Skip to content
5271CH05


1

حکومت ؛ بجٹ اورمعیشت

ہم نے پہلے باب میں حکومت کا تعارف ملک کے طور پر کرایا تھا۔ ہم نے کہا تھا کم نجی سیکٹر کے علاوہ ایک حکومت ہوتی ہے جو بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک ایسی معیشت جہاں نجی سیکٹر اور حکومت دونوں موجود ہوتے ہیں، ملی جلی یا مکسڈ معیشت کہلاتی ہے۔ اس میں کئی ایسے طریقے آتے ہیں جس کے ذریعہ حکومت معاشی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس باب میں ہم ان کاموں تک محدود رہیں گے جو حکومت کے بجٹ یا سرکاری بجٹ کے ذریعہ انجام دیئے جاتے ہیں۔ 

یہ باب اس طرح ہے۔ اس باب کے پہلے سیکشن یعنی 5.1 میں حکومت کے ریوینسو یا سرکاری مالیے اور سرکاری اخراجات کے ذرائع طے کرنی کی خاطر حکومت کے بجٹ کے عوامل کو پیش کریں گے۔سیکشن 5.2 میں ہم مختلف اخراجات اور ایوینیو کی وصولی کے درمیان فرق یعنی اضافی یا خسارے کے بہٹ اور ان کے اثرات کے بارے میں بحث کریں گے۔ باکس 5.1 میں مالی پالیسی اور ضارب کے سادہ تفصیل دی گئی ہے۔حکومت جو اصل ادا کرنی ہے اس کے اس خسارے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں حکومت کے قرضوں پر جو اس نے لے رکھے ہیں، اور زیاوہ اثر ہوتا ہے۔ اس باب آخر میں قرض سے متعلق تجزیہ کیا گیا ہے۔ 

5.1 سرکاری بجٹ ، معنی اور اس کے عوامل :(Government Budget 

Meaning and its Components)

ہندوستان میں آئین کی دفعہ 112 کے تحت یہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر سال کے لیے جو یکم اپریل سے 31 مارچ تک ہوتا ہے۔حکومت کی آمدنی اور اخراجات کا پورا حساب کتاب پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے۔ اس سالانہ مالی دستاویز میں حکومت کی خاص بجٹ دستاویز شامل ہوتی ہے۔ 

اگرچہ بجٹ دستاویز کا تعلق ایک خاص مالی سال سے ہوتاہے لیکن اس کسے اثرات بعد کے سالوں پر بھی پڑتا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو دو کھاتے ظاہر کرنے ہوتے ہیں۔ ایک جو رواں مالی کے محاصل کے لیے ہوتا ہے (اسے محاصل بجٹ بھی کہا جاتا ہے) اور دوسرا جس کا تعلق حکومت کے اثاثوں اور دینداریوں سے ہوتا ہے اور اسے پونجی کھاتہ کہا جاتا ہے۔ ان کھاتوں کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ حکومت کے بجٹ کے مقصد کو سمجھا جائے۔

5.1.1  حکومت کے بجٹ کے مقاصد( Objectives of Government Budget)

عوام کی فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے حکومت بہت اہم رول ادا کرتی ہے۔ اس کام کو کرنے کے لیے حکومت مندرجہ ذیل طریقوں سے معیشت میں اقدامات کرتی ہے۔ 

(حکومت ) سرکاری بجٹ کا تفاعل تعین (Allocation Function of Government Budget)

حکومت کچھ ایسی اشیا اور خدمات فراہم کرتی ہے جو مارکیٹ کے نظام کے ذریعہ ، یعنی صارف اور اشیا پیدا کرنے والوں کے درمیان تبادلے سے ممکن نہیں ہے۔ ان میں قومی دفاع ، سڑکین، سرکاری انتظامیہ وغیرہ شامل ہیں، جنہیں سرکاری اشیا (پبلک گڈس) کہا جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ بات کیوں ضروری ہے کہ پبلک گڈس حکومت ہی فراہم کرے، ہمیں نجی اشیا (پرائیویٹ گڈس) جیسے، کپڑے، کاریں، خوردنی اشیا وغیرہ او ر پبلک گڈس میں فرق کو سمجھنا ہوگا۔ اس میں دوبڑے فرق ہیں۔ پہلا یہ کہ ان اشیا کے فوائد سبھی کے لیے دستیاب ہوتے ہیں اور کسی مخصوص صارف کے لیے نہیں ہوتے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص چاکلیٹ کھاتا ہے یا قمیص پہنتا ہے تو اس کا فائدہ دوسرے کو نہیں مل پاتا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس شخص کے استعمال دوسرے افراد کے استعمال سے متضاد ہوتا ہے۔لیکن اگر ہم ایک پارک کے بارے میں غور کریں یا فضائی کی آلودگی کو کم کرنے کے اقدامات پر غور کریں تو اس کے فوائد سبھی کو حاصل ہوں گے۔ ان کو اگر ایک شخص استعمال کرے تو اس سے لاگت میں کمی نہیں ہوگی۔ اس لیے اس کو بہت دوسرے کے مخالف بھی نہیں ہوں گے۔ 

دوسرا یہ کہ نجی اشیا (پرائیویٹ گڈس) کی صورت میں کسی بھی شخص کو جو اس کی قیمت ادا نہیں کرتا، اس شئے کے فوائد سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ ٹکٹ نہیں خریدے گے توآپ کو مقامی سنیماہال میں فلم دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ البتہ پبلک گڈس میں ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ کسی شخص کو اس چیز کا فائدہ حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ پبلک گڈس کو ناقابل استثنیٰ (Non-Excludable) کہا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اس کے لیے ادائیگی نہی کرتا، تب بھی اس کچھ وصول کرنا ، عام طور پر ناممکن ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو جو ادائیگی نہیں کرتے ، انہیں ’’مفت میں مزہ لینے والے (Free Fiders) کہا جاتا ہے۔ صارفین ایسی چیزوں کے لیے رضاکارانہ طور پر کچھ ادائیگی نہیں کرتے جو انھیں مفت حاصل ہو سکتی ہیں یا جن چیزوں کے لیے ملکیت درج نہیں کی جاتی۔ اس طرح پیدا کاروں اور صارفین کے درمیان رابطہ جو ادائیگی کے ذریعے قائم ہوتا ہے، ٹوٹ جا تا ہے اس لیے ایسی چیزوں کی فراہمی کے لیے حکومت کو ہی اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ 

البتہ سرکاری فراہمی (Public Provision) اور سرکاری پیداوار (Public Production) میں فرق ہے۔سرکاری فراہمی کا مطلب ہے کہ ان اشیا کی فراہمی بجٹ کے ذریعہ کی گئی ہے اور انھیں بغیر کسی راست ادائیگی کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔سرکاری اشیا کی پیداوار حکومت کے ذریعہ یا پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعہ کی جا سکتی ہے۔ جب اشیا براہ راست حکومت کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہیں توانھیں سرکاری پیداوار کہا جاتا ہے۔ 

سرکاری بجٹ کے تفاعل کی تقسیم (Redistribution Function of Government Budget)

باب 2 میں ہم نے پڑھا تھا کہ کسی ملک کی کل قومی آمدنی یا تو پرائیویٹ سیکٹر یعنی فرموں اور کنبوں (جنہیں نجی آمدنی کہا جاتا ہے) کو جاتی ہے حکومت کو (جسے سرکاری آمدنی کہا جاتا ہے) ۔پرائیویٹ آمدنی میں سے جو حصہ کنبوں تک پہنچتا ہے اسے ذاتی آمدنی کہا جاتا ہے اور جو رقم خرچ کی جا سکتی ہے اسے ذاتی قابل صرف آمدنی کہا جاتا ہے۔سرکاری سیکٹر تیاریوں اور ٹیکس وصول کے ذریعہ کنبوں کی ذاتی قابل صرف آمدنی پر اثر انداز ہوتا ہے۔حکومت اس طریقے سے ہی آمدنی کی تقسیم میں تبدیلی کر سکتی ہے اور ایسی تقسیم کر سکتی ہے جسے معاشرہ منصفانہ سمجھ سکے ۔ اس کو ہی تفاعل تقسیم کاری (Redistribution Function) کہا جاتا ہے۔ 

سرکاری بجٹ کا استحکام پیدا کرنے کا عمل :۔حکومت کو آمدنی اور روزگار میں ہونے والے اتار چڑھاو کو درست کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔معیشت میں روزگار کی مجموعی سطح اور قیمت کا انحصار اوسط مانگ کی سطح پر ہوتا ہے جو حکومت کے علاوہ لاکھوں نجی معاشی ایجنٹوں کے اخراتات کے فیصلے پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کے جواب میں یہ فیصلے بہت سے عوامل ، جیسے آمدنی اور قرض کی دستیابی وغیرہ پرمنحصر ہوتے ہیں۔کبھی بھی وقت میں مانگ کی سطح اتنی زیاوہ نہیں ہوتی کہ اس سے معیشت میں دستیاب مزدوری اور دیگر وسائل کا مکمل استعمال ہوسکے۔چونکہ مزدوری (اجرت) اور قیمت ایک سے کم نہیں ہو سکتیں اس لیے روزگار کو خود بخود پہلے والی سطح پر واپس نہیں لایا جا سکتا ۔ ا س لیے حکومت کو اوسط مانگ میں اضافہ کرنے کے لیے مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ 

دوسری جانب ایسا بھی وقت بھی آسکتا ہے جب زیادہ روزگار کی صورت میں مانگ، دستیاب پیداوار سے تجاوز کر جاتی ہے جس سے فراط زر میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں مانگ میں کمی کرنے کی خاطر پابندیاں عائد کرنے کی ضرور ت پڑتی ہے۔ 

حکومت کے اقدامات چاہئے وہ مانگ میں اضافہ کرنے کے لیے ہوں یا کم کرنے کے لیے ان اقدامات کو استحکام کا عمل یا تفاعل استحکام کہا جاتا ہے۔ 

5.1.2  وصولیابیوں کی درجہ بندی: 

مالیہ کی وصولیابی (Revenue Reciepts): مالئے یا محاصل (Revenue) کی وصولیابیاں حکومت کی وہ وصولیابیاں ہیں جو غیر قابل ادائیگی ہیں یعنی اسے پالنے کے لیے حکومت سے دوبارہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اسے ٹیکس اور غیر ٹیکس وصولیابیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکس وصولیابیاں جو مالئے کی وصولیابیوں کا اہم عامل ہے، طویل عرصے سے راست ٹیکس (ذاتی آمدنی ٹیکس) یا فرم ٹیکس (کارپوریشن ٹیکس) کے زمرے ہیں اور بالواسطہ ٹیکس جیسے ایکسائڈ ٹیکس (ملک میں تیار کردہ سامان پر ٹیکس) کسٹم ڈیوٹی (بھارت کے باہر کسی ملک سے درآمد کئے گئے سامان پر ٹیکس ) اور سروس ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔ دیگر راست ٹیکس سے جیسے دولت یا ویلتھ ٹیکس تحفہ پر ٹیکس اور جائدار پر ڈیوٹی (جواب ختم کی جا سکتی ہے) کبھی بھی زیادہ مالیہ وصول نہیں کیا گیا، اس لئے پیپر (Paper) ٹیکس بھی کہا جا تا ہے۔ 

دوبارہ تقسیم کا مقصد بڑھتے ہوئے آمدنی ٹیکس (Progressive income Taxation) نظام کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں زیادہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح بھی زیادہ ہوت ہے۔ فرموں پر تناسب کی بنیاد پر ٹیکس عاید کیا جاتا ہے جہاں ٹیکس کی شرح منافع کے ایک خاص تناسب میں عائد ہوتی ہے ۔جہاں تک ایکسائز یا آبکاری ٹیکس کا تعلق ہے یہ زندگی کے لیے ضروری اشیا اس سے مستثنیٰ ہوتی ہیں یا یہ بہت کم شرح پر عائد کیا جاتا ہے۔ البتہ آسائش کی چیزوں پر معتدل شرح عائد کی جاتی ہے اور سامان تعیش اور تمباکو ، پیٹرولیم مصنوعات وغیرہ پر بھاری ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ۔

مرکزی حکومت کے علاوہ حاصل ہونے والا مالیہ عام طور پر مرکزی حکومت کے ذریعہ دیے گئے قرضوں پر حاصل ہونے والا سود، حکومت کے ذریعہ کی گئی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والا منافع ، حکومت کے ذریعہ فراہم کی جانے والی خدمات پر عائدفیس اور دیگر وصولیابیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ بیرونی ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے حاصل ہونے والی نقد امداد بھی اس مالیہ میں شامل ہونی ہے۔ 

مالیہ کی وصولی کے تخمینے کو مالی بل میں پیش کی گئی ٹیکس تجاویز کے ذریعہ پیش کیا جاتا ہے۔ 


بھارتی ٹیکس نظام میں جی ایس ٹی (اشیا اور خدمات ٹیکس) متعارف کرائے جانے سے ایک ڈرامائی تبدیلی پیدا ہوئی ہے جو اشیا اور خدمات سبھی کو اپنے دائرے میں لے لے گا اور یہ مرکزکے ذریعہ 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام 7 علاقوں میں یکم جولائی 2017 سے نافذ کر دیا گیا ہے۔ 

ایک مالی بل، جو سالانہ مالی تخمینے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، بجٹ میں مجوزہ ٹیکس کے نفاذ منسوخ کرنے ، تبدیل کرنے یا منضبط کرنے سے متعلق تفصیلات فراہم کرتا 


کیپیٹل وصولیابی پونجی محاصل (Capital Receipts)

حکومت کو قرض کی صورت میں یا اس کے اثاثوں کی فروخت سے رقم حاصل ہوتی ہے۔ البتہ قرض ، ان ایجنسیوں کو واپس کرنا ہوتا ہے جن سے یہ حاصل کیا جاتا ہے۔ 

حکومتی بجٹ 

2

حکومتی بجٹ

                                                                                    محاصل بجٹ                                                                                   پونجی بجٹ                

               محاصل وصولیابیاں               پونجی اخراجات                                                          پونجی وصولیابیاں                  پونجی اخراجات                 

                               ٹیکس محاصل    غیرٹیکس محاصل               منصوبہ بند محاصل اخراجات                                   منصوبہ بند محاصل اخراجات             غیر منصوبہ بند محاصل اخراجات                                       

چارٹI- سرکاری بجٹ کے اجزاء

اس سے دین داری یا واجبات تشکیل پاتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری اثاثوں کی فروخت سے، جیسے سرکاری سیکٹر کی کمپنیوں کے حصص کی فروخت ، جیسے پی ایس یو ڈس انومیٹ منٹ بھی کہا جاتا ہے۔حکومت کے کل مالی اثاثوں میں کمی آتی ہے۔ حکومت کی ایسی تمام وصولیابیاں، جن سے واجبات ٹیکس پاتے ہیں یا مالی اثاثوں میں کمی آتی ہو، انھیں پونجی محاصل (Capital Reciepts) کہا جاتا ہے۔جب حکومت نیا قرض لیتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں اس قرض کو ادا کرنا ہوگا اور اس قرض پر سود بھی ادا کرنا ہوگا۔ اسی طرح جب حکومت کوئی اثاثہ فروخت کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں ان اثاثوں سے ہونے والی آمدنی ختم ہوجائے گی۔ اس لئے اس طرح کے محاصل قرض تشکیل دینے والے یا قرض نہ تشکیل دینے والے ہو سکتے ہیں۔ 

5.1.3  اخراجات کی زمرہ بندی (Classification of Expenditure)

محاصل اخراجات Revenue Expenditure : محاصل اخراجات مرکزی حکومت کے مادی یا مالی اثاثوں کی تخلیق کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے کیے جانے والے اخراجات ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق سرکاری محکموں کے عام کام کاج اور متنوع خدمات، حکومت کے ذمے قرض کے سود کی ادائیگی، ریاستی حکومتوں اور دوسرے فریقوں کو دیے گئے عطیات سے ہے (چاہے ان عطیات سے اثاثوں کی تشکیل ہو سکتی ہو)
بجٹ تجاویز میں کل اخراجات کو منصوبہ جاتی اور غیرمنصوبہ جاتی مدوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کو جدول 5.1 میں 6 نمبر پر دکھایا گیا ہے جس میں محاصل اخراجات میں منصوبہ جاتی اور غیر منصوبہ جاتی کے درمیان فرق کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس زمرہ بندی کے مطابق منصوبہ جاتی محاصل اخراجات کا تعلق مرکزی منصوبوں (پانچ سالہ منصوبے) اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے مرکزی امداد کے منصوبوں سے ہوتا ہے۔ غیر منصوبہ جاتی اخراجات، جو محاصل اخراجات کا زیادہ اہم عنصر ہوتا ہے، حکومت کی عام اقتصادی اور سماجی خدمات کی وسیع تعداد کا احاطہ کرتے ہیں۔سبسڈی ، تنخواہیں اورفیشن شامل ہیں۔ 
مارکیٹ سے لیے گئے قرض پرسود کی ادائیگی بیرونی قرضے اور مختلف قسم کے ریزرو فنڈ غیر منصوبہ جاتی محاصل اخراجات کا ایک بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ دفاعی اخراجات اس طور سے اہم ہوتے ہیں کہ قومی سلامتی کے پیش نظر ان میں بہت زیادہ کمی کے امکانات نہیں ہوتے۔سبسڈی، ایک اہم پالیسی اخراجات ہوتے ہیں جن کا مقصد بہبود میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔سرکاری اشیا اور خدمات کے علاوہ جیسے تعلیم اور صحت، جن میں حکومت قیمت کو کم کرنے کے لیے سبسڈی دیتی ہے حکومت دیگر بہت سی چیزوں پر بھی سبسڈی دیتی ہے جن میں برآمدات، قرض کا سود ، خوراک اور کیمیاوی کھاد وغیرہ شامل ہیں۔ سال 2014-15 میں سبسڈی کی رقم جی ڈی پی کا 2.02 فیصد تھی جبکہ 2016-16 میں یہ 1.7 فیصد ہے۔ (بجٹ تخمینہ)

پونجی اخراجات  Capital Expenditure

حکومت کے کچھ اخراجات ایسے ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں مادی یا مالی اثاثے تشکیل پاتے ہیں یا مالی دینداریوں (واجبات) میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ان میں عمارت، مشینری سازوسامان کی خریداری، حصص میں سرمایہ کاری ، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں ، پی ایس یو (سرکاری سیکٹر کے یونٹ) اور دیگر فریقوں کو قرض دینا شامل ہے۔ بجٹ دستاویز میں پونجی اخراجات کوبھی منصوبہ جاتی اور غیرمنصوبہ جاتی زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔منصوبہ جاتی پونجی اخراجات کا تعلق بھی محاصل اخراجات کی طرح ، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے مرکزی منصوبوں اور مرکزی امداد سے ہوتا ہے۔غیر منصوبہ جاتی پونجی اخراجات میں حکومت کے ذریعہ فراہم کی جانے والی بہت سے عام ، سماجی اور اقتصادی خدمات شامل ہوتی ہیں۔ 
بجٹ محض وصولیابیوں اور اخراجات کا بیانیہ نہیں ہوتا ۔آزادی کے بعد سے پانچ سالہ منصویوں کے آغاز کے ساتھ، یہ ایک اہم قومی پالیسی دستاویز بن چکا ہے۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بجٹ ملک کی معاشی زندگی کی عکاسی کرتا ہے اور اسے ایک شکل فراہم کرتا ہے۔ مالیاتی جوابدہی اور بجٹ منجمنٹ ایکٹ 2003، (FRBMA) کے ذریعہ بجٹ میں تین پالیسی بیانات کا ہونا ضروری ہے۔ 4۔ وسط مدتی پالیسی مجموعہ بیان میں مخصوص مالیاتی اظہار کا تین سالہ سلسلہ ہدف رہتا ہے جو یہ جائزہ لیتا ہے کہ کیا قابل برقراری بنیاد پر محاصل وصولیابیوں کے ذریعہ محاصل اخراجات کو انجام دیا جا سکتا ہے۔ اور بازار قرض کاری سمیت پونجی وصولیابیوں سے استفادہ کتنی پیداوار کے طور پر کیا جا رہا ہے، مالیاتی پالیسی حکمت عملی بیان، موجودہ پالیسیوں کا جائزہ اور اہم مالیاتی اقدامات میں سے کسی طرح کے انحراف کے جواز کا تعین کرتے ہوئے مالیاتی شعبہ میں حکومت کی ترجیحات کو طے کرتا ہے۔کلی معاشی خاکہ سے متعلق بیان میں کل گھریلو پیداوار اور شرح ترقی ، مرکزی حکومت کے مالیاتی توازن اور بیرونی توازن کے بارے میں معیشت کی پیش گوئی کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔

اس قسم کی درجہ بندی کو پیش کرنے کر برخلاف ایک صورت یہ ہے کہ نئے منصوبوں/ پروجیکٹوں کی شروعات کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان موجودہ صلاحیت اور خدمات کی سطح کی دیکھ ریکھ کو نظر انداز کرتا ہے۔غیرمنصوبہ جاتی خرچ میں شامل اخراجات کی وجہ سے یہ معلومات بالواسطہ ہوجاتی ہیں جو تعلیم اور صحت ( جس میں تنخواہ کی شمولیت اہم جز ہے) جسے شعبوں کے درمیان وسائل کے بٹوارے پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ 


5.2.1۔ حکومتی خسارے کے اقدامات

جب ایک حکومت محاصل کی صورت میں وصول کی گئی رقم سے زیادہ خرچ کرتی ہے تو وہ ’’خسارے کا بجٹ‘‘ پیش کرتی ہے۔ ایسے کئی اقدامات ہیں جب سے حکومتی خسارہ ہوتا ہے اور ان اقدامات کے معیشت پر اپنے الگ الگ مضمرات ہوتے ہیں۔ 
خسارہ محاصل Revenue Deficit: خسارہ محاصل حکومت کی وصولیابیوں پر زائد محاصل اخراجات کی نشاندہی کرتا ہے۔خسارہ محاصل = اخراجات محاصل - وصولیابی محاصل 

جدول 5.1:۔ مرکزی حکومت کی وصولیابیاں اور اخراجات 2015-16 (بجٹ تخمینہ)


مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) فیصد کے طور پر
1-محاصل وصولیابیاں (Revenue Reciepts) (a+b)
(a) ٹیکس محاصل (ریاستوں کا خالص حصہ)
(b)  غیر ٹیکس محاصل 
2۔  محاصل اخراجات
(i)  سود ادائیگیاں
(ii)  اہم سبسڈی
(iii)  دفاعی اخراجات
3۔  محاصل خسارہ(2-1) 
4 - پونجی وصولیابیاں (a + b + c)
8.1
6.5
1.6
10.9
3.2
1.6
1.1
2.8
4.5



باکس 5.2 حکومتی مالیات کے لیے قانون سازی اور اس کے اثرات کی مختصر تفصیل پیش کرتا ہے۔ 2005-06 میں ہندوستان کے بجٹ میں بجٹ تعین کے صنفی حساسیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔جنس سے متعلق بجٹ کاری جنس سے متعلق بیان وابستگی کو بجٹ کی ذمہ داری بدلنے کی ایک با معنی کوشش ہے جس میں عورتوں کو بااختیار بنانے کے لیے خصوصی پہل اور عورتوں کے لیےمنقسم وسائل سے استفادہ کا جائزہ نیز عوامی اخراجات کے اثرات اور خواتین کے لیے حکومت کی پالیسیاں  شامل ہیں۔ 2006-07 کے بجٹ میں پہلے بجٹ کے بیان کو وسعت دی گئی ہے۔


   
0.1

0.5

1.7

12.6

3.3

9.3

3.9

0.7
(a)  قرض کی وصولیابی

(b)  دیگر وصولیابیاں (خاص طور پر PSUغیر اصل کاری (حصص کی فروخت) 

   (c) قرض کاری اور دیگر واجبات
۔4  پونجی اخراجات    
[1+4(a)+4(b)]  ۔  5 غیر قرض وصولیابیاں
 کل اخراجات
2 + 5 = 6 (a) + 6 (b)
  منصوبہ جاتی اخراجات
  غیر منصوبہ جاتی اخراجات
مالیاتی خسارہ 
ابتدائی خسارہ

ماخذ: اقتصادی جائزہ 2015-16 

جدول 5.1 میں نمبر 3 سے ظاہر ہوتا ہے کہ محاصل خسارہ مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) کا 8.2 فیصد ہے۔محاصل خسارہ میں صرف وہ لین دین شامل ہوتا ہے جس سے حکومت کی موجودہ آمدنی اور اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔جب حکومت محاصل خسارہ ظاہر کرتی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت بچت نہیں کر رہی ہے اور اپنے دیگر سیکٹروں کی بچت کو اصرافی اخراجات (Consumption Expenditure) کو پورا کرنے میں لگا رہی ہے۔
اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو نہ صرف اپنی سرمایہ کاری کے لیے بلکہ اپنی اصرافی (Consumption) ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی قرض لینا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں حکومت پر قرض اور سود کی ادائیگی کا بوجھ بڑھے گا اور آخر کار حکومت کو اپنے اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔چونکہ محاصل اخراجات کا ایک بڑا حصہ پابندی والا ہوتا ہے، اس لیے اس میں کمی نہیں کی جاسکتی۔ اکثر حکومت پیداوری پونجی اخراجات یا فلاحی اخراجات میں کمی کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کم فروغ اور منفی فلاحی مضمرات۔ 
مالیاتی خسارہ Fiscal Deficit:  مالیاتی خسارہ حکومت کے کل اخراجات اور قرض کاری کو چھوڑ کر کل وصولیابیوں کے درمیان فرق ہے۔ 
کل مالیاتی خسارہ = کل اخراجات —(محاصل وصولیابیاں + غیر قرض سے تخلیق کی گئی پونجی وصولیابیاں) غیر قرض سے تخلیق کی گئی پونجی وصولیابیاں ایسی وصولیابیاں ہیں جو قرض کاری کے تحت نہیں آتیں۔ اسی لیے اس سے قرض میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ہے قرضوں کی وصولیابی اور سرکاری ملکیت والے یونٹوں (PSU) کی فروخت سے حاصل رقم ۔جدول 5.1 سے ظاہرسے ہوتا ہے کہ غیرقرض سے حاصل پونجی وصولیابیاں مجموعی گھریلو پیداوار GDP کے 0.6 فی صد کے برابر ہے ۔ یہ کل پونجی وصولیابیوں میں سے قرض کاری اور دیگر واجبات کو گھٹا کر (4.5-3.9) حاصل کیا جا تا ہے۔ اس طرح مالیاتی خسارہ GDP کا 3.9 فیصد ظاہر ہوتا ہے۔ مالیاتی خسارے کامالیاتی انتظام قرض لینے کے ذریعہ ہی کیا جائے گا۔ لہذا اس سے سبھی وسائل اور حکومت سے قرض لینے سے متعلق ضرورتوں کا پتہ چلتا ہے۔ مالیاتی پہلو سے
کل مالیاتی خسارہ= خالص گھریلو قرض کاری+ ریزرو بینک آف انڈیا سے قرض لینا+ بیرونی ملکوں سے قرض لینا۔ 
خالص گھریلو قرض لینے کے تحت قرض کے ذریعہ (مثلا مختلف چھوٹی بجٹ اسکیمیں) کا استعمال کرتے ہوئے عوام سے براہ راست اور قانون سیالیت تناسب (SLR) کے ذریعہ بلا واسطہ طور پر تجارتی بینکوں سے حاصل قرض آتے ہیں۔کل مالیاتی خسارہ، معاشیات کے استحکام اور سرکاری سیکٹر کی مضبوط مالیاتی انتظام کے لیے ایک فیصلہ کن خبر ہے۔ اس طرح کل مالیاتی خسارے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ محاصل خسارہ ، مالیاتی خسارے کا ایک حصہ ہے (مالیاتی خسارہ = محاصل خسارہ + پونجی اخراجات- غیر قرض سے حاصل پونجی وصولیابیاں) ۔ مالیاتی خسارے میں محاصل خسارے کا ایک بڑا حصہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ قرض کا ایک بڑا حصہ خرچ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے نہ کہ سرمایہ کاری کے لیے۔ 

 6۔ عام طور پر یہ کل وصولیابیاں (محاصل اور پونجی محاصل دونوں) پر کل خرچ (محاصل اور پونجی دونوں) کے زائد ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ 1996-97  بجٹ سے ہندستان میں بجٹ خسارے کو ظاہر کرنے کی روایت ختم کر دی گئی ہے۔ 


ابتدائی خسارہ Primary Deficit :  ہم غور کریں کہ حکومت کی قرض کاری کی ضرورتوں می جمع قرض پر سود کی ادائیگی کی ذمہ داریاں شامل ہوتی ہیں۔ ابتدائی خسارے کے اندازے کا مقصد موجودہ مالیاتی عدم توازن پر روشنی ڈالنا ہے۔موجودہ اخراجات کا محاصل سے زائد ہوجانے کی صورت میں قرض کاری کا تخمینہ حاصل کرنے کے لیے ہم ابتدائی خسارے کا شمار کرتے ہیں۔ اسے آسان زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ باقی ہے جو مالیاتی خسارے کی سود کی ادائیگی کو گھٹانے پر حاصل ہوتا ہے۔ 


کل ابتدائی خسارہ = کل مالیاتی خسارہ- خالص سود واجبات 

خالص سود واجبات میں خالص گھریلو قرض پر حکومت کی ذریعہ حاصل سود وصولیابیوں سے سود ادائیگی پر باقی رقم حاصل ہوتی ہے۔ 



5.2 مالیاتی پالیسی

کینز کی کتاب’’ دی جنرل تھیوری آف ایمپلائمنٹ انٹر سیٹ اینڈ م ‘‘میں بیان کیے گئے اہم تصورات میں خاص طورپر یہ بھی ہے کہ حکومت کی مالیاتی پالیسی کا استعمال برآمد اورروزگار کی سطح کو قائم رکھنے کے لیے کیا جانا چاہیے خرچ اورٹیکسوں میں تبدیلیوں کے ذریعہ حکومت برآمد اورآمدنی میں اضافے کی کوشش کرتی ہے جس کا مقصد معیشت کے اتار چڑھاو کو مستحکم کرنا ہوتا ہے اس عمل میں مالیاتی پالیسی سے زائد (جب کل وصولیابیاں خرچ سے زیادہ ہوتی ہیں یاایک متوازن بجٹ خرچ اوروصولیابیاں برابر ہوں) کے بجائے ایک خسارہ کے بجٹ کی تخلیق ہوتی ہے ۔آمدنی کے تعین کے پہلے کے تجزیے میں سرکاری شعبہ کو شامل کرنے سے پیدا ہونے والے اثرات کا مطالعہ ہم آگے کریں گے ۔

حکومت دو مخصوص طریقوں سے براہ راست متوازن آمدنی کی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے۔حکومت کے ذریعہ خریدی گئی اشیا اور خدمات (G) سے کل مانگ میں اضافہ ہوتا ہے 

5

مالیاتی پالیسی اپنے تین بنیادی مقاصد کو حاصل کرنے کی کیسے کو شس کرتی ہے 

اورٹیکسوں نیزمتبادل سے آمدنی (y) اورقابل صرف آمدنی (YD) خاندان کے صرف اوربجٹ کے لیے دستیاب آمدنی کا تعلق متاثر ہوتا ہے ۔
ہم پہلے ٹیکسوں کو لیں ، ہم فرض کرتے ہیں کہ حکومت جو ٹیکس لگاتی ہے وہ آمدنی پرمنحصر نہیں ہوتا ۔ اسے ایک مشت ٹیکس کہاجاتا ہے جو T کے برابر ہوتا ہے ، ہم فرض کرتے ہیں کہ پورے تجزیے میں حکومت ایک قائم مقدار میں متبادل� رکھتی ہے۔اب تفاعل صرف اس طرح ہے۔


6     51
یہاں =YD قابل صرف آمدنی ۔
ہم جانتے ہیں کہ ٹیکسوں سے قابل صرف آمدنی اورصرف میں کمی آتی ہے ۔بطورمثال اگر کوئی شخص 1 لاکھ روپیے کماتا ہے اور اسے 10,000 روپیے اداکرنے پڑتے ہیں تو اس کی قابل صرف آمدنی اوراس شخص کی آمدنی جو 90,000 روپیے کما تا ہے لیکن کوئی ٹیکس اداکرتا ہے . کے برابر ہوتا ہے جوکہ حکومت کو شامل کرنے پر کل مانگ کی اضافی تعریف ہوگی ۔
7(2۔5)
گرافی طورپر ہم دیکھتے ہیں کہ یک مشت ٹیکس سے صرف شیڈول متوازن طور پر نتیجے کی طرف شفٹ ہوتا ہے اور اس کے سبب کل مانگ خط میں بھی اسی طرح کا شفٹ ہوتا ہے ۔ پیدا وار بازار میں آمدنی تعین کی شرط =Y  کل مانگ ہوگی جسے اس طرح لکھا جائے گا۔ 
8   (3۔5)
آمدنی کی توازنی سطح کا حل حاصل کرنے پر ہمیں ملے گا ۔   9 (4۔5)

5.2.1 سرکاری اخراجات میں تبدیلی 

اب ہم ٹیکسوں کو قائم رکھ کر سرکاری خرید (G) میں اضافہ کے اثرات پر غور کریں ۔ جب T' یعنی یک مشت ٹیکس سے G یعنی سرکاری خرید زیادہ ہوتی ہے تو حکومت خسارے کو برداشت کرتی ہے۔چونکہ کل خرچ کا عنصر ہے لہذا منصوبہ بند مجموعی اخراجات میں اضافہ ہوگا ۔کل مانگ شیڈول میں اوپر کی طرف AD' تک شفٹ ہوتی ہے ۔برآمد کی ا بتدائی سطح پر مانگ رسد سے زیادہ ہوتی ہے اورفرم پیداوار میں توسیع کرتی ہے ۔ نیا توازن E'پر قائم ہوتا ہے۔ ضارب میکانیت (باب 4 میں بیان کیا گیا ہے) کام کرتی ہے ۔حکومتی خرچ ضارب درج ذیل کے ذریعہ ظاہرکیا گیا ہے ۔
10   (5۔5)
                                            (6۔)
شکل 5.1 میں حکومتی اخراجات G سے بڑھ کر ہوجاتا ہے اور اس کے سبب توازنی آمدنی Y سے بڑھ کر Y¢.ہوجاتی ہے ۔

5.2.2 ٹیکسوں میں تبدیلی 

ہم دیکھتے ہیں کہ آمدنی کی ہر ایک سطح پر ٹیکسوں میں کٹوتی سے قابل صَرف آمدنی Y.T میں اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں کل اخراجات شیڈول میں اوپر کی طرف شفٹ ہوتا ہے ، جو ٹیکسوں میں کمی کا جزو ہوتا ہے اسے شکل 5.2 میں دکھا یاگیا ہے۔
مساوات 5.3 سے ہمیں حاصل ہوتا ہے ۔
11
اونچی حکومتی اخراجات کا اثر
12
13
ٹیکسوں میں کٹوتی (اضافہ ) سے صارف او ربرآمد میں اضافہ (کمی ) ہوتی ہے کیونکہ ٹیکس ضارب ایک منفی ضارب ہوتا ہے۔مساوات 5.6 اور 5.8 کا موازنہ کرنے پر ہم پاتے ہیں کہ حکومت کے اخراجات ضارب کے مقابلے ٹیکس ضارب کی مطلق قدرے نسبتا کم ہوتی ہے کیونکہ حکومتی اخراجات میں اضافہ سے کل اخراجات پر بر اہ راست اثر پڑتا ہے جب کہ ضارب عمل میں ٹیکسوں کا داخل ہونا قابل صَرف آمدنی پران کے صَرف کے ذریعہ ہوتا ہے جس کاخاندان کے صرف (جو کل اخراجات کا جزو ہے ) پر اثر پڑتا ہے ۔لہذا ٹیکسوں میں DT کٹوتی سے صرف اوراس طرح کل اخراجات میں پہلے cDTسے کا اضافہ ہوتا ہے ۔ دونوں ضارب کے فرق کو جاننے کے لیے درج ذیل مثال پرغور کریں۔ 
مثال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 5.1
مان لیجیے کہ صرف کاحاشیہ رجحان 0.8 ہے تب سرکاری اخراجات کا ضارب   14  ہوتا ہے ۔ سرکاری اخراجات میں 100 کے اضافہ کے بے توازنی آمدنی میں         15  کا اضافہ ہوگا۔       ٹیکس ضارب   16 ہے
17   کی ٹیکس کٹوتی سے توازنی آمدنی میں     18  کا اضافہ ہوگا ، لہذا اس صورت میں توازنی آمدنی میں اضافہ G اضافہ کے تحت ہونے والی مقدار کے نتیجے میں ہو نے والے اضافہ سےکم ہوتا ہے ۔ 
موجو دہ ڈھانچے میں اگر ہم صرف کے حاشیای رجحان کی مختلف قدروں کو لیں اور دونوں ضارب کی قدر کا شمار کریں تو ہم دیکھیں گے کہ سرکاری اخراجات ضارب کے مقابلے میں ٹیکس ضارب کی مطلق قدر ہمیشہ ایک کم ہوتی ہے ۔ یہ ایک دلچسپ ضمنی مفہوم ہے ۔ اگر سرکاری اخراجات میں اضافہ کے برابر ہی ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا ہے تاکہ بجٹ متوازن رہے تو برآمد میں سرکاری اخراجات میں اضافہ کی قدر کے برابر اضافہ ہوگا ۔ دونوں پالیسی ضارب کاروں کو جوڑنے پر حاصل ہوتا ہے ۔
                                   19 (  9۔5)

متوازن بجٹ ضارب  

اکائی متوازن بجٹ ضارب سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حکومت کی مالیات میں ٹیکسوں میں 100 کے اضافہ پر آمدنی میں بھی 100 کا اضافہ ہوتا ہے۔ اسے مثال 1 میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں جب سرکاری اخراجات میں 100 کا اضافہ ہوتا ہے برآمد میں 500 کا اضافہ ہوتا ہے ۔ٹیکس میں اضافہ سے آمدنی میں 400 کی کمی ہوتی ہے اورآمدنی میں خالص اضافہ 100 کے برابر ہوتا ہے ۔متوازن کا مطلب اس آخری آمدنی سے ہے جسے کافی طویل مدت میں ضارب کے ذریعہ اپنے سبھی دور پورے کرنے کے بعد حاصل کرتے ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ برآمد میں ٹھیک اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے جتنا اضافہ سرکاری خرچ میں ۔ یہاں ٹیکسوں میں اضافہ کے سبب کوئی ترغیبی صرف خرچ نہیں ہوتا ہے ۔یہ دیکھنے کے لیے کہ یہاں کیاہونا چاہیے ہم ضارب عمل کا جائزہ لیتے ہیں ۔سرکاری خرچ میں ایک متعین مقدار میں اضافہ سے آمدنی براہ راست اسی مقدار میں بڑھتی ہے اوربالواسطہ طورپر ضارب سلسلے کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ اسی طرح ہوتا ہے ۔
20 (10۔5)
لیکن ٹیکس میں اضافہ کا ضارب عمل میں بھی دخل ہوتاہے ، جب قابل صرف آمدنی میں کٹوتی سے صرف میں کمی ٹیکسوں سے c گنا کٹوتی کے برابر ہوتی ہے ،لہذا ٹیکس اضافہ کا آمدنی پر اثر اس طرح حاصل ہوتا ہے ۔
21  (11۔5)

دونوں کے فرق سے آمدنی پر خالص اثر ہوتا ہے ۔چونکہ  22   (5.10) اور 5.11) ( سے ہمیں   23  حاصل ہوتا ہے ۔ یعنی آمدنی میں اتنی ہی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جتنا کہ سرکاری اخراجات میں اورمتوازن بجٹ ضارب اکائی کے برابر ہوتا ہے ۔اس ضارب کو مساوات 5.3 سے بھی حسب ذیل اخذ کیا جاسکتا ہے ۔
24 کیونکہ اصل کاری تبدیل نہیں ہوتی   25   (12۔5)
 چونکہ  26  اس لیے ہم پاتے ہیں کہ 
27   (13۔ 5)
متناسب ٹیکسوں کا معاملہ : ایک حقیقی مفروضہ یہ ہوگا کہ حکومت ایک قائم کردہ ٹیکسوں کی شکل میں آمدنی کے tاکٹھا کرتی ہے تاکہ   28 

تناسب ٹیکسوں کے ساتھ صرف تفاعل درج ذیل ہے ۔   29  (14۔5)

ہم غور کرتے ہیں کہ متناسب ٹیکسوں سے آمدنی کی ہر ایک سطح پر نہ صرف صرف کم تر ہوتا ہے ، بلکہ صرف تفاعل کی ڈھلان بھی کم تر ہوتی ہے ۔آمدنی سے صرف کاحاشیا ئی رجحان c (1 – t).تک گر تا ہے ۔ کل مانگ شیڈول AD¢ کا مقاطعہ بڑا لیکن سپاٹ ہوتا ہے جیسا کہ شکل 5.3 میں دکھایا گیا ہے ۔
اب ہمارے پاسسس    30   (15۔ 5)
جہاں  31  آزاد خرچ ہے اور  32  کے برابر ہوتا ہے ، پیداوار بازار میں آمدنی کے تعین کی شرط   33  ہوتی ہے جسے اس طرح لکھا جاسکتا ہے ۔
شیڈول کو نسبتاً سپاٹ بناتا ہے۔
34
حکومت اور مجموعی مانگ ( متناسب ٹیکس سمیت مانگ ( AD)
شیڈول کو نسبتا سپاٹ بنا تا ہے 

35      (16۔ 5)

آمدنی کے توازنی سطح کے لیے حل کرنے پر  36  (17 ۔ 5)

 تاکہ ضارب درج ذیل ہو       37  (18 ۔ 5)

38

سر کاری آمدنی میں اضافہ ( متناسب ٹیکسوں میں ) 

ایک مشت ٹیکس کی صورت میں ضارب کی قدر سے اس کا موازنہ کرنے پر ہمیں قلیل قدر حاصل ہوتی ہے ایک مشت ٹیکس کی صورت میں سرکاری خرچ میں اضافہ کے نتیجے میں جب آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے تو صرف میں آمدنی میں اضافہ کاcگنا اضافہ ہوتا ہے ۔متناسب ٹیکس کے ساتھ صر ف میں کم اضافہ ہوتا ہے ،  39 گنا آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔
G میں تبدیلی کے لیے اب ضارب درج ذیل ہوگا ۔

40
مدنی میں Yسے Y کا اضافہ ہوتا ہے ۔
41
متناسب ٹیکس کی شرح میں کٹوتی کا اثر
نتیجتاً ٹیکسوں میں کمی کا اثر پڑتا ہے جس سے صرف کارجحان بڑھ جاتا ہے۔ AD خط میں اوپر کی طرف AD تک شفٹ ہوتا ہے۔ آمدنی کی ابتدائی سطح پر شے کی کل مانگ برآمد سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ٹیکس میں کٹوتی کے سبب صَرف میں اضافہ ہوتا ہے اب آمدنی کی نئی اونچی سطح ’Y ہے ۔

مثال 5.2————

مثال 5.1 میں اگرشرح ٹیکس 0.25 لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آمدنی میں ہر ایک اکائی کے اضافے کے لیے صرف میں پہلے کے 0.80 کی جگہ پر  42  کا اضافہ ہوگا ۔لہذا پہلے کے مقابلے صرف میں کم اضافہ ہوگا۔ حکومت کے اخراجات ضارب    43  ہوگا جویک مشت ٹیکسوں سے حاصل رقم سے کم ہے۔ اگر سرکاری اخراجات میں 100 کا اضافہ ہوتو برآمد میں سرکاری اخراجات میں اضافے کے ضارب کے ذریعہ کئی گنا اضافہ ہوگا یعنی 2.5 × 100 = 250.ہاں یک مشت ٹیکسوں کے ساتھ برآمد میں اضافے سے کم ہوتا ہے ۔
متناسب آمدنی ٹیکس خود کار استحکامیہ یعنی ایک ضربہ گیر کے طورپر عمل کرتا ہے ، کیونکہ اس سے کل گھریلو پیداوار میں اتارچڑھاؤ کے تئیں قابل صرف آمدنی اور صرف کا خرچ کم حساس ہوتا ہے ۔جب کل گھریلو پیداوار میں اضافہ ہوتاہے تو قابل صرف آمدنی بھی بڑھتی ہے لیکن کُل گھریلو پیداوار میں اضافہ سے کم کیونکہ اس کا ایک جز وٹیکسوں کی شکل میں نکل جاتا ہے ۔ اس سے صرف اخراجات میں اوپر ی جانب اتار چڑھاو کو محدود کرنے میں مددملتی ہے ۔سرد بازاری کے دوران جب کُل گھریلو پیداوار میں گراوٹ آتی ہے تو قابل صَرف آمدنی مقرر ہونے کی حالت میں آنی چاہیے۔اس سے کل مانگ میں کمی آتی ہے اورمعیشت میں استحکام پیداہوجاتا ہے ۔ 
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اصل کاری مانگ میں غیر مطلوبہ شفٹ کے اثرات کو متوازن کرنے میں ان مالیاتی پالیسی و سیلوں میں تنوع ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر اصل کاری میں 44

سے 45 تک گراوٹ آتی ہے تو سرکاری اخراجات میں � 46 سے 47  کا اضافہ ہو آزاد خرچ  48 
اور توازنی آمدنی یکساں رہے گی۔ مالیاتی نظام میں پنہاں خود کار استحکامیہ خصوصیات سے امتیاز کے لیے اسے اختیار ی مالیاتی پالیسی کہا جا تا ہے، جو کہ معیشت کومستحکم کرنے کی ایک منصوبہ بند کارروائی ہے ۔ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ متناسب ٹیکسوں سے معیشت کو چڑھاو اور اتار حرکات کے خلاف استحکامیہ حالت میں لانے میں مدد ملتی ہے۔ فلاحی متبادل سے بھی آمدنی کا استحکام ہوتاہے۔ تیزی کے دوران جب روزگار زیادہ ہوتا ہے،صرفی اخراجات کی اونچی سطح پر استحکام کا دباؤ بنانے والی فلاحی ادائیگی مالیاتی بندوبست کے لیے جمع کی گئی ٹیکس وصولیابیوں میں اضافہ ہوتاہے؟ اس کے بر عکس سرد یا کساد بازی کے دوران ان فلاحی ادائیگیوں سے صَرف برقراری میں مدد ملتی ہے۔مزید نجی شعبہ میں بھی داخلی استحکامیہ ہوتی ہیں۔ قلیل مدت میں آمدنی میں تبدیلی کے باوجودکارپوریشن اپنے منافع کو قائم رکھتے ہیں اور خاندان اپنی ما قبل معیار زندگی کو بنائے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سبھی کسی فیصلہ ساز کے ذریعہ کسی بھی کاروائی کرنے کی ضرورت کے بغیر ضربہ گیر(Shockabsorbers)کے طور پر کام کرتے ہیں یعنی یہ خود کام کرتے ہیں لیکن داخلی استحکامیہ سے معیشت بہر حال صرف میں اتار چڑھاؤ کے ایک حصے میں کمی ہوتی ہے۔ باقی ماندہ منصوبہ بندپالیسی اقدامات کے ذریعہ ہوناچاہیے۔
متبادلات (Transfers):  ہم فرض کرتے ہیں کہ اشیا اور خدمات پر سرکاری خرچ میں اضافہ کے بجائے حکومت فلاحی ادائیگیوں ، کا محاصل 49  میں اضافہ کرتی ہے۔ آزاد خرچ میں 
50  کا اضافہ ہوگا لہٰذا بر آمد میں اضافہ ہوگا۔ یہ اضافہ سرکاری اخراجات میں اضافہ کی مقدار سے کم ہوگا کیونکہ فلاحی ادائیگی میں کسی طرح اضافے ایک حصے کی بچت کرلی جاتی ہے۔متبادلات میں تبدیلی کے لیے توازنی آمدنی میں تبدیلی درج ذیل ہوگی۔
51

مثال ۔5.3–——

ہم فرض کرتے ہیں کہ صَرف کا حاشیای رجحان 0.75 ہے اور ٹیکس یک مشت ہے۔متوازن آمدنی میں تبدیلی  52
کے برابر ہوگا۔متبادلات میں 20 کے اضافے سے توازن آمدنی میں          53 
کا اضافہ ہوگا۔ اس طرح یہ بات سامنے آتی ہے کہ آمدنی میں اضافہ سرکاری خرید میں اضافہ کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔

قرض(Debt)

بجٹ خسارے کے لیے مالیاتی بندوبست یا تو ٹیکس کار یا قرض یا نوٹ چھاپ کر کیا جانا چاہیے۔حکومت اکثر قرض لینے پر منحصر رہتی ہے جسے سرکاری قرض کہتے ہیں۔ خسارے اور قرض کے تصورات میں قریبی تعلق ہوتا ہے۔خسارے کو ایک بہاو کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جس سے قرض کے اسٹاک میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر حکومت قرض لینے کاسلسلہ ایک سال کے بعد ددسرے سال بھی جاری رکھتی ہے تو یہ قرض کی جمع کاری ہوتی ہے اور حکومت کو قرض کے طورپر زیادہ سے زیادہ ادا کرنا پڑے گا ۔ یہ سود ادائیگیاں خود بخود قرض میں معاون ہوتی ہیں۔
سرکاری قرض کی مناسب مقدار کا تناظر:اس معاملے کے دو باہمی متعلق پہلو ہیں ۔ پہلاکیا سرکاری قرض ایک بوجھ ہوتا ہے اور دوسرے ، قرض کے لیے مالیات فراہمی کا معاملہ۔قرض کے بوجھ کا ذکر کرتے وقت یہ خیال رہے کہ سرکاری قرض چھوٹے تاجر کے قرض جیسا نہیں ہوتالہٰذا ہمیں جزوی طور پر غور کرنے کے بجائے کلی طورپر غور کرنا چاہیے۔کسی تاجر کے خلاف حکومت ٹیکس کاری کے ذریعہ اور نوٹ چھاپ کر وسائل میں اضافہ کر سکتی ہے۔
قرض لے کر سرکار صَرف کا بوجھ کم کرنے کے لیے اگلی نسل کو منتقل کر دیتی ہے کیونکہ حکومت آج بانڈ جاری کرکے عوام سے جو قرض اختیار کرتی ہے اس کی ادائیگی تقریباً 20 سال بعد ٹیکس میں اضافہ کرکے کر سکتی ہے۔ یہ ٹیکس ان آبادیات پر لگائے جا سکتے ہیں جس نے ابھی کام کرنا شروع ہی کیا ہے۔ ان کی قابل صرف آمدنی میں کمی ہوگی اور اس طرح صرف میں کمی آئے گی ۔ اس طرح یہ دلیل دی جاتی ہے کہ قومی بجٹوں میں گراوٹ آئے گی۔ اس کے علاوہ عوام سے حکومت کے ذریعہ قرض لیے جانے سے نجی شعبہ کے لیے دستیاب بچت میں بھی کمی آئے گی کیونکہ قرض اگلی نسل پر بوجھ کے طور پر عمل کرتا ہے۔ 
روایتی طور پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جب حکومت ٹیکسوں میں کٹوتی کرتی ہے اور خسارے کا بجٹ بناتی ہے تو صارف زیادہ خرچ کر کے ٹیکس سے بچنے والی آمدنی کا استعمال کرتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ لوگ دور اندیش نہ ہوں اور بجٹ خسارے کے ضمنی مفہوم کو نہ سمجھتے ہوں۔وہ نہیں سمجھ سکتے کہ مستقبل میں کسی وقت حکومت کو قرض اور جمع سود کی ادائیگی کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑے گا ۔ اگروہ اسے سمجھ بھی لیتے ہیں تو بھی امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں یہ بوجھ ان پر نہیں پڑے گا بلکہ اگلی نسلوں پر پڑے گا۔
اس کی جوابی دلیل یہ ہے کہ صارف دور اندیش ہوتے ہیں اور ان کا خرچ نہ صرف یہ کہ موجودہ آمدنی پر انحصار کرتا ہے بلکہ وہ مستقبل میں ہونے والی آمدنی کی امید سے بھی خرچ کرتے ہیں ۔ وہ سمجھیں گے کہ آج قرض لینے سے مستقبل میں ٹیکس اونچا ہوگا۔ مزید صارف آنے والی نسل کے بارے میں بھی فکر مند رہتے ہیں کیونکہ آنے والی نسلیں موجودہ نسل کے ہی بچے یا نواسے پوتے ہوتے ہیں اور خاندان جو اس بارے میں فیصلہ لینے والی ایک اکائی ہے ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ وہ اب اپنی بچت میں اضافہ کریں گے جس سے حکومت کی بے بچتی میں اضافہ پوری طرح سے متوازن ہو جا ئے گا یا اس کی تلافی ہو جائے گی اس سے قومی بچت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ اس خیال کو ریکارڈ و معدلت کہتے ہیں۔ ڈیوڈ ریکارڈو 19ویں صدی کے عظیم ماہرین معاشیات میں سے ایک تھے جنھوں نے سب سے پہلے کہا تھا کہ اونچے خسارے کی صورت میں لوگ زیادہ بچت کرتے ہیں۔ اسے تعدیل اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ٹیکس کاری اور قرض کاری خرچ کے لیے مالیاتی فراہمی کے مساوی ذرائع ہیں۔ آج جب حکومت قرض لے کر خرچ میں اضافہ کرتی ہے ،جسےمستقبل میں ٹیکسوں کے ذریعہ اد اکیا جائے گا تو معیشت پر اس کا ویسا ہی اثر پڑے گا جیسا کہ شرح میں اضافے کے ذریعہ مالیاتی بند وبست کر کے سر کاری خرچ میں اضافے سے پڑتاہے۔ 
اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ’’قرض سے کوئی فرق نہیں پڑتاکیونکہ ہم اپنے لیے قرض لیتی ہیں‘‘ یہی وجہ ہے کہ اگر چہ دو نسلوں کے درمیان وسائل کی منتقلی ہوتی ہے پھر بھی قوت خرید ملک کے ماتحت ہوتی ہے ۔ تاہم غیر ملکیوں سے لیا گیا کوئی بھی قرض ایک بوجھ ہوتا ہے، کیونکہ ہمیں سود ادائیگی کے لحاظ سے اشیا بیرونی ممالک کوبھیجنی پڑتی ہیں۔
خسارے اور قرض کے دیگر تناظر: خسارے کی اہم تنقیدوں میں ایک یہ بھی ہے کہ خسارے ہمیشہ زر افرا طی ہوتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ جب حکومت خرچ میں ا ضافہ یا ٹیکسوں میں کٹوتی کرتی ہے تو کل مانگ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ فرم زیادہ مقدار میں جتنا کہ موجودہ قیمت پر مانگ کی جاتی ہے اتنے کی پیداوار کرنے میں نااہل ہو سکتی ہے۔ اس سے قیمت میں اضافہ ہوگا، لیکن اگر وسائل کا مناسب استعمال نہ کیا گیا ہو تو مانگ میں کمی کے سبب بر آمد (out put) کو روک لیا جاتا ہے۔ اونچے مالیاتی خسارے کے ساتھ مانگ اونچی اور بر آمد بہت زیادہ ہوتا ہے اسی لیے اس کے افراطی ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
اکثر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اصل کاری میں کمی سے نجی شعبہ کے لیے دستیاب بچت کی مقدار میں کمی ہوتی ہے۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ اگر حکومت اپنے خسارے کی تکمیل کے لیے بانڈ جاری کرکے نجی لوگوں سے قرض اختیار کرنے کا فیصلہ لیتی ہے تو یہ بانڈ ، کا رپورٹ بانڈوں اور دیگر مالیاتی وسائل کے ساتھ فنڈوں کی دستیاب رسد کے لیے مسابقت کریں گے۔ اگر کچھ نجی بچت کار بانڈ خرید نے کا فیصلہ کرتے ہیں تو نجی شعبوں میں اصل کاری کے لیے باقی فنڈ کی مقدار قلیل ہوگی ۔ اس طرح جب حکومت معیشت کی کل بچت کے شیئر میں اضافے کا دعویٰ کرے گی توبعض نجی قرض حاصل کنندگان مالیاتی بازاروں کے نرغے میں آجائیں گے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ معیشت کی بچت کا بہاو تب تک مقرر نہیں ہوگا جب تک ہم یہ نہ مان لیں کہ آمدنی میں اضافہ نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر حکومتی خسارہ پیداوار میں اضافے کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو آمدنی زیادہ ہوگی اور بچت میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس صورت میں حکومت اور صنعت دونوں زیادہ سے زیادہ قرض اختیار کر سکتے ہیں۔
اگر حکومت بنیادی ساخت میں اصل کاری کرتی ہے تو آنے والی نسلیں بہتر حالت میں ہوں گی لیکن اس طرح کی اصل کاریوں کے حاصل شرح سود سے یقینی طورپرزیادہ ہوگا۔ بر آمد میں اضافے سے ہی حقیقی قرض کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔ تب قرض کو بوجھ کے طورپر نہیں دیکھا جائے گا اور کل معیشت کی نمو میں قرض کے اضافے کا جواز ثابت ہوگا۔
خسارے میں کٹوتی : ٹیکسوں میں ا ضافہ یا خرچ میں کٹوتی سے حکومت خسارے میں کمی کی جا سکتی ہے۔ ہندوستان میں حکومت ٹیکس محاصل میں اضافے کے لیے راست ٹیکسوں پر زیادہ بھروسہ کرتی ہے (بلا واسطہ ٹیکس اپنی فطرت میں تنزلی (Regressing) ہوتے ہیں اور ان کا اثر سبھی آمدنی گروپ کے لوگوں پر یکساں طور پر پڑتا ہے) پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ (PSUs)کے شیئروں کے فروخت کے ذریعہ وصولیابیوں میں اضافہ کرنے کی بھی ایک کوشش کی گئی ہے* لیکن سرکاری خرچ میں کٹوتی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔حکومت کی سرگرمیوں کو بہتر منصوبہ بند پروگراموں اور انتظامیہ کے ذریعہ چلانے سے ہی سرکاری اخراجات میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔ پلاننگ کمیشن کے ذریعہ حال ہی میں کیے گئے ایل مطالعہ میں 4 میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ غریبوں تک 1روپیے کا فائدہ پہنچانے کے لیے حکومت غذائی سبسڈی کی شکل میں 3.65 روپیے خرچ کرتی ہے۔جواس مقصد سے ہوتاہے کہ نقدرقم کی منتقلی سے لوگوں کی فلاح میں اضافہ ہوگا ۔حکومت جن میدانوں میں کام کرتی رہی ہے ان میں سے کچھ کو نکال دیا جائے تو زراعت ، تعلیم ، انسداد غربت جیسے اہم شعبوں میں حکومت کے پروگراموں کو روکنے سے معیشت پر مخالف اثر پڑے گا۔ بہت سے ملکوں کی حکومتیں ازحد خسارے کو برداشت کرتی ہے۔قبل متعین سطحوں پر خرچ میں اضافہ کے لیے حکومت خود پر بند شیں عائد کرتی ہے۔ (باکس 5.1میں ہندوستان میں ایف۔ آر۔بی۔ ایم۔ اے کی اہم خصوصیات کا بیان کیا گیا ہے) درج بالا عوامل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کا جائز ہ لینا ہوگا۔ہمیں یہ خیال رکھنا ہوگا کہ بڑے خسارے ہمیشہ زیادہ توسیع مالیاتی پالیسی کا نتیجہ نہیں ہوتے ۔ یکساں مالیاتی پالیسیاں بڑے یا چھوٹے دونوں طرح کے خساروں کا باعث ہوسکتی ہیں ،جو معیشت کی صورت پر انحصار کرتا ہے۔ بطور مثال اگر کسی معیشت میں سرد بازاری اور کل گھریلو پیداوار میں گراوٹ دیکھنے کو ملتی ہے تو اس کی وجہ ہے کہ فرم اور خاندان کی جب آمدنی کم ہو تی ہے تو وہ کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ سرد بازاری کی صورت میں خسارے میں اضافہ ہوتا ہے اور تیزی کی صورت میں کمی جب کہ مالیاتی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔

خلاصہ

1۔   عوامی اشیا کا نجی اشیا سے الگ اجتماعی صَرف ہوتا ہے۔عوامی اشیا کی دو اہم خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ غیر مسابقتی ہوتی ہیں یعنی ایک فرد دوسرے کی تسکین میں کمی کیے بغیر اپنی تسکین میں اضافہ کر سکتا ہے اور یہ عوامی اشیا ایک دوسرے کے مقابل نہیں ہوتی ہیں ۔یعنی کسی کو ان اشیا کا فائدہ اٹھانے سے محروم کرنے کا کوئی ممکنہ طریقہ نہیں۔اس سے ان کے استعمال کی فیس جمع کرانا مشکل ہوتا ہے اور نجی مہم جو ئی عام طورپر ایسی اشیا کومہیانہیں کرتی ہیں ۔ لہٰذ احکومت ہی عوامی اشیا فراہم کراتی ہے۔
2۔   ان تین تفاعل تعین، تقسیم نو اور استحکام کا عمل حکومت کے اخراجات اور وصولیابیوں کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔
3۔   بجٹ میں حکومت کی وصولیابیوں اور خرچ کا بیان ہوتا ہے۔ موجودہ مالیاتی ضرورتوں اور ملک کی پونجی اسٹاک میں اصل کاری کے درمیان امتیاز کرنے کے لحاظ سے بجٹ کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ (1) محاصل بجٹ (2) پونجی بجٹ
4۔   مالیاتی خسارے کے فی صد میں محاصل کے اضافے سے کم تر تشکیل اصل سمیت سرکاری اخراجات کے معیار میں گراوٹ ظاہر ہوتی ہے۔
متناسب ٹیکسوں سے آزاد خرچ ضارب کم ہوتا ہے کیونکہ ٹیکسوں کے بعد باقی آمدنی میں سے صَرف کے حاشیای رجحان میں کمی آجاتی ہے۔
اگر عوامی قرض سے مستقبل میں بر آمد میں کمی پیدا ہوتی ہے تو یہ ایک طرح کا بوجھ ہے۔

کلیدی تصورات (Key Concept)

عوامی اشیا Public goods
خود کار استحکامیہ Automatic stabiliser
اختیار ی مالیاتی پالیسی Discretionary fiscal policy
ریکارڈ و کی معدلت Ricardian equivalence

باکس 5.2 مالیاتی ذمہ داری اور بجٹ مینجمنٹ ایکٹ،(FRBMA  2003) 

کثیر پارٹی پارلیمانی نظام میں اخراجات سے متعلق پالیسیوں کے تعین میں انتخاب کنندگان سے کا اہم کردار رہتا ہے۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ قانون سازی کا اہتمام جو سبھی حکومتوں کے حال اورمستقبل کے لیے قابل اطلاق ہوتا ہے خسارے پر قابو پانے میں مؤثر ہوتا ہے۔ اگست 2003 میں FRBMAکے نفاذ سے مالیاتی اصلاحات اور دانشمندانہ مالیاتی پالیسی کی تعمیل کےلیے ادارہ جاتی ڈھانچے کے ذریعہ حکومت کے لیے بندش پیدا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوا۔ مرکزی حکومت کو یہ یقنی بنانا چاہیے کہ نسلوں کے درمیان معدلت ہو اور کافی محاصل زائد کے حصول سے طویل مدتی کلی معاشی استحکام حاصل ہو۔ زری پالیسی کے تین مالیاتی رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے اور خسارے نیز قرض کو محدود کرتے ہوئے مؤثر قرض بندوبست ہو۔ جولائی ، 2004 سے مؤثر اس ایکٹ کے اصولوں کا رسمی اعلان کیا گیا ۔

اہم خصوصیات

1۔     یہ ایکٹ مرکزی حکومت کو مالیاتی خسارہ اور محاصل خسارے میں کمی کرنے کے موزوں اقدامات کیے جانے کے احکامات صادر کرتا ہے، جس سے 31مارچ 2009 تک خسارہ محاصل کو دور کیا جاسکے او ر اس کے بعد کافی محاصل زائد کی تشکیل ہوئی۔
2۔       اس میں ہر سال کی کل گھریلو پیداوار کا 0.3 فی صد مالیاتی خسارے میں کٹوتی اور 0.5 فی صد خسارہ محاصل کٹوتی کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ اس کی وصولیابی اگر ٹیکس محاصل سے نہیں ہوتی تو خرچ میں کٹوتی سے ضرور تطابق ہونا چاہیے۔
مخصوص ہدف سے زیادہ حقیقی خسارے میں اضافۂ صرف قومی سلامتی یا قدرتی آفات کی بنیاد پر یا دیگر ایسی ناگہانی صورت جس کی صراحت مرکزی حکومت کرتی ہے، کی بنیاد پر ہی ہو سکتی ہے۔
مرکزی حکومت ریزروبینک آف انڈیا سے نقد وصولیابیوں پر نقد ادائیگیوں کے عارضی زائد کو پورا کرنے کے لیے پیشگی کے علاوہ کسی بھی طرح کا قرض نہیں لے گی۔
ریزرو بینک آف انڈیا 2006-07 سے مرکزی حکومت کی ضمانتوں)سیکورٹیوں کی ابتدائی اجرا کو نہیں خریدے گا۔
مالیاتی عمل میں ازحدشفافیت لانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں ۔
مرکزی حکومت کو پارلیمنٹ میں دونوں ایوانوں کے سامنے سالانہ مالیاتی بیان کے ساتھ تین بیانات وسط مدتی مالیاتی پالیسی بیان ،مالیاتی پالیسی حکمت عملی بیان اور کلی معاشی ڈھانچہ جاتی بیان پیش کرنا ہوگا ۔
بجٹ کے سلسلے میں وصولیابیوں اور اخراجات کے رجحانات سہ ماہی جائزہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
یہ صرف مرکزی حکومت پرنافذہوتا ہے۔حالانکہ کرناٹک ، کیرل ، پنجاب،تمل ناڈو اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں مالیاتی ذمہ داری سےمتعلق قانون کا نفاذ کیا گیا ہے،لیکن جب تک سبھی ریاستوں کی حصہ داری نہیں ہو گی تب تک مالیاتی استحکام ، نمو اور کلی معاشی استحکام کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔حکومت نے ٹیکس جال کی توسیع اور اس کی بہتر تعمیل کی کوشش کی ہے ، اس ایکٹ کے ذریعہ مطلوبہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے فلاحی خرچ میں کٹوتی کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

ایف آر بی ایم جائزہ کمیٹی (FRBM  Review Committee)

پچھلے 13 برسوں میں جب سے ایف آر بی ایم قانون نافذ ہوا ہے، ہندوستانی معیشت ایک اوسط آمدنی والی معیشت بن گئی ہے۔ ایف آر بی ایم کے نفاذ کے وقت ایک عام خیال یہ تھا کہ مالی ضابطے زیادہ بہتر تھے۔ البتہ ، اس وقت سے ترقی یافتہ ممالک اس سے نکل چکے ہیں، لیکن ہندوستان میں حکومت نے ایف آر بی ایم میں قائم کردہ مالی پالیسی کے اصولوں میں اپنے اعتماد کا اعادہ کیا ہے۔ اس لیے، 2003 میں تیار کردہ بنیادی فریم ور ک کوبرقرار رکھنے کے لیے حمایت بھی موجود ہے۔لیکن ہندوستان میں بدلتی ہوئی صورت حال میں اسے شامل کرنے کی خاطرمستقبل میں ترقی کی راہ پر نظر رکھتے ہوئے اس کی تجدید کا کام ایف آر بی ایم کی جائزہ کمیٹی کو سونپا گیا ہے۔ 

باکس 5.3 : جی ایس ٹی : ایک ملک ، ایک ٹیکس ، ایک مارکیٹ

Box 5.3: GST: One Nation, One Tax, One Market

 اشیا اور خدمت ٹیکس (GST) ایک واحد جامع بالواسطہ ٹیکس ہے جو یکم جولائی 2017 سے مینوفیکچرر (پیداوارکرنے والے) خدمات فراہم کرنے والے سے بلکہ صارفین تک اشیا اور خدمات کی سپلائی پر عائد ہوتا ہے۔ یہ منزل (Destination) پر مبنی استعمال پر عائد ہونے والا ٹیکس ہے جس کی سپلائی چین میں لاگت (Input) ٹیکس قرض کی سہولت موجود ہے۔ یہ پورے ملک میں ایک ہی جیسی اشیاء/خدمات پر ایک ہی شرح سے نافذ ہے۔ اس میں بہت سے مرکزی اور ریاستی ٹیکس اور محصولات کو شامل کر لیا گیا ہے۔ اس نے اشیا اور خدمات پر عائد پیداواری /اشیا کی فروخت یا خدمات کی فراہمی کے ٹیکس اور محصولات کی جگہ لے لی ہے۔ 
چونکہ معیشت میں ایسی بہت سی ثانوی اشیا / خدمات تھیں جو ملک میں پیدا /فراہم کی جارہی تھیں اور جی ایس ٹی نظام سے پہلے ان میں نہ صرف ہر مرحلے میں اضافی قدر کا ٹیکس عائد ہوتا تھا بلکہ اشیا اور خدمات کی کل قدر پر بھی ٹیکس عائد ہوتا تھا جس میں لاگت ٹیکس کریڈٹ (ITC) کی سہولت کا بہت کم استعمال ہوسکتا تھا۔کل قدر میں ثانوی اشیا/خدمات پر اداکردہ ٹیکس شامل ہوتے ہیں۔ اس سے ٹیکس میں اضافہ ہوتا ہے۔ جی ایس ٹی کے تحت، ٹیکس سپلائی کے ہر مرحلے پرلیا جاتا ہے اور ادا کردہ ٹیکس پر کریڈٹ پر پچھلے مرحلے سے دستیاب ہوتا ہے تاکہ اشیا اور خدمات کی سپلائی کے اگلے مرحلے پر اس کا اثر نہ پڑے۔ اپنی وسیع اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے پیش نظر یہ پورے ملک میں ٹیکس میں موجود امتیاز کو ختم کرتا ہے اور تمام اشیا اور خدمات پر اضافی قدر پر ٹیکس کے اصول کو فروغ دیتا ہے۔
اس نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ عائد کردہ مختلف قسم کے ٹیکسوں /محصولات کی جگہ لی ہے۔مرکزی حکومت جو ٹیکس عائد کرتی ہے ان میں مرکزی ایکسائز ڈیوٹی ،سروس ٹیکس، مرکزی سیلز ٹیکس، کے کے سی اور ایس بی سی جیسے محصولات وغیرہ شامل ہیں۔ ریاستی ٹیکس کے اہم ٹیکسوں میں ویٹ/ سیلز ٹیکس، داخلہ ٹیکس، لگزری ٹیکس، چنگی ، تفریحی ٹیکس ، اشتہارات پر ٹیکس ، لاٹری/ سٹہ/ جوئے پر ٹیکس اور اشیا پر محصولات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب جی ایس ٹی میں ختم کر دیے گئے ہیں۔ فی الحال پانچ پیٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی سے باہر رکھا گیا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انھیں بھی جی ایس ٹی میں ضم کر لیا جائے گا۔ ریاستی حکومتیں انسانی استعمال والی الکحل پرویٹ عائد کرتی رہیں گی۔ تمباکو اور تمباکووالی مصنوعات پر جی ایس ٹی اور مرکزی ایکسائز ڈیوٹی دونوں عائد ہوں گی۔ جی ایس ٹی کے تحت پورے ملک میں تمام اشیا اور / یا خدمات پر چھ معیاری شرحیں نافذ کی گئی ہیں۔ ان میں 18%, 12%, 5%, 3%, 0% اور 28%  شامل ہیں۔ 
جی ایس ٹی آزادی کے بعد سے ملک میں سب سے بڑی ٹیکس اصلاح ہے اور اسے پارلیمنٹ کے ایک خصوصی اجلاس میں 30 جون؍یکم جولائی 2017 میں آدھی رات کو نافذ کیا گیا۔ آئین کی 101 ویں ترمیم کو صدر جمہوریہ ہند نے 
8 ستمبر 2016 کو منظوری دی تھی۔ آئین کی دفعہ 246A میں کی گئی ترمیم سے پارلیمنٹ اور تمام ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کو مرکزی حکومت اور ریاستوں کے ذریعہ نافذ کیے جانے والے جی ایس ٹی کے نفاذ کا اختیار دیا گیا۔ اس کے بعد جی ایس ٹی میں سی جی ایس ٹی ایکٹ، یوٹی جی ایس ٹی ایکٹ اور ایس جی ایس ٹی ایکٹ نافذ کیے گئے ۔ جی ایس ٹی نے اشیا اور خدمات پر عائد ہونے 
والے ٹیکسوں کی پیچیدگی کو دور کرکے اسے آسان بنایا ہے۔ اس سے متعلق قانون، ضابطے اور ٹیکس کی شرحیں پورے ملک میں یکساں رکھی گئی ہیں۔ اس کی وجہ سے اشیا اور خدمات کی نقل وحمل کی آزادی میں سہولت ہوتی ہے اور ملک میں ایک یکساں مارکیٹ قائم ہوتی ہے۔ اس کا مقصد تجارتی عمل کی لاگت میں کمی کرنااور مختلف ٹیکسوں کے صارفین پر ہونے والے اثرات کو کم کرنا ہے۔ اس سے پیداوار کی مجموعی لاگت میں بھی کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں بھارتی مصنوعات/ خدمات گھریلو اوربین الاقوامی مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی ہو جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوگا اور اس سے جی ڈی پی میں 2 فیصد کے اضافے کی امید ہے۔ ٹیکس کی ادائیگی میں بھی آسانی ہوگی کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی سے متعلق تمام خدمات ، جیسے رجسٹریشن ، ریٹرن، ادائیگی وغیرہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم www.gst.gov.in  پر آن۔ لائن دستیاب ہیں۔ اس سےٹیکس دہندگان کے دائرے میں اضافہ ہوا ہے،ٹیکس نظام میں زیادہ شفافیت آئی ہے اور ٹیکس دہندگان اور حکومت کے درمیان انسانی مداخلت میں کمی آئی ہے اور یہ کہ کاروبار میں آسانی میں اضافہ کرتا ہے۔ 

مشقیں

عوامی اشیا حکومت کے ذریعہ ہی فراہم کی جانی چاہئیں، کیوں ؟ تشریح کیجیے۔ 
محاصل اخراجات اور پونجی اخراجات کے درمیان فرق کیجیے۔
مالیاتی خسارے سے حکومت کو قرض کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ سمجھائیے۔
خسارہ محاصل اور مالیاتی خسارے میں تعلق بتا ئیے۔
مان لیجیے کہ ایک خصوصی معیشت میں اصل کاری 200 کے برابر ہے۔ حکومت کی خریداریاں 150ہیں، خالص ٹیکس (یعنی یک مشت ٹیکس سے متبادلات کو گھٹا نے پر )100ہے اور صرف C = 100 + 0.75Yدیا ہوا ہے تو (a) توازن آمدنی کی سطح کیا ہے؟(b)حکومتی خرچ ضارب اور ٹیکس ضارب کی قدروں کا شمار کیجیے (c) اگر حکومت کے اخراجات میں 200 کا اضافہ ہوتا ہے تو توازن آمدنی میں کیا تبدیلی ہوگی؟
ایک ایسی معیشت پر غور کیجیے جن میں درج ذیل تفاعل ہوں ـ:C = 20 + 0.80Y,I = 30, G = 50, TR = 100 (a)آمدنی کی توازنی سطح اور ماڈل میں آزاد خرچ ضارب معلوم کیجیے ۔ (b)اگر حکومت کے خرچ میں 30جوڑ دیا جائے جس سے حکومت کی خریداری میں اضافے کی ادائیگی کی جا سکے ، تو توازن آمدنی میں کس طرح کی تبدیلی ہوگی؟
درج بالا سوال میں متبادلات میں 10 کا اضافہ اور یک مشت ٹیکسوں میں 10کے اضافے کا بر آمد پر پڑنے والے اثر کا شمار کریں۔ دونوں اثرات کا موازنہ کریں۔
ہم ما ن لیتے ہیں کہ C = 70 + 0.70Y D, I = 90, G = 100, T = 0.10Y (a)توازن آمدنی معلوم کیجیے (b) توازن آمدنی پر محاصل کیا ہے؟ کیا حکومت کا بجٹ متوازنی بجٹ ہے؟
مان لیجیے کہ صارف کا حاشیائی رجحان 0.75ہے اور متناسب آمدنی ٹیکس 20 فی صد ہے۔ متوازن آمدنی میں درج ذیل تبدیلیوں کو معلوم کریں (a) حکومت کی خرید میں 20 کا اضافہ (b) متبادلات میں 20 کی کمی ۔
10۔       مطلق قدر میں ٹیکس ضارب سرکاری خرچ ضارب سے چھوٹا کیوں ہوتا ہے؟ وضاحت کیجیے۔
ٍ 11۔      سرکاری خسارے اور سرکاری قرض کاری میں کیا تعلق ہے۔ واضح کیجیے۔
12۔ کیا سرکاری قرض بوجھ بنتا ہے؟ وضاحت کیجیے۔
13۔ کیا مالیاتی خسارہ لازمی طور پر زرا فراطی ہے؟
14۔ خسارے میں کمی کے مسئلے پر بحث کیجیے۔
15۔ جی ایس ٹی سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ جی ایس ٹی نظام پرانے ٹیکس نظام کے مقابلے کتنا بہتر ہے۔ اس کے زمروں کے بارے میں بتائیے۔

مجوزہ مطالعات (Suggested Readings) 

1. Dornbusch, R. and S. Fischer, 1994. Macroeconomics, sixth edition, McGraw-Hill,Paris.
2. Mankiw, N.G., 2000. Macroeconomics, fourth edition, Macmillan Worth publishers,New York.
3. Economic Survey, Government of India, various issues.