Skip to content
Keemiyan II



حصّۂ نثر



مختصر مضمون 

اردو میں مختصر مضمون نگاری کا آغاز سرسید سے ہوتا ہے ،انہوں نے اس صنف کو سماجی اصلاح کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا ۔اس کے بعد مضمون نگاری بھی ایک صنف کی حیثیت سے رائج ہو گئی ۔سماجی موضوعات کے علاوہ علمی،ادبی ،فلسفیانہ ،سائنسی،سوانحی اور دیگر موضوعات پر بھی مضامین لکھے گئے ہیں ۔حالی ،شبلی ،محمد حسین آزاد،نذیر احمد ،میر ناصر علی ،نیاز فتح پوری ،رشید احمد صدیقی،مرزا فرحت اللہ بیگ ،ابولکلام آزاد اور خواجہ غلام السیدین وغیرہ اردو کے اہم مضمون نگاروں میں شمار ہوتے ہیں ۔

مختصر مضمون کی ایک شکل انشائیہ کہلاتی ہے ۔انشائیہ اور مضمون میں کوئی خاص فرق نہیں ۔لیکن عام طور پر انشائیہ میں مزاح اور طنز یا خوش مزاجی کا رنگ ہوتا ہے اور انشائیہ نگار اکثر باتیں اپنے حوالہ سے یا اکثر اپنے ہی بارے میں بیان کرتا ہے۔ 


میگھالیہ


 اونچے نیچے خوبصورت پہاڑی سلسلے، گہری کھائیاں اور اُن کے درمیان راگ الاپتی، آڑی ترچھی بل کھاتی ہوئی ندیاں، اور پہاڑوں کی چوٹیوں سے گرتے ہوئے آبشار سیّاحوں کو دعوتِ نظّارہ دیتے ہیں۔ یہ خوبصورت صوبہ ’’میگھالیہ‘‘ کہلاتا ہےجسے 2اپریل 1970 میں آسام کے جنوبی حصّہ گارو، کھاسی اور جنیتیا پربتوں کے علاقوں کو الگ کرکے تشکیل دیا گیا ہے۔اس کے  شمال میں صوبۂ آسام اورجنوب مغرب میں بنگلہ دیش ہے۔اس کا کُل رقبہ بائیس ہزار پانچ سو مربّع کلو میٹر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً دس لاکھ ہے۔

10

 سال بھر یہ صوبہ بادلوں سے ڈھکا رہتا ہے۔اسی لیے اسے میگھالیہ (بادلوں کا گھر) کہتے ہیں۔ یہاں چھوٹے اور نیچے پہاڑی سلسلے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ زمین پٹھاری اور اونچی نیچی ہے۔ یہاں کا سب سے اونچا پٹھاری علاقہ ’’شیلانگ پیک‘‘ کہلاتا ہے۔یہ چھے ہزار پانچ سو فٹ بلند ہے۔ برہم پُتر یہاں کی سب سے بڑی ندی ہے اور اُس میں ملنے والی دوسری بیسیوں ندیاں اس علاقے میں بہتی ہیں۔کہیں کہیں گھاس کے میدان اور سیڑھی نما کھیت نظر آتے ہیں۔

میگھالیہ کی راجدھانی شیلانگ ہے۔ شیلانگ یہاں کے ایک دیوتا کا نام ہے۔ اُسی کے نام پر اِس شہر کا نام شیلانگ رکھا گیا ہے۔ شیلانگ دیوتا کو ناچ اور گانے کا بہت شوق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے باشندے آج بھی رقص و سرود کے دلدادہ ہیں۔ شیلانگ کو پہاڑوں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر قدیم وجدید تہذیب کا سنگم ہے۔ یہاں بڑی عمارتوں کے ساتھ پھونس کی جھونپڑیاں بھی جابجا نظر آتی ہیں۔ انگریزی لباس کے ساتھ آدی باسیوں کی رنگین اور ڈھیلی ڈھالی پوشاکیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ کرکٹ، پولو اور گولف یہاں کے پسندیدہ کھیل ہیں۔ ہفتہ کے دن یہاں گھوڑوں کی ریس ہوتی ہے۔ یہاں کا ’’بوٹینیکل پارک‘‘ بہت مشہور ہے جس میں دنیا بھر کے تقریباً سبھی قسم کے پودے لگائے گئے ہیں۔ اسی کے قریب ’’وارڈ لیک‘‘ نام کی ایک جھیل ہے جو گھوڑے کی نال سے مشابہ ہے۔

یہاں کے آدی باسی کھاسی اور گارو قبیلے کے ہیں۔ یہ لوگ نسلاً منگول ہیں۔ گول چہرہ، چپٹا سر، چوڑی پیشانی چہرے کی ہڈیاں اُبھری ہوئیں، چوڑی ناک، آنکھیں چھوٹی اور رنگ پیلا ہوتا ہے۔ مردوں کے چہرے پر بال برائے نام ہوتے ہیں۔

آبادی کا زیادہ حصّہ عیسائی مذہب کا پیرو ہے جو اپنے قدیم رسم ورواج اور طور طریقے اپنائے ہوئے ہے۔

یہاں عورت کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ وراثت کی حق دار صرف عورت ہی ہے۔ وہ گھر کی مالکن بھی ہوتی ہے۔ خاندان اُسی کے نام سے چلتا ہے۔ مرد اُس کا مدد گار یا صلاح کار ہوتا ہے۔ عورت کے مرنے کے بعد جائیداد لڑکیوں میں سے سب سے چھوٹی لڑکی کو دی جاتی ہے۔ بازاروں میں بھی خرید وفروخت کا کام عورتیں ہی کرتی ہیں۔ یہ پیٹھ پر اپنے بچّے کو کپڑے سے باندھے ہوئے سر پر بوجھ اٹھائے نظر آئیں گی۔ یہاں ایک کہاوت عام ہے۔ ’’قوم عورت سے ہی پیدا ہوئی ہے۔‘‘ اسی لیے یہاں عورت کو ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے۔صوبے میں کھاسی اور گارونام کے دو قبیلے ہی خاص ہیں اور انھیں کے نام سے یہاں جانے جاتے ہیں۔ آدی باسیوں کے رسم ورواج میں کچھ فرق بھی ہے۔ شادی کے بعد شوہر کو بیوی کے گھر رہنا پڑتا ہے اور دو تین بچّوں کے بعد ہی وہ اپنا مکان بنا سکتا ہے۔

ایک قبیلے میں یہ دستور ہے کہ شادی سے پہلے تمام لڑکے ’’نوک پانتھے‘‘ نام کے ایک بڑے مکان میں رہتے ہیں۔ شادی کے لیے رسم یہ ہے کہ شادی کے خواہش مند کئی لڑکے، لڑکی کے یہاں جمع ہوکر اپنی اپنی بہادری کے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک لڑکی کسی لڑکے کا انتخاب نہیں کرلیتی۔ اُسی کے بعد لڑکے اور لڑکی کو انگوٹھی پہنا دی جاتی ہے۔ پھر پوجا اور منتروں کے پڑھنے کے بعد شادی کردی جاتی ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لڑکے کا پیغام لڑکی کے گھر والوں کو دیا جاتا ہے۔ پھر اچھّے شگون کے بعد لڑکے کا ہاتھ لڑکی کا ماموں پکڑ کر پجاری کے سامنے کر دیتا ہے اور تین مچھلیوں کے فرش پر شراب ڈالی جاتی ہے پھر شادی کردی جاتی ہے۔

یہاں زیادہ بارش ہونے کے سبب گھنے جنگل ہیں۔ یہاں کے لوگ شکار کے بھی شوقین ہیں۔ شکاری کُتّوں کو ساتھ لے کر  شکار کھیلتے ہیں۔ شکار میں تیر کمان یا پھندے کا استعمال کرتے ہیں۔ایک درخت کی چھال کے رس کو ندی میں ڈال کر مچھلیوں کا شکار کیا جاتا ہے۔ اس سے مچھلیاں مرکر اوپر آجاتی ہیں۔

یہاں نشانے بازی کے مقابلے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ایک گاؤں کے نشانہ باز دوسرے گاؤں کے نشانہ بازوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اس کے لیے ایک جج اور کچھ پنچ مقرر کیے جاتے ہیں جن کا فیصلہ سب کے لیے قابل قبول ہوتا ہے۔ شور وغل کے ساتھ نشانہ بازی شروع ہوتی ہے۔ جس پارٹی کے نشانے زیادہ صحیح ہوتے ہیں وہ فتح مند سمجھی جاتی ہے۔

صوبے میں عام طور پر چاول، گوشت، مچھلی، آلو اور صابو دانے کے درخت کے گودے کا آٹا کھایا جاتا ہے۔غیر عیسائی کھاسی باشندے دودھ اور اس سے بنی ہوئی چیزیں نہیں کھاتے پورے صوبے میں چھالیا بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔

دنیا کا سب سے زیادہ بارش والا علاقہ چیراپونجی اسی صوبے میں ہے۔ یہاں آب و ہوا مرطوب ہونے کی وجہ سے پیچش، ملیریا اور ہیضے کی وبائیں عام ہیں۔

کھاسی کے ہر گاؤں میں پنچایت ہوتی ہے جو آپس کے جھگڑے چُکاتی ہے۔ پنچ اور گواہوں کے بیان پر فیصلہ دے دیا جاتا ہے۔

گارو قبیلے کو ’’آچک‘‘ بھی کہتے ہیںیہاں کے لوگ اپنے مکانوں میں کھڑکیاں نہیں بناتے۔ کھڑکی بنانے پر جُرمانہ دینا پڑتا ہے۔ اس علاقے میں کپاس کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے اس لیے یہ لوگ اپنے کپڑے خود ہی بُنتے اور رنگتے ہیں۔ دوگاؤں کے درمیان ایک سرائے ہوتی ہے۔جسے ’’آلدا‘‘ کہتے ہیں۔ یہاں مسافروں کو ہر قسم کی سہولت مفت فراہم کی جاتی ہے۔

اس صوبے میں عام طور پر سیڑھی نُما کھیت بناکر کھیتی کی جاتی ہے۔ زمین کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔ یہاں کی فصلوں میں چاول، مکّا، جوار، آلو، اروی، سنترے، کیلے، لیچی، لیمو اور تربوز وغیرہ کی پیداوار عام ہے۔ اس کے علاوہ چھالیا اور پان کے باغیچے بھی لگائے جاتے ہیں۔

صوبے میں کھاسیوں کے اسمارک، استھی چھتریاں، قلعوں کے کھنڈرات، پتھّروں کے مجسّمے قابل دید ہیں۔ یہاں بے شمارندیاں اور آبشار ہیں جو صوبے کی خوبصورتی کو دو بالا کیے ہوئے ہیں۔ ’’ایگل سوئیٹ‘‘، ’’ایلی فینٹ‘‘ اور ’’موسمائی‘‘ آبشار مشہور ہیں۔

یہاں کھاسی، گارو اور آسامی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ علاقائی زبانیں بھی ہیں۔ رسالے اور روزنامے بھی شائع ہوتے ہیں۔ یہاں کی دو تہائی آبادی تعلیم یافتہ ہے۔

حکومت ہند نے اس صوبے کی ترقّی اور یہاں کے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے اسکول، کالج اور اسپتال وغیرہ کھولے ہیں تاکہ یہ صوبہ بھی دیگر صوبوں کی طرح مزید ترقی کرسکے۔


                                                     مشق

لفظ ومعنی:

آبشار               :        جھرنا

دعوتِ نظارہ        :        دیکھنے کی دعوت

فتح مند              :        جیتا ہوا

مرطوب             :         گیلا،نم

حلف لینا             :         عہد کرنا

ملکیت                :         جائداد

قابلِ دید             :  دیکھنے کے لائق

قبیلہ                  :         گروہ

دلدادہ                :          شوقین

نفوس                 :         نفس کی جمع ،روحیں،ہستیاں،یہاں نفوس سے مراد لوگوں سے ہے۔

سرود                  :         نغمہ،گیت، راگ

وسطی                  :          درمیانی

دفاتر                   :         (دفتر کی جمع) ،آفس

پیرو                    :         ماننے والا

وراثت                 :         ماں باپ کی موت کے بعد اولاد کو ملنے والا مال و اسباب

حلف لینا                :        قسم لینا،عہد کرنا

فلاح وبہبود             :        بھلائی، بہتری

سوالات

1۔    میگھالیہ صوبہ کس طرح تشکیل دیا گیا؟

2۔    میگھالیہ کو خوبصورت صوبہ کیوں کہا گیا ہے؟

3۔    اس صوبہ کا نام میگھالیہ کیوں رکھا گیا؟

4۔     میگھالیہ کی راجدھانی کا نام’’ شیلانگ‘‘ کس مناسبت سے ہے؟

5۔     میگھالیہ میں کون کون سے قبیلے آباد ہیں؟

6۔     میگھالیہ کے خاص رسم و رواج کون کون سے ہیں؟

زبان و قواعد:

٭ ان لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے:

قدیم وجدید   رسم ورواج   شور و غل خرید و فروخت فلاح و بہود

٭ نیچے لکھے ہوئے جملوں کو صحیح لفظ سے پورا کیجیے:

شیلانگ کو پہاڑوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہا جاتا ہے ۔(ملکہ،ندی،رانی)

دنیا کا سب سے زیادہ بارش والا علاقہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔(شیلانگ،چیراپونجی،آسام)

ایک قبیلے کا یہ دستور ہے کہ شادی سے پہلے تمام لڑکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام کے مکان میں رہتے ہیں۔ (اینٹ، سرحد، نوک پان تھے)

یہاں کے آدی باسی کھاسی اور گارو قبیلے کے ہیں۔یہ لوگ نسلاً منگول ہیں۔گول چہرہ، چپٹا سر،چوڑی پیشانی، چوڑی ناک ، آنکھیں چھوٹی اور رنگ پیلا ہوتا ہے۔

اوپر دی ہوئی  عبارت میں سے اسم اور صفت کی نشاندہی کیجیے۔

غور کرنے کی بات:

غور کیجیے کہ میگھالیہ کی تہذیب ملک کے دوسرے صوبوں کی تہذیب سے کس حد تک مختلف ہے۔

یہ سبق ہندوستان کے ایک صوبے میگھالیہ کی  مخصوص تہذیب کے بارے میں ہے۔ کسی خطّے یا دنیا کے کسی ملک یا ایک ہی ملک کے کئی حصّوں میں رہنے والے لوگوں کی طرز زندگی یعنی ان کی زبان، ان کا رہن سہن، پہناوے اور رسم ورواج کا نام تہذیب ہے۔ جیسے میگھالیہ ایک صوبہ ہے اور اس صوبے میں کون سی زبان بولی جاتی ہے اور زندگی کے دوسرے کام کس طرح انجام دیے جاتے ہیں۔اس سبق میں ان جملہ باتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے یعنی میگھالیہ کی تہذیب کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

عملی کام:

٭ صوبۂ میگھالیہ کی امتیازی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے دوست کے نام ایک خط لکھیے۔