Skip to content
I


انشائیہ 

لفظ انشا اردو میں کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے ،انشائیہ بھی اسی لفظ سے بنا ہے ۔

ابتدا میں مضمون نگاری اور انشائیہ نگاری میں زیادہ فرق نہیں تھا مگر رفتہ رفتہ ان میں فرق ہوتا گیا ،یہاں تک کہ انشائیہ ایک علاحدہ صنف قرار پائی ۔انشائیہ نگار اپنے مخصوص ذاتی مشاہدات و تاثرات کو بے باکی اور بے تکللفی سے بیان کرتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ انشائیہ میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ موضوعات سے متعلق خیال کے تمام مرحلے خوش طبعی کے ساتھ طے کیے جاتے ہیں ۔یہ بات میں بات پیدا کرنے کا فن ہے ۔انشائیہ نگار مفہوم سے خالی گفتگو میں بھی معنی پیدا کرتا ہے لیکن کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے ۔اختصار اس کی پہچان ہے ۔اس میں مزاح یا ٹھٹھول کی جگہ ہلکی پھلکی زیر لب ہنسی پنہاں ہوتی ہے۔خیال آفرینی اس کی ایک اہم خوبی ہے ۔

اردو میں انشائیہ کی ابتدا سرسید احمد خاں کے رسالہ "تہذیب الاخلاق"سے ہوتی ہے۔مولوی نذیر احمداور ذکاء اللہ کے بعد''اودھ پنچ" اور "مخزن" نے اسے فروغ دیا ۔

میر ناصر علی ،سجاد حیدر یلدرم،سلطان حیدر جوش،سجاد انصاری،نیاز فتحپوری،مہدی افادی،فرحت اللہ بیگ،قاضی عبدالغفار،پطرس بخاری،سید محفوظ علی بدایونی،خواجہ حسن نظامی،رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی نے اس صنف کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

11



رشید احمد صدیقی

(1896 – 1977)

رشید احمد صدیقی اردو کے ممتاز طنزو مزاح نگارہیں۔اُن کی پیدائش مشرقی اُتّر پردیش کے شہر جونپور میں ہوئی تھی جسے شیراز ِ ہند بھی کہا جاتا ہے۔انھوں نے اپنی زندگی علی گڑھ میں گزاری۔وہاں وہ شعبۂ اردو کے صدر رہے ۔اپنے زمانے کے سب سے نامور انشا پر دازوں میں ان کا شمار کیا جاتا تھا۔ان کے مزاح میں تفکّر،شائستگی اور خوش طبعی کے عناصر نمایاں ہیں۔

رشید صاحب کے خطبات، مضامین اور خاکوں پر مشتمل کئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔جن میں سے چند یہ ہیں: ’’طنزیات و مضحکات‘‘ ، ’’آشفتہ بیانی میری‘‘ ، ’’گنج ہائے گراں مایہ‘‘ ، ’’مضامین رشید ‘‘ اور’’ خنداں‘‘۔ 

رشید صاحب کی تحریروں کا ایک خاص تہذیبی پس  منظر ہوتا ہے۔مسلم متو سط طبقے کی معاشرتی زندگی کے بہت دل آویز مرقّعے ہمیں ان کی تحریروں میں ملتے ہیں۔

کتاب میں شامل مضمون کا موضوع ’دعوت‘ ہے لیکن اس مضمون میں رشید صاحب نے کھانے اور دسترخوان کے آداب پر بہت دلچسپ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کسی شخص کی تہذیبی حیثیت کا اندازہ لگانا ہو تو اسے دسترخوان پر دیکھ لیجیے۔رشید صاحب نے اس مضمون کے ذریعہ یہی بتایا ہے کہ کسی دعوت میں شائستگی کے ساتھ شریک ہونے کے طور طریقے کیا ہوتے ہیں۔

دعوت

ایک مثل مشہور ہے، ’’مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ۔‘‘ میرا خیال ہے کہ اس کے ساتھ یہ مثل بھی عام ہونی چاہیے، ’’مجھے دعوتوں سے بچاؤ۔‘‘ گو دوستوں سے بچنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ دعوتوں سے بھی نجات مل جائے گی۔ بھوک کی مانند دعوت کا بھی یہ حال ہے کہ اس کا نہ کوئی وقت مُقّرر ہے اور نہ موقع۔ کوئی تہوار ہو، تقریب ہو، کوئی مہمان آیا ہو، کوئی چل بسا ہو، رقعۂ دعوت بہر حال موجود ہے۔ دعوت میں نہ جائیے تو غرور یا بے توجہی کی شکایت۔ جائیے تو معدہ اور عاقبت دونوں خراب۔ میں نے جس جس قسم کی اور جن جن مواقع پر دعوت کھائی ہے وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہوگی۔ سب سے پہلی دعوت خوب یاد ہے۔

پہلی دعوت مجھے ایسے صاحب کے ہاں کھانی پڑی جو کپڑے بُنتے تھے اور غازی میاں کے معتقد تھے۔ساری بستی مدعو تھی۔ مئی کا مہینہ اور دوپہر کا وقت۔ مکان و میدان کا کوئی نشیب و فراز ایسا نہ تھا جہاں کھانے والے نہ بیٹھے ہوں۔ فرش ودسترخوان کا وہاں کوئی دستور نہ تھا۔ جس کو جہاں جگہ مل گئی بیٹھ رہا۔ ایک نیم کی جڑ پر میں بھی بیٹھ رہا۔ ایک ہاتھ میں گرم گرم تنوری روٹی دے دی گئی۔ مٹی کے ایک برتن میں زمین پر سالن رکھ دیا گیا۔ بہشتی نے مشک سے تام چینی کے گندے شکستہ گلاس میں پانی پلانا شروع کیا۔ 

12

سامنے ایک نیاز مند کتّے صاحب بھی موجود تھے۔ دُم ٹانگوں کے درمیان، خود دوزانو بیٹھے ہوئے۔ نظریں نیچی، بہت کچھ بھوکی۔ پاس ہی ایک بوڑھے کھانستے جاتے تھے کھاتے جاتے تھے اور خلال کرتے جاتے تھے۔ ناتی گود میں، پوتا کندھے پر۔ پوتے نے ایک ہڈّی کتّے کے سامنے پھینک دی۔ اب معلوم ہوا کہ ایک اور کتّے صاحب کہیں قریب ہی مراقبے میں بیٹھے ہوئے تھے، جنھوں نے یک لخت غرّا کر جو جست کی تو میرے مقابل کے کتّے پر آگرے۔ خلال دادا یا نانا کے گلے میں جا پھنسا اور پوتے ناتی میرے سالن میں آرہے۔ ایک ہُلّڑ مچا۔ مشہور ہوا کہ مہتو دادا پر غازی میاں آگئے۔ سارے کھانے والے بھاگ کھڑے ہوئے۔

ایک اور جگہ سے دعوت نامہ آیا۔ ہمارے میزبان وہاں کے معزّز اور دولت مند ترین لوگوں میں سے تھے۔ میزبانی کے فرائض خاتون خانہ ادا کررہی تھیں۔ ڈرائنگ روم میں پہنچے تو دن کو تارے نظر آنے لگے۔ ایسی خوب صورت قیمتی پر تکلّف اور نایاب چیزیں ایک ساتھ کب دیکھنی نصیب ہوئی تھیں۔ البتّہ ان کا تذکرہ میلاد میں سنا تھا یا طلسم ہوش ربا میں پڑھا تھا۔ مالک مکان سے زیادہ پُر شوکت نوکر نوکرانیاں تھیں۔ کس کی تعظیم کیجیے اور کس سے تعظیم لیجیے۔ کھانے کے کمرے میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ شاید دنیا کے سب سے بڑے آدمی کا سب سے بڑے شفا خانے میں آپریشن ہونے والا ہے۔ ہر طرف سوائے صفائی اور سامانِ جراحی کے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اول تو کھانے کا گانگ بجاتو ہم نے سمجھا، ہماری روح قبض کرنے کا کوئی آلہ ایجاد ہوا ہے۔ کھانا آیا اور آتا رہا۔ سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ کھانا ایسے ایسے یونیفارم یا لباس فاخرہ یا ملبوساتِ عروسی میں لایا جاتا کہ یہ طے کرنے میں دشواری ہوتی کہ ان پر حملہ کیا جائے یا ان کی عبادت کی جائے یا کھڑے ہوکر قومی ترانہ گایا جائے۔ دوسری مصیبت یہ تھی کہ کس آلے سے کس چیز پر حملہ کیا جائے۔ جان لینے کے لیے آپ آزاد ہیں جو آلہ چاہیے شوق سے استعمال کیجیے لیکن کھانوں کے لیے مخصوص آلات مقّرر ہیں۔ تیسری مصیبت یہ تھی کہ جو کھانا پیش کیا جارہا تھا اس کے دوسرے عزیزواقارب نہ معلوم کون کون اور تھے جن کی عدم موجودگی میں کھانے کو ہاتھ لگانا بڑا گنوارپن ہوتا۔

فرض کیجیے کسی رئیس کے ہاں دعوت ہوئی۔ وہ کھانا اس طور پر کھلائے گا گویا مہمان کی سات پشت تک کو نواز رہا ہے۔ قورمہ ہر دعوت میں ملتا ہے اور معمولی سے معمولی لوگ بھی اپنے گھروں میں کھاتے ہیں لیکن رئیس کے یہاں قورمہ کچھ اور ہوتا ہے۔ ادائے خاص سے فرمائیں گے، ’’مولانا کہیے، قورمے سے بھی شوق فرمایا؟‘‘

’’جی ہاں، شکریہ، ماشاء اللہ!‘‘

فرمائیں، ’’صاحب ایسا حلوائی دہلی بھر میں نہ ملے گا۔ بادام پر پَلا تھا۔ ذرابوٹی کی خستگی پر نظر رکھیے۔‘‘

’’سبحان اللہ! کیوں نہیں!‘‘ ارشاد ہوتا ہے۔

’’ہاں ہاں خوب کھائیے۔ بہت ہے۔‘‘

’’جی ہاں، خوب سیر ہوکر کھایا۔‘‘

’’نہیں نہیں آپ تکلّف کرتے ہیں۔ فلانے چلو۔ مولانا کو قورمہ اور دو۔‘‘

لیکن فلانے کو پکاریں گے اور قورمہ کا آرڈر اس طور پر دیں گے گویا مولانا کو پٹوا دینے کا ارادہ ہے۔ قورمہ پلیٹ میں ڈال دیا گیا اور مولانا کو قورمے سے نفرت ہونے لگی۔ ارشاد ہوگا، ’’مولانا یہ باورچی اب دہلی میں اکیلا ہے۔ اب اس کا ثانی دور دور نہ ملے گا۔ بس مولانا قورمہ کھالیجیے۔ یہ چیز اب معدوم ہوتی جاتی ہے۔‘‘ غرض مولانا کو اس شفقت اور تپاک سے کھلائیں گے گویا اپنے والد مرحوم کے فاتحہ کا کھانا کسی نابینا حافظ کو کھلا رہے ہیں۔

دوسری آفت ملاحظہ ہو۔ بعض میزبان حماقت اور محبت کے سلسلے میں اصرار کرتے کرتے کھانا آپ کی پلیٹ میں ڈال دیں گے اور فرمائش کریں گے، ’’کھائیے، میرے سر کی قسم کھائیے۔‘‘ حالاں کہ اس وقت جی یہی چاہتا ہے پلیٹ سر پر مارلیجیے اور گریبان پھاڑ کر کہیں بھاگ جائیے۔ ایسی دعوت سے مجھ کو قلبی نفرت ہے جہاں میزبان بار بار کھانے کے لیے اصرار کرے اور اپنے ہاتھ سے میری پلیٹ میں کھانا رکھ دے اور کہتا یہ رہے کہ ’’آپ کو کھانا پسند نہیں آیا۔ آپ کے لیے کچھ انتظام نہ ہوسکا۔ بھائی جلدی میں یہی دال دلیا ہوسکا۔ آپ نے کچھ بھی تو نہیں کھایا۔‘‘ حالاں کہ اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ میں یہ کہوں کہ ایسا کھانا مجھے تو کیا میری سات پشت کو نصیب نہ ہوا ہوگااور آپ نے جس مروّت اور ایثار کا ثبوت دیا ہے اس کی مثال دنیا میں نہیں مل سکتی۔

بعض دعوتوں میں عجیب قسم کے بدتمیزوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ بعض تو کھانا نہیں کھاتے، منہ میں جوتیاں چٹخاتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو ساری اُنگلیاں سالن میں ڈبو دیں گے۔ منہ میں لقمے کی پذیرائی اس طور پر کریں گے جیسے کہ سرکس کے گھوڑے کو چابک لگارہے ہیں۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو بدحواس ہوکر بہت زیادہ حصّہ پلیٹ میں لے لیں گے۔ تھوڑا کھائیں گے اور بقیہ کو گھنگول کر چھوڑ دیں گے۔ ڈونگے میں سے بوٹیاں چمچے سے نکالنے کے بجائے ٹٹول ٹٹول کر اُنگلیوں سے نکالیں گے۔ کبھی پلیٹ میں نکالی ہوئی بوٹیوں کو پھر ڈونگے میں ڈال دیں گے۔ پانی پئیں گے تو معلوم ہوگا گویا بھری بوتل حلق میں اُنڈیلی جارہی ہے اور گلے سے قُلقلِ مینا کا کام لے رہے ہیں۔ سَنی ہوئی اُنگلیاں روٹی سے پونچھیں گے اور ڈکار اس طور پر لیں گے جیسے دوسرے کے دسترخوان پر نہیں اپنی چارپائی پر ہیں۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                         (رشید احمد صدیقی)

مشق

لفظ ومعنی:

مثل                :       کہاوت

رقعۂ دعوت        :       دعوت نامہ

معتقد               :       اعتقاد رکھنے والا، ماننے والا

مدعو                :       جسے دعوت دی گئی 

نشیب و فراز        :      اتار چڑھاؤ،اونچ نیچ

بہشتی                :      پانی پلانے والا،سقّہ

شکستہ                 :     ٹوٹا پھوٹا ،خراب حالت

نیازمند               :      ارادت مند

دوزانو بیٹھنا           :      دونوں گھٹنے پیچھے کی طرف موڑ کر بیٹھنا

خِلال کرنا             :      تنکے یا تیٖلی سے کھانے کے بعد دانت کریدنا /صاف کرنا

مراقبہ                 :       دھیان

یک لخت              :     یکایک، ایک بارگی

طلسم ہوش رُبا         :      اردو کی سب سے مشہور داستان

پُر شوکت               :      شاندار

تعظیم                    :      عزّت

شفاخانہ                  :      اسپتال

جرّاحی                   :      آپریشن، چیر پھاڑ

گانگ                    :     کھانے سے پہلے برائے اطلاع بجنے والا گھنٹہ

لباس فاخرہ               :    خاص خاص موقعوں پر پہنے جانے والا قیمتی لباس

ملبو ساتِ عروسی         :     دلہن کے لباس

قورمہ                    :     بھنے ہوئے گوشت کا سالن

معدوم ہونا               : ختم ہونا،غائب ہونا

ملا حظہ کرنا               :     غور کرنا، دھیان دینا

منہ میں جوتیاں چٹخانا      :     منہ سے چپڑ چپڑ کی آواز نکالنا

تپاک سے                 :     محبت و خلوص کے ساتھ

پذیرائی کرنا                : استقبال کرنا

گھنگولنا                     :      کسی چیز میں ہاتھ ڈال کر ہلانا،گھولنا

عاقبت خراب ہونا         :     برا انجام ہونا

مَشک                      :      پانی بھرنے کا چمڑے کا تھیلا

تام چینی                   :      چینی مٹّی چڑھا ہوا تانبایا لوہا

سوالات:

1۔     دعوت میں جانے اور نہ جانے دونوں سے متعلق مصنّف نے کیا خیال ظاہر کیا ہے؟

2۔    مصنف نے پہلی دعوت کا کیا نقشہ کھینچا ہے؟

3۔    مصنف نے ایک معزّزاور دولت مند ترین صاحب کی دعوت سے متعلق کن خیالات کا اظہار کیا ہے؟

4۔    ’’قورمہ‘‘ سے متعلق مصنف نے کیا مزاح پیدا کیا ہے؟

5۔    مصنف نے دعوت میں بدتمیز ی کے ساتھ کھانا کھانے کی کیا تصویر پیش کی ہے؟


زبان و قواعد:

٭ مندرجہ ذیل جملوں کی وضاحت کیجیے:

کوئی تہوار ہو، تقریب ہو، کوئی مہمان آیا ہو، کوئی چل بسا ہو،رقعۂ دعوت بہر حال موجود ہے۔دعوت میں نہ جائیے تو غرور یا بے توجہی کی شکایت ،جائیے تو معدہ اور عاقبت دونوں خراب۔

ڈرائنگ روم میں پہنچے تو دن کو تارے نظر آنے لگے۔ ایسی خوب صورت قیمتی ،پُرتکلف اور نایاب چیزیں ایک ساتھ دیکھنی کب نصیب ہوتی ہیں۔البتّہ ان کا تذکرہ میلاد میں سنا تھا یا طلسمِ ہوش رُبا میں پڑھا تھا۔مالک مکان سے زیادہ پُر شوکت نوکر نوکرانیاں تھیں۔کس کی تعظیم کیجیے اور کس کی تعظیم لیجیے۔

غور کرنے کی بات:ـ

رشید صاحب کی تحریروں میں ہماری معاشرتی زندگی کی پرچھائیاں جگ مگ کرتی نظر آتی ہیں۔

نیچے لکھے ہوئے جملوں کو غور سے پڑھیے ان میں رشید صاحب کے طنز و مزاح کا خاص رنگ محسوس کیا جا سکتا ہے:

•       سامنے ایک نیازمند کُتّے صاحب موجود تھے۔

•       ایک اور کُتّے صاحب کہیں قریب ہی مراقبے میں بیٹھے ہوئے تھے۔

 غرض مولانا کو اس شفقت اور تپاک سے کھلائیں گے گویا اپنے والدِ مَرحوم کے فاتحہ کا کھانا کسی نابینا حافظ کو کھلا رہے ہیں۔

بعض تو کھانا نہیں کھاتے ،منہ میں جوتیاں چٹخاتے ہیں۔

عملی کام

٭ نیچے لکھی ہوئی عبارت کو پڑھیے اور اس سے متعلق سوالات کے جواب لکھیے:

کسے خبر تھی کہ غالبِ مرحوم کے بعد ہندوستان میں پھر کوئی ایسا شخص پیدا ہوگا جو اردو شاعری کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دے گا، جس کی بدولت غالب کا بے نظیر تخیّل اور نرالا اندازِ بیان پھروجود میں آئے گا اور اردو ادب کے فروغ کا باعث ہوگا۔ مگر زبان اردو کی خوش اقبالی دیکھیے کہ اس زمانے میں اقبال جیسا شاعر اسے نصیب ہوا، جس کے کلام کا سکّہ ہندوستان بھر کی اردو داں دُنیا کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے اور جس کی شہرت روم ،ایران بلکہ فرنگستان تک پہنچ گئی ہے۔

ابتدائی عمرمیں مولوی سید میر حسن سا استاد ملا۔طبیعت میں علم وادب سے مناسبت قدرتی طور سے موجود تھی اور عربی کی تحصیل مولوی صاحب موصوف سے کی ۔سونے پر سہاگا ہو گیا۔ابھی اسکول ہی میں پڑھتے تھے کہ کلام موزوں زبان سے نکلنے لگا۔ شعرائے اردو میں ان دنوں نواب مرزا خاں داغ دہلوی کا بہت شہرہ تھا۔اقبال نے بھی انھیں خط لکھا اور چند غزلیں اصلاح کے لیے بھیجیں۔داغ نے جلد کہہ دیا کہ کلام میں اصلاح کی گنجائش بہت کم ہے۔بی اے کے لیے لاہور کے اساتذہ میں ایک نہایت شفیق استاد ملا۔ پروفیسر آر نلڈ صاحب غیر معمولی قابلیت کے انسان تھے۔

اقبال طالب علمی سے فارغ ہو کر گورنمنٹ کالج میں پروفیسر ہو گئے تھے۔طبیعت زوروں پر تھی۔شعر کہنے کی طرف جس وقت مائل ہوتے تو غضب کی آمد ہوتی تھی۔ موزوں الفاظ کا ایک دریا بہتا،چشمہ ابلتا معلوم ہوتا تھا۔ایک خاص کیفیت رقّت کی ان پر طاری رہتی تھی۔اپنے اشعار سریلی آواز میں ترنم سے پڑھتے تھے۔خود وجد کرتے اور دوسروں کو وجد میں لاتے تھے۔

(i)    اس عبارت میں اقبال کے تعلق سے غالبؔ کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟

(ii)    اقبال نے کن اساتذہ سے بطور ِ خاص استفادہ کیا؟

(iii)    اقبال کی شعر گوئی کی کیا خصوصیات بیان کی گئی ہیں؟

(iv)   ’’خود و جد کرتے اور دوسروں کو وجد میں لاتے ‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟