Skip to content
I



افسانہ

افسانہ اردو ادب کی ایک مشہور صنف ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے زمانے کا ساتھ دینے اور دماغی طور پر مصروف رہنے والوں کے لیے ’مختصر افسانہ‘ ناول اور داستان سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔ مختلف نقّادوں نے افسانے کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔  ایک نقّاد نے کہا ہے کہ افسانہ ایسی نثری کہانی ہے جو ایک ہی نشست میں پڑھی جاسکے۔ ایک اور نقاد کا کہنا ہے کہ افسانے میں بنیادی چیز وحدتِ تاثّر ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ افسانے کے فن میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ 

ایک اچھا افسانہ اختصار کے ساتھ زندگی کے کسی گوشے کو قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مختصر ہونے کی وجہ سے افسانے میں جھول ہونے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ افسانہ نگار کا مشاہدہ اور انسانی نفسیات کا مطالعہ گہرا ہونا چاہیے۔ کردار ایسے ہوں جو ہماری زندگی اور ہمارے تجربوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔

اردو کے افسانہ نگاروں میں پریم چند، علی عباس حسینی، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، غلام عباس، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین بہت اہم ہیں۔ ان کے بعد نئے افسانہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد بھی سامنے آچکی ہے۔


علی عبّاس حسینی

(1969 - 1897 )

علی عبّاس حسینی موضع بارہ، غازی پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پٹنہ میں ہوئی۔ الہ آباد سے بی۔ اے اور لکھنؤ سے ایم۔اے کے امتحانات پاس کرنے کے بعد ایل ٹی کی سند حاصل کی اور سرکاری اسکول میں اردو اور فارسی کے استاد مقرر ہوئے۔ 

علی عباس حسینی کو لڑکپن سے افسانہ نگاری کا شوق تھا۔ابتدا میں انھوں نے پریم چند سے متاثّر ہو کر افسانے لکھے۔ اُن کے افسانوں میں گاؤں کے معصوم اور سادہ لوح افراد کی خوب صورت عکّاسی ملتی ہے۔ ان افسانوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ علی عباس حسینی کو انسانی نفسیات پر عبور حاصل تھا۔ وہ ہر کردار کے ذہن کی تہوں کو آہستہ آہستہ کھولتے ہیں جس سے اس کی مکمل شخصیت بے نقاب ہو جاتی ہے۔ان کے افسانوں میں واقعات کی طوالت تو ہے مگر پلاٹ میں جھول پیدا نہیں ہوتا۔

علی عباس حسینی کے افسانوں کی بڑی خوبی ان کی سہل زبان ہے ۔وہ عربی ،فارسی کے الفاظ سے گریز کرتے ہیں۔

’’آئی۔سی۔ایس‘‘، ’’باسی پھول‘‘،’’میلہ گھومنی‘‘،’’کچھ ہنسی نہیں ہے‘‘ ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔’’اردو ناول کی تاریخ اور تنقید‘‘ علی عبّاس حسینی کی تنقیدی کتاب ہے جس میں انگریزی اور اردو کے معروف ناول نگاروں کی مختصر تاریخ کے ساتھ ساتھ ان کے فن کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

گاؤں کی لاج

لکھن پور میں دو زمین دار رہتے تھے۔ ایک کا نام امراؤ سنگھ اور دوسرے کا دلدار خان تھا۔ دونوں بدیسی راج کے خطا ب یافتہ تھے۔ امراؤسنگھ کو انگریزوں نے رائے صاحب بناکر اور دلدار خاں کو خان صاحبی دے کر ممتاز کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک میان میں دو تلوار اور ایک مملکت میں دو سلطان نہیں رہتے لیکن لکھن پور میں رائے صاحب اور خان صاحب دونوں رہتے تھے۔ دونوں خاندانی رئیس تھے۔ دونوں کے مزاج میں گھمنڈ اور غرور تھا دونوں کو اسی کی کد رہتی کہ میری بات اور میری مونچھ اونچی رہے۔

لکھن پور کا بٹوارا ہوگیا تھا۔ بازار، آبادی، کھیت، باغ، رائے صاحب اور خان صاحب کے نام سرکاری کاغذوں میں الگ الگ لکھے تھے۔ مگر ہر برسات میں کسی نہ کسی کھیت کی مینڈھ بڑھنے گھٹنے پر دونوں میں فوج داری ضروری تھی۔ اِن دونوں کا نہ اپنا سر پھوٹتا اور نہ ان کی ہڈیاں ٹوٹتی تھیں۔گماشتے، کارندے، رعایا پرجا آخر کس دن کام آتے۔ انھیں حقِ نمک تو ادا کرنا ہی تھا۔ اس لیے ان کی آویزش کے لیے معمولی بہانے بھی کافی تھے۔

ان کی آپس کی رنجش اس لیے اور بھی بڑھ گئی تھی کہ ایک گڑھیّا پر بڑا سخت جھگڑا ہوگیا تھا۔ پچھلی برسات میں مہتو گڑھیّا خوب بڑھی تھی۔ اس نے رائے صاحب کے کھیتوں کی تقریباً نصف بیگھا زمین اپنے پیٹ میں رکھ لی تھی۔ گڑھیّا لکھی تھی خان صاحب کے حصّے میں اور وہی سالہا سال سے اُس کی ساری آمدنی حاصل کرتے تھے۔ اس کی مچھلیاں پکڑی جاتیں تو اُنھیں کے لیے، اس میں سنگھاڑے ڈالے جاتے تو انھیں کی اجازت سے اور اس سے آبپاشی کے لیے پانی لیا جاتا تو انھیں کے حکم سے۔

اب رائے صاحب کے کھیت گڑھیّا میں بہہ کر مل گئے تو وہ بھی آمدنی میں حصہ بٹانے کے خواہش مند ہوئے۔ خان صاحب نے کہا ’’سبحان اللہ! یہ تو اللہ کی دین ہے۔ گڑھیّا میری ہے۔ وہ جتنی بڑھے جدھر بڑھے میری ہی رہے گی۔ کہہ دو کسی اور کَڑھیّا میں منہ دھو رکھیں۔ حصّہ بخرا کیسا؟‘‘ جب وہ زیادہ غرّائے تو یہ فوج داری کے لیے آمادہ ہوگئے۔ مقدمہ دائر کردیا۔ کاغذات کی چھان بین ہوئی۔ کھیت رائے صاحب کے بے شبہ نکلے مگر گڑھیا خان صاحب کی مقبوضہ ثابت ہوئی اور اسی قبضے کی بنا پر بورڈ تک سے رائے صاحب ہارے اور خان صاحب جیتے۔ اس جیت پر جس طرح خان صاحب کے ہاں چراغاں کیا گیا اسی طرح رائے صاحب کے ہاں رنج کیا گیا اور سوگ منایا گیا۔ لگانے بجھانے والوں نے اس آگ کو خوب خوب بھڑکایا۔ رائے صاحب کو یہ فکر دامن گیر رہنے لگی کہ کون سا موقع ہاتھ آئے کہ میں خان صاحب کو زَک دے دوں کہ انھیں چھَٹی کا دودھ یاد آجائے۔ اتنا ذلیل ہوں کہ مونچھوں پر تاؤ دینا ہی بھول جائیں بلکہ ساری ہیکڑی خاک میں مل جائے۔

اتّفاق سے خان صاحب کی چھوٹی بیٹی کی بارات آئی۔ پرانے دستور کے مطابق خان صاحب نے گھر گھر نیوتا بھیجا، نہیں پوچھا تو ایک رائے صاحب کو۔ بارات بڑی شان سے آئی۔ ہاتھی بھی تھے، گھوڑے بھی تھے، روشنی بھی تھی، آتش بازی بھی تھی، بینڈ بھی تھے، باراتیوں میں بڑے بڑے مشہور بیر سٹر، وکیل، مختار، ایک ڈپٹی کلکٹر، دو تحصیل دار، کئی داروغہ بھی شامل تھے۔

11

بارات کو اُتارنے کے لیے قصبے کے باہر ایک بڑے املی کے درخت کے نیچے شامیانہ بنایا گیا تھا۔ وہیں ان لوگوں نے آکر آرام کیا اور بارات کے لیے تیار ہوئے۔ بڑے املی کے درخت سے خان صاحب کی کوٹھی تک کچی سڑک خاص طور سے ہموار کی گئی تھی۔ دو ر ویہ ہنڈے گاڑے گئے تھے۔ رات کو دن بنایا گیا تھا۔

کوٹھی میں سارے سامانِ آرائش وزیبائش لگا کر اُسے دلہن کی طرح سجادیا گیا تھا۔ بینڈ بجاتی، انار چھوڑتی جب شان وشوکت سے بارات کوٹھی میں آئی تو سارے قصبے نے مہمانوں کے خیر مقدم میں حسبِ حیثیت حصّہ لیا۔ اس مجمع میں رائے صاحب کے  مختارِ عام ہمّت رائے بھی تھے۔ کچھ تو وہ گاؤں کی ریت نبھانے آئے تھے، کچھ یہ خیال تھا کہ بارات کھانا دانا، جہیز سب کچھ   بغور دیکھیں گے اور اُن میں قابلِ اعتراض پہلو ڈھونڈ کر اپنے مالکوں کو سنائیں گے اور انھیں حریف پر ہنسنے کا موقع دیں گے۔

جب دولہا مسند پر بیٹھ چکا تو دلہن والوں کی طرف سے خلعت پہنایا گیا اور قاضی صاحب اندر جاکر دلہن کی رضا مندی لے آئے۔ اب انھوں نے دولہا سے آہستہ سے پوچھا کہ اتنے مہر پر فلاں بی بی سے نکاح منظور ہے؟ دولہا نے مہر کی رقم سنتے ہی صاف انکار کردیا۔

پہلے تو لوگ رسمی رد و کد سمجھے مگر جب بار بار پوچھنے پر بھی دولہا نہیں نہیں کہتا گیا تو باپ کو رجوع کیا گیا۔ بتایا کہ خان صاحب کے ہاں برسوں سے پچپن ہزار کا دستور چلا آتا ہے اور اسی پر اصرار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں ایسے نا ہنجار دستور کا قائل نہیں۔‘‘ غرض اب بات بڑھی۔ بااثر لوگوں نے دونوں طرف سمجھانے کی کوشش کی مگر اُن کی ضد تھی کہ ہم پانچ سو ایک روپے سے ایک پیسہ زائد نہ دیں گے۔ انھیں باتوں میں تیز تیز فقروں اور آپس کی نوک جھونک نے آگ لگائی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دولہا کے باپ بول اُٹھے ’’ہماری ڈال ہمیں واپس کیجیے۔ ہم بارات پلٹا لے جائیں گے۔‘‘

اب تو پورا قصبہ برہم ہوگیا۔ لکھن پور کی ناک کٹ گئی۔ بارات چڑھ کر آئی۔ لڑکی مانجھوں میں بیٹھ گئی۔ وہ بغیر بیاہ کے باہر کیسے نکلے گی؟ دوسرے گاؤں والے طرح طرح کے نام دھریں گے۔ بس سارے گھروں سے لاٹھیاں نکل آئیں۔ آج باراتیوں کی لاشیں ہی قصبے سے اُٹھ کر جائیں گی۔ اب تو ڈپٹی صاحب بھی گھبرائے، تحصیل دار صاحبان اور داروغہ جی بھی۔ لیکن خان صاحب نے خلافِ معمول بڑی سوجھ بوجھ سے کام لیا۔ انھوں نے قصبے والوں کو روکا سمجھایا کہ یہ لوگ ہمارے مہمان ہیں انھیں گاؤں سے صحیح سلامت جانے دو۔ اسی میں ہماری بات اونچی رہے گی۔ اسی کے ساتھ انھوں نے ایک ایک چیز گِنواکر سارے مجمع کے سامنے واپس کی۔ پھر ایک ایک سے خوشامد کی کہ نکاح نہیں ہوا نہ سہی، لڑکی میں کوئی عیب نہیں۔ اللہ اس کا دوسرا بر دے گا مگر کھانا تیار ہے اسے کیوں برباد کیجیے مگر باراتیوں نے ایک نہ سنی اور یوں ہی بھوکے جائے قیام پر پلٹ گئے۔ لاریوں میں موٹروں میں سامان رکھے جانے لگے۔

ہمّت رائے ہنستے کِھلکھلا تے رائے صاحب کے یہاں پہنچے۔ وہ ابھی رسوئی سے اُٹھے تھے اور حُقّہ پی کر بستر پر آرام کے لیے جانے والے ہی تھے، ہمّت رائے نے کھیس نکال کر کہا ’’ مبارک ہو سرکار! لیجیے بھگوان نے خان صاحب کو اتنا ذلیل کردیا کہ وہ زندگی بھر سر نہیں اُٹھا سکتے۔ بارات دروازے پر چڑھ کر واپس گئی۔‘‘

رائے صاحب نے ایک ایک بات پوچھی۔ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ رہی تھی کہ دفعتہ سات برس کی موہنی دوڑی دوڑی باہر آئی، ’’بابوجی! بابو جی!! گھر آئیے، دیدی بلاتی ہیں۔‘‘ بیٹی پر نظر پڑتے ہی رائے صاحب کی ہنسی غائب ہوگئی۔ وہ سنّاٹے میں آگئے۔ 

موہنی سے کہا، ’’اچھّا تو چل میں آتا ہوں۔‘‘ مگر اندر نہ گئے۔ اُٹھ کر ٹہلنے اور کچھ سوچنے لگے۔ ہمت رائے باتوں کی جھڑی لگاتے رہے۔ اسی سلسلے میں یہ کہہ گئے کہ ’’اب تو کوئی عزّت والا خان صاحب کی اس لڑکی کو پوچھے گا بھی نہیں۔‘‘

رائے صاحب ایک بار گرج پڑے ’’کیا بکتے ہو جی۔ جیسی میری موہنی، تمھاری بیٹی ویسی ہی اُن کی لڑکی۔ گاؤں بھر کی ناک کٹ جائے گی اور تم ہو کہ بغلیں بجارہے ہو۔‘‘

ہمّت رائے نے جی جی کہا اور سٹپٹا کر خاموش ہوگئے۔ رائے صاحب نے آدمی کو آواز دی۔ اچکن منگوا کر پہنی۔ سر پر منڈیل رکھی اور ہمت رائے سے بولے ’’دیکھو، میرے سارے آدمیوں کو بلاؤ کہ لاٹھیاں لے لے کر ساتھ چلیں۔‘‘

تھوڑی دیر میں ایک آدمی آگے لالٹین لیے، اس کے پیچھے رائے صاحب اور اُن کے پیچھے تقریباً بیس آدمی لاٹھی لیے ہوئے، اسی شان سے یہ دوسرا جلوس بارات کی قیام گاہ پر پہنچا۔ گاؤں والے پہلے ہی سے موجود تھے۔ رائے صاحب کو دیکھتے ہی سب کے سب ان کے ساتھ ہولیے۔

رائے صاحب نے آہستہ سے آدمیوں کو حکم دیا کہ بارات کو گھیر لو اور خود سمدھی صاحب کی طرف متوجّہ ہوئے۔ سمدھی کا غصّہ اس لیے اور بھی زیادہ تھا کہ ان کے سارے باراتی بھوکے تھے۔ خان صاحب کے ہاں سے انکار تو کرآئے تھے مگر اب آنتیں قل ھواللہ پڑھ رہی تھیں۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ قصبے کے سارے بازار اور دکانیں بند تھیں اور کھلی بھی ہوتیں تو شاید ان کو ایک کھیٖل بھی نہ ملتی۔ یہ دکاندار کھانا مہیا کرنے کی بجائے ڈنڈے سے ضیافت کرنے کے لیے تیار تھے۔

رائے صاحب نے اُن کو سلام کر کے پوچھا، ’’آپ ہی لڑکے کے والد ہیں؟‘‘ وہ جھنجھلا کر بولے ’’جی میں ہی ہوں۔ آپ کا کیا نام ہے؟‘‘

رائے صاحب نے بہت ہی ملائمت سے کہا، ’’جی مجھ کو امراؤ سنگھ کہتے ہیں۔‘‘

وہ اُن کی اور خان صاحب کی عداوتوں کے حال سے واقف تھے۔ اس لیے بہت خوش ہوئے بولے ’’رائے صاحب! واللہ خوب ملے جی! آپ ہی کو تو آنکھیں ڈھونڈرہی تھیں۔ شاید ہمارے آنے کی خبر نہ ہوئی ورنہ ہمیں اس طرح کی تکلیف نہ ہوتی۔‘‘

رائے صاحب نے کہا، ’’جی آپ کی عنایت ہے مگر آپ لوگوں کو تکلیف کیا ہے یہ معلوم نہ ہوا۔ کیا خان صاحب نے آؤ بھگت میں کوئی کمی کی؟ کھانا، میں نے سُنا کہ انھوں نے بڑا اہتمامی پکوایا ہے۔ شہر کے حلوائیوں کے علاوہ بنارس سے کشمیری پکانے والے ہندوؤں کے لیے اور لکھنؤ کے باورچی مسلمانوں کے لیے بلوائے ہیں۔

وہ بولے ’’اجی، وہ آئے ہوں گے سب مگر ہم تو یوں ہی بھوکے جارہے ہیں۔‘‘ رائے صاحب نے کہا، ’’یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ خان صاحب کے چچا زاد بھائی منّو خان کی طرف پلٹے، ’’کیا آپ نے اپنے مہمانوں کو کھانا کھلایا؟‘‘

منو میاں نے کہا، ’’خان صاحب نے خود اُن لوگوں سے فرداً فرداً کہا بارات شوق سے واپس لے جائیے مگر کھانا کھا لیجیے مگر ان لوگوں نے مانا ہی نہیں۔‘‘ سمدھی صاحب بولے ’’اجی ہم خان صاحب کے ہاں ایک دانہ بھی منہ میں ڈالنا اب حرام   سمجھتے ہیں۔‘‘

رائے صاحب نے تیور بدل کر کہا، ’’تو جناب، ان کے علاوہ اس وقت اس قصبے میں کوئی دوسرا آپ کو ایک دانہ بھی نہیں کھلا سکتا۔‘‘ سمدھی صاحب نے گھبرا کر کہا، ’’تو یہ کہیے کہ آپ بھی انھیں لوگوں میں شامل ہوگئے۔‘‘

رائے صاحب بولے، ’’جنابِ من! وہ خان صاحب کی لڑکی ہو کہ میری یا غریب نتّھو کی، وہ گاؤں بھر کی بیٹی ہے۔ آپ سارے گاؤں کی ناک کاٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘ سمدھی صاحب جھلّا کر بولے، ’’رائے صاحب! جس کی بھی ناک کٹے ہم تو جارہے ہیں۔‘‘ رائے صاحب نے کہا، ’’جی بڑے شوق سے تشریف لے جائیے مگر ایک تحریر دے دیجیے کہ آپ جتنی چیزیں ساتھ لائے تھے، وہ سب واپس اور بہ سلامتی جان ومال یہاں سے واپس جارہے ہیں۔‘‘

سمدھی صاحب نے غرّا کر پوچھا، ’’اگر تحریر نہ دیں تو …‘‘

رائے صاحب نے مجمع کی طرف اشارہ کر کے کہا، ’’تو آپ خود ہی سمجھ لیں کہ آپ یہاں سے کیسی صورتیں لے کر جائیں گے۔‘‘

سمدھی صاحب بھڑک اُٹھے، ’’کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘

رائے صاحب نے کہا، ’’کچھ نہیں بس یہ کہ ہم سب چھوٹے آدمی ہیں۔ ہماری تحصیلیں چھوٹی ہیں اور ہمارا پیمانۂ صبر بھی چھوٹا ہے۔ اس لیے ہم اپنی ذلّت برداشت نہ کرسکیں تو ہم پر زیادہ تعجّب کی گنجائش نہیں۔‘‘

سمدھی صاحب چیخ پڑے، ’’تو جناب! آپ ہمیں دھمکا کر تحریر لکھوانا اور ہمیں قانون کے شکنجے میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ یہ تو نہ ہوگا۔‘‘

اُن کی آواز جو بلند ہوئی تو باراتی سمٹ آئے۔ ڈپٹی نصراللہ نے بڑھ کو پوچھا، ’’کیا معاملہ ہے رائے صاحب؟‘‘

رائے صاحب نے کہا، ’’کچھ نہیں ڈپٹی صاحب۔ میں سمدھی صاحب سے ایک تحریر مانگ رہا تھا۔ اسی پر وہ چراغ پا ہوگئے۔ اب آپ لوگ انھیں سمجھائیے۔ آپ قصبہ والوں کے تیور دیکھ رہے ہیں۔ اس پر بھی غور فرمائیے کہ باراتیوں میں آپ سرکاری ملازم بھی شامل ہیں۔ اگر یہ اپنی بات پر اَڑے رہے تو آپ لوگ بھی ان کے ساتھ اسپتالوں میں جائیں گے۔ 

سرکاری افسران جلدی سمدھی صاحب کو الگ لے گئے۔ انھیں سمجھایا۔ اپنی شرکت کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ بالآخر ڈپٹی نصراللہ نے فیصلہ سنایا، ’’بارات خان صاحب کے پاس واپس جائے گی اور نکاح پچپن ہزار میں ہی ہوگا۔‘‘ اور پھربارات بینڈ بجاتی واپس ہوئی۔ رائے صاحب بڑے پھاٹک تک ساتھ آئے مگر وہاں سے اپنے آدمیوں کے ساتھ اپنے گھر کی طرف مڑے۔

خان صاحب کو جب معلوم ہوا کہ رائے صاحب نے گاؤں کی لاج رکھ لی مگر پھاٹک سے پلٹ گئے تو قاضی صاحب کو روک کر بولے، ’’ٹھہر جائیے، نکاح ابھی نہیں ہوگا۔‘‘ اور جلدی سے کوٹھی سے نکل گئے۔ لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ یا اللہ! اب کون سا نیا فتنہ کھڑا ہوا؟ دو ایک ان میں سے پکارتے ہوئے پیچھے دوڑے مگر خان صاحب بالکل خاموش لپکے ہوئے سیدھے رائے صاحب کے مکان کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ وہ گردن جھکائے ہوئے کچھ سوچتے ہوئے لالٹین کی روشنی میں چلے جارہے تھے۔ خان صاحب جاکر لپٹ گئے۔ وہ رائے صاحب کی گردن میں بانہیں ڈال کر مشکل سے یہ کہہ سکے، ’’بھائی امراؤ سنگھ! میرا قصور معاف کرو۔ چل کر اپنی بیٹی بیاہ دو۔‘‘ تھوڑی دیر بعد باراتیوں کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ آگے آگے لالٹین لیے آدمی ہیں اور اُن کے پیچھے رائے صاحب اور خان صاحب ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے چلے آرہے ہیں۔

دالان میں پہنچ کر خان صاحب نے رائے صاحب کی طرف ملتجیانہ نگاہ سے دیکھا۔ رائے صاحب نے گلوگیر آواز میں کہا، ’’قاضی صاحب! نکاح پڑھائیے۔‘‘ اور دونوں کے گالوں پر موتی لڑھک آئے۔

                                                                                                                                                                           (علی عباس حسینی)

مشق

لفظ ومعنی:

خطاب یافتہ              :           خطاب پایا ہوا

ممتاز کرنا                 :          نمایاں کرنا، بلند مرتبے پر پہنچانا

مملکت                    :           حکومت

کد                        :           دشمنی

گماشتے                    :           کارندے،ملازم، نوکر

آویزش                   :           بھڑکانا، اُکسانا

گڑھیّا                     :           زمین کا وہ نشیبی حصّہ جس میں پانی جمع ہو جاتا ہے

بیگھا                       :           زمین کی پیمائش کی پرانی مقدار جیسے ایکڑ ہیکٹر وغیرہ

آب پاشی                  :          کھیتوں میں پانی دینا

سبحان اللہ                  :           اللہ کی ذات پاک ہے

مقبو ضہ                    :           قبضہ کی ہوئی 

فکردامن گیر ہونا           :          فکر مند ہونا

زک دینا                    :          شکست دینا،شرمندہ کرنا

ناہنجار                        :     بے کار،خراب 

نیوتا                          :          دعوت نامہ

دو رویہ                       :         دو طرف

آرائش وزیبائش               :  سجاوٹ

حسبِ حیثیت                 :          حیثیت کے مطابق

حریف                         :          دشمن

مہر                             :        شادی کے وقت دولہا کی طرف سے دی جانے والی رقم

تحصیل دار                     :         تحصیل افسر

جائے قیام                     :  ٹھہرنے کی جگہ

دفعتہ                           :          اچانک

ناک کٹنا                       :          رسوائی ہونا، بدنامی

منڈیل                         :           پگڑی

بغلیں بجانا(محاورہ)              :          خوش ہونا

مہیّا                             :          موجود،تیار

ضیافت                          :         مہمانوں کی آؤ بھگت

ملائمت                          :           نرمی

عداوت                          :          دشمنی

جنابِ من                      :          عزت کے لیے بولا جانے والا لفظ

تحصیل                          :           ایسا دفتر جس میں زمین سے متعلق معاملات حل کیے جاتے ہیں

پیمانۂ صبر                        :          صبر کا پیمانہ

چراغ پا                          :           غصّہ

لاج رکھنا                        :            عزّت رکھنا

ملتجیانہ نگاہ                      :            التجا کی نگاہ

گلو گیر آواز                     :           رُندھی ہوئی آواز ،غمگین آواز

سوالات:

1۔    بدیسی راج نے امراؤ سنگھ اور خان صاحب کو کس خطاب سے نوازا تھا؟

2۔     رائے صاحب اور خان صاحب میں رنجش کیوں تھی؟

3۔    رائے صاحب مہتو گڑھیا کا مقدمہ کیوں ہار گئے؟

4۔     ہمّت رائے نے رائے صاحب کو کیا خبر سنائی؟

5۔    بارات کیوں واپس جا رہی تھی؟

6۔    اس کہانی میں رائے صاحب نے کیا کردار ادا کیا؟

زبان و قواعد:

٭ نیچے لکھے ہوئے جملوں کی وضاحت کیجیے:

کہتے ہیں کہ ایک میان میں دو تلوار اور ایک مملکت میں دو سلطان نہیں رہتے لیکن لکھن پور میں رائے صاحب اور خان صاحب دونوں رہتے تھے۔

وہ خان صاحب کی لڑکی ہو کہ میری یا غریب نتھو کی، وہ گاؤں بھر کی بیٹی ہے۔

ہم سب چھوٹے آدمی ہیں۔ ہماری تحصیلیں چھوٹی ہیں اور ہمارا پیمانۂ صبر بھی چھوٹا ہے۔

غور کرنے کی بات:

ہندوستان گنگا جمنی تہذیب کا آئینہ ہے۔اس میں سبھی مذہب کے لوگ مل جل کر محبت سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ذاتی رنجشوں کو بھلا کر گاؤں کی عزّت کو اوّلیت دی جاتی ہے۔

5۔    عملی کام:

(i) اس کہانی کو ڈرامے کی شکل میں اسٹیج کیجیے۔

(ii) نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

مونچھ اونچی رہنا   حق نمک ادا کرنا آگ بھڑکانا    چھٹی کا دودھ یاد آنا

مونچھوںپرتاؤدینا خاک میں مل جانا ناک کٹنا     فتنہ کھڑا ہونا

سنّاٹے میں آنا بغلیں بجانا        آنتیں قل ھواللّٰہ پڑھنا          آؤ بھگت کرنا