Skip to content
5271CH03


1

زراور بینک کاری 

زر مبادلے کا ایک عمومی قابل قبول ذریعہ ہے ۔ ایسی معیشت جو صرف ایک فردپر مشتمل ہو،اس میں اشیا کا کوئی مبادلہ نہیں ہوسکتااس لیے وہاں زرکا کوئی کردار نہیں ہوتا ہے ۔ایک سے زیادہ افراد ہونے پر بھی اگر وہ بازار کے لین دین میں حصہ نہیں لیتے ہیں ، جیسے کہ کسی جزیرے پر کوئی ایک خاندانی یکہ وتنہارہتا ہو تو وہاں زر کاکوئی عمل نہیں ہوگا ۔لیکن جوں ہی ایک سے زائد معاشی ایجنٹ بازار کے ذریعہ لین دین شروع کرتے ہیں ،زر مبادلوں کو آسان بنانے کا ایک اہم وسیلہ بن جاتاہے ۔ زر کے وسیلے کے بغیر معاشی مبادلے کو تبادلۂ اشیا (بارٹر) کہا جاتا ہے۔حالانکہ اس میں ضرورتوں کی دوہری مطابقت کو غیر یقینی ماناجاتا ہے ۔بطورمثال،مان لیجیے کہ ایک فرد کے پاس چاول زائد ہے جس کے بدلے میں وہ کپڑا لینا چاہتا ہے ۔اگر وہ خوش نصیب نہیں ہے تو اسے ایسا شخص نہیں ملے گا جس کی مانگ ٹھیک اس کے برعکس ہویعنی اسے چاول کی ضرورت ہو اوراسے وہ ضرورت سے زیادہ دستیاب کپڑوں کے لیے مبادلہ کرنا چاہتا ہو۔جوںجوںاشخاص کی تعداد میں اضافہ ہوگا تلاش کی لاگت مانع ہوسکتی ہیں ۔ اس طرح لین دین کو ہموار بنانے کے لیے کسی درمیانی شے کا ہونا ضروری ہے جو دونوں فریقوں کو قابل قبول ہو۔ ایسی شے کو زر کہتے ہیں ۔ ایک شخص اپنی تیار شے کو زر کے بدلے فروخت کر کے اس کا استعمال اپنی ضرورت کی شے خرید نے میں کر سکتاہے ۔اگر چہ زر کا خاص کردار مبادلے کو آسان بنا نا ہے ،لیکن یہ دیگر مقاصد کی تکمیل میں بھی مدد گار ہوتا ہے ۔جدید معیشت میں زر کے اہم کام درج ذیل ہیں ۔

3.1 زر کے کام

جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے کہ زر کا سب سے پہلا کام مبادلہ کے طورپر کام کرناہے ۔بڑی معیشت میں تبادلۂ اشیا نہایت مشکل کام ہے ، کیونکہ اونچی لاگتوں کے سبب افراد کو اپنے زائد کے مبادلہ کے لیے موزوں افرادکی تلاش کرنی ہوگی ۔زر کھاتے کی ایک آسان اکائی کے طورپر بھی کام کرتا ہے۔سبھی اشیا اور خدمات کی قدر زری اکائی کے طورپرظاہر کی جاسکتی ہے ۔جب ہم کہتے ہیں کہ ایک کلائی گھڑی کی قیمت 500 روپیے ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کلائی گھڑی کا زرمبادلہ 500 اکائیوں سے کیاجاسکتا ہے ، جہاں زر کی ایک اکائی روپیہ ہے ۔ اگر ایک پنسل کی قیمت 2 روپیے ہے اورایک قلم کی قیمت 10 روپیے ہے تو ہم قلم اور پنسل کی نسبتی قیمت کا شمار کرسکتے ہیں ۔ جیسے ایک قلم کی قیمت    2   قلم ہے ،لہذا اگر سبھی اشیا کی قیمتیں زر کی شکل میں بڑھتی ہیں تو،دوسرے لفظوں میں ، جسے قیمت کی سطح میں عام اضافہ کہتے ہیں زر کی قدر کسی شے کی نسبت کم ہو جاتی ہے کیونکہ اب زر کی ایک اکائی کم اشیا کو خرید تا ہے اسے زر کی قوت خرید میں ابتری کہا جاتا ہے ۔

تبادلۂ اشیا کی دیگر خامیاں بھی ہیں ۔ اس نظام میں کسی فرد کی دولت کو برقراررکھنا مشکل ہے ۔ مان لیجیے کہ آپ کے پاس چاول کا اثاثہ ہے جس کوآپ آج پوری طرح صرف کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں ۔ آپ چاول کے اس زائد اسٹاک کو مستقبل میں دوسری ضروری اشیاکے حصول لیے یااثاثے کے طورپر ذخیرہ کرنا چاہتے ہیں ۔لیکن چاول جلد خراب ہونے والی ایک شے ہے جسے آپ مخصوص وقت سے زیادہ دنوں تک ذخیرہ نہیں کرسکتے جس کے لیے کافی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب آپ اپنے ذخیرہ کیے ہوئے چاول کے بدلے دوسری ضرورت کی شے خرید ناچاہیں گے توکافی وقت اور وسائل ایسے ضرورت مندافراد کی تلاش میں لگا ناجنھیں ضرورت کی شے کے بدلے چاول کی ضرورت ہے ۔اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے ۔اگرآپ چاول کو زرکے لیے فروخت کرتے ہیں۔ زر خراب ہونے والی چیز نہیں ہے اور اس کی ذخیرہ لاگت نہایت کم ہوتی ہے ۔ز ر کسی بھی شخص کے ذریعہ کسی بھی وقت قابل قبول ہوتا ہے۔ لہذا زر افراد کے لیے قدر جمع کرنے کاکا م کرتی ہے ، مستقبل کے لیے دولت کا ذخیرہ زر کی شکل میں کیا جاسکتا ہے ۔لیکن اس کام کو مؤثر طورپر انجام دینے کے لیے زر کی قدر میں استحکام کا ہونا ضروری ہے ۔قیمتوں کی سطح بڑھتے جانے سے زر کی قوت خرید کم ہوتی جاتی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہم زر کے علاو ہ دیگر اثاثوں میں قدر کو جمع کرنے کا کام کرسکتے ہیں ۔جیسے سونا ،جائیداد ،زمین کی ملکیت مکان اور بانڈ(جلدہی اس کے بارے میں بتا یا جائے گا) لیکن یہ ہم دیگر اشیا میں آسانی سے قابل تبدیل نہیں ہوسکتے ہیں اورا ن کو ہمہ گیر قبولیت بھی حاصل نہیں ہوگی ۔کچھ ملکوں نے ایک ایسی معیشت کی جانب پیش رفت کی کوشش کی ہے جس میں نقد رقم کا لین دین کم ہو اور ڈیجیٹل لین دین زیادہ سے زیادہ  ہو۔نقد رقم سے پاک سماج کا مطلب ایک ایسی معاشی صورت حال ہے جہاں مالی لین دین کا تعلق اصل بینک نوٹوں یا سکوں کی شکل میں نہ ہو بلکہ یہ لین دین ڈیجیٹل طریقے سے معلومات کے تبادلے کے ذریعہ (عام طور پر الیکٹرانک ذرائع سے) متعلقہ فریقوں کے درمیان لین دین کیاجائے۔ ہندوستان میں حکومت زیادہ سے زیاوہ مالی شمولیت کے لیے مختلف اصلاحات میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں کیے گئے اقدامات، جیسے جن دھن کھاتے، آدھار کی بنیاد پر ادائیگی نظام،ای والٹ،  فائنانیشنل سوئچ (این ایف ایس) اور دیگر طریقوں نے نقد رقم سے پاک معیشت بنانے کے حکومت کے عزم کو پختہ کیا ہے۔ آج مالی شمولیت کا خواب حقیقی روپ اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ ملک میں موبائل اور اسمارٹ فون کے استعمال میں زبردست اضافہ ہو ا ہے ۔ 

3.2 زر کے لیے مانگ اور اس کی سپلائی (Demand for Money and Supply of Money)

3.2.1:۔ زر کے لیے مانگ (Demand for Money)

زر کے لیے مانگ سے مرادلوگوں کی خواہش ہے کہ وہ کتنی رقم رکھنا چاہتے ہیں۔ چونکہ زر کی ضرورت لین دین کے لیے ہوتی ہے، اس لیے لین دین کی مناسبت سے ہی یہ طے ہوتا ہے کہ لوگوں کو کتنے زر کی ضرورت ہے اور وہ کتنا زر اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں: جتنا زیادہ لین دین کرنا ہوگا اتنی ہی زیاوہ رقم کی مانگ ہوگی۔ چونکہ لین دین کا دارومدار لوگوں کی آمدنی پر ہوتا ہے ، اس لیے اگر آمدنی میں اضافہ ہوگا تو زر کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس طرح جب لوگ اپنی بچت رقم کی شکل میں بینک میں جمع کرنے کی بجائے گھر پر رکھتے ہیں، اس کا انحصار بھی اس باہوتا ہے کہ بینک انھیں کتنا سود دے رہا ہے۔ ظاہر ہے جب سود کی شرح زیادہ ملنے لگتی ہے تو لوگ گھر پر رقم رکھنے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ گھر پر رقم رکھنے کا مطلب ہے ، بچت پر کم سود کا حصول۔ اس طرح اگر رقم پر سود کی شرح زیادہ ہوگی تو زر کی مانگ کم ہو جائے گی۔ 

3.2.2 زر کی سپلائی (Supply of Money)

ایک جدید معیشت میں رقم میں نقد رقم اور بینک میں جمع رقم شامل ہوتی ہے۔ بینک کے کھاتوں کی مختلف قسمیں اس میں شامل ہیں اور رقم کے کئی پیمانے ہیں۔ یہ دو طرح کے اداروں پر مبنی نظام سے تشکیل پاتے ہیں۔ ان میں ایک معیشت کا مرکزی بینک ہوتا ہے اور دوسرا تجارتی بینکنگ نظام۔ 

مرکزی بینک (Central Bank)

ایک جدید معیشت میں مرکزی بینک ایک بہت اہم ادارہ ہوتا ہے۔تقریباً سبھی ملکوں میں ایک مرکزی بینک ہوتا ہے۔ ہندوستان میں مرکزی بینک 1935 میں قائم ہو اتھا۔ اس کا نام ہے ’’ ریزرو بینک آف انڈیا‘‘ ۔ مرکزی بینک کے کئی اہم کام ہوتے ہیں۔ یہ ملک کی کرنسی جاری کرتا ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے، جیسے بینک کی شرح، کھلی مارکیٹ کی کارروائی اور ’’ریزروریشو‘‘ میں کمی یا اضافے وغیرہ کے ذریعہ ملک میں زر کی سپلائی کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ حکومت کے لیے ایک بینکر کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ ملک میں بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر کا متولی ہوتا ہے۔ یہ بینکنگ نظام کے لیے ایک بینک کے طو رپر بھی کام کرتا ہے، جس کے بارے میں آگے تفصیل سے بحث کی جائے گی۔ 

زر کی سپلائی کے نقطۂ نظر سے، ہمیں مرکزی بینک کے ذریعہ کرنسی جاری کرنے کے کام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مرکزی بینک سے جاری کی گئی یہ کرنسی عوام کے ہاتھ میں رہ سکتی ہے یا تجارتی بینکوں کے قبضے میں رہ سکتی ہے۔ اس رقم کو ’’ زیادہ قوت والی رقم ‘‘ (High Powerd) یا ’’ریزرو رقم‘‘ (Reserved Money) یا ’’ رقم کی بنیاد‘‘ (Monetary base) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قرض کی تشکیل کی بنیاد ہوتی ہے۔ 

تجارتی بینک (Commercial Banks)

تجارتی بینک ایک دوسرے قسم کے ادارے ہوتے ہیں تو ایک معیشت میں ’’زر کی تشکیل‘‘ کے نظام کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ اس سیکشن میں ہم تجارتی بینکنگ نظام پر تفصیل سے نظر ڈالیں گے۔ یہ بینک عوام کی بچت کو جمع کراتے ہیں اور اس کا کچھ حصہ ان لوگوں کو قرض دیتے ہیں جو قرض لینے کے خواہش مند ہیں۔ بینک رقم جمع کرانے والوں کو کم سود دیتی ہیں جبکہ قرض لینے والوں سے زیادہ سود وصول کرتی ہیں۔ اس طرح سود کی شر ح میں فرق کی وجہ سے جو رقم بچتی ہے اسے (پھیلاو)"Spread" کہا جاتا ہے جو ایک بینک کا منافع ہوتا ہے۔ 

لوگوں کے ذریعہ بچت جمع کرانے اور بینکوں کے ذریعہ قرض دیے جانے کے عمل کی ذیل میں وضاحت کی گئی ہے۔ اس عمل کو سمجھنے کے لیے ہم ایک کہانی بیان کرتے ہیں۔ 

پرانے وقت میں ایک گاؤں میں ایک سنار تھا، جس کا نام تھا ــ’’لالہ‘‘۔ اس گاؤں میں لوگ اشیا اور خدمات کی خریداری کے لیے سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں کا استعمال کرتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں یہ دھاتیں رقم کے طور پر کام کرتی تھیں۔ لوگوں نے حفاظت کے خیال سے اپنا سونا لالہ کے پاس جمع کرانا شروع کردیا۔ اس کے بدلے میں ’لالہ‘ لوگوں کو کاغذ پر سونے کی رسید لکھ کر دے دیتا تھا اور سونے کی حفاظت کے لیے ان سے معمولی فیس لیتا تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ، رفتہ رفتہ ــ’لالہ‘ کے ذریعہ دی گئی یہ رسیدیں رقم کے طور پر لی اور دی جانے لگیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سونے یا قیمتی دھات دینے کی بجائے اب گیہوں ، جوتے یا دیگر اشیا کی خریداری کے لیے لالہ کے ذریعہ جاری کردہ رسیدیں استعمال کی جانے لگیں ۔ اس طرح کاغذ کی رسیدیں رقم کے طور پر استعمال کی جانے لگیں کیونکہ گاؤں کے تمام لوگوں نے ان رسیدوں کو تبادلہ کے ذریعے کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ 

اب ہم فرض کریں کہ لالہ کے پاس مختلف لوگوں کے ذریعہ جمع کرایا گیا سونا 100 کلوگرام ہے اور وہ 100 کلوگرام سونے کی وصولی کی رسیدیں جاری کر چکا ہے۔ اس دوران ایک شخص ’رامو‘ لالہ کے پاس آیا ہے اور اس سے 25 کلو سونا ادھار کے طور دینے کو کہتا ہے۔ کیا ’لالہ‘ اسے سونا قرض دے سکتا ہے؟ اس کے پاس جو 100کلو گرام سونا ہے، اس کے دعویدار پہلے ہی موجود ہیں۔ لیکن لالہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ سونا جمع کرنے والا ہر شخص اس کے پاس سونا واپس لینے کے لیے ایک ہی وقت میں نہیں آئے گا۔ اور اس دوران وہ ’رامو‘ کو سونا قرض دے کر اس پر سود وصول کر سکتا ہے۔ اگر لالہ 25 کلو گرام سونا رامو کو قرض دے دیتا ہے اور رامو یہ سونا علی کو ادا کر دیتا ہے ۔علی پھر اپنا سونا حفاظت کے لیے لالہ کے پاس جمع کرادیتا ہے اور ا س کی کاغذ پر رسید حاصل کر لیتا ہے۔ اس طرح مارکیٹ میں سونے کی رسیدیں اب 125 کلو گرام کی ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب ہوا کہ لالہ نے بغیر کچھ کئے ہی 25 کلوگرام سونےکے برابر رقم تشکیل دے دی۔ جدید بینکنگ نظام بھی بالکل اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح مذکورہ مثال میں لالہ نے کام کیا ہے۔ 

تجاری بینک ایسے افراد اور فرموں کے درمیان ثالثی کرتے ہیں جن کے پاس اضافی فنڈ دستیاب ہیں اور اس فنڈ کو ان افراد یا فرموں کو قرض دیتے ہیں جنھیں ان کی ضرورت ہے۔ جن لوگوں کے پاس اضافی رقم موجود ہے وہ اپنی رقم بچت کے طور پر بینک میںجمع کراتے ہیں اور جن لوگوں کو فنڈ کی ضرورت ہوتی ہے بینک سے ہوم لون، فصل قر ض وغیرہ کی شکل میں قرض لیتے ہیں۔ لوگ بینکوں میں رقم رکھنے کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ بینک انھیں سود کی پیشکش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اضافی رقم کو گھر پر رکھنے سے زیاوہ بہتر بینک میں جمع کرنا ہے، جیساکہ لوگ اپنا سونا گھر رکھنے کی بجائے لالہ کے پاس رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جدیدمنظر نامے ہیں، چیک اور ڈیبٹ کارڈ اور مانگ پر لین دین کرنا زیادہ آسان ہوگیا ہے، چاہے جمع بچت پر سود ملے یا نہ ملے۔ (سوچییکہ آپ کو بڑی رقم نقد ادا کرنی ہو، جیسے مکان خریدنے کے لیے)

بینک، کھاتوں میں جمع فنڈ کا کیا کرتے ہیں؟ فرض کیجیے کہ جن لوگوں نے بینک میں اپنی رقم جمع کرائی ہے، تو کیا وہ سب ہی ایک ہی وقت میں اپنی رقم واپس لینا چاہیں گے۔ ایسا نہیں ہوتا اور بینک یہ فنڈ ان لوگوں کو سود پر قرض میں دیں گے جنھیں ان کی ضرورت ہے (یہ ضرور ہے کہ بینک کویہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ وہ فنڈ وقت پر واپس لے سکے) اس لیے بینک کھاتوں میں جمع رقم کا ایک حصہ اپنے پاس رکھے گا تاکہ کھاتہ داروں کے مانگنے پر انھیں رقم دی جاسکے، جبکہ باقی ایک حصہ سود پر قرض دے گا۔ البتہ کھاتہ داروں کو ان کے مانگنے پر رقم واپس کرنا بینکوں کے وجود کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جمع کرنے والے صرف اسی صورت میں اپنی رقم بینک میں رکھیں گے جبکہ انھیں پورا یقین ہوکہ ان کے مانگنے پر انھیں رقم واپس مل جائے گی۔ اس لیے ایک بینک کو قرض دینے کی اپنی سرگرمیوں کو متوازن رکھنا ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کھاتہ داروں کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے مناسب رقم موجود ہے۔ 

3.3  بینکنگ نظام کے ذریعہ زر کی تشکیل (Money Creation by Banking System)

بینک اسی طریقے سے زر کی تشکیل کرسکتے ہیں جس طرح مذکورہ کہانی میںلالہ نے تشکیل دی تھی۔ بینک رقم قرض دے سکتے ہیں کیونکہ انھیں یہ امید نہیں ہوتی کہ بینک کھاتے میں رقم جمع کرانے والے سبھی کھاتے داروں کو ایک ہی وقت میں رقم کی ضرورت ہوگی۔ جب کوئی شخص بینک سے قرض لیتا ہے تو اس شخص کے نام ایک کھاتہ بینک میں کھل جاتا ہے۔ اس طرح زر کی سپلائی میں پرانے کھاتوں کے ساتھ نئےکھاتے کے ذریعے اضافہ ہو جاتا ہے ۔ 

آئیے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کیجیے ملک میں صرف ایک ہی بینک ہے۔ آئیے ہم اس کی ایک فرضی بیلنس شیٹ تیار کرتے ہیں۔بیلنس شیٹ دراصل کسی بھی فرم کے اثاثوں اور دینداری کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ روایتی طور پر فرم کے اثاثے بائیں جانب ریکارڈکئے جاتے ہیں جبکہ دینداری دائیں جانب ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ اکاؤنٹنگ کے اصولوں کے مطابق بیلنس شیٹ کے دونوں سائڈ برابر ہونی چاہئیں یا کل اثاثے ، کل دینداری کے برابر ہونے چاہئیں۔ اثاثے وہ ہوتے ہیں جو فرم کی ملکیت ہوتے ہیں یا فرم کو دوسروں سے وصول کرنے ہیں۔ بینک کی صورت میں، اس کی عمارت اور فرنیچر وغیرہ کے علاوہ بینک کے ذریعہ دیے گئے قرضے بھی ا س کے اثاثے ہوتے ہیں۔ جب کوئی بینک کسی شخص کو 100 روپے قرض دیتا ہے تو اس شخص پر بینک کا 100 روپے کا دعویٰ ہوتا ہے جو وہ وصول کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بینک کے پاس جو ریزرو ہے، وہ بھی اسی کا اثاثہ ہوتا ہے۔ ریزرو وہ جمع رقم ہوتی ہے جو تجارتی بینک، مرکزی بینک میں یاریزروبینک میں جمع رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بینک میں نقد رقم بھی اس کے اثاثے ہیں۔ یہ ریزرو کچھ نقدی کی صورت میں اور کچھ ریزرو بینک کے ذریعہ جاری کردہ مالی تمسکات (بونڈ اور ٹریزری بل وغیرہ) ہوتے ہیں۔ ریزرو بالکل اسی طرح ہوتے ہیں جس طرح ہم بینک میں رقم جمع کراتے ہیں۔ہم بینک میں رقم جمع کراتے ہیں اور یہ ہمارے اثاثے ہوتے ہیں اور ہم اسے نکال سکتے ہیں ۔ اسی طرح تجارتی بینک جیسے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) اپنا ریزرو RBI میں جمع کراتا ہے اور اسے ریزرو کہتے ہیں۔

 Assets = Reserves + Loans

دینداری (Liabilities) : کسی فرم کی دینداری اس پر واجب قرض یا دوسروں کو واجب الادا اثاثے ہوتے ہیں۔ بینک کے لیے سب سے اہم دینداری وہ جمع رقم ہے جو کھاتہ داروں نے بینک میں جمع کرائی ہے۔

 Liabilities = Deposits

اکاؤنٹنگ کے اصولوں کے مطابق اکاؤنٹ کے دونوں پہلو برابر ہونے چاہئیں ۔ اس لیے اگر اثاثے، دینداری سے زیاوہ ہیں، تو انھیں دائیں جانب کل قدر کے طور پر ریکارڈ کیا جائے گا۔ 

Net worth = Assets - Liabilities

3.3.1  ایک فرضی بینک کی بیلنس شیٹ:

فرض کیجیے ہم ایک بینک شروع کرتے ہیں جس میں کل جمع رقم 100 روپے کے برابر ہے۔ یہ اس لیے ہوسکا کہ جناب فرنانڈیز نے بینک میں 100 روپے جمع کرائے ہیں۔ اب بینک اس 100 روپے کو RBI میں ریزرو کے طور پر جمع کرایتا ہے۔ 

جدول 3.1 کے مطابق اس کی بیلنس شیٹ یہ ہوگی۔ 

جدول 3.1 بینک کی بیلنس شیٹ

.


دینداری
اثاثے
100
روپے
(Deposits)جمع کھاتے                  100
روپے
ریزرو
0 کل قدر

100
روپے
میزان
               100
روپے
میزان




اگر ہم یہ مان لیں کہ معیشت میں اس کے علاوہ کرنسی نہیں چل رہی ، تو اس صورت میں معیشت میں سپلائی کی گئی کل رقم ہوگئی 100 روپے 
M, = Currency + Deposits = 0+100 = 100
3.3.2  قرض کی تشکیل اور ضاربِ رقم کی حدود:   فرض کیجیے ، جناب میتھیو اس بینک سے 500 روپے قرض لینے کے لیے آتے ہیں ۔تو کیا ہمارا یہ بینک انھیں یہ قرض دے سکتا ہے؟ اگر بینک جناب میتھیو کو قرض دیتا ہے اور جناب میتھیویہ قرض کی رقم بینک میں ہی جمع کراتے ہیں تو بینک میں کل جمع رقم (Deposits) میں اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ ہی زر کی کل سپلائی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بینک جتنا چاہے زر کی تشکیل کر سکتے ہیں۔
لیکن کیا ز ریا قرض کی تشکیل کے لیے بینکوں کی حدود ہوتی ہیں؟ جی ہاں۔ اور اس کا تعین مرکزی بینک (RBI) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ RBI یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ہر بینک کو اپنے جمع کھاتوں (Deposits) کی ایک خاص فیصد رقم ریزرو کے طور پر رکھنا لازمی ہوگا۔ ایسا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی بینک حد سے زیا دہ قرض نہ دے سکے۔ یہ ایک قانونی ضابطہ ہے جو ہر بینک کے لیے لازمی ہے۔ اسے Required Reserve Ratio یاکیش ریزروریشوCash Reserve Ratio (CRR) کہا جاتا ہے۔
Cash Reserve Ratio (CRR)=Percentage of Deposits which a Bank must keep as cash Reserve with itself.
(کیش ریزرو ریشو(CRR) بینک میں جمع رقم (Deposits) کا وہ فیصد ہوتی ہے جو ایک بینک کو اپنے پاس رکھنا لازمی ہے)
CRR کے علاوہ بینکوں کو مختصر مدت کے لیے بھی کچھ ریزرو نقد رقم کی صورت میں رکھنا ہوتا ہے۔ یہ شرح Statutory Liquidity Ration(SLR) کہلاتی ہے۔ 
مذکورہ بالا مثال میں، فرض کیجیے کہ CRR ، 20 فیصد ہے۔ تو 100 روپے کے ڈپوزٹ پر ہمارے بینک کو 20 روپے (100 روپے کے 20 فیصد) کیش ریزرو کے طور پر رکھنا پڑیں گے اور باقی یعنی 80 روپے (100-20=80) قرض دینے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ریزرو ریشو کی لازمی شرط بینکوں کے لیے ایک حد کا کام کرتی ہے جس حد تک بینک قرض دے سکتے ہیں۔ 
ہم اس کو پھر اس مثال پر نظر ڈال کر سمجھ سکتے ہیں کہ معیشت میں صرف ایک بینک ہے۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ ہمارا بینک 100 روپے کے ڈپوزٹ کے ساتھ شروع ہوا اور یہ ڈپوزٹ لیلا نے کیا ہے۔ ریزروریشو (CRR) 20 فیصد ہے۔ اس لیے ہمارا بینک 80 روپے (100-20) قرض دے سکتا ہے۔ ہمارا بینک یہ 80 روپے جسپال کور کو قرض دے دیتا ہے اور یہ 80 روپے پھر بینک میں جمع ہونے کے بعد اب بینک کے ڈپوزٹ 180 روپے ہو جائیں گے۔ اب ہمارے بینک کو 180 روپے کا 20 فیصد ، یعنی 36 روپے CRR کے طور پر رکھنے ہوں گے۔ یاد کریں کہ ہمارا بینک 100 روپے کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ اب چونکہ 36روپے ریزرو رکھنے ہیں، اس لیے اب بینک پھر 64 روپے قرض دے سکتا ہے۔ (100-36=64)۔
بینک یہ 64 روپے جنید کو قرض دے دیتا ہے اور یہ 64 روپے بھی بینک کے ڈپوزٹ میں آجاتے ہیں۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب ریزرو 100 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ بینک کو 100 روپے CRR کی صورت میں اس وقت رکھنے ہوں گے جبکہ اس کے پاس 500 روپے کے ڈپوزٹ ہوں گے۔ اس عمل کو جدول 3.2 میں دکھایا گیا ہے۔

 جدول 3.2          ضارب رقم کا عمل 


کالم 4 کالم 3   2 کالم کالم 1
بینک کے ذریعہ دیا گیا قرض لازمی ریزرو بینک میں ڈپوزٹ راؤنڈ
80.00 20.00 100.00 1
64.00 36.00 180.00 2


0


0


0


0


0
400.00 100.00 500.00 آخری 


                                 
                                                           پہلے کالم میں ہر راؤنڈ کو دکھایا گیا ہے۔ دوسرے کالم میں ، ہر راؤنڈ کے شروع میں بینک کے پاس دستیاب ڈپوزٹ دکھائے گئے ہیں۔  ڈپوزٹ کی 20 فیصد رقم  آر بی آئی کے ساتھ ریزرو کے طور پر رکھنالازمی ہے، بینک ہر راؤنڈ میں جب قرض دیتا ہے تو اس کے ڈپوزٹ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ کالم 4میں بینک کے ذریعہ دیے گئے قرض کو دکھایا گیا ہے۔ 
 






جدول  3.3 بینک کی بیلنس شیٹ  

    


                                                                                                       اثا ثے                                                     دینداری

500 روپے ڈپوزٹ(100+400) 100 روپے ریزرو

400 
روپے
قرض
500
روپے
میزان
500
روپے
کل میزان

چونکہ بینک کو اپنے ڈپوزٹ کا صرف 20 فیصد ہی ریزرو کے طور پر رکھنا لازمی ہے، اس لیے 100 روپے کا ریزرو (500 روپے پر 20 فیصد 100= روپے) 500 روپے تک کے قرض کے لیے کافی ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں ہمارا بینک 400 روپے تک کا قرض دے سکتا ہے۔ جدول 3.3 میں بینک کی بیلنس شیٹ دکھائی گئی ہے۔ 
M,= Currency + Deposits = 0 + 500 = 500
اس طرح زر کی سپلائی 100 روپے سے بڑھ کر 500 روپے تک پہنچ گئی۔ اس طرح ریزرو رکھنے کی لازمی شرح، زر کی تشکیل کے لیے ایک حد مقرر کرتی ہےضارب رقم  =  کیش ریزروریشو (CRR)1)
ہماری مثال میں ضارب رقم = 6    اس طرح 100 روپے کا ڈپوزٹ 500 روپے کے ڈپوزٹ تشکیل دیتا ہے۔ 500=(5×100) روپے 

3.4 زر کی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لیے پالیسی ٹولز-(Plolicy Tools ot Control Money Supply)

ریزرو بینک وہ واحد ادارہ ہے جو کرنسی جاری کرسکتا ہے۔ تجارتی بینکوں کو جب زیادہ قرض تشکیل دینے کے لیے مزید فنڈ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ یہ فنڈ حاصل کرنے کے لیے یا تو مارکیٹ سے رجوع کر سکتے ہیں یا مرکزی بینک کے پاس جا سکتے ہیں۔ مرکزی بینک مختلف قسم کے تمسکا کے ذریعہ فنڈ فراہم کرتا ہے۔
RBI کا یہ رول کہ وہ بینکوں کو قرض دینے کے لیے تیار رہتا ہے، مرکزی بینک کا ایک اور اہم کام ہے اور اسی خصوصیت کے سبب اسے مرکزی بینک کو قرض دینے والا آخری ادارہ بھی کہا جاتا ہے۔ 
RBI ، معیشت میں زر کی سپلائی کو مختلف طریقوں سے کنٹرول کرتا ہے۔ زر کی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مرکزی بینک کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے اقدامات مقدار یا صفت سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ مقدار سے متعلق اقدامات میں CRR، یا بینک ریٹ یا کھلی مارکیٹ کے اقدامات کے ذریعہ زر کی سپلائی کو کنٹرول کیا جاتا ہے جبکہ صفت پر مبنی اقدامات میں مرکزی بینک کے ذریعہ اخلاقی دباو ڈال کر قرضوں میں کمی یا اضافہ کرنے کی ہمت افزائی یا حوصلہ شکنی کے ذریعہ کیا جانا شامل ہے۔ 
اب تک یہ واضح ہو گیا ہوگا کہ جب مرکزی بینک اپنی ریزرویشو (CRR) میں تبدیلی کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں بینکوں کے ذریعہ قرض دینے کی اہلیت میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ اس سے بینکوں میں ڈپوزٹ پر اثر پڑتا ہے اور آخر کار زر کی سپلائی اثر انداز ہوتی ہے۔ پیچھے دی گئی مثال میں اگر RBI اپنی ریزرو ریشو کو بڑھاکر 25 فیصد کردیتی ہے تو ضارب رقم کیا ہوگا؟ اس بات کو نوٹ کریں کہ پچھلے معاملے میں 100 روپے کے ریزرو سے 400 تک کے ڈپوزٹ رکھے جاسکتے ہیں لیکن اگر ریزرو ریشو 25 فیصد ہو جاتی ہے تو بینک ڈپوزٹ صرف 300 روپے تک ہی ہوں گے۔ بینک اپنے کچھ قرض واپس لے گا تاکہ بڑھی ہوئی ریزرو ریشو کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے ۔ اس کے نتیجے میں زر کی سپلائی میں کمی آئے گی۔ 
ایک اور اقدام جس کے ذریعہ RBI زر کی سپلائی پر اثر انداز ہوتا ہے، کھلی مارکیٹ کی کارروائی (Open Market Oprerations) کہلاتا ہے۔ کھلی مارکیٹ کی کارروائی میں حکومت کے ذریعہ جاری کردہ بونڈز کی خرید فروخت شامل ہے۔ مرکزی بینک کو حکومت کی طرف سے بونڈز خریدنے یا بیچنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ جب RBI کھلی مارکیٹ میں بونڈز خریدتی ہے تو یہ چیک کے ذریعہ ان کی ادائیگی کرتی ہے۔ ان چیک کے ذریعہ معیشت میں ریزرو کی کل رقم میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں زر کی سپلائی میں اضافہ ہوتا ہے ۔RBI کے ذریعہ بونڈز کی فروخت (نجی اداروں یا افراد کو) سے ریزرو کی مقدار میں کمی آتی ہے اور اس کے نتیجے میں زر کی سپلائی میں کمی ہوتی ہے۔ 
کھلی مارکیٹ کی کارروائی دو طرح کی ہوتی ہے۔مستقل اور ریپو (Outright and Repo) کھلی مارکیٹ میں Outright کارروائی مستقل یا پائیدار ہوتی ہے۔ جب مرکزی بینک یہ تمسکات خریدتا ہے (یعنی نظام میں رقم کی اضافہ کرتا ہے ) تو یہ انھیں دوبارہ فروخت کرنے کا وعدہ نہیں کرتا ہے۔ اسی طرح جب مرکزی بینک یہ تمسکات فروخت کرتا ہے (تاکہ نظام سے رقم واپس نکالی جا سکے) تو یہ ان تمسکات کو دوبارہ خریدنے کا وعدہ نہیں کرتا۔ اس کے نتیجے میں نظام میں ڈالی گئی یا نکالی گئی رقم مستقل ہوتی ہے۔ البتہ دوسرا اقدام وہ ہوتا ہے جس میں مرکزی بینک تمسکات کی خریداری کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کی فروخت کا معاہدہ بھی کرتا ہے جس میں فروخت کی تاریخ اور قیمت بھی دی جاتی ہے۔ اس طرح کے معاہدے کو دوبارہ خریداری کا معاہدہ یا ریپو کہتے ہیں ۔اس طرح حاصل کی گئی رقم پر جو سو د کو شرح ادا کی جاتی ہے اسے ریپوریٹ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح تمسکات کی مستقل فروخت کی بجائے مرکزی بینک ان تمسکات کو ایک معاہدے کے ساتھ فروخت کر سکتا ہے جس میں ان تمسکات کو دوبارہ خریدنے کا وقت اور قیمت متعین ہوتی ہے۔ اس طرح کے معاہدے کو دوبارہ خریداری کا معاہدہ یا ریورس ریپو کہا جاتا ہے۔ اس طرح سے رقم واپس لینے کی جو سود کی شرح طے کی جاتی ہے، اسے ریورس ریپوریٹ کہا جاتا ہے۔ RBI اس طرح کی Repo اور Reverse Repo کارروائی مختلف مدت کے لیے کرتا ہے یعنی صرف رات بھر کے لیے ، 7 دن کے لیے ، 14 دن کے لیے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی کارروائیاں اب ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی مالی پالیسی کے اہم اقدامات بن چکی ہیں۔
RBI اس شرح میں تبدیلی کرکے بھی زر کی سپلائی کو متاثر کر سکتا ہے جس پر وہ تجارتی بینکوں کو قرض دیتا ہے۔ ہندوستان میں اس شرح کو بینک ریٹ کہا جاتا ہے۔ بینک ریٹ میں اضافہ کرنے سے تجارتی بینکوں کو قرض لینا مشکل ہوجا تا ہے اور اس سے تجارتی بینک کے ذریعہ ریزرو میں کمی آجاتی ہے اور اس طرح زر کی سپلائی کم ہوجاتی ہے۔ بینک ریٹ میں کمی سے زر کی سپلائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

 زر کے لیے مانگ اور سپلائی : ایک تفصیلی مباحثہ (Demand for Money and Suppley of Money: A Detailed Discussion)

زرسبھی طرح کے اثاثوں میں سب سے زیادہ نقد اثاثہ اس معنی میں ہے کہ یہ ہمہ گیر طورپر قابل قبول ہے اور اس کا دوسری اشیا کے لیے آسانی سے مبادلہ کیا جاسکتا ہے ۔دوسری طرف اس کی لاگت بدل بھی ہوتی ہے ۔اگر زر کی ایک مخصوص رقم اپنے پاس رکھنے کے بدلے آپ اسے کسی بینک کے بچت کھاتے میں جمع کرتے ہیں تو آپ کی اس جمع رقم پر سود حاصل ہوتا ہے ۔ایک مخصوص وقت پر کتنا زر اختیار کیا جائے اس کا تعین کرتے وقت کسی کو سیالیت (نقد ) کے فوائد اورسود چھوڑ دینے کے نقصانات کے درمیان مبادلہ کے بارے میں غور کرنا ہوگا لہذا زر بقایا کی مانگ کو ترجیح نقد کہا جاتا ہے ۔لوگوں میں بقا یازر رکھنے کی خواہش کے عام طورپر دو محرکات ہوتے ہیں ۔

3.2.1  لین دین کا محرک 

زراختیار کرنے کا خاص محرک لین دین کو انجام دینا ہے ۔ اگر آپ اپنی آمدنی ہفتہ وار بنیاد پر حاصل کرتے ہیں اورہفتے کے پہلے دن بل کی ادائیگی کرتے ہیں تو آپ کو پورے ہفتے نقد رقم رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ آپ اپنے آجر سے براہ راست کہہ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی  ہفتہ وار تنخواہ سے خرچ کوکا ٹ کر باقی ماندہ تنخواہ آپ کے بینک کھاتے میں جمع کردے ۔لیکن بالعموم ہمارے اخراجات کا اندازہ اوروصولیابیوں میں عام طورپر اعلان نہیں ہوپاتا ہے ۔لوگ الگ الگ وقت پر آمدنی حاصل کرتے ہیں لیکن ان کا خرچ اس پورے وقفے میں مستقل جاری رہتا ہے ۔مان لیجیے کہ آپ کو ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو 100 روپیے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے اورمہینے کے باقی دنو ں میں یکساں طور پر خرچ ہوتا رہتا ہے ۔اس طرح ماہ کے شروع اور آخر میں آپ کا نقد بقایا علی الترتیب 100 روپیے اور 0 روپیے رہتا ہے ۔تب آپ کے اوسط نقد اختیار کرنے کا شمار (100 0+ )  7روپیے میں کیا جاسکتا ہے جس سے آپ ہر ماہ 100 روپیے کے بقدر لین دین کرتے ہیں۔لہذا آپ کے زر کے اوسط لین دین کے مابین آپ کی ماہانہ آمدنی کے نصف کے برابر ہے یا دوسرے لفظوں میں ، آپ کے ماہانہ لین دین کے قدر نصف ہے ۔ 

اب ہم دو افراد کی معیشت پر غور کریں گے جس میں دوہستیاں ایک فرم (ایک فرد کی ملکیت )اور ایک مزدور ہیں ۔ ہر مہینے کے پہلے دن فرم مزدور کو 100روپیے تنخواہ دیتی ہے۔ مزدور اس کے بدلے آمدنی کو فرم کے ذریعہ پیدا کی گئی شے پر پورے ماہ میں خرچ کرتا ہے۔یہاں معیشت میں صرف ایک ہی شے دستیاب ہے ۔اس طرح ہر مہینے کے شروع میں مزدور کے پاس 100 روپیے زر باقی رہتا ہے اور فرم کے پاس 0 روپیے ۔ ماہ کے آخر دن تصویر اس بالکل بر عکس ہوتی ہے۔ فرم کے پاس 100 روپیے ہوتاہے جو اسے مزدور کو اپنی شے فروخت کرنے سے حاصل ہوا ہے۔فرم اور مزدور کی اوسط زراختیار 50 روپیے کے بقد رہے۔ اس طرح معیشت میں ماہانہ لین دین کے لیے زرکی مانگ 100 روپیے کے بقدرہوگی۔ اس معیشت میں ماہانہ لین دین کی کل مقدار 200 روپیے فرم 100 روپیے قدر کی پیداوار مزدور کو فروخت کرتی ہے اور مزدور 100 روپیے کے بعد محنت فرم کو فروخت کرتا ہے۔کسی اکائی مدت میں اس معیشت میں لین دین کے لیے زر کی مانگ لین دین کے کل حجم کا ایک کسر ہوگا۔
 عام طور پر کسی معیشت میں زر کے لیے لین دین کی مانگ8   کو درج ذیل طورپر لکھا جا سکتا ہے۔
9
جہاں T ایک اکائی مدت میں لین دین کی کل قدر (زر) ہے اور K ایک مثبت کسر ہے۔
اس معیشت کودوسرے زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ کو شاید تعجب ہوگا کہ 200 روپیے ماہانہ لین دین کے لیے معیشت میں 100 روپیے کی قدر کا بقایا زر استعمال ہوتاہے۔ اس معمے کا جواب آسان ہے: مہینے میں دو بار ہر ایک روپیہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جاتا ہے۔پہلے دن آجر کی جیب سے اس کی منتقلی مزدور کی جیب میں ہوتی ہے اور مہینے کے دوران بار بار یہ روپیہ مزدور سے آجر کے پاس جاتا ہے ۔زر کی ایک اکائی کا ایک اکائی مدت میں جتنی بارتبادلہ ہوتاہے اسے زر کی رفتار گردش (Velocity of circulation of money) کہتے ہیں ۔ درج بالا مثال میں یہ 2 ہے، زر بقایا اور لین دین کی قدر کے تناسب کے نصف کا معکوس ۔ لہٰذا ہم مساوات (3.1) کو درج ذیل شکل میں دوبارہ لکھ سکتے ہیں۔
10
یہاں v =1/kرفتار گردش ہے۔ قابل ذکر ہے کہ درج بالا مساوات کے دائیں جانب کی عبارت بہاو متغیرہ ہے جب کہ زر کی مانگ ایک اسٹاک تصور ہے۔ یہ زر کے اسٹاک کو ظاہر کرتا ہے جسے لوگ کسی مخصوص وقت پر اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ زر کی رفتار بہر حال وقت گزرنے کے بعد (Time dimension) کسی اکائی مدت میں یعنی ایک ماہ یاسال میں جتنی دیر اسٹاک کی ایک اکائی مدت کی منتقلی (ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں ) ہوتی ہے اس کی تعداد ظاہر کرتا ہے۔ لہٰذا اس کی طرف زر کے لین دین کی کل قدر کی پیمائش کرتا ہے جو اس مدت کے دوران اسٹاک میں موجود ہواس کی ہے ۔ یہ بہاو متغیر ہ ہے اور یہ دائیں جانب کے متغیرہ کے برابر ہوتا ہے۔
 کسی معیشت میں مندرج سال میں مجموعی لین دین کے لیے زر کی مانگ اور کل گھریلو پیداوار (رسمی) کے درمیان تعلق کا مطالعہ کرنے میں ہماری دلچسپی ہوسکتی ہے۔ معیشت میں سالانہ لین دین کی کل قدر میں سبھی طرح درمیان اشیا اور خدمات کی لین دین شامل ہوتی ہے اور واضح طور پر رسمی کل گھریلو پیداوار کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے، لیکن عام طور پر لین دین کی قدر اور رسمی گھریلو پیداوار کے درمیان مستحکم اور مثبت تعلق قائم رہتا ہے۔ رسمی کل گھریلو پیداوار میں اضافے سے لین دین کی کل قدر میں اضافے کا پتہ چلتا ہے اور اس طرح مساوات (3.1) سے لین دین کے لیے زر کی مانگ نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔عام طور پر مساوات (3.1) میں درج ذیل تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
11
جہاں Y حقیقی کل گھریلو پیداوار ہے اور P عام سطح قیمت یا کل گھریلو پیداوار تقلیل کار ہے درج بالا مساوات ظاہر کرتا ہے کہ کسی معیشت میں لین دین کے لیے زر کی مانگ کا معیشت کی حقیقی آمدنی اور اس کی اوسط سطح قیمت کے درمیان مثبت تعلق ہوتا ہے۔
3.2.2 محرک سٹّہ 
کوئی فرد زمین کی ملکیت ، قیمتی دھاتوں ، بانڈ، زر وغیرہ کی شکل میں دولت رکھ سکتا ہے۔ آسانی کے لحاظ سے ہم زر کے علاوہ اثاثوں کی دیگر سبھی شکلوں کو ملاکر واحدزمرہ ’’بانڈ‘‘(bonnds) بنا لیتے ہیں۔ علامتی طور پر بانڈ ایسے کاغذ ہیں جن میں ایک مدت کے بعد مستقبل میں زری حاصل رخ کا وعدہ کیا جاتا ہے۔حکومت یا فرم عوام سے لیے گئے ادھار کے لیے ان کا غذوں کو جاری کرتی ہے اور بازار میں ان کی خریدو فروخت کی جا سکتی ہے۔ درج ذیل دو میعا دی بانڈ پر غور کیجیے۔ کوئی فرم لوگوں سے 100 روپیے کا قرض لینا چاہتی ہے ۔ وہ ایک بانڈ جاری کرتی ہے جو پہلے سال کے آخر میں 10 روپیے اور دوسرے سال کے آخر میں اصل رقم 100 روپیے کے ساتھ 10 روپیے مزید رقم کو یقینی بناتی ہے۔ ایسے بانڈ کی ظاہری قدر 100 روپیے، پختگی کی مدت 2 سال اور شرح کوین 10فی صد ہے۔تصور کیجیے کہ آپ کے بچت بینک کھاتے پر رائج شرح سود 5%کے بقدر ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ اس بانڈ سے کمائی گئی آمدنی کا موازنہ اپنے بچت بینک کھاتے کے سود سے کریں گے۔ اس بارے میں آپ جو سوال کریں گے وہ درج ذیل ہے: کتنا روپیہ بچت بینک کھاتے میں رکھا جائے کہ اس سے سال کے آخر میں 10 روپیے کا اضافہ ہو سکے؟ اس رقم کو x مان لیجیے ۔لہٰذا
دوسرے لفظوں میں           12

xکی اس مقدار کو بازار کی شرح سود پر منہا شدہ 10روپیے کی موجودہ قدر کہتے ہیں ۔ اسی طرح زر کی وہ مقدار جو بچت بینک کھاتے میں رکھی جاتی ہے اس سے 2سال کے آخر میں 110روپیے کا اضافہ ہوگا۔ اس طرح بانڈ سے حاصل روانی کی موجودہ قدر درج ذیل کے مساوی ہوگی۔

13

درج بالا شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ 109.29 روپیے (تقریباً) ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے بچت بینک کھاتے میں 109.29 روپیے رکھیں گے تو اس سے آپ اتنا ہی حاصل کر پائیں گے جتنا کہ بانڈ ہے۔کیونکہ بانڈ کو فروخت کرنے والا اتنا ہی فراہم کرتا ہے جتنی کی اس کی ظاہری قدر 100 روپیے ہے۔ واضح طورپر بچت بینک کھاتے کی نسبت بانڈ زیادہ باعث کشش ہے اور لوگوں میں بانڈ کے رکھنے کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔ اس مسابقتی بولی سے بانڈ کی درج بالا قدر میں اضافہ تب تک ہوگا جب تک بانڈ موجودہ قدر (PV) کے مساوی نہ ہوجائے۔ اگر قیمت موجودہ قدر (PV) سے زیادہ ہوگی تو بانڈ بچت بینک کھاتے کی نسبت کم باعث کشش ہوگا اور لوگ اس سے نجات پانا چاہیں گے۔ بانڈ کی زائد فراہمی ہوگی اور بانڈ کی قیمت پر دباو نیچے کی طرف ہوگا جو اسے موجودہ قدر (PV) تک واپس کھینچ لائے گا ۔ظاہر ہے کہ مسابقتی اثاثہ جات بازار کی صورت میں بانڈ کی قیمت اپنی موجودہ قدر کے مساوی توازن کی صورت میں ہوگی۔

اب مان لیجیے کہ سود کی بازار شرح میں 5تا 6 فی صدکا اضافہ ہوتا ہے لہٰذا اسی بانڈ کی موجودہ قدر اور قیمت در ج ذیل ہوگی۔

14

بانڈ کی قیمت اور سود کی بازار شرح میں معکوس نسبت ہوتی ہے۔

مختلف لوگوں کی معیشت کے بارے میں اپنی نجی اطلاع کی بنیاد پر سود کی بازار شرح میں مستقبل میں ہونے والی نقل وحرکت کے بارے میں مختلف توقعات ہوں گی۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ سود کی بازار شرح اچانک 8%سالانہ پر قائم ہوتی ہے تب آپ 5 فی صد رواں شرح کے بارے میں غور کر سکتے ہیں جو قابل بر قراری مدت میں بہت ہی کم ہے۔ آپ شرح سود میں اضافے کے بارے میں امید کر سکتے ہیں اور نتیجتاً بانڈ کی قیمت گر سکتی ہیں۔ اگر آپ بانڈ کے حامل ہیں تو بانڈ کی قیمت میں کمی کا مطلب ہے کہ آپ کو نقصان ہوگا، ٹھیک اسی طرح جیسے آپ کے ذریعہ اختیار کی گئی جائیداد کی قدر میں اچانک بازار میں فرسودگی کے سبب آپ کو نقصان ہوگا ۔ بانڈ کی قیمت میں کمی سے ہونے والے اس نقصان کو حامل بانڈ کی پونجی یا اصل کا نقصان (Capitalloss کہتے ہیں ۔ ایسی صورت میں آپ اپنے بانڈ کو فروخت کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کے بدلے زر اختیار کریں گے لہٰذا شرح اور بانڈ کی قیمت میں مستقبل میں ہونے والی نقل و حرکت سے متعلق سٹّہ مانگ میں اضافہ کاسبب ہوتا ہے۔

جب شرح سود بہت اونچی ہو تو ہر کوئی مستقبل میں اس کے گرنے کی امید کرتا ہے اور اس طرح بانڈ اختیار کرنے سے اضافۂ قدر اصل کی امید کرتا ہے لہٰذا لوگ اپنے زر کو بانڈ میں بدل دیتے ہیں۔ اس طرح زر کے لیے سٹّہ مانگ کم ہوگی۔ جب شرح سود گرتی ہے تو زیادہ تر لوگ امید کرتے ہیں کہ اس میں اضافہ ہوگا اور نقصان قدر اصل کی امید کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے بانڈ کو زر میں تبدیل کرتے ہیں جس سے زر کے لیے سٹّہ مانگ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ زر کے لیے سٹّہ مانگ شرح سود میں معکوس نسبت ہوتی ہے۔ ایک آسان شکل کا تصور کرنے پر زر کے لیے سٹّہ مانگ کو اسی طرح پیش کیاجا سکتا ہے۔

15
یہاں  rسود کی بازار شرح ہے اور 16    کی اور 17  in اوپری اور نچلی حدیں دونوں مثبت مستقلہ ہیں ۔ مساوات (3.4)سے ظاہر ہے کہ rمیں  18  تک میں کمی ہوتی ہے تو   19  کی قدر 0 سے ¥ تک بڑھتی ہے۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ شرح سود کو حامل زر بقایا کی بدل لاگت یا ’’قیمت ‘‘ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر معیشت میں زر کی رسد میں اضافہ ہوتا ہے اور لوگ بانڈ خرید تے ہیں تو بانڈ کے لیے اس زائد مانگ میں اضافہ ہوگا جس سے بانڈ کی قیمت بڑھے گی اور شرح سود میں کمی آئے گی۔ دوسرے لفظوں میں معیشت میں زر کی بڑھی ہوئی رسد سے بقایا زر اختیار کرے گا ۔ معیشت میں ہر کوئی اپنی دولت کو بقایا زر کی شکل میں رکھتا ہے۔ اگر معیشت میں زائدرقم داخل کی جاتی ہے تو اس کا استعمال بانڈ کی مانگ میں اضافہ کے ساتھ  rmin  سطح سے نیچے شرح سود میں کمی کے بغیر بقایا زر کے لیے لوگوں کی آرزو کی تسکین میں یہ صرف کیا جائے گا۔ ایسی صورت کو سیالیت کا جال کہتے ہیں۔ سٹّہ سے متعلق زر کی مانگ عمل یہاں مکمل درج ہے۔
شکل 3.1 میں زر کے لیے سٹّہ کا مانگ افقی محور اور سود کی شرح کو عمودی محور ترسیم (پلاٹ) کی گئی ہے ۔ جب r=r max توسٹّہ مانگ برائے زر کی مانگ صفر ہے۔ شرح سود اتنی اونچی ہے کہ ہر کوئی مستقبل میں اس کے گرنے کی امید کرتاہے اور اس لیے وہ یقین کرتا ہے کہ ہمیں پونجی نفع ہوگا لہٰذا کوئی سٹّہ بقایا زر کو بانڈ میں بدل دیتا ہے۔ جب r=rmin ہے تو معیشت سیالیت (نقدی) جال میں ہوتی ہے۔ ہر کوئی شرح سود میں مستقبل میں اضافے کے لیے بانڈ کی قیمت گراوٹ کے لیے پُر امید رہتا ہے ۔
 ہر کوئی اپنی دولت کو زر کے طور پر رکھتا ہے اور سٹّہ مانگ برائے زر لامتناہی ہوتا ہے۔ لہٰذا معیشت میں زر کی کل مانگ کی ترکیب لین دین مانگ اور سٹّہ مانگ سے ہوتی ہے ۔ سابقہ حقیقی کل گھریلو پیداوار (GDP) اور سطح قیمت کا سیدھا متناسب ہوتا ہے جب کہ ما بعد سود کی بازار شرح میں معکوس رشتہ ہوتا ہے۔معیشت میں مجموعی مانگ زر کو مختصراً درج ذیل مساوات سے دکھایا جا سکتا ہے۔
20

زرکے لیے سٹہ مانگ 

یا   21  

زر کی رسد: مختلف پیمانے

جدید معیشت میں زر کے تحت خاص طور پر ملک کی زر اختیار یہ کے ذریعہ جاری کرنسی نوٹ اور سکّے آتے ہیں۔ ہندوستان میں کرنسی نوٹ ریزرو بینک آف انڈیا جاری کرتا ہے جو ہندوستان کا زر اختیاریہ ہے لیکن سکّے حکومت ہند کے ذریعہ جاری کیے جاتے ہیں۔کرنسی نوٹ اور سکّوں کے علاوہ کمر شیل بینکوں میں لوگوں کے ذریعہ جمع کیے گئے بچت کھاتے اور چالو کھاتے کو بھی زر کہا جاتا ہے کیونکہ ان کھاتوں سے نکالے گئے چیکوں کا ستعمال لین دین کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایسی جمع کو مانگ جمع کہتے ہیں جو حامل کھاتہ کی مانگ پر بینک کے ذریعہ واجب الادا ہوتے ہیں۔ دیگر جمع جیسے میعادی جمع کی پختگی کی مدت مقرر ہوتی ہے اور اسے میعادی تحویل کا میعادی ڈپازٹ کہا جاتا ہے۔
اگر چہ 100 روپیے کے نوٹ کا استعمال کر کے دوکان سے 100 روپیے قدر کی شے حاصل کی جا سکتی ہے جب کہ کاغذ کی خود کی قدر ناقابل لحاظ ہوتی ہے۔ یقینا 100 روپیے سے کم، اسی طرح 5 روپیے کے س1کّے میں دھات کی قدر غالباً 5 روپیے نہیں ہوتی تو پھر لوگ ان سکّوں اور نوٹ کو ان اشیا کے مبادلے کی شکل میں کیوں قبول کرتے ہیں جو واضح طور پر ان سے زیادہ قیمتی ہے؟ کرنسی نوٹ اور سکّوں کی قدر اُن مدوں کے اختیار یہ کے ذریعہ جاری کی گئی گارنٹی سے اخذ کی جاتی ہے ۔ہر ایک کرنسی نوٹ پر ریزروبینک آف انڈیا کے ذریعہ ایک وعدہ کیاجاتا ہے ۔ اگر کوئی ریزرو بینک آف انڈیا یا کسی کمر شیل بینک کو نوٹ پیش کرتا ہے تو ریزرو بینک آف انڈیا اس نوٹ پر درج قدر کے برابر قوت فراہم کرنے کے لیے جوابدہ ہے ۔سکوں کے بارے میں بھی یہی بات صحیح ہے۔ لہٰذا کرنسی نوٹ اور سکوں کو حکمی زر (Fiat Money) کہتے ہیں۔سونے اور چاندی کے سکے کی طرح ان کی ذاتی قدر نہیں ہوتی۔ ان کو قانونی ٹینڈر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ملک کے کسی بھی شہری کے ذریعہ اس کے کسی بھی قسم کے لین دین سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔جب کہ بچت یا چالو کھاتے سے نکالے گئے چیک میں یہ امکان قوی رہتا ہے اس طرح مانگ جمع قانونی ٹینڈر نہیں ہے۔

3.3.1  جائز تعریفیں: محدود زر اور وسیع زر

زر کی مانگ کی طرح اس زر کی رسد ایک اسٹاک متغیر ہ ہوتی ہے۔ ایک مخصوص وقت میں لوگوں میں گردش کرنے والے زر کے کل اسٹاک کو زر کی رسد کہتے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا زر رسد کی چار متبادل پیمائشوں کی خصوصیات شائع کرتا ہے۔ جو M1 ،M2، M3 اور M4 ہیں ان کی وضاحت درج ذیل ہے۔
CU + DD = M1
+M1 = M2 ڈاک خانہ بچت بینکوں میں بچت جمع 
+ M1 = M3 کمر شیل بینکوں کی خالص میعادی جمع
+ M3 = M4 ڈاک خانہ بچت تنظیموں میں کل جمع (قومی بچت سر ٹیفکٹ کو چھوڑ کر)
جہاں CU لوگوں کے ذریعہ رکھے گئے کرنسی (نوٹ اور سکے) میں اور DDکمر شیل بینکوں کے ذریعہ رکھی گئی خاص مانگ جمع ہے۔ خالص (Net) لفظ سے بینک کے ذریعہ رکھی گئی لوگوں کے ذریعہ جمع کا ہی مفہوم ظاہر ہوتاہے اور اس لیے یہ زر رسد میں شامل ہیں۔بین بینک جمع جو ایک کمر شیل بینک دوسرے کمر شیل بینک میں رکھتے ہیں کو زر رسد کے حصے کے طور پر نہیں جانا جاتا ہے۔
M1 اور M2 محدود زر کہلا تا ہے۔ M3 اور M4 کو وسیع زر کہتے ہیں ۔ یہ زمرے سیالیت کے کم ہوتے ہیں۔M1 لین دین کے لیے سب سے سیال اور آسان ہے جب کہ M4ان میں سب سے کم سیال (نقد) ہے۔ M3 زر رسد کی پیمائش کی سب سے زیادہ آسان شکل ہے۔ اسے 1مجموعی زری وسائل بھی کہتے ہیں۔



باکس نمبر 3.2 نوٹ بندی: (Box No 3.2:Demonetisation) 

ملک میں بد عنوانی ، کالا دھن ، دہشت گردی اور معیشت میں جعلی کرنسی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے نومبر2016 میں کی گئی نوٹ بندی حکومت ہند کی طرف سے اٹھایا گیا ایک نیا قدم تھا۔ 500 روپے اور 1000 روپے کے پرانے کرنسی نوٹ جائز نہیں رہے۔ اس کے بدلے 500 روپے اور 2000 روپے قدر کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے۔ عوام کو صلاح دی گئی کہ وہ 31 دسمبر2016 تک اپنے پرانے کرنسی نوٹ کسی حلف نامے کے بغیر اپنے بینک کھاتے میں جمع کر سکتے ہیں جبکہ 31 مارچ 2017 تک حلف نامے کے ساتھ RBI میں جمع کر سکتے ہیں۔ 
اس کے علاوہ صورتحال مکمل طور پر ٹھپ ہوجانے اور نقدم رقم کی کمی سے بچنے کے لیے حکومت نے ایک شخص کوایک دن میں 4000 روپے کے پرانے کرنسی نوٹ کو نئے کرنسی نوٹ سے بدلنے کی بھی اجازت دی تھی۔ اس کے علاوہ 12 دسمبر 2016 تک پرانے کرنسی نوٹ پیٹرول پمپوں ، سرکاری اسپتالوں اور سرکاری ادائیگی جیسے ٹیکس ، بجلی کے بل وغیرہ کے لیے قابل قبول تھے۔ 
اس اقدام کی ستائش بھی کی گئی اور نکتہ چینی بھی ATMs- کے سامنے لمبی لمبی قطاریں لگی تھیں کرنسی کے سرکولیشن میں کمی کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرپڑا۔ البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال بہتر ہوئی اور آخر کار معمول پر آگئی ۔ 
اس اقدام کے مثبت اثرات بھی مرتب ہوئے۔ اس کی وجہ سے ٹیکس ادائیگی میں بہتری آئی کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ ٹیکس کے دائرے میں لائے گئے۔ افرادی بچت کو باضابطہ مالی نظام میں لایا جا سکا۔ اس کے نتیجے میں بینکوں کے پاس زیادہ وسائل جمع ہوئے جنہیں وہ کم شرح سود پر زیاوہ قرض دینے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔ اس سے کالے دھن پر روک لگانے کے حکومت کے فیصلے کا اظہار ہوتا ہے کہ اب ٹیکس کی چوری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ٹیکس کی چوری سے مالی جرمانے کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت بھی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس کی ادائیگی میں اضافہ ہوگا اور بد عنوانی میں کمی آئے گی۔ نوٹ بندی سے ٹیکس انتظامیہ میں ایک دوسرے طریقے سے بھی مدد ملے گی یعنی نقد لین دین کی معیشت باضابطہ ادائیگی کے نظام میں تبدیلی ہوگی۔ کنبوں اور فرموں نے الیکٹرونک ٹیکنالوجی کے ذریعے ادائیگی کرنا شروع کر دیا ہے۔ 


خلاصہ


زر کے وسیلے کے بغیر اشیا کے مبادلے کو اشیا تبادلہ کہا جاتا ہے۔ ضرور ت کی دوہری مطابقت میں کمی کے سبب یہ نظام رائج نہیں ہوسکا۔ بالعموم مبادلے کے قابل قبول وسیلے کے طورپر
 عمل کے ذریعہ زر مبادلات کو آسان بناتا ہے۔ جدید معیشت میں لوگ خاص طور پر دو محرکات کی بنا پر زر اختیار کرتے ہیں ۔ ایک لین دین اور دوسرے سٹّہ محرک جب کہ دوسری طر ف زر رسدمیں کرنسی نوٹ اور سکے، کمر شیل بینکوں کے ذریعہ رکھی گئی مانگ اور میعادی جمع وغیرہ شامل ہیں۔اس کی درجہ بندی محدود اور وسیع زر کے طور پر سیالیت یا نقد کے کم ہوتے ہوئے سلسلے کے مطابق کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں زر رسد کو ریزرو بینک آف انڈیا کے ذریعہ ضبط کیاجاتا ہے جوملک کی زر اختیاریہ کے طورپر کام کر تا ہے۔معیشت میں زر رسد میں تبدیلیوں کے لیے لوگوں کے مختلف کام کاج، ملک کے کمر شیل بینک اور ریزرو بینک آف انڈیا ذمہ دار ہیں۔ریزرو بینک آف انڈیا اعلیٰ اختیار زر کے اسٹاک، شرح سود اور کمر شیل بینکوں کے ریزور (محفوظ) ضرورتوں کو کنٹرول کرنے کے ذریعہ 

زر رسد کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ باہری جھٹکوں سے معیشت میں زر رسد کو مستحکم کرتاہے

 Barter exchange                                           تبادلۂ اشیا

 Double coincidence of wants                          ضروریات کی دوہری مطابقت

Money                                                             زر

Medium of exchange                                         ذریعۂ  مبادلہ

 Transaction demand                                      لین دین مانگ 

Store of value                                                  ذخیرئہ قدر

 Bonds                                                                   بانڑ 

                                 Speculative demand                                                سٹہ مانگ                                  

Present value                                                        موجودہ قدر

Rate of interestٍ                                                       شرح سود

Capital gain or loss                                         پونجی منافع یا نقصان

Liquidity trap                                                       سیالیت کا پھندا

 Fiat money                                                               حکمی زر

Legal tender                                                                   قانونی ٹنڈر

Narrow money                                                                   محدودزر

Broad money                                                                       وسیع ر زر

Aggregate monetary resources                                               مجموعی زری وسائل 

Currency deposit ratio                                                          قرض کا آخری ذریعہ

 Reserve  deposit ratio                                                           رواں جوجمع تناسب محفوظ جمع تناسب

High powered money                                                                 کھلی بازار کا رروائی

Money multiplier                                                                       رزر ضارب

 High powered money                                                                   کھلی بازار کا رروائی

Deficit financing through central bank borrowing     مرکزی بینک سے ادھار لینے کے ذریعہ

 Open market operation                                               مستحکم یا محفوظ بنانا

 Bank Rate                                                                          خسارے کا مالیاتی انتظام

 Statutory  Liquidity Ratio (SLR)                                               قانونی تناسب سیالیت 

   Cash Reserve Ratio (CRR)                                                         شرح بینک 

 


مشقیں


1۔   تبادلۂ اشیا نظام کیا ہے؟ اس کی خامیاں کیاہیں؟
زر کے اہم کام کیا ہیں؟ زر کس طرح تبادلۂ اشیا نظام کی خامیوں کو دور کرتا ہے؟
  لین دین کے لیے زر کی مانگ کیا ہے؟ـ کسی صریح کردہ مدت وقت میں لین دین کی قدر سے یہ کس طرح متعلق ہے؟
4۔    مان لیجیے کہ ایک بانڈ دو سال کے بعد 500 روپیے کا وعدہ کرتا ہے، اس میں کوئی ثانوی مبادلہ نہیں ملتا ۔ اگر شرح سود 5 فی صد سالانہ ہے تو بانڈ کی قیمت کیا ہوگی؟
5۔    زر کے لیے سٹّہ مانگ اور شرح سود میں معکوسی تعلق کیوں ہوتا ہے؟ 
6۔    سیالیت کا پھندا (liquidity trap)کیا ہے؟
7۔    ہندوستان میں زر رسد کی متبادل تعریفیں کیا ہیں؟
8۔   قانونی ٹینڈر اور حکمی زر (Fiat money) کیا ہے؟
9۔    اعلیٰ اختیار زر کیا ہے؟
10۔ کمر شیل بینکوں کے کاموں کی وضاحت کیجیے؟
11۔ زر ضارب (money multiplier)کیاہے؟ اس کی قدر کا تعین کیسے کریں گے؟ اس کی قدر کے تعین میں کن تناسب کا اہم کردار ہوتاہے؟
12۔ ریزرو بینک کی زری پالیسی کے کون کون سے لوازمات ہیں؟ َبیرونی جھٹکوں کے خلاف ریزرو بینک کس طرح زر رسد کو مستحکم کرتا ہے؟
13۔ کیا آپ ایسا مانتے ہیں کہ معیشت میں کمر شیل بینک ہی زر کی تخلیق کرتے ہیں؟
14۔    ریزرو بینک کے کس کردار کو قرض کا آخری ذریعہ کہا جاتا ہے؟

مجوزہ مطالعات


1. Dornbusch, R. and S. Fischer. 1990. Macroeconomics, (fifth edition) pages 345 – 427, McGraw Hill, Paris.
2. Branson, W. H., 1992. Macroeconomic Theory and Policy, (second edition), pages 243 – 280, Harper Collins Publishers India Pvt. Ltd., New Delhi.
3. Sikdar, S., 2006. Principles of Macroeconomics, pages 77 – 89, Oxford University Press, New Delhi.

ضمیمہ 3.1


لا امتناہی جیو میٹری سلسلوں کی جمع
ہم درج ذیل طور پر ایک لامتناہی جیومیٹری سلسلے کی جمع معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ 
23
جہاں aاور rاصل اعداد ہیں اور 0 < r < 1ہے۔ جمع نکالنے کے لیے درج بالا مساوات کو r  سے ضرب کیجیے۔
24
دوسرے مساوات کو پہلے سے گھٹا نے پر حاصل ہوتا ہے۔
  جس سے حاصل ہوتا ہے۔25
زر ضارب کو اخذ کرنے کے لیے استعمال کی گئی مثال میں 26  ہے لہٰذا لا متناہی سلسلوں کی قدر ہے۔


ہندوستان میں زر رسد 

جدول 3.5 M1: اور M3 میں مخصوص مدت کے دوران میں تبدیلی (بلین میں)

10560.25
12240.92
14200.07
16479.54
18615.80
21282.27
24589.25
29501.86
36034.44
43436.64
51778.82
60151.65
69688.05
79089.42
89822.14
100517.56
111303.63
121612.85
131054.39
144468.38
159093.63

3206.30
3565.92
3976.83
4455.13
5146.36
6032.65
7164.70
8586.75
9950.28
11396.07
13198.51
15415.27
16312.42
17863.11
19573.30
21651.21
24101.90
25031.82
28260.86
32934.66
36948.33



1999-00
2000-01
2001-02
2002-03
2003-04
2004-05
2005-06
2006-07
2007-08
2008-09
2009-10
2010-11
2011-12
2012-13
2013-14
2014-15
2015-16
2016-17
2017-18
2018-19
2019-20





ماخذ: ہینڈ بک آف اسٹیٹسٹکس آن انڈین اکنامی، ریزرو بینک آف انڈیا
دونوں کالموں کی قدروں میں فرق کمر شیل بینکوں کے ذرویعہ رکھی گئی میعادی جمع منسوب کرنے لائق ہے۔

ایک مدت وقت میں زری اساس کے وسائل کی ترکیب میں تبدیلیاں ۔


جدول 3.6: زر کے اسٹاک کے اجزا (کروڑ میں)روپے (کروڑ میں)

 ریزرو بینک آف انڈیا میں کھاتہ دار کی جمع
ریزرو بینک آف انڈیا میں دیگر جمع پبلک کے پاس کرنسی بینکوں کے پاس نقد
استعمال میں کرنسی سال
5419
34882
84147
113996
135511
197295
328447
291275
352299
423509
356291
320671
429703
4655.61
5018.2
5441.27
5655.25
601969
543888

168
885
2850
6478
6869
7496
9054
5570
3839
3713
2822
3240
1965
145.90
154.51
210.91
239.07
31742
38507

14474
61098
240794
356314
412124
4825854
568410
665450
767493
914197
10222650
1144743
1248344
13861.82
15972.54
12641.24
17597.12
2052209
2349715

936
2640
10179
12347
17454
21244
22390
25703
32056
35463
44580
46233
52727
621.31
662.09
711.42
696.35
84561
97563


15411
63738
250974
368661
429578
504099
590801
691153
799549
949659
1067230
1190975
1301071
14483.12
16634.63
13352.66
18293.48
21367.70
24472.79


1981-82
1991-92
2001-02
2004-05
2005-06
2006-07
2007-08
2008-09
2009-10
2010-11
2011-12
2012-13
2013-14
2014-15
2015-16
2016-17
2017-18
2019-20



ماخذ: ہینڈ بک آف اسٹیٹکس آن انڈین اکنامی، ریزرو بینک آف انڈیا،2017-18
غور کریں کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے حکومت ہند کی گھریلو ساکھ (credit) پر سختی کی ہے