Skip to content
12-Tabiyaat-I(Physics)-008


باب ایک

برقی بار اورمیدان

(ELECTRIC CHARGES AND FIELDS)

1,1 تعارف (INTRODUCTION)

ہم سب ہی کو اس کا تجربہ ہے کہ ہم جب مصنوعی دھاگے سے سے بنے ہوئے کپڑے یا سوئیٹر ، خاص طورسے خشک موسم میں ، اتارتے ہیں تو ایک چمک دکھائی دیتی ہے یا کٹرک سنائی دیتی ہے۔ خواتین کے کپڑوں ، جیسے پولی سٹر ساری ، کے ساتھ تو ایسا ہونا تقریباً لازمی ہے۔ کیا آپ نے کبھی اس مظہر کی وضاحت معلوم کرنے کی کوشش کی ہے؟ برقی ڈسچارج کی ایک اور عام مثال ، آسمان میں ، طوفانوں کے دوران بجلی کا کڑکنا ہے ۔ ہمیں اپنی سیٹ (نشست) کو پیچھے دھکیل کر اٹھتے ہوئے کار کا دروازہ کھولتے وقت یا ایک بس میں لوہے کا ڈنڈا پکڑتے وقت بھی ایک برقی جھٹکے کے محسوس ہونے کا تجربہ بھی ہے۔ ان تجربات کی وجہ ہمار ے جسم سے برقی چارج کا ڈسچارج ہے جو ہم نے حاجز کی ہوئی سطحوں کو رگڑنے سے حاصل کیا تھا۔آپ نے شاید یہ بھی سنا ہوکہ ایسا ساکن برق (Static Electricity) کے پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ یہی وہ موضوع ہے، جس سے ہم اس باب میں اور اگلے باب میں ، بحث کرنے جارہے ہیں ۔ ساکن (Static) کا مطلب ہے کوئی بھی ایسی چیز جو وقت کے ساتھ حرکت نہ کررہی ہو یا تبدیل نہ ہورہی ہو ۔ برق سکونیات (Electrostatics) میں ہم ساکن چارجوں سے پیدا ہونے والی قوتوں ، میدانوں اور برقی مضمرکا مطالعہ کرتے ہیں۔

1.2 برقی بار (ELECTRIC CHARGE) 

تاریخی اعتبار سے یہ اعزاز ملیٹس (Miletus) (یونان) کے تھیلس (Thales)کو حاصل ہے جنہوں نے 600 ق۔م کے قریب دریافت کیا کہ آبنوس کی چھڑ کو اگر اون یا سلک سے رگڑا جائے تو وہ ہلکی اشیاء کو کشش کرتی ہے۔ نام الیکٹری سٹی (Electricity) بہ معنی بجلی (برق) یونانی لفظ Electron (الیکٹران) سے ماخوذ ہے ، جس کا مطلب ہے آبنوس (Amber)۔ مادی اشیاء کے ایسے کئی جوڑے معلوم ہوچکے تھے ، جنہیں اگر ایک دوسرے سے رگڑا جائے تو وہ ہلکی اشیاء ، جیسے کاغذ کی نلکیاں ، گودے کی گولی (Pith ball)اور کاغذ کے ٹکڑے وغیرہ ، کوکشش کرسکتی ہیں۔ آپ مندرجہ ذیل عمل اپنے گھر پر کرکے اس طرح کے اثر کا تجربہ کرسکتے ہیں: سفید کاغذ کی لمبی لمبی پتلی پٹیاں کاٹ لیں اور ان پر آہستہ سے استری کردیں ۔ انہیں ٹی ۔وی ۔ اسکرین یا کمپیوٹر مانیٹر کے پاس لے جائیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ پٹیاں اسکرین کی طرف کشش کرتی ہیں۔ بلکہ وہ کچھ دیر کے لئے اسکرین سے چپک جاتی ہیں۔
سلک کا دھا گہ                      سلک کا دھا گہ                         سلک کا دھا گہ
silk thread                     silk thread                         silk thread
شیشیے کی چھز                         شیشیے کی چھز                           شیشیے کی چھز   
Plastic road                  Glass road                         Glass road                    

1         3          4
پلاسٹک کی چھز                            پلاسٹک کی چھز                            پلاسٹک کی چھز
                                                 Glass road                              Plastic road             plastic road             
                                        (a)                                                              (b)                                   (c)                       
5
شکل 1.1 چھڑیں اور گودے کی گولیاں: یکساں برقی بار ایک دوسرے کا دفع کرتے ہیں اور غیر یکساں برقی بار ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں۔
یہ مشاہدہ کیا گیا کہ اگر دو شیشہ کی چھڑوں کو اون یا سلک کے کپڑے سے رگڑا جائے ، اور ایک دوسرے کے قریب لایا جائے ، تو وہ ایک دوسرے کو دفع کرتی ہیں ۔(شکل 1.1(a) )اون کے وہ دونوں ٹکڑے یا سلک کے وہ دونوں کپڑے ، جن سے چھڑوں کو رگڑا گیا تھا، اگر ایک دوسرے کے قریب لائے جائیں تو وہ بھی ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں ۔ جبکہ شیشے کی چھڑ اور اون کا ٹکرا ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر دو پلاسٹک کی چھڑوں کو بلی کی کھال سے رگڑا جائے تو وہ چھڑیں بھی ایک دوسرے کو دفع کرتی ہیں ]شکل 11.1(b) [، لیکن بلی کی کھال کوکشش کرتی ہیں۔ دوسری طرف پلاسٹک کی چھڑ، شیشے کی چھڑ کوکشش کرتی ہے ، ]شکل1.1(c) [  اور سلک یا اون کے اس ٹکڑے کو دفع کرتی ہے جس سے شیشے کی چھڑ کو رگڑا گیا تھا۔ شیشے کی چھڑ بلی کی کھال کو دفع کرتی ہے۔ 
اگر بلی کی کھال سے رگڑی ہوئی پلاسٹک کی چھڑ کو دو چھوٹی گودے کی گیندوں سے ، جنہیں سلک یا نائیلون کے دھاگے کی مدد سے لٹکا یا گیا ہو، چھوایا جائے تو گیندیں ایک دوسرے کو دفع کرتی ہیں (شکل (1.1(d) اور چھڑ سے بھی دفع ہوتی ہیں۔ یہی یکساں اثر جب بھی ہوتا ہے اگر گودے کی گیندوں کو سلک سے رگڑی گئی شیشے کی چھڑ سے چھوا جائے (شکل (1.1(e) ایک ڈرامائی مشاہدہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک گودے کی گیند کو پلاسٹک کی چھڑ سے چھوا جائے اور دوسری کوشیشے کی چھڑ سے۔ اب دونوں گیندیں ایک دوسرے کو کشش کرتی ہیں (شکل (1.1(f) ۔
یہ بہ ظاہر سادہ نظر آنے والے حقائق برسوں کی کوششوں ، احطیاط کے ساتھ کیے گئے تجربوں اور ان کے تجزیوں کے ذریعے حتمی شکل میں تسلیم ہوپائے ۔ مختلف سائنس دانوں کے گہرائی سے کیے گئے مطالعوں کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس مخصوص شے کی صرف دو قسمیں ہیں ، جسے برقی بار ]برقی چارج (Electric charge) [ کہا جاتا ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ شیشے یا پلاسٹک کی چھڑیں ، سلک ، بلی کی کھال اور گودے کی گیندیں جیسے اجسام برقیادیے گئے ہیں۔ وہ رگڑے جانے پر برقی چارج حاصل کرلیتے ہیں ۔ گودے کی گیندوں پر کیے گئے تجربات نے تجویز کیا کہ برقیانے کی دوقسمیں ہیں ، اور ہم پاتے ہیں کہ (i) یکساں چارج ایک دوسرے کا دفع کرتے ہیں (ii) غیر یکساں چارج ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں۔ تجربات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ چھوئے جانے پر ، برقی چارج ، چھڑوں سے گودے کی گیندوں میں منتقل ہوجاتا ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ تماس (Contact) کے ذریعے گودے کی گیندیں برقیا جاتی ہیں یا چارج شدہ ہوجاتی ہیں ۔ وہ خاصیت جو چارجوں کی دونوں قسموں میں فرق کرتی ہے ، چارج کی قطبیت (Polarity) کہلاتی ہے۔ 
جب شیشے کی چھڑ کو سلک سے رگڑا جاتا ہے ، تو چھڑ ایک قسم کا چارج حاصل کرتی ہے اور سلک دوسری قسم کا چارج حاصل کرتی ہے۔ یہ بات مادی اشیاء کے ہر اس جوڑے کے لیے درست ہے جو آپس میں رگڑے جانے پر برقیا جاتے ہیں۔ اب اگر برقیائی ہوئی  شیشے کی چھڑکو اس سلک کے ٹکڑے کے تماس میں لایا جائے ، جس سے چھڑ کو رگڑا گیا تھا تو اب وہ ایک دوسرے کو کشش نہیں کرتے۔ اب وہ دوسری ہلکی اشیاء کو دفع یا کشش بھی نہیں کرتے جیسا کہ وہ برقیائے جانے پر کررہے تھے۔اس لیے، رگڑ ے جانے سے حاصل ہوئے چارج ، چارج شدہ اجسام کو ایک دوسرے کے تماس میں لانے سے ضائع ہوجاتے ہیں ۔ آپ ان مشاہدات سے کیا نتائج اخذ کرسکتے ہیں ؟ یہ ہمیں صرف یہ بتاتے ہیں کہ اشیاء کے ذریعے حاصل کیے گئے غیر یکساں چارج ، ایک دوسرے کے اثرکی تعدیل (Neutralization) کردیتے ہیں یا ایک دوسرے کے اثر کو منسوخ (Nullify) کردیتے ہیں ۔ اس لیے امریکی سائنس دان بنجامن فر نکلن نے چارجوں کو مثبت چارج اور منفی چارج کے نام دیے ۔ ہم جانتے ہیں کہ جب ایک مثبت عدد میں اسی عددی قدر کا منفی عدد جمع کیا جاتا ہے تو حاصل جمع صفر ہوتا ہے ۔ چارجوں کو مثبت چارج اور منفی چارج کے نام دینے کے پیچھے یہی فلسفہ ہو سکتا ہے ۔ قرار دار کے مطابق (By Convention) شیشے کی چھڑ یا بلی کی کھال کے چارج کو مثبت اور پلاسٹک کی چھڑ یا سلک کے چارج کو منفی کہا جاتا ہے۔ اگر ایک شے پر برقی چارج ہوتا ہے، تو اسے برقیا یا ہوا یا چارج شدہ کہتے ہیں ۔ جب اس پر کوئی برقی چارج نہیں ہوتا تو اسے برقی اعتبار سے معادل یا بے برق (neutral) کہتے ہیں۔
ایک جسم پر چارج شناس کرنے کا ایک سادہ آلہ سونے کی پتی ۔ برق نما (Gold-leaf electroscope) ہے ]شکل [1.2(a) اس میں ایک راسی (Vertical) دھات کی چھڑ ہوتی ہے جو ایک بکس میں رکھی ہوتی ہے اور جس کے نچلے سرے پر دو پتلی سونے کی پتیاں لگی ہوتی ہیں۔ جب ایک چارج شدہ شے ، چھڑ کے اوپری سرے پر لگی ہوئی موٹھ (Knob) سے تماس میں لائی جاتی ہے، تو چارج پتیوں تک بہہ کر پہنچتا ہے اور پتیاں پھیل جاتی ہیں ۔ پتیوں کے پھیلنے کی مقدار (ڈگری ) چارج کی مقدار کی نشان دہی کرتی ہے ۔ 
طالب علم مندرجہ ذیل طریقے سے ایک سادہ برق نما تیار کرسکتے ہیں ]شکل [1,2(b) : پر وہ لٹکانے کی پتلی المونیم چھڑ لیں اس میں سے تقریباً 20cm لمبا ٹکڑا کاٹ لیں ۔ ایک سرے پر گیند لگادیں اور کاٹے گئے سرے کو چپٹا کردیں ۔ ایک بڑی بوتل لیں، جس میں یہ چھڑ رکھی جاسکے اور بوتل کے منہ میں ایک کارک لگادیں۔ کارک میں اتنا بڑا سوراخ کریں، جس میں سے یہ چھڑ گذربھر سکے۔ کارک کے سوارخ میں سے چھڑ کو بوتل کے اندر ڈال دیں، اس طرح کہ کٹا ہوا کنارہ بوتل کے اندر ہو اور گیند والا کنارہ کارک سے اوپر ہو۔ ایک چھوٹی پتلی المونیم کی پتی کو بیچ میں سے موڑیں (جس کی لمبائی تقریباً 6cm ہو) اور سیلولوس ٹیپ (cellulose tape) کی مدد سے اسے چھڑ کے چپٹے کیے گئے کنارے سے چپکا دیں۔ یہ آپ کے برق نما کی پتیاں ہیں۔ بوتل میں کارک اس طرح لگا ئیں کہ بال والے سرے کی تقریباً 5cm لمبائی کارک سے اوپر رہے۔ پتیوں کے پھیلنے کو ناپنے کے لیے ، بوتل کے اندر پہلے ہی ایک کاغذ کا اسکیل رکھ دیں ۔ پتیوں کا پھیلاؤبرق نما پر چارج کا ایک تخمینی ناپ ہے۔

برق اور مقنا طیسیت کو متحد کرنا 

(UNIFICATION OF ELECTRICITY AND MAGNETISM) 

پہلے برق اور مقناطیسیت کا الگ الگ مضامین کے بہ طور مطالعہ کیا جاتا تھا۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ برق میں ہم شیشے کی چھڑ بلی کی کھال ، بیٹری ، بجلی کے کٹر کنے وغیرہ میں برقی چارج کا مطالعہ کرتے ہیں، جبکہ مقناطیسیت میں ہم مقناطیس ، لوہے کا برادہ اور مقناطیسی سوئی وغیرہ کے آپسی عمل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ 1820 میں ڈنمارک کے سائنس داں اور سٹڈ (Oersted) نے معلوم کیا کہ اگر مقناطیسی سوئی کے نزدیک رکھے ہوئے تارمیں سے برقی رو (Electric cunent) گذاری جائے تو مقناطیسی سوئی منفرج (Deflect) ہوجاتی ہے ایمپیر (Ampere) اور فراڈے (Faraday) نے بھی اس مشاہدے کی تائید کی اور انہوں نے کہا کہ حرکت کرتے ہوئے برقی چارج مقناطیسی میدان پیدا کرتے ہیں اور متحرک مقناطیس برق پیدا کرتے ہیں ۔ برق اور مقناطیسیت میں مکمل اتحاد اس وقت قائم ہوسکا جب اسکاٹ طبیعیات داں میکسویل (Maxwell) اور ڈنمارک کے طبیعات داں لورنیٹز (Lorentz) نے ایک نظریہ پیش کیا جس میں ان دونوں مضامین کا باہم انحصار (Interdependence) دکھا یا گیا ۔ آس پاس رونما ہونے والے بہت سے مظاہر کو برق مقنا طیسیت(Electromagnetism) کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے۔ تقریباً ہر قوت جس کے بارے میں ہم سوچ سکتے ہیں، جیسے رگڑ (Firiction)،ایٹموں کے مابین کیمیائی قوت جو مادے کو ایک ساتھ باندھے رکھتی ہے،اور یہاں تک کہ وہ قوتیں بھی جو جانداروں کے سیل (Cell) میں ہونے والے عمل کو بیان کرتی ہیں، اس کا منبع برق مقنا طیسی قوت میں پایا جاتا ہے ۔ برق مقنا طیسی قوت ، قدرت کی بنیادی  قوتوں میں سے ایک قوت ہے۔
میکسویل نے 4 مساواتیں پیش کیں جو کلا سیکی برق مقناطیسیت میں وہی کردار ادا کرتی ہیں جو نیوٹن کے حرکت کے قوانین اور مادی کشش کا قانون میکانیات میں ادا کرتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی دلیل پیش کی کہ روشنی بھی اپنی طبع کے لحاظ سے برق مقناطیسی ہے اور روشنی کی رفتار خالص برقی اور مقناطیسی پیمائشوں کے ذریعے معلوم کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوریات (Optics) کی سائنس کا برق اور مقنا طیسیت کی سائنس سے قریبی رشتہ ہے۔ 
برق اور مقناطیسیت کی سائنس جدید تکنیکی تہذیب کی بنیاد ہے ۔ برقی پاور ، ٹیلی پیام رسانی (Tele communication) ریڈیو اور ٹیلی ویژن اور عام روزانہ زندگی میں استعمال ہونے والے آلات کی بہت سی قسمیں اسی سائنس کے اصولوں پر منحصر ہیں۔حالانکہ حرکت کے دوران بارشدہ ذرات برقی اور مقناطیسی دونوں قوتیں لگاتے ہیں، لیکن اس حوالہ فریم (Frame of reference) میں جس میں تمام چارج حالت سکون میں ہوں ، قوتیں ، خالص برقی ہوتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ مادی کشش کی قوت ایک لمبی سعت قوت (Long range force) ہے ۔ اس کا اثراس وقت بھی محسوس ہوتا ہے، جب تعامل پذیر ذرات (Interacting particles) کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہو، کیونکہ یہ قوت تعامل پذیر اجسام کے مابین فاصلے کے مربع کے مقلوب کے بہ طور تبدیل ہوتی ہے۔ ہم اس باب میں سیکھیں گے کہ برقی قوت بھی اتنی ہی سرایت کن (Pervasive) ہے اور مادی کشش قوت سے عددی قدر کے کئی درجہ گنا زیادہ قوی (Strong) ہے۔ (درجہ xI کی طبیعیات کی درسی کتاب کا باب 1 دیکھیں)۔


دھات کی چھز
Meteal knob 
دھات کی موٹھ Metal road

6
Glass                                 Gold leaves
سونے کی پتیاں                               window
(a)                                      شیشیے کی کھزکی
7


شکل 1.2 : برق نما : (a) سونے کی پتی ۔ برق نما (b) ایک سادہ بر نما کا خاکہ 
یہ سمجھنے کے لیے کہ برق نما کس طرح کام کرتا ہے سفید کاغذ کی ویسی ہی پتیاں استعمال کیجیے ، جیسی ہم نے چارج شدہ اجسام کی آپسی کشش کو دیکھنے کے لیے استعمال کی تھیں۔ پتیوں کو نصف موڑ لیجیے تاکہ آپ موڑنے کا نشان دیکھ سکیں ۔ پٹی کو کھول لیجیے اور اس کو پہاڑ کی شکل میں (جیسا کہ شکل 1.3 میں دکھا یا گیا ہے) موڑکر اس پر ہلکی سی استری کردیجیے پٹی کوموڑ پرسے چٹکی سے پکڑیے۔ آپ دیکھیں گے کہ پٹی کے دونوں حصے ایک دوسرے سے مخالف سمت میں حرکت کرتے ہیں ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ استری کیے جانے پر پٹی چارج حاصل کرلیتی ہے۔ جب آپ پٹی کو دو نصف حصوں میں موڑ تے ہیں ، تو دونوں حصوں پر یکساں چارج ہوتا ہے۔ اس لیے وہ ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں ۔ یہی اثر پٹی ۔برق نما میں بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ برق شدہ جسم سے گیندوالے سرے کو چھو کر پردہ لٹکانے کی چھڑ کو برقیانے پر ، چارج پردہ لٹکانے کی چھڑ میں منتقل ہوجاتا ہے اور چھڑ سے ، منسلک المونیم کی پٹی میں منتقل ہوجاتا ہے ۔ پٹی کے دونوں نصف حصے یکساں چارج حاصل کرتے ہیں، اس لیے ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں۔ پتیاں کتنی پھیلیں گی ، یہ اس پر منحصر ہے کہ ان پر چارج کی مقدار کتنی ہے۔ آئیے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ مادی اشیاء چارج کیوں حاصل کرلیتی ہیں۔
آپ جانتے ہیں کہ تمام مادہ ایٹموں یا / اور مالیکیولوں سے بناہوتاہے ۔ حالانکہ عام طورسے مادی اشیاء برقی طورپر معادل ہوتی ہیں گو کہ ان میں چارج ہوتے ہیں ، لیکن ان کے چارج قطعی طورپر توازن میں ہوتے ہیں۔ وہ قوتیں جو مالیکیولوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہیں،قوتیں جو ایک ٹھوس شے میں ایٹموں کو آپس میں باندھے رکھتی ہیں ، گوند کی الحاقی (Adhetive) قوتیں، سطحی تناؤ (Surface tension) سے منسلک قوتیں، سب طبع کے لحاظ سے بنیادی طورپر برقی قوتیں ہیں، جو چارج شدہ ذرات کے مابین قوتوں سے پیدا ہوتی ہیں ۔ اس لیے ،برقی قوت ہر جگہ موجود ہے اور یہ ہماری زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریباً ہر میدان کا احاطہ کرتی ہے۔ اس لیے یہ لازمی ہوجاتا ہے کہ ہم ایسی قوت کے بارے میں مزید سیکھیں۔

c-1
شکل 1.3: کاغذ کی پٹی کا تجربہ

ایک معادل جسم کو برقیانے کے لیے ، ہمیں ایک قسم کے چارج کو شامل کرنا ہوگا یہ ہٹانا ہوگا ۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ایک جسم کو چارج شدہ کردیا گیا ہے تو ہم ہمیشہ چارج کے اس اضافہ یا کمی کی بات کررہے ہوتے ہیں ۔ ٹھوس اشیاء میں ، کچھ الیکٹران ، کیونکہ وہ ایٹم میں مقابلتاً کم سختی سے بندھے ہوئے ہیں، وہ چارج میں جو ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ایک جسم کو اس لیے جب مثبت چارج کیا جاسکتا ہے اگر وہ اپنے کچھ الیکٹران ضائع کردے ۔ اسی طرح ایک جسم کو منفی چارج کیا جاسکتا ہے اگر وہ کچھ الیکٹران حاصل کرلے۔ جب ہم شیشے کی چھڑ کو سلک کے کپڑے سے رگڑتے ہیں تو چھڑ سے کچھ الیکٹران سلک کے کپڑے میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔اس لیے چھڑ مثبت چارج ہوجاتی ہے اور سلک منفی چارج ہوجاتی ہے ۔ رگڑنے کے عمل میں کوئی نیا چارج نہیں پیدا ہوتا ۔اور منتقل ہونے والے الیکٹرانوں کی تعداد ، مادی جسم کے کل الیکٹرانوں کی تعداد کی ایک بہت چھوٹی کسر (حصہ) ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ رگڑنے کے ذریعے ایک مادی جسم کے صرف کم سختی سے بندھے ہوئے الیکٹران ہی دوسرے مادی جسم میں منتقل ہوتے ہیں ۔ اس لیے جب ایک جسم کو دوسرے سے رگڑاجاتا ہے تو دونوں جسم چارج ہوجاتے ہیں ،او راسی لیے رگڑنے پر اجسام کے چارج ہونے کے لیے ہمیں مادی اشیاء کے کچھ خاص جوڑے ہی لینا ہوتے ہیں۔

1.3 موصل اور حاجز (Conductors and Insulators) 

ہاتھ میں لی ہوئی دھات کی چھڑ اگر اون سے رگڑی جائے تو اس میں چارج ہونے کی کوئی علامت نہیں ظاہر ہوتی ۔ لیکن اگر دھات کی چھڑ میں ایک پلاسٹک یا لکڑی کا دستہ لگا ہو اور اس دستے کو ہاتھ میں پکڑا جائے اور دھات کی چھڑ کے کسی حصے کو چھوئے بغیر چھڑ کو رگڑا جائے تو وہ چارج ہونے کی علامتیں ظاہر کرتی ہے ۔ فرض کیجیے کہ ہم ایک تانبہ کے تار کا ایک سرا معادل گودے کی گیند سے منسلک کردیں اور دوسرا سرا منفی چارج شدہ پلاسٹک کی چھڑ سے منسلک کردیں، تو ہم دیکھیں گے کہ گودے کی گیند پر منفی چارج آجاتا ہے۔ اگر اسی طرح کا تجربہ نائیلون کے دھاگے یا ایک ربر بینڈ کے ساتھ دہرایا جائے تو پلاسٹک کی چھڑ سے گودے کے گیند میں چارج کی کوئی منتقلی نہیں ہوگی ۔ اب چھڑ سے گیند میں چارج کی منتقلی کیوں نہیں ہوتی؟کچھ مادی اشیاء اپنے اندر سے برق کو بہ آسانی گذرنے دیتی ہیں اور کچھ ایسا نہیں کرتیں۔ وہ اشیاء جو اپنے اندر سے برق کو بہ آسانی گذرنے دیتی ہیں موصل کہلاتی ہیں۔ ان میں ایسے برقی چارج (الیکٹران) ہوتے ہیں جو مادی شے کے اندر حرکت کرنے کے لیے مقابلتاً آزاد ہوتے ہیں۔ دھاتیں، انسانوں اور جانوروں کے اجسام اور زمین موصل (Conductor) ہیں۔
زیادہ تر ادھاتیں جیسے گیسیں ، پروسلین (Procelain) ، پلاسٹک ، نائیلون، لکڑی وغیرہ اپنے میں سے برق کے گذرنے کی بہت زیادہ مزاحمت کرتی ہیں ۔ انہیں حاجز (Insulator) کہتے ہیں ۔ زیادہ تر اشیاء اوپر بیان کی گئی دونوں قسموں میں سے کسی ایک میں درجہ بند کی جاسکتی ہیں۔*

*ایک تیسرا درجہ بھی ہے جو نیم موصل کہلاتا ہے، جو چارجوں کی حرکت کی اتنی مزاحمت کرتا ہے جس کی قدر موصل اور حاجز کے ذریعہ کی گئی مزاحمت کے درمیان ہوتی ہے۔

جب ایک موصل کو کچھ چارج منتقل ہوتا ہے، تووہ فوراً ہی موصل کی پوری سطح پر تقسیم ہوجاتا (پھیل جاتا )ہے ۔ اس کے برخلاف ، اگر حاجز پر کچھ چارج رکھا جائے تو وہ اسی مقام پر رہتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ، یہ آپ اگلے باب میں سیکھیں گے۔  مادی اشیاء کی یہ خاصیت آپ کو بتاتی ہے کہ ایک نائیلون یا پلاسٹک کا کنگھا سوکھے بالوں میں پھیرنے یا رگڑنے سے کیوں چارج ہوجاتا ہے، لیکن ایک دھات کی شے جیسے چمچہ چارج نہیں ہوتا ۔ دھاتوں پر چارج ہمارے جسم کے ذریعہ زمین تک رس جاتے ہیں، کیونکہ دونوں برق کے موصل ہیں۔
جب ہم ایک چارج شدہ جسم کو زمین کے تماس (Contact) میں لاتے ہیں ، تو جسم کا سارا اضافی چارج ، ایک لمحاتی برقی رو پیدا کرتے ہوئے غائب ہوجاتا ہے ، کیونکہ وہ منسلکہ موصل (جیسے ہمارا جسم) سے گذرتے ہوئے زمین میں چلا جاتا ہے ۔ زمین کے ساتھ چارجوں کی حصہ داری کرنے کا یہ عمل زمین گیری (Grounding) یا ارض گیری (Earthing) کہلاتا ہے ۔
زمین گیری ، برقی سرکٹوں اور برقی آلات کے لیے ایک حفاظتی تدبیر فراہم کرتی ہے۔ ایک موٹی دھات کی پلیٹ کو زمین میں گہرائی پر دفن کردیا جاتا ہے اور اس پلیٹ سے موٹے تار منسلک کردیے جاتے ہیں۔ ان تاروں کو عمارتوں میں جہاں برق کی سپلائی کی جارہی ہوتی ہے ، اس کے نزدیک زمین گیری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ہمارے گھروں میں جو بجلی کی وائرنگ ہوتی ہے، اس میں تین تار ہوتے ہیں: زندہ، معادل اور زمین گیر ۔ پہلے پاور اسٹیشن سے برقی کرنٹ پہنچاتے ہیں اور تیسرے کو زمین میں دفن دھاتی پلیٹ سے منسلک کرکے زمین گیر کردیا جاتا ہے ۔ برقی آلات ، جیسے بجلی کی استری، ریفریجر یٹر ، ٹی وی وغیرہ ، کے دھاتی جسموں کو زمین گیر تار سے منسلک کردیا جاتا ہے ۔ جب کوئی خرابی ہوتی ہے یا زندہ تار دھاتی جسم کے تماس میں آجاتا ہے تو چارج زمین تک بہہ جاتا ہے اور آلے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور نہ ہی انسانوں کو کوئی چوٹ لگتی ہے۔ اس تار کے بغیر ایسا ہونا لازمی تھا، کیونکہ انسانی جسم ، برق کا موصل ہے۔

1.4 امالہ کے ذریعے برقیانا(CHARGING BY INDUCTION) 

ًْ جب ہم ایک گودے کی گیند کو چارج شدہ پلاسٹک کی چھڑ سے چھوتے ہیں ، تو چھڑ کے کچھ منفی چارج گودے کی گیند پر منتقل ہوجاتے ہیں ، اور گیند بھی چارج ہوجاتی ہے ۔ اس لیے گودے کی گیند تماس کے ذریعے چارج ہوتی ہے۔ یہ پھر پلاسٹک کی چھڑ کے ذریعے دفع ہوتی ہے لیکن شیشے کی چھڑ کے ذریعہ جوکہ مخالف چارج شدہ ہے، کشش ہوتی ہے، جس کا جواب ہم نے ابھی تک نہیں دیا ہے ۔ آئیے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ کیا ہورہا ہوگا؟
c-2
شکل1.4: امالہ کے ذریعے چارج کرنا۔

(i) دودھاتی کروں AاورB کو ، جوحاجز اسٹینڈوں پر رکھے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کے تماس میں لائیے جیسا کہ شکل 1.4(a) میں دکھایا گیا ہے۔
(ii) ایک مثبت چارج شدہ چھڑ کو کسی ایک کرہ فرض کیا A،کے قریب لائیے اور یہ احتیاط رکھیے کہ چھڑ کڑے کے تماس میں نہ آئے۔ کرہ کے آزادالیکٹران چھڑ کی طرف کشش ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کرہ B کے پچھلے حصے کی سطح پر مثبت چارج کی زیادتی ہوجاتی ہے۔ دونوں قسم (منفی اور مثبت ) کے چارج دھاتی کروں میں بندھے ہوئے ہیں اور ان  سے باہر نہیں جاسکتے ۔ اس لیے وہ سطحوں پر ہی رہتے ہیں ، جیساکہ شکل  1.4(b) میں دکھا یا گیا ہے ۔ کرہ A کی بائیں سطح میں منفی چارج کی زیادتی ہوتی ہے اور کرہ B کی دائیں سطح میں مثبت چارج کی زیادتی ہوتی ہے لیکن کروں کے سارے الیکٹران A کی بائیں سطح پر اکٹھے نہیں ہوجاتے۔ جیسے جیسے A کی بائیں سطح پر منفی چارج اکٹھا ہونا شروع ہوتا ہے، دوسرے الیکٹران ان اکٹھا ہوئے الیکٹرانوں سے دفع ہوجاتے ہیں۔ ایک مختصروقفہ وقت میں، چھڑ کی قوتِ کشش اور اکھٹا ہوئے چارجوں کی قوت دفع کے درمیان توازن قائم ہوجاتا ہے۔ شکل 1.4(b) میں توازن کی حالت دکھائی گئی ہے۔ یہ عمل چارجوں کا امالہ (Induction of charge) کہلاتا ہے اور تقریباً فوراً ہی پورا ہوجاتا ہے۔ اکٹھا ہوئے چارج سطح پر رہتے ہیں، جیساکہ دکھا یا گیا ہے، جب تک کہ شیشے کی چھڑ کو کرہ کے قریب رکھا جائے ۔ اگر چھڑ کوہٹا لیا جائے ، تو چارجوں پر کوئی باہری قوت نہیں لگتی اور وہ پھر اپنی معادل حالت میں دوبارہ تقسیم ہوجاتے ہیں۔
 (iii) کرہ A کے قریب چھڑ کو رکھتے ہوئے ، کروں کے درمیان تھوڑا سافاصلہ کردیجیے، جیساکہ شکل 1.4(c) میں دکھا یا گیا ہے، تو دونوں کروں پر مخالف چارج پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں۔
(iv) چھڑ کو ہٹا لیجیے ۔ کروں پر چارج اپنے آپ کو دوبارہ ترتیب دے لیتے ہیں ، جیساکہ شکل 1.4(d) میں دکھا یا گیا ہے ۔ اب کروں کے درمیان کافی فاصلہ کردیجیے توان پر چارج ہموارطریقے سے تقسیم ہوجاتے ہیں ، جیساکہ شکل 1.4(e) میں دکھا یا گیا ہے۔
جب برقیائی ہوئی چھڑیں ہلکی اشیاء کے قریب لائی جاتی ہیں، تو اسی طرح کا اثر پیدا ہوتا ہے۔ چھڑیں اشیاء کی اپنے سے قریب کی سطحوں پر مخالف چارج کا امالہ کرتی ہیں اور یکساں چارج شئے کی دو روالی سطح کی طرف حرکت کرجاتے ہیں۔ ایسا اس وقت بھی ہوجاتا ہے جبکہ ہلکی اشیاء خود موصل نہیں ہوتیں ] ایساکیسے ہوتا ہے ، اس کا میکانزم آگے حصہ 1.10 اور 2.10 میں سمجھا یا گیا ہے[۔ دونوں قسم کے چارجوں کے مراکز ایک دوسرے سے تھوڑے سے فاصلے پر ہوتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ مخالف چارج کشش کرتے ہیں اور یکساں چارج دفع کرتے ہیں لیکن ، قوت کی عددی قدر چارجوں کے درمیانی فاصلے کے تابع ہے، اور اس صورت میں قوت کشش ،قوت دفع کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ، ذرات جیسے کاغذ کے چھوٹے ٹکڑے یا گودے کی گیندیں چھڑ کی طرف کھنچ جاتی ہیں۔

مثال 1.1 : آپ ایک دھات کے کرہ کو ، بغیر چھوئے کیسے مثبت چارج کرسکتے ہیں؟ 
حل: شکل 1.5(a) میں ایک بغیر چارج کیا ہوا دھاتی کرہ ایک حاجز کیے ہوئے دھاتی اسٹینڈپر رکھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ ایک منفی چارج شدہ چھڑ دھاتی کرہ کے نزدیک لائیں ، جیسا کہ شکل 1.5(b) میں دکھا یا گیاہے ۔ جیسے ہی چھڑ کرہ کے نزدیک لائی جاتی ہے، کرہ کے آزاد الیکٹران دفع کی وجہ سے دوُر حرکت کرتے ہیں اور دوُر والے سرے پر اکٹھا ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ قریب والا سرا ، الیکٹرانوں کی کمی کی وجہ سے مثبت چارج شدہ ہوجاتا ہے۔ چارج کی تقسیم کا یہ عمل اس وقت رک جاتا ہے جب دھات کے اندر آزاد الیکٹرانوں پر لگ رہی کل قوت صفر ہوجاتی ہے۔ کرہ کو ایک موصل تارکے ذریعے زمین سے منسلک کردیجیے ۔ الیکٹران بہہ کر زمین میں چلے جائیں گے جبکہ قریب والے سرے کے مثبت چارج ، چھڑ کے منفی چارجوں کی کشش کی وجہ سے وہیں رکے رہیں گے ، جیساکہ شکل 1.5(c) میں دکھا یا گیا ہے ۔ کرہ کو زمین سے غیر منسلک کردیجیے ۔ مثبت چارج اب بھی قریب والے سرے پر رکا رہتا ہے ]شکل [1.5(d) ۔برقیائی ہوئی چھڑ کو ہٹا لیجیے ، مثبت چارج پورے کرہ پر ہموار طورپر پھیل جائے گا ، جیسا کہ شکل 1.5(e) میں دکھایا گیا ہے۔

c3
شکل 1.5 زمین Ground 

اس تجربہ میں ، دھاتی کرہ امالہ کے عمل کے ذریعے برقیاتا ہے اور چھڑ کا کوئی چارج ضائع نہیں ہوتا ۔
ایک دھاتی کرہ کو منفی چارج شدہ کرنے میں بھی یکساں اقدام شامل ہیں۔ اب ایک مثبت چارج شدہ چھڑاس کے قریب لانی ہوگی ۔ اس صورت میں ، جب کرہ کو ایک تار کے ذریعے زمین سے منسلک کیا جائے گا ، تو الیکٹران زمین سے کرہ تک بہیں گے ۔ کیا آپ وضاحت کرسکتے ہیں کیوں؟


1.5 برقی چارج کی بنیادی خاصیتیں  
(Basic Properties of Electric Charge) 
ہم جانتے ہیں کہ چارج دوقسم کے ہوتے ہیں ، جو ہیں مثبت اور منفی اور ان کے اثر ایک دوسرے کو منسوخ (Cancel) کرنے کی سمت میں ہوتے ہیں ۔ اب یہاں ہم، برقی چارج کی کچھ اور خاصیتیں بیان کریں گے۔

1.5.1 چارجو ں کی جمعیت (Additivity of charges) 

ابھی تک ہم نے چارج کی کوئی مقداری تعریف (Quantitative definition) نہیں کی ہے ، یہ ہم اگلے حصیّ میں کریں گے۔ ہم اس وقت مان لیتے ہیں کہ ایسا کرنا ممکن ہے اور آگے بڑھتے ہیں ۔ اگر ایک نظام دو نقطہ چارجوں q1اور q2پر مشتمل ہے ، تو نظام کا کل چارجq1اورq2 کو سادہ الجبرائی طریقے سے جوڑ کر حاصل کیا جاتا ہے ، یعنی کہ ، چارج ، حقیقی اعداد کی طرح جمع ہوتے ہیں یا وہ غیرسمتیہ (عددی Scalars  ) ہیں جیسے کمیت عددی ہے۔اگر ایک نظام میں nچارج :q1, q2, q3,...qn ہیں تو نظام کا کل چارج ہے (q1+ q2+  q3+ ... +qn)ارج کی عددی قدر ہوتی ہے لیکن کوئی سمت نہیں ہوتی ، ایسا ہی  کمیت کے لیے بھی ہوتا ہے لیکن کمیت اور چارج میں ایک فرق ہے۔ایک جسم کی کمیت ہمیشہ مثبت ہوتی ہے جبکہ چارج مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔ ایک نظام کے چارجوں کو جوڑتے وقت مناسب علامتوں کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ مثلاً ، ایک نظام کا کل چارج ، جس میں 5 چارج :5- ,3- ,2+,1+ ہیں (کسی بھی اختیاری اکائی میں ) ہوگا :1- = (5-) + (4+) + (3-) + (1+) (اسی اکائی میں)

 1.5.2 چارج کی بقا ہوتی ہے(Charge is Conserved) 

ہم پہلے ہی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ جب اجسام کو رگڑنے کے ذریعے برقیایا جاتا ہے تو الیکٹران ایک جسم سے دوسرے جسم پر منتقل ہوجاتے ہیں اور کوئی نئے چارج نہیں پیدا ہوتے۔ برقی چارجوں کو اگر ہم ذرات کی شکل میں تصور کریں تو چارج کی بقا کے تصور کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جب ہم دو اجسام کو رگڑتے ہیں تو ایک جسم چارج کی صورت میں جتنا حاصل کرتا ہے ،دوسرا جسم چارج کی صورت میں اتنا ہی کھوتا ہے۔ ایک منفرد (isolated) نظام کے اندر جوکئی چارج شدہ اجسام پر مشتمل ہو ، ان اجسام کے باہم عمل کے نتیجے میں چارج اپنے آپ کو دوبارہ تقسیم کرسکتے ہیں لیکن یہ معلوم ہوا ہے کہ منفرد نظام کے کل چارج کی ہمیشہ بقا ہوتی ہے ۔ چارج کی بقا تجربہ سے ثابت ہوتی ہے۔
ایک منفرد نظام کے کل چارج میں کوئی چارج تخلیق کرنا یا کسی چارج کو فنا کرنا ممکن نہیں ہے حالانکہ کسی عمل کے دوران چارج رکھنے والے ذرات تخلیق یا فنا ہوسکتے ہیں۔ کبھی کبھی قدرت چارج شدہ ذرات تخلیق کرتی ہے: ایک نیوٹران ایک پروٹان اور ایک الیکٹران میں بدل جاتا ہے۔ اس طرح تخلیق پائے پروٹان اور الیکٹران کے چارج مساوی اور مخالف ہوتے ہیں اور ان کے تخلیق ہونے سے پہلے اور تخلیق ہونے کے بعد بھی کل چارج صفر ہے۔

1.5.3 چارج کی کوانٹم سازی(Quantisation of charge)  

تجربہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام آزاد چارج ، ہمیشہ چارج کی ایک بنیادی اکائی کے صحیح ضعف (Integral  multiples)ہوتے ہیں جسے e سے ظاہر کیا جاتا ہے ۔ اس لیے کسی بھی جسم پر چارج ہمیشہ دیا جاتا ہے:q = ne
جہاں n ہمیشہ ایک صحیح عدد (Integer) ہے ۔ چارج کی بنیادی اکائی وہ چارج ہے جو ایک الیکٹران یا پروٹان پر ہوتا ہے۔ قرار داد کے مطابق ، الیکٹران کے چارج کو منفی مانا جاتاہے اور پروٹان کے چارج کو مثبت مانا جاتا ہے ۔ اس لیے الیکٹران کے چارج کو -e لکھا جاتا ہے اور پروٹان کے چارج کو+e لکھا جاتا ہے ۔ 
یہ حقیقت کہ برقی چارج ہمیشہ e کا صحیح ضعف ہوتا ہے ، چارج کی کو انٹم سازی کہلاتی ہے۔ طبیعیات میں ایسی کئی صورتیں سامنے آتی ہیں جہاں کچھ طبیعی مقداریں کو انٹم سازی شدہ ہوتی ہیں۔ چارج کی کوانٹم سازی سب سے پہلے انگریز ماہر تجربات فیراڈے کے برق پا شی (electrolysis) کے تجرباتی قوانین نے تجویز کی تھی ۔ 1912 میں ملیکن (Milican) نے اسی کا تجربہ کے ذریعے مظاہرہ کیا۔
اکائیوں کے بین الاقوامی نظام SI) نظام )میں چارج کی اکائی کو لمب کہلاتی ہے اور اسے علامت C سے ظاہر کرتے ہیں۔ ایک کو لمب کی تعریف برقی کرنٹ کی اکائی کی شکل میں کی جاتی ہے جس کے بارے میں آپ اگلے باب میں سیکھیں گے۔ اس تعریف کی شکل میں ایک کو لمب وہ چارج ہے جو ایک تار سے ایک سیکنڈ(Is) میں بہتا ہے جبکہ کرنٹ 1A (ایک ایمپیر) ہو۔ (درجہ xi کی طبیعیات کی درسی کتاب حصہ 1 کا باب 2 دیکھیں)اس نظام میں ،چارج کی بنیادی اکائی کی قدر ہے۔
e= 1.602192x 10-19 C
اس لیے ایک کو لمب کے چارج میں تقریباً 6x 1018 الیکٹران ہوتے ہیں ۔ بر ق سکونیات میں اتنی بڑی مقدار کے چارجوں سے ہمارا واسطہ بہت ہی کم پڑتا ہے، اس لیے ہم مقابلتاً چھوٹی اکائیاں:c-13(مائیکروکولمب )
=10-3
(ملی کو لمب ) Imc استعمال کرتے ہیں۔
اگر صرف پروٹان اور الیکٹران ہی کائنات کے چارجوں کی بنیادی اکائیاں ہیں ، تو مشاہدہ میں آنے ولے تمام چارجوں کو e کا صحیح ضعف ہوجا ناچاہیے ۔ اس لیے اگر ایک جسمn1 میں الیکٹران اورn2پروٹان ہوں تو جسم کا کل چارج ہوگا:
n2
اور
n1
کیونکہ
n2 x e+ n1 x (-e) = (n2 - n1) e
صحیح اعداد ہیں ان کا فرق بھی صحیح عدد ہوگا ۔ اس لیے کسی بھی جسم کا کل چارج ہمیشہ e کا صحیح ضعف ہوتا ہے اور اس میں اضافہ (یا کمی بھی) e کے اقدام میں ہی کیا جاسکتا ہے۔
لیکن e کا اقدامی ناپ بہت چھوٹا ہے، کیونکہ کلاں بینی سطح (Macroscopic level) پر ہم چندc-16کے درجہ کے چارجوں کو ہی برتتے ہیں۔ اس پیمانے پر یہ حقیقت کہ ایک جسم کا چارج e کی اکائیوں میں ہی کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے، سامنے نہیں آتی ۔ اسی تناظر میںچارج کی دانہ دار طبع(grainy naturc) کھوجاتی ہے اور یہ لگا تار معلوم ہوتا ہے۔
اس حالت کا مقابلہ نقاط اور خطوط کے جیومیٹریائی تصورات سے کیا جاسکتا ہے ۔ اگر ایک فاصلہ سے ہم ایک نقطہ دار خط کو دیکھیں تو وہ ہمیں لگاتار معلوم ہوتا ہے ، حالانکہ وہ حقیقت میں لگاتار نہیں ہے جیسے اگر کئی ایسے نقاط جو ایک دوسرے سے بہت نزدیک ہوں ، لیے جائیں تو وہ لگاتار ہونے کا تاثر دیتے ہیں ، اسی طرح بہت سے چھوٹے چارجوں کو اگر ایک ساتھ رکھا جائے تو وہ بھی لگاتار چارج تقسیم معلوم ہوتے ہیں۔

کلاں بینی سطح پر ہم ایسے چارجوں کو برتتے ہیں جو eکی عددی قدر کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ ہیں۔ کیونکہ
e= 1.6 x 10-19C
اس لیے ایک چارج ، جس کی عددی قدر ، فرض کیا c-18 ہے ، اس میں بھی الیکٹرانی چارج کا تقریباً c-19گنا چارج ہوگا ۔ اس پیمانے پر یہ حقیقت کہ چارج صرف e کی اکائی میں ہی کم یا زیادہ ہوسکتا ہے، یہ کہنے سے بہت مختلف نہیں ہے کہ چارج لگاتار قدریں حاصل کرسکتا ہے ۔ اس لیے کلاں بینی سطح پر چارجوں کی کوانٹم سازی کی کوئی عملی اہمیت نہیں ہے اور اسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ لیکن خوردبینی سطح پر جس میں شامل چارج e کی کچھ دہائیوں یا سینکڑوں کے درجے کے ہوتے ہیں یعنی کہ ، انہیں گنا جاسکتا ہے،یہ مجرد ڈھیروں (Discrete lump) کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور چارج کی کوانٹم سازی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔ کون سی عدد ی قدر کا پیمانہ (کلاں بینی یا خورد بینی ) شامل ہے یہ بہت اہم ہے ۔ 
مثال 1.2: اگر ہر سیکنڈ میں 109 الیکٹران ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتے ہیں تو دوسرے جسم پر 1C چارج کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟
حل: ایک سیکنڈ میں 109 الیکٹران جسم سے باہر حرکت کرتے ہیں اس لیے ایک سیکنڈ میں دیے جانے والا چارج ہے
1.6x10-9 x109 C = 1.6x10-10 C
اس لیے 1C کا چارج اکٹھا ہونے میں لگنے والے وقت کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے:
سال 198= سال
(1C­÷ (1.6x10-10C/s)=6.25x109s=6.25109÷(365x24x300
اس لیے ایک ایسے جسم میں جس سے 109 ایکلٹران ہر سیکنڈ میں خارج ہو رہے ہوں، 1C کا چارج اکٹھا کرنے کے لیے ہمیں تقریباً 200 سال چاہیے ہوں گے۔ اس لیے بہت سی عملی صورتوں کے لیے ایک کولمب بہت بڑی اکائی ہے۔
مثال 1.3: پانی کی ایک پیالی میں کتنا مثبت چارج اور کتنا منفی چارج ہوتا ہے۔
حل: مان لیجیے ایک پیالی پانی کی کمیت 250g ہے۔ پانی کی مالیکیولیائئ کمیت 18g ہے۔ اس لیے پانی کا ایک مول (مالیکول
=6.02x1023)
18g رکھا ہے۔ اس لیے ایک پیالی میں پانی کے مالیکیولوں کی تعداد ہے
(250/18) x6.02x1023
پانی کے ہر مالیکیول میں 2 ہائیڈروجن کے ایٹم اور ایک آکسیجن کا ایٹم ہے یعنی کہ 10 الیکٹران اور 10 پروٹان ہوتے ہیں۔ اس لیے مثبت چارج اور کل منفی چارج کی عددی قدر یکساں ہے۔ یہ مساوی ہے:
(250/18) x6.02x 1023 x 10x 1.6x 10-19 C = 1.34x 107 C


1.6 کو لمب کا قانون (COULOMB'S LAW) 

کولمب کا قانون دو نقطہ چارجوں کے درمیان قوت کا مقداری بیان ہے ۔ جب چارج شدہ اجسام کے خطی سائز ، ان کے درمیا ن فاصلے سے بہت کم ہوتے ہیں ، تو سائز کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور چارج شدہ اجسام کو نقطہ چارج کے بہ طور برتا جاسکتا ہے۔کو لمب نے دونقطہ چارجوں کے درمیان قوت ناپی اور معلوم کیا کہ یہ قوت چارجوں کے درمیان فاصلے کے مربع کے مقلوب کے بہ طور تبدیل ہوتی ہے اور دونوں چارجوں کی عددی قدر کے حاصل ضرب کے راست متناسب ہے اور دونوں چارجوں کو ملانے والے خط کی سمت میں لگتی ہے۔ اس لیے اگر دونقطہ چارجوں q1اورq2 کے درمیان فاصلہ r ہے اور وہ خلاء میں رکھے ہوئے ہیں تو ان کے درمیان قوت (F) کی عددی قدردی جاتی ہے:
c-21
c-28

چارلس آگسٹن ڈی کولمب 

(Charles Augustin de Coulomb) (1736 – 1806) 

 کولمب ، ایک فرانسیسی سائنس داں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ویسٹ انڈیز میںبہ طور فوجی انجنیئرکیا۔ 1776 میں وہ پیر س لوٹے اور ایک چھوٹے سے صوبے میں اپنی سائنسی تحقیق کرنے کی غرض سے سکونت پذیر ہوگئے ۔ انہو نے قوت کی مقدار کی پیمائش کرنے کے لیے ایک مروڑ ترازو ایجاد کی اور اسے چھوٹے چارج شدہ کرّوں کے درمیان کام کررہی دفعائی اور کششی برقی قوتوں کے ناپنے کے لیے استعمال کیا۔ اس طرح وہ 1785 میں مقلوب مربع قانون (Inverse square law) رشتے تک پہنچے ، جوکولمب کا قانون کہلاتا ہے۔ اس قانون کی پرسٹلے (Priestly) اور اس سے پہلے کیونڈش (Cavendish) نے بھی پیش بینی کی تھی ، حالانکہ کیونڈش نے اپنے نتائج کو شائع نہیں کیا ۔ کولمب نے غیر یکساں اور یکساں مقناطیسی قطبوں کے درمیان بھی قوت کا مقلوب مربع قانون معلوم کیا۔ 

کو لمب اپنے تجربات کے ذریعے اس قانون تک کیسے پہنچا ؟ کو لمب نے ایک *مروڑ ترازو (Torsion balance) استعمال کرتے ہوئے دو چارج شدہ دھاتی کروں کے درمیان کام کررہی قوت ناپی ۔ جب دونوں کروں کا درمیانی فاصلہ ان کے نصف قطر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو تو چارج شدہ کروں کو نقطہ چارج مانا جاسکتا ہے۔ لیکن شروعات میں ، کروں کے چارج معلوم نہیں تھے۔ پھر اس نے (1.1) جیسا رشتہ کیسے دریافت کرلیا ؟ کو لمب نے مندرجہ ذیل سادہ طریقہ سوچا ۔ فرض کیجیے کہ دھاتی کرہ پر چارج qہے۔ اگر کرہ کو ایک متماثل (Identical) کرہ کے ساتھ تماس میں رکھا جائے تو چارج دونوں کروں پر پھیل جائے گا ۔ تشاکل (Symmetry) کے ذریعے ، ہرایک کرہ پر چارج q/2 ہوگا ۔ اسی عمل کودہراتے ہوئے ہم  چارج q/4, q/2 وغیرہ حاصل کرسکتے ہیں۔ کولمب نے چارجوں کے ایک متعین جوڑے کے لیے فاصلہ تبدیل کیا اور مختلف فاصلوں کے لیے قوت ناپی ۔اس نے پھر چارجوں کے جوڑے تبدیل کیے اور ہر جوڑے کے لیے فاصلہ متعین رکھا ۔ چارجوں کے مختلف جوڑوں کی مختلف فاصلوں پر قوتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے کولمب رشتہ، مساوات (1.1)، تک پہنچا۔
شروع میں کولمب کے قانون ایک سادہ ریاضیاتی بیان ، تک تجربہ کے ذریعے، جیساکہ اوپر بیان کیا گیا ہے، پہنچا گیا ۔ جب کہ ابتدائی تجربات نے اسے کلاں بینی سطح پر ثابت کیا تھا، اب اسے تحت ایٹمی سطح
(r~ 10-10m (Subatomatic level 
تک ثابت کیا جاچکا ہے۔
کولمب نے اپنا قانون ،چارج کی واضح مقدار جانے بغیر دریافت کیا۔ دراصل ، یہ مخالف طرح سے ہے: اب کولمب کا قانون چارج کی اکائی معلوم  کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رشتہ مساوات (1.1) میں kابھی تک اختیاری (arbitrary) ہے۔ہم K کی کوئی بھی مثبت قدر منتخب کرسکتے ہیں k کا انتخاب ، چارج کی اکائی کا سائز طے کرتا ہے ۔ SI اکائی میں۔ k کی قدر تقریباً
9x109 Nm2/C2
ہے ۔ چارج کی وہ اکائی جو k کی اس قدر سے حاصل ہوتی ہے ایک کولمب کہلاتی ہے جس کی تعریف ہم پہلے ہی حصہّ 1.4 میں دے چکے ہیں۔ 
مساوات (1.1) میںK کی یہ قدر رکھنے پر ، ہم دیکھتے ہیں کہ:
r= 1 m, q1 =q2 = 1C
کے لیے: 
F = 9x109 N

یعنی کہ1C،وہ چارج ہے جسے اگر یکساں عددی قدر کے چارج سے Im کے فاصلے پر خلاء میں رکھا جائے تو اس پر
  9x 109 N
برقی قوت لگتی ہے ۔ ایک کولمب استعمال کرنے کے لیے بہت بڑی اکائی ہے۔ برق سکونیات میں ،عملی طورپر چھوٹی اکائیاں ImC یا
1µC 
استعمال ہوتی ہیں۔ 

c-31
شکل (a)1.6 جیومیٹری (b) چارجوں کے درمیان قوتیں

مساوات (1.1) میں k کو آئندہ سہولت کے لیے K= 1/4π ε0 رکھا جاتا ہے
اس طرح کولمب کے قانون کو لکھا جاتا ہے: 
8
  ε0 خلا کی برقی سرایت پذیری (Permittivity of Free space) کہلاتی ہے۔ ε0 کی SI اکائی میں قدر ہے:
ε0= 8.854x 10-12 C2 N-1m-2
کیونکہ قوت ایک سمتیہ ہے، اس لیے کولمب کے قانون کو سمتیہ علامت کے ساتھ لکھنا بہتر ہے فرض کیجیے کہ چارج q1 اور چارج q2 کے مقام سمتیے بالترتیب R اور Screenshot 2022-11-25 at 2.21.19 PM ہیں۔ (دیکھیے شکل (a) 1.6) ہم q1 پر q2 کی وجہ سے لگ رہی قوت کو Screenshot 2022-11-25 at 2.32.41 PM سے اور q2 پر q1 کی وجہ سے لگ رہی قوت کو Screenshot 2022-11-25 at 2.32.59 PM سے ظاہر کرتے ہیں۔ سہولت کے لیے دونوں نقطے چارجوں q1 اور q2 کو عدد 1 اور 2 دیے گئے ہیں اور 1 سے 2 کی سمت میں سمتیہ Screenshot 2022-11-25 at 2.38.51 PM سسے ظاہر کیا گیا ہے:
r21 = r2 -r1
اسی طرح 2 سے 1 کی سمت والے سمتیہ کو r12 سے ظاہر کیا گیا ہے:
r12 = r1 -r2 =r21
سمتیوں r21 اور r12 کی عددی قدریں، بالترتیب، r21 اور r12 سے ظاہر کی جا تی ہیں
r21= r12 ایک سمتیہ کی سمت، سمتیہ پر ایک اکائی سمتیہ کے ذریعے معین کی جاتی ہے۔ 1 سے 2 کی سمت ظاہر کرنے کے لیے (یا 2 سے 1 کی) ہم اکائی سمتیے معرف کرتے ہیں:
Screenshot 2022-11-25 at 3.03.11 PM
اب دو چار جوں q1اورq1.جو مقام r1اور r2پر ہین، (بالترتیب) کے درمیان کولمب کے درمیان کولمب کا قوت کا قانون ظاہر کیا جا تا ہے
3۔1                                    9

مساوات (1.3) پر کچھ ریمارک حسب موقعہ ہیں:
مساوات (1.3) c-4 اور c5 کی کسی بھی علامت کے لیے درست ہے چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔ اگر c-4 اور c5 کی علامتیں یکساں ہیں (دونوں مثبت ہیں یا دونوں منفی ہیں) توc-4،c5 کی سمت میں ہے جو دفع کو ظاہر کرتی ہے، جیساکہ یکساں چارجوں کے لیے ہونا چاہئے۔ اگر c-4اورc5کی علامتیں مخالف ہیں، c-34کی سمت میں ہے جو کشش کو ظاہر کرتی ہے جیسی کہ غیر یکساں چارجوں کے لیے امیدکی جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں یکساں اور غیر یکساں چارجوں کے لیے الگ الگ مساواتیں لکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مساوات (1.3) دونوں صورتوں کا درست طورپر احاطہ کرتی ہے ] شکل [1.6(b)] ۔
چارج  c-4 پر چارجc5 کی وجہ سے لگ رہی قوتc-35 مساوات (1.3) میں صرف 1 اور 2کو آپس میں بدل کر حاصل ہوجاتی ہے: 
c-36


اس طرح ، کولمب کاقانون ، نیوٹن کے تیسرے قانون سے مطابقت رکھتا ہے۔کولمب کا قانون (مساوات (1.3 دوچارجوںc-4اورc5کے درمیان خلاء میں ، قوت دیتا ہے۔ اگر چارجوں کو مادے میں رکھا جائے یا ان کی درمیانی جگہ میں مادہ ہو تو مادہ کے چارج شدہ اجزاء کی موجودگی کی وجہ سے صورت پیچیدہ ہوجاتی ہے ۔ ہم مادے میں برق سکونیات کا مطالعہ اگلے باب میں کریں گے۔
مثال 1.4: دو نقطہ چارجوں کے درمیان برق سکونی قوت کے لیے کولمب کا قانون اور دو حالت سکون میں نقطہ کمیتوں کے لیے مادی کشش قوت کے لیے نیوٹن کے قانون، دونوں میں، چارجوں اور کمیتوں کے درمیان فاصلے پر مقلوب۔ مربع، بالترتیب انحصار ہے۔ (a) ان دونوں کی عددی قدر کی نسبت کی تحسیب کر کے ان قوتوں کی طاقت کا مقابلہ کیجیے: (i) ایک الیکٹران اور ایک پروٹان کے لیے (ii) دو پروٹانوں کے لیے (b) جب الیکٹران اور پروٹان ایک دوسرے سے
1 Å (= 10-10m)
کی دوری پر ہوں تو ان کی آپسی کشش کی برقی قوت کی وجہ سے الیکٹران اور پروٹان کے اسراع کے تخمینے لگائیے:
حل؛ (a) درمیان؛ فاصلہ r کے لیے الیکٹران اور پروٹان کے مابین برقی قوت ہے'
وScreenshot 2022-11-25 at 4.31.20 PM
جہاں منفی علامت ظاہر کرتی ہیں کہ قوت کششی ہے۔ اس سے مطابقت رکھنے والی مادی کشش قوت (ہمیشہ کششی) ہے:
Screenshot 2022-11-25 at 4.35.33 PM
جہاں mp اور me بالترتیب، پروٹان اور الیکٹران کمیتیں ہیں:
Screenshot 2022-11-25 at 4.35.45 PM
(ii) انہیں خطوط پر درمیانی فاصلہ r لیےدوپروٹانوں کے درمیان برقی قوت کی عددی قدر کی مادی کشش کی قوت کی عددی قدر سے نسبت ہے۔
Screenshot 2022-11-26 at 10.08.18 AM
لیکن یہاں یہ نشاندہی کی جا سکتی ہے کہ دونوں قوتوں کی علامتیں مختلف ہیں۔ دو پروٹانوں کے لیے، اپنی طبع کے لحاظ سے مادی کشش قوت کششی ہے اور برقی قوت دفاعی ہے۔ ایک نیوکلیس کے اندر دو پروٹانوں کے درمیان ان قوتوں کی قدریں (ایک نیوکلیس کے اندر دو پروٹانوں کے درمیان فاصلہ
  ~ 10-15
ہے)
F e ~230 N جبکہ F G ~1.9x 10 -34
دونوں قوتوں کی نسبت (غیر ابعادی) ظاہر کرتی ہے کہ برقی قوتیں مادی کشش کی قوتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ قوی ہیں۔
(b) ایک پروٹان کے ذریعے الیکٹران پر لگائی گئی برقی قوت F ، عددی قدر میں، ایک الیکٹران کے ذریعے پروٹان پر لگائی گئی قوت کے یکساں ہے، لیکن الیکٹران اور پروٹان کی کمیتیں مختلف ہیں اس لیے قوت کی عددی قدر ہے:
Screenshot 2022-11-26 at 11.14.48 AM
نیوٹن کا حرکت کا دوسرا قانون F= ma استعمال کرتے ہوئے، اسراع جو الیکٹران میں پیدا ہوگا:
Screenshot 2022-11-26 at 11.18.13 AM
اس کا مقابلہ زمینی کشش اسراع کی قدر سے کرنے پر ہم نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ الیکٹران کی حرکت پر مادی کشش میدان کا اثر قابل نظر اندازی ہے اور الیکٹران ایک پروٹان کے ذریعے لگائی گئی کولمب قوت کے زیر اثر بہت زیادہ اسراع پذیر ہوتا ہے۔
پروٹان کے اسراع کے لیے قدر ہے:
Screenshot 2022-11-26 at 11.25.51 AM
مثال 1.5: ایک چارج شدہ دھاتی کرے A کو ایک نائیلون کے دھاگے کے ذریعے لٹکایا گیا۔ ایک دوسرے چارج شدہ دھاتی کرے B کو ایک حاجز دستے سے پکڑ کر A کے قریب لایا گیا، اس طرح کہ دونوں کے مراکز کے درمیان 10cm فاصلہ ہے، جیسا کہ شکل 1.7 (b)  دکھایا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں A میں پیدا ہونے والا دفع نوٹ کر لیا گیا (مثلاً روشنی کی ایک شعاع ڈال کر، ایک پردہ سیمیں پر اس کے سایہ کے انفراج کی پیمائش کر کے) 
Screenshot 2022-11-26 at 11.43.22 AM
کروں A اور B کو بالترتیب، غیر چارج شدہ کروں C اور D کے ساتھ چھوا گیا، جیسا کہ شکل 1.7 (b) میں دکھایا گیا ہے۔ C اور D کو پھر ہٹا لیا گیا اور B اور A کو اتنا نزدیک لایا گیا کہ دونوں کے مراکز کے درمیان فاصلہ 5.0cm ہو جائے، جیسا کہ شکل 1.7 (c) میں دکھایا گیا ہے۔ کولمب کے قانون کی بنیاد پر A میں کس دفع کی امید کی جاتی ہے؟ کروں A اور C اور کروں B اور D کے سائز متماثل ہیں۔ A اور B کے مراکز کے درمیان دوری کے مقابلے میں A اور  B کے سائز نظر انداز کر دیجیے۔
شکل 1.7
حل: فرض کیجیے کرہ A پر چارج q اور کرہ B پر چارج 'q ہے ان کے مراکز کے درمیان فاصلہ جب r  ہے تو ہر ایک پر برق سکونی قوت کی عددی قدر دی جاتی ہے:
Screenshot 2022-11-26 at 12.00.38 PM
جہاں A اور B کے سائزوں کو r کے مقابلے میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جب ایک متماثل لیکن غیر چارج شدہ کرہ C کرہ A کو چھوتا ہے، تو چارج A اور C پر دوبارہ تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اور تشاکل کے ذریعے ہر کرہ پر چارج Screenshot 2022-11-26 at 12.11.53 PM ہوتا ہے۔ اسی طرح جب B'D کو چھوتا ہے، تو دوبارہ تقسیم کے بعد ہر ایک پر چارج Screenshot 2022-11-26 at 12.14.31 PM ہوتا ہے اب جب A اور B کے درمیانی فاصلے کو نصف کر دیا جاتا ہے تو ہر ایک پر برق سکونی قوت کی مقدار ہے:
11
اس لیے B پر A کی وجہ سے لگنے والی برق سکونی قوت تبدیل نہیں ہوتی۔

1.7 کثیر چارجوں کے درمیان قوتیں

 (FORCES BETWEEN MULTIPLE CHARGES) 

دوچارجوں کے مابین باہمی برقی قوت کولمب کے قانون کے ذریعے دی جاتی ہے۔ ایک چارج پر لگ رہی قوت کی تحسیب کیسے کریں گے جب اس کے اردگرد ایک نہیں بلکہ کئی چارج ہوں ؟ خلاء میں n ساکن چارجوں
q1, q2, q3, ..., qn
 کا ایک نظام تصور کریں۔
q2, q3, q4...q5 
کی وجہ سے q1  پر کیا قوت ہے؟ صرف کولمب کاقانون اس سوال کاجواب حاصل کرنے کیلئے کافی نہیں ہے۔ یادکریں کہ میکانیکی قوتوں کو جمع کے متوازی الاضلاع قانون کے تحت جوڑا جاتا ہے ۔ کیا یہی برق سکونی قوتوں کے لیے بھی درست ہے؟ 
c-45
شکل 1.8: (a)تین چارجوں کا ایک نظام (b)کثیر چارجوں کا ایک نظام 

تجربہ کے ذریعے یہ ثابت ہوا ہے کہ کسی بھی چارج پر دوسرے کئی چارجوں کی وجہ سے لگنے والی قوت اس چارج پر دوسرے تمام چارجوں کی وجہ سے لگنے والی قوتوں کا سمتیہ حاصل جمع ہوتا ہے، جب کہ ایک وقت میں ایک چارج لیا جائے۔ انفرادی قوتیں دوسرے چارجوں کی موجودگی سے متاثر نہیں ہوتیں۔ اسے اصولِ انطباق (Principleof Superposition) کہتے ہیں۔ 
اس تصور کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، تین چارجوں: q2, q1 اور q3 کا ایک نظام لیجیے، جیسا کہ شکل 1.8(a)میں دکھایا گیا ہے۔ اس لیے چارج، فرض کیا q1 پر باقی دونوں چارجوں q2 اور q3 کی وجہ سے لگنے والی قوت، ان میں سے ہر ایک کے ذریعہ q1 پر لگ رہی قوت کے سمتیہ حاصلِ جمع کو نکال کر معلوم کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اگر q پر q2 کی وجہ سے لگنے والی قوت کوc-47سے ظاہر کیا جائے توc-47(1.3)کے ذریعے دی جائے گی، حالانکہ دوسرے چارج موجود ہیں۔ اس لیے، 
12
اسی طرح، q3 کی وجہ سے q1 پر لگ رہی قوت f13 کے ذریعے ظاہر کی جائے گی اور یہ دی جائے گی:
13
جو کہ پھر q1 پر q3 کی وجہ سے لگنے والی کولمب قوت ہے، حالانکہ دوسرا چارج q2 موجود ہے۔ اس لیے، q1 پر دونوں چارجوں q2 اور q3 کی وجہ سے لگنے والی قوت F1 دی جاتی ہے:
(1.4) 15
اوپر دی ہوئی قوت کی تحسیب کو تین سے زیادہ چارجوں کے لیے بھی عمومی بنایا جا سکتا ہے، جیسا کہ شکل 1.8 (b) میں دکھایا گیا ہے۔
اصول انطباق بتاتا ہے کہ چارجوں: q1, q2, ....qn کے ایک نظام میں q1 پر q2 کی وجہ سے لگنے والی قوت، کولمب کے قانون کے ذریعے دی گئی قوت کے یکساں ہے۔ یہ دوسرے چارجوں: q3, q4, .... qn کی موجودگی سے متاثر نہیں ہوتی۔ باقی عام چارجوں کی وجہ سے q1 پر لگنے والی کل قوت پھر قوتوںF12.F13.F1n کے سمینہ حاصلِ جمع کے ذریعے دی جاتی ہے۔ یعنی کہ:
16

سمتیہ حاصلِ جمع، پہلے کی طرح ہی سمتیوں کے حاصل جمع معلوم کرنے کے متوازی الاضلاع قانون کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے۔ تمام برق سکونیات بنیادی طور پر کولمب کے قانون اور اصولِ انطباق کا نتیجہ ہے۔
مثال 1.6: ایک ضلع کے مساوی الاضلاع مثلث کی راسوں پر رکھے ہوئے تین چارج q2, q1 اور q3 تصور

17
شکل 9۔1
کیجیے، جن میں سے ہر ایک کا چارج q ہے۔ ایک چارج Q پر کیا قوت ہوگی ( جس کی علامت q کی علامت کے یکساں ہے)، جو مثلث کے وسطانی مرکز (centroid) پر رکھا ہوا ہو، جیسا کہ شکل 1.9 میں دکھایا گیا ہے؟
حل: ضلع l کے، دیے ہوئے، مساوی الاوضاع مثلث میں ہم ضلع BC پر ایک عمود AD کھینچتے ہیں۔
AD = AC cos 30° = 18
اور سسطانی مرکز O کا A سے فاصلہ AO ہے:
19
تشکل کے ذریعے: AO= BO= CO
اس لیے،
(AO کی سمت میں)20پر رکھے ہوئے چارج q کی وجہ سے Q پر قوت
(BO کی سمت میں)21 =B=F2پر رکھے ہوئے چارج q کی وجہ سے Q پر قوت
(CO کی سمت میں)22=C=F3 پر رکھے ہوئے چارج q کی وجہ سے Q پر قوت
متوازی الاضلاع قانون کے ذریعے،F2 اورF3 کا ماحصل ہے۔23  (OA کی سمت میں) اس لیے Q پر کل قوت ہے: (r-r)=0 24جہاں ، OA کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے۔
یہ تشاکل بھی واضح ہوتا ہے کہ تینوں قوتوں کی ماحصل صفر ہوگا۔ فرض کیجیے کہ ماحصل صفر نہیں ہے اور کسی سمت میں اس کی قدر غیر صفر ہے۔ سوچیے، کیا ہوگا اگر نظام کو، O کے گرد، °60 کے زاویہ سے گھما دیا جائے؟
مثال 1.7: جیسا کہ شکل 1.10 میں دکھایا گیا ہے، ایک مساوی الاضلاع مثلث کی راسوں پر رکھے ہوئے تین چارج q,q اور q- لیجیے۔ ہر چارج پر کیا قوت ہے؟
25
حل: A پر رکھے چارج q پر B پر رکھے چارج q اور C پر رکھے چارج q- کی وجہ سے لگنے والی بالترتیبBA، F12 کی سمت میں اورF13، AC کی سمت میں ہیں۔ متوازی الاضلاع قانون کے ذریعے، A پر رکھے چارج q پر لگ رہی قوت F دی جاتی ہے۔ F1=Fr1
جہاں r1،  BC کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے۔ چارجوں کے ہر جوڑے کے لیے کشش یا دفاع کی قوت کی عددی قدر یکساں ہے۔ جو ہے: 26
اس لیے B پر رکھے چارج q پر کل قوت:F2=Fr2 جہاںAC، r2 کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے۔
اسی طرح، C پر رکھے چارج q- پر کل قوت ہے:27=F3جہاں BCA,N>کے ناصف کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے۔
یہ نوٹ کرنا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ تینوں چارجوں پر لگ رہی قوتوں کا حاصلِ جمع صفر ہے۔ یعنی کہ:
F1+F2+F3=0
یہ نتیجہ بالکل بھی تعجب خیز نہیں ہے۔ یہ اس حقیقت سے براہ راست اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کولمب کا قانون، نیوٹن کے تیسرے قانون کے ساتھ ہم (consistent) ہے۔ اس کا ثبوت آپ بہ طور مشق خود حاصل کریں۔



1.8برقی میدان (ELECTRIC FIELD)

آیئے، ایک نقطہ برقی چارج Qلیتے ہیں، جو خلاء میں’ مبداO‘پر رکھا ہو اہے۔ اگر ہم ایک دوسرا نقطہ برقی چارجq،نقطہ pپر رکھیں، اس طرح کہ c-53تو چارج Q، کو لمب کے قانون کے مطابق، چارجq پر ایک قوت لگائے گا۔ ہمارے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے: اگر چارج q کو ہٹالیا جائے تو نقطہ pکے ارد گرد کیا رہ جائے گا؟ کیا وہاں کچھ نہیں ہوگا ؟ اگر نقطہ Pپر کچھ نہیں ہے تو جب ہم نقطہ Pپر چارج qرکھتے ہیں تو اس پر قوت کیے لگتی ہے؟ ایسے سوالوں کے جواب دینے کے لیے، قدیم سائنس دانوں نے ’’میدان‘‘(Field)کا تصور پیش کیا۔ اس کے مطابق، ہم کہتے ہیں کہ چارج Qاپنے اردگرد ماحول میں ہر جگہ ایک برقی میدان (Electric field) پیدا کرتا ہے۔ 
c-54
شکل 1.11ـ: برقی میدان (a)ایک چارج +Qکی وجہ سے (b)ایک چارج -Qکی وجہ سے 

جب کوئی دوسرا چارج کسی نقطہ Pپر لایا جاتا ہے تو وہاں کا برقی میدان اس پر عمل کرتا ہے اور ایک قوت پیدا کرتا ہے۔ چارجQکے ذریعے نقطہ c-56پر پیدا کیاگیابرقی میدان دیا جاتا ہے:
c-55
جہاںc-57 مبدے سے نقطہc-56،تک اکائی سمتیہ ہے۔ لہذا، مساوات(1.6)مقام سمتیہc-56کی ہر قدر کے لیے برقی میدان کی قدر معین کرتی ہے۔ 
لفظ ’’میدان‘‘یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک تقسیم شدہ مقدار (جو عددی بھی ہو سکتی ہے اور سمتیہ بھی )مقام کے ساتھ کیسے تبدیل ہوتی ہے۔ برقی میدان کی موجودگی میں چارج کے اثر کو شامل کر لیاگیا ہے۔ ہم چارج qپر چارج Qکے ذریعے لگائی گئی قوت، حاصل کر سکتے ہیں:
c-58
نوٹ کریں کہ چارج qبھی چارج Qپر ایک مساوی اور مخالف قوت لگاتا ہے۔ چارج Qاور چارج qکے مابین برقی سکونی قوت کو چارج qاور چارج Qکے برقی میدان کے مابین باہم عمل کے بہ طور سمجھا جا سکتا ہے اور اس کے بر خلاف بھی۔ اگرہم چارج qکے مقام کو سمتیہc-56سے ظاہر کرتے ہیں ، تو اس پر ایک قوتfلگتی ہے جو چارج qاور qکے مقام پر برقی میدان Eکے حاصلِ ضرب کے مساوی ہے۔ لہذا:
c-59

مساوات (1.8) سے برقی میدان کی SIاکائی کی تعریف بہ طور N/C*کی جاسکتی ہے۔ 
یہاں کچھ اہم ریمارک کیے جا سکتے ہیں: 
(i) ہم مساوات (1.8)سے اخذ کر سکتے ہیں کہ اگر qاکائی چارج ہو، تو چارجQکے ذریعے پیدا ہونے والا برقی میدان عددی طور پر اس کے ذریعے لگائی گئی قوت کے مساوی ہوگا۔ لہذا، فضا میں ایک نقطہ پر، چارجQ کی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدان کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہ وہ قوت ہے جو ایک اکائی مثبت چارج پر لگے گی اگر اسے اس نقطہ پر رکھا جائے۔ چارجQ، جو برقی میدان پیدا کر رہا ہے، ایک وسیلہ چارج (Source Charge)کہلاتا ہے اور چارجq، جو وسیلہ چارج کے اثر کی جانچ کرتا ہے، ایک جانچ چارج (ٹیسٹ چارج) کہلاتا ہے۔ نوٹ کریں کہ وسیلہ چارجQ کو اپنے ابتدائی مقام پر ہی رہنا چاہیے۔ لیکن جب ایک چارج q، Qکے ارد گرد کسی بھی نقطے پر لایا جائے گا، تو Qپر بھی ، qکی وجہ سے ایک برقی قوت لگنا لازمی ہے اور اس لیے Qاپنے ابتدائی مقام سے حرکت کرنے کی طرف مائل ہوگا۔ اس دشواری پر قابو پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ qکو ناقابل لحاظ حد تک چھوٹا (کم ؍ مختصر) رکھا جائے۔ اس صورت میں قوت F، ناقابلِ لحاظ حد تک ، کم ہوگی لیکن نسبت c-60کی قدر متناہی (Finite)ہوگی اور برقی میدان کی تعریف کی جا سکتی ہے:
c-61
اس مسئلہ (qکی موجود گی میں Qکے مقام میں کوئی دخل اندازی نہ ہو)کو حل کرنے کا ایک عملی طریقہ یہ ہے کہ Qکو اپنے مقام پر غیر معین قوتوں کے ذریعہ قائم رکھا جائے۔ بہ ظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن عملی طور پر یہی ہوتا ہے۔ جب ہم ایک چارج شدہ مسطح چادر (Charged planar sheet)کے ذریعے ایک ٹیسٹ چارجqپر لگنے والی برقی قوت Fمعلوم کرتے ہیں (حصہ1.15)تو چادر کی اوپری سطح کے چارج ، چادر کے اندر کے چارجوں کی غیر معین قوتوں کی وجہ سے اپنے مقام پر قائم رہتے ہیں۔ 

(ii)   نوٹ کریں کہ Qکی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدان Eکو حالانکہ ایک ٹیسٹ چارجqکی شکل میں معروف کیا گیا ہے'E' qکے تابع نہیں ہے۔ ایسا اس لیے ہے، کیونکہf، qکے متناسب ہے، اس لیے نسبتc-62،qکے تابع نہیں ہے۔ چارج qپر ، چارج Qکی وجہ سے لگنے والی قوت f، چارج qکے مخصوص مقام کے تابع ہے ، جس مقام کی قدر، Qکے ارد گرد کی فضا میں کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے Qکی وجہ سے برقی میدانEفضا کو آرڈی نیٹc-56کے بھی تابع ہے۔ پوری فضا میں چارج qکے مختلف مقامات پر، برقی میدان Eکی ہمیں مختلف قدریں حاصل ہوں گی۔ برقی میدان سہ ابعادی فضا کے ہر نقطہ پر موجود ہوگا۔
(iii)  ایک منتبت چارج کے لیے ،برقی میدان کی سمت ، چارج سے باہر کی طرف نصف قطری سمت میں ہوگی۔ اس کے برخلاف اگر وسیلہ چارج منفی ہے، تو ہر نقطہ پر برقی میدان سمتیہ نصف قطری سمت میں اندر کی جانب ہوگا۔
(iv) کیونکہ چارجQکی وجہ سے چارجqپر لگنے والی قوتfکی عددی قدر ، صرف چارج qکے چارج Qسے فاصلے rکے تابع ہے، اس لیے برقی میدانEکی عددی قدر بھی صرف فاصلہ rکے تابع ہوگی۔ اس لیے چارجQسے مساوی فاصلوں پر ، اس کے برقی میدان کی عددی قدر یکساں ہوگی۔ اس لیے اگر ایک کرہ کے مرکز پر ایک نقطہ چارج qرکھا ہو، تو کرّے کی سطح پر اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدان کی عددی قدر، سطح کے ہر نقطہ پر یکساں ہوگی۔ دوسرے لفظوں میںکرّی تشاکل (Spherical Symmetry)پایا جائے گا۔ 

1.8.1چارجوں کے ایک نظام کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان

 (Electric Field due to a System of Charges)
q1.q2....qnچارجوں کا ایک نظام تصور کریں ،جن کے مقام سمتیے، ایک مبدا Oکے لحاظ سے ، بالترتیب،r1.r2.......rnہیں ۔ جیسے فضا میں کسی نقطے پر ایک واحد چارج کے ذریعے پیدا ہونے والے برقی میدان کی تعریف کی جا تی ہے، اسی طرح فضا میں کسی نقطے پر ایک چارجوں کے نظام کے ذریعے پیدا ہونے والے برقی میدان کی تعریف ہے کہ یہ وہ قوت ہے جو اس اکائی ٹیسٹ چارج پر لگے گی، جسے اس مقام پر اس طرح رکھا جائے کہ چارجوںq1.q2....qn کے ابتدائی مقامات پر کوئی اثرنہ پڑے۔ ہم کولمب کے قانون او رانطباق کے اصول (Superposition Principle)کو استعمال کر کے ایک نقطہ Pپر، جسے مقام سمتیہc-56 سے ظاہر کیا جا سکتا ہو، یہ برقی میدان معلوم کرسکتے ہیں۔ 
Rپر رکھے چارجq1کی وجہ سےپر برr1قی میدانE دیا جاتا ہے:
28
جہاںq1rn سے P کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے q2، r2p اور P کے درمیان فاصلہ ہے۔
اسی طرح،r2پر رکھے چارجq2 کی وجہ سےrپر برقی میدان E2 ہے
29
جہاں: q2,r2pسےp کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے اورq2,r2pکے درمیان فاصلہ ہے
چاجوں q3,q4...qn کی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدانوںE.E4...Enکے لیے بھی ان جیسی ریاضیاتی عبارتیں حاصل ہو ں گی،
انطباق کے اصول کے ذریعے، چارجوں کے نظام کی وجہ سے r پر برقی میدان ہے (جیسا کہ شکل 1.2 میں دکھایا گیا ہے):
E (r) = E1 (r)+ E2 (r) +....+En (r)
30

Eایک سمتیہ مقدار ہے، جس کی قدر فضامیں ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ پر تبدیل ہوتی رہتی ہے اور یہ وسیلہ چارجوں کے مقامات سے معلوم کی جاتی ہے۔ 

1.8.2 برقی میدان کی طبعی اہمیت(Physical Significance of electric field)

آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ ’’برقی میدان‘‘کا تصور یہاں آخر کیوں پیش کیا گیا ہے؟ چارجوں کے کسی بھی نظام کے لیے، قابلِ پیمائش مقدار، بہرحال ، ایک چارج پر لگنے والی قوت ہے، جسے کولمب کے قانون اور انطباق کے اصول کو استعمال کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ]مساوات (1.5)[ پھر یہ ایک درمیانی مقدار ، جسے برقی میدان کہتے ہیں ، کیوں شامل کی گئی ہے۔ 
برق سکونیات (electrostatics)میں برقی میدان کا تصور سہولیت تو فراہم کرتا ہے لیکن در اصل ضروری نہیں ہے۔ برقی میدان ، چارجوں کے نظام کے برقی ماحول کی خاصیتیں بیان کرنے کا ایک عمدہ اسلوب ہے۔ ایک چارجوں کے نظام کے ارد گرد کی فضا میں ایک نقطے پر برقی میدان ہمیں یہ بتا تا ہے کہ اگر اس نقطے پر ایک اکائی مثبت ٹیسٹ چارج رکھا جائے(اس طور پر کہ نظام میں کوئی خلل نہ پڑے) تو اس چارج پر کتنی قوت لگے گی۔ برقی میدان، چارجوں کے نظام کی خاصیت ہے او راس ٹیسٹ چارج کے تابع نہیں ہے جو آپ اس نقطے پر میدان معلوم کرنے کے لیے رکھتے ہیں۔ طبیعات میں اصطلاح’’میدان‘‘اس مقدار کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو فضا میں ہر نقطے پر معرف ہوتی ہے اور ایک نقطے سے دوسرے نقطے پر تبدیل ہوسکتی ہے۔ 
برقی میدان کے تصور کی اصل اہمیت تب واضح ہوتی ہے ، جب ہم برق سکونیات سے آگے بڑھتے ہیں او روقت کے تابع ، برق۔ مقناطیسی مظاہرکی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کیجیے ہم دو چارجوں ، c-4اورc5کے درمیان برقی قوت معلوم کرنا چاہتے ہیں، جب کہ دونوں چارج ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر ہیں اور اسراع پذیرحرکت کر رہے ہیں۔ اب وہ زیادہ سے زیادہ رفتار، جس سے ایک سگنل (Signal)یا اطلاع، ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک پہنچ سکتی ہے، Cروشنی کی رفتار ہے۔ اس لیے qکے حرکت کرنے کا کوئی اثر qپر فوری (لمحاتیinstantaneous)نہیں ہو سکتا۔ اثر   (c5پر قوت)اور سبب (qکا حرکت کرنا)کے مابین کچھ نہ کچھ وقفہ وقت ضرور ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں برقی میدان (زیادہ درست طور پر برق-مقناطیسی میدان) کا تصور ایک قدرتی اور کاآمد تصور ہے۔ میدان کاتصور یہ تصویر پیش کرتا ہے: چارج qکی اسراع پذیر حرکت برق۔ مقناطیسی لہریں پیدا کرتی ہے۔ جو پھر چال cسے اشعاع ہوتی ہیں اور c5تک پہنچتی ہیں اور پھر c5پر قوت لگاتی ہیں۔ میدان کا تصور اس درمیانی وقفہ وقت کی خوبصورتی کے ساتھ وضاحت کرتا ہے۔ لہذا، حالانکہ برقی اور مقناطیسی میدانوں کی شناخت صرف ان کے چارجوں پر اثرات (قوتوں)کے ذریعے کی جا سکتی ہے، پھر بھی انھیں صرف ایک ریاضیاتی عبارت (Mathematical Construct)نہیں سمجھا جاتا بلکہ طبعی ہستی مانا جاتا ہے۔ ان کی اپنی ایک جداگانہ حرکیات(independent dynamics) ہوتی ہے، یعنی کہ ان کے اپنے ارتقائی قوانین ہوتے ہیں۔ یہ توانائی کا نقل وحمل (Transport)بھی کرسکتے ہیں۔ اس لیے ایک تابعِ وقت برق۔ مقناطیسی میدانوں کے وسیلے کو اگر مختصر وقفہ اوقات کے لیے فعال کر کے ہٹالیا جائے، تو وہ اپنے پیچھے توانائی کا حمل کرتے ہوئے برق۔ مقناطیسی میدانوں کا اشعاع چھوڑ جا تا ہے۔ میدان کا تصور سب سے پہلے فیراڈے نے پیش کیا اور یہ اب طبیعات کے مرکزی تصورات میں شامل ہے۔

مثال 1.8: ایک الیکٹران، 2.0x104 N C-1 عددی قدر کے یکساں برقی میدان میں 1.5 سینٹی میٹر کے فاصلے کے نیچے گرتا ہے (شکل 1.13 (a))۔ میدان کی سمت مخالف کر دی جاتی ہے اور عددی قدر غیر تبدیل شدہ رکھی جاتی ہے اور ایک پروٹان بھی اسی فاصلے سے گرتا ہے (شکل 1.13 (b))۔ دونوں صورتوں میں ذرہ کے گرنے سے لگنے والے وقت کی تحسیب کیجیے۔ اس صورت کا موازنہ "مادی کشش کے تحت آزادانہ گرنے کی صورت" سے کیجیے۔

31
شکل 13۔1

حل: شکل 1.3 (a) میں میدان اوپر کی جانب ہے، اس لیے منفی چارج شدہ الیکٹران پر عددی قدر eE کی ایک قوت، نیچے کی جانب لگتی ہے، جہاں E برقی میدان کی عددی قدر ہے۔ الیکٹران کا اسراع ہے 32=aeجہاں me الیکٹران کی کمیت ہے)۔

حالتِ سکون سے حرکت کرنا شروع کرتے ہوئے، الیکٹران کے ذریعے، h فاصلہ سے نیچے گرنے میں لگا وقت، دیا جاتا ہے: 33

E= 2.0x104 NC -1, h = 1.5 x 10-2 m

e = 1.6x10-19C, me = 9.11x10-31 kg

te = 2.9x10-9s

شکل 1.3 (a) میں میدان، نیچے کی جانب ہے اور مثبت چارج شدہ پروٹان پر، عددی قدر eE کی ایک قوت نیچے کی جانب لگتی ہے۔ پروٹان کا اسراع ہے:34=ap

جہاں mp پروٹان کی کمیت ہے) mp = 1.67x10-27

پروٹان کو نیچے گرنے میں لگنے والا وقت ہے:35

لہٰذا، مقابلتاً بھاری ذرہ (پروٹان) اسی فاصلے سے گرنے میں مقابلتاً زیادہ وقت لیتا ہے۔ یہ "مادی کشش کے زیر اثر آزادانہ گرنے کی صورت" سے بنیادی تضاد ہے، جہاں گرنے میں لگنے والا وقت جسم کی کمیت سے غیر تابع ہے۔ نوٹ کریں کہ اس مثال میں ہم نے مادی کشش اسراع کو، گرنے میں لگنے والے وقت کی تحسیب میں نظر انداز کر دیا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے ایسا کرنے میں ہم کہاں تک حق بجانب ہیں، آئیے دیے ہوئے برقی میدان میں پروٹان کے اسراع کا حساب لگائیں:

36

جو g کی قدر

 (9.8 m s-2)

کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اسی برقی میدان میں الیکٹران کا اسراع اور بھی زیادہ ہوگا۔ اس لیے اس مثال میں مادی کشش اسراع کا اثر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

مثال 1.9: دو نقطہ چارج q1 اور q2 جن کی عددی قدریں بالترتیب

 +10-8

اور

-10-8C

ہیں، ایک دوسرے سے 1m کے فاصلے پر رکھے ہیں۔ شکل  1.14 میں دکھائے گئے نقاط B، A اور C پر برقی میدانوں کا حساب لگائیے۔

37

حل: مثبت چارج q کی وجہ سے A پر، برقی میدان سمتیہE1A دائیں جانب ہے اور اس کی عددی قدر ہے

3.6+104NC-1=38

منفی چارج q2 کی وجہ سے A پر، برقی میدان سمتیہ E2A دائیں جانب ہے اور اس کی عددی قدر بھی یکساں ہے۔ اس لیے A پر کل، برقی میدان کی عددی قدر EA ہے:

EB = E1B + E2B = 3.2x104NC-1

اور EA کی سمت دائیں جانب ہے۔
مثبت چارج q1 کی وجہ سے B پر، برقی میدان سمتیہ 48 بائیں جانب ہے اور اس کی عددی قدر ہے
3.6X104 N C-139
منفی چارج q2 کی وجہ سے، B پر برقی میدان سمتیہE2B دائیں جانب ہے اور اس کی عددی قدر ہے:
4X103 N C-1=
B پر کل برقی میدان کی عددی قدر ہے:
EB = E1B - E2B = 3.2x104NC-1
EB کی سمت بائیں جانب ہے۔
چارج q1 اور q2 کی وجہ سے C پر پیدا ہونے والے برقی میدانوں میں سے ہر ایک کی عددی قدر ہے:
9X 103NC-1 40
یہ سمتیہ کس سمت کی جانب ہیں، اس کی نشاندہی شکل 1.4 میں کی گئی ہے۔ ان دونوں سمتیوں کا (resultant) ہے:
41
Ecکی سمت دائیں جانب ہے۔

1.9برقی میدان خطوط (ELICTRIC FIELD LINES)

ہم نے پچھلے حصے میں برقی میدان کا مطالعہ کیا۔ یہ ایک سمتیہ مقدار ہے اور اسے اسی طرح ظاہر کیا جا سکتا ہے، جیسے ہم ایک سمتی مقدار کو ظاہر کرتے ہیں۔ آئیے ایک نقطہ چارج کی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدان Eکو تصویری شکل میں ظاہر کریں۔ فرض کیجیے کہ نقطہ چارج مبدا پر رکھاہوا ہے۔ برقی میدان کی سمت میں نشاندہی کرنے والے سمتیے، مبدا سے کھینچے، اس طرح کہ سمتیوں کی لمبائی، ہر نقطہ پر برقی میدان کی طاقت(Strength) کے متناسب ہو۔ کیونکہ ایک نقطہ پر برقی میدان کی عددی قدر اس نقطہ کے چارج سے فاصلے کے مربع کے مقلوب کے بہ طور کم ہوتی جاتی ہے، اس لیے ہم جیسے جیسے مبدے سے دورجاتے جائیں گے، سمتیوں کی لمبائی کم ہوتی جائے گی، لیکن ان کی سمت، نصف قطری، باہر کی جانب ہوگی۔ شکل 1.15میں ایسی تصویر دکھائی گئی ہے۔ اس شکل میں ہر تیر کانشان ، برقی میدان کی نشاندہی کرتا ہے، یعنی کہ ایک مثبت اکائی چارج پر ، جو تیر کی دم پر رکھاہے، لگ رہی قوت کو دکھاتا ہے۔ ایک سمت کی نشاندہی کرنے والے تیروں کو آپس میں ملائیے۔ اس طرح حاصل ہونے ولی شکل ایک میدان خط (Field Line)کو ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح ہمیں بہت سے میدانی خطوط حاصل ہوتے ہیں، جو سب نقطہ چارج سے باہر کی سمت کی جانب ہیں۔ کیا اب ہم نے میدان کی طاقت یا عددی قدر کے بارے میں حاصل ہوئی معلومات ضائع کردی ہے، کیونکہ یہ معلومات، تیر کے نشان کی لمبائی میں شامل تھی؟ نہیں۔ اب برقی میدان کی عددی قدر میدان خطوط کی کثافت سے ظاہر ہوتی ہے۔E‘ چارج کے نزدیک زیادہ طاقت ور (Shng)ہوگا، اس لیے چارج کے نزدیک میدانی خطوط کی کثافت زیادہ ہوگی اور خطوط ایک دوسرے کے زیادہ نزدیک ہوں گے۔ چارج سے دور، میدان کمزور ہو جاتا ہے اور میدانی خطوط کی کثافت کم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں خطوط ایک دوسرے سے واضح طور پر الگ الگ ہو جاتے ہیں۔
c-73
شکل 1.15 : ایک نقطہ چارج کا میدان 

ایک دوسرا شخص مقابلتاً زیادہ خطوط کھینچ سکتا ہے۔ لیکن خطوط کی تعداد اہم نہیں ہے۔ در اصل، ایک دیے ہوئے علاقے میں لا تعداد خطوط کھینچے جا سکتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں خطوط کی اضافی کثافت (Relative density)اہمیت رکھتی ہے۔ 
ہم شکل تو مسطح کاغذ پر یعنی کہ دو ابعاد میں کھینچتے ہیں، جب کہ ہم سہ البعادی دنیا میں رہتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی کومیدانی خطوط کی کثافت کا تخمینہ لگانا ہے، تو اسے، خطوط کے عمودی فی تراشی رقبہ (cross-sectional area)میں خطوط کی تعداد معلوم کرنا ہوگی۔ کیونکہ برقی میدان کی قدر، ایک نقطہ چارج سے فاصلے کے مربع کے مطابق کم ہوتی ہے اور ایک چارج کو گھیر نے والا رقبہ اس فاصلے کے مربع کے ساتھ بڑھتا ہے، گھیرنے والے رقبے میں سے گذرنے والے خطوط کی تعداد مستقلہ رہتی ہے، چاہے چارج سے اس رقبے کا کوئی بھی فاصلہ ہو۔ 
ہم نے شروعات میں یہ کہاتھا کہ میدانی خطوط ، فضا میں مختلف نقاط پر برقی میدان کی سمت کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ میدانی خطوط کا ایک سیٹ کھینچ لینے کے بعد ، مختلف نقاط پر میدانی خطوط کی اضافی کثافت (یعنی کہ ان کی نزدیکی)، ان نقاط پر برقی میدان کی اضافی طاقت کی نشاندہی کرتی ہے۔ جہاں میدان طاقت ور ہوتا ہے، وہاں میدانی خطوط اکٹھے ہوجاتے ہیں اور جہاں میدان کمزور ہوتا ہے وہاں میدانی خطوط دور دور ہو جاتے ہیں۔ شکل 1.16 میں میدانی خطوط کا ایک سیٹ دکھایا گیا ہے۔ ہم دو مساوی اور مختصر رقبہ جز(elements of area) تصور کر سکتے ہیں جو نقاط Rاور Sپر ہیں اور وہاں پر میدانی خطوط پر عمودہیں۔ ہماری اس تصویر میں رقبہ جز کو قطع کرنے والے میدانی خطوط کی تعداد، ان نقاط پر میدان کی عددی قدر کے متناسب ہے۔ تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ Rپر میدان Sپر میدان کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہے۔
c-74
 شکل 1.16: برقی میدان کی طاقت کا فاصلہ پر انحصار اور میدانی خطوط کی تعداد سے اس کا رشتہ

 میدانی خطوط کے رقبہ پر انحصار کو سمجھنے کے لیے ، یایوں کہیں کہ میدانی خطوط کے رقبہ جز کے ذریعے بنائے گئے ٹھوس زاویہ* (Solid angle) پر انحصار کو سمجھنے کے لیے ، آئیے رقبہ اور ٹھوس زاویہ، جو زاویہ کی سہ ابعاد میں عمومی شکل ہے، میں رشتہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔ یاد کریں کہ ایک مسطح (Plane)زاویہ، دو ابعاد میں کیسے معرف کیا جاتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک چھوٹا عرضی خط جز (Transverse line element) c-76نقطہ Oسے فاصلہ r پر کھینچا گیا ہے۔ تبc-76کے ذریعہOپر بنے زاویےc-77کی نزدیکی عددی قدر ہوگی:c-75۔ اسی طرح سہ ابعاد میں ایک چھوٹے عمودی مسطح رقبہc-78کے ذریعے فاصلےr پر بنایا گیا ٹھوس زاویہc-79لکھا جا سکتا ہے:ـ ۔c-80ہم جانتے ہیں کہ ایک دیے ہوئے ٹھوس زاویہ میںنصف قطری میدانی خطوط کی تعداد یکساں ہوگی۔ شکل 1.16میں، دو نقاط c-81کے لیے، جو چارج سے فاصلہc-82c-83ہے۔ا ن رقبہ جزوں کو قطع کرنے والے میدانی خطوط کی تعداد، (عرض کیا n)  c-84c-85کیونکہ nاور c-86دونوں میں مشترک ہیں،میدان کی طاقت واضح طور پرc-87کے تابع ہے۔ 
میدانی خطوط کی تصویر سب سے پہلے فیراڈے نے، چارج شدہ تشکیلات کے گرد برقی میدانوں کا ایک وجدانی ، غیر ریاضیاتی تصور حاصل کرنے کے لیے، پیش کی۔ فیراڈے نے انھیں خطوطِ قوت (Lines of force)کا نام دیا۔ لیکن یہ اصطلاح کچھ ابہام پیدا کرتی ہے، خاص طور پر برق۔ مقناطیسی میدان کے معاملے میں۔ زیادہ مناسب اصطلاح ’’میدانی خطوط‘‘(برقی یا مقناطیسی)ہے، جو ہم اس کتاب میں استعمال کرر ہے ہیں۔ 
اس طرح سے برقی میدانی خطوط، چارجوں کی تشکیل کے گرد برقی میدان کی تصویری نقشہ کشی کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ عمومی طور پر، ایک برقی میدانی خط ایک منحنی ہے، جو اس طرح کھینچا جاتا ہے کہ اس کے ہر نقطے پر کھینچاگیا مماس، اس نقطے پر کل برقی میدان کی سمت بتاتا ہے۔ اس منحنی پر ایک تیر کا نشان لگانا ، ظاہر ہے، ضروری ہے تا کہ منحنی پر کھینچے گئے مماس کی دو ممکنہ سمتوں میں سے، برقی میدان کی سمت کا تعین کیا جا سکے۔ ایک میدانی خط ایک فضائی منحنی (Space Curve)ہے، یعنی کہ سہ ابعاد میں کھینچا گیا منحنی ہے۔ 
c-88
c-89
شکل 1.17کچھ سادہ چارج تشکیلوں کے میدانی خطوط 



شکل 1.17میں کچھ سادہ چارج تشکیلوں کے گرد میدانی خطوط دکھائے گئے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، میدانی خطوط 3۔ ابعادی فضا میں ہوتے ہیں، حالانکہ شکل میں انھیں صرف ایک مستوی میں دکھا یا گیاہے۔ ایک واحد مثبت چارج کے میدانی خطوط نصف قطری سمت میں اندر کی جانب ہوتے ہیں جب کہ ایک واحد منفی چارج کے میدانی خطوط نصف قطری سمت میں باہر کی جانب ہوتے ہیں۔ دو مثبت چارجوں (q,q)کے نظام کے گرد میدانی خطوط، ان کے آپسی دفع کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں، جب کہ دو مساوی اور مخالف (–q,q)چارجوں، ایک دو قطبی (dipole)تشکیل کے گرد میدانی خطوط ان چارجوں کے درمیان آپسی کشش کو بہ خوبی ظاہر کرتے ہیں۔ میدانی خطوط کی کچھ اہم عمومی خاصیتیں ہیں: 
(i میدانی خطوط مثبت چارجوں سے شروع ہوتے ہیں او رمنفی چارجوں پر ختم ہوتے ہیں۔
(ii ایک چارج سے خالی علاقے میں، برقی میدانی خطوط کو ایک لگاتار منحنی (Continuous Curve)بغیر سلسلے کے کہیں ٹوٹے ہوئے، سمجھا جا سکتا ہے۔ 
(iii دومیدانی خطوط کبھی بھی ایک دوسرے کو قطع نہیں کرتے۔ (اگر وہ ایسا کریں ، تو نقطہ تقاطع پر میدان کی کوئی متعین (یکتاunique)سمت نہیں ہوگی، جو کہ بے معنی بات ہے)
(iv برق سکونی میدانی خطوط کوئی بند حلقہ (Closed loop)تشکیل نہیں کرتے ۔ یہ برقی میدان کی بقائی طبع سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ 

1.10 برقی فلکس (Electric Flux)

رفتارc-90کے ساتھ ، ایک چھوٹی چپٹی سطحds'(Small Flat Surface')سے، سطح کی عمودی سمت میں ایک مائع(Liquid)کا بہنا تصور کریں۔ مائع کے بہنے کی شرح، رقبہ سے اکائی وقت میں گذر نے والے حجم v dsسے دی جاتی ہے اور یہی مستوی سے بہنے والے مائع کے فلکس کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر سطح پر کھینچا گیا عمودمائع کے بہاؤ کے متوازی نہیں ہے، یعنیc-90کے متوازی نہیں ہے، بلکہc-90۔سے زاویہ  c-91بناتا ہے، توv کی عمودی سمت میں ایک مستوی میں ظلی رقبہ(projected area)c-92ہے۔ اس لیے سطحdsسے باہر کی سمت میں نکلنے والا فلکسc-93ہے۔ برقی میدان کے لیے، ہم ایک مشابہ مقدار (Analogous quantity)کی تعریف کرتے ہیں اور اسے برقی فلکس کہتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نوٹ کر لینا چاہیے کہ یہاں پر کسی طبعی طور پر قابلِ مشاہدہ مقدار کا بہاؤ نہیں ہے جو کہ مائع کے بہاؤ کے برخلاف ہے۔ 
اوپر بیان کی گئی برقی میدانی خطوط کی تصویر کے مطابق ، ہم نے دیکھا تھا کہ ایک نقطہ پر، میدان کی عمودی سمت میں اکائی رقبہ سے گذرنے والے میدانی خطوط کی تعداد اس نقطہ پر برقی میدان کی طاقت کا ناپ ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ اگر ہم رقبہ c-94کا ایک مختصر مسطح جز، ایک نقطہ پر، Eکی عمودی سمت میں رکھیں، تو اس جز سے گذرنے والے میدانی خطوط کی تعداد Edsکے متناسب* ہوگی۔ اب فرض کیجیے کہ ہم رقبہ جز کو ایک زاویہ c-91سے ترچھا کردیں۔ ظاہر ہے، کہ اب رقبہ جز سے گذرنے والے میدانی خطوط کی تعداد مقابلتا کم ہوگی۔ Eکی عمودی سمت میں، رقبہ جز کا ظل،c-95ہے۔ اس لیےc-94 سے گذرنے والے میدانی خطوط کی تعدادc-95کے متناسب ہے۔ جب: c-96میدانی خطوط c-94کے متوازی ہوںگے اور اس سے بالکل بھی نہیں گذریں گے۔( شکل 1.18)
c-97
c-98

کئی تناظروں میں رقبہ جز کی صرف عددی قدر ہی نہیں بلکہ اس کی تشریق (Orientation)بھی اہم ہے۔ مثلاً، ایک پانی کے دھارے میں ، ایک چھلے (ring)سے ہو کر بہنے والے پانی کی مقدار ، قدرتی بات ہے اس پر منحصر ہوگی کہ آپ چھلے کو کیسے پکڑتے ہیں۔ اگر آپ اسے بہاؤ پر عمود رکھتے ہیں، تو اس سے پانی کی سب سے زیادہ مقدار گزرے گی بہ مقابلہ اس کے کہ آپ اس کی کوئی اور تشریق رکھیں۔ یہ ظاہر کرتاہے کہ ایک رقبہ جز کو بہ طور سمتیہ بر تنا چاہیے۔ اس کی عددی قدر بھی ہوتی ہے اور سمت بھی۔ ایک مسطح رقبہ (Planar area)کی سمت کا تعین کیسے کریں؟ ظاہر ہے ، کہ مستوی پر عمود ، مستوی کی تشریق متعین کرتا ہے۔ اس لیے ایک مسطح رقبہ سمتیہ (Planar area vector)کی سمت اس کے عمود کی سمت میں ہے۔
ایک انحنائی سطح(Curved Surgace)کے رقبہ سے ایک سمتیہ کیسے منسلک کریں!ہم تصور کرتے ہیں کہ سطح کو بہت ہی چھوٹے رقبہ جزوں کی ایک بہت بڑی تعداد میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر چھوٹے رقبہ جز کو ایک مسطح رقبہ کے بہ طور سمجھا جاسکتا ہے اور جیسا کہ پہلے وضاحت کی جا چکی ہے، اس سے ایک سمتیہ منسلک کیا جا سکتا ہے۔ 
یہاں ایک ابہام نوٹ کریں۔ رقبہ جز کی سمت اس کے عمود کی جانب ہے۔ لیکن ایک عمود دو سمتوں کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ ان میں سے کون سی سمت کو ہم رقبہ جز سے منسلک سمتیہ کی سمت کے بہ طور منتخب کریں؟ یہ مسئلہ، دیے ہوئے تناظر کے لحاظ سے مناسب قرار داد (Convention)کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ایک بند سطح کے لیے یہ قرار داد بہت سادہ ہے۔ ایک بند سطح کے ہر رقبے جز سے منسلک سمتیہ، باہر کی جانب عمود کی سمت میں لیا جاتا ہے۔ یہی قرار داد شکل 1.19میں استعمال کی گئی ہے۔ اس لیے ایک بند سطح کے ایک نقطہ پر رقبہ جز سمتیہ c-99کے مساوی ہے، جہاںc-94رقبہ جز کی عددی قدر ہے اور N۔اس نقطہ پر باہر کی جانب عمود کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے۔

c-100 
اب ہم برقی فلکس کی تعریف کرتے ہیں۔ ایک رقبہ جز c-94سے گذرنے والے برقی فلکس کی تعریف کی جاتی ہے:
c-101 
جب کہ، جیسا کہ پہلے دیکھا جا چکا ہے، رقبہ جز کو قطع کرنے والے میدانی خطوط کی تعداد کے متناسب ہے۔ یہاں زاویہc-91،Eاور c-94کے مابین زاویہ ہے۔ ایک بند سطح کے لیے، اوپر بیان کی گئی قرار داد کے مطابقc-91، Eاور رقبہ جز کے باہری عمود کے مابین زاویہ ہے۔ نوٹ کریں کہ ہم ریاضیاتی عبارتc-102کو دو طرح سے سمجھ سکتے ہیں:c-103یعنی کہ؛ Eاو رEکی عمودی سمت میں رقبہ کے ظل کا حاصلِ ضرب یاc-104یعنی کہ رقبہ جز پر عمود کی سمت میں Eکا جز اور رقبہ جز کی عددی قدر کا حاصلِ ضرب ۔ برقی فلکس کی اکائی c-105ہے۔ 
مساوات (1.11)کے ذریعے دی گئی برقی فلکس کی بنیادی تعریف اصولی طور پر کسی بھی دی ہوئی سطح سے گذرنے والے کل فلکس کی تحسیب کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہوگا کہ سطح کو مختصر رقبہ جزوں میں تقسیم کریں ، ہر رقبہ جز سے گذرنے والے فلکس کا حساب لگائیں اور ان سب کو جمع کرلیں۔ اس لیے ایک سطحc-106سے گذرنے والا کل فلکس qہے: 
c-107
تقربیت (Approximation)کی علامت اس لیے استعمال کی گئی ہے کیونکہ پورے مختصر رقبہ جز پرE۔کو مستقلہ مانا گیا ہے۔ یہ ریاضیاتی اعتبار سے اس وقت بالکل درست ہوگا، جب ہم حد،c-108لیں اورمساوات 1.12میں جمع کی علامت کی جگہ تکملہ (Integration)لکھیں۔

1.11 برقی دو قطبی (ELECTRIC DIPOLE)

ایک برقی دو قطبی، مساوی اورمخالف نقطہ چارجوں، qاور–qکا ایک جوڑا ہوتا ہے۔ جب کہ ان نقطہ چارجوں کے درمیان فاصلہ2a ہو۔ دونوں چارجوں کو ملانے والا خط ،فضا میں ایک سمت کو معرف کرتا ہے ۔ قرار داد کے مطا بق ، –qسےq کی جانب ، سمت کو دو قطبی کی سمت مانا جاتا ہے۔ –qاورqکے مقامات کا وسطی نقطہ(Middle point)دو قطبی کا مرکز کہلاتا ہے۔ 
ظاہر ہے کہ ایک برقی دو قطبی کا کل چارج صفر ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ برقی دو قطبی کا میدان بھی صفر ہوگا۔ کیونکہ چارج qاور چارج -qکے درمیان کچھ فاصلہ ہے، اس لیے جب ان کے ذریعے پیدا ہونے والے برقی میدان جوڑے جاتے ہیں تو وہ مکمل طور پر ایک دوسرے کی تنسیخ نہیں کرتے۔ حالانکہ دو قطبی تشکیل دینے والے چارجوں کے درمیان فاصلے کے مقابلے میں بہت زیادہ فاصلوں c-109کی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدان ایک دوسرے کی تقریبا تنسیخ کردیتے ہیں۔ اس لیے مقابلتا بڑے فاصلوں پر ایک دو قطبی کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان کی قدرc-110سے زیادہ تیزی کے ساتھ کم ہوتی ہے (جو کہ ایک واحد چارج qکی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدان کا  rپر انحصار ہے)۔
یہ کیفیتی تصورات مندرجہ ذیل تحسیبات سے واضح ہوجاتے ہیں: 

1.11.1ایک برقی دو قطبی کا میدان : (The field of an electric dipole)

فضا میں کسی بھی نقطے پر چارجوں کے جوڑے (q اور –q) کا برقی میدان، کو لمب کے قانون اور انطباق کے اصول سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل دو صورتوں میں سادہ نتائج حاصل ہوتے ہیں: (i)جب کہ نقطہ دو قطبی محور (dipole axis)پر ہو(ii)جب نقطہ دو قطبی کے استوائی مستوی (Equatorial plane)میں ہو، یعنی کہ ایسے مستوی میں ہو جو دو قطبی کے مرکز سے گذتے ہوئے محور پر عمود ہو۔ کسی بھی عمومی نقطہpپر برقی میدان، اس نقطہ پر، چارج q۔ کی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدانc-111 کو سمیتوں کے متوازی الاضلاع قانون (Law of parallelogram)کے ذریعے جوڑکر ، حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 
(i)محور پر نقاط کے لیے
فرض کیجیے کہ نقطہp، دو قطبی کے مرکزسے rفاصلہ پر، چارج qکی سمت میں ہے، جیسا کہ شکل 1.20(a)میں دکھا یا گیا ہے۔ تب 
c-112
جہاںP، دو قطبی محور (–qسے qکی جانب) کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے۔ مزید، 
c-113
 P  پر کل میدان ہے

c-114
شکل 1.20: ایک دو قطبی کا برقی میدان (a) محور کے ایک نقطہ پر (b) دو قطبی کے استوائی مستودی میں ایک نقطہ پر B دو قطبی معیارِ اثر مستیہ (Dipole moment vector) ہے، جس کی عددی قدر: p = qx2a اور جس کی سمت q سے q کی جانب ہے۔

c-116
(ii) استوائی مستوی کے ایک نقطہ کے لیے: 
دونوں چارجوں q+اورq–کی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدانوں کی عددی قدریں دی جاتی ہیں: 
c-117
اور یہ دونوں عددی قدریں ایک دوسرے کے مساوی ہیں۔ 
c-118کی سمتیں وہی ہیں جو شکل 1.20(b)میں دکھائی گئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ دو قطبی محور کی عمودی سمت کے اجزاء ایک دوسرے کی تنسیخ کردیتے ہیں۔ اور دو قطبی محور کی متوازی سمت کے اجزاء جڑ جاتے ہیں۔ کل برقی میدان P کی مخالفت سمت میں ہے۔ 
(1.17)44

زیادہ بڑے فاصلوں پر (r>> 2a) یہ تحلیل ہو جاتا ہے:
(1.18) 45


مساوات(1.15)اور مساوات (1.18)سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ زیادہ بڑے فاصلوں پر دوقطبی میدان میں qاور a جداگانہ طور پر شامل نہیں ہوتے، بلکہ یہ میدان ان کے حاصلِ ضرب qaکے تابع ہے۔ qدو قطبی معیارِ اثر (دو قطبی گردشہ Dipole moment)کی تعریف تجویز کرتا ہے۔ ایک برقی دو قطبی کے دو قطبی معیارِ اثر سمتیہ کی تعریف کی جاتی ہے: 
c-120
مثبت نقطہ چارجوں کے مجموعے کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے، جس طرح کمیت مرکز کی تعریف کی جاتی ہے۔
c-121
یعنی کہ یہ ایک ایسا سمتیہ ہے، جس کی عددی قدر چارج qاور درمیانی فاصلہ2a (چارجوںqاور q۔کے درمیان فاصلہ )کی حاصلِ ضرب ہے اور سمت -qسے qکی جانب ہے۔ P کی شکل میں زیادہ بڑے فاصلوں پر، دو قطبی کے میدان کی شکلیں اور سادہ ہو جاتی ہیں: 
دوقطبی محور کے ایک نقطہ پر: 
c-122
استوائی مستوی میں ایک نقطہ پر 
c-123
یہ اہم نکتہ نوٹ کریں کہ زیادہ بڑے فاصلوں پر دوقطبی میدانc-124کی مناسبت سے نہیں بلکہc-125کی مناسبت سے کم ہوتا ہے۔ مزید، دوقطبی میدان کی عددی قدر اور سمت صرف فاصلہr کے ہی تابع نہیں ہے بلکہ مقام سمتیہr-اور دو قطبی معیار اثر Pکے مابین زاویہ کے بھی تابع ہے۔ 
ہم اس حد کو تصور کر سکتے ہیں، جس میں دو قطبی کا سائز2a صفر کے نزدیک ہو جاتا ہے، چارجqلا انتہا (Infinity)کے نزدیک ہو جاتا ہے، اس طرح کہ حاصلِ ضرب: 
+c-126متناہی رہتا ہے۔ ایسے دو قطبی کو نقطہ دو قطبی کہتے ہیں۔ ایک نقطہ دوقطبی کے لیے مساواتیں (1.20)او ر r(1.21)کی کسی بھی قدر کے لیے قطعی درست طور پر صادق ہیں۔ 

1.11.2دو قطبیوں کی طبعی اہمیت  (Physical Significance of dipoles)


زیادہ تر مالیکیولوں میں ، مثبت چارجوں اور منفی چارجوں *کے مراکز ایک ہی مقام پر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا دو قطبی معیارِ اثر صفر ہو تا ہے۔ c-127اس قسم کے مالیکیول ہیں۔ حالانکہ جب ایک برقی میدان لگایا جاتا ہے تو ان میں دو قطبی معیارِ اثر پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھ مالیکیولوں میں، منفی چارجوں اور مثبت چارجوں کے مراکز ایک دوسرے پر منطبق نہیں ہوتے۔ اس لیے ایک برقی میدان کی غیر موجودگی میں بھی، ان میں ایک مستقل برقی دو قطبی معیارِ اثر ہو تا ہے۔ ایسے مالیکیول قطبی مالیکیول (Polar Molecules)کہلاتے ہیں۔ پانی c-129کے مالیکیول ، اس قسم کی ایک مثال ہے۔ 
مختلف قسم کی مادی اشیاء برقی میدان کی موجودگی اور غیر موجودگی میں دلچسپ خاصیتیں ظاہر کرتی ہیں اور ان کے اہم استعمال ہیں۔
مثال 10+uc1کے دوچارج ایک دوسرے سے 5.0ملی میٹر کے فاصلے پر رکھے ہوئے ہیں۔ برقی میدان معلوم کیجیے: (a)ایک نقطہ Pپر جو دوقطبی کے محور پر اس کے مرکز Oسے 15ملی مییٹردور، مثبت چارج کی جانب ہے۔ جیسا کہ شکل 1.21(a)میں دکھایا گیا ہے۔ 
(b)ایک نقطہ Qپر جو Oسے گذرتے ہوئے اور قطبی کے محور پر عمود خط پر Oسے 15ملی میٹر دور ہے، جیسا کہ شکل  1.21(b)میں دکھایا گیا ہے۔
46
A O B
-10UC     +10UC
(B)            شکل  21۔1
مثبت نقطہ چارج کے مجموعے کا مرکز اسی طور پر معرف کیا جاتا ہے جیسے مرکزکمیت 47
حل : P(a)پر چارج10UC+کی وجہ سے برقی میدان 
49
BP کی جانب    4.13X106NC-1=
اس مثال میں نسبت 50کافی زیادہ ہے -(=60)اس لیے ہم امید کرسکتے ہیں کہ اگر دو قطبی کے محور پر ایک دور کے نقطے کے لیے برقی میدان کا فارمولا براہِ راست استعمال کریں تو تقریبا یہی نتیجہ حاصل ہوگا۔ ایک ایسے دو قطبی کے لیے جو چارجوں51
پر مشتمل ہے اور ان چارجوں کا درمیانی فاصلہ 2aہے، دو قطبی کے مرکز سے محور پرrcmفاصلے پر ایک نقطہ پر برقی میدان کی عددی قدر ہوگی:
52
جہاں: P=2aq، دوقطبی معیارِ اثر کی عددی قدر ہے۔
دو قطبی کے محور پر برقی میدان کی سمت ہمیشہ دوقطبی معیارِ اثر سمتیہ کی سمت کی جانب ہوتی ہے، (یعنی کہ، –qسے qکی طرف) ۔ یہاںP=10-5CX5X10-3m =5x10-8Cmاس لیے
53
جس کی سمت ، دو قطبی معیارِ اثر کی سمتABکی جانب ہوگی۔ یہ نتیجہ پہلے حاصل کیے گیے نتیجہ کے قریب ہے۔ 
B(b)پر رکھے+10ucکے چارج کی وجہ سے Qپر میدان 
54
BQ کی سمت میں  3.99X106NC-1=
Aپر رکھے 10UC-کے چارج کی وجہ سے Qپر میدان
55
QA کی سمت میں   3.99X106NC1=
ظاہر ہے کہ ان دو مساوی عددی قدروں کی قوتوں کے OQکی سمت میں اجزاء ایک دوسرے کی تنسیخ کر دیتے ہیںلیکن BAکی متوازی سمت کے اجزاء جڑ جاتے ہیں۔ اس لیے Aاور Bپر رکھے دو چارجوں کی وجہ سے Qپر ماحصل برقی میدان ہے: 
(BAکی جانب) X3.99 X 106 106NC-1 57
(a)کی طرح ، یہاں بھی ہم امید کر سکتے ہیں کہ اگر ہم دو قطبی محور کے عمود پر ایک نقطہ پر دو قطبی میدان کا براہِ راست فارمولا استعمال کریںتو تقریبا یہی نتیجہ حاصل ہوگا۔
58
اس صورت میں برقی میدان کی سمت، دو قطبی معیارِ اثر سمتیہ کی سمت کے مخالف ہوگی ۔ یہ نتیجہ بھی پہلے حاصل کیے گیے نتیجہ کے مواقف ہے۔ 



1.12 ہموار باہری میدان میں دوقطبی
Dipole in a Uniform External Field

ایک مستقل دو قطبی تصور کیجیے،جس کا دو قطبی معیارِ اثر Pہے، جو ایک ہموار باہری میدانEمیں رکھا ہوا ہے،جیسا کہ شکل 1.22میں دکھایا گیا ہے۔ (مستقل دوقطبی سے ہمارا مطلب ہے کہ E، Pکی موجود گی کا لحاظ کیے بغیر پایا جاتا ہے، اس کا Eکے ذریعہ امالہ نہیں ہواہے۔)
c-134
شکل 1.22: ایک باہری ہموار برقی میدان میں دوقطبی

q پر ایک قوتqE لگ رہی ہے اور -qپر ایک قوتqEلگ رہی ہے۔ دوقطبی پر لگ رہی کل قوت صفر ہے،کیونکہ Eہموار ہے۔ لیکن کیونکہ چارجوں کے درمیان فاصلہ ہے، اس لیے مختلف نقاط پر قوتیں کام کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں دو قطبی پر ایک قوت گردشہ (Torque)لگتا ہے ۔ جب کل قوت صفر ہے تو قوت گردشہ (جفت )مبدے کے تابع نہیں ہے۔ اس کی عددی قدر ہر قوت کی عددی قدر اور جفت کے بازو (arm of the couple)کے حاصلِ ضرب کے مساوی ہوگی (جفت کا بازو، دو مخالف متوازی قوتوں کے درمیان عمودی فاصلے کے مساوی ہے)۔
qEx2a sinθ= جفت کی عددی قدر
2q aE sinθ
اس کی سمت ، صفحے کے مستوی پر عمود، صفحے سے باہر کی جانب ہوگی۔ 
c-138کی عددی قدربھیc-139اور اس کی سمت بھی صفحے کے مستوی پر عمود، صفحے سے باہر کی جانب ہے۔ اس لیے
c-140

شکل22۔1؛ ایک باہری ہموار برقی میدان میں دو قطبی

59
شکل 23۔1؛ ایک دو قطبی پر برقی قوت(a)  P.E کے متوازی ہے P.E(b) کے مخالف متوازی ہے۔

یہ جفت، دو قطبی کو میدان Eکی جانب کرنے کی کوشش کرے گا۔ جب E.Pکی جانب ہوجائے گا، توقوت گردشہ صفر ہوگا۔ 
اگر میدان ، ہموار نہیں ہو تو کیاہوگا؟ اس صورت میں ، ظاہر ہے کہ کل قوت صفر نہیں ہوگی ۔ مزید یہ کہ ، عمومی طور پر ، پہلے کی طرح نظام پر ایک قوت گردشہ لگے گا۔ کیو نکہ یہ ایک عمومی صورت ہے ، اس لیے ہم کچھ سادہ صورتیں لیتے ہیں: جب Pیا توE کے متوازی ہے یا Eکے مخالف متوازی ہے، ان دونوں میں سے کسی بھی صورت میں، کل قوت گردشہ صفر ہے، لیکن اگرEغیر ہموار ہے تو دو قطبی پر ایک کل قوت لگ رہی ہے۔ 

شکل 1.23 خود واضح ہے۔ یہ صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ جبE، Pکے متوازی ہے، تو دو قطبی پر لگ رہی کل قوت کی سمت اس جانب ہے جس سمت میں برقی میدان بڑھ رہا ہے جب P، ]Eکے مخالف متوازی ہے، تو دو قطبی پر لگ رہی کل قوت کی سمت اس جانب ہے ، جس سمت میں برقی میدان کم ہو رہا ہے۔ عمومی طور پر ، قوتEکے لحاظ سے Pکی تشریق کے تابع ہے۔ 
اس سے ہم رگڑ برق (Frictional electricity)کے ایک عام مشاہدے کو سمجھ سکتے ہیں۔ سو کھے بالوں میں پھیرا گیا ایک کنگھا، کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو کشش کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کنگھا ، رگڑ کے ذریعے چارج حاصل کرتا ہے۔ اب کششی قوت کی وضاحت کیے ہوگی؟ پچھلی بحث سے ہمیں اشارہ ملتا ہے کہ چارج شدہ کنگھا، کاغذ کے ٹکڑے کی تقطیب (Polarization)کردیتا ہے ، یعنی کہ میدان کی سمت میں ایک کل دو قطبی معیارِ اثر کا امالہ کردیتا ہے۔ مزید یہ کہ ، کنگھے کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان ہموار نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں ،یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کاغذ کو کنگھے کی سمت میں حرکت کرنا چاہیے۔
60
61خط چارج
62
63 سطح چارج
64
65 حجم چارج
شکل 24۔1 خطی سطح اور حجمی چارج کثافتون کی تعریفیں- ہر صورت مین منتحب کیا گیا جز al.as, au کلاں بینی 
پر چھوٹا ہے لیکن اس میں خرد بینی اجزا کی ایک بڑی تعداد شامل ہے -


1.13 مسلسل چارج تقسیم 
(Continuous Charge Distribution)

اب تک ہم نے ایسی چارج تشکیلوں کا مطالعہ کیا ہے، جو مجرد چارجوں c-143پر مشتمل تھیں۔ ہم نے اپنے آپ کو مجرد چارجوں تک ہی کیوں محدود رکھا، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے ان کو ریاضیاتی طور پر برتنا مقابلتاً سادہ ہے اور اس میں احصاء (کیلکولس)کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن بہت سی صورتوں میں ، مجرد چارجوں کی شکل میں کام کرنا عملی طور پر مناسب نہیں ہوتا اور ہمیں مسلسل چارج تقسیم کی شکل میں کام کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مثلا ایک چارج شدہ موصل (Charged Conduetor)کی سطح پر چارج کی تقسیم کو ، خردبینی چارج شدہ اجزاء کے مقامات کی شکل میں متعین کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ زیادہ عملی صورت یہ ہے کہ موصل کی سطح پر ایک رقبہ جزc-144۔لیا جائے (شکل 1.24)، (جو کلاں بینی پیمانے پر بہت چھوٹا ہو، لیکن الیکٹرانوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل کر سکنے کے لیے کافی ہو)اور اس جز پر چارجc-145متعین کیا جائے ۔ پھر ہم رقبہ جز پر سطح چارج کثافت(Surface charge density)کی تعریف اس طرح کرتے ہیں: 
c-146
ہم ایسا موصل کی سطح پر مختلف نقاط پر کر سکتے ہیں اور پھر ایک مسلسل تفاعل (Cntinuous function)a حاصل کر سکتے ہیں، جو سطحی چارج کثافت کہلاتا ہے۔ اس طور پر معرف کی گئی سطحی چارج کثافتa، چارج کی کوانٹم سازی کا لحاظ نہیں کرتی اور خردبینی سطح*  پر چارج تقسیم میں عدم تسلسل (discontinuity) کو نظر انداز کردیتی ہے۔  a کلاں بینی سطحی چارج کثافت کی نمائندگی کرتی ہے،جو کہ ایک طرح سے، ایک رقبہ جزc-144پر خردبینی چارج کثافت کا ایک ہموار بنایاگیا اوسط ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے یہ رقبہ جز خردبینی پیمانے پر بڑا ہے لیکن کلاں بینی پیمانے پر چھوٹا ہے۔ aکی اکائی c-147ہے۔
اسی کا اطلاق خطی چارج تقسیم اور حجمی چارج تقسیم پر بھی ہوتا ہے۔ ایک تارکی خطی چارج کثافت کی تعریف کی جاتی ہے: 
c-148
جہاںc-149، کلاں بینی پیمانے پر ایک چھوٹا خطی جز ہے لیکن اس میں خرد بینی چارج اجزاء کی ایک بڑی تعداد شامل ہے، اور c-145 اس خطی جز کا چارج ہے۔c-150ہے۔حجمی چارج کثافت (اسے اکثر صرف چارج کثافت بھی کہتے ہیں)کی تعریف بھی اسی طور پر کی جاتی ہے۔ 
c-151

جہاں c-145کلاں بینی پیمانے پر چھوٹے حجم جز c-152 میں شامل چارج ہے جب کہ c-152 میں خرد بینی چارج شدہ اجزاء کی ایک بڑی تعداد شامل ہے،c-153ہے۔

مسلسل چارج تقسیم کا تصور اسی طرح کا ہے، جیساکہ میکانکیت(Mechanics)میں مسلسل کمیت تقسیم کا تصور ہم استعمال کر چکے ہیں۔ جب ہم ایک مائع کی کثافت کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو ہم اس کی کلاں بینی کثافت کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم اسے ایک مسلسل مائع مانتے ہیں اور اس کی مجرد مالیکیولیائی ساخت کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ 
ایک مسلسل چارج تقسیم کی وجہ سے برقی میدان بالکل اسی طرح معلوم کیاجا سکتا ہے، جس طرح کہ مجرد چارجوں کے ایک نظام کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان معلوم کیاجاتا ہے،مساوات(1.10)۔ فرض کیجیے فضا میں ایک مسلسل چارج تقسیم ہے، جس کی چارج کثافت Pہے۔ کوئی ایک سہل مبدا Oمنتخب کیجیے اور فرض کیجیے کہ چارج تقسیم میں کسی ایک نقطے کا مقام سمتیہ r- ہے۔ چارج کثافت ایک نقطے سے دوسرے نقطے پر تبدیل ہوسکتی ہے، یعنی کہ یہ r- کا تفاعل ہے۔ چارج تقسیم کو چھوٹے حجم اجزاء میں بانٹیے ، اس طرح کہ ایک حجم جز کا سائز c-154ہے۔ حجم جزc-154میں چارج کی مقدار c-155 ہے۔ 
اب کوئی ایک عمومی نقطہ Pلیجیے، (یہ نقطہ تقسیم کے اندر بھی ہو سکتا ہے اور باہر بھی)جس کا مقام سمتیہ Rہے (شکل 1.24)۔ چارج ۔c-155 کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان ، کو لمب کے قانون کے ذریعے حاصل ہوتا ہے:
c-156
جہاں'rچارج جزاور Pکے درمیان فاصلہ ہے اورr-چارج جز سے Pکی جانب اکائی سمتیہ ہے۔ انطباق کے اصول کے ذریعے، چارج تقسیم کی وجہ سے کل برقی میدان مختلف حجم اجزاء کی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدانوں کا حاصلِ جمع ہوگا۔ 
c-157
نوٹ کریں کہc-158سب ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ پر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ بالکل درست ریاضیاتی طریقے میں ہمیںc-159ماننا ہوگا اور تب جمع کا عمل، تکملہ (Integration)میں تبدیل ہو جاتا ہے، لیکن آسانی کے لیے ہم یہاں اس بحث میں نہیں پڑ رہے ہیں۔ مختصراً ، کولمب کے قانون اور انطباق کے اصول کو استعمال کر کے، کسی بھی چارج تقسیم کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان معلوم کیا جا سکتاہے، چاہے چارج تقسیم مجرد ہو یا مسلسل یا جزوی طور پر مسلسل ہو اور جزوی طور پر مجرد۔ 

1.14 گاس کاقانون (Gauss’s Law)

برقی فلکس کے تصور کے ایک سادہ استعمال کے بہ طور ، ہم rنصف قطر کے ایک ایسے کرہ سے گذرنے والا کل برقی فلکس معلوم کرتے ہیں ، جو اپنے مرکز پر رکھے ہوئے ایک چارج qکوگھیرے ہوئے ہے۔ کرہ کو چھوٹے رقبہ جزوں میں تقسیم کیجیے، جیسا کہ شکل 1.25میں دکھایاگیاہے۔ 
رقبہ جز c-144سے گذرنے والا فلکس ہے: 
c-160
66
شکل25۔1؛ ایک ایسے کرہ سے گزرنے والا فلکس جو اپنے مرکز پر رکھے چارجq کو گھیرے ہوئے ہے،

جہاں ہم نے ایک واحد چارج qکی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدان کے لیے کولمب کا قانون استعمال کیا ہے۔ اکائی سمتیہr-رکز سے رقبہ جز کی جانب نصف قطرسمتیہ کی سمت میں ہے۔ اب کیونکہ ایک کرہ کے ہر نقطہ پر کھینچا گیا عمود اس نقطہ پر نصف قطر سمتیہ کی سمت میں ہوتاہے، رقبہ جزc-144اورr-کی سمت یکساں ہوگی۔ اس لیے
c-162
کیونکہ اکائی سمتیہ کی عددی قدر 1ہے۔
کرہ سے گذرنے والا کل فلکس ، تمام مختلف رقبہ جزوں سے گذرنے والے فلکس کو جوڑکر حاصل کیا جاتاہے:
c-168
کیونکہ کرہ کا ہر رقبہ جز، چارج سے یکساں فاصلے r پر ہے
c-163
اب S،کرّہ کا کل رقبہ ، c-164کے مساوی ہوتا ہے۔ اس لیے 
c-165

67
شکل 26۔1 ؛  ایک استوا نے کی سطح سے گذرنے والے، ہموار برقی میدان کے فلکس کی تحسیب

مساوات (1.30)برق سکونیات کے ایک عمومی نتیجہ کا سادہ اظہار ہے، جسے گاس کا قانون کہتے ہیں۔ ہم گاس کا قانون ، بغیر ثبوت کے، بیان کرتے ہیں: 
(1.31) c-169 ایک بند سطح Sسے گذرنے والا برقی فلکس 
Sسے گھرا ہوا کل چارج =q
اس قانون سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایک بند سطح سے گذرنے والا کل برقی فلکس صفر ہوگا اگر سطح کسی چارج کو نہیں گھیرتی ہو۔ ہم اسے شکل 1.26میں دکھائی گئی سادہ صورت میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ 
یہاں برقی میدان ہموار ہے اور ہم نے ایک بند استوانی سطح لی ہے، جس کا محور، ہموار برقی میدانEکے متوازی ہے۔ سطح سے گذرنے والا کل فلکس ہے:c-170استوانے کی سطحوں 1او ر2سے گذرنے والے فلکس کو ظاہر کرتے ہیں (دائری تراشہ کی سطحیں)، اورc-171بند سطح کے انحنائی استوائی حصے سے گذرنے والا فلکس ہے۔ اب سطح 3کے ہر نقطہ پر عمود،Eپر عمود ہے، اس لیے فلکس کی تعریف کے مطابق :c-172، مزید یہ کہ ، 2پر باہر کی جانب عمود Eکی سمت میں ہے اور 1پر  باہر کی جانب عمود Eکی مخالف سمت میں ہے۔ اس لیے 
Φ1=-E S1.   Φ2=+E S2,    S1 = S2 =S
جہاں S، دائری تراشہ کا رقبہ ہے۔ اس لیے کل فلکس صفر ہوگا، جیسا کہ گاس کے قانون کے مطابق امید کی جاتی تھی۔ اس لیے آپ جب بھی دیکھیں کہ ایک بند سطح سے گذرنے والا کل فلکس صفر ہے،تو ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بند سطح سے گھرا ہواکل چارج صفر ہے۔ 
گاس کے قانون ،مساوات (1.31)کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ عمومی طور پر صادق ہے ، صرف انھیں سادہ صورتوں کے لیے صادق نہیں ہے، جو ہم نے اوپر لی ہیں۔ آئیے اس قانون سے متعلق کچھ اہم نکات نوٹ کریں۔ 
(i گاس کا قانون کسی بھی سطح کے لیے صادق ہے، چاہے اس کی شکل اور اس کا سائز کچھ بھی ہوں۔
(ii گاس کے قانون ، مساوات (1.31)میں دائیں جانب رکنqمیں سطح سے گھرے ہوئے تمام چارجوں کا حاصلِ جمع شامل ہے۔ چارج سطح کے اندر کسی بھی مقام پر ہو سکتا ہے۔
(iii ایسی صورت میں ، جب سطح اس طور پر منتخب کی جائے کہ کچھ چارج اس کے اندر ہوں اور کچھ اس کے باہر، تو برقی میدان (جس کا فلکس مساوات (1.31)کی بائیں جانب ہے) ان تمام چارجوں کی وجہ سے ہے جو Sکے اندر اور Sکے باہر ہیں۔ لیکن گاس کے قانون کی دائیں جانب رکن qمیں صرف Sکے اندر کا کل چارج ہے۔ 
(iv گاس کے قانون کو استعمال کرنے کے لیے ہم جو سطح منتخب کرتے ہیں وہ گاس سطح(Gaussian Surface) کہلاتی ہے۔ آپ کوئی بھی گاس سطح منتخب کرسکتے ہیں اور گاس کا قانون استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ احطیاط رکھیے کہ گاس سطح کسی مجرد چارج سے نہ گذرے۔ کیونکہ مجرد چارجوں کے نظام کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان، کسی چارج کے مقام پر بہ خوبی معرف نہیں ہے۔ (آپ جیسے چارج کے نزدیک جاتے ہیں، میدان بنا کسی حدکے بڑھ جاتا ہے)۔ گوکہ گاس سطح ایک مسلسل چارج تقسیم سے گذر سکتی ہے۔ 
(v گاس کا قانون اس صورت میں برق سکوتی میدان کی تحسیب کرنے میں اکثر کار آمد ہوتا ہے، جب کہ نظام میں کچھ تشاکل (سمٹریSymmetry)ہو۔ اس میں ایک مناسب گاس سطح کے انتخاب سے مدد ملتی ہے۔ 
(vi آخر میں، گاس کاقانون ، کولمب کے قانون میں شامل، فاصلہ کے مقلوب مربع متناسبیت پر مبنی ہے۔ گاس کے قانون کے کوئی بھی خلاف ورزی،مقلوب مربع قانون سے انحراف کی نشاندہی کرے گی۔ 

مثال 1.11شکل 1.27میں برقی میدان کے اجزا ہیں:½E-E2-O,E-ax 
جس میں½/x=800nحساب لگائیے (a)مکعب سے گذرنے والا فلکس (b)مکعب کے اندر چارج۔ مان لیجیے کہa=o.1s
68
n محور کے پار          شکل 27۔1
حل: 
(a)کیونکہ برقی میدان کا صرف xجز ہے، –xسمت کے عمودی رخوں کے لیےEاورASکے ددرمیان زاویہ69 ہے اس لیے فلکسø=E,AS ہر رخ کے لیے الگ الگ صفر ہوگا، سوائے ان دورخوں کے جو سایہ دار ہیں۔ اب بائیں رخ پر برقی میدان کی عددی قدر 
(بائیں رخ پر EL = ax½aa½ x=a
دائیں رخ پر برقی میدان کی عددی قدر 
(دائیں رخ پر،(2a)½ x = 2a)            ER=½axa
ان کے مطابق فلکس میں
(کیوں کہ0=1800)     øL=EL,AS==EL AS cosø=-elas
ELa2-=
مکعب سے گذرنے والا کل فلکس
=øR + øL =ERa2 - ELa2 = a2 ⌈ER - EL⌋ = aa2a½ -a½
70
=1,05N m2C-1
(b) ہم مکعب کے اندر کل چارج معلوم کرنے کے لیے گاس کا قانون استعمال کر سکتے ہیں۔ 
اس لیےq71 ہمارے پاس ہے: 
q=1.05x8.854 x10-12C==9.27X10-12C
مثال 1.12: ایک برقی میدان ہموار ہے اور مثبت xکے لیے مثبت xسمت میں ہے، اور یکساں عددی قدر کے ساتھ، منفی xکے لیے، ہموار ہے اور منفی xسمت میں ہے۔ یہ دیا ہوا ہے کہ:x>0 کے لیے
E=200iN/Cاورx>o کے لیے20cm E= -200 iN/C لمبائی اور5cm
نصف قطر کے ایک قائم دائری استوانے کا مرکز مبدے پر ہے اور اس کا محور،–x محور پر ہے، اس طرح کہ ایک رخ،x=10cm پر ہے اور دوسرا رخx=–10پر ہے (شکل1.28)(a)-پر چپٹے رخ سے گذرنے والا، باہر کی سمت میں کل فلکس کتنا ہے؟ (b)استوا نے کے ضلعی رخ(side)سے گذرنے والا فلکس کتنا ہے؟ (C)استوانے سے گذرنے والا کل ، باہر کی سمت میں، فلکس کتنا ہے؟ (b)استوا نے کے اندر کل کتنا چارج ہے۔ 
حل:  
(a) ہم شکل سے دیکھ سکتے ہیں کہ بائیں رخ پرEاورASمتوازی ہیں۔ اس لیے باہر کی جانب فلکس ہے : 
øL= E.AS=- 200 i AS
=+200ASi.AS=-ASکیوں کہ
= +200 X η 〈0.05〉2 = + 1.57 N m2 C - 1
دائیں رخ پر EاورASمتوازی ہیں، اس لیے øR =E.AS= +1.5Nm2 C-1
(b) استوا نے کے ضلعی رخ کے کسی بھی نقطے پرAS.E عمود ہے اس لیےE.ASاس لییاستوا نے کے ضلعی رخ  سے باہر نکلنے والا  فلکس صفر ہے۔
(c) استوا نے سے باہر کی سمت میں نکلنے والا کل فلکس؛ 
ø =1.57 + 1.57 +0= .14 N m2 C-1
72
(d) استوانے کے اندر کل چارج گاس کے قانون کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ جس سے حاصل ہوتا ہے 
73
= 3.14 + 8.85 X 10-12 C
= 2.78 x 10- 11 c

1.15گاس کے قانون کے استعمال (Applications of Gauss’s Law)

ایک عمومی چارج تقسیم کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان، جیسا کہ اوپر دیکھا جا سکتا ہے، مساوات (1.27)سے دیا جاتا ہے۔ عملی صورتوں میں ، کچھ مخصوص صورتوں کے علاوہ، اس مساوات میں شامل جمع (یا تکملہ)کا عمل، فضا میں ہر نقطہ پر برقی میدان معلوم کرنے کے لیے، نہیں کیا جاسکتا، کچھ متشاکل چارج تشکیلوں کے لیے، گاس کا قانون استعمال کر کے آسان طریقے سے برقی میدان حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسے کچھ مثالوں کی مدد سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ 
c-180
c-181
شکل 1.29 (a)ایک لامتناہی لمبائی کے پتلے مستقیم تار کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان نصف قطری ہے
(b)ہموار خطی چارج کی کثافت کے لمبے پتلے تار کے لیے گاس سطح 


1.15.1ایک لا متناہی لمبائی والے، مستقیم، ہموار طور پر چارج شدہ تار کی وجہ سے برقی میدان 

(Field due to an infinitely long straight uniformly charged wire)

ایک لا متناہی لمبائی کا ، پتلا مستقیم تار تصور کیجیے،جس کی ہموار خطی چارج کثافتc-182 ہے۔ تار ظاہر ہے کہ ایک تشاکل (سمٹری ) کا محور ہے۔ فرض کیجیے ہم Oسے Pتک نصف قطری سمتیہ لیتے ہیں اور اسے تار کے گرد گھماتے ہیں۔ اس طرح سے حاصل ہوئے نقاط P،P'،P"چارج شدہ تار کی مناسبت سے مکمل طور پر معادل (equivalent)ہیں۔ اس کا مطلب ہوا کہ ان نقاط پر برقی میدان کی عددی قدر، لازمی طور پر یکساں ہونی چاہیے۔ ہر نقطے پر برقی میدان کی سمت، لازمی طور پر، نصف قطری ہونا چاہیے(باہری سمت میں اگرc-183، اندر کی جانب اگرc-184)یہ شکل 1.29سے ظاہر ہوتا ہے۔ 
تار کے خطی اجزاء c-185کا جوڑا لیجیے،جیسا کہ دکھایا گیا ہے۔ اس جوڑے کے دونوں اجزاء کے ذریعے پیدا ہونے والے برقی میدانوں کو جب جوڑا جاتا ہے تو ایک ماحصل برقی میدان حاصل ہوتا ہے جوکہ نصف قطری ہے (جوا جزاء نصف قطری سمتیہ کے عمودی ہیں، تنسیخ ہو جاتے ہیں)۔ یہ ایسے کسی بھی جوڑے کے لیے صادق ہے اور اس لیے کسی بھی نقطہ Pپر کل میدان نصف قطری ہے۔
آخر میں، کیونکہ تار کی لمبائی لا متناہی ہے، اس لیے برقی میدان تار کی لمبائی پر Pکے مقام کے تابع نہیں ہے۔ مختصراً ، اس لیے تار کو عمودی طور پر قطع کرنے والے مستوی میں ہر جگہ، برقی میدان نصف قطری ہے اور اس کی عددی قدر صرف نصف قطری فاصلے کے تابع ہے۔ 
میدان کی تحسیب کرنے کے لیے ، ایک استوائی گاس سطح تصور کیجیے، جیسا کہ شکل1.29(b)میں دکھا یا گیا ہے۔کیونکہ میدان ہر جگہ نصف قطری ہے، استوانی گاس سطح کے دونوں سروں سے گذرنے والا فلکس صفر ہے۔ سطح کے استوانی حصے پر، Eسطح پر عمود ہے، اور اس کی عددی قدر مستقلہ ہے، کیونکہ عددی قدر صرفrکے تابع ہے۔ انحنائی حصے کا سطحی رقبہ c-186 استوانے کی لمبائی ہے۔ 
گاس سطح سے گذرنے والا فلکس 
=سطح کے انحنائی استوانی حصے سے گذرنے والا فلکس
  c-187
سطح سے گھرا ہوا چارج کیونکہ c-190 کے مساوی ہے، اس لیے گاس کے قانون سے حاصل ہوتا ہے:
c-188
        
سمتی شکل میں، کسی بھی نقطہ پر E دی جاتی ہے:
c-189
جہاںN نقطہ سے گذررہے، تار پر عمود مستوی میں نصف قطری اکائی سمتیہ ہے۔ اگرc-191مثبت ہے تو Eباہرکی جانب ہے اور اگر c-191منفی ہے تو Eاندر کی جانب ہے
نوٹ کریں کہ جب ہم ایک سمتیہa-کوایک عددیہ اور  ایک  اکائی سمتیہ کی ضرب کی شکل میں لکھتے ہیں، یعنی کہc-192 تو عددیہ Aایک الجبریائی عدد ہوتا ہے۔ یہ منفی بھی ہو سکتا ہے اور مثبت بھی۔a-کی سمت وہی ہوگی جو اکائی سمتیہ c-193 کی سمت ہے، اگر A<0اورAکی سمت aکی مخالف ہو گی اگرA>0۔ جب ہم غیر منفی قدروں تک محدود رہناچاہتے ہین تو ہم علامت ۔c-195 استعمال کرتے ہیں اور اسے a-کا مقیاس کہتے ہیں۔ لہذا c-196
یہ بھی نوٹ کریں کہ ہم نے اوپر حالانکہ صرف سطح c-197سے گھیرا گیا چارج ہی شامل کیا تھا، برقی میدانE پورے تار پر چارج کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان ہے۔ مزید، یہ مفروضہ کہ تار کی لمبائی لا متناہی ہے، نہایت اہم اور فیصلہ کن ہے۔ اس مفروضے کے بغیر ، ہمE کو استوانی گاس سطح کے انحنائی حصے پرعمود نہیں لے سکتے ۔ حالانکہ ، مساوات (1.32) ایک لمبے تار کے مرکزی حصوں کے گرد برقی میدان کے لیے تقریبا صادق ہے، جہاں پر سِروں کے اثرات (end effects)کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ 

1.15.2ایک لا متناہی مسطح ہموار طور پر برقیائی ہوئی چادر کی وجہ سے برقی میدان 

(Field due to a uniformly Charged ifinite plane Sheet)

فرض کیجیے کہ ایک لا متناہی مسطح چادر کی ہموار سطحی چارج کثافتaہے (شکل1.30) ہم –xمحور کو دیے ہوئے مستوی پر عمود لیتے ہیں۔ تشاکل (سمٹری)کے ذریعے ، برقی میدان YاورZکو آرڈی نیٹوںکے تابع نہیں ہوگا۔اور ہر نقطہ پر اس کی سمت –x سمت کے متوازی ہونا لازمی ہے۔ 
ہم ایک مستطیل متوازی شش پہلو (rectangular parallelopiped)کو، جس کا تراشی رقبہ A(Crosssectional area)ہے، گاس سطح منتخب کر سکتے ہیں۔ (ایک استوانی سطح بھی منتخب کی جا سکتی ہے)۔ جیسا کہ شکل سے دیکھا جا سکتا ہے، صرف دورخ، 1اور 2، فلکس میں حصہ لیں گے۔ برقی میدانی خطوط باقی تمام رخوں کے متوازی ہیں اور اس لیے ان کا کل فلکس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ 
سطح 1پر عمود، اکائی سمتیہx–  سمت میں ہے ، جب کہ سطح 2پر عمود اکائی سمتیہx+سمت میں ہے اس لیے دونوں سطحوں سے گذرنے والے برقی فلکس c-198 مساوی ہیں اور آپس میں جڑجاتے ہیں۔ اس لیے ، گاس سطح سے گذرنے والا کل فلکس2EA ہے۔ بند سطح سے گھراہوا چارجc-199ہے۔ اس لیے گاس کے قانون سے 
c-200

c-201
جہاںNمستوی پر  عمود اور اس سے باہر کی جانب، اکائی سمتیہ ہے۔ 
اگرaمثبت ہو توEچادر سے باہر کی جانب ہے اور اگرaمنفی ہو تو چادر کی جانب ہے۔ نوٹ کریں کہ گاس کے قانون کے مندرجہ بالا استعمال سے ایک حقیقت اور سامنے آتی ہےE ،xکے بھی غیر تابع ہے۔ 
ایک متناہی (Finite)بڑی مسطح چادر کے لیے ، مساوات (1.33)چادر کے درمیانی علاقوں کے لیے تقریبا درست ہے، جو کہ کناروں (سروں ends)سے دور ہیں۔ 

1.15.3ایک ہموار طور پر چارج شدہ پتلے کردی خول کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان 

(Field due to a uniformly charged Thin spherical shell)

فرض کیجیے کہ نصف قطر Rکے ایک پتلے کردی خول کی ہموار سطحی چارج کثافتaہے (1.31)۔ یہ صورت واضح طور پر کروی تشاکل کی صورت ہے۔ باہر یا اندر ، کسی بھی نطقے  Pپر برقی میدان صرف rکے تابع ہو سکتا ہے (یعنی شیل کے مرکز سے نقطہ تک کے نصف قطری فاصلے کے تابع ہے)اور نصف قطری ہونا لازمی ہے(یعنی کہ نصف قطری سمتیہ کی جانب)
(i) شیل کے باہر میدان : شیل (خول )سے باہر ایک نقطہ Pلیجیے، جس کا نصف قطری سمتیہr- ہے P پرEمعلوم کرنے کے لیے ، ہم گاس سطح کے بہ طور ایک کرہ منتخب کرتے ہیں، جس کا نصف قطرr ہے اور مرکز Oہے اور جو P سے گذررہا ہے، دی ہوئی چارج تشکیل کی مناسبت سے، اس کرہ پر تمام نقطے مرادف (equivalent)ہوں گے ۔ (ہمارا کروی تشاکل سے یہی مطلب ہوتا ہے)۔ اس لیے گاس سطح کے ہر نقطے پر برقی میدان کی عددی قدر Eیکساں ہوگی اورہر نقطہ پر برقی میدان کی سمت نصف قطری سمتیہ کی جانب ہوگی ۔اس لیے ہر نقطہ پر Eاور c-202 متوازی ہیں اورہر جز سے گذرنے والا فلکسc-203پر جمع کرنے پر، گاس سطح سے گذرنے والا فلکس c-204ہے۔ سطح سے گھرا ہوا چارج ۔c-205ہے۔ گاس کے قانون سے 
74
جہاںq=4nR2O کروی شیل پر چارج ہے، سمتیہ شکل میں
75
اگرc-207ہو تو برقی میدان باہر کی جانب ہوگا اور اگرc-208 ہوتو اندر کی جانب ہوگا۔ یہ لیکن قطعی وہی میدان ہے جو ایک مرکزOپر رکھے ہوئے چارج کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے شیل (خول)سے باہر کے نقاط کے لیے، ایک ہموار طور پر چارج شدہ شیل کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان ایسا ہوگا جیسے کہ شیل کا کل چارج اس کے مرکز پر مرتکز ہو۔
گاس سطح
Gaussian surface
                           سطحی چارج کثافت 
                                      Surface charge
                                                    density o
 
76
گاس سطح
Gaussian surface
                           سطحی چارج کثافت 
                                      Surface charge
                                                    density o
77
شکل 31۔1 r>R(a)
r>R b کے ایک نقطہ کے لیے گاس سطح

(ii) شیل کے اندر میدان: شکل  1.31(b)میں نقطہ Pشیل کے اندر ہے۔ گاس سطح پھر ایک کرہ ہے، جس کا مرکز O ہے اور جوPسے گذررہا ہے۔ گاس سطح سے گذرنے والا فلکس جیساکہ پہلے حساب لگایا جا چکا ہے، c-210ہے۔ لیکن اس صورت میں ، گاس سطح کسی چارج کو گھیرے ہوئے نہیں ہے۔ اب گاس کے قانون سے حاصل ہوتا ہے: 
E x 4nr2 =0
E = 0 r>R          ( 1.35)

یعنی کہ ، ایک ہموار طور پر چارج شدہ پتلے شیل کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان ، شیل کے اندر ہر نقطہ پر صفر ہوگا۔ یہ اہم نتیجہ ، گاس کے قانون کا براہِ راست ماحصل ہے جو کولمب کے قانون سے اخذ کیاجاتا ہے۔ اس نتیجہ کا تجرباتی ثبوت ، کولمب کے قانون میں شامل c-212انحصار کی تصدیق کردیتا ہے۔ 

مثال 1.13: ایٹم کے ایک شروعاتی ماڈل میں یہ فرض کیا جاتا تھا کہ ایٹم میں چارجZe  کا ایک مثبت چارج شدہ نقطہ نیوکلیس ہوتا ہے، جو نصف قطرRتک منفی چارج کی ہموار کثافت سے گھرا ہوتا ہے۔ ایٹم مجموعی طور پر بے برق (Neutral)ہوتا ہے۔ اس ماڈل کے لیے ، نیوکلیس سےrفاصلہ پر برقی میدان کتنا ہوگا؟

78
حل: ایٹم کے اس ماڈل کے لیے چارج تقسیم ، شکل 1.32میں دکھائی گئی تقسیم ، جسیی ہے۔ نصف قطرR کی ہموار کروی چارج تقسیم میں کل منفی چارج–Ze  ہونا لازمی ہے کیو نکہ ایٹم ]چارج Ze۔ کا نیوکلیس+منفی چارج[ بے برق ہے۔ اس سے ہمیں فورا منفی چارج کثافتOحاصل ہو جاتی ہے، کیونکہ ضروری ہے کہ
79
اس لیے نقطہ Pپر، جو نیوکلیس سے فاصلہrپر ہے، برقی میدان معلوم کرنے کے لیے ، ہم گاس کا قانون استعمال کرتے ہیں۔ چارج کی تقسیم کے کروی تشاکل کی وجہ سے، برقی میدان E rکی عددی قدر صرف نصف قطری فاصلے کے تابع ہوگی ، چاہےrکی کوئی بھی سمت ہو۔ برقی میدان کی سمت، نصف قطری سمتیہ rجو مبدے سے نقطہ Pکی جانب ہے، کی جانب (یا اس کے مخالف)ہوگی۔ گاس سطح کے بہ طور ایک کروی سطح منتخب کرنا بالکل واضح ہے، جس کا مرکز نیو کلیس ہو۔ ہم دو صورتیں لیتے ہیں۔ یعنی r<Rاورr>R
r >R i :کروی سطح سے گھرا ہوا برقی فلکسøہے
ø =E r x4 nr2

جہاں E r  پر برقی میدان کی عددی قدر ہے۔ ایسا اس لیے ہے، کیونکہ کروی گاس سطح کے کسی بھی نقطہ پر برقی میدان کی سمت یکساں ہوگی جو کہ سطح پر وہاں عمود کی سمت ہوگی اور برقی میدان کی عددی قدر بھی سطح کے ہر نقطہ پر یکساں ہوگی۔ 
گاس سطح کے ذریعے گھرا ہوا چارج q، مثبت نیو کلیائی چارج اور نصف قطرr کے کرہ کے اندر منفی چارج ہے۔ یعنی کہ 
80
چارج کثافتpکے لیے پہلے حاصل کی گئی قدر رکھنے پر، 
81
اب گاس کے قانون سے حاصل ہوتا ہے
82
برقی میدان نصف قطری سمت میں باہر کی جانب ہے۔
r> R )ii)  اس صورت میں گاس سطح سے گھرا ہوا کل چارج صفر ہے،کیونکہ ایٹم بے برق ہے۔ اس لیے گاس کے قانون سے:
E (r) x 4nr2 =0
E (r) = o;   r <R یا
r=R پر دونوں صورتوں سے یکساں نتیجہ حاصل ہوتا ہے:E=0
تشاکل کے عمل پر (On symmetry operations)
 طبیعات میں اکثر ہمارا واسطہ ایسے نظاموں سے پڑتا ہے، جن میں مختلف تشاکلات ہوتے ہیں۔ ان تشاکلات کا ملاحظہ کرنے سے ہمیںان نتائج کو جلد اخذ کرلینے میں مدد ملتی ہے،جنھیں ہم براہِ راست تحسیب کے ذریعے حاصل کرتے تو زیادہ وقت لگتا۔ مثال کے طور پر ایک ہموار چارج کی لا متناہی چادر لیجیے(سطحی چارج کثافتO(جومستوی میں ہے۔ یہ نظام تبدیل نہیں ہوتا اگر (a)اسے y–zمستوی کے متوازی ، کسی بھی سمت میں منتقل کردیا جائے–x(b) محور کے گرد کسی بھی زاویہ سے گھما دیا جائے۔ کیونکہ نظام ایسے تشاکلی عملوں(Symmetry Operations)کے تحت تبدیل نہیں ہوتا تو اسکی خاصیتیں بھی لازمی طور پر تبدیل نہیں ہونا چاہئیں۔ خاص طور پر، اس مثال میں ، برقی میدانEبھی لازمی طور پر تبدیل نہیں ہوگا۔ 
–yمحور پر انتقالی تشاکل (Translation Symmetry)ظاہر کرتا ہے کہ نقطہ0.Y1.0 اور نقطہ0.y2.0پر برقی میدان ، لازمی طور پر مساوی ہونا چاہیے۔ اسی طرح ، –z۔محور پر انتقالی تشاکل ظاہر کرتا ہے کہ دو نقطوں 0. 0,z1اور 0 ,0 z2  پر برقی میدان لازماً یکساں ہوگا۔ x-محور کے گرد گردشی تشاکل (rotation Symmetry)کو استعمال کر کے ہم نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ برقی میدان E،y–z مستوی کی عمودی سمت میں ہونا لازمی ہے۔ یعنی کہ اسے –xمحور کے متوازی ہونا لازمی ہے۔
اب ایک ایسے تشاکل کو سوچنے کی کوشش کیجیے ، جس کی مدد سے آپ بتا سکیں کہ برقی میدان کی عددی قدر ایک مستقلہ ہے، –xکو آرڈی نیٹ کے تابع نہیں ہے۔ اس طرح یہ سامنے آتا ہے کہ ایک ہموار طور پر برقیائی ہوئی لامتناہی ایصالی چادر کے برقی میدان کی عددی قدر فضا میں ہر نقطہ پریکساں ہوتی ہے۔ ہاں چادر کے دونوں طرف، میدان کی سمت ایک دوسرے کے مخالف ہوگی۔ 
اس کا مقابلہ اس کوشش سے کریں جو آپ کو یہی نتیجہ کولمب کا قانون استعمال کر کے براہِ راست تحسیب کے ذریعے حاصل کرنے میں کرنا پڑی تھی۔ 

خلاصہ 

برقی اور مقناطیسی قوتیں، ایٹموں، مالیکیولوں اور مادہ کے حجمی مادہ (Bulk Matter)کی خاصیتیں متعین کرتی ہیں۔
رگڑ برق (Frictional electricity) پر کیے گئے سادہ تجربوں سے ہم اخذ کر سکتے ہیں کہ قدرت میں چارج کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں اور یہ کہ یکساں چارج ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیںاور غیر یکساں چارج ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں ۔ قرار داد کے مطابق ، سِلک سے رگڑی گئی شیشہ کی چھڑ کے چارج کو مثبت مانا جاتا ہے اور فر(کھال)سے رگڑی گئی پلاسٹک کی چھڑ کے چارج کو منفی مانا جاتا ہے۔
موصل اپنے اندر برقی چارجوں کو حرکت کرنے دیتے ہیں جب کہ حاجز ایسا نہیں کرتے ۔ دھاتوں میں متحرک چارج الیکٹران ہوتے ہیں۔ برق پاشی میں مثبت اور منفی ، دونوں قسم کے آئن متحرک ہوتے ہیں۔ 
برقی چارج کی تین بنیادی خاصیتیں ہیں: کوانٹم سازی ، جمع پذیری (Additivity)اور بقا 
برقی چارج کی کوانٹم سازی کا مطلب ہے ایک جسم کاکل چارج qہمیشہ چارج کے ایک بنیادی کوانٹم(e)کا صحیح عدد ضعف(Integral multiple)ہو گا، یعنی کہ: q=neجہاں،n=o#1. 12.13.پروٹان اور الیکٹران کے چارج ، حسبِ ترتیب ، (+e)اور(-e) ہیں ۔ کلاں چارجوں کے لیے ، جن کے لیے nایک بہت  بڑا عدد ہے، چارج کی کوانٹم سازی کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ 
برقی چارجوں کی جمع پذیری (Additivity)سے مطلب ہے کہ ایک نظام کا کل چارج ، نظام کے تمام انفرادی چارجوں کا الجبرائی حاصلِ جمع ہے(یعنی کہ وہ حاصلِ جمع جس میں مناسب علامتوں کا لحاظ رکھا گیا ہو)۔
برقی چارج کی بقا کا مطلب ہے کہ ایک جدا کیے ہوئے نظام کا کل چارج وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہوا کہ جب اجسام رگڑ کے ذریعے برقیائے (چارج کیے)جاتے ہیں، تو ایک جسم سے دوسرے جسم پر چارج کی منتقلی ہوتی ہے۔کوئی چارج نہ ہی تخلیق (create)ہوتا ہے اور نہ فنا (Destroy)ہوتا ہے۔ 
کولمب کا قانون: دو نقطہ چارجوں،q1اورq2کے درمیان باہمی برق سکونی قوت، حاصلِ ضربq1q2 کے راست متناسب اور ان کے درمیانی فاصلے r21کے مربع کے مقلوب متناسب ہے۔ ریاضیاتی شکل میں 
83کی وجہ سےq2پر لگ رہی قوت=F21
جہاں q1,r21 سےq2کی سمت میں ایک اکائی سمتیہ ہے اور84 متناسبت کا مستقبلہ ہے 
SIاکائی میں، چارج کی اکائی کولمب ہےœکی تجربہ کے ذریعے معلوم کی گئی قدر ہے: 
æ=8.854x1012c2N 1 m2
kکی نزدیکی قدر ہے        k =9 x109 Nm2c2
ایک الیکٹران اور پروٹان کے درمیان برقی قوت اور مادی کشش قوت کی نسبت ہے۔
85
انطباق کا اصول: یہ اصول اس خاصیت پر منحصر ہے کہ وہ قوتیں جن سے دو چارج ایک دوسرے کو کشش یا دفع کرتے ہیں، ایک تیسرے (یا اور زیادہ )مزید چارج (چارجوں)کی موجودگی سے متاثر نہیں ہوتیں۔ چارجوں کے ایک اجتماع:q1. q2 .q3....کے لیے کسی بھی چارج ، فرض کیاq1پر لگ رہی قوت،q1پرq2کی وجہ سے لگ رہی قوت، اور اسی طرح اور ، کا سمتیہ حاصلِ جمع ہے۔ ہر جوڑے کے لیے ، قوت، پہلے بیان کیے جا چکے دو چارجوں کے کولمب کے قانون کے ذریعے دی جاتی ہے۔ 
ایک چارج تشکیل کی وجہ سے ایک نقطہ پر پیدا ہونے والا برقی میدان، اس نقطے پر رکھے گیے ایک چھوٹے مثبت ٹیسٹ چارج پر لگ رہی قوت اور چارج کی مقدار کا حاصلِ تقسیم ہے۔ ایک نقطہ چارج qکی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدان کی عددی قدر86ہے۔ اگر qمثبت ہے تو اس کی سمت نصف قطری باہرکی جانب ہے اور اگر qمنفی ہے تو برقی میدان کی سمت، نصف قطری اندر کی جانب ہے۔ کولمب قوت کی طرح برقی میدان بھی انطباق کے اصول کو مطمئن کرتا ہے۔ 
ایک برقی میدانی خط منحنی ہے جو اس طرح کھینچا جا تا ہے کہ منحنی کے ہر نقطہ پر کھینچا گیا مماس، اس نقطہ پر برقی میدان کی سمت دیتا ہے۔ میدانی خطوط کی اضافی نزدیکی (قریب قریب ہونا)، مختلف نقاط پر برقی میدان کی اضافی طاقت کی نشاندہی کرتی ہے۔ طاقت ور میدانوں کے علاقے میں میدانی خطوط ایک دوسرے کے پاس پاس ہوجاتے ہیں اور جن علاقوں میں برقی میدان کمزور ہوتا ہے وہاں یہ خطوط ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوتے ہیں، جن کے درمیان مساوی فاصلہ ہوتا ہے۔ 
10۔ میدانی خطوط کی کچھ اہم خصوصیات ہیں: (i)میدانی خطوط ، مسلسل منحنی ہیں، جو کہیں ٹوٹتے نہیں ہیں۔ (i)دو میدانی خطوط ایک دوسرے کو قطع نہیں کر سکتے(iii)برق ۔ سکونی میدانی خطوط ، مثبت چارجوں سے شروع ہوتے ہیں اور منفی چارجوں پر ختم ہوتے ہیں۔ یہ بند حلقے (Closed lesps )نہیں تشکیل دے سکتے۔ 
11۔ ایک برقی دو قطبی مساوی اور مخالف چارجوں q اور –q کا ایک جوڑا ہے، جن کا درمیانی فاصلہ 2a ہے۔ اس کے دو قطبی معیارِ اثر سمتیہ �کی عددی قدر 2qa ہے اور اس کی سمت –qسے qکی جانب دو قطبی محور کی سمت میں ہے۔ 
12۔ اس کے استوائی مستوی میں، ایک برقی دو قطبی کا میدان (یعنی کہ اس مستوی میں، جو اس کے مرکز سے گذرتا ہے اور اس کے محور پر عمود ہے)مرکز سے rفاصلے پر ہے۔ 
87
88
مرکز سے فاصلہrپر محور پر ایک دو قطبی کا برقی میدان 
89
دو قطبی کے برقی میدان کا ۔90پر انحصار نوٹ کریں،جو کہ ایک نقطہ چارج کے برقی میدان کے91پر انحصار سے مختلف ہے۔ 
13۔ ایک ہموار برقی میدانEمیں ، ایک دو قطبی پر ایک قوت گردشہrلگتاہے، جو دیا جاتا ہےr= p xEلیکن دو قطبی پر کوئی کل قوت نہیں لگتی۔ 
14۔ ایک چھوٹے رقبہASسے گذرنے والے برقی میدانEکافلکسAOدیا جاتا ہے۔
Aø=E.AS
سمتیہ رقبہ جزASہےAS=ASn
جہاں ASرقبہ جز کی عددی قدر ہے اور nرقبہ جز پر عمود کی سمت میں اکائی سمتیہ ہے۔ کافی مختصرASکو مسطح مانا جا سکتا ہے۔ ایک بند سطح کے رقبہ جز کے لیےnکو باہری عمود کی سمت میں قرار داد کے مطابق ،لیا جا تا ہے۔ 
15۔ گاس کا قانون: کسی بند سطح Sسے گذرنے والا برقی میدان کا فلکس92اور Sکے ذریعے گھیرے گئے کل چارج کا حاصلِ ضرب ہے۔ یہ قانون ان صورتوں میں برقی میدانEمعلوم کرنے میں خاص طورسے کار آمد ہے جب چارج تقسیم میں کوئی سادہ تشاکل ہو۔ 
(i) ایک پتلے ، لا متناہی لمبائی کے مستقیم تار ، جس کی ہموار خطی چارج کثافتrہے، کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان93
جہاںr نقطہ کا تار سے عمودی فاصلہ ہے اور �نقطہ سے گذرنے والے اور تار پر عمود مستوی میں نصف قطری اکائی سمتیہ ہے۔ 
ہموار سطحی چارج کثافتoکی لا متناہی ، پتلی مسطح چادر کے لیے: 
94
جہاںn مستوی پر عمود اکائی سمتیہ ہے اور دونوں طرف باہر کی جانب ہے۔ 
(ii) ہموار سطحی چارج کثافتoکے پتلے کروی خول کے لیے:
95
جہاںrشیل کے مرکز سے نقطہ کا فاصلہ ہے اورRشیل کا نصف قطرہے۔ qشیل کا چارج ہےq=4nR2aشیل کے باہر برقی میدان ایسا ہے، جیسے کہ کل چارج مرکز پر مرتکز ہو۔ یہی نتیجہ ہموار حجمی چارج کثافت کے ٹھوس کرے کے لیے بھی درست ہے۔شیل کے اندر تمام نقاط پر برقی میدان صفر ہے۔ 

طبعی مقدار   علامت ابعاد  اکائی  ریمارک
رقبہ جز سمتیہ  AS ⌊L2⌋ m2 AS = ASn
برقی میدان  E ⌊MLT-3A-1⌋ Vm -1
برقی فلکس ø ⌊ML3T-3A-1⌋ V m Aø.AS
دوقطبی معیارِ اثر  P ⌊LTA⌋ cm منفی سے مثبت
چارج کثافت: چارج کی جانب سمتیہ
خطی r ⌊L -TA⌋ Cm-1 چارج /لمبائی  
سطحی  o ⌊L -2 TA⌋ Cm-2 چارج /رقبہ
 حجمی p ⌊L-3 TA⌋ Cm-3 چارج /حجم



قابل غور نکات 

آپ کو شاید حیرت ہوتی ہو کہ سب پروٹان، جن پر مثبت چارج ہوتا ہے، نیو کلیس کے اندر مختصر سی جگہ میں کیسے یکجا رہتے ہیں۔ وہ نیو کلیس سے باہر کیوں نہیں چلے جاتے؟ آپ آئندہ سیکھیں گے کہ بنیادی قوتوں کی ایک تیسری قسم بھی ہے جو طاقت ور قوت (Strong force)کہلاتی ہے، اور یہ تیسری قوت انھیں آپس میں باندھے رکھتی ہے۔ لیکن فاصلہ کی وہ سعت، جس میں یہ تیسری قوت موثر ہوتی ہے، بہت چھوٹی ہےc-225جو کہ قطعی طور پر نیو کلیس کا سائز ہے،مزید یہ کہ الیکٹرانوں کو پروٹانوں کے اوپر آسکنے کی اجازت نہیں ہوتی، یعنی کہ نیوکلیں کے اندر۔ ایسا کو انٹم میکانبات کے قوانین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس طرح سے ایٹموں کو وہ ساخت ملتی ہے، جس کے ساتھ وہ قدرت میں پائے جاتے ہیں۔ 
کو لمب قوت اور مادی کشش قوت دونوں پر یکساں مقلوب۔ مربع قانون لاگو ہوتا ہے۔ لیکن مادی کشش قوت کی صرف ایک علامت ہوتی ہے(ہمیشہ کششی )، جب کہ اسی قانون کے مطابق کو لمب قوت کی دونوں علامتیں ہو سکتی ہیں(کششی اور دفاعی)۔ جس کی وجہ سے برقی قوتوں کی آپس میں تنسیخ بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مادی کشش قوت ، مقابلتا ایک بہت کمزور قوت ہونے کے باوجود بھی قدرت میں زیادہ موثر اور زیادہ سرایت پذیر قوت ہے۔ 
کولمب کے قانون میں ، متناسبیت کا مستقلہ k کولمب کا قانون استعمال کرتے ہوئے ، چارج کی اکائی معرف کرنے کے لیے ، اپنی پسند ے منتخب کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ SIاکائی میں ، جسے معرف کیا جاتا ہے وہ کرنٹ کی اکائی (A)ہے، جسے اس کے مقناطیسی اثر (ایمپیرکاقانون)کی مدد سے معرف کرتے ہیں۔ اور چارج کی اکائی (کولمب)صرف IC=IAsکے ذریعے معرف کی جاتی ہے۔ اس صورت میں kکی قدر اختیاری نہیں رہتی، یہ تقریباc-226ہے 
k کی اتنی بڑی قدر، یعنی کہ برقی اثرات کے نقطہ سے چارج کی اکائی (IC)کا اتنا بڑا سائز اس لیے حاصل ہوتا ہے، کیونکہ (جیسا کہ 3میں بتایا گیاہے)چارج کی اکائی کو مقناطیسی قوتوں(کرنٹ بردارتاروں پر لگ رہی قوتوں)کی شکل میں معرف کیا جاتا ہے، جو کہ عام طور پر برقی قوتوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہوتی ہیں۔ اس لیے جب کہ 1ایمپیر کی اکائی مقناطیسی اثرات کے لیے مناسب سائز کی اکائی ہے، IC=IAs، برقی اثرات کے لیے بہت زیادہ بڑی اکائی ہے۔ 
چارج کی جمع پذیری کی خاصیت ایک واضح خاصیت نہیں ہے۔ یہ اس حقیقت سے منسلک ہے کہ برقی چارج سے کوئی سمت منسلک نہیں ہوتی۔ برقی چارج ایک عددیہ مقدارہے۔
چارج صرف گردش کے تحت ایک غیر سمتیہ (یا غیر متغیرہ)مقدار ہی نہیں ہے،  یہ اضافی حرکت (relative motion)میں حوالہ فریموں (Frames of reference)کے لیے بھی غیر متغیرہ ہے۔ یہ بات ہر عدد یہ مقدار کے لیے ہمیشہ درست نہیں ہوتی۔ مثلا حرکی توانائی ، گردش کے تحت ، ایک عددیہ مقدار ہے لیکن اضافی حرکت کرتے ہوئے حوالہ فریموں کے لیے غیر متغیرہ(Invariant)نہیں ہے۔ 
ایک جدا کیے ہوئے نظام کے کل چارج کی بقا کی خاصیت ، نکتہ 6میں بیان کی گئی چارج کی عددیہ طبع کے تابع نہیں ہے۔ بقا کا مطلب ہوتا ہے، دیے ہوئے حوالہ فریم میں دقت کے ساتھ غیر متغیر ہوتا ۔ ایک مقدار ہو سکتا ہے عددیہ ہو لیکن اس کی بقانہ ہوتی ہو(جیسے ایک جدا کیے ہوئے نظام کاگردشی معیارِ حرکت)۔
برقی چارج کی کوانٹم سازی قدرت کا ایک بنیادی (غیر وضاحت شدہ) قانون ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیت کی کو انٹم سازی، کے لیے کوئی مماثل قانون نہیں ہے۔ 
انطباق کے اصول کو بھی واضح نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی اسے سمتیوں کے جوڑنے کے قانون کے مساوی سمجھنا چاہیے۔ یہ اصول دو باتیں کہتا ہے: ایک چارج پر دوسرے چارج کی وجہ سے لگ رہی قوت ، چارجوں کی موجود گی سے متاثر نہیں ہوتی اور کوئی مزید تین جسم ، چار، جسم ، وغیرہ قوتیں نہیں ہیں، جو صرف اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب دو سے زیادہ چارج ہوں۔ 
10۔ ایک مجرد چارج تقسیم کی وجہ سے پیدا ہونے والے برقی میدان کی تعریف مجرد چارجوں کے مقامات پر نہیں کی جاسکتی۔ ایک مسلسل حجمی چارج تقسیم کے لیے ، برقی میدان کی تعریف تقسیم میں کسی بھی نقطہ پر کی جا سکتی ہے۔ ایک سطحی چارج تقسیم کے لیے ، برقی میدان سطح کے اطراف غیر مسلسل ہے۔ 
11۔ ایک ایسی چارج تشکیل کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان جس کا کل چارج صفر ہو ، صفر نہیں ہوتا ، بلکہ ایسے فاصلوں کے لیے جو چارج تشکیل کے سائز کے مقابلے میں بہت بڑے ہیں، اس تشکیل کا میدان ، واحد چارج کی وجہ سے پیدا ہونے والے میدان کے لیے خاصc-227۔سے زیادہ تیزی سے کم ہوتا ہے۔ ایک برقی دو قطبی اس کی سادہ ترین مثال ہے۔ 

مشق 

1.1۔ دو چھوٹے برقیائے ہوئے کروں کے درمیان کیا برقی قوت ہوگی، جن کے چارج2x10-7cاور3 x10-n cہیں اور جو، ہوا میں ایک دوسرے سے 30  سینٹی میٹرکے فاصلے پر رکھے ہیں۔ 
1.2۔  ہو ا میں رکھے ہوئےc-229چارج کے ایک چھوٹے کرہ پرc-230چارج کے ایک دوسرے چھوٹے کرے کی وجہ سے لگ رہی قوت 0.2Nہے۔(a)دونوں کروں کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟(b)دوسرے کرہ پر پہلے کرہ کی وجہ سے لگ رہی قوت کتنی ہے؟
1.3۔  جانچ کیجیے کہ نسبتc-231غیر ابعادی ہے۔ طبعی مستقلوں کے ایک جدول کی مدد سے اس نسبت کی قدر معلوم کیجیے ۔ یہ نسبت کیا ظاہر کرتی ہے؟ 
1.4۔  (a) اس بیان کے مطلب کی وضاحت کیجیے! ایک جسم کے برقی چارج کی کوانٹم سازی ہوتی ہے۔
(b) کلاں(macroscopic)، یعنی کہ بڑے پیمانے کے چارجوں میں ہم برقی چارج کی کوانٹم سازی کو کیوں نظرانداز کر سکتے ہیں؟ 
1.5۔  جب ایک شیشے کی چھڑ کو سلک کے کپڑے سے رگڑاجاتا ہے تو دونوں پر چارج آجاتے ہیں۔ اسی قسم کا مظہر اجسام کے کئی دوسرے جوڑوں میں بھی دیکھا جا تا ہے۔ وضاحت کیجیے کہ یہ مشاہدہ ، چارج کی بقا کے قانون سے کس طرح ہم آہنگ ہے۔ 
1.6۔ 10 cm ۔ضلع کے ایک مربع ABCDکی راسوں پر چار نقطہ چارج: c-233c-232رکھے ہوئے ہیں۔ مربع کے مرکز پر رکھے ہوئے c-234پر کتنی قوت لگے گی؟
1.7۔  (a)ایک برقی سکونی۔ میدانی خط ایک مسلسل منحنی ہے۔ یعنی کہ ایک برقی خط اچانک ٹوٹ نہیں سکتا۔ کیوں نہیں؟
(b) وضاحت کیجیے کہ دو میدانی خطوط کبھی بھی، کسی نقطہ پر بھی، ایک دوسرے کو قطع نہیں کرتے ۔
1.8۔  دو نقطہ چارج:c-235خلاء میں ایک دوسرے سے 20cmفاصلے پر رکھے ہیں۔
(a) دونوں چارجوں کو ملانے والے خطABکے وسطی نقطہOپر برقی میدان کیا ہوگا؟
(b) اگر اس نقطہ پرc-236عددی قدر کا ایک منفی ٹیسٹ چارج رکھا جائے تو اس ٹیسٹ چارج پر کتنی قوت لگے گی؟
1.9۔  ایک نظام دو چارجوں،c-237پر مشتمل ہے جو، بالترتیب نقطہc-238پر رکھے ہوئے ہیں۔ اس نظام کے کل چارج اور برقی دو قطبی معیارِ اثر کیا ہیں؟ 
1.10۔ ایک برقی دو قطبی، جس کا دو قطبی معیارِ اثرc-239۔عددی قدر کے ہموار برقی میدان کی سمت سےc-240 کا زاویہ بنا تا ہے۔ دوقطبی پر لگ رہے قوت گردشہ کی عددی قدر کا حساب لگائیے ۔ 
1.11۔  ایک پالی تھین کے ٹکڑے کو جب اون سے رگڑا جاتا ہے تو اس پرc-241کا منفی چارج پایا جاتا ہے۔ 
(a) منتقل ہونے والے الیکٹرانوں کی تعداد کا تخمینہ لگائیے (منتقلی کس سے کس پر ہوئی؟)
(b) کیا اون سے پالی تھین پر کمیت کی منتقلی بھی ہوگی؟
1.12۔(a)۔دو حاجز کیے ہوئے (insulated)چارج شدہ تانبہ کے کروںAاور Bکے مرکزوں کے درمیان 50cm فاصلہ ہے۔ان کے درمیان برق سکونی دفاع کی قوت کیاہوگی، اگر ان میں سے ہر ایک پرc-242چارج ہو؟Aاور Bکے نصف قطر، ان کے درمیان فاصلے کے مقابلے میں نظر انداز کیے جا سکتے ہوں۔
(b)    اگر ہر کرہ پر (a)میں دیے ہوئے چارج سے دگنا چارج کردیا جائے اور درمیانی فاصلے کو آدھا کر دیا جائے تو دفاع کی قوت کیا ہوگی؟ 
1.13۔فرض کیجیے کہ مشق 1.12کے کروں کے سائز متماثل (identical)ہیں۔ ایک یکساں سائز کا تیسرا کرہ، جو چارج کیا ہوا نہیں ہے، پہلے کرہ سے تماس میں لایا جاتا ہے، پھر دوسرے کرہ سے تماس میں لایا جاتا ہے اور پھر اسے ہٹا لیا جاتا ہے۔ Aاور Bکے درمیان نئی قوت دفع کیا ہوگی؟ 
1.14۔شکل 1.33میں تین چارج شدہ ذرات کے ایک ہموار برق سکونی میدان میں حرکت خط دکھائے گئے ہیں۔ تینوں چارجوں کی علامتیں بتائیے۔ کس ذرہ کی چارج سے کمیت کی نسبت سب سے زیادہ ہے؟ 

96

شکل 1.33
1.15۔ ایک ہموار برقی میدانE=3x10iN/Cلیجیے۔ (a)اس میدان کا 10 cmکے مربع کے اس ضلع سے گذرنے والا فلکس کیا ہوگا، جس کا مستوی، yzمستوی کے متوازی ہے(b) اسی مربع سے گذرنے والا فلکس کیا ہوگا، اگر اس کے مستوی پر عمود، -x۔محور سے60oکا زاویہ بناتا ہے؟
1.16۔مشق 1.15کے ہموار برقی میدان کا 20 cmضلع کے مکعب سے گذرنے والا کل فلکس کیا ہوگا جب کہ مکعب کی تشریق اس طرح کی گئی ہے کہ اس کے رخ، کو آرڈی نیٹ مستویوں کے متوازی ہیں؟
1.17۔ایک سیاہ بکس کی سطح پر احطیاط کے ساتھ کی گئی برقی میدان کی پیمائش ظاہر کرتی ہے کہ بکس کی سطح سے کل باہر کی جانب فلکس8.0x103Nm2/c-1ہے۔   (a) بکس کے اندر کل چارج کتنا ہے(b)اگر بکس کی سطح سے باہر کی جانب کل فلکس صفر ہوتو کیا آپ اخذ کر سکتے ہیں کہ بکس کے اندر کوئی چارج نہیں ہیں؟ ہاں تو کیوں اور نہیں تو کیوں؟
1.18+10ucکا ایک نقطہ چارج،10cm۔ضلع کے ایک مربع کے مرکز کے بالکل اوپر کی جانب 1.5 cmکے فاصلے پر ہے، جیساکہ شکل 1.34میں دکھا یا گیا ہے۔ مربع سے گذرنے والے برقی فلکس کی عددی قدر کیا ہوگی؟ (اشارہ: مربع کو ایسے معکب کا ایک رخ تصور کریں، جس کا ایک ضلع 10 cm ہے۔)
97



شکل 1.34
1.19۔2.0ucکا ایک نقطہ چارج،9cm کنارے کی مکعب نما گاس سطح کے مرکز پر ہے۔ سطح سے گذرنے والا کل برقی فلکس کیا ہے؟ 
1.21۔10 cmنصف قطر کے ایک ایصالی کرہ پر ایک نا معلوم چارج ہے۔ اگر کرہ کے مرکز سے 20 cm فاصلے پر برقی میدان کی عددی قدر1.5x103N/cہے اور برقی میدان نصف قطری سمت میں اندر کی جانب ہے، تو کرہ پر کل چارج کیا ہے؟ 
1.22۔ایک2.4mقطر کے ہموار طور پر چارج شدہ ایصالی کرہ کی سطحی چارج کثافت80.0uc/m2ہے (a)کرہ پر چارج معلوم کیجیے۔ (b)کرہ کی سطح سے باہر نکلنے والا کل برقی فلکس کتنا ہے؟ 
1.23۔ ایک لامتناہی خطی چارج،2 cmکے فاصلے پر 9x104Ncکا برقی میدان پیدا کرتا ہے۔ خطی چارج کثافت معلوم کیجیے ۔
1.24۔ دو بڑی ، پتلی دھاتی چادریں ایک دوسرے کے متوازی ہیں اور ایک دوسرے کے نزدیک رکھی ہوئی ہیں۔ ان کے اندونی رخوں پر سطحی چارج کثافتیں مخالف علامتوں کی ہیں اور ان کی عددی قدر17..0x1022c/m2ہے۔Eیا ہے؟ (a) پہلی چادر کے  باہری علاقے میں(b)دوسری چادر کے باہری علاقے میں (c)دونوں چادروں کے درمیانی علاقے میں۔
مزید مشق 
1.25  12اضافی الیکڑانوں کے ایک تیل کے قطرے کو2.55X104Nc-1کے برقی میدان میں، (ملیکن کا تیل قطرہ تجربہ) ساکت رکھا جاتا ہے۔ تیل کی کثافت 1.26g cm-4ہے۔ قطرہ کے نصف قطر کا تخمینہ لگائیے ۔ ۔g=9.81m s=e=1.60x 10;c
1.26۔ شکل 1.35میں دکھائے گئے منحنیوں میں سے کون سے منحنی برق سکونی میدانی خطوط کو نہیں ظاہر کرسکتے ۔ 

(e) (d) (c) (b) (a) موصل (Conductor)



98

99

شکل 1.35

1.27۔ فضا کے ایک علاقے میں ہر جگہ برقی میدان -zسمت کی جانب ہے۔ لیکن برقی میدان کی عددی قدر مستقلہ نہیں ہے، بلکہ مثبت -z سمت کی جانب 105 NC -1فی میٹر کی شرح سے ہموار طور پر بڑھتی ہے۔ ایسے نظام پر لگ رہی قوت اور قوت گردشہ کیا ہوں گی، جسکا کل دوقطبی معیارِ اثر 10-7c/mکے مساوی، منفی-z سمت میں ہے۔ 
1.28۔ (a)ایک موصل کو ، جس میں ایک جوف ( Cavity)ہے، جیسا کہ شکل 1.36(a)میں دکھا یا گیا ہے، چارج Qدیا گیا ہے۔ دکھائیے کہ کل چارج کو موصل کی باہری سطح پر ظاہر ہونا لازمی ہے۔ (b)چارج qوالے ایک دوسرے موصل Bکو جوف میں داخل کیا گیاہے، جب کہ Bکو Aسے حاجزکردیا جاتا ہے۔ دکھائیے کہ Aکی باہری سطح پر کل چارج Q +qہے۔]شکل1.36(b) [ (c)ایک حساس آلہ کو اس کے ماحول میں موجود طاقت ور برق ۔ سکونی میدان سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس کے لیے سپر(Shield)کرنے کا ممکن طریقہ تجویز کیجیے۔ 
(b) (a)


100

شکل 1.36
1.29۔ ایک کھوکھلے چارج کیے ہوئے موصل کی سطح میں ایک چھوٹا سا سوراخ ہے۔ دکھائیے کہ سوراخ میں برقی میدان101ہے،جہاںnباہری عمودی سمت میں اکائی سمتیہ ہے۔ اورoسوراخ کے نزدیک ، سطحی چارج کثافت ہے۔
1.30۔ گاس کا قانون استعمال کیے بغیر ، ہموار خطی چارج کثافتrکے ایک لمبے پتلے تارکی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان حاصل کیجیے۔ (اشارہ : براہِ راست کولمب کا قانون استعمال کیجیے اور ضروری تکملہ کیجیے)
1.31۔ اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ پروٹان اور نیو ٹران (جوعام مادے کے نیو کلیسوں کی تشکیل کرتے ہیں)خود ، مزید بنیادی اکائیوں سے بنے ہوئے ہیں، جنھیں کو آرک (quark)کہتے ہیں۔ ایک پروٹان اور ایک نیوٹران میں سے ہر ایک تین کو آرکوں سے بنا ہوتا ہے۔ دو قسم کے کوآرک ، جو اپ کو آرک کہلاتے ہیں (up quark) (جسے Uسے ظاہر کرتے ہیں)اور ڈاؤن کو آرک (Down quark)جسے dسے ظاہر کرتے ہیں) اور جن کے چارج بالترتیب 103 ہیں ، الیکٹرانوں کے ساتھ عام مادہ کی تعمیر کرتے ہیں۔ (دوسری قسموں کے کوآرک بھی پائے گئے ہیں جو مادے کی مختلف اور انوکھی قسمیں دیتے ہیں)۔ ایک پروٹان اور ایک نیو ٹران کے لیے ممکنہ کو آرک ترکیب تجویز کیجیے۔ 
1.32۔ (a)۔ ایک اختیاری برق ، سکونی میدان تشکیل لیجیے۔ ایک چھوٹا ٹیسٹ چارج تشکیل کے ایک معدوم نقطہ (null point)(یعنی کہ جہاں E = ہے)پر 0رکھا گیا ہے۔ دکھائیے کہ ٹیسٹ چارج کا توازن یقینی طور پر غیر مستحکم ہے۔ 
(b)اس نتیجہ کی تصدیق دو چارجوں کی اس سادہ تشکیل کے لیے کیجیے ، جس میں دونوں چارجوں کی عددی قدریں اور علامتیں یکساں ہیں اور وہ ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر رکھے ہوئے ہیں۔
1.33۔ کمیتmاو رچارج(-q)کا ایک ذرہ دو چارج کی ہوئی چادروں کے درمیانی علاقے میں داخل ہوتا ہے اور شروع میں –xمحور کی سمت میںux چال سے حرکت کرتا ہے (شکل 1.33میں ذرہ 1کی طرح)۔ چادر کی لمبائیL  ہے اور چادروں کے درمیان ہموار برقی میدان Eقائم رکھا جا تا ہے۔ دکھائیے کہ چادر کے دور والے کنارے پر ذرہ کا انتصابی انفراج (Vertical direction)104ہے۔ 
اس حرکت کاموازنہ، XI جماعت کی طبیعیات کی درسی کتاب کے حصہ 4.10 میں بیان کی گئی ، مادی کشش میدان میں ایک پروجیکٹائل کی حرکت سے کیجیے۔ 
1.34۔ فرضکیجیے کہ مشق 1.33میں ذرہ ایک الیکٹران ہے جسے چالux=2 0 x106 ms-1سے پھینکا گیا ہے۔ اگر 0.5cm درمیانی فاصلے پر رکھی ہوئی چادروں کے درمیان9.1 x102N/C,Eہے ، تو الیکٹران اوپری چادر سے کہاں ٹکرائے گا؟ 
⌊lel=1.6x 10-19 c,m1 =9.1x1031 kg⌋