باب 2
معکوس ٹرگنومیٹریائی تفاعلات (فنکشن)
(INVERSE TRIGONOMETRIC FUNCTIONS)
v’ریاضی عموماً بنیادی طور پر خوددکھائی دینے والی اشیاء کی سائنس ہے۔ فیلکس کلینv
2.1 تعارف
آریہ بھٹہ

(476-550A.D.)
2.2 بنیادی تصور


تک محدود رکھیں ، تب یہ یک یک اور اون ٹوہو جاتا ہے جس کی وسعت
وغیرہ یک ۔یک تک محدود ہے۔ اور اس کی وسعت
شاخ حاصل ہوتی ہے ۔ وہ شاخ جس کی وسعت
ہے۔اصل قیمت شاخ کہلاتی ہے، جب کہ دوسرے وقفے سمت کی طرح 

ریمارک

تک بندش لگائیں، تب یہ سمت
کے ساتھ یک۔ یک اور اون ٹو (onto) ہو جاتا ہے۔ دراصل میں، کو سائس فنکشن کسی بھی وقفہ![]()


پر بندش لگادیں تب یہ اپنی وسعت جیسا کہ سیٹ


ہے۔ اور وسعت

فنکشن کی اصل قیمت کی شاخ کہلاتی ہے اس صرح ہمارے پاس ہے 

تک محدود رکھیں ،تب یہ یک

ہے




نوٹ
کے ساتھ جوڑا نہیں جا سکتا ،دراصل
اوراسی طرح ٹریگنو میٹریائی فنکشن کے لیے
.2 جب بھی معکوس ٹرگنومیٹریائی فنکشن کی شاخ کوئی ذکر نہ ہو۔ ہمارا مطلب اس فنکشن کی بنیادی قدر کی شاخ سے ہے ۔ ہوتاہے
.3 ایک معکوس ٹرگنومیٹریائی فنکشن کی قدر جو کہ بنیادی شاخ کی وسعت میں موجود ہے معکوس ترگنومیتریائی کی بنیادی قدر کہلاتا ہے۔
اب ہم ذیل مثالوں پر غور کرتے ہیں۔


مشق 2.1
ذیل کی اصل قیمتیں معلوم کیجیے۔


2.3معکوس ٹرگنومیٹریائی تفاعلات کی خصوصیات
یہ مندرجہ ذیل کے معادل ہیں







مثال 3 دکھا ئے کہ






مشق 22
ذیل کو ثابت کیجیے

ذیل فنکشن کو آسان ترین شکل میں لکھیے

ذیل میں ہرایک کی قدر معلوم کیجیے


مشق 16تا18ہر ایک عبارت میں قدر معلوم کیجیے

متفرق مثالیں










خلاصہ (SUMMARY)
• معکوس ٹریگنویائی فنکشن کے علاقے اور وسعتیں (اصل قیمت شا خیں) ذیل جدول میں دی گئی ہیں

کے ساتھ نہ الجھائین،حقیقت میںاور اسی طرح دوسرےٹریگنویائی فنکشن کے لیے۔
• ایک معکوس ٹریگنو میٹر یا ئی فنکشن کی قدر جوکہ اپنی اصل قیمت شاخ میں واقع ہے ۔اس معکوس میں ٹرگنو میٹر یائی فنکشن کی اصل قیمت کہلاتی ہے
علاقہ کی مناسب قدروں کے لیے ہمارے پاس ہے


تاریخ کے اوراق
ٹرگنومیٹری کا مطالعہ پہلے ہندوستان میں شرو ع ہواتھا۔ پرانے زمانے کے ہندوستانی ریاضی داں آریہ بھٹ (476A.D.)، برہم گپتا (598 A.D.)، بھاسکر (600 A.D.)Iاور بھاسکر (1114A.D.)IIترگنومیٹری کے اہم نتائج حاصل ہوئے۔ یہ تمام معلومات ہندوستان سے عرب تک گئی اور پھر اس کے بعد وہاں سے یورپ تک۔ گریک کے لوگوں نے بھی ٹرگنومیٹری کا مطالعہ شروع کر دیا تھا، لیکن ان کے کام کرنے کاطریقہ بہت آہستہ تھا کہ جب ہندوستانی کام کو جانا گیا، یہ فوراً پوری دنیا میں اپنا لیا گیا۔
ہندوستان میں،جدیدٹرگنومیٹریائی فنکشن سے پہلے، اسے ایک زاویہ کا سائن (sine)کہا جاتا تھا، اور سائن فنکشن کا تعارف ریاضی میں سیدھا نت (سنسکرت کا اجرام فلکی کا کام) اصل دین تھا۔
بھاسکر I(600A.D.کے لگ بھگ) نے 90° سے زیادہ سائن فنکشن کی قدرمعلوم کرنے کے لئے، فارمولہ دیا تھا۔ سولہویں صدی کے ملیالم کے کام یوکتی بھاسا(Yuktibhasa)میں sin(A+B)کے پھیلاؤ کا ثبوت ہے۔ 18°, 36°, 54°, 72° وغیرہ کے سائن یا کوسائن کا بالکل ایک خیال بھاسکر IIنے دیا تھا۔
وغیرہ کی علامتیں، قوس sin xقوس cos xوغیرہ اجرام فلکی کے ماہر سر جون ایف۔ ڈبلیو۔ہرسیجل(Sir John F.W. Hersehel)(1813)نے بتائی تھیں۔ تھیلس (Thales)کا نام اونچائی اور فاصلوں کے مسئلہ کے ساتھ بغیر مشتق پنج کے ساتھ جڑا ہے۔ اس کو عزت سے مصر میں موجود عظیم ہرم (Pyramid)کی اونچائی معلوم کرنے کے ساتھ جڑا ہواہے۔یہ اونچائی ہرم کی پرچھائی کو ناپنے سے معلوم ہوتی ہے اور ایک معاون اسٹاف (یا گنومون مانی ہوئی اور اونچائی کے ساتھ، اور نسبت کا مقابلہ کرنے پر۔
(سورج کا ارتقا)
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تھیلس نے ایک کشتی کا فاصلہ سمندر پر یکساں مثلثوں کے ضلع کی نسبت سے معلوم کیا تھا۔ پرانے ہندوستانی کام میں اونچائی اور فاصلے پر مبنی مسئلہ یکسانی خصوصیت کا استعمال کر کے کیا جاتا تھا۔