Skip to content
12-Tabiyaat-I(Physics)-008



باب3

کرنٹ برق

(CURRENT ELECTRICITY)

3.1تعارف(Introduction)

باب1میں ہم نے تمام چارجوں کوچاہے وہ آزاد ہوںیا بندھے ہوئے ہوں،حالت سکون میں مانا تھا۔حرکت کرتے ہوئے چارج برقی رو(Electric Current)تشکیل دیتے ہیں۔یہ کرنٹ(برقی رو)کئی صورتوں میں قدرتی طورپر ظاہر ہوتے ہیں۔بجلی کا کڑکنا یا گرنا(Lightning)ایسا ہی ایک مظہر ہے،جس میں چارج،بادلوں سے،فضا سے ہوتے ہوئے،زمین تک پہنچتے ہیں اور اکثر اس سے شدید نقصان بھی پہنچتا ہے۔بجلی کے کڑکنے یا گرنے میں چارجوں کا بہائو ،قائم (steady flow)نہیں ہوتا،لیکن ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سے ایسے آلے دیکھتے ہیں،جن میں چارج قائم طرز پر بہتے ہیں،جیسے کہ ایک دریا میں پانی روانی کے ساتھ بہتا ہے۔ایک ٹارچ اور سیل سے چلنے والی ایک گھڑی ،ایسے آلوں کی مثالیں ہیں—اس باب میں ہم قائم برقی کرنٹ(Steady Electric Current)سے متعلق کچھ بنیادی قوانین کا مطالعہ کریں گے۔

3.2برقی کرنٹ(Electric Current)

ایک چھوٹا رقبہ تصور کیجیے،جسے چارجوں کے بہائو کے عمودی رکھاگیاہے۔مثبت اور منفی،دونوں قسم کے چارج،اس رقبہ سے آگے اور پیچھے کی سمت میں بہہ سکتے ہیں۔ایک دیے ہوئے وقفہ وقت tمیں،فرض کیجیےکہ +qمثبت چارج کی وہ کل مقدار ہے،جو رقبہ سے،آگے کی جانب بہتی ہے(آگے کی جانب بہنے والی مقدار میں سے پیچھے کی جانب بہنے والی مقدار نفی کرکے)۔اسی طرح ،مان لیجیے کہ-q‘منفی چارج کی وہ کل مقدار ہے،جو رقبہ سے،آگے کی جانب بہتی ہے اس طرح،وقفہ وقت tمیں،رقبہ سے آگے کی جانب بہنے والے کل چارج کی مقدارq =q1-qیہ قائم بہائو کے لیےt کے متناسب ہے اور حاصل تقسیم

4

کی تعریف آگے کی سمت میں رقبہ سے گذرنے والے کرنٹ کے بہ طور کی جاتی ہے۔(اگر یہ ایک منفی عدد حاصل ہوتا ہے،تو اس کا مطلب ہے کہ کرنٹ پیچھے کی سمت میں ہے)۔

کرنٹ ہمیشہ قائم نہیں ہوتے،اس لیے زیادہ عمومی شکل میں ہم کرنٹ کی تعریف ایسے کرتے ہیں:فرض کیجیے وقفہ وقتمیں ایک موصل کے ایک تراشہ سے بہنے والا کل چارج5ہے[یعنی کہ،وقت tاور وقت6کے دوران)۔تب وقتtپر،موصل کے اس تراشہ سے بہہ رہے کرنٹ کی تعریف،7کی نسبت کی قدر کی شکل میں کی جاتی ہے،جب کہ یہ حد لی جائے کہ 9صفر کی جانب ہے۔

8

SI اکائیوں میں،کرنٹ کی اکائی اِمپیر(ampere)ہے۔ایک امپیر کی تعریف کرنٹ کے مقناطیسی اثرات کی شکل میں کی جاتی ہے،جنھیں ہم اگلے باب میں پڑھیں گے۔ایک امپیر کی عددی قدر کا درجہ،عام گھریلو آلات میں استعمال ہونے والے کرنٹ کے مساوی ہے۔ایک اوسط درجہ کی بجلی کے کڑکنے(یا گرنے)میں امپیر کے دسوں یا ہزاروں درجے کا کرنٹ شامل ہوتا ہے اور دوسری طرف ہماری نسوں میں بہنے والا کرنٹ مائیکرو امپیر میں ہوتا ہے۔

3.3موصلوں میں برقی کرنٹ(Electric Currents in Conductors)

اگر ایک برقی میدان لگایاجائے تو ایک برقی چارج ایک قوت محسوس کرے گا۔اگر وہ حرکت کرنے کے لیے آزاد ہے،تو وہ حرکت کرے گا اور اس طرح کرنٹ پیدا کرنے میں حصہ لے گا—قدرت میں،آزاد چارج ذرات پائے جاتے ہیں،جیسے کہ فضا(Atmosphare)کے اوپری حصے میں،جو کرہ آیونیہ(ionosphre)کہلاتاہے لیکن،ایٹموں اور مالیکیولوں میں،منفی چارج شدہ الیکٹران اور مثبت چارج شدہ نیوکلیس،ایک دوسرے سے بندھے ہوتے ہیں اور اس لیے حرکت کرنے کے لیے آزاد نہیں ہوتے—حجمی مادہ(Bulk matter)،بہت سے مالیکیولوں سے بنا ہوتا ہے۔مثلاً 1گرام پانی میں تقریباً 1022مالیکیول ہوتے ہیں۔یہ مالیکیول اتنے پاس پاس ہوتے ہیں کہ الیکٹران کسی ایک انفرادی مالیکیول سے منسلک نہیں ہوتے۔کچھ مادی اشیا میںالیکٹران اس صورت میں بھی بندھے ہوں گے،یعنی کہ،ایک برقی میدان لگائے جانے پر بھی ان میں اسراع نہیں ہوگا۔کچھ دوسری مادی اشیا میں،خاص طورپر دھاتوں میں،کچھ الیکٹران حجمی مادے کے اندر حرکت کرنے کے لیے عملی طورپر آزاد ہوتے ہیں۔یہ مادی اشیا،جو عام طورپر موصل کہلاتی ہیں،جب ایک برقی میدان لگایاجاتا ہے تو اپنے اندر برقی کرنٹ پیدا کرلیتی ہیں۔

اگر ہم ٹھوس موصلوں کو لیں،تو ظاہر ہے کہ ایٹم ایک دوسرے سے سختی کے ساتھ بندھے ہوں گے اور کرنٹ منفی چارج شدہ الیکٹرانوں کے ذریعے بہے گا۔لیکن کچھ دوسرے قسم کے موصل بھی ہیں،جیسے برق پاشیدہ محلول(Electrolytic solutions)،جن میں مثبت اور منفی دونوں قسم کے چارج حرکت کرسکتے ہیں۔ہم اپنی بحث میں،صرف ٹھوس موصلوں پر ہی توجہ مرتکز کریں گے۔اس لیے،کرنٹ،اپنی جگہ قائم مثبت چارجوں کے پس منظر میںصرف منفی چارج شدہ الیکٹرانوں کے ذریعے ہی بہے گا۔

11

شکل 1۔3 ایک دھاتی استوا نے کے سروں پرچارجج +اور Q رکھے گئے ہیں ان کے ذریعے پیدا ہوئے برقی میدان کی وجہ سے الیکٹران بہیں گے اور چار جوں کی تعدیل کریں گے اس لیے کچھ دیر بعد کرنٹ بہنا بند ہو جا ئے کا جب تک کہQ+اورQ-کو لگاتار نہ بھرا جا تا ہے

پہلی وہ صورت لیجیے،جس میںکوئی میدان نہیں لگایا گیا ہے۔الیکٹران،حرارتی حرکت کی وجہ سے حرکت کررہے ہوں گے،جس میں وہ اپنی جگہ قائم آئنوں سے تصادم کرتے ہیں۔ایک الیکٹران ایک آئن سے تصادم کے بعد اسی چال سے حرکت کرتاہے،جس سے وہ تصادم سے پہلے حرکت کررہا تھا۔لیکن تصادم کے بعد،الیکٹران کی رفتار کی سمت بالکل بے ترتیب ہے۔ایک دیے ہوئے و قت پر،الیکٹران کی رفتاروں کی کوئی ترجیحی سمت نہیں ہے۔اس لیے،اوسطاً ،کسی بھی ایک سمت میں حرکت کرہے الیکٹرانوں کی تعداد،اس کی مخالف سمت میں حرکت کررہے الیکٹرانوں کی تعداد کے مساوی ہوگی۔اس طرح،کوئی کل برقی کرنٹ نہیں ہوگا۔

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ موصل کے اس ٹکڑے میںمیں کیاہوگا،اگر ایک برقی میدان لگادیاجائے۔اپنے خیالات کو مرتکز رکھنے کے لیے،تصور کیجیے کہ موصل،Rنصف قطر کے استوانے کی شکل میں ہے(شکل3.1)

فرض کیجیے ہم ایک دو برقیہ(dielectric)کی یکساں نصف قطر کی دو قرصیں(Discs)لیتے ہیں اور ایک قرص پر مثبت چارج +Qپھیلادیتے ہیں اور دوسری قرص پر منفی چارج-Qپھیلادیتے ہیں۔ہم ان دونوں قرصوں کو استوانے کی سپاٹ سطحوں سے منسلک کردیتے ہیں۔ایک برقی میدان پیدا ہوگا،جس کی سمت مثبت چارج سے منفی چارج کی جانب ہوگی۔اس میدان کی وجہ سے الیکٹران‘ +Q کی طرف اسراع پذیر ہوں گے۔اس طرح وہ چارجوں کی تعدیل کردیں گے۔ الیکٹران،جب تک بھی وہ حرکت کررہے ہیں،کرنٹ تشکیل کریں گے۔اس لیے اس صورت میں ،بہت تھوڑی دیر کے لیے کرنٹ بہے گا اور اس کے بعد کوئی کرنٹ نہیں ہوگا۔

ہم ایک ایسا میکینزم(Mechanism)بھی تصور کرسکتے ہیں،جس کے ذریعے استوانے کو،موصل کے اندر حرکت کرہے الیکٹرانوں کی وجہ سے تعدیل ہوجانے والے چارجوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے،نئے چارج مہیا ہوتے رہیں۔اس طرح سے ہمیں ایک مختصر وقفہ وقت کے بجائے ایک مسلسل کرنٹ ملے گا۔ایسے میکانزم،جن کے ذریعے ایک قائم برقی میدان برقرار رکھا جاتا ہے،سیل یا بیٹریاں ہیں،جن کا مطالعہ ہم اس باب میں بعد میں کریں گے۔

3.4اوم کا قانون(Ohm’s Law)

کرنٹ کے بہائو سے متعلق ایک بنیادی قانون جی۔ایس۔اوم(G.S.Ohm)نے1828میں دریافت کیا۔یہ دریافت اس سے بھی بہت پہلے ہوئی جب کرنٹ کے بہائو کے لیے ذمہ دارمیکانزم دریافت ہوا۔ایک موصل تصور کریں ،جس میں سے ایک کرنٹIبہہ رہا ہے اور فرض کریں کہ موصل کے سروں کے درمیان مضمر فرق Vہے۔تب،اوم کے قانون کا بیان ہے:

V∞1

V =R1   (3.3)

جہاں متناسبیت کا مستقلہR‘موصل کی مزاحمت(Resistance)کہلاتا ہے۔مزاحمت کیSIاکائی،اوم (Ohm) ہے،جسے علامت15سے ظاہر کرتے ہیں۔مزاحمتR‘نہ صرف موصل کے مادے کے تابع ہے بلکہ موصل کے ابعاد کے بھی تابع ہے۔Rکا موصل کے ابعاد پر تابع ہونا مندرجہ ذیل طورپربہ آسانی معلوم کیاجاسکتا ہے!

13


شکل3.2

:لمبائی l اور تراشی رقبہAکی مستطیل نما سِل کے لیے رشتہ:14کا اظہار 

لمبائی lاورتراشی رقبہAکی سل(Slab)کی شکل کا (شکل3.2(a))ایک موصل لیں،جو مساوات(3.3)کو مطمئن کرتا ہو۔تصور کیجیے کہ ایسی دو متماثل سلیں،ساتھ اتھ اس طرح رکھی ہوئی ہیں کہ اجتماع(Combination)کی لمبائی 2l ہے (شکل3.2(b))۔اجتماع سے بہنے والا کرنٹ،وہی ہوگا جو کسی ایک سِل سے بہنے والا کرنٹ ہے۔اگر پہلی سِل کے سروں کے درمیان مضمر فرق Vہے تو دوسری سِل کے سروں کے درمیان بھی مضمر فرق Vہوگا،کیونکہ دوسری سِل،پہلی سِل کے متماثل ہے اور دونوں میں سے یکساں کرنٹ بہہ رہا ہے۔اجتماع کے سروں کے درمیان مضمر فرق ظاہر ہے کہ دو انفرادی سِلوں کے سروں کے درمیان مضمر فرقوں کا حاصل جمع ہوگا ،اور اس لیے یہ2Vہے۔

  اجتماع سے گذرنے والا کرنٹIہے اور اجتماع کی مزاحمتRcہے۔مساوات(3.3)سے:

17

کیونکہ:18،کسی ایک سِل کی مزاحمت ہے۔اس طرح،موصل کی لمبائی کو دگنا کردینے سے مزاحمت دگنی ہوجاتی ہے۔اس لیے،عمومی طورپر،مزاحمت،لمبائی کے متناسب ہے:

19


20

چارج سائمناوم (1787—1854)جرمن ماہر طبیعات ،میونخ یونیورسٹی کے پروفیسر،اوم اپنے قانون تک حرارت کی ایصالیت کی مماثلت کے ذریعے پہنچے—برقی میدان، درجہ حرارت ڈھال(Temperature gradient) کے مماثل ہے اور برقی کرنٹ،حرارت کے بہائو کے مماثل ہے۔

اب تصور کیجیے کہ سِل کو،لمبائی کی جانب کاٹ کر دو برابر حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔اس طرح سِل کو لمبائیlاور تراشی رقبہ 21کی  دو متماثل سِلوں کا اجتماع مانا جا سکتا ہے۔(شکل3.2(c))۔

سِل کے سروں کے درمیان ایک دی ہوئی وولٹیج Vکے لیے،اگرIپوری سِل میں سے گذرنے والا کرنٹ ہے تو ظاہر ہے کہ دونوں نصف سِلوں میں سے ہر ایک میں سے گذرنے والا کرنٹ22.ہوگا۔کیوں کہ نصف سلوں کے کناروں کے درمیان مضمر فرقVہے،یعنی کہ اتنا ہی جتنا پوری سِل کے سروں کے درمیان ہے،اس لیے ہر نصف سِل کی مزاحمت R1.ہے!

24

اس لیے،ایک موصل کا تراشی رقبہ نصف کردینے سے اس کی مزاحمت دگنی ہوجاتی ہے۔عمومی شکل میں،مزاحمتR‘تراشی رقبہ کے معکوس متناسب ہے۔

26

مساوات(3.5)اور مساوات(3.7)کو اکٹھا کرنے پر

27

اس لیے،ایک دیے ہوئے موصل کے لیے:

28

جہاں متناسبیت کا مستقلہP30،موصل کے مادے کے تابع ہے،لیکن ابعاد کے تابع نہیں ہے۔P30نوعی مزاحمت [مزاحمیت(Resistivity)]کہلاتی ہے۔

آخری مساوات استعمال کرنے پر،اوم کا قانون یہ شکل اختیار کرلیتا ہے:

29

کرنٹ فی اکائی رقبہ(جسے کرنٹ پر عمودی لیاجاتا ہے)،31کرنٹ کثافت کہلاتی ہے اور اسے علامت Jسے ظاہر کرتے، ہیں۔کرنٹ کثافت کیSIاکائیاں Am-2 ہیں۔مزید،اگرE‘اس موصل میں جس کی لمبائی lہے،ہموار برقی میدان کی عددی قدر ہے،تو اس موصل کے سروں کے درمیان مضمر فرق V‘Elہے۔انھیں استعمال کرکے‘آخری مساوات ہوجاتی ہے!

E L =J PL

یا

E =J P        (3.11)

Eاورj کے لیے مندرجہ بالا رشتہ سمتی شکل میں بھی لکھا جاسکتا ہے۔کرنٹ کثافت(جسے ہم نے کرنٹ کے عمودی اکائی رقبہ سے گذرنے والے کرنٹ کے بہ طور معرف کیا ہے)بھیeکی جانب ہے اور یہ بھی سمتیہ34ہے۔اس لیے آخری مساوات لکھی جاسکتی ہے:

35

جہاں‘36‘ایصالیت کہلاتی ہے۔اوم کا قانون مساوات(3.3)کے علاوہ معادل شکل مساوات(3.13)میں بھی لکھاجاتا ہے۔اگلے حصے میں ہم اوم کے قانون کے اصل ماخذ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جو کہ الیکٹرانوں کی باد آوردگی (Drift)ہے۔


3.5الیکٹرانوں کی بادآوردگی اور مزاحمیت کا ماخذ

(Drift of Electrons and the Origin of Resistivity)

جیسا کہ پہلے بتا یاجا چکا ہے ایک الیکٹران اپنی جگہ قائم بھاری آئنوں سے تصادم کرے گا‘لیکن تصادم کے بعد بھی اس کی چال یکساں رہے گی لیکن سمت بے ترتیب ہوگی۔اگر ہم تمام الیکٹرانوں کو لیں،تو ان کی اوسط رفتار صفر ہوگی،کیونکہ ان کی سمتیں بے ترتیب ہیں۔اس لیے،اگر ہمارے پاسNالیکٹران ہیں اورithالیکٹران(2=1,2,......,N)کی رفتار‘ایک دیے ہوئے وقت پر‘37ہے‘تب

38

اب وہ صورت لیں‘جب ایک برقی میدان موجود ہے۔اس میدان کی وجہ سے الیکٹرانوں میں اسراع41پیدا ہوگا!

39

جہاں-eالیکٹران کا چارج اور mاس کی کمیت ہے۔پھر‘ایک دیے ہوئے وقت پرJthالیکٹران لیں۔اس الیکٹران کا آخری تصادم tسے کچھ وقت پہلے ہوا ہوگا اور فرض کیجیے کہ آخری تصادم کے بعد گذرنے والاوقتt1ہے۔اگر آخری تصادم کے بعد فوراً بعد‘اس کی رفتار44تھی‘تو وقتtپراس کی رفتار45ہے:

46

47

شکل 3.3:  ایک الیکٹرن کا نقطہ A سے نقطہ Bتک متواتر تصادموں اور مستقیم خط کے ذریعے حرکت کرنے کا نقشہ(سالم خطوط)۔جیساکہ دکھایاگیاہے،اگر ایک برقی میدان لگایا جائے تو الیکٹران نقطہ Bپر اپنا سفر ختم کرتا ہے(ٹوٹا ہواخط)برقی میدان کے مخالف ایک تھوڑی سی بادآوردگی دکھائی دیتی ہے۔

کیونکہ اپنے آخری تصادم کے بعد سے حرکت شروع کرتے ہوئے یہ مساوات(3.15)سے دیے گئے اسراع سے‘وقفہ وقت t1تک‘اسراع پذیر رہا ہے (شکل3.3)—وقتtپر الیکٹرانوں کی اوسط رفتار‘تمام48کا اوسط ہوگی۔تمام49کا اوسط صفر ہے[مساوات(3.14)]‘کیونکہ کسی بھی تصادم کے فوراً بعد‘ایک الیکٹران کی رفتار کی سمت مکمل طورپر بے ترتیب ہے۔الیکٹرانوں کے تصادم ایک باقاعدہ وقفہ وقت کے ساتھ نہیں ہوتے بلکہ بے ترتیب وقتوں پر ہوتے رہتے ہیں۔فرض کیجیے،دو متواتر(Successive)تصادموں کے درمیان اوسط وقفہ کو ہمrسے ظاہر کرتے ہیں۔اس لیے ایک دیے ہوئے وقت پر کچھ الیکٹرانrسے زیادہ وقت گذار چکے ہوں گے اور کچھ rسے کم۔دوسرے لفظوںمیں‘مساوات(3.16)میںt,جب ہم i=1.2....N تمام قدریں لیں گے تو‘کچھ کے لیےrسے کم ہوگا اور کچھ کے لیے rسے زیادہ ہوگا۔ابtiکی اوسط قدرrہے۔اس لیے مساوات(3.16)کی Nالیکٹرانوں کے لیے اوسط قدر معلوم کرنے سے ہمیں‘کسی بھی دیے ہوئے و قت tپر،اوسط رفتار53حاصل ہوگی۔

54

یہ آخری نتیجہ تعجب خیز ہے۔یہ بتاتا ہے کہ الیکٹران جس اوسط رفتار سے حرکت کرتے ہیں وہ وقت کے غیر تابع ہے،حالانکہ الیکٹرانوں پر اسراع کام کررہا ہے۔یہی بادآوردگی کا مظہر ہے اور مساوات(3.17)میں رفتار57‘بادآورد رفتار(drift velocity)کہلاتی ہے۔

55

شکل3.4:ایک دھاتی موصل میں کرنٹ—ایک دھات میں کرنٹ کثافت کی عدد قدر‘اکائی رقبہ اور 56لمبائی کے استوانے میں پائے جانے والے چارج کی مقدار ہے۔


بادآوردگی کی وجہ سے،eکی عمودی سمت میںکسی بھی رقبہ پر‘چارجوں کا کل حمل(Net Transport)ہوگا۔یاایک مسطح رقبہAلیجیے‘جو موصل کے اندر ایسے مقام پر ہے کہ رقبہ پر عمود‘کے متوازی (شکل3.4)۔تب بادآوردگی کی وجہ سے،ایک لاانتہاخفیف وقفہ وقت میں‘رقبہ کے بائیں جانب کے‘فاصلہ 58تک کے تمام الیکٹران رقبہ سے گذر چکے ہوں گے۔اگرn‘دھات میں آزاد الیکٹران فی اکائی حجم کی تعداد ہے‘تب ایسے59الیکٹران ہوں گے۔کیونکہ ہر الیکٹران کا چارج(-e)ہے‘اس لیے اس رقبہ سے دائیں طرف‘وقت60میں حمل کیاگیاکل چارج61ہے۔Eکیونکہ بائیں جانب ہے‘اس لیےeکی جانب حمل ہوا چارج اس کا منفی ہوگا۔اس لیے رقبہAسے وقت 60 میں گذرنے والے چارج کی مقدار‘تعریف کے مطابق[مساوات(3.2)] ہے‘جہاںI‘کرنٹ کی عددی قدر ہے۔اس لیے

101

مساوات3۔17 سے 103 کی قدررکھنے پر

105

تعریف کے مطابق۔1 کا کرنٹ کثافت کی عدد قدر  106سے رشتہ ہے

107

اس لیے مساوات  3۔19 اور 20۔3 سے

108

سمتیہ 109 متوازی ہے اس لیے ہم مساوات 23۔3 کو سمتیہ شکل میں لکھتے ہیں

110

(23۔3) سے مقابلہ کرنے پر معلوم ہوتہ ہے کہ مساوات (22۔2) قطعی طور پر اوم کا ہی قانون ہے اگر ہم کو شناخت کریں بہ طور

111

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ برقی ایصالیت کی ایک سادہ تصویر سے اوم کا قانون حاصل ہوجاتا ہے ہاں ہم نے یہ مفروضے بے شک قائم کیے ہیں کہ50اور nمستقلہ ہیں اورeکے غیر تابع ہیں۔ہم اگلے حصہ میں اوم کے قانون کی محدودیت سے بحث کریں گے۔

مثال3.1 (a)تراشی رقبہ1.o x10-7m2 کے تابنہ کے تار میں1.5Aکاکرنٹ گذررہا ہے۔ایصالی الیکٹرانوں کی اوسط بادآورچال کا تخمینہ لگائیے۔مان لیجیے کہ تانبہ کا ہر ایٹم‘موٹے طورپر‘Iالیکٹران فراہم کرتا ہے۔تانبہ کی کثافت9.0x10-3 kg/m-3ہے اور اس کی ایٹمی کمیت63.5uہے۔

(b)اوپر حاصل کی گئی بادآورچال کا مقابلہ کیجیے:(i)عام درجہ حرارت پر تانبہ کے ایٹموں کی حرارتی چال سے۔

(ii)جو بادآورحرکت پیدا کررہا ہے‘موصل پر اس برقی میدان کے پھیلنے کی رفتار سے۔

حل:

(a) ایصالی الیکٹرانوں کی بادآوررفتار کی سمت‘برقی میدان کی سمت کے مخالف ہے‘یعنی کہ‘الیکٹران بڑھتے ہوئے مضمر کی سمت میں باد آور ہوتے ہیں۔بادآورچالudمساوات(3.18)سے دی جاتی ہے:

112

اب i=1.5A,A=1.0X10-7m2,1.6X10-19Cایصالی الیکٹرانوں کی کثافت n‘ایٹموں کی تعداد فی مکعب میٹر کے مساوی ہے(ایک ایصالی الیکٹران فی Cuایٹم فرض کرتے ہوئے‘جو کہ اس کی گرفت الیکٹران تعدادIکے لحاظ سے قابل فہم ہے)۔کوپر کے ایک مکعب میٹر کی کمیت9.0x103kgہے کیونکہ 6.0x10 23کو پر ایٹموں کی کمیت63.5gہے:

113

8.5x1028m-3=

جس سے حاصل ہوتا ہے

114

1.1x10-3m s-1 =1.1 mm s-1=

(b) (i)درجہ حرارتTپر‘کمیتMکے ایک تانبہ کے ایٹم کی حرارتی چال *⌊<⁄²⌋Mv2>=3/2kBTسے معلوم کی جاتی ہے اور اس لیے یہ115کے مخصوص درجہ کی ہے‘جہاںKBبولٹزمین کا مستقلہ ہے۔300Kپر تانبہ کے لیے‘یہ تقریباً 2 x 102 m s-1ہے۔یہ عدد ایک موصل میں کو پر ایٹموں کی بے ترتیب ارتعاشی چال(random vibrational speed)کی نشاندہی کرتاہے۔نوٹ کریں کہ الیکٹرانوں کی بادآورچال اس سے بہت کم ہے‘عام درجہ حرارت پر مخصوص حرارتی چال سے تقریباً5-10گناکم۔

(ii)موصل سے گذرتے ہوئے ایک برقی میدان کی چال‘ایک برق—مقناطیسی لہر کی چال ہے‘جو3.0x108ms-1کے مساوی ہے—(آپ اس کے بارے میں باب8میں سیکھیں گے)—اس کے مقابلے میں بادآور چال بہت زیادہ کم ہے11-10کے جزء ضربی سے کم۔


مثال3.2

(a) مثال3.1میں‘الیکٹران باد آور چال کا لگایا گیا تخمینہ‘چند امپیر کی سعت میں کرنٹ کے لیے‘صرف چند67ہے۔پھر کرنٹ سرکٹ کو بند کرتے ہی تقریباً اسی ساعت پر کیسے قائم ہوجاتا ہے؟

(b) الیکٹران کی بادآوری‘ایک موصل کیا اندر برقی میدان کی وجہ سے الیکٹرانوں پر لگ رہی قوت سے پیدا ہوتی ہے۔لیکن قوت کو اسراع پیدا کرنا چاہیے۔پھر الیکٹران ایک قائم اوسط باد آور چال کیسے اختیار کرلیتے ہیں؟

(c) اگر الیکٹران بادآور چال اتنی کم ہے اور الیکٹران کا چارج بھی بہت کم ہے‘تو پھر ہم ایک موصل میں کرنٹ کی بڑی مقدار کیسے حاصل کرلیتے ہیں؟

(d) جب ایک دھات میںالیکٹران،مقابلتاً کم مضمر سے مقابلتاً زیادہ مضمر کی طرف بادآور ہوتے ہیں‘تو کیا اس کا مطلب ہے کہ دھات کے تمام ’’آزاد‘‘الیکٹران یکساں سمت میں حرکت کررہے ہیں؟

(e) کیا متواتر تصادموں(دھات کے مثبت آئنوں کے ساتھ)کے درمیان الیکٹرانوں کے راستے خطوط مستقیم ہوتے ہیں:(i)برقی میدان کی غیر موجودگی میں(ii)برقی میدان کی موجودگی میں۔

حل:

(a) پورے سرکٹ میں برقی میدان تقریباً اسی ساعت پر قائم ہوجاتا ہے(روشنی کی رفتار کے ساتھ)‘جس سے ہر نقطہ پر ایک مقامی الیکٹران بادآوری پیدا ہوتی ہے۔کرنٹ کے قائم ہونے کو‘الیکٹرانوں کے موصل کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کا انتظار نہیں کرتا ہوتا۔گوکہ‘کرنٹ کو اپنی قائم قدر تک پہنچنے میں کچھ مختصر وقت ضرور لگتا ہے۔

(b) ہرآزاد الیکٹران اسراع پذیر ہوتا ہے اور اپنی بادآورچال میں اضافہ کرتا ہے‘جب تک کہ وہ دھات کے ایک مثبت آئن سے نہیں ٹکراتا۔وہ تصادم کے بعد اپنی بادآور چال کھودیتا ہے اور پھر دوبارہ اسراع پذیر ہونا اور اپنی بادآورچال میںاضافہ کرنا شروع کرتا ہے،یہاں تک کہ وہ پھر تصادم کرتا ہے اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔اس لیے،اوسطاً‘الیکٹران صرف بادآور چال ہی اختیار کرتے ہیں۔

(c) سادہ بات ہے،کیونکہ الیکٹران عددی کثافت بہت زیادہ ہے:68

(d) بالکل نہیں،بادآور رفتار‘الیکٹرانوں کی بڑی بے ترتیب رفتاروں پر منطبق ہوتی ہے۔

  (e) برقی میدان کی غیر موجودگی میں،راستے خطوطِ مستقیم ہوتے ہیں۔برقی میدان کی موجودگی میں راستے ،عمومی طورپر‘انحنائی ہوتے ہیں۔

3.5.1روانی(Mobility) 

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں‘ایصالیت رواں چارج برداروں(Mobile charge carriers)کی وجہ سے پیداہوتی ہے۔دھاتوںمیں‘یہ رواں چارج بردار‘الیکٹران ہوتے ہیں‘ایک آئن شدہ گیس (ionized gas)میں یہ الیکٹران اور مثبت چارج شدہ آئن ہوتے ہیں‘ایک برق پاشہ(electricolyte)میں یہ مثبت اور منفی‘دونوں قسم کے ‘آئن ہوسکتے ہیں۔

ایک اہم مقدار روانیuہے‘جس کی تعریف بادآوررفتار کی عددی قدرفی اکائی برقی میدان کے بہ طور کی جاتی ہے:

116

روانی کیSIاکائیm2/Vsجو عملی اکائیوں cm2/Vsکی 104 گنا ہے روانی مثبت ہو تی ہے، مساوات 17۔3 سے ہمارے پاس ہے

117

اس لیے

118

جہاںr ‘الیکٹرانوں کے لیے اوسط تصادم وقت ہے۔

70

شکل3.5:ٹوٹا ہوا خط(Dashed line)‘خطی اوم کے قانون کو ظاہر کرتا ہے۔ٹھوس خط ایک اچھے موصل کے لیے وولٹیج Vبرخلاف کرنٹIمنحنی ہے۔


3.6اوم کے قانون کی محدودیت(LIMITATIONS OF OHM'S LAW) 

حالانکہ اوم کا قانون مادی اشیا کی بہت سی قسموں کے لیے درست پایاگیا ہے،لیکن ایسی مادی اشیا اور آلات (devies) بھی ہیں جو برقی سرکٹ میں استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کے لیےVاورIکی متناسبیت درست نہیں ہے۔یہ انحراف موٹے بطورپر‘مندرجہ ذیل میں سے ایک یا زائد قسموں کے ہیں:

(a)۔ V‘Iکے متناسب رہنا ختم کردیتا ہے۔(شکل(3.5))۔

(b)۔ VاورIکے مابین رشتہ‘Vکی علامت کے تابع ہے۔دوسرے لفظوں میں‘اگرI‘کسی مخصوص Vکے لیے کرنٹ کی قدر ہے‘توVکی عددی قدر کو متعین رکھتے ہوئے،اس کی سمت مخالف کردینے سے،مخالف سمت میںIکی عددی قدر کا مساوی کرنٹ نہیں حاصل ہوتا۔(شکل(3.6))۔ایسا‘مثال کے طورپر‘ڈایوڈ میں ہوتاہے‘جس کا مطالعہ ہم باب 14میں کریں گے

71

شکل3.6ایک ڈایوڈ کا مخصوص منحنی—وولٹیج اور کرنٹ کی مثبت اور منفی قدروں کے لیے مختلف پیمانے ٹوٹ کریں 

72

شکل3.7:کرنٹ کی تبدیلی برخلاف وولٹیج— Ga Asکے لیے۔


(c)۔ VاورI کے درمیان کوئی یکتا(unique)رشتہ نہیںہے۔یعنی کہ‘کرنٹIکی یکساں قدر کے لیےVکی ایک سے زیادہ قدریں ہیں(شکل3.7)GaAsایک ایسی مادی شئے ہے جو ایسا برتائو ظاہر کرتی ہے۔

ایسی مادی اشیا اور آلات جو مساوات(3.3)کی شکل میں دیے گئے اوم کے قانون کی پابندی نہیں کرتے‘الیکٹرانک سرکٹوں میں خوب استعمال کیے جاتے ہیں۔اس باب اور آگے آنے والے چند ابواب میں ہم انھی مادی اشیا کا مطالعہ کریں گے جو اوم کے قانون کی پابندی کرتے ہیں۔


3.7مختلف مادی اشیا کی مزاحمیت

(Resistivity of Various Materials)

مختلف، عام طورپر استعمال ہونے والی‘مادی اشیا کی مزاحمیت کی فہرست جدول3.1میں دی گئی ہے۔مزاحمیت کے بڑھتے ہوئے درجہ کے مطابق‘ان اشیا کی مزاحمیت کی قدروں کی بنیاد پر انھیں بہ طور موصل‘نیم موصل(Semi conductor) اور حاجز(Insulator)درجہ بند کیا گیا ہے۔ دھاتوں کی مزاحمیت کی قدریں)10-8Omسے10-6Omکی سعت میں(کم درجہ کی ہوتی ہیں۔دوسری طرف‘ترابیات(Ceramics)‘ربر اور پلاسٹک جیسے حاجزوں کی مزاحمیت کی قدریں‘دھاتوں سے74گنا(یا اس سے بھی زیادہ)ہوتی ہیں۔ان دونوں کے درمیان نیم موصل آتے ہیں۔لیکن ان کی مزاحمیت کی قدریں‘خصوصی طورپر درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہیں۔

نیم موصلوں کی مزاحمیت کی قدریں،ملاوٹ کی قلیل مقدار کی موجودگی سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔اس آخری خاصیت کا استعمال‘نیم موصلوں کو الیکٹرانک آلات میں استعمال کرنے میں کیا جاتا ہے۔

جدول3.1کچھ مادی اشیا کی نوعی مزاحمتیں


نوعی مزاحمت کا درجہ حرارت ضرب
120
نوعی مزاحمت
119
مادی شئے
0.0041 1.6x10-8 چاندی (Silver)
0.0046 1.7xx10-8 موصل(Copper)
0.0043 2.7x10-* المونیم (Aluminium)
0.0045 5.6x10-8 ٹنگسٹن(Tungsten)
0.0065 10x10-8 لوہا (Iron)
0.0039 11x10-8 پلیٹینم (Platinum)
0.0009 98x10-8 پارہ  (Mercury)
0.0004 -100x10-8 نکروم(Nichrome)
(Ni،Fe،Crکابھرت)
0.002 x10-3 48x10-8 میگانن(بھرت) Manganin (alloy)
نیم موصل(Semiconductors)
-0.0005 3.5x10-5 کاربن (گریفائٹ) Carbon (graphite)
-0.05 0.46 جرمینیم (Germanium)
-0.07 2300 سلی کون(Silicon)
حاجز(Insulators)
2.5x105 خالص پانی (Pure Water)
1010 -1014 شیشہ(Glass)
1013 -1016  سخت  ربر(Hard Rubber)
-10 14 نمک(NaCl)

-10 16 فیوزشدہ کوآرٹز(Fused Quartz)

گھریلو استعمال یا تجربہ گاہوں کے لیے تجارتی پیمانے پر تیار کیے جانے والے مزاحموں کی دو بڑی قسمیں ہیں:تار سے بنے ہوئے مزاحمے اور کاربن مزاحمے—تار کے مزاحمے‘کچھ بھرتوں کو لپیٹ کر بنائے جاتے ہیں جیسے منگانن (Manganin)‘ کو نسٹنٹن(constantan)‘نکروم (Nichrome)‘یا ان جیسے دوسرے بھرت—ان مادوں کا انتخاب عام طورسے اس بنیاد پر کیاجاتا ہے کہ ان کی نوعی مزاحمتیں درجہ حرارت کے تئیں مقابلتاً غیر حساس ہوتی ہیں۔یہ نوعی مزاحمتیں ایک ادم سے لے کر چند سو ادم تک کی مخصوص سعت کی ہوتی ہیں۔

اس سے بڑی سعت کے مزاحمہ زیادہ تر کاربن سے بنائے جاتے ہیں۔کاربن مزاحمے سائز میں مختصر اور سستے ہوتے ہیں اور اس لیے الیکٹرانک سرکٹوں میں بہت زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں۔کاربن مزاحمے کیونکہ سائز میں مختصر ہوتے ہیں،اس لیے ان کی قدریں ایک رنگ کو ڈ استعمال کرکے دی جاتی ہیں۔

جدول3.2مزاحمہ رنگ کوڈ


ہرداشت(%) ضریب عدد رنگ
1 0 کالا(Black)
101 1 کتھئی(Brown)
102 2 لال(Red)
103 3 نارنجی(Orange)
104 4 پیلا(Yellow)
105 5 ہرا(Green)
106 6 نیلا(Blue)
107 7 اودا(Violet)
108 8 سرمئی(Gray)
109 9 سفید(White)
5 10-1 سنہرا(Gold)
10 10-2 سیمیں(Silver)
20 کوئی رنگ نہیں(No Colour)

مزاحموں پر ہم محوری رنگین چھلے بنے ہوتے ہیں‘جن کی اہمیت کی فہرست جدول3.2میں دی گئی ہے۔

پٹیاں(Bands)‘اوم میں مزاحمت کے پہلے دو قابل لحاظ ہندسے ظاہر کرتی ہیں۔تیسری پٹی اعشاری ضریب کی نشاندہی کرتی ہے(جیسا کہ جدول3.2میں دی ہوئی فہرست میں دکھایا گیا ہے)۔آخری پٹی برداشت(Tolerance)یا فی صد میں‘نشاندہی کی گئی قدروں میں‘تبدیلی ظاہر کرتی ہے۔کبھی کبھی یہ آخری پٹی نہیں بھی ہوتی‘جس کا مطلب ہے: % 20برداشت (شکل3.8)

مثال کے طورپر‘اگر چاررنگ‘ نارنجی،نیلا،پیلااورسنہرا ہیں‘تو مزاحمت کی قدر78،%5برداشت کی قدر کے ساتھ‘ہے۔

80

3.8مزاحمیت کا درجہ حرارت پر انحصار

(Temperature Dependence of Resistivity) 

ایک مادی شئے کی مزاحمیت درجہ حرارت کے تابع معلوم ہوتی ہے۔مختلف مادی اشیا درجہ حرارت پر یکساں انحصار نہیں ظاہر کرتے۔درجہ حرارت کی ایک محدود ساعت کے لیے،جو بہت بڑی نہ ہو‘ایک دھاتی موصل کی مزاحمیت نزدیکی طورپر دی جاتی ہے!

81

یہاں82پر مزاحمیت ہے‘مزاحمیت کا درجہ حرارت ضریب(Temperature Co-efficient of Resistivity)کہلاتا ہے اور مساوات(3.26)سےaکے ابعاد83(درجہ حرارت)ہیں۔دھاتوں کے لیےaمثبت ہے اور کچھ دھاتوں کے لیےTo =0oCپرaکی قدروں کی فہرست جدول3.1میں دی گئی ہے۔

مساوات(3.26)کے رشتے سے اخذ کیاجاسکتا ہے کہTکے خلاف85کا کھینچا گیا گراف ایک خط مستقیم ہوگا۔سے بہت کم درجات حرارت پر‘حالانکہ گراف ایک خط مستقیم سے قابل لحاظ انحراف ظاہر کرتاہے (شکل 39)۔

اس لیے‘مساوات(3.26)کا استعمال‘کسی حوالہ درجہ حرارتToکے گرد‘Tکی ایک محدود سعت میں‘نزدیکی طورپر‘کیاجاسکتا ہے‘جہاں پر گراف کو تقریباً مستقیم خط ماناجاسکے۔

کچھ مادی اشیا‘جیسے نائیکروم(جو نکل،لوہے اور کرومیم کابھرت ہے)‘درجہ حرارت کے ساتھ مزاحمیت کا بہت کمزور انحصار ظاہر کرتے ہیں(شکل3.10)۔میگانن اور کونسٹن ٹن کی بھی ایسی ہی خاصیتیں ہوتی ہیں۔اس لیے یہ مادے تاروں سے بنے معیاری مزاحموں میں خوب استعمال کیے جاتے ہیں،کیونکہ ان کی مزاحمت کی قدریں‘درجہ حرارت کے ساتھ بہت کم تبدیل ہوتی ہیں۔

121

شکل3.9درجہ حرارت Tکے تفاعل کے بہ طور تانبہ کی مزاحمیتp1

شکل3.10:مطلق درجہ حرارت Tکے تفاعل کے بہ طور نائیکروم کی مزاحمیتP1

شکل3.11ایک مخصوص نیم موصل کے لیے مزاحمیت کا درجہ حرارت پر انحصار

دھاتوں کے برخلاف‘نیم موصلوں کی مزاحمیت ‘درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ‘کم ہوتی ہے۔ایک مخصوص انحصار شکل3.11میں دکھایا گیا ہے۔

مساوات(3.23)کے مشتق کی روشنی میں‘ہم مزاحمیت کے درجہ حرارت پر انحصار کو کیفیتی طورپر سمجھ سکتے ہیں۔اس مساوات سے‘ایک مادی شئے کی مزاحمیت دی جاتی ہے۔

88

اس لیے‘90آزاد الیکٹرانوں کی تعداد فی اکائی حجمn‘اور تصادموں کے دوران اوسط وقتrدونوں کے مقلوب طورپر تابع ہے۔ہم جب درجہ حرارت میں اضافہ کرتے ہیں‘تو الیکٹران‘جو کرنٹ بردار کے طورپر کام کرتے ہیں‘کی اوسط چال میں اضافہ ہوجاتا ہے،جس کے نتیجے میں تصادم بڑھ جاتے ہیں۔اس طرح تصادم کا اوسط وقتrدرجہ حرارت کے ساتھ کم ہوتا ہے۔

ایک دھات میں’n‘کسی قابل لحاظ حد تک‘درجہ حرارت کے تابع نہیں ہے اور اس لیے کی قدر میں‘درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ‘ہونے والی کمی90میں اضافہ کردیتی ہے،جیسا کہ ہم نے مشاہدہ کیاہے۔لیکن‘حاجزوں اور نیم موصلوں کے لیےnمیں‘درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ‘اضافہ ہوتا ہے۔یہ اضافہ مساوات(3.23)میںrمیںہونے والی کمی کو نہ صرف پورا کردیتا ہے بلکہ اس کمی سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے،ایسے مادوں میں‘90درجہ حرارت کے ساتھ کم ہوتی ہے۔

مثال3.3:ایک برقی ٹوسٹر کا حرارتی جز(Heating element)نائیکروم کا بنا ہے۔جب اس سے ایک ناقابل لحاظ خفیف کرنٹ گذارا جاتا ہے،تو کمرہ درجہ حرارت 〈27.0oC〉پر اس کی مزاحمت کی قدر 75۔3Ωحاصل ہوتی ہے۔جب ٹوسٹر کو ایک 230Vسپلائی سے منسلک کردیاجاتا ہے،تو چند سیکنڈبعد کرنٹ قائم ہوجاتا ہے اور کرنٹ کی قائم قدر2.68Aہے۔نائیکروم سے بنے جز کا قائم درجہ حرارت کیا ہے؟شامل درجہ حرارت سعت پر اوسط کیے گئے،نائیکروم کی مزاحمت کے درجہ حرارت ضریب کی قدر1.70x10-4oC-1ہے۔

حل:جب نائیکروم کے بنے جز سے گذرنے والا کرنٹ بہت خفیف ہے،تو حرارتی اثرات نظرانداز کیے جاسکتے ہیں اور جز کا درجہ حرارتT1کمرہ درجہ حرارت کے مساوی مانا جاسکتا ہے۔جب ٹوسٹر کو سپلائی سے منسلک کردیاجاتا ہے،تو اس کا آغازی کرنٹ،2.68A اس کی قائم قدر سے معمولی سا زیادہ ہوگا۔لیکن کرنٹ کے حرارتی اثر کی وجہ سے،درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا۔اس کی وجہ سے مزاحمت میں اضافہ ہوگا اور کرنٹ میں معمولی سی کمی ہوگی۔چند سیکنڈ میں‘ایک قائم حالت(Steady State)حاصل ہوجائے گی،جب درجہ حرارت میں مزید کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور جز کی مزاحمت اور گذرنے والاکرنٹ‘دونوں اپنی قائم قدریں حاصل کرلیں گے۔

قائم درجہ حرارت T2مزاحمتR2ہے

122

مندرجہ ذیلہ رشہ استعمال کرتے ہوئے:

R2 = = R1 ⌊1 +(T2 - T1)⌋
a =1.70 x10-4oC-1کے ساتھ‘ہمیں حاصل ہوتا ہے:
123
یعنی کہ
T2= (820 + 27.0)oC =847oC

اس لیے‘حرارتی جز کا قائم درجہ حرارت (جب کرنٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حرارتی اثرات،ماحول میں ضائع ہوئی حرارت کے مساوی ہیں)847oCہے۔

مثال3.4:ایک پلاٹنم مزاحمت تھرمامیٹر کے پلاٹنم تارکی مزاحمت،برف نقطہ پر5Ωہے اور بھاپ نقطہ پر5.23Ωہے۔جب تھرمامیٹر کو گرم جنتر(Hot bath)میں لگایا جاتا ہے،تو پلاٹنم تار کی مزاحمت5.795Ωہے۔جنتر کے درجہ حرارت کا حساب لگائیے۔

حل:R0=5Ω,R100=5.23Ω,R1 =5.795Ω

اب

124

3.9برقی توانائی‘پاور(Electrical Energy, Power)

ٰٓایک موصل لیں‘جس کے کناروں کے نقطے AاورBہیں‘اور جس میںAسےBتک کرنٹIبہہ رہا ہے۔AاورBپر برقی مضمر‘بالترتیب‘(A) Vاور(B) Vسے ظاہر کیے جاتے ہیں۔کیونکہ کرنٹ AسےBکی طرف بہہ رہا ہے‘100اورABپر مضمر فرق ہے:V = V(A) – V(B) > 0.

وقفہ وقت102میں‘چارج کی مقدار:125‘AسےBتک گذرتی ہے۔Aپر چارج کی وضعی توانائی‘تعریف کے مطابقQV(A) اور اسی طرحBپرQV)ہوگی۔اس لیے‘اس کی وضعی توانائی میں تبدیلی103ہے:

(آغازی وضعی توانائی)—(اختتامی وضعی توانائی)=

104

اگر چار ج موصل سے بغیر کسی تصادم کے گذرجاتے ہیں‘تو ان کی حرکی توانائی بھی تبدیل ہوگی‘اس طرح کہ‘ان کی کل توانائی غیر تبدیل شدہ رہے۔کل توانائی کی بقا سے‘پھر اخذ کیا جاسکتا ہے کہ:

126

اس لیے‘اگر چارج برقی میدان کے عمل پذیر ہونے کے تحت موصل آزاد انہ طورپر حرکت کرتے رہے ہوں‘تو وہ جیسے جیسے حرکت کرتے جائیں گے ان کی حرکی توانائی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔لیکن‘ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ‘اوسطاً‘چارج برداروں کی حرکت اسراع پذیر حرکت نہیںہوتی بلکہ وہ ایک قائم باد آور رفتار کے ساتھ حرکت کرتے ہیں۔ایسا ان کی حرکت کے دوران‘آئنوں اور ایٹموں سے ان کے تصادموں کی وجہ سے ہوتا ہے۔تصادموں کے دوران‘چارجوں کے ذریعے حاصل کی گئی توانائی ایٹموں میں تقسیم ہوجاتی ہے‘ایٹم زیادہ تیزی سے ارتعاش(Vibration)کرنے لگتے ہیں‘یعنی کہ‘موصل گرم ہوجاتا ہے۔اس لیے‘ایک حقیقی موصل میں‘توانائی کی ایک مقدار’‘جس کا موصل میں حرارت کی شکل میں وقفہ وقت میں اسراف(Dissipation)ہوتا ہے:

127

اصراف شدہ توانائی فی اکائی وقت‘اسراف شدہ پاور128ہے‘اور اب حاصل ہوتا ہے۔

(3.32) P=IV 

اوم کا قانون استعمال کرتے ہوئے:V=IR‘ہمیں 

ایک Rمزاحمت کے موصل میں‘جس میں سے کرنٹIگذررہا ہے‘ہونے والے پاور نقصان (اومی نقصان )کے بہ طورملتا ہے۔یہی وہ پاور ہے جو گرمی پیدا کرتی ہے‘مثال کے طورپر ایک برقی بلب کے لچھے(Coil)میں‘جس سے ایک بلب تاباں(Incandeccent)ہوجاتا ہے اور حرارت اور روشنی کا اشعاع کرتا ہے۔

منفی برقیرہNegative Electrode  مثبت برقیرہPositive Electrode 

برقپاشہElectrolyte

129

شکل3.12:مزاحمہRمیں‘جو کہ ایک سیل کے ٹرمنلوں (Terminals)کے درمیان لگایاگیا ہے‘حرارت پیدا ہوتی ہے۔مزاحمہ Rمیں اسراف پذیر ہونے والی توانائی برقپاشہ کی کیمیائی توانائی سے حاصل ہوتی ہے۔

یہ پاور آتی کہاں سے ہے؟جیسے کہ ہم پہلے بھی وضاحت کرچکے ہیں کہ ایک موصل میں سے گذرنے والے کرنٹ کی قدر کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں ایک باہری وسیلے(External Source)کی ضرورت ہوتی ہے۔ظاہر ہے کہ یہی وسیلہ ہوگا جو یہ پاور مہیا کرے گا۔ایک سیل کے ساتھ دکھائے گئے سادہ سرکٹ(شکل3.12)میں‘یہ سیل کی کیمیائی توانائی ہے جو یہ توانائی اس وقت تک مہیا کرتا ہے‘جب تک کرسکتا ہے۔

پاور کی ریاضیاتی عبارتیں،مساوات(3.32)اور مساوات(3.33)‘ایک مزاحمہRمیں‘اصراف پذیر ہونے والی پاور کا موصل سے گذرنے والے کرنٹ اور موصل کے سروں کے درمیان وولٹیج پر انحصار ظاہرکرتی ہیں۔

مساوات(3.33)کا پاور کی ترسیل میں ایک اہم استعمال ہے۔پاوراسٹیشن سے گھروں اور کارخانوں کو‘جو پاوراسٹیشن سے سینکڑوں میل دور بھی ہوسکتے ہیں‘برقی پاور کی ترسیل‘ترسیلی کیبلوں (Transmission Cables)کے ذریعے کی جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ ہم چاہیں گے کہ پاور اسٹیشن کو گھروں کا رخانوں سے جوڑنے والے ترسیلی کیبلوں میں پاور کازیاں کم سے کم ہو۔اب ہم یہ دیکھیں گے کہ ایسا کیسے کیاجاتا ہے۔ایک آلہRلیجیے،جسے ترسیلی کیبلوں کے زریعے پاورPمہیا کی جانی ہے۔کبیلوں کی مزاحمتRہے جو پاور کا اسراف کرتی ہے۔اگرRکے سروں کے درمیان وولٹیج Vہے اور اس میں سے گذرنے والا کرنٹIہے‘تو 

(3.3.4) P=VI 

پاوراسٹیشن سے آلہ Rکو منسلک کرنے والے تاروں کی ایک معین مزاحمت ہوگی‘جو فرض کیا Rہے۔منسلک کرنے والے تاروں میں اسراف پذیر ہوئی پاور‘جو کہ ضائع ہوجاتی ہےPeہے‘جب کہ

(3.35)                 130

(مساوات3.32سے)

اس لیے‘ پاور Pکے ایک آلہ کو چلانے کے لیے‘منسلک کرنے والے تاروں میں اسراف پذیر ہونے والی پاور‘V 2مقلوب متناسب ہے۔پاور اسٹیشن سے آلہ تک ترسیلی کیبل‘سینکڑوں میل لمبے ہوتے ہیں اور ان کی مزاحمت قابل لحاظ ہوتی ہے۔کوکم کرنے کے لیے‘یہ تارVکی بہت بری قدروں پر کرنٹ لے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ترسیلی لائنوں پر زیادہ وولٹیج کی خطرے کی علامت بنی ہوتی ہے‘جو ایک زیادہ آبادی کے علاقے سے گذرتے ہوئے ہمیں اکثرنظر آتی ہے۔اتنی بڑی وولٹیج کی قدروں پر بجلی کو استعمال کرنا محفوظ نہیں ہے‘اس لیے دوسرے سرے پر ایک آلہ لگاہوتا ہے جو ٹرانسفارمر کہلاتا ہے اور یہ آلہ وولٹیج کو استعمال کے لیے مناسب قدروں تک کم کردیتا ہے۔

3.10مزاحموں کا اجتماع—سلسلہ وار اور متوازی

(Combination of Resistors – Series and Parallel)

ٰٓایک مزاحمہRمیں سے گذرنے والا کرنٹIجب کہ اس کے سروں کے درمیان مضمر فرقVہو‘اوم کے قانون کے ذریعے دیاجاتا ہے۔اکثر مزاحموں کو ایک ساتھ جوڑا جاتا ہے اور مزاحموں کے اس اجتماع کی معادل مزاحمت کا حساب لگانے کے کچھ سادہ قاعدے ہیں۔

131

شکل3.13دو مزاحموں،R3.R2R1 کا سلسلہ وار اجتماع

دومزاحمے،ایک سلسلے(Series)میں کہلاتے ہیں‘اگر ان کا صرف ایک آخری سرا ہی جوڑا جائے(شکل3.13)اگر دونوں کے سلسلہ وار اجتماع کے ساتھ ایک تیسرے مزاحمے کا بھی ایک سرا جوڑا جائے،تو یہ تینوں مزاحمے سلسلے میں کہلائیں گے۔ہم سلسلہ وار اجتماع کی اس تعریف کی توسیع مزاحموں کی کسی بھی تعداد کے اجتماع کے لیے کرسکتے ہیں۔

132

شکل 3۔14 تین مزاحمتوں R1,R2.R1کا سلسلہ وار اجتماع

دو یا دوسے زیادہ مزاحمے،اس وقت متوازی کہلاتے ہیں،جب تمام مزاحموں کا ایک سرا ایک ساتھ جوڑ دیاجائے،اور اسی طرح دوسرے سرے بھی ایک ساتھ جوڑ دیئے جائیں(شکل3.15)۔

134

شکل 15۔3دو مزاحمے R1اورR2متوازی طرز میں جوڑے گئے ہیں

دو مزاحمے R1اورR2لیجیے جو سلسلہ وار جڑے ہوئے ہیں۔R1میں سے جو چارج باہر نکلے گا‘وہ لازمی طورپرR2میں داخل ہوگا۔کیونکہ کرنٹ‘چارج کے بہنے کی شرح کی پیمائش کرتا ہے‘اس کا مطلب ہوا کہR1اوردونوں سے یکساں کرنٹIبہہ رہا ہے۔اوم کے قانون سے

R1 =V1 =lr1کے سروں کے درمیان مضمر فرق
اور
R2 =V2 =lR2کے سروں کے درمیان مضمر فرق
اجتماع کے سروں کے درمیان مضمر فرقVہے:V1+V2اس لیے:
(3.36)               V = V1+V2 =l  R1 +R2
اس لیے‘اگر اجتماع کی معادل مزاحمتRoqہے‘تو اوم کے قانون سے
(3.37)     135
اگر ہمارے پاس تین مزاحمے ہوں R1 R2 R1اور تینوں سلسلہ وار جڑے ہوں‘تو 
(3.38) V =lR1 +lR2 +lR3 =l R1 +R2+R3

ظاہر ہے‘ہم اس کی توسیع‘کسی بھی عددnکے‘سلسلہ وار اجتماع کے لیے کرسکتے ہیں۔معادل مزاحمتReqہے:

(3.39)          Rx =R1 +R2 +... +Rn

اب دومزاحموں کا متوازی طرز کا اجتماع لیں(شکل3.15)۔بائیں طرف سےAپر جو چارج داخل ہوتا ہے وہ جزوی طورپرR1میں اورجزوی طورپرR2میں باہر بہتا ہے۔شکل میں دکھائے گئے کرنٹ1.1112‘نشان دہی کیے گئے نقاط پر چارجوں کے بہنے کی شرح ہے۔اس لیے:

(3.40)

AاورBکے درمیان مضمر فرق‘اوم کے قانون کے ذریعے دیا جاتا ہےR1پر اس کا اطلاق کرنے سے:

(3.40)         V= 11 R1

پر اوم کا قانون کا اطلاق کرنے سے

(3.42)             V = 12 R2

136


اگر اجتماع کو ایک معادل مزاحمتReqسے بدل دیاجائے‘تو ہمارے پاس ہوگا‘اوم کے قانون سے:

(3.44)         138

اس لیے

(3.45)              139

ہم بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں کہ تین مزاحموں کے متوازی اجتماع کے لیے اس کی توسیع کیسے کی جاسکتی ہے(شکل3.16)۔

121

ہم بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں کہ تین مزاحموں کے متوازی اجتماع کے لیے اس کی توسیع کیسے کی جاسکتی ہے(شکل3.16)۔

122

بالکل پہلے کی طرح ہی

اور 123کے لیے اوم کا قانون استعمال کرنے پر‘

124

ایک معادل مزاحمت125‘جو اجتماع کی جگہ لے سکے‘ ہوگی‘ اس طرح کہ:

126

ہم اسی طرح‘ متوازی طرز میں جڑے مزاحموں کی کسی بھی تعداد nکے لیے‘جواز پیش کرسکتے ہیں۔اس لیے اگرnمزاحمے:متوازی طرز میں جوڑے گئے ہیں تو‘

127

معادل مزاحمتوں کے یہ فارمولے‘ زیادہ پیچیدہ سرکٹوں میں کرنٹ اور وولٹیج معلوم کرنے کے لیے‘استعمال کیے جاسکتے ہیں۔مثال کے طورپر‘شکل3.17میں دکھایا گیا سرکٹ لیجیے‘ جس میں تین مزاحمے129ایک دوسرے سے متوازی طرز میں جڑے ہوئے ہیں‘اس لیے ہم انھیں‘ نقطہBاور نقطہCکے درمیان‘ایک معادل مزاحمت130سے تبدیل کر سکتے ہیں۔

131

اب سرکٹ میں132سلسلہ وار جڑے ہوئے ہیں‘اس لیے ان کے اجتماع کو ایک معادل مزاحمت133سے تبدیل کیاجاسکتا ہے۔

134

اگر RاورCکے درمیان وولٹیج Vہے،تو کرنٹIدیاجاتا ہے:

135

136

3.11سیل‘ای ایم ایف‘ اندرونی مزاحمت

(CELLS, EMF, INTERNAL RESISTANCE)

ہم پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں کہ ایک برقی سرکٹ میں قائم کرنٹ برقرار رکھنے کا ایک سادہ آلہ برق پاشیدہ سیل(electrolytric cell)ہے۔بنیادی طورپر‘ایک سیل دو برقیرے ہوتے ہیںِ جو مثبت(P)اور منفی(N)برقیرے(electrodes)کہلاتے ہیں‘جیسا کہ شکل3.18میں دکھایا گیا ہے۔وہ ایک برق پاشیدہ محلول(electrolytric solution)میں ڈبائے گئے ہیں۔محلول میں ڈوبنے پر‘برقیرے‘ برق پا شیدہ محلول سے چارجوں کا آپسی تبادلہ کرتے ہیں۔خود مثبت برقیرہ‘اور اس کے بالکل نزدیک برق پاشیدہ محلول‘جس کی نقطہAسے شکل میں نشاندہی کی گئی ہے،کے مابین مضمر فرق137ہے۔اسی طرح منفی برقیرہ پر اس کے نزدیک برق پاشیدہ محلول ،جس کی نقطہ Bسے شکل میں نشاندہی کی گئی ہے،کی مناسبت سے منفی مضمر فرق138پیدا ہوجاتا ہے139جب کوئی کرنٹ نہیں بہہ رہا ہوتا تو پورے برق پاشیدہ محلول میں ہر جگہ یکساں مضمر ہوتا ہے۔اس طرح‘PاورNکے درمیان مضمر فرق ہے:140‘یہ فرق سیل کی برق محرک قوت (electromotive force)(ای ایم ایفemf)کہلاتا ہے اور اسے سے ظاہر کرتے ہیں۔اس لیے:

141

142

شکل3.18:(a)ایک برق پاشیدہ سیل کا خاکہ،جس میں مثبت ٹرمنلPاور منفی ٹرمنلNہے۔برقیروں کے درمیانی فاصلے کو وضاحت کی خاطر بڑھاکر دکھا یا گیا ہے۔AاورB‘برق پاشہ میں وہ نقطے ہیں جو مخصوص طورپر Pاور Nکے نزدیک ہیں۔

(b)ایک سیل کے لیے علامت ، +،Pبرقیرے کے لیے ہے اور —‘Nکے لیے—سیل سے برقی کنکشنPاور Nپر کیے جاتے ہیں۔


نوٹ کریں کہ دراصل قوت نہیں بلکہ مضمر فرق ہے۔لیکن نام emfتاریخی اسباب کی بنا پر استعمال ہوتا ہے اور اس وقت دیاگیا تھا جب مظہر مناسب طورپر سمجھا نہیں جا سکا تھا۔

کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے‘ایک مزاحمہRلیں جو ایک سیل کے برقیروں کے ساتھ جڑاہوا ہے (شکل3.18)۔ Rسے‘CسےDتک‘ایک کرنٹIبہتا ہے۔جیسا کہ پہلے وضاحت کی جاچکی ہے،ایک قائم کرنٹ اس لیے برقرار رہتا ہے کیونکہ کرنٹNسے Pتک برق پاشیدہ محلول سے ہو کر گذرتا ہے۔ظاہر ہے کہ برق پاشیدہ محلول میں سے یکساں کرنٹ بہتا ہے لیکنNسےPتک‘جب کہ Rمیں سے دہی کرنٹ PسےNتک بہتا ہے۔

برق پاشیدہ محلول‘جس میں سے کرنٹ گذرتا ہے‘اس کی ایک معین مزاحمت rہوتی ہے‘جسے اندرونی مزاحمت(Internal resistance)کہتے ہیں۔پہلے وہ صورت لیں‘جس میں Rلامتناہی ہے۔ 

اس طرح‘I = V/R = 0جہاںV‘Pاور Nکے مابین مضمر فرق ہے۔اب

اورAکے درمیان مضمر فرقV= 

Aاور Bکے درمیان 

Bاور Nکے درمیان مضمر فرق

143

اس لیے144ایک کھلے سرکٹ میں‘یعنی کہ جب سیل سے کوئی کرنٹ نہیں بہہ رہا ہو‘ مثبت اور منفی برقیروں کے مابین مضمر فرق ہے۔

لیکن اگرRمتناہی ہو‘Iصفر نہیں ہوگا۔اس صورت میں،PاورNکے مابین مضمر فرق ہے۔

145

Aاور B کے مضمر فرق کے لیے دی گئی ریاضیاتی عبارت میں‘ Irکے ساتھ منفی علامت نوٹ کریں۔یہ اس لیے ہے کیونکہ برق پاشیدہ محلول میں کرنٹ Bسے Aکی جانب بہتا ہے۔

بادلوں میں چارج

قدیم دور میں بجلی کے کڑکنے(یاگرنے)کو فضا میں چمکنے والا فوق الفطرت مظہر سمجھا جاتا تھا۔یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ خدا کا ایک مہلک ہتھیار ہے۔لیکن آج بجلی کڑکنے کے مظہر کی طبیعات کے بنیادی اصولوں کے ذریعے سائنسی تو ضیح کی جاسکتی ہے۔

فضائی برق(Atmospheric electricity)چارجوں کے علیحدہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔آیونیہ کرہ اورمقناطیسیہ کرہ (Megnetosphre)میں شمسی—ارضی(Solar—Terrestrial)باہم عمل(Interaction)سے طاقت ور برقی کرنٹ پیدا ہوتاہے۔ نچلی فضا(Lower atmosphere)میں یہ کرنٹ کمزور ہوتا ہے ا ور طوفان برق وباراں کے ذریعے برقرار رہتا ہے۔

بادلوں میں برف کے ذرات ہوتے ہیں جو نمو پذیر ہوتے ہیں،تصادم کرتے ہیں‘شکستہ ہوتے ہیں اور ٹوٹتے ہیں۔مقابلتاً چھوٹے ذرات مثبت چارج حاصل کرلیتے ہیں اور مقابلتاً بڑے ذرات منفی چارج شدہ ہوجاتے ہیں۔یہ چارج شدہ ذرات‘ بادلوں میں اوپری بادآوری اور مادی کشش کی وجہ سے علاحدہ ہوجاتے ہیں۔بادلوں کا اوپری حصہ مثبت چارج شدہ ہوجاتاہے اور درمیانی حصہ منفی چارج شدہ ہوجاتا ہے،جس سے کہ ایک دو قطبی ساخت بن جاتی ہے۔کبھی کبھی بادل کی اساس کے نزدیک ایک بہت کمزور مثبت چارج پایاجاتاہے۔طوفان برق وباراں کے تشکیل پاتے وقت زمین مثبت چارج شدہ ہوتی ہے۔اورآفاقی(Cosmic)اور تابکار شعاعیں ہوا کی مثبت اور منفی آئنوں میں آئن سازی کردیتی ہیں اور ہوا (کمزور طورپر)برقی ایصالی ہوجاتی ہے۔چارجوں کی علیحدگی،بادل کے اندر اور بادل اور زمین کے درمیان برقی مضمر کی بہت بڑی مقدار پیدا کردیتی ہے۔یہ مقدار کئی دس لاکھ وولٹ ہوسکتی ہے اور آخر کار ہوا میں برقی مزاحمت کازور ٹوٹ جاتا ہے اور بجلی چمکنا شروع کردیتی ہے اور ہزاروں امپیر کرنٹ بہنے لگتا ہے۔برقی میدان کی قدر146 کے درجہ کی ہوتی ہے۔بجلی کی ایک چمک ضربوں(Strokes)کے ایک سلسلے پر مشتمل ہوتی ہے،جن کی اوسط تعداد چار کے قریب ہوتی ہے اور ہر چمک کا وقفہ تقریباً 30سکنڈ ہوتا ہے۔اوسط ازحد پاور فی ضرب تقریباً 1012واٹ ہوتی ہے۔

خوشگوار موسم کے دوران بھی فضا میں چارج ہوتا ہے۔خوشگوار موسم میں برقی میدان،زمین پر سطحی چارج کثافت اور ایک فضائی ایصالیت کی موجودگی کی وجہ سے اور ساتھ ہی ساتھ کرہ سے سطح زمین تک کرنٹ کے بہنے کی وجہ سے‘جوپیکوامپیر فی مربع میٹر کے درجہ کا ہوتا ہے‘پید اہوتا ہے۔زمین پر سطحی چارج کثافت منفی ہوتی ہے‘اس لیے برقی میدان کی سمت نیچے کی جانب ہوتی ہے۔خشکی پر‘اوسط برقی میدان‘تقریباً 120v/mہوتا ہے جو.2x10-9C/m2-سطحی چارج کثافت سے مطابقت رکھتا ہے۔زمین کی پوری سطح پر‘کل منفی چارج کی قدر تقریباً 600kCہوتی ہے۔ اسی کے مساوی مثبت چارج فضا میں پایاجاتا ہے۔یہ برقی میدان روزمرہ کی زندگی میں محسوس نہیں ہوتا۔اس کے محسوس نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تقریباً ہر چیز‘جس میں ہمارا جسم بھی شامل ہے‘ہوا کے مقابلے میں موصل ہے۔

عملی تحسیب میں،سرکٹ میں سیلوں کی اندرونی مزاحمت کو نظر انداز کیاجاسکتا ہے،جب کرنٹIایسا ہو کہ۔ ایک سیل کی اندرونی مزاحمت کی قدر،ایک دوسرے سیل سے مختلف ہوتی ہے۔سوکھے سیلوں(Dry cells)کی اندرونی مزاحمت،عام برق پاشیدہ سیل سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کیونکہV‘Rکے سروں کے درمیان مضمر فرق ہے،اوم کے قانون سے:

(3.58) V=IR 

مساوات(3.57)اور مساوات(3.58)سے

149

ایک سیل سے کرنٹ کی جو ازحد قدر حاصل کی جاسکتی ہے‘وہR=Oکے لیے ہوگی۔یہ قدر ہے:150‘لیکن زیادہ تر سیلوں سے زیادہ سے زیادہ کرنٹ حاصل کرنے کی اجازت شدہ قدر‘اس سے بہت کم ہوتی ہے۔ایسا سیل کو مستقل طورپر نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔



مثال35:مزاحموں کا ایک نیٹ ورک(Net Work)ایک 16Vکی بیٹری سے منسلک کیا گیا ہے۔بیٹری کی اندرونی مزاحمتlΩہے‘جیسا کہ شکل3.19میں دکھایا گیا ہے۔(a)نیٹ ورک کی معادل مزاحمت کاحساب لگائیے۔(b)ہر مزاحمہ میں کرنٹ کی قدر معلوم کیجیے(c)وولٹیج ڈراپVb,VABاورVCDمعلوم کیجیے۔

153

شکل3.19

حل:

(a) نیٹ ورک‘مزاحموں کا سلسلہ وار اور متوازی سادہ اجتماع ہے۔پہلے‘4Ωمزاحمت والے دو مزاحمے متوازی طرز میں جڑے ہیں اور مساوی ہیں ایک مزاحمے کے ‘جس کی مزاحمت ہے

⌊4 x4⌋/〈4 x4〉Ω=2Ω

اسی طرح‘12Ωاور6Ωکے مزاحمے بھی متوازی طرز میں جڑے ہیں اور معادل ہیں۔

⌊〈12 x 6〉/〈12 x 6〉⌋Ω = 4Ω

کے مزاحمے کے ۔

نیٹ ورک کی معادل مزاحمت R‘ان مزاحموں2Ωاور4Ωکو1Ωکے ساتھ سلسلہ وار جوڑنے پر حاصل ہوگی۔یعنی کہ:

R =2Ω+4Ω+1Ω=7Ω
(b) سرکٹ میں کل کرنٹIہے:
140
Aاور Bکے درمیان مزاحموں کو لیجیے۔اگر4Ωوالے مزاحموں میں سے ایک میں کرنٹ11اور دوسرے میں12ہے تو11x4=12x4
یعنی کہ12=11جو ویسے بھی دونوں بازئوں کے تشاکل سے واضح ہے۔لیکن11 +12=2 Aاس لیےl1=12=lA
یعنی کہ ہر 4Ω مزاحمہ میں کرنٹIAہے۔Bاور Cکے درمیان1Ωکے مزاحمے میں کرنٹ 2Aہوگا۔
اب Cاور Dکے درمیان مزاحمتوں کولیجیے۔اگر12Ωمزاحمہ میں کرنٹ13اور6Ω مزاحمہ میں14 ہے
13X 12=14 X6
یعنی
213=14
لیکن 13 +14 =1= 2A
اس لیےA 141
یعنی کہ 12Ω مزاحمہ میں کرنٹ 142 ہوگا جبکہ 6Ω مزاحمہ میں کرنٹ143 ہوگا
(c) ABپر وولٹیج ڈراپ ہے:
VAB = 11 X 4 = 1AX4Ω =4Ω
اسے Aاور Bکے درمیان کل کرنٹ کو AاورBکے درمیان معادل مزاحمت سے ضرب کرکے بھی حاصل کیاجاسکتا ہے۔
یعنی کہ
VAB =2AX2Ω=4V
BCپر وولٹیج ڈراپ ہےVBC =2AX2Ω=2V
آخر میں‘CDپر وولٹیج ڈراپ ہے VcD = 12Ωx13 =12Ωx  144A=8V
اسے متبادل طریقے سے‘CاورDکے درمیان کل کرنٹ کو‘Cاور Dکے درمیان معادل مزاحمت سے ضرب کرکے‘بھی حاصل کیاجاسکتا ہے۔یعنی کہ
VCD =2 A X 4 Ω =8V
نوٹ کریں کہ ADپر کل وولٹیج ڈراپ ہے:4v+2v+8v=14v جب کہ اس کی emf‘16Vہے۔
وولٹیج کا اس نقصان(=2V)کا حساب بیٹری کی اندرونی مزاحمت کے ذریعے لگایاجاسکتا ہے
⌊2AxlΩ=2v⌋


3.12سلسلہ وار اور متوازی طرز میں سیل

(Cells in Series and in Parallel) 

مزاحموں کی طرح‘ ایک برقی سرکٹ میں،سیل کا بھی اجتماع کیاجاسکتا ہے۔اور مزاحموں کی طرح‘ایک سرکٹ میں کرنٹ اور وولٹیج کے حساب لگانے کے لیے‘ہم اس اجتماع کو ایک معادل سیل سے بدل سکتے ہیں۔

145

شکل3.20:146emfکے دوسیل‘ سلسلہ وار جوڑے گئے ہیں۔r1اورr2ان کی اندرونی مزاحمتیں ہیں۔Aاور Cکے درمیان جوڑنے کے لیے،اس اجتماع کو147emfاورreqاندرونی مزاحمت کا ایک سیل ماناجاسکتا ہے۔

پہلے اسیے دو سیل لیجیے جو سلسلہ وار جڑے ہوئے ہیں،(شکل3.20)‘میں دونوں سیلوں کا ایک ایک سرا آپس میں جوڑا گیا ہے‘ اور دونوں سیلوں میں دوسرا سرا آزاد ہے۔دونوں سیلوں کی emf‘ بالترتیبE1اور E2 ہیں اور ان کی اندرونی مزاحمتیں r1اورr2ہیں اور (بالترتیب)

فرض کیجیے کہ شکل3.20میں دکھائے گئے نقاطA‘Bاور Cپر مضمر‘ بالترتیب،VB VAاورVCہیں۔تب،پہلے سیل کے مثبت اور منفی ٹرمنلوں کے درمیان مضمر فرق 〈VA -VB〉ہے۔ہم مساوات(3.57)میں پہلے ہی اس کا حساب لگاچکے ہیں۔اس لیے:

V AB = V(A) -V (B)=E Ir1(3.60)
VBC = V(B) - V(C) =E2 - Ir2 (.61)
اس لیے اجتماع کے ٹرمنل Aاور Cکے درمیان مضمر فرق ہے
V AC = V (A) -V (C) = (V(A) - V (B) + ⌊V (B) -V(C)
=(E1 + E2 -I (R1 + r2 ) (3.62)

اگر ہم اجتماع کو Aاور Cکے درمیان ایک واحد سیل سے بدلنا چاہیں،جس کی emf‘168اور اندرونی مزاحمت169ہو‘ تو ہمارے پا س ہوگا:

170

آخری دونوں مساواتوں کا مقابلہ کرنے پر،حاصل ہوتا ہے۔

171

شکل(3.20) میںہم نے پہلے سیل کا منفی برقیرہ دوسریسیل کے مثبت برقیرہ سے جوڑا ہے۔اگر اس کی جگہ ہم دونوں منفی برقیروں کو جوڑدیں،تو مساوات(3.61)تبدیل ہوجائے گی:

اورہمیں حاصل ہوگا

172

سلسلہ وار اجتماع کے قاعدوں کی توسیع‘سیلوں کی کسی بھی تعداد کے لیے کی جاسکتی ہے۔

(i)۔  n سیلوں کے سلسلہ وار اجتماع کی معادلemf‘ان کی انفرادیemfsکا حاصل جمع ہوتی ہے اور 

(ii)۔  nسیلوں کے سلسلہ وار اجتماع کی معادل مزاحمت‘ان کی انفرادی مزاحمتوں کا حاصل جمع ہوتی ہے۔

ایسا؛تب ہوتا ہے ‘جب کرنٹ ہر سیل سے مثبت برقیرہ سے باہر نکلتا ہے۔اگر اجتماع میں‘کسی سیل میں کرنٹ‘منفی برقیرہ سے باہر نکلتا ہے تو174کی ریاضیاتی عبارت میں اس سیل کیemfمنفی علامت کے ساتھ لکھی جاتی ہے‘جیسا مساوات (3.66)میں کیاگیا ہے۔

148

شکل3.21:متوازی طرز میں جڑے ہوئے دو سیل— AاورCکے درمیان جوڑنے کے لیے اجتماع کو emf149

اور اندرونی مزاحمتreqکے ایک سیل سے تبدیل کیاجاسکتا ہےEeqاورreqکی قدریں مساوات(3.79) اور (3.74)سے دی جاتی ہیں۔


اب سیلوں کا ایک متوازی طرز میں جوڑا گیا اجتماع لیجیے 0شکل 21۔3)- 11 اور 12 وہ کرنٹ ہے جو سیلون کے مثبت برقیوں سے نکل رہے ہیں-

نقطہB1پر 11 اور 12 اندر کی طرف بہتے ہیں اور اکرنٹ 1 باہر کی سمت میں بہتا ہے  کیوں کہ جتنا چارج اندر بہتا ہے بتنا ہی باہر بہتا ہے اس لیے

(67۔3)       12+11=1

فرض کیجیے کہ B1اورB2 پر مضمر بالترتیب (B1)Vاور V )B2( ہیں تب پہلے سیل کے ٹرمینلوں کہ درمیان مضمر فرق150

ہے اس لیے مساوات (57۔3) سے

(68۔3) 151

نقاطB1اورB2بالکل اسی طرح‘ دوسرے سیل سے بھی منسلک ہیں۔اس لیے دوسرے سیل میں بھی ‘

(3.69)  V=V(R1) -V (R2) =E2 - i2r2 s

آخری تینوں مساواتوں(3.67,3.68,3.69)سے

l = l1 + l2

(70.3)  152

اس لیےVدیاجاتا ہے

(71.3)  153

اگرہمB1اورB2 کے درمیان لگائے گئے اجتماع کو ایک واحد سیل سے بدلنا چاہیں‘جس کی emf‘154اوراندرونی مزاحمتreqہو‘تو ہمارے پاس ہوگا!

(3.72)             155

آخری دونوں مساواتیں یکساں ہونا چاہئیں۔اس لیے

157


178

گوستائو روبرٹ کرچوف(Gustav Robert Kirchoff) (1824—1877) 

جرمن ماہرطبیعات،ہائیڈلبرگ (Heidelberg) اور برلن(Berlin)میں رہے پروفیسر۔خاص طورپر طیف پیمائی (Spectroscopy)میں اپنے کام کے لیے جانے جاتے ہیں۔انھوں نے ریاضیاتی۔ طبیعات(Mathematical Physics) میں بھی اہم کام کیا۔ان کے اہم کاموں میں سرکٹ کے ان کے پہلے اور دوسرے قاعدے بھی شامل ہیں۔

شکل(3.21)میں ہم نے مثبت ٹرمنلوں کو ایک ساتھ جوڑا ہے اور اسی طرح دونوں منفی ٹرمنلوں کو ایک ساتھ جوڑا ہے،اس طرح کرنٹ179مثبت ٹرمنلوں سے باہر بہتے ہیں۔اگر دوسرے سیل کامنفی ٹرمنل پہلے سیل کے مثبت ٹرمنل سے جوڑا جائے تو‘مساوات(3.75)اور مساوات(3.76)پھر بھی درست ہوںگی اگر180سے بدل دیاجائے۔

مساوات(3.75)اور مساوات(3.76)کی بہ آسانیnسیلوں کے لیے تو سیع کی جاسکتی ہے۔اگر ہمارے پاس nسیل ہیں‘جن کی181ں اور اندرونی مزاحمتیں‘بالترتیب،182ہیں۔یہ اجتماع ایک ایسے واحد سیل کے معادل ہے،جس کی183اور اندرونی مزاحمتreqہیں‘

185

3.13کرچوف کے قاعدے(Kirchoff’s Rules) 

ؓبرقی سرکٹ‘ عام طورپر‘ آپس میںپیچیدہ طورپر جڑے ہوئے کئی مزاحموں اور سیلوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ہم نے اب تک جو سلسلے وار اور متوازی طرزوں میں جڑے ہوئے اجتماع کے لیے فارمولے مشتق کیے ہیں‘وہ اکثر‘سرکٹ میں تمام کرنٹ اور مضمر فرق کو معلوم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتے—دو قاعدے‘جو ’’کرچوف کے قاعدے‘‘کہلاتے ہیں‘برقی سرکٹوں کا تجزیہ کرنے کے لیے بہت کارآمد ہوتے ہیں۔

اگر ایک سرکٹ دیاہوا ہو تو ہم پہلے ہر مزاحمے میں سے گذررہے کرنٹ کو‘ایک علامت،فرض کیاIسے لیبل کرتے ہیں اور ایک سمتی تیر کے نشان سے نشان دہی کرتے ہیں کہ مزاحمہ میں کرنٹ کس سمت میں بہہ رہا ہے۔اگر آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ کرنٹ مثبت ہے‘مزاحمہ میںسے بہنے والااصل کرنٹ تیرکے نشان کی سمت میںہے۔اگر یہ منفی آتاہے تو اصل کرنٹ تیر کے نشان کی مخالف سمت میں بہہ رہا ہے۔اسی طرح‘ہر وسیلے (یعنی کہ سیل یا برقی پاور کا کوئی اور وسیلہ)کے مثبت اور منفی برقیرے بھی لیبل کیے جاتے ہیں اور سیل سے بہہ رہے کرنٹ کی علامت کے ساتھ سمتی تیر کے نشان بھی لگائے جاتے ہیں۔اس سے ہمیں مثبت ٹرمنلPاور منفی ٹرمنلNکے درمیان مضمر فرق:(مساوات3.57)معلوم ہوسکے گا۔یہاںIوہ کرنٹ ہے جو سیل سے NسےPتک گذر رہا ہے۔اگر ہم سیل سے گذررہے کرنٹ کوIلیبل کرتے ہوئے‘PسےNتک جاتے ہیں‘تو بلاشبہ

186

160

شکل3.22:جنکشنaپر‘باہر نکلنے والا کرنٹ 12+11ہے اور داخل ہونے والا کرنٹ ہے جنکشن قاعدے کے مطابق 12+11=13نقطہhپر داخل ہونے والا کرنٹ

11ہے۔نقطہhسے باہر نکلنے والا ایک ہی کرنٹ ہے‘اور جنکشن قاعدے کے مطابق‘یہ 11بھی� ہوگا۔حلقوں (loops)‘’ahdcba‘ اور ’ahdefga‘کے لیے‘حلقہ قاعدوں کے مطابق

-3011 +21 l2 - 80=0اور-41l/3+45=0


لیبل کرنے کی وضاحت کے بعد‘اب ہم قاعدے اور ان کا ثبوت بیان کرتے ہیں:

(a) جنکشن قاعدہ: کسی بھی جنکشن پر‘جنکشن میں داخل ہونے والے کرنٹوں کا حاصل جمع‘جنکشن سے باہر نکل رہے کرنٹوں کے حاصل جمع کے مساوی ہوتا ہے(شکل(3.22))۔اگر ہم کئی لائنوں کے جنکشن کی جگہ ایک لائن پر ایک نقطہ لیں‘تب بھی اس کا اطلاق ایسے ہی ہوتا ہے۔

  اس قاعدے کا ثبوت یہ حقیقت ہے کہ جب کرنٹ‘قائم(steady)کرنٹ ہوتا ہے تو کسی جنکشن یا لائن کے کسی نقطہ پر کوئی چارج اکٹھا نہیں ہوتا۔اس لیے اندر داخل ہونے والا کل کرنٹ (جو وہ شرح ہے‘جس سے چارج جنکشن میں داخل ہوتے ہیں)لازمی ہے کہ باہر نکلنے والے کل کرنٹ کے مساوی ہو۔

(b)   حلقہ قاعدہ:کسی بھی بند حلقہ(Closed loop)کے گرد‘جس میں مزاحمے اور سیل شامل ہوں‘مضمر کی تبدیلیوں کا الجبرائی حاصل جمع صفر ہے(شکل3.22)۔یہ قاعدہ بھی واضح ہے‘ کیونکہ برقی مضمر‘نقطہ کے مقام کے تابع ہے۔اس لیے کسی بھی نقطہ سے شروع کرتے ہوئے‘اگر ہم اسی نقطے پر واپس آجاتے ہیں‘تو کل تبدیلی صفر ہونا لازمی ہے۔ایک بند حلقہ میں ہم اسی نقطہ پر واپس آتے ہیں‘اس لیے یہ قاعدہ حاصل ہوتا ہے۔



مثال3.6:ایک10Vاور ناقابل لحاظ اندرونی مزاحمت کی بیٹری‘12مزاحموں پر مشتمل‘جن میں سے ہر ایک کی مزاحمتlΩہے‘ایک مکعب نمانیٹ ورک کے مخالف کونوں سے وتری(Diagonally)شکل میں جوڑی گئی ہے (شکل3.23)۔  نیٹ ورک کی معادل مزاحمت معلوم کیجیے اور مکعب کے ہر کنارے سے گذرنے والا کرنٹ معلوم کیجیے۔

189

شکل 3.23


حل:نیٹ ورک کو مزاحموں کے سادہ سلسلے وار اور متوازی اجتماع میں نہیں تحلیل کیاجاسکتا ۔لیکن‘مسئلہ میں ایک واضح تشاکل پایاجاتا ہے‘جسے استعمال کرکے ہم نیٹ ورک کی معادل مزاحمت معلوم کرسکتے ہیں۔

راستےAA'‘ADاورAB‘نیٹ ورک میں متشاکل ہیں۔اس لیے‘ہر ایک میں کرنٹ مساوی ہوگا‘مان لیاIوہ کرنٹ ہے۔مزید‘کونوںA'،Bاور Dپر‘اندر آرہے کرنٹIکو دوباہر جارہی شاخوں میں مساوی طورپر تقسیم ہونا چاہیے۔اس طریقے سے‘ہم مکعب کے12کناروں میں سے ہر ایک میںگذررہے کرنٹ کو‘بہ آسانی‘Iکی شکل میں لکھ سکتے ہیں‘جس کے لیے ہم کرچوف کے پہلے قاعدے اور مسئلہ کے تشاکل کو استعمال کرتے ہیں۔

اب ایک بند حلقہ لیجیے‘فرض کیاABCC'EAاور کرچوف کا دوسرا قاعدہ لگائیے۔

-R-(1/2)lR -lR +e=0

جہاںR‘ہر کنارے کی مزاحمت ہے اورe‘بیٹری کی emfہے۔اس لیے:

163


نیٹ ورک کی معادل مزاحمتReqہے

162

164  کے لیے‘ نیٹ ورک میںکل کرنٹ(3I)ہے۔

31 =10 V/(5/6)Ω = 12A

یعنی کہ

I=4A

یہ نوٹ کریں کہ نیٹ ورک کے تشاکل کی وجہ سے‘کرچوف کے قاعدوں کی اصل اہمیت‘اس مثال میں‘واضح نہیں ہوئی ہے۔ایک عمومی نیٹ ورک میں‘تشاکل کی وجہ سے ہونے والی آسانی مہیا نہیں ہوگی‘اور ہم صرف جنکشنوں اور بند حلقوں پر کرچوف کے قاعدوں کا اطلاق کرکے ہی مسئلہ حل کرسکیں گے(ہمیں جنکشنوں اور حلقوں کی اتنی تعداد لینی ہوگی جتنی مسئلہ میں شامل غیر معلوم قدریں ہوں گی)۔یہ مثال3.7سے واضح ہوجائے گا۔

مثال3.7:شکل3.24میں دکھائے گئے نیٹ ورک کی ہر شاخ میں کرنٹ معلوم کیجیے۔

193

شکل3.24

حل:نیٹ ورک کی ہر شاخ میں ایک نامعلوم کرنٹ مان لیاگیا ہے‘جس کی قدر کرچوف کے قاعدوں کی مدد سے معلوم کی جائے گی۔شروع میں ہی غیر معلوم متغیرات کی تعداد کم کرنے کے لیے‘ہر جنکشن پر کرچوف کا قاعدہ استعمال کرتے ہیں۔اس طرح ہمیں ہر شاخ میں کرنٹ‘تین نامعلوم قدروں:194کی شکل میں معلوم ہوجاتا ہے۔یہ تینوں نامعلوم قدریں‘تین مختلف بند حلقوں کے لیے کرچوف کے دوسرے قانون کو استعمال کرکے معلوم کی جاسکتی ہیں۔بند حلقہADCAکے لیے‘کرچوف کے دوسرے قانون سے

10 -(11 -12 +2)12 +13 -11 ) - 11 = O

یعنی کہ

711-612 - 213 = 10 (3.80(a)

بند حلقہABCAکے لیے

5 - 2 (12 +13) -2 (l2 +l3 -l1) =0
یعنی کہ
211 - 4l2 -4l3 = -5 (3.80(c))


مساواتیں(3.80,a,b,c)تین متغیرات میں تین ہم وقتی مساواتیں(Simultaneous Equations)ہیں۔یہ عام طریقے سے حل کی جاسکتی ہیں۔ان سے حاصل ہوتا ہے:

197

نیٹ ورک کی مختلف شاخوں میں کرنٹ ہیں:

198

یہ تصدیق بہ آسانی کی جاسکتی ہے کہ اگر باقی بچے بند حلقوں میں کرچوف کا دوسرا قانون استعمال کیا جائے تو کوئی مزید غیر تابع مساوات نہیں حاصل ہوتی—یعنی کہ‘کرنٹوں کی مندرجہ بالا قدریں‘نیٹ ورک کے ہر بند حلقے کے لیے کرچوف کے دوسرے قاعدے کو مطمئن کرتی ہیں۔مثلاً‘بند حلقہBADEBپر کل وولٹیج ڈراپ:

199

صفر کے مساوی ہے‘جیسا کہ کرچوف کے دوسرے قاعدے کے مطابق بھی ہے۔

3.14وہیٹ اسٹون برج (Wheatstone Bridge) 

کرچوف کے قاعدوں کے ایک استعمال کی مثال کے طورپر‘ شکل3.25میں دکھایا گیاسرکٹ دیکھیے‘جو وہیٹ اسٹون برج کہلاتا ہے۔برج میں چار مزاحمے‘200ہوتے ہیں۔وتری طورپر مخالف (Diagonally opposite)نقاط کے ایک جوڑے(شکل میںAاورC)کے درمیان وسیلہ منسلک کیاجاتا ہے۔یہ(یعنی کہAC)بیٹری بازوکہلاتا ہے۔باقی بچی دوراسوں‘BاورDکے درمیان ایک گیلوونومیٹرG(جوکرنٹ کی موجودگی شناخت کرنے کا آلہ ہے)منسلک کیاجاتا ہے۔یہ خط‘جسے شکل میںBDسے دکھایا گیا ہے‘گیلوونو میٹر بازو کہلاتی ہے۔

204

آسانی کے لیے‘ہم مان لیتے ہیں کہ سیل کی کوئی اندرونی مزاحمت نہیں ہے۔عمومی صورت میں‘ہر مزاحمے اور ساتھ ہی ساتھ گلوونومیٹرGمیںسے کرنٹ بہے گا۔ہماری مخصوص دلچسپی کی صورت ایک متوازن برج ہے‘ جس میں مزاحمے اس طور پر ہوتے ہیں کہ گلوونومیٹر میں سے گذرنے والا کرنٹ201ہوتا ہے۔ہم بہ آسانی توازن شرط حاصل کرسکتے ہیں،اس طرح کہ Gمیں سے کوئی کرنٹ نہ گذرے۔اس صورت میں‘جنکشنDاورجنکشنB(شکل دیکھیے)پر کر چوف کے جنکشن قاعدہ کا اطلاق کرنے سے‘ہمیں فوراً ہی یہ رشتے حاصل ہوتے ہیں:202اور203‘اس کے بعد‘ہم بندحلقوںADBAاورCBDCپر کرچوف کے حلقہ قاعدے کا اطلاق کرتے ہیں۔پہلے حلقہ سے:

-11R1 +0 + 12R2 =0   (1g =0)        (3.82)

مساوات(3.81)سے ہمیں حاصل ہوتا ہے:

165

جب کہ مساوات(3.82)سے حاصل ہوتا ہے:

166

اس لیے‘ہمیں شرط حاصل ہوتی ہے:

167

یہ چاروں مزاحموں میں رشتہ مہیاکرنے والی آخری مساوات‘گیلوونومیٹر کے لیے صفر یا نل انفراج (Deflection) دینے کی‘توازن شرط(Balance Condition)کہلاتی ہے۔

وہیٹ اسٹون برج اور اس کی توازن شرط‘ایک نامعلوم مزاحمت معلوم کرنے کا ایک عملی طریقہ فراہم کرتے ہیں۔ فرض کیجیے ہمارے پاس ایک نامعلوم مزاحمت ہے‘جسے ہم چوتھے بازو میں لگاتے ہیں‘اس طرحR4غیر معلوم ہے۔برج کے پہلے اور دوسرے بازو میںمعلوم مزاحمتیںR1اورR2رکھتے ہوئے‘ہمR3کو اس وقت تک تبدیل کرتے رہتے ہیں جب تک کہ گیلوونومیٹر صفر انفراج دکھاتا ہے۔اب برج متوازن ہے اور توازن شرط سے نامعلوم مزاحمتR4کی قدردی جاتی ہے:

206

ایک تجرباتی آلہ جس میں یہ اصول استعمال ہوتا ہے میٹر برج کہلاتا ہے ہم اسے اگلے حصے میں بیان کریں گے۔


مثال3.8:ایک وہیٹ اسٹون برج(شکل3.26)کے چاروں بازئوں میں مندرجہ ذیل مزاحمتیں ہیں:

207

208

شکل3.26


15Ωمزاحمت کا ایک گیلوونومیٹرBDسے منسلک کیا گیاہے۔جبACپر10Vکا برقی مضمر فرق برقرار رکھا جاتا ہے تو گلوونومیٹر میں سے گذرنے والا کرنٹ کتنا ہوگا؟حساب لگائیے۔

حل:بندحلقہBADBمیں‘

100l1 + 151 g - 60l2 =0

یا

2011 - + 31g - 1212= 0 (3.84(a))

بندحلقہBCDBمیں‘

10(11 - 1g) -151g - 5(12 + 1g) =0

1011 -30g -512 = 0

21 - 61g - 12 = 0 (3.84 9b)

بندحلقہADCEAمیں

60l2 + 5(12 +lg = 10

1312 + lg = 2 93.84 (d))

مساوات(3.84 (b))کو 10سے ضرب کرنے پر

63lg - 212 =0
12 = 31.51g (3.84(e))
12کی قدر(3.84(c))میںرکھنے پر
1.3(31.51g ) + 1g =2
410.51g =2
lg = 4.87 mA

3.15میٹر برج(Meter Bridge) 

میٹر برج شکل(3.27)میں دکھایا گیا ہے۔یہ ہموار تراشی رقبہ کے ایک میٹر ملبے تار پر مشتمل ہوتا ہے۔تار کو کھینچ کر اچھی طرح سے دودھاتی پٹیوں کے بیچ تان دیاجاتا ہے۔دھاتی پٹیاں قائم زاویے پر مڑی ہوتی ہیں‘ جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔دھاتی پٹی میں دوخالی جگہیں ہوتی ہیں‘ جن میں مزاحموں کو جوڑا جاسکتا ہے۔کنارے کے نقطے‘جہاں تار جڑا ہوتا ہے‘ایک کنجی(key)کے ذریعے سیل سے جڑے ہوتے ہیں۔گیلوونومیٹر کا ایک سرا‘دونوں خالی جگہوں کے درمیان‘دھاتی پٹی سے منسلک کردیاجاتا ہے۔گیلوونومیٹر کا دوسرا سرا جوکی(Jockey)سے منسلک کردیاجاتا ہے۔جو کی اصل میں ایک دھاتی چھڑ ہوتی ہیـ‘جس کے ایک سرے پر چاقو دھار(Knife edge)ہوتی ہے‘جو تار کے اوپر پھسل سکتی ہے اور برقی تعلق قائم کرسکتی ہے۔

212

شکل3.27:ایک میٹر برج—تارAC  1میٹر لمبا ہے۔Rوہ مزاحمت ہے‘جس کی پیمائش کی جانی ہے اور Sایک معیاری مزاحمت ہے۔

R ایک نامعلوم مزاحمت ہے‘جس کی قدر ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں۔اسے ایک خالی جگہ کے درمیان لگادیاجاتا ہے۔دوسری خالی جگہ میں ہم ایک معیاری معلوم مزاحمتSلگاتے ہیں۔

جو کی کو تار پر کسی نقطہDپر جوڑاجاتا ہے‘جوسرےAسےl cmکے فاصلے پر ہے۔جو کی کو تارپرحرکت کرائی جاسکتی ہے۔تار کے حصہ ADکی مزاحمت213تار کی مزاحمت فی اکائی سنٹی میٹر ہے۔اسی طرح‘تار کے حصہCDکی مزاحمت216ہوگی۔

چار بازو:AB‘BC‘DAاورCD(جن کی بالترتیب مزاحمتیں:R،S،217ہیں)ایک وہیٹ اسٹون برج تشکیل دیتے ہیں‘جس کا بیٹری بازوACاور گیلوونو میٹر بازوBDہے۔اگر جو کی کو تار پر حرکت دی جاتی ہے،تو ایک مقام ایسا ہوگا‘جس پر گلوونومیٹر کوئی کرنٹ نہیں دکھائے گا۔فرض کیجیے کہ توازن نقطہ پر‘جو کی کاسرےAسے فاصلہ:218ہے۔اس لیے توازن نقطہ پر برج کی چار مزاحمتیں ہیں219۔توازن شرط‘ مساوات(3.83(a))سے:

220

اس لیے جب ہم222معلوم کرلیتے ہیں‘تو نامعلوم مزاحمت R‘معلوم معیاری مزاحمت Sکی شکل میں مندرجہ ذیل رشتے سے معلوم ہوجاتی ہے:

221

s کی مختلف قدروں کو منتخب کرنے پر ہمیں222کی مختلف قدریں حاصل ہوں گی اور ہم ہر بار Rکی قدر کی تحسیب کرسکتے ہیں۔222کی پیمائش میں ہونے والا سہو‘ظاہر ہے کہ Rکی پیمائش میں سہو کے طورپر ظاہر ہوگا۔یہ دکھایا جاسکتا ہے کہ Rمیںفی صد سہو کو کم ترین کیاجاسکتا ہے اگر نقطہ توازن کو برج کے وسط میں‘یعنی کہ جب222،50cm کے نزدیک ہو‘حاصل کیاجائے۔(جس کے لیےSکا ایک مناسب انتخاب درکار ہوگا)

مثال3.9:ایک میٹر برج میں(شکل3.27)‘نل نقطہ‘ Aسے33.7cmکے فاصلے پر ملتا ہے۔اب اگر ایک 12Ωکی مزاحمتSسے متوازی طرز میں جوڑدی جائے،تو نل نقطہ51.9cmکے فاصلے پر ملتا ہے۔RاورSکی قدریں معلوم کیجیے۔

حل:پہلے توازن نقطہ سے

168

جبSکے ساتھ ایک10Ωکی مزاحمت متوازی طرز میںجوڑ دی جاتی ہے‘تو اس خالی جگہ میں منسلک مزاحمتSسےSeqمیں تبدیل ہوجاتی ہے‘جہاں

169

اور اس لیے اب نئی توازن شرط سے

170
مساوات(3.87)سےR/Sکی قدر رکھنے پر
171
یا
S=13.5Ω
مساوات(3.87)میںSکی یہ قدر رکھنے پر
R =6.86Ω

3.16پوٹینشیومیٹر(Potentiometer) 

یہ ایک ایسا آلہ ہے جو کئی کاموں کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے۔بنیادی طورپر یہ ہموار تار کا ایک لمبا ٹکڑا ہوتا ہے‘جس کی لمبائی اکثر کچھ میٹر ہوتی ہے۔اور اس کے سروں کے درمیان ایک معیاری سیل جوڑا جاتا ہے۔عملی ڈیزائن میں اکثر تار کو کچھ ٹکڑوں میں کاٹ لیاجاتا ہے اور انھیں آگے پیچھے رکھاجاتا ہے اور ان کے سروں کو موٹی دھاتی پٹی سے جوڑ دیاجاتا ہے(شکل3.28)۔شکل میںتارAسےCتک ہے۔چھوٹے عمودی حصے موٹی دھاتی پٹیاں ہیں جن سے تار کے مختلف حصے جڑے ہیں۔

تار میں سے ایک کرنٹIبہتا ہے‘جسے سرکٹ میں لگے ہوئے ایک متغیرہ مزاحمت(ریوسٹیسٹRheostat)کے ذریعے تبدیل کیاجاسکتا ہے۔کیونکہ تار ہموار ہے‘اس لیےAاورAسے l فاصلہ پر کسی نقطہ کے درمیان مضمر فرق ہے:

224

جہاں‘ øمضمر گرائو فی اکائی لمبائی ہے۔

شکل3.28(a)میں‘پوٹینشیومیٹر کا استعمال‘دوسیلوں کی225کا مقابلہ کرنے کے لیے‘دکھایاگیا ہے۔1,2,3سے نشان زد کیے گئے نقاط دوطرفہ کنجی(Two way key)تشکیل دیتے ہیں۔پہلے کنجی کی وہ صورت لیں،جس میں1اور3جڑے ہیں’اس طرح کہ گیلوونومیٹر226سے جڑا ہے۔جو کی کوتار پر حرکت کرائی جاتی ہے‘یہاں تک کہ Aسے228فاصلہ پر ایک ایسا نقطہ227حاصل ہوتا ہے‘جس پر گیلوونومیٹر میںکوئی انفراج نہیں ہے۔ہم بند حلقےمیں کرچوف کا بند حلقہ قاعدہ استعمال کرسکتے ہیں اور حاصل ہوتا ہے:

(3.90)       172

اسی طرح‘اگر دوسریemf 173کے خلاف متوازن ہوتی ہے:

(3.91)     174

آخری دونوں مساواتوں سے

175

231

شکل3.28ایک پوٹینشیومیٹر‘Gایک گلوونومیٹر ہے اور Rایک متغیرہ مزاحمت(ریوسیئٹRheostat)۔1,2,3ایک دو طرفہ کنجی کے ٹرمنل ہیں۔

(a)دو سیلوں کیemfsکا مقابلہ کرنے کے لیے سرکٹ

(b)ایک سیل کی اندرونی مزاحمت معلوم کرنے کے لیے سرکٹ


اس طرح یہ سادہ میکانزم ہمیں دووسیلوں کی emfsکا مقابلہ کرنے دیتا ہے۔عملی صورت میں‘ایک سیل کو معیاری سیل کے بہ طور منتخب کیاجاتا ہے‘جس کیemfمقابلتاً زیادہ درستگیٔ صحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہے۔پھر دوسرے سیل کیemf‘مساوات(3.92)کے ذریعے بہ آسانی تحسیب کی جاسکتی ہے۔

ہم پوٹینشیو میٹر کا استعمال ایک سیل کی اندرونی مزاحمت معلوم کرنے کے لیے بھی کرسکتے ہیں (شکل3.28 (b))۔اس کے لیے وہ  سیل232 (emf  )  جس کی اندرونی مزاحمت(r)معلوم کرنا ہے‘ ایک کنجیK2کے ساتھ ایک مزاحمت ڈبہ کے سروں کے درمیان لگایاجاتا ہے‘جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔ جب کنجیK2کھلی ہوتی ہے تو توازن لمبائی234پر حاصل ہوتا ہے۔اب

235

جب کنجی بند ہوتی ہے تو سیل ایک کرنٹ(I)‘مزاحمت بکسRسے بھیجتا ہے۔اگرVسیل کے ٹرمنلوں کے درمیان مضمر فرق ہے اور توازن لمبائی 236پر حاصل ہوتا ہے:

176

اب‘ہمیں حاصل ہوتا ہے:

93.94(a)

177

اس سے حاصل ہوتا ہے۔

e/V = (r+R)/R

179

مساوات(3.94(a))اور مساوات3.94 (b)سے

180

مساوات(3.95)استعمال کرکے‘ہم ایک سیل کی اندرونی مزاحمت معلوم کرسکتے ہیں۔

پوٹینشیو میٹر کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ جس وسیلے کی اندرونی مزاحمت معلوم کی جاتی ہے‘یہ اس سے کوئی کرنٹ نہیں کھینچتا۔اور اس طرح یہ سیل کی اندرونی مزاحمت سے غیر متاثر رہتا ہے۔

مثال3.10ایکRΩکی مزاحمت پوٹینشیو میٹر سے کرنٹ کھینچتی ہے۔پوٹینشییو میٹر کی کل مزاحمتR0Ωہے (شکل3.29)۔پوٹینشیو میٹر کو ایک وولٹیج Vمہیا کی جاتی ہے۔جب پھسلنے والا تماس پوٹینشیو میٹر کے وسط میں ہے‘اس Rکے سروں کے درمیان وولٹیج کے لیے ریاضیاتی عبارت مشتق کیجیے۔

182

شکل 29۔3

3.29 

حل:جب پھسلنے والی جو کی پوٹینشیو میٹر کے وسط میں ہے تو Aاور Bنقاط کے درمیان اس کی صرف نصف مزاحمتR1ہوگی۔اس لیےAاور Bکے درمیان کل مزاحمت‘فرض کیا�‘مندرجہ ذیل ریاضیاتی عبارت سے دی جائے گی:

184
AاورCکے درمیان کل مزاحمت‘AاورBکے درمیان مزاحمت اورBاورCکے درمیان مزاحمت کا حاصل جمع ہوگی‘یعنی کہR1 + Ro/2،پوٹینشیو میٹر سے بہنے والا کرنٹ ہوگا
185
پوٹینشیو میٹر سے لی گئی وولٹیج V1کرنٹIاورمزاحمتR1کاحاصل ضرب ہوگی۔
186
R1 کی قدر رکھنے پر‘
187

خلاصہ

ایک موصل کے دیے ہوئے رقبے سے گذرنے والا کرنٹ‘اس رقبہ سے فی اکائی وقت گذرنے والا کل چارج ہے۔

ایک قائم کرنٹ برقراررکھنے کے لیے‘ہمارے پاس ایک بند سرکٹ ہونا چاہیے‘جس میں ایک باہری ایجنسی برقی چارج کو مقابلتاً کم وضعی توانائی سے مقابلتاً زیادہ وضعی توانائی کی طرف حرکت دیتی ہے۔وسیلہ کے ذریعے‘ چارج کو مقابلتاً کم وضعی توانائی سے مقابلتاً زیادہ وضعی توانائی کی طرف لے جانے میں(یعنی کہ وسیلے کے ایک ٹرمنل سے دوسرے ٹرمنل تک لے جانے میں)کیاگیا کام فی اکائی چارج وسیلے کی برقی محرک قوت،یاemf‘کہلاتی ہے۔نوٹ کریں کہemfایک قوت نہیں ہے‘یہ کھلے سرکٹ میں ایک وسیلہ کے ٹرمنلوں کے درمیان مضمر فرق ہے۔

اوم کا قانون:اک مادی شئے سے بہنے والا برقی کرنٹI‘اس شئے کے سروں کے درمیان وولٹیجVکے راست متناسب ہے‘یعنی کہ 240جہاںRاس مادی شئے کی مزاحمت کہلاتی ہے۔

مزاحمت کی اکائی اوم ہے:241

ایک موصل کی مزاحمتR‘اس کی لمبائیlاور مستقلہ تراشی رقبہAکے‘اس رشتہ کے مطابق‘تابع ہے:

242

جہاں‘243و مزاحمیت(نوعی مزاحمت)کہلاتی ہے‘مادی شئے کی خاصیت ہے اور درجہ حرارت اور دبائو کے تابع ہے۔

اشیا کی برقی مزاحمتیں ایک بڑی سعت پر پھیلی ہوئی ہیں۔دھاتوں کی مزاحمیت مقابلتاً کم درجے کی ہوتی ہے،اس کی سعت244تک ہے۔  حاجز اشیا جیسے شیشہ یاربر‘کی مزاحمیت اس کے مقابلے میں245گنازیادہ ہوتی ہے۔نیم موصل اشیا‘جیسےSiکی مزاحمتیں،   لوگ ریتھمک پیمانے پر،ان کی درمیانی سعت میں ہوتی ہیں(نزدیکی طورپر)۔

زیادہ تر اشیا میں‘کرنٹ کے بردار الیکٹران ہوتے ہیں۔کچھ صورتوں میں‘مثلاً آیونیوی کرسٹل اور برق پاشہ رقیق،مثبت اور منفی آئن برقی کرنٹ لے جاتے ہیں۔

کرنٹ کثافت246‘بہائو کی عمودی سمت میں بہنے والے چارج کی مقدارفی سیکنڈ فی اکائی رقبہ دیتی ہے۔

247

جہاںn‘چارج برداروں کی عددی کثافت(تعداد فی اکائی حجم)ہے‘جس میں سے ہر ایک کا چارجqہے اور248چارج برداروںکی بادآور رفتار ہے۔الیکٹرانوں کے لیے249ایک تراشی رقبےAپر عمود ہے اور رقبے پر مستقلہ ہے‘تو رقبہ سے گذرنے والے کرنٹ کی عددی قدر ہے:

250

ایک دھات میں‘باہری میدانEکی وجہ سے الیکٹرانوں پر لگنے والی قوتeEاور بادآور رفتار 251(اسراع نہیں)کے درمیان متناسبیت کو سمجھا جاسکتا ہے‘اگر ہم مان لیں کہ الیکٹران‘دھات کے آئنوں کے ساتھ تصادم کرتے ہیں‘جو انھیں بے ترتیب سمتوں میں منفرج کردیتے ہیں۔اگر ایسے تصادم‘اوسطاً وقفہ وقت252کے بعد ہوتے ہیں‘تو

253

جہاںa‘الیکٹران کا اسراع ہے۔اس سے حاصل ہوتا ہے:

254

اس درجہ حرارت سعت میں‘جس میں مزاحمیت،درجہ حرارت کے ساتھ خطی طورپر بڑھتی ہے‘مزاحمیت کے درجہ حرارت ضریب µکی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ مزاحمیت میں کسری اضافہ فی اکائی درجہ حرارت اضافہ ہے۔

10۔ زیادہ تر مادی اشیا اوم کے قانون کی تعمیل کرتی ہیں‘لیکن یہ قدرت کا بنیادی قانون نہیں ہے۔

یہ لاگو نہیں ہوتا اگر

(a) V‘Iکے غیر خطی طورپر تابع ہے۔

(b) VاورIکے درمیان رشتہ‘Vکی یکساں مطلق قدر کے لیے‘Vکی علامت کے تابع ہے۔

(c) VاورIمیں رشتہ غیر یکتا ہے۔

(a) کی مثال ہے‘جب243میں‘Iمیں اضافہ کے ساتھ‘ اضافہ ہوتا ہے (چاہے درجہ حرارت معین رکھاجائے)۔ایک سمت کار(Rectifier)میں(a)اور(b)دونوں خاصیتیں ہوتی ہیں۔GaAsخاصیت (c) ظاہرکرتا ہے۔

11۔ جب 255کا ایک وسیلہ ایک باہری مزاحمتRسے جوڑا جاتا ہے‘تو Rکے سروں کے بیچ وولٹیج256

جہاںr‘وسیلے کی اندرونی مزاحمت ہے۔

12۔ (a)سلسلہ وار جڑے ہوئےnمزاحموں کی کل مزاحمت Rدی جاتی ہے:

R=R1+R2+ +Rn

(b)متوازی طرز میںجڑے ہوئےnمزاحموں کی کل مزاحمت Rدی جاتی ہے:

258

13۔ کرچوف کے قاعدے:

(a) جنکشن قاعدہ:سرکٹ جز کے کسی بھی جنکشن پر‘جنکشن میں داخل ہونے والے کرنٹوں کا حاصل جمع‘ جنکشن سے باہر نکل رہے کرنٹوں کے حاصل جمع کے مساوی ہونالازمی ہے۔

(b) بند حلقہ قاعدہ:ایک بند حلقہ کے گرد مضمر میں ہونے والی تبدیلیوں کا الجبرائی حاصل جمع لازمی طورپر صفر ہوگا۔

14۔ وہیٹ اسٹون برج‘چار مزاحمتوںR4,R3,R2,R1پر مشتمل ہے‘جیسا کہ اس باب میں دکھایا گیا ہے۔

نل نقطہ شرط دی جاتی ہے:260

جسے استعمال کرکے ایک مزاحمت کی قدر معلوم کی جاسکتی ہے اگر باقی تین مزاحمتیں معلوم ہوں۔

15۔ پوٹینشیو میٹر‘مضمرفرقوں کا مقابلہ کرنے کا آلہ ہے۔کیونکہ اس کے استعمال کے طریقے میں‘کسی کرنٹ کے نہ بہنے کی شرط شامل ہے‘اس لیے یہ آلہ‘مضمرفرق ناپیئے‘ایک سیل کی اندرونی مزاحمت معلوم کرنے اور دووسیلوں کی emfsکا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔


ریمارک اکائی ابعاد علامت طبعی مقدار
SIبنیادی اکائی  A (A) 1 برقی کرنٹ
C (T A) چارج
کام چارج V (M L 2 T- A-1) V وولٹیج،برقی مضمر فرق
کام چارج V (M L 2 T- A -1) E برقی محرک قوت
188 Ω (M L 2 T3- A -1) R مزاحمت
189 Ωm (M1 L 3 T3- A -2) P مزاحمیت(نوعی مزاحمت)
190 S (M L T3- A -1) σ برقی ایصالیت
برقی قوت چارج V m-1 (M L 2 T- A -1) E برقی میدان
191 m s-1 (L T-J Ud بادآور چال
s (T) r استراحت وقفہ
کرنٹ رقبہ A m-2 (L-2A) j کرنٹ کثافت
192 m2 V -1 S-1 (ML3T-4A-1J u روانی



قابل ِ غور نکات

کرنٹ ایک عددیہ ہے حالانکہ ہم اسے ایک تیر کے نشان کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں۔کرنٹ‘سمتیوںکے جمع کے قانون کی تعمیل نہیں کرتے۔کرنٹ ایک غیر سمتیہ(عددیہ)ہے‘یہ اس کی تعریف سے بھی اخذ کیاجاسکتا ہے۔ایک تراشی رقبہ سے گذرنے والا کرنٹ دوسمتیوں کا غیر سمتی حاصل ضرب ہے:

262

اس باب میں دکھائے گئے ایک مزاحمے اور ایک ڈایوڈ کے V—Iمنحنی دیکھیے۔ایک مزاحمہ اوم کے قانون کی تعمیل کرتا ہے جب کہ ڈایوڈ نہیں کرتا۔یہ کہنا کہV=IR‘اوم کے قانون کا بیان ہے‘درست نہیں ہے۔یہ مساوات مزاحمت کی تعریف کرتی ہے اور اس کا اطلاق تمام ایصالی آلات پر ہوتا ہے چاہے وہ اوم کے قانون کی تعمیل کرتے ہوںیا نہ کرتے ہوں۔اوم کے قانون کا بیان ہے کہIبرخلافVکی ترسیم(Plot)خطی ہے‘یعنی کہR‘Vکے غیر تابع ہے۔

مساوات263 ‘اوم کے قانون کے دوسرے بیان تک رہنمائی کرتی ہے۔یعنی کہ‘ایک ایصالی شئے اوم کے قانون کی تعمیل کرتی ہے اگر شئے کی مزاحمیت لگائے گئے برقی میدان کی عددی قدر اور سمت کے تابع نہ ہو۔

متجانس موسل جیسے چاندی یا نیم موصل جیسے خالص جرمینیم یا وہ جرمینیم جس میں ملاوٹ شامل ہو‘برقی میدان کی قدروں کی ایک سعت کے اندر پابندی کرتے ہیں۔اگر میدان بہت زیادہ طاقوت ور ہوجائے‘تو ان میں سے ہر ایک صورت میں ‘اوم کے قانون سے کچھ انحراف پایاجائے گا۔

ایک برقی میدان264میں ایصالی الیکٹرانوں کی حرکت حاصل جمع ہے(i)بے ترتیب تصادموں کی وجہ سے حرکت (ii)264کی وجہ سے حرکت‘کا—بے ترتیب تصادموں کی وجہ سے حرکت کا اوسط صفر ہوتا ہے اور یہ265میں حصہ نہیں لیتی(درجہ XIکی درسی کتاب کا باب11)۔اس لیے265‘صرف الیکٹران پر لگائے گئے برقی میدان کی وجہ سے ہوتی ہے۔

رشتہ 266کا‘ہر ایک قسم کے چارج برداروں پر الگ الگ اطلاق کیاجانا چاہیے۔ایک ایصالی تارمیں‘کل کرنٹ اور چارج کثافت‘مثبت اور منفی دونوں چارجوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں:

267

اب ایک تعدیلی(نیوٹرل)تار میں‘جس میں برقی کرنٹ بہہ رہا ہے‘

268

اس لیے‘رشتہ 269کا اطلاق کل کرنٹ چارج کثافت پر نہیں ہوتا ۔

کرچوف کا جنکشن قاعدہ چارج کی بقا پر منحصر ہے اور ایک جنکشن سے باہر نکلنے واے کرنٹ‘آپس میں جمع ہوجاتے ہیں اور جنکشن پر اندر آنے والے کرنٹ کے مساوی ہوتے ہیں۔تاروں کو موڑنے یا ان کی تشریق(Orientation)بدلنے سے کرچوف کے جنکشن قاعدے کی درستگی پر اثر نہیں پڑتا۔

مشق

3.1 ایک کار کی بیٹری 271ہے۔اگر بیٹری کی اندرونی مزاحمت270 0.4 ہے‘تو بیٹری سے زیادہ سے زیادہ کتنا کرنٹ لیاجاسکتا ہے؟

3.2 272اور اندرونی مزاحمت کی ایک بیٹری ایک مزاحمے کے ساتھ جوڑی گئی ہے۔اگر سرکٹ میں کرنٹA  0.5 ہے تو مزاحمہ کی مزاحمت کیاہے؟جب سرکٹ بند ہے تو بیٹری کی ٹرمنل وولٹیج کیا ہے؟

3.3 273کے تین مزاحمے سلسلہ وار جوڑے گئے ہیں۔اجتماع کی کل مزاحمت کیا ہے۔

(b) اگر اس اجتماع کو12Vاور ناقابل لحاظ اندرونی مزاحمت کی ایک بیٹری سے جوڑدیاجائے تو ہر مزاحمے سے گذرنے والا کرنٹ اور بیٹری سے لیاگیا کل کرنٹ معلوم کیجیے۔

3.4  274کے تین مزاحمے‘متوازی طرز میں جوڑے گئے ہیں۔اجتماع کی کل مزاحمت کیا ہے؟

(b) اگر اس اجتماع کو20V‘emfاور ناقابل لحاظ اندرونی مزاحمت کی بیٹری سے جوڑدیاجائے تو ہر مزاحمہ پر مضمر گرائو معلوم کیجیے۔

3.5 کمرہ درجہ حرارت(27.0ooc( پر ایک حرارتی جز کی مزاحمت100Ωہے۔حرارتی جز کا درجہ حرارت کیا ہوگا اگر اس کی مزاحمت117 Ωناپی جاتی ہے۔دیاہوا ہے کہ مزاحمہ کے مادے کا درجہ حرارت ضریب 1.70x 10-4oC-1ہے۔

3.6 ایک 15mلمبے اور6.0x 10-7 mہموار تراشے کے ایک تار سے ایک ناقابل لحاظ حد تک خفیف کرنٹ گذارا جاتا ہے اور اس کی مزاحمت کی پیمائش شدہ قدر280ہے۔تجربہ کے درجہ حرارت پرتار نے مادّے کی مزاحمیت کیاہے؟

3.7 ایک چاندی کے تار کی27.5oCپر مزاحمت2.1Ωاور100 oCپر2۔7Ωہے۔چاندی کی مزاحمیت کا درجہ حرارت ضریب معلوم کیجیے۔

3.8 نائیکروم کا بنا ایک حرارتی جز ایک230Vسپلائی سے جوڑا گیا۔شروع میں یہ جز3.2Aکرنٹ کھینچتا ہے اور کچھ سیکنڈ بعد کرنٹ کی قائم قدر2.8Aہوجاتی ہے۔اگر کمرہ درجہ حرارت283ہے تو حرارتی جز کا قائم درجہ حرارت کتنا ہے؟شامل درجہ حرارت سعت پر اوسط کیاگیا نائیکروم کی مزاحمت کا درجہ حرارت ضریب284ہے۔

3.9 شکل3.30میں دکھائے گئے نیٹ ورک کی ہر شاخ میں کرنٹ معلوم کیجیے۔

285

3.10 (a) ایک میٹر برج میں(شکل3.27)‘جب مزاحمہ286کا ہے تو توازن نقطہ‘Aسرے سے39.5cmکے فاصلے پر حاصل ہوتا ہے۔Xکی مزاحمت معلوم کیجیے۔ایک وہیٹ اسٹون برج یا میٹر برج میں مزاحموں کے درمیان کنکشن موٹی کوپر کی پٹیوں کے کیوں بنے ہوتے ہیں؟

(b) اوپر دیے ہوئے برج کا توازن نقطہ کیاہوگا‘اگرXاورYکو آپس میں بدل دیاجائے؟

(c) اگر برج کے توازن نقطہ پر گیلوونومیٹر اور سیل کو آپس میں بدل دیاجائے تو کیا ہوگا؟کیا گیلوونومیٹر کوئی کرنٹ ظاہر کرے گا؟

3.11  287اندرونی مزاحمت کی ایک بیٹری کو ایک288سپلائی کے ذریعے‘289کا سلسلہ وار مزاحمہ استعمال کرتے ہوئے‘چارج کیاجارہا ہے۔چارج کرنے کے دوران بیٹری کی ٹرمنل وولٹیج کیا ہے؟چارج کرنے والے سرکٹ میں سلسلہ وار مزاحمہ استعمال کرنے کا کیا مقصد ہے؟

3.12 ایک پوٹینشیو میٹر میں‘290کے ایک سیل سے‘تار کی35.0cmلمبائی پر توازن نقطہ حاصل ہوتا ہے۔اگر سیل کو ایک دوسرے سیل سے تبدیل کردیاجائے توتوازن نقطہ63.0cmپر منتقل ہوجاتا ہے۔دوسرے سیل کی emfکیا ہے۔

3.13 مثال3.1میں دیے ہوئے تانبہ کے موصل میں آزاد الیکٹرانوں کی عددی کثافت کا تخمینہ291ہے۔ایک3.0mلمبے تار کے ایک سرے سے دوسرے تک ایک الیکٹران کو بادآور ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟تار کا تراشی رقبہ292ہے اوراس میں3.0Aکرنٹ بہہ رہا ہے۔

اضافی مشق

3.14 سطح زمین کی منفی سطحی چارج کثافت ہوتی ہے‘جس کی قدر293ہے۔فضا کے اوپری حصے اور سطح زمین کے درمیان400KVکے مضمر فرق سے(نچلی فضا کی کم ایصالیت کی وجہ سے)‘پورے کرہ ارض پر صرف1800Aکرنٹ پیدا ہوتا ہے۔اگر فضائی برقی میدان کو برقرار رکھنے کا کوئی میکانزم نہیں ہوتا تو زمین کی سطح کو تعدیل کرنے میںکتنا وقت(تقریباً)لگتا؟(عملی طورپر ایسا کبھی نہیںہوتا‘کیونکہ برقی چارجوں کو دوبارہ پر کردینے کا میکانزم‘کرہ ارض کے مختلف حصوں میں لگاتار آنے والے طوفان برق وباراں اور بجلی کے کڑکنے کی شکل میں موجود ہے) زمین کا نصف قطر294ہے۔

3.15 (a) سیسے کے تیزاب قسم کے چھ ثانوی سیلوں کو‘جن میںسے ہر ایک کی295اور اندرونی مزاحمت   296ہے‘سلسلہ وار جوڑ کر‘297کے مزاحمے کو سپلائی مہیا کی گئی ہے۔سپلائی سے کتنا کرنٹ لیاجارہا ہے اور سپلائی کی ٹرمنل وولٹیج کیا ہے؟

(b) لمبے استعمال کے بعد ایک ثانوی سیل کی298ہے اور اس کی اندرونی مزاحمت 299ہے۔اس سیل سے زیادہ سے زیادہ کتنا کرنٹ لیاجاسکتا ہے؟کیا سیل ایک کارکو چلانا شروع کرنے والے موٹر کو چلاسکتا ہے؟

3.16 برابر لمبائی کے دو تاروں کی مزاحمت یکساں ہے۔ایک تار المونیم کا اور دوسراتانبہ کاہے۔دونوں میں سے کون سا تار مقابلتاً ہلکا ہوگا؟پھر سمجھائیے کہ اوپر لگے تار کے کیبلوں کو بنانے کے لیے المونیم کے تاروں کو کیوں ترجیح دی جاتی ہے؟

puc=1.72x10 -8Ωm ، Al = 2.7،کی اضافی کثافت Cu = 8.9کی اضافی کثافت)

3.17 بھرت میگانین کے بنے مزاحمے پر کیے گئے مندرجہ ذیل مشاہدات سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔


کرنٹ(A) وولٹیجV کرنٹA وولٹیج
0.2 3.94 3.0 59.2
0.4 7.87 4.0 78.8
0.6 11.8 5.0 98.6
0.8 15.7 6.0 118.5
1.0 19.7 7.0 138.2
2.0 39.4 8.0 158.0

3.18 مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے:

(a) ایک غیر ہموار تراشہ کے دھاتی موصل میں سے ایک قائم کرنٹ بہہ رہاہے۔موصل پر‘مندرجہ ذیل میں سے کون سی مقداریں مستقلہ ہیں:کرنٹ،کرنٹ کثافت،برقی میدان،بادآور چال؟

(b) کیا اوم کے قانون کا اطلاق تمام ایصالی عناصر پر آفاقی طورپر ہوتا ہے؟اگر نہیں‘تو ایسے عناصر کی مثالیں دیجیے جو اوم کے قانون کی پابندی نہیں کرتے۔

(c) اگر یک کم وولٹیج سپلائی سے زیادہ کرنٹ لینے کی ضرورت ہے تو اس کی اندرونی مزاحمت کم ہونا چاہیے۔کیوں؟

(d) زیادہ تنائو(HT, High tension)فرض کیجیے6KVکی،سپلائی کی اندرونی مزاحمت بہت زیادہ ہونی چاہیے۔کیوں؟

3.19 درست متبادل منتخب کیجیے:

(a) دھاتوں کے بھرتوں کی مزاحمیت عام طورسے ان دھاتوں سے(زیادہ/کم)ہوتی ہے‘جن سے وہ بنے ہوتے ہیں۔

(b) بھرتوں کی مزاحمت کے درجہ حرارت ضریب عام طور سے خالص دھاتوں سے بہت(زیادہ/کم)ہوتے ہیں۔

(c) بھرت میگانین کی مزاحمیت درجہ حرارت میں اضافے(کے تقریباً غیر تابع ہے،کے ساتھ تیزی سے بڑھتی ہے)۔

(d) ایک مخصوص حاجز‘(جیسے آبنوس)کی مزاحمیت ایک دھات کے مقابلے میں302کے درجے کے جز ضربی سے زیادہ ہوتی ہے۔

3.20 (a) اگر آپ کے پاسnمزاحمے ہوں‘جن میں سے ہر ایک کی مزاحمتRہو تو آپ ان کا اجتماع کیسے کریں گے کہ‘

(i) ازحد معادل مزاحمت ہو(ii)کم ترین معادل مزاحمت حاصل ہو(iii)ازحدمعادل مزاحمت اور کم ترین معادل مزاحمت کی کیا نسبت ہے۔

(b)۔303کے مزاحمے دیے ہوئے ہیں۔آپ ان کا اجتماع کیسے کریں گے کہ حاصل ہونے والی معادل مزاحمت304ہو۔

(c) شکل3.31میں دکھائے گئے نیٹ ورکوں کی معادل مزاحمت معلوم کیجیے:

305

3.21 شکل3.2میںدکھائے گئے لامتناہی نیٹ ورک کے ذریعے ایک12Vسپلائی سے‘جس کی اندرونی مزاحمت 0.5Wہے‘ کھینچا گیا کرنٹ معلوم کیجیے۔

306

شکل3.32 

3.22 شکل3.33میں2.0V‘emfاور0.40Wاندرونی مزاحمت کے ایک سیل کے ساتھ ایک پوٹینشیو میٹر دکھایا گیا ہے۔ سیل کے ذریعے مزاحمہ تارA Bپر ایک مضمر گرائو برقرار رکھاجاتا ہے۔ایک معیاری سیل‘1.02Vکی مستقلہemfبرقرار رکھتا ہے(چندmAتک کے بہت کم کرنٹ کے لیے)اور تارکی67.3cmلمبائی پرتوازن نقطہ دیتا ہے۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ معیاری سیل سے بہت کم کرنٹ کھینچا جائے‘اس کے ساتھ ایک بہت بڑا600KWکا مزاحمہ سلسلہ وار لگایاجاتا ہے،جیسے توازن نقطہ کے قریب شارٹ کر دیاجاتا ہے۔پھر معیاری سیل کو ایک نامعلومemf‘eکے سیل سے بدل دیاجاتا ہے اور اسی طرح معلوم کیاگیا توازن نقطہ اب تارکی82.3cmلمبائی پر ملتا ہے۔

307

شکل3.33

(a)۔  Eکی قدر کیا ہے؟

(b) 308کا بڑا مزاحمہ کیا مقصد پورا کرتا ہے؟

(c)کیا س بڑی مزاحمت سے توازن نقطہ پر کوئی اثرپڑتا ہے؟

(d)کیا ڈرائیور سیل کی اندرونی مزاحمت سے توازن نقطہ متاثر ہوتا ہے؟

(e)اگر ڈرائیور سیل کی 309ہوتوکیا مندرجہ بالا صورت میں یہ طریقہ کام کرے گا؟

(f) کیا یہ سرکٹ بہت زیادہ قلیلemf‘فرض کیجیے جو چندmVکے درجہ کی ہے(جیسے کہ تھرموکپل کی مخصوصemf)‘معلوم کرنے کے لیے ٹھیک کام کرے گا؟تو آپ سرکٹ میں کیا سدھار کریں گے۔

3.23 شکل3.34میں دو مزاحموں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پوٹینشیو میٹر سرکٹ دکھایا گیا ہے۔ایک معیاری مزاحمے310کے ساتھ توازن نقطہ58.3cmپر حاصل ہوتا ہے جب کہ غیر معلوم مزاحمہXکے ساتھ یہ 68.5cmہے۔Xکی قدر معلوم کیجیے—اگر آپ emf‘eکے دیے ہوئے سیل کے ذریعے توازن نقطہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیںہوتے تو آپ کیا کرسکتے ہیں؟

311

شکل3.34


3.24 شکل3.35میں‘1.5Vکے سیل کی اندرونی مزاحمت معلوم کرنے کے لیے ایک2.0Vکا پوٹینشیو میٹر دکھایا گیا ہے۔کھلے سرکٹ میں سیل کا توازن نقطہ 76.3cmپر ہے۔جب سیل کے باہری سرکٹ میں ایک312کا مزاحمہ استعمال کیا جاتا ہے تو توازن نقطہ،پوٹینشیومیٹر تارکی 64.8cmلمبائی پر منتقل ہوجاتا ہے۔سیل کی اندرونی مزاحمت معلوم کیجیے۔

313