
زراور بینک کاری
زر مبادلے کا ایک عمومی قابل قبول ذریعہ ہے ۔ ایسی معیشت جو صرف ایک فردپر مشتمل ہو،اس میں اشیا کا کوئی مبادلہ نہیں ہوسکتااس لیے وہاں زرکا کوئی کردار نہیں ہوتا ہے ۔ایک سے زیادہ افراد ہونے پر بھی اگر وہ بازار کے لین دین میں حصہ نہیں لیتے ہیں ، جیسے کہ کسی جزیرے پر کوئی ایک خاندانی یکہ وتنہارہتا ہو تو وہاں زر کاکوئی عمل نہیں ہوگا ۔لیکن جوں ہی ایک سے زائد معاشی ایجنٹ بازار کے ذریعہ لین دین شروع کرتے ہیں ،زر مبادلوں کو آسان بنانے کا ایک اہم وسیلہ بن جاتاہے ۔ زر کے وسیلے کے بغیر معاشی مبادلے کو تبادلۂ اشیا (بارٹر) کہا جاتا ہے۔حالانکہ اس میں ضرورتوں کی دوہری مطابقت کو غیر یقینی ماناجاتا ہے ۔بطورمثال،مان لیجیے کہ ایک فرد کے پاس چاول زائد ہے جس کے بدلے میں وہ کپڑا لینا چاہتا ہے ۔اگر وہ خوش نصیب نہیں ہے تو اسے ایسا شخص نہیں ملے گا جس کی مانگ ٹھیک اس کے برعکس ہویعنی اسے چاول کی ضرورت ہو اوراسے وہ ضرورت سے زیادہ دستیاب کپڑوں کے لیے مبادلہ کرنا چاہتا ہو۔جوںجوںاشخاص کی تعداد میں اضافہ ہوگا تلاش کی لاگت مانع ہوسکتی ہیں ۔ اس طرح لین دین کو ہموار بنانے کے لیے کسی درمیانی شے کا ہونا ضروری ہے جو دونوں فریقوں کو قابل قبول ہو۔ ایسی شے کو زر کہتے ہیں ۔ ایک شخص اپنی تیار شے کو زر کے بدلے فروخت کر کے اس کا استعمال اپنی ضرورت کی شے خرید نے میں کر سکتاہے ۔اگر چہ زر کا خاص کردار مبادلے کو آسان بنا نا ہے ،لیکن یہ دیگر مقاصد کی تکمیل میں بھی مدد گار ہوتا ہے ۔جدید معیشت میں زر کے اہم کام درج ذیل ہیں ۔
3.1 زر کے کام
جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے کہ زر کا سب سے پہلا کام مبادلہ کے طورپر کام کرناہے ۔بڑی معیشت میں تبادلۂ اشیا نہایت مشکل کام ہے ، کیونکہ اونچی لاگتوں کے سبب افراد کو اپنے زائد کے مبادلہ کے لیے موزوں افرادکی تلاش کرنی ہوگی ۔زر کھاتے کی ایک آسان اکائی کے طورپر بھی کام کرتا ہے۔سبھی اشیا اور خدمات کی قدر زری اکائی کے طورپرظاہر کی جاسکتی ہے ۔جب ہم کہتے ہیں کہ ایک کلائی گھڑی کی قیمت 500 روپیے ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کلائی گھڑی کا زرمبادلہ 500 اکائیوں سے کیاجاسکتا ہے ، جہاں زر کی ایک اکائی روپیہ ہے ۔ اگر ایک پنسل کی قیمت 2 روپیے ہے اورایک قلم کی قیمت 10 روپیے ہے تو ہم قلم اور پنسل کی نسبتی قیمت کا شمار کرسکتے ہیں ۔ جیسے ایک قلم کی قیمت
قلم ہے ،لہذا اگر سبھی اشیا کی قیمتیں زر کی شکل میں بڑھتی ہیں تو،دوسرے لفظوں میں ، جسے قیمت کی سطح میں عام اضافہ کہتے ہیں زر کی قدر کسی شے کی نسبت کم ہو جاتی ہے کیونکہ اب زر کی ایک اکائی کم اشیا کو خرید تا ہے اسے زر کی قوت خرید میں ابتری کہا جاتا ہے ۔
تبادلۂ اشیا کی دیگر خامیاں بھی ہیں ۔ اس نظام میں کسی فرد کی دولت کو برقراررکھنا مشکل ہے ۔ مان لیجیے کہ آپ کے پاس چاول کا اثاثہ ہے جس کوآپ آج پوری طرح صرف کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں ۔ آپ چاول کے اس زائد اسٹاک کو مستقبل میں دوسری ضروری اشیاکے حصول لیے یااثاثے کے طورپر ذخیرہ کرنا چاہتے ہیں ۔لیکن چاول جلد خراب ہونے والی ایک شے ہے جسے آپ مخصوص وقت سے زیادہ دنوں تک ذخیرہ نہیں کرسکتے جس کے لیے کافی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب آپ اپنے ذخیرہ کیے ہوئے چاول کے بدلے دوسری ضرورت کی شے خرید ناچاہیں گے توکافی وقت اور وسائل ایسے ضرورت مندافراد کی تلاش میں لگا ناجنھیں ضرورت کی شے کے بدلے چاول کی ضرورت ہے ۔اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے ۔اگرآپ چاول کو زرکے لیے فروخت کرتے ہیں۔ زر خراب ہونے والی چیز نہیں ہے اور اس کی ذخیرہ لاگت نہایت کم ہوتی ہے ۔ز ر کسی بھی شخص کے ذریعہ کسی بھی وقت قابل قبول ہوتا ہے۔ لہذا زر افراد کے لیے قدر جمع کرنے کاکا م کرتی ہے ، مستقبل کے لیے دولت کا ذخیرہ زر کی شکل میں کیا جاسکتا ہے ۔لیکن اس کام کو مؤثر طورپر انجام دینے کے لیے زر کی قدر میں استحکام کا ہونا ضروری ہے ۔قیمتوں کی سطح بڑھتے جانے سے زر کی قوت خرید کم ہوتی جاتی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہم زر کے علاو ہ دیگر اثاثوں میں قدر کو جمع کرنے کا کام کرسکتے ہیں ۔جیسے سونا ،جائیداد ،زمین کی ملکیت مکان اور بانڈ(جلدہی اس کے بارے میں بتا یا جائے گا) لیکن یہ ہم دیگر اشیا میں آسانی سے قابل تبدیل نہیں ہوسکتے ہیں اورا ن کو ہمہ گیر قبولیت بھی حاصل نہیں ہوگی ۔کچھ ملکوں نے ایک ایسی معیشت کی جانب پیش رفت کی کوشش کی ہے جس میں نقد رقم کا لین دین کم ہو اور ڈیجیٹل لین دین زیادہ سے زیادہ ہو۔نقد رقم سے پاک سماج کا مطلب ایک ایسی معاشی صورت حال ہے جہاں مالی لین دین کا تعلق اصل بینک نوٹوں یا سکوں کی شکل میں نہ ہو بلکہ یہ لین دین ڈیجیٹل طریقے سے معلومات کے تبادلے کے ذریعہ (عام طور پر الیکٹرانک ذرائع سے) متعلقہ فریقوں کے درمیان لین دین کیاجائے۔ ہندوستان میں حکومت زیادہ سے زیاوہ مالی شمولیت کے لیے مختلف اصلاحات میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں کیے گئے اقدامات، جیسے جن دھن کھاتے، آدھار کی بنیاد پر ادائیگی نظام،ای والٹ، فائنانیشنل سوئچ (این ایف ایس) اور دیگر طریقوں نے نقد رقم سے پاک معیشت بنانے کے حکومت کے عزم کو پختہ کیا ہے۔ آج مالی شمولیت کا خواب حقیقی روپ اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ ملک میں موبائل اور اسمارٹ فون کے استعمال میں زبردست اضافہ ہو ا ہے ۔
3.2 زر کے لیے مانگ اور اس کی سپلائی (Demand for Money and Supply of Money)
3.2.1:۔ زر کے لیے مانگ (Demand for Money)
زر کے لیے مانگ سے مرادلوگوں کی خواہش ہے کہ وہ کتنی رقم رکھنا چاہتے ہیں۔ چونکہ زر کی ضرورت لین دین کے لیے ہوتی ہے، اس لیے لین دین کی مناسبت سے ہی یہ طے ہوتا ہے کہ لوگوں کو کتنے زر کی ضرورت ہے اور وہ کتنا زر اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں: جتنا زیادہ لین دین کرنا ہوگا اتنی ہی زیاوہ رقم کی مانگ ہوگی۔ چونکہ لین دین کا دارومدار لوگوں کی آمدنی پر ہوتا ہے ، اس لیے اگر آمدنی میں اضافہ ہوگا تو زر کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس طرح جب لوگ اپنی بچت رقم کی شکل میں بینک میں جمع کرنے کی بجائے گھر پر رکھتے ہیں، اس کا انحصار بھی اس باہوتا ہے کہ بینک انھیں کتنا سود دے رہا ہے۔ ظاہر ہے جب سود کی شرح زیادہ ملنے لگتی ہے تو لوگ گھر پر رقم رکھنے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ گھر پر رقم رکھنے کا مطلب ہے ، بچت پر کم سود کا حصول۔ اس طرح اگر رقم پر سود کی شرح زیادہ ہوگی تو زر کی مانگ کم ہو جائے گی۔
3.2.2 زر کی سپلائی (Supply of Money)
ایک جدید معیشت میں رقم میں نقد رقم اور بینک میں جمع رقم شامل ہوتی ہے۔ بینک کے کھاتوں کی مختلف قسمیں اس میں شامل ہیں اور رقم کے کئی پیمانے ہیں۔ یہ دو طرح کے اداروں پر مبنی نظام سے تشکیل پاتے ہیں۔ ان میں ایک معیشت کا مرکزی بینک ہوتا ہے اور دوسرا تجارتی بینکنگ نظام۔
مرکزی بینک (Central Bank)
ایک جدید معیشت میں مرکزی بینک ایک بہت اہم ادارہ ہوتا ہے۔تقریباً سبھی ملکوں میں ایک مرکزی بینک ہوتا ہے۔ ہندوستان میں مرکزی بینک 1935 میں قائم ہو اتھا۔ اس کا نام ہے ’’ ریزرو بینک آف انڈیا‘‘ ۔ مرکزی بینک کے کئی اہم کام ہوتے ہیں۔ یہ ملک کی کرنسی جاری کرتا ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے، جیسے بینک کی شرح، کھلی مارکیٹ کی کارروائی اور ’’ریزروریشو‘‘ میں کمی یا اضافے وغیرہ کے ذریعہ ملک میں زر کی سپلائی کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ حکومت کے لیے ایک بینکر کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ ملک میں بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر کا متولی ہوتا ہے۔ یہ بینکنگ نظام کے لیے ایک بینک کے طو رپر بھی کام کرتا ہے، جس کے بارے میں آگے تفصیل سے بحث کی جائے گی۔
زر کی سپلائی کے نقطۂ نظر سے، ہمیں مرکزی بینک کے ذریعہ کرنسی جاری کرنے کے کام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مرکزی بینک سے جاری کی گئی یہ کرنسی عوام کے ہاتھ میں رہ سکتی ہے یا تجارتی بینکوں کے قبضے میں رہ سکتی ہے۔ اس رقم کو ’’ زیادہ قوت والی رقم ‘‘ (High Powerd) یا ’’ریزرو رقم‘‘ (Reserved Money) یا ’’ رقم کی بنیاد‘‘ (Monetary base) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قرض کی تشکیل کی بنیاد ہوتی ہے۔
تجارتی بینک (Commercial Banks)
تجارتی بینک ایک دوسرے قسم کے ادارے ہوتے ہیں تو ایک معیشت میں ’’زر کی تشکیل‘‘ کے نظام کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ اس سیکشن میں ہم تجارتی بینکنگ نظام پر تفصیل سے نظر ڈالیں گے۔ یہ بینک عوام کی بچت کو جمع کراتے ہیں اور اس کا کچھ حصہ ان لوگوں کو قرض دیتے ہیں جو قرض لینے کے خواہش مند ہیں۔ بینک رقم جمع کرانے والوں کو کم سود دیتی ہیں جبکہ قرض لینے والوں سے زیادہ سود وصول کرتی ہیں۔ اس طرح سود کی شر ح میں فرق کی وجہ سے جو رقم بچتی ہے اسے (پھیلاو)"Spread" کہا جاتا ہے جو ایک بینک کا منافع ہوتا ہے۔
لوگوں کے ذریعہ بچت جمع کرانے اور بینکوں کے ذریعہ قرض دیے جانے کے عمل کی ذیل میں وضاحت کی گئی ہے۔ اس عمل کو سمجھنے کے لیے ہم ایک کہانی بیان کرتے ہیں۔
پرانے وقت میں ایک گاؤں میں ایک سنار تھا، جس کا نام تھا ــ’’لالہ‘‘۔ اس گاؤں میں لوگ اشیا اور خدمات کی خریداری کے لیے سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں کا استعمال کرتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں یہ دھاتیں رقم کے طور پر کام کرتی تھیں۔ لوگوں نے حفاظت کے خیال سے اپنا سونا لالہ کے پاس جمع کرانا شروع کردیا۔ اس کے بدلے میں ’لالہ‘ لوگوں کو کاغذ پر سونے کی رسید لکھ کر دے دیتا تھا اور سونے کی حفاظت کے لیے ان سے معمولی فیس لیتا تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ، رفتہ رفتہ ــ’لالہ‘ کے ذریعہ دی گئی یہ رسیدیں رقم کے طور پر لی اور دی جانے لگیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سونے یا قیمتی دھات دینے کی بجائے اب گیہوں ، جوتے یا دیگر اشیا کی خریداری کے لیے لالہ کے ذریعہ جاری کردہ رسیدیں استعمال کی جانے لگیں ۔ اس طرح کاغذ کی رسیدیں رقم کے طور پر استعمال کی جانے لگیں کیونکہ گاؤں کے تمام لوگوں نے ان رسیدوں کو تبادلہ کے ذریعے کے طور پر قبول کر لیا تھا۔
اب ہم فرض کریں کہ لالہ کے پاس مختلف لوگوں کے ذریعہ جمع کرایا گیا سونا 100 کلوگرام ہے اور وہ 100 کلوگرام سونے کی وصولی کی رسیدیں جاری کر چکا ہے۔ اس دوران ایک شخص ’رامو‘ لالہ کے پاس آیا ہے اور اس سے 25 کلو سونا ادھار کے طور دینے کو کہتا ہے۔ کیا ’لالہ‘ اسے سونا قرض دے سکتا ہے؟ اس کے پاس جو 100کلو گرام سونا ہے، اس کے دعویدار پہلے ہی موجود ہیں۔ لیکن لالہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ سونا جمع کرنے والا ہر شخص اس کے پاس سونا واپس لینے کے لیے ایک ہی وقت میں نہیں آئے گا۔ اور اس دوران وہ ’رامو‘ کو سونا قرض دے کر اس پر سود وصول کر سکتا ہے۔ اگر لالہ 25 کلو گرام سونا رامو کو قرض دے دیتا ہے اور رامو یہ سونا علی کو ادا کر دیتا ہے ۔علی پھر اپنا سونا حفاظت کے لیے لالہ کے پاس جمع کرادیتا ہے اور ا س کی کاغذ پر رسید حاصل کر لیتا ہے۔ اس طرح مارکیٹ میں سونے کی رسیدیں اب 125 کلو گرام کی ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب ہوا کہ لالہ نے بغیر کچھ کئے ہی 25 کلوگرام سونےکے برابر رقم تشکیل دے دی۔ جدید بینکنگ نظام بھی بالکل اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح مذکورہ مثال میں لالہ نے کام کیا ہے۔
تجاری بینک ایسے افراد اور فرموں کے درمیان ثالثی کرتے ہیں جن کے پاس اضافی فنڈ دستیاب ہیں اور اس فنڈ کو ان افراد یا فرموں کو قرض دیتے ہیں جنھیں ان کی ضرورت ہے۔ جن لوگوں کے پاس اضافی رقم موجود ہے وہ اپنی رقم بچت کے طور پر بینک میںجمع کراتے ہیں اور جن لوگوں کو فنڈ کی ضرورت ہوتی ہے بینک سے ہوم لون، فصل قر ض وغیرہ کی شکل میں قرض لیتے ہیں۔ لوگ بینکوں میں رقم رکھنے کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ بینک انھیں سود کی پیشکش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اضافی رقم کو گھر پر رکھنے سے زیاوہ بہتر بینک میں جمع کرنا ہے، جیساکہ لوگ اپنا سونا گھر رکھنے کی بجائے لالہ کے پاس رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جدیدمنظر نامے ہیں، چیک اور ڈیبٹ کارڈ اور مانگ پر لین دین کرنا زیادہ آسان ہوگیا ہے، چاہے جمع بچت پر سود ملے یا نہ ملے۔ (سوچییکہ آپ کو بڑی رقم نقد ادا کرنی ہو، جیسے مکان خریدنے کے لیے)
بینک، کھاتوں میں جمع فنڈ کا کیا کرتے ہیں؟ فرض کیجیے کہ جن لوگوں نے بینک میں اپنی رقم جمع کرائی ہے، تو کیا وہ سب ہی ایک ہی وقت میں اپنی رقم واپس لینا چاہیں گے۔ ایسا نہیں ہوتا اور بینک یہ فنڈ ان لوگوں کو سود پر قرض میں دیں گے جنھیں ان کی ضرورت ہے (یہ ضرور ہے کہ بینک کویہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ وہ فنڈ وقت پر واپس لے سکے) اس لیے بینک کھاتوں میں جمع رقم کا ایک حصہ اپنے پاس رکھے گا تاکہ کھاتہ داروں کے مانگنے پر انھیں رقم دی جاسکے، جبکہ باقی ایک حصہ سود پر قرض دے گا۔ البتہ کھاتہ داروں کو ان کے مانگنے پر رقم واپس کرنا بینکوں کے وجود کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جمع کرنے والے صرف اسی صورت میں اپنی رقم بینک میں رکھیں گے جبکہ انھیں پورا یقین ہوکہ ان کے مانگنے پر انھیں رقم واپس مل جائے گی۔ اس لیے ایک بینک کو قرض دینے کی اپنی سرگرمیوں کو متوازن رکھنا ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کھاتہ داروں کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے مناسب رقم موجود ہے۔
3.3 بینکنگ نظام کے ذریعہ زر کی تشکیل (Money Creation by Banking System)
بینک اسی طریقے سے زر کی تشکیل کرسکتے ہیں جس طرح مذکورہ کہانی میںلالہ نے تشکیل دی تھی۔ بینک رقم قرض دے سکتے ہیں کیونکہ انھیں یہ امید نہیں ہوتی کہ بینک کھاتے میں رقم جمع کرانے والے سبھی کھاتے داروں کو ایک ہی وقت میں رقم کی ضرورت ہوگی۔ جب کوئی شخص بینک سے قرض لیتا ہے تو اس شخص کے نام ایک کھاتہ بینک میں کھل جاتا ہے۔ اس طرح زر کی سپلائی میں پرانے کھاتوں کے ساتھ نئےکھاتے کے ذریعے اضافہ ہو جاتا ہے ۔
آئیے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کیجیے ملک میں صرف ایک ہی بینک ہے۔ آئیے ہم اس کی ایک فرضی بیلنس شیٹ تیار کرتے ہیں۔بیلنس شیٹ دراصل کسی بھی فرم کے اثاثوں اور دینداری کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ روایتی طور پر فرم کے اثاثے بائیں جانب ریکارڈکئے جاتے ہیں جبکہ دینداری دائیں جانب ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ اکاؤنٹنگ کے اصولوں کے مطابق بیلنس شیٹ کے دونوں سائڈ برابر ہونی چاہئیں یا کل اثاثے ، کل دینداری کے برابر ہونے چاہئیں۔ اثاثے وہ ہوتے ہیں جو فرم کی ملکیت ہوتے ہیں یا فرم کو دوسروں سے وصول کرنے ہیں۔ بینک کی صورت میں، اس کی عمارت اور فرنیچر وغیرہ کے علاوہ بینک کے ذریعہ دیے گئے قرضے بھی ا س کے اثاثے ہوتے ہیں۔ جب کوئی بینک کسی شخص کو 100 روپے قرض دیتا ہے تو اس شخص پر بینک کا 100 روپے کا دعویٰ ہوتا ہے جو وہ وصول کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بینک کے پاس جو ریزرو ہے، وہ بھی اسی کا اثاثہ ہوتا ہے۔ ریزرو وہ جمع رقم ہوتی ہے جو تجارتی بینک، مرکزی بینک میں یاریزروبینک میں جمع رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بینک میں نقد رقم بھی اس کے اثاثے ہیں۔ یہ ریزرو کچھ نقدی کی صورت میں اور کچھ ریزرو بینک کے ذریعہ جاری کردہ مالی تمسکات (بونڈ اور ٹریزری بل وغیرہ) ہوتے ہیں۔ ریزرو بالکل اسی طرح ہوتے ہیں جس طرح ہم بینک میں رقم جمع کراتے ہیں۔ہم بینک میں رقم جمع کراتے ہیں اور یہ ہمارے اثاثے ہوتے ہیں اور ہم اسے نکال سکتے ہیں ۔ اسی طرح تجارتی بینک جیسے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) اپنا ریزرو RBI میں جمع کراتا ہے اور اسے ریزرو کہتے ہیں۔
Assets = Reserves + Loans
دینداری (Liabilities) : کسی فرم کی دینداری اس پر واجب قرض یا دوسروں کو واجب الادا اثاثے ہوتے ہیں۔ بینک کے لیے سب سے اہم دینداری وہ جمع رقم ہے جو کھاتہ داروں نے بینک میں جمع کرائی ہے۔
Liabilities = Deposits
اکاؤنٹنگ کے اصولوں کے مطابق اکاؤنٹ کے دونوں پہلو برابر ہونے چاہئیں ۔ اس لیے اگر اثاثے، دینداری سے زیاوہ ہیں، تو انھیں دائیں جانب کل قدر کے طور پر ریکارڈ کیا جائے گا۔
Net worth = Assets - Liabilities
3.3.1 ایک فرضی بینک کی بیلنس شیٹ:
فرض کیجیے ہم ایک بینک شروع کرتے ہیں جس میں کل جمع رقم 100 روپے کے برابر ہے۔ یہ اس لیے ہوسکا کہ جناب فرنانڈیز نے بینک میں 100 روپے جمع کرائے ہیں۔ اب بینک اس 100 روپے کو RBI میں ریزرو کے طور پر جمع کرایتا ہے۔
جدول 3.1 کے مطابق اس کی بیلنس شیٹ یہ ہوگی۔
جدول 3.1 بینک کی بیلنس شیٹ
| دینداری | اثاثے | ||
|---|---|---|---|
100
روپے
|
(Deposits)جمع کھاتے | 100 روپے
|
ریزرو |
| 0 | کل قدر | ||
100
روپے
|
میزان | 100
روپے
|
میزان |
جدول 3.2 ضارب رقم کا عمل
| کالم 4 | کالم 3 | 2 کالم | کالم 1 |
|---|---|---|---|
| بینک کے ذریعہ دیا گیا قرض | لازمی ریزرو | بینک میں ڈپوزٹ | راؤنڈ |
| 80.00 | 20.00 | 100.00 | 1 |
| 64.00 | 36.00 | 180.00 | 2 |
| 0 |
|||
| 0 | |||
| 0 | |||
| 0 | |||
| 0 | |||
| 400.00 | 100.00 | 500.00 | آخری |
اثا ثے دینداری
| 500 روپے | ڈپوزٹ(100+400) | 100 روپے | ریزرو |
400
روپے
|
قرض | ||
500
روپے
|
میزان | 500
روپے
|
کل میزان |
اس طرح 100 روپے کا ڈپوزٹ 500 روپے کے ڈپوزٹ تشکیل دیتا ہے۔ 500=(5×100) روپے 3.4 زر کی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لیے پالیسی ٹولز-(Plolicy Tools ot Control Money Supply)
زر کے لیے مانگ اور سپلائی : ایک تفصیلی مباحثہ (Demand for Money and Suppley of Money: A Detailed Discussion)
3.2.1 لین دین کا محرک


xکی اس مقدار کو بازار کی شرح سود پر منہا شدہ 10روپیے کی موجودہ قدر کہتے ہیں ۔ اسی طرح زر کی وہ مقدار جو بچت بینک کھاتے میں رکھی جاتی ہے اس سے 2سال کے آخر میں 110روپیے کا اضافہ ہوگا۔ اس طرح بانڈ سے حاصل روانی کی موجودہ قدر درج ذیل کے مساوی ہوگی۔

درج بالا شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ 109.29 روپیے (تقریباً) ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے بچت بینک کھاتے میں 109.29 روپیے رکھیں گے تو اس سے آپ اتنا ہی حاصل کر پائیں گے جتنا کہ بانڈ ہے۔کیونکہ بانڈ کو فروخت کرنے والا اتنا ہی فراہم کرتا ہے جتنی کی اس کی ظاہری قدر 100 روپیے ہے۔ واضح طورپر بچت بینک کھاتے کی نسبت بانڈ زیادہ باعث کشش ہے اور لوگوں میں بانڈ کے رکھنے کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔ اس مسابقتی بولی سے بانڈ کی درج بالا قدر میں اضافہ تب تک ہوگا جب تک بانڈ موجودہ قدر (PV) کے مساوی نہ ہوجائے۔ اگر قیمت موجودہ قدر (PV) سے زیادہ ہوگی تو بانڈ بچت بینک کھاتے کی نسبت کم باعث کشش ہوگا اور لوگ اس سے نجات پانا چاہیں گے۔ بانڈ کی زائد فراہمی ہوگی اور بانڈ کی قیمت پر دباو نیچے کی طرف ہوگا جو اسے موجودہ قدر (PV) تک واپس کھینچ لائے گا ۔ظاہر ہے کہ مسابقتی اثاثہ جات بازار کی صورت میں بانڈ کی قیمت اپنی موجودہ قدر کے مساوی توازن کی صورت میں ہوگی۔
اب مان لیجیے کہ سود کی بازار شرح میں 5تا 6 فی صدکا اضافہ ہوتا ہے لہٰذا اسی بانڈ کی موجودہ قدر اور قیمت در ج ذیل ہوگی۔

بانڈ کی قیمت اور سود کی بازار شرح میں معکوس نسبت ہوتی ہے۔
مختلف لوگوں کی معیشت کے بارے میں اپنی نجی اطلاع کی بنیاد پر سود کی بازار شرح میں مستقبل میں ہونے والی نقل وحرکت کے بارے میں مختلف توقعات ہوں گی۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ سود کی بازار شرح اچانک 8%سالانہ پر قائم ہوتی ہے تب آپ 5 فی صد رواں شرح کے بارے میں غور کر سکتے ہیں جو قابل بر قراری مدت میں بہت ہی کم ہے۔ آپ شرح سود میں اضافے کے بارے میں امید کر سکتے ہیں اور نتیجتاً بانڈ کی قیمت گر سکتی ہیں۔ اگر آپ بانڈ کے حامل ہیں تو بانڈ کی قیمت میں کمی کا مطلب ہے کہ آپ کو نقصان ہوگا، ٹھیک اسی طرح جیسے آپ کے ذریعہ اختیار کی گئی جائیداد کی قدر میں اچانک بازار میں فرسودگی کے سبب آپ کو نقصان ہوگا ۔ بانڈ کی قیمت میں کمی سے ہونے والے اس نقصان کو حامل بانڈ کی پونجی یا اصل کا نقصان (Capitalloss کہتے ہیں ۔ ایسی صورت میں آپ اپنے بانڈ کو فروخت کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کے بدلے زر اختیار کریں گے لہٰذا شرح اور بانڈ کی قیمت میں مستقبل میں ہونے والی نقل و حرکت سے متعلق سٹّہ مانگ میں اضافہ کاسبب ہوتا ہے۔
جب شرح سود بہت اونچی ہو تو ہر کوئی مستقبل میں اس کے گرنے کی امید کرتا ہے اور اس طرح بانڈ اختیار کرنے سے اضافۂ قدر اصل کی امید کرتا ہے لہٰذا لوگ اپنے زر کو بانڈ میں بدل دیتے ہیں۔ اس طرح زر کے لیے سٹّہ مانگ کم ہوگی۔ جب شرح سود گرتی ہے تو زیادہ تر لوگ امید کرتے ہیں کہ اس میں اضافہ ہوگا اور نقصان قدر اصل کی امید کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے بانڈ کو زر میں تبدیل کرتے ہیں جس سے زر کے لیے سٹّہ مانگ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ زر کے لیے سٹّہ مانگ شرح سود میں معکوس نسبت ہوتی ہے۔ ایک آسان شکل کا تصور کرنے پر زر کے لیے سٹّہ مانگ کو اسی طرح پیش کیاجا سکتا ہے۔

زرکے لیے سٹہ مانگ
زر کی رسد: مختلف پیمانے
3.3.1 جائز تعریفیں: محدود زر اور وسیع زر
باکس نمبر 3.2 نوٹ بندی: (Box No 3.2:Demonetisation)
خلاصہ
Barter exchange تبادلۂ اشیا
Double coincidence of wants ضروریات کی دوہری مطابقت
Money زر
Medium of exchange ذریعۂ مبادلہ
Transaction demand لین دین مانگ
Store of value ذخیرئہ قدر
Bonds بانڑ
Speculative demand سٹہ مانگ
Present value موجودہ قدر
Rate of interestٍ شرح سود
Capital gain or loss پونجی منافع یا نقصان
Liquidity trap سیالیت کا پھندا
Fiat money حکمی زر
Legal tender قانونی ٹنڈر
Narrow money محدودزر
Broad money وسیع ر زر
Aggregate monetary resources مجموعی زری وسائل
Currency deposit ratio قرض کا آخری ذریعہ
Reserve deposit ratio رواں جوجمع تناسب محفوظ جمع تناسب
High powered money کھلی بازار کا رروائی
Money multiplier رزر ضارب
High powered money کھلی بازار کا رروائی
Deficit financing through central bank borrowing مرکزی بینک سے ادھار لینے کے ذریعہ
Open market operation مستحکم یا محفوظ بنانا
Bank Rate خسارے کا مالیاتی انتظام
Statutory Liquidity Ratio (SLR) قانونی تناسب سیالیت
Cash Reserve Ratio (CRR) شرح بینک
مشقیں
مجوزہ مطالعات
ضمیمہ 3.1

ہے لہٰذا لا متناہی سلسلوں کی قدر ہے۔ہندوستان میں زر رسد
جدول 3.5 M1: اور M3 میں مخصوص مدت کے دوران میں تبدیلی (بلین میں)
| 10560.25 12240.92 14200.07 16479.54 18615.80 21282.27 24589.25 29501.86 36034.44 43436.64 51778.82 60151.65 69688.05 79089.42 89822.14 100517.56 111303.63 121612.85 131054.39 144468.38 159093.63 |
3206.30 3565.92 3976.83 4455.13 5146.36 6032.65 7164.70 8586.75 9950.28 11396.07 13198.51 15415.27 16312.42 17863.11 19573.30 21651.21 24101.90 25031.82 28260.86 32934.66 36948.33 |
1999-00 2000-01 2001-02 2002-03 2003-04 2004-05 2005-06 2006-07 2007-08 2008-09 2009-10 2010-11 2011-12 2012-13 2013-14 2014-15 2015-16 2016-17 2017-18 2018-19 2019-20 |
|---|
ایک مدت وقت میں زری اساس کے وسائل کی ترکیب میں تبدیلیاں ۔
جدول 3.6: زر کے اسٹاک کے اجزا (کروڑ میں)روپے (کروڑ میں)
| ریزرو بینک آف انڈیا میں کھاتہ دار کی جمع |
ریزرو بینک آف انڈیا میں دیگر جمع | پبلک کے پاس کرنسی | بینکوں کے پاس نقد |
استعمال میں کرنسی | سال |
|---|---|---|---|---|---|
| 5419 34882 84147 113996 135511 197295 328447 291275 352299 423509 356291 320671 429703 4655.61 5018.2 5441.27 5655.25 601969 543888 |
168 885 2850 6478 6869 7496 9054 5570 3839 3713 2822 3240 1965 145.90 154.51 210.91 239.07 31742 38507 |
14474 61098 240794 356314 412124 4825854 568410 665450 767493 914197 10222650 1144743 1248344 13861.82 15972.54 12641.24 17597.12 2052209 2349715 |
936 2640 10179 12347 17454 21244 22390 25703 32056 35463 44580 46233 52727 621.31 662.09 711.42 696.35 84561 97563 |
15411 63738 250974 368661 429578 504099 590801 691153 799549 949659 1067230 1190975 1301071 14483.12 16634.63 13352.66 18293.48 21367.70 24472.79 |
1981-82 1991-92 2001-02 2004-05 2005-06 2006-07 2007-08 2008-09 2009-10 2010-11 2011-12 2012-13 2013-14 2014-15 2015-16 2016-17 2017-18 2019-20 |