
کھلی معیشت Open Economy
کلی معاشیات Macroeconomics
ایک کھلی معیشت وہ ہوتی ہے جو مختلف چینلوں کے ذریعہ دوسرے ملکوں کے ساتھ رابطے رکھتی ہے ۔ اب تک ہم نے اس پہلو ر غور نہیں کیا تھا اور صرف ایک بند معیشت تک ہی محدود رہے تھے جس کا باقی دنیا کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد اپنے تجزیے کو آسان بنانا اور کلی معاشیات کے بنیادی نظام کی وضاحت کرنا تھا۔حقیقی طور پر بہت جدید معیشتیں کھلی ہوتی ہیں۔ تین طریقے ایسے ہیں جن سے رابطے قائم کئے جاتے ہیں۔
1۔ ماحصل کی مارکیٹ Output Market: کوئی بھی معیشت دوسرے ملکوں کے ساتھ اشیا اور خدمات کی تجارت کر سکتی ہے۔ اس سے پسند کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے کیونکہ صارفین اور پیداوار کرنے والوں کے پاس ملکی اور غیر ملکی چیزوں میں کسی کو منتخب کرنے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔
2۔ مالی مارکیٹ Financial Market: اکثر ایک معیشت دوسرے ملکوں سے مالی اثاثے خرید سکتی ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کو ملکی اور غیر ملکی اثاثوں میں کسی ایک کو چننے کا موقع ملتا ہے۔
3۔ محنت کی مارکیٹ Labour Market: فرمیں اس بات کا انتخاب کر سکتی ہیں کہ وہ اپنی پیداوار کہاں کریں او ر ورکر (مزدور) اس کا انتخاب کر سکتے ہیں کہ وہ کہاں کام کریں۔ البتہ کئی امیگریشن قوانین ایسے ہیں جو ملکوں کے درمیان مزدوروں (ورکروں) کی آمدورفت پر روک لگاتے ہیں۔
اشیا کی نقل وحمل روایتی طور پر ورکروں کی آمد ورفت کے متبادل کے طور پر دیکھی جا تی رہی ہے۔ہم پہلے دورایئوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ایک کھلی معیشت ، اس معیشت کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر دوسرے ملکوں کے ساتھ اشیا اور خدمات کی تجارت اور مالی اثاثوں کی تجارت کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستانی شہری ان اشیا کو استعمال کر سکتے ہیں جو دنیا کے دوسرے ملکوں میں تیار کی گئی ہیں اور ہندوستان کی کچھ مصنوعات دوسرے ملکوں کو برآمد کی جاتی ہیں۔
اس لیے ، بیرونی تجارت ، ہندوستان کی اوسط مانگ پر دوطرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔پہلی جب ہندوستانی لوگ غیر ملکی اشیا خریدتے ہیں تو یہ اخراجات آمدنی کے دھارے میں رساو کے مانند ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں اوسط مانگ میں کمی آتی ہے۔ دوسرا یہ کہ بیرونی ملکوں کے لیے ہماری درآمدات اخراجات کے دھارے میں اضافہ کے سبب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں تیار کی گئی اشیا کے لیے مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔
جب اشیا ملکی سرحدوں کے پار جاتی ہیں تو اس کے لین دین کے لیے رقم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔بین الاقوامی سطح پر کوئی ایسی واحد کرنسی نہیں ہے جو کسی واحد بینک کے ذریعہ جاری کی گئی ہو۔غیرملکی اقتصادی ایجنٹ کسی بھی ملک کی کرنسی صرف اسی صورت میں قبول کریں گے جب انھیں اس بات کا اطمینان ہو کہ جس کرنسی کو وہ قبول کر رہے ہیں اس سے وہ اشیا خرید سکتے ہیں اور یہ کرنسی جلد تبدیل نہیں ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں کرنسی ہی ایک مستحکم قوت خرید کوبرقرار رکھ سکتی ہے۔ اعتماد کے بغیر کوئی کرنسی مبادلے کے بین الاقوامی ذریعہ کے طور پر استعمال نہیں کی جاسکتی کیونکہ ایسی کوئی بین الاقوامی اتھارٹی نہیں ہے جس کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ بین الاقوامی لین دین کے لیے ایک خاص کرنسی کے استعمال کے لیے مجبور کر سکے۔
ماضی میں حکومتوں نے یہ اعلان کر کے کرنسی استعمال کرنے والوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کی کہ قومی کرنسی کو ایک مقررہ قیمت پر آسانی سے دوسرے اثاثے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ہی کرنسی جاری کرنے والی اتھارٹی کو اس اثاثے کی قدر پر کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہوگا جس میں کرنسی کو تبدیل کیا جاسکتاہے۔ یہ دوسرا اثاثہ عام طور پر سونا یا کسی دوسرے ملک کی کرنسی ہوتی ہے۔ اس دعوے سے متعلق دو پہلو ہوتے ہیں جس سے اس کی بھروسہ مندی متاثر ہوتی ہے— کسی حد کے بغیر رقم کی تبدیلی اور جس قیمت پر اس کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ان معاملات کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی زری نظام قائم کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی لین دین کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
لین دین کے حجم میں اضافے کے ساتھ ساتھ سونا، ان اثاثوں میں شامل نہیں رہا جس میں قومی کرنسی کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ (دیکھیں) باکس 6.2)۔ البتہ کچھ قومی کرنسیوں کو بین الاقوامی سطح پر قبولیت حاصل ہے اس لیے دوملکوں کے درمیان ہونے والی تجارت میں یہ بات اہم ہے کہ کس کرنسی میں یہ لین دین قابل تبدیل ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر ایک ہندوستانی امریکہ میں تیار کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے تو اسے سودکو مکمل کرنے کے لیے ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ اگر اس شئے کی قیمت 10 ڈالرہے تو اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ ہندوستانی روپے میں اس کی قیمت کیا ہوگی۔ ایک کرنسی کی دوسری کرنسی میں قیمت ہی بیرونی شرح مبادلہ (Foreign Exchange Rate) کہلاتی ہے۔
یا اسے سادہ لفظوں میں شرح تبادلہ کہہ سکتے ہیں۔ ہم اس پر 6.2 کے باب میں تفصیل سے بحث کریں گے۔
6.1: ادائیگی توازن Balance of Payment
توازن ادائیگی (بی او پی) میں کسی ایک ملک کے باشندوں کا باقی دنیا کے ملکوں کے ساتھ اشیا اور خدمات کا لین دین ، خاص طور پر ایک مقررہ وقت کے اندر جو عام طور پر ایک سال ہوتا ہے، کاریکارڈ ہوتا ہے۔ توازن ادائیگی (بی او پی ) میں دو خاص کھاتے ہوتے ہیں، چالو کھاتہ (Current Account) اور پونجی کھاتہ (Capital Account)۔ 1
1 ایک نئی زمرہ بندی کی گئی ہے جس کے تحت توازن ادائیگی کو تین کھاتوں میں تقسیم کیا کیا ہے— چالو کھاتہ، مالی کھاتہ (Financial Account) اور پونجی کھاتہ۔ یہ زمرہ بندی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ذریعہ توازن ادائیگی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری پوزیشن مینوئیل (BPM6) کے چھٹے ایڈیشن نئے اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈ کے مطابق ہے۔ ہندوستان نے تبدیلی کی ہے لیکن ریزرو بینک آف انڈیا پرانی زمرہ بندی میں بھی اکاؤنٹنگ کے اعداد وشمار شائع کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
6.1.1 چالو کھاتہ (Current Account)
چالوکھاتہ اشیا اور خدمات میں تجارت اور متبادل ادائیگی کی تفصیل کا ریکارڈ ہوتا ہے۔تصویر 6.1 میں چالو کھاتے کے اجزا دکھائے گئے ہیں۔ اشیا کی تجارت میں اشیا کی در آمداور برآمد شامل ہوتی ہے۔ خدمات کی تجارت میں عوامل آمدنی (Factor Income) اور غیر عوامل آمدنی (Non Factor Income) شامل ہوتی ہے۔ تبادل ادائیگیاں (Transfer Payments) ایسی وصولیابیاں ہوتی ہیں جو کسی ملک کے باشندوں کو مفت حاصل ہوتی ہیں اور انھیں ان کے بدلے میں حال یا مستقبل میں کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑتی۔ یہ ترسیل، تحائف اورعطیات پرمشتمل ہوتی ہیں۔ یہ کسی حکومت کے ذریعہ یا بیرونی ملک میں رہنے والے کسی نجی شخص کے ذریعہ دی جا سکتی ہیں۔
بیرونی اشیا کی خریداری پر ہمارے ملک کے اخراجات ہوتے ہیں اور یہ بیرونی ملک کی آمدنی ہوتی ہے ۔ اس لیے بیرونی اشیا کی خریداری یا درآمدات سے ہمارے ملک کی اشیا اور خدمات کے مانگ میں کمی آتی ہے۔ اسی طرح بیرونی ملکوں میں اشیا کی فروخت یا برآمدات ہمارے ملک کے لیے آمدنی ہوتی ہیں اور اس سے ہمارے ملک میں اشیا اور خدمات کی اوسط مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔
تصویر6.1: چالو کھاتے کے اجزاء (Components of Curent Account)

چالو کھاتہ
متبادل ادائیگیاں خدمات میں تجارت اشیا میں تجارت
تحائف، ترسیل اور عطیات پر مبنی کل غیر عوامل آمدنی کل عوامل آمدنی اشیاکی برآمد اشیا کی درآمد
چالو کھاتے کا توازن (Balance Current Account):
چالو کھاتہ اس وقت متوازن ہوتا ہے جب چالو کھاتے کی وصولیابیاں ، چالو کھاتے کی ادائیگیوں کے برابر ہوں۔ اضافی چالو کھاتہ (Surplus G A/C) کا مطلب ہے کہ ملک دوسرے ملکوں کو قرض دے رہا ہے اور خسارہ چالو کھاتہ (Deficit Current Account) کا مطلب ہے کہ ملک دوسرے ملکوں سے قرض لے رہا ہے۔
چالو کھاتہ کا خسارہ
Current (Account Deficit
|
متوازن چالو کھاتہ
Balanced Current Account
|
اضافی چالو کھاتہ
Surplus Current account
|
| وصولیابیاں > ادائیگیاں |
وصولیابیاں= ادائیگیاں |
وصولیابیاں< ادائیگیاں |
چالو کھاتے کے توازن کے دواجزا ہوتے ہیں۔
- تجارت کا توازن یا توازن تجارت
- غیر مرئی کا توازن
تجارت کا توازن (Bot):
تجارت کا توازن ایک خاص مدت میں ملک سے کی گئی برآمدات کی قدر اور ملک میں کی گئی درآمدات کی قدر کے درمیان فرق کو کہا جاتا ہے۔ اشیا کی برآمدات کو BoT میں کریڈٹ کے طور پر درج کیا جاتا ہے جبکہ درآمدات کو BoT میں ڈیبٹ کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔ اس کو تجارت کا توازن کہتے ہیں ۔
BoT اس وقت متوازن ہوتا ہے جب اشیا برآمدات ، درآمد کی گئی اشیا کی قدر کے برابر ہو۔ اضافی BoT (Surplus BoT) یا تجارتی اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب ملک اشیا کی برآمدات زیادہ کرتا ہے اور درآمدکم کرتا ہے۔کل غیر مرئی ، دراصل غیر مرئی کی کل برآمدات کی قدر اور غیر مرئی کی کل در آمدات کی قدر کے درمیان اور مخصوص مدت میں فرق کو کہتے ہیں۔ غیر مرئی میں خدمات، متبادل ادائیگیاں اور آمدنی کا پہلو ہوتا ہے جو ملکوں کے درمیان ہوتا ہے۔ خدمات کی تجارت میں عامل اور غیر عامل آمدنی دونوں شامل ہوتے ہیں۔
عامل آمدی میں پیداوری کے عوامل (جیسے مزدوری، زمین اور پونجی) پر ہونے والی کل بین الاقوامی آمدنی شامل ہوتی ہے۔غیر عامل آمدنی میں جہاز رانی ، بینکنگ ، سیاحت، سوفٹ وئیر خدمات وغیرہ کی فروخت سے حاصل ہونے والی کل آمدنی شامل ہوتی ہے۔
6.1.2 پونجی کھاتہ Capital Account:
پونجی کھاتے میں اثاثوں کے تمام بین الاقوامی لین دین کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ اثاثہ کسی بھی ایسی شکل میں ہو سکتا ہے جس میں دولت رکھی جا سکتی ہے، مثال کے طور پر رقم، اسٹاک، بونڈز، سرکاری قرض وغیرہ۔ اثاثوں کی خریداری پونجی کھاتے میں ڈیبٹ میں ظاہر کی جاتی ہے۔ اگر کوئی ہندوستانی ایک برطانوی کا رکمپنی کو خریدتا ہے تو اسے پونجی کھاتے کے ریکارڈ میں ڈیبٹ کے طور پر دکھایا جائے گا (کیونکہ اس میں بیرونی زرمبادلہ ہندوستان سے باہر جارہا ہے) ۔ دوسری جانب اثاثوں کی فروخت جیسے ایک چینی باشندے کو ہندوستانی کمپنی کےحصص کی فروخت، پونجی کھاتے میں کریڈٹ کے زمرے میں درج کی جائے گی۔ تصویر 6.2 میں ان چیزوں کو دکھایا گیا ہے جو پونجی کھاتے میں شامل ہوتی ہیں۔ ان چیزوں میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (FDI) ، بیرونی ادارہ جاتی سرمایہ کاری (FIIS)، بیرونی قرضے اور امداد شامل ہیں۔
تصویر 6.2 پونجی کھاتے کے اجزاء Components of Capital Account

پونجی کھاتہ
بیرونی امداد بیرونی قرضے سرمایہ کاری
مثال: حکومتوں کی امداد مثال: بیرونی پورٹ فولیو سرمایہ کاری راست سرمایہ کاری
بین حکومتی ، کثیر جہتی تجارتی قرضے مثال : ایف آئی آئی مثال:ایف ڈی آئی
اور باہمی قرضے مختصر مدتی قرضے سمندر پار فنڈ حصص میں پونجی
دوبارہ سرمایہ کاری ،
اور دیگر راست پونجی کی آمد
پونجی کھاتے کا توازن Balance of Capital Account :
پونجی کھاتہ اس وقت متوازن ہوتا ہے جب پونجی کی آمد (جیسے بیرونی ملکوں سے قر ض کا حصول، بیرونی کمپنیوں میں حصص یا اثاثوں کی فروخت) پونجی کی نکاسی (جیسے قرضوں کی ادائیگی، بیرونی ملکوں میں اثاثوں یا حصص کی خریداری وغیرہ ) کے برابر ہو۔پونجی کھاتہ میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب پونجی کی وصولی پونجی کی نکاسی سے زیادہ ہو۔ اسی طرح پونجی کھاتے کا خسارہ اس وقت ہوتا ہے جب پونجی کی نکاسی پونجی کی آمد سے زیادہ ہو۔
6.1.3: ادائیگی توازن زائد اور خسارہ Balance of Payment Surplus and Deficit
بین الاقوامی ادائیگی کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے والے کسی شخص کو اثاثے فروخت کرنے یا ادھار لے کر خرچ کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ملک کو بھی جس کے چالو کھاتے میں خسارہ ہوتا ہے (باقی دنیا کو فروخت سے حاصل دولت سے زیادہ بیرونی ممالک میں خرچ کر دیتا ہے) تو اسے اپنے اثاثے فروخت کرکے یا بیرونی ممالک سے قرض لے کر اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مالیاتی بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کسی بھی چالو کھاتہ خسارے کو خالص پونجی بہاو سے مالیاتی انتظام کرنا ضروری ہوتا ہے۔
چالو کھاتہ + پونجی کھاتہ O=
ایسی صورت میں جب کسی ملک کا ادائیگی توازن برابر ہوتا ہے، تو چالو کھاتے کے خسارے کو کسی ریزرو حرکات کے بغیر پوری طرح بین ا لاقوامی قرضوں کے ذریعہ پورا کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس ، ملک ادائیگی کے توازن میں کسی خسارے کو پورا کرنے کے لیے اپنے بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر کو استعمال کر سکتا ہے۔ ریزروبینک اس وقت زر مبادلہ فروخت کرتا ہے جب کہ خسارے ہوتا ہے۔ اسے رسمی ریزرو کی فروخت (Official Reserve Sale) کہا جاتا ہے۔ رسمی ریزور میں کمی (یا اضافہ) کو مجموعی توازن ادائیگی میں خسارہ (یا اضافہ) کہا جاتا ہے۔ بنیادی منطق یہ ہے کہ مالیاتی حکام ہی ادائیگی کے توازن میں کسی خسارے کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں (یا اضافہ کی صورت میں وصول کرتے ہیں)
ہم یہ نوٹ کر سکتے ہیں کہ گھٹتے بڑھتے شرح مبادلہ کی صورت کے مقابلے ایک مقررہ شرح مبادلہ کے دور میں رسمی زیررو لین دین زیاوہ مطابقت رکھتے ہیں۔ (دیکھیں 6.2.2 میں ذیلی سرخی ’’مقررہ شرح مبادلہ‘‘)
آزاد اور تطبیقی لین دین Autonomous and Accommodating بین الاقوامی معاشی لین دین کو اس وقت آزاد کہا جاتا ہے جب یہ لین دین ادائیگی کے توازن کے فرق کو پورا کرنے کی بجائے کسی اور مقصد سے کیے گئے ہوں یا جب وہ ادائیگی توازن (BoP) سے آزاد ہوں۔ اس کا ایک مقصد منافع کمانا بھی ہو سکتا ہے۔ ایسی چیزوں کو BoP میں ’’خط سے اوپر‘‘ کی اشیا کہا جاتا ہے۔ ادائیگی کا توازن اس وقت زائد یا اضافی کہا جاتا ہے جب آزاد وصولیابیاں آزاد ادائیگیوں سے زیادہ ہوں۔
تطبیقی لین دین Accommodating Transactions : دوسری جانب تطبیقی لین دین (’’خط سے نیچے‘‘) کا تعین ادائیگی کے توازن میں فرق سے ہوتا ہے یعنی ادائیگی کے توازن میں خسارہ ہے یا یہ زائد ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان کا تعین آزاد لین دین کے کل مضمرات کے ذریعہ ہوتا ہے چونکہ رسمی ریزرو لین دین BoP میں فرق کو پورا کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں اس لیے انھیں BoPمیں تطبیقی آئیٹم کے طور پر دیکھا جا تا ہے (جبکہ دیگر سبھی آزاد ہوں)۔
خطا اور بھول چوک Errors & Omissions:
تمام بین الاقوامی لین دین کو درست طور پر ریکارڈ کرنا ایک مشکل کام ہے اس لیے ہمارے پاس ادائیگی توازن (BoP) میں تیسرا عنصر (چالو اور پونجی کھاتے کے علاوہ) ہوتا ہے جسے خطا اور بھول چوک کہتے ہیں۔ جدول 6.1 ہندوستان ادائیگی کے تواز ن کا ایک نمونہ فراہم کرتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس جدول میں تجارتی خسارہ اور چالو کھاتے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے لیکن پونجی کھاتہ اضافی (Surplus) ظاہر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں توازن ادائیگی (BoP) متوازن ہے۔
توازن ادائیگی خسارہ
|
توازن ادائیگی متوازن
|
توازن ادائیگی اضافی
|
مجموعی توازن <0
|
مجموعی توازن =0
|
مجموعی توازن >0
|
ریزرو دھنج >0
|
ریزرو دھنج=0
|
ریزرو دھنج <0
|
باکس 6.1 : اوپر دیئے گئے توازن ادائیگی کے کھاتوں میں لین دین کو دوکھاتوں میں تقسیم کیا گیا ہے، چالو کھاتہ اور پونجی کھاتہ۔ البتہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے توازن ادائیگی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری پوزیشن کے چھٹے ایڈیشن میں متعارف کرانے کے اکاؤنٹنگ مینوئل (BPM6) کے نئے معیار کے مطابق ریزروبینک آف انڈیا نے بھی توازن ادائیگی کے کھاتوں کے ڈھانچے میں تبدیلی کی ہے۔ نئی زمرہ بندی کے مطابق لین دین کو تین کھاتوں میں تقسیم کیا گیا ہے: چالو کھاتہ، مالیاتی کھاتہ اور پونجی کھاتہ۔ سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ اب مالیاتی اثاثوں جیسے بونڈ ز اور حصص کی تجارت میں ہونے والے تقریباً سبھی لین کو مالیاتی کھاتے میں رکھا گیا ہے۔ البتہ RBI پرانے نظام کے مطابق بھی توازن ادائیگی کی تفصیل شائع کرتی ہے۔ اسی لیے نئے نظام کی تفصیلات یہاں پیش نہیں کی گئی ہیں۔ یہاں ستمبر2010 میں RBI کے ذریعہ شائع کئے گئے توازن ادائیگی مینوئل برائے ہندوستان کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔
جدول 6.1: ہندوستان کے لیے توازن ادائیگی (ملین امریکی ڈالر میں)
| نمبر |
مندرجات (Items)
|
ملین امریکی ڈالر
|
| 1 |
برآمدات (صرف اشیا کی )
|
450 |
| 2 |
درآمدات (صرف اشیا کی)
|
240 |
| 4 |
تجارتی توازن (2-1)
|
90- |
|
(کل) غیر مرئی (4a+4b+4c)
|
52 |
|
(a) غیر عوامل خدمات
|
30 |
|
(b) آمدنی
|
10- |
|
(c) منتقلی
|
32 |
| 5 |
چالوکھاتہ توازن (3+1)
|
38- |
| 6 |
پونجی کھاتہ توازنe+6f] [6a+6b+6c+6d+6
|
41.15 |
|
(a) بیرونی امداد (کل)
|
0.15 |
|
(b) بیرونی تجارت قرضے (کل)
|
2 |
|
(c) مختصر مدت کے قرض
|
10 |
|
(d) بینکنگ پونجی (کل) جن کا
|
15 |
|
غیر تقسیم جمع (کل)
|
9 |
|
(e)بیرونی سرمایہ کاری جس کا (6eA+6eB) |
19 |
|
A ایف ڈی آئی (کل) |
13 |
|
B پورٹ فولیو (کل) |
6 |
|
ٖF دیگر آمد (کل) |
5- |
| 7 |
خطااور بھول چوک |
3.15- |
| 8 |
مجموعی توازن [7+6+5] |
0 |
| 9 |
ریزرو تبدیلی |
0 |
6.2 ز ر مبادلہ کا بازار The Foreign Exchange Market
ہم نے اب تک مجموعی طور پر بین الاقوامی لین دین پر غور کیا ہے۔ اب ہم واحد لین دین پر غور کریں گے۔ فرض کیجیے کہ ایک ہندوستان شہری تعطیلات گذارنے کے لیے لندن کے سفر پر (سیاحتی خدمات کی درآمد) جانا چاہتا ہے۔لندن میں قیام کے لیے اسے پونڈ میں ادائیگی کرنی ہوگی۔ اسے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوگی کہ پونڈ کہاں سے اور کس قیمت پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پونڈ کے لیے اس کی مانگ سے زر مبادلہ کی مانگ کی تشکیل ہوتی ہے جس کی تکمیل زر مبادلہ کے بازار میں ہوتی ہے۔ یہ زر مبادلہ کا بازار وہ ہے جہاں قومی کرنسیوں کی ایک دوسرے کے لیے تجارت ہوتی ہے۔ اس بازار کے خاص شریک کا ر تجارتی بینک ، زر مبادلہ کے دلال، دیگر مجاز ڈیلر اور زری اتھارٹی ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اگرچہ شرکا کے اپنے تجارتی مراکز ہو سکتے ہیں پھر بھی یہ بازار اپنے آپ میں عالم گیر ہوتا ہے۔یہاں تجارتی مراکز کے درمیان قریبی اورمسلسل ربط قائم رہتا ہے اور شریک کار ایک سے زیادہ بازار میں تجارت کرتے ہیں۔
6.2.1 زر مبادلہ کی شرح Foreign Exchange Rate : زر مبادلہ کی شرح (جسے فوریکس شرح بھی کہا جاتا ہے) ایک کرنسی کی قیمت دوسری کرنسی میں جتنی ہوتی ہے اسے زر مبادلہ کی شرح کہتے ہیں ۔ یہ مختلف ملکوں کی کرنسیوں کو مربو ط کرتی ہے اور بین الاقوامی لاگت اور قیمت کا موازنہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہمیں امریکی ڈالر کے لیے 50 روپے ادا کرنے پڑیں تو شرح مبادلہ فی ڈالر 50 روپے ہوگی۔
مزید آسانی کے لیے فرض کریں کہ دنیا میں امریکہ اور ہندوستان صرف دو ہی ملک ہیں ، اس لیے مبادلہ کے لیے صرف ایک شرح کا تعین کیے جانے کی ضرورت ہوگی۔
زر مبادلہ کے لیے مانگ Demand for Foreign Exchange
لوگ زر مبادلہ کی مانگ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ : دوسرے ملکوں سے اشیا اور خدمات خریدنا چاہتے ہیں؛ دوسرے ملک میں تحفہ بھیجنا چاہتے ہیں؛ کسی خاص ملک کے مالیاتی اثاثے خریدنا چاہتے ہیں ۔
زرمبادلہ کی قیمت میں اضافہ سے (روپے کی مناسبت سے) ایک غیر ملکی اشیا کی خریداری کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔ اس کی وجہ سے درآمدات میں کمی آئے گی اور نتیجے میں زر مبادلہ کی مانگ میں بھی کمی ہوگی (بشرطیکہ دیگر چیزوں میں تبدیلی نہ ہو)
زر مبادلہ کی ترسیل Suply of Foreign Exchange: کسی ملک میں بیرونی کرنسی کی آمد مندرجہ ذیل وجوہات سے ہوتی ہے:کسی ملک کے ذریعہ برآمدات کے نتیجے میں غیر ملکی باشندے گھریلو اشیا اور خدمات کی خریداری کرتے ہیں: غیرملکی منتقلی کے لیے تحفے بھیجتے ہیں؛ ملک کے اثاثے غیر ملکی باشندوں کے ذریعہ خریدے جاتے ہیں۔
زرمبادلہ کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ایک غیر ملکی کے لیے جو ہندوستان کی بنی اشیا خریدتا ہو، لاگت میں (ڈالر میں) کمی ہوگی بہ شرطیکہ دیگر عوامل میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور زر مبادلہ کی سپلائی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوگا۔ (آیا حقیقت میں یہ اضافہ ہوتا ہے اس کا انحصار کئی عوامل پر ، خاص طور پر درآمدات اور برآمدات کی مانگ میں لچک پر ہوگا)
6.2.2: مبادلہ کی شرح کا تعین Determination of the Exchange Rate
مختلف ملکوں میں اپنی کرنسی کی شرح مبادلہ کا تعین کرنے کا الگ الگ طریقہ ہوتا ہے۔ اس کا تعین لچکدار شرح مبادلہ (flexible Exchange Rate) قائم شرح مبادلہ (Fixed Exchange Rate) اور زیر انتظام رواں شرح مبادلہ (Manage of Flexing Exchange Rate) کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔
رواں شرح مبا دلہ کے تحت توزن
لچکدار شرح مبادلہ (Flexible Exchane Rate): یہ شرح مبادلہ مارکیٹ میں مانگ اور سپلائی کی قوت سے طے ہوتا ہے۔ اس کو رواں شرح مبادلہ بھی کہتے ہیں۔جیسا کہ تصویر 6.1 میں دکھایا گیا ہے کہ شرح مبادلہ اس جگہ طے ہوتی ہے جہاں مانگ کا خط سپلائی کے خط کو قطع کرتا ہے یعنی Yaxis پر E پوائنٹ اور X-Axis پر q پوائنٹ۔ اس سے امریکی ڈالر کی مانگ اور e کی شرح پر ہونے والی سپلائی کا اظہار ہوتا ہے— مکمل لچکدار نظام میں مرکزی بینک زر مبادلہ کی مارکیٹ میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔ فرض کریں کہ بیرونی اشیا اور خدمات کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے (مثال کے طور پر ہندوستانیوں کے بین الاقوامی سفر میں اضافے کی وجہ سے) تو ، جیسا کہ تصویر 6.2 میں دکھایا گیا ہے، مانگ کا خط اوپر کی جانب بڑھے گا۔ بیرونی اشیا اور خدمات کی مانگ میں اضافے کے نتیجے میں شرح مبادلہ میں تبدیلی ہوگی۔ ابتدائی طور پر شرح مبادلہ e0=50ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ڈالر کے لیے 50 روپے ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن نئے توازن میں شرح مبادلہ e1=70 ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ایک ڈالر کے لیے زیادہ ادائیگی کرنی ہوگی(یعنی 70 روپے)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے جبکہ روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ مبادلہ کی شرح میں اضافہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی کرنسی (ڈالر) کی قیمت گھریلو کرنسی میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس رجحان کو گھریلو کرنسی میں قدر کی میں کمی (Depreciation) کہا جاتا ہے۔

زر مبادلہ کی مارکیٹ میں درآمدات کی مانگ میں اضافہ کے اثرات
اسی طرح لچکدار شرح مبادلہ کے نظام میں جب گھریلو کرنسی (روپیہ ) کی قیمت بیرونی کرنسی (ڈالر) کی نسبت سے زیاوہ ہوتی ہے تو اسے روپیہ میں اضافہ یا (Appreciation) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈالر کی نسبت سے روپیہ کی قدر میں اضافہ ہوا ہے اور ہمیں ایک ڈالر حاصل کرنے کے لیے کم روپے ادا کرنے ہوں گے۔
سٹے بازاری : بازار میں شرح مبادلہ صرف برآمدات ودرآمدات کی مانگ اور رسد واثاثوں میں اصل کاری پرہی انحصار کرتی ہے ، جہاں زر مبادلہ کی مانگ کرنسی کے قدر میں اضافہ سے حاصل ممکنہ فائدے کے لیے کی جاتی ہے ۔کسی بھی ملک کا زر ایک اثاثہ ہے۔ اگر ہندوستانیوں کو یہ یقین ہوکہ برطانوی پونڈکی قدر میں روپیے کی نسبت اضافہ ہونے کا امکان ہے تو وہ پونڈ کو اپنے پاس رکھنا چاہیں گے۔ مثال کے طورپر اگر چالو شرح مبادلہ 80 روپیے فی پونڈ ہے تو دیگراصل کاروں کو یہ یقین ہے کہ ماہ کے آخر تک پونڈ کی قدر میں اضافہ ہونے کا امکان ہے جو85 روپیے فی پونڈ تک ہوسکتا ہے تو سرمایہ کاریا اصل کار یہ سوچیں گے کہ اگر وہ 80,000 روپیے لگا کر 1000 پونڈ خرید ے گا تو ماہ کے آخر میں وہ اسے 85,000 روپیے میں فروخت کر5,000 روپیے کا منافع کمائے گا ، اس تصور سے پونڈ کی مانگ بڑھے گی اوراس سے روپیہ پونڈ شرح مبادلہ میں اضافہ ہوگا جس سے اس کا یقین واعتماد خود بخودسچ ثابت ہوتا ہے ۔
درج بالا تجزیے میں یہ مان لیا جاتا ہے کہ شرح سود ، آمدنی اور قیمت پرقائم رہتی ہے ، تاہم ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے اور اس سے زر مبادلہ کی مانگ اوررسد خط شفٹ ہوں گے۔
شرح سود اور شرح مبادلہ : قلیل مدت میں شرح مبادلہ کے تعین میں ایک دوسراعامل بھی اہم ہوتا ہے جسے شرح سود تفر قی کہتے ہیں یعنی ملکوں کے درمیان شرح سود میں فرق ہے بینک ، کثیر قومی کارپوریشن ا ور دولت مند افراد بہت بڑے فنڈ کے مالک ہوتے ہیں جو اونچی شرح سود کی تلاش میں پوری دنیا میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اگر ہم فرض کریں کہ کسی ملک A میں سرکاری بانڈپر شرح سود 8 فی صد ہے جب کہ اسی طرح کے محفوظ بانڈ پر دوسرے ملک B میں 12 فی صد کی آمدنی ہوتی ہے تو شرح سود تفرقی2 فی صد ہوگا۔ ملک A کے اصل کار ملک کی اعلی شرح سود کی طرف راغب ہوں گے اوراپنے ملک کی کرنسی کو فروخت کرکے ملک B کی کرنسی کی خرید کریں گے ۔ اس صورت میں ملک B کے اصل کاربھی اپنے ملک میں اصل کاری کرنا چاہیں گے اورملک A کی کرنسی کی کم مانگ کریں گے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک A کی کرنسی قدر میں کمی اورملک B کی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوگا ۔لہذا کسی ملک کے داخلی شرح سود میں اضافہ سے گھریلو کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوگا ۔ یہاں یہ مان لیا جاتا ہے کہ غیر ممالک کی حکومتوں کے ذریعہ یا مانڈوں کی خرید پر کسی طرح کی پابندی نہیں لگائی گئی ہے ۔
آمدنی اور شرح مبادلہ : جب آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے تو صارف کے خرچ میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور درآمدشدہ اشیا پر اخراجات میں بھی اضافہ کا امکان رہتا ہے۔ جب درآمد بڑھتی ہے تو زر مبادلہ کا خط طلب دائیں طرف شفٹ ہوتا ہے۔ اس سے گھریلو کرنسی کی قد ر میں کمی ہوتی ہے۔ اگر غیر ملکی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ تو گھریلو بر آمدمیں اضافہ ہو گا جس سے زر مبادلہ کی خط رسد باہر کی طرف شفٹ ہوگی۔ تو ازن کی صورت میں گھریلو کرنسی کی قدر میں کمی، نفی یا اثبات ہی ہوسکتی ہے اورنہیں بھی۔ یہ اس پر منحصر ہو گا کہ کیا بر آمد در آمد سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ عام طورپر دیگر باتیں پہلے جیسی رہنے پر وہ جس کی کل مانگ باقی دنیا کے مقابل زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اکثر اس کر نسی کی قدر میں برآمد سے در آمد میں زیادہ اضافے کے سبب کمی ہوتی ہے اس لیے غیر ملکی کرنسی کا خط طلب خط رسد سے زیادہ تیزی سے شفٹ ہوتا ہے ۔
طویل مدت میں شرح مبادلہ :طویل مدت میں لچک دار شرح مبادلہ نظام میں شرح مبادلہ کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے لیے قوت خرید معدلت (PPP) نظریے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق جب کوئی تجارت کی بند شیں ٹارف ( تجارتی ٹیکس )اور کوٹہ (درآمد کی مقدار کی مد) نہیں ہوں گی۔ توشرح مبادلہ از خود تطبیق ہوجائے گی ۔ اس سے ایک طرح کی پیداوار کی لاگت خواہ ہندستان میں روپیوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ڈالر میں جاپان میں رہن میں کیوں نہ ہو ، ایک جیسی ہی ہوں گی صرف نقل وحمل کے خرچ میں ہی فرق ہوگا۔طویل مدت میں کبھی دو ملکوں کی کرنسیوں کے درمیان شرح مبادلہ کے تطابق سے دو نوںملکوں کی سطح قیمت کے فرق کا پتہ چلتا ہے۔
مثال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔6.1
اگر ایک قمیص کی لاگت امریکا میں 8 ڈالر اورہندوستان میں 400 روپیے ہے تو روپیہ ڈالر کا شرح مبادلہ 50 روپیے ہوگا ۔ اب 50 روپیے سے زیادہ کسی بھی شرح کو دیکھنے کے لیے ہم 60 روپیے لیتے ہیں ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا میں ایک قمیص کی لاگت 480 روپیے اورہندوستان میں صرف 400 روپیے ہے تو اس صورتمیں بھی غیر ملکی صارف ہندوستان سے قمیص خریدیں گے اسی طرح فی ڈالر 50 روپیے سے کم کسی بھی شرح مبادلہ پر قمیصوں کی کل تجارت امریکا کیپاس چلی جائے گی۔اب ہم فرض کرتے ہیں کہ ہندستان میں قیمت میں 20 فی صد کا اضافہ ہوتا ہے جب کہ امریکا میں 50 فی صد کا ہوتا ہے ۔ اب ہندستان میں ایک قمیص کی لاگت 480 روپیے ہے جب کہ امریکا میں 12 ڈالر ہوگی ۔ ان دونوں قیمتوں میں مماثلت یایکسانیت نہیں ہوگی۔ جب 12 ڈالر کی قدر 480 روپیے یا ایک ڈالر کی قدر 40 روپیے ہوگی ، لہٰذا ڈالر کی قد ر میں کمی ہوئی ۔
قائم شرح مبادلہ (Fixed Exchange Rates) : شرح مبادلہ کے اس مقام میں حکومت ایک خاص سطح پر شرح مبادلہ طےکرتی ہے۔ تصویر 6.3 میں مارکیٹ شرح مبادلہ طے کرتی ہے جو e ہے۔ لیکن ہم فرض کریں کہ کس خاص وجہ سے ہندوستانی حکومت برآمدات کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے جس کے لیے اسے غیر ملکیوں کے لیے روپیہ کو سستا کرنا ہوگا۔ حکومت زیادہ شرح مبادلہ طے کرکے یعنی موجودہ 50 روپے فی ڈالر سے بڑھا کر 70 روپے فی ڈالر کی شرح مقرر کر دیتی ہے۔ اس طرح یہ نئی شرح حکومت کی طے شدہ ہوگی اور اس میں e1 میں e1>e. ہوگا۔اس صورت حال میں ڈالر کی سپلائی میں اس کی مانگ سے زیادہ اضافہ ہوگا۔ RBI زر مبادلہ کی مارکیٹ میں ڈالر کی زیادہ سپلائی کو ختم کرنے کے لیے مداخلت کرتی ہے جسے تصویر میں AB سے ظاہر کیا گیا ہے۔ اس طرح حکومت معیشت میں کوئی بھی شرح مبادلہ کو برقرار رکھ سکتی ہے۔لیکن یہ صرف اس وقت تک ہی زیادہ سے زیاوہ بیرونی زرمبادلہ کو ختم کر ے گی جب تک کہ اس کی مداخلت جاری رہے گی۔ دوسری جانب جب حکومت کو کسی ایک سطح پر مبادلہ کی شرح مقرر کرنی ہوتی ہے، جیسے e2 پر ، تو اس صورت میں زرمبادلہ کی مارکیٹ میں ڈالر کے لیے زیاوہ مانگ پیدا ہوگی۔ ڈالر کی زیادہ مانگ کو پورا کرنے کی خاطر حکومت کو اپنے ڈالر کے ذخائر سے کچھ ڈالر جاری کرنے ہوں گے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس صورت میں ڈالر کی بلیک مارکیٹ ہونے کا اندیشہ ہوگا۔
ایک مقررہ شرح مبادلہ نظام میں جب حکومت کے کسی اقدام سے شرح مبادلہ میں اضافہ ہوتا ہے (جسے گھریلو کرنسی کی قیمت کم کرکے) تو اسے قدر میں کمی (Devaluation) کہا جاتا ہے۔ دوسری جانب Revaluation قدر میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب حکومت شرح مبادلہ کم کر دیتی ہے (جس سے گھریلو کرنسی مہنگی ہو جاتی ہے)
6.2.3: لچکدار اور مقررہ زر مبادلہ کے فوائد اور نقصان (merits of devaluation of flexible and fixed exchange rate system)
قائم شرح مبادلہ کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس بات کا پورا بھروسہ ہونا چاہئے کہ حکومت شرح مبادلہ کو ایک مقررہ سطح پر قائم رکھنے کی اہل ہوگی۔ اکثر جب قائم شرح مبادلہ کے نفاذ میں توازن ادائیگی کا خسارہ ہوتا ہے تو اس صورت میں حکومت کو اس خسارہ کو پورا کرنے کے لیے اپنے سرکاری ذخائر کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ ذخائر کی مقدار ناکافی ہے تو وہ مبادلہ کی شرح کو اپنی جگہ قائم رکھنے کی حکومت کی صلاحیت پر شبہ کرنے لگیں گے۔ اس کی وجہ سے سٹہ بازی اور قدر میں کمی کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ جب اس خیال کی وجہ سے کسی ایک کرنسی کی خریداری میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جسے کسی ایک کرنسی پر سٹہ بازی کا حملہ کہا جاتا ہے تو حکومت مجبوراً کرنسی کی قدر میں کمی کرنی پڑتی ہے۔ قائم شرح مبادلہ کے نظام میں اس طرح کے حملے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جیساکہ Bretton Woods نظام کے ناکام ہونے سے پہلے دیکھا گیا تھا۔
لچکدار شرح مبادلہ کا نظام حکومت کو زیاوہ لچک فراہم کرتا ہے اور حکومتوں کو بیرونی زر مبادلہ کے وسیع ذخائر رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لچکدار شرح مبادلہ کا ایک بڑ ا فائدہ یہ ہے کہ شرح مبادلہ میں کمی بیشی توازن ادائیگی میں اضافے یا خسارے کو خود بخود پورا کرتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ملکوں کو اپنی مالی پالیسیاں مرتب کرنے میں زیادہ آزادی حاصل رہتی ہے کیونکہ انھیں شرح مبادلہ کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کی غرض سے مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی جو خود بخود مارکیٹ کے ذریعہ ہوتی رہتی ہے۔

بیرونی زر مبادلہ کی مارکیٹ جس میں شرح مبادلہ قائم ہے
6.2.4 زیر انتظام روانی (Managed Floationg)
کسی رسمی بین الاقوامی معاہدے کے بغیر دنیا میں بہتر زر مبادلہ نظام کا وجود میں آیاجسے بہتر طورپر زیرانتظام رواں یاآزاد شرح مبادلہ نظام کہا جاسکتا ہے۔ یہ لچک دار شرح مبادلہ نظام ( رواں حصہ ) ا ور قائم شرح نظام (زیر انتظام حصہ ) کی آمیزش ہے ، نا پسندیدہ روانی (dirty floating) نامی اس نظام میں مرکزی بینک شرح مبادلہ کو لچک دار بنانے کے لیے جب ایسے کام کو مناسب سمجھتا ہے توغیر ملکی کرنسی کی خرید وفروخت کرکے مداخلت کرتا ہے ، لہذا مجاز محفوظ لین دین صفرکے برابر نہیں ہوتی ہے ۔
6.2 شرح مبادلہ انتظامیہ : بین الاقوامی تجربہ (Exchange Rate Management: The International Experience)
سونا معیار : تقریبا 1870 سے 1914 کے دوران پہلی عالمی جنگ برپا ہونے تک سونا معیار ہی رائج تھا جو قائم شرح مبادلہ نظام کا خلاصہ تھا ۔سبھی کرنسیاں سونے کے طورپر متعین کی جاتی تھیں ۔ درحقیقت کچھ تو سونے کی بنی ہوتی تھیں۔ ہر ایک شریک ملک ایک مقررہ قیمت پراپنے زر کو آزاد انہ طورپر تبدیل کی گارنٹی دینے کے لیے وقف تھا ۔ اس کامطلب یہ تھا کہ ہر ایک ملک کے باشندے اپنے ملک کی گھریلو کرنسی کا دوسرے اثاثے ( سونا ) کی شکل میں ایک مقررہ قیمت پر آزاد انہ تبادلہ کرسکتے تھے اورسونا بین الاقوامی ادائیگی کے طورپر قابل قبول تھا ۔ اس سے یہ بھی ممکن ہوا کہ ایک مقررہ قیمت پر ہر ایک ملک کی کرنسی دوسری کسی بھی کرنسی کی شکل قابل تبادلہ بن گئی ۔ شرح مبادلہ کا تعین سونے کی شکل میں اس کرنسی کی قدر کے ذریعہ ہوتا تھا ( جہاں سونے کی ہی کرنسی ہوتی تھی ، وہاں اس کی حقیقی سونے کی مقدار ہوتی تھی)۔ بطورمثال کرنسی کی ایک اکائی کی قد ر ایک گرام سونا تھا اورکرنسی B کی قدر کرنسی A کی قدر کی دوگنی ہوتی تھی ۔ معاشی ایجنٹ براہ راست کرنسی B کی ایک اکائی کو کرنسی Aکی 2 اکائی کے طورپر بدل سکتا تھا ۔ اس لیے انھیں پہلے سونا خریدنے اوراسے فروخت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ۔شرحوں میں ایک اوپری حد اور نچلی حد کے درمیان اتار چڑھائو ہوتا رہتا تھا ۔شرحوں کا تعین دونوں کرنسیوں کے تیار ہونے میں آنے والی لاگت کے فرق کے ذریعہ ہوتا تھا ۔جن میں ان کے پگھلانے ، جہازرانی اورسکوںکی ڈھلائی کی لاگت شامل تھی ۔3 مجاز ہم سطح کو بنائے رکھنے کے لیے ہر ایک ملک کو سونے کے اسٹاک کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی تھی۔
سونے کے معیار کی صورت میں سارے ملکوں کا شرح مبادلہ قائم تھا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ بہت زیادہ درآمد کرنے پر کیا کوئی اپنے سونے کے سارے اسٹاک کو ختم نہیں کردے گا ۔( ادائیگی توازن میں خسارے ہونے پر) تجارت 4 کی توضیح اس طرح تھی کہ جب تک ریاست ٹارف ، کوٹہ یابرآمدات پرسبسڈی کے طورپر مداخلت نہیں کرے گی۔ تب تک وہ ملک اپنے سونے کو ختم کردے گا او روہ زوال کا شکار ہوجائے گا۔ دیوڈ ہیوم ایک مشہور فلسفی تھے جنھوں نے 1752 میں اس رائے کی تردید کی اوربتایا کہ اگر سونے کے ذخیرے میں کمی ہوتی ہے تو سبھی طرح کی قیمتوں اورلاگت بھی متناسب طورپر گریں گی اور اس سے ملک میں کسی کو بھی خراب صور ت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ گھریلو اشیا سستی ہوجانے پردرآمدکم ہوگا اوربرآمد بڑھے گا ۔( یہ حقیقی شرح مبادلہ ہے جس سے مسابقت کا تعین ہوگا ) جس ملک سے ہم درآمد کررہے تھے اورسونے میں اس کی ادائیگی کررہے تھے اس کی قیمتوں اور لاگتوں میں اضافہ کا سامنا کرناپڑے گا۔لہذا ان کی مہنگی برآمد کم ہوگی اور پہلے والے ملک سےسستی اشیا کی درآمد بڑھے گی۔ اس جنس زر بہاو کے نظام قیمت ( اٹھارھویں صدی میں قیمتی دھاتوں کو سونا چاندی بھی کہتے تھے ۔) کا نتیجہ عام پر سونے کا نقصان اٹھاکر ادائیگی توازن میں بہتری لانا ہوتا ہے اوراضافی قیمت پر جب تک بین الاقوامی تجارت میں توازن از سر نو قائم ہوتا تب تک مخالف تجارتی توازن والے ملک کے ادائیگی توازن کو مساوی لے آتا ہے ۔ اس توازن سے مزید سونے کا بہاو نہیں ہوتا اور برآمد ودرآمد میں توازن بنا رہتا ہے ۔بغیر کسی ٹارف اورریاست کی کارروائی کی ضرورت کےمستحکم اورخوداصلاحی توازن قائم رہتا ہے ۔ اس طرح خود کار توازن کا ر میکانیت کے ذریعہ مقررہ یاقائم شرح مبادلہ کو برقرار رکھا جاتا تھا ۔
اگر شرح میں فرق ان لین دین کی لاگتوں سے زیادہ ہوتو فائدہ من مانے طریقے سے ہو سکتا ہے۔ کرنسی کو سستی شرح پر خریدنے اور آسان طریقے سے فروخت کرنے کے عمل میں ہے۔
تجارت فکر کا جڑ 16ویں اور 17ویں صدی میں قومی یاریاست کے ظہور کے ساتھ ہوا۔
سونا معیار کو وقتاً فوقتا ًکئی بحران کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں یہ نظام ختم ہوگیا ۔ اس کے علاوہ دنیا میں قیمت کی سطح سونے کی دریافتوں کے رحم وکرم پر ہواکرتی تھی ۔ اس کی تشریح زر کا خام مقدار نظر یہ (Crude Quantity Theory of Money)یعنی M=kPY بنیاد پر کیا جاسکتا ہے ۔ اس نظریے کے مطابق اگر پیداوار ( کل گھریلو پیداوار ) میں ہر سال 4 فی صد کا اضافہ ہوتا ہے تو قیمت کو مستحکم بنائے رکھنے کے لیے ہر سال سونے کی فراہمی میں 4 فی صد کاا ضافہ ضروری ہوگا ۔ کانوں سے اتنی مقدار میں سونے کی پیداوار نہیں ہونے سے 19 ویں صدی کے آخری نصف میں پوری دنیا میں سطح قیمت میں گراوٹ پیداہوتی جس سے سماج میں بے اطمینانی بڑھ گئی۔ ایک وقت تو سونے کے متبادل یاتکملہ کے طورپر چاندی کا استعمال شروع ہو ااسے ’’دو دھاتیت ‘‘کہا گیا۔ سونے کے خرچ کو کم کرنے کے لیے کسری ریزور بینکنگ سے بھی مدد ملی ۔ کاغذی کرنسی کو سونے کی پوری تائید حاصل نہیں تھی ۔ چندمخصوص ملکوں میں ہی ایک چوتھائی سونا کاغذ ی کرنسی کے بدلے رکھا جاتا تھا ۔سونے کی کے صرفہ کو کم کرنے کا دوسرا طریقہ سونا مبادلہ معیار کو کئی ملکوں میں قبول کیا گیا ۔ اس طریقے میں سونے کے لحاظ سے قائم قیمتوں پر کرنسی کا مبادلہ کیا جاتا ہے ، لیکن اس کے لیے سونے کی تھوڑی مقدار یاکچھ بھی مقدار نہیں رکھی جاتی ۔سونے کے بدلے وہ کسی بڑے ملک (ریاست ہائے متحدہ یابرطانیہ ) کی کرنسی رکھتے تھے جو سونے کے معیار پر مبنی تھی۔ ان سے اور کلونڈک نیز جنوبی افریقہ میں سونے کی تلاش سے 1929 تک تقلیل کو دور رکھنے میں مد د ملی۔بعض معاشی مؤرخین اس سیاست کی کمی کے لیے عظیم کساد بازاری کو ذمہ دار مانتے ہیں ۔ 1914-45 کے دوران کسی بھی طرح کا ہمہ گیر نظام رائج نہیں رہا لیکن اس مدت میں سونا معیار کی طرف جھکاو اورلچک دار شرح دونوں کا رواج رہا۔
بریٹن ووڈس نظام : 1944 میں بریٹن ووڈس کانفرنس میں بین الاقوامی زری فنڈ (IMF) اور عالمی بینک کا قیام عمل میں آیا اورقائم شرح کا نظام دوبارہ قائم ہوا۔ اثاثوں کے انتخاب کے طورپر یہ بین الاقوامی سونا معیار سے مختلف تھا جس میں قومی کرنسی کو قابل بدل بنایا گیا ۔کرنسی کی تبدلی کادو سطحی نظام قائم کیا گیا جس کے مرکزمیں ڈالر کو رکھا گیا ۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے زریاختیاریوں کے ذریعہ 35 ڈالر فی اونس سونا کی قائم سطح پر ڈالر کے سونے میں تبدیلی کی گارنٹی فراہم کی گئی ۔ اس نظام کی دوسری سطح میں بین الاقوامی زری فنڈکے تئیں ہر ایک ممبر ملکوں کے زری اختیار یہ کی پیمان وابستگی تھی جس کے تحت وہ اپنی کرنسی کو ایک مقررہ سطح پر ڈالر میں تبدیل کرنا چاہتے تھے ۔ اس دوسری سطح کو مجاز شرح مبادلہ (official exchange rate) کہا گیا ۔بطور مثال اگر فرانس کی کرنسی فرنک کا 5 فرنک فی ڈالر کے طورپر مبادلہ کیا جاسکتاتھا اور 35 ڈالر فی فرنک کی قدر 175 فرنک فی اونس سونے کی شرح پر متعین کی جاتی تھی۔ (5 فرنک فی ڈالر ضرب 35 ڈالر فی اونس) شرح مبادلہ میں تبدیلی کی اجازت صرف ملک کے ادائیگی توازن میں بنیادی عدم توازن کی صورت میں ہی دی جاتی تھی ،جس کا مطلب ادائیگی میں کافی تناسب میں خسارہ ہونا ہے ۔
یہاں تبدیلی کے ایسے جامع نظام کی ضر ورت تھی کیونکہ مختلف ملکوں میں سونے کامحفوظ ذخیرہ ایک جیسا نہیں تھا ۔ مجاز سونے کے محفوظ ذخیرہ کا 70 فی صد ریاست ہائے متحدہ امریکا کے پاس تھا لہٰذا دیگر کرنسیوں کی قابل اعتماد تبدیلی کے لیے سونے کے ذخیرہ کی تقسیم نو کی ضرورت ہوتی ۔ اس کے علاوہ یہ یقین کیا جاتا تھا کہ بین الاقوامی سیالیت کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پو را کرنے کے لیے موجودسونے کا ذخیرہ ناکافی تھا۔سونے کے ذخیرے کی حفاظت کا ایک طریقہ دو سطحی تبدیلی کاطریقہ تھا جس میں کلیدی کرنسی کی تبدیلی سونے میں اور دیگر کرنسیوں کی تبدیلی کلیدی یا اصل کرنسی میں ہوتی تھی ۔
دوسری عالمی جنگ کے بعدجنگ میں تباہ ممالک کی تعمیر نو کے لیے بہت زیادہ وسائل کی ضرورت تھی ۔اس طور درآمد میں اضافہ ہوا اورخسارے کے حوالے سے مالیاتی انتظام کے لیے محفوظ فنڈ کا استعمال کیا گیا ۔ایسے ملکوں میں اس وقت ریاست ہائے متحدہ کی کرنسی ڈالر کا استعمال باقی دنیا کے ملکوں میں محفوظ فنڈ کے طورپر ہوتا تھا ۔ریاست ہائے متحدہ میں تواتر ادائیگی توازن خسارے کے نتیجے میں اس محفوظ فنڈ میں اضافہ ہوا (دیگر ملک اپنی کرنسی اورڈالر کے درمیان تبدیلی کو بنائے رکھنے کے اپنے پیمان وابستگی کے سبب محفوظ اثاثے کے طورپر ڈالر کا ذخیرہ کرنا چاہتے تھے۔)
اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر ریاست ہائے متحدہ کے قلیل مدتی ڈالر واجبات میں سونے کے ان کے ذخیرہ کی نسبت اضافہ متواتر جاری رہتا تو اس کی قائم مقام قیمت پر ڈالر کے سونے میں تبدیلی کی امریکی پیمان وابستگی کے تئیں معتبر یت نہیں رہ جاتی ۔اس طرح مرکزی بینک کے پاس موجود ڈالر کی حاملیت کو سونے میں تبدیلی کے لیے کافی حوصلہ افزائی ہوتی اوراس سے ریاست ہائے متحدہ کو اپنی پیمان وابستگی تر ک کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ۔ اسے بریٹن ووڈس طریقہ کے اہم ناقد ’’ر ابرٹ ٹریفن ‘‘کے نام پر ٹریفن تعطل (Triffin Dilemma) کہا جاتا ہے ۔ ٹریفن نے صلاح دی کہ بین الاقوامی زری فنڈ کو مرکزی بینکوں کے جمع بینکوں میں بدل دینا چاہیے اور نئے محفوظ اثاثے کی تخلیق بین الاقوامی زری فنڈ کے کنٹرول میں کرنی چاہیے۔1967 میں مخصوص حق حصول Special Drawing Rights (SDRs) کی تخلیق کے ذریعہ سونا تقسیم ہو گیا ۔بین الاقوامی محفوظ اسٹاک میں اضافہ کرنے کے مقصد سے مخصوص حق حصول کو بین الاقوامی کرنسی کے طورپر ’’کاغذی سونا ‘‘کے طورپر بھی جانا جاتا ہے ، سونے کے طورپر تعریف میں SDRs 35, کو ایک اونس سونا ( بریٹن ووڈس طریقۂ کار کی شرح ڈالر سونا) کی طرح مانا گیا ۔ 1974 سے اس کی تعریف کئی بار از سرنو کی گئی ہے ۔ اس وقت اس کا شمار پانچ ممالک ( فرانس ، جرمنی ، جاپان ، برطانیہ اورامریکا) کی چارکرنسیوں (یورو، ڈالر ، جاپانی ین، پاؤنڈ،اسٹرلنگ ) کے ڈالر میں قدوں کی جمع وزنیت کے طورپر کیا جاتا ہے ۔ بین الاقوامی زری فنڈ کے ممبر ملکوں کے ذریعہ محفوظ کرنسی کے طورپر قومی کرنسیوں کے مبادلے کے لیے مرکزی بینکوں کے درمیان ادائیگی کے ذرائع کے طورپر اس کا استعمال کیے جانے سے اسے قوت حاصل ہوتی ہے ۔خاص حق محصول کی اصل قسطوں کی تقسیم ممبر ملکوں کے درمیان فنڈ ( کو ٹا کا تعلق ملک کی معاشی اہمیت سے تھا ، جس کا اشارہ اس کی بین الاقوامی تجارت کی قدر سے ملتا تھا) میں ان کے کوٹے کے مطابق کیا جاتا تھا ۔
بریٹن ووڈس نظام کے تعطل کے پہلے کئی واقعات ہوئے جیسے 1967 میں پونڈکی کم قدری ، 1968 میں ڈالر سے سونے کی طرف فرار سے دوسطحی سونا بازار ( مجاز شرح 35 ڈالر فی اونس سونا تھی اور نجی شرح کا تعین بازار کے ذریعہ ہوتا تھا) کی تخلیق اور آخرمیں اگست 1971 میں برطانیہ نے مانگ کی کہ امریکا اپنے ڈالر کے حاملیت فنڈ کے سونا قدر کی گارنٹی دے،اس سے امریکا نے ڈالر اورسونے کے درمیان کے تعلق کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ۔
1971 میں اسمتھ سو نین معاہدے سے شرح مبادلہ میں نئی مرکزی شرح سے 2.5 فی صد اوپر یا نیچے تک کی حرکات کا روابینڈ کو وسعت ملی۔ اس سے یہ امید کی گئی کہ خسارے والے ملکوں پر دباوکم ہوگا ۔یہ صرف 14 سالوں تک چلا ۔ترقی یافتہ بازار معیشت جس کی قیادت متحدہ مملکت (UK) اوربعد میں سوئزر لینڈ اور پھر جاپان میں رواں (آزاد) شرح مبادلہ کو 1970 کی دہائی میں قبولیت ملی۔ 1976میں بین الاقوامی زر فنڈ کے آرٹیکل کے جائز وں سے ملکوں کو اپنی کرنسیوں کو آزاد رکھنے اورانھیں مقررکرنے یا وابستہ کرنے کی اجازت ملی ۔ ( ایک واحد کرنسی ، کرنسیوں کا مجموعہ یاخاص حق محصول (SDR )مقررہ شرحوں کے لیے کوئی اصول نہیں اوردر حقیقت آزاد شرح مبادلہ کی نگرانی کے لیے بھی کوئی اصول نہیں ہے ۔
موجودہ تناظر : اس وقت کئی ملکوں میں قائم شرح مبادلہ ہے۔ بعض ممالک اپنی کرنسیوں کو ڈالر میں مقررکرتے ہیں ۔جنوری 1999 میں یوروپی زری یونین کی تخلیق سے یونین کے ممبر وں کی کرنسیوں کے درمیان شرح مبادلہ مستقل طورپر متعین ہوا اورایک نئی یکساں کرنسی یورو کو یوروپی مرکزی بینک کے زیر انتظام جاری کیا گیا ۔جنوری 2002 سے حقیقی نوٹ اورسکے چلائے گئے ۔اب تک 25 میں 12 یوروپی یونین کے ممبروں نے یورو کو اپنا یا ہے ۔ چندملکوں نے اپنی کرنسی کو فرانس کے فرنگ میں مقرر کیا ہے ، جس میں ان کی تجارت کی ترکیب منعکس ہوتی ہے لہذا چھوٹے ملک بھی ایک اہم تا جرانہ شراکت دارکے لحاظ سے اپنی شرح مبادلہ متعین کرنے کا فیصلہ لیتے ہیں۔بطورمثال ارجنٹینا نے 1991 میں کرنسی بورڈ نظام اپنا یا جس کے تحت مقامی کرنسی اورڈالر کے درمیان قانون کے ذریعہ شرح مبادلہ طے کیا گیا ۔ مرکزی بینک اپنی جاری گھریلو کرنسی اور محفوظ فنڈ کے بدلے کافی غیر ملکی کرنسی اپنے پاس رکھتا ہے ۔ ایسے بند وبست میں کوئی ملک اپنی خواہش سے کرنسی کی رسد میں توسیع نہیں کرسکتا ۔ اگر کوئی گھریلو بینکنگ بحران ( جب بینکوں کو گھریلو کرنسی اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے) ہوتا ہے تو مرکزی بینک قرض کا آخری ذریعہ نہیں بن سکتا لیکن بحران کے بعد ارجنٹینا نے کرنسی بورڈ کو ترک کردیا اورجنوری 2002 میں اپنی کرنسی کو آزاد کردیا ۔
2000 میں اکیویڈور نے ڈالر ایزیشن کا نیا بندوبست اپنا یا اور گھریلو کرنسی کو چھوڑکر ریاست ہائے متحدہ امریکا کے ڈالر کو قبول کیا ۔ ساری قیمتیں ڈالر میں رکھی گئیں اورمقامی کرنسی میں لین دین بند ہوگیا ۔ اگر چہ غیر یقینی صورت حال اور دشوار ی سے بچاجاسکتا ہے ، لیکن اکیویڈور نے اپنی زر رسد کا کنٹرول امریکہ کی مرکزی بینک فیڈرل ریزروکو دے دیا ہے اوراس طرح وہ ریاست ہائے متحدہ کی معاشی حالتوں پر مبنی ہوگا ۔
مجموعی طورپر اب بین الاقوامی نظام کی خصوصیات کا تعین کثیر نظام کے طورپر کیا جاسکتا ہے ۔ زیادہ تر شرح مبادلہ میں دن بہ دن ان کی بنیاد پر تھوڑی تبدیلی ہوتی ہے اوربازار کی طاقتیں عام طورپر بنیادی رجحانات کا تعین کرتی ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ بھی شرح مبادلہ میں زیادہ استحکام کی وکالت کرتے تھے ۔ انھوں نے یہ بھی تجویز رکھی کہ عام طورپر حکومت کو مخصوص امیج میں شرح متعین کرنی چاہیے۔ نوعیت کے اعتبار سے ، سونے کاکردار عملاً ختم سا ہوگیا ہے اس کی جگہ پر ایک ایسا آزاد بازار جس میں سونے کی قیمت کا تعین سونے کی مانگ اوررسد جو بطور خاص زیورفروشوں، صنعتی استعمال کنندگان دانت کے ڈاکٹروں ، اسپیکولیٹرزاورعام شہریوں سے ہوتا ہے جو یہ مانتے ہیں کہ سونا قدر کا ایک اچھا ذخیرہ ہے ۔
خلاصہ
1 ۔ پیداوار اور مالیاتی بازار میں کھلے پن سے ملکی اشیا کے درمیان ملکی اورغیرملکی اثاثوں کے درمیان انتخاب کی گنجائش ہوتی ہے ،
2 ۔ ادائیگی توازن میں کسی ملک کا باقی دنیا کے ساتھ لین دین کا ذکر ہوتا ہے ۔
3 ۔ چالو کھا تہ بقایا مال کی تجارت ، پونجی کھاتہ بقایا دنیا میں ہو نے والے پونجی بہاو ، باقی دنیا کو ہونے والے بہاو کے منفی کے برابر ہوتا ہے۔
4 ۔ چالو کھاتہ کے خسارے کو غیر ملکوں سے حاصل خالص پونجی بہاؤ سے مالی انتظام کیا جاتا ہے ، جس طرح پونجی کھاتہ زائد سے ۔
5 ۔ زری شرح مبادلہ ملکی کرنسی کے طورپر غیر ملکی زرکی ایک اکائی کی قیمت ہے ۔
6 ۔ حقیقی شرح مبادلہ ملکی شے کے طورپر غیر ملکی اشیا کی اضافی قیمت ہے۔ زر شرح مبادلہ کے برابر ہوتاہے جو کہ غیر ملکی سطح قیمت میں ملکی قیمت سطح سےتقسیم دے کرحاصل کیا جاتا ہے ۔ اس سے بین الاقوامی تجارت میں کسی ملک کی بین الاقوامی مسابقت کا تعین قدر ہوتا ہے۔ جب حقیقی شرح مبادلہ ایک کے برابر تو دونوں ملکوں میں قوت خرید برابر ہوتی ہے ۔
7 ۔ قائم شرح مبادلہ نظام کا نچوڑ سونا معیار تھا جس میں ہر ایک شریک ملک ایک مقررہ قیمت پر اپنے ملک کی کرنسی کو آزاد انہ طورپر سونے میں تبدیل کرنے کا پابند رہتا تھا ۔مقرر شرح مبادلہ ایک طرح کی پالیسی متغیرہ ہے جس میں سرکاری عمل ( کم قدری ) کے ذریعہ تبدیلی کی جاسکتی ہے ۔
8 ۔ بالکل آزاد شرح مبادلہ کے تحت شرح مبادلہ کا تعین بازار کے ذریعہ بغیر کسی مرکزی بینک کی مداخلت کے ہوتا ہے ، زیر انتظام آزادشرح مبادلہ کی صورت میں مرکزی بینک شرح مبادلہ میں اتا رچڑھاؤ کو کم کرنے کے لیے مداخلت کرتا ہے ۔
9 ۔ کھلی معیشت میں ملکی شے کی مانگ ، اشیا کے لیے گھریلو مانگ ( صرفی ، اصل کاری ، سرکاری خرچ اور درآمدات خسارہ برآمدات) کے خسارے کے برابر ہوتا ہے۔
10 ۔ کھلی معیشت ضارب بند معیشت ضارب سے چھوٹی ہوتی ہے، کیونکہ ملکی مانگ کا ایک حصہ غیر ملکی اشیا کے لیے ہوتا ہے ۔ لہذا آزاد مانگ میں اضافہ سے بند معیشت کے مقابل برآمد میں کم اضافہ ہوتا ہے ۔ اس سے تجارتی توازن میں بھی کمی ہوتی ہے۔
11۔ غیر ملکی آمدنی میں اضافہ سے درآمدات میں اضافہ اورملکی برآمد میں اضافہ ہوتا ہے اورتو ازن تجارت میں بہتری ہوتی ہے ۔
12۔ اگر کسی ملک میں فرض کیے گئے فنڈوں سے شرح سود کی نسبت شرح نمو میں اضافہ ہوتا ہے تو تجارتی خسارے میں کسی طرح خطرے کی علامت نہیں ہوتی ۔
کلیدی تصورات
کھلی معیشت
|
Open economy multiplier
|
ادائیگی توازن
|
Balance of payments
|
چالو کھاتہ خسارہ
|
Current account deficit
|
مجاز ریزرولین دین
|
Official reserve transactions |
آزاداور تطبیق لین دین
|
Autononous and accommodating transaction |
رسمی اورحقیقی شرح مبادلہ
|
Nominal and real exchange rate |
قوت خرید مساویت
|
Purchasing power parity
|
لچک دار شرح مبادلہ
|
Flexible exchange rate
|
کم قدری یافرسودگی
|
Depreciation
|
تفرقی شرح سود
|
Interest rate differential |
قائم شرح مبادلہ
|
Fixed exchange rate
|
کم قدری گھریلو اشیا
|
Demand for domestic goods |
زیر انتظام روانی
|
Managed floating
|
خالص برآمدات
|
Net exports |
درآمدکا حاشیائی رجحان
|
Marginal propensity to import
|
|
|
کھلی معیشت ضارب
|
Open economy multiplier
|
|
|
باکس 6.1 شرح مبادلہ مینجمنٹ: ہندستانی تجزیہ
ہندوستان کی شرح مبادلہ پالیسی کاارتقا بین الاقوامی اورگھریلو پیش رفت کے ساتھ ہوا ہے۔ آزادی کے بعد رائج بریٹن ووڈس نظام کے لحاظ سے ہندستانی روپیہ برطانیہ کے تاریخی رشتے کے سبب پونڈاسٹرالنگ میں مقررہوا ، جون 1966 میں روپیے کا 36.5 فی صد کم قدری ایک اہم واقعہ تھا ۔بریٹن ووڈس نظام کے تعطل اورہندستان کی تجارت میں مملکت متحدہ (UK) کا حصہ کم ہونے سے ستمبر 1975 میں پونڈ اسٹرلنگ سے روپیے کا تعلق ختم کردیا گیا۔ 1975سے 1992 تک کی مدت کے دوران روپیے کی شرح مبادلہ ریزرو بینک آف انڈیا کے ذریعہ متعین ہوتی تھی جو ہندوستان کے اہم تجارتی حصہ دارکی کرنسیوں کے وزن شدہ بنڈل کے +یا 5- علامتی بینڈ کے تحت ہوتا تھا ، ریزرو بینک روزمرہ کی بنیاد پر مداخلت کرتا تھا جس سے محفوظ فنڈ کے حجم میں کافی تبدیلی ہوتی تھی اس مدت کے شرح مبادلہ نظام کا بیان ایک بینڈ کے ساتھ تطابق پذیر رسمی مقرر ( ٹھہراؤ) کے طورپر کیا جاسکتا ہے۔
1990 کے آغازمیں تیل کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور خلیج کے بحران کے سبب خلیج سے ترسیل زر رک گئی ، اس سے دیگرملکی اور بین الاقوامی پیش رفت کے سبب ہندوستان میں ادائیگی توازن کا مسئلہ شدید ہوگیا ۔کمرشیل بینکوں سے ادھار لینے کی اورقلیل مدتی ساکھ کی گنجائش کم ہوجانے کے نتیجے میں چالو کھاتہ خسارہ کے لیے مالیاتی بندوبست مشکل ہوگیا ۔ ہندوستان کی غیر ملکی کرنسی کا ریزرواگست 1990 کے 3.1 بلین امریکی ڈالر سے تیزی سے گھٹ کر 12 جولائی 1991 میں 975 ملین امریکی ڈالر ہوگیا (ہماری موجودہ غیر ملکی زرریزرو 27 جنوری 2006 کے مطابق 139.2 ملین امریکی ڈالر تھا) بیرونی ممالک سونا بھیجنے ، غیر ضروری درآمدات کو کم کرنے ، بین الاقوامی زر فنڈ اور کثیر طرفی نیزدو طرفی وسائل سے ربط کرنے ، استحکام پیداکرنے ا ور ساختی اصلاحات کے علاوہ یکم جولائی اور 3 جولائی 1991کو روپیے میں دو مراحل میں 18-19 فی صد کی کم قدری کی گئی ۔ مارچ 1992 میں دوہرے شرح مبادلہ والے نرم شرح مبادلہ مینجمنٹ نظام کو اپنایا گیا ۔ اس بندوبست کے تحت مبادلہ آمدنی کے 40 فی صد ریزرو بینک کے ذریعہ مقرر شرح سے سپرد کرنا پڑتا تھا اور 60 فی صد کا تبدیلی بازار کے ذریعہ مقررہ شرح پرہوتا تھا ۔ دوہری شرح کویکم مارچ 1993 کو بدل دیا گیا اورچالو کھاتے کی تبدیلی کی طرف اہم قدم اٹھائے گئے ۔آخری بار 1994 میں بین الاقوامی زرفنڈ (IMF) کے معاہدے کے آرٹیکل کے viii آرٹیکل کو قبول کرنے کے ذریعہ حاصل کیا گیا۔ اس طرح روپیے کاشرح مبادلہ بازار کے ذریعہ متعین ہوتا ہے اور اپنی خرید وفروخت کے ذریعہ ریزرو بینک زر مبادلہ بازار میں صورت حال کو منظم رکھتا ہے ۔
مشقیں
1۔ توازن تجارت اورچالو کھاتہ توازن میں فرق واضح کیجیے۔
2 ۔ مجاز ریزرو لین دین کیا ہے ؟ ادائیگی توازن میں ان کی اہمیت بیان کیجیے؟
3 ۔ زری شرح مبادلہ اورحقیقی شرح مبادلہ میں فرق کیجیے۔ اگر آپ کو گھریلو شے یا غیر ملکی اشیا کے درمیان کسی کو خریدنے کا فیصلہ کرنا ہو تو کون سی شرح زیا دہ موزوں ہوگی ؟
4 ۔ اگر روپیہ کی قیمت 1.25 ین ہے اورجاپان میں قیمت سطح 3 ہو اور ہندوستا ن میں 1.2 ہو تو ہندوستان اورجاپان کے درمیان حقیقی شرح مبادلہ کا شمار کیجیے۔(جاپانی شے کی قیمت ہندوستانی اشیا کے معنی میں) اشارہ : روپیے میں ین کی قیمت کی شکل میں زری شرح مبادلہ کو پہلے معلوم کیجیے۔
5 ۔ خودکار میکانیت کی تشریح کیجیے جس کے ذریعہ سونا معیار کے تحت ادائیگی توازن حاصل کیا جاتاتھا۔
6 ۔ لچک دار شرح مبادلہ نظام میں شرح مبادلہ کاتعین کیسے ہوتا ہے ؟
7۔ کم قدری اورفرسودگی میں فرق واضح کیجیے۔
8 ۔ کیا مرکزی بینک زیر انتظام رواں نظام میں مداخلت کرے گا ؟ تشریح کیجیے۔
9 ۔ کیاملکی اشیا کی مانگ اوراشیا کی ملکی مانگ کے تصور ات یکساں ہیں ؟
10۔ جب M = 60 + 0.06Y ہو تو درآمدات کے حاشیائی رجحان کا کیاہوگیا ؟ درآمدات کے حاشیائی رجحان اورکل مانگ تفاعل میں کیا تعلق ہے ؟
11 ۔ کھلی معیشت آزاد اخراجات ضارب بند معیشت کے ضارب کے مقابل چھوٹا کیوں ہوتا ہے ؟
12 ۔ متن میں یک مشت ٹیکس کے تصور کی جگہ پر متناسب

ٹیکس کے ساتھ کھلی معیشت ضارب کا شمار کیجیے۔
13۔ مان لیجیے

(a) متوازن آمدنی معلوم کیجیے(b) متوازن آمدنی پر خالص آمد توازن کیا ہوتا ہے (c) جب حکومت کی خریداری میں 40 سے 50 کا اضافہ ہو تا ہے ۔
14۔ درج بالا مثال میں اگر بر آمدات توازن میں X=100کی تبدیلی ہو تو توازن آمدنی اور خالص برآمدات توازن میں تبدیلی معلوم کیجیے۔
15 ۔ تشریح کیجے کہ

16 ۔ اگر ملک B سے ملک A میں افراط زر اونچی ہو اور دونوں ملکوں میں شرح مبادلہ قائم ہو تو دونوں ملکوں کے توازن تجارت کا کیا ہوگا ؟
17 ۔ کیا چالو پونجی خسارہ خطرے کی علامت ہوگا ؟ تشریح کیجیے۔
18۔ مان لیجیے

ٹیکس آمدنی کا 20 فی صد ہے ، X = 150, M = 100 + 0.2Yتوتوازن ’آمدنی ، بجٹ خسارہ یا زائد اور تجارتی خسارہ یازائد کاشمار کیجیے۔
19 ۔ ان شرح مبادلہ نظام کا ذکر کیجیے جنھیں کچھ ملکوں نے اپنی بیرونی کھاتوں کے استحکام کے لیے کیا ہے ۔
Suggested Readings
1. Dornbusch, R. and S. Fischer, 1994. Macroeconomics, sixth edition,
McGraw-Hill, Paris.
2. Economic Survey, Government of India, 2006-07.
3. Krugman, P.R. and M. Obstfeld, 2000. International Economics, Theory and Policy, fifth edition, Pearson Education.
ٓAppendix 6.3(کھلی معیشت میں آمدنی کا تعین)(ضمیمہ)
(The Determination of Income in an Open Economy) Appendix 6.3
صارفین اور فرموں کو گھریلو تیار اشیا اورغیر ملکی اشیا کو خریدنے کا اختیار ہوتا ہے ۔ اسی لیے اشیا کی گھریلو مانگ اور اشیا کی مانگ کے درمیان فرق کیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
6.3.1 کھلی معیشت کے لیے قومی آمدنی کا تماثلہ
بند معیشت میں گھریلو اشیا کی مانگ کے تئیں وسائل ہیں :صرف (C) حکومتی اخراجات (G) اور گھریلو اصول کاری (I) اسے اس طرح لکھ سکتے ہیں ۔
Y=C+I+G (6.2)
کھلی معیشت میں برآمدات (X) گھریلو اشیا اورخدمات کی مانگ کے اضافی وسائل کی تخلیق ہوتی ہے جو بیرونی ممالک سے آتی ہے اوراس لیے اسے کل مانگ جو ڑاجانا چاہیے۔ گھریلو بازار میں درآمدات سے تکمیل رسد ہوتی ہے اوراس سے گھریلو مانگ کے اس حصے کی تخلیق ہوتی ہے جس سے غیر ملکی اشیا اورخدمات کی مانگ پر اثر ہوتا ہے لہذا قومی آمدنی ایک کھلی معیشت میں تماثلہ (Idantity) ہے۔
Y+M=C+I+G+X (6.3)
ازسر نو منظم کرنے پر ہم حاصل کرتے ہیں ۔
Y=C+I+G+X-M (6.4)
یا
Y=c+I+G+NX (6.5)
جہاں NX خالص برآمدات ( برآمد ات ۔درآمدات ) ہے ایک حیثیت NX ( برآمد، درآمد سے زیادہ ) سے تجارت زائد اورمنفی خالص برآمد ( درآمد، برآمدسے زیادہ سے تجارتی خسارہ کا پتہ چلتا ہے )
کسی کھلی معیشت میں متو ازن آمدنی کے تعین میں درآمدات اوربرآمدات کے کردار کی جانچ کرنے کے لیے ہم اسی عمل کو اپنا تے ہیں۔ جس عمل کا استعمال ہم نے بندمعیشت کے معاملے میں کیا ۔ یعنی ہم اصل کا ری اور حکومت کے آزاد خرچ کو لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں در آمد ات اوربرآمدات کے فیصلہ کن عناصر کو بھی واضح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ در آمدات کی مانگ گھریلو آمدنی (Y) اور حقیقی شرح مبادلہ (R) پر انحصار کرتی ہے۔ اونچی آمدنی ہونے پر زیادہ برآمدکیا جاتا ہے ۔حقیقی شرح مبادلہ کو گھریلو شے کے طورپر غیر ملکی اشیا کی اضافی قیمت کے طورپر تعریف کی جاتی ہے اونچی شرح مبادلہ سےغیرملکی اشیا نسبتا زیادہ مہنگی ہوجاتی ہیں اور اس طرح در آمدکی مقدار میں کمی آتی ہے ۔لہذا آمدنی (Y) کی درآمد پر مثبت اثر پڑتا ہے اور حقیقی شرح مبادلہ (R) کا منفی تعریف کے لحاظ سے ایک ملک کی برآمد دوسرے ملک کی درآمد ہوتی ہے ۔ اس طرح ہمارے برآمدات سے غیر ملکی درآمدات کی تخلیق ہوتی ہے۔ یہ غیرملکی آمدنی اور حقیقی شرح مبادلہ پر انحصار کرے گا۔غیرملکی آمدنی میں اضافہ سے ہماری اشیاکی غیر ملکی مانگ میں اضافہ ہوگا جس سے زیادہ برآمد ہوگی ۔شرح مبادلہ (R) میں اضافہ سے گھریلو شے سستی ہوگی اورہماری درآمدات میں اضافہ ہوگا ۔غیرملکی آمدنی اورحقیقی شرح مبادلہ کابرآ مدات پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ اس طرح برآمدات اوردرآمدات گھریلو آمدنی، غیر ملکی آمدنی اورحقیقی شرح مبادلہ پرمنحصر ہوتی ہے ۔ہم فرض کرتے ہیں کہ قیمت سطح اور زری شرح مبادلہ قائم ہے تو حقیقی شرح مبادلہ بھی قائم رہے گی ۔ہمارے ملک کے معاملے میں غیر ملکی آمدنی اوراس لیبرآمدات کو خارج (X=X) سمجھاجاتا ہے۔
اس طرح درآمد کی مانگ آمدنی پر منحصر مانی جاتی ہے اوراس کا ایک آزاد عنصر ہوتا ہے

( 6۔6)
یہاں درآمدات کا حاشیا ئی رجحان ہے ۔ آمدنی کا ایک اضافی روپیہ در آمدپر خرچ کرنے سے حاصل تناسب ہے ۔ یہ صرف کے حاشیای رجحان کے مماثل ہوتا ہے ۔توازن آمدنی اس طرح ہوگی ۔

(7۔6)
آزاد عناصر کو

کے طو ر پر ایک ساتھ لینے پر حاصل ہوتا ہے ۔
یا
یا

آمدنی وخرچ ڈھانچے میں غیر ملکی بازار کی اجازت کے اثر کا جائزہ لینے کے سلسلہ میں ہمیں بندمعیشت کے ماڈل میں متوازن آمدنی کے لیے مساوی اظہار کی مساوات (6.10) کا موازنہ کرنا ہوگا ۔ دونوں مساوات میں متوازن آمدنی کے دو رکن آزاد خرچ ضارب اور آزاد خرچ سطحوں کے حاصل ضرب کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے ، ہم یہ غور کریں کہ کھلی معیشت کے ضمن میں ان میں سے ہر ایک میں کیسے تبدیلی ہوتی ہے ۔
چونکہ درآمد کا حاشیائی رجحان m صفر سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے کھلی معیشت میں ہمیں چھوٹا ضارب حاصل ہوتا ہے اسے درج ذیل طورپر ظاہر کیا جاتا ہے ۔
کھلی معیشت ضارب

مثال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 6.2
اگراورتو بند اورکھلی معیشت ضارب علی الترتیب اس طرح حاصل ہوگا ۔

گھریلو آزاد مانگ میں اگر 100 کا اضافہ ہو تو بند معیشت کی درآمد میں 500 کا اضافہ ہوگا جب کہ کھلی معیشت میں صرف 200 کا۔
معیشت کوکھولنے سے آزاد خرچ ضارب کی قدر میں گراوٹ کی تشریح ہم ضارب عمل کے اپنے پہلے بیان کی بنیاد پر کرسکتے ہیں (باب 4 )۔مثال کے طور پرآزاد خرچ میں تبدیلی اور سرکار ی خرچ میں تبدیلی کا آمدنی پر راست اثر اور صرف پر ترغیبی اثر پڑے گا جس سے آمدنی پھر متاثر ہوگی ۔ صارف کے حاشیائی رجحان کے صفر سے زیادہ ہونے پر صرف پر ترغیبی اثر کے تناسب سے غیر ملکی اشیا کی مانگ کا اظہار ہوگا نہ کہ گھریلو اشیا کی، لہذاگھریلو اشیا کی مانگ اور گھریلو آمدنی پر ترغیبی اثر کم ہوگا ۔ آمدنی کی فی اکا ئی درآمدمیں اضافہ سے ضارب عمل کے ہر ایک دور میں گھریلو آمدنی کے دوری بہاوسے ایک اضافی رساو پیدا ہوتا ہے اورآزاد خرچ ضارب کی قدر میں کمی ہوتی ہے۔
مساوات 6.10 میں دوسرا رکن دکھاتا ہے کہ بندمعیشت کے لیے عناصر کے علاوہ کھلی معیشت کے لیے آزاد خرچ میں برآمدکی سطح اوردرآمد کا آزادعنصر شامل ہوتا ہے ۔ اس طرح ان کی سطحوں میں تبدیلی اضافی ضرب (Shock) ہوتی ہے جس سے متعلق متوازن آمدنی میں تبدیلی ہوتی ہے ۔ مساوات 6.10 سے ہم

اور

میں تبدیلی کے ضارب اثر کا شمار کرسکتے ہیں ۔

ہماری برآ مدات کی مانگ میں اضافہ سے برآمد کی گھریلو پیداوار کی کل مانگ میں اضافہ ہوگا اوراس سے مانگ میں بھی اضافہ ہوگا اس کے ساتھ ہی سرکاری خرچ یا اصل کاری میں آزاد اضافہ ہوگا۔ اس کے برعکس درآمد مانگ آزادانہ بڑھنے کے سبب بر آمد کی مانگ کرے گی اوراس سے متوازن آمدنی میں بھی کمی پیدا ہوگی۔