Skip to content
I



ڈراما

ڈراما یونانی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں’کرنا‘۔ ادب میں یہ ایسی صنف ہے جس میں کرداروں ،مکالموں اور مناظر کے ذریعے کسی کہانی کو پیش کیا جاتا ہے۔ قدیم ہندوستان میں سنسکرت کا ویہ میں بھی اس کی روایت بہت مضبوط تھی اور اس کو ’’ناٹیہ‘‘ کہا جاتا تھا۔

ارسطو نے ڈرامے کو زندگی کی نقّالی کہا ہے۔داستان، ناول اور افسانے کے مقابلے میں ڈراما اس لحاظ سے حقیقت سے قریب تر ہوتا ہے کہ اس میں الفاظ کے ساتھ ساتھ کردار، اُن کی بول چال اور زندگی کے مناظر بھی دیکھنے والوں کے سامنے آجاتے ہیں۔کرداروں کی ذہنی اور جذباتی کشمکش کو مکالمے اور آواز کے اُتار چڑھاؤ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ ڈراما بنیادی طور پر اسٹیج کی چیز ہے لیکن ایسے بھی ڈرامے لکھے گئے ہیں اور لکھے جاتے ہیں جو صرف سُنانے اور پڑھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ریڈیو کی وجہ سے ڈراموں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور ٹیلی وِژن پر جس طرح کے پروگرام سب سے زیادہ پیش کیے جاتے ہیں اُن کا تعلق کسی نہ کسی طرح ڈرامے ہی کی صنف سے ہوتا ہے۔

ارسطو نے ڈرامے کے اجزائے ترکیبی میں چھے چیزوں کو ضروری قرار دیا ہے۔قصّہ،کردار،مکالمہ، خیال،آرائش اور سنگیت۔لیکن ضروری نہیں کہ ہر ڈرامے میں سنگیت یا موسیقی کا عنصر ہو۔ پلاٹ،کردار، مکالموں اور مرکزی خیال کا ہونا البتہ ضروری ہے۔ ڈرامے کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں واقعات کی کڑیاں اس طرح ملائی جائیں کہ وہ نقطۂ عروج تک پہنچ سکیں اور ناظرین کی توجہ ایک نکتے یا خیال پر مرکوز ہو جائے۔اس کے بعد ڈراما انجام کی طرف بڑھتا ہے۔ واقعات سے جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے، وہ انجام کے ذریعے پیش کر دیا جاتا ہے۔حق وباطل اور خیر وشر کی کش مکش ،بنیادی انسانی اقدار اور سماجی، قومی وسیاسی مسائل کو ڈراموں میں پیش کیا جاتا ہے۔

اردو میں ڈرامے کا آغاز واجد علی شاہ کے زمانے میں ان کے ڈرامے ’’رادھا کنھیّا‘‘ سے ہوا۔ امانت کی ’’اندر سبھا‘‘ بھی اسی زمانے میں لکھی گئی جو بے حد مقبول ہوئی۔ ’’اندر سبھا‘‘ کے اثر سے بعد کے پارسی اردو تھیٹر میں بھی رقص وموسیقی کا خاصا زور رہا۔انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں اردو تھیٹر نے بہت ترقی کی اور آغاحشر کے ڈرامے بہت مشہور ہوئے۔اس کے بعد امتیاز علی تاج، ڈاکٹر سیّد عابد حسین،پروفیسر محمد مجیب، اشتیاق حسین قریشی،  فضل الرحمٰن، محمد حسن، حبیب تنویر، اور ابراہیم یوسف نے ڈراما نگاری پر خصوصی توجہ کی۔ کرشن چندر، سعادت حسن منٹو،راجندر سنگھ بیدی ، ریوتی سرن شرمااور کرتار سنگھ دگّل نے بھی ریڈیائی ڈرامے لکھے اور ڈراما نگاری کی روایت کو مزید استحکام بخشا۔

12

حبیب تنویر

(1923 – 2009)

حبیب تنویر کا اصل نام حبیب احمد خاں اور تنویر تخلص تھا۔ ادبی اور ثقافتی دنیا میں وہ حبیب تنویر کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ناگ پور یونیورسٹی سے بی۔اے کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو میں ملازم ہوگئے۔ ابتدا میں انھوں نے فلمی گیت اورمکالمے لکھے پھر قدسیہ زیدی کے ہندوستانی تھیٹرمیں شامل ہوگئے۔ لندن اور جرمنی میں ڈرامے کی تکنیک پر مہارت حاصل کی۔

حبیب تنویر نے بہت سے اردو ڈرامے لکھے، جنھیں بہت سے مشرقی اور مغربی ملکوں میں اسٹیج کیا گیا۔ ان میں’’سات پیسے‘‘، ’’چرن داس چور‘‘،’’ہرماکی کہانی‘‘،’’آگرہ بازار‘‘،’’ شاجاپور کی شانتی بائی‘‘،’’ مٹی کی گاڑی‘‘ اور’’میرے بعد‘‘ بہت مشہور ہوئے۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ اپنے ڈراموں کے ذریعے انھوں نے چھتیس گڑھ کے لوک کلاکاروں کو قومی سطح پر روشناس کرایا۔

حبیب تنویر کو قومی اور بین الاقوامی سطح کے کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ حکومتِ فرانس نے ان کو اپنی سوانح لکھنے کے لیے اسکالر شپ دی تھی۔

ہندی، بنگالی ، مراٹھی ، اور یورپ کی کئی زبانوں میں ان کے ڈرامے ترجمہ ہوچکے ہیں۔

آگرہ بازار

بازار کے لوگ (ڈرامے کے کردار)

                    پہلا فقیر                        پہلا سپاہی                                                                 دوسرا فقیر                      دوسرا سپاہی

                   ککڑی والا                        بے نظیر                                                                      کُتب فروش                پنساری

                   برتن والا                       مداری    

                     تربوز والا                      شہدا

                      پتنگ والا                      شاعر 

                      ریچھ والا                      ہمجولی                                                         برف والا                     کتاب کا گاہک                                     

       کان کا میل صاف کرنے والا            اجنبی

                                                 لڈّو والا                       لڑکا                 

              پان والا                     لڑکی(نظیر کی  نواسی)                                                            داروغہ                          راہ گیر، ٹولی اور بچے وغیرہ


                             پہلا ایکٹ

(دو فقیر ’’شہر آشوب‘‘ گاتے ہوئے ہال کے اندر داخل ہوکر اسٹیج پر جاتے ہیں۔ ایک ہاتھ میں کشکول اور تسبیح اور دوسرے میں ایک ڈنڈا اور لوہے کے کڑے لیے ہوئے پردے کے سامنے کھڑے ہوکر نظم سناتے ہیں اور تال پر کڑے بجاتے جاتے ہیں۔)

جتنے  ہیں  آج  آگرے  میں  کارخانہ   جات

کس کس کے دکھ کو روئیے، اور کس کی کہیے بات

سب پر  پڑی  ہے  آن  کے  روزی  کی  مشکلات

روزی  کے  اب  درخت  کا  ہلتا  نہیں  ہے  پات

ایسی   ہوا   کچھ   آکے   ہوئی   ایک  بار   بند

(نظم پڑھتے ہوئے اسٹیج کے باہر چلے جاتے ہیں اور ساتھ ہی پردہ بڑی تیزی سے اُٹھتا ہے۔ بازار پر عجیب بے رونقی ہے۔ تل کے لڈّو والااور دوسرے پھیری والے آواز لگاتے ہیں۔ لیکن کہیں سنوائی نہیں ہوتی۔ پس منظر میں ایک نسوانی آواز طبلے اور  سارنگی پر گارہی ہے۔ (پان کی دوکان کے اوپر کوٹھے آباد ہیں۔) پتنگ والے کی دوکان بند ہے۔ کتب فروش کے یہاں دو ایک گاہک کتابیں دیکھ رہے ہیں۔ ککڑی والا یہاں آکر ککڑی بیچنے کی کوشش کرتا ہے۔ گاہک کتاب کی دوکان سے نکل کر پان والے کے یہاں پہنچ جاتے ہیں اور کتب فروش اپنے حساب کتاب میں لگ جاتا ہے۔)

13

لڈّو والا : دھیلے کے چھے چھے، بابو جی دھیلے کے چھے چھے، ہم سے مندا کوئی نہ بیچے، کھاکے دیکھو میاں، تل کے لڈّو، مصری کے سمان میٹھے۔

تربوز والا     :         تربوز، ٹھنڈا تربوز، دل کی گرمی نکالنے والا، جگر کی پیاس بجھانے والا، ٹھنڈا تربوز

  (راہ گیر بے نیازی سے گزر جاتے ہیں)

ککڑی والا     :      تازہ ککڑیاں، ہاں ہاں تازہ ککڑیاں۔ کُرکری، ہری بھری، دمڑی کی چار۔

کان کا میل صاف کرنے والا: دانت کرید وکان کا میل نکالو، ایک چھدام میں دوکام۔

پان والا : آؤ بابو جی۔ پان کھاؤ، منہ رچاؤ۔ الائچیاں کترڈالی ہیں الائچیاں۔

(کچھ لوگ داخل ہوتے ہیں۔ ککڑی والا آواز لگاکر ان کی طرف بڑھتا ہے اور ان کا راستہ روک کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اتنے میں ایک مداری دائیں طرف بندر لیے ہوئے داخل ہوتا ہے اور اپنے تماشے سے عجب رنگ جمادیتا ہے۔ پھیری والے، بچّے لڑکے اور راستہ چلنے والے سب اس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔)

مداری : (بندر نچاتا ہے) ہاں جرا ناچ دکھا دو ناچ۔ آگرہ سہر میں ناچ دکھا دو۔ بچہ لوگ ایک ہاتھ کی تالی بجاؤ۔ اچھا جرا بتاؤ تو ہولی میں مردنگ کیسے بجاؤ گے (بندر مردنگ بجاتا ہے) اور پتنگ کیسے اڑاؤگے۔ (بندر نقل کرتا ہے) اور بانکے بن کر مہادیو جی کے میلے میں کیسے جاؤگے؟ (بندر کج کُلاہی کی چال چلتا ہے) اور برسات آگیا تو؟ (بندر پھسل پڑتا ہے) ارے بھئی واہ اور اگر ٹھنڈی لگا تو؟ (بندر بدن میں کپکپی پیدا کرتا ہے) اور بڈھا ہوگیا تو؟ (بندر لاٹھی ٹیک کر چلتا ہے) اور مرگیا تو؟ (بندر لیٹ جاتا ہے) ہندو کو رام کی کسم اور مسلمان کو قرآن کی کسم۔ جرا ایک ایک قدم پیچھے ہٹ جاؤ۔ اچھا اب بتاؤ نادر ساہ دلی پر کیسے جھپٹا تھا۔ (بندر مداری کو ایک لاٹھی مارتا ہے) ارے تم سارے دلّی سہر کو مارڈالو گے بس کرو بڑے میاں بس کرو۔ اچھا احمد ساہ ابدالی دلی پر کیسا جھپٹا تھا۔ (بندر لاٹھی مارتا ہے) ہاں ہاں ہاں تم سارے ہندوستان کو روند ڈالو گے بڑے میاں بس کرو۔ اور سورج مل جاٹ آگرہ سہر پر کیسا جھپٹا تھا؟ (وہی نقل) اوہو مرگیا،مرگیا بس کرو بڑے میاں بس کرو۔ اچھا بتاؤ پھر نگی ہندوستان میں کیسا آیا تھا (بندر بھیک مانگنے کی نقل کرتا ہے) اور پلاسی کی لڑائی میں لاٹ صاحب نے کیا کِیا تھا؟ (بندر پیٹ بجاتا ہے اور کمزوری کا اظہار کرتا ہے) اکال پڑگیا تھا (بندر لیٹ جاتا ہے) لوگ باگ بھوک سے مرگیا تھا۔ اور ہمارا کیسا حالت ہے؟ (بندر پھر پیٹ بجاتا ہے) اور کل ہمارا کیسا حالت ہوجائے گا؟ (بندر گِرجاتا ہے) پھر ہمارے کو کیا کرنا چاہیے؟ (بندر لوگوں کے پاس جاتا ہے پیروں پر سر رکھ کر لیٹ جاتا ہے) سلام کرو(بندر پھر سلام کرتا ہے۔ لوگ کِھسکنے لگتے ہیں)

ککڑی والا    : تازہ ککڑیاں۔ ہاں ہاں تازہ ککڑیاں۔ (مداری غصّے میں جھپٹتا ہے اور ککڑی والے کے ہاتھ سے ٹوکرا چھین کر پھینک دیتا ہے۔ ککڑیاں سڑک پر بکھر جاتی ہیں)

( سب اپنے اپنے خونچے چھوڑ کر جھگڑے میں لگ گئے ہیں۔ موقع غنیمت پاکر کچھ اُچکّے اور بازار کے لونڈے ریوڑیاں، ککڑیاں، لڈو وغیرہ لوٹنا شروع کردیتے ہیں اس سے فساد اور بڑھتا ہے۔ کمہار کے ایک دو برتن ٹوٹ جاتے ہیں لوگ اپنی اپنی دوکانیں بند کرلیتے ہیں۔فقیر گاتے ہوئے اندر آتے ہیں)

کیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیل

کپڑے پھٹے تمام، بڑھے بال پھیل پھیل

کوئی گدھا کہے اسے، کوئی ٹھہراوے بیل

منہ خشک، دانت زرد، بدن پر جما ہے میل

سب  شکل  قیدیوں  کی  بناتی  ہے  مفلسی

برتن والا        :    ایسے لڑے کہ خوب لڑے خوب ہی لڑے۔ ابے میں نے تم لوگوں کا کیا بگاڑا تھا۔ ایک تو مندا بازار اوپر سے ٹوٹا۔ میری دوٹھلیاں پھوڑدیں۔

ککڑی والا       :     یہاں تو دیوالہ نکل گیا۔ کل بارش میں ککڑیا ں برباد ہوگئیں اور آج چار آنے کا ادھار مال لے کر آیا تھا جس میں آدھا صاف۔

لڈّو والا         : ابے کالیے تو نے ہی جھگڑا شروع کیا تھا۔ بس اب چُپکا بیٹھا رہ۔

تربوز والا        :     بس اب پھر سے چھیڑ خانی مت نکالو۔ نہیں تو نہ تمھارے پاس ایک لڈّو بچے گا نہ میرے پاس ایک تربوز۔

ککڑی والا        :     (ایک شہدے کو گزرتا دیکھ کر) میاں!

شہدا              :     کیا ہے میاں؟

ککڑی والا         :  کیا آپ شاعری کرتے ہیں؟

شہدا               :    ابھی تک تو توفیق نہیں ہوئی۔ مگر آپ کو مطلب؟

ککڑی والا          :    یوں ہی!

شہدا                :    عجب پاگلوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ (چلا جاتا ہے)

شاعر                :     (ہمجولی کے ساتھ آتے آتے رک کر) کہتے ہیں اور کیا خوب کہتے ہیں۔  ؎

نہ  مل میرؔ  اب کے ا میروں  سے تو

ہوئے  ہیں فقیر اُن کی دولت سے ہم

ہمجولی                :        سبحان اللہ!

ککڑی والا            :       (پاس جاکر) سبحان اللہ۔ میری بھی ایک چھوٹی سی غرض ہے …

شاعر                 :        اماں کیا بات ہے؟

ککڑی والا             :       اگر آپ دوچار شعر میری ککڑیوں پر لکھ دیتے تو میں آپ کا بڑا احسان مانتا۔

(شاعر قہقہہ لگاتا ہے)

شاعر                  :         ارے بھئی ہماری کیا حقیقت ہے کہو تو کسی استاد سے لکھوادیں۔

ہمجولی                  : کیا بات ہے؟

شاعر                   :         کہتے ہیں ہماری ککڑیوں پر دوچار شعر لکھ دیجیے۔ میں نے عرض کیا کہ کہو تو استاد سے کہہ کر اس نایاب موضوع پر ایک نظم لکھوادوں۔

ککڑی والا               : اتنے بڑے شاعر بھلا وہ سڑی سی ککڑی پر کیا شعر کہیں گے؟

شاعر                  :          بھئی صاف بات یہ ہے کہ ککڑی جیسے حسین موضوع پر جب تک کوئی پایے کا شاعر زور آزمائی نہ کرے حق ادا نہ ہوگا اور ہم ٹھہرے نو مشق، اس لیے ہمارے بس کا تو یہ روگ ہے نہیں۔ (ہنستے ہوئے دونوں کتب فروش کی دوکان کی طرف بڑھ جاتے ہیں)

تربوز والا              :           (دائیں طرف سے لڈّو والے کے پاس جاکر) یہ ککڑی پر شعر لکھوانا چاہتے ہیں کسی شاعر سے۔

لڈو والا                :           ارے تو وہی شعر کیوں نہیں یاد کرلیتا جو مداری نے کہا تھا۔ کھالو ککڑی وکڑی نہیں تو دوں گا لکڑی۔

تربوز والا              :            ہاں اور کیا۔ (دونوں ہنستے ہیں)

تربوز والا              :            (کتب فروش کی دوکان پر ایک کتاب دیکھتے ہوئے) ملاحظہ کیجیے کہتے ہیں   ؎

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انھیں

تھا کل تلک دماغ جنھیں تخت و تاج کا

کتب فروش            :      (اپنی مسند پر بیٹھتے ہوئے) واہ واہ سبحان اللہ… سنا ہے جُنوں کے دورے پڑنے لگے ہیں ان دنوں میرؔ صاحب پر؟

شاعر                   :       دم غنیمت سمجھیے۔ اسّی سے اوپر ہونے کو آئی۔

ہمجولی                  :      پھر کیا کیا زمانے دیکھے ہیں میرؔ صاحب نے۔ اسی شہر میں عزیزوں کی بے وفائی دیکھی۔ گھر چھوڑا، وطن چھوڑا، دلی چھوڑی، در–در کی خاک چھانی، ایرانیوں اور تورانیوں کے حملے دیکھے۔ افغانوں، روہیلوں، راجپوتوں، جاٹوں اور مراٹھوں کی دَست بُر دیکھی۔ دیکھا کہ دلی کی گلیوںمیں خون کے دریا رواں ہیں اور انسانوں کے سرکٹوروں کی طرح تیر رہے ہیں۔ اپنا گھر ع  آنکھوں کے سامنے  لُٹتے  دیکھا۔   

                                                                    گھر جلا سامنے ایسا کہ بجھایا نہ گیا

یہ سب دیکھا۔ اب لکھنؤ میں گوشہ گیر ہیں اور فرنگیوں کی غارت گری دیکھ رہے ہیں۔

کتب فروش: سچ کہتے ہو بھائی، عجب گردشوں کا زمانہ ہے۔ مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلطنتِ مغلیہ نہیں ہے ایک زبردست قوی ہیکل شیر ببر ہے جس پر سینکڑوں کُتّے بِلّیوں نے حملہ کردیا ہے اور اسے زخموں سے چور اور لاچار دیکھ کر آسمان سے چیل اور گدھ بھی جمع ہوگئے ہیں اور ٹھونگیں مار مار کر اس کی تکِّا بوٹی کررہے ہیں اور وہ شیر ہے کہ نہ تو اسے کراہنے کی مہلت ہے نہ مرجانے کا یارا۔

شاعر                  :          بھئی بہت خوب مولوی صاحب۔ یہ زبان اور یہ اندازِ گفتگو! ہم تو نام کے شاعر ہیں۔ آپ تو بات بات میں شاعری کرتے ہیں۔

کتب فروش           :           آپ حضرات کی صحبت کا نتیجہ ہے اور کیا۔

ہمجولی                 : (شاعر سے) آپ کا دیوان تو اب مکمل ہوگیا ہوگا؟

شاعر                 : صاحب! شاعر کا کلام اس کی زندگی کے ساتھ ہی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ بہرحال اتنے شعر ضرور ہوگئے ہیں کہ کتابی صورت میں آجائیں۔

کتب فروش          :            لیجیے اور آپ نے مجھ سے ذکر تک نہیں کیا۔

شاعر                : گھر کی بات تھی، سوچا کسی بھی وقت مسوّدہ آپ کے سپرد کردوں گا کہ جو جی میں آئے کیجیے۔

کتب فروش         :             غضب نہ کیجیے صاحب۔ مسوّدہ کل ہی میرے یہاں پہنچادیجیے۔

شہدا                 :            اے دل آرام، جے سیتا رام۔

بے نظیر             : (مسکرا کر) کیا چاہتے ہو؟

شہدا                 :  عرضِ حال۔

بے نظیر              :              فرماؤ۔

شہدا                   :            سری رام چندر نے لنکا فتح کیا اور تمھارے سورما حسن نے میرے دل کا گڑھ۔

بے نظیر               :              اس بات کا گواہ؟

شہدا                   :             ہنومان! (حسینہ ہنس دیتی ہے اور دونوں ساتھ باتیں کرتے ہوئے نکل جاتے ہیں)اے چھیل چھبیلی رنگ رنگیلی گانٹھ گٹھیلی تجھے کس نام سے پکاریں؟

بے نظیر                : لونڈی کو بے نظیر کہتے ہیں۔ کیا میں جناب کا اسمِ شریف دریافت کرسکتی ہوں؟

شہدا                    :              مجھے بدرِ منیر کہتے ہیں۔اور رہنے والی تم کہاں کی ہو؟ 

بے نظیر                :               میں حُسن پورہ کی رہنے والی ہوں اور سرکار؟

شہدا                    : یہ ناچیز عشق نگر میں رہتا ہے۔

شہدا                     : اے گل اندام، دل آرام، پری زاد صنم، باقاعدہ تعارف تو ہوچکا اب کچھ سنادو۔

بے نظیر                 :              جو حکم: کہیے کیا سناؤں؟

شہدا                     :              صورت کی بے نظیر ہو آواز کی بھی بے نظیر ہوگی۔ کچھ بھی سناؤ کچھ پھڑکتی ہوئی آپ بیتی سناؤ تو کیسی رہے؟

بے نظیر                 :              

(ہنستے ہوئے) اچھا تو میاں نظیرؔ کی ایک چیز سنیے۔ میری آپ بیتی سمجھ کر ہی سنیے گا اور یہ کچھ غلط بھی نہیں۔

      (گانے کے دوران داروغہ بھی آکر بیٹھ جاتا ہے ۔ بے نظیر اشارے سے سلام کرتی ہے۔ داروغہ ’’جیتی رہو‘‘ کہہ کر بیٹھ جاتا ہے)

شہدا                     :           واہ وا! کیسی اچھّی آپ بیتی سنائی ہے۔ یہ میاں نظیرؔ بھی عجیب کرشموں کے آدمی ہیں۔ کیا آپ کے یہاں ان کا آنا جانا ہے؟

بے نظیر                 : جی ہاں، لیکن ادھر ایک مدّت سے تشریف نہیں لائے۔ کیا آپ کی ان سے ملاقات ہے؟

شہدا                     :           نہیں صاحب۔ پر ان کی یہ چیز سن کر ملاقات کی خواہش پیدا ہوئی ہے۔ خیر اس وقت تو آپ کی ملاقات کے آگے ساری دنیا ہمارے لیے ہیچ ہے۔

     (لوگ اشارہ پاکر اٹھ رہے ہیں۔ داروغہ بے نظیر کو ایک طرف بلاتا ہے)

داروغہ                  : ذرا ایک بات سنو۔ کیا اندر جانے کی اجازت نہیں؟

بے نظیر                :           سر آنکھوں پر۔ لیکن اس وقت میری طبیعت ناساز ہے۔

شہدا                    :            اچھّا خدا حافظ۔

داروغہ                  :            خدا حافظ۔

بے نظیر                 :           آداب۔

(داروغہ نیچے اتر جاتا ہے)

شہدا                     : (اندر مڑتے ہوئے) عجب چونچ ہے!

بے نظیر                 :          جانتے نہیں شہر کا داروغہ ہے۔ آپ بھی کمال کرتے ہیں۔

شہدا                     : داروغہ ہے تو کیا مجھے گھول کے پی جائے گا۔

بے نظیر                 :          اچھا بس اب آئیے (دونوں اندر چلے جاتے ہیں)

داروغہ                   :          (ککڑی والے کے پاس آکے) اتنی دیر کہاں رہا تو؟

ککڑی والا                :           پھیری پر تھا حضور۔

داروغہ                   : تم لوگ شہدے پن پر اتر آئے ہو؟

ککڑی والا                :          سرکار میرا کوئی قصور نہیں۔ وہ لڈّو والا مجھے مارنے کے لیے کھڑا ہوگیا تھا۔

داروغہ                   : میرے آدمی تحقیق کررہے ہیں کہ جھگڑے کی بنیاد کون آدمی تھا۔

ککڑی والا                :            داروغہ جی سبیرے سے کچھ نہیں بیچا ہے سونے سے پہلے چھدام دوچھدام کی ککڑی بِک گئی تو روزی۔ نہیں تو روزہ۔ (داروغہ چلا جاتا ہے)

(فقیر گاتے ہوئے آتے ہیں)

 پیسا جو ہو تو  دیو  کی گردن  کو  باندھ  لائے

    پیسا نہ ہو، تو مکڑی کے جالے سے خوف کھائے

پیسے سے لالا، بھیا جی اور چودھری کہائے

بِن پیسے، ساہوکار بھی ایک چور سا دکھائے

پیسا ہی رنگ روپ ہے، پیسا ہی مال ہے

         پیسا  نہ ہو تو  آدمی، چرخے  کی مال ہے

(ککڑی والا اس نظم کے دوران اندر آتا ہے اور پیچھے کھڑے ہوکر بہت غور سے نظم سنتا ہے)

ککڑی والا              : (بڑی حسرت سے) میری ککڑی پر کوئی نظم نہیں لکھ دیتا۔

(فقیر گاتے ہوئے واپس آتے ہیں۔ ککڑی والا باہر جانے لگتا ہے، پھر اندر آتا ہے اور آواز لگاتا ہے مگر فقیر نکل جاتے ہیں۔ ککڑی والا سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ فقیروں کا گانا اب تک فضاؤں میں گونج رہا ہے کہ پردہ تیزی سے گرجاتا ہے۔)

(پردہ)

دوسرا ایکٹ

(پردہ کھلنے سے پہلے فقیر اسی طرح ہال میں سے گزر کر پردے کے سامنے کھڑے ’’بنجارا نامہ‘‘ سناتے ہیں)

(فقیر چلے جاتے ہیں)

ٹُک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں،مت دیس بدیس پھرے مارا

قزّاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجاکر نقّارا

کیا بدھیا، بھینسا، بیل، شتُر، کیا گوئیں، پِلّا، سَر بھارا

کیا گیہوں،چاول، موٹھ، مٹر، کیا آگ، دھواں، کیا انگارا

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

(صبح ہورہی ہے کچھ دکاندار آچکے ہیں کچھ ابھی دکانیں کھول رہے ہیں۔ پھیری والے آوازیں لگا رہے ہیں)

ککڑی والا        :       آج صبح ہی صبح سپاہی بازار میں کیوں چکر لگا رہے ہیں بے؟

تربوز والا        : کہاں؟ ہم نے تو کوئی سپاہی نہیں دیکھا۔

لڈو والا          :        ابے کالیے تجھے پکڑنے کے لیے آئے ہوں گے۔

(شاعر اور ہمجولی کتب فروش کی دوکان پر آتے ہیں)

ککڑی والا       :       ابے آنے دے تجھے کیا پڑی ہے۔ میں توکہتا ہوں اچھا ہے پکڑلے جائیں پیٹ پر پتھر باندھے دن بھر ٹانگے توڑتا رہتا ہوں۔ اس سے اچھا ہے حوالات میں بیٹھو، آرام سے کھاؤ، موج کرو، جلنے والے جلا کریں۔

(پتنگ والا طوطے کا پنجرا ہاتھ میں لیے گنگناتا ہوا آتا ہے اور دوکان کھولتا ہے)

پتنگ والا       :    مبارک ہو رامو، سنا ہے تیرے یہاں لڑکا ہوا اور خوب ڈھولک بجی۔

برتن والا       :         ارے بھیّا تم کہاں چلے گئے تھے؟

پتنگ والا        : میں گیا تھا میاں نظیرؔ کے ساتھ تیراکی کا میلہ دیکھنے۔ واپس آتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ دکان کا جرمانہ ہوگیا ہے۔ اماں یار یہ بیٹھے بٹھائے اچھی چپت پڑی۔

برتن والا        : تم کہہ دینا میری دوکان تو بند تھی۔ گواہ موجود ہیں۔ میں گواہی دے دوں گا۔

پتنگ والا        : کون سنتا ہے تمھاری داد و فریاد۔

(ایک لڑکا داخل ہوتا ہے اور پتنگ کی دوکان پر جاتا ہے)

لڑکا              :      کل کہا ں غائب ہوگئے تھے؟

پتنگ والا        : صاحب! ذرا تیراکی کا میلہ دیکھنے چلے گئے تھے۔

لڑکا              :        ہم یہ سمجھے، بس پتنگ وتنگ بیچنا چھوڑ دیا آپ نے۔

پتنگ والا       :         پتنگ بازی اور پتنگ فروشی ہم سے چھوٹ جائے، اجی توبہ کیجیے۔ کہیے کون سی پتنگ چاہیے۔ ہر رنگ، ہر نوع، ہر بہار، ہر مذاق کی پتنگیں موجود ہیں۔ حضور! کون سی پتنگ لیجیے گا۔ دو دھاریا، گلہریا، پہاڑیا، دوباز، لل پُرا، گھائل،لنگوٹیا، بُگلا، دوپنا، دھیر، تربوزیا، پیندی پان، دوکونیا، گل سرا، ککڑی، چوگھڑا، باجرا، کج کلا، چمچکا، تکّل مانگ دار…!

لڑکا              :         بس بھئی نام تک نہیں سنے ان پتنگوں کے اپنی زندگی میں۔

پتنگ والا        :         پھر کیا پتنگ اڑاتے ہیں آپ؟

لڑکا              :         اڑالیتے ہیں تھوڑی بہت۔ آپ تو ہمیں سیدھا سادہ دودھاریا دے دیجیے۔

پتنگ والا        :         دودھاریا لیجیے۔

لڑکا              :         دام؟

پتنگ والا        :         پچیس کوڑی۔

لڑکا              :          یہ لیجیے۔

(لڑکا پتنگ لے کر باہر نکل جاتا ہے)

(ایک فقیر ہری کفنی پہنے کھڑا ہے اور رو رہا ہے۔ پتنگ والا اسے پہچان کر اس کی طرف لپکتا ہے)

پتنگ والا       : ارے کون منظور حسین؟ کیا حال ہے؟ (فقیر چپ کھڑارہتا ہے)

ایک آدمی      : ان کو ہم نے تو کبھی بات کرتے سنا نہیں۔

بینی پرشاد       : (آگے بڑھ کر) تمھیں نہیں معلوم۔ کوئی ایک برس سے ان کا یہی حال ہے۔

(میاں نظیر کی نواسی اچھلتی کودتی گنگناتی داخل ہوتی ہے)

پتنگ والا       : ارے بیٹا!

نواسی          :      ابھی آئی۔ (یہ کہہ کر دوسری طرف نکل جاتی ہے۔ سپاہی جو وہیں کھڑے نظمیں سن رہے تھے اور بار بار مُڑ کر اوپر کوٹھے کی طرف نگاہیں پھینک رہے تھے پان کی دوکان پر آتے ہیں)

(مداری ریچھ لیے داخل ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے بچّے ہیں۔ ریچھ کا ناچ ہوتا ہے)

مداری           : ’’جب ہم بھی چلے ساتھ چلا ریچھ کا بچّہ‘‘

(مداری چلا جاتا ہے۔ نظیرؔ کی نواسی ایک کھلونا لیے نظر آتی ہے۔ پتنگ والا اس کی طرف بڑھتا ہے اور اسے کھینچ کر اپنی دوکان پر لاتا ہے۔)

نواسی            :      (کھلونا دکھاتے ہوئے) میں یہ لینے گئی تھی۔

پتنگ والا        : نانا سے پیسے چَٹ لیے ہوں گے۔ کیوں؟

نواسی            :       نہیں تو۔

پتنگ والا        :       پھر کیا مفت ہاتھ آگیا کھلونا؟

نواسی            :        گھر میں پڑے تھے۔

پتنگ والا        : گھر میں کیا پڑے تھے؟

نواسی            :        میں بتاؤں؟ ہمارے نانا پیسے کو ہاتھ نہیں لگاتے۔

پتنگ والا        :         اور تم نے اٹھا لیا۔

نواسی            : سب تھوڑا ہی۔ (اچھل کر بھاگ جاتی ہے پتنگ والا ہنستا ہے)

پتنگ والا       :      (بینی سے) حال ہی کا واقعہ ہے روپیوں کی تھیلی لیے نواب سعادت علی خاں کے پاس سے آدمی آیا۔ رات بھر روپیہ گھر میں پڑا رہا اور روپے کی وجہ سے میاں نظیرؔ کو نیند نہ آئی۔ صبح کو جواب میں کہلا بھیجا کہ ذرا سے تعلق سے تو یہ حال ہے اگر زندگی بھر کا ساتھ ہوگیا تو نہ جانے کیا ہوگا۔ بلاوے بہت آئے پر میرا یار آگرے سے نہ ٹلا۔ ہر بار یہ کہہ کر ٹال گیا کہ میں ماشہ بھر کا قلم چلانے والا میری کیا مجال۔ بس یہیں بیٹھے ساری دنیا دیکھ لی کہتے ہیں۔ (آواز اٹھاکر)


سب  کتابوں  کے کھل  گئے  معنی

جب سے دیکھی نظیرؔ دل کی کتاب

(فقیر ’’آدمی نامہ‘‘ گاتے ہوئے اندر آتے ہیں۔ اس نظم میں اسٹیج کے سب لوگ شامل ہوجاتے ہیں۔ ہر بند ایک نیا آدمی اٹھاتا ہے اور ٹیپ کی طرح پر سب ایک ساتھ تین بار دہراتے ہیں ’’زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی‘‘)

دنیا میں بادشاہ ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

زردار، بے نوا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اور مفلس و گدا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

نعمت جو کھا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

ٹکڑے جو مانگتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں

پڑھتے ہیں آدمی ہی قُرآں اور نماز یاں

بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں

اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں

جو ان کو تاڑتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی

پگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی

اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی

چلا کہ آدمی کو پکارے ہے آدمی

اور سن کے دوڑتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

بیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگا

اور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خوانچا

کہتا ہے کوئی، لو، کوئی کہتا ہے، لارے لا

کس کس طرح سے بیچے ہیں چیزیں بنا بنا

اور مول لے رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

مرتے ہیں آدمی کا کفن کرتے ہیں تیار

کلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں، روتے ہیں زار زار

نہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوار

سب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کا کاروبار

اور وہ جو مرگیا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اشراف اور کمینے سے لے، شاہ تا وزیر

یاں آدمی مرید ہیں، اور آدمی ہی پیر

ہیں آدمی ہی صاحبِ عزّت بھی اور حقیر

اچھّا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔ

اور سب میں جو بُرا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اور مفلس و گدا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

اور مفلس و گدا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

(گانے والوں کی آواز اور سازوں کی صدا یکبارگی بہت اونچی اٹھتی ہے اور بہت تیزی سے پردہ گر جاتاہے)

پردہ

(حبیب تنویر)

مشق

1۔    لفظ ومعنی:

شہر آشوب              :         شہر کی تباہی کو بیان کرنے والی شاعری

کشکول                   :      مانگنے کا پیالہ خصوصاً فقیروں کا

پس منظر                :    اصل سے پیچھے کا منظر

نسوانی                    :         عورت کی

دھیلا                     :         آدھاپیسہ

راہ گیر                   :         راہ چلنے والا

بے نیازی                :         دلچسپی نہ لینا

چھدام                    :         دمڑی

مردنگ                  :          ایک قسم کا باجا

کج کلاہی                 :          ٹیڑھی ٹوپی مراد روایت سے بغاوت

افلاس                    :          غریبی

طفیل                      :          متعلق

مُفلسی                      :          غریبی

شہدا                       :         غیر مہذّب شخص

سابقہ                      :         پہلے کا، واسطہ

نایاب                      :        بہت قیمتی ،جو مل نہ سکے

زور آزمائی                  :        طاقت یا صلاحیت کا آزمانہ

نومشق                      :         نیا کو شش کرنے والا

ملاحظہ                       :         دیکھیے

مسند                         :        تکیہ لگاکر بیٹھنے کی جگہ

دست برد                    :        لوٹ کھسوٹ، لوٹ مار

گوشہ گیر                      :       تنہائی پسند

غارت گری                   :       تباہی،بربادی

قوی ہیکل                     :       طاقت ور،بھاری بھرکم

ٹھونگیںمارنا                  :       بیچ کی انگلی دوہری کرکے مارنا

مکمّل                          :       پورا

تکمیل                         :       مکمل

تکّابوٹی                         :       ٹکڑے ٹکڑے

مسوّدہ                         :        چھپنے کے لیے تیار کتاب

قشقہ                          :         تِلک

گل اندام                     :        پھول سے جسم والا،محبوب

بد رمیز                       :       مثنوی سحرالبیان کی ہیروئن

ہیچ                            :        کم تر، نیچا

تحقیق                         :        سچ کی تلاش

ٹُک                           :        ذرا

حِرص                         :         جلن

قزّاق                          :        لٹیرا

اجل                           :       موت

نوع                            :      طرح،قسم

مزاق                           :      شوق،پسند

کفنی                           :       سبز رنگ کا ایک چھوٹا کپڑا

ماشہ                            :       تولنے کا ایک پیمانہ

زردار                          :       سونا رکھنے والا مُراد امیر

بے نوا                          :       جس کی آواز نہ ہو یعنی غریب

تیغ                              :       تلوار

زارزار رونا                      :       خوب آنسو بھر کے رونا

مرید                             :       کسی بزرگ یا صوفی کو ماننے والا

اشراف                           :       شریف کی جمع

پیر                                :       بزرگ،صوفی

یکبارگی                            :       ایک بار

2۔    سوالات:

1.   ڈرامے کے پہلے ایکٹ میں بازار کی بے رونقی کا کیا منظر اسٹیج کیا گیا ہے؟

2.   آگرہ بازار سے لوگ بے نیازی سے کیوں گزر جاتے ہیں؟

3.   بندر لیے مداری نے اپنے تماشے سے کیا رنگ جمایا؟

4.   بازار میں جھگڑے کا کیا نقشہ پیش کیا گیا ہے؟

5.   ہمجولی نے میر صاحب کے بارے میں کیا بتایا؟

6.   کتب فروش نے سلطنت مغلیہ کے بارے میں کیا خیال پیش کیا؟

7.   روپیے، پیسے سے متعلق نظیر کی کیا بے نیازی بیان کی گئی ہے؟

3۔   زبان و قواعد:

٭  نیچے لکھے ہوئے مرکب الفاظ سے جملے بنائیے:

زورآزمائی گوشہ گیر   غارت گری     نومشق

     اسم شریف       ناچیز             لوگ باگ

 4 ۔   غور کرنے کی بات:

•   اس ڈرامے میں ایک خاص دور کی تہذیبی ،تاریخی اور معاشرتی منظر کشی کی گئی ہے۔اس ڈرامے میں نظیرؔ اکبر آبادی اسٹیج پر کبھی نظر نہیں آئے ہیں۔لیکن آگرہ کے بازار میں موجود تمام لوگوں کو کسی نہ کسی طرح سے متاثر کر رہے ہیں۔ دراصل نظیرؔ اکبر آبادی بازار میں موجود تمام لوگوں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور وہ انھیں کے ذریعے بازار میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ڈرامے کے آخر میں شامل نظم آدمی نامہ،اس ڈرامے کا بنیادی موضوع ہے جس میں بہت قسم کی خوبیوں اور خامیوں والے آدمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ زندگی میں ہر قسم کے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ 

5۔    عملی کام:

٭   ڈرامے میں پتنگ کی جو مختلف قسمیں بتائی گئی ہیں، ان کے نام لکھیے۔

٭   اس ڈرامے کے کسی ایک منظر کو اسٹیج پر پیش کیجیے۔