Skip to content
I


اعظم کریوی

وفات (1955)

اعظم کریوی الہ آباد کے ایک گاؤں کریوہ کے رہنے والے تھے۔ان کا پورا نام اعظم حسین تھا۔گاؤں میں ابتدائی تعلیم حاصل  کرنے کے بعد الہ آباد آگئے۔ایک فوجی دفتر میں ملازمت کی۔تقسیم ملک کے بعد کراچی میں جاکر بس گئے۔ وہاں بھی سرکاری ملازمت کی۔ اعظم کریوی کے افسانوی مجموعے ’’پریم کی چوڑیاں ‘‘، ’’کنول کے پھول‘‘ ، ’’دل کی باتیں‘‘اور ’’روپ سنگھار‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔اعظم کریوی کا شمار اردو کے ابتدائی افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے پریم چند اور سدرشن کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ ان کے افسانوں میں دیہات کے حسین مناظر، وہاں کی تہذیب، پنچایتوں اور بازاروں کی گفتگو کی جھلکیاں نظر   آتی ہیں۔ ان کے افسانوں کے کردار عموماً نچلے طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔انھیں دیہات کے غریب لوگوں سے بہت محبت تھی۔ وہ ان کی صحیح تصویر پیش کرکے لوگوں کی توجہ ان کی طرف مبذول کرانا چاہتے تھے۔ زبان کا لوچ ،مکالمے کا فطری انداز،جملوں کی شیرینی اور گھلاوٹ انھیں دوسرے افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔فارسی اور ہندی کی لطیف آمیزش ،اعظم کریوی کے افسانوں کی نمایاں خصوصیت ہے۔

بڑے بول کا سر نیچا

پورن مَل، آگرے کے سیٹھ سرجو مل کا اکلوتا بیٹا تھا۔سیٹھ جی کی خواہش تھی کہ وہ پورن مل کو صرف تھوڑی ہندی اور مہاجنی کا کام سکھا دیں لیکن پورن مل نے انگریزی پڑھنے کے لیے ضد کی اور کسی طرح ایف۔اے تک پہنچ گیا۔ اس کے دوستوں نے  اسے مشورہ دیا کہ اگر وہ دنیا میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اسے یورپ وامر یکہ جانا چاہیے۔اس نے سیٹھ جی سے اپنا ارادہ ظاہر کیا۔

سیٹھ سرجومل پرانے خیالات کے سیدھے سادے آدمی تھے۔ انھوں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ آج تک پورن مل کی کوئی بات ٹالی نہ گئی تھی۔اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔مجبوراً سیٹھ جی کو اپنے لاڈلے کی بات ماننی پڑی اور پورن مل ہنسی خوشی امریکہ کے لیے روانہ ہو گیا۔وہاں پہنچ کر شکا گو کمر شیل کالج میں داخل ہو گیا۔

12

امریکہ کی ہر بات نرالی ہے۔اونچ نیچ کا وہاں کوئی سوال ہی نہیں۔دن بھرہوٹل میں جھوٗٹے برتن دھونے والا، گلی گلی دیا سلائی بیچنے والا،شام کو اچھّے کپڑے پہن کر کلب جاتا ہے۔ وہاں بڑے سے بڑا امیریا افسر بھی اسے حقارت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ پورن مل بھی ایک رات کلب میں جا پہنچا۔ وہ ایک بیش قیمت چائنا سلک کا سوٹ پہنے ہوئے تھا۔اس کو دیکھ کر لوگ مسکرانے لگے۔ پورن مل سمجھ گیا کہ سب اس کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ اس کا ایک دوست ہر یش بھی وہاں موجود تھا جو ایک عرصے سے امریکہ میں مقیم تھا۔ اس نے کہا ’’مسٹر پورن اس وقت تم کو کالاسوٹ پہن کر آنا چاہیے تھا، میرے پاس دوسرا سوٹ تیار ہے۔ڈریسنگ روم میں چل کرتم ابھی بدل سکتے ہو۔‘‘

پورن جھلّایا ہوا تو تھا ہی، اس نے سمجھا کہ ہر یش بھی اس سے مذاق کر رہا ہے۔وہ اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ ہریش رات کو ہوٹلوں میں برتن مانجھ کر اپنی بسراوقات کرتا ہے اور کالج میں پڑھتا ہے۔ اس نے بڑی حقارت سے جواب دیا۔

’’ہریش !تم میرے اس کپڑے کی قدر و قیمت نہیں جان سکے۔‘‘

ہریش نے بڑی نرمی سے مسکرا کر کہا۔

’’پیارے بھائی! جیسا دیس ویسا بھیس۔ ہندوستان اور امریکہ کے رسم و رواج اور پوشاک میں بہت فرق ہے۔‘‘

پورن : ’’تم تو ہوٹلوں میں چائے کی پیالیاں اُٹھایا اور مانجھا کرتے ہو۔ تم اس ہتک کو نہیں سمجھ سکتے۔‘‘

ہریش : ’’اگر میں اپنے پیٹ کے لیے کوئی کام کرتا ہوں تو اس میں شرم کی کوئی بات نہیں۔ تمھاری حالت تو مجھ سے گئی گزری ہے کیونکہ تم اپنے خرچ کے لیے دوسروں کے محتاج ہو۔پدرم سلطان بود،باپ کی دولت پر تم کیوں فخر کرتے ہو۔‘‘

جب پورن مل چمڑے کا کام سیکھ کر امریکہ سے واپس ہوا تو سیٹھ سر جومل مرچکے تھے۔امریکہ سے واپس آنے پر پورن مل خود اپنے کاروبار کی دیکھ بھال کرنے لگا۔

سیٹھ سرجومل کی آمد نی زیادہ خرچ کم تھا لیکن پورن مل نے لڑکپن سے بڑی شان وشوکت سے رہنا سیکھا تھا۔ امریکہ کی آب و ہوا اور فیشن نے اسے اور فضول خرچ بنا دیا تھا۔ اُس نے اپنے ایک گریجویٹ دوست شیام سندر کو منیجر مقرّر کر لیا اور اب سارا کام اس کی حسبِ منشا انجام پانے لگا۔

پورن مل کا زیادہ وقت نینی تال، شملہ،دارجلنگ کی سیر و سیاحت اور حکاّم سے ملاقات میں گزرنے لگا۔ آمدنی سے زیادہ خرچ ہونے لگا۔ شوق کی ہوا نے امریکہ کی جلتی ہوئی موم بتی کو آناً فاناً پگھلا کر بہا دیا۔ آہستہ آہستہ پورن مل کا سارا اثاثہ ختم ہو گیا۔

جس آگرہ میں پورن مل عیش و مسرت کے دن دیکھ چکا تھا ،اس میں اس کو بُرے دن بھی دیکھنے پڑے۔ پورن مل نے سوچا اب آگرہ میں رہنا بے کار ہے۔اس کو دوسرے شہر میں چل کر قسمت آزمائی کرنا چاہیے۔ یہ خیال کرکے وہ اپنے کیے پر پچھتا تا ہوا کانپور پہنچا۔ وہاں اس کو خبر ملی کہ ایک چمڑے کے کار خانے میں اس کے لائق کوئی آسامی خالی ہے۔اس نے فوراً درخواست دے دی۔ کارخانہ کے منیجر نے ملاقات کے لیے دفتر میں طلب کیا۔ وقت پر پورن مل دفتر پہنچ گیا۔صاحب نے بڑے غور سے پورن مل کی طرف دیکھا اور پھر مسکرا کر دریافت کیا ’’کیا آپ نے شکا گو کالج میں تعلیم پائی ہے؟‘‘

پورن مل نے بڑے فخر سے جواب دیا’’ جی ہاں! میں نے وہاں دو برس تعلیم پائی ہے اور خاص طور سے چمڑے کا کام سیکھا ہے۔‘‘

صاحب فوراً کھڑے ہو گئے اور انھوں نے پورن مل کا ہاتھ تھام کر کہا ’’کیا آپ آگرہ کے پورن مل سیٹھ ہیں؟ اپنے ہم مکتب دوست ہریش کو نہیں پہچانا؟‘‘

پورن مل چونک اُٹھا۔اس کے سامنے وہی ہریش کھڑا تھا جس کو اس نے کبھی امریکہ کے کلب میں ایک دن بُری طرح پھٹکارا تھا۔ شرم سے اس کا سر نیچا ہو گیا۔ہریش مسکرانے لگا۔ اس نے بڑی عزّت سے پورن مل کو کرسی پر بٹھا کر پوچھا ’’آپ نے تو کہا تھا کہ میرے والد بڑے رئیس اور مالدار ہیں۔ پھر آپ یہ چھوٹی نوکری کیوں کرنا چاہتے ہیں؟‘‘

پورن مل پر سو گھڑے پانی پڑ گیا۔ زمین پھٹ جاتی تو وہ سما جاتا۔آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔اس نے غم انگیز لہجے میں جواب دیا ’’بڑے بول کا سر نیچا، اس میں کوئی شک نہیں کہ میں رئیس زادہ ہوں لیکن آج شام کو میرے گھر میں کھانا کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘‘

(اعظم کریوی)

مشق

1۔    لفظ و معنی:

کوڑی                  :        پرانے زمانے میں رائج پیسہ

حقارت                 :       بے عزّتی،ذلّت

بیش قیمت              :        قیمتی

جیسا دیس ویسا بھیس    :       جس ملک میں رہے اس ملک کے طور طریقوں کی پابندی کرنا

ہتک                     :       بے عزّتی

پدرم سلطان بود         :       میرا باپ سلطان تھا۔ اپنی شان جتانے اور فخر کے لیے بولتے ہیں

حسب منشا                :      مرضی کے مطابق

آناً فاناً                    :       دیکھتے ہی دیکھتے

اثاثہ                       :       دولت، سرمایہ

ہم مکتب                  :       ایک ہی مدرسہ کے پڑھے ہوئے

غم انگیز                  :        دکھ بھرا،غمگین

2۔    سوالات:

1.    سیٹھ سرجومل کیسے آدمی تھے؟

2.    پورن مل امریکہ پڑھنے کیوں گیا؟

3.    ہندوستان اور امریکہ کی تہذیب میں کیا فرق ہے؟

4.    ہریش اپنی بسر اوقات کیسے کرتا تھا؟

5.    ہندوستان آنے کے بعد پورن مل پر کیا گزری؟

3۔    زبان و قواعد:

٭    نیچے لکھے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

بڑے بول کا سر نیچا جیسا دیس ویسا بھیس سو گھڑے پانی پڑ جانا

سر نیچا ہونا برے دن دیکھنا

4۔    غور کرنے کی بات:

’’آپ کا سچا دوست وہ ہی ہے جو مصیبت کے وقت ساتھ دے۔‘‘

’’عملی زندگی سچائی اور حقیقت پر مبنی ہوتی ہے۔‘‘

5۔    عملی کام:

٭    اس کہانی کے مرکزی خیال کو اپنے الفاظ میں لکھیے۔