ناول
ناول اُس نثر ی صِنف کوکہاجاتاہے جس میںایک مربوط قصہ بیان کیاگیاہواورجو ایک وسیع پس منظر میںزندگی کی ترجمانی کرتا ہو۔ ناول کا فن دراصل معاشرتی یا انفرادی زندگی کی ترجمانی اور تصویر کشی کا فن ہے۔ ناول نویس اپنے فکر وخیال سے ایک نئی حقیقت وضع کرتا ہے جو دراصل زندگی سے ماخوذ ہوتی ہے۔ روایتی ناول کے اجزائے ترکیبی میں پلاٹ یعنی کہانی،کردار،مکالمہ اور نظریۂ حیات پر بالخصوص زور دیا جاتا ہے۔ ان اجزا میں منظر نگاری بھی شامل ہے۔لیکن ناول کے فن میں بہت تنوّع ہے۔
اُنیسویں صدی عیسوی کے نصفِ آخر میں ہندوستان غیر ملکی سامراج کے شکنجے میں تھا لیکن مغربی تعلیم کے اثر سے نشاۃُ الثّانِیہ کے آثار پیدا ہونے لگے تھے۔ اس زمانے میں نذیر احمد اور ان کے معاصرین کے ہاتھوں اردو ناول کا آغاز ہوا۔اردو کے ابتدائی ناول قصّوں کی شکل میں وجود میں آئے جن کا بنیادی مقصد اخلاقی اور معاشرتی اصلاح تھا۔ نذیر احمد کے ناولوں میں ’’مِراۃ العروس‘‘،’’توبتہ النّصوح‘‘،’’ابن الوقت‘‘ اور ’’فسانۂ مبتلا‘‘ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔رتن ناتھ سر شار نے کئی ناول لکھے لیکن ’’فسانۂ آزاد‘‘ کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔سرشار کے ہم عصر وں میں سجاد حسین، قاری سرفراز حسین اور عبدالحلیم شرر خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔شرر کے تاریخی ناول بہت مقبول ہوئے۔مرزا محمد ہادی رسواکے ناول ’’امراؤجان ادا‘‘ کا شمار اردو کے بہترین ناولوں میں ہوتا ہے۔رسواکے بعد پریم چند اردو کے سب سے بڑے ناول نگار ہیں۔انھوں نے ہندوستان کے دیہات کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔پریم چند کے ناولوں میں ’’گؤدان‘‘ شاہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ پریم چند کے بعد کرشن چندر، عصمت چغتائی،حیات اللہ انصاری، عزیز احمد ، خدیجہ مستور، قرۃ العین حیدر،عبداللہ حسین،جمیلہ ہاشمی، قاضی عبدالستار اور انتظار حسین اردو کے اہم ناول نگار ہیں۔

کرشن چندر
(1914 – 1977)
کرشن چندر وزیر آباد، ضلع گجراں والا،پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پوٗنچھ،کشمیر میں ہوئی۔1930 کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے لا ہور گئے۔ 1934 میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم۔اے کیا۔ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے۔ پھر ممبئی کی فلمی دنیا سے منسلک ہو کر آخر وقت تک ممبئی ہی میں رہے اور وہیں انتقال ہوا۔ترقی پسند تحریک سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ پریم چند کے بعد جن افسانہ نگاروں نے اردو افسانہ نگاری میں غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے، ان میں ایک اہم نام کرشن چندر کا بھی ہے۔
کرشن چندر بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے لیکن انھوں نے ناول، ڈرامے،رپورتاژ اور مضامین بھی لکھے ہیں۔ان کی مقبولیت کا سبب ان کی حقیقت پسندی،رومانیت اور خوب صورت اندازِ بیان ہے۔ان کے ناولوں میں ’’شکست‘‘، ’’جب کھیت جاگے‘‘اور ’’آسمان روشن ہے‘‘کے علاوہ ’’ایک گدھے کی سرگذشت‘‘کو خاص مقبولیت حاصل ہے۔
ایک گدھے کی سرگذشت
گذارشِ احوالِ واقعی
یہ جو میں پڑھنا بولنا سیکھا ہوں، اسے سیّد صاحب کی کرامات سمجھیے یا ان کی مہربانی کا نتیجہ۔ کیوں کہ سید صاحب کو اخبار پڑھتے ہوئے خبروں پر بحث کرنے اور کتاب زور زور سے پڑھنے اور پڑھتے ہوئے اس پر تنقید کرنے کی عادت تھی۔ یہاں جس جگہ پر وہ کوٹھی تعمیر کرا رہے تھے انھیں کوئی ایسا نہ ملا جس سے وہ ایسی بحث کر سکتے۔یہاں ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف تھا۔ میں ہی ایک گدھا انھیں ملا مگر اس سے انھیں بحث نہ تھی۔ وہ دراصل گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ اپنے دل و دماغ کی باتیں کسی سے کہنا چاہتے تھے۔ گدھے کی بجائے اگر ایک خرگوش بھی ان کی صحبت میں رہتا تو عالِم فاضل بن جاتا۔ سید صاحب مجھ سے بڑی ملاطفت سے پیش آتے تھے اور اکثر کہا کرتے ’’افسوس کہ تم گدھے ہو۔ اگر آدمی کا بچہ ہوتے تو میں تمھیں اپنا بیٹا بنا لیتا۔‘‘سید صاحب کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ خیر صاحب! کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک دن سید کرامت علی شاہ کی کوٹھی تیار ہو گئی اور میرے مالک کو اور مجھے بھی اسی دن وہاں کے کام سے جواب مل گیا۔ اسی رات دھنّو کمہار نے مجھے ڈنڈے سے خوب پیٹا اور گھر سے باہر نکال دیا اور کھانے کے لیے گھاس بھی نہ دیا۔ میرا قصور یہ بتایا کہ میں اینٹیں کم ڈھوتا تھا اور اخبار زیادہ پڑھتا تھا اور کہا کہ ’’مجھے تو اینٹیں ڈھونے والا گدھا چاہیے اخبار پڑھنے والا گدھا نہیں چاہیے۔‘‘

ناچار میں بھوکا پیاسا رات بھر دھنّو کمہار کے گھر کے باہر سردی میں ٹُھٹھرتا کھڑا رہا۔میں نے سوچ لیا تھا کہ صبح ہوتے ہی سیّد کرامت علی شاہ کی کوٹھی پر جاؤں گا اور ان سے کہوں گا کہ اگر اینٹیں ڈھونے پر نہیں تو کم از کم کتابیں ڈھونے پر ہی مجھے نوکر رکھ لیجیے۔شیکسپیر سے لے کر احمق پھپھوندوی تک میں نے ہرمصنف کی کتاب پڑھی ہے اور جو کچھ میں ان مصنفوں کے بارے میں جانتا ہوں وہ کوئی دوسرا گدھا کیا جان سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ وکیل صاحب ضرور مجھ سے التفات کریں گے اور مجھے رکھ لیں گے مگر قسمت تو دیکھیے دوسری صبح جب میں سیّد صاحب کی کوٹھی پر گیا تو معلوم ہوا،راتوں رات فسادیوں نے حملہ کیا اور سیّد کرامت علی شاہ صاحب کو اپنی جان بچا کر پاکستان بھا گنا پڑا۔ فسادیوں میں لاہور کے گنڈا سنگھ پھل فروش بھی تھے جن کی لاہوری دروازے کے باہر پھلوں کی بہت بڑی دکان تھی اور ماڈل ٹاؤن سے ملی ہوئی ایک عالی شان کوٹھی بھی تھی۔اس لیے حساب سے ایک عالی شان کوئی زمین بھی یہاں ملنی چاہیے تھی۔سوبھگوان کی کرپا سے انھیں یہ سید کرامت علی شاہ کی نئی بنی بنائی تیار کوٹھی مل گئی۔ جب میں وہاں پہنچا ہوں تو گنڈا سنگھ لائبریری کی تمام کتابیں ایک ایک کرکے باہر پھینک رہے تھے اور لائبریری کو پھلوں سے بھر رہے تھے۔ یہ شیکسپیر کا سیٹ گیا اور تربوزوں کا ٹوکرا اندر آیا۔یہ غالبؔ کے دیوان باہر پھینکے گئے اور ملیح آباد کے آم اندر رکھے گئے۔ یہ خلیل جبران گئے اور خر بوزے آئے۔تھوڑی دیر کے بعد سب کتابیں باہر تھیں اور سب پھل اندر تھے۔ افلاطون کی بجائے آلو بخارا،سقر اط کی جگہ سیتا پھل۔ جوشؔ کی جگہ جامن۔ مومنؔ کی جگہ موسمبی۔شیلے کی جگہ شریفے،کیٹس کی جگہ ککڑیاں،بقراط کی جگہ بادام، کرشن چندر کی جگہ کیلے اور ل۔ احمد کی جگہ لیموں بھرے ہوئے تھے۔ کتابوں کی یہ درگت دیکھ کر میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے اور اب اُنھیں ایک ایک کرکے اٹھا کے اپنی پیٹھ پر لادنے لگا۔ اتنے میں گنڈا سنگھ اپنی پھلوں کی لائبریری سے باہر نکل آئے، آکر ایک نوکر سے کہنے لگے ’’اس گدھے کی پیٹھ پر کتابیں لاد لو اور اگر ایک پھیرے میں سب کتابیں نہ جائیں تو آٹھ دس پھیرے کرکے یہ سب کتابیں لاری میں بھر کے لکھنؤ لے جاؤ اور انھیں نخّاس میں بیچ دو‘‘۔ چنانچہ گنڈا سنگھ کے نوکر نے ایسا ہی کیا۔ بس دن بھر کتابیں لاد لاد کر لاری تک پہنچاتا رہا اور جب شام ہوئی اور جب آخری کتاب بھی لاری میں پہنچ گئی اس وقت گنڈا سنگھ کے نوکر نے کہیں جا کر مجھے چھوڑا۔اس نے میری پیٹھ پر زور کا ایک کوڑا جمایا اور مجھے لات مار کے وہاں سے بھگا دیا۔میں نے سوچا جس شہر میں کتابوں اور عالموں فاضلوں کی یہ بے حرمتی ہوئی ہو، وہاں رہنا ٹھک نہیں۔ اس لیے میں نے ترکِ وطن کا ارادہ کر لیا۔ اپنے شہر کے در و دیوار پر حسرت بھری نگاہ ڈالی۔ گھاس کے دو چار تنکے توڑ کر اپنے منھ میں رکھ لیے اور دہلی کا رخ کیا کہ آزاد ہندوستان کی راجدھانی یہی ہے۔ گہوارہ ٔعلم وادب ہے۔ ریاست، سیاست کا مرکز ہے۔وہاں کسی نہ کسی طرح گزر ہو ہی جائے گی۔
جانا جمنا پار رامو دھوبی کے گھر
اور ملاقات کرنا گدھے کا
میونسپل کمیٹی کے محرّر سے
رامودھوبی کسی زمانے میں سوئی والان میں رہتا تھا لیکن جب اس کے بہت سے گاہک ہجرت کرکے چلے گئے اور جو باقی رہ گئے وہ اس قدر غریب ہو گئے کہ خوداپنے ہاتھوں کپڑا دھونے لگے تو رامو دھوبی بھی ہجرت کرکے وہاں سے چلا آیا اور جمنا پار آکے کرشن نگر میں بس گیا۔ یہاں مجھے بہت سخت کام کرنا پڑا۔ رامو صبح اٹھتے ہی کپڑوں کی گٹھریاں میری پیٹھ پر لاد کر چل دیتا اور جمنا کے کنارے پانی میں کھڑا ہو کر چھوا چھو شروع کر دیتا۔ دوپہرکو اس کی بیوی کھانا لے کر آتی تھی اور کچھ دُھلے ہوئے کپڑے میری پیٹھ پر لاد کر استری کے لیے لے جاتی تھی۔ میں دن بھر جمنا کنارے گھاس چَرتا رہتا یا ریل کے پُل سے گزرتی ہوئی مخلوق کا تماشا دیکھتا ۔ دن ڈھلے رامو پھر میری پیٹھ پر کپڑے لاد کر خود سوار ہو کر واپس گھر چلا جاتا اور مجھے ایک کھونٹے سے باند ھ کر میرے سامنے گھاس ڈال کے تھکا ہارا اپنی چار پائی پر دراز ہو جاتا۔بس صبح سے شام تک ایک عجیب طرح کی زندگی بسر ہوتی تھی۔ایک کھونٹے سے دوسرے کھونٹے تک، گھر سے گھاٹ تک، گھاٹ سے واپس گھر تک۔پہنچ میں کوئی کتاب نہ آتی تھی، نہ کوئی اخبار، دنیا میں کیا ہو رہا ہے،سائنس کسے کہتے ہیں،سنیما کیا ہوتا ہے، رقص اور کلچر، تہذیب اور خوب صورتی ،فن اور فلسفہ ان تمام باتوں سے رامو کی اور میری زندگی بالکل خالی تھی۔ میں تو خیر ایک گدھا تھا،لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ رامو اور اس کے گھر والے اور اس کے گھر کے آس پاس رہنے والے تقریباً ایک سی ہی زندگی ،بالکل میری ہی زندگی بسر کرتے تھے۔ کتنے اچھے اچھے کپڑے ان لوگوں کے ہاں دھلنے کو آتے تھے، دلفریب چھنٹیں،خوب صورت شفان، پھول دار کریپس اور بادلوں کی طرح اُڑتے ہوئے دوپٹّے۔لیکن رامو کی بیوی یا اس کی بیٹی کے لیے ایک کپڑا ایسا نہ تھا۔ شام کو جب ہم جمنا سے لوٹتے اکثر سڑک کے کنارے ایک نئے تعمیر شدہ سینما کے باہر تماشائیوں کے ہجوم کو دیکھتے ۔مگر رامو بصد یاس وحسرت سنیما کے خوب صورت اشتہاروں کی طرف آہ بھرتا ہوا چلا جاتا۔اُ س کا جی تو چاہتا تھا کہ ہر روز سنیما دیکھے اور اس کے ساتھ اس کے دوسرے ساتھی دھوبیوں کا بھی یہی جی چاہتا تھا۔ لیکن جب وہ اپنی جیب میں اتنے پیسے دیکھتے کہ یا تو ٹکٹ آجائے یا آٹا آجائے تو مجبور ہو کر آٹا لے آتے۔کبھی کبھی کوئی من چلا آٹا چھوڑ کر سنیما کا ٹکٹ خرید لیتا تھااس روز گھر میں بڑا ہنگامہ ہوتا تھا۔ایک دفعہ رامو نے بھی ایسا کیا تھا اور مجھے اپنے ایک دوست تا نگے والے کے حوالے کرکے اندر چلا گیا تھا۔ ہال کے باہر تین چار تانگے کھڑے تھے جن کے گھوڑے ہنہنا کر اور زمین پر سم بجا کر ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے۔
ملاقات کرنا گدھے کا
دہلی میونسپلٹی کے چیرمین سے
اور آزردہ خاطر ہونا چیرمین کا
اور بُلایا جانا فائربریگیڈ انجن کا
چپراسی کا اشارہ پاتے ہی میں کمرے کے اندر چلا گیا اور زور سے ’’گوڈمارننگ‘‘داغ دی۔مجھے ڈر تھا کہیں ہندوستانی زبان میں بات کردی تو بالکل ہی گدھا نہ سمجھ لیا جاؤں۔ دہلی کے دفتروں کے قلیل سے تجربے نے یہ بات میرے ذہن نشین کرادی تھی کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد بھی یہاں انگریزی زبان کاراج ہے۔ آپ جب تک اردو یا ہندی میں گفتگو کرتے رہیں دفتری لوگ متوجہ ہی نہیں ہوں گے۔ لیکن جو نہی ذرا انگریزی میں دانت دکھائے فوراً یوں پلٹ کر آپ کی بات سنیں گے جیسے آپ سیدھے ان کے نانہال سے چلے آرہے ہوں اور بات سنتے وقت ایسی خوب صورت مسکراہٹ ان کے چہرے پرہوگی جیسے کام آپ کو ان سے نہیں انھیں آپ سے ہو۔
چیرمین صاحب کا رنگ سانولا، قد ناٹا اور چہرہ بڑا گمبیھرتھا۔ان کی آنکھوں سے ایسی ذکاوت، چالا کی اور دانش مندی کا اظہار ہوتا تھا جو کم سے کم پانچ چھ الیکشن لڑنے کے بعد آنکھوں میں آتی ہے۔ آدمی بڑے گھاگ تھے۔ اس لیے ایک گدھے کو کمرے کے اندر آتے دیکھ کر صرف ایک لمحے کے لیے چونکے۔پھر فوراً ہی سنبھل گئے اور اس طرح گفتگو کرنے لگے جیسے ان کا عمر بھر انگریزی بولنے والے گدھوں سے واسطہ پڑتا رہا ہو۔
’’تشریف رکھیے‘‘آپ نے مسکراکے فرمایا۔
میں نے کہا’’اگر میں تشریف رکھوں گا تو آپ کی یہ آرام کرسی ضرور ٹوٹ جائے گی، اس لیے کھڑا ہی رہوں گا۔
چیرمین صاحب مسکرائے، کیونکہ میں نے بات واقعی ٹھیک کہی تھی۔ایک قلیل وقفے کے بعد پھر بولے، ’’آپ کو یہ سوانگ بھرنے کی کیا ضرورت تھی۔آپ سیدھے سادے کپڑوں میں بھی میرے پاس آسکتے تھے۔ ‘‘
میں نے کہا،’’حضور یہ سوانگ نہیں ہے حقیقت ہے‘‘۔’’خیر اپنا اپنا ذوق ہے‘‘۔چیر مین نے ذرا آزردہ خاطر ہو کے کہا۔’’میں کون ہوں بولنے والا اور جب سے یہاں دلّی میں ایک صاحب نے دن میں لالٹین اور گھنٹی لے کر الیکشن لڑا ہے،میں نے تو اعتراض کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔آپ بھی چاہیں تو گدھے کا بہروپ بھر کر الیکشن لڑ سکتے ہیں۔اگر اس میں آپ کو زیادہ ووٹ ملتے ہوں تو کیا مضائقہ ہے؟‘‘
میں نے کہا،’’حضور میں کوئی بہروپیا نہیں ہوں، واقعی ایک گدھا ہوں۔ آپ میری بات کا یقین کیجیے‘‘۔
چیرمین صاحب کو پھر بھی اعتبار نہیں آیا بولے’’چھوڑیے ان باتوں کو۔ میں چھے الیکشن آج تک لڑ چکا ہوں اور کبھی ہار نہیں مانی،میں سب جانتا ہوں، خیر ،آپ بتائیے۔ آپ کون سے وارڈ سے آئے ہیں؟‘‘
’’جی میں فی الحال تو کرشن نگر وارڈ سے آیا ہوں‘‘۔
’’ہوں۔‘‘چیرمین صاحب نے سر ہلا کے کہا اور اپنی چند یا کے گرد سفید بالوں پر اس طرح ہاتھ پھیرا جس طرح فلم گرہستی میں دُکھیا باپ کسی مصیبت میں گھِر جانے پر پھیرتا ہے۔’’آپ کرشن نگر کے وارڈ سے کھڑے ہو رہے ہیں۔ اچھا بتائیے کون سی پارٹی نے آپ کو نامزد کیا ہے۔کانگریس نے، جن سنگھ نے، پرجاسوشلسٹ پارٹی نے کہ کمیونسٹوں نے۔میرا مطلب ہے آپ کس پارٹی کے اُمید وار ہیں؟ ‘‘
میں نے کہا’’جی میں تو آپ کی نگاہِ کرم کا امید وار ہوں‘‘۔
چیرمین صاحب مسکرائے۔سمجھ گئے کسی بہت چالاک آدمی سے پالا پڑا ہے۔بولے’’بس۔ آپ بنیے نہیں۔صاف صاف بتائیے کیا کام ہے؟ اگر مجھ سے کچھ ہو سکا تو ضرور کروں گا ۔مگر ایک شرط ہے، اگر آپ الیکشن جیت گئے۔ چاہے کسی پارٹی۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’دیکھیے‘‘۔میں نے معذرت پیش کرتے ہوئے کہا’’میں تو کب سے کہہ رہا ہوں، میں ایک گدھا ہوں مگر آپ میری سنتے ہی نہیں‘‘۔
چیرمین نے بڑے غضّے سے کہا،’’میں آپ کو لالہ سنت رام سمجھتا تھا کرشن نگر کا امید وار۔‘‘
میں نے کہا’’میں آپ کو لالہ سنت رام دکھائی دیتا ہوں؟‘‘
وہ بولے،’’کچھ لوگ باہر سے گدھے دکھائی دیتے ہیں۔کچھ لوگ اندر سے گدھے ہوتے ہیں۔میں نے سمجھا ممکن ہے آپ اندر اور باہر دونوں طرف سے گدھے ہوں تو مجھے اپنے چیرمین کے عہدے کے لیے بہت جلدی ووٹ مل جائے گا۔مگر افوہ تم نے میرا کتنا وقت برباد کیا ہے‘‘۔
میں نے کہا’’آپ نے میری بات تو سُنی نہیں۔میں دراصل رامو دھوبی مرحوم کے غریب بال بچوں۔۔۔۔۔۔‘‘
چیرمین نے زور سے گھنٹی بجاتے ہوئے کہا’’اس وقت تم مجھ سے کوئی بات نہ کرو۔ دیکھتے نہیں ہو۔ کیسی آگ لگی ہے‘‘۔
واقعی آگ بھڑک رہی تھی۔چیرمین نے گھنٹی بجائی۔جلدی سے فائربریگیڈ والوں کو ٹیلیفون کر دیا۔ میں نے بھی کمرے سے باہر نکل کر برآمدے میں کھڑے ہو کر ہانک لگائی۔تھوڑے ہی عرصے میں ٹناٹن کی آوازوں کے ساتھ فائر بریگیڈ کے دو انجن آپہنچے۔ان لوگوں نے سب سے پہلے تو مجھے لات مار کے وہاں سے نکال دیا، پھر آگ بجھانے لگے۔میں نے سوچا یہاں رہوں گاتو ممکن ہے آگ لگانے کے جرم میں گرفتار کر لیا جاؤں، فوراً وہاں سے بگ ٹُٹ بھاگا اور سیڑھیوں کے نیچے آکے دم لیا۔ کیونکہ اب لفٹ کام نہ کر تی تھی۔نیچے آکے انکوائری میں ایک بڈّھے لیکن بے حد ہمدرد کلرک سے جان پہچان ہوئی۔ اسے رامو کا سارا قصّہ سنایا۔ بڈّھے کلرک کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اس نے ظالم سماج، بے رحم نظامِ زندگی اور سرمایہ داری کو لاکھوں صلواتیں سُنانے کے بعد ہولے سے میرے کان میں کہا ’’اگر تم دو روپے مجھے دو تو میں تمہاری عرضی لکھ کے Rehabilitationدفتر میں مدد کے لیے بھجوائے دیتا ہوں‘‘۔
میں نے کہا،’’میں تو دھوبی کا گدھا ہوں، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔میرے پاس دو روپے کہاں اور پھر تم جانتے ہو، دو روپے میں دو من گھاس آتی ہے ۔چھے سیر باجرہ ،تین سیر چاول‘‘۔
’’لیکن دمے کا ایک ہی انجکشن آتا ہے‘‘۔کلرک نے بڑی افسردگی سے کھانستے ہوئے کہا،’’اور مجھے دمے کا عارضہ ہے اور ہر روز ایک انجکشن لینا پڑتا ہے‘‘۔
بڈّھا کلرک افسردگی سے کھانستا رہا،میں وہاں سے چلا آیا۔
جانا گدھے کا
من سکھ لال کا مرس منسٹر کی کوٹھی پر
اور بیان کرنا رامو کا قصّۂ غم
اور دلاسا دینا کامرس منسٹر کا
اور دیگر احوال اُس کوٹھی کا
یارو! میں کیا حال بیان کروں اس کوٹھی کا،کہ چاروں طرف سے خوب صورت باغات اور باغیچوں سے گھِری تھی۔پیڑوں کی شاخیں پھلوں سے جھُکی جاتی تھیں اور رَوِشوں کے کنارے کنارے خوب صورت قطعوں میں ایسے رنگین پھول کھِلے تھے کہ مجھ سے گدھے کی آنکھوں کو بھی طراوت آتی تھی۔اور لان پر ایسی ہری ہری اور خوشبو دار گھاس تھی کہ ایک سو گدھے بھی ہر روز چرتے رہیں تو کبھی کم نہ ہو۔
جب میں وزیر صاحب کی کوٹھی کے اندر پہنچا تو وہ ایک سنگِ سرخ کے چھوٹے سے فوارے کے اِرد گرد ٹہل رہے تھے۔ اُن کے بچّے لان پر قلابازیاں کھا رہے تھے اور سامنے برآمدے میں دو عورتیں پھول دار ساڑھیاں سُکھانے کے لیے اس پر ٹانگ رہی تھیں۔غر ض یہ کہ بڑا دل فریب منظر تھا۔میں نے من سکھ لال جی کو دونوں کان جوڑ کر نمستے کی۔ جس کا جواب انھوں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر بڑی نرمی سے دیا۔وہ اپنی دھوتی کی لانگھ ٹھیک کرتے ہوئے بولے’’سوں چھے!‘‘
میں نے کہا’’مجھے زکام نہیں ہے‘‘۔
وہ معافی مانگتے ہوئے بولے،’’میں نے آپ کو اپنے وطن احمد آباد کا سمجھا تھا۔‘‘
میں نے کہا’’جی نہیں، میں تو اتر پردیش کا رہنے والا ہوں‘‘۔
وہ بولے’’اچھا،اچھا۔وہ جو بہار سے آگے آتا ہے‘‘۔
میں نے کہا’’جی ہاں،اگر آپ بہار سے اِدھر آئیں تو آگے آتا ہے اور اُدھر سے بہار جائیں تو پہلے آتا ہے‘‘۔
من سکھ لال جی ہنسنے لگے۔ بولے ’’تم صورت شکل سے گدھے دکھائی دیتے ہو مگر ہو نہیں بھائی صاحب‘‘۔
میں نے کہا’’نہیں بھائی صاحب میں واقعی گدھا ہوں۔یقین نہ آئے تو میرے کان اینٹھ کے دیکھ لیجیے‘‘۔
من سکھ لال جی نے میرے کان اینٹھے، جب جاکے کہیں انھیں یقین آیا۔بولے، ’’اب کہو۔میں تمھارے لیے کیا کر سکتا ہوں؟‘‘
میں نے کہا،’’من سکھ لال جی۔مجھے اپنے لیے تو گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں چاہیے۔ میں رامو دھوبی کے سلسلے میں آیا ہوں۔‘‘اور اتنا کہہ کر میں نے رامو دھوبی کا پورا قصّہ بیان کیا۔
جانا گدھے کا
وزیر اعظم کی کوٹھی پر
اور ملاقات کرنا پنڈت جواہر لال نہرو سے
اور خفا ہونا باغ کے مالی کا
میں نے لوگوں سے سُن رکھا تھا کہ پنڈت جی سے ملاقات کا وقت صبح ساڑھے سات آٹھ بجے سے پہلے کا ہے۔ اس کے بعد سے جو ملاقاتیوں کا تانتا شروع ہوتا ہے تو پھر کسی وقت ایک آدھ منٹ کاانٹر ویو حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ یہی سوچ کر اس روز میں رات بھر جاگتا رہا اور مختلف رستوں سے گھوم گھوم کر پنڈت جی کی کوٹھی کے قریب تر پہنچنے کی کوشش کرتا رہا۔ کوئی چھے بجے کے قریب میں ان کی کوٹھی کے باہر تھا۔سنتر یوں نے مجھے لاپرواہی سے تاکا، شاید میں انھیں بالکل معمولی گدھا دکھائی دیتا ہوں گا۔ پہلے تو میں دیوار سے لگ کر آہستہ آہستہ گھاس چرتا رہا اور دھیرے دھیرے دروازے کے قریب آتا رہا۔جب میں بالکل ہی قریب پہنچ گیا، تو سنتریوں نے ہاتھ اٹھا کر لا پرواہی سے مجھے ڈرایا۔جیسے اکثر گدھوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ میں نے ساری اسکیم پہلے سے سوچ رکھی تھی۔ ان کے ڈراتے ہی میں نے ایسا ظاہر کیا کہ میں بالکل ڈر گیا ہوں چنا نچہ میں تڑپ کر اچُھلا اور سیدھا کوٹھی کے اندر ہو لیا۔ سنتری میرے پیچھے بھاگے وہ میرے پیچھے پیچھے اور میں ان کے آگے آگے۔جب میں باغ کی روشوں میں پہنچ گیاتو سنتریوں نے ایک گدھے کا اس قدر پیچھا کرنا بے کار سمجھ کر مالی کو آواز دی کہ وہ اس گدھے کو باغ سے باہر نکال دے اور یہ کہہ کر وہ پھر باہر گیٹ پر کھڑے ہو گئے۔جہاں ان کی ڈیوٹی تھی۔
مالی نے مجھے گھور کر دیکھا۔ وہ اس وقت ایک کھرپی لیے گلاب کی جھاڑیوں کے ارد گرد گھاس صاف کر رہا تھا۔اس نے جب اپنا کام بڑھتے ہوئے دیکھا تو اسے سخت غصّہ آیا۔ مجھے اس کی آنکھوں میں ایذا پرستی اور شیطنت کی چمک دکھائی دی۔مالی آہستہ سے جھاڑیوں کے پاس سے اٹھا اور اندر اپنے کو ارٹر سے ایک مضبوط سونٹا لانے گیا۔اتنے میں میں نے کیا دیکھا کہ پنڈت جی روش پر چلتے ہوئے بلکہ دوڑتے ہوئے گلاب کے پودوں کی طرف جارہے ہیں۔ میں نے یہ موقع غنیمت سمجھا اور ہرن کی طرح ایک چوکڑی بھری اور پنڈت جی کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔
میں نے آہستہ سے کہا ’’پنڈت جی!‘‘
پنڈت جی حیرت سے میری طرف مڑے جب انھیں کوئی انسان نظر نہ آیا تو پھر آگے چلنے لگے۔
میں نے پھر کہا’’پنڈت جی!‘‘
اب کے پنڈت جی نے ذرا تنک مزاجی سے مجھے دیکھا اور بولے’’میں بھوتوں میں یقین نہیں رکھتا‘‘۔
میں نے کہا’’یقین مانیے۔ میں بھوت نہیں ہوں۔ ایک گدھا ہوں‘‘۔
جب پنڈت جی نے مجھے بولتے دیکھا تو اُن کی ایک لمحے کی حیرت بشاشت میں تبدیل ہو گئی۔وہ بولے، ’’میں نے اٹلی کے ایک گھوڑے کے بارے میں پڑھا تھا جو الجبرے کے سوال تک حل کر سکتا تھا لیکن بولنے والا گدھا آج ہی دیکھا۔ انسان کی سائنس کیا کچھ نہیں کر سکتی،بولو کیا چاہتے ہو۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔‘‘
میں نے کہا ’’آپ سے پندرہ منٹ کے لیے ایک انٹرویو چاہتا ہوں۔سوچتا ہوں کہیں آپ اس لیے انکار نہ کر دیں کہ میں ایک گدھا ہوں۔‘‘
پنڈت جی ہنس کر بولے ’’میرے پاس انٹرویو کے لیے ایک سے ایک بڑا گدھا آتا ہے۔ ایک گدھا اور سہی ۔کیا فرق پڑتاہے۔۔۔۔۔۔۔شروع کرو ‘‘۔
میں شروع کرنے والا تھا کہ اتنے میں مالی دُور سے ڈنڈا لیے بھاگتا ہوا نظر آیا۔میں نے مالی کی طرف دیکھا، پھر پنڈت جی کی طرف،پنڈت جی سمجھ گئے۔انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے مالی کو روک دیا اور خود روش پر ٹہلنے لگے۔میں نے رامو دھوبی کی داستانِ غم مختصر لفظوں میں بیان کی پنڈت جی بہت متاثر ہوئے۔ کہنے لگے، ’’اس معاملے میں حکومت کچھ نہیں کر سکتی مگر اپنی جیب سے ایک سو روپیہ دے سکتا ہوں‘‘۔
یہ کہہ کر انھوں نے اپنی جیب سے ایک سو روپیے کا نوٹ نکالا اور میرے کان کے اندر اُڑس دیا۔ میں نے کہا ’’پنڈت جی۔ قدوائی مرحوم بھی اسی طرح خیرات کیا کرتے تھے۔سینکڑوں لوگوں کا بھلا اس میں ضرور ہو جاتا ہے مگر ہے تو یہ خیرات!‘‘
پنڈت جی بولے’’خیرات تو ہے‘‘۔
میں نے کہا ’’خیرات بند ہونی چاہیے۔ہندوستانی کا یہ حق ہونا چاہیے کہ جب وہ مرے تو اس کے بعد ریاست اس کے بیوی بچوں کے گزارے کا بندوبست کرے۔ اسے آزادی کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا جانا چاہیے‘‘۔
’’اصول تو درست ہے۔‘‘ پنڈت جی نے سوچ کر کہا’’لیکن اصولوں کو عمل میں لانے کے لیے خون پسینہ ایک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بہت کم لوگ تیار ہوتے ہیں۔یوں تو تمھاری طرح لوگ انقلاب کی باتیں بہت کرتے ہیں لیکن رامو دھوبی کی بیوہ کو سرکاری پنشن دینے کے لیے قوم کے پاس اس سے کہیں زیادہ قومی دولت ہونی چاہیے جتنی آج کل اس کے پاس موجود ہے۔ اس قومی دولت کو بڑھانے کے لیے ہم نے پنج سالہ پلان تیار کیا ہے جس پر ملک بھر میں عمل ہو رہا ہے۔ لیکن لوگوں کے جوش و خروش کا وہ عالم نہیں ہے جس کی مجھے ان سے توقع تھی ‘‘۔
گھیر لینا گدھے کو اخبار والوں کا
اور لے کے جانا اسے
کانسٹی ٹیوشن کلب میں اور
بیان گدھے کی پریس کانفرنس کا
وزیر اعظم کی کوٹھی سے باہر نکلتے ہی میں نے اپنے آپ کو دنیا کا مشہور ترین گدھا پایا۔ ایک لمحہ پہلے میں گمنام ترین گدھا تھا جو سڑکوں پر عرضی لیے مارا مارا پھرتا تھا۔ لیکن وزیر اعظم سے ملاقات ہوتے ہی گویا میری تقدیر بدل گئی۔جب میں کوٹھی سے باہر نکلا ہوں تو دروازے کے باہر گویا جر نلسٹوں کا اور فوٹو گرافروں کا ایک اژدہام تھا۔کَھوے سے کَھوا چِھل رہا تھا۔میرے فوٹو پر فوٹو اُتارے جا رہے تھے۔ آخر میں وہ لوگ مجھے گھیر گھار کر کانسٹی ٹیوشن کلب لے گئے۔تاکہ وہ میرا انٹرویو لے لیں۔
کانسٹی ٹیوشن کلب میں پریس کے نمائندوں نے مجھ پر سوالوں کی بوجھاڑ کر ڈالی۔
’’وزیر اعظم سے آپ کی کیاکیا باتیں ہوئیں؟ ایک جرنلسٹ سے نہ رہا گیا۔
میں نے کہا ’’کچھ گھاس کے بارے میں کچھ گلاب کے پھولوں کے بارے میں‘‘۔
دوسرا جرنلسٹ بولا ’’آپ ہمیں اُڑا رہے ہیں۔ صاف صاف بتائیے نا کس موضوع پر گفتگو رہی؟‘‘
مگر میں کہاں ان کے ہاتھوں میں آنے والا تھا۔ میں نے کہا ’’کچھ دھوبیوں کے بارے میں ذکر رہا، کچھ ان کے گدھوں کے بارے میں۔ کچھ نئی نسل کے گدھوں کے بارے میں۔‘‘
لنڈن ٹائمز کے نمائندے نے رائل کمیشن کے کسی ممبر کی طرح بولتے ہوئے کہا ’’اے مسٹر ڈنکی : شخصی آزادی کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
میں نے کہا ’’ہر گدھے کو گھاس چرنے کی آزادی ہونی چاہیے‘‘۔
’’اور co-existence یعنی بقائے باہم کے بارے میں ؟‘‘
میں نے کہا ’’ہر گدھے کو چاہیے کہ خود بھی جیے اور دوسروں کو بھی جینے دے۔ کم از کم ہم گدھے تو اسی اصول پر عمل کرتے ہیں،میں انسانوں کی بات نہیں کرتا‘‘۔
’’نسلی امتیازات کے بارے میں تم کیا رائے رکھتے ہو؟‘‘
میں نے کہا ’’ہم گدھوں کے اندر کسی قسم کے نسلی امتیاز نہیں پائے جاتے۔ گدھا کالے بالوں والا ہو یا بھورے بالوں والا۔اس کا ماتھا سپید ہو یا کالا۔اس کی کھال دھاری دار ہو یا بے دھاری دار۔ہمارے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہمارے سماج میں سب گدھے برابر ہیں‘‘۔
مانچسٹر گارجین کے نمائندے نے ایسی دلچسپی سے نیویارک ٹائمز اور لائف کے نمائندوں کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ دیکھو،میں تم سے کہتا نہیں تھا پہلے اس کے خیالات معلوم کر لو۔
لائف والے نے نیو یارک ٹائمز والے سے کہا ’’میرے خیال میں اب فرانسس کو بلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے،وہ تار منسوخ کر دیا جائے‘‘۔
مانچسٹر گارجین کے نمائندے نے پوچھا ’’حضرت یہ مشرق اور مغرب میں جو ٹھنڈی جنگ چھڑی ہوئی ہے اس کے متعلق بھی گل افشانی کیجیے گا؟‘‘
میں نے کہا ’’ہم گدھوں میں کبھی کوئی ٹھنڈی یا گرم جنگ نہیں ہوتی۔دراصل ہم گدھے لوگ جیسا کہ آپ انسانوں کو معلوم ہوگا جنگ سے سخت نفرت کرتے ہیں۔آپ نے اکثر دیکھا ہوگا گھاس کے ایک ہی پلاٹ پر درجنوں گدھے اکٹھّے چرتے ہیں اور کبھی کوئی لڑائی نہیں ہوتی۔ہماری سمجھ میں نہیں آتا آخر انسان اس طرح اکٹھّے کیوں نہیں چر سکتے۔ پھر آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ مختلف رنگ اور نسلوں والے گدھے سب اکٹھّے مل کر اینٹیں ڈھوتے ہیں اور ایک نیا مکان بنانے میں مدد پہنچاتے ہیں۔اب میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم انسان،مختلف رنگ اور نسلوں والے انسان اکٹھّے مل کر ایک نیا کارخانہ یا ایک نئی دنیا کیوں نہیں تعمیر کر سکتے ؟‘‘
چھپنا گدھے کے انٹرویو کا
دنیا بھر کے اخباروں میں
اور ہجوم
گدھے سے ملاقات چاہنے والوں کا
دوسرے دن مجھے موسیقی کی مدّھم مدّھم دُھنوں کے درمیان خوابِ خرگوش بلکہ خواب خرسے جگایا گیا۔ میں نے مسہری سے اٹھ کر دیکھا بہت سے خدّام ناشتہ لیے حاضر تھے۔ سوندھی سوندھی بھنی ہوئی باجری کا دلیہ کھانے میں بہت لطف آیا۔ اس سے پہلے صِرف سُن رکھا تھا کہ انسان اپنے مطلب کے لیے گدھے کو بھی باپ بنا لیتا ہے۔آج اپنی آنکھوں سے اس کی تصدیق ہو گئی۔کیونکہ جب میں دلیہ کھا رہا تھا،اسی وقت کیا دیکھتا ہوں کہ سیٹھ بر جوٹیا ہاتھ میں بہت سے اخباروں کا پلندہ اُٹھائے خوشی خوشی چلے آرہے ہیں۔ آتے ہی اس گرم جوشی سے بغل گیر ہوئے جیسے میں کوئی گدھا نہ تھا،ان کا سگا بھائی یا باپ تھا۔آتے ہی کہنے لگے۔ ’’یہ دیکھیے دنیا بھر کے اخباروں میں آج آپ کی تصویریں چھپی ہیں اور پہلے صفحے پر۔آج تو آپ نے نہر سویز کے جھگڑے کو بھی پچھلے صفحے پر پھینک دیا۔ یہ دیکھیے ایڈن کی تقریر دوسرے صفحے پر آئی ہے۔ خاص طور سے آپ کے لیے دنیا بھر کے اہم اخبار ہوائی جہاز سے منگوائے ہیں‘‘۔
طے ہونا شادی کا
سیٹھ من سُکھ لال
کی بیٹی روپ وتی کی
گدھے کے ساتھ
جب وہ تینوں بدنصیب روحیں کوٹھی سے باہر نکل گئیں تو میری جان میں جان آئی۔ میں نے کچھ غصّے سے اور کچھ واقعی بن کے سیٹھ کی طرف مڑکے کہا ’’ دیکھیے نایعنی دیکھا آپ نے کس قدر؟۔۔۔۔۔۔۔‘‘ مارے غصّے کے مجھ سے بات نہیں کی جا رہی تھی۔
سیٹھ من سکھ لال نے سر ہلا کے اثبات میں کہا ’’ میں سمجھتا ہوں، سب سمجھتا ہوں، زمانہ دیکھے ہوئے ہوں شریمان جی! یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس دنیا میں یہی ہوتا ہے۔ جہاں کسی آدمی نے ذرا بھی ترقی کی، چاہے وہ گدھا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس سے پہلے اس کا کوئی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن جہاں اس نے ذرا بھی ترقی کی فوراً اس کے ماں باپ دوست ہمدرد، رشتے ناطے والے پیدا ہو جاتے ہیں اور طرح طرح سے شجرۂ نسب ملا کے اس سے اپنا رشتہ جوڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جانے یہ لوگ برساتی مینڈکوں کی طرح کدھر سے آجاتے ہیں‘‘۔
’’ہاں دیکھیے تو!‘‘ میں نے اُسی غصّے میں کہا۔
سیٹھ من سکھ لال نے بڑی محبت سے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگے ’’چلیے اندر چلیے‘‘۔
ہم دونوں آہستہ آہستہ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سیٹھ بدستور اسی محبت سے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور کہتے جاتے تھے ’’شریمان جی! ایک بات تو ہے آپ کو نوعمری میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ آپ کو اگر اپنے ماں باپ نہیں تو کم سے کم ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہے جو آپ کا خیال رکھ سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’خیال؟‘‘ میں سوچنے لگا۔
’’آپ سے محبت کر سکے‘‘۔
’’محبت؟‘‘ میری آنکھیں چمکنے لگیں۔
’’جو آپ کی روز مرّہ کی ذمّہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے آپ کو مسرّت اور تازگی بخش سکے‘‘۔
’’مسرّت ؟‘‘ یہ مبارک جھونکا کدھر سے آرہا تھا۔
’’جو صحیح معنوں میں آپ کی جیون ساتھی بن سکے‘‘۔
’’جیون ساتھی؟‘‘ میں نے نہایت ہی نرم لہجے میں اپنے آپ سے سوال کیا ’’ایسی گدھی کہاں مل سکے گی؟‘‘
من سکھ لال ایک لمحے کے لیے ٹھس سے صوفے پر چُپ چاپ بیٹھ گئے۔پھر حوصلہ کرکے میرے قریب آئے، بولے ’’اب آپ اپنی جاتی بھول جائیے۔ بھول جائیے کہ کبھی آپ گدھے تھے۔یا گدھوں کے قبیلے سے کبھی آپ کا واسطہ تھا۔ آج سے آپ ایک نئے طبقے میں قدم رکھ رہے ہیں۔ایک نئے سماج میں، نئی دنیا میں، یہاں کی قدریں کچھ اور ہیں۔ شریمان جی! اب آپ کل کی بات سوچیے کل جو آنے والا ہے۔جو گزر گیااُسے بالکل بھول جائیے۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’بھول گیا؟‘‘ میں نے اپنی دونوں آنکھیں چند لمحوں کے لیے بند کرکے انھیں ایک دم کھولتے ہوئے کہا ’’بھول گیا۔ سیٹھ جی۔ اب بتائیے ۔آگے کیا ہو‘‘۔
’’آپ میری بیٹی سے شادی کر لیجیے‘‘۔
’’ آپ کی بیٹی سے؟‘‘ میں زور سے چیخا اور ایک دم صوفے سے اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِس روپ وتی سے؟‘‘
’’ہاں! اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ میری بیٹی پڑھی لکھی اپ ٹوڈیٹ، سُوشیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
میں نے بات کاٹ کے کہا ’’میں آپ کی لڑکی کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا میں تو اپنے بارے میں سوچ رہا تھا۔ دیکھیے میں تو محض ایک گدھا ہوں، جانور ہوں اور آپ لوگ انسان ہیں۔کتنی مدّت کے بعد ایک جانور اور ایک انسان میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاید لاکھوں برس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شادی کا رشتہ قائم ہوگا۔‘‘
من سکھ لال نے میرے کان سے کھیلتے ہوئے کہا ’’بس یہ بات آپ مان جائیے ۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے پھر جلدی سے قطع کلام کرتے ہوئے کہا ’’ آپ نے اس تجویز کے حسن وقبح پر غور کر لیا ہے؟‘‘
’’اچھی طرح!‘‘
’’مگر دیکھیے نا! یہ ایک لڑکی کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ آپ روپ وتی سے پوچھے بغیر کیسے یہ رشتہ طے کر سکتے ہیں۔ کیا اُسے اس شادی پر کوئی اعتراض تو نہ ہوگا؟‘‘
’’نہیں ہوگا‘‘ من سکھ لال نے اعلان کیا ’’میں نے اس سے بات کرلی ہے‘‘۔
’’باپ رے!‘‘ میں حیرت سے چلّا یا۔ ’’مجھے یقین نہیں آرہا ہے‘‘۔
’’آپ خود اس سے بات کرکے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں‘‘۔
’’مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
مگر من سکھ لال نے میری بات نہ سُنی۔ اس نے جلدی سے گھنٹی بجائی۔ایک خادم حاضر ہوا۔ من سکھ لال نے اس سے کہا ’’ بِٹیا کو ذرا نیچے بھیج دو‘‘۔
’’مگر وہ تو کب کی سونے کے لیے چلی گئی تھیں۔‘‘یکا یک مجھے یاد آیا۔
سیٹھ من سکھ لال مسکرائے ،بولے ’’نہیں وہ جاگ رہی ہیں اور ہماری گفتگو کے نتیجے کا انتظار کر رہی ہیں‘‘۔
میں حیرت سے سیٹھ من سکھ لال کے منھ کی طرف دیکھنے لگا۔
اتنے میں ہال کی سیڑھیوں سے مس روپ وتی خراماں خراماں نیچے اترنے لگی۔
اس نے گہرے نیلے رنگ کا ایک غرارہ پہن رکھا تھا جس میں سونے کے لہریے چمکتے تھے۔ ہلکے آسمانی رنگ کا دوپٹّہ اس کے کٹے ہوئے بالوں کے حسن کو دوبالا کر رہا تھا۔ غرارے کے نیچے سے دو خوب صورت پاؤں سیڑھیوں سے نیچے اترتے نظر آرہے تھے۔ میرا دل بھی سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا۔ جب وہ میرے بالکل قریب آگئی تو میرا دل دھک سے رہ گیا۔اب نیچے جانے کے لیے کوئی سیڑھی نہ تھی۔ میں نے مدد کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا مگر موقع پا کر سیٹھ بھی اس وقت کھِسک گیا تھا۔ اب ڈرائنگ روم میں، میں اور وہ بالکل اکیلے تھے۔میرا جی گھبرا کر گدھے کی طرح ہانکنے کو چاہا۔ مگر موقع دیکھ کر چپ ہو گیا۔
’’فرمائیے؟‘‘ روپ وتی نے اپنے دوپٹے سے کھیلتے ہوئے کہا۔
میں نے گلے کا لعاب حلق سے نیچے نِگلا۔ آخر کسی نہ کسی طرح ہمّت کرکے پوچھ ہی لیا ’’ کیا یہ سچ ہے؟‘‘
’’کیا ؟‘‘ روپ وتی نے اپنی بڑی بڑی معصوم آنکھیں میری آنکھوں میں ڈالتے ہوئے کہا۔
’’ کہ آپ مجھ سے شادی پر آمادہ ہیں؟‘‘
’’ہاں !‘‘ آواز بہت کمزور اور پیاری تھی۔میرا جی چاہا کہ مارے خوشی کے ایک دولتّی جھاڑدوں مگر پھر خاموش ہو رہا کہ کہیں بدتہذیب نہ سمجھ لیا جاؤں۔
’’مگر دیکھیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا ’’ آپ نے کیا سب سوچ لیا ہے۔ کہیں آپ کو بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔ آپ دیکھ رہی ہیں کہ میں ایک گدھا ہوں‘‘۔
’’ شوہر کو ایسا ہی ہونا چاہیے‘‘۔روپ وتی فیصلہ کن لہجے میں بولی۔
لے جایا جانا گدھے کا واپس سیٹھ من سکھ لال کی کوٹھی پر
اور لڑائی کرنا
مس روپ وتی کا اس سے
اور افشا ہونا راز ہائے درون پردہ کا
گھر لے جاکے سیٹھ من سکھ لال اور اس کی بیٹی روپ وتی نے مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا۔
اس وقت رات ہو چکی تھی، سڑک پر کہیں کہیں گھوڑے تانگوں میں جتے ہوئے جا رہے تھے۔ایک بیل کاغذ سے بھرا ہوا چھکڑا کھینچے لیے جا رہا تھا۔ دو کتّے زنجیروں میں بندھے ہوئے ایک نوکر کے ساتھ چلے جا رہے تھے۔ ہم جانوروں کی بھی کیا زندگی ہے؟
روپ وتی کے ہاتھ میں ایک پتلی سی بید کی چھڑی تھی۔ وہ اسے ہاتھ میں لیے لیے ٹہل رہی تھی اور مارے غصّے کے تھر تھر کانپ رہی تھی۔آخر سیٹھ من سکھ لال نے اسے بہت سمجھایا ۔کہا ’’ تم اپنے ہونے والے خاوند کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتیں اور وہ بھی شادی سے پہلے ہی‘‘۔
میں نے سیٹھ کی طرف داری کرتے ہوئے کہا ’’ آپ بجا فرماتے ہیں، عام طور پر پٹائی محبت کے بعد شروع ہوتی ہے،محبت سے پہلے ہی پٹائی شروع کر دوگی تو زندگی اجیرن ہو جائے گی‘‘۔
’’تم چپ رہو جی۔‘‘ روپ وتی نے غصّے سے بید گھماتے ہوئے کہا۔
سیٹھ من سکھ لال نے بید اس کے ہاتھ سے چھین لیا۔
روپ وتی بید کے بجائے ہاتھ گھماتے ہوئے بولی ’’ اچھا یہ بتاؤ، کیا تم سچ مچ اس کم بخت پر عاشق ہو‘‘۔
’’کون ہے وہ؟ میں آپ کا اشارہ نہیں سمجھا۔‘‘
’’وہی ،کملا!‘‘
’’کملا؟‘‘
’’ہاں !ہاں وہی بے حیا۔‘‘، روپ وتی بڑی نفرت سے بولی۔
میں نے جلدی سے کہا ’’ مگر مجھے اس سے عشق نہیں ہے۔میں تو دراصل ایک گدھا ہوں۔ میں ایک عورت سے کیسے عشق کر سکتا ہوں؟‘‘
سیٹھ من سکھ لال بولے ’’ بھائی آج کل ایک گدھا ہی عشق کر سکتا ہے۔ ورنہ آج کل کے زمانے میں کسی ذی ہوش انسان کو عشق کرنے کا خیال ہی کیسے ہو سکتا ہے۔دیکھو تو چیزیں کس قدر سستی ہو رہی ہیں۔گندم کا بھاؤ گر گیا ہے،کالی مرچ کا بھاؤ گر گیا ہے، ابھی ابھی اسٹاک ایکسچینج پر میں نے اس مندے میں دس لاکھ روپے کھودیے۔ ارے اس خوف ناک سستائی کے زمانے میں کون بھلا مانس عشق کرے گا۔ سوائے ایک گدھے کے!‘‘
روپ وتی نے پوچھا ’’سچ سچ بتاؤ مِس کملا تمھیں اچھی لگتی ہے؟‘‘
’’ہاں!‘‘
’’اس میں کیا ہے جو مجھ میں نہیں؟‘‘
میں نے کہا ’’ جو سچ پوچھو تو تم دونوں میں کیا ہے؟‘‘
روپ وتی اٹھلاتی ہوئی میرے پاس آئی ’’ڈارلنگ اُس روز میں نے تم سے کہا تھا نا کہ تم کبھی کبھی سَیر کے لیے میرے ساتھ جا سکتے ہو‘‘۔
’’مگر میری پیٹھ پر زینٖ کسی ہوگی! مجھے یاد ہے!‘‘ میں نے اس سے کہا۔
وہ میرے اور بھی قریب آگئی۔بولی،’’تم ہر روز سیر کے لیے میرے ساتھ جا سکتے ہو اور میں تمھاری پیٹھ پر زینٖ بھی نہیں کسوں گی اور دیکھو تمھاری رسّی میں خود اپنے ہاتھ میں رکھوں گی۔ سائیس کو بھی نہ دوں گی۔‘‘
’’وہ تو بیوی اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے، شوہر کی رسّی!‘‘
روپ وتی نے اپنی بانہیں میری گردن میں ڈال دیں بولی ’’اور یہ بھی تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ سال میں دو مرتبہ تم میرے ڈائننگ روم میں آکے میرے ساتھ ایک ٹیبل پر کھانا بھی کھا سکتے ہو‘‘۔
’’وہ کون سے دن ہوں گے؟‘‘
’’ایک تو تمھاری سال گرہ کے روز‘‘۔روپ وتی بولی’’تمھاری سال گرہ کب ہوتی ہے؟‘‘
’’ہوتی ہی نہیں ہے۔مس روپ وتی۔ ‘‘میں نے جھلّا کے کہا ’’کہیں گدھوں اور عام آدمیوں کی بھی سال گرہ منائی جاتی ہے؟ یہ سال گرہ اور اس قسم کی باتیں بڑے بڑے آدمیوں تک ہی محدود ہیں۔اچھا خیر، چلیے، ایک تو ہماری سال گرہ کے روز آپ ہم سے ڈائننگ ٹیبل پر ملیں گی اور وہ دوسرا خوش نصیب دن کون سا ہوگا؟‘‘
’’جس دن ہم اپنی شادی کی سال گرہ منایا کریں گے۔‘‘ مِس روپ وتی فلم ایکٹرسوں کی طرح لجا کے بولی اور اس نے میرے کان پر ایک بوسہ دیا۔
پھر آہستہ سے اس نے ایک کاغذ میرے سامنے بڑھا دیا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کانٹریکٹ ہے۔‘‘
’’شادی کا کانٹریکٹ؟‘‘
’’نہیں پیارے، یہ تمھارے اور پتاجی کے بزنس پارٹنر شپ کا کانٹریکٹ ہے۔‘‘
’’کون سی بزنس کا؟‘‘
’’وہی ڈارلنگ!‘‘ روپ وتی بالکل میرے گلے سے اپنے رخسار لگائے ہوئے بولی ’’وہی جس کے لیے کملا تمھیں رسّی سے کھینچ کر اپنے گھر لے جا رہی تھی۔ لو اب جلدی سے دستخط کر دونا۔میرے پیارے ڈنکی مونکی۔‘‘
’’دستخط تو میں ابھی کیے دیتا ہوں،‘‘ میں نے مجبور ہو کے کہا ’’مگر وہ پچیس کروڑ کا ٹھیکہ کدھر ہے؟‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ سیٹھ من سکھ چونک کر بولے’’ تم اس روز تو خود ہی کہہ رہے تھے کہ وزیر اعظم سے دورانِ گفتگو پچیس کروڑ کے ٹھیکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’مگر ‘‘میں نے جلدی سے بات کاٹ کے کہا ’’مگر آپ نے میری پوری بات کہاں سُنی۔بات میرے ٹھیکے کی نہیں ہو رہی تھی۔ برماشیل آئیل ریفائنری کے پچیس کروڑ کے پراجیکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’باپ رے۔ میں تو بالکل لُٹ گیا۔‘‘ سیٹھ نے زور سے اپنا ماتھا پیٹ لیا۔ ’’پچیس کروڑ کا ٹھیکہ بھی ہاتھ سے گیا۔ ارے لوگو!اس کے لیے میں نے کیا کیا نہیں کیا۔اس کم بخت گدھے کو اپنے گھر میں رکھا۔اسے ایک طرح سے گھر داماد بنایا۔ اس کے لیے میونسپلٹی سے ایڈریس دلوایا۔اخباروں میں اس کے فوٹو نکلوائے۔جلوس، ہار،خوش بو دار گھاس ،ہائے رام میں تو بالکل لُٹ گیا‘‘۔
’’ٹھیکہ نہیں تھا‘‘۔روپ وتی کی آنکھوں سے شعلے سے نکلنے لگے پھر تُو ہمارے گھر میں کیا کر رہا ہے؟‘‘
میں نے کہا ’’عقل کی بات کرو، میں تمھارا ہونے والا خاوند ہوں‘‘۔
’’کمینے! گدھے!‘‘
’’مگر میں تو تمھارا دھبڑو ہوں،تمھارا ڈارلنگ!‘‘
روپ وتی نے بید اُٹھا لیا، سیٹھ جی نے ڈنڈا،ایک نوکر کہیں سے موٹا سا بانس لے آیا۔میں نے اِدھر اُدھر دیکھا مگر سب دروازے بند تھے اور چاروں طرف دیواروں میں کہیں کوئی کھڑکی نہ تھی!
اِسٹاپ پریس
بولنے والا گدھا کل رات شدید طور پر زخمی ہو گیا۔اس کی بہت سی ہڈّی پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ٹانگوں میں بھی ضربِ شدید کے نشان ہیں۔ حملہ آوروں کا پتہ نہیں چل سکا۔پریس والے گھسیٹ کر جانوروں کے ہسپتال میں لے گئے۔ڈاکٹروں کی رائے میں اس کی حالت خطرناک بیان کی جاتی ہے۔ممکن ہے وہ اس حادثے سے جانبر نہ ہو سکے، بہر حال علاج جاری ہے۔ قارئین اس کے حق میں دُعائے خیر کریں۔ ممکن ہے وہ کبھی اچھا ہو جائے اور پھر کبھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکے۔
(کرشن چندر)
(تلخیص : ایک گدھے کی سرگذشت)
مشق
1۔ لفظ و معنی:
احوالِ واقعی : سچّے حالات
سرگذشت : آپ بیتی
ملاطفت : لطف
بے حرمتی : بے عزّتی
گہوارۂ علم : علم کا مرکز
آزردہ خاطر : افسوس کرنا
ذکاوت : ذہانت
قطع : زمین کا ٹکڑا،کیاری
شفان : ایک قسم کے کپڑے کا نام
طراوت : تازگی
ایذا پرستی : تکلیف دینے کا عمل
بشاشت : تازگی
اژدہام : ہجوم ،بھیڑ
بقائے باہم : آپسی رواداری
منسوخ : رد کرنا
گل افشانی : خوش گفتاری
خوابِ خرگوش : گہری نیند میں ہونا
خدّام : خادم کی جمع،خدمت گار
اثبات : حامی بھرنا
شجرۂ نسب : خاندان کی تاریخ
حُسن و قبح : خوبی اور خرابی
افشا : ظاہر ہونا
راز ہائے دُروں : چھپا ہوا راز
ضرب : مار،چوٹ
جانبر ہونا : اچھا ہونا، صحت یاب ہونا
2۔ سوالات:
1۔ گدھے نے سید کرامت علی شاہ کی کس مہربانی کا ذکر کیا ہے؟
2۔ گدھے نے ترکِ وطن کا ارادہ کیوں کیا؟
3۔ رامو دھوبی کے یہاں گدھے کے شب وروز کس طرح سے گزرے؟
4۔ چیرمین نے گدھے کو لالہ سنت رام کیوں سمجھا اور کیا کہا؟
5۔ بڈھے کلرک اور گدھے کے درمیان کیا بات چیت ہوئی ؟
6۔ پنڈت جواہرلال نہرو اور گدھے کے درمیان کس مسئلے پر گفتگو ہوئی؟
7۔ ’’شوہر کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘‘ یہ جملہ روپ وتی نے کب اور کیوں کہا؟
8۔ گدھے کا انجام کیا ہوا؟
3۔ زبان و قواعد:
٭ درج ذیل جملوں کی وضاحت کے ساتھ مصنف کے طنز و مزاح کی نشاندہی کیجیے:
• میں ہی ایک گدھا انھیں ملا مگر اس سے انھیں بحث نہ تھی وہ دراصل گفتگو کرنا چاہتے تھے۔
• میں نے سوچا جس شہر میں کتابوں اور عالموں فاضلوں کی یہ بے حرمتی ہوتی ہو وہاں رہنا ٹھیک نہیں۔
• مجھے ڈر تھا کہ ہندوستانی زبان میں بات کر دی تو بالکل ہی گدھا نہ سمجھ لیا جاؤں۔
• وہ بولے کچھ لوگ باہر سے گدھے دکھائی دیتے ہیں کچھ لوگ اندر سے گدھے ہوتے ہیں۔
• میں نے کہا میں دھوبی کا گدھا ہوں نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔
• من سکھ لال جی ہنسنے لگے۔ بولے تم صورت شکل سے گدھے دکھائی دیتے ہو مگر ہو نہیں بھائی صاحب! میں نے کہا نہیں بھائی صاحب میں واقعی گدھا ہوں یقین نہ آئے تو میرے کان اینٹھ کے دیکھ لیجیے۔
4۔ غور کرنے کی بات:
یہ ایک حیوانیہ یعنی (Animal Story) ہے۔ اسے ہم تمثیلی ناول بھی قرار دے سکتے ہیں۔بھلا ایک جانور کی سرگذشت کیا ہو سکتی ہے۔ گدھا دراصل عام آدمی کی تمثیل ہے۔ اس بہانے مصنف نے آج کے مطلب پرست افسروں ،چھوٹے موٹے رہنماؤں اور سماجی خرابیوں پر طنز کیا ہے۔ایسا طنز کہ قاری پڑھتے ہوئے مسکراتا تو ہے مگر دوسرے لمحے گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔ تقسیمِ ملک کے اثرات عام آدمی پر کس طرح سے مرتّب ہوئے۔اسے مذہب اور زبان کے نام پر کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ان جملہ مسائل کو گدھے نے اپنے مالک رامو کے علاوہ میونسپل کمیٹی کے محرر،چیئرمین ،کامرس منسٹر، وزیر اعظم،اخباری نمائندے اور سیٹھ من سکھ لال سے یکے بعد دیگر ے ملاقات میں سمیٹ لیا ہے۔اردو میں اس سے بہتر طنز یہ ناول شاید ہی لکھا گیا ہو۔
5۔ عملی کام:
٭ اس کہانی کا خلاصہ تحریر کیجیے۔