
مرزا فرحت اللہ بیگ
(1884 – 1947)
مرزا فرحت اللہ بیگ دہلی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مکتب میں حاصل کرنے کے بعد ہندو کالج سے 1905 میں بی۔اے پاس کیا۔ 1907میں وہ حیدر آباد گئے اور مختلف ملازمتوں پر مامور رہے اور ترقی کرتے کرتے اسسٹنٹ ہوم سکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ 1919 میں انھوں نے اپنا سب سے پہلا مضمون رسالہ ’’افادہ‘‘ آگرہ میں لکھا۔ اور 1923 سے باقاعدہ مضامین لکھنے لگے۔ انھوں نے تنقید، افسانہ، سوانح حیات، معاشرت اور اخلاق ہر موضوع پر کچھ نہ کچھ لکھا اور اچھّا لکھا لیکن ان کے مزاحیہ مضامین سب سے زیادہ مشہور ہوئے۔
مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضامین سات جلدوں میں ’مضامینِ فرحت‘ کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ نظم کا مجموعہ ’میری شاعری‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ اس میں بھی مزاحیہ رنگ نمایاں ہے۔
ہنسنے اور ہنسانے کا کوئی اصول مقرّر نہیں ہوسکتا۔ تمام مزاح نگار اپنا انداز جدا رکھتے ہیں۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کا بھی ایک مخصوص رنگ ہے جسے عظمت اللہ بیگ نے ’’خوش مذاقی‘ کہا ہے۔ خوش مذاقی میں قہقہے کے مواقع کم اورتبسم کے زیادہ ملتے ہیں۔ ان کے یہاں ایسا انبساط ملتا ہے جسے دیر پا کہا جا سکتا ہے۔
مرزا فرحت اللہ بیگ کی مزاح نگاری میں دلّی کے روز مرہ اور محاورات کا لطف پایا جاتا ہے۔ وہ اکثر ایسے محاورات اور الفاظ اپنی تحریر میں لاتے ہیں جو دلّی کے لوگ گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون ان کی انھیں خصوصیات کا آ ئینہ دار ہے۔
پھُول والوں کی سیر
یہ جڑوں ہی کی مضبوطی تھی کہ دلّی کا سر سبز وشاداب چمن اگر چہ حوادثِ زمانہ کے ہاتھوں پائمال ہو چکا تھا پھر بھی کسی بڑی سے بڑی طاقت کی ہمّت نہ ہوتی تھی کہ اس برائے نام بادشاہ کو تخت سے اُتار کر دلّی کو اپنی سلطنت میں شریک کرے۔دلّی کے بادشاہ کا اقتدار ضرور کم ہوگیامگر جو عقیدت رعایا کوبادشاہ سے تھی اُس میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا اور جو محبت بادشاہ کو رعایا سے تھی وہ جیسی کی ویسی رہی۔ رعایا کی وہ کون سی خوشی تھی جس میں بادشاہ حصّہ نہ لیتے ہوں اور بادشاہ کا وہ کون سا رنج تھا جس میں رعایا شریک نہ ہوتی ہو۔ بات یہ تھی کہ دونوں جانتے اور سمجھتے تھے کہ جو ہم ہیں وہ یہ ہیں اور جو یہ ہیں وہ ہم ہیں۔
اگر یہ دیکھنا ہو کہ اس زمانہ میں پھول والوں کی سیر کیسی ہوتی تھی تو ذرا آنکھیں بند کر لیجیے ۔میں دکھائے دیتا ہوں۔
قلعہ والوں کی یہ حالت تھی کہ گویا شادی رچی ہوئی ہے۔چوڑی والیاں بیٹھی دھانی چوڑیاں پہنا رہی ہیں۔رنگر یزنیں سُرخ دوپٹّے رنگ رہی ہیں۔کہیں مہندی پس رہی ہے۔ کہیں کڑاہیاں نکالی جا رہی ہیں۔کہاں کا کھانا اور کہاں کا سونا۔ اسی گڑبڑ میں رات کے بار ہ بجا دیے۔کوئی دو بجے ہوں گے کہ سواری کا بگل ہوا۔ قلعہ کے لاہوری دروازہ کے سامنے نوبت خانہ سے ملا ہوا جو میدان ہے۔اس میں سواریاں آلگیں۔ تین سوا تین بجے ہوں گے کہ پہلی رتھ روانہ ہوئی۔آگے آگے رتھیں اُن کے پیچھے دوسری سواریاں سب سے آخر میں نواب زینت محل کا سکھپال۔لاہوری دروازہ پر سواری پہنچی تھی کہ کپتان ڈگلس قلعدارنے اتر کر سلامی دی۔ دروازہ کے باہر سے دگلہ پلٹن کا ایک پرا آگے ہو لیا اور ایک پیچھے، شہزادیوں کی سواری کے ادھر ادھر قلمانیاں مردانہ لباس پہنے کھڑ کی دار پگڑیاں باندھے، ساتوں ہتھیار سجائے ساتھ ہوئیں۔ بیگمات کی سواریوں کو ترکنوں کی پلٹنوں نے بیچ میں لیا۔ ان کا بھی مردانہ فوجی لباس، گورے گورے چہرے ۔ شانوں پر کا کلیں پڑی ہوئیں۔ سرپر چھوٹا سا عمامہ ، پہلو میں تلوار، ڈاب میں پیش قبض بس یہ معلوم ہوتا تھا کہ تر کوں کی فوج دلّی میں گھس آئی ہے۔ نواب زینت محل کی سواری کا بڑا ٹھاٹ تھا۔

غرض سواری مبارک ان سڑکوں پر سے گزر کر دلّی دروازہ پہنچی۔محافظوں نے سلامی دی اور جلوس سلطان جی کی سڑک پر پڑ لیا۔سورج نکلنے سے پہلے پہلے سواری پرانے قلعہ پہنچ گئی ۔شیر شاہ کی مسجد کے سامنے ہوا دار رکھا گیا۔بادشاہ سلامت نے مسجد میں نماز پڑھی۔ وظیفہ پڑھا ۔کوئی گھنٹہ آدھ گھنٹہ قیام کرکے یہاں سے سواری بڑھی اورا بھی دن پوری طرح نہ نکلا تھا کہ ہمایوں کے مقبرہ پہنچ گئی۔درگاہ شریف قریب ہی ہے۔ تھوڑی دیر میں وہاں پہنچ گئے۔دلی والوں کو خاص اس درگاہ سے جو عقیدت ہے وہ بیان نہیں ہو سکتی۔ کسی قوم اور کسی ملّت کا آدمی نہیں جو اس چوکھٹ پر سرنہ جھکاتا ہو اور کوئی بدنصیب ہی ہوگا جو یہاں سے نامراد جاتا ہو۔
گرم گرم پکوان آرہا ہے، لوگ کھار ہے ہیں۔ جھوٗلا جھوٗل رہے ہیں۔ کوئی اندر سے کی گولیاں منہ میں دبائے ہے۔ کسی کے حلق میں بیسن کی پُھلکی پھنس گئی ہے۔سانس رکا جاتا ہے۔مینھ برس کر نکل گیا تھا۔پھر بھی پانی کی بوندیں درختوں میں سے ٹپ ٹپ گر رہی تھیں۔ادھر بوند کڑاہی میں گری ۔تیل اڑا۔ادھر کسی کے منہ سے اوئی کی آواز نکلی۔ کسی کے ہاتھ پر چھینٹا پڑا۔ کوئی اوئی تو بہ ہے، کہہ کررہ گئی ۔کوئی کلّہ سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔دوسروں نے پھر پکڑ یہ کہہ بٹھا لیا کہ واہ بوا،نوج کوئی ایسا نازک بن جائے۔چھینٹاپڑتا ہی ہے۔ یوں کڑہائی چھوڑ کر کوئی نہیں اٹھ کھڑا ہوتا۔
مہرولی کے بازار کی کچھ نہ پوچھو۔ اس سرے سے اس سرے تک سارا آئینہ بند تھا۔ دنیا بھر کے سودے والوں کی دکانیں لگ گئی تھیں۔ میوے مٹھائیوں اور کھلونوں سے بازار پٹا پڑا تھا۔ ایک طرف حلوائیوں کے ہاں پوریاں کچو ریاں، بیوڑیاں، سہال اور اندر سے تلے جار ہے تھے تو دوسری طرف کبابوں ،پراٹھوں،بریانی ،مزعفر، مُتنجن کی خوشبو سے سارا بازار بڑا مہک رہا تھا۔ گاہک کہ ٹوٹے پڑتے ہیں۔ لیا کھایا۔پتّے وہیں پھینک آگے بڑھے۔ پنواڑن کی دکان پر پہنچے بی پنواڑن ہیں کہ بالوں میں تیل ڈالے کنگھی کیے، آنکھوں میں سرمہ لگائے،دانتوں میں مسّی ملے، بڑے ٹھاٹھ سے بیٹھی پان بنا رہی ہیں۔ یار لوگوں نے پان لیے، خود کھائے،دوسروں کو کھلائے۔پیک تھوکی،آگے بڑھے ۔پھول والوں کی دکانوں سے گجرے لیے،گلے میں ڈالے۔ساقی کے پاس ٹھہرے۔ایک دو پیسے دیے۔ آگے قدم بڑھایا۔ساقی کارنگ بھی آج کچھ نیا ہے۔
غرض خلقت کا یہ ہجوم پھوار میں بھیگتا خس کے پنکھے جھلتا۔ آہستہ آہستہ مہرولی کی سڑک پرسے گزرا۔یہ جلوس شاہی دروازے کے سامنے پہنچ گیا۔ بادشاہ سلامت اوپر کی بارہ دری میں برآمد ہوئے ۔بیگمات کے لیے چلمنیں پڑگئیں۔اب ساری بھیڑ سمٹ سمٹا کر بابِ ظفر کے سامنے آگئی۔ پھاٹک کے سامنے بڑا کھُلا میدان تھا۔ یہاں باجے والوں نے اپنے کمال دکھائے۔ اکھاڑے والوں نے اپنے ہاتھ دکھائے۔سب کو حسبِ مراتب انعام ملا۔کسی کو سیلا ملا۔ کسی کو دو شالہ ملا۔کسی کو مندیل ملی۔ کسی کو کڑے ملے۔ اتنے میں پنکھا بھی سامنے آگیا۔ شہر کے شرفا اور امرا مجرا بجالائے۔ اوپر سے سارے مجمع پر گلاب پاشوں سے گلاب اور کیوڑہ چھڑ کا گیا۔عطر اور پان سے تواضع کی گئی۔ بادشاہ کے اشارہ کرتے ہی ولی عہد بہادر نیچے اتر آئے۔لوگوں کے گلے میں پھولوں کے کنٹھ ڈال کر سب کو رخصت کیا۔ یہاں سے سلاطین زاد ے اور شہزادے بھی جلوس کے ساتھ ساتھ ہو گئے۔ کوئی بارہ بجے ہوں گے کہ پنکھا جوگ مایا جی پہنچ گیا۔
خیر، درگاہ شریف تو قریب ہی تھی۔ لوگ دس بجے پنکھا چڑھا کر فارغ ہوگئے اور یہاں سے نکل سیدھے شمسی تالاب پہنچے۔تھوڑی دیر میں بادشاہ سلامت کی سواری بھی آگئی۔بیگمات کے لیے جہاز پر چلمنیں پڑ گئیں وہ اندر جا بیٹھیں۔بادشاہ سلامت نے مہتابی پر جلوس کیا۔ مصاحبوں اور دہلی کے اکثر امرا ء و شر فا کو اوپر بلا لیا گیا۔ سارے سیلانی تالاب کے کنارے جم گئے۔ تالاب میں سینکڑوں کشتیاں، بجرے اور نواڑے پہلے ہی سے پڑ گئے تھے۔آدھوں میں شاہی آتش باز سوار ہو کر ایک طرف چلے گئے۔
آتش بازی کی چمک سے سارا تالاب اور کنارے روشن ہو جاتے تھے اور پانی میں روشنی کے عکس ۔کشتیوں کے سائے ، کناروں پر خلقت کے ہجوم، ان کے غُل ۔آتش بازی کے عکس سے ان کے زرد زرد چہروں اور اوپر دھوؤں کے بادلوں نے ایک عجیب خوفناک منظر پیدا کر دیا تھا۔
غرض دو بجے کے قریب آتش بازی ختم ہوئی۔ بادشاہ سلامت کی طرف سے شال دو شالے، مندیلیں اور سیلے تقسیم ہوئے۔کہیں تین بجے جا کر لوگوں کو فرصت ہوئی۔سب اپنے اپنے ٹھکانوں پر جا پڑے۔ بادشاہ سلامت کی سواری رات ہی کو قطب سے نکل گئی اور روشن چراغ دہلی ہوتی ہوئی تیسرے پہر تک دہلی آگئی۔دوسرے روز لوگوں نے صبح ہی صبح اٹھ میوے ، مٹھائیاں، پراٹھے، چھلّے اور کھلونے خریدے ۔ٹھنڈے ٹھنڈے نکل اپنے گھروں کا راستہ لیا۔ شام تک مہرولی سنسان اور دہلی آباد ہو گئی۔
(مرزا فرحت اللہ بیگ)
مشق
1۔ لفظ ومعنی:
سرسبز : ہرا بھرا
چمن : باغ
حوادث : حادثے کی جمع
پائمال : پاؤں سے روندا ہوا
اقتدار : حکومت
نوبت خانہ : جہاں نوبت بجے
سکھپال : ایک قسم کی پالکی
پرا : فوج کی ٹکڑی
قلمانیاں : سپاہی پیشہ عورتوں کا ایک دستہ
کاکل : بال
ڈاب : کمربند
پیش قبض : خنجر،چھرا
ہوادار : ایک قسم کی سواری جسے کہا ر اٹھاتے ہیں
عقیدت : احترام
اندر سے : چاول اور تیل سے بنی مٹھائی
کلّہ : گال
نوج : عورتوں کے روزمرہ میں شامل جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہے۔
سہال : ایک قسم کی تلی ہوئی میٹھی روٹی
مزعفر : زغفرانی رنگ کا میٹھا پلاؤ
متنجن : میٹھا پلاؤ
ساقی : حقّہ پلانے والا
خلقت : مخلوق
خس : خوشبودار گھاس کی جڑ
بارہ دری : بارہ دروازوں والا مکان
چلمن : چق،تیلیوں کا بنا ہوا پردہ
سیلا : رومال
دو شالہ : بڑی اونی چادر
مندیل : میز پوش، رومال
گلاب پاش : وہ صراحی نما برتن جس میں عرقِ گلاب بھر کر چھڑکتے ہیں
کنٹھ : گلا
مہتابی : اونچا چبوترا
مصاحب : بادشاہ یا حکمراں کے خاص دوست
سیلانی : گشت کا شوقین
بجرے : (بجرا کی جمع)کشتی
نواڑے : ایک قسم کی کشتی
آتش باز : آتش بازی بنانے والا
چھلّے : چھلّا کی جمع، انگوٹھی
2۔ سوالات:
1. آخری مغل بادشاہ کے دور کی دلّی کی کیا خصوصیات تھیں؟
2. مصنف نے پھول والوں کی سیر کا کیا منظر پیش کیا ہے؟
3. مہرولی کے بازار کا کیا نقشہ تھا؟
4. جلوس نے بادشاہ سے کیاانعام پایا؟
5. مہرولی میں شاہی دروازہ پہنچ کر باب ظفر کا کیا منظر پیش کیا گیا ہے؟
6. جوگ مایا مندر اور درگاہ شریف کا پھول والوں کی سیر سے کیا خاص تعلق ہے؟
7. شمسی تالاب پر پھول والوں کی سیر کا کیا جشن ہوتا تھا؟
3۔ زبان و قواعد:
٭ نیچے لکھے جملوں کی وضاحت کیجیے۔
•دلّی کے بادشاہ کا اقتدار ضرور کم ہوگیا مگر جو عقیدت رعایا کو بادشاہ سے تھی، اس میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا۔
• مہرولی کے بازار کی کچھ نہ پوچھو ۔اس سرے سے اس سرے تک سارا آئینہ بندتھا۔میوے مٹھائیوں اور کھلونوں سے بازار پٹا پڑا تھا۔کبابوں،پراٹھوں،بریانی،مزعفر،متنجن سے سارا بازار مہک رہا تھا۔
• بادشاہ سلامت اوپر کی بارہ دری میں برآمد ہوئے۔بیگمات کے لیے چلمنیں پڑ گئیں۔اب ساری بھیڑ سمٹ سمٹا کر بابِ ظفر کے سامنے آ گئی۔
• بادشاہ سلامت نے مہتابی پر جلوس کیا۔ مصاحبوں اور دہلی کے اکثر امراء و شرفا کو اوپر بلایا گیا۔سارے سیلانی تالاب کے کنارے جم گئے۔
٭ نیچے لکھے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔
پائمال ہونا آنکھیں بند کرنا ٹھاٹ ہونا سرجھکانا نامراد جانا
آئینہ بند ہونا پٹا پڑا ہونا ٹوٹ پڑنا مجرا بجالانا
4۔ غور کرنے کی بات:
مرزا فرحت اللہ بیگ دہلی کے رہنے والے تھے۔انھیں دہلی کی زبان پر قدرت حاصل تھی۔اس مضمون میں اس دور کی دلّی کی تہذیبی اور معاشرتی جھلکیاں اپنی بہار دکھاتی ہیں۔ بادشاہ اور رعایا کا باہمی ربط و تعلق اور محبت دیدنی تھی۔ پھول والوں کی سیر کا میلہ ہماری گنگا جمنی تہذیب کا نمونہ ہے۔یہ روایت آج تک زندہ ہے۔ہر سال پھول والوں کی سیر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ہماری تہذیبی روایت کا یہ تسلسل ہمیں قومی ،بھائی چارہ اور مساوات کا پیغام دیتا ہے۔
مرزا فرحت اللہ بیگ کا یہ مضمون تہذیبی اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے جس میں اس دور کی دہلی کی زبان،روز مرّہ ،سیر و تفریح ، ماحول، ملبوسات،مشاغل کی تصویریں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں اور گزرا ہوا زمانہ زندہ ہو جاتا ہے۔
5۔ عملی کام:
٭ مصنف نے دلّی کی معاشرتی زندگی کی جن مختلف اشیاء کا ذکر اس مضمون میں کیا ہے، انھیں اپنے الفاظ میں لکھیے۔
٭ موجودہ دور میں پھول والوں کی سیر کی کیا اہمیت ہے۔ مختصراً لکھیے۔