طویل نظم
اردو میں طویل نظم کا چلن بیسویں صدی کے دوران عام ہوا۔ کلاسیکی شاعری میں مثنوی، مرثیہ اور قصیدہ بھی طویل نظم ہی ہیں۔ لیکن یہ اصناف روایتی انداز کی ہیں۔ انھیں ہم اردو کی معروف طویل نظموں مثلاًخضرِراہ (اقبالؔ) نئی دنیا کو سلام (سردارؔ جعفری) ، صلصلتہ الجرس ، سند باد، شہرزاد اور شب گشت (عمیقؔ حنفی) پرچھائیاں (ساحرؔ لدھیانوی) 1857 (راہی معصوم رضاؔ) کے ساتھ نہیں رکھتے۔
ساحر ؔلدھیانوی اپنے زمانے کے مقبول ترین شاعروں میں سے تھے۔ ان کا شعری مجموعہ ’ تلخیاں‘ کے عنوان سے 1955میں شائع ہوا۔ اس کے متعدد اڈیشن بعد میں آئے اور خاص و عام میں یکساں طور پر مقبول ہوئے۔ ساحرؔ چھوٹے چھوٹے اور عا م انسانی تجربوں کے شاعر تھے۔ انھوں نے ہندوستانی فلموں میں اپنے گیتوں ، نظموں اور غزلوں کے ذریعہ ایک نیا معیار قائم کیا۔
پرچھائیاں ساحر ؔ کی بہت مشہور اور پسند کی جانے والی طویل نظم ہے۔ اس کا موضوع ’’امن ہے‘‘ ۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں نے انسان کو اجتماعی موت کے اندیشے میں مبتلا کر دیا تھا۔ ساحر ؔ نے اس نظم کے وسیلے سے یہ کہنا چاہا ہے کہ نسل انسانی کی بقا کے لیے ہمیں کسی تیسری عالمی جنگ کے امکان کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔ انسانی معاشرے اور تہذیب کی سب سے بڑی ضرورت امن ہے۔
نظم پرچھائیاں کو ایک طرح کا تخلیقی مقالہ (Creative Dissertation) بھی کہا جاسکتا ہے ۔ خیال کی بدلتی ہوئی لہروں کے ساتھ نظم کے مصرعوں کی ہیئت اور آہنگ میں بھی تبدیلی ہوتی جاتی ہے لیکن نظم کے خاتمے تک پہنچتے پہنچتے اس نظم کا مرکزی خیال اور شاعر کا مقصد ، دونوں پوری طرح روشن ہوجاتے ہیں۔ اس نظم کا ترجمہ انگریزی میں بھی ہو چکا ہے۔

ساحرؔ لدھیانوی
(1921 – 1980)
ساحرؔ لدھیانوی کا اصل نام عبدالحئی اور ساحرؔ تخلص تھا۔ وہ لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لدھیانہ ہی میں حاصل کی، بعد میں لاہور چلے گئے۔’’ادبِ لطیف‘‘ اور ’’سویرا‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ پھر دہلی سے ’’فن کار‘‘ نکالا۔ تقسیمِ ملک کے بعد ساحرؔ کو سخت حالات سے گزرنا پڑا۔روزگار کی تلاش میں ممبئی پہنچے اور فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔یہاں انھیں غیر معمولی کامیابی ملی۔
ساحرؔ ایک فطری شاعر تھے۔ان کے لہجے میں بہت سوز اور اثر تھا۔ ان کے کلام میں احساس کی دل کشی ہے اور یہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ انھوں نے سماجی اور سیاسی مسائل پر بہت خوب صورت انداز میں شعر کہے ہیں۔’’تلخیاں‘‘، ’’آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘‘ اور’’گاتا جائے بنجارہ‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔امن کے موضوع پر ان کی نظم ’’پرچھائیاں‘‘ یادگار حیثیت رکھتی ہے۔
پرچھائیاں
جوان رات کے سینے پہ دُودھیا آنچل
مچَل رہا ہے کسی خوابِ مرَمریں کی طرح
حسین پھُول، حسیں پتّیاں، حسیں شاخیں
لچک رہی ہیں کسی جسم نازنیں کی طرح
فضا میں گھُل سے گئے ہیں اُفق کے نرم خطوط
زمیں حسین ہے خوابوں کی سرزمیں کی طرح
تصوّرات کی پرچھائیاں اُبھرتی ہیں
کبھی گمان کی صوٗرت کبھی یقیں کی طرح

وہ پیڑ جن کے تلے ہم پناہ لیتے تھے
کھڑے ہیں آج بھی ساکت کسی امیں کی طرح
انھیں کے سائے میں پھر آج دو دھڑکتے دل
خموش ہونٹوں سے کچھ کہنے سننے آئے ہیں
نہ جانے کتنی کشاکش سے کتنی کاوش سے
یہ سوتے جاگتے لمحے چُرا کے لائے ہیں
تصوّرات کی پرچھائیاں اُبھرتی ہیں
وہ لمحے کتنے دِلکش تھے وہ گھڑیاں کتنی پیاری تھیں
وہ سہرے کتنے نازک تھے وہ لڑیاں کتنی پیاری تھیں
بستی کی ہر اک شاداب گلی خوابوں کا جزیرہ تھی گویا
ہر موجِ نفس ہر موجِ صبا، نغموں کا ذخیرہ تھی گویا
ناگاہ مہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدائیں آنے لگیں
بارود کی بوجھل بو لے کر پچھّم سے ہوائیں آنے لگیں
تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا
ہر گاؤں میں وحشت ناچ اٹھی،ہر شہر میں جنگل پھیل گیا
مغرب کے مہذّب ملکوں سے کچھ خاکی وردی پوش آئے
اِٹھلاتے ہوئے مغرور آئے لہراتے ہوئے مدہوش آئے
خاموش زمیں کے سینے میں خیموں کی طنا بیں گڑنے لگیں
مکّھن سی ملائم راہوں پر بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیں
فوجوں کے بھیانک بینڈتلے چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں
انسان کی قیمت گرنے لگی اجناس کے بھاؤ چڑھنے لگے
چوپال کی رونق گھٹنے لگی، بھرتی کے دفاتر بڑھنے لگے
بستی کے سجیلے شوخ جواں بن بن کے سپاہی جانے لگے
جس راہ سے کم ہی لوٹ سکے اس راہ پہ راہی جانے لگے
اِن جانے والے دستوں میں غیرت بھی گئی برنائی بھی
ماؤں کے جواں بیٹے بھی گئے بہنوں کے چہیتے بھائی بھی
بستی پہ اداسی چھانے لگی،میلوں کی بہاریں ختم ہوئیں
آموں کی لچکتی شاخوں سے جھوٗلوں کی قطاریں ختم ہوئیں
دُھوٗل اُڑنے لگی بازاروں میں بھوٗک اگنے لگی کھلیانوں میں
ہر چیز دکانوں سے اُٹھ کر روپوش ہوئی تہہ خانوں میں
بدحال گھروں کی بدحالی، بڑھتے بڑھتے جنجال بنی
مہنگائی بڑھ کر کال بنی، ساری بستی کنگال بنی
چرواہیاں رستہ بھول گئیں،پنہاریاں پنگھٹ چھوڑ گئیں
کتنی ہی کنواریں ابلائیں ماں باپ کی چوکھٹ چھوڑگئیں
افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بِکے کھلیان بِکے
جینے کی تمنّا کے ہاتھوں،جینے کے سب سامان بِکے
تصّورات کی پرچھائیاں اُبھرتی ہیں
تمہارے گھر میں قیامت کا شور برپا ہے
محاذِ جنگ سے ہرکارہ تار لایا ہے
کہ جس کا ذکر تمھیں زندگی سے پیارا تھا
وہ بھائی نرغۂ دشمن میں کام آیا ہے
تصوّرات کی پرچھائیاں اُبھرتی ہیں
ہر ایک گام پہ بدنامیوں کا جمگھٹ ہے
ہر ایک موڑ پر رسوائیوں کے میلے ہیں
نہ دوستی، نہ تکلّف، نہ دلبری، نہ خلوص
کسی کا کوئی نہیں آج سب اکیلے ہیں
تصوّرات کی پرچھائیاں اُبھرتی ہیں
سورج کے لہو میں لِتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
اس شام مجھے معلوم ہوا کھیتوں کی طرح اس دُنیا میں
سہمی ہوئی دوشیزاؤں کی مُسکان بھی بیچی جاتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا اس کار گہہ زرداری میں
دو بھولی بھالی روحوں کی پہچان بھی بیچی جاتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کھیتی چھِن جائے
ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بِکتی ہے
سنگین حقائق زاروں میں،خوابوں کی رِدائیں جلتی ہیں
اور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیں
پھر دو دل ملنے آئے ہیں
پھر موت کی آندھی اُٹھی ہے پھر جنگ کے بادل چھائے ہیں
میںسوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہو
ان کا بھی جنوں ناکام نہ ہو
ان کے بھی مقدّر میں لکھّی اک خون میں لتھڑی شام نہ ہو
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
بہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کا
کہ جب جوان ہوں بچّے تو قتل ہو جائیں
بہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کا
کہ دوٗر دوٗر کے ملکوں میں قحط بو جائیں
چلو کہ آج سبھی پائمال روحوں سے
کہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیں
ہمارا راز ہمارا نہیں، سبھی کا ہے
چلو کہ سارے زمانے کو رازداں کر لیں
چلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیں
کہ ہم کو جنگ و جَدل کے چَلن سے نفرت ہے
جسے لہو کے سوا کوئی رنگ نہ راس آئے
ہمیں حیات کے اس پیر ہن سے نفرت ہے
کہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیا
تو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گی
ہر ایک موجِ ہوا رُخ بدل کے جھپٹے گی
ہر ایک شاخ رگِ سنگ ہوتی جائے گی
اُٹھو کہ آج ہر اک جنگ جو سے یہ کہہ دیں
کہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہے
ہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیں
ہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہے
یہ سرزمین ہے گوتم کی اور نانک کی
اس ارضِ پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھی
ہمارا خون امانت ہے نسلِ نو کے لیے
ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھی
کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے
تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں
جنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سے
زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں
گذشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گذشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
تصوّرات کی پرچھائیاں اُبھرتی ہیں
(ساحرؔ لدھیانوی)
مشق
1۔ لفظ ومعنی:
مرمریں : سفید یا نیل گو چمکدار پتھر
امیں/امین : امانت دار
کشاکش : کھینچ تان
شاداب : ہرا بھرا،ترو تازہ
صبا : صبح کی ٹھنڈی ہوا
تخریب : خرابی ،بربادی
وحشت : دیوانگی
مدہوش : متوالا
طناب : خیمے کی رسّی
خراش : زخم کی ہلکی لکیر
اجناس : جنس کی جمع،چیزیں
سجیلے : بانکے ، خوش وضع
برنائی : جوانی
کھلیان : وہ جگہ جہاں اناج کا ڈھیر رکھا جائے
افلاس : مفلسی ،غریبی
دہقان : کاشت کار،کسان
نرغہ : بھیڑ،گھیرا
رسوائیاں : بدنامیاں
گام : قدم
دو شیزہ : کنواری لڑکی
ردا : چادر
خبط : پاگل پن
قحط : سوکھا
پائمال : پیروں تلے کچلے ہوئے
مقامر : جواری
جدل : لڑائی
حاجت : ضرورت
پیکر : شکل ،صورت
خاک : مٹّی
خاکداں : مرادی معنی دنیا
2۔ سوالات:
1. شاعر نے زمین کو کس کی مانند بتایا ہے؟
2. لمحوں کو چرا کر کون لایا ہے؟
3. شاعر نے جنگ بند کرنے کے لیے کن لوگوں کو مخاطب کیا ہے؟
4. شاعر نے اس زمین کو کس سے منسوب کیا ہے؟
5. شاعر کو کن چیزوں کے تباہ ہو جانے کا ڈر ہے؟
6. شاعر نے کن کن ادوار کا موازنہ کیا ہے؟
3۔ زبان و قواعد:
• نظم میں شاعر نے جن مختلف تشبیہات کا استعمال کیا ہے انھیں اپنی کاپی میں لکھیے۔
• نظم میں شاعر نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جن سے مشرق اور مغرب کی تہذیب کا موازنہ ہوتا ہے۔ان الفاظ کو مشرق اور مغرب کے ذیل میں لکھیے۔
4۔ غور کرنے کی بات:
• انسان ازل سے ہی جنگ اور امن کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ جنگ کے نقصانات سے ہم واقف ہیں۔حساس دانشوروں مفکروں ادیبوں شاعروں نے ہمیں جنگ کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا ہے۔ انسانیت کی بقا اور ترقی کے لیے امن ضروری ہے۔
• اس دنیا میں امن قائم کرنا سب کی ذمے داری ہے۔
• اس نظم کا مرکزی خیال انگریزوں کی آمد کے بعد ہندوستانی تہذیب کا آہستہ آہستہ مٹتے چلے جانا ہے یعنی آزاد قوم ہی اپنی تہذیب اور ثقافت کا تحفظ کر سکتی ہے۔
• غلام قوم اپنی تہذیب وثقافت کی حفاظت نہیں کر سکتی۔نظم پرچھائیاں، بظاہر ایک فنکار کے خیالات کی مظہر ہے لیکن یہ اجتماعی دکھ بن کر سامنے آتی ہے۔
5۔ عملی کام:
٭ نظم میں پیش کیے گئے خیالات کو اپنے الفاظ میں لکھیے۔