باب10
سمتیہ الجبرا
(VECTOR ALGEBRA)
٭ زیادہ تر سائنس میں ایک پیٹھری برباد کرتی ہے جسے دوسری پیٹھری نے بنایا ہے، اور ایک نے جو قائم کیا ہے دوسری نے برباد کیا ہے۔ صرف ریاضی میں ہی ہر پیٹھری پرانے ڈھانچے پر ایک نیا مکان تعمیر کرتی ہے۔ ہرمین ہینکل (Herman Hankel)
10.1 تعارف(Introduction)

ڈبلو۔آر۔ ہیملٹن
W.R. Hamilton
(1805-1865)
ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سے سوالوں کا سامنا ہیں جیسے، آپ کی کیا لمبائی ہے؟ ایک فٹ بال کھیلنے والا اپنی ٹیم کے دوسرے کھلاڑی کو پاس دینے کے لیے بال پر کس طرح ہٹ لگاتا ہے؟ مشاہدہ کیجیے کہ پہلے سوال کا ممکن جواب 1.6 میٹر ہوسکتاہے، ایک مقدار جس میں صرف ایک قدر (magnitude) ملوث ہے جو کہ ایک حقیقی عدد ہے۔اس طرح کی مقداروں کو عددیہ کہا جاتا ہے۔ حالانکہ، دوسرے سوال کا جواب ایک مقدار ہے (جوقوت کہلاتی ہے) جس میں پٹھوں کی طاقت (قدر) اور سمت شامل ہے (جس میں دوسراکھلاڑی ایک جگہ پر موجود ہے)۔ اس طرح کی مقداروں کو سمتیہ کہا جاتا ہے۔ ریاضی، طبیعیات اور انجینئرنگ میں ہم اکثر دونوں طرح کی مقداروں سے وابستہ ہوتے ہیں جن کے نام میں عدیہ مقداریں، مثال کے طور پر لمبائی، وزن، وقت، فاصلہ، رفتار(Speed)، رقبہ، حجم، درجۂ حرارت، کام، وولٹیج، کثافت (density)، مزاحمت(resistance) وغیرہ وغیرہ اور سمتیہ مقداریں جیسے نقل مکاں (displacement)، رفتار(Velocity)، اسراع (acceleration) ، قوت ، کلوگرام وزن، تحرک (momentum)، برقی فیلڈ کی شدت وغیرہ
اس باب میں ہم سمتیوں پر مختلف عمل اور ان کی الجبری اور جیومیٹریائی خصوصیات کے بارے میں کچھ بنیادی تصورات کامطالعہ کریں گے۔ ان دو طرح کی خصوصیات کو، جب کہ دونوں کا ایک ساتھ تصور کیا گیا ہے، سمتیوں کے تصور کی پوری حقیقت دیتی ہیں اور ان کا اہم استعمال مختلف شعبوں کی طرف لے جاتا ہے جیسا کہ اوپر ظاہر کیا گیا ہے۔
10.2 کچھ بنیادی تصورات (Some Basic Concepts)
مان لیجیے مستوی یا تین ابعادی خلا میں 'I' کوئی بھی سیدھا خط ہے۔ اس خط کو تیر کی مدد سے دو سمتیں دی جاسکتی ہیں۔ اس طرح کی بتائی گئی سمتوں میں ایک خط کو سمت دار خط (directed line) کہا جاتا ہے۔ (شکل 10.1 (i), (ii)

(شکل 10.1)
اب مشاہدہ کیجیے کہ اگر ہم خط l کو قطع خط AB تک محدود رکھیں، تب خط l پر دونوں میں سے ایک سمت کے ساتھ ایک قدر بیان کی گئی ہے، تاکہ ہمیں ایک سمت دار قطع خط حاصل ہوتا ہے۔ شکل 10.1 (iii)۔ اس طرح، ایک سمت دار قطع خط کی قدر اور ساتھ ہی سمت ہوتی ہے۔
تعریف 1: ایک مقدار جس میں قدر اور سمت دونوں موجودہوتی ہیں سمتیہ کہلاتی ہے۔
یہ بات ذہن نشین کرلیجیے کہ ایک سمت دار قطع خط ایک سمتیہ ہے (شکل 10.1(iii)
سے ظاہر کیا گیا ہے یا سادہ طور پر
اور اسے ’سمتیہ
‘ یا ’سمتیہ
‘ پڑھا جاتا ہے۔
نقطہ A جہاں سے سمتیہ
شروع ہوتا ہے اس کاابتدائی نقطہ کہلاتا ہے اور نقطہ B جہاں اس کا آخیر ہوتا ہے اس کا آخری نقطہ کہلاتا ہے۔ سمتیہ کے ابتدائی نقطہ اور آخری نقطہ کے درمیان کا فاصلہ سمتیہ کی قدر (یا لمبائی) کہلاتی ہے، جسے
، یا
یا a سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ تیر سمتیہ کی سمت کو ظاہر کرتا ہے۔
نوٹ: کیونکہ لمبائی کبھی بھی منفی نہیں ہوتی،اس لیے علامت
کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
مقامی سمتیہ (Position Vector)
گیارھویں جماعت میں پڑھے ہوئے سہ ابعادی سیدھے ہاتھ کے مستطیلی مختص نظام کو یاد کیجیے (شکل 10.2 (i)۔ خلا میں ایک نقطے P پر غور کیجیے جس کے مختص ،مبدہ (O (0,0,0 کی مناسبت سے(x,y,z) ہیں ۔ تب، سمتیہ
جس کے ابتدائی اورآخری نقاط بالترتیب O اور P ہیں، نقطہ P کا O کی مناسبت سے مقامی سمتیہ ہے۔ فاصلہ کاضابطہ (گیارھویں جماعت سے) استعمال کرکے
(یا
) کی قدر اس طرح دی گئی ہے
![]()
عمل میں، C، B، A وغیرہ نقاط کے مقامی سمتیہ مبدہ O کو مدنظر رکھتے ہوئے بالترتیب
وغیرہ سے ظاہر کیے گئے ہیں۔ شکل 10.2 (ii)

شکل 10.2
سمت کو سائن (Direction Cosines)
شکل 10.3 میں نقطہ (P (x,y,z کے مقامی سمتیہ
(یا
) پر غور کیجیے۔ سمتی
کے ذریعہ بنائے گئے زاویہ y، β، α بالترتیب y، x اور z-محوروں کی مثبت سمت کے ساتھ بنائے ہوئے سمت زاویے کہلاتے ہیں۔ ان زاویوں کی کوسائن قدریں، یعنی cosβ , cosαاور cosy سمتیہ
کی سمت کوسائن کہلاتی ہیں، اور انھیں بالترتیب عام طور پر m,I اور n سے ظاہر کیا جاتا ہے۔

شکل 10.3 سے ہم یہ نوٹ کرسکتے ہیں کہ مثلث OAP ایک قائم زاوی ہے، اور اس میں، ہمارے پاس
ہے (
کوظاہرکرتا ہے)۔ اسی طرح، قائم مقامی زاویہ OBP اور OCP سے ہم لکھ سکتے ہیں کہ
اور
۔ اس طرح، نقطہ P کے مختصوں کو (Ir, mr, nr) سے بھی ظاہر کیا جاسکتا ہے ۔ اعداد mr, Ir اور nr سمت کو سائن کے تناسب میں سمتیہ
کی سمت نسبت کہلاتے ہیں اور بالترتیب b,a اور c سے ظاہر کیے جاتے ہیں۔
نوٹ: یہ ذہن نشین کیا جاسکتا ہے کہ I² +m²+n² =1 ہے، لیکن a² +b²+c² ±1 عام طور پرہوتاہے۔
10.3 سمتیوں کی قسمیں (Types of Vectors)
صفر سمتیہ (Zero Vector): ایک سمتیہ جس کے ابتدائی اور آخری نقاط آپس میں ملتے ہیں ایک صفر سمتیہ (یا خالی سمتیہ) کہلاتا ہے، اور
سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ صفر سمتیہ کو ایک مستقل سمت نہیں دی جاسکتی کیوں کہ اس کی قدر صفر ہوتی ہے۔ یا، متبادل کے طور پر، اسے کوئی بھی سمت دی جاسکتی ہے۔ سمتیہ
صفر سمتیہ کو ظاہر کرتے ہیں۔
اکائی سمتی (Unit Vector): ایک سمتیہ جس کی قدر اکائی ہے (یعنی 1 اکائی) اکائی سمتیہ کہلاتا ہے۔ اکائی سمتیہ دیے ہوئے سمتیہ
کی سمت کو â سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
ہم ابتدائی سمتیہ (Coinitial Vectors): دو یا دو سے زیادہ سمتیہ جن کا ابتدائی نقطہ یکساں (ایک ہی) ہوتا ہے ہم ابتدائی سمتیہ کہلاتے ہیں۔
ہم خطہ سمتیے (Collinear Vectors): دو یا دو سے زیادہ سمتیہ اس وقت ہم خط سمتیہ کہلاتے ہیں اگر وہ ایک خط کے متوازی ہوں، بغیرقدر اور سمتوں کو شامل کیے ہوئے ہوں۔
برابر سمتیے (Equal Vectors): دوسمتیہ
اور
برابر سمتیہ کہلاتے ہیں، اگر ان کی قدر اور سمت ان کے ابتدائی نقاط کی پوزیشن کو بغیر بیچ میں لائے ہوئے یکساں ہو اور اسے
=
لکھا جاتا ہے۔
سمتیہ کا منفی (Negative of a Vector): اگر ایک سمتیہ کی قدر دیے ہوئے سمتیہ کی قدر کے برابر ہے (مان لیجیے،
)، لیکن اس کی سمت اس کے مخالف ہے، تویہ دیے ہوئے سمتیہ کا منفی کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر سمتیہ
، سمتیہ
کا منفی ہے اور اسے
– =
لکھا جاتا ہے۔
ریمارک(Remark): اوپر بیان کیے گئے سمتیہ اس طرح ہیں کہ ان میں سے ہر ایک متوازی ہٹاؤ کی بنا پر بغیر قدر اور سمت بدلے ہوئے ہے۔ اس طرح کے سمتیوں کو آزاد سمتیہ (free vectors) کہتے ہیں۔ اس پورے باب میں ہم آزاد سمتیوں کے ساتھ ہی تعلق رکھیں گے۔
مثال 1: 40 کلومیٹرنقل مکاں کو °30 جنوب مغرب (°30 west of south) گراف کی مدد سے ظاہر کیجیے۔
حل: سمتیہ
درکار نقل مکاں کو ظاہر کرتا ہے (شکل 10.4)

مثال 2: ذیل پیمائشوں کی درجہ بندی عددیہ اور سمتیہ میں کیجیے۔
(i)
5 سیکنڈ
(ii)
1000cm3 کعب سم
(iii)
10 نیوٹن
(iv)
30 کلو میٹر ، گھنٹہ
(v)
10 گام ، مکعب سم
(vi)
20 میٹر ، سیکنڈ شمال کی طرف
حل: (i) وقت-عددیہ (ii) حجم -عددیہ (iii) قوت - سمتیہ
(iv) رفتار-عددیہ (v) کثافت-عددیہ (vi) رفتار -سمتیہ
مثال 3: شکل 10.5 میں کون سے سمتیہ ہیں

(i) ہم خط (ii) برابر (iii) ہم -ابتدائی
حل: (i) ہم خط سمتیہ: ![]()
(ii) برابر سمتیہ:
اور ![]()
(iii) ہم ابتدائی سمتیہ: ![]()
مشق 10.1
1۔ 40 کلومیٹر نقل مکان کو، °30 شمال کا مشرق کو گراف کے ذریعہ ظاہر کیجیے۔
2۔ مندرجہ ذیل پیمائشوں کی عددیہ اور سمتیہ میں درجہ بندی کیجیے۔
(i)
10 کلو گرام
(ii)
2 میٹر شمال ۔مغرب
(iii)
40º
(iv)
40 واٹ
(v)
10-19 کولو مب
(vi)
20 میٹر ، مربع سیکنڈ
3۔ مندرجہ ذیل کی درجہ بندی عددیہ اور سمتیہ مقداروں کے طور پر کیجیے۔
(i) وقفہ (ii) فاصلہ (iii) قوت
(iv) رفتار (v) کیا گیا کام
4۔ شکل 10.6 میں (ایک مربع)، مندرجہ ذیل سمتیوں کی پہچان کیجیے۔

(i) ہم ابتدائی (ii) برابر
(iii) ہم نقطہ لیکن برابر نہیں
5۔ مندرجہ ذیل کا جواب صحیح یا غلط میں پر دیجیے۔
(i)
اور
— ہم نقطہ ہیں۔
(ii) دو ہم خط سمتیہ، وسعت میں ہمیشہ برابرہوتے ہیں۔
(iii) دوسمتی جن کی وسعت یکساں ہے ہم خط ہیں۔
(iv) دو ہم خط سمتوں کی قدر اگر یکساں ہے تو وہ برابر ہیں۔
10.4 سمتیوں کی جمع (Addition of Vectors)
ایک سمتیہ
کا سیدھا مطلب ہے نقطہ A سے نقطہ B تک نقل مکان۔ اب ایک صورت حال پر غور کیجیے کہ ایک لڑکی A سے B کی طرف حرکت کرتی ہے اور پھر B سے C کی طرف (شکل 10.7)۔ لڑکی کا کل نقل مکاں نقطہ A سے نقطہ C تک ہے، اسے سمتی
سے دیا گیا ہے اور اس طرح ظاہر کیا گیا ہے

![]()
اسے سمتیہ مجموعہ کا مثلثی قانون (Triangle law) کہتے ہیں۔
عام طور پر اگر ہمارے پاس دوسمتیہ
اور
ہیں شکل 10.8 (i)، تب ان کا جمع معلوم کرنے کے لیے انھیں اس پوزیشن میں رکھا جاتا ہے کہ ایک کا ابتدائی نقطہ دوسرے کے آخری نقطہ سے مل جائے شکل 10.8 (ii )

مثال کے طور پر، شکل 10.8 (ii) میں ہم نے سمتیہ
کی جگہ، بغیر قدر اور سمت کو بدلے ہوئے بدلی ہے، تاکہ اس کا ابتدائی نقطہ
کے آخری نقطہ کے ساتھ مل جائے۔ تب، سمتی
+
، جو کہ مثلث ABC کے تیسرے ضلعے AC سے ظاہر کیا گیا ہے، ہمیں سمتیہ
اور
کاجمع (یا نتیجتاً) دیتا ہے، یعنی۔؛ مثلث ABC میں شکل 10.8 (ii) ہمارے پاس ہے
![]()
اب دوبارہ، کیونکہ
ہے، اوپر کی مساوات سے، ہمارے پاس ہے
![]()
اس کا مطلب ہے کہ جب مثلث کے اضلاع ترتیب میں لیے جائیں، تو یہ نتیجتاً صفر کی طرف لے جاتے ہیں، کیونکہ ابتدائی اور آخری نقاط آپس میں مل جاتے ہیں۔ (شکل 10.8 (iii)
اب ایک سمتیہ
بنائیے تاکہ اس کی قدر سمتیہ
کے یکساں ہو، لیکن سمت اس کے مخالف ہو (شکل 10.8 (iii)، یعنی،
– = ![]()
تب، شکل 10.8 (iii) سے مثلثی قانون نافذ کرنے پر، ہمارے پاس ہے
![]()
تب کہاجاتا ہے کہ سمتیہ
،
اور
کا فرق ظاہر کرتا ہے
اب، غور کیجیے کہ ایک کشتی دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کی طرف جارہی ہے اور اس کی سمت دریا کے بہاو کے عمودی ہے۔ تب، اس پر دوسمتیہ رفتار کا اثر ہوگا۔ ایک تو وہ رفتار جو کشتی کو اس کا انجن دے رہاہے اور دوسری دریا کے پانی کی رفتار۔ ان دونوں رفتاروں کے اثر کی وجہ سے، حقیقت میں کشتی ایک مختلف رفتار کے ساتھ سفر کرنے لگتی ہے۔ کشتی کی اثر انداز رفتار اور سمت (یعنی؛ نتیجتاً رفتار) کے بارے میں موٹے طور پر ہمارے پاس سمتیہ جمع کا ذیل قانون ہے۔

اگر ہمارے پاس دوسمتیہ
اور
ہیں جو کہ ایک متوازی الاضلاع کی دو متصل ضلعوں سے وسعت اور سمت میں ظاہر کیے گئے ہیں (شکل 10.9)، تب ان کا مجموعہ
+
، وسعت اور سمت میں متوازی الاضلاع کے وتر سے ان کے مشترک نقطہ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ سمتیوں جمع کا متوازی الاضلاع قانون (Parallelogram law of vector addition) کہلاتا ہے۔
نوٹ: شکل 10.9سے مثلث کا قانون استعمال کرکے، کوئی بھی یہ نتیجہ اخذ کرسکتا ہے کہ
یا
(کیونکہ
)
جو کہ متوازی الاضلاع قانون ہے۔ اس طرح، ہم کہہ سکتے ہیں کہ سمتیہ جمع کے دونوں قانون ایک دوسرے کے برابر ہیں۔
سمتیہ جمع کی خصوصیات (Properties of vector addition)
خصوصیت 1: کن ہی دو سمتیوں
اور
کے لیے
+
=
+
(جمع کا تقلیبی قانون Commutative property)
ثبوت: متوازی الاضلاع ABCD پر غور کیجیے (شکل 10.10)۔ مان لیجیے
=
اور
=
ہے، تب مثلث قانون کا استعمال کرکے مثلث ABC سے، ہمارے پاس ہے
![]()
اب، کیونکہ متوازی اضلاع کے مخالف ضلعے برابر اور متوازی ہیں، شکل 10.10 سے ہمارے پاس ہے،
=
=
اور
۔ دوبارہ مثلث قانون استعمال کرکے،مثلث ADC سے، ہمارے پاس ہے
![]()
یہاں ![]()

خصوصیت 2: کن ہی تین سمتیوں
کے لیے
(تلازمی خصوصیت)
ثبوت: مان لیجیے سمتیہ
کو بالترتیب
سے ظاہر کیا گیا ہے، جیسا کہ شکل 10.11(i) اور (ii) میں دکھایا گیا ہے۔


ریمارک(Remark): سمتیہ جمع کی تلازمی خصوصیت ہمیں اس قابل بنادیتی ہے کہ ہم بغیر بریکٹس کا استعمال کیے ہوئے تین سمتوں
کا حاصل جمع
سے ظاہر کرسکیں ۔
نوٹ کرلیجیے کہ کسی بھی سمتیہ
کے لیے، ہمارے پاس ہے
![]()
یہاں، صفر سمتی
سمتی جمع کے لیے جمعی تماثلا کہلاتا ہے۔
10.5 ایک سمتیہ کی ایک عددیہ سے ضرب (Multiplication of a Vector by a Scalar)
مان لیجیے
ایک دیا ہوا سمتیہ ہے اور λ ایک عددیہ ہے۔ تب سمتیہ
کا عددیہ λ سے حاصل ضرب جوکہ
λ سے ظاہر کیا گیا ہے، سمتیہ
کا عددیہ λ سے حاصل ضرب کہلاتا ہے۔ نوٹ کرلیجیے کہ،
λ بھی ایک سمتیہ ہے جو کہ سمتیہ
کے ساتھ ہم خط ہے۔ سمتیہ
λ کی سمت یکساں ہے (یا مخالف) جو کہ سمتیہ
کی ہے، λ کی قدر کے مطابق مثبت ہے (یامنفی)۔ ساتھ ہی
λ کی قدر سمتیہ
کی قدر، کی |λ| گناہ ہے، یعنی۔؛
![]()
ایک سمتیہ کی ایک عددیہ سے جیومیٹریائی انداز میں ضرب، شکل 10.12 میں دی گئی ہے۔

جب 1– = λ ہے،
– =
λ ، جو کہ ایک سمتیہ ہے اور جس کی قدر
کی قدر کے برابر ہے اور سمتیہ
کے مخالف ہے۔ سمتیہ
– ، سمتی
کا منفی (یا جمعی معکوس) کہلاتا ہے اور ہمارے پاس ہمیشہ موجود ہے
![]()
ساتھ ہی، اگر
ہے، جب کہ 0≠
یعنی۔؛
ایک خالی سمتیہ نہیں ہے، تب

اس طرح،
λ ,
کی سمت میں اکائی سمتی کو ظاہر کرتا ہے۔ہمیں اسے اس طرح

نوٹ: کسی بھی عددیہ k کے لیے ،
=
k
10.5.1 سمتیہ کے اجزا(Components of a vector)
ہم x- محور، y- محور اور z- محور پر بالترتیب نقاط (B(0,1,0)، A(1,0,0 اور (C (0,0,1 لیتے ہیں۔ تب، صاف طور پر
![]()
سمتیہ جن میں سے ہر ایک کی قدر1 ہے، بالترتیب محوروں OY، OX اور OZ کے ساتھ اکائی سمتیہ کہلاتے ہیں اور بالترتیب
سے ظاہر کیے جاتے ہیں۔(شکل10.13)

اب شکل 10.14 میں نقطہ (P (x,y,z کے مقامی سمتیہ
پر غور کیجیے۔ مان لیجیے، مستوی XOY پر نقطہ P سے P1 عمود کا پیر ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ z, p1p-محور کے متوازی ہے۔ جیسا کہ jˆ، ˆi اور ˆk بالترتیب x، y اور z-محوروں کے ساتھ اکائی سمتیہ ہیں، اور مختص P کی تعریف سے، ہمارے پاس
ہے۔ اسی طرح
۔
اس لیے، اس سے ملتا ہے کہ 
اور

اس لیے، مقامی سمتیہ P کی O کے حوالے سے اس طرح دیا گیا ہے
![]()
کسی بھی سمتی کی یہ شکل اس کی اجزائی شکل کہلاتی ہے۔ یہاں y، x اور z،
کے عددیہ اجزا کہلاتے ہیں،اور
اور
کے محوروں کے ساتھ سمتیہ اجزا کہلاتے ہیں۔ کئی بار y، x اور z کو مستطیلی اجزا بھی کہا جاتا ہے۔
کسی بھی سمتیہ کی لمبائی
، پائیتھا گورس مسئلہ کو دوبارنافذ کرکے جلدی سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قائم مقام مثلث OQP1 میں (شکل 10.14)

اور قائم مقام مثلث OP1P میں، ہمارے پاس ہے

اس لیے، کسی بھی سمتیہ کی لمبائی
اس سے دی گئی ہے
![]()
اگر
اور
کوئی بھی دوسمتیہ بالترتیب دی ہوئی اجزائی شکل
میں دئیے گئے ہیں ، تب،
(i)
اور
سمتیوں کا حاصل جمع (یا نتیجتاً) اس طرح دیا گیا ہے
![]()
(ii)
سمتیوں کا فرق اس طرح دیا گیا ہے
![]()
(iii) سمتیہ
برابر ہیں اگر اور صرف اگر
![]()
(iv) سمتیہ
کی ضرب کسی بھی عددیہ λ سے اس طرح دی گئی ہے
![]()
سمتیوں کی جمع اور ایک سمتیہ کی ایک عددیہ سے ضرب ایک ساتھ مل کر مندرجہ ذیل تقسیمی قانون بناتی ہے:
مان لیجیے
کوئی بھی دو سمتیہ ہیں، اور k اور m کوئی بھی دو عددیہ ہیں۔ تب

ریمارک(Remark)
(i) کوئی بھی یہ مشاہدہ کرسکتا ہے کہ، λ کی کوئی بھی قدر ہو، سمتیہ
λ ہمیشہ سمتیہ
کے ہم خط ہوتا ہے۔ حقیقت میں، دو سمتیہi
کوہم خط کہا جاسکتا ہے اگر اور صرف اگر ایک غیر صفر عددیہ λ موجود ہو، تاکہ
۔ اگر سمتیہ
اجزائی شکل میں دئیے گئے ہیں، یعنی۔،
، تب دونوں سمتیے ہم خط ہیں اگر اور صرف اگر

(ii) اگر
ہے، تب 3 α1.α2.α کو
کی سمت نسبت بھی کہا جاتا ہے۔
(iii) اگرکسی حالت میں یہ دیا گیا ہے کہ n,m,I ایک سمتیہ کے سمت کو سائن(Cosine) ہیں، تب
،تب اس سمتیہ کااُسسمت میں اکائی سمتیہ ہے، جہاں β، a اور λ وہ زاویہ ہیں جو سمتیہ، بالترتیب y,x اور z محوروں کے ساتھ بناتا ہے۔
مثال 4: y,x اور z کی قدریں معلوم کیجیے تاکہ سمتی
برابر ہیں۔
حل: یہ نوٹ کرلیجیے کہ دوسمتیہ اس وقت برابر ہوتے ہیں، اگر اور صرف اگر ان کے متناظر اجزا برابر ہیں۔ اس طرح دیے ہوئے سمتیے
اور
اس وقت برابر ہوں گے اگر اور صرف اگر
![]()
مثال 5: مان لیجیے
کیا، ہے
کیا سمتیہ
برابر ہیں؟
حل: ہمارے پاس ہے ![]()
تاکہ،
۔ لیکن، دونوں سمتیہ برابر نہیں ہیں کیونکہ ان کے متناظر اجزا مختلف ہیں۔
مثال 6: سمتیہ
کی سمت میں اکائی سمتیہ معلوم کیجیے؟
حل: سمتیہ
کی سمت میں اکائی سمتیہ
سے دیا گیا ہے
اب ![]()
اس لیے، 
مثال 7: سمتیہ
کی سمت میں ایک سمتیہ معلوم کیجیے جس کی قدر 7 اکائی ہے۔
حل: دئیے ہوئے سمتیہ
کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے

اس لیے، سمتیہ جس کی قدر 7 کے برابر ہے اور
کی سمت میں ہے اس سے دیا گیا ہے

مثال 8: سمتیہ
کے حاصل جمع کی سمت میں اکائی سمتیہ معلوم کیجیے۔
حل: دیے ہوئے سمیتوں کاحاصل جمع ہے
مان لیجیے
اور ![]()
اس لیے، مطلوبہ اکائی سمتیہ ہے

مثال 9: سمتیہ
کی سمت نسبت لکھیے اور اس طرح اس کی سمت کوسائن بھی معلوم کیجیے۔
حل: یہ نوٹ کرلیجیے ایک سمتی
کی سمت نسبتیں c، b، a سمتیوں کے مناسب اجزا y، x اور z ہیں۔ اس لیے، دیے ہوئے سمتیہ کے لیے، ہمارے پاس ہے، b = 1, a = 1 اور c = – 2۔ اس کے آگے، اگر m،1 اور n دیے ہوئے سمتیہ کی سمت کوسائن ہیں، تب
کیونکہ
اس طرح،
سمت کوسائن ہیں۔
10.5.2 دونقاط کو ملانے والا سمتیہ (Vector joining two points)
اگر
کوئی بھی دونقاط ہیں، تب P1 اور P2 کو ملانے والا سمتیہ
ہے (شکل10.15)

مبدہ O سے نقاط P1 اور P2 کو ملانے پر، اور مثلث OP1P2 میں، مثلث قانون نافذ کرنے پر، ہمارے پاس ہے
![]()
سمتیہ جمع خصوصیت کا استعمال کرنے پر،مندرجہ بالا مساوات یہ ہوجاتی ہیں
![]()
یعنی۔؛ 
سمتیہ
کی قدر اس سے دی گئی ہے
![]()
مثال 10: وہ سمتیے معلوم کیجیے جو نقاط (P (2,3,0 اور (Q (–1,–2,–4 کوملارہاہے اور P سے Q کی سمت کی طرف جاتا ہے۔
حل: کیونکہ سمتیہ P سے Q کی طرف جاتا ہے، صاف طور پر P ایک ابتدائی نقطہ ہے اور Q آخری نقطہ۔ اس لیے، مطلوبہ سمتیہ جو P اور Q کو رہا ہے سمتیہ
ہے اور اس طرح دیا گیا ہے
یعنی۔؛

10.5.3 سیکشن فارمولہ (Section Formula)
مان لیجیے P اور Q دو نقاط ہیں جو کہ بالترتیب مقامی سمتیہ
سے مبدہ O کو مدنظر رکھتے ہوئے ظاہر کیے گئے ہیں۔ تب نقاط P اور Q کو ملانے والا قطعہ خط ایک تیسرے نقطہ، مان لیجیے R سے، دو طریقوں سے تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ اندرونی طور پر (شکل 10.16) اور بیرونی طور پرہماراارادہ (شکل 10.17)۔ یہاں ہم نقطہ R کے لیے مبدہ O کی مناسبت سے مقامی سمتیہ
کو معلوم کرنے کا ہے۔ ہم دونوں کیسوں کو ایک ایک کرکے لیتے ہیں۔
کیس I جب PQ، R کو اندرونی طور پر تقسیم کرتا ہے (شکل 10.16)

اگر
کو تقسیم کرتا ہے تاکہ
، جہاں m اور n مثبت عددیہ ہیں، ہم کہتے ہیں کہ
کو m:n نسبت میں اندرونی طور پر تقسیم کرتا ہے۔ اب مثلثوں ORQ اور OPR سے،ہمارے پاس ہے
![]()
اور ![]()
اس لیے، ہمارے پاس ہے
(کیوں؟)
یا
(آسان کرنے پر)
اس لیے، نقطہ R کا مقامی سمتیہ جو کہ P اور Q کو اندرونی طور پر m:n نسبت میں تقسیم کرتا ہے، اس طرح دیا گیا ہے

کیس II جب PQ، R کو بیرونی طور پر تقسیم کرتا ہے (شکل 10.17)۔ ہم نے اسے پڑھنے والے کے لیے ایک مشق کے طور پر چھوڑا ہے، یہ تصدیق کرنے کے لیے کہ نقطہ R کا مقامی سمتیہ جو کہ قطعہ خط PQ کو بیرونی طور پر m:n نسبت(یعنی۔،
) میں تقسیم کر رہا ہے، اس طرح دیا گیا ہے

ریمارک(Remark) اگر PQ، R کا درمیانی نقطہ ہے، تب m=n ہے۔ اور اس لیے، کیس I سے،
کا درمیانی نقطہ R، اپنا مقامی سمتیہ اس طرح رکھے گا 

مثال 11: دونقاط P اور Q جن کے مقامی سمتیہ
ہیں، پر غور کیجیے۔ ایک نقطہ R کا مقامی سمتیہ معلوم کیجیے جو کہ P اور Q کو ملانے والے خط کو2:1 میں تقسیم کرتا ہے، (i) اندرونی طورپر، اور (ii) بیرونی طور پر
حل:
(i) نقطہ R کا مقامی سمتیہ جو کہ P اور Q کو ملانے والے خط کو اندرونی طور پر 2:1 نسب میں تقسیم کر رہا ہے، یہ ہے

(ii) نقطہ R کی مقامی سمتیہ جو کہ P اور Q کو ملانے والے خط کو بیرونی طور پر 2:1 نسبت میں کاٹ رہا ہے، یہ ہے

مثال 12: دکھائیے کہ نقاط
ایک قائم زاوی مثلث کے راس ہیں۔
حل: ہمارے پاس ہے
اور 
اس کے آگے، نوٹ کیجیے کہ
![]()
اس لیے، مثلث ایک قائم زاوی مثلث ہے۔
مشق 10.2
1۔ مندرجہ ذیل سمتیوں کی قدر معلوم کیجیے:

2۔ دو مختلف سمتیے لکھیے جن کی قدر یکساں ہو۔
3۔ دو مختلف سمتیے لکھیے جن کی سمت یکساں ہو۔
4۔ x اور y کی قدریں معلوم کیجیے تاکہ سمتیے
برابر ہوں۔
5۔ اس سمتیہ کے لیے عددیہ اور سمتیہ اجزا معلوم کیجیے جس کا ابتدائی نقطہ (2,1) اور آخری نقطہ (5,7–) ہے۔
6۔ سمتوں
کا حاصل جمع معلوم کیجیے۔
7۔ سمتیہ
کی سمت میں اکائی سمتیہ معلوم کیجیے۔
8۔ سمتیہ
کی سمت میں اکائی سمتیہ معلوم کیجیے، جہاں P اور Q بالترتیب (1,2,3) اور (4,5,6) نقاط ہیں۔
9۔ دیے ہوئے سمتیہ
کے لیے، سمتیہ
کی سمت میں اکائی سمتیہ معلوم کیجیے۔
10۔ ایک سمتیہ
کی سمت میں ایک سمتیہ معلوم کیجیے جس کی قدر 8 اکائی ہے۔
11۔ دکھائیے کہ سمتیہ
ہم خط ہیں۔
12۔ سمتیہ
کی سمت کو سائن معلوم کیجیے۔
13۔ سمتیہ کی کوسائن معلوم کیجیے جو کہ نقاط (A (1,2,–3 اور (B (–1,–2,1 کے ملنے سے بنا ہے اور A سے B کی طرف جاتا ہے۔
14۔ دکھائیے کہ سمتیہ
، OY، OX اور OZمحوروںپر برابر جھکا ہوا ہے۔
15۔ ایک نقطہ R کا مقامی سمتیہ معلوم کیجیے جو کہ نقاط P اور Q سے بننے والے خط کو تقسیم کرتا ہے اور جس کے مقامی سمتیہ بالترتیب 2:1 نسبت میں
ہیں۔
(i) اندرونی طور پر (ii) بیرونی طور پر
16۔ نقاط (P(2,3,4 اور (Q(4,1,–2 کو ملانے والے سمتیہ کے درمیانی نقطہ کے مقامی سمتیہ معلوم کیجیے۔
17۔ دکھائیے کہ نقاط B، A اور C بالترتیب مقامی سمتیہ
اور
کے ساتھ ایک قائم زاوی مثلث کے راس بناتے ہیں۔
18۔ مثلث ABC (شکل 10.18) میں، درج ذیل میں کون سادرست نہیں ہے:

19۔ اگر
دو ہم خط سمتیہ ہیں، تب مندرجہ ذیل میں کون سے غلط ہیں:
(A)
کسی عددی کے لیے
(B) ![]()
(C)
کے اجزاآپس میں تناسب میں ہیں
(D) سمتیوں کی سمتیں یکساں
دونوں ہیں،لیکن قدر مختلف ہیں۔
10.6 دو سمتیوں کا حاصل ضرب (Product of Two Vectors)
ابھی تک ہم نے سمتیوں کے حاصل جمع اور تفریق کے بارے میں ہی مطالعہ کیا ہے۔ ایک دوسرا الجبریائی عمل جس کے بارے میں ہم بحث کرنا چاہتے ہیں وہ سمتیوں کا حاصل ضرب ہے۔ ہم یہ یاد کرسکتے ہیں کہ دو اعداد کا حاصل ضرب ایک عدد ہے، دوماترس کا حاصل ضرب پھر دوبارہ ایک ماترس ہے۔ لیکن تفاعل کہ کیس میں ہم انھیں دو طرح سے ضرب کرسکتے ہیں، جن کے نام ہیں نقطوں کے طرز پر دو تفاعلات کی ضرب اور دو تفاعلات کا ترکیب اجزائی۔ اسی طرح، دو سمتیوں کی ضرب بھی دو طریقے سے بیان کی گئی ہے، جن کے نام ہیں، عددیہ (یانقطہ) حاصل ضرب جہاں نتیجہ ایک عددیہ ہے اور سمتیہ (یاکراس) حاصل ضرب جہاں نتیجہ ایک سمتیہ ہے۔ ان سمتیوں کے لیے دو طرح کے حاصل ضرب پرمبنی، ان کی جیومیٹری،مکینکس اور انجینئرنگ میں بہت سے عملوں میں ضرورت پائی گئی ہے ۔اس سیکشن میں ہم حاصل ضرب کے ان دوطریقوں پر بحث کریں گے۔
10.6.1 عددیہ (یانقطہ) دو سمیتوں کا حاصل ضرب (Scalar (or dot) product of two vectors)
تعریف 2: دو غیر صفر سمتیوں
کا حاصل، جو کہ
سے ظاہر کیا گیا ہے، اس طرح بیان کیا گیا ہے
![]()
جہاں،
کے درمیان میں زاویہ θ ہے،
(شکل 10.19)

اگر کوئی بھی
=
ہے یا
=
ہے، تب θ بیان نہیں کیا گیا ہے، اور اس کیس میں ہم 0 =![]()
بیان کرتے ہیں۔
مشاہدات
1۔
ایک حقیقی عدد ہے۔
2۔ مان لیجیے
دو غیر صفر سمتیہ ہیں، تب 0 =
ہے اگر اور صرف اگر
دونوں ایک دوسرے کے عمود ہیں، یعنی۔؛
![]()
3۔ اگر 0 = θ ہے، تب ![]()
خاص طور پر
، جیساکہ اس صورت میں 0 ،θ ہے
4۔ اگر
ہے، تب ![]()
خاص طور پر
، جیساکہ اس کیس میں
ہے۔
5۔ مشاہدات 2 اور 3 کے حوالے سے، باہمی عمودی اکائی سمتیوں
کے لیے، ہمارے پاس ہے

6۔ دوغیر صفر سمتیوں
کے درمیان زاویہ اس طرح دیا گیا ہے

7۔ عددیہ حاصل ضرب تقلیبی ہے،یعنی۔،
(کیوں؟)
عددیہ حاصل ضرب کی دو اہم خصوصیات(Two important properties of scalar product)
خصوصیت 1: (جمع پر عددیہ حاصل ضرب کی تقسیمی خصوصیت)۔ مان لیجیے
وئی بھی تین سمتیہ ہیں، تب
![]()
خصوصیت 2: مان لیجیے
کوئی بھی دوسمتیہ ہیں، اور λ کوئی بھی عددیہ ہے۔ تب
![]()
اگر دوسمتیہ
اجزائی شکل
میں دئیے گئے ہیں، تب ان کی عددیہ حاصل ضرب اس طرح دی گئی ہے۔

(اوپر کی 1 اور 2 خصوصیات استعمال کرنے پر)
(مشاہدہ 5 کا استعمال کرنے پر)
اس طرح ![]()
10.6.2 ایک خط پر ایک سمتی کی تظلیل (Projection of a vector on a line)
مان لیجیے سمتیہ
ایک دی ہوئی سمت دارتغیر خط l کے ساتھ گھڑی کی مخالف سمت میں ایک زاویہ θ بناتا ہے (مان لیجیے)۔ (شکل 10.20) تب
کا خط l پرتظلیل ایک سمتی
ہے (مان لیجیے) جس کی قدر cosθ
ہے، اور
کی سمت کیونکہ یکساں ہے (یامخالف ہے) خط l پر جو کہ اس پر منحصر ہے، کہ کیا cosθ مثبت ہے یا منفی۔ سمتیہ
کی تظلیل کہلاتا ہے، اور اس کی قدر
سمتی
کا سمت دار خط l پرتظلیل کہلاتی ہے۔

مثال کے طور پر، ہر ایک درج ذیل شکلوں میں (شکل 10.20(i) تا (iv) )
کی تظلیل خط l کے ساتھ سمتیہ
ہے۔
مشاہدات
1۔ اگر
خط l کے ساتھ اکائی سمتیہ ہے، تب خط l پر ایک سمتیہ
کی تظلیل
سے دی گئی ہے۔
2۔ ایک سمتی
کی تظلیل سمتیہ
پر، اس طرح دی گئی ہے

3۔ اگر 0= θ ہے، تب
کی تظلیل بخود
ہوگی اور اگر
ہے، تب
کی تظلیل
ہوگی۔
4۔ اگر
ہے، تب
کا ابھرا ہوا سمتی صفر سمتی ہوگا۔
ریمارک(Remark): اگر سمتیہ
کے β, a اور λ سمتیہ زاویہ ہیں، تب اس کے سمت کو سائن اس طرح دیے جاسکتے ہیں

ساتھ ہی یہ نوٹ کرلیجیے کہ
بالترتیب
کی ، OY، OX اور OZ کی تظلیل ہیں۔ یعنی۔، اجزا a2, a1 اور a3 سمتی
کے موٹے طور پر بالترتیب
کے x-محور، y-محور اور z-محور کی تظلیل ہیں۔ اس کے آگے، اگر
ایک اکائی سمتیہ ہے، تب اسے سمت کوسائن میں اس طرح ظاہر کیا جاسکتا ہے
![]()
مثال 13: دوسمتیوں
جن کی قدر بالترتیب 1 اور 2 ہے کا درمیانی زاویہ معلوم کیجیے جب کہ
ہے
حل: دیا گیا ہے
۔ ہمارے پاس ہے

مثال 14: سمتیوں
کے درمیان زاویہ θ معلوم کیجیے۔
حل: دوسمتیوں
کے درمیان زاویہ θ اس طرح دیا گیا ہے

اب ![]()
اس لیے، ہمارے پاس ہے 
اس لیے، مطلوبہ زاویہ ہے 
مثال 15: اگر
ہے، تب دکھائیے کہ سمتیہ
ایک دوسرے پر عمود ہیں۔
حل: ہم جانتے ہیں کہ دو غیر صفر سمتیہ اگر ان کا عددیہ حاصل ضرب صفر ہے، تو ایک دوسرے پر عمود ہیں ۔
یہاں ![]()
اور ![]()
اس طرح، ![]()
اس لیے
عمودی سمتیے ہیں۔
مثال 16: سمتیے
کا سمتیہ
پرتظلیل معلوم کیجیے۔
حل: سمتیے
تظلیل سمتیہ
پر اس طرح دیا گیا ہے

مثال 17:
معلوم کیجیے، اگر دو سمتیہ
اس طرح کہ
ہے
حل: ہمارے پاس ہے

اس لیے ![]()
مثال 18: اگر
ایک اکائی سمتیہ ہے اور
ہے، تب
معلوم کیجیے۔
حل: کیونکہ
ایک اکائی سمتیہ ہے،
ہے۔ ساتھ ہی،
یا 
یا ![]()
اس لیے
(کیونکہ ایک سمتیہ کی قدر غیر منفی ہے)
مثال 19: کن ہی دو سمتیوں
کے لیے، ہمارے پاس ہمیشہ
ہے (کوچے شوارئس نامساوات)
حل: نامساوات ادنیٰ طور پر لاگو ہوتی ہے جب کہ یا تو
۔ اصلیت میں، اس طرح کے حالات میں ہمارے پاس
ہے۔ اس طرح، ہمیں ماننا چاہیے کہ
۔
تب، ہمارے پاس ہے 
اس لیے ![]()
مثال 20: کن ہی دو سمتیوں
کے لیے، ہمارے پاس ہمیشہ
ہے (مثلی نامساوات)
حل: اس کیس میں نامساوات کوئی بھی
ادنیٰ طور پر لاگو ہے۔ (کس طرح؟)۔ اس طرح مان لیجیے
تب،

(عددیہ حاصل ضرب تقلیبی ہے)
(کیونکہ
)
(مثال 19 سے)
اس لیے، 
ریمارک(Remark): اگر برابر مثلثی غیرمساوات مطمئن ہے (مندرجہ بالا مثال 20 میں) یعنی۔،
تب 
جو دکھاتا ہے کہ نقاط B ، A اور C ہم خط ہیں۔
مثال 21: دکھائیے کہ نقاط
ہم خط ہیں۔
حل: ہمارے پاس ہے

اس لیے ![]()
اس لیے B، A اور C ہم خط نقاط ہیں
نوٹ: مثال 21 میں، کوئی بھی یہ سمجھ کرسکتا ہے کہ
ہے حالانکہ لیکن نقاط B، A اور C ایک مثلث کے راس نہیں بناتے۔
مشق 10.3
1۔ دوسمتیوں
کے درمیان زاویہ معلوم کیجیے جن کی وسعت بالترتیب
اور 2 ہے اور
ہے۔
2۔ سمتیہ
کے درمیان زاویہ معلوم کیجیے۔
3۔ سمتیہ
کا سمتیہ
پرتظلیل معلوم کیجیے۔
4۔ سمتیہ
کا سمتی
پرتظلیل معلوم کیجیے۔
5۔ دکھائیے کہ دیے ہوئے تین سمتیوں میں ہر ایک سمتیہ ایک اکائی سمتیہ ہے:

ساتھ ہی، دکھائیے کہ یہ ایک دوسرے پر باہمی عمودی ہیں۔
6۔
معلوم کیجیے، اگر
ہے۔
7۔
کے حاصل ضرب کی قدر کا اندازہ لگائیے۔
8۔ دوسمتیوں
کی قدر معلوم کیجیے، جن کی قدریکساں ہے اور تاکہ ان کا درمیانی زاویہ60º کا ہے اور ان کا عددیہ حاصل ضرب ½ ہے۔
9۔
معلوم کیجیے، اگر اکائی سمتیہ
کے لیے
ہے۔
10۔ اگر
ہیں جب کہ
پر عمود ہے، تب λ کی قدرمعلوم کیجیے۔
11۔ دکھائیے کہ کن ہی دو غیر صفر سمتیوں
کے لیے
پر عمود ہے۔
12۔ اگر
ہے، تب سمتیہ
کے بارے میں کیا نتیجہ نکالا جاسکتا ہے؟
13۔ اگر
اکائی سمتیہ ہیں تاکہ
ہے، تب
کی قدر معلوم کیجیے۔
14۔ اگر سمتی
ہے۔ لیکن اس کا معکوس ضروری نہیں ہے کہ صحیح نہیں ہے۔ اپنے جواب کی ایک مثال کی مدد سے وضاحت کیجیے۔
15۔ اگر ایک مثلث ABC کے راس B ، A اور C بالترتیب (1,2,3) ( 1,0,0 –) اور (0,1,2) ہیں، تب
معلوم کیجیے۔ (
سمتی
کے درمیان زاویہ ہے)۔
16۔ دکھائیے کہ نقاط
ہم خط ہیں۔
17۔ دکھائیے کہ سمتیہ
ایک قائم زاوی مثلث کے راس ہیں۔
18۔ اگر
ایک غیر صفر سمتیہ ہے جس کیقدر 'a' ہے اور λ ایک غیر صفر عددیہ ہے، تب
λ ایک اکائی سمتیہ ہے اگر

10.6.3 دوسمتیوں کا سمتیہ (یا کراس) حاصل ضرب (Vector (or cross) product of two vectors)
سیکشن 10.2 میں ہم نے تین ماپی سیدھے ہاتھ کے مستطیلی منحنی نظام کے بارے میں بحث کی ہے۔ اس نظام میں جب مثبت x–محورگھڑی کو سویوں کی سمت میں(clock wise) کی طرف مثبت y–محور میں گھمائی جاتی ہے، سیدھے ہاتھ کی طرف مثبت z–محور کی سمت میںپیچ (معیاری) آگے کی طرف بڑھتا ہے (شکل 10.22 (i)۔
سیدھے ہاتھ والے مختص نظام میں، سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا z-محور کی مثبت سمت میں اشارہ کرتاہے، جب کہ انگلیاں مثبت x-محور کی سمت سے مثبت y-محور کی سمت میں آگے کی طرف بڑھ جاتی ہیں۔ (شکل 10.22(ii)۔

تعریف 3: دوغیر صفر سمتیوں
کا سمتیہ حاصل ضرب
سے ظاہر کیا گیا ہے جیسا کہ اس طرح بیان کیا گیا ہے
![]()
جہاں
کے درمیان زاویہ θ ہے،
دونوںسمتیوں
پرایک اکائی عمودی ہے،تاکہ
ایک سیدھے ہاتھ کا قانون بناتے ہیں (شکل 10.23)، یعنی؛ سیدھے ہاتھ کا نام جو کہ
سے
کی طرف
کی سمت میں گھومتا ہے۔

اگر کوئی بھی
ہے، تب θ بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس حالت میں ہم
بیان کرتے ہیں
مشاہدات
1۔
ایک سمتیہ ہے۔
2۔ مان لیجیے
دو غیرصفر سمتیہ ہیں۔ تب
اگر اور صرف اگر
ایک دوسرے کے متوازی ہیں (یا ہم خط)، یعنی۔،
![]()
خاص طور پر،
، کیونکہ پہلی حالت میں، 0=θ ہے اور دوسری حالت میں
ہے، جو کہ sinθ کی قدر کو 0 بنارہاہے۔
3۔ اگر
ہے، تب ![]()
4۔ باہمی عمودی اکائی سمیتوں
کے لیی مشاہدات 2 اور 3 کا خیال رکھتے ہوئے، (شکل 10.24)، ہمارے پاس ہے

5۔ سمتیہ حاصل ضرب کی شکل میں، دو سمتیوں
کا درمیانی زاویہ اس طرح بھی دیا جاسکتا ہے

6۔ یہ ہمیشہ صحیح ہے کہ سمتیہ حاصل ضرب تقلیبی نہیں ہے، کیونکہ
۔اصلیت میں
ہے، جہاں
ایک سیدھے ہاتھ کا نظام بناتے ہیں، یعنی۔،
تک جاتا ہے، شکل 10.25(i)۔ جب کہ
، ایک سیدھے ہاتھ کا نظام بناتے ہیں، یعنی۔،
تک گزرتا ہے۔شکل10.25 (ii)

اس طرح، اگر ہم یہ تصورکریں کہ
کاغذ کی مستوی میں واقع ہیں، تب دونوں
دونوں کاغذ کی مستوی میں عمود ہوں گے۔ لیکن،کیونکہ
کاغذ کے اوپر سمت وار ہے جب کہ
کاغذ کے نیچے سمت وار ہے، یعنی۔، ![]()
اس لیے،
7۔ 4 اور 6 مشاہدات کا خیال رکھتے ہوئے، ہمارے پاس ہے
![]()
8۔ اگر
ایک مثلث کے متصل ضلعوں کو ظاہر کرتے ہیں تب اس کا رقبہ اس طرح دیا گیا ہے۔

مثلث کے رقبہ کی تعریف سے ہمارے پاس شکل 10.26 سے ہے

مثلث ABC کا رقبہ 
لیکن
(جیسا کہ دیا گیا ہے) اور ![]()
اس طرح، مثلث ABC کا رقبہ 
9۔ اگر
ایک متوازی الا ضلاع کے برابر کے اضلاع کوظاہر کرتے ہیں، تب اس کا رقبہ
سے دیا گیا ہے۔
شکل 10.27 سے، ہمارے پاس ہے

متوازی اضلاع ABCDکا رقبہ = AB. DEلیکن
(جیسا کہ دیا گیا ہے)، اور ![]()
اس طرح،
متوازی الاضلاع ABCD کا رقبہ =
= ![]()
ہم اب سمتیہ حاصل ضرب کی دو خاص خصوصیات کو بیان کرتے ہیں۔
خصوصیت 3 (جمع پر سمتیہ حاصل ضرب کی تقسیمی خصوصیت): اگر
وئی بھی تین سمتیے ہیں اور λ ایک عددیہ ہے، تب

مان لیجیے
دو سمتیہ ہیں جو کہ بالترتیب اجزائی شکل میں
کی شکل میں دیے گئے ہیں۔ تب ان کا کراس حاصل ضرب اس طرح دیا جاسکتا ہے

سمجھانا۔ ہمارے پاس ہے


مثال 22: 
حل: ہمارے پاس ہے

اس طرح، 
مثال 23: ہر ایک سمتی
کے لیے ایک اکائی عمودی سمتیہ معلوم کیجیے، جہاں ![]()
ہے۔
حل: ہمارے پاس ہے ![]()
ایک سمتی جو دونوں
پر عمود ہے اس سے دیا گیا ہے
(مان لیجیے=
ہے)
اب 
اس لیے، مطلوبہ اکائی سمتیہ ہے

نوٹ: کسی بھی مستوی کے لیے دو عمودی سمتیے ہیں۔ راسی طرح،
پر ایک دوسرا اکائی عمودی سمتی
ہوگا۔ لیکن وہ
کا نتیجہ ہوگا۔
مثال 24: ایک مثلث کا رقبہ معلوم کیجیے جس کے راس نقاط
ہیں۔
حل: ہمارے پاس ہے
۔ دیے ہوئے مثلث کا رقبہ
ہے۔
اب، 
اس لیے 
اس لیے، مطلوبہ رقبہ
ہے۔
مثال25 : ایک متوازی الاضلاع کا رقبہ معلوم کیجیے جس کے برابر کے اضلاع سمتوں
اور
سے دئیے گئے ہیں۔
حل: متوازی الاضلاع کا رقبہ جس کے برابر کے اضلاع
ہیں،
سے دیا گیا ہے
اب 
اس لیے ![]()
اور اس طرح، مطلوبہ رقبہ
ہے۔
مشق 10.4
1۔
معلوم کیجیے، اگر
ہے
2۔ ایک اکائی سمتیہ معلوم کیجیے جوکہ ہر ایک سمتیہ
پر عمود ہے، جہاں
اور
ہے۔
3۔ اگر ایک اکائی سمتیہ
کے ساتھ
کا زاویہ بناتا ہے،
کے ساتھ
کا اور
کے ساتھ زاویہ حادہ θ ، تب معلوم کیجیے اور اس طرح،
کے اجزا بھی
4۔ دکھائیے کہ ![]()
5۔ λ اور μ دریافت کیجیے اگر ![]()
6۔ دیا ہوا ہے کہ
یں۔ آپ سمیتوں
کے بارے میں کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں؟
7۔ مان لیجیے کہ سمتی
،کی طرح
دیے گئے ہیں۔ تب دکھائیے کہ ![]()
8۔ اگر
ہے، تب
ہے۔ کیا اس کا معکوس درست ہے؟ اپنے جواب کی وضاحت ایک مثال کے ذریعہ کیجیے۔
9۔ ایک مثلث کا رقبہ معلوم کیجیے جس کے راس
ہیں۔
10۔ ایک متوازی الاضلاع کا رقبہ معلوم کیجیے جس کے برابر کے اضلاع سمیتوں
اور
سے ظا ہر کیے گئے ہیں۔
11۔ مان لیجیے کہ سمتیہ
اس طرح ہیں کہ
ہے ، تب
ایک اکائی سمتیہ ہے، اگر
کے درمیان کا زاویہ ہے

12۔ ایک مستطیل کا رقبہ جس کے راس C، B، A اور D ہیں اور جس کے مقامی سمتیہ بالترتیب
ہیں، یہ ہے
4 (D) 2 (C) 1 (B) (A)
متفرق مشقیں
مثال 26: xy-مستوی میں تمام اکائی سمتیہ لکھیے۔
حل: مان لیجیے xy-مستوی میں
ایک اکائی سمتیہ ہے (شکل 10.28)۔ تب شکل سے ہمارے پاس
)۔ اس لیے، ہم سمتیہ
کو اس طرح لکھ سکتے ہیں
صاف طور پر 

ساتھ ہی، جیسے O , θ سے
کی طرف بڑھتا ہے، نقطہ P گھڑی کی سویوں کی سمت میں (شکل 10.28) دائرہ
بناتاہے، اوریہ تمام ممکن سمتوں کو ڈھک لیتا ہے۔ اس طرح (1)، xy-مستوی میں ہر ممکن اکائی سمتیہ دے دیتاہے۔
مثال 27: اگر
بالترتیب نقاط C، B، A اور D کے مقامی سمتیے ہیں، تب
کے درمیان زاویہ معلوم کیجیے۔ دکھائیے کہ
ہم خط ہیں۔
حل: یہ نوٹ کرلیجیے کہ AB , θ اور CD کے درمیان زاویہ θ ہے، تب،
کے درمیان میں بھی زاویہ θ ہے۔
اب A کامقامی سمتیہ – B کامقامی سمتیہ =
![]()

کیونکہ
حاصل ہے۔ یہ، یہ ثابت کرتا ہے کہ
ہم خط ہیں۔
متبادل کے طور پر،
، جس کا مطلب ہے
ہم خط سمتیہ ہیں۔
مثال 28: مان لیجیے
تین سمتیے ہیں، تاکہ
ہیں اور کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے دو کے مجموعہ پر عمود ہے،
معلوم کیجیے۔
حل:
دیاہواہے

مثال 29: تین سمتیہ
شرط
کو مطمئن کرتے ہیں۔ مقدار
کی قدر کا اندازہ لگائیے، اگر
ہے۔
حل: کیونکہ
ہے، ہمارے پاس ہے

اس لیے 

(1)، (2) اور (3) کو جمع کرنے پر، ہمارے پاس ہے
یا 
مثال 30: اگر سیدھے ہاتھ کے باہمی عمود اکائی نظام کے حوالے سے سمتیہ ![]()
کے لیے ہیں، تب
کی شکل میں دکھائیے، جہاں
کے متوازی ہے اور
پر عمود ہے۔
حل: مان لیجیے
ہے، جہاں λ ایک عددیہ ہے، یعنی۔،
اب 
اب کیونکہ
پر عمود ہونا چاہیے، ہمارے پاس ہونا چاہیے
،یعنی۔،
یا 
اس لیے
باب 10 پر مبنی متفرق مشقیں
1۔ xy-مستوی میں ایک اکائی سمتیہ لکھیے، جو کہ x-محور کی مثبت سمت میں 30º کا زاویہ بنارہا ہے۔
2۔ نقاط
سے مل کر بننے والے سمتی کے عددیہ اجزا اور قدر معلوم کیجیے۔
3۔ ایک لڑکی مغرب کی طرف 4 کلومیٹر چلتی ہے، اور تب وہ 30º مشرق کی طرف شمال کے لیے 3 کلومیٹر چلتی ہے اور رک جاتی ہے۔ لڑکی کا اس کے ابتدائی نقطہ سے طے کیا ہوا فاصلہ معلوم کیجیے۔
4۔ اگر
صحیح ہے؟ اپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔
5۔ x کی وہ قدر معلوم کیجیے جس کے لیے
ایک اکائی سمتیہ ہے۔
6۔ ایک سمتیہ معلوم کیجیے جس کی قدر 5 اکائی ہے، اور دو سمتیوں
کے نتیجہ کے متوازی ہے۔
7۔ اگر
ہے، تب ایک اکائی سمتیہ معلوم کیجیے جو کہ سمتیہ
کے متوازی ہے۔
8۔ دکھائیے کہ نقاط
ہم خط ہیں، اور وہ نسبت معلوم کیجیے جس میں B، AC کو تقسیم کرتا ہے۔
9۔ ایک نقطہ R کا مقامی سمتیہ معلوم کیجیے جو کہ دو نقاط P اور Q سے ملنے والے خط کو باہری طور پر 1:2 نسبت میں تقسیم کرتی ہے اور جس کے مقامی سمتیہ
ہیں۔ ساتھ ہی، دکھائیے کہ P قطع خط PQ کا درمیانی نقطہ ہے۔
10۔ ایک متوازی الاضلاع کے دو برابر کے ضلع
ہیں۔ اس کے وتر کے متوازی اکائی سمتیہ معلوم کیجیے۔ اور ساتھ ہی، اس کا رقبہ بھی معلوم کیجیے۔
11۔ دکھائیے کہ ایک اکائی سمتیہ کے سمت کو سائن محوروں OY، OX اور OZ پر برابر جھکے ہوئے ہیں اور وہ
ہیں۔
12۔ مان لیجیے
ہیں۔ ایک سمتیہ
معلوم کیجیے جو کہ دونوں
پر عمود ہے اور ![]()
13۔ سمتی
کاایک اکائی سمتیہ کے ساتھ، سمتیوں
کے حاصل جمع کا عددیہ حاصل ضرب ایک ہے۔ λ کی قدر معلوم کیجیے۔
14۔ اگر
یکساں قدر کے باہمی عمودی سمتیہ ہیں، تو دکھائیے کہ سمتیہ
ر برابر کا جھکا ہوا ہے۔
15۔ ثابت کیجیے کہ
ہے، اگر اور صرف اگر
عمودی ہیں، دیا ہوا ہے کہ ![]()
سوال 16 تا 19 میں صحیح جوابات کاانتخاب کیجیے۔
16۔ اگر دوسمتیوں
کے درمیان θ ایک زاویہ ہے، تب صرف
ہے جب کہ

17۔ مان لیجیے،
دو اکائی سمتیہ ہیں، اور θ ان کے درمیان زاویہ θ ہے۔ تب
+
ایک اکائی سمتیہ ہے اگر

18۔
کی قدر ہے
3 (D) 1 (C) − 1 (B) 0 (A)
19۔ اگرکن ہی دوسمتیوں
کے درمیان زاویہ θ ہے، تب
ہے، جب کہ θ برابر ہے
(D) (C) (B) 0 (D)
خلاصہ (Summary)
• ایک نقطہ (P (x,y,z کامقامی سمتیہ
سے دیا گیا ہے، اور اس کی قدر
دی گئی ہے۔
• ایک سمتیہ کے عددیہ اجزا اس کی سمت نسبتیں ہیں اور اس کی تظلیل حصہ اس کی اپنی محوروں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔
• قدر (r) ، سمت نسبتیں (a,b,c) اور سمت کو سائن (l,m,n) کسی بھی سمتیہ کے اس طرح رشتہ رکھتے ہیں۔

• مثلث کے تین اضلاع کاسمتیہ حاصل جمع ترتیب میں
ہے
• دو ہم ابتدائی سمتیوں کا سمتی حاصل جمع متوازی الاضلاع کے وتر سے دیا گیا ہے، جس کے برابر کے اضلاع دیے ہوئے سمتیہ ہیں۔
• ایک دیے ہوئے سمتیہ کی ایک عددیہ λ سےضرب ، سمتیہ کی قدر| λ| کے ضریب سے بدل دیتی ہے اور سمت یکساں رکھتی ہے (یا اسے مخالف بنادیتی ہے)، جیسا کہ λ کی قدر مثبت ہے (یا منفی)ہے۔
• ایک دئیے ہوئے سمتیہ
کے لیے، سمتیہ
کی سمت میں اکائی سمتیہ دیتا ہے۔
• ایک نقطہ R کے مقامی سمتیہ ایک قطع خط کوتقسیم کررہے ہیں جو کہ نقاط P اور Q سے مل کر بناہے اورجس کے مقامی سمتیہ بالترتیب
ہیں، جوکہ نسبت m:n میں ہیں۔
(i) اندرونی طور پر، دیا گیا ہے 
(ii) بیرونی طور پر دیا گیا ہے 
• دو دئیے ہوئے سمتیوں
جن کے درمیان کا زاویہ θ ہے، کا عددیہ حاصل ضرب اس طرح بیان کیا گیا ہے
![]()
ساتھ ہی، جب کہ
،
دیاگیا ہے، تب سمتیوں
،
کادرمیانی زاویہ کے درمیان کا زاویہ θ اس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے

• اگر دو سمتوں
کے درمیان کا زاویہ θ ہے، تب ان کا کراس حاصل ضرب اس طرح دیا گیا ہے
![]()
جہاں
ایک اکائی سمتیہ ہے اور مستوی کے عمودی ہے جس میں
موجود ہیں۔ تاکہ
مختص محوروں کا سیدھے ہاتھ کا نظام بناتے ہیں۔
• اگر ہمارے پاس دو سمتیہ
وجود ہیں، جو کہ اجزائی شکل میں اس طرح دئیے گئے ہیں
کوئی بھی عددیہ ہے۔

تاریخ کے اوراق سے
سمتی (vector)لفظ لاطینی لفظ ویکٹس (Vectus)سے بناہے، جس کا مطلب ہے ’’لے جانا‘‘ جدید سمتی نظریہ کی پیدائش کے خیالات کی تاریخ تقریباً 1800ہے جب کیسپرویسل) (1745-1818 Caspar Wessel جین روبرٹ آرگنڈ (1768-1822) Jean Robert Argand نے بیان کیا کہ کس طرح پیچیدہ عدد' a + ibکی اک مخفی مستوی میں سمت وار قطع خط کی مواد سے وضاحت کی جاتی ہے۔ ایک آئیر لینڈ کارہنے والا ریاضی داں ولیم رووین ہیملٹن (1805-1865) William Rowen Hamilton پہلا شخص تھاجس نے اپنی کتاب (Lectures on Quaternions (1853 میں سمت وار قطع خط کے لیے سمتی لفظ کا استعمال کیا۔ ہیملٹن کے طریقے میں (چار حقیقی اعداد والا ایک تربیتی سیٹ جو اس طرح دیا گیا ہے:
، جس میں کچھ الجبرے کے اصول استعمال کیے گئے ہیں) سہ ابعادی خلا میں ضربی سمتوں کے مسئلہ کا حل تھا۔ حالانکہ، ہمیں یہا ںمشق میں یہ بتانا ضروری ہے کہ سمتی کے تصور کا خیال اور ان کا مجموعہ پہلے سے ہی ارستو 384-3558 B.C. ) Aristotle )کے وقت سے معلوم تھا، جو کہ گریک کے ایک مشہور فلسفی تھے، اورپلیٹو (427-348 B. C.) Platoکے شاگرد تھے۔ اس وقت یہ مانا جاتا تھا کہ دو یا دو سے زیادہ قوتوںکا مجموعی عمل متوازی الاضلاع قانون سے مجموعہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ ترکیب اجزائی قوتوں کا صحیح قانون، کہ قوتیں راسی طورپر جمع ہوتی ہیں، اسٹیون سمتی Stevin-Simon (1548-1620) کے ذریعہ عمودی قوتوں کے کیس میں معلوم کیا جا چکا تھا۔ 1586، اے۔ڈی میں اس نے اپنے رسالہ DeBeghinselen der Weeghconst (’’وزن کرنے کی فن کاری کے اصول‘‘)میں قوتوں کے مجموعہ کے جیومیٹریائی اصول پر نظر ثانی کی، لیکن سمتوں کے عام نظریہ کو بنانے میں پھر 200سال لگ گئے۔
1880میں جوزہ ولارڈگبس (Josaih Willard Gibbs (1839-1903 ، ایک امریکی ماہر فزکس اور ریاضی داں، اور اولیور ہیویسائیڈOliver Heaviside (1850-1925)، ایک برطانوی انجیئر، نے جسے اب ہم سمتی تحلیل vector analysisکہتے ہیں کو ضروری طورپر حقیقی (عددیہ ) حصہ کو اس کے غیر حقیقی (سمتی) حصہ سے الگ کرکے بنا یا۔ 1881اور1884 میں گبس نے ایک رسالہ شائع کیا جس کا نام Element of Vector Analysisتھا۔ اس کتاب نے سمتیوں کو ایک طریقہ وار اور چھوٹے ازنداز سے سمجھایا۔ حالانکہ، سمتوں کے استعمال کو سمجھانے کا زیادہ تر سہرا ،ڈی۔ہیبوی سائیڈ D. Heavisideاور پی۔جی ۔ٹیٹP.G. Tait (1831-1901) کے سر بندھا، جنہوں نے اس مضمون کی خاص امداد کی۔