم B، 60 روپے مزدوری کے ادا کرتی ہے اور 90 روپے اپنے پاس منافع رکھتی ہے۔ 
اب آمدنی سے جی ڈی پی نکالنے کا فارمولہ دیکھیں ۔ جی ڈی پی = سبھی کی آمدنی کا جوڑ۔ اس میں مزدوروں کی حاصل شدہ مزدوری ، A اور B فرموں کا منافع، سبھی شامل ہوگا۔
یعنی 80+120=200 
جدول 2.3  =   فرم A اور فرم B کی آمدنی کی تقسیم 



فرم اے (A) فرم بی (B)
مزدوری 20 60
منافع 50 90
2.2.4  عامل لاگت ، بنیادی قیمت اور مارکیٹ قیمت(Factor Cost, Basic Price and Market price
ہندوستان میں قومی آمدنی کا تخمینہ لگانے کا سب سے مقبول طریقہ کار عامل لاگت پر جی ڈی پی کا طریقہ کار ہے۔ حکومت ہند کا شماریات کا مرکزی دفتر (CSO) جی ڈی پی کا تخمینہ عامل لاگت اور مارکیٹ قیمت کی بنیادپر تیار کرتا ہے۔ جنوری 2015 میں CSO نے اپنے طریقہ کار پر نظر ثانی کرتے ہوئے عامل لاگت پر جی ڈی پی کی جگہ بنیادی قیمت پر جی وی اے  (GVA)اور GDP مارکیٹ قیمت پر اپنا یا ہے، اور اسے  اب صرف GDP کہا جاتا ہے اور یہ سب سے مقبول طریقہ کار ہے ۔ 
GVA کے نظریے پر پہلے ہی بحث کی جا چکی ہے : یہ ایک معیشت میں کل ماحصل (Output)کا قدر ہے جس میں درمیانی صرف (وہ ماحصل جسے مزید پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے اور جو قطعی صرف میں استعمال نہ ہو) کو کم کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہاں ہم بنیادی قیمت کے نظریے پر بحث کریں گے۔ عامل لاگت، بنیادی قیمت اور مارکیٹ قیمت کے درمیان فرق کل پیداواری ٹیکس (پیداواری ٹیکس- پیداواری سبسڈی) اور شے پر کل ٹیکس (شے پر کل ٹیکس-شے پر سبسڈی) کے فرق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پیداواری ٹیکس اور سبسڈی کی وصولی یا ادائیگی پیداوار پر کی جاتی ہے اور یہ دیگر پیداوار جیسے زمین کا لگان ، اسٹامپ اور رجسٹریشن فیس وغیرہ سے الگ ہوتی ہے۔ دوسری جانب شے پر ٹیکس اور سبسڈی کسی شے کے فی یونٹ کے حساب سے وصولی یا اداکی جاتی ہے، مثال کے طور پر ایکسائیز ٹیکس، سروس ٹیکس، درآمداتی یا برآمداتی ڈیوٹی وغیرہ ۔ عامل لاگت میں صرف پیداواری عوامل کے لیے کی گئی ادائیگی شامل ہوتی ہے اور اس میں کوئی ٹیکس شامل نہیں ہوتا۔ مارکیٹ قیمت حاصل کرنے کے لیے ہمیں عامل لاگت میں کل بالواسطہ ٹیکس کو جوڑ کر اس میں کل سبسڈی گھٹانی ہوگی۔ بنیادی قیمت اس کے درمیان ہوتی ہے:–  اس میں پیداوری ٹیکس شامل ہوتے ہیں (پیداوری سبسڈی گھٹا کر) لیکن شے پر ٹیکس شامل نہیں ہوتے (شے پر سبسڈی گھٹا کر) –  ا س لیے ہمیں مارکیٹ قیمت حاصل کرنے کے لیے انھیں شے پر ٹیکس (شے پر سبسڈی گھٹا کر) کو بنیادی قیمت میں جوڑنا ہوگا۔ 
جیساکہ اوپرکہا گیا ہے، اب CSO بنیادی قیمت پر GVA جاری کرتی ہے۔ اس لیے ، اس میں کل پیداوری ٹیکس شامل ہوتے ہیںلیکن شے پر کل ٹیکس شامل نہیں ہوتے۔ ہمیں GDP (مارکیٹ قیمت پر) حاصل کر نے کے لیے بنیادی قیمت GVA  میں شے پر کل ٹیکس کو ملانا ہوگا۔ 
اس طرح: عامل لاگت پر  +GVA کل پیداوری ٹیکس= بنیادی قیمت پر  GVA ہوگا۔ اور بنیادی قیمت پر  +GVA شے پر کل ٹیکس = مارکیٹ قیمت پر GVA ہوگا۔ 
باب کے آخر میں دی گئی جدول 2.5 میں جی ڈی پی (مارکیٹ قیمت پر)اور بنیادی قیمت پر جی وی اے کے اعداد وشمار دیے گئے ہیں جبکہ جدول 2.6 میں اخراجات کے ذریعہ جی ڈی پی کی ترتیب کی گئی ہے۔ 
2.3 کچھکلی معاشی مساوات مماثلہ 
کل گھریلو پیداوار میں کسی گھریلو معیشت کے تحت ایک سال کے دوران آ خری اشیااور خدمات کی کل پیداوار کی پیمائش کی جاتی ہے۔ لیکن اس کی کل پیداوار ملک کے عوام کا حال نہیں ہوسکتا ہے ۔مثال کے طورپر ہندوستان کے شہری سعودی عرب میں مزدوری کرسکتے ہیں اوریہ سعودی عرب کی کل گھریلو پیداوار میں شامل ہوگا لیکن قانونی طورپر وہ ایک ہندوستانی ہے۔ہندوستانیوں کے ذریعہ کمائی گئی آمدنی یا ہندوستان کی ملکیت کی پیداوار کے عوامل کی کمائی گئی آمدنی کی پیمائش کرنے کا کوئی طریقہ ہے ؟جب ہم اایسا کرتے ہیں تو تشاکل بنائے رکھنے کے لیے ہمیں غیر ملکیوں کے ذریعہ کمائی آمدنی ہماری گھریلو معیشت کی تحت کام کرتے ہیں یاغیر ملکیوں کی ملکیت والے پیداوار کے عوامل کو کی گئی ادائیگی کو ضرور گھٹا دیناچاہیے ۔مثال کے لیے ،کوریا ئی ملکیت کی ہنڈی کا رفیکٹری کے ذریعہ کمائے گئے فائدہ کو ہندوستا ن کل گھریلو پیداوار سے گھٹا نا ہوگا ۔کلی معاشی متغیرہ میں اس طرح کے جوڑ اورگھٹانے کو کل قوی پیداوار (GNP ) کہا جاتا ہے۔لہٰذا اس کی تعریف درج ذیل طورپر کی جاتی ہے ۔ 
کل قومی پیداوار ºGNPکل گھریلوپیداوار+GDPباقی دنیا میں روزگاریاغیر پیداوار کے گھریلو عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی ۔گھریلو معیشت میں ر وزگار یافتہ باقی دنیا کے پیدا وار کے عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی 
اس طرح کل قومی پیداوارº GNPکل گھریلو پیداوارGDP +بیرون ممالک سے حاصل خالص عامل آمدنی 
(بیرون ممالک سے حاصل خالص آمدنی ºباقی دنیا میں روزگاریافتہ پیداوار کے گھریلو عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی ۔ گھریلو معیشت میں روزگار یافتہ باقی دنیا کے پیداوار کے عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی )
ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ ٹوٹ پھوٹ کے سبب سال کے دوران پونجی کے ایک حصے کا صرف کرلیا جاتا ہے ۔اس ٹوٹ پھوٹ کو فرسودگی (depreciation )کہتے ہیں ۔ظاہر ہے فرسود گی کس شخص کی آمدنی کا حصہ نہیں بنتی ۔اگر ہم کل قومی پیداوار سے فرسودگی کو گھٹاتے ہیں تو ہمیں کل آمدنی جو پیمائش حاصل ہوتی اسے خالص قومی پیداوار کہتے ہیںاس طرح 
خالص قومی پیداوارNNP  ºکل قومی پیداوار GNP –فرسودگی 
قابل ذکر ہے کہ ان متغیر ات کا تعین قدر بازارقیمت پر کیا جاتا ہے درج بالا عبارت کے ذریعہ ہمیں بازار قیمت پر تشخیص شدہ خالص قومی پیداوار کی قدر حاصل ہوتی ہے لیکن بازارکی قیمت میں بالواسطہ ٹیکس شامل رہتے ہیں ۔بالواسطہ ٹیکس اشیا اورخدمات پر لگائے جاتے ہیں ۔نتیجتاً قیمت بڑھ جاتی ہے ۔بالواسطہ ٹیکس حکومت کو حاصل ہو تا ہے خالص قومی پیداوار کا وہ حصہ جو درحقیقت ٹیکس حکومت کو حاصل ہوتا ہے خالص قومی پیداوار کا وہ حصہ جو درحقیقت پیداوار کے عوامل کو حاصل ہوتا ہے ،اس کا شمار کرنے کے سلسلہ میں بازار قیمت پر تشخیص شدہ قومی خالص پیداوار سے بالواسطہ ٹیکسوں کو گھٹا یا جاتا ہے ۔اس طرح کچھ اشیاکی قیمتوں پر حکومت کے ذریعہ اعانت (Subsidy)فراہم کی جاسکتی ہے ۔(ہندوستان میں پٹرول پر حکومت بہت زیادہ ٹیکس لگاتی ہے جب کہ کھانا پکانے کی گیس پر ا عانت فراہم کی جاتی ہے)لہٰذا ہمیں بازار قیمتوں پر تشخیص شدہ خالص قومی پیداوار میں اعانت کو شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایسا کرنے پر ہمیں جو پیمائش حاصل ہوتی ہے اسے عامل لا گت پر خالص قومی پیداوارکہتے ہیں۔
خالص قومی پیداوارºبازارقیمت پر خالص قومی پیداوار –خالص بالواسطہ ٹیکس (خالص بالواسطہ ٹیکسºبالواسطہ ٹیکس –اعانت یعنی سبسڈی )
قومی آمدنی کو ہم پھر چھوٹے ذیلی زمروں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔اب ہم خاندان کے ذریعہ حاصل قومی آمدنی کے لیے عبارت یااظہار حاصل کریں ہم اسے ذاتی آمدنی کہیں گے ۔پہلاNI مان لیجیے کہ قومی آمدنی جو فرموں اورسرکاری کاروباری اداروں کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے، سے فائدہ کا ایک حصہ پیداوار کے عوامل کے درمیان تقسیم نہیں ہوتا ہے ،اسے غیر منقسم منافع Undistributed Profile (UP)کہتے ہیں ۔چونکہ غیر منقسم منافع خاندانوں کو نہیں حاصل ہوتا اس لیے ذاتی آمدنی حاصل کرنے کے لیے قومی آمدنی سے غیر منقسم منافع کو گھٹا دیا جاتا ہے، اسی طرح کارپوریٹ ٹیکس جو فرموں کی  آمدنی پر لگایا جاتا ہے ،کوبھی قومی آمدنی سے گھٹا نا ہوگا کیونکہ یہ خاندانوں کو حاصل نہیں ہوتا ہے ۔دوسری طرف ،خاندان نجی فرموں سے یاحکومت سے اپنے پیشگی قرض پر سود کی ادئیگی حاصل کرتا ہے ۔خاندان کو فرموں اورحکومتوں کو بھی سود اداکرنا پڑتا ہے ،اگر فرم اورحکومت سے زرقرض کے شکل میں اختیار کرتے ہیں توہمیں خاندانوں کے ذریعہ فرموں اور حکومت کواداکیے گئے خالص سود کو گھٹا نا ہوگا خاندان حکومت اور فرموں (مثال کے طورپر پنشن،وظیفہ ،انعامات )سے متبادل یافت یافلاحی ادئیگی حاصل کرتے ہیں ،خاندانوں کی ذاتی آمدنی کا شمار کرنے کے لیے ہمیں متبادل یافت کو جوڑنا ہوتاہے ۔
لہٰذا ذاتی آمدنی ºقومی آمدنی –غیر منقسم منافع –خاندانوں کے ذریعہ کی گئی خالص سود ادائیگی –کار پوریٹ ٹیکس +حکومت اورفرموں سے خاندانوں کو کی گئی فلاحی ادئیگی ۔
اگر ذاتی آمدنی پوری طرح خاندانوں کی آمدنی نہیں ہے تو انھیں ذاتی آمدنی سے ٹیکس ادائیگی کرنی پڑتی ہے ۔اگر ذاتی آمدنی سے نجی ٹیکس ادائیگی (مثال کے لیے انکم ٹیکس )اورغیر ٹیکس ادائیگی (جیسے جرمانے )کو گھٹادیں توہمیں جو حاصل ہوگا اسے ذاتی قابل صرف آمدنی کہتے ہیں اس طرح ذاتی قابل صرف آمدنی ذاتی آمدنی ۔ذاتی ٹیکس ادئیگی غیر ٹیکس ادائیگی ذاتی قابل صرف آمدنی خاندانوں میں کل آمدنی کا حصہ ہے ،وہ اس کے ایک حصے کے صرف کا فیصلہ لے سکتے ہیں اورباقی کی بچت کرسکتے ہیں ،شکل 2.3 میں ان اہم کلی معاشی متغیر کے درمیان رشتوں کوڈائیگرام کی  مدد سے پیش کیاگیا ہے ۔
کچھ اہم کلی معاشی متغیرات کا ایک جدول (سال 1990-91 تا2004-5 کے لیے موجودہ قیمتوں پر)باب کے آخر میں دیا گیا ہے جس سے پڑھنے والوں کو ان کی اصل قدروں کا سرسری علم طورپر حاصل ہوگا ۔

شکل: 2.3 :کل آمدنی کے ذیلی زمرے کا ڈائیگرام کی مدد سےNFIA-  :غیرملکیوں سے حاصل خالص عامل آمدنی D. :فرسودگی ،ID : باالواسطہ ٹیکس ، Sub : سبسڈی UP  : غیر منقسم منافع ، NIH:  خاندانوں کے ذریعہ خالص سود ادائیگیاں ،CT :کارپوریٹ ٹیکس ،TrH : خاندانوں کے ذریعہ حاصل متبادل یافت PTP ذاتی ٹیکس ادائیگی ،NP : غیر ٹیکس ادئیگی ۔

قومی قابل صرف آمدنی اورنجی آمدنی 
ہندوستان میں مجموعی کلی معاشی متغیرات کے ان زمروں کے علاوہ کچھ دیگر کل آمدنی زمرے بھی ہیں, جن کا ستعمال قومی آمدنی حساب کاری میں ہوتا ہے ۔
قومی قابل صرف آمدنی ºبازار قیمتوں پر خالص قومی پیداوار +باقی دنیا نے دوسرے ملکوں سے حاصل دیگر رواں متبادلات ۔
       قومی صارف آمدنی کے پیچھے تصوریہ ہے کہ اس سے معلومات ملتی ہے کہ گھریلومعیشت کے پاس اشیااورخدمات کی زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی ہے ،باقی دنیا سے رواں متبادلات میں عطیات ،امداد وغیرہ کی رقم شامل ہے ۔
  •  نجی آمدنی قومی قرض سود + غیر ملکوں سے حاصل خالص عامل آمدنی +حکومت سے رواں متبادل +باقی دنیا سے دیگر خالص متبادلات ۔

1 مارکیٹ قیمت پر کل مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی ایم پی) جی ڈی پی دراصل ایک ملک کی پوری سرزمین پر ایک سال کے عرصے میںتیار ہونے والی اشیا اور خدمات کی مارکیٹ قدر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ • ملک میں اس کے شہریوںیا غیر مقیم شہریوں کے ذریعہ کی گئی پیداوار اس میں شامل ہوتی ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ پیداوار کسی ملکی کمپنی نے کی ہے یا کسی غیر ملکی کمپنی کے ذریعہ کی گئی ہے۔ • ہر چیز کا تخمینہ اس کی مارکیٹ قیمت سے لگایا جاتا ہے۔
GDPmp = C+I+G+×–M
2 جی ڈی پی عامل لاگت پر (جی ڈی پی ایف سی) عامل لاگت پر جی ڈی پی در اصل مارکیٹ کی قیمت پر مجموعی گھریلو پیداوار ہے جس میں کل پیداوری ٹیکس اور کل اشیا ٹیکس کم کر دی جاتی ہیں۔

مارکیٹ قیمت وہ ہوتی ہے جو صارف ادا کرتے ہیں۔ مارکیٹ قیمت میں اشیا پر عائد ٹیکس اور سبسڈی بھی شامل ہوتی ہے۔ عامل لاگت کا مطلب اشیا کی وہ قیمت ہے جو پیداکار حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح عامل لاگت برابر ہوگی۔ مارکیٹ کی اس قیمت کے جس میںکل بالواسطہ ٹیکس کم کردیے جائیں ۔ عامل لاگت پر جی ڈی پی دراصل ایک سال کے اندر ایک ملک کی گھریلو سرحدوں کے اندر فرموں کے ذریعہ پیدا کیے گئے ماحصل کی مجموعی قدر ہوتی ہے۔ GDPFC = GDPMP-NIT
3 مارکیٹ قیمت پر کل گھریلو پیداوار (این ڈی پی ایم پی) اس تخمینے میں پالیسی ساز اس بات کا تخمینہ لگاتے ہیں کہ ملک کو موجودہ جی ڈی پی کو برقرار رکھنے کے لیے کتنا خرچ کرنا ہوگا۔ اگر کوئی ملک ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے مشینوں یا کیپیٹل اسٹاک میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو جی ڈی پی میں کمی ہو جائے گی۔ NDPMP = GDPMP—D.e.p
4 عالی لاگت پر این ڈی پی (این ڈی پی ایف سی) مل لا گت پر این ڈی پی وہ آمدنی ہوتی ہے جو ایک ملک کی سرحدوں کے اندر اجرت، منافع، کرایہ اور سود وغیرہ کی شکل میں عوامل کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔ NDPFC = NDPMP—Net Product Taxes- Net Production Taxes
5 مارکیٹ کی قیمت پر مجموعی قومی پیداوار (جی این پی ایم پی) جی این پی ، ایم پی ان تمام اشیا اور خدمات کی مجموعی قدر ہوتی ہے جو ہندوستان کے عام باشندوں کے ذریعہ ایک سال میں تیار کی گئی ہیں اور ان کا تخمینہ مارکیٹ کی قیمت پر لگایا گیا ہے۔ • جی این پی میں وہ تمام اقتصادی ماحصل شامل ہوتے ہیں جو ایک ملک کے شہریوں نے، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا بیرون ملک، تیار کیے ہوں۔ • تمام اشیا کی قدر مارکیٹ کی قیمت پر لگائی جاتی ہے۔ GNPMP = GDPMP + NFIA
6 جی این پی عامل لاگت پر (پی این پی ایف سی) عامل لاگت پر جی این پی میں ایک سال کے اندر کسی ملک سے تعلق رکھنے والے پیداوار کے عوامل کے ذریعے حاصل کردہ ماحصل کی قدر کو ناپاجاتا ہے۔ GNPFC = GNPMP—Net Product Taxes- Net Production Taxes
7 مارکیٹ قیمت پر کل قومی پیداوار (ان این پی ایم پی) اس میں تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ ایک ملک میں ایک مقررہ مدت کے اندر کتنا سامان استعمال (اصراف) کیا جاتا ہے۔ این این پی میں ماحصل کا تخمینہ لگایا جاتا ہے جس میں اس سے غرض نہیں کہ یہ پیداوار ملک میں یا بیرون ملک میں کی گئی ہے۔ NNPMP = GNPMP — Depreciation NNPMP = NDPMP + NFIA
8 عامل لاگت پر این این پی (این این پی ایف سی) عامل لاگت پر این این پی وہ کل آمدنی ہے جو ایک ملک میں سال کے دوران اجرت، منافع، کرایہ اور سود وغیرہ کی شکل میں پیداوار کے دوران تمام عوامل کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔ • یہ قومی پیداوار ہے اور صرف قومی سرحد کے اندر کی پیداوار ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ کل گھریلو عامل آمدنی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے ہونے والی کل عامل آمدنی بھی ہوتی ہے۔ NI = NNPMP —Net Product Taxes- Net Production Taxes = NDPFC + NFIA = NNPFC
9 مارکیٹ قیمت پر جی وی اے مارکیٹ قیمت پر جی ڈی پی
10 بنیادی قیمت پر جی وی اے GVAMP —Net Product Taxes
11 عامل لاگت پر جی وی اے GVA at Basic Price — Net Production Taxes •

اقوام متحدہ کے ذریعہ دیگر ایجنسیوں کی ساجھیداری میں نیشنل اکاؤنٹ 2008 (ایس این اے2008) کے نظام کو متعارف کرائے جانے کے بعد اب زیادہ تر ممالک نئے اوسط کو اپنا رہے ہیں۔ ہندوستان نے کچھ سال پہلے ہی اس اوسط کو اپنایا ہے ۔

2.4 :  برائے نام اور حقیقی جی ڈی پی(NOMINAL AND REAL GDP) 

اس پوری بحث میں ایک واضح مفروضہ ہے کہ اشیا اورخدمات کی قیمتیں ہمارے مطالعے کے دوران نہیں بدلتی ہیں ۔اگر قیمتوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔تو کل گھریلو پیداوار وں میں موازانہ کرنے میںمشکل پیداہوسکتی ہے ۔اگر ہم دولگاتار سالوں میں کسی ملک کی گھریلو پیداوار کی پیمائش کریں اوردیکھیں کہ گھریلو پیداواروں کی پیمائش دوسرے سال کی کل گھریلوپیداوار کا اعداد وشمار سابقہ سال کے اعداد وشمار کا دوگنا ہے تو ہم نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ملک کی پیداوار کی مقدار دوگنی ہوجائے گی لیکن یہ ممکن ہے کہ دونوں سالوں میں اشیا اورخدمات کی قیمتیں ہی صرف دوگنی ہوں ہیں جب کہ پیداوار قائم ہے ۔
لہٰذا مختلف ملکوں کی کل گھریلوپیداوار کے اعداد وشمار (دیگر کلی معاشی متغیرات )کے مقابلے یامختلف دقتوں میں ایک ہی ملک کی کل گھریلوپیداوار کی اعداد وشمار کا موازنہ کرنے کے سلسلے میں ہم رواں بازار قیمتوں پر تشخیص شدہ کل گھریلو پیداوار پر یقین نہیں کرسکتے ہیں۔ موازنہ کے لیے ہم حقیقی کل گھریلو پیداوار کی مدد لے سکتے ہیں ۔حقیقی کل گھریلو پیداوار کا شمار اس طرح کیا جاتا ہے کہ اشیا کی تشخیص قیمتوں کے کچھ قائم مجموعوں یا (قائم قیمتوں )پر ہوتا ہے ،چونکہ یہ قیمتیں قائم رہتی ہے اسی لیے اگر حقیقی کل گھریلو پیداوار میںتبدیلی ہوتی ہے تویہ یقینی ہے کہ پیداوار کی مقدار میں تبدیلی ہوگی ۔اس کے برخلاف رسمی کل گھریلو پیداوار (Nominal GDP) موجودہ قیمت پر کل گھریلو پیداوار کی محض قدر ہے مثال کے طورپر ،کوئی ملک صرف بریڈ کی پیداوار کرتا ہے سال 2000 میں اس نے بریڈ کی 100 اکائیوں کی پیداوارکی اور فی بریڈ قیمت10روپیے تھی موجودہ قیمت پرکل گھریلو پیداوار 1000 روپیے تھی ۔سال 2001 میں اس ملک میں 15 روپیے فی بریڈ کی قیمت پر بریڈ کی 110 اکائیوں کی پیداوارکی گئی ۔لہٰذا2001 میں رسمی کل گھریلو پیداوار 1650 روپیے (15x110 روپیے )تھی ۔2001 میں سال 2000  (سال 2000 کو اساسی سال کہا جائے گا ) کی قیمت پر حقیقی کل گھریلو پیداوار کا شمار کرنے پر 10x110روپیے=1,100روپیے ہوگا۔
غور کیجیے کے رسمی کل گھریلو پیداوار اور حقیقی کل گھریلو پیداوار کے تناسب سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیمت میں اساس سال (جس سال کی قیمتوں کا استعمال حقیقی کل گھریلو پیداوار کے شمار میں کیا جاتا ہے )کے مقابلے رواں سال میں کس طرح اضافہ ہوا،رواں سال کے حقیقی اوررسمی کل گھریلو پیداوار کے شمار میں پیداوار کی مقدار قائم رہتی ہے ۔لہٰذاان پیمائشوں میں فرق صرف بنیادی سال اوررواں سال کی قیمت میں فرق کے سبب ہی ہوتا ہے رسمی اورحقیقی کل گھریلو پیداوار کا تناسب معروف قیمت میں فرق کے سبب ہی ہوتا ہے اسے کلی گھریلو پیداوار تقلیل کار (Deflatir )کہتے ہیں ۔لہٰذا کل گھریلو پیداوار سے رسمی کل گھریلو پیداوار اورGDPسے حقیقی کل گھریلو پیداوار کوظاہر کرتا ہے ۔گھریلو پیداوار تقلیل کار =
کبھی کبھی تقلیل کار کو فی صد اصطلاح میں بھی ظاہر کیا جاتا اس صورت میں ،تقلیل کار 100x فی صد ۔پچھلی مثال میں ، GDP  تقلیل کار 1.50 =  (فی صد کی اصطلاح میں 150 % ہے) اس سے پتہ چلتا ہے کہ 2001 میں پیدابریڈ کی قیمت 2000 قیمت کے مقابلے میں 1.5 گنا ہے جوکہ صحیح ہے ،کیونکہ بریڈ کی قیمت درحقیقت 10 روپیے سے بڑھ کر 15 روپیے ہوگئی تھی ، کل گھریلو پیداوار تقلیل کار کی طرح ہمارے پاس کل قومی پیداوار تقلیل بھی ہوسکتا ہے ۔
معیشت میں قیمتوں میں تبدیلی کی پیمائش کرنے کا دوسرا طریقہ بھی ہے جسے صارف قیمت اشاریہ (CPI) کہتے ہیں ۔یہ اشیا کی دی گئی ٹو کری جن کی خریداری نمائندہ صارف کرتے ہیں ،کاقیمت اشاریہ ہے ،صارف قیمت اشاریہ کو اکثر فی صد کے طورپر ظاہر کیا جاتا ہے۔ ہم دوسالوں پرغور کرتے ہیں۔ایک بنیادی یا اساسی ہوتا ہے اوردوسرا رواں سال ۔ہم بنیادی سال میں اشیا کی دی ہوئی ٹوکری کی خرید کی لاگت کا شمار کرتے ہیں ،پھر ہم مابعد کو ماقبل کی فی صد کے طورپر ظاہر کرتے ہیں ۔اس سے ہمیں بنیادی سال سے متعلق رواں سال کا صارف قیمت اشاریہ حاصل ہوتا ہے ،مثال کے طورپر،ایک معیشت کو لیجیے جس میں دو اشیا چاول اورکپڑے کی پیداوار ہوتی ہے ،ایک نمائندہ صرف ایک سال میں 90 کلو گرام چاول اور5  ٹکڑے کپڑے کی خریداری کرتا ہے، مان لیجیے کہ سال 2000 میں ایک کلو گرام چاول کی قیمت 10 روپیے تھی اورکپڑے کے ایک ٹکڑے کی قیمت100 روپیے تھی ۔لہٰذا صارف کو 2000 میں چاول پر بہت زیادہ یعنی 900=10×90اور خرچ کرنا پڑا ۔ اسی طرح اس نے 100 500=5×روپیے کپڑے پر خرچ کیا ۔دونوں مدوں کی جمع 900 + 500 1400= روپیے ۔
مان لیجیے کہ ایک کلوگرام چاول اورایک ٹکڑے کپڑے کی قیمتیں سال 2005 میں علی الترتیب 15 روپیے اور120 روپیے ہوگئی ۔ چاول اورکپڑے کی اس مقدار کو خرید نے کے لیے نمائندہ صارف کو 1350 روپیے اور 600 روپیے علی الترتیب (جیسا کہ پہلے شمار کیا گیا تھا)خرچ کرناپڑے گا۔ان کی جمع 1,950=600+1,350 روپیے ہوگی، لہٰذا صارف قیمت اشاریہ(تقریبا )ہوگا ۔ 
یہ غور کرنے کی بات ہے کہ کئی اشیا کی قیمتیں دو مجموعوں میں ہوتی ہے ایک خوردہ قیمت ہوتی ہیںجو صارف حقیقت میں ادا کرتا ہے ۔ دوسری تھوک قیمت ہوتی ہے ،اس قیمت پر کثیر مقدار میں اشیا کی تجارت ہوتی ہے ۔ان دونوں کی قدروں میں فرق ہوسکتا ہے کیونکہ منافع کی گنجائش تاجروں کے پاس رہتی ہے ۔تھوک میں تجارت کی جانے والی اشیا (کچا مال یانیم تیار اشیا )کی خرید عام صارف نہیں کرتے ہیں۔ صارف قیمت اشاریہ کی طر ح تھوک قیمت کے لیے اشاریہ کو تھوک قیمت اشاریہ (WPI )کہتے ہیں۔ ریاست  ہائے متحدہ امریکا جیسے ملکوں میں اسے پیدا کا ر قیمت اشاریہ( PPI) کے طورپر جانا جاتا ہے ، خیال رہے کہ صارف قیمت اشاریہ (تھوک قیمت اشاریہ کی طرح) کل گھریلو پیداوار تقلیل کار سے الگ ہوسکتا ہے کیونکہ 
1 ۔ صارف جن اشیاکی خریداری کرتے ہیں ، ان سے ملک میں پیداسبھی اشیاکی نمائندگی نہیں ہوتی ہے ۔ کل گھریلوپیداوار تقلیل کار میں بھی ایسی اشیااورخدمات ہیں ۔
2 ۔ صارف قیمت اشاریہ میں نمائندہ صارف کے ذریعہ صرف کی گئی اشیا کی قیمت شامل ہیں ، لہٰذا اس میں درآمد اشیا کی قیمت شامل ہیں ۔ کل گھریلو پیداوار تقلیل کار میں درآمد اشیاکی قیمت شامل نہیں ہوتی ہے ۔
3 ۔ صارف قیمت اشاریہ میں وزن قائم رہتا ہے ۔لیکن کل گھریلو پیداوار تقلیل کار میں ہر ایک شے کی پیداوار سطح کے مطابق ان میں فرق ہوتا ہے ۔
2.5 : کل گھریلو پیداوار اورفلاح 
کیا کسی ملک کی کل گھریلو پیداوار کو اس ملک کے لوگوں کی بہبود کے اشاریہ کے طورپرسمجھا جاسکتا ہے۔ کیاان کے مادی حالات میں بہتری ہوسکتی ہے۔ لہٰذا یہ مناسب ہوگا کہ ان کا آمدنی کی سطح کو ان کی بہبود کی سطح کے طورپر دیکھا جائے ۔کل گھریلو پیداوار کسی خصوصی سال میں کسی ملک کی جغرافیائی حد کے تحت تیار اشیااورخدمات کی کل قدر کی جمع ہوتی ہے ۔کل گھریلو پیداوار کی تقسیم لوگوں کے درمیان آمدنی (برقرار یاروکی ہوئی آمدنی کو چھوڑ کر )۔لہٰذا ہم کسی ملک کی کل گھریلو پیداوار کی اعلی سطح کو اس ملک کے لوگوں کی اعلی بہبود کے اشاریہ کے طورپر (قیمت تبدیلی کی حساب کاری کے لیے ہم زرکی یا رسمی کل گھریلو پیداوار کے بدلے حقیقی کل گھریلو پیداوار کی قدرلے سکتے ہیں ) لیکن یہ صحیح نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس کی کم سے کم تین وجہیں ہیں ۔

1 ۔ کل گھریلو پیداوار کی تقسیم –کس طرح یہ یکساں ہے : اگر ملک کے کل گھریلو پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے تواس صورت میں پورے ملک کے بہبود میں اضافہ نہیں ہوسکتا ہے ،مثال کے طورپر  مان لیجیے کہ سال 2000  میں کسی خیالی ملک کی گھریلو پیداوا ر 100 روپیے تھی (آمدنی طریقے سے )مان لیجیے 2001 میں اسی ملک میں 90 افراد میں ہر ایک فرد کی آمدنی 9 روپیے تھی اور باقی 10 افراد کی فی کس آمدنی 20 روپیے تھی ۔ اشیا اورخدمات کی قیمتوں میں ان دونوں مدتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔سال 2001 میں ملک کی کل گھریلو پیداوار 90 (9 روپیے )10+ ×(20 روپیے )810= روپیے 200+ روپیے 1010= روپیے۔ مشاہدہ کیجیے کہ 2000 کے مقابلے میں 2001 میں ملک کی کل گھریلو پیداوار 10روپیے زیادہ تھی۔ لیکن یہ تب ہوا جب 90  فی صد لوگوں کی آمدنی میں 10 فی صد کی کمی (10 روپیے سے بڑھ کر 20 روپیے )اضافہ کا فائدہ ملا ۔ 90 فی صد لوگوں کی حالت مل کی کل گھریلو پیداوار میں اضافہ سے خراب ہوگئی ۔اگر ہم ملک کی بہبود میں ترقی خوشحال لوگوں کے فی صد سے کریں تو یقینی طورپر کل گھریلو پیداوار ایک اچھا اشاریہ نہیںہے ۔
غیر زری مبادلہ :معیشت متعددسرگرمیوں کی قدرشناس زری شکل میں نہیں ہوتی مثال کے طورپر ، عورتیں جو اپنے گھروں میں گھریلوخدمات انجام دیتی ہے اس کے لیے انھیںکوئی اجرت نہیں ملتی ہے ۔زرکی مد د کے بغیر غیر رسمی شعبہ میں جو مبادلہ ہوتا ہے اسے مبادلۂ اشیا کہتے ہیں ، تبادلۂ اشیا(یاخدمات) کا ایک دوسرے کے بدلے سیدھے طورپر مبادلہ ہوتا ہے ، لیکن چونکہ زرکا یہاں استعمال نہیں ہوتا ہے اس لیے شرح مبادلہ کو معاشی سرگرمی کا حصہ نہیں مانا جاتا ہے ، ترقی پزیرملک میں جہاں کئی دوردراز کی علاقے کم ترقی یافتہ ہیں ، اس طرح کے مبادلے ہوتے ہیں ، لیکن ان کا شمار اکثر ملک کی گھریلو پیدا وار میں نہیں ہوتا۔ اس صورت میں کل گھریلو پیداوار کا کم تحمینہ ہوتاہے ، لہٰذا کل گھریلو پیداوار کی تشخیص معیاری طریقے سے کرنے پر ہمیں پیداوار سرگرمی اورکسی ملک کی بہبود کا واضح اشارہ نہیں ملتا ۔بیرونی اسباب : بیرونی اسباب سے مراد کسی فرد کے فوائد (یانقصانات )سے ہے جس سے دوسرے متاثر ہوتے ہیں جس میں ادائیگی نہیں کی جاتی (یاجرمانہ عائد کیا جاتا ہے ) خارجی اسباب کا کوئی بازار نہیں ہوتا جس میں ان کو خریدایا فروخت کیا جاسکے ، مثال کے طورپر مان لیجیے کہ ایک تیل ریفائنری ہے جس میں کچے پٹرولیم کی صفائی کی جاتی ہے اوراسے بازار میں فروخت کیا جاتا ہے ۔تیل کارخانہ صفا کاری کابرآمد ( ماحصل)اس کے ذریعہ صاف کی گئی تیل کی مقدار ہے۔ ہم تیل صفائی کے کارخانے کی درمیانی اشیا کی قدر( اس صورت میں کچا تیل ) کو اس کے بر آمدسے گھٹا کراضافۂ قدرکا تخمینہ لگاسکتے ہیں ،تیل صاف کرنے کے کارخانے کے اضافۂ قدر کی معیشت کی کل گھریلوپیداوار میں شمار کی جاتی ہے ۔ لیکن پیداوار کے عمل میں تیل ریفائنری ساحلی ندیوں کو بھی آلودہ کرسکتی ہے ۔اس سے ان لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جوندی کے پانی کا استعمال کرتے ہیں ۔لہٰذا ان کی افادیت میں کمی ہوگی ۔ آلودگی سے مچھلی یاندی کے دیگر جانداروں کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے ۔نتیجتاً ملّا ح اپنی آمدنی اور افادیت سے محروم ہوگا ۔ایسے نقصان دہ  اثرات جو ریفائنر ی دوسروں پر ڈالتی ہے ، جس کے لیے انھیں کوئی لاگت نہیں ادا کرنی ہوتی خارجی اسباب کہے جاتے ہیں ۔اس صورت میں کل گھریلو پیداوار کو ان بیرونی اسباب میںشامل نہیں کیا گیا ہے ۔ لہٰذا ہم کل گھریلوپیداوار کو معیشت کی بہبود کی پیمائش کی شکل میں دیکھیں توہمیں حقیقی بہبود کی بیش تخمینگی حاصل ہو گی ۔یہ منفی خارجی اسباب کی ایک مثال تھی ۔ یہ مثبت خارجی اسباب کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے ۔ایسی صورت میں کل گھریلوپیداوار سے معیشت کے بہبودکی کم تخمینگی حاصل ہوگی ۔
نہایت بنیادی سطح پر کلی معیشت ( جس معیشت کا مطالعہ ہم کلی معیشت میں کرتے ہیں ) طریقۂ عمل کو دوری طریق میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ فرم خاندانوں کے ذریعہ فراہم کیے گئے درآمدات کا استعمال کرتی ہے اور خاندانوں کو فروخت کرنے کے لیے اشیا اورخدمات کی پیداوار کرتی ہے ۔ خاندان فرم کو فراہم کی گئی خدمات کے لیے معاوضہ حاصل کرتا ہے اوراس سے فرم کے ذریعہ پیداکی گئی اشیا وخدمات کی خرید کرتا ہے لہٰذاہم کسی معیشت میں پیدااشیااورخدمات کا شمار تین میں سے کسی بھی طریقے سے کرسکتے ہیں ۔(a)عامل ادائیگیوں کی مجموعی قدروں کی پیمائش کرکے (طریقۂ آمدنی )(b)فرموںکے ذریعہ حاصل اخراجات کی مجموعی قدر کی پیمائش کرکے (طریقۂ خرچ )طریقۂ پیداوار میں دہرے شمار کو دور کرنے کے لیے ہمیں درمیانی اشیا کی قدرکو گھٹا نا ہوگا اور آخری اشیا وخدمات کی کل قدر کو ہی اختیار کرنا ہوگا ان میں سے ہر ایک طریقہ سے ہم معیشت کی کل آمدنی کے شمار کے لیے فارمولہ اخذ کرسکتے ہیں ۔ ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہے کہ اشیا کی خرید اصل کاری کے لیے بھی کی جاسکتی ہے اور اصل کاری کرنے والی فرموں کی پیداواری صلاحیت میں ا ضافہ ہوتا ہے ۔ کل آمدنی کے ا لگ الگ زمرے  ہوسکتے ہیں ، جو ان پر انحصار کریںگی جن کو آمدنی حاصل ہوتی ہے کل گھریلو پیدا وار، کل قومی پیداوار ، بازارقیمت پر خالص قومی پیداوار، عامل لاگت ہونا، خالص قومی پیداوار، انفرادی آمدنی اور انفرادی قابل صرف آمدنی PDI میں ہم فرق دکھا سکتے ہیں۔ چونکہ اشیااورخدمات کی قیمتیں الگ الگ ہوسکتی ہیں ،اسی لیے ہم نے بحث کی ہے کہ تین اہم قیمت اشاریوں( کل گھریلوپیداوارتقلیل کار ، صارف قیمت اشاریہ اورتھوک قیمت اشاریہ) کا شمار کیسے کیا جائے گا۔ آخر میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کل گھریلو پیداوار کو کسی ملک کی بہبود کے اشاریہ کے طورپر سمجھنا غلط ہوگا۔

قومی آمدنی کا حساب
اس باب میں ہم عام معیشت کے بنیادی طریقۂ کار سے متعارف کرایں گے۔سیکشن 2.1میں ہم نے کچھ ابتدائی تصورات کا بیان کیا ہے، جن کے ساتھ ہمیں عمل کرنا ہے۔ دائری راہ پر معیشت کے شعبوںسے گزرنے والی پوری معیشت کی مجموعی آمدنی پر ہم کیسے غور کر سکتے ہیں ، سیکشن 2.2 میں ہم نے یہ بیان کیا ہے ۔ اسی سیکشن میں قومی آمدنی کے شمار کے تین طریقوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ طریقے ہیں:طریقہ پیداوار ، طریقۂ خرچ اور طریقۂ آمدنی۔ آخری سیکشن 2.3 میں قومی آمدنی کے مختلف ذیلی زمروں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف قیمت اشاریوں جیسے مجموعی ملکی پیداواری (GDP)تقلیل کار، صارف قیمت اشاریہ، تھوک قیمت اشاریوں کی بھی تعریف کی گئی ہے اور اس ملک کی مجموعی پیداوار کو لینے میں جو مسائل سامنے آتے ہیںاس پر بحث کی گئی ہے۔
2.1کلی معاشیات کے کچھ بنیادی تصورات
آج کل ہم جس مضمون کو معاشیات کہتے ہیں ، اس کے اولین لوگوں میں ایک تھے ایڈم اسمتھ ۔ انھوں نے اپنی سب سے اہم تخلیق کو An Enquiry in to the Nature  and cause of the wealth of Nationsکا نام دیا۔ کسی ملک کی معاشی دولت کی تخلیق کیسے ہوتی ہے؟ ملک امیر یا غریب کیسے بنتے ہیں؟ یہ معاشیات کے کچھ مرکزی سوالات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جن ملکوں کو معدنیات یا جنگلات یا زیادہ زر خیز زمین جیسی قدرتی دولت عطا ہوتی ہیں، وہ ملک قدرتی طور پر سب سے امیر مما لک ہیں۔ درحقیقت وسائل سے بھر پو ر افریقہ اور لیٹن امریکا دنیا کے غریب ترین ممالک ہیں جب کہ بہت سے خوشحال ملکوںکے پاس قدرتی دولت بہت کم ہے۔ ایک وقت تھا جب قدرتی وسائل پر قبضے کو زیادہ اہم تصور کیا جاتا تھا لیکن تب بھی پیداوارکے عمل کے ذریعہ وسائل کی شکل بدل دی جاتی تھی۔
معاشی دولت یا کسی ملک کی امیری کے لیے اس کے پاس وسائل کا ہونا ضروری نہیں ہے ، خاص بات یہ ہے کہ ان وسائل کا استعمال کیسے کیا جا ئے جس سے پیداوار میں روانی پیدا ہو اور اس عمل کے ذریعہ کیسے آمدنی اور دولت کی تخلیق کی جائے۔
آئیے اس پیداوار کی روانی پر غور کریں۔ پیداوارکیسے ہوتی ہے؟ پیداوار کی روانی کی تخلیق کے لیے لوگ اپنی توانائیوں کو ایک سماجی اور تکنیکی ڈھانچے کے تحت قدرتی اور انسانی ساختہ ماحول میں ایک ساتھ لگاتے ہیں۔
ہمارے جدید معاشی نظام میں پیداوار کی اس روانی کی تخلیق لاکھوں چھوٹی بڑی کاروباری مہم جوئی کے ذریعہ— اشیا اور خدمات کی پیداوار سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کاروباری اداروں میں بڑے بڑے کارپوریشن (جن میں لوگوں کی بڑی تعداد ملازمت میں ہوتی ہے) سے لے کر ایک اکیلے کاروباری منتظم کا ر تک شامل ہیں۔ لیکن پیداوار کے بعدا ن اشیا کا کیا ہوتا ہے؟ ہر شے کے پیداکاروں کو اپنے بر آمد (ماحصل) کو فروخت کرنے کا رجحان ہوتا ہے۔ اس لیے پن یا بٹن جیسے چھوٹے مادوں سے لے کر ہوائی جہاز ، آٹو موبائیل ، بڑی مشینری یا کوئی قابل فروخت خدمات جیسے ڈاکٹر، وکیل یا مالیاتی صلاح کاروں کی خدمات تک، سبھی اشیا اور خدمات کی پیداوار صارفین کو فروخت کرنے کے لیے کی جاتی ہے ۔ صارف کوئی فرد ہو سکتا ہے یا کوئی مہم جو، ان کے ذریعہ خریدی جانے والی شے یا خدمات آخری استعمال یا مزید پیداوار میں استعمال کے لیے ہو سکتی ہے۔ جب اس کا استعمال آگے کی پیداوار کے لیے کیا جاتا ہے تب اکثر یہ مخصوص شے اپنی خصوصیات کھو دیتی ہے اور پیداواری عمل کے ذریعہ کسی دوسری شے کی شکل میں تبدیل ہو جا تی ہے۔ کپاس کے کسان دھاگا تیار کرنے والی مل کو کپاس فروخت کرتے ہیں ، جہاں کپاس سے دھاگے تیار کیے جاتے ہیں، ان دھاگوں کو کپڑے کی مل میں فروخت کیا جاتا ہے جہاں پیداواری عمل کے ذریعہ یہ کپڑے کی شکل میں آجاتا ہے اور اس کپڑے کو دیگر پیداواری عمل کے ذریعہ پہننے لائق کپڑے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اب یہ کپڑا صارفین کے آخری استعمال کے لیے فروخت ہوتا ہے۔ لہٰذا شے کی ایسی مد یا قسم جن کا آخری استعمال صارفین کے ذریعہ ہوتاہے اور جنھیں پھر پیداواری عمل کے کسی مرحلے سے گزرنا نہیں پڑتا ہے یا جن میں دوبارہ کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ انھیں آخری شے کہا جاتا ہے۔
 ہم اسے آخری شے کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ایک باریہ فروخت ہونے کے بعد سرگرم معاشی بہاؤ سے باہرہو جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی بھی پیداکار کے ذریعہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا تی ہے۔ تاہم آخری خرید ار کے ذریعہ اس کی شکل تبدیل کی جا سکتی ہے۔ دراصل کئی آخری اشیا ایسی ہوتی ہیں جن میں صرف کے دوران تبدیلی ہوتی ہے ۔ اس طرح چائے کی پتی کا صرف ہم اسی شکل میں استعمال نہیں کرتے جیسا کہ ہم خرید تے ہیں بلکہ اس کا استعمال پینے کے لائق چائے کی شکل میں تبدیل کرنے کے بعدکرتے ہیں جس کو صرف کیا جا تاہے۔ اسی طرح ہمارے باورچی خانہ میں اکثر چیزوں کو کھانا پکانے کے عمل کے ذریعہ تبدیل کیا جاتا ہے۔لیکن گھروں میںکھانا پکانے کا کام معاشی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہے حالانکہ پیداوار تبدیلی کے مرحلے سے گزرتی ہے۔ گھر میں بنایا گیا کھانا بازار میں فروخت کے لیے نہیں جاتاہے۔ تاہم اگر اسی طرح کے کھانا بنانے یا چائے بنانے کا کام کسی ریسٹورنٹ میں کیا جائے جہاں پکائی گئی اشیا صارفین کو فروخت کی جائیں تب یہی مدیں جیسے کہ چائے کی پتی آخری اشیا نہیں ہوپائیں گی اور انھیں درآمد( inputs)کے طور پر شمار کیا جائے گا جس کی معاشی قدرمیں اضافہ واقع ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کوئی شے اپنی فطرت کے سبب نہیں بلکہ اپنے استعمال کی معاشی فطر ت کے لحاظ سے آخری شے بنتی ہے۔
تیار شدہ اشیا میں بھی صارف اشیا اور اشیا اصل میںہم فرق کر سکتے ہیں۔ غذااور لباس جیسی اشیا اور تفریح جیسی خدمات کا صرف اسی وقت ہوتا ہے جب انھیں آخری صارفین کے ذریعہ خریداجاتا ہے انھیں صرفی اشیا کہا جاتا ہے (ا س میں خدمات بھی شامل ہیں جنھیں صرف کیا جاتا ہے لیکن آسانی کے لیے ہم انھیں صرفی اشیا کہہ سکتے ہیں)۔
اس کے بعد کچھ دیگر اشیا ہیں جو پائیدار نوعیت کی ہوتی ہیں اور پیداواری عمل کاری میں ان کا استعمال کیا جاتاہے۔ یہ اوزار، ساز وسامان اور مشینیں ہیں۔حالانکہ یہ دیگر قابل عمل اشیا کی پیداوار تو کرتی ہیں لیکن پیداواری عمل میں ان کی خود کی شکل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ تیار شدہ اشیا بھی ہیں لیکن یہ وہ آخری اشیا نہیں ہیں جنھیں آخری طور پر صرف کیا جاتا ہے۔ہم نے اوپر جن آخری اشیاکاذکر ہے ان کے برعکس یہ کسی بھی پیداواری عمل کی فیصلہ کن اساس ہوتی ہیں جس سے پیداوار میں مدد ملتی ہے اور پیداوار ممکن ہوتی ہے۔ ان اشیا سے پونجی کی ایک جزوی تشکیل ہوتی ہے جو کہ پیداوار کا ایک اہم عامل ہے۔ اس میں پیداکار مہم جو نے سرمایہ لگا یا ہے اور وہ پیداواری عمل کو پیداواری گردش (چکّر)میں جاری رکھنے کا اہل بناتی ہے۔ یہ اشیا اصل ہیں اور ان میں بتدریج ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہتی ہے لہٰذا وقتاً فوقتاً اس میں مرمت کی جاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اسے بدل دیا جاتا ہے ۔کسی معیشت میں شامل پونجی کے ذخیرے کو محفوظ کیا جاتا ہے، اسے برقرار رکھا جاتا ہے اور جزوی یا مکمل طور پر اس کی تجدید کی جاتی ہے اور یہی اس کی ایک اہم خصوصیت ہے جس کامطالعہ کیا جائے گا۔
یہاں یہ یاد رہے کہ کچھ اشیا جیسے ٹیلی ویژن سیٹ ، آٹو موبائیل ، گھریلو کمپیوٹر، اگر چہ یہ آخری صرف کے لیے ہیں پھر بھی ان میں اشیا اصل کی بھی خصوصیت پائی جاتی ہے یعنی یہ بھی پائیدار ہوتی ہیں ۔ یعنی یہ فوری یا قلیل مدتی صرف میں ختم نہیں ہوتیں۔ یہ غذا اور لباس جیسی اشیا کی بہ نسبت زیادہ عرصے تک قائم رہتی ہیں۔ صرف ہونے پر ان میں بھی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور مرمت یا پرزے کے بدلنے کی طرح ان کی بھی حفاظت رکھ رکھاؤ اور تجدید کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہم ان کو پائیدار صرفی اشیا کہتے ہیں۔
اس طرح کسی معیشت میں ایک دی ہوئی مدت میں تیار کی گئی سبھی تیار  اشیایا خدمات پر اگر ہم غور کریں تو وہ یا تو صرف کی اشیا پائیدار یا غیر پائیدار کی شکل میں ہوتی ہیں یا اشیا اصل کی شکل میںہوتی ہیں۔تیار شدہ اشیاکے طور پر انھیں معاشی عمل میں مزید تبدیلی کے مر حلے  سے نہیں گزرنا پڑتا ہے۔
معیشت میں کل پیداوار کی ایک بڑی مقدار آخری صرف کے طورپر ختم نہیں ہوتی ہے اور یہ اشیا اصل بھی نہیں ہیں۔ ایسی اشیا کا استعمال دیگر پیداکاروں کے ذریعہ در آمد یا مادخل مواد کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثالیں ہیں:آٹو موبائیل بنانے کے لیے اسٹیل کی چادر کا استعمال اور برتنوںکے بنانے میں تانبے کا استعمال ۔ یہ درمیانی اشیا ہیں جن کا استعمال اکثر دیگر اشیا کی پیداوار کے لیے کچے مال یا در آمدکے طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ آخری اشیا نہیں ہیں۔
اب معیشت میں پیداوار کی کلی روانی کے بارے میں جامع تصور کے لیے ہمیں معیشت میں آخری طور پر تیار اشیا کی مجموعی سطح کی مقدار پیمائش کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حالانکہ مقداری تعین قدر حاصل کرنے کے لیے معیشت میں تیار سبھی اشیا اور خدمات کی پیمائش میں ظاہر ہے کہ ہمیں ایک عام پیمائشی پیمانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کپڑوں کی پیمائش کے لیے جس میٹر کا استعمال کیا جاتا ہے، اس سے ہم ٹنوں میں چاول کی پیمائش نہیں کرسکتے اور نہ ہی آٹو موبائیل یا مشین کی تعداد معلوم کر سکتے ہیں ۔ ہمارا عام پیمائش پیمانہ زر ہے۔ چونکہ ان میں سے ہر ایک شے کی پیداوار فروخت کی غرض سے کی جاتی ہے۔ اسی لیے ان میں مختلف اشیا کی زری قدر کی کل جمع سے آخری بر آمد کی پیمائش حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ہم صرف آخری شے کا تعین قدر کیوں کرتے ہیں؟ یقینا درمیانی اشیا کسی پیداواری عمل کا نہایت اہم در آید ہے اور ان اشیا کی پیداوار میںقوت افراد اورپونجی اسٹاک کا ایک اہم حصہ شامل ہوتا ہے ۔ الگ سے ان کا شمار کرنے پر دو بارہ شمار کرنے سے بچا جا سکتا ہے جب کہ درمیانی اشیا پر غور کرنے سے کل معاشی سرگرمیوں کی پوری تفصیل حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر بھی ان کے شمار سے ہماری معاشی سرگرمیوں کی آخری قدر مبالغہ آمیز ہو سکتی ہے۔
اس مرحلے میں اسٹاک اور بہاؤ (روانی) کے تصورات کا تعارف زیادہ اہم ہے۔ اکثر ہم سنتے ہیں کہ کسی کی اوسط تنخواہ 10,000روپیے ہے یا فولاد صنعت کا بر آید اتنے ٹن یا اتنے روپیے کے بقدر ہے۔ لیکن یہ بیان نا مکمل ہے کیونکہ یہ ظاہر نہیں ہے کہ جس آمدنی کی بات کہی گئی ہے، وہ سالانہ ہے یا ماہانہ یا یومیہ ہے اور یقینا اس سے ایک بڑا فرق پیدا ہوتا ہے کبھی بھی سیاق و سباق سے واقفیت ہوتی ہے تو ہم فرض کرتے ہیں کہ مد ت معلوم ہے اس لیے اس کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ لیکن ایسے سارے بیانوں میں ایک مقررہ مدت واضح ہوتی ہے ورنہ ایسے بیان بے معنی ہیں ۔ اس طرح آمدنی یا بر آید یا منافع ایسے تصورات ہیں جن سے صرف جب ہی مفہوم پیدا ہوتا ہے جب مدت کی صراحت کی گئی ہو۔ انھیں بہاؤ (Flow) کہا جاتاہے کیونکہ یہ ایک مدت میں واقع ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں ان کی مقداری پیمائش حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص مدت کو درج کر ناپڑتا ہے۔ چونکہ کسی معیشت میں زیادہ تر حسابی عمل سالانہ ہوتے ہیں ، اس لیے ان میں سے زیادہ تر کو سالانہ طورپر ظاہر کیا جاتا ہے جیسے سالانہ منافع یا پیداوار ۔ بہاؤ کا ایک خاص مدت کے لیے تعین کیا جاتاہے۔
اس کے برعکس در ج مدت وقت میں ایک بارتیار کی گئی اشیا اصل یا پونجی اشیا یا پائیدار صارف اشیا میں نہ ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور نہ ہی ان کا صرف ہوتا ہے۔ درحقیقت اشیا اصل ہمیں پیداوار کے مختلف دور میں خدمات فراہم کرتی ہیں۔ فیکٹری کی عمارت اور مشین مخصوص مدت وقت سے غیر وابستہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی نئی مشین کو شامل کیا جاتا ہے یا مشین استعمال میں نہیں ہوتی اور اسے بدلا نہیں جاتا تب اس میں اضافہ یا تخفیف ہو سکتی ہے۔اسٹاک کی تعریف ایک مخصوص وقت میں کی جاتی ہے۔ لیکن ہم ایک متعین وقت میںاسٹاک میں تبدیلی کی پیمائش کر سکتے ہیں جیسے کتنی مشینیں شامل کی گئیں ۔ لہٰذا اسٹاک میں اس طرح کی تبدیلی کو بہاؤ کہتے ہیں جن کی پیماش ایک مخصوص مدت میںکی جاسکتی ہے۔ کوئی خاص مشین کئی سالوں تک (اگر ٹوٹ پھوٹ نہ ہو) پونجی اسٹاک (اصل کا ذخیرہ ) کا حصہ ہو سکتی ہے، لیکن وہ مشین پونجی اسٹاک میں شامل نئی مشینوں کے بہاؤ کاحصہ صرف ایک سال کے لیے ہو سکتی ہے۔
اسٹاک اور بہاؤ کے درمیان فرق کو مزید سمجھنے کے لیے، مان لیجیے کہ ایک نل سے کسی حوض کو بھرا جا رہا ہے۔ نل سے فی منٹ جتنا پانی حوض میں بھرا جا رہا ہے وہ بہاؤ ہے لیکن جتنا پانی حوض میں کسی وقت خاص میں دستیاب ہوتا ہے، وہ اسٹاک ہے۔
اب ہم آخری ماحصلکی پیمائش کی بحث کا ذکر کرتے ہیں، ہمارے آخری ماحصل کا وہ حصہ جو اشیا اصل (Capital Goods) پر مشتمل ہوتا ہے، کسی معیشت کی مجموعی سرمایہ کاری کی تشکیل کرتا ہے1۔ یہ مشینیں ، اوزار اور عمارتیں ، سازوسامان دفتر گودام یا سڑکیں، پل ، ہوائی اڈے یا بندرگاہ وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک سال میں تیار ساری اصل اشیا پہلے سے موجودپونجی اسٹاک میں مزید اضافہ نہیں کرتیں ۔ اشیا اصل کے موجودہ ماحصل کا ایک اہم حصہ موجود اشیا اصل کے اسٹاک جزو کے رکھ رکھاؤ یا پرزوں کے بدلنے میں چلا جاتاہے ایسا اس لیے ہے کہ پہلے موجودہ پونجی اسٹاک میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے او اس کے رکھ رکھاؤ اور بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشیا اصل کا ایک حصہ جو اس سال تیار ہوتا ہے۔وہ موجودہ اشیا اصل کو بدلنے میں چلا جاتا ہے اور پہلے سے موجود اشیا اصل کے اسٹاک میں اضافہ نہیں کر تا اور خالص سرمایہ کی پیمائش کرنے کے لیے مجموعی سرمایہ کاری سے اس کی قدر کو گھٹا نے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشیا اصل کی حسب معمول ٹوٹ پھوٹ کے مطابق مجموعی سرمایہ کاری کی قدر سے جو حذف ہوتا ہے اسے فرسودگی (Depreciation)کہا جاتا ہے۔


1۔ماہرین معاشیات نے سرمایہ کاری کی اس طرح تعریف کی ہے ۔ اسے سرمایہ کاری کے عام مفہوم کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیے جس کا اظہار زر کے استعمال کے ذریعہ مادی یا مالیاتی اثاثوں کو خریدنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس طرح اصطلاح سرمایہ کاری کے اس استعمال کا شیئروں یا جائداد کی خریداری یہاں تک کہ بیمہ پالیسی کے ساتھ بھی ماہرین معاشیات کے ذریعہ تعریف کی گئی سرمایہ کاری سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ہمارے لیے سرمایہ کاری ہمیشہ پونجی کی تشکیل ہے یعنی پونجی اسٹاک میں مجموعی یا خالص اضافہ ہے۔
لہٰذامعیشتمیں پونجی اسٹاک میں نئے اضافے کی پیمائش خالص سرمایہ کاری یا نئے تشکیل اصل کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ جسے اس طرح ظاہر کرتے ہیں ۔
خالص سرمایہ کاری =کل سرمایہ کاری-فرسودگی
اب ہم فرسودگی کی اصطلاح کا تفصیلی جائزہ لیں۔ مان لیجیے کوئی فرم مشین میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ یہ مشین اگلے 20سالوں تک کام کر سکتی ہے، جس کے بعد اس کی مرمت یا اسے بدلنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ جسے ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ہر ایک سال کے پیدا واری عمل میں مشین کو بتدریج بھر پور استعمال کیا جا تا رہا تو ہر ایک سال اس کی حقیقی قدر میں 20ویں حصے کے برابر فرسودگی پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا 20 سال کے بعد بدلنے کے لیے تھوک سرمایہ کاری پر غور کرنے کے بجائے ہم ہر سال سالانہ فرسودگی پر غور کر سکتے ہیں ۔ یہ ایک عام مفہوم ہے جس میں اصطلاح فرسودگی کا استعمال کیا گیا ہے اور اس کا تصور موجود ہے، وہ یہ کہ ایک خالص شے اصل کی متو قع مدت عمل کیا ہے جیسے مشین کی ہماری مثال میں بیس سال ہے، فرسودگی اس طرح شے کی اصل 2کی ٹوٹ پھوٹ کا سالانہ الاؤنس ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ شے کی لاگت ہے جسے اس کی کار آمد زندگی سالوں کے تعداد سے تقسیم کیا جا تاہے۔3
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ فرسودگی ایک حسابی تصور ہے۔ کوئی حقیقی خرچ در اصل ہر سال واقع نہیں ہوتاہے لیکن فرسودگی کا حساب سالانہ طورپر لگایا جاتاہے۔ کسی معیشت میںمختلف طرح کی مشینوںکااستعمال ہوتاہے۔ ہزاروں کاروباری ادارے عموماًکسی ایک سال میں بڑی مقدار میں انھیں بدلنے پر رقم خرچ کرتے ہیں لہٰذا ہم واقعی یہ تصور کر سکتے ہیں کہ حقیقی بدلی اخراجات کابہاؤ یکساں ہوگا جو اس معیشت میںہونے والی سالانہ فرسودگی کی مقدار کے حساب سے کم وبیش میل کھائے گا۔
 اگر ہم کسی معیشت میںتیار کل آخری ماحصل پر ایک نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ اس میںصارف اشیا،خدمات اور اصل اشیا کے برآید ہوتے ہیں ۔ صارف اشیا سے معیشت کی پوری آبادی کا صرف جاری رہتا ہے۔ صارف اشیا کی خرید ان اشیا پر خرچ کرنے کی لوگوں کی قوت پر مبنی ہوتی ہے جو ان کی آمدنی پر منحصر ہوتی ہے آخر ی اشیا کا دوسرا حصہ اشیا ئے اصل ہے جس کی خرید کاروباری یا مہم جوکاروباری یا صنعت میں رکھ رکھاؤکے لیے یا اپنی پونجی کے اسٹاک میں اضافہ کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی پیداوار کا بہاؤ قائم رہے یااس میںوسعت ہو۔ ایک مخصوص مدت میںجیسے کسی ایک سال میں آخری اشیا کی کل پیداوار چاہے تو صرف کی شکل میں ہو یا سرمایہ کاری کی صورت میں اس طرح ایک تصفیہ قائم ہوتا ہے۔اگرکسی معیشت میں آخری اشیا کی رواں پیداوار میں صارف اشیا کی پیداوار زیادہ ہوگی تو اس کی سرمایہ کاری اشیا کم پیدا ہوگی اور اس کے بر عکس بھی ہو سکتا ہے۔


2۔فرسودگی غیر متوقع یا اچانک ہونے والی بر بادی یا پونجی کے غلط استعمال جو کہ حادثہ ، قدرتی آفات یاپھر اس طرح کی دیگر بیرونی صورت حال کے سبب پیدا ہوتی ہے ان سے متعلق نہیں ہوتی ہے۔
3۔اس کے بجائے یہاں ہم اثاثوںکی اصل قدروں کی بنیادی فرسودگی کا ایک عام مفروضہ قائم کر رہے ہیں کہ فرسودگی کی شرح مستقل ہے حقیقی عمل میں فرسودگی کی شرح کے دیگر طریقے ہو سکتے ہیں۔
عام طو ر پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اشیا اصل جتنی کارگزار ہوگی اشیا کی پیداوار کے لیے اتنی ہی محنت کی پیداوار زیادہ ہوگی۔ روایتی بنکر کوایک ساذی بنانے میں مہینوں لگیں گے لیکن جدید مشینری کے ذریعہ ایک دن میں ہزاروں ساڑیاں تیار کی جاتی ہیں پر امڈ یا تاج محل جیسی عظیم تاریخی یادگاروں کو بنانے میں دسیوں سال لگے لیکن جدید تعمیراتی مشینری سے کچھ ہی سالوں میں آسمان کو چھونے والی عمارتیں بنائی جاسکتی ہیں۔ اشیا اصل کی نئی قیمتوں کی زیادہ پیداوار کی وجہ سے صارف اشیا کے زیادہ پیداوار میں مدد ملے گی۔
لیکن یہاں ہم کیا خود باہم متناقض نہیں ہورہے ہیں؟ پہلے ہم نے دیکھا کہ ایک معیشت میں آخری اشیا کی کل ماحصل کا ایک چھوٹا حصہ صرف کی اشیا کے لیے دستیاب ہوتا ہے، جب کہ پیداوار کا زیادہ تر حصہ اشیا اصل کی پیداوار میں صرف ہوتا ہے اور اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زیادہ اصل اشیا کا مطلب زیاوہ صرفی اشیا ہے ۔ گرچہ یہاں کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہاں جس چیز کی اہمیت ہے وہ ہے وقت۔ ایک مخصوص مدت میں معیشت کی پیداوار کی دی گئی سطح پر ، یہ صحیح ہے کہ اگر اصل اشیا کی پیداوار زیادہ ہوگی تو صرفی اشیا کی پیداوار کم ہوگی۔ لیکن زیادہ اصل اشیا کی پیدا وار سے مراد یہ ہے کہ مستقبل میں محنت کشوں کے پاس کام کرنے کے لیے زیادہ اصل اشیا دستیاب ہوں گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس کے نتیجے میں معیشت میں اشیا کی پیداوار کی زیادہ صلاحیت ہوگی اور زیادہ اشیا تعداد میں محنت کش پیداوار کرتے ہیں۔ جب ہم اسی کا موازنہ کم اصل اشیا کی پیداوار سے کرتے ہیں تو یہ کل پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ اگر کل پیداوار ہے زیادہ تو یقینا صرفی پیداوار اشیا کی مقدار زیادہ ہوجائے گی۔ اس طرح معاشی دور نہ صرف اصل اشیا کی زیادہ پیداوار ہی نہیں کرتا بلکہ اس میں توسیع بھی کرتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بحث میں دوسرے دوری بہاؤ (روانی) کو بھی ہم شامل کر سکتے ہیں۔ 
چونکہ ہم بازار کے لیے پیداکی جانے والی سبھی اشیا اور خدمات کی بات کر رہے ہیں تو اہم عامل جو ایسی فروخت کو ممکن بناتا ہے وہ ہے ایسی اشیا کے لیے مانگ جس کو قوت خرید کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ کسی کے پاس اشیا کو خرید نے کی ضروری استعداد ہونی چاہیے ۔ ورنہ اشیا کے لیے کسی کی ضرورت کو بازار کے ذریعہ منظوری حاصل نہیںہوتی ہے۔
ہم نے اوپر پہلے ہی بحث کی ہے کہ کسی کی اشیا خرید نے کی استعداد آمدنی سے پیدا ہوتی ہے جو کوئی ایک مزدور کے طورپر (مزدوری حاصل کرنے کے طور پر )یا کاروباری مہم جو کے طور پر (منافع کمانے کے طور پر)یا زمین کے مالک کے طورپر (لگان یا کرایہ حاصل کرنے کے طور پر )یا پونجی کے مالک کے طورپر (سود کمانے کے طورپر )کماتاہے۔مختصراً پیداوار کے عوامل کے طور پر لوگ جو آمدنی حاصل کرتے ہیں، ان کا استعمال وہ شے اور خدمات کی اپنی مانگ کی تکمیل کے لیے کرتے ہیں لہٰذا ہم یہاں ایک دوری بہاؤ دیکھ سکتے ہیں جس میںبازارکے ذریعہ آسانی پیدا ہوتی ہے۔
چنانچہ ہم اسے آسان طور پر پیش کریںگے، پیداواری عمل کو چلانے کے لیے پیداوار کے عوامل کی مانگ جو فرم کرتی ہے، اس سے لوگوں کی ادائیگیوں کی تخلیق ہوتی ہے، نتیجتاً اشیا اور خدمات کی لوگوں کی مانگ سے فرموں کے لیے ادائیگی کی تخلیق ہوتی ہے اور اس سے ان کے ذریعہ تیار مصنوعات کی فروخت ہوتی ہے۔
لہٰذا صرف اور پیداوار کا سماجی عمل پیچیدہ طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور در حقیقت ایک دائری علت یاسبب واقع ہوتا ہے ۔ کسی معیشت میں پیداوار کا عمل پیداوار میںحصہ لینے والے عوامل کے لیے آمدنی فراہم کرتاہے اور پیداوار کی بر آمد کی شکل میں اشیا اور خدمات کی تخلیق ہوتی ہے اور اس طرح تخلیق کی گئی آمدنی سے آخری صرفی اشیا کو خرید نے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کاروباری مہم جو کے ذریعہ ان کی فروخت ممکن ہوتی ہے جو ان کی پیداوار کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ پیداواری عمل میں تخلیق شدہ اشیا اصل بھی ان کے پیداکاروں کو آمدنی، مزدوری کا منافع و غیرہ کمانے کا اسی انداز میںاہل بناتی ہیں ۔ اشیا اصل سے کسی معیشت کے پونجی اسٹاک میں یا تو اضافہ ہوتا ہے یا اسٹاک قائم رہتا ہے اور اس سے دیگر اشیا کی پیداوار ممکن ہوتی ہے۔
2.2آمدنی کی دائری روانی اور قومی آمدنی کے شمار کے طریقے
پچھلے سیکشن میںمعیشت کے بارے میں جو بیان کیا گیا، اس سے ہم یہ جاننے کے اہل ہو گئے ہیں کہ کوئی سادہ معیشت والی حکومت ، بیرونی تجارت یا کسی بچت کے بغیر کس طرح کام کرسکتی ہے ۔جیسا کہ ہم نے پہلے ہی ذکر کیا ہے کہ اشیا اور خدمات کی پیداوار کے دوران چار طرح کے بنیادی اشتراک کیے جا سکتے ہیں۔ (a)انسانی محنت کے ذریعہ کیا گیا اشتراک جس کا معاوضہ مزدوری کہلاتا ہے۔(b)پونجی کا اشتراک جس کا معاوضہ سود ہے(c)کاروباری مہم جوئی کا اشتراک جس کا معاوضہ منافع ہے (d)معین قدرتی وسائل (جسے زمین کہا جاتا ہے)کا اشتراک جس کا معاوضہ لگان ہے۔
اس تسہیل شدہ معیشت میں صرف ایک طریقہ ہے جس میں خاندان یا اہل خاندان اپنی آمدنی کو صرف کر سکتے ہیں یعنی وہ اپنی پوری آمدنی کو گھریلو فرموں کے ذریعہ پیدا شدہ اشیا اور خدمات پر صرف کر سکتے ہیں ۔ ان کی آمدنی کے خرچ کرنے کے دیگرذرائع بند ہوتے ہیں : ہم نے یہ فرض کیا ہے کہ اہل خانہ بچت نہیں کرتے۔ حکومت کو ٹیکس نہیں ادا کرتے کیونکہ یہاں کوئی حکومت نہیں ہے اور نہ ہی وہ در آمد کی ہوئی اشیا خرید تے ہیں کیونکہ سادہ معیشت میں کوئی بیرونی تجارت نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں پیداوار کے عوامل اپنے معاوضے کا استعمال ان اشیا اور خدمات کی خریدمیں کرتے ہیں جن کی پیداوار میںوہ معاون ہوتے ہیں ۔ معیشت کے اہل خانہ کے ذریعہ مجموعی صرف فرموں کے ذریعہ پیدا اشیا اور خدمات پر ہوئے کل مصارف کے برابر ہوتا ہے ۔ لہٰذا فروخت کے محاصل کی شکل میں معیشت کی کل آمدنی پیداکاروں کے پاس پھر واپس آجاتی ہے۔اس نظام میں کسی طرح کارساؤ نہیں ہوتا یعنی فرم کے ذریعہ عامل ادائیگیوں (جو کہ پیداوار کے چار عوامل کے ذریعہ کمایاگیا کل معاوضہ ہے) کی شکل میں تقسیم کی گئی مقدار کی کل اور ان کے ذریعہ فروخت محاصل کی شکل میں کل مجموعی صرفی اخراجات کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا۔
اگلی مدت میں فرمیں اشیا اور خدمات کی ایک بار پھر پیداوار کرتی ہیں اور پیداوار کے عوامل کو معاوضہ ادا کرتی ہیں۔ ان معاوضوں کا استعمال پھر اشیا اور خدمات کی خرید کے لیے ہوگا۔ لہٰذا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ معیشت کی کل آمدنی ہر سال دو شعبوں،فرموں اور اہل خاندان کے درمیان دائری راہ پر رواں رہے گی۔ اسے شکل 2.1میں ظاہر کیا گیاہے۔ جب آمدنی کو فرم کے ذریعہ پیدا اشیا اور خدمات پر خرچ کیا جاتا ہے تو یہ کل خرچ کی شکل میں فرموں کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔ چونکہ اخراجات کی قدر اشیا اور خدمات کے برابر ہونی چاہیے اس لیے ہم کل آمدنی کی پیمائش فرم کے ذریعہ پیدا کی گئی اشیا اور خدمات کی کل قدر کو شمار کرکے کرتے ہیں۔ جب فرم کے ذریعہ حاصل کیے گئے کل محاصل کے ادئیگی پیداوار کے عوامل کے ذریعہ کی جاتی ہے تو یہ کل آمدنی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
شکل 2.1میں سب سے اوپر تیر جو خاندان کو فرم سے جوڑتی ہے فرم کے ذریعہ تیار کی گئی اشیا اور خدمات کی خرید پر خاندان یا اہل خاندان کے خرچ کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسرا تیر جو فرم کو خاندان سے جوڑتا ہے اوپرکے تیر کے مشابہ ہے ۔ یہ فرم سے خاندان کی طرف رواں شے اور خدمات کو بتاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ وہ روانی ہے جو کہ خاندان خرچ کرکے فرموں سے حاصل کرتے ہیں۔ مختصراً اوپر سے دو تیر اشیا اور خدمات کے بازار کو ظاہر کرتے ہیں۔اوپر کا تیر اشیا اور خدمات کی ادائیگی کے بہاؤ کو ، نیچے کا تیر اشیا اور خدمات کے بہاؤ کوظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح شکل کے نچلے حصے کے دو تیر پیداواراور بازار کے عوامل کو ظاہر کرتے ہیں۔ سب سے نیچے جو خاندان کو فرم سے جوڑتا ہے ، خاندان کے ذریعہ فرم کو فراہم کی گئی خدمات کی تاویل کرتا ہے۔ ان خدمات کو استعمال کر کے فرم بر آمد کی تخلیق کرتی ہے۔ اس کے اوپر کا تیر جو فرم کو خاندان سے جوڑتا ہے ، فرم کے ذریعہ خاندان کو ان کی خدمات کے لیے کی گئی ادائیگیوں کو ظاہر کرتاہے۔
 شے اور خدمات کی کل قدرکو ظاہر کرتے ہوئے زر کی ایک ہی قدر دائری راہ پر حرکت کرتی ہے ۔ اگر ہم شے اور خدمات کی کل قدروں کا ایک سال کے دوران شمار کرنا چاہیں تو ڈائیگرام میں ظاہر کسی بھی نقطہ دار خط پر واقع روانی کی سالانہ قدر کی پیمائش کر سکتے ہیں ۔اگر ہم سبھی فرموں کے ذریعہ تیارشدہ آخری اشیا اور خدمات کی کل قدر کا تعین کرتے ہوئے (Aپر ) روانی کی پیمائش کر سکتے ہیں ۔ یہ طریقۂ ، طریقۂ اخراجات کہلاتا ہے۔ اگر ہم (Bپر )سبھی فرموں کے ذریعہ اشیا اور خدمات کی کل قدروں کی پیمائش کرتے ہیں تب یہ طریقہ ، طریقۂ پیداوار کہلاتا ہے۔ (Cپر ) سبھی عوامل کی ادائیگیوں کی کل جمع کی پیمائش طریقۂ آمدنی کہلاتاہے۔
مشاہدہ کیجیے کہ معیشت کا کل خرچ پیداوار کے عوامل کے ذریعہ کمائی گئی آمدنی کے برابر ہوتاہے (Aاور Cپر روانی یکساں ہے)۔ اب مان لیجیے کہ کسی وقت خاص میں خاندان فرموں کے ذریعہ تیارکردہ شے اور خدمات پر زیادہ خرچ کرنے کا فیصلہ لیتے ہیں ۔ کچھ دیر کے لیے ، ہم اس سوال کو چھوڑ دیں کہ اضافی خرچ کے لیے ان کے پاس زر کہاں سے آئے گا، کیونکہ وہ پہلے ہی اپنی پوری آمدنی خرچ کر چکے ہیں (وہ اضافی خرچ کے لیے ادھار لے سکتے ہیں)۔ اب اگروہ اشیا اور خدمات پر زیادہ خرچ کرتے ہیں تو فرم اس اضافی مانگ کی رسد کے لیے زیادہ پیداوار کرے گی ۔ چونکہ وہ زیادہ پیداوار کریں گی، اس لیے فرموں کو پیداوار کے عوامل کو اضافی معاوضہ دینا چاہیے زر کی کتنی زائد رقم کی ادائیگی فرمیں کریں گی؟ اضافی ادائیگیاں تیارشدہ اضافی اشیا اور خدمات کی قدر کے برابر ہونی چاہئیں۔ اس طرح خاندان کو آخرکار اضافی آمدنی حاصل ہوگی جس سے اسے اپنے ابتدائی اضافی خرچ کی بھر پائی کرنے میںمدد ملے گی۔ دوسرے لفظوں میں، خاندان ابتدائی طورپر اضافی خرچ کرنے کا فیصلہ لے سکتے ہیں جوان کے ذرائع سے زیادہ ہوگی اور آخر میں ان کی آمدنی اتنی ہی بڑھے گی جتنا کہ اسے اضافی خرچ کے لیے ضرورت ہوگی۔ دوسرے لفظوں میںیوںکہہ سکتے ہیںکہ کوئی معیشت آمدنی کی موجودہ سطح سے زیادہ خرچ کرنے کا فیصلہ لے سکتی ہے۔ لیکن ایسا کرنے سے اس کی آمدنی آخر کار خرچ کی اعلیٰ سطح کے ساتھیکساںطورپر بڑھے گی یہ پہلی نظر میں تھوڑا متناقض لگ سکتا ہے لیکن آمدنی چونکہ ایک دائری انداز میں حرکت کرتی ہے، اس لیے یہ بتانا مشکل نہیں ہے کہ ایک نقطہ پر روانی میں اضافے سے سبھی سطحوں پر روانی یا بہاؤ میںاضافہ ہوگا۔ یہ اکیلے معاشی ایجنٹ (بالغرض ایک خاندان )کارویہ کل معیشت کے کام سے کیسے مختلف ہے، اس کی ایک اور مثال ہے۔ اول الذکر میں خاندان کی انفرادی آمدنی سے خرچ محدود رہتا ہے ۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ ایک مزدور زیادہ خرچ کرنے کا فیصلہ لے اور اس سے اس کی آمدنی میں مساوی اضافہ ہو۔ ہم اگلے باب میں اسے زیادہ تفصیل سے پڑھیں گے کہ کس طرح زیادہ فی الجملہ اخراجات سے، آمدنی میں تبدیلی تیزی سے ہوتی ہے؟
معیشت کی درج بالا سرسری توضیح بالاتفاق ایک سادہ معیشت کے طور پر مانی جاتی ہے۔ایسی کہانی جو ایک خیالی معیشت کی فعالیت کوبیان کرتی ہے اسے کلی معاشی ماڈل کہا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ماڈل میں حقیقی معیشت کا تفصیل سے بیان نہیں ہوتا ۔ مثال کے طورپر ہمارے ماڈل میں یہ مان لیا جاتا ہے کہ خاندان بچت نہیں کرتے ہیں، حکومت نہیں ہوتی اور دیگر ملکوں سے تجارت نہیں ہوتی۔ اگر چہ ماڈلوں میں معیشت کا ہر ہر لمحہ تفصیل سے بیان کر نا ضروری نہیں سمجھا گیا ہے لیکن ان کا مقصد معاشی نظام کے طریقۂ عمل کی ضروری خصوصیات کو نمایاں کرنا ہی ہے۔ لیکن یہاں یہ احتیاط برتنی ہوگی کہ مواد کی تسہیل اس طرح نہ ہو کہ معیشت کی لازمی فطرت کی غلط نمائندگی ہو۔ معاشیات معاشی ماڈلوں سے بھر پور ایک مضمون ہے۔ اس کتاب میں کئی ماڈلوں کو پیش کیا جائے گا۔ ایک ماہر معاشیات کاکام یہ دکھانا ہے کہ کون سا ماڈل کسی حقیقی زندگی کی صورت حال میں قابل اطلاق ہو سکتاہے۔
اگر ہم اوپر بیان کیے گئے آسان ماڈل میں تبدیلی کریں اور بچت کو لیں تو اس سے یہ خصوصی نتیجہ بدل جائے گاکہ معیشت کی آمدنی کا کل تخمینہ ناقابل تبدیل ہوگا۔ خواہ اس کا شمار B,Aیا Cکسی صورت میں کیا جائے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نتیجہ بنیادی طریقے سے نہیں بدلتا ۔ نظام کتناپیچیدہ کیوں نہ ہو، تینوں طریقوں سے تخمینہ کردہ اشیا اور سالانہ پیداوار ایک سی ہوںگی۔ہم نے دیکھا کہ کسی معیشت میں اشیا اور خدمات کی کل قدر کا شمار تین طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اب ہم ان شماریات کاتفصیلی مراحل میں ذکر کریں گے۔
ہم نے دیکھا کہ کسی معیشت میں پیدا کی جانے والی اشیا اور خدمات کی مجموعی قدر کو تین طریقوں سے شمار کیا جا سکتا ہے۔اب ہم اس شمار کے تفصیلی اقدامات کے بارے میں بحث کریں گے۔
2.2.1 مصنوعات یا اضافی قدرکاطریقہ(The Product or Value Added Method)
پیداواری طریقے میں ہم تیار اشیا اور خدمات کی سالانہ قدر کا شمار کرتے ہیں (اگر ایک سال وقت کی اکائی ہو)۔ اس کا شمار کیسے کیا جائے؟ کیا ماہرین معیشت کی سبھی فرموں کے ذریعہ تیار کی گئی اشیا اور خدمات کو جمع کرتے ہیں؟ ان سوالات کو سمجھنے میں درج ذیل مثال سے مدد     ملے گی۔
مان لیجیے کہ معیشت میں صرف دو طرح کی پیداکارہیں۔ وہ گیہوںکے پیدا کار (کسان) اور بریڈ بنانے والے (Bakers) ہیں۔ گیہوں کے پیداکار گیہوں اگاتے ہیں اور انھیں انسانی محنت کے علاوہ کسی طرح کی در آمد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ وہ گیہوں کا کچھ حصہ بریڈ بنانے والے کو فروخت کرتے ہیں ۔ بریڈ بنانے والے کو بریڈ کی پیداوار میں گیہوں کے علاوہ دیگر کسی کچے مال کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ مان لیجیے کہ ایک سال میں کسانوں کے ذریعہ گیہوں کی جو پیداوار کی گئی ہے اس کی قیمت 100روپیے ہے ۔ اس میں سے وہ 50روپیے کا گیہوں بیکری والے کو فروخت کرتے ہیں۔ بیکری والے گیہوں کی اس مقدار کا استعمال کر کے ایک سال کے دوران 200روپیے کی بریڈ بناتے ہیں ۔ معیشت میں کل پیداکار کی قیمت کتنی ہے؟ اگر ہم شعبوںکی پیداوار کی قدروں کی جمع آسان طریقے سے نکالیں تو ہم 200روپیے (بیکری والوں کی پیداوارکی قیمت )اور 100روپیے (کسانوں کی پیداوار کی قیمت) کو جوڑ دیں گے تو نتیجہ 300روپیے آئے گا۔
تھوڑی سی غور و فکر کے بعد ہم دیکھیں گے کہ کل پیداوار کی قیمت 300روپیے نہیں ہے۔ کسان 100روپیے کے گیہوں کی پیداوار کرتا ہے جس کے لیے اسے کسی طرح کے درآمدات کے مدد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔لہٰذا کسان جائز طور پر پورے 100روپیے کے اشتراک کا حق دار ہے۔ لیکن یہ بات بیکری والوں کے بارے میں سچ نہیں ہے ۔ بیکری والوں کو اپنی بریڈ کی پیداوار کے لیے 50روپیے کا گیہوں خریدنا پڑتا ہے ۔ 200روپیے کابریڈ جس کی وہ پیداوار کرتے ہیں، اس میں ان کا پوری طرح اشتراک نہیں ہے۔ بیکری والوں کے خالص اشتراک کے شمار کے لیے ہمیں گیہوں کی قیمت کوگھٹانا ہوگا جو کہ وہ کسان سے خرید تے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو دوہرے شمار کی غلطی ہوجائے گی۔ کیونکہ گیہوں کی 50روپیے کی قیمت کا شمار دو بار ہو جائے گا ۔ پہلی بار تو اس کا شمار کسانوں کے ذریعہ کی گئی پیداوار ماحصل کے حصے کے طور پر ہوگا ۔ دوسری بار اس کا شمار بیکری والوں کے ذریعہ تیار کی گئی بریڈ میں گیہوں کی منسوب قیمت کی شکل میں ہوگا۔
لہٰذابیکروں کا خالص اشتراک =150 200-50روپیے ہے۔ لہٰذا اس سادہ معیشت میں اشیاکی کل پیداوار 100روپیے (کسانوں کا خالص اشتراک ) 150+ روپیے (بیکروں کا خالص اشتراک) 250روپیے ہے۔
فرم کے خالص اشتراک کو ظاہر کرنے کے لیے جس اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔اسے اضافۂ قدر کہاجاتاہے۔ ہم نے دیکھا کہ کوئی فرم دوسری فرم سے جو کچا مال خریدتی ہے۔ اس کو پیداواری عمل میں پوری طرح صرف کر لیاجاتا ہے انھیں درمیانی اشیا کہا جاتا ہے۔ لہٰذا کسی فرم کی اضافۂ قدرفرم کی پیداوار کی قیمت –فرم کے ذریعہ استعمال شدہ درمیان اشیا کی قیمت ہے۔فرم کی اضافۂ قدرکی تقسیم پیداوار کے چاروں عوامل میں کی جاتی ہے۔ یہ عوامل ہیں : محنت ، پونجی، کاروباری مہم جوئی اور زمین۔ اس لیے ایک فرم کے ذریعہ ادا کی گئی مزدوری ، سود ، منافع اور لگان کو اضافۂ قدرمیں جوڑاجاناچاہیے ۔ اضافۂ قدرایک رواں متغیر ہ ہے ۔ 
درج بالا مثالوں کو جدول 2.1کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔
جدول 2.1: پیداوار ، درمیانی اشیا اور اضافۂ قدر

کسان
بیکری والا
کل پیداوار
100
200
استعمال کی گئی درمیانی اشیا
0
50
اضافۂ قدر
100 
=150 –50 200
یہاں پر سبھی متغیرات کا اظہار زر کی شکل میں کیا گیا ہے۔ ہم یہاں درج فہرست مختلف متغیرات کی قدر شناسی کے لیے اشیا کی بازاری قیمت پر غور کر سکتے ہیں۔ ہم پیداوار کے سلسلے میں اور زیادہ عوامل کو شامل کر سکتے ہیںاور اسے زیادہ حقیقی اور پیچیدہ بنا سکتے ہیں ۔ مثال کے طورپر، کسان گیہوں کی پیداوار کے لیے فرٹلا یزروں یا کپڑے مار ادویات کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ان در آمدات کی قیمت کوگیہوں کی بر آمد کی قیمت سے گھٹانا ہوگا یا بیکری والے بریڈ ریسٹورینٹ کو فروخت کر سکتے ہیں جس کی اضافۂ قدرکا شمار درمیانی اشیا کی قیمت کو گھٹا کر (بریڈ کے معاملے میں )کرنا ہوگا۔
ہم نے پہلے ہی فرسودگی کا تعارف کرایا ہے، جسے قائم اصل کے صرف کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ چونکہ پیداوار کے عمل کو انجام دینے کے لیے استعمال کی جانے والی پونجی میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔ پونجی کی قدر کو قائم رکھنے کے لیے پیداکار کو بدل سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے۔ بدل سرمایہ کاری پونجی کی فرسودگی ہی ہے۔ اگر ہم اضافۂ قدرمیں فرسودگی کو شامل کرتے ہیں تو ہمیں اضافۂ قدرکی جو پیمائش حاصل ہوگی اسے کل اضافۂ قدرکہا جاتا ہے ۔ اگر ہم کل اضافۂ قدرسے فرسودگی کو گھٹائیں تو خالص اضافۂ قدرحاصل ہوتا ہے۔ کل اضافۂ قدر   کے بر عکس خالص اضافۂ قدرمیں پونجی کی ٹوٹ پھوٹ شامل نہیں ہے۔مثال کے طور پر کوئی فرم سالانہ 100روپیے قیمت کی پیداوار کرتی ہے اس سال 20روپیے کی درمیانی اشیا کا ستعمال کیا جاتاہے اور پونجی صرف کی قدر 10روپیے ہے تو فرم کی کل اضافۂ قدر 100 – 20= 80روپیے سالانہ ہوگی۔ خالص اضافۂ قدر100– 2010– =70روپیے سالانہ۔
غور کیجییکہ اضافۂ قدرشمار کرتے وقت فرم کی پیداوار کی قدر شمارکی جاتی ہے۔ لیکن فرم اپنی ساری پیداوار کو فروخت نہیں کر پاتی ہے۔ اس صورت میں سال کے آخر میں اس کے پاس کچھ غیر فروخت شدہ اسٹاک ہوگا۔اس کے برعکس ایسا بھی ہوسکتاہے فرم کے پاس پیداوارشروع کرنے سے پہلے کچھ غیر فروخت شدہ اسٹاک موجودہوسال کے دوران فرم کے ذریعہ بہت کم پیداوارہوگی لیکن اس سال کے شروع میں جو اسٹاک اس کے پاس تھا۔ اسے فروخت کر کے بازار میں مانگ کی تکمیل ہوگی۔ ہم ان اسٹاکوں کے ساتھ کیابرتائوکریںگے جو کوئی فرم ارادتاً یا نہ چاہتے ہوئے اپنے پاس رکھتی ہے؟ مزید برآں ہم یہ بھی یادرکھیں کہ ایک فرم دوسری فرم سے کچا مال خریدتی ہے۔ کچے مال کا وہ حصہ جو پورا صرف ہو جاتاہے اسے درمیانی شے کے طور پر زمرہ بند کیا جاتاہے اس حصے کاکیا ہوتا ہے جس کا پوری طرح استعمال نہیں ہوتا ہے؟
معاشیات میں غیر فروخت شدہ اشیا یانیم تیارشدہ اشیا یا کچے مال کا اسٹاک جو کوئی فرم ایک سال سے اگلے سال تک رکھتی ہے، اسے مال نامہ (Inventory)کہتے ہیں۔ مال نامہ ایک اسٹاک متغیرہ ہے ۔ سال کے شروع میں اس کی کم قدر ہو سکتی ہے اور سال کے آخر میں اس کی زیادہ قدر ہو سکتی ہے اس صورت میں ، مال نامہ میں اضافہ (ذخیرہ ) ہوتا ہے۔ اگر مال نامہ کی قدر سال کے شروع کے مقابلے سال کے آخر میں کم ہو تو مال نامہ میں کمی (غیر جمع کاری )ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم یہ نتیجہ اخذکر سکتے ہیں کہ ایک سال کے دوران کسی فرم کے مال نامے میں تبدیلی سال کے دوران فرم کی پیداوار -سال کے دوران فرم کی فروخت ۔
نشان مماثلہ کو ظاہر کرتا ہے ۔مساوات (’=‘)نشان کے برعکس مماثلہ نشان میں دائیں طرف کی اشیا اوربائیں طرف کی اشیا کے درمیان مساوات نہیں دیکھی جاتی بلکہ مماثلت ہمیشہ ان سے قطع نظر ہوتی ہے مثال کے طورپرہم 42 + 2لکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمیشہ صحیح ہے لیکن 2 × x = 4.ہمیں ضر ور لکھنا چاہیے کیونکہ x کی ایک خاص مقدارکو2سے ضرب کرنے پر حاصل 4ہوتا ہے (یعنی جب 2=  x) ہمیشہ نہیں ۔ 4 2 × xہم نہیں لکھ سکتے ہیں ۔
مشاہدہ کیجیے کہ فرم چونکہ کی پیداوار اضافۂ قدر+فرم کے ذریعہ استعمال اشیا ایک سال کے دوران فرم کے مال نامے میں تبدیلی   قیمت افزودہ +فرم کے ذریعہ استعمال شدہ درمیانی اشیا سال کے دوران فرم کی فروخت ۔
مثال کیطورپر مان لیجیے کہ فرم کے پاس سال کے شروع میں 100 روپیے قیمت کا نافروخت اسٹاک تھا ۔سال کے دوران اس نے 1,000 روپیے کی شے کی پیداوار کی جس میں سے 800 روپیے کی اشیاکی فروخت ہوئی ۔لہٰذا پیداو ار اورفروخت کے درمیان فرق 200 روپیے مال نامے میں تبدیلی ہے ۔ یہ 100 روپیے قیمت کے مال نامے میں جڑجائے گا جس سے کہ فرم نے پیداوار شروع کی تھی۔لہٰذا سال کے آخر میں مال نامہ 100 200+ =300 روپیے ہے ۔یادرکھیںکہ مال نامے میں تبدیلی ایک مدت کے ہوتی ہے اس لیے اسے بہاؤمتغیرہ (Flow variable )کہتے ہیں ۔
مال نامہ پونجی کے طورپر سمجھا جاتا ہے فرم کے پونجی اسٹاک میں اضافہ کو سرمایہ کاری کہتے ہیں ۔لہٰذا مال نامے میں تبدیلی کو سرمایہ کاری کے طورپر سمجھا جاتا ہے ۔سرمایہ کاری کے تین اہم زمرے ہیں ۔پہلا،ایک فرم کی ایک سال میں مال نامہ کی قدر میں اضافہ ،اسے فرم کی سرمایہ کاری یااصلی اخراجات کہاجاتاہے ۔اصل کاری کا دوسرا زمرہ مقررہ کا روباری اصل کا ری ہے ،جیسے مشینری ،فیکٹری ،عمارت ،فرم کے ذریعہ لگائے سازوسامان میںاضافہ کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے ۔اصل کاری کا آخری زمرہ رہائشی اصل کاری ہے جو رہائشی سہولت کے اضافہ کو ظاہرکرتی ہے۔
مال نامے میں تبدیلی منصوبہ بند یا غیر منصوبہ بند ہوسکتی ہے ۔فروخت میں غیر متوقع گرواٹ کی حالت میں فرم کے پاس اشیاکا غیرفروخت شدہ اسٹاک ہوگا،جس کے بارے میں وہ توقع نہیں کرتی تھی ۔لہٰذا یہ مال نامے کی غیر منصوبہ بند جمع کاری ہوگی اس کے برعکس جہاں فروخت میں غیر متوقع اضافہ ہوگا ۔وہاں مال نامے میں غیر منصوبہ بند غیرجمع کاری ہوگی ۔
اس کی وضاحت درج ذیل مثال کی مدد سے کی جاسکتی ہے ۔مان لیجیے کوئی فرم قمیص بناتی ہے اس کے پاس سال کے شروع میں 100 قمیص کا مال نامہ ہے ۔اگلے سال وہ 1000 قمیص فروخت کرنے کی امید کرتی ہے ۔لہٰذا وہ 1000 قمیص کی پیداوارکرتی ہے اورسال کے آخر میں 100 قمیص کا مال رکھنا چاہتی ہے ۔لیکن سال کے دوران غیر متوقع طورپر قمیص کے فروخت میںکمی آجاتی ہے ،فرم صرف 600 قمیص ہی فروخت کرپاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 400 قمیص غیرفروخت شدہ رہ جاتی ہے ۔سال کے آخر میں فرم کے پاس 400+100 = 500 قمیص ہیں ۔مال نامے میں 400 کا غیر متوقع اضافہ مال نامہ میں جمع کاری کی مثال ہے ۔اس کی برعکس اگر فروخت 1000 سے زیادہ ہوتی تو وہ بھی مال نامے میں غیر منصوبہ بند غیرجمع کاری ہوتی ۔مثال کے طورپراگر فروخت 1050 ہوتی تونہ صرف 1000 قمیصوں کی فروخت ہوتی بلکہ فرم کو مال نامے سے بھی 50 قمیص کی فروخت کرنی پڑتی۔ مال نامے میں یہ 50کی  غیر متوقع کٹوتی مال نامے میں غیر متوقع غیرجمع کاری کی مثال ہے ۔
 مال نامے میں منصوبہ بند جمع کاری یاغیرجمع کاری کی مثال کیا ہوسکتی ہے ؟ مان لیجیے کسی سال کے دوران فرم مال نامے میں 100 قمیص سے200قمیص کا اضافہ کرنا چاہتی ہے۔سال کے دوران1000کی امیدکرتے ہوئے(پہلے کی طرح)فرم 1100=100+1000 قمیصوں کی پیداوار کرتی ہے ۔اگر فروخت واقعی میں 1000قمیص ہے تو فرم کے مال نامے میں واقعی اضافہ ہوتا ہے ۔مال نامے کانیا اسٹاک 200 قمیص ہے جو اصل میں فرم کا منصوبہ تھا ۔یہ اضافہ مال نامے میں منصوبہ بند جمع کاری کی مثال ہے ۔اس کے برعکس اگر فرم مال نامے میں 100 سے 25 تک کٹوتی کرنا چاہتی ہے ،تو وہ 925=75-1000 قمیص کی پیداوار کرتی ہے کیونکہ 100 قمیص کے مال نامے میں سے وہ 75قمیص فروخت کرنے کا ارادہ کرتی ہے (تاکہ سال کے آخر میں مال نامہ 25=75–100 قمیص ہوجائے۔جو فرم کی مرضی ہے )اگر فرم کے ذریعہ کی گئی فروخت اصل میں1000 ہوگئی تو فرم کے منصوبے کے مطابق مال نامہ کٹ کر25ہوجائے گا۔
مال فہرست میں غیر منصوبہ بند او رمنصوبہ بند تبدیلی کے درمیان فرق کے بارے میں ہم اگلے ابواب میںمزید ذکر کریں گے ۔
مال نامے میں تبدیلی کی آگاہی کے لیے ہم اسے اس طرح لکھ سکتے ہیں :
فرم کی کل اضافۂ قدر(GVAi )فرم i کے ذریعہ پیدا کی گئی برآمد کی کل قدر (Qi )– فرم کے ذریعہ استعمال کی گئی درمیانی اشیا کی قدر (Zi )
GVAi  فرم کی فروخت کی گئی قدر (Vi )+ مال نامے میں تبدیلی کی قدر (Ai )–فرم کے ذریعہ استعمال شدہ درمیانی اشیا کی
 قدر (Zi )      (2.1)
مساوات (2.1 )اس طرح اخذ کیا گیا ہے : سال کے دوران فرم کے مال نامے میں تبدیلی سال کے دوران فرم کی پیداوار۔سال کے دوران فرم کی فروخت ۔
یہ قابل ذکر ہے کہ فرم کی فروخت میں گھر یلوخریداروں کو کی گئی فروخت ہی نہیں بیرونی خریداروں کوکی گئی فروخت بھی شامل ہوتی ہے (اسے برآمد کہا جاتا ہے )یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اوپر بیان کیے گئے سارے متغیرات بہاؤمتغیرات ہیں ۔عام طورپر ان کی پیمائش سالانہ بنیادپر ہوتی ہے ،لہٰذایہ سالانہ بہاؤ کی قدر کی پیمائش کرتے ہیں ۔
فرم i کا خالص قیمت یااضافۂ قدر فرم  i کی  فرسودگی (Di )
اگر ہم ایک سال میں معیشت کی سبھی فرموں کی کل اضافۂ قدر کی جمع نکالیں تو ہمیں سال میں معیشت میں پیدا اشیا اورخدمات کی کل مقدار کی قدر حاصل ہوتی ہے(جیسے کہ ہم نے پہلے گیہوں بریڈوالی مثال میں کیا تھا)اس طرح کاشمار کل گھر یلوپیداوار(Gross Domestic Product) (GDP )کہلاتا ہے ۔لہٰذا GDP معیشت کی سبھی فرموں کی کل اضافۂ قدر کی کل جمع ہوتی ہے۔
اگر معیشت میں لازم فرم ہوں اورہر ایک کو L سے N نمبر شمار میں لکھا جائے تو GDP معیشت کی سبھی فرموں کے کل اضافۂ قدر کی کل جمع  
اس لیے
  (2.2)
علامت مختصر نویسی ہے : اس کا استعمال کل جمع کو ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔مثال کے طورپر    کے برابر ہوگا ،اس معاملے میں سبھی N فرموںکی کل اضافۂ قدر کی کل جمع کو بتاتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ فرم iکا خالص اضافۂ قدر ، کل اضافۂ قدرمیں سے فرم کے ذریعہ استعمال شدہ پونجی کی ٹوٹ پھوٹ کو گھٹانے پر حاصل ہوتا ہے ۔
اس طرح
اس لیے یہ i فرم کے لیے ہے ۔فرم کی تعداد N تک ہے ،لہٰذا پوری معیشت کی کل گھر یلوپیداوار جوکہ سبھی N فرموں کی اضافۂ قدر کی کل جمع ہے ، N فرموں کے خالص اضافۂ قدراور فرسودگی کی کل جمع ہوگی ۔(مساوات 2.2 سے ) 
دوسرے لفظوں میں 
اس سے پتہ چلتا ہے کہ معیشت کی کل گھریلو پیداوار (GDP)معیشت کی سبھی فرموں کے خالص اضافۂ قدر اور فرسودگی کی کل جمع ہوتی ہے۔ سبھی فرموں کی خالص اضافۂ قدر کی جمع کو خالص گھریلو پیداوار(Net Domestic Product) (NDP)کہتے ہیں۔ 
علامتی طور پر 
2.2.2  طریقۂ خرچ (Expenditure Method)
کل گھریلو پیداوار کے شمار کا ایک متبادل طریقہ جو پیداوار کی مانگ کے رخ کو نظر میں رکھتا ہے ،اسے طریقۂ خرچ کہتے ہیں۔درج بالاکسان بیکروالی مثال میں جس کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں ،معیشت میں طریقۂ خرچ سے برآمد کی کل قدر کا شمار درج ذیل طریقے سے ہوگا ۔اس طریقہ میں ہر ایک فرم کے ذریعہ حاصل آخر ی ا خراجات کی جمع حاصل کرتے ہیں ، آخری خرچ ،خرچ کا وہ جزوہے جسے ثانوی مقاصد سے اختیار نہیں کیا جاتا ہے ۔بیکر کسان سے 50 روپیے قیمت کا گیہوں خریدتاہے یہاں گیہوں درمیان شے ہے ۔لہٰذایہ آخری خرچ کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔ اس طرح معیشت کی بر آمد کی کل قدر 200 روپیے (بیکر کے ذریعہ حاصل آخری خرچ )50+ روپیے (کسان کے ذریعہ حاصل آخری خرچ)250= روپیے سالانہ ۔
فرم iدرج ذیل کھا توں میںآخری خرچ کرسکتی ہے (a) فرم کے ذریعہ پیدااشیا اورخدمات کے آخری صرف پرکیاگیاخرچ ۔اسے ہم سے ظاہر کرتے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ ا کثر خاندان صرف پرہی خرچ کرتے ہیں ۔اس کا استثنا بھی ہوسکتا ہے جیسے فرم اپنے مہمانوں کے ملا زموں کے لیے قابل صرف اشیاخریدتی ہے ۔(b)فرم i کی ذریعہ پیدا کی گئی اصل کا ری اشیا پر دوسرے فرموں کے ذریعہ واقع آخری اصل کاری خرچ ہیں ۔ مشاہدہ کیجیے کہ درمیانی اشیاجو کل گھر یلوپیداوار کے شمار میں شامل نہیں ہیں لیکن درمیانی اشیاکے خرچ کے بر خلاف اصل کاری خرچ کو شامل کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ اصل کاری اشیافرم کے پاس ہوتی ہے جب کہ پیداواری عمل میں درمیانی اشیا کا صرف ہوجاتاہے ۔(c)وہ خرچ جو حکومت فرم i کے ذریعہ تیارشدہ آخری اشیااورخدمات پر کرتی ہے ۔ہم اسےکے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں ہم دکھا سکتے ہیں کہ حکومت کے ذریعہ واقع آخری خرچ میں صرف اوراصل خرچ دونوں شامل ہیں ۔(d)برآمد محاصل جو فرم غیر ملکوںمیں اپنی اشیا اورخدمات کو فروخت کرکے کماتی ہے اسے کے ذریعہ ظاہر کیا جائے گا ۔
اس طرح فرم کے ذریعہ حاصل محاصل کی کل جمع کو درج ذیل طورپر دکھایا جاتا ہے 
فرم کے ذریعہ حاصل آخری صرف ، اصل کاری حکومتی اور برآمد سے متعلق اخراجات کی کل جمع 
اگر فرموں کی تعداد N ہوتو N تک فرموں کی کل جمع ہمیں حاصل ہوگی ۔
معیشت کی سبھی فرموں کے ذریعہ حاصل آخری صرف ،اصل کاری حکومتی اوربرآمد سے متعلق اخراجات کی کل جمع ۔
(2.3)
کل معیشت کا کل آخری صرف خرچ  C  مان لیجیے ۔غورکیجیے کہ C کاایک جزو صرفی اشیاکے در آمد ات پر خرچ کیا جاتا ہے مانلیجیے کہ صرفی اشیاکی درآمد پر خرچ کے  ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے ۔لہٰذا  ا سے گھریلو فرموں کے اوپر کل آخری صرف ظاہر ہوتا ہے۔اس طرح ،اسے گھریلوفرموں کے اوپر کل آخری اصل کاری خرچ ظاہر ہوتا ہے ۔جہاں I معیشت کا کلی آخری اصل کاری خرچ ہے اور اس میں سے  غیر ملکی اصل کاری اشیاپر خرچ کیاجاتا ہے ۔اسی طرح کل آخری سرکاری خرچ کا جز ہے جس کا خرچ گھر یلوفرموں پر ہوتا ہے جہاں معیشت میں حکومت کا کل خرچG ہے اوروہ جز ہے ،جس کا خرچ حکومت درآمدات پر کرتی ہے۔
لہٰذا معیشت میں سبھی فرموں کے ذریعہ حاصل آخری صرفی خرچ کی کل جمع  معیشت میں سبھی فرموں کی ذریعہ آخری اصل کاری خرچ کی کل جمع   معیشت میں سبھی فرموں کی ذریعہ حاصل آخری سرکاری خرچ کی کل جمع     مساوات 2.3 میں ان کو رکھنے پر پرہمیں حاصل ہوگا ۔
 
 
    º C + I + G + X – M
یہاں معیشت کی برآمد پر غیر ملکیوں کے ذریعہ کیے گئے کل خرچ کو ظاہر کرتا ہے ۔ معیشت کے ذریعہ واقع کل درآمد خرچ ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ  معیشت میں سبھی فرموں کی ذریعہ حاصل آخری خرچ کی کل جمع ۔
دوسرے لفظوں میں 
    2.4    
 مساوات (2.4)طریقۂ خرچ کے مطابق کل گھریلو پیدا وار کو ظاہر کرتی ہے۔
 2.2.3 طریقۂ آمدنی 
شروع میں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ معیشت میں آخری صرف کی جمع پیداوار کے سبھی عوامل کی شامل آمدنی (آخری شے پر کیا گیا خرچ ہے ،اس میں درمیانی شے پر کیا گیا خرچ شامل نہیں ہے )کے برابر ہوتی ہے یہاں اس عام تصورکی تعمیل ہوتی ہے کہ سبھی فرموں کے ذریعہ مجموعی کمائی گئی آمدنیوں کی تقسیم پیداوار کے عوامل کے درمیان تنخواہوں،اجرتوں ،منافع ،سود کی کمائیوں اورکرایوں کے طورپر ہونی چاہیے۔مان لیجیے کہ معیشت میں خاندانوں کی تعداد M ہے ۔i ویں خاندان کے ذریعہ کسی خاص سال میں حاصل مزدوری اورتنخواہ کو یہاں مان لیں ۔اس طرح   علی الترتیب لگان،سودکی ادائیگی اورکل منافع مان لیں جو کہ i ویں خاندان کے ذریعہ کسی مخصوص سال میں حاصل ہوتا ہے ،لہٰذا کل گھر یلو پیداواردرج ذیل طورپر ظاہر کی جائے گی۔
  (2.5)
یہاں، 
(2.2 )،(2.4 )اور(2.5) کو ایک ساتھ لینے پر ہمیں حاصل ہوگا 
  2.6) (
یہ ظاہر ہے کہ مماثلہ2.6) (میں I فرم کے ذریعہکی گئی منصوبہ بنداورغیر منصوبہ بنداصل کاری کے مجموعہ جمع کوظاہر کرتا ہے ۔
چونکہ مماثلہ (2.2) ،(2.4) اور2.6) (ایک ہی طرح کے متغیرہ ،کل گھریلو پیداوار کی الگ الگ شکلیںہیں ،اس لیے ہم شکل 2.2  کے ذریعہ مساوات کوپیش کرسکتے ہیں ۔
آئیے اب ہم ایک عدد مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مذکورہ تینوں طریقوں سے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ٹی پی) کا تخمینہ یکساں ہی حاصل ہوگا۔ 
مثال :۔ فرض کیجیے کہ دو فرمیں، A اور B ہیں۔ فرض کیجیے کہ فرم A کوئی خام مال استعمال کیے بغیر ہی 50 روپے کی کپاس پیدا کرتی ہے۔ اور اپنی کپاس فرم B کو فروخت کر دیتی ہے۔ فرم B اس کپاس سے کپڑا تیار کرتی ہے اور یہ کپڑا صارفین کو 200 روپے میں فروخت کرتی ہے
(1) پیداوار یا قدر میں اضافے کے طریقۂ کار سے جی ڈی پی :
یاد کریں۔ = VA2 فروخت -   درمیانی اشیا
یعنی ۔ = 50 – 0 = 50   VAA
200 – 50 = 150
GDP = VA+VAB = 200
یہ جدول 2.2 میں دکھا سکتے ہیں جدول2.2

فرم اے (A)
فرم بی (B)
فروخت
50
 200
درمیانی اشیا کا استعمال 
0
50
قدر میں اضافہ 
50
150
(2) اخراجات کے طریقہ کار میں جی ڈی پی :
یاد کریں۔ جی ڈی پی =    کل اخراجات کا جوڑ یا اشیا اور خدمات پر صارفین کے ذریعہ کیے گئے اخراجات
یعنی۔ جی ڈی پی =    200
(3) آمدنی کے طریقہ کار سے جی ڈی پی :
آئیے ہم پھر فرم A اور فرم B کی مثال دیکھیں ۔ فرض کریں فرم A نے جو 50 روپے حاصل کیے اس میں فرم نے 20 روپے مزدوری کے ادا کردیئے اور باقی 30 روپے اپنا منافع رکھا۔ اسی طرح فرم B، 60 روپے مزدوری کے ادا کرتی ہے اور 90 روپے اپنے پاس منافع رکھتی ہے۔ 
اب آمدنی سے جی ڈی پی نکالنے کا فارمولہ دیکھیں ۔ جی ڈی پی = سبھی کی آمدنی کا جوڑ۔ اس میں مزدوروں کی حاصل شدہ مزدوری ، A اور B فرموں کا منافع، سبھی شامل ہوگا۔
یعنی 80+120=200 
جدول 2.3  =   فرم A اور فرم B کی آمدنی کی تقسیم 

فرم اے (A)
فرم بی (B)
مزدوری 
20
 60
منافع
30
90
2.2.4  عامل لاگت ، بنیادی قیمت اور مارکیٹ قیمت(Factor Cost, Basic Price and Market price
ہندوستان میں قومی آمدنی کا تخمینہ لگانے کا سب سے مقبول طریقہ کار عامل لاگت پر جی ڈی پی کا طریقہ کار ہے۔ حکومت ہند کا شماریات کا مرکزی دفتر (CSO) جی ڈی پی کا تخمینہ عامل لاگت اور مارکیٹ قیمت کی بنیادپر تیار کرتا ہے۔ جنوری 2015 میں CSO نے اپنے طریقہ کار پر نظر ثانی کرتے ہوئے عامل لاگت پر جی ڈی پی کی جگہ بنیادی قیمت پر جی وی اے  (GVA)اور GDP مارکیٹ قیمت پر اپنا یا ہے، اور اسے  اب صرف GDP کہا جاتا ہے اور یہ سب سے مقبول طریقہ کار ہے ۔ 
GVA کے نظریے پر پہلے ہی بحث کی جا چکی ہے : یہ ایک معیشت میں کل ماحصل (Output)کا قدر ہے جس میں درمیانی صرف (وہ ماحصل جسے مزید پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے اور جو قطعی صرف میں استعمال نہ ہو) کو کم کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہاں ہم بنیادی قیمت کے نظریے پر بحث کریں گے۔ عامل لاگت، بنیادی قیمت اور مارکیٹ قیمت کے درمیان فرق کل پیداواری ٹیکس (پیداواری ٹیکس- پیداواری سبسڈی) اور شے پر کل ٹیکس (شے پر کل ٹیکس-شے پر سبسڈی) کے فرق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پیداواری ٹیکس اور سبسڈی کی وصولی یا ادائیگی پیداوار پر کی جاتی ہے اور یہ دیگر پیداوار جیسے زمین کا لگان ، اسٹامپ اور رجسٹریشن فیس وغیرہ سے الگ ہوتی ہے۔ دوسری جانب شے پر ٹیکس اور سبسڈی کسی شے کے فی یونٹ کے حساب سے وصولی یا اداکی جاتی ہے، مثال کے طور پر ایکسائیز ٹیکس، سروس ٹیکس، درآمداتی یا برآمداتی ڈیوٹی وغیرہ ۔ عامل لاگت میں صرف پیداواری عوامل کے لیے کی گئی ادائیگی شامل ہوتی ہے اور اس میں کوئی ٹیکس شامل نہیں ہوتا۔ مارکیٹ قیمت حاصل کرنے کے لیے ہمیں عامل لاگت میں کل بالواسطہ ٹیکس کو جوڑ کر اس میں کل سبسڈی گھٹانی ہوگی۔ بنیادی قیمت اس کے درمیان ہوتی ہے:–  اس میں پیداوری ٹیکس شامل ہوتے ہیں (پیداوری سبسڈی گھٹا کر) لیکن شے پر ٹیکس شامل نہیں ہوتے (شے پر سبسڈی گھٹا کر) –  ا س لیے ہمیں مارکیٹ قیمت حاصل کرنے کے لیے انھیں شے پر ٹیکس (شے پر سبسڈی گھٹا کر) کو بنیادی قیمت میں جوڑنا ہوگا۔ 
جیساکہ اوپرکہا گیا ہے، اب CSO بنیادی قیمت پر GVA جاری کرتی ہے۔ اس لیے ، اس میں کل پیداوری ٹیکس شامل ہوتے ہیںلیکن شے پر کل ٹیکس شامل نہیں ہوتے۔ ہمیں GDP (مارکیٹ قیمت پر) حاصل کر نے کے لیے بنیادی قیمت GVA  میں شے پر کل ٹیکس کو ملانا ہوگا۔ 
اس طرح: عامل لاگت پر  +GVA کل پیداوری ٹیکس= بنیادی قیمت پر  GVA ہوگا۔ اور بنیادی قیمت پر  +GVA شے پر کل ٹیکس = مارکیٹ قیمت پر GVA ہوگا۔ 
باب کے آخر میں دی گئی جدول 2.5 میں جی ڈی پی (مارکیٹ قیمت پر)اور بنیادی قیمت پر جی وی اے کے اعداد وشمار دیے گئے ہیں جبکہ جدول 2.6 میں اخراجات کے ذریعہ جی ڈی پی کی ترتیب کی گئی ہے۔ 
2.3 کچھکلی معاشی مساوات مماثلہ 
کل گھریلو پیداوار میں کسی گھریلو معیشت کے تحت ایک سال کے دوران آ خری اشیااور خدمات کی کل پیداوار کی پیمائش کی جاتی ہے۔ لیکن اس کی کل پیداوار ملک کے عوام کا حال نہیں ہوسکتا ہے ۔مثال کے طورپر ہندوستان کے شہری سعودی عرب میں مزدوری کرسکتے ہیں اوریہ سعودی عرب کی کل گھریلو پیداوار میں شامل ہوگا لیکن قانونی طورپر وہ ایک ہندوستانی ہے۔ہندوستانیوں کے ذریعہ کمائی گئی آمدنی یا ہندوستان کی ملکیت کی پیداوار کے عوامل کی کمائی گئی آمدنی کی پیمائش کرنے کا کوئی طریقہ ہے ؟جب ہم اایسا کرتے ہیں تو تشاکل بنائے رکھنے کے لیے ہمیں غیر ملکیوں کے ذریعہ کمائی آمدنی ہماری گھریلو معیشت کی تحت کام کرتے ہیں یاغیر ملکیوں کی ملکیت والے پیداوار کے عوامل کو کی گئی ادائیگی کو ضرور گھٹا دیناچاہیے ۔مثال کے لیے ،کوریا ئی ملکیت کی ہنڈی کا رفیکٹری کے ذریعہ کمائے گئے فائدہ کو ہندوستا ن کل گھریلو پیداوار سے گھٹا نا ہوگا ۔کلی معاشی متغیرہ میں اس طرح کے جوڑ اورگھٹانے کو کل قوی پیداوار (GNP ) کہا جاتا ہے۔لہٰذا اس کی تعریف درج ذیل طورپر کی جاتی ہے ۔ 
کل قومی پیداوار ºGNPکل گھریلوپیداوار+GDPباقی دنیا میں روزگاریاغیر پیداوار کے گھریلو عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی ۔گھریلو معیشت میں ر وزگار یافتہ باقی دنیا کے پیدا وار کے عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی 
اس طرح کل قومی پیداوارº GNPکل گھریلو پیداوارGDP +بیرون ممالک سے حاصل خالص عامل آمدنی 
(بیرون ممالک سے حاصل خالص آمدنی ºباقی دنیا میں روزگاریافتہ پیداوار کے گھریلو عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی ۔ گھریلو معیشت میں روزگار یافتہ باقی دنیا کے پیداوار کے عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی )
ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ ٹوٹ پھوٹ کے سبب سال کے دوران پونجی کے ایک حصے کا صرف کرلیا جاتا ہے ۔اس ٹوٹ پھوٹ کو فرسودگی (depreciation )کہتے ہیں ۔ظاہر ہے فرسود گی کس شخص کی آمدنی کا حصہ نہیں بنتی ۔اگر ہم کل قومی پیداوار سے فرسودگی کو گھٹاتے ہیں تو ہمیں کل آمدنی جو پیمائش حاصل ہوتی اسے خالص قومی پیداوار کہتے ہیںاس طرح 
خالص قومی پیداوارNNP  ºکل قومی پیداوار GNP –فرسودگی 
قابل ذکر ہے کہ ان متغیر ات کا تعین قدر بازارقیمت پر کیا جاتا ہے درج بالا عبارت کے ذریعہ ہمیں بازار قیمت پر تشخیص شدہ خالص قومی پیداوار کی قدر حاصل ہوتی ہے لیکن بازارکی قیمت میں بالواسطہ ٹیکس شامل رہتے ہیں ۔بالواسطہ ٹیکس اشیا اورخدمات پر لگائے جاتے ہیں ۔نتیجتاً قیمت بڑھ جاتی ہے ۔بالواسطہ ٹیکس حکومت کو حاصل ہو تا ہے خالص قومی پیداوار کا وہ حصہ جو درحقیقت ٹیکس حکومت کو حاصل ہوتا ہے خالص قومی پیداوار کا وہ حصہ جو درحقیقت پیداوار کے عوامل کو حاصل ہوتا ہے ،اس کا شمار کرنے کے سلسلہ میں بازار قیمت پر تشخیص شدہ قومی خالص پیداوار سے بالواسطہ ٹیکسوں کو گھٹا یا جاتا ہے ۔اس طرح کچھ اشیاکی قیمتوں پر حکومت کے ذریعہ اعانت (Subsidy)فراہم کی جاسکتی ہے ۔(ہندوستان میں پٹرول پر حکومت بہت زیادہ ٹیکس لگاتی ہے جب کہ کھانا پکانے کی گیس پر ا عانت فراہم کی جاتی ہے)لہٰذا ہمیں بازار قیمتوں پر تشخیص شدہ خالص قومی پیداوار میں اعانت کو شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایسا کرنے پر ہمیں جو پیمائش حاصل ہوتی ہے اسے عامل لا گت پر خالص قومی پیداوارکہتے ہیں۔
خالص قومی پیداوارºبازارقیمت پر خالص قومی پیداوار –خالص بالواسطہ ٹیکس (خالص بالواسطہ ٹیکسºبالواسطہ ٹیکس –اعانت یعنی سبسڈی )
قومی آمدنی کو ہم پھر چھوٹے ذیلی زمروں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔اب ہم خاندان کے ذریعہ حاصل قومی آمدنی کے لیے عبارت یااظہار حاصل کریں ہم اسے ذاتی آمدنی کہیں گے ۔پہلاNI مان لیجیے کہ قومی آمدنی جو فرموں اورسرکاری کاروباری اداروں کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے، سے فائدہ کا ایک حصہ پیداوار کے عوامل کے درمیان تقسیم نہیں ہوتا ہے ،اسے غیر منقسم منافع Undistributed Profile (UP)کہتے ہیں ۔چونکہ غیر منقسم منافع خاندانوں کو نہیں حاصل ہوتا اس لیے ذاتی آمدنی حاصل کرنے کے لیے قومی آمدنی سے غیر منقسم منافع کو گھٹا دیا جاتا ہے، اسی طرح کارپوریٹ ٹیکس جو فرموں کی  آمدنی پر لگایا جاتا ہے ،کوبھی قومی آمدنی سے گھٹا نا ہوگا کیونکہ یہ خاندانوں کو حاصل نہیں ہوتا ہے ۔دوسری طرف ،خاندان نجی فرموں سے یاحکومت سے اپنے پیشگی قرض پر سود کی ادئیگی حاصل کرتا ہے ۔خاندان کو فرموں اورحکومتوں کو بھی سود اداکرنا پڑتا ہے ،اگر فرم اورحکومت سے زرقرض کے شکل میں اختیار کرتے ہیں توہمیں خاندانوں کے ذریعہ فرموں اور حکومت کواداکیے گئے خالص سود کو گھٹا نا ہوگا خاندان حکومت اور فرموں (مثال کے طورپر پنشن،وظیفہ ،انعامات )سے متبادل یافت یافلاحی ادئیگی حاصل کرتے ہیں ،خاندانوں کی ذاتی آمدنی کا شمار کرنے کے لیے ہمیں متبادل یافت کو جوڑنا ہوتاہے ۔
لہٰذا ذاتی آمدنی ºقومی آمدنی –غیر منقسم منافع –خاندانوں کے ذریعہ کی گئی خالص سود ادائیگی –کار پوریٹ ٹیکس +حکومت اورفرموں سے خاندانوں کو کی گئی فلاحی ادئیگی ۔
اگر ذاتی آمدنی پوری طرح خاندانوں کی آمدنی نہیں ہے تو انھیں ذاتی آمدنی سے ٹیکس ادائیگی کرنی پڑتی ہے ۔اگر ذاتی آمدنی سے نجی ٹیکس ادائیگی (مثال کے لیے انکم ٹیکس )اورغیر ٹیکس ادائیگی (جیسے جرمانے )کو گھٹادیں توہمیں جو حاصل ہوگا اسے ذاتی قابل صرف آمدنی کہتے ہیں اس طرح ذاتی قابل صرف آمدنی ذاتی آمدنی ۔ذاتی ٹیکس ادئیگی غیر ٹیکس ادائیگی ذاتی قابل صرف آمدنی خاندانوں میں کل آمدنی کا حصہ ہے ،وہ اس کے ایک حصے کے صرف کا فیصلہ لے سکتے ہیں اورباقی کی بچت کرسکتے ہیں ،شکل 2.3 میں ان اہم کلی معاشی متغیر کے درمیان رشتوں کوڈائیگرام کی  مدد سے پیش کیاگیا ہے ۔
کچھ اہم کلی معاشی متغیرات کا ایک جدول (سال 1990-91 تا2004-5 کے لیے موجودہ قیمتوں پر)باب کے آخر میں دیا گیا ہے جس سے پڑھنے والوں کو ان کی اصل قدروں کا سرسری علم طورپر حاصل ہوگا ۔

شکل: 2.3 :کل آمدنی کے ذیلی زمرے کا ڈائیگرام کی مدد سےNFIA-  :غیرملکیوں سے حاصل خالص عامل آمدنی D. :فرسودگی ،ID : باالواسطہ ٹیکس ، Sub : سبسڈی UP  : غیر منقسم منافع ، NIH:  خاندانوں کے ذریعہ خالص سود ادائیگیاں ،CT :کارپوریٹ ٹیکس ،TrH : خاندانوں کے ذریعہ حاصل متبادل یافت PTP ذاتی ٹیکس ادائیگی ،NP : غیر ٹیکس ادئیگی ۔

قومی قابل صرف آمدنی اورنجی آمدنی 
ہندوستان میں مجموعی کلی معاشی متغیرات کے ان زمروں کے علاوہ کچھ دیگر کل آمدنی زمرے بھی ہیں, جن کا ستعمال قومی آمدنی حساب کاری میں ہوتا ہے ۔
قومی قابل صرف آمدنی ºبازار قیمتوں پر خالص قومی پیداوار +باقی دنیا نے دوسرے ملکوں سے حاصل دیگر رواں متبادلات ۔
       قومی صارف آمدنی کے پیچھے تصوریہ ہے کہ اس سے معلومات ملتی ہے کہ گھریلومعیشت کے پاس اشیااورخدمات کی زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی ہے ،باقی دنیا سے رواں متبادلات میں عطیات ،امداد وغیرہ کی رقم شامل ہے ۔
  •نجی آمدنی ºقومی قرض سود + غیر ملکوں سے حاصل خالص عامل آمدنی +حکومت سے رواں متبادل +باقی دنیا سے دیگر خالص متبادلات ۔

جدول : 2.4:۔ بنیادی قومی آمدنی کا اوسط 
1
مارکیٹ قیمت پر کل مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی ایم پی)
جی ڈی پی دراصل ایک ملک کی پوری سرزمین پر ایک سال کے عرصے میںتیار ہونے والی اشیا اور خدمات کی مارکیٹ قدر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ 
ملک میں اس کے شہریوںیا غیر مقیم شہریوں کے ذریعہ کی گئی پیداوار اس میں شامل ہوتی ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ پیداوار کسی ملکی کمپنی نے کی ہے یا کسی غیر ملکی کمپنی کے ذریعہ کی گئی ہے۔ 
ہر چیز کا تخمینہ اس کی مارکیٹ قیمت سے لگایا جاتا ہے۔ 
GDPmp = C+I+G+×–M     
2
جی ڈی پی عامل لاگت پر  
(جی ڈی پی ایف سی)
عامل لاگت پر جی ڈی پی در اصل مارکیٹ کی قیمت پر مجموعی گھریلو پیداوار ہے جس میں کل پیداوری ٹیکس اور کل اشیا ٹیکس کم کر دی جاتی ہیں۔


مارکیٹ قیمت وہ ہوتی ہے جو صارف ادا کرتے ہیں۔ مارکیٹ قیمت میں اشیا پر عائد ٹیکس اور سبسڈی بھی شامل ہوتی ہے۔ عامل لاگت کا مطلب اشیا کی وہ قیمت ہے جو پیداکار حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح عامل لاگت برابر ہوگی۔ مارکیٹ کی اس قیمت کے جس میںکل بالواسطہ ٹیکس کم کردیے جائیں ۔ عامل لاگت پر جی ڈی پی دراصل ایک سال کے اندر ایک ملک کی گھریلو سرحدوں کے اندر فرموں کے ذریعہ پیدا کیے گئے ماحصل کی مجموعی قدر ہوتی ہے۔ 
GDPFC = GDPMP-NIT    
3
مارکیٹ قیمت پر کل گھریلو پیداوار
(این ڈی پی ایم پی)
اس تخمینے میں پالیسی ساز اس بات کا تخمینہ لگاتے ہیں کہ ملک کو موجودہ جی ڈی پی کو برقرار رکھنے کے لیے کتنا خرچ کرنا ہوگا۔ اگر کوئی ملک ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے مشینوں یا کیپیٹل اسٹاک میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو جی ڈی پی میں کمی ہو جائے گی۔
      NDPMP = GDPMP—D.e.p
4
عالی لاگت پر این ڈی پی 
(این ڈی پی ایف سی)
  مل لا گت پر این ڈی پی وہ آمدنی ہوتی ہے جو ایک ملک کی سرحدوں کے اندر اجرت، منافع، کرایہ اور سود وغیرہ کی شکل میں عوامل کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔ 
NDPFC = NDPMP—Net Product Taxes-     
Net Production Taxes     
5
مارکیٹ کی قیمت پر مجموعی قومی پیداوار (جی این پی ایم پی)
جی این پی ، ایم پی ان تمام اشیا اور خدمات کی مجموعی قدر ہوتی ہے جو ہندوستان کے عام باشندوں کے ذریعہ ایک سال میں تیار کی گئی ہیں اور ان کا تخمینہ مارکیٹ کی قیمت پر لگایا گیا ہے۔ 
جی این پی میں وہ تمام اقتصادی ماحصل شامل ہوتے ہیں جو ایک ملک کے شہریوں نے، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا بیرون ملک، تیار کیے ہوں۔
تمام اشیا کی قدر مارکیٹ کی قیمت پر لگائی جاتی ہے۔
GNPMP = GDPMP + NFIA      
6
جی این پی عامل لاگت پر 
(پی این پی ایف سی)
عامل لاگت پر جی این پی میں ایک سال کے اندر کسی ملک سے تعلق رکھنے والے پیداوار کے عوامل کے ذریعے حاصل کردہ ماحصل کی قدر کو ناپاجاتا ہے۔ 
GNPFC = GNPMP—Net Product Taxes-     
  Net Production Taxes         
7
مارکیٹ قیمت پر کل قومی پیداوار 
(ان این پی ایم پی)
اس میں تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ ایک ملک میں ایک مقررہ مدت کے اندر کتنا سامان استعمال (اصراف) کیا جاتا ہے۔ این این پی میں ماحصل کا تخمینہ لگایا جاتا ہے جس میں اس سے غرض نہیں کہ یہ پیداوار ملک میں یا بیرون ملک میں کی گئی ہے۔ 
NNPMP = GNPMP — Depreciation    
NNPMP = NDPMP + NFIA    
8
عامل لاگت پر این این پی 
(این این پی ایف سی)
عامل لاگت پر این این پی وہ کل آمدنی ہے جو ایک ملک میں سال کے دوران اجرت، منافع، کرایہ اور سود وغیرہ کی شکل میں پیداوار کے دوران تمام عوامل کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔ 
یہ قومی پیداوار ہے اور صرف قومی سرحد کے اندر کی پیداوار ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ کل گھریلو عامل آمدنی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے ہونے والی کل عامل آمدنی بھی ہوتی ہے۔
 NI = NNPMP —Net Product Taxes-    
Net Production Taxes      
      = NDPFC + NFIA = NNPFC      
9
مارکیٹ قیمت پر جی وی اے
مارکیٹ قیمت پر جی ڈی پی 
10
بنیادی قیمت پر جی وی اے
GVAMP —Net Product Taxes  •
11
 عامل لاگت پر جی وی اے
GVA at Basic Price — Net Production Taxes  •
2.4 :  برائے نام اور حقیقی جی ڈی پی(NOMINAL AND REAL GDP) 
اس پوری بحث میں ایک واضح مفروضہ ہے کہ اشیا اورخدمات کی قیمتیں ہمارے مطالعے کے دوران نہیں بدلتی ہیں ۔اگر قیمتوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔تو کل گھریلو پیداوار وں میں موازانہ کرنے میںمشکل پیداہوسکتی ہے ۔اگر ہم دولگاتار سالوں میں کسی ملک کی گھریلو پیداوار کی پیمائش کریں اوردیکھیں کہ گھریلو پیداواروں کی پیمائش دوسرے سال کی کل گھریلوپیداوار کا اعداد وشمار سابقہ سال کے اعداد وشمار کا دوگنا ہے تو ہم نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ملک کی پیداوار کی مقدار دوگنی ہوجائے گی لیکن یہ ممکن ہے کہ دونوں سالوں میں اشیا اورخدمات کی قیمتیں ہی صرف دوگنی ہوں ہیں جب کہ پیداوار قائم ہے ۔
لہٰذا مختلف ملکوں کی کل گھریلوپیداوار کے اعداد وشمار (دیگر کلی معاشی متغیرات )کے مقابلے یامختلف دقتوں میں ایک ہی ملک کی کل گھریلوپیداوار کی اعداد وشمار کا موازنہ کرنے کے سلسلے میں ہم رواں بازار قیمتوں پر تشخیص شدہ کل گھریلو پیداوار پر یقین نہیں کرسکتے ہیں۔ موازنہ کے لیے ہم حقیقی کل گھریلو پیداوار کی مدد لے سکتے ہیں ۔حقیقی کل گھریلو پیداوار کا شمار اس طرح کیا جاتا ہے کہ اشیا کی تشخیص قیمتوں کے کچھ قائم مجموعوں یا (قائم قیمتوں )پر ہوتا ہے ،چونکہ یہ قیمتیں قائم رہتی ہے اسی لیے اگر حقیقی کل گھریلو پیداوار میںتبدیلی ہوتی ہے تویہ یقینی ہے کہ پیداوار کی مقدار میں تبدیلی ہوگی ۔اس کے برخلاف رسمی کل گھریلو پیداوار (Nominal GDP) موجودہ قیمت پر کل گھریلو پیداوار کی محض قدر ہے مثال کے طورپر ،کوئی ملک صرف بریڈ کی پیداوار کرتا ہے سال 2000 میں اس نے بریڈ کی 100 اکائیوں کی پیداوارکی اور فی بریڈ قیمت10روپیے تھی موجودہ قیمت پرکل گھریلو پیداوار 1000 روپیے تھی ۔سال 2001 میں اس ملک میں 15 روپیے فی بریڈ کی قیمت پر بریڈ کی 110 اکائیوں کی پیداوارکی گئی ۔لہٰذا2001 میں رسمی کل گھریلو پیداوار 1650 روپیے (15x110 روپیے )تھی ۔2001 میں سال 2000  (سال 2000 کو اساسی سال کہا جائے گا ) کی قیمت پر حقیقی کل گھریلو پیداوار کا شمار کرنے پر 10x110روپیے=1,100روپیے ہوگا۔
غور کیجیے کے رسمی کل گھریلو پیداوار اور حقیقی کل گھریلو پیداوار کے تناسب سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیمت میں اساس سال (جس سال کی قیمتوں کا استعمال حقیقی کل گھریلو پیداوار کے شمار میں کیا جاتا ہے )کے مقابلے رواں سال میں کس طرح اضافہ ہوا،رواں سال کے حقیقی اوررسمی کل گھریلو پیداوار کے شمار میں پیداوار کی مقدار قائم رہتی ہے ۔لہٰذاان پیمائشوں میں فرق صرف بنیادی سال اوررواں سال کی قیمت میں فرق کے سبب ہی ہوتا ہے رسمی اورحقیقی کل گھریلو پیداوار کا تناسب معروف قیمت میں فرق کے سبب ہی ہوتا ہے اسے کلی گھریلو پیداوار تقلیل کار (Deflatir )کہتے ہیں ۔لہٰذا کل گھریلو پیداوار سے رسمی کل گھریلو پیداوار اورGDPسے حقیقی کل گھریلو پیداوار کوظاہر کرتا ہے ۔گھریلو پیداوار تقلیل کار = 
کبھی کبھی تقلیل کار کو فی صد اصطلاح میں بھی ظاہر کیا جاتا اس صورت میں ،تقلیل کار  100x فی صد ۔پچھلی مثال میں ، GDP  تقلیل کار  1.50 =  (فی صد کی اصطلاح میں 150 % ہے) اس سے پتہ چلتا ہے کہ 2001 میں پیدابریڈ کی قیمت 2000 قیمت کے مقابلے میں 1.5 گنا ہے جوکہ صحیح ہے ،کیونکہ بریڈ کی قیمت درحقیقت 10 روپیے سے بڑھ کر 15 روپیے ہوگئی تھی ، کل گھریلو پیداوار تقلیل کار کی طرح ہمارے پاس کل قومی پیداوار تقلیل بھی ہوسکتا ہے ۔
معیشت میں قیمتوں میں تبدیلی کی پیمائش کرنے کا دوسرا طریقہ بھی ہے جسے صارف قیمت اشاریہ (CPI) کہتے ہیں ۔یہ اشیا کی دی گئی ٹو کری جن کی خریداری نمائندہ صارف کرتے ہیں ،کاقیمت اشاریہ ہے ،صارف قیمت اشاریہ کو اکثر فی صد کے طورپر ظاہر کیا جاتا ہے۔ ہم دوسالوں پرغور کرتے ہیں۔ایک بنیادی یا اساسی ہوتا ہے اوردوسرا رواں سال ۔ہم بنیادی سال میں اشیا کی دی ہوئی ٹوکری کی خرید کی لاگت کا شمار کرتے ہیں ،پھر ہم مابعد کو ماقبل کی فی صد کے طورپر ظاہر کرتے ہیں ۔اس سے ہمیں بنیادی سال سے متعلق رواں سال کا صارف قیمت اشاریہ حاصل ہوتا ہے ،مثال کے طورپر،ایک معیشت کو لیجیے جس میں دو اشیا چاول اورکپڑے کی پیداوار ہوتی ہے ،ایک نمائندہ صرف ایک سال میں 90 کلو گرام چاول اور5  ٹکڑے کپڑے کی خریداری کرتا ہے، مان لیجیے کہ سال 2000 میں ایک کلو گرام چاول کی قیمت 10 روپیے تھی اورکپڑے کے ایک ٹکڑے کی قیمت100 روپیے تھی ۔لہٰذا صارف کو 2000 میں چاول پر بہت زیادہ یعنی 900=10×90اور خرچ کرنا پڑا ۔ اسی طرح اس نے 100 500=5×روپیے کپڑے پر خرچ کیا ۔دونوں مدوں کی جمع 900 + 500 1400= روپیے ۔
مان لیجیے کہ ایک کلوگرام چاول اورایک ٹکڑے کپڑے کی قیمتیں سال 2005 میں علی الترتیب 15 روپیے اور120 روپیے ہوگئی ۔ چاول اورکپڑے کی اس مقدار کو خرید نے کے لیے نمائندہ صارف کو 1350 روپیے اور 600 روپیے علی الترتیب (جیسا کہ پہلے شمار کیا گیا تھا)خرچ کرناپڑے گا۔ان کی جمع 1,950=600+1,350 روپیے ہوگی، لہٰذا صارف قیمت اشاریہ  (تقریبا )ہوگا ۔ 
یہ غور کرنے کی بات ہے کہ کئی اشیا کی قیمتیں دو مجموعوں میں ہوتی ہے ایک خوردہ قیمت ہوتی ہیںجو صارف حقیقت میں ادا کرتا ہے ۔ دوسری تھوک قیمت ہوتی ہے ،اس قیمت پر کثیر مقدار میں اشیا کی تجارت ہوتی ہے ۔ان دونوں کی قدروں میں فرق ہوسکتا ہے کیونکہ منافع کی گنجائش تاجروں کے پاس رہتی ہے ۔تھوک میں تجارت کی جانے والی اشیا (کچا مال یانیم تیار اشیا )کی خرید عام صارف نہیں کرتے ہیں۔ صارف قیمت اشاریہ کی طر ح تھوک قیمت کے لیے اشاریہ کو تھوک قیمت اشاریہ (WPI )کہتے ہیں۔ ریاست  ہائے متحدہ امریکا جیسے ملکوں میں اسے پیدا کا ر قیمت اشاریہ( PPI) کے طورپر جانا جاتا ہے ، خیال رہے کہ صارف قیمت اشاریہ (تھوک قیمت اشاریہ کی طرح) کل گھریلو پیداوار تقلیل کار سے الگ ہوسکتا ہے کیونکہ 
1 ۔ صارف جن اشیاکی خریداری کرتے ہیں ، ان سے ملک میں پیداسبھی اشیاکی نمائندگی نہیں ہوتی ہے ۔ کل گھریلوپیداوار تقلیل کار میں بھی ایسی اشیااورخدمات ہیں ۔
2 ۔ صارف قیمت اشاریہ میں نمائندہ صارف کے ذریعہ صرف کی گئی اشیا کی قیمت شامل ہیں ، لہٰذا اس میں درآمد اشیا کی قیمت شامل ہیں ۔ کل گھریلو پیداوار تقلیل کار میں درآمد اشیاکی قیمت شامل نہیں ہوتی ہے ۔
3 ۔ صارف قیمت اشاریہ میں وزن قائم رہتا ہے ۔لیکن کل گھریلو پیداوار تقلیل کار میں ہر ایک شے کی پیداوار سطح کے مطابق ان میں فرق ہوتا ہے ۔
2.5 : کل گھریلو پیداوار اورفلاح 
کیا کسی ملک کی کل گھریلو پیداوار کو اس ملک کے لوگوں کی بہبود کے اشاریہ کے طورپرسمجھا جاسکتا ہے۔ کیاان کے مادی حالات میں بہتری ہوسکتی ہے۔ لہٰذا یہ مناسب ہوگا کہ ان کا آمدنی کی سطح کو ان کی بہبود کی سطح کے طورپر دیکھا جائے ۔کل گھریلو پیداوار کسی خصوصی سال میں کسی ملک کی جغرافیائی حد کے تحت تیار اشیااورخدمات کی کل قدر کی جمع ہوتی ہے ۔کل گھریلو پیداوار کی تقسیم لوگوں کے درمیان آمدنی (برقرار یاروکی ہوئی آمدنی کو چھوڑ کر )۔لہٰذا ہم کسی ملک کی کل گھریلو پیداوار کی اعلی سطح کو اس ملک کے لوگوں کی اعلی بہبود کے اشاریہ کے طورپر (قیمت تبدیلی کی حساب کاری کے لیے ہم زرکی یا رسمی کل گھریلو پیداوار کے بدلے حقیقی کل گھریلو پیداوار کی قدرلے سکتے ہیں ) لیکن یہ صحیح نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس کی کم سے کم تین وجہیں ہیں ۔

1 ۔ کل گھریلو پیداوار کی تقسیم –کس طرح یہ یکساں ہے : اگر ملک کے کل گھریلو پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے تواس صورت میں پورے ملک کے بہبود میں اضافہ نہیں ہوسکتا ہے ،مثال کے طورپر  مان لیجیے کہ سال 2000  میں کسی خیالی ملک کی گھریلو پیداوا ر 100 روپیے تھی (آمدنی طریقے سے )مان لیجیے 2001 میں اسی ملک میں 90 افراد میں ہر ایک فرد کی آمدنی 9 روپیے تھی اور باقی 10 افراد کی فی کس آمدنی 20 روپیے تھی ۔ اشیا اورخدمات کی قیمتوں میں ان دونوں مدتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔سال 2001 میں ملک کی کل گھریلو پیداوار 90 (9 روپیے )10+ ×(20 روپیے )810= روپیے 200+ روپیے 1010= روپیے۔ مشاہدہ کیجیے کہ 2000 کے مقابلے میں 2001 میں ملک کی کل گھریلو پیداوار 10روپیے زیادہ تھی۔ لیکن یہ تب ہوا جب 90  فی صد لوگوں کی آمدنی میں 10 فی صد کی کمی (10 روپیے سے بڑھ کر 20 روپیے )اضافہ کا فائدہ ملا ۔ 90 فی صد لوگوں کی حالت مل کی کل گھریلو پیداوار میں اضافہ سے خراب ہوگئی ۔اگر ہم ملک کی بہبود میں ترقی خوشحال لوگوں کے فی صد سے کریں تو یقینی طورپر کل گھریلو پیداوار ایک اچھا اشاریہ نہیںہے ۔
غیر زری مبادلہ :معیشت متعددسرگرمیوں کی قدرشناس زری شکل میں نہیں ہوتی مثال کے طورپر ، عورتیں جو اپنے گھروں میں گھریلوخدمات انجام دیتی ہے اس کے لیے انھیںکوئی اجرت نہیں ملتی ہے ۔زرکی مد د کے بغیر غیر رسمی شعبہ میں جو مبادلہ ہوتا ہے اسے مبادلۂ اشیا کہتے ہیں ، تبادلۂ اشیا(یاخدمات) کا ایک دوسرے کے بدلے سیدھے طورپر مبادلہ ہوتا ہے ، لیکن چونکہ زرکا یہاں استعمال نہیں ہوتا ہے اس لیے شرح مبادلہ کو معاشی سرگرمی کا حصہ نہیں مانا جاتا ہے ، ترقی پزیرملک میں جہاں کئی دوردراز کی علاقے کم ترقی یافتہ ہیں ، اس طرح کے مبادلے ہوتے ہیں ، لیکن ان کا شمار اکثر ملک کی گھریلو پیدا وار میں نہیں ہوتا۔ اس صورت میں کل گھریلو پیداوار کا کم تحمینہ ہوتاہے ، لہٰذا کل گھریلو پیداوار کی تشخیص معیاری طریقے سے کرنے پر ہمیں پیداوار سرگرمی اورکسی ملک کی بہبود کا واضح اشارہ نہیں ملتا ۔
3 ۔ بیرونی اسباب : بیرونی اسباب سے مراد کسی فرد کے فوائد (یانقصانات )سے ہے جس سے دوسرے متاثر ہوتے ہیں جس میں ادائیگی نہیں کی جاتی (یاجرمانہ عائد کیا جاتا ہے ) خارجی اسباب کا کوئی بازار نہیں ہوتا جس میں ان کو خریدایا فروخت کیا جاسکے ، مثال کے طورپر مان لیجیے کہ ایک تیل ریفائنری ہے جس میں کچے پٹرولیم کی صفائی کی جاتی ہے اوراسے بازار میں فروخت کیا جاتا ہے ۔تیل کارخانہ صفا کاری کابرآمد ( ماحصل)اس کے ذریعہ صاف کی گئی تیل کی مقدار ہے۔ ہم تیل صفائی کے کارخانے کی درمیانی اشیا کی قدر( اس صورت میں کچا تیل ) کو اس کے بر آمدسے گھٹا کراضافۂ قدرکا تخمینہ لگاسکتے ہیں ،تیل صاف کرنے کے کارخانے کے اضافۂ قدر کی معیشت کی کل گھریلوپیداوار میں شمار کی جاتی ہے ۔ لیکن پیداوار کے عمل میں تیل ریفائنری ساحلی ندیوں کو بھی آلودہ کرسکتی ہے ۔اس سے ان لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جوندی کے پانی کا استعمال کرتے ہیں ۔لہٰذا ان کی افادیت میں کمی ہوگی ۔ آلودگی سے مچھلی یاندی کے دیگر جانداروں کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے ۔نتیجتاً ملّا ح اپنی آمدنی اور افادیت سے محروم ہوگا ۔ایسے نقصان دہ  اثرات جو ریفائنر ی دوسروں پر ڈالتی ہے ، جس کے لیے انھیں کوئی لاگت نہیں ادا کرنی ہوتی خارجی اسباب کہے جاتے ہیں ۔اس صورت میں کل گھریلو پیداوار کو ان بیرونی اسباب میںشامل نہیں کیا گیا ہے ۔ لہٰذا ہم کل گھریلوپیداوار کو معیشت کی بہبود کی پیمائش کی شکل میں دیکھیں توہمیں حقیقی بہبود کی بیش تخمینگی حاصل ہو گی ۔یہ منفی خارجی اسباب کی ایک مثال تھی ۔ یہ مثبت خارجی اسباب کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے ۔ایسی صورت میں کل گھریلوپیداوار سے معیشت کے بہبودکی کم تخمینگی حاصل ہوگی ۔
نہایت بنیادی سطح پر کلی معیشت ( جس معیشت کا مطالعہ ہم کلی معیشت میں کرتے ہیں ) طریقۂ عمل کو دوری طریق میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ فرم خاندانوں کے ذریعہ فراہم کیے گئے درآمدات کا استعمال کرتی ہے اور خاندانوں کو فروخت کرنے کے لیے اشیا اورخدمات کی پیداوار کرتی ہے ۔ خاندان فرم کو فراہم کی گئی خدمات کے لیے معاوضہ حاصل کرتا ہے اوراس سے فرم کے ذریعہ پیداکی گئی اشیا وخدمات کی خرید کرتا ہے لہٰذاہم کسی معیشت میں پیدااشیااورخدمات کا شمار تین میں سے کسی بھی طریقے سے کرسکتے ہیں ۔(a)عامل ادائیگیوں کی مجموعی قدروں کی پیمائش کرکے (طریقۂ آمدنی )(b)فرموںکے ذریعہ حاصل اخراجات کی مجموعی قدر کی پیمائش کرکے (طریقۂ خرچ )طریقۂ پیداوار میں دہرے شمار کو دور کرنے کے لیے ہمیں درمیانی اشیا کی قدرکو گھٹا نا ہوگا اور آخری اشیا وخدمات کی کل قدر کو ہی اختیار کرنا ہوگا ان میں سے ہر ایک طریقہ سے ہم معیشت کی کل آمدنی کے شمار کے لیے فارمولہ اخذ کرسکتے ہیں ۔ ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہے کہ اشیا کی خرید اصل کاری کے لیے بھی کی جاسکتی ہے اور اصل کاری کرنے والی فرموں کی پیداواری صلاحیت میں ا ضافہ ہوتا ہے ۔ کل آمدنی کے ا لگ الگ زمرے  ہوسکتے ہیں ، جو ان پر انحصار کریںگی جن کو آمدنی حاصل ہوتی ہے کل گھریلو پیدا وار، کل قومی پیداوار ، بازارقیمت پر خالص قومی پیداوار، عامل لاگت ہونا، خالص قومی پیداوار، انفرادی آمدنی اور انفرادی قابل صرف آمدنی PDI میں ہم فرق دکھا سکتے ہیں۔ چونکہ اشیااورخدمات کی قیمتیں الگ الگ ہوسکتی ہیں ،اسی لیے ہم نے بحث کی ہے کہ تین اہم قیمت اشاریوں( کل گھریلوپیداوارتقلیل کار ، صارف قیمت اشاریہ اورتھوک قیمت اشاریہ) کا شمار کیسے کیا جائے گا۔ آخر میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کل گھریلو پیداوار کو کسی ملک کی بہبود کے اشاریہ کے طورپر سمجھنا غلط ہوگا۔

آخری اشیا                                       Final goods
صرفی اشیا                         Consumption goods

قومی آمدنی کا حساب
اس باب میں ہم عام معیشت کے بنیادی طریقۂ کار سے متعارف کرایں گے۔سیکشن 2.1میں ہم نے کچھ ابتدائی تصورات کا بیان کیا ہے، جن کے ساتھ ہمیں عمل کرنا ہے۔ دائری راہ پر معیشت کے شعبوںسے گزرنے والی پوری معیشت کی مجموعی آمدنی پر ہم کیسے غور کر سکتے ہیں ، سیکشن 2.2 میں ہم نے یہ بیان کیا ہے ۔ اسی سیکشن میں قومی آمدنی کے شمار کے تین طریقوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ طریقے ہیں:طریقہ پیداوار ، طریقۂ خرچ اور طریقۂ آمدنی۔ آخری سیکشن 2.3 میں قومی آمدنی کے مختلف ذیلی زمروں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف قیمت اشاریوں جیسے مجموعی ملکی پیداواری (GDP)تقلیل کار، صارف قیمت اشاریہ، تھوک قیمت اشاریوں کی بھی تعریف کی گئی ہے اور اس ملک کی مجموعی پیداوار کو لینے میں جو مسائل سامنے آتے ہیںاس پر بحث کی گئی ہے۔
2.1کلی معاشیات کے کچھ بنیادی تصورات
آج کل ہم جس مضمون کو معاشیات کہتے ہیں ، اس کے اولین لوگوں میں ایک تھے ایڈم اسمتھ ۔ انھوں نے اپنی سب سے اہم تخلیق کو An Enquiry in to the Nature  and cause of the wealth of Nationsکا نام دیا۔ کسی ملک کی معاشی دولت کی تخلیق کیسے ہوتی ہے؟ ملک امیر یا غریب کیسے بنتے ہیں؟ یہ معاشیات کے کچھ مرکزی سوالات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جن ملکوں کو معدنیات یا جنگلات یا زیادہ زر خیز زمین جیسی قدرتی دولت عطا ہوتی ہیں، وہ ملک قدرتی طور پر سب سے امیر مما لک ہیں۔ درحقیقت وسائل سے بھر پو ر افریقہ اور لیٹن امریکا دنیا کے غریب ترین ممالک ہیں جب کہ بہت سے خوشحال ملکوںکے پاس قدرتی دولت بہت کم ہے۔ ایک وقت تھا جب قدرتی وسائل پر قبضے کو زیادہ اہم تصور کیا جاتا تھا لیکن تب بھی پیداوارکے عمل کے ذریعہ وسائل کی شکل بدل دی جاتی تھی۔
معاشی دولت یا کسی ملک کی امیری کے لیے اس کے پاس وسائل کا ہونا ضروری نہیں ہے ، خاص بات یہ ہے کہ ان وسائل کا استعمال کیسے کیا جا ئے جس سے پیداوار میں روانی پیدا ہو اور اس عمل کے ذریعہ کیسے آمدنی اور دولت کی تخلیق کی جائے۔
آئیے اس پیداوار کی روانی پر غور کریں۔ پیداوارکیسے ہوتی ہے؟ پیداوار کی روانی کی تخلیق کے لیے لوگ اپنی توانائیوں کو ایک سماجی اور تکنیکی ڈھانچے کے تحت قدرتی اور انسانی ساختہ ماحول میں ایک ساتھ لگاتے ہیں۔
ہمارے جدید معاشی نظام میں پیداوار کی اس روانی کی تخلیق لاکھوں چھوٹی بڑی کاروباری مہم جوئی کے ذریعہ— اشیا اور خدمات کی پیداوار سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کاروباری اداروں میں بڑے بڑے کارپوریشن (جن میں لوگوں کی بڑی تعداد ملازمت میں ہوتی ہے) سے لے کر ایک اکیلے کاروباری منتظم کا ر تک شامل ہیں۔ لیکن پیداوار کے بعدا ن اشیا کا کیا ہوتا ہے؟ ہر شے کے پیداکاروں کو اپنے بر آمد (ماحصل) کو فروخت کرنے کا رجحان ہوتا ہے۔ اس لیے پن یا بٹن جیسے چھوٹے مادوں سے لے کر ہوائی جہاز ، آٹو موبائیل ، بڑی مشینری یا کوئی قابل فروخت خدمات جیسے ڈاکٹر، وکیل یا مالیاتی صلاح کاروں کی خدمات تک، سبھی اشیا اور خدمات کی پیداوار صارفین کو فروخت کرنے کے لیے کی جاتی ہے ۔ صارف کوئی فرد ہو سکتا ہے یا کوئی مہم جو، ان کے ذریعہ خریدی جانے والی شے یا خدمات آخری استعمال یا مزید پیداوار میں استعمال کے لیے ہو سکتی ہے۔ جب اس کا استعمال آگے کی پیداوار کے لیے کیا جاتا ہے تب اکثر یہ مخصوص شے اپنی خصوصیات کھو دیتی ہے اور پیداواری عمل کے ذریعہ کسی دوسری شے کی شکل میں تبدیل ہو جا تی ہے۔ کپاس کے کسان دھاگا تیار کرنے والی مل کو کپاس فروخت کرتے ہیں ، جہاں کپاس سے دھاگے تیار کیے جاتے ہیں، ان دھاگوں کو کپڑے کی مل میں فروخت کیا جاتا ہے جہاں پیداواری عمل کے ذریعہ یہ کپڑے کی شکل میں آجاتا ہے اور اس کپڑے کو دیگر پیداواری عمل کے ذریعہ پہننے لائق کپڑے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اب یہ کپڑا صارفین کے آخری استعمال کے لیے فروخت ہوتا ہے۔ لہٰذا شے کی ایسی مد یا قسم جن کا آخری استعمال صارفین کے ذریعہ ہوتاہے اور جنھیں پھر پیداواری عمل کے کسی مرحلے سے گزرنا نہیں پڑتا ہے یا جن میں دوبارہ کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ انھیں آخری شے کہا جاتا ہے۔
 ہم اسے آخری شے کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ایک باریہ فروخت ہونے کے بعد سرگرم معاشی بہاؤ سے باہرہو جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی بھی پیداکار کے ذریعہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا تی ہے۔ تاہم آخری خرید ار کے ذریعہ اس کی شکل تبدیل کی جا سکتی ہے۔ دراصل کئی آخری اشیا ایسی ہوتی ہیں جن میں صرف کے دوران تبدیلی ہوتی ہے ۔ اس طرح چائے کی پتی کا صرف ہم اسی شکل میں استعمال نہیں کرتے جیسا کہ ہم خرید تے ہیں بلکہ اس کا استعمال پینے کے لائق چائے کی شکل میں تبدیل کرنے کے بعدکرتے ہیں جس کو صرف کیا جا تاہے۔ اسی طرح ہمارے باورچی خانہ میں اکثر چیزوں کو کھانا پکانے کے عمل کے ذریعہ تبدیل کیا جاتا ہے۔لیکن گھروں میںکھانا پکانے کا کام معاشی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہے حالانکہ پیداوار تبدیلی کے مرحلے سے گزرتی ہے۔ گھر میں بنایا گیا کھانا بازار میں فروخت کے لیے نہیں جاتاہے۔ تاہم اگر اسی طرح کے کھانا بنانے یا چائے بنانے کا کام کسی ریسٹورنٹ میں کیا جائے جہاں پکائی گئی اشیا صارفین کو فروخت کی جائیں تب یہی مدیں جیسے کہ چائے کی پتی آخری اشیا نہیں ہوپائیں گی اور انھیں درآمد( inputs)کے طور پر شمار کیا جائے گا جس کی معاشی قدرمیں اضافہ واقع ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کوئی شے اپنی فطرت کے سبب نہیں بلکہ اپنے استعمال کی معاشی فطر ت کے لحاظ سے آخری شے بنتی ہے۔
تیار شدہ اشیا میں بھی صارف اشیا اور اشیا اصل میںہم فرق کر سکتے ہیں۔ غذااور لباس جیسی اشیا اور تفریح جیسی خدمات کا صرف اسی وقت ہوتا ہے جب انھیں آخری صارفین کے ذریعہ خریداجاتا ہے انھیں صرفی اشیا کہا جاتا ہے (ا س میں خدمات بھی شامل ہیں جنھیں صرف کیا جاتا ہے لیکن آسانی کے لیے ہم انھیں صرفی اشیا کہہ سکتے ہیں)۔
اس کے بعد کچھ دیگر اشیا ہیں جو پائیدار نوعیت کی ہوتی ہیں اور پیداواری عمل کاری میں ان کا استعمال کیا جاتاہے۔ یہ اوزار، ساز وسامان اور مشینیں ہیں۔حالانکہ یہ دیگر قابل عمل اشیا کی پیداوار تو کرتی ہیں لیکن پیداواری عمل میں ان کی خود کی شکل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ تیار شدہ اشیا بھی ہیں لیکن یہ وہ آخری اشیا نہیں ہیں جنھیں آخری طور پر صرف کیا جاتا ہے۔ہم نے اوپر جن آخری اشیاکاذکر ہے ان کے برعکس یہ کسی بھی پیداواری عمل کی فیصلہ کن اساس ہوتی ہیں جس سے پیداوار میں مدد ملتی ہے اور پیداوار ممکن ہوتی ہے۔ ان اشیا سے پونجی کی ایک جزوی تشکیل ہوتی ہے جو کہ پیداوار کا ایک اہم عامل ہے۔ اس میں پیداکار مہم جو نے سرمایہ لگا یا ہے اور وہ پیداواری عمل کو پیداواری گردش (چکّر)میں جاری رکھنے کا اہل بناتی ہے۔ یہ اشیا اصل ہیں اور ان میں بتدریج ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہتی ہے لہٰذا وقتاً فوقتاً اس میں مرمت کی جاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اسے بدل دیا جاتا ہے ۔کسی معیشت میں شامل پونجی کے ذخیرے کو محفوظ کیا جاتا ہے، اسے برقرار رکھا جاتا ہے اور جزوی یا مکمل طور پر اس کی تجدید کی جاتی ہے اور یہی اس کی ایک اہم خصوصیت ہے جس کامطالعہ کیا جائے گا۔
یہاں یہ یاد رہے کہ کچھ اشیا جیسے ٹیلی ویژن سیٹ ، آٹو موبائیل ، گھریلو کمپیوٹر، اگر چہ یہ آخری صرف کے لیے ہیں پھر بھی ان میں اشیا اصل کی بھی خصوصیت پائی جاتی ہے یعنی یہ بھی پائیدار ہوتی ہیں ۔ یعنی یہ فوری یا قلیل مدتی صرف میں ختم نہیں ہوتیں۔ یہ غذا اور لباس جیسی اشیا کی بہ نسبت زیادہ عرصے تک قائم رہتی ہیں۔ صرف ہونے پر ان میں بھی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور مرمت یا پرزے کے بدلنے کی طرح ان کی بھی حفاظت رکھ رکھاؤ اور تجدید کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہم ان کو پائیدار صرفی اشیا کہتے ہیں۔
اس طرح کسی معیشت میں ایک دی ہوئی مدت میں تیار کی گئی سبھی تیار  اشیایا خدمات پر اگر ہم غور کریں تو وہ یا تو صرف کی اشیا پائیدار یا غیر پائیدار کی شکل میں ہوتی ہیں یا اشیا اصل کی شکل میںہوتی ہیں۔تیار شدہ اشیاکے طور پر انھیں معاشی عمل میں مزید تبدیلی کے مر حلے  سے نہیں گزرنا پڑتا ہے۔
معیشت میں کل پیداوار کی ایک بڑی مقدار آخری صرف کے طورپر ختم نہیں ہوتی ہے اور یہ اشیا اصل بھی نہیں ہیں۔ ایسی اشیا کا استعمال دیگر پیداکاروں کے ذریعہ در آمد یا مادخل مواد کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثالیں ہیں:آٹو موبائیل بنانے کے لیے اسٹیل کی چادر کا استعمال اور برتنوںکے بنانے میں تانبے کا استعمال ۔ یہ درمیانی اشیا ہیں جن کا استعمال اکثر دیگر اشیا کی پیداوار کے لیے کچے مال یا در آمدکے طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ آخری اشیا نہیں ہیں۔
اب معیشت میں پیداوار کی کلی روانی کے بارے میں جامع تصور کے لیے ہمیں معیشت میں آخری طور پر تیار اشیا کی مجموعی سطح کی مقدار پیمائش کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حالانکہ مقداری تعین قدر حاصل کرنے کے لیے معیشت میں تیار سبھی اشیا اور خدمات کی پیمائش میں ظاہر ہے کہ ہمیں ایک عام پیمائشی پیمانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کپڑوں کی پیمائش کے لیے جس میٹر کا استعمال کیا جاتا ہے، اس سے ہم ٹنوں میں چاول کی پیمائش نہیں کرسکتے اور نہ ہی آٹو موبائیل یا مشین کی تعداد معلوم کر سکتے ہیں ۔ ہمارا عام پیمائش پیمانہ زر ہے۔ چونکہ ان میں سے ہر ایک شے کی پیداوار فروخت کی غرض سے کی جاتی ہے۔ اسی لیے ان میں مختلف اشیا کی زری قدر کی کل جمع سے آخری بر آمد کی پیمائش حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ہم صرف آخری شے کا تعین قدر کیوں کرتے ہیں؟ یقینا درمیانی اشیا کسی پیداواری عمل کا نہایت اہم در آید ہے اور ان اشیا کی پیداوار میںقوت افراد اورپونجی اسٹاک کا ایک اہم حصہ شامل ہوتا ہے ۔ الگ سے ان کا شمار کرنے پر دو بارہ شمار کرنے سے بچا جا سکتا ہے جب کہ درمیانی اشیا پر غور کرنے سے کل معاشی سرگرمیوں کی پوری تفصیل حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر بھی ان کے شمار سے ہماری معاشی سرگرمیوں کی آخری قدر مبالغہ آمیز ہو سکتی ہے۔
اس مرحلے میں اسٹاک اور بہاؤ (روانی) کے تصورات کا تعارف زیادہ اہم ہے۔ اکثر ہم سنتے ہیں کہ کسی کی اوسط تنخواہ 10,000روپیے ہے یا فولاد صنعت کا بر آید اتنے ٹن یا اتنے روپیے کے بقدر ہے۔ لیکن یہ بیان نا مکمل ہے کیونکہ یہ ظاہر نہیں ہے کہ جس آمدنی کی بات کہی گئی ہے، وہ سالانہ ہے یا ماہانہ یا یومیہ ہے اور یقینا اس سے ایک بڑا فرق پیدا ہوتا ہے کبھی بھی سیاق و سباق سے واقفیت ہوتی ہے تو ہم فرض کرتے ہیں کہ مد ت معلوم ہے اس لیے اس کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ لیکن ایسے سارے بیانوں میں ایک مقررہ مدت واضح ہوتی ہے ورنہ ایسے بیان بے معنی ہیں ۔ اس طرح آمدنی یا بر آید یا منافع ایسے تصورات ہیں جن سے صرف جب ہی مفہوم پیدا ہوتا ہے جب مدت کی صراحت کی گئی ہو۔ انھیں بہاؤ (Flow) کہا جاتاہے کیونکہ یہ ایک مدت میں واقع ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں ان کی مقداری پیمائش حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص مدت کو درج کر ناپڑتا ہے۔ چونکہ کسی معیشت میں زیادہ تر حسابی عمل سالانہ ہوتے ہیں ، اس لیے ان میں سے زیادہ تر کو سالانہ طورپر ظاہر کیا جاتا ہے جیسے سالانہ منافع یا پیداوار ۔ بہاؤ کا ایک خاص مدت کے لیے تعین کیا جاتاہے۔
اس کے برعکس در ج مدت وقت میں ایک بارتیار کی گئی اشیا اصل یا پونجی اشیا یا پائیدار صارف اشیا میں نہ ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور نہ ہی ان کا صرف ہوتا ہے۔ درحقیقت اشیا اصل ہمیں پیداوار کے مختلف دور میں خدمات فراہم کرتی ہیں۔ فیکٹری کی عمارت اور مشین مخصوص مدت وقت سے غیر وابستہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی نئی مشین کو شامل کیا جاتا ہے یا مشین استعمال میں نہیں ہوتی اور اسے بدلا نہیں جاتا تب اس میں اضافہ یا تخفیف ہو سکتی ہے۔اسٹاک کی تعریف ایک مخصوص وقت میں کی جاتی ہے۔ لیکن ہم ایک متعین وقت میںاسٹاک میں تبدیلی کی پیمائش کر سکتے ہیں جیسے کتنی مشینیں شامل کی گئیں ۔ لہٰذا اسٹاک میں اس طرح کی تبدیلی کو بہاؤ کہتے ہیں جن کی پیماش ایک مخصوص مدت میںکی جاسکتی ہے۔ کوئی خاص مشین کئی سالوں تک (اگر ٹوٹ پھوٹ نہ ہو) پونجی اسٹاک (اصل کا ذخیرہ ) کا حصہ ہو سکتی ہے، لیکن وہ مشین پونجی اسٹاک میں شامل نئی مشینوں کے بہاؤ کاحصہ صرف ایک سال کے لیے ہو سکتی ہے۔
اسٹاک اور بہاؤ کے درمیان فرق کو مزید سمجھنے کے لیے، مان لیجیے کہ ایک نل سے کسی حوض کو بھرا جا رہا ہے۔ نل سے فی منٹ جتنا پانی حوض میں بھرا جا رہا ہے وہ بہاؤ ہے لیکن جتنا پانی حوض میں کسی وقت خاص میں دستیاب ہوتا ہے، وہ اسٹاک ہے۔
اب ہم آخری ماحصلکی پیمائش کی بحث کا ذکر کرتے ہیں، ہمارے آخری ماحصل کا وہ حصہ جو اشیا اصل (Capital Goods) پر مشتمل ہوتا ہے، کسی معیشت کی مجموعی سرمایہ کاری کی تشکیل کرتا ہے1۔ یہ مشینیں ، اوزار اور عمارتیں ، سازوسامان دفتر گودام یا سڑکیں، پل ، ہوائی اڈے یا بندرگاہ وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک سال میں تیار ساری اصل اشیا پہلے سے موجودپونجی اسٹاک میں مزید اضافہ نہیں کرتیں ۔ اشیا اصل کے موجودہ ماحصل کا ایک اہم حصہ موجود اشیا اصل کے اسٹاک جزو کے رکھ رکھاؤ یا پرزوں کے بدلنے میں چلا جاتاہے ایسا اس لیے ہے کہ پہلے موجودہ پونجی اسٹاک میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے او اس کے رکھ رکھاؤ اور بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشیا اصل کا ایک حصہ جو اس سال تیار ہوتا ہے۔وہ موجودہ اشیا اصل کو بدلنے میں چلا جاتا ہے اور پہلے سے موجود اشیا اصل کے اسٹاک میں اضافہ نہیں کر تا اور خالص سرمایہ کی پیمائش کرنے کے لیے مجموعی سرمایہ کاری سے اس کی قدر کو گھٹا نے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشیا اصل کی حسب معمول ٹوٹ پھوٹ کے مطابق مجموعی سرمایہ کاری کی قدر سے جو حذف ہوتا ہے اسے فرسودگی (Depreciation)کہا جاتا ہے۔


1۔ماہرین معاشیات نے سرمایہ کاری کی اس طرح تعریف کی ہے ۔ اسے سرمایہ کاری کے عام مفہوم کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیے جس کا اظہار زر کے استعمال کے ذریعہ مادی یا مالیاتی اثاثوں کو خریدنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس طرح اصطلاح سرمایہ کاری کے اس استعمال کا شیئروں یا جائداد کی خریداری یہاں تک کہ بیمہ پالیسی کے ساتھ بھی ماہرین معاشیات کے ذریعہ تعریف کی گئی سرمایہ کاری سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ہمارے لیے سرمایہ کاری ہمیشہ پونجی کی تشکیل ہے یعنی پونجی اسٹاک میں مجموعی یا خالص اضافہ ہے۔
لہٰذامعیشتمیں پونجی اسٹاک میں نئے اضافے کی پیمائش خالص سرمایہ کاری یا نئے تشکیل اصل کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ جسے اس طرح ظاہر کرتے ہیں ۔
خالص سرمایہ کاری =کل سرمایہ کاری-فرسودگی
اب ہم فرسودگی کی اصطلاح کا تفصیلی جائزہ لیں۔ مان لیجیے کوئی فرم مشین میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ یہ مشین اگلے 20سالوں تک کام کر سکتی ہے، جس کے بعد اس کی مرمت یا اسے بدلنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ جسے ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ہر ایک سال کے پیدا واری عمل میں مشین کو بتدریج بھر پور استعمال کیا جا تا رہا تو ہر ایک سال اس کی حقیقی قدر میں 20ویں حصے کے برابر فرسودگی پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا 20 سال کے بعد بدلنے کے لیے تھوک سرمایہ کاری پر غور کرنے کے بجائے ہم ہر سال سالانہ فرسودگی پر غور کر سکتے ہیں ۔ یہ ایک عام مفہوم ہے جس میں اصطلاح فرسودگی کا استعمال کیا گیا ہے اور اس کا تصور موجود ہے، وہ یہ کہ ایک خالص شے اصل کی متو قع مدت عمل کیا ہے جیسے مشین کی ہماری مثال میں بیس سال ہے، فرسودگی اس طرح شے کی اصل 2کی ٹوٹ پھوٹ کا سالانہ الاؤنس ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ شے کی لاگت ہے جسے اس کی کار آمد زندگی سالوں کے تعداد سے تقسیم کیا جا تاہے۔3
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ فرسودگی ایک حسابی تصور ہے۔ کوئی حقیقی خرچ در اصل ہر سال واقع نہیں ہوتاہے لیکن فرسودگی کا حساب سالانہ طورپر لگایا جاتاہے۔ کسی معیشت میںمختلف طرح کی مشینوںکااستعمال ہوتاہے۔ ہزاروں کاروباری ادارے عموماًکسی ایک سال میں بڑی مقدار میں انھیں بدلنے پر رقم خرچ کرتے ہیں لہٰذا ہم واقعی یہ تصور کر سکتے ہیں کہ حقیقی بدلی اخراجات کابہاؤ یکساں ہوگا جو اس معیشت میںہونے والی سالانہ فرسودگی کی مقدار کے حساب سے کم وبیش میل کھائے گا۔
 اگر ہم کسی معیشت میںتیار کل آخری ماحصل پر ایک نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ اس میںصارف اشیا،خدمات اور اصل اشیا کے برآید ہوتے ہیں ۔ صارف اشیا سے معیشت کی پوری آبادی کا صرف جاری رہتا ہے۔ صارف اشیا کی خرید ان اشیا پر خرچ کرنے کی لوگوں کی قوت پر مبنی ہوتی ہے جو ان کی آمدنی پر منحصر ہوتی ہے آخر ی اشیا کا دوسرا حصہ اشیا ئے اصل ہے جس کی خرید کاروباری یا مہم جوکاروباری یا صنعت میں رکھ رکھاؤکے لیے یا اپنی پونجی کے اسٹاک میں اضافہ کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی پیداوار کا بہاؤ قائم رہے یااس میںوسعت ہو۔ ایک مخصوص مدت میںجیسے کسی ایک سال میں آخری اشیا کی کل پیداوار چاہے تو صرف کی شکل میں ہو یا سرمایہ کاری کی صورت میں اس طرح ایک تصفیہ قائم ہوتا ہے۔اگرکسی معیشت میں آخری اشیا کی رواں پیداوار میں صارف اشیا کی پیداوار زیادہ ہوگی تو اس کی سرمایہ کاری اشیا کم پیدا ہوگی اور اس کے بر عکس بھی ہو سکتا ہے۔


2۔فرسودگی غیر متوقع یا اچانک ہونے والی بر بادی یا پونجی کے غلط استعمال جو کہ حادثہ ، قدرتی آفات یاپھر اس طرح کی دیگر بیرونی صورت حال کے سبب پیدا ہوتی ہے ان سے متعلق نہیں ہوتی ہے۔
3۔اس کے بجائے یہاں ہم اثاثوںکی اصل قدروں کی بنیادی فرسودگی کا ایک عام مفروضہ قائم کر رہے ہیں کہ فرسودگی کی شرح مستقل ہے حقیقی عمل میں فرسودگی کی شرح کے دیگر طریقے ہو سکتے ہیں۔
عام طو ر پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اشیا اصل جتنی کارگزار ہوگی اشیا کی پیداوار کے لیے اتنی ہی محنت کی پیداوار زیادہ ہوگی۔ روایتی بنکر کوایک ساذی بنانے میں مہینوں لگیں گے لیکن جدید مشینری کے ذریعہ ایک دن میں ہزاروں ساڑیاں تیار کی جاتی ہیں پر امڈ یا تاج محل جیسی عظیم تاریخی یادگاروں کو بنانے میں دسیوں سال لگے لیکن جدید تعمیراتی مشینری سے کچھ ہی سالوں میں آسمان کو چھونے والی عمارتیں بنائی جاسکتی ہیں۔ اشیا اصل کی نئی قیمتوں کی زیادہ پیداوار کی وجہ سے صارف اشیا کے زیادہ پیداوار میں مدد ملے گی۔
لیکن یہاں ہم کیا خود باہم متناقض نہیں ہورہے ہیں؟ پہلے ہم نے دیکھا کہ ایک معیشت میں آخری اشیا کی کل ماحصل کا ایک چھوٹا حصہ صرف کی اشیا کے لیے دستیاب ہوتا ہے، جب کہ پیداوار کا زیادہ تر حصہ اشیا اصل کی پیداوار میں صرف ہوتا ہے اور اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زیادہ اصل اشیا کا مطلب زیاوہ صرفی اشیا ہے ۔ گرچہ یہاں کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہاں جس چیز کی اہمیت ہے وہ ہے وقت۔ ایک مخصوص مدت میں معیشت کی پیداوار کی دی گئی سطح پر ، یہ صحیح ہے کہ اگر اصل اشیا کی پیداوار زیادہ ہوگی تو صرفی اشیا کی پیداوار کم ہوگی۔ لیکن زیادہ اصل اشیا کی پیدا وار سے مراد یہ ہے کہ مستقبل میں محنت کشوں کے پاس کام کرنے کے لیے زیادہ اصل اشیا دستیاب ہوں گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس کے نتیجے میں معیشت میں اشیا کی پیداوار کی زیادہ صلاحیت ہوگی اور زیادہ اشیا تعداد میں محنت کش پیداوار کرتے ہیں۔ جب ہم اسی کا موازنہ کم اصل اشیا کی پیداوار سے کرتے ہیں تو یہ کل پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ اگر کل پیداوار ہے زیادہ تو یقینا صرفی پیداوار اشیا کی مقدار زیادہ ہوجائے گی۔ اس طرح معاشی دور نہ صرف اصل اشیا کی زیادہ پیداوار ہی نہیں کرتا بلکہ اس میں توسیع بھی کرتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بحث میں دوسرے دوری بہاؤ (روانی) کو بھی ہم شامل کر سکتے ہیں۔ 
چونکہ ہم بازار کے لیے پیداکی جانے والی سبھی اشیا اور خدمات کی بات کر رہے ہیں تو اہم عامل جو ایسی فروخت کو ممکن بناتا ہے وہ ہے ایسی اشیا کے لیے مانگ جس کو قوت خرید کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ کسی کے پاس اشیا کو خرید نے کی ضروری استعداد ہونی چاہیے ۔ ورنہ اشیا کے لیے کسی کی ضرورت کو بازار کے ذریعہ منظوری حاصل نہیںہوتی ہے۔
ہم نے اوپر پہلے ہی بحث کی ہے کہ کسی کی اشیا خرید نے کی استعداد آمدنی سے پیدا ہوتی ہے جو کوئی ایک مزدور کے طورپر (مزدوری حاصل کرنے کے طور پر )یا کاروباری مہم جو کے طور پر (منافع کمانے کے طور پر)یا زمین کے مالک کے طورپر (لگان یا کرایہ حاصل کرنے کے طور پر )یا پونجی کے مالک کے طورپر (سود کمانے کے طورپر )کماتاہے۔مختصراً پیداوار کے عوامل کے طور پر لوگ جو آمدنی حاصل کرتے ہیں، ان کا استعمال وہ شے اور خدمات کی اپنی مانگ کی تکمیل کے لیے کرتے ہیں لہٰذا ہم یہاں ایک دوری بہاؤ دیکھ سکتے ہیں جس میںبازارکے ذریعہ آسانی پیدا ہوتی ہے۔
چنانچہ ہم اسے آسان طور پر پیش کریںگے، پیداواری عمل کو چلانے کے لیے پیداوار کے عوامل کی مانگ جو فرم کرتی ہے، اس سے لوگوں کی ادائیگیوں کی تخلیق ہوتی ہے، نتیجتاً اشیا اور خدمات کی لوگوں کی مانگ سے فرموں کے لیے ادائیگی کی تخلیق ہوتی ہے اور اس سے ان کے ذریعہ تیار مصنوعات کی فروخت ہوتی ہے۔
لہٰذا صرف اور پیداوار کا سماجی عمل پیچیدہ طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور در حقیقت ایک دائری علت یاسبب واقع ہوتا ہے ۔ کسی معیشت میں پیداوار کا عمل پیداوار میںحصہ لینے والے عوامل کے لیے آمدنی فراہم کرتاہے اور پیداوار کی بر آمد کی شکل میں اشیا اور خدمات کی تخلیق ہوتی ہے اور اس طرح تخلیق کی گئی آمدنی سے آخری صرفی اشیا کو خرید نے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کاروباری مہم جو کے ذریعہ ان کی فروخت ممکن ہوتی ہے جو ان کی پیداوار کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ پیداواری عمل میں تخلیق شدہ اشیا اصل بھی ان کے پیداکاروں کو آمدنی، مزدوری کا منافع و غیرہ کمانے کا اسی انداز میںاہل بناتی ہیں ۔ اشیا اصل سے کسی معیشت کے پونجی اسٹاک میں یا تو اضافہ ہوتا ہے یا اسٹاک قائم رہتا ہے اور اس سے دیگر اشیا کی پیداوار ممکن ہوتی ہے۔
2.2آمدنی کی دائری روانی اور قومی آمدنی کے شمار کے طریقے
پچھلے سیکشن میںمعیشت کے بارے میں جو بیان کیا گیا، اس سے ہم یہ جاننے کے اہل ہو گئے ہیں کہ کوئی سادہ معیشت والی حکومت ، بیرونی تجارت یا کسی بچت کے بغیر کس طرح کام کرسکتی ہے ۔جیسا کہ ہم نے پہلے ہی ذکر کیا ہے کہ اشیا اور خدمات کی پیداوار کے دوران چار طرح کے بنیادی اشتراک کیے جا سکتے ہیں۔ (a)انسانی محنت کے ذریعہ کیا گیا اشتراک جس کا معاوضہ مزدوری کہلاتا ہے۔(b)پونجی کا اشتراک جس کا معاوضہ سود ہے(c)کاروباری مہم جوئی کا اشتراک جس کا معاوضہ منافع ہے (d)معین قدرتی وسائل (جسے زمین کہا جاتا ہے)کا اشتراک جس کا معاوضہ لگان ہے۔
اس تسہیل شدہ معیشت میں صرف ایک طریقہ ہے جس میں خاندان یا اہل خاندان اپنی آمدنی کو صرف کر سکتے ہیں یعنی وہ اپنی پوری آمدنی کو گھریلو فرموں کے ذریعہ پیدا شدہ اشیا اور خدمات پر صرف کر سکتے ہیں ۔ ان کی آمدنی کے خرچ کرنے کے دیگرذرائع بند ہوتے ہیں : ہم نے یہ فرض کیا ہے کہ اہل خانہ بچت نہیں کرتے۔ حکومت کو ٹیکس نہیں ادا کرتے کیونکہ یہاں کوئی حکومت نہیں ہے اور نہ ہی وہ در آمد کی ہوئی اشیا خرید تے ہیں کیونکہ سادہ معیشت میں کوئی بیرونی تجارت نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں پیداوار کے عوامل اپنے معاوضے کا استعمال ان اشیا اور خدمات کی خریدمیں کرتے ہیں جن کی پیداوار میںوہ معاون ہوتے ہیں ۔ معیشت کے اہل خانہ کے ذریعہ مجموعی صرف فرموں کے ذریعہ پیدا اشیا اور خدمات پر ہوئے کل مصارف کے برابر ہوتا ہے ۔ لہٰذا فروخت کے محاصل کی شکل میں معیشت کی کل آمدنی پیداکاروں کے پاس پھر واپس آجاتی ہے۔اس نظام میں کسی طرح کارساؤ نہیں ہوتا یعنی فرم کے ذریعہ عامل ادائیگیوں (جو کہ پیداوار کے چار عوامل کے ذریعہ کمایاگیا کل معاوضہ ہے) کی شکل میں تقسیم کی گئی مقدار کی کل اور ان کے ذریعہ فروخت محاصل کی شکل میں کل مجموعی صرفی اخراجات کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا۔
اگلی مدت میں فرمیں اشیا اور خدمات کی ایک بار پھر پیداوار کرتی ہیں اور پیداوار کے عوامل کو معاوضہ ادا کرتی ہیں۔ ان معاوضوں کا استعمال پھر اشیا اور خدمات کی خرید کے لیے ہوگا۔ لہٰذا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ معیشت کی کل آمدنی ہر سال دو شعبوں،فرموں اور اہل خاندان کے درمیان دائری راہ پر رواں رہے گی۔ اسے شکل 2.1میں ظاہر کیا گیاہے۔ جب آمدنی کو فرم کے ذریعہ پیدا اشیا اور خدمات پر خرچ کیا جاتا ہے تو یہ کل خرچ کی شکل میں فرموں کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔ چونکہ اخراجات کی قدر اشیا اور خدمات کے برابر ہونی چاہیے اس لیے ہم کل آمدنی کی پیمائش فرم کے ذریعہ پیدا کی گئی اشیا اور خدمات کی کل قدر کو شمار کرکے کرتے ہیں۔ جب فرم کے ذریعہ حاصل کیے گئے کل محاصل کے ادئیگی پیداوار کے عوامل کے ذریعہ کی جاتی ہے تو یہ کل آمدنی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
شکل 2.1میں سب سے اوپر تیر جو خاندان کو فرم سے جوڑتی ہے فرم کے ذریعہ تیار کی گئی اشیا اور خدمات کی خرید پر خاندان یا اہل خاندان کے خرچ کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسرا تیر جو فرم کو خاندان سے جوڑتا ہے اوپرکے تیر کے مشابہ ہے ۔ یہ فرم سے خاندان کی طرف رواں شے اور خدمات کو بتاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ وہ روانی ہے جو کہ خاندان خرچ کرکے فرموں سے حاصل کرتے ہیں۔ مختصراً اوپر سے دو تیر اشیا اور خدمات کے بازار کو ظاہر کرتے ہیں۔اوپر کا تیر اشیا اور خدمات کی ادائیگی کے بہاؤ کو ، نیچے کا تیر اشیا اور خدمات کے بہاؤ کوظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح شکل کے نچلے حصے کے دو تیر پیداواراور بازار کے عوامل کو ظاہر کرتے ہیں۔ سب سے نیچے جو خاندان کو فرم سے جوڑتا ہے ، خاندان کے ذریعہ فرم کو فراہم کی گئی خدمات کی تاویل کرتا ہے۔ ان خدمات کو استعمال کر کے فرم بر آمد کی تخلیق کرتی ہے۔ اس کے اوپر کا تیر جو فرم کو خاندان سے جوڑتا ہے ، فرم کے ذریعہ خاندان کو ان کی خدمات کے لیے کی گئی ادائیگیوں کو ظاہر کرتاہے۔
 شے اور خدمات کی کل قدرکو ظاہر کرتے ہوئے زر کی ایک ہی قدر دائری راہ پر حرکت کرتی ہے ۔ اگر ہم شے اور خدمات کی کل قدروں کا ایک سال کے دوران شمار کرنا چاہیں تو ڈائیگرام میں ظاہر کسی بھی نقطہ دار خط پر واقع روانی کی سالانہ قدر کی پیمائش کر سکتے ہیں ۔اگر ہم سبھی فرموں کے ذریعہ تیارشدہ آخری اشیا اور خدمات کی کل قدر کا تعین کرتے ہوئے (Aپر ) روانی کی پیمائش کر سکتے ہیں ۔ یہ طریقۂ ، طریقۂ اخراجات کہلاتا ہے۔ اگر ہم (Bپر )سبھی فرموں کے ذریعہ اشیا اور خدمات کی کل قدروں کی پیمائش کرتے ہیں تب یہ طریقہ ، طریقۂ پیداوار کہلاتا ہے۔ (Cپر ) سبھی عوامل کی ادائیگیوں کی کل جمع کی پیمائش طریقۂ آمدنی کہلاتاہے۔
مشاہدہ کیجیے کہ معیشت کا کل خرچ پیداوار کے عوامل کے ذریعہ کمائی گئی آمدنی کے برابر ہوتاہے (Aاور Cپر روانی یکساں ہے)۔ اب مان لیجیے کہ کسی وقت خاص میں خاندان فرموں کے ذریعہ تیارکردہ شے اور خدمات پر زیادہ خرچ کرنے کا فیصلہ لیتے ہیں ۔ کچھ دیر کے لیے ، ہم اس سوال کو چھوڑ دیں کہ اضافی خرچ کے لیے ان کے پاس زر کہاں سے آئے گا، کیونکہ وہ پہلے ہی اپنی پوری آمدنی خرچ کر چکے ہیں (وہ اضافی خرچ کے لیے ادھار لے سکتے ہیں)۔ اب اگروہ اشیا اور خدمات پر زیادہ خرچ کرتے ہیں تو فرم اس اضافی مانگ کی رسد کے لیے زیادہ پیداوار کرے گی ۔ چونکہ وہ زیادہ پیداوار کریں گی، اس لیے فرموں کو پیداوار کے عوامل کو اضافی معاوضہ دینا چاہیے زر کی کتنی زائد رقم کی ادائیگی فرمیں کریں گی؟ اضافی ادائیگیاں تیارشدہ اضافی اشیا اور خدمات کی قدر کے برابر ہونی چاہئیں۔ اس طرح خاندان کو آخرکار اضافی آمدنی حاصل ہوگی جس سے اسے اپنے ابتدائی اضافی خرچ کی بھر پائی کرنے میںمدد ملے گی۔ دوسرے لفظوں میں، خاندان ابتدائی طورپر اضافی خرچ کرنے کا فیصلہ لے سکتے ہیں جوان کے ذرائع سے زیادہ ہوگی اور آخر میں ان کی آمدنی اتنی ہی بڑھے گی جتنا کہ اسے اضافی خرچ کے لیے ضرورت ہوگی۔ دوسرے لفظوں میںیوںکہہ سکتے ہیںکہ کوئی معیشت آمدنی کی موجودہ سطح سے زیادہ خرچ کرنے کا فیصلہ لے سکتی ہے۔ لیکن ایسا کرنے سے اس کی آمدنی آخر کار خرچ کی اعلیٰ سطح کے ساتھیکساںطورپر بڑھے گی یہ پہلی نظر میں تھوڑا متناقض لگ سکتا ہے لیکن آمدنی چونکہ ایک دائری انداز میں حرکت کرتی ہے، اس لیے یہ بتانا مشکل نہیں ہے کہ ایک نقطہ پر روانی میں اضافے سے سبھی سطحوں پر روانی یا بہاؤ میںاضافہ ہوگا۔ یہ اکیلے معاشی ایجنٹ (بالغرض ایک خاندان )کارویہ کل معیشت کے کام سے کیسے مختلف ہے، اس کی ایک اور مثال ہے۔ اول الذکر میں خاندان کی انفرادی آمدنی سے خرچ محدود رہتا ہے ۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ ایک مزدور زیادہ خرچ کرنے کا فیصلہ لے اور اس سے اس کی آمدنی میں مساوی اضافہ ہو۔ ہم اگلے باب میں اسے زیادہ تفصیل سے پڑھیں گے کہ کس طرح زیادہ فی الجملہ اخراجات سے، آمدنی میں تبدیلی تیزی سے ہوتی ہے؟
معیشت کی درج بالا سرسری توضیح بالاتفاق ایک سادہ معیشت کے طور پر مانی جاتی ہے۔ایسی کہانی جو ایک خیالی معیشت کی فعالیت کوبیان کرتی ہے اسے کلی معاشی ماڈل کہا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ماڈل میں حقیقی معیشت کا تفصیل سے بیان نہیں ہوتا ۔ مثال کے طورپر ہمارے ماڈل میں یہ مان لیا جاتا ہے کہ خاندان بچت نہیں کرتے ہیں، حکومت نہیں ہوتی اور دیگر ملکوں سے تجارت نہیں ہوتی۔ اگر چہ ماڈلوں میں معیشت کا ہر ہر لمحہ تفصیل سے بیان کر نا ضروری نہیں سمجھا گیا ہے لیکن ان کا مقصد معاشی نظام کے طریقۂ عمل کی ضروری خصوصیات کو نمایاں کرنا ہی ہے۔ لیکن یہاں یہ احتیاط برتنی ہوگی کہ مواد کی تسہیل اس طرح نہ ہو کہ معیشت کی لازمی فطرت کی غلط نمائندگی ہو۔ معاشیات معاشی ماڈلوں سے بھر پور ایک مضمون ہے۔ اس کتاب میں کئی ماڈلوں کو پیش کیا جائے گا۔ ایک ماہر معاشیات کاکام یہ دکھانا ہے کہ کون سا ماڈل کسی حقیقی زندگی کی صورت حال میں قابل اطلاق ہو سکتاہے۔
اگر ہم اوپر بیان کیے گئے آسان ماڈل میں تبدیلی کریں اور بچت کو لیں تو اس سے یہ خصوصی نتیجہ بدل جائے گاکہ معیشت کی آمدنی کا کل تخمینہ ناقابل تبدیل ہوگا۔ خواہ اس کا شمار B,Aیا Cکسی صورت میں کیا جائے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نتیجہ بنیادی طریقے سے نہیں بدلتا ۔ نظام کتناپیچیدہ کیوں نہ ہو، تینوں طریقوں سے تخمینہ کردہ اشیا اور سالانہ پیداوار ایک سی ہوںگی۔ہم نے دیکھا کہ کسی معیشت میں اشیا اور خدمات کی کل قدر کا شمار تین طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اب ہم ان شماریات کاتفصیلی مراحل میں ذکر کریں گے۔
ہم نے دیکھا کہ کسی معیشت میں پیدا کی جانے والی اشیا اور خدمات کی مجموعی قدر کو تین طریقوں سے شمار کیا جا سکتا ہے۔اب ہم اس شمار کے تفصیلی اقدامات کے بارے میں بحث کریں گے۔
2.2.1 مصنوعات یا اضافی قدرکاطریقہ(The Product or Value Added Method)
پیداواری طریقے میں ہم تیار اشیا اور خدمات کی سالانہ قدر کا شمار کرتے ہیں (اگر ایک سال وقت کی اکائی ہو)۔ اس کا شمار کیسے کیا جائے؟ کیا ماہرین معیشت کی سبھی فرموں کے ذریعہ تیار کی گئی اشیا اور خدمات کو جمع کرتے ہیں؟ ان سوالات کو سمجھنے میں درج ذیل مثال سے مدد     ملے گی۔
مان لیجیے کہ معیشت میں صرف دو طرح کی پیداکارہیں۔ وہ گیہوںکے پیدا کار (کسان) اور بریڈ بنانے والے (Bakers) ہیں۔ گیہوں کے پیداکار گیہوں اگاتے ہیں اور انھیں انسانی محنت کے علاوہ کسی طرح کی در آمد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ وہ گیہوں کا کچھ حصہ بریڈ بنانے والے کو فروخت کرتے ہیں ۔ بریڈ بنانے والے کو بریڈ کی پیداوار میں گیہوں کے علاوہ دیگر کسی کچے مال کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ مان لیجیے کہ ایک سال میں کسانوں کے ذریعہ گیہوں کی جو پیداوار کی گئی ہے اس کی قیمت 100روپیے ہے ۔ اس میں سے وہ 50روپیے کا گیہوں بیکری والے کو فروخت کرتے ہیں۔ بیکری والے گیہوں کی اس مقدار کا استعمال کر کے ایک سال کے دوران 200روپیے کی بریڈ بناتے ہیں ۔ معیشت میں کل پیداکار کی قیمت کتنی ہے؟ اگر ہم شعبوںکی پیداوار کی قدروں کی جمع آسان طریقے سے نکالیں تو ہم 200روپیے (بیکری والوں کی پیداوارکی قیمت )اور 100روپیے (کسانوں کی پیداوار کی قیمت) کو جوڑ دیں گے تو نتیجہ 300روپیے آئے گا۔
تھوڑی سی غور و فکر کے بعد ہم دیکھیں گے کہ کل پیداوار کی قیمت 300روپیے نہیں ہے۔ کسان 100روپیے کے گیہوں کی پیداوار کرتا ہے جس کے لیے اسے کسی طرح کے درآمدات کے مدد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔لہٰذا کسان جائز طور پر پورے 100روپیے کے اشتراک کا حق دار ہے۔ لیکن یہ بات بیکری والوں کے بارے میں سچ نہیں ہے ۔ بیکری والوں کو اپنی بریڈ کی پیداوار کے لیے 50روپیے کا گیہوں خریدنا پڑتا ہے ۔ 200روپیے کابریڈ جس کی وہ پیداوار کرتے ہیں، اس میں ان کا پوری طرح اشتراک نہیں ہے۔ بیکری والوں کے خالص اشتراک کے شمار کے لیے ہمیں گیہوں کی قیمت کوگھٹانا ہوگا جو کہ وہ کسان سے خرید تے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو دوہرے شمار کی غلطی ہوجائے گی۔ کیونکہ گیہوں کی 50روپیے کی قیمت کا شمار دو بار ہو جائے گا ۔ پہلی بار تو اس کا شمار کسانوں کے ذریعہ کی گئی پیداوار ماحصل کے حصے کے طور پر ہوگا ۔ دوسری بار اس کا شمار بیکری والوں کے ذریعہ تیار کی گئی بریڈ میں گیہوں کی منسوب قیمت کی شکل میں ہوگا۔
لہٰذابیکروں کا خالص اشتراک =150 200-50روپیے ہے۔ لہٰذا اس سادہ معیشت میں اشیاکی کل پیداوار 100روپیے (کسانوں کا خالص اشتراک ) 150+ روپیے (بیکروں کا خالص اشتراک) 250روپیے ہے۔
فرم کے خالص اشتراک کو ظاہر کرنے کے لیے جس اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔اسے اضافۂ قدر کہاجاتاہے۔ ہم نے دیکھا کہ کوئی فرم دوسری فرم سے جو کچا مال خریدتی ہے۔ اس کو پیداواری عمل میں پوری طرح صرف کر لیاجاتا ہے انھیں درمیانی اشیا کہا جاتا ہے۔ لہٰذا کسی فرم کی اضافۂ قدرفرم کی پیداوار کی قیمت –فرم کے ذریعہ استعمال شدہ درمیان اشیا کی قیمت ہے۔فرم کی اضافۂ قدرکی تقسیم پیداوار کے چاروں عوامل میں کی جاتی ہے۔ یہ عوامل ہیں : محنت ، پونجی، کاروباری مہم جوئی اور زمین۔ اس لیے ایک فرم کے ذریعہ ادا کی گئی مزدوری ، سود ، منافع اور لگان کو اضافۂ قدرمیں جوڑاجاناچاہیے ۔ اضافۂ قدرایک رواں متغیر ہ ہے ۔ 
درج بالا مثالوں کو جدول 2.1کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔
جدول 2.1: پیداوار ، درمیانی اشیا اور اضافۂ قدر

کسان
بیکری والا
کل پیداوار
100
200
استعمال کی گئی درمیانی اشیا
0
50
اضافۂ قدر
100 
=150 –50 200
یہاں پر سبھی متغیرات کا اظہار زر کی شکل میں کیا گیا ہے۔ ہم یہاں درج فہرست مختلف متغیرات کی قدر شناسی کے لیے اشیا کی بازاری قیمت پر غور کر سکتے ہیں۔ ہم پیداوار کے سلسلے میں اور زیادہ عوامل کو شامل کر سکتے ہیںاور اسے زیادہ حقیقی اور پیچیدہ بنا سکتے ہیں ۔ مثال کے طورپر، کسان گیہوں کی پیداوار کے لیے فرٹلا یزروں یا کپڑے مار ادویات کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ان در آمدات کی قیمت کوگیہوں کی بر آمد کی قیمت سے گھٹانا ہوگا یا بیکری والے بریڈ ریسٹورینٹ کو فروخت کر سکتے ہیں جس کی اضافۂ قدرکا شمار درمیانی اشیا کی قیمت کو گھٹا کر (بریڈ کے معاملے میں )کرنا ہوگا۔
ہم نے پہلے ہی فرسودگی کا تعارف کرایا ہے، جسے قائم اصل کے صرف کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ چونکہ پیداوار کے عمل کو انجام دینے کے لیے استعمال کی جانے والی پونجی میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔ پونجی کی قدر کو قائم رکھنے کے لیے پیداکار کو بدل سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے۔ بدل سرمایہ کاری پونجی کی فرسودگی ہی ہے۔ اگر ہم اضافۂ قدرمیں فرسودگی کو شامل کرتے ہیں تو ہمیں اضافۂ قدرکی جو پیمائش حاصل ہوگی اسے کل اضافۂ قدرکہا جاتا ہے ۔ اگر ہم کل اضافۂ قدرسے فرسودگی کو گھٹائیں تو خالص اضافۂ قدرحاصل ہوتا ہے۔ کل اضافۂ قدر   کے بر عکس خالص اضافۂ قدرمیں پونجی کی ٹوٹ پھوٹ شامل نہیں ہے۔مثال کے طور پر کوئی فرم سالانہ 100روپیے قیمت کی پیداوار کرتی ہے اس سال 20روپیے کی درمیانی اشیا کا ستعمال کیا جاتاہے اور پونجی صرف کی قدر 10روپیے ہے تو فرم کی کل اضافۂ قدر 100 – 20= 80روپیے سالانہ ہوگی۔ خالص اضافۂ قدر100– 2010– =70روپیے سالانہ۔
غور کیجییکہ اضافۂ قدرشمار کرتے وقت فرم کی پیداوار کی قدر شمارکی جاتی ہے۔ لیکن فرم اپنی ساری پیداوار کو فروخت نہیں کر پاتی ہے۔ اس صورت میں سال کے آخر میں اس کے پاس کچھ غیر فروخت شدہ اسٹاک ہوگا۔اس کے برعکس ایسا بھی ہوسکتاہے فرم کے پاس پیداوارشروع کرنے سے پہلے کچھ غیر فروخت شدہ اسٹاک موجودہوسال کے دوران فرم کے ذریعہ بہت کم پیداوارہوگی لیکن اس سال کے شروع میں جو اسٹاک اس کے پاس تھا۔ اسے فروخت کر کے بازار میں مانگ کی تکمیل ہوگی۔ ہم ان اسٹاکوں کے ساتھ کیابرتائوکریںگے جو کوئی فرم ارادتاً یا نہ چاہتے ہوئے اپنے پاس رکھتی ہے؟ مزید برآں ہم یہ بھی یادرکھیں کہ ایک فرم دوسری فرم سے کچا مال خریدتی ہے۔ کچے مال کا وہ حصہ جو پورا صرف ہو جاتاہے اسے درمیانی شے کے طور پر زمرہ بند کیا جاتاہے اس حصے کاکیا ہوتا ہے جس کا پوری طرح استعمال نہیں ہوتا ہے؟
معاشیات میں غیر فروخت شدہ اشیا یانیم تیارشدہ اشیا یا کچے مال کا اسٹاک جو کوئی فرم ایک سال سے اگلے سال تک رکھتی ہے، اسے مال نامہ (Inventory)کہتے ہیں۔ مال نامہ ایک اسٹاک متغیرہ ہے ۔ سال کے شروع میں اس کی کم قدر ہو سکتی ہے اور سال کے آخر میں اس کی زیادہ قدر ہو سکتی ہے اس صورت میں ، مال نامہ میں اضافہ (ذخیرہ ) ہوتا ہے۔ اگر مال نامہ کی قدر سال کے شروع کے مقابلے سال کے آخر میں کم ہو تو مال نامہ میں کمی (غیر جمع کاری )ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم یہ نتیجہ اخذکر سکتے ہیں کہ ایک سال کے دوران کسی فرم کے مال نامے میں تبدیلی   سال کے دوران فرم کی پیداوار -سال کے دوران فرم کی فروخت ۔
نشان مماثلہ کو ظاہر کرتا ہے ۔مساوات (’=‘)نشان کے برعکس مماثلہ نشان میں دائیں طرف کی اشیا اوربائیں طرف کی اشیا کے درمیان مساوات نہیں دیکھی جاتی بلکہ مماثلت ہمیشہ ان سے قطع نظر ہوتی ہے مثال کے طورپرہم 4, 2 + 2لکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمیشہ صحیح ہے لیکن 2 × x = 4.ہمیں ضر ور لکھنا چاہیے کیونکہ x کی ایک خاص مقدارکو2سے ضرب کرنے پر حاصل 4ہوتا ہے (یعنی جب 2=  x) ہمیشہ نہیں ۔ 4. 2 × xہم نہیں لکھ سکتے ہیں ۔
مشاہدہ کیجیے کہ فرم چونکہ کی پیداوار   اضافۂ قدر+فرم کے ذریعہ استعمال اشیا ایک سال کے دوران فرم کے مال نامے میں تبدیلی    قیمت افزودہ +فرم کے ذریعہ استعمال شدہ درمیانی اشیا سال کے دوران فرم کی فروخت ۔
مثال کیطورپر مان لیجیے کہ فرم کے پاس سال کے شروع میں 100 روپیے قیمت کا نافروخت اسٹاک تھا ۔سال کے دوران اس نے 1,000 روپیے کی شے کی پیداوار کی جس میں سے 800 روپیے کی اشیاکی فروخت ہوئی ۔لہٰذا پیداو ار اورفروخت کے درمیان فرق 200 روپیے مال نامے میں تبدیلی ہے ۔ یہ 100 روپیے قیمت کے مال نامے میں جڑجائے گا جس سے کہ فرم نے پیداوار شروع کی تھی۔لہٰذا سال کے آخر میں مال نامہ 100 200+ =300 روپیے ہے ۔یادرکھیںکہ مال نامے میں تبدیلی ایک مدت کے ہوتی ہے اس لیے اسے بہاؤمتغیرہ (Flow variable )کہتے ہیں ۔
مال نامہ پونجی کے طورپر سمجھا جاتا ہے فرم کے پونجی اسٹاک میں اضافہ کو سرمایہ کاری کہتے ہیں ۔لہٰذا مال نامے میں تبدیلی کو سرمایہ کاری کے طورپر سمجھا جاتا ہے ۔سرمایہ کاری کے تین اہم زمرے ہیں ۔پہلا،ایک فرم کی ایک سال میں مال نامہ کی قدر میں اضافہ ،اسے فرم کی سرمایہ کاری یااصلی اخراجات کہاجاتاہے ۔اصل کاری کا دوسرا زمرہ مقررہ کا روباری اصل کا ری ہے ،جیسے مشینری ،فیکٹری ،عمارت ،فرم کے ذریعہ لگائے سازوسامان میںاضافہ کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے ۔اصل کاری کا آخری زمرہ رہائشی اصل کاری ہے جو رہائشی سہولت کے اضافہ کو ظاہرکرتی ہے۔
مال نامے میں تبدیلی منصوبہ بند یا غیر منصوبہ بند ہوسکتی ہے ۔فروخت میں غیر متوقع گرواٹ کی حالت میں فرم کے پاس اشیاکا غیرفروخت شدہ اسٹاک ہوگا،جس کے بارے میں وہ توقع نہیں کرتی تھی ۔لہٰذا یہ مال نامے کی غیر منصوبہ بند جمع کاری ہوگی اس کے برعکس جہاں فروخت میں غیر متوقع اضافہ ہوگا ۔وہاں مال نامے میں غیر منصوبہ بند غیرجمع کاری ہوگی ۔
اس کی وضاحت درج ذیل مثال کی مدد سے کی جاسکتی ہے ۔مان لیجیے کوئی فرم قمیص بناتی ہے اس کے پاس سال کے شروع میں 100 قمیص کا مال نامہ ہے ۔اگلے سال وہ 1000 قمیص فروخت کرنے کی امید کرتی ہے ۔لہٰذا وہ 1000 قمیص کی پیداوارکرتی ہے اورسال کے آخر میں 100 قمیص کا مال رکھنا چاہتی ہے ۔لیکن سال کے دوران غیر متوقع طورپر قمیص کے فروخت میںکمی آجاتی ہے ،فرم صرف 600 قمیص ہی فروخت کرپاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 400 قمیص غیرفروخت شدہ رہ جاتی ہے ۔سال کے آخر میں فرم کے پاس 400+100 = 500 قمیص ہیں ۔مال نامے میں 400 کا غیر متوقع اضافہ مال نامہ میں جمع کاری کی مثال ہے ۔اس کی برعکس اگر فروخت 1000 سے زیادہ ہوتی تو وہ بھی مال نامے میں غیر منصوبہ بند غیرجمع کاری ہوتی ۔مثال کے طورپراگر فروخت 1050 ہوتی تونہ صرف 1000 قمیصوں کی فروخت ہوتی بلکہ فرم کو مال نامے سے بھی 50 قمیص کی فروخت کرنی پڑتی۔ مال نامے میں یہ 50کی  غیر متوقع کٹوتی مال نامے میں غیر متوقع غیرجمع کاری کی مثال ہے ۔
 مال نامے میں منصوبہ بند جمع کاری یاغیرجمع کاری کی مثال کیا ہوسکتی ہے ؟ مان لیجیے کسی سال کے دوران فرم مال نامے میں 100 قمیص سے200قمیص کا اضافہ کرنا چاہتی ہے۔سال کے دوران1000کی امیدکرتے ہوئے(پہلے کی طرح)فرم 1100=100+1000 قمیصوں کی پیداوار کرتی ہے ۔اگر فروخت واقعی میں 1000قمیص ہے تو فرم کے مال نامے میں واقعی اضافہ ہوتا ہے ۔مال نامے کانیا اسٹاک 200 قمیص ہے جو اصل میں فرم کا منصوبہ تھا ۔یہ اضافہ مال نامے میں منصوبہ بند جمع کاری کی مثال ہے ۔اس کے برعکس اگر فرم مال نامے میں 100 سے 25 تک کٹوتی کرنا چاہتی ہے ،تو وہ 925=75-1000 قمیص کی پیداوار کرتی ہے کیونکہ 100 قمیص کے مال نامے میں سے وہ 75قمیص فروخت کرنے کا ارادہ کرتی ہے (تاکہ سال کے آخر میں مال نامہ 25=75–100 قمیص ہوجائے۔جو فرم کی مرضی ہے )اگر فرم کے ذریعہ کی گئی فروخت اصل میں1000 ہوگئی تو فرم کے منصوبے کے مطابق مال نامہ کٹ کر25ہوجائے گا۔
مال فہرست میں غیر منصوبہ بند او رمنصوبہ بند تبدیلی کے درمیان فرق کے بارے میں ہم اگلے ابواب میںمزید ذکر کریں گے ۔
مال نامے میں تبدیلی کی آگاہی کے لیے ہم اسے اس طرح لکھ سکتے ہیں :
فرم کی کل اضافۂ قدر(GVAi )  فرم i کے ذریعہ پیدا کی گئی برآمد کی کل قدر (Qi )– فرم کے ذریعہ استعمال کی گئی درمیانی اشیا کی قدر (Zi )
GVAi   فرم کی فروخت کی گئی قدر (Vi )+ مال نامے میں تبدیلی کی قدر (Ai )–فرم کے ذریعہ استعمال شدہ درمیانی اشیا کی
 قدر (Zi )      (2.1)
مساوات (2.1 )اس طرح اخذ کیا گیا ہے : سال کے دوران فرم کے مال نامے میں تبدیلی سال کے دوران فرم کی پیداوار۔سال کے دوران فرم کی فروخت ۔
یہ قابل ذکر ہے کہ فرم کی فروخت میں گھر یلوخریداروں کو کی گئی فروخت ہی نہیں بیرونی خریداروں کوکی گئی فروخت بھی شامل ہوتی ہے (اسے برآمد کہا جاتا ہے )یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اوپر بیان کیے گئے سارے متغیرات بہاؤمتغیرات ہیں ۔عام طورپر ان کی پیمائش سالانہ بنیادپر ہوتی ہے ،لہٰذایہ سالانہ بہاؤ کی قدر کی پیمائش کرتے ہیں ۔
فرم i کا خالص قیمت یااضافۂ قدر فرم  i کی  فرسودگی (Di )
اگر ہم ایک سال میں معیشت کی سبھی فرموں کی کل اضافۂ قدر کی جمع نکالیں تو ہمیں سال میں معیشت میں پیدا اشیا اورخدمات کی کل مقدار کی قدر حاصل ہوتی ہے(جیسے کہ ہم نے پہلے گیہوں بریڈوالی مثال میں کیا تھا)اس طرح کاشمار کل گھر یلوپیداوار(Gross Domestic Product) (GDP )کہلاتا ہے ۔لہٰذا GDP  معیشت کی سبھی فرموں کی کل اضافۂ قدر کی کل جمع ہوتی ہے۔
اگر معیشت میں لازم فرم ہوں اورہر ایک کو L سے N نمبر شمار میں لکھا جائے تو GDP  معیشت کی سبھی فرموں کے کل اضافۂ قدر کی کل جمع  
 
اس لیے
    (2.2)
علامت  مختصر نویسی ہے : اس کا استعمال کل جمع کو ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔مثال کے طورپر  کے برابر ہوگا ،اس معاملے میں سبھی N فرموںکی کل اضافۂ قدر کی کل جمع کو بتاتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ فرم iکا خالص اضافۂ قدر ،  کل اضافۂ قدرمیںسے فرم کے ذریعہ استعمال شدہ پونجی کی ٹوٹ پھوٹ کو گھٹانے پر حاصل ہوتا ہے ۔
اس طرح 
اس لیے  
یہ i فرم کے لیے ہے ۔فرم کی تعداد N تک ہے ،لہٰذا پوری معیشت کی کل گھر یلوپیداوار جوکہ سبھی N فرموں کی اضافۂ قدر کی کل جمع ہے ، N فرموں کے خالص اضافۂ قدراور فرسودگی کی کل جمع ہوگی ۔(مساوات 2.2 سے ) 
دوسرے لفظوں میں 
اس سے پتہ چلتا ہے کہ معیشت کی کل گھریلو پیداوار (GDP)معیشت کی سبھی فرموں کے خالص اضافۂ قدر اور فرسودگی کی کل جمع ہوتی ہے۔ سبھی فرموں کی خالص اضافۂ قدر کی جمع کو خالص گھریلو پیداوار(Net Domestic Product) (NDP)کہتے ہیں۔ 
علامتی طور پر  
2.2.2  طریقۂ خرچ (Expenditure Method)
کل گھریلو پیداوار کے شمار کا ایک متبادل طریقہ جو پیداوار کی مانگ کے رخ کو نظر میں رکھتا ہے ،اسے طریقۂ خرچ کہتے ہیں۔درج بالاکسان بیکروالی مثال میں جس کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں ،معیشت میں طریقۂ خرچ سے برآمد کی کل قدر کا شمار درج ذیل طریقے سے ہوگا ۔اس طریقہ میں ہر ایک فرم کے ذریعہ حاصل آخر ی ا خراجات کی جمع حاصل کرتے ہیں ، آخری خرچ ،خرچ کا وہ جزوہے جسے ثانوی مقاصد سے اختیار نہیں کیا جاتا ہے ۔بیکر کسان سے 50 روپیے قیمت کا گیہوں خریدتاہے یہاں گیہوں درمیان شے ہے ۔لہٰذایہ آخری خرچ کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔ اس طرح معیشت کی بر آمد کی کل قدر 200 روپیے (بیکر کے ذریعہ حاصل آخری خرچ )50+ روپیے (کسان کے ذریعہ حاصل آخری خرچ)250= روپیے سالانہ ۔
فرم iدرج ذیل کھا توں میںآخری خرچ کرسکتی ہے (a) فرم کے ذریعہ پیدااشیا اورخدمات کے آخری صرف پرکیاگیاخرچ ۔اسے ہم  سے ظاہر کرتے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ ا کثر خاندان صرف پرہی خرچ کرتے ہیں ۔اس کا استثنا بھی ہوسکتا ہے جیسے فرم اپنے مہمانوں کے ملا زموں کے لیے قابل صرف اشیاخریدتی ہے ۔(b)فرم i کی ذریعہ پیدا کی گئی اصل کا ری اشیا پر دوسرے فرموں کے ذریعہ واقع آخری اصل کاری خرچ  ہیں ۔ مشاہدہ کیجیے کہ درمیانی اشیاجو کل گھر یلوپیداوار کے شمار میں شامل نہیں ہیں لیکن درمیانی اشیاکے خرچ کے بر خلاف اصل کاری خرچ کو شامل کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ اصل کاری اشیافرم کے پاس ہوتی ہے جب کہ پیداواری عمل میں درمیانی اشیا کا صرف ہوجاتاہے ۔(c)وہ خرچ جو حکومت فرم i کے ذریعہ تیارشدہ آخری اشیااورخدمات پر کرتی ہے ۔ہم اسے  کے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں ہم دکھا سکتے ہیں کہ حکومت کے ذریعہ واقع آخری خرچ میں صرف اوراصل خرچ دونوں شامل ہیں ۔(d)برآمد محاصل جو فرم غیر ملکوںمیں اپنی اشیا اورخدمات کو فروخت کرکے کماتی ہے اسے  کے ذریعہ ظاہر کیا جائے گا ۔
اس طرح فرم کے ذریعہ حاصل محاصل کی کل جمع کو درج ذیل طورپر دکھایا جاتا ہے 
 فرم کے ذریعہ حاصل آخری صرف ، اصل کاری حکومتی اور برآمد سے متعلق اخراجات کی کل جمع 
 
اگر فرموں کی تعداد N ہوتو N تک فرموں کی کل جمع ہمیں حاصل ہوگی ۔
 معیشت کی سبھی فرموں کے ذریعہ حاصل آخری صرف ،اصل کاری حکومتی اوربرآمد سے متعلق اخراجات کی کل جمع ۔
   (2.3)
کل معیشت کا کل آخری صرف خرچ  C  مان لیجیے ۔غورکیجیے کہ C کاایک جزو صرفی اشیاکے در آمد ات پر خرچ کیا جاتا ہے مانلیجیے کہ صرفی اشیاکی درآمد پر خرچ   کے  ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے ۔لہٰذا اسے گھریلو فرموں کے اوپر کل آخری صرف ظاہر ہوتا ہے۔اس طرح   سے گھریلوفرموں کے اوپر کل آخری اصل کاری خرچ ظاہر ہوتا ہے ۔جہاں I معیشت کا کلی آخری اصل کاری خرچ ہے اور اس میں سے  غیر ملکی اصل کاری اشیاپر خرچ کیاجاتا ہے ۔اسی طرح   کل آخری سرکاری خرچ کا جز ہے جس کا خرچ گھر یلوفرموں پر ہوتا ہے جہاں معیشت میں حکومت کا کل خرچG ہے اور  وہ جز ہے ،جس کا خرچ حکومت درآمدات پر کرتی ہے۔
لہٰذا  معیشت میں سبھی فرموں کے ذریعہ حاصل آخری صرفی خرچ کی کل جمع معیشت میں سبھی فرموں کی ذریعہ آخری اصل کاری خرچ کی کل جمع  معیشت میں سبھی فرموں کی ذریعہ حاصل آخری سرکاری خرچ کی کل جمع    مساوات 2.3 میں ان کو رکھنے پر پرہمیں حاصل ہوگا ۔
 
 
    º C + I + G + X – M
یہاں معیشت کی برآمد پر غیر ملکیوں کے ذریعہ کیے گئے کل خرچ کو ظاہر کرتا ہے ۔ معیشت کے ذریعہ واقع کل درآمد خرچ ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ  معیشت میں سبھی فرموں کی ذریعہ حاصل آخری خرچ کی کل جمع ۔
دوسرے لفظوں میں 
    2.4) (
 مساوات (2.4)طریقۂ خرچ کے مطابق کل گھریلو پیدا وار کو ظاہر کرتی ہے۔
 2.2.3 طریقۂ آمدنی 
شروع میں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ معیشت میں آخری صرف کی جمع پیداوار کے سبھی عوامل کی شامل آمدنی (آخری شے پر کیا گیا خرچ ہے ،اس میں درمیانی شے پر کیا گیا خرچ شامل نہیں ہے )کے برابر ہوتی ہے یہاں اس عام تصورکی تعمیل ہوتی ہے کہ سبھی فرموں کے ذریعہ مجموعی کمائی گئی آمدنیوں کی تقسیم پیداوار کے عوامل کے درمیان تنخواہوں،اجرتوں ،منافع ،سود کی کمائیوں اورکرایوں کے طورپر ہونی چاہیے۔مان لیجیے کہ معیشت میں خاندانوں کی تعداد M ہے ۔i ویں خاندان کے ذریعہ کسی خاص سال میں حاصل مزدوری اورتنخواہ کو یہاں مان لیں ۔اس طرح  علی الترتیب لگان،سودکی ادائیگی اورکل منافع مان لیں جو کہ i ویں خاندان کے ذریعہ کسی مخصوص سال میں حاصل ہوتا ہے ،لہٰذا کل گھر یلو پیداواردرج ذیل طورپر ظاہر کی جائے گی۔
  (2.5)
یہاں، 
(2.2 )،(2.4 )اور(2.5) کو ایک ساتھ لینے پر ہمیں حاصل ہوگا 
  2.6) (
یہ ظاہر ہے کہ مماثلہ2.6) (میں I فرم کے ذریعہکی گئی منصوبہ بنداورغیر منصوبہ بنداصل کاری کے مجموعہ جمع کوظاہر کرتا ہے ۔
چونکہ مماثلہ (2.2) ،(2.4) اور2.6) (ایک ہی طرح کے متغیرہ ،کل گھریلو پیداوار کی الگ الگ شکلیںہیں ،اس لیے ہم شکل 2.2  کے ذریعہ مساوات کوپیش کرسکتے ہیں ۔
آئیے اب ہم ایک عدد مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مذکورہ تینوں طریقوں سے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ٹی پی) کا تخمینہ یکساں ہی حاصل ہوگا۔ 
مثال :۔ فرض کیجیے کہ دو فرمیں، A اور B ہیں۔ فرض کیجیے کہ فرم A کوئی خام مال استعمال کیے بغیر ہی 50 روپے کی کپاس پیدا کرتی ہے۔ اور اپنی کپاس فرم B کو فروخت کر دیتی ہے۔ فرم B اس کپاس سے کپڑا تیار کرتی ہے اور یہ کپڑا صارفین کو 200 روپے میں فروخت کرتی ہے
(1) پیداوار یا قدر میں اضافے کے طریقۂ کار سے جی ڈی پی :
یاد کریں۔ = VA2 فروخت -   درمیانی اشیا
یعنی ۔ = 50 – 0 = 50   VAA
200 – 50 = 150
GDP = VA+VAB = 200
                                یہ جدول 2.2 میں دکھا سکتے ہیں
فرم اے (A)
فرم بی (B)
فروخت
50
 200
درمیانی اشیا کا استعمال 
0
50
قدر میں اضافہ 
50
150
(2) اخراجات کے طریقہ کار میں جی ڈی پی :
یاد کریں۔ جی ڈی پی =    کل اخراجات کا جوڑ یا اشیا اور خدمات پر صارفین کے ذریعہ کیے گئے اخراجات
یعنی۔ جی ڈی پی =    200
(3) آمدنی کے طریقہ کار سے جی ڈی پی :
آئیے ہم پھر فرم A اور فرم B کی مثال دیکھیں ۔ فرض کریں فرم A نے جو 50 روپے حاصل کیے اس میں فرم نے 20 روپے مزدوری کے ادا کردیئے اور باقی 30 روپے اپنا منافع رکھا۔ اسی طرح فرم B، 60 روپے مزدوری کے ادا کرتی ہے اور 90 روپے اپنے پاس منافع رکھتی ہے۔ 
اب آمدنی سے جی ڈی پی نکالنے کا فارمولہ دیکھیں ۔ جی ڈی پی = سبھی کی آمدنی کا جوڑ۔ اس میں مزدوروں کی حاصل شدہ مزدوری ، A اور B فرموں کا منافع، سبھی شامل ہوگا۔
یعنی 80+120=200 
جدول 2.3  =   فرم A اور فرم B کی آمدنی کی تقسیم 

فرم اے (A)
فرم بی (B)
مزدوری 
20
 60
منافع
30
90
2.2.4  عامل لاگت ، بنیادی قیمت اور مارکیٹ قیمت(Factor Cost, Basic Price and Market price
ہندوستان میں قومی آمدنی کا تخمینہ لگانے کا سب سے مقبول طریقہ کار عامل لاگت پر جی ڈی پی کا طریقہ کار ہے۔ حکومت ہند کا شماریات کا مرکزی دفتر (CSO) جی ڈی پی کا تخمینہ عامل لاگت اور مارکیٹ قیمت کی بنیادپر تیار کرتا ہے۔ جنوری 2015 میں CSO نے اپنے طریقہ کار پر نظر ثانی کرتے ہوئے عامل لاگت پر جی ڈی پی کی جگہ بنیادی قیمت پر جی وی اے  (GVA)اور GDP مارکیٹ قیمت پر اپنا یا ہے، اور اسے  اب صرف GDP کہا جاتا ہے اور یہ سب سے مقبول طریقہ کار ہے ۔ 
GVA کے نظریے پر پہلے ہی بحث کی جا چکی ہے : یہ ایک معیشت میں کل ماحصل (Output)کا قدر ہے جس میں درمیانی صرف (وہ ماحصل جسے مزید پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے اور جو قطعی صرف میں استعمال نہ ہو) کو کم کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہاں ہم بنیادی قیمت کے نظریے پر بحث کریں گے۔ عامل لاگت، بنیادی قیمت اور مارکیٹ قیمت کے درمیان فرق کل پیداواری ٹیکس (پیداواری ٹیکس- پیداواری سبسڈی) اور شے پر کل ٹیکس (شے پر کل ٹیکس-شے پر سبسڈی) کے فرق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پیداواری ٹیکس اور سبسڈی کی وصولی یا ادائیگی پیداوار پر کی جاتی ہے اور یہ دیگر پیداوار جیسے زمین کا لگان ، اسٹامپ اور رجسٹریشن فیس وغیرہ سے الگ ہوتی ہے۔ دوسری جانب شے پر ٹیکس اور سبسڈی کسی شے کے فی یونٹ کے حساب سے وصولی یا اداکی جاتی ہے، مثال کے طور پر ایکسائیز ٹیکس، سروس ٹیکس، درآمداتی یا برآمداتی ڈیوٹی وغیرہ ۔ عامل لاگت میں صرف پیداواری عوامل کے لیے کی گئی ادائیگی شامل ہوتی ہے اور اس میں کوئی ٹیکس شامل نہیں ہوتا۔ مارکیٹ قیمت حاصل کرنے کے لیے ہمیں عامل لاگت میں کل بالواسطہ ٹیکس کو جوڑ کر اس میں کل سبسڈی گھٹانی ہوگی۔ بنیادی قیمت اس کے درمیان ہوتی ہے:–  اس میں پیداوری ٹیکس شامل ہوتے ہیں (پیداوری سبسڈی گھٹا کر) لیکن شے پر ٹیکس شامل نہیں ہوتے (شے پر سبسڈی گھٹا کر) –  ا س لیے ہمیں مارکیٹ قیمت حاصل کرنے کے لیے انھیں شے پر ٹیکس (شے پر سبسڈی گھٹا کر) کو بنیادی قیمت میں جوڑنا ہوگا۔ 
جیساکہ اوپرکہا گیا ہے، اب CSO بنیادی قیمت پر GVA جاری کرتی ہے۔ اس لیے ، اس میں کل پیداوری ٹیکس شامل ہوتے ہیںلیکن شے پر کل ٹیکس شامل نہیں ہوتے۔ ہمیں GDP (مارکیٹ قیمت پر) حاصل کر نے کے لیے بنیادی قیمت GVA  میں شے پر کل ٹیکس کو ملانا ہوگا۔ 
اس طرح: عامل لاگت پر  +GVA کل پیداوری ٹیکس= بنیادی قیمت پر  GVA ہوگا۔ اور بنیادی قیمت پر  +GVA شے پر کل ٹیکس = مارکیٹ قیمت پر GVA ہوگا۔ 
باب کے آخر میں دی گئی جدول 2.5 میں جی ڈی پی (مارکیٹ قیمت پر)اور بنیادی قیمت پر جی وی اے کے اعداد وشمار دیے گئے ہیں جبکہ جدول 2.6 میں اخراجات کے ذریعہ جی ڈی پی کی ترتیب کی گئی ہے۔ 
2.3 کچھکلی معاشی مساوات مماثلہ 
کل گھریلو پیداوار میں کسی گھریلو معیشت کے تحت ایک سال کے دوران آ خری اشیااور خدمات کی کل پیداوار کی پیمائش کی جاتی ہے۔ لیکن اس کی کل پیداوار ملک کے عوام کا حال نہیں ہوسکتا ہے ۔مثال کے طورپر ہندوستان کے شہری سعودی عرب میں مزدوری کرسکتے ہیں اوریہ سعودی عرب کی کل گھریلو پیداوار میں شامل ہوگا لیکن قانونی طورپر وہ ایک ہندوستانی ہے۔ہندوستانیوں کے ذریعہ کمائی گئی آمدنی یا ہندوستان کی ملکیت کی پیداوار کے عوامل کی کمائی گئی آمدنی کی پیمائش کرنے کا کوئی طریقہ ہے ؟جب ہم اایسا کرتے ہیں تو تشاکل بنائے رکھنے کے لیے ہمیں غیر ملکیوں کے ذریعہ کمائی آمدنی ہماری گھریلو معیشت کی تحت کام کرتے ہیں یاغیر ملکیوں کی ملکیت والے پیداوار کے عوامل کو کی گئی ادائیگی کو ضرور گھٹا دیناچاہیے ۔مثال کے لیے ،کوریا ئی ملکیت کی ہنڈی کا رفیکٹری کے ذریعہ کمائے گئے فائدہ کو ہندوستا ن کل گھریلو پیداوار سے گھٹا نا ہوگا ۔کلی معاشی متغیرہ میں اس طرح کے جوڑ اورگھٹانے کو کل قوی پیداوار (GNP ) کہا جاتا ہے۔لہٰذا اس کی تعریف درج ذیل طورپر کی جاتی ہے ۔ 
کل قومی پیداوار ºGNPکل گھریلوپیداوار+GDPباقی دنیا میں روزگاریاغیر پیداوار کے گھریلو عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی ۔گھریلو معیشت میں ر وزگار یافتہ باقی دنیا کے پیدا وار کے عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی 
اس طرح کل قومی پیداوارº GNPکل گھریلو پیداوارGDP +بیرون ممالک سے حاصل خالص عامل آمدنی 
(بیرون ممالک سے حاصل خالص آمدنی ºباقی دنیا میں روزگاریافتہ پیداوار کے گھریلو عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی ۔ گھریلو معیشت میں روزگار یافتہ باقی دنیا کے پیداوار کے عوامل کے ذریعہ کمائی گئی عامل آمدنی )
ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ ٹوٹ پھوٹ کے سبب سال کے دوران پونجی کے ایک حصے کا صرف کرلیا جاتا ہے ۔اس ٹوٹ پھوٹ کو فرسودگی (depreciation )کہتے ہیں ۔ظاہر ہے فرسود گی کس شخص کی آمدنی کا حصہ نہیں بنتی ۔اگر ہم کل قومی پیداوار سے فرسودگی کو گھٹاتے ہیں تو ہمیں کل آمدنی جو پیمائش حاصل ہوتی اسے خالص قومی پیداوار کہتے ہیںاس طرح 
خالص قومی پیداوارNNP  ºکل قومی پیداوار GNP –فرسودگی 
قابل ذکر ہے کہ ان متغیر ات کا تعین قدر بازارقیمت پر کیا جاتا ہے درج بالا عبارت کے ذریعہ ہمیں بازار قیمت پر تشخیص شدہ خالص قومی پیداوار کی قدر حاصل ہوتی ہے لیکن بازارکی قیمت میں بالواسطہ ٹیکس شامل رہتے ہیں ۔بالواسطہ ٹیکس اشیا اورخدمات پر لگائے جاتے ہیں ۔نتیجتاً قیمت بڑھ جاتی ہے ۔بالواسطہ ٹیکس حکومت کو حاصل ہو تا ہے خالص قومی پیداوار کا وہ حصہ جو درحقیقت ٹیکس حکومت کو حاصل ہوتا ہے خالص قومی پیداوار کا وہ حصہ جو درحقیقت پیداوار کے عوامل کو حاصل ہوتا ہے ،اس کا شمار کرنے کے سلسلہ میں بازار قیمت پر تشخیص شدہ قومی خالص پیداوار سے بالواسطہ ٹیکسوں کو گھٹا یا جاتا ہے ۔اس طرح کچھ اشیاکی قیمتوں پر حکومت کے ذریعہ اعانت (Subsidy)فراہم کی جاسکتی ہے ۔(ہندوستان میں پٹرول پر حکومت بہت زیادہ ٹیکس لگاتی ہے جب کہ کھانا پکانے کی گیس پر ا عانت فراہم کی جاتی ہے)لہٰذا ہمیں بازار قیمتوں پر تشخیص شدہ خالص قومی پیداوار میں اعانت کو شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایسا کرنے پر ہمیں جو پیمائش حاصل ہوتی ہے اسے عامل لا گت پر خالص قومی پیداوارکہتے ہیں۔
خالص قومی پیداوارºبازارقیمت پر خالص قومی پیداوار –خالص بالواسطہ ٹیکس (خالص بالواسطہ ٹیکسºبالواسطہ ٹیکس –اعانت یعنی سبسڈی )
قومی آمدنی کو ہم پھر چھوٹے ذیلی زمروں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔اب ہم خاندان کے ذریعہ حاصل قومی آمدنی کے لیے عبارت یااظہار حاصل کریں ہم اسے ذاتی آمدنی کہیں گے ۔پہلاNI مان لیجیے کہ قومی آمدنی جو فرموں اورسرکاری کاروباری اداروں کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے، سے فائدہ کا ایک حصہ پیداوار کے عوامل کے درمیان تقسیم نہیں ہوتا ہے ،اسے غیر منقسم منافع Undistributed (UP) Profile 
کہتے ہیں ۔چونکہ غیر منقسم منافع خاندانوں کو نہیں حاصل ہوتا اس لیے ذاتی آمدنی حاصل کرنے کے لیے قومی آمدنی سے غیر منقسم منافع کو گھٹا دیا جاتا ہے، اسی طرح کارپوریٹ ٹیکس جو فرموں کی  آمدنی پر لگایا جاتا ہے ،کوبھی قومی آمدنی سے گھٹا نا ہوگا کیونکہ یہ خاندانوں کو حاصل نہیں ہوتا ہے ۔دوسری طرف ،خاندان نجی فرموں سے یاحکومت سے اپنے پیشگی قرض پر سود کی ادئیگی حاصل کرتا ہے ۔خاندان کو فرموں اورحکومتوں کو بھی سود اداکرنا پڑتا ہے ،اگر فرم اورحکومت سے زرقرض کے شکل میں اختیار کرتے ہیں توہمیں خاندانوں کے ذریعہ فرموں اور حکومت کواداکیے گئے خالص سود کو گھٹا نا ہوگا خاندان حکومت اور فرموں (مثال کے طورپر پنشن،وظیفہ ،انعامات )سے متبادل یافت یافلاحی ادئیگی حاصل کرتے ہیں ،خاندانوں کی ذاتی آمدنی کا شمار کرنے کے لیے ہمیں متبادل یافت کو جوڑنا ہوتاہے ۔
لہٰذا ذاتی آمدنی قومی آمدنی –غیر منقسم منافع –خاندانوں کے ذریعہ کی گئی خالص سود ادائیگی –کار پوریٹ ٹیکس +حکومت اورفرموں سے خاندانوں کو کی گئی فلاحی ادئیگی ۔
اگر ذاتی آمدنی پوری طرح خاندانوں کی آمدنی نہیں ہے تو انھیں ذاتی آمدنی سے ٹیکس ادائیگی کرنی پڑتی ہے ۔اگر ذاتی آمدنی سے نجی ٹیکس ادائیگی (مثال کے لیے انکم ٹیکس )اورغیر ٹیکس ادائیگی (جیسے جرمانے )کو گھٹادیں توہمیں جو حاصل ہوگا اسے ذاتی قابل صرف آمدنی کہتے ہیں اس طرح ذاتی قابل صرف آمدنی ذاتی آمدنی ۔ذاتی ٹیکس ادئیگی غیر ٹیکس ادائیگی ذاتی قابل صرف آمدنی خاندانوں میں کل آمدنی کا حصہ ہے ،وہ اس کے ایک حصے کے صرف کا فیصلہ لے سکتے ہیں اورباقی کی بچت کرسکتے ہیں ،شکل 2.3 میں ان اہم کلی معاشی متغیر کے درمیان رشتوں کوڈائیگرام کی  مدد سے پیش کیاگیا ہے ۔
کچھ اہم کلی معاشی متغیرات کا ایک جدول (سال 1990-91 تا2004-5 کے لیے موجودہ قیمتوں پر)باب کے آخر میں دیا گیا ہے جس سے پڑھنے والوں کو ان کی اصل قدروں کا سرسری علم طورپر حاصل ہوگا ۔

شکل: 2.3 :کل آمدنی کے ذیلی زمرے کا ڈائیگرام کی مدد سےNFIA-  :غیرملکیوں سے حاصل خالص عامل آمدنی D. :فرسودگی ،ID : باالواسطہ ٹیکس ، Sub : سبسڈی UP  : غیر منقسم منافع ، NIH:  خاندانوں کے ذریعہ خالص سود ادائیگیاں ،CT :کارپوریٹ ٹیکس ،TrH : خاندانوں کے ذریعہ حاصل متبادل یافت PTP ذاتی ٹیکس ادائیگی ،NP : غیر ٹیکس ادئیگی ۔

قومی قابل صرف آمدنی اورنجی آمدنی 
ہندوستان میں مجموعی کلی معاشی متغیرات کے ان زمروں کے علاوہ کچھ دیگر کل آمدنی زمرے بھی ہیں, جن کا ستعمال قومی آمدنی حساب کاری میں ہوتا ہے ۔
قومی قابل صرف آمدنی ºبازار قیمتوں پر خالص قومی پیداوار +باقی دنیا نے دوسرے ملکوں سے حاصل دیگر رواں متبادلات ۔
       قومی صارف آمدنی کے پیچھے تصوریہ ہے کہ اس سے معلومات ملتی ہے کہ گھریلومعیشت کے پاس اشیااورخدمات کی زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی ہے ،باقی دنیا سے رواں متبادلات میں عطیات ،امداد وغیرہ کی رقم شامل ہے ۔
  •نجی آمدنی ºقومی قرض سود + غیر ملکوں سے حاصل خالص عامل آمدنی +حکومت سے رواں متبادل +باقی دنیا سے دیگر خالص متبادلات ۔

جدول : 2.4:۔ بنیادی قومی آمدنی کا اوسط 
1
مارکیٹ قیمت پر کل مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی ایم پی)
جی ڈی پی دراصل ایک ملک کی پوری سرزمین پر ایک سال کے عرصے میںتیار ہونے والی اشیا اور خدمات کی مارکیٹ قدر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ 
ملک میں اس کے شہریوںیا غیر مقیم شہریوں کے ذریعہ کی گئی پیداوار اس میں شامل ہوتی ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ پیداوار کسی ملکی کمپنی نے کی ہے یا کسی غیر ملکی کمپنی کے ذریعہ کی گئی ہے۔ 
ہر چیز کا تخمینہ اس کی مارکیٹ قیمت سے لگایا جاتا ہے۔ 
GDPmp = C+I+G+×–M     
2
جی ڈی پی عامل لاگت پر  
(جی ڈی پی ایف سی)
عامل لاگت پر جی ڈی پی در اصل مارکیٹ کی قیمت پر مجموعی گھریلو پیداوار ہے جس میں کل پیداوری ٹیکس اور کل اشیا ٹیکس کم کر دی جاتی ہیں۔


مارکیٹ قیمت وہ ہوتی ہے جو صارف ادا کرتے ہیں۔ مارکیٹ قیمت میں اشیا پر عائد ٹیکس اور سبسڈی بھی شامل ہوتی ہے۔ عامل لاگت کا مطلب اشیا کی وہ قیمت ہے جو پیداکار حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح عامل لاگت برابر ہوگی۔ مارکیٹ کی اس قیمت کے جس میںکل بالواسطہ ٹیکس کم کردیے جائیں ۔ عامل لاگت پر جی ڈی پی دراصل ایک سال کے اندر ایک ملک کی گھریلو سرحدوں کے اندر فرموں کے ذریعہ پیدا کیے گئے ماحصل کی مجموعی قدر ہوتی ہے۔ 
GDPFC = GDPMP-NIT    
3
مارکیٹ قیمت پر کل گھریلو پیداوار
(این ڈی پی ایم پی)
اس تخمینے میں پالیسی ساز اس بات کا تخمینہ لگاتے ہیں کہ ملک کو موجودہ جی ڈی پی کو برقرار رکھنے کے لیے کتنا خرچ کرنا ہوگا۔ اگر کوئی ملک ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے مشینوں یا کیپیٹل اسٹاک میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو جی ڈی پی میں کمی ہو جائے گی۔
      NDPMP = GDPMP—D.e.p
4
عالی لاگت پر این ڈی پی 
(این ڈی پی ایف سی)
  مل لا گت پر این ڈی پی وہ آمدنی ہوتی ہے جو ایک ملک کی سرحدوں کے اندر اجرت، منافع، کرایہ اور سود وغیرہ کی شکل میں عوامل کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔ 
NDPFC = NDPMP—Net Product Taxes-     
Net Production Taxes     
5
مارکیٹ کی قیمت پر مجموعی قومی پیداوار (جی این پی ایم پی)
جی این پی ، ایم پی ان تمام اشیا اور خدمات کی مجموعی قدر ہوتی ہے جو ہندوستان کے عام باشندوں کے ذریعہ ایک سال میں تیار کی گئی ہیں اور ان کا تخمینہ مارکیٹ کی قیمت پر لگایا گیا ہے۔ 
جی این پی میں وہ تمام اقتصادی ماحصل شامل ہوتے ہیں جو ایک ملک کے شہریوں نے، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا بیرون ملک، تیار کیے ہوں۔
تمام اشیا کی قدر مارکیٹ کی قیمت پر لگائی جاتی ہے۔
GNPMP = GDPMP + NFIA      
6
جی این پی عامل لاگت پر 
(پی این پی ایف سی)
عامل لاگت پر جی این پی میں ایک سال کے اندر کسی ملک سے تعلق رکھنے والے پیداوار کے عوامل کے ذریعے حاصل کردہ ماحصل کی قدر کو ناپاجاتا ہے۔ 
GNPFC = GNPMP—Net Product Taxes-     
  Net Production Taxes         
7
مارکیٹ قیمت پر کل قومی پیداوار 
(ان این پی ایم پی)
اس میں تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ ایک ملک میں ایک مقررہ مدت کے اندر کتنا سامان استعمال (اصراف) کیا جاتا ہے۔ این این پی میں ماحصل کا تخمینہ لگایا جاتا ہے جس میں اس سے غرض نہیں کہ یہ پیداوار ملک میں یا بیرون ملک میں کی گئی ہے۔ 
NNPMP = GNPMP — Depreciation    
NNPMP = NDPMP + NFIA    
8
عامل لاگت پر این این پی 
(این این پی ایف سی)
عامل لاگت پر این این پی وہ کل آمدنی ہے جو ایک ملک میں سال کے دوران اجرت، منافع، کرایہ اور سود وغیرہ کی شکل میں پیداوار کے دوران تمام عوامل کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔ 
یہ قومی پیداوار ہے اور صرف قومی سرحد کے اندر کی پیداوار ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ کل گھریلو عامل آمدنی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے ہونے والی کل عامل آمدنی بھی ہوتی ہے۔
 NI = NNPMP —Net Product Taxes-    
Net Production Taxes      
      = NDPFC + NFIA = NNPFC      
9
مارکیٹ قیمت پر جی وی اے
مارکیٹ قیمت پر جی ڈی پی 
10
بنیادی قیمت پر جی وی اے
GVAMP —Net Product Taxes  •
11
 عامل لاگت پر جی وی اے
GVA at Basic Price — Net Production Taxes  •
2.4 :  برائے نام اور حقیقی جی ڈی پی(NOMINAL AND REAL GDP) 
اس پوری بحث میں ایک واضح مفروضہ ہے کہ اشیا اورخدمات کی قیمتیں ہمارے مطالعے کے دوران نہیں بدلتی ہیں ۔اگر قیمتوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔تو کل گھریلو پیداوار وں میں موازانہ کرنے میںمشکل پیداہوسکتی ہے ۔اگر ہم دولگاتار سالوں میں کسی ملک کی گھریلو پیداوار کی پیمائش کریں اوردیکھیں کہ گھریلو پیداواروں کی پیمائش دوسرے سال کی کل گھریلوپیداوار کا اعداد وشمار سابقہ سال کے اعداد وشمار کا دوگنا ہے تو ہم نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ملک کی پیداوار کی مقدار دوگنی ہوجائے گی لیکن یہ ممکن ہے کہ دونوں سالوں میں اشیا اورخدمات کی قیمتیں ہی صرف دوگنی ہوں ہیں جب کہ پیداوار قائم ہے ۔
لہٰذا مختلف ملکوں کی کل گھریلوپیداوار کے اعداد وشمار (دیگر کلی معاشی متغیرات )کے مقابلے یامختلف دقتوں میں ایک ہی ملک کی کل گھریلوپیداوار کی اعداد وشمار کا موازنہ کرنے کے سلسلے میں ہم رواں بازار قیمتوں پر تشخیص شدہ کل گھریلو پیداوار پر یقین نہیں کرسکتے ہیں۔ موازنہ کے لیے ہم حقیقی کل گھریلو پیداوار کی مدد لے سکتے ہیں ۔حقیقی کل گھریلو پیداوار کا شمار اس طرح کیا جاتا ہے کہ اشیا کی تشخیص قیمتوں کے کچھ قائم مجموعوں یا (قائم قیمتوں )پر ہوتا ہے ،چونکہ یہ قیمتیں قائم رہتی ہے اسی لیے اگر حقیقی کل گھریلو پیداوار میںتبدیلی ہوتی ہے تویہ یقینی ہے کہ پیداوار کی مقدار میں تبدیلی ہوگی ۔اس کے برخلاف رسمی کل گھریلو پیداوار (Nominal GDP) موجودہ قیمت پر کل گھریلو پیداوار کی محض قدر ہے مثال کے طورپر ،کوئی ملک صرف بریڈ کی پیداوار کرتا ہے سال 2000 میں اس نے بریڈ کی 100 اکائیوں کی پیداوارکی اور فی بریڈ قیمت10روپیے تھی موجودہ قیمت پرکل گھریلو پیداوار 1000 روپیے تھی ۔سال 2001 میں اس ملک میں 15 روپیے فی بریڈ کی قیمت پر بریڈ کی 110 اکائیوں کی پیداوارکی گئی ۔لہٰذا2001 میں رسمی کل گھریلو پیداوار 1650 روپیے (15x110 روپیے )تھی ۔2001 میں سال 2000  (سال 2000 کو اساسی سال کہا جائے گا ) کی قیمت پر حقیقی کل گھریلو پیداوار کا شمار کرنے پر 10x110روپیے=1,100روپیے ہوگا۔
غور کیجیے کے رسمی کل گھریلو پیداوار اور حقیقی کل گھریلو پیداوار کے تناسب سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیمت میں اساس سال (جس سال کی قیمتوں کا استعمال حقیقی کل گھریلو پیداوار کے شمار میں کیا جاتا ہے )کے مقابلے رواں سال میں کس طرح اضافہ ہوا،رواں سال کے حقیقی اوررسمی کل گھریلو پیداوار کے شمار میں پیداوار کی مقدار قائم رہتی ہے ۔لہٰذاان پیمائشوں میں فرق صرف بنیادی سال اوررواں سال کی قیمت میں فرق کے سبب ہی ہوتا ہے رسمی اورحقیقی کل گھریلو پیداوار کا تناسب معروف قیمت میں فرق کے سبب ہی ہوتا ہے اسے کلی گھریلو پیداوار تقلیل کار (Deflatir )کہتے ہیں ۔لہٰذا کل گھریلو پیداوار سے رسمی کل گھریلو پیداوار اورGDPسے حقیقی کل گھریلو پیداوار کوظاہر کرتا ہے ۔گھریلو پیداوار تقلیل کار =
کبھی کبھی تقلیل کار کو فی صد اصطلاح میں بھی ظاہر کیا جاتا اس صورت میں ،تقلیل کار   100x فی صد ۔پچھلی مثال میں ، GDP  تقلیل کار 1.50 =  (فی صد کی اصطلاح میں 150 % ہے) اس سے پتہ چلتا ہے کہ 2001 میں پیدابریڈ کی قیمت 2000 قیمت کے مقابلے میں 1.5 گنا ہے جوکہ صحیح ہے ،کیونکہ بریڈ کی قیمت درحقیقت 10 روپیے سے بڑھ کر 15 روپیے ہوگئی تھی ، کل گھریلو پیداوار تقلیل کار کی طرح ہمارے پاس کل قومی پیداوار تقلیل بھی ہوسکتا ہے ۔
معیشت میں قیمتوں میں تبدیلی کی پیمائش کرنے کا دوسرا طریقہ بھی ہے جسے صارف قیمت اشاریہ (CPI) کہتے ہیں ۔یہ اشیا کی دی گئی ٹو کری جن کی خریداری نمائندہ صارف کرتے ہیں ،کاقیمت اشاریہ ہے ،صارف قیمت اشاریہ کو اکثر فی صد کے طورپر ظاہر کیا جاتا ہے۔ ہم دوسالوں پرغور کرتے ہیں۔ایک بنیادی یا اساسی ہوتا ہے اوردوسرا رواں سال ۔ہم بنیادی سال میں اشیا کی دی ہوئی ٹوکری کی خرید کی لاگت کا شمار کرتے ہیں ،پھر ہم مابعد کو ماقبل کی فی صد کے طورپر ظاہر کرتے ہیں ۔اس سے ہمیں بنیادی سال سے متعلق رواں سال کا صارف قیمت اشاریہ حاصل ہوتا ہے ،مثال کے طورپر،ایک معیشت کو لیجیے جس میں دو اشیا چاول اورکپڑے کی پیداوار ہوتی ہے ،ایک نمائندہ صرف ایک سال میں 90 کلو گرام چاول اور5  ٹکڑے کپڑے کی خریداری کرتا ہے، مان لیجیے کہ سال 2000 میں ایک کلو گرام چاول کی قیمت 10 روپیے تھی اورکپڑے کے ایک ٹکڑے کی قیمت100 روپیے تھی ۔لہٰذا صارف کو 2000 میں چاول پر بہت زیادہ یعنی 900=10×90اور خرچ کرنا پڑا ۔ اسی طرح اس نے 100 500=5×روپیے کپڑے پر خرچ کیا ۔دونوں مدوں کی جمع 900 + 500 1400= روپیے ۔
مان لیجیے کہ ایک کلوگرام چاول اورایک ٹکڑے کپڑے کی قیمتیں سال 2005 میں علی الترتیب 15 روپیے اور120 روپیے ہوگئی ۔ چاول اورکپڑے کی اس مقدار کو خرید نے کے لیے نمائندہ صارف کو 1350 روپیے اور 600 روپیے علی الترتیب (جیسا کہ پہلے شمار کیا گیا تھا)خرچ کرناپڑے گا۔ان کی جمع 1,950=600+1,350 روپیے ہوگی، لہٰذا صارف قیمت اشاریہ (تقریبا )ہوگا ۔ 
یہ غور کرنے کی بات ہے کہ کئی اشیا کی قیمتیں دو مجموعوں میں ہوتی ہے ایک خوردہ قیمت ہوتی ہیںجو صارف حقیقت میں ادا کرتا ہے ۔ دوسری تھوک قیمت ہوتی ہے ،اس قیمت پر کثیر مقدار میں اشیا کی تجارت ہوتی ہے ۔ان دونوں کی قدروں میں فرق ہوسکتا ہے کیونکہ منافع کی گنجائش تاجروں کے پاس رہتی ہے ۔تھوک میں تجارت کی جانے والی اشیا (کچا مال یانیم تیار اشیا )کی خرید عام صارف نہیں کرتے ہیں۔ صارف قیمت اشاریہ کی طر ح تھوک قیمت کے لیے اشاریہ کو تھوک قیمت اشاریہ (WPI )کہتے ہیں۔ ریاست  ہائے متحدہ امریکا جیسے ملکوں میں اسے پیدا کا ر قیمت اشاریہ( PPI) کے طورپر جانا جاتا ہے ، خیال رہے کہ صارف قیمت اشاریہ (تھوک قیمت اشاریہ کی طرح) کل گھریلو پیداوار تقلیل کار سے الگ ہوسکتا ہے کیونکہ 
1 ۔ صارف جن اشیاکی خریداری کرتے ہیں ، ان سے ملک میں پیداسبھی اشیاکی نمائندگی نہیں ہوتی ہے ۔ کل گھریلوپیداوار تقلیل کار میں بھی ایسی اشیااورخدمات ہیں ۔
2 ۔ صارف قیمت اشاریہ میں نمائندہ صارف کے ذریعہ صرف کی گئی اشیا کی قیمت شامل ہیں ، لہٰذا اس میں درآمد اشیا کی قیمت شامل ہیں ۔ کل گھریلو پیداوار تقلیل کار میں درآمد اشیاکی قیمت شامل نہیں ہوتی ہے ۔
3 ۔ صارف قیمت اشاریہ میں وزن قائم رہتا ہے ۔لیکن کل گھریلو پیداوار تقلیل کار میں ہر ایک شے کی پیداوار سطح کے مطابق ان میں فرق ہوتا ہے ۔
2.5 : کل گھریلو پیداوار اورفلاح 
کیا کسی ملک کی کل گھریلو پیداوار کو اس ملک کے لوگوں کی بہبود کے اشاریہ کے طورپرسمجھا جاسکتا ہے۔ کیاان کے مادی حالات میں بہتری ہوسکتی ہے۔ لہٰذا یہ مناسب ہوگا کہ ان کا آمدنی کی سطح کو ان کی بہبود کی سطح کے طورپر دیکھا جائے ۔کل گھریلو پیداوار کسی خصوصی سال میں کسی ملک کی جغرافیائی حد کے تحت تیار اشیااورخدمات کی کل قدر کی جمع ہوتی ہے ۔کل گھریلو پیداوار کی تقسیم لوگوں کے درمیان آمدنی (برقرار یاروکی ہوئی آمدنی کو چھوڑ کر )۔لہٰذا ہم کسی ملک کی کل گھریلو پیداوار کی اعلی سطح کو اس ملک کے لوگوں کی اعلی بہبود کے اشاریہ کے طورپر (قیمت تبدیلی کی حساب کاری کے لیے ہم زرکی یا رسمی کل گھریلو پیداوار کے بدلے حقیقی کل گھریلو پیداوار کی قدرلے سکتے ہیں ) لیکن یہ صحیح نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس کی کم سے کم تین وجہیں ہیں ۔

1 ۔ کل گھریلو پیداوار کی تقسیم –کس طرح یہ یکساں ہے : اگر ملک کے کل گھریلو پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے تواس صورت میں پورے ملک کے بہبود میں اضافہ نہیں ہوسکتا ہے ،مثال کے طورپر  مان لیجیے کہ سال 2000  میں کسی خیالی ملک کی گھریلو پیداوا ر 100 روپیے تھی (آمدنی طریقے سے )مان لیجیے 2001 میں اسی ملک میں 90 افراد میں ہر ایک فرد کی آمدنی 9 روپیے تھی اور باقی 10 افراد کی فی کس آمدنی 20 روپیے تھی ۔ اشیا اورخدمات کی قیمتوں میں ان دونوں مدتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔سال 2001 میں ملک کی کل گھریلو پیداوار 90 (9 روپیے )10+ ×(20 روپیے )810= روپیے 200+ روپیے 1010= روپیے۔ مشاہدہ کیجیے کہ 2000 کے مقابلے میں 2001 میں ملک کی کل گھریلو پیداوار 10روپیے زیادہ تھی۔ لیکن یہ تب ہوا جب 90  فی صد لوگوں کی آمدنی میں 10 فی صد کی کمی (10 روپیے سے بڑھ کر 20 روپیے )اضافہ کا فائدہ ملا ۔ 90 فی صد لوگوں کی حالت مل کی کل گھریلو پیداوار میں اضافہ سے خراب ہوگئی ۔اگر ہم ملک کی بہبود میں ترقی خوشحال لوگوں کے فی صد سے کریں تو یقینی طورپر کل گھریلو پیداوار ایک اچھا اشاریہ نہیںہے ۔
غیر زری مبادلہ :معیشت متعددسرگرمیوں کی قدرشناس زری شکل میں نہیں ہوتی مثال کے طورپر ، عورتیں جو اپنے گھروں میں گھریلوخدمات انجام دیتی ہے اس کے لیے انھیںکوئی اجرت نہیں ملتی ہے ۔زرکی مد د کے بغیر غیر رسمی شعبہ میں جو مبادلہ ہوتا ہے اسے مبادلۂ اشیا کہتے ہیں ، تبادلۂ اشیا(یاخدمات) کا ایک دوسرے کے بدلے سیدھے طورپر مبادلہ ہوتا ہے ، لیکن چونکہ زرکا یہاں استعمال نہیں ہوتا ہے اس لیے شرح مبادلہ کو معاشی سرگرمی کا حصہ نہیں مانا جاتا ہے ، ترقی پزیرملک میں جہاں کئی دوردراز کی علاقے کم ترقی یافتہ ہیں ، اس طرح کے مبادلے ہوتے ہیں ، لیکن ان کا شمار اکثر ملک کی گھریلو پیدا وار میں نہیں ہوتا۔ اس صورت میں کل گھریلو پیداوار کا کم تحمینہ ہوتاہے ، لہٰذا کل گھریلو پیداوار کی تشخیص معیاری طریقے سے کرنے پر ہمیں پیداوار سرگرمی اورکسی ملک کی بہبود کا واضح اشارہ نہیں ملتا ۔
3 ۔ بیرونی اسباب : بیرونی اسباب سے مراد کسی فرد کے فوائد (یانقصانات )سے ہے جس سے دوسرے متاثر ہوتے ہیں جس میں ادائیگی نہیں کی جاتی (یاجرمانہ عائد کیا جاتا ہے ) خارجی اسباب کا کوئی بازار نہیں ہوتا جس میں ان کو خریدایا فروخت کیا جاسکے ، مثال کے طورپر مان لیجیے کہ ایک تیل ریفائنری ہے جس میں کچے پٹرولیم کی صفائی کی جاتی ہے اوراسے بازار میں فروخت کیا جاتا ہے ۔تیل کارخانہ صفا کاری کابرآمد ( ماحصل)اس کے ذریعہ صاف کی گئی تیل کی مقدار ہے۔ ہم تیل صفائی کے کارخانے کی درمیانی اشیا کی قدر( اس صورت میں کچا تیل ) کو اس کے بر آمدسے گھٹا کراضافۂ قدرکا تخمینہ لگاسکتے ہیں ،تیل صاف کرنے کے کارخانے کے اضافۂ قدر کی معیشت کی کل گھریلوپیداوار میں شمار کی جاتی ہے ۔ لیکن پیداوار کے عمل میں تیل ریفائنری ساحلی ندیوں کو بھی آلودہ کرسکتی ہے ۔اس سے ان لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جوندی کے پانی کا استعمال کرتے ہیں ۔لہٰذا ان کی افادیت میں کمی ہوگی ۔ آلودگی سے مچھلی یاندی کے دیگر جانداروں کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے ۔نتیجتاً ملّا ح اپنی آمدنی اور افادیت سے محروم ہوگا ۔ایسے نقصان دہ  اثرات جو ریفائنر ی دوسروں پر ڈالتی ہے ، جس کے لیے انھیں کوئی لاگت نہیں ادا کرنی ہوتی خارجی اسباب کہے جاتے ہیں ۔اس صورت میں کل گھریلو پیداوار کو ان بیرونی اسباب میںشامل نہیں کیا گیا ہے ۔ لہٰذا ہم کل گھریلوپیداوار کو معیشت کی بہبود کی پیمائش کی شکل میں دیکھیں توہمیں حقیقی بہبود کی بیش تخمینگی حاصل ہو گی ۔یہ منفی خارجی اسباب کی ایک مثال تھی ۔ یہ مثبت خارجی اسباب کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے ۔ایسی صورت میں کل گھریلوپیداوار سے معیشت کے بہبودکی کم تخمینگی حاصل ہوگی ۔
نہایت بنیادی سطح پر کلی معیشت ( جس معیشت کا مطالعہ ہم کلی معیشت میں کرتے ہیں ) طریقۂ عمل کو دوری طریق میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ فرم خاندانوں کے ذریعہ فراہم کیے گئے درآمدات کا استعمال کرتی ہے اور خاندانوں کو فروخت کرنے کے لیے اشیا اورخدمات کی پیداوار کرتی ہے ۔ خاندان فرم کو فراہم کی گئی خدمات کے لیے معاوضہ حاصل کرتا ہے اوراس سے فرم کے ذریعہ پیداکی گئی اشیا وخدمات کی خرید کرتا ہے لہٰذاہم کسی معیشت میں پیدااشیااورخدمات کا شمار تین میں سے کسی بھی طریقے سے کرسکتے ہیں ۔(a)عامل ادائیگیوں کی مجموعی قدروں کی پیمائش کرکے (طریقۂ آمدنی )(b)فرموں کے ذریعہ حاصل اخراجات کی مجموعی قدر کی پیمائش کرکے (طریقۂ خرچ )طریقۂ پیداوار میں دہرے شمار کو دور کرنے کے لیے ہمیں درمیانی اشیا کی قدرکو گھٹا نا ہوگا اور آخری اشیا وخدمات کی کل قدر کو ہی اختیار کرنا ہوگا ان میں سے ہر ایک طریقہ سے ہم معیشت کی کل آمدنی کے شمار کے لیے فارمولہ اخذ کرسکتے ہیں ۔ ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہے کہ اشیا کی خرید اصل کاری کے لیے بھی کی جاسکتی ہے اور اصل کاری کرنے والی فرموں کی پیداواری صلاحیت میں ا ضافہ ہوتا ہے ۔ کل آمدنی کے ا لگ الگ زمرے  ہوسکتے ہیں ، جو ان پر انحصار کریںگی جن کو آمدنی حاصل ہوتی ہے کل گھریلو پیدا وار، کل قومی پیداوار ، بازارقیمت پر خالص قومی پیداوار، عامل لاگت ہونا، خالص قومی پیداوار، انفرادی آمدنی اور انفرادی قابل صرف آمدنی PDI میں ہم فرق دکھا سکتے ہیں۔ چونکہ اشیااورخدمات کی قیمتیں الگ الگ ہوسکتی ہیں ،اسی لیے ہم نے بحث کی ہے کہ تین اہم قیمت اشاریوں( کل گھریلوپیداوارتقلیل کار ، صارف قیمت اشاریہ اورتھوک قیمت اشاریہ) کا شمار کیسے کیا جائے گا۔ آخر میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کل گھریلو پیداوار کو کسی ملک کی بہبود کے اشاریہ کے طورپر سمجھنا غلط ہوگا۔


آخری اشیا
Final goods
صرفی اشیا 
Consumption goods
پائیدارصارف اشیا 
Consumer durables
اشیااصل 
Capital goods
درمیانی بہاؤ
Intermediate goods
اسٹاک
Stocks
رواںاشیا 
Flows
کل اصل کاری/ سرمایہ کاری 
Gross investment
خالص اصل کاری  
Net investment
فرسودگی 
Depreciation
مزدوری 
Wage
سود 
Interest
منافع 
Profit
کرایہ/لگان 
Rent
آمدنی کادوری بہاؤ
Circular flow of income
قومی آمدنی کے شمار کاطریقۂ پیداوار
Product method of calculating National Income
قومی آمدنی کے شمار کا طریقۂ خرچ 
Expenditure method of calculating
قومی آمدنی کے شمارکا طریقۂ آمدنی 
Income method of calculating
ملکی معاشی ماڈل 
National Income
 مادخل/درآمد
National Income
اضافۂ قدر 
Macroeconomic model
مال نامے
Input
مال نامہ میں منصوبہ بند تبدیلی 
Value added
مال ناموں میں غیر منصوبہ بندتبدیلی 
Inventories
کل گھریلو پیداوار
) (GDP 
Planned change in inventories
خالص گھریلو پیداوار 
Unplanned change in inventories
کل قومی پیداوار GNP) (
Gross Domestic Product (GDP)
خالص قومی پیداوار(بازاری قیمت پر )
Net Domestic Product (NDP)
خالص قومی پیداوار((NNP) عامل لاگت پر)یاقومی آمدنی 
Gross National Product (GNP)
غیر منقسم منافع
Net National Product (NNP)  (at market price)
خاندانوںیااہل خاندانوں کی طرف سے خالص سود ادئیگیاں
NNP (at factor cost) or National Income (NI)
کارپوریٹ ٹیکس
Undistributed profits
حکومت اورفرموں کے ذریعہ خاندانوںکوادائیگیاں 
Net interest payments made by households
ذاتی آمدنی (PI) 
Corporate tax
ذاتی ٹیکس ادئیگیاں 
Transfer payments to the
غیر ٹیکس ادائیگیاں 
Personal Income (PI)
ذاتی قابل صرف آمدنی 
households from the government   and firms
قومی قابل صرف آمدنی 

نجی آمدنی 
Personal tax payments
زری کل گھریلو پیداوار 
Non-tax payments
حقیقی کل گھریلو پیداوار 
Personal Disposable Income (PDI)
بنیادی سال
National Disposable Income
کل گھریلو پیداوارکا تقلیل کار
Private Income
صارف قیمت اشاریہ
Nominal GDP
تھوک قیمت اشاریہ
Real GDP
بیرونی یاخارجی اسباب 
Base year
1 ۔    پیداوار کے چار عوامل کو ن کون سے ہیں اوران میں سے ہر ایک کے معاوضے کو کیا کہتے ہیں ؟
2 ۔    کسی معیشت میں مجموعی آخری خرچ مجموعی عامل ادائیگیوں کے برابر کیوں ہوتا ہے ؟ تشریح کیجیے۔
3۔   اسٹاک اوربہاؤ میں فرق کو واضح کیجیے۔خالص اصل کاری اورپونجی میںکون اسٹا ک ہے اور کون بہاؤ؟حوض میں پانی کے بہاؤ سے خالص اصل کاری اورپونجی کاموازنہ کیجیے ۔
4۔    منصوبہ بند اور غیر منصوبہ بند مال نامہ اورجمع کاری میں کیا فرق ہے؟ کسی فرم کے مال نامہ میں تبدیلی اوراضافۂ قدرکے درمیان تعلق بتائیے ؟
5۔    تینوں طریقوںسے کسی ملک کی کل گھریلو پیداوار کو شمار کرنے کے لیے استعمال ہونے والی تینوں مساوات کو تحریر کیجیے۔مختصراً یہ بھی بتایئے کہ ہر ایک طریقے سے کل گھریلو پیدا وار کی ایک سی قدر کیوں آنی چاہیے ۔
6۔    بجٹی خسارہ اور تجارتی خسارہ کی تعریف کیجیے ۔ کسی مخصوص سال میںکسی ملک کی کل بچت پر نجی اصل کاری کی زیادتی کا زائد 2,000کروڑ روپیے تھی۔ بجٹی خسارے کی رقم 1,500کروڑ تھی۔ اس ملک کے بجٹی خسارے کا نتیجہ کیا تھا؟
7۔    مان لیجیے کہ کسی مخصوص سال میں کسی ملک کی کل گھریلو پیداوار بازارکی زیادتی قیمت پر 1,100کروڑ روپیے تھی غیر ممالک سے عوامل کی خالص ادائیگی (NFIA) 100 کروڑتھی۔ بالواسطہ ٹیکس –سبسڈی کی قدر 150کروڑ روپیے اور قومی آمدنی 350کروڑ روپیے تھی تو فرسودگی کی مجموعی قدر کا شمار کیجیے۔
8۔    کسی ملک میں ایک مخصوص سال میں عامل لاگت پر خالص قومی پیداوار 1,900کروڑ روپیے ہے۔ فرموں یا حکومت کے ذریعہ خاندان کو یا خاندان کے ذریعہ حکومت /فرموں کو کسی بھی طرح کی سودکی ادائیگی نہیں کی جاتی ہے۔ خاندانوں کی انفرادی قابل صرف آمدنی 1,200کروڑ روپیے ہے۔ ان کے ذریعہ ادا کیاگیا ا نفرادی انکم ٹیکس 600کروڑ روپیے ہے ،فرموں اور حکومت کے ذریعہ کمائی گئی آمدنی 200کروڑ روپیے ہے۔ حکومت اور فرم کے ذریعہ خاندانوںکوکی گئی فلاحی ادائیگی کی قدر کیا ہے؟ 
9۔     درج ذیل اعداد سے انفرادی آمدنی اور ذاتی قابل صرف آمدنی کا شمار کیجیے۔
            روپیے کروڑ میں
(a) عامل لاگت پر خالص گھریلو پیداوار 8,000
(b) بیرونی ممالک سے حاصل عامل آمدنی 200
(c) غیر منقسم منافع 1,000
(d) کار پوریٹ ٹیکس 500
(e) خاندانوں کے ذریعہ وصول کیا گیا سود 1,500
(f) خاندانوں کے ذریعہ دیا گیا سود 1,200 
(g) متبادل یافت  (Transfer Income) 300
(h) ذاتی ٹیکس 500
10۔ حجام بال کاٹنے کے ذریعہ 500روپیے ایک دن میں جمع کرتا ہے، اس دن اس کے آلات میں 50روپیے کی فرسود گی پیدا ہوتی ہے۔ بچے ہوئے 450روپیوں میں سے حجام 30روپیے بکری ٹیکس ادا کرتا ہے۔ 200روپیے گھر لے جاتا ہے اور 220روپیے اپنی ترقی اور نئے ساز وسامان کی خرید کے لیے رکھتا ہے ۔ مزیدوہ اپنی آمدنی میں سے 20روپیے انکم ٹیکس کے طور پر ادا کرتاہے ۔ ان معلومات کی بنیاد پر درج ذیل آمدنی کی پیمائشوںمیں حجام کے اشتراک کے بارے میں معلوم کیجیے (a)کل گھریلو پیداوار (b)بازار قیمت پر خالص قومی پیداوار (c)عامل لاگت پر خالص قومی پیداوار (d)انفرادی آمدنی (e)انفرادی قابل صرف آمدنی ۔
11۔ کسی مخصوص سال میں ایک معیشت میںزری کل قومی پیداوار کی قدر 2,500کروڑ روپیے تھی۔ اسی سال اسی ملک کی کل قومی پیداوار کی قدر اسی بنیادی سال کی قیمت پر 3,000کروڑ روپیے تھی۔ فی صد کے طور پر سال کی کل گھریلو پیداوارکے تقلیل کار کی قدر کاشمار کیجیے ۔ کیا بنیادی سال اور زیر غور سا ل کے درمیان سطح قیمت میں اضافہ ہوا؟
12۔ کسی ملک کے فلاحی اشاریہ کے طور پر گھریلو پیداوار کے استعمال کی کچھ کمیاںتحریر کیجیے۔
مجوزہ مطالعات
. Bhaduri, A., 1990. Macroeconomics: The Dynamics of Commodity Production, pages 1–27, Macmillan India Limited, New Delhi
.Branson, W.H., 1992. Macroeconoic Theory and Policy, (third edition), pages 15–34, Harper Collins Publishers India Pvt. Ltd., New Delhi
. Dornbusch, R and S. Fischer. 1988. Macroeconimics, (fourth edition) pages 29–62, McGraw Hill, Paris
. Mankiw, N.G., 2000. Macroeconomics, (forth edition) pages 15–76, Macmillan Worth Publishers, New York
  جدول :2.5  2011-12  کی قیمت پر مبنی ہندوستان کا جی وی اے اور جی ڈی پی 

نمبر شمار تفصیل سال 2017-18 میں قدر (روپے لاکھ کروڑ)
1 بنیادی قیمت پر جی وی اے 119.76
2 کل پیداوری ٹیکس 10.35
3 جی ڈی پی (2+1) 130.11

یہ عبوری تخمینہ ہے جو CS0 نے 2018میں جاری کیا تھا۔ 

نمبر شمار تفصیل سال 2017-18 میں قدر (روپے لاکھ کروڑ)
1 کل نجی صرفی اخراجات     Private Final Consumption Expenditure(PFCE) 8325907
2 سرکاری قطعی صرفی اخراجات Government Final Consumption Expenditure(GFCE) 1652367
3 مجموعی فکسڈکیپیٹل کی تشکیل Gross Fixed Capital Formation(GFCE) 4334091
4 اسٹاک میں تبدیلی  Change in Stocks 269489
5 قیمتی سامان  Valuables   192629
6 سرمایہ کاری ( Investment     (3+4+5)
896209
7 اشیا اور خدمات کی برآمدات    Export of Goods and Services  2871660
8  اشیا اور خدمات کی در آمدات  Imports of Good and Services 3115388
9 فرق  Discrepencies 89196
10 جی ڈی پی GDP  (1+2+3+4+5+6+7+8)    14565951

 ماخذ:  یہ پیشگی تخمینہ آر بی آئی نے 18ستمبر 2020کو جاری کیا