Skip to content
I


سفرنامہ

سفرنامہ ہمارے زمانے کی ایک مقبول صنف ہے۔ ہر سفر ایک تجربہ ہوتاہے اور اگر کسی شخص میں اس تجربے کو بیان کرنے کی صلاحیت بھی ہو تو ایک دل چسپ سفرنامہ لکھا جاسکتا ہے۔ پرانے زمانے میں جب مسافر سفر سے واپس آتے تو اپنے تجربات کی روداد دوستوں اور عزیزوں کو سناتے تھے۔ اس طرح کے بہت سے قصّے آپ نے بھی پڑھے ہوں گے۔ اردونثر کی ترقی کے ساتھ ہمارے ادبی سرمائے میں کئی صنفوں کا اضافہ ہوا۔ سوانح نگاری، خود نوشت، تنقید، انشائیہ اور سفرنامہ، نثر کی نسبتاً جدید تر صنفیں کہی جاتی ہیں۔

سفرنامے کے مطالعے سے ہمیں اجنبی دیاروں، دوردراز کے ملکوں،تہذیبوں اور جغرافیائی حالات سے آگاہی ملتی ہے۔ بہت سے انوکھے کرداروں سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ سفرنامے ہمارے لیے اس دنیا کے مختلف علاقوں سے تعارف کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سفرناموں کے مطالعے سے ہماری عام معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم گھر بیٹھے بڑی بڑی مہمیں سرکرلیتے ہیں اور ایسے دیاروں تک جاپہنچتے ہیں جہاں جانا ہمارے لیے آسان نہ ہوتا۔ اس لحاظ سے سفرنامے کو عملاً سفر کا بدل بھی کہا جاسکتا ہے۔

اردو کا پہلا سفر نامہ یوسف خاں کمبل پوش کا ’’عجائبات فرنگ‘‘ ہے۔ یوسف خاں نے 30 مارچ 1837میں کلکتہ سے پانی کے جہاز کے ذریعے انگلستان کا سفر کیا تھا۔ انھوں نے انگلستان کے شہر لندن میں قیام کیا۔ وہاں کی آب وہوا، نئی نئی ایجادات اور وہاں کے باشندوں کا ذکر انہوں نے نہایت دل چسپ انداز میں کیا ہے۔

بیسویں صدی کے سفرناموں میں منشی محبوب عالم کا سفرنامہ ’’سفرنامہ ٔ بغداد‘‘اور قاضی عبدالغفار کا ’’نقشِ فرنگ‘‘ بہت مقبول ہوئے۔

خواجہ احمد عباس کا ’’مسافر کی ڈائری‘‘ پروفیسر احتشام حسین کا ’’ساحل اور سمندر‘‘ اور قرۃ العین حیدر کا ’’ جہانِ دیگر‘‘ اردوکے دل چسپ سفرنامے ہیں۔ مشہور سفرنامہ نگاروں میں بیگم اخترریاض، مستنصر حسین تاڑرکے نام بھی شامل ہیں۔ اردو میں چند مزاحیہ سفرنامے بھی لکھے گئے ہیں جن میں ابن انشا، شفیق الرحمن اور مجتبیٰ حسین کے سفرنامے قابلِ ذکر ہیں۔

13

قرۃ العین حیدر

(1927 – 2007)

قرۃ العین حیدر اُردو کے مشہور ادیب سجاد حیدر یلدرم کی بیٹی تھیں۔ وہ علی گڑھ میں پیدا ہوئیں اور یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔لکھنؤ یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے کیا۔اعلیٰ تعلیم کے لیے یوروپ میں بھی رہیں۔وہ ممبئی میں کئی انگریزی رسائل سے منسلک رہیں۔ممبئی کے طویل قیام کے بعد دہلی آگئیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے شعبۂ اُردو سے وابستہ رہیں۔

ملک کی آزادی کے بعد اُردو افسانہ نگاروں کی جو نئی نسل سامنے آئی ان میں قرۃ العین حیدر کا نام نمایاں ہے۔ قرۃ العین حیدر نے افسانوں کے علاوہ ناول، سفر نامے اور رپورتاژ بھی لکھے ہیں۔ان کی تحریروں کا ایک خاص تاریخی اور تہذیبی پس منظر ہوتا ہے۔

’’ستاروں سے آگے‘‘،’’شیشے کے گھر‘‘،’’پت جھڑ کی آواز‘‘،’’روشنی کی رفتار‘‘ اور ’’جگنوؤں کی دنیا‘‘ ان کی کہانیوں کے مجموعے ہیں۔’’میرے بھی صنم خانے‘‘،’’سفینۂ غمِ دل‘‘، ’’آگ کا دریا‘‘،’’آخر شب کے ہم سفر‘‘،’’گردشِ رنگِ چمن‘‘ اور ’’چاندنی بیگم‘‘ ان کے ناول ہیں ۔’’کار جہاں دراز ہے‘‘ان کا طویل سوانحی ناول ہے۔ ’’چائے کے باغ‘‘،’’دل رُبا‘‘،’’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو‘‘ اور ’’سیتاہرن‘‘ قرۃ العین حیدر کے ناولٹ ہیں۔ ’’داستانِ عہدِ گل‘‘ اور ’’دامانِ باغباں‘‘ بھی ان کی معروف کتابیں ہیں۔

جاپان

کوئی جاپانی اپنے چہرے پر غصّے کے آثار نہیں لاتا۔ کئی دفعہ میں نے دیکھا سڑک پر سائیکل والے کی ٹکّرٹھیلے والے سے ہو گئی (یہ تین پہیوں والے بڑے اور چھوٹے موٹر ٹھیلے ہیں ہاتھ کے ٹھیلے کوئی نہیں دھکیلتا)۔ان دونوں نے اُتر کر ایک دوسرے کا گریبان نہیں پکڑا، نہ گھونسے تانے نہ گالیاں دیں، خاموشی سے افسوس کا اظہار کیا اور اسی سکون کے ساتھ اپنے اپنے راستے چلے گئے۔

ایمانداری کا یہ عالم ہے کہ ساری قوم صدیوں سے لکڑی کے ایسے مکانوں میں رہتی آرہی ہیں جن کی پتلی پتلی کاغذی دیواریں ہوتی ہیں۔ دروازے سرے سے ہوتے ہی نہیں وہی دیواریں اِدھر اُدھر کھسکا کر گھر بند کر لیا جاتا ہے۔ تالوں اور چٹخنیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر نہ چوریاں ہوتی ہیں نہ سیندھ لگتے ہیں جب کہ حالت یہ ہے کہ عام طور پر مکان ایسی نفیس چیزوں سے سجے ہوتے ہیں کہ خواہ مخواہ چوری کرنے کو جی چاہے۔

ٹوکیو کے جھل جھل کرتے ریلوے اسٹیشن کی دیواروں پر چوبی اور روغنی فریسکو بنے ہیں۔ ٹرین کی ساری کی ساری کوچیں ائیر کنڈیشنڈ ہیں اور پہلو کے بجائے درمیانی کوریڈور کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ سارے ڈبّوں میں قالین بِچھے ہیں۔

صبح کے دھند لکے میں دو سو کے قریب کا نفرنس کے مہمانوں کو لے کر ٹرین ٹوکیو کی طرف روانہ ہوئی۔ چار کو چیں مہمانوں کے لیے مخصوص ہیں۔ ٹرین کے چلنے کے بعد سب نے اپنی اپنی جگہ سے اُٹھ کر اِدھر اُدھر ٹہلنا شروع کیا لوگ دریچوں کے پاس گروہ بنا بنا کر بیٹھ گئے۔

باہر حدِّ نظر تک کا رخانے پھیلے ہیں جن کی چمنیوں سے دھواں اُٹھ رہا ہے۔ سبزے پر بارش شروع ہو گئی ہے۔منظر کے بھورے اور سبز رنگوں کا یہ امتزاج انگلستاں کے صنعتی کنٹری سائڈ کی یاد دلا رہا ہے۔ ہر طرف فیکٹریاں ہیں اور آگے نکل کر تیز ہری گھاس کے میدان اور گھاٹیاں پہاڑیاں اور دیودار اور پائن کے جنگل جن کے درمیان لکڑی کے مکان بنے ہیں۔یہاں چاروں اور اتنا حسن ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ اصل مناظر ہیں یا کابکیؔ اسٹیج کی سیٹنگز۔

جگہ جگہ سانچی کے پھاٹک کھڑے ہیں۔ ان کے اندر باغات ہیں اور شراین۔چھتریاں لگائے عورتیں گڑیوں کی طرح چلتی لکڑی کے پلوں پر سے گزر رہی ہیں۔ پائن سے ڈھکی ہوئی پہاڑیوں پر بادل تیر رہے ہیں۔ بادل جُھک کر گاؤں پر چھا گئے ہیں۔ دھان کے کھیتوں پر بہتے پھر رہے ہیں ٹرین کے شیشوں سے ٹکرارہے ہیں۔

پائن کا درخت صرف صاف ہوا میں بڑھتا ہے یہ شفاف ہوا ہے جو بانس کے جھنڈوں میں سر سر ارہی ہے۔ اس قبر ستان پر سے گزر رہی ہے جہاں چھوٹی چھوٹی قبروں میں مرے ہوئے جاپانیوں کی راکھ دفن ہے۔ چاروںاورپہاڑیوں پر پائن کے سیدھے درخت کہرے میں چھُپے کھڑے ہیں۔ کولتار کی سڑکیں بل کھاتی سر سبز گاؤں میں سے گزر رہی ہیں۔ برساتیاں اور فل بوٹ پہنے کسان کھیتوں میں کام کر رہے ہیں۔بر جس نما سفید پائجا مے پہنے اور سر پر سفید رومال باندھے کسان عورتیں پگڈنڈیوں پر سے گزر رہی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے دیہاتی اسٹیشنوں پرمسافربرساتیاں پہنے، چھتریاں سنبھالے، مغربی پوشاک میںملبوس خاموشی، سے ٹرین کے منتظر کھڑے ہیں۔ بالکل انگلستان کے دیہاتوں کا سا منظر ہے۔

جاپانی مکانوں میں فرنیچر بالکل نہیں ہوتا۔صرف چٹائیاں بچھی ہوتی ہیں۔جابجا گلدان نظر

 آتے ہیں۔ دیواروں پر پینٹنگز یا لمبے اسکرول آویزاں ہوتے ہیں۔مہمانوں کی آمد پر گھر کی بی بی دیوار کے اندر بنی ہوئی نیچی الماریوں کا پٹ کھسکا کر کشن نکالتی ہیں جو چٹائیوں پر رکھ دئیے جاتے ہیں۔چوکی کے گردفرش پر بیٹھ کر کھانا کھایا جاتا ہے۔

یہ ٹوکیو کے قدیم ترین ارسٹو کر یٹک خاندان کا مکان تھا مگر اس کی سادگی کا بھی یہی عالم تھا۔

14

چائے کی رسم کے متعلق ہم کو پہلے سے بہت سے لیکچر پلائے جا چکے تھے۔ ٹرین ہی میں اس کی ہسٹری کے متعلق ایک کتابچہ پڑھا دیا گیا تھا۔ یہ بتلایا گیا تھا کہ یہ ایک ایسا RITUAL ہے جس کی بہت سخت رومانی، مذہبی اور تہذیبی اہمیت ہے۔ یہ جاپانی آداب محفل کا نچوڑہے۔یہاں کے معاشرتی اخلاق کا سمبل ہے۔ پھول سجانے کے فن کے اسکولوں کی طرح یہاں چائے بنانے اور پیش کرنے کے فن کے اسکول بھی ہوتے ہیں جہاں جائے بغیر اعلیٰ خاندانوں کی لڑکیوں کی تعلیم مکمّل نہیں سمجھی جاتی۔ اس رسم کا باقاعدہ ایک پورا فلسفہ ہے ۔

یورا سینکے اس ملک کے گرینڈ ماسٹر ہیں۔ اُن کی بی بی اور بیٹے اور فرینچ بولتی ہوئی بے حد خوبصورت بہو نے ہم لوگوں کا سواگت کیا اور حسب دستوربات بات پر ہاتھ جوڑ کر سر جھکاتی رہی۔ یہ لوگ سب کیمونو میںملبوس تھے۔ ہمیں مختلف کمروں میں بٹھلا دیا گیا۔ایک کمرے میں ڈونگر کیری وادیا اور میں مزے سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے مگر یور وپین خواتین و حضرات کی فرش پر بیٹھنے میں بڑی کمبختی تھی۔ پھر نہایت اہتمام سے کمرے کے سرے پر ایک خاص طرح کی کیتلی میں چائے تیار ہوئی اس کا چولہا فرش کے اندر ایک چھوٹے سے تہ خانے میں بنا تھا۔ہم سب دم سادھے بیٹھے رہے کہ دیکھیے اب کیا ہوتا ہے؟ فضاپر زبردست تقدس کا ماحول تھا۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ میں کمرے کے کونے میں بالکل دیوار سے لگی بیٹھی تھی۔ میں نے ذرا پیچھے مڑ کر دیکھا – اس کونے کی دیوار ذرا کھسکا دی گئی۔اور اس میں سے باغ کا ایک گوشہ نظر آرہا تھا۔ درختوں کے پتّے، باغ کے فرش کے پتھر اور بارش کی پھوار یں اوپر سے نکلتی ہوئی روشنیوں میں جھل مل کر رہی تھیں۔

رنگ برنگے کیمونو میں خوبصورت لڑکیاں سخت سنجیدہ شکلیں بنائے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ہمارے سامنے آئیں۔دوزانو جھک کر رکوع میں گئیں سامنے ایک پلیٹ رکھی جس میں ایک عددلڈوبانس کے ٹکڑے پر پتے میں لپٹا ہوا دھرا تھا۔سجدے میں گریں جو اباً ہم بھی تعظیماً جھکے پھر وہ اُٹھ کر اسی طرح چلتی ہوئی واپس گئیں۔لڈّوبے حد بدذائقہ تھا لیکن خاموش رہے۔ معاملہ روحانیت اور تہذیب کی اعلیٰ ترین سمبلزم کا تھا۔دم مارنے کی گنجائش نہ تھی۔

ابھی کلائمکس باقی تھی، وہی لڑکیاں دوبارہ نمودار ہوئیں۔ہمارے سامنے آکر سجدے میں گریں۔ ایک چینی کے پیالے میں ایک ہرے رنگ کا گاڑھا سا جوشاندہ سامنے رکھا۔ دوبارہ سجدہ کیا، ہم بھی جھکے، وہ واپس گئیں۔میں نے مادامؔ وادیا سے چپکے سے پوچھا۔

’’اب کیا ہوگا؟‘‘

’’اسے پی جاؤ اور کیا ہوگا۔ منہ ہر گزنہ بنانا۔‘‘

’’مگر یہ ہے کیا شے۔خیر ابھی چائے آتی ہو گی۔ اس سے حلق صاف ہو جائے گا۔‘‘

’’ارے یہی تو چائے ہے۔‘‘ کملانے مری ہوئی آواز میں کہا۔’’اب کچھ نہیں ہو سکتا۔پوری پینا پڑے گی۔ ایک بوند پیالے میں نہ چھوڑنا ورنہ انتہائی بداخلاقی سمجھی جائے گی۔‘‘

لہٰذا بہادری سے کام لیتے ہوئے میں نے آنکھیں بند کیں اور انتہائی نفاست سے پیالہ ہاتھ میں اُٹھا کر وہ کڑواملغوبہ جسے جاپانی ستم ظریفی سے چائے کہتے ہیں میں نے ھوالشّافی کہہ کرپی ڈالا۔کملا اور مادام وادیا بھی اس فرض سے سبکدوش ہو چکی تھیں اور بڑی متانت سے بیٹھی تھیں۔ یقینا اس وقت ہم تینوں کے چہروں پر گھڑوں نور برس رہا تھا۔

اس کڑوے کسیلے جو شاندے کے لیے اس قدردھوم دھام جب سے اس ملک میں آئے تھے مار سب جاپانیوں نے مل کرناک میں دم کر رکھا تھا چائے کی رسم ایسی– اور چائے کی رسم ویسی– بہت شور سُنتے تھے ہاتھی کی دُم کا۔

(قرۃ العین حیدر)

   (سفر نامہ ’ستمبر کا چاند‘ سے ماخوذ)

مشق

1۔     لفظ ومعنی:

آثار                 :        اثر کی جمع،تاثر

سیند ھ لگانا          :       دیوار میں سوراخ کرکے چوری کے لیے دوکان یا مکان میں گھسنا

چوبی                  :       لکڑی کی بنی ہوئی

روغنی                :        پینٹ(Paint) 

فریسکو                :         دیواری تصویریں

دریچہ                :         کھڑکی

حدِّ نظر              :         جہاں تک نگاہ پہنچے

سبزہ                 :          ہریالی

امتزاج               :         ملا جُلا

صنعتی                 :        کارخانے

کنٹری سائڈ           :       مضافات ،شہر سے ملحق بیرونی علاقہ

کابکی اسٹیج             :  لکڑی کے چھوٹے چھوٹے اسٹیج

شراین                :         مزار،سمادھی

برجس                :         شکاریوں کا لباس جس میں نیچے کا حصّہ تنگ ہوتا ہے جبکہ اوپری حصّہ خاصا چوڑا ہوتا ہے

اسکرول               :         کاغذ پر بنائی ہوئی تصویریں جنھیں لپیٹا جا سکتا ہے

ارسٹوکریٹک           :ا        میروں اور رئیسوں کا خاندان،اشرافیہ

RITUAL  :ایسی رسمیں جن کی پابندی سختی سے کی جاتی ہے

سمبل                  :        علامت

کیمونو                  :        جاپانی خواتین کا لباس

تقدّس                 :         پاکیزگی

دوزانو                 :        گھٹنوں کو پیچھے کی طرف موڑ کر بیٹھنا

روحانیت              :         ایسے مسائل جن کا تعلق انسان کے اندرون سے ہو

کلائمکس                :   نقطۂ عروج،منتہا

ملغوبہ                   :       کئی چیزوں کو ملا کر تیار کیا گیا مشروب

ستم ظریفی              :        زیادتی، مزاق میں ظلم کرنا

ھو الشّافی                :        اللہ مجھے شفادے،دعائیہ کلمہ

متانت                   :        سنجیدگی

2۔    سوالات:

1.    مصنف نے جاپانیوں کے مزاج کی کیا خاص بات بیان کی ہے؟

2.    مصنف نے جاپانیوں کی ایماندار ی کا کیا ذکر کیا ہے؟

3.    مصنف نے جاپان کا کیا منظر پیش کیا ہے؟

4.    جاپانیوں کے گھر کیسے ہوتے ہیں؟

5.    جاپانی چائے کو اہمیت کیوں دیتے ہیں؟

6.    چائے سے قرۃالعین حیدر کی ضیافت کس طرح کی گئی؟

3۔   زبان و قواعد:

٭   نیچے لکھے ہوئے جملوں میں مصنف کے لطیف طنز کی وضاحت کیجیے:

•    لڈّو بے حد بد ذائقہ تھا مگر معاملہ روحانیت اور تہذیب کی اعلیٰ ترین سمبلزم کا تھا۔دم مارنے کی گنجائش نہ تھی۔

•    ابھی کلائمکس باقی تھی، وہی لڑکیاں دوبارہ نمودار ہوئیں ۔ہمارے سامنے آکر سجدے میں گریں۔ ایک چینی کے پیالے میں ایک ہرے رنگ کا گاڑھا سا جوشاندہ سامنے رکھا۔

•    لہٰذا بہادری سے کام لیتے ہوئے میں نے آنکھیں بند کیں اور انتہائی نفاست سے پیالہ ہاتھ میں اٹھا کر وہ کڑوا ملغوبہ جسے جاپانی ستم ظریفی سے چائے کہتے ہیں۔میں نے ھوالشّافی کہہ کر پی ڈالا۔

•    اس کڑوے کسیلے جو شاندے کے لیے اس قدر دھوم دھام ،جب سے اس ملک میں آئے تھے مار سب جاپانیوں نے مل کرناک میں دم کر رکھا تھا۔چائے کی رسم ایسی اور چائے کی رسم ویسی– بہت شو رسنتے تھے ہا تھی کی دُم کا۔

4۔   غور کرنے کی بات:

ہر ملک کے عوام اپنی تہذیب اور روایات کی قدر دل سے کرتے ہیں۔دُنیا کے مختلف ملکوں کی اپنی اپنی تہذیبیں ہیں۔ جاپانی بھی اپنی تہذیب کے دلدادہ ہیں۔ چائے کی رسم کو اُن کے یہاں اب بھی وہی قدر و منزلت حاصل ہے جو پہلے تھی۔ اعلیٰ خاندان کی لڑکیوں کو چائے بنانے اور اُسے پیش کرنے کا فن باقاعدہ سکھایا جاتا ہے۔یہ اُن کی مذہبی اور تہذیبی عقیدت کا حصّہ بھی ہے۔ہمیں بھی ہندوستان کی شاندار تہذیب اور روایت کی قدر کرنی چاہیے۔

5۔    عملی کام:

٭    کسی ایسے شہر کا خاکہ لکھیے جہاں آپ سیر و تفریح کے لیے گئے ہوں۔یا اپنے شہر کی نمایاں خصوصیات کا خاکہ پیش کیجیے۔

٭     نیچے لکھی ہوئی عبارت کو پڑھیے اور اس سے متعلق سوالات کے جواب لکھیے۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے سامنے شاندار مستقبل تھا۔وہ چاہتے تو بیرونِ ملک جاکر مالی مشکلات اور بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پا سکتے تھے لیکن وطنِ عزیز سے سچّی محبت اور ملک و قوم کی خدمت کے جذبے نے انھیں یہ قدم نہ اٹھانے دیا۔ڈاکٹر کلام نے 1957 ء میں ڈفینس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آر گینائزیشن(DRDO) سے وابستہ ہو کر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیااور یہاں پانچ سال تک اہم سائنسی تحقیقات میں مصروف رہے۔ انھوں نے اپنی محنت اور لگن سے فضائی سائنس اور ٹیکنالوجی میں ملک کو اہم مقام تک پہنچا دیا۔انھوں نے زندگی کا سارا وقت میزائلوں کی ترقی کے سلسلے میں وقف کر دیا اور میزائل منصوبے کے ساتھ ایٹمی تحقیق کے شعبوں میں بھی نمایاں کا ر کردگی کا ثبوت دیا۔اس بڑی کامیابی نے ’’انھیں مزائل مین‘‘ بنا دیا اور ان کا شمار دنیا کے دس بڑے میزائل سائنس دانوں میں ہونے لگا۔ وہ ہمیشہ نظر،یہ مقصد، اور ہدف (Vision, Mission, and Goal) کے اپنے مقصدی جملے پر عمل پیرا رہے۔

(i)ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کےسامنےکیا شاندارمستقبل تھا؟ 

(ii)    ڈاکٹر کلام نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کس طرح کیا؟

(iii)    ڈاکٹر کلام کو میزائل مین،کیوں کہا جاتا ہے؟

(iv)    ڈاکٹر کلام کا مقصدی جملہ کیا ہے؟