Skip to content
5271CH04


1

آمدنی اورروزگارکا تعین

اب تک ہم نے قومی آمدنی ، سطح قیمت ، شرح سود کے بارے میں ان کی قدروں کو ضبط کرنے والی قوتوں کی تفتیش کے بغیر ہی مخصوص انداز میں گفتگو کی ہے۔کلی معاشیات کا بنیادی مقصد ان متغیرات کی قدروں کے تعین کے عمل کابیان کرنے میں اہل نظریاتی ذرائع یعنی ماڈلوں کو فروغ دینا ہے۔خاص طور پر ماڈلوں کے ذریعہ چند سوالات کی نظریاتی تشریح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے معیشت میں دھیمی نمو کی مدت ، سردبازاری یا سطح قیمت یا بے روزگاری میں اضافہ وغیرہ کے کیا اسباب ہیں۔ ایک ہی وقت پر ان سبھی متغیرات کے بارے میں بتانا مشکل ہے لہٰذا جب ہم کسی خاص متغیرہ کے تعین پر توجہ مرکوز کریں تو ہمیں دیگر سبھی متغیر ات کی قدروں کو قائم رکھنا چاہیے۔ یہ اکثر کسی بھی نظریاتی مشق کی تقریباً روایتی وضع ہے جسے جوں کاتوں (Ceteris paribus) کا مفروضہ کہتے ہیں۔یعنی دیگر باتیں یکساں رہیں۔ آپ درج ذیل طورپر اس عمل پر غور کر سکتے ہیں دو مساوات سے دو متغیرات x اور y کی قدر نکالنے کے لیے ہم پہلی مساوات میں x کی قدر اور y کے اظہار میں لکھتے ہیں اور اس قدر کو دوسرے مساوات میں بدل کر پورا حل حاصل کرتے ہیں۔ اسی طریقے کا استعمال ہم کلی معاشیات میں بھی کرتے ہیں۔ اس باب میں ہم معاشیات میں آخری شے کی مقرر قیمت اور قائم شرح سود کے بغیر قومی آمدنی کے تعین کا مطالعہ کریں گے۔ ا س باب میں جو مثالی نظریہ استعمال کیا گیا ہے وہ مینارڈ کینز Maynard Keynes کے دیے گئے نظریے پر مبنی ہے ۔ 

اوسط مانگ اور اس کے اجزاء (Aggregate Demand and its Components)

قومی آمدنی حساب کاری والے باب میں ہم صرف ، اصل کاری یا کسی معیشت میں آخری اشیا اور خدمات کا کل بر آمد (کل گھریلو پیداوار) کے بارے میں مطالعہ کر چکے ہیں ان عبارتوں کے دو مفہوم ہوتے ہیں۔ باب 2 میں ان کا استعمال حساب کاری کے صنعی میں ہوا ہے۔جس سے کسی معیشت کے تحت ایک دیے ہوئے سال میں پیداوار سرگرمیوں کی پیمائش کرنے سے ان مدوں کی حقیقی قدر حاصل ہوتی ہے۔ ان حقیقی یا حساب کاری قدروں کو ہم ان مدوں کو ہم ان مدوں کی حقیقی پیمائش یا تعلیمی پیمائش کہتے ہیں۔

تا ہم ان عبارتوں کا استعمال مختلف معنی میں کیا جا سکتا ہے۔صرف اس سے یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ حقیقت میں کسی مخصوص سال میں لوگوں نے کتنا صرف کیا بلکہ اسی مدت میں انھوں نے صرف کی کتنی مقدار کا منصوبہ بنایا ہے۔یہ مقدار سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ جتنا کہ پیداوار وہ آخری طور پر کر پاتا ہے۔ مال لیجیے کہ پیداکار نے سال کے آخر تک اپنے ذخیرے میں 100 روپے قدر کی شے جوڑنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لہٰذا اسی سال میں اس کا منصوبہ بند اصل100 روپے ہے۔ لیکن بازار میں اس کی مانگ میں غیر متوقع اضافے کے سبب اس کی فروخت مقدار میں اس حجم سے زیادہ اضافہ ہوتا ہے، جتنا کہ اس نے فروخت کرنے کا منصوبہ بنایاتھا۔ اس زائد مانگ کی رسد کے لیے اسے اپنے ذخیرے سے 30 روپے قدر کی شے فروخت کرنی پڑتی ہے۔ لہٰذا سال کے آخر میں اس کے مال نامے میں صرف (100-30) روپے 70 = روپے کا اضافہ ہوتا ہے اس کی منصوبہ بند سرمایہ کاری 100 روپے ہے جب کہ اس کی حقیقی یا تعمیلی اصل کاری 70 روپے ہے ۔ ان متغیرات ، صرف ، اصل کاری یا آخری اشیا کے بر آمد کی منصوبہ بند قدرکو ہم ان کی متوقع (e x =aute)پیمائش کہتے ہیں۔

 سادہ لفظوں میں متوقع (Ex-aute) سے اس چیز کا اظہار ہوتا ہے جس کا منصوبہ بنایا گیا ہے جبکہ تعمیلی (Ex-Post) سرمایہ کاری سے پتہ چلتا ہے کہ اصل یا حقیقی طور پر کیا سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ آمدنی کے تعین کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیں اوسط مانگ کے مختلف اجزا کی منصوبہ بند قدر کو جاننے کی ضرورت ہوگی۔ آئیے دیکھیں۔ 

4.1.1:  صرف (Consumption)

صرف کی مانگ کا تعین کرنے والا سب سے اہم عنصر ایک کنبے کی آمدنی ہوتا ہے۔ صرف کی عمل کاری کا تعلق براہ راست آمدنی اور صرف کے درمیان ہوتا ہے۔صرف کی عمل کاری کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ جس شرح پر آمدنی میں تبدیلی ہوتی ہے ، اسی شرح سے صرف میں بھی تبدیلی ہوتی ہے۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ اگر آمدنی صفر ہو جائے ، پھر بھی کچھ نہ کچھ ضرور باقی رہتا ہے۔ چونکہ اس صرف پر آمدنی سے کوئی اثر نہیں پڑتا اس لیے اس صرف کو خو دمختار صرف (Autonomous Consumption)کہا جاتا ہے۔ ہم اس عمل کو مندرجہ ذیل طریقے سے 

2
مندرجہ بالا ایکویشن کو صرف کا عمل کہتے ہیں۔ اس میں (C) کنبے کے ذریعہ صرف کیے جانے والے اخراجات ہیں۔ ان میں دو طرح کے صرف شامل ہیں ایک خود مختار صرف اور دوسرا مصنوعی صرف (Induced Consumption) ہے جو (cY) ہے۔ خود مختار صرف کو  (�)سے ظاہر کیا گیا ہے۔ خود مختار صرف وہ ہوتا ہے جو آمدنی نہ ہونے کے باوجود جاری رہتاہے جبکہ مصنوعی صرف (Induced   consumption) وہ ہوتا ہے جس کا انحصار آمدنی پر ہوتا ہے۔ جب آمدنی میں ایک روپیہ کا اضافہ ہوتا ہے تو مصنوعی صرف میں بھی اسی مناسبت سے اضافہ ہوتا ہے جو MPC یا صرف کی کم از کم قوت کہلاتی ہے ۔ اس کو اس طرح واضح کیا جا سکتا ہے کہ آمدنی میں تبدیلی کی شرح سے صرف کی شرح میں بھی تبدیلی ہوتی ہے۔ 
3
آئیے اب ہم دیکھیں کہ MPC کی قدر کیا رہتی ہے۔جب آمدنی میں تبدیلی ہوتی ہے تو صرف (Dc) میں بھی تبدیلی ہوتی ہے لیکن یہ آمدنی (DY) میں تبدیلی سے زیادہ نہیں ہو سکتی ۔ C کی زیادہ سے زیادہ قدر I ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب ایک صارف اپنی آمدنی میں تبدیلی کے باوجود اپنے صرف میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اس صورت میں MPC=O ۔ عام طور پر MPC صفر اور I کے درمیان (جس میں دونوں اقدار شامل ہوں) رہتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آمدنی میں اضافے کے باوجود صارفین اپنے صرف میں بالکل بھی اضافہ نہیں کرتے۔ (MPC=O) یا آمدنی میں جتنی بھی تبدیلی ہوتی ہے اتنی ہی تبدیلی ان کے صرف میں بھی ہوتی ہے۔ (MPC=1) یا آمدنی میں تبدیلی کے ساتھ جزوی تبدیلی صرف میں بھی آتی ہے O<MPC<1)

ایک ملک امیجینیاکا تصور کریں جس میں صرف (Consumption) کے عمل کو C=100+0.8Y کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیجینیا کی آمدنی نہیں ہے، تب بھی اس کے شہری 100 روپے کی اشیا کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح امیجینیا کا خود مختار صرف 100 روپے ہے۔ اور اس کے صر ف میں تبدیلی کی شرح 0.8  ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگرامیجینیامیں آمدنی میں 100 روپے کااضافہ ہوتا ہے تواس کے صرف میں 80 روپے کا اضافہ ہوگا۔ 
آئیے اب ہم اس کے دوسرے پہلو کو دیکھیں ، یعنی بچت۔ بچت آمدنی کا وہ حصہ ہے جس کو استعمال یا صرف نہیں کیا گیا ۔ دوسرے الفاظ میں ہم (MPS) میں بچت کے رجحان کی تعریف آمدنی میں اضافے کے ساتھ بچت کی شرح میں تبدیلی کے طور پر کر سکتے ہیں ۔ 

چونکہ S=Y–C                            4
ا س لیے  

کچھ تعریفیں صرف کی حاشیائی رجحان (Marginal Propensity to Consume) MPC: یہ آمدنی میں فی یونٹ تبدیلی کے لحاظ سے صرف میں تبدیلی ہے۔ اسے (C) سے ظاہر کیا جاتا ہے اور اس کی مساوات ہے ۔
5
بچت کا حاشیائی رجحان (Marginal Propensity to Save) MPS : یہ آمدنی میں فی یونٹ تبدیلی کے لحاظ سے بچت میں تبدیلی ہے۔ اسے (S) سے دکھایا جاتا ہے اور یہ I-C ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ S+C=I  ٖصرف کا اوسط رجحان) :(APC) (Average Propensity to Consumeیہ فی یونٹ آمدنی کے لحاظ سے صرف ہوتا ہے یعنی  
6
بچت کا اوسط رجحان::Average Propensity to Save یہ فی یونٹ آمدنی کے لحاظ سے بچت ہوتا ہے یعنی 
7

4.1.2 سرمایہ کاری :Investment: 

 سرمایہ کاری کی تشریح ٹھوس کیپیٹل (پونجی) (جیسے مشین، عمارت، راستے وغیرہ کے علاوہ وہ چیز جو مستقبل سے معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے) اور ایک پروڈیوسر(صنعت کار) کی ملکیت (یا تیار شدہ مال کا اسٹاک) میں تبدیلی ہوتی ہے۔ اس بات کو نوٹ کریں کہ سرمایہ کاری والی اشیا (جیسے مشین) وغیرہ بھی تیار شدہ مصنوعات کا حصہ ہوتی ہیں لیکن وہ درمیان اشیا جیسے خام مال وغیرہ میں شامل نہیں ہوتیں۔کسی معیشت میں ایک مخصوص سال کے دوران تیار کی گئی مشینیں دوسری اشیا کو تیار کرنے کے لیے اسی سال میں صرف نہیں ہوتیں بلکہ یہ کئی سال تک اپنی خدمات فراہم کرتی رہتی ہیں۔ صنعت کار وں کے ذریعہ سرمایہ کاری کے فیصلے جیسے آیا نئی مشینیں خریدی جائیں یا نہیں، بڑی حد تک بازار میں شرح سود پر منحصر ہوتے ہیں۔ البتہ آسانی کے لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ایک فرم ہر سال یکساں رقم کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس کو ہم تعلیمی (Ex aute) سرمایہ کاری مانگ کو مندرجہ ذیل طریقے سے پیش کرسکتے ہیں۔     4.2 یہاں ایک مثبت قائم ہے جو ایک مخصوص سال میں معیشت میں خود مختار سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے۔

 4.2 ۔ دو شعبوں کے ماڈل میں آمدنی کا تعین (Determination of Income in Two-Sector Model)

 حکومت کے بغیر کسی معیشت میں تیار شدہ اشیا کے لیے تعمیلی اوسط مانگ ،مجموعی تعمیلی صرف اخراجات اور ان اشیا پر تعمیلی سرمایہ کاری اخراجات کے برابر ہوتی ہے یعنی AD=C+I مساوات (4.1) اور (4.2) کی C اور I کو گھٹا کر تیار شدہ اشیا کے لیے اوسط مانگ کو مندرجہ ذیل طریقے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔


8
اگر تیار شدہ اشیا کی مارکیٹ متوازن ہے تو اسے مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جا سکتا ہے۔ 
9
اس میں Y تعمیلی یا منصوبہ بند اشیا کی پیدا وارہے ۔ اس مساوات کو مزید دو خود مختار اصلاحات 10  اور 11  کے ساتھ ایسے لکھا جا سکتا ہے 
12
یہاں   13  دراصل معیشت میں کل خود مختار اخراجات ہیں۔ حقیقت میں خود مختار اخراجات کے یہ دونوں عوامل مختلف طریقے سے عمل کرتے ہیں  14
جو ایک معیشت میں صرف کی مجموعی سطح کو ظاہر کرتاہے، وقت گذرنے کے ساتھ بھی کم وبیش مستحکم رہتا ہے۔ البتہ   میں وقت کے ساتھ اتار چڑھاو دیکھا جا سکتا ہے۔ 
البتہ اس کی ترتیب میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ Y کی اصطلاح اگر بائیں جانب (مساوات4.3) ہے تو یہ تعمیلی پیداوار یا تیار اشیا کی منصوبہ بندسپلائی کی علامت ہے۔ دوسری جانب اگر یہ دائیں جانب ہے تو یہ معیشت میں تیار اشیا کی تعمیلی یا منصوبہ بند اوسط مانگ کو ظاہر کرتی ہے۔تعمیلی سپلائی ،تعمیلی مانگ کے برابر صرف اسی صورت میں ہوگی جب کہ تیار شدہ اشیا کی مارکیٹ یعنی معیشت میں توازن ہو۔ اس لیے مساوات (4.3) کو باب 2 کی اکاؤنٹنگ شناخت سے خلط ملط نہیں کرنا چاہئے جس میں کہا گیا ہے کہ کل پیداوار کی قدر معیشت میں تعمیلی صرف اور تعمیلی سرمایہ کاری کے میزان کے برابر ہونا چاہیے۔ اگر تیار اشیا کی تعمیلی مانگ، تیار اشیا کی پیداوار سے کم ہوتی ہے جس کا پیداکاروں نے منصوبہ بنایا تھا، اس صورت میں مساوات (4.3) پوری نہیں اترے گی۔گوداموں میں اسٹاک میں اضافہ ہوگا جسے سامان میں غیر مطلوبہ اضافہ سمجھا جا تاہے۔ یہ بات نوٹ کر نے کے قابل ہے کہ سامان یا اسٹاک پیداوار کا وہ حصہ ہوتا ہے جو فروخت نہیں ہوا ہے اور یہ فرم کے پاس ہی موجود ہے۔ تیار مال کی فہرست (Inventory) میں تبدیلی کو مال میں سرمایہ کاری کہا جاتا ہے۔ 
یہ تبدیلی منفی بھی ہو سکتی ہے اور مثبت بھی۔ اگر مال کی فہرست (inventory) میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ مال میں مثبت سرمایہ کاری کہلائے گی جبکہ اگر کمی ہوتی ہے تو اسے مال میں منفی سرمایہ کاری کہا جائے گا۔ مال میں سرمایہ کاری دو وجوہات سے ہو سکتی ہے۔ (i) فرم مختلف وجوہات سے اپنے پاس کچھ اسٹاک رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے (اس کو منصوبہ بند انوینٹری سرمایہ کاری کہا جاتا ہے) (ii) سامان کی فروخت طے شدہ منصوبے کے مطابق نہیں ہوتی، اس صورت میں بھی فرم کو مال کی فہرست میں اضافہ /کمی کرنی پڑتی سکتی ہے (اسے غیرمنصوبہ بند انوینٹری سرمایہ کاری کہا جاتا ہے)۔ اس لیے اگر چہ منصوبہ بندY ، منصوبہ بند C+Iسے زیادہ ہے، تو حقیقی Y، C+I کے برابر ہوگا جس میں اضافی پیداوار غیر مطلوبہ انوینٹری میں اضافہ کو ظاہر کرے گا اور اکاؤنٹنگ میں تعمیلی I دائیں جانب دکھایا جائے گا۔ 
اس مرحلے میں ہم معیشت میں ایک حکومت کو متعارف کراسکتے ہیں ۔حکومت کی اہم اقتصادی سرگرمیوں کو مالیاتی ٹیکس (I) کے ذریعہ جبکہ اشیا اور خدمات پر سرکاری اخراجات کو (G) کے ذریعہ ظاہر کیا جا سکتا ہے جو دونوں ہی ہمارے تجزیے کے لیے خود مختار ہیں۔ حکومت ، تیار شدہ اشیا اور خدمات پر اپنے (G) اخراجات کے ذریعہ دوسری فرموں اور کنبوں کی طرح اوسط مانگ میں اضافہ کرتی ہے۔دوسری جانب حکومت اپنے نافذ کردہ ٹیکس کے ذریعہ کنبوں کی آمدنی میں کچھ حصہ وصول کر لیتی ہے، اس طرح خرچ کی جانے والی آمدنی Yd=Y–T  ہو جاتی ہے۔ کنبے اس قابلِ خرچ آمدنی کا ایک حصہ ہی استعمال کے لیے خرچ کرتے ہیں ۔ اس لیے مساوات (4.3) میں حکومت کو شامل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل تبدیلی کرنی ہوگی۔ 
15
اس بات کو نوٹ کریں کہ 16   کی طرحG – c. T، صرف خود مختار  17    میں اضافہ کرتی ہے۔ اور یہ تجزیہ میں کسی قسم کی قابل قدر تبدیلی پیدا نہیں کرتی۔ہم اس بقایہ باب میں آسانی کے لیے حکومت کے سیکٹر کو نظر انداز کردیں گے۔ اس بات کا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ حکومت کے ذریعہ بالواسطہ ٹیکس اور سبسڈی کے عائد کیے بغیر کسی معیشت میں پیدا تیار اشیا اور خدمات کی کل قدر ، جی ڈی پی ، قومی آمدنی کے برابر ہی ہوگی۔ ا س لیے اب باقی باب میں ہم Y  کو جی ڈی پی یا قومی آمدنی کے طور پر پیش کریں گے۔ 

4.3 مختصر مدت میں متوازی آمدنی کا تعین :

(Determination of Equilibrium Income in Short Run)

آپ خردہ معیشت (Microeconomics) کے اصول کو یاد کریں جس میں ہم نے واحد مارکیٹ میں مانگ اور سپلائی کے درمیان  توازن کا تجزیہ کیا تھا جس میں مانگ اور سپلائی کے خطوط قیمت اور مقدار میں توازن کا تعین کرتے ہیں خردہ معیشت کی تھیوری میں ہم دو اقدامات اٹھاتے ہیں۔ پہلے قدم پر ہم قیمت کی سطح کو اپنی جگہ قائم رکھتے ہوئے توازن قائم کرتے ہیں، دوسرے مرحلے میں ہم قیمت کی سطح میں تبدیلی کی اجازت دیتے ہیں اور اس کے بعد خردہ معیشت میں توازن کا تجزیہ کرتے ہیں ۔ 
قیمت کی سطح کو اپنی جگہ قائم رکھنے کا کیا جواز ہے؟ ا س کے لیے دو وجوہات دی جا سکتی ہیں۔ (i) پہلے مرحلے میں ہم ایک ایسی معیشت کا تصور کرتے ہیں جس میں وسائل ، مشینری ، عمارتوں اور مزدوروں کو استعمال نہیں کیا گیا۔ ایسی صورت میں کم ہوتے ہوئے ریٹرن کا قانون نافذ نہیں ہوگا؛اور اضافی ماحصل (Output) حاشیائی لاگت (Marginal cost) میں اضافہ کیے بغیر بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی کے مطابق، اگر پیداوار کی مقدار میں تبدیلی بھی ہو تو بھی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ (ii) یہ صرف آسانی کے لیے فرض کیا گیا ہے جسے بعد میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ 

4.3.1: کلی معیشت کا توازن جبکہ قیمت کی سطح قائم ہو:

(Marcoeconomics Equilibrium with Price Leve Fixed)  

(A): گراف کا طریقہ : 

جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے، صارفین کی مانگ کو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ دکھایا جا سکتا ہے۔ 
18
یہاں 19   خود مختار اخراجات ہیں جبکہ (C) حاشیائی صرف کا رجحان ہے۔ 
اس تعلق کو گراف کے ذریعہ کیسے دکھایا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب دینے کے لیے ہمیں خطی مساوات کی قاطع شکل کو یاد کرنا پڑے گا۔ 
20
یہاں ×  اور Y تغیر پذیر ہیں اور ان کے درمیان خطی تعلق موجود ہے ۔ a اور b قائم ہیں ۔ یہ مساوات تصویر 4.1 میں دکھائی گئی ہے۔ قائم (a) کو y خط پر قاطع کے طور پر دکھایا گیا ہے، یعنی y کی قدر کو دکھاتا ہے جبکہ × صفر ہو۔قائم (b) خط کاڈھلان ہے یعنی q =b
21

صرفی عمل :(Consumption Function)                                                       تصویر:4.1

گراف کے ذریعہ اظہار: 
اسی دلیل کو استعمال کرتے ہوئے صرفی عمل (Consumption Function) کو مندرجہ ذیل طریقے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ 
صرفی عمل : 
جہاں  c =  صرفی عمل قطع کرتا ہے۔ 
= C  صرفی عمل کا ڈھلان  tan a =

23

سرمایہ کاری عمل :Investment Function                                                تصویر:4.2   

گراف کے ذریعہ اظہار:
دو شعبوں والے ماڈل میں قطعی مانگ دو ذرائع سے حاصل ہوتی ہے جس میں پہلی مانگ صرف کے لیے جبکہ دوسری مانگ سرمایہ کاری کے لیے ہوتی ہے۔ 
سرمایہ کاری کے عمل کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ = Iگراف میں ، اسے افقی خط پر  24�کے برابر دکھایا گیا ہے۔ اس مثال میں  24  خود مختار ہے جس کا مطلب ہے کہ آمدنی چاہے جو بھی ہو ، یہ اپنی جگہ قائم ہے۔ 

اوسط مانگ:Aggregate demand

گراف کے ذریعہ اظہار:
 اوسط مانگ کا عمل آمدنی کی ہر سطح پر کل مانگ (صرف اور سرمایہ کاری کے لیے مانگ کا مجموعہ ) کو ظاہر کرتا ہے۔ گراف کے ذریعہ اوسط  مانگ کے عمل کو عمودی خط پر صرف اور سرمایہ کاری کو جمع کرکے دکھایا جا سکتا ہے۔ یعنی

25
اوسط مانگ کا عمل صرف کے عمل کے متوازی ہوتا ہے یعنی ان کا ایک ہی ڈھلان ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنی چاہیے کہ یہ عمل تعمیلی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔ 

کلی معاشیات کے توازن میں سپلائی (Supply Side of Macroeconomics Equilibrium)

خردہ معاشیات میں ہم ایک ڈائی گرام میں سپلائی کے خط کو قیمت کے ساتھ عمودی خط پر دکھاتے ہیں جبکہ ترسیل شدہ مقدار کو افقی خط پر دکھاتے ہیں۔ کلی معاشیات کے نظریے کے پہلے مرحلے میں ہم قیمت کی سطح کو قائم کر طور پر لیتے ہیں۔ چونکہ تمام وسائل استعمال نہ ہونے کی وجہ سے دستیاب ہیں۔ اس لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ جی ڈی پی بلا رکاوٹ اوپر نیچے ہو سکتی ہے۔ جی ٹی پی کی سطح چاہے جتنی ہو، اشیا کی سپلائی اتنی ہوگی اور اس میں قیمت کا کوئی رول نہیں ہوگا سپلائی کی صورتحال 45°کے خط سے ظاہر کی گئی ہے۔ اب اس 45° کے خط میں یہ خصوصیت ہے کہ اس کے عمودی اور افقی خطوط پر یکساں نقطے موجود ہیں۔ 
26
     تصویر:4.4



وسط مانگ، صرف اور سرمایہ کاری کے عمل کو عموری طور پر شامل کرکے حاصل کی جا سکتی ہے۔ 
فرض کیجیے، A پوائنٹ پر جی ڈی پی 1000 ہے اس کے لیے کنتی سپلائی ہوگی؟ جواب ہوگا 1000 روپے کی قیمت کی اشیا  یہ نقط کہاں دکھایا جائے گا؟ اس کا جواب ہوگا پوائنٹ Aپر سپلائی کا نقطہ B پر ہوگا جو45°لائن اور عمودی لائن کو A پر کاٹے گا۔ 

توازن Equilibrium:

توازن (Equilibrium) کو گراف میں ایک ڈائیگرام میں تعمیلی اوسط مانگ اور سپلائی کو ایک ساتھ رکھ کر ظاہر کیا گیا ہے (تصویر 4.6)جہاں تعمیلی اوسط مانگ،تعلیمی سپلائی کے برابر ہوگی، وہی توازن ہوگا۔ توازن کا یہ پوائنٹ E ہے اور آمدنی کا توازن OY, ہے۔ 
 
27

     تصویر:4.5

اوسط سپلائی کا خط0 45کے ساتھ 



28

     تصویر:4.6



تعمیلی اوسط مانگ اور سپلائی کا توازن 

(B)  الجبرا کا طریقہ:   Algebric Method

تعمیلی اوسط مانگ= 29
تعمیلی اوسط سپلائی   =  Y 
توازن کے لیے ضروری ہے کہ سپلائی کرنے والوں کے منصوبے ان سے میل کھاتے ہوں جو معیشت میں قطعی مانگ فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح، اس صورت حال میں تعمیلی اوسط مانگ = تعمیلی اوسط سپلائی

30


4.3.2: اوسط مانگ میں آزاد تبدیلی کا آمدنی اور ماحصل پر اثر(Effect of an Autonomous Change in Aggregate Demand on Income and Output

ہم دیکھ چکے ہیں کہ آمدنی میں توازن کی سطح کا انحصار اوسط مانگ پر ہوتا ہے ۔ اس لیے اگر اوسط مانگ میں تبدیلی ہوتی ہے توآمدنی کے توازن کی سطح تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایسا مندرجہ ذیل صور ت حال میں سے کسی ایک میں ہو سکتا ہے۔ 
(1)  صرف میں تبدیلی: ایسا  (i) �  �میں تبدیلی ہونے پر (ii)  C)  میں تبدیلی ہونے پر ہو سکتا ہے۔ 
(2) سرمایہ کاری میں تبدیلی : ہم فرض کر چکے ہیں کہ سرمایہ کاری � آزاد ہوتا ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ اس کا انحصار آمدنی پر نہیں ہوتا۔ آمدنی کے علاوہ بھی کئی دیگر تغیرات ہو سکتے ہیں جن سے اصل کاری یا سرمایہ کاری پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ایک اہم عنصر آمدنی کی دستیابی ہے: قرض کی آسان دستیابی سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ دوسرا عنصر شرح سود ہے: سود کی شرح دراصل اصل کاری والے فنڈ کی لاگت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ شرح سود کی وجہ سے فرموں میں اصل کاری کا رجحان کم ہوگا۔ آئیے اب ہم مندرجہ ذیل مثال کی مدد سے سرمایہ کاری میں تبدیلی کو سمجھیں۔ 
فرض کریں C=40+0.8Y ، =10  31  – اس صورت میں آمدنی کا توازن (مساواتY سے AD کی مدد سے) ہوگا 205'۔
اب اگر سرمایہ کاری بڑھ کر 20 ہو جاتی ہے تو نیا توازن 300 ہوگا۔ اسے ہم گراف میں سمجھ سکتے ہیں ۔ آمدنی میں یہ اضافہ اصل کاری میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے چونکہ یہاں آزاد اخراجات کا ہی ایک عامل ہے۔ 
جب آزاد اصل کاری میں اضافہ ہوتا ہے تو AD1 خط متوازی طور پر اوپر جاتا ہے اور AD2 کی پوزیشن پر پہنچ جاتا ہے۔ ماحصل (Output)  (Y) پر اوسط مانگ کی قدر Y1F ہوگی جو ماحصل کی قدرOY1=Y1E1   سے E1F کے برابر زیادہ ہوگی ۔E1F اس اضافی مانگ کی پیمائش کرتا ہے جو معیشت میں آزاد اخراجات میں اضافے کے نتیجے ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح E1 اب توازن کا مظہر نہیں ہوگا۔ تیار شدہ اشیا کی مارکیٹ میں توازن کا نیا نقطہ تلاش کرنے کے لیے ہمیں اس پوائنٹ کو دیکھنا ہوگا جہاں نئی اوسط مانگ کا خط AD2، 45° کی خط کو قطع کرتا ہے۔ یہ E2 پرہوتا ہے اس لیے توازن کا نیا پوائنٹ E2 ہوگا۔اس طرح ماحصل اور اوسط مانگ کی نئی توازن قدر Y2 اور AD2 ہوگی۔
اس بات کو نوٹ کریں کہ نئے توازن میں ماحصل اور اوسط مانگ میں اضافہ ہوا ہے یعنی E1G=E2G اور یہ آزاداخراجات میں بنیادی اضافے سے زیاوہ ہے۔
32
اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ آزاد اخراجات میں بنیادی اضافہ اوسط مانگ اور ماحصل کے توازن کا ضارب ہوگا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اوسط مانگ اور ماحصل آزاد اخراجات میں بنیادی اضافے کی مقدار سے زیادہ ہوتاہے؟ ہم اس پر4.3.3 میں بحث
 کر یں گے۔ 
33

     تصویر:4.7



غیر متغیر قیمت کے ماڈل میں ما حصل توازن اور اوسط مانگ


34

4.3.3 ضارب میکانزم: (The Multiplier Mechanism)

پچھلے سیکشن میں ہم نے دیکھا کہ آزاد اخراجات میں 10 یونٹ کی تبدیلی سے توازن آمدنی میں 50 یونٹ کی تبدیلی ہوتی ہے۔ (250 سے300) ۔ اسے ہم ضارب میکانزم پرنظر ڈال کر سمجھ سکتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہے۔ 
تیار شدہ اشیا کی پیداوار میں کئی عناصر، جیسے مزدوری ، سرمایہ ، زمین اور صنعتکاری شامل ہوتے ہیں۔ 
حکومت کے ذریعہ با لواسطہ ٹیکس نہیں لگا نے یا سبسڈی نہیں دینے کی صورت میں آخری اشیا کے کل بر آمد کی قدر یا کل گھریلو پیداوار قومی آمدنی کے برابر ہوگی۔ آخری اشیا کی پیداوار میں محنت، پونجی، زمین اور مہم جوئی جیسے عوامل کو لگایا جاتا ہے۔جو علی الترتیب محنت کی مزدوری، پونجی کا سود، زمین کا کرایہ وغیرہ ہوتا ہے۔ باقی بچا ہوا مہم جو کے پاس رہتا ہے ، جسے منافع کہا جا تا ہے۔ لہٰذا معیشت میں کل عامل ادائیگی کی جمع ، قومی آمدنی ، آخری اشیا کے بر آمد کی کل قدر ، کل گھریلو پیدا وار کے برابر ہوتی ہے۔ درج بال مثال میں اضافی بر آمد کی قدر 10 کو مختلف عوامل میں عامل کی ادائیگی کے طور پر تقسیم کر دیا جاتا ہے اور اسی طرح معیشت کی آمدنی میں 10 کا اضافہ ہوتا ہے۔ جب آمدنی میں 10 کا اضافہ ہوتا ہے۔ کیونکہ لوگ ، صرف پر اپنی اضافی آمدنی کا (0.8) (صرف کا حاشیائی رجحان 0.8 خرچ کرتے ہیں لہٰذا اگلے دور کی معیشت میں کل مانگ میں (0.8)10 کا اضافہ ہوتا ہے اور پھر (0.8) 10کے برابر ازائد مانگ پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے اگلے پیداواری دور میں پھر توازن قائم کرنے کے لیے پیداکار اپنے منصوبہ بند آمد میں (0.8) 10 کا اضافہ کرتا ہے۔جب اس اضافی  بر آمد کو پید اوار کے عوامل کے درمیان تقسیم کر دیا جاتا ہے تو معیشت کی آمدنی میں (0.8)10 کا اضافہ ہوتا ہے اور صارف مانگ بڑھ کر (0.8) 210 ہو جاتی ہے۔ پھر اسی مقدار میں زائد مانگ پیدا ہوتی ہے۔ یہ عمل ایک دور کے بعد دوسرے دور میں مسلسل جاری رہتا ہے۔ ہر ایک دور میں پیداکار زائد مانگ کو دور کرنے کے لیے اپنے بر آمد میں اضافہ کرتا ہے اور صارف اسی اضافی پیداوار سے اپنی اضافی آمدنی کا ایک حصہ صرفی مدوں پر خرچ کر تا ہے اور اس سے اگلے دور میں پھر زائد مانگ کی تخلیق ہوتی ہے۔

جدول 4.1 آخری اشیا بازار میں ضارب میکا نیک 


صرف
مجموعی مانگ
بر آمد /آمدنی
دور
دور
دور
دور
-
-
-
وغیرہ



0
0 (0.8)
10(0.8)
-
-
-
-




10
(Autonomous Increment)
10(0.8)
10(0.8)
10(0.8)
-
-
-
-


10

     2         
10   (0.8)

     3         
10    (0.8)
-
-
-
-




ہر ایک دور میں آخری اشیا کے بر آمد کی قدر (معیشت کی آمدنی ) میں اضافے کی پیمائش آخری کالم میں کی گئی ہے۔ دوسرے اور تیسرے کالم معیشت میں کل اخراجات صرف میں اضافہ اور اس طرح کل مانگ کی قدر میں اضافے کی پیمائش کی گئی ہے ۔غور کریں کہ متواتر دور میں آخری اشیا کے بر آمد میں اضافہ دھیرے دھیرے گھٹ رہا ہے۔ لہٰذا کئی دور کے بعد اضافہ در حقیقت صفر ہو جائے گا اور متواتر دور سے بر آمد کو متاثر کرنے والے دور متقارب عمل کو ظاہر کرتے ہیں۔ آخری اشیا کے بر آمد میں کل اضافے کوحاصل کرنے کے لیے ہمیں آخری کالم میں جیومیٹریسلسلے کی جمع حاصل کرنی چاہیے، یعنی۔
37
لہٰذا آزاد خرچ میں ابتدائی اضافے سے کل بر آمد کے قدر توازن میں زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔آخری اشیا کے بر آمد کے قدر توازن میں کل اضافہ اور آزاد خرچ میں ابتدائی اضافے کے تناسب کو معیشت کا بر آمد ضارب (Out-put multiplier) کہتے ہیں۔ یہ بھی یادر کھنا ہے کہ 10اور 0.8 علی الترتیب 38  اور  mpc  قدر کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا ضارب کا اظہار اس طرح تحریر کیا   جا سکتا ہے۔
بر آمد ضارب          39  
جہاںD Y آخری شے بر آمد کا کل اضافہ اور mpc   c = (صرف کا حاشیائی رجحان ہے ) دیکھیں کہ ضارب کی سائز c کی قدر پر منحصر ہے۔ جیسے جیسے  c  بڑھتا ہے۔ ضارب میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔


کفایت کا تناقص (Paradox of Thrift)

 اگر معیشت کے سبھی لوگ اپنی آمدنی سے بچت کا تناسب بڑھادیں (یعنی اگر معیشت کی بچت کا حاشیائی رجحان بڑھ جاتاہے) تو معیشت میں بچت کی کل قدر میں اضافہ نہیں ہوگا یعنی اس سے یا تو بچت میں کمی آئے گی یا وہ غیر متبدل رہے گا۔ اس نتیجے کو کفایت کے تناقص کے طور پر (paradox of thrift) جانا جاتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ جب لوگ زیادہ کفایتی ہے جاتے ہیں تو وہ کم و بیش پہلے کی طرح ہی بچت کرتے ہیں۔ یہ نتیجہ اگر چہ ناممکن سا لگتا ہے لیکن در حقیقت یہ اس ماڈل کا صحیح اطلاق ہے جو ہم نے پڑھا ہے۔
اس مثال پر مزید غور کرتے ہیں ۔ مان لیجیے کہ Y  کا ابتدائی توازن 250 = اور لوگوں کے اخراجات کے انداز میں خارجی یا آزاد شفٹ ہوتا ہے۔ وہ اچانک زیادہ کفایتی ہو جاتے ہیں۔ ایسا کسی بڑی جنگ یا کسی دیگر منڈلانے والے خطرے کے بارے میں نئی اطلاع کے سبب ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ اپنے خرچ میں زیادہ محتاط اور میانہ رو ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا معیشت میں بچت کے حاشیائی رجحان (mps) میں اضافہ ہوتا ہے یا متبادل طور پر صرف کا حاشیا ئی رجحان mpc) 0.8سے گھٹ کر 0.5 رہ جاتا ہے۔ ابتدائی آمدنی سطح   
40  پر صرف کے حاشیائی رجحان میں اچانک کمی کل صرفی اخراجات میں کمی کی دلالت ہوگی جو کل مانگ  
41   کی مقدار کے برابر  ہوگی۔ اسے صرفی اخراجات میں آزاد کٹوتی کہا جا سکتا ہے۔ یہ کٹوتی اس حد تک ہو سکتی ہے جو صرف کے حاشیائی رجحان میں کسی خارجی وجہ سے تبدیل ہو رہی ہے اور یہ ماڈل کے متغیر ات میں تبدیلی کے نتیجے میں نہیں ہوتا۔ لیکن جب کل مانگ 75تک کمی ہوتی  ہے تو بر آمد  42  میں کمی آجاتی ہے اور معیشت میں اس سے 75کے برابر تک زائد رسد پیدا ہو جاتی ہے۔گوداموں میں مال بھرا پڑا رہتا ہے اور پیدا کار بازار میں توازن کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے اگلے اور آمدنی میں 75 کی کمی ہوگی۔ جیسے جیسے آمدنی میں کمی ہوتی ہے۔ لوگ مناسب طور پر صرف میں کٹوتی کرتے ہیں۔لیکن اس بار صرف کے حاشیائی رجحان کی نئی قدر کے مطابق جو کہ 0.5 ہے، کٹوتی ہوتی ہے۔صرفی اخراجات اور کل مانگ میں ا س طرح (0.5) 75 کی کمی ہوتی ہے۔جس سے بازار میں پھر زائد رسد کی تخلیق ہوتی ہے۔ لہٰذا اگلے دور میں پیدا کار پھر بر آمد میں (0.5) 75 کی کٹوتی کرتے ہیں۔لوگوں کی آمدنی اس کے مطابق گھٹتی ہے اور اخراجات صرف اور کل مانگ میں پھر (0.5) 2 75 کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہ عمل متواتر جاری رہتا ہے۔لیکن جیسا کہ متواتر دور کے اثرات کی انحطاط پزیری سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عمل میں تقارب ہوتا ہے۔بر آمد اور کل مانگ کی قدر میں کل کتنی کمی ہے؟ اگر لا متناہی سلسلے
43  کو جوڑ دیں تو بر آمد میں کل کٹوتی  44
لیکن اس کا مطلب ہے کہ معیشت میں نیا توازنی بر آمد صرف  45  ہے۔ اور لوگ
کی مجموعی بچت کر رہے جبکہ پہلے کے توازن کے تحت ان کی بچت سابقہ صرف کے حاشیائی رجحان پر  C1 = 0.8 لہٰذا معیشت میں بچت کی کل قدر غیر متبدل رہتی ہے۔
سیکشن 4.3.2 ہم نے AD لائن میں دو قسم کی پیرا میٹر کی تبدیلیوں کے بارے میں ذکر کیا ۔جب  میں تبدیلی ہو تو خط میں متوازی طورپر اوپر کی طرف یا نیچے کی طرف شفٹ ہوتی ہے۔لیکن جب c میں تبدیلی ہو تی ہے تو خط اوپر یا نیچے کی طرف چمکتا ہے۔ صرف کے حاشیائی رجحان میں اضافہ یا بحث کے حاشیائی رجحان میں کمی سے خط ADکے ڈھلان میں کمی آتی ہے اور یہ نیچے کی طرف چمکتا ہے۔ اس حالت کی خاکہ کشی شکل 4.6 میں کی گئی ہے۔
46

     تصویر:4.8




کفایت  کا تنا قص کل خط طلب کا نیچے کی طرف جھکا و 
پیرامیٹروں کی ابتدائی قدر = 50  47   پر برآمد کی قدر توازن اور کل مانگ مساوات 4.4 میں 
48
پیرا میٹر کی تبدیل شدہ قدر c = 0.5 کے تحت بر آمد اور کل مانگ نیا قدر توازن ہے 
49
متوازن بر آمد اور کل مانگ میں 150کی کمی ہوتی ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بچت کی کل قدر میں کوئی تبدیلی نہیں 


4.4 کچھ مزید تصور (Some Other Concept) 

ایک معیشت میں ماحصل توازن تصرف (Employment) کی سطح کا بھی تعین کرتا ہے جس میں پیداوار کے دیگر عوامل کی مقدار مقرر ہو۔ (ایک اوسط سطح پر پیداوری عمل کے بارے میں تصور کریں) ۔ اس کا مطلب ہے کہ Y کی AD کے ساتھ برابری کے ذریعہ متعین ماحصل (Output) کی سطح پر ماحصل کی اسی سطح کا ہونا ضروری نہیں ہے جس پر سبھی مصروف (Employed) ہوں۔ 
آمدنی کے مکمل تصرف (Employment) کی سطح وہ سطح ہوتی ہے جہاں پیداوار کے تمام عوامل پیداوری عمل میں پوری طرح استعمال کیے جائیں ۔آپ کو یاد ہوگا کہ Y اور AD کے درمیان توازن کے پوائنٹ سے بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وسائل کا پوری طرح تصرف کیا گیا ہے۔توازن کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر اس کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے تو معیشت میں بے روزگاری ہونے پر بھی معیشت میں آمدنی کی سطح میں تبدیلی نہیں ہوگی۔پیداواری توازن کی سطح ماحصل کے مکمل تصرف کی سطح سے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگر یہ ماحصل کے مکمل تصرف کی سطح سے کم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مانگ اتنی نہیں ہے کہ پیداوار کے تمام عوامل کو استعمال کیا جائے۔ اس صورت حال کو مانگ کی کمی یا Deficient Demand کہا جا تاہے۔ اس کی وجہ سے طویل مدت میں قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے۔ دوسرے جانب، اگر ماحصل (Output) کے توازن کی سطح مکمل تصرف کی سطح سے زیادہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مکمل تصرف کی سطح پر کی جانے والی پیداوار کی سطح مانگ سے کم ہے۔ اس صورت حال کو اضافی مانگ Excess Demand کہا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں طویل مدت میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

خلاصہ


جب کسی خاص سطح قیمت پر آخری شے کی کل مانگ ، کل رسد کے برابر ہوتی ہے تو آخری شے یا پیداوار بازار توازن کی حالت میں ہوتا ہے۔آخری شے کی کل مانگ میں متوقع صرف ، متوقع اصل کاری ، سرکاری خرچ وغیرہ آتے ہیں۔آمدنی میں اکائی اضافے کے سبب متوقع صرف میں اضافے کی شرح کر صرف کا حاشیائی رجحان کہتے ہیں۔آسانی سے لحاظ سے معیشت میں آخری شے کی سطح کے تعین کے لیے قلیل مدت میں ہم کل مانگ ایک قائم آخری شے قیمت اور قائم شرح سود کو مان لیتے ہیں۔قلیل مدت میں ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس قیمت پر کل رسد پوری طرح لوچ دار ہے۔ ان صورت حال میں کل بر آمد کا تعین صرف کل مانگ کی سطح پر ہی ہوتا ہے۔ اسے مؤثر مانگ کا نظریہ کہتے ہیں۔آزاد خرچ میں اضافہ (کمی) کے سبب ضارب عمل کے ذریعہ آخری شے کی کل بر آمد میں بڑی مقدار میں اضافہ (کمی ) واقع ہوتی ہے۔

کلیدی تصورات 

مجموعی مانگ
(Aggregate demand) مجموعی رسد  Aggregate  suppy 
توازن  (Equilibrium) متوقع (Ex ante)
تعمیلی Ex post موقع صرف Ex ante consumption
صرف کا حاشیائی رجحان Marginal propensity to consume متوقع اصل کاری  Ex ante investment
مال نامے میں غیر ارادی تبدیلی Unintended changes in inventories آزادانہ تبدیلی Autonomous change
پیرا میٹری شفٹ Parametric shift مؤثر مانگ کا نظریہ Effective demand principle

مشقیں


صرف کا حاشیائی رجحان کسے کہتے ہیں؟بچت کے حاشیائی رجحان سے یہ کس طرح متعلق ہے؟
متوقع اصل کاری اور تعمیلی اصل کاری کے درمیان کیا فرق ہے؟
’’کسی خط میں پیرا میٹری شفٹ ‘‘ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ ان میں کس طرح شفٹ ہوتا ہے جب اس کی (i) ڈھال گھٹتی ہے اور (ii) اس کا مقطوعہ بڑھتا ہے۔
مؤثر مانگ کیا ہے؟ جب آخری اشیا کی قیمت اور شرح سود دی ہوئی ہو، تب آزادانہ خرچ ضارب کیسے حاصل کریں گے؟
جب آزاد اصل کاری اور صرفی اخراجات (A) 50کروڑ روپیے ہو اور بچت کا حاشیائی رجحان (MPS) 0.5 اور آمدنی (Y) کی سطح 4,000کروڑ روپیے ہو تو متوقع مجموعی مانگ معلوم کریں۔ یہ بھی بتائیں کہ معیشت توازن میں ہیں یا نہیں (رجہ بھی بتائیں )۔
کفایت کا تناقض (Paradox of thrift) کی تشریح کیجیے۔

مجوزہ مطالعات

1. Dornbusch, R. and S. Fischer. 1990. Macroeconomics, (fifth edition) pages 
63 – 105, McGraw Hill, Paris.