کمار گندھرو
(1942 – 1992)
کمار گندھرو کا اصل نام شِوپُتر سِدھ رمیّا کوم کلی تھا۔ بچپن میں ہی موسیقی میں غیر معمولی کمال حاصل کرنے کی وجہ سے انھیں کمار گندھرو کالقب دیا گیا۔ان کی پیدائش سْلیبھاوی ،بیلگام صوبۂ کرناٹک میں ہوئی۔کمار گندھرو نے کلا سیکی موسیقی کے بنیادی ضابطوں کو نبھاتے ہوئے بھی کسی گھرانے کو اختیارنہ کرکے ایک نئی راہ نکالی۔وہ بہت جلد ہی ہندوستانی موسیقی میں ایک بہت روشن ستارے کی طرح چمکنے لگے۔ 1947میں وہ دیواس( مدھیہ پردیش) منتقل ہوگئے۔ یہاں آنے کے تھوڑے دنوں بعد ہی انھیں ایک پھیپھڑے میں کینسر ہو گیا جسے آپریشن کرا کے نکلوانا پڑا۔ اس طرح وہ ایک پھیپھڑے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے۔ آپریشن کے بعد یہ غیر معمولی فن کار گانا تو دور بولنے سے بھی محروم ہو گیا۔مایوسی بھرے ان دنوں میں ایک گوریاّ جو اکثران کے پاس آیا کرتی تھی اس کی آواز سن کر انھیں تحریک ملی کہ ایک اتنی چھوٹی چڑیا اگر اتنا سریلا گا سکتی ہے تو کیا کوشش کرنے سے میں دوبارہ اپنی آواز حاصل نہیں کر سکتا؟ اس کے بعد وہ اپنی غیر معمولی قوتِ ارادی سے ایک بار پھر نہ صرف بولنے لگے بلکہ گانے بھی لگے۔
بیماری پر قابو پانے کے بعد کمار گندھرو نے پہلی بار کسی محفل میں پروگرام پیش کیا۔دھیرے دھیرے انھیں پھر وہی مہارت حاصل ہو گئی جو بیماری سے قبل تھی۔کمار گندھرو نے اب گائکی کا اپنا الگ اسلوب بنایا جس میں آواز کے اتار چڑھاؤ اور اچانک تبدیلی کا خاص اہتمام ہوتا ہے اور آواز بہت لمبی نہیں کھینچنی پڑتی ہے۔ انھیں لوک گیت اور بھجن گانے میں بہت مہارت حاصل تھی۔ خاص طور سے مالوا (مدھیہ پردیش)کے لوک گیت اور کبیر کی شاعری کو انھوں نے اپنی آواز سے ایک نیا وقار عطا کیا ہے۔ کمار گندھرونے لوک سنگیت پر مبنی کئی راگوں کی تخلیق کی۔انھیں حکومت ہندنے 1990 میں پدم وِبھوشن اعزاز سے نوازا۔
بے مثال گلو کارہ لتا منگیشکر
برسوں پہلے کی بات ہے،میں بیمار تھا۔ ایک دن یوں ہی میں نے ریڈیو لگایا تو ایک سریلی آواز کانوں میں رس گھول گئی۔ احساس ہوا کہ اس آواز میں کوئی خاص بات ہے ۔اس آواز نے مجھے بے حد متاثر کیا۔سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ آواز کس کی ہے ۔ میں غور سے اسے سنتا رہا۔گانا ختم ہونے کے بعد گلو کارہ کے نام کا اعلان کیا گیا۔ لتا منگیشکر کا نام سن کر مجھے حیرت بھی ہوئی اور کچھ قربت کا احساس بھی ہوا۔

میرا خیال ہے کہ یہ فلم برسات سے بھی پہلے کا کوئی گیت تھا۔ تب سے لتا متو اتر گاتی چلی آرہی ہے اور میں بھی اس کے گانے سنتا چلا آرہا ہوں۔لتا سے پہلے سنگیت میں مشہور گلوکارہ نورجہاں کا طوطی بول رہا تھا لیکن اس میدان میں بعد میں آنے والی لتا منگیشکر، نور جہاں سے کہیں آگے نکل گئی۔ فن کی دنیا میں ایسے عجوبے کم ہی ہوتے ہیں۔
میں بلا جھجک کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستانی گلو کاراؤں میں لتا کے مقابلے کی کوئی گلوکارہ نہیں ہوئی۔ لتا کی وجہ سے فلمی سنگیت کو حیرت انگیز مقبولیت حاصل ہوئی۔اتنا ہی نہیں بلکہ کلا سیکی موسیقی کے سلسلے میں لوگوں کا زاویۂ نظر بھی بد ل گیا۔پہلے بھی گھر گھر چھوٹے بچّے گیت گایا کرتے تھے لیکن ان گیتوں میں اور آج کل گائے جانے والے گانوں میں بڑا فرق نظر آتا ہے۔آج کل کے ننھے منّے بھی سُر میں گانے لگے ہیں۔کیا یہ لتا کا جادو نہیں ہے؟ کوئل کی آواز جب مسلسل کانوں سے ٹکراتی ہے تو سننے والا اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ فطری امر ہے۔ اس طرح لتا نے نہ صرف نئی نسل کو متاثر کیا بلکہ فلمی گیت اور سنگیت میں عوام کی دلچسپی میں بھی اضافہ کیا۔ یقیناً سنگیت کی مقبولیت ،اس کے فروغ اور اس کی ہر دل عزیزی میں اضافے کا شرف لتا ہی کو حاصل ہے۔
گانوں سے دلچسپی رکھنے والے کسی عام آدمی کو لتا کے گیتوں کا اور کلاسیکی گیتوں کا ٹیپ سنایا جائے تو وہ لتا کے گیتوں کے ٹیپ ہی کو پسند کرے گا۔ کیوں کہ اسے تو چاہیے آواز کی وہ مٹھاس جو اسے مدہوش کر دے۔ گیت میں اگر نغمگی ہو تو وہ سنگیت ہے۔ آپ لتا کا کوئی بھی گانا لیجیے،اس میں آپ سو فیصد نغمگی محسوس کریں گے۔
لتا کی مقبولیت کا اصل راز اس کی آواز کی نغمگی ہے۔لتا کے گانے کی ایک اور خاصیت ہے اس کی آواز کی لطافت ۔لتا سے پہلے سنگر نورجہاں بھی ایک اچھی گلو کارہ تھی۔ اس میں شک نہیں کہ اس کے گانے سننے والوں کو مسرور کر دیتے تھے لیکن لتا کے گانوں میں نرمی اور بے خود کرد ینے والی کیفیت پائی جاتی ہے۔ فلمی موسیقی کے ہدایت کا روں نے لتا کی آواز کے اس جادو کا جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے تھا نہیں اٹھا یا۔ایسا کہنے میں مجھے کوئی جھجک نہیں کہ اگر میں خود موسیقار ہوتا تو لتا کی اس خصوصیت سے ضرور فائدہ اٹھاتا۔
لتا کے گانوں کی ایک اور خصوصیت اس کی بلند آہنگی ہے۔ اس کے گیت کے دو لفظوں کے بیچ کا فاصلہ ترنم سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ دونوں لفظ ایک دوسرے میں سمائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ گرچہ ایسا ہو جانا مشکل ہے لیکن لتا کے یہاں یہ بات بڑی آسان اور فطری معلوم ہوتی ہے۔
یہ مان لیا گیا ہے کہ لتا کے گانوں میں درد بھرے جذبات کی عکّاسی نہایت مؤثر انداز میں ہوتی ہے،لیکن میں اس سے متفّق نہیں ہوں۔میرا خیال ہے کہ لتا نے درد انگیز جذبات کے برعکس خوشی کے جذبات والے گیت بڑے والہانہ انداز سے گائے ہیں۔
کسی اچھّے مصنف کا طویل کیریئر ،زندگی کے راز کی تفصیل بیان کرتا ہے ۔زندگی کا وہی راز کسی مقولے یا کہاوت میں بھی بڑی خوبصورتی سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح کلا سیکی سنگیت کی تین گھنٹے تک جاری کسی محفل کا سارا لطف لتا کے تین منٹ کے گانے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ کیا لتا تین گھنٹوں کی محفل جما سکتی ہے؟
ایسا شک بھرا سوال کرنے والوں سے مجھے بھی پوچھنا ہے کہ کیا کوئی اوّل درجے کا گلوکار تین منٹ کے وقفے کا فلمی گیت اتنی کامیابی اور جذبات انگیزی سے گا سکتا ہے؟ اس کا جواب ہے۔’’ نہیں‘‘۔فلمی سنگیت نے عوام کو خالص موسیقی سے متعارف کرایا ہے۔موسیقی کے تعلق سے ان کا تنقیدی رویّہ بھی بدلا ہے۔ اب وہ صرف کلاسیکی سننا نہیں چاہتے۔ انھیں تو سر یلا اور جذبات سے بھرا ہوا گانا چاہیے۔ یہ انقلاب فلمی سنگیت ہی نے برپا کیا ہے۔
فلمی سنگیت میں تخلیق کاری کی بہت گنجائش ہے۔ اس نے ملک کے راجستھانی، پنجابی اور بنگالی لوک گیتوں کے ذخیرے سے بھی بہت کچھ فائدہ اٹھایا ہے۔دھوپ اور گرمی کی ستائش کرنے والے پنجابی لوک گیت، خشک اور بے آب راجستھان میںبارش کی یاد دلانے والے اور پہاڑوں کی گھاٹیوں وادیوں میں گونجنے والے پہاڑی گیت، موسموں کی گردش کو سمجھنے والے اور کھیتوں میں کاشتکار کی محنتوں کا تذکرہ کرنے والے لوک گیت اور برِج کی دھرتی پر گائے جانے والے مدھر گیت فلم کے میدان میں ان سب کا بڑا ہی متاثر کن استعمال کیا گیا ہے اور کیا جاتا رہے گا۔
لتا فلمی سنگیت کی اس وسیع دنیا میں گویا بے تاج ملکہ ہے۔اگر چہ فلمی دنیا میں پردے کے پیچھے گانے والے بہت سے فن کار موجود ہیں مگر لتا کی مقبولیت ان سب سے بڑھ کر ہے۔ ان کی مقبولیت کی بلندی تک کوئی پہنچ نہیں سکتا ۔گذشتہ کئی برسوں سے وہ متواتر گارہی ہیں اور عوام میں وہ اب بھی مقبول ہیں۔ نصف صدی تک عوام میں اپنی مقبولیت برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ زیادہ کیا کہوں، ایک راگ دیر پا ثابت نہیں ہوتا۔بھارت کے کونے کونے میں لتا کے گانوں کا پہنچ جانا یا بیرونی ممالک میں ان کے گانوں کو سن کر لوگوں کا سر دُھننا کیا یہ غیر معمولی بات نہیں ہے؟
ایسا فن کار صدیوں میں ایک ہی پیدا ہوتا ہے۔وہ فن کار آج ہمارے درمیان موجود ہے۔ اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہماری کتنی بڑی خوش قسمتی ہے۔
یقینا سنگیت کے میدان میں لتا کا مقام اوّل درجے کی خاندانی گلوکارہ کی حیثیت سے تسلیم کر لینا چاہیے۔
(کمار گندھرو)
(ہندی سے ترجمہ)
مشق
1۔ لفظ ومعنی:
گلوکارہ : گیت گانے والی
طوطی بولنا : شہرت ،مشہور ہونا
زاویۂ نظر : دیکھنے /سوچنے کا انداز
فطری : قدرتی، حقیقی
شرف : بڑائی ،عظمت
نغمگی : ترنم
بلند آہنگی : آواز کا اونچا ہونا
المیہ : دکھ
تخلیق کاری : نئی نئی چیزیں بنانا
نصف صدی : آدھی صدی
دیرپا : دیر تک باقی رہنے والا
2۔ سوالات:
1. لتا منگیشکر کے گیت کا مصنّف پر کیا اثر ہوا؟
2. مصنّف نے کس گلو کارہ سے لتا کا موازنہ کیا ہے؟
3. لتاکی مقبولیت کا راز کیا ہے؟
4. لتا کے گیتوں میں دو لفظوں کے بیچ کا فاصلہ کس طرح بھرا جاتا ہے؟
5. لتا کے گائے ہوئے گیتوں میں کون سی بات آسان اور فطری معلوم ہوتی ہے؟
6. فلمی سنگیت میں کون سے لوک گیتوں سے فائدہ اٹھایا گیا؟
3۔ زبان و قواعد:
٭ نیچے لکھے ہوئے محاوروں کے معنی لکھیے اور انھیں اپنے جملوں میں استعمال کیجیے:
رس گھولنا طوطی بولنا سر دُھننا میدان میں آنا
4۔ غور کرنے کی بات:
اس سبق میں آپ نے گیت اور سنگیت کے بارے میں پڑھا ۔غور کیجیے کہ دلوں کو لُبھانے والی آواز یں کیا صرف سازوں اور گیتوں ہی میں سنائی دیتی ہیں۔ سبق میں آپ نے کوئل کی پکار کا ذکر بھی پڑھا ۔دوسرے کون سے پرندوں کی آوازیں دلوں کو لبھاتی ہیں؟
5۔ عملی کام:
٭ ’’لتا منگیشکر کے گیتوں کی کیسٹس کے ساتھ ایک شام‘‘ عنوان سے ایک اشتہار کا مضمون تحریر کیجیے۔