حصّۂ نظم
رُباعی
رُباعی چارمصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔اس صنف کو ’’دوبیتی‘‘ اور ’’ترانہ‘‘ بھی کہا جا تا ہے۔لیکن چار مصرعوں والی ہر نظم ’’رباعی‘‘ نہیں ہوتی۔اس کی ایک خاص بحر ہوتی ہے جسے بحرِ ہزج کہا جاتا ہے۔رُباعی کے لیے اِس فن کے استادوں نے 24 اوزان مقرر کیے ہیں۔ اِن کے علاوہ کسی اور وزن میں رباعی نہیں کہی جاتی۔ وزن وبحر کی پابندی کے علاوہ رباعی کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ اس کا پہلا ،دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہو۔ اس کے چاروں مصرعے بھی ہم قافیہ ہو سکتے ہیں۔
رُباعی کا چوتھا مصرع سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔یہ مصرع جتنا زیادہ زور دار اور برجستہ ہوتا ہے رُباعی اتنی ہی بہتر مانی جاتی ہے۔ رُ باعی میں حسن وعشق،فلسفہ واخلاق،رندی وسر مستی،پندو موعظت اور مذہب وتصوّف کے علاوہ شاعر کے ذاتی حالات و تجربات، محسوسات اور افکار ومشاہدات کا بھی اظہار ہوتا ہے۔اس میں مظاہرِ فطرت کی عکاسی بھی کی جاتی ہے۔
جگت موہن لال رَواںؔ
(1889 - 1934)
جگت موہن لال نام، رواں تخلص تھا۔انّا ؤ میں پیدا ہوئے۔رواں بچپن ہی سے بے حد محنتی اور ذہین تھے۔ اُنھوں نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد انّاؤ میں وکالت شروع کردی اور اس پیشے میں بڑی شہرت اور کامیابی حاصل کی۔
رواں کو بچپن ہی سے شاعری کا شوق تھا۔انھوں نے غزل،نظم،مثنوی اور رباعی جیسی اصناف کو اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنایا لیکن رباعی کہنے میںبڑی شہرت ومقبولیت حاصل کی۔اُن کی رباعیوں میں فکروفن کا گہرا امتزاج ملتاہے۔معیاری زبان و اسلوب، لطیف تشبیہات و استعارات اور موثر اندازِ بیان ان کی رباعیوں کی مخصوص پہچان ہے۔
ایک مثنوی ’’نقدِرواں‘‘ اور دو شعری مجموعے ’’رباعیاتِ رواں‘‘ اور ’’روحِ رواں‘‘ اُن کی یاد گار کتابیں ہیں۔
رُباعیاں
کیا تم سے بتائیں عمرِ فانی کیا تھی
بچپن کیا چیز تھی جوانی کیا تھی
یہ گل کی مہک تھی وہ ہوا کا جھونکا
اک موجِ فنا تھی، زندگانی کیا تھی
(جگت موہن لال رواںؔ)
مشق
1۔ لفظ و معنی:
فانی : ختم ہونے والی،مٹ جانے والی
موجِ فنا : مٹ جانے والی موج
مہک : خوش بو
2۔ سوالات:
1. رباعی کی تعریف بیان کیجیے۔ اس صنف کو رباعی کے علاوہ اور کیا کہا جاتا ہے؟
2. اس رباعی میں شاعر کیا بات کہنا چاہتا ہے؟
3۔ غور کرنے کی بات:
٭ شاعر نے اس رباعی میں بچپن کو پھول کی مہک سے اور جوانی کو ہوا کے جھونکے سے تعبیر کیا ہے۔
رباعی
دنیا سو سو طرح سے بہلاتی ہے
سامانِ خوشی سے روح گھبراتی ہے
اب فکرِ فنا نے کھول دی ہیں آنکھیں
کلفت ہر بات میں نظر آتی ہے
(جگت موہن لال رواںؔ)
مشق
1۔ لفظ و معنی:
فکرِ فنا : موت کی فکر
کلفت : رنج،غم،تکلیف
2۔ سوالات:
1. دنیا کی خوشی سے روح کیوں گھبرا رہی ہے؟
2. ’’کھول دی ہیں آنکھیں‘‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
3۔ غور کرنے کی بات:
٭ زندگی اور موت کی حقیقت ظاہر ہو جانے کے بعد زندگی کی ہر خوشی بے معنی نظر آنے لگتی ہے۔
رباعی
یہ کیا کہ حیاتِ جاودانی کیا ہے
پہلے دیکھو جہانِ فانی کیا ہے
اس فکر میں ہو کہ موت کیا شے ہے رواںؔ
یہ بھی سمجھے کہ زندگانی کیا ہے
(جگت موہن لال رواںؔ)
مشق
1۔ لفظ و معنی:
حیاتِ جاودانی : ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی
جہانِ فانی : فنا ہو جانے والی دنیا،مٹ جانے والی دنیا
2۔ سوالات:
1. حیاتِ جاودانی سے شاعر کی مراد کیا ہے؟
2. اس رباعی میں شاعر نے کیا بات کہنا چاہی ہے؟
3۔ غور کرنے کی بات:
٭ اس رباعی میں شاعر نے زندگی کی حقیقت پر گہرائی سے غور کرنے کی دعوت دی ہے۔
4۔ عملی کام:
٭ جگت موہن لال رواںؔ کا شعری مجموعہ ’’ رباعیات رواںؔ‘‘ حاصل کرکے ان کی دوسری رباعیات بھی غور سے پڑھیے۔