
سیّد امتیاز علی تاجؔ
(1900 — 1970)
نام سیّد امتیاز علی اور تاج تخلّص تھا۔ بچپن سے ہی ذہین تھے۔ ابتدائی تعلیم پہلے گھر پر پھر اسکول میں ہوئی۔ اُنھیں کم عمری سے ہی تھیٹر اور ڈراموں کا شوق تھا۔ 1922 میں انھوں نے اپنا شاہکار ڈراما ’انار کلی‘ لکھا جو دس برس بعد 1932 میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ اس ڈرامے میں ان کی بہترین تخلیقی صلاحیتیں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ انارکلی کے بعد انھوں نے کوئی مکمل اسٹیج ڈراما نہیں لکھا۔ البتّہ یک بابی ڈرامے، ریڈیائی ڈرامے، فلمی کہانیاں اور مکالمے لکھتے رہے۔ انھوں نے فلم سازی بھی کی اور فلمی ہدایت کار کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
سید امتیاز علی تاج کی مزاحیہ کتاب ’’چچا چھکّن کے کارنامے‘‘ کو اردو ادب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ چچا چھکن اردو ادب کا ایک بے مثال مزاحیہ کردار ہے۔ اپنی دل چسپ گفتگو اور مضحکہ خیز حرکات کی وجہ سے چچا چھکن کا شمار زندہ کرداروں میں ہوتا ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ اس سبق میں ساٹھ ستر سال پرانی تہذیب اور رہن سہن کا نقشہ کھینچاگیا ہے۔ چنانچہ لکھنے پڑھنے کا سامان بھی پرانے ڈھنگ کا ہے۔ یہاں فاؤنٹین پین اور بال پوائنٹ پین کی جگہ نب اور ہولڈر کا قلم نظر آتا ہے جس کے لیے دوات اور جاذب کی ضرورت پڑتی ہے۔ امتیاز علی تاج کی تحریر سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
چچا چھکّن نے خط لکھا
صبح کے وقت چچی دالان میں چار پائی پر بیٹھی بچوں کو چائے پلارہی تھیں۔ چچا چائے سے فارغ ہوکر صحن میں کرسی پر اکڑوں بیٹھے تھے۔ اتنے میں بندو بھاگتا ہوا گیا اور ایک خط لاکر چچی کے قریب رکھ دیا۔ چچا نے دس مرتبہ پوچھ ڈالا ’’کس کا خط ہے؟ کہا ں سے آیا ہے؟ کس نے بھیجا ہے؟ کیا بات ہے؟‘‘
چچی بگڑ گئیں ’’توبہ ہے، خط آیا نہیں اور سوالات کا تانتا باندھ دیا۔ مجھے غیب کا علم تو آتا نہیں کہ دیکھے بغیر بتا دوں کس کا خط ہے۔‘‘
چچا کچھ خفیف سے ہوگئے۔ ’’ بھلا خطا ہوئی کہ پوچھا۔ ہماری بلا سے کسی کا ہو۔‘‘

بندو نے کہا ’’بیگم صاحب، منصرم صاحب کی بیگم کا آدمی جواب کے انتظار میں کھڑا ہے۔‘‘
یہ سن کر چچا سے نہ بیٹھا گیا۔ پوچھا ’’کیا لکھا منصرم صاحب کی بیوی نے؟‘‘
چچی نے چائے کی پرچ چُھٹّن کے منہ سے لگاتے ہوئے بے پروائی سے کہا ’’رات کے کھانے پر بلایا ہے۔‘‘
’’کیا بات ہے؟ کوئی تقریب؟‘‘
چچی نے کسی قدر سرسری انداز میں کہا ’’بات کیا ہوتی؟ منشی صاحب کی بیوی مجھ سے ملنا چاہتی تھیں، انھیں اور مجھے دونوں کو کھانے پر بلا لیا ہے۔‘‘
شاید مزید اطمینان حاصل کرنے کو چچا بولے ’’تو گویا زنانہ ضیافت ہے۔ بہت معقول بیوی ہیں۔ ایسی ملنسار بیویاں کہاں نظر آتی ہیں۔ ضرور جاؤ ضیافت میں۔ بلکہ کوئی موقع ہو تو انھیں بھی اپنے ہاں مدعو کرو۔‘‘ ساتھ ہی ایک مشورہ بھی فیصلے کی صورت میں پیش کیا ’’بچّے تو جائیں گے ہی ساتھ۔‘‘ چچی نے کچھ بگڑ کر آہستہ سے کہا ’’ہمسایوں کو بھی نہ لیتی جاؤں۔‘‘
باہر ملازم جواب کا تقاضا کررہا تھا۔ ایسا موقع اور چچا اپنی خدمات پیش کرنے سے رُک جائیں؟ بولے ’’ہم لکھ دیں جواب؟‘‘
چچی بولیں ’’نہ بس آپ معاف رکھیے۔ فارغ ہوکر میں آپ ہی لکھ لوں گی۔‘‘
روکے جانے کا باعث چچا کیوں نہ پوچھیں۔ بولے ’’کیا معنی؟ ہم خط لکھنا نہیں جانتے؟ دعوت منظور کرنے ہی کا خط لکھنا ہے نا! تو اس کا لکھنا ایسی کون سی جوئے شیٖر لانا ہے۔‘‘
اتنے میں چھٹّن نے جلدی سے چائے کا گھونٹ بھر اتو اسے اُچھال آگیا۔ ساری کی ساری چائے کپڑوں پر آن پڑی۔ چچی ’’ہائے نامراد‘‘ کہتی ہوئی تو لیے سے کپڑے پونچھنے لگیں۔ ادھر باہر سے آواز آئی۔
’’کیوں صاحب ملے گا جواب؟‘‘ چچی نے گھبرا کر چچا سے کہہ دیا ’’اچھا پھر اب تم ہی یہ لکھ دو کہ آجاؤں گی۔‘‘
اب کیا تھا، چچا کو منہ مانگی مراد ملی۔ خط وکتابت کے متعلق ضروری سامان فراہم کیے جانے کے احکام صادر ہونے لگے۔
’’بندو، میرے بھائی، ذرا لانا تو خط لکھنے کا سامان جھپاک سے۔ کیا کیالائے گا بھلا؟ قلم دوات اور کاغذ۔ شاباش! مگر کون سے کاغذ؟ آسمانی رنگ کے بڑھیا، رولدار ہاں دِکھانا تو ذرا اپنی چال اور سنیو… چلا گیا؟ لفافہ بھی چاہیے ہوگا۔ ارے بھئی کوئی لفافہ بھی لاؤ۔ پر نیلے ہی رنگ کا ہو لفافہ۔ صندوقچے میں رکھے ہیں۔ لکڑی کے صندوقچے میں۔ الماری میں ہوگا صندوقچہ۔ بڑی الماری میں۔ سن لیا نا؟ ذرا پُھرتی سے۔‘‘
’’ارے ہاں اور جاذب بھی تو لانا ہے بھئی۔ جاذب! جاذب! کوئی نہیں سنتا۔ یہ امامی کہاں گیا؟ او اما می! دیکھیں اس بدمعاش کی حرکتیں۔ بس کام نکلنے کی دیر ہے اور یہ غائب۔ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔ ذرا تم چلے جاتے میاں للّو! وہ جو ہری کاپی ہے نسخوں کی، وہ ہمارے تکیے کے نیچے رکھی ہے۔ اس میں جاذب ہے وہ نکال لاؤ اور دیکھنا۔ اماں سنو تو بھئی للّو! ارے میاں للّو! او للو کے بچّے! عجب حالت ہے ان لوگوں کی۔ بس ایسے گھبرا جاتے ہیں جیسے ریل ہی تو پکڑنی ہے۔ ودّو! تم جاکر کہو جاذب نہ لائیں کاپی ہی لے آئیں۔ آخر خط بھی تو کسی چیز پر رکھ کر لکھا جائے گا۔ ہاتھ پر رکھ کر تو میں لکھنے سے رہا۔ اور سننا میری بات۔ وہ کہیں ہمارا چشمہ بھی رکھا ہوگا وہ ڈھونڈتے لانا۔‘‘
لیجیے صاحب ایک دو منٹ میں گھر کا گھر مصروف ہوگیا۔ ایک کو کوئی چیز مل گئی، دوسرا خالی ہاتھ چلا آرہا ہے کہ فلاں چیز نہیں ملتی۔ کوئی کہتا ہے ’’فلاں چیز مقفّل ہے۔‘‘ کنجیوں کا گچّھا ڈھونڈا جارہا ہے۔ چچا بگڑ رہے ہیں۔ مونچھوں سے چنگاریاں نکل رہی ہیں۔
خدا خدا کرکے تمام چیزیں جمع ہوئیں۔ چچا نے چشمہ لگایا۔ کرسی پر براجمان ہوئے۔ لڑکے چیزیں لیے ارد گرد کھڑے ہوگئے۔ کاغذ سنبھالا، کاپی اس کے نیچے رکھی۔ قلم ہاتھ میں لیا۔ اب دیکھتے ہیں تو اس کانِب ندارد!
’’ہیں! نِب کہاں ہے؟ لاحول ولا قوۃ الّا باللہ! ابے اندھے اس سے لکھوں گا خط؟ اس سے لکھنا ہوتا تو میں اپنی اُنگلی سے نہ لکھ لیتا؟ تجھے قلم لانے کو کیوں کہتا؟ میں آج معلوم کرکے رہوں گا یہ حرکت کس نامعقول کی ہے؟‘‘
باہر سے آواز آئی ’’اجی صاحب جواب کے لیے کھڑے ہیں۔‘‘
چچی یہ سب کیفیت دیکھ رہی تھیں اور دل ہی دل میں پیچ وتاب کھا رہی تھیں۔ آواز سن کر نہ رہا گیا۔ بولیں ’’خدا کے لیے لکھنا ہے تو لکھ دو۔ وہ غریب باہر کھڑا سوکھ رہا ہے۔ یہ قلم نہیں تو میرا قلم موجود ہے۔ جا بنّو میرا قلم لادے۔‘‘
چچا اس وقت جوش میں تھے۔ چچی پر بھی برس پڑے۔ ’’تمھاری ہی شہہ پاکر تو نوکروں اور بچّوں کی عادتیں بگڑ رہی ہیں۔ یہ ضرور ان میں سے کسی کی حرکت ہے۔ کوئی بچّہ یا ملازم ہمارے اس قلم سے تفریح کرتا رہا اور اسی نے اس کا نِب ضائع کیا ہے۔ سچ بتاؤ کہ یہ حرکت کس کی ہے؟‘‘
اتنے میں بنّو چچی کا قلم لے آئی۔ چچا کا آخری فقرہ سن کر اس نے اُن کے قلم پر نگاہ ڈالی تو بولی ’’لال قلم! ابّا میاں کل آپ ہی نے تو ازار بند ڈالنے کو اس کانب اُتارا تھا۔‘‘
چچا نے گھور کر بنّو کو دیکھا۔ قلم کو دیکھا۔ کچھ سوچا۔ کھنکار کر گلا صاف کیا۔ کرسی پر پینترا بدلا۔ کنکھیوں سے چچی اماں پر نظر ڈالی اور قلم بنو کے ہاتھ سے لے لیا۔ سر جھکا کر انگوٹھے کے ناخن پر اس کا نب پرکھنے لگے۔ بولے ’’چلو اب اسی سے کام چل جائے گا۔‘‘ آواز کا سُر بہت مدّھم تھا۔
خط لکھنا شروع کیا۔ القاب ہی لکھا ہوگا کہ خط کا کاغذ پھاڑ ڈالا۔ دوسرا منگوایا۔ ڈبّا لیا لیکن لکھتے لکھتے رُک گئے۔ بہت دیر تک مضمون سوچتے رہے۔ آخر پھر لکھنا شروع کیا۔ نِب اتنی دیر میں خشک ہوچکا تھا۔ آپ سمجھے دوات میں سیاہی کم ہے۔ قلم بے تکلف دوات میں ڈال دیا۔ تحریر شروع کرنے کی دیر تھی کہ سیاہی کا یہ بڑا دھبّا کاغذ پر! لاحول ولا قوۃ الّا باللہ کہہ کر اس کاغذ کو بھی پھاڑ ڈالا۔ تیسرا کاغذ منگوایا۔ اس پر دو تین سطریں لکھ گئے۔ اس کے بعد قلم روک کر جو کچھ لکھا تھا، پڑھا۔ چچی کی طرف دیکھا، خط کو دیکھا اور چپکے سے پھاڑ ڈالا۔ ہلکے سے کہا ’’خط کے کاغذوں کی کاپی ہی لے آ۔‘‘
کاغذوں کی کاپی کی کاپی آگئی اور رقعے کا جواب بے فکری سے لکھا جانا شروع ہوگیا۔ کبھی قلم کا شکوہ کہ نب درست نہیں، نیا نب ہے۔ کبھی دوات کی شکایت کہ سیاہی ٹھیک نہیں، پھیکی ہے۔کبھی جاذب برا کہ یہ جاذب ہے یا پتنگ بنانے کا کاغذ۔ ہر شکوہ ایک نیا کاغذ ضائع کرنے کی تمہید۔ اسی میں پون گھنٹہ ہونے آگیا۔ باہر ملازم آوازوں پر آوازیں دے رہا ہے۔ ادھر چچی یہ قصّہ ختم کرنے کا تقاضا کررہی ہیں۔ بار بار کہہ رہی ہیں ’’خدا کے لیے تم مجھے قلم دوات دو میں ابھی دو منٹ میں لکھے دیتی ہوں خط۔‘‘ مگر چچا اپنی قابلیت کی یہ توہین کیوں کر برداشت کرلیں۔ سٹ پٹا گئے ہیں مگر خط لکھنے سے باز نہیں آتے۔ پینترے پر پینترا بدل رہے ہیں اور کاغذ پر کاغذ ردّی کیے چلے جارہے ہیں۔
غرض پورے ڈیڑھ گھنٹے میں خط ختم ہوا اور اسے جلدی جلدی بند کر کے چچا نے باہر ملازم کے حوالے کیا۔
لیکن لطف اس وقت آیا جب دو پہر کو منصرم صاحب کی بیوی کے ہاں سے پھر ایک لفافہ آیا جس میں چچا چھکن کا لکھا ہوا خط رکھا تھا اور ساتھ ہی اس مضمون کا ایک رقعہ۔ ’’پیاری بہن، شاید غلطی سے کسی اور کے نام کا خط میرے نام کے لفافے میں رکھ دیا گیا۔ واپس بھیجتی ہوں۔ براہِ مہربانی ملازم کے ذریعے زبانی اطلاع دیجیے کہ آپ رات کو تشریف لاسکیں گی یا نہیں؟‘‘
چچی نے چچا کا لکھا ہوا خط پڑھا تو اس کی عبارت یہ تھی:
’’جمیل المناقب، عمیم الاحسان، زاد عنایتکم۔ یہاں بفضلِ ایزد خیریت ہے اور صحت وتندرستی آپ کی بدرگاہِ مجیب الدّعوات خمس الاوقات نیک چاہتے ہیں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ تلطف نامہ ساعت مسعود میں وارد ہوا۔ طمانیتِ کُلّی ہوکہ وقتِ مُعیّن پر حاضری کے شرف وافتخار کا حصول مایۂ ناز متصوّر ہوگا۔‘‘
(سیّد امتیاز علی تاج)
مشق
1۔ لفظ ومعنی:
شاہکار : بہترین کام
منصرم : منتظم، انتظام کرنے والا
مضحکہ خیز : جن پر ہنسی آئے ،بے وقوفی کا کام
غیب : پوشیدہ، اوجھل
خفیف : شرمندہ، ہلکا
پیچ وتاب کھانا : تِلملانا
ضیافت : دعوت، خاطر داری
مقفّل : جہاں تالا لگا ہو
جوئے شیرلانا : بہت مشکل کام انجام دینا
شہہ پانا : اکسانا،بہکانا
ضائع : برباد کرنا، ختم کرنا
پینترابدلنا : انداز بدلنا
توہین : بے حرمتی، بے عزِّتی
ساعتِ مسعود : خوشی کی گھڑی، خوشی کا لمحہ
جمیل المناقب : اچھی صفات رکھنے والا
عمیم الاحسان : عام طور پر احسان کرنے والا
زاد عنایتکم : آپ کی عنایت میں اضافہ ہو
بفضلِ ایزد : خدا کے فضل وکرم سے
مجیب الدعوات : مراد اللہ تعالیٰ، دعا قبول کرنے والا
خمس الاوقات : پانچوں وقت، پنج وقتہ
تلّطف نامہ : کرم نامہ
وارد ہوا : پہنچا
طمانیت کلّی : مکمل اطمینان
شرفِ افتخار : عزت وعنایت کا شرف
مایۂ ناز : موجب فخر
مُتصوّر : تصور کیا گیا،جسے سوچا گیا
2۔ سوالات:
1. چچی کو دعوت پر کس نے مدعو کیا تھا؟
2. خط کس کا تھا اور اس میں کیا لکھا تھا؟
3. چچی، چچا چھکّن پر کیوں ناراض ہو گئیں؟
4. قلم دیکھ کر چچا چھکن کیوں خفا ہوگئے؟
5. خط کا جواب لکھنے میں تاخیر کیوں ہوئی؟
6. چچا چھکن نے خط کا جواب لکھنے میں کیا کیا ضروری سامان فراہم کیے جانے کا حکم صادر کیا؟
7. چچا چھکن کے خط کو منصرم صاحب کی بیوی نے کیوں واپس کردیا؟
3۔ زبان و قواعد :
٭ نیچے لکھے ہوئے محاوروں اور کہاوت کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
تانتا بندھنا جوئے شیر لانا پیچ وتاب کھانا پینترا بدلنا برس پڑنا
کام کا نہ کاج کادشمن اناج کا
4۔ غور کرنے کی بات:
• چچا جھکّن کے کردار پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ بظاہر یہ ایک معمولی کردار ہے لیکن امتیازعلی تاج نے مضحکہ خیز حرکات اور دلچسپ گفتگو سے اس کردار کو دلچسپ بنا دیا ہے۔
• تاجؔ نے چچا چھکّن کے خط لکھنے کے انداز میں بھی ایک ایسا پہلو پیش کیا ہے کہ خط کی سنجیدہ عبارت پڑھتے ہوئے قاری مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔
5۔ عملی کام:
٭ چچا اور چچی کے مابین دلچسپ مکالموں کو اپنے الفاظ میں لکھیے۔