باب4
متحرک چارج اور مقناطیسیت
(MOVING CHARGES AND MAGNETISM)
1.4تعارف(INTRODUCTON)
برق اور مقناطیسیت،دونوں 2000سال سے بھی پہلے سے معلوم ہیں۔لیکن صرف200برس پہلے ہی،1820میں یہ احساس ہوسکا کہ یہ ایک دوسرے سے بہت قریبی رشتہ رکھتے ہیں*۔1820میں ایک لیکچر—مظاہرہ کے دوران،ڈنمارک کے طبیعات داں،ہنس کرسٹین اور سٹیڈ(Hans Christian Oersted)نے محسوس کیا کہ مستقیم تار میں بہنے والا کرنٹ اس کے نزدیک رکھی ہوئی مقناطیسی سوئی میں قابل لحاظ انفراج پیدا کرتا ہے۔انھوں نے اس مظہر کی تفتیش کی۔انھوںنے پا یا کہ سوئی کی سمت ایک خیالی دائرہ پر سماسی ہے،جس کا مرکز مستقیم تار ہے اور جس کا مستوی تار پر عمود ہے۔یہ صورت شکل(4.1(a))میں دکھائی گئی ہے۔یہ تب ہی دیکھا جا سکتا ہے،جب کرنٹ کی مقدار زیادہ ہو اور سوئی تار کے کافی قریب ہو،تاکہ زمین کے مقناطیسی میدان کو نظر انداز کیاجا سکے۔کرنٹ کی سمت مخالف کرنے سے،سوئی کی تشریق بھی مخالف ہوجاتی ہے(شکل4.1(b))۔کرنٹ میں اضافہ کرنے سے یا سوئی کو تار کے اور نزدیک لانے سے انفراج میں اضافہ ہوتا ہے۔اگر تار کے ارد گرد لوہے کا برادہ بکھیر دیاجائے تو وہ اپنے آپ کو ہم مرکز دائروں میں ترتیب دے لیتے ہیں،جن کا مرکز تار ہوتا ہے(شکل4.1(c))۔اورسٹیڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ حرکت کرتے ہوئے چارج یا کرنٹ،اپنے آس پاس کی فضا میں مقناطیسی میدان پیدا کرتے ہیں۔
اس کے بعد بہت سے تجربے کیے گئے۔اس کے بعد1864میں جیمس میکسویل نے ان قوانین کو متحد کیا اور ان کی تشکیل کی،جن کی برق اور مقناطیسیت پابندی کرتے ہیں،اور پھر انھیں احساس ہوا کہ روشنی،برق—مقناطیسی لہر(Electromagnetic wave)ہے۔ریڈیو لہریں ہرٹز(Hertz)نے دریافت کیں اور19ویںصدی کے آخر تک جے۔سی۔بوس(J.C.Bose) اور جی۔مارکونی(G.Marconi) نے تجربہ گاہ میں پیدا کیں۔بیسویںصدی میں سائنس اور ٹکنالوجی میں معرکتہ آلارا ترقی ہوئی۔اس کی وجہ برق—مقناطیسیت کی تفہیم میں اضافہ اور برق—مقناطیسی لہروں کو پیدا کرنے،ان کی افزائش(Amplificaion)،اشاعت اور شناخت کرنے کے آلات کی ایجادات ہیں۔

شکل4.1:ایک مستقیم،لمبے کرنٹ بردار تار کی وجہ سے پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان—تار،کاغذ کے مستوی پر عمود ہے۔مقناطیسی سوئیوں کا ایک چھلہ تار کو گھیرے ہوئے ہے۔سوئیوں کی تشریق دکھائی گئی ہے،جب(a)کرنٹ کاغذ کے مستوی سے باہر کی طرف نکلتاہے۔(b)کرنٹ کاغذ کے مستوی میں اندر کی جانب داخل ہوتا ہے(c)تار کے گرد لوہے کے برادے کی ترتیب۔سوئیوں کے سیاہ کیے ہوئے کنارے شمالی قطب کو ظاہر کرتے ہیں۔زمین کے مقناطیسی میدان کے اثر کو نظر انداز کردیاگیا ہے۔

ہنس کرسٹین اور سٹیڈ
(Hans Christian Oersted) (1777—1851)
ڈنمارک کے طبیعات داں اور کیمیاداں،کوپن بیگن(CopenHagen)کےپروفیسر۔ انھوں نے مشاہدہ کیا کہ جب ایک مقناطیسی سوئی کو ایک برقی کرنٹ بردار تار کے نزدیک رکھا جاتا ہے تو سوئی میں انفراج پیدا ہوتا ہے۔اس دریافت سے برقی اور مقناطیسی مظاہر کے درمیان آپسی تعلق کا پہلا آزمائش (empirical) ثبوت ملا۔
اس باب میں ہم دیکھیں گے کہ مقناطیسی میدان،حرکت کرتے ہوئے چارج شدہ ذرات،جیسے الیکٹران،پروٹان،اور کرنٹ بردار تاروں پر کیسے قوتیں لگاتا ہے۔ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ کرنٹ مقناطیسی میدان کیسے پیدا کرتے ہیں۔ہم دیکھیں گے کہ سائیکلوٹرون(Cyclotron)میں ذرات کو بہت اونچی توانائیوں تک کیسے اسراع کرایا جاتا ہے۔ہم مطالعہ کریں گے کہ گلوونومیٹر کے ذریعے کرنٹ اور وولٹیج کی شناخت کیسے کی جاتی ہے۔
اس باب میں اور اس کے آگے آنے والے مقناطیسیت کے باب میں ہم مندرجہ ذیل قرارداوں پر عمل کریں گے:ایک کرنٹ یا میدان(برقی یا مقناطیسی)جو کاغذ کے مستوی سے باہر کی جانب نکل رہا ہو،ایک نقطہ(ڈاٹ)(¤)کے ذریعے دکھایا جاتا ہے۔کاغذ کے مستوی کے اندر کی جانب جاتا ہوا کرنٹ یا میدان ایک کراس
کے ذریعے دکھایا جاتاہے،شکلیں
،ان دونوں صورتوں سے،بالترتیب،مطابقت رکھتی ہیں۔
4.2مقناطیسی قوت(Magnetic Force)
4.2.1وسیلے اور میدان(Sources and fields)
اس سے پہلے کہ ہم مقناطیسی میدان
،کے تصورت سے آپ کو متعارف کرائیں،ہم دہراتے ہیں کہ باب1میں ہم نے برقی میدان کے بارے میں کیا سیکھاتھا۔ہم نے دیکھا تھا کہ دوچارجوں کے درمیان باہمی عمل کو دومرحلوں میں سمجھا جاسکتا ہے۔چارجQ،جو میدان کا وسیلہ (Source) ہے،ایک برقی میدانE
،پیداکرتا ہے،جہاںE
،دی جاتی ہے:
(4.1) E = Q r / (4π E0)r2
جہاںr,rکی سمت میںاکائی سمتیہ ہے اور میدان Eایک سمتی میدان ہے۔ایک چارجqاس میدان سے باہم عمل کرتا ہے اور ایک قوت محسوس کرتا ہے،جودی جاتی ہے:
(4.2) F= q E = q Q r /( 4π E0) r2
جیسا کہ باب1میں نشاندہی کی گئی ہے،میدان
صرف ایک صناعی نہیں ہے بلکہ طبیعی کردار نبھاتا ہے۔یہ توانائی اور معیار حرکت پہنچاتا ہے اور لمحاتی طورپر قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کی اشاعت(Propagation)کے لیے ایک متناہی وقفہ درکار ہوتا ہے۔میدان کے تصور پر فیراڈے نے خاص طورپر زور دیااور میکسویل نے برق اور مقناطیسیت کو یکجا کرنے(Unification)میں اس کو شامل کیا۔میدان،فضا(Space)میں ہرنقطے پر منحصر ہونے کے ساتھ ساتھ وقت کے ساتھ بھی تبدیل ہوسکتا ہے،یعنی کہ وقت کا تفاعل(Function)بھی ہوسکتا ہے۔اس باب میں اپنی بحث میں ہم یہ فرض کرہے ہیں کہ میدان وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہورہا ہے۔
ایک مخصوص نقطے پر میدان،کسی ایک یا ایک سے زیادہ چارجوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔اگرایک سے زیادہ چارج ہیں تو میدان سمیتہ طور سے جمع ہوجاتے ہیں۔آپ باب1میں پہلے ہی سیکھ چکے ہیں کہ یہ انطباق کا اصول کہلاتا ہے۔جب ایک بار میدان معلوم ہو،تو ایک ٹیسٹ چارج پر قوت مساوات(4.2)سے دی جاتی ہے۔
بالکل جس طرح ساکن چارج ایک برقی میدان پیدا کرتے ہیں،کرنٹ یا متحرک چارج (اس کے ساتھ ساتھ) ایک مقناطیسی میدان بھی پیداکرتے ہیں،جسے
سے ظاہرکرتے ہیں اوریہ بھی ایک سمتیہ میدانہے۔اس کی کئی بنیادی خاصیتیں برقی میدان کی خاصیتوں کے متماثل ہیں۔اس کی فضا کے ہر نقطہ پر تعریف کی جاتی ہے(اور اس کے علاوہ وقت کے بھی تابع ہو سکتا ہے)۔تجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ انطباق کے اصول کی پابندی کرتا ہے:کئی وسیلوں کا مقناطیسی میدان،ہر انفرادی وسیلہ کے مقناطیسی میدان کی سمتی جمع ہے۔
4.2.2مقناطیسی میدان،لورینٹز قوت(Magnetic Field, Lorentz Force)
فرض کیجیے کہ ایک نقطہ چارجq(رفتار
سے حرکرت کررہا ہے اور دیے ہوئے وقت tپر مقام
پر ہے)ہے اور برقی میدان
اورمقناطیسی میدان
دونوں موجود ہیں۔برقی چرج qپر ان دونوں کی وجہ سے لگ رہی وقت لکھی جاسکتی ہے:
(4.3)مقناطیسی
برقی
یہ قوت سب سے پہلے ایچ۔اے۔لورینٹز(H.A. Lorentz)نے،ایمپیر اوران کے ساتھیوں کے تفصیلی تجربات کے نتائج کی بنیاد پر،تجویز کی تھی۔یہ لورینٹز قوت کہلاتی ہے۔ااپ برقی میدان کی وجہ سے پیدا ہونے والی قوت کا تفصیلی مطالعہ پہلے ہی کرچکے ہیں۔اب اگر ہم مقناطیسی میدان سے باہم تعامل کو دیکھیں،تو ہم مندرجہ ذیل خاصیتیں پاتے ہیں:
(i) یہ q،
کے تابع ہے(ذرہ کا چارج،رفتار اور مقناطیسی میدان)۔ایک منفی چارج پر قوت،ایک مثبت چارج پر لگ رہی قوت کے مخالف ہے۔
(ii) مقناطیسی قوت
q میں رفتار اور مقناطیسی میدان کاایک سمتیہ حاصل ضرب شامل ہے۔سمتیہ حاصل ضرب مقناطیسی میدان کی وجہ سے لگ رہی قوت کو معدوم کردیتا ہے(صفر کردیتا ہے)‘اگر رفتار اور مقناطیسی میدان ایک دوسرے کے متوازی یا مخالف متوازی(anti parallel)ہوں۔قوت کی سمت،رفتار اور مقناطیسی میدان دونوں پر عمود ہوتی ہے۔اس کی سمت سمیتہ(یاکراس)حاصل ضرب کے دائیں ہاتھ قاعدہ یا اسکریوقاعدہ سے دی جاتی ہے،جیساکہ شکل(4.2)میں دکھایا گیا ہے۔
(iii) اگر چارج حرکت نہیں کررہا ہو تو مقناطیسی قوت صفر ہوگی(کیونکہ،تب
)۔اس لیے صرف ایک متحرک چارج ہی مقناطیسی قوت محسوس کرتا ہے۔

شکل4.2ایک چارج شدہ ذرہ پر لگ رہی مقناطیسی قوت کی سمت(a):رفتارسے حرکت کرتے ہوئے اور مقناطیسی میدان سے زاویہ بناتے ہوئے ایک مثبت چارج شدہ ذرے پر لگ رہی قوت،دائیں ہاتھ قاعدے سے دی جاتی ہے۔ (b)مقناطیسی میدان کی موجودگی میں،ایک متحرک چارج شدہ ذرہ q،—q سے مخالف دائری سمت(Sense)میں انفراج کرتا ہے۔
مقناطیسی قوت کے لیے دی گئی ریاضیاتی عبارت،مقناطیسی میدان کی اکائی کی تعریف کرنے میں مدد کرتی ہے،اگر ہم قوت مساوات:
کے درمیان زاویہ ہے،(دیکھیے شکل
سب کو اکائی لیں۔مقناطیسی میدان کی عددی قدر
پر عمود،Im/sکی چال سے حرکت کررہا ہے،پر لگنے والی قوت 1نیو ٹن ہو۔
ابعادی طورپر ،ہمارے پاس ہے:
کی اکائی،نیوٹن سیکنڈ(کولمب میٹر) میں۔یہ اکائی،نکولاٹیسلا(1856—1943)کے نام پر ٹیسلا (T)کہلاتی ہے۔ٹیسلا کافی بڑی اکائی ہے۔ایک مقابلتاً چھوٹی اکائی (غیرSI)،جو گاس(gauss)
کہلاتی ہے،اکثر استعمال ہوتی ہے۔زمین کا مقناطیسی میدان تقریباً
ہے۔جدول4.1میں کائنات میں پائے جانے والے مقناطیسی میدانوں کی ایک بڑی سعت(Range) کی فہرست مہیا کی گئی ہے۔
جدول4.1:مختلف طبعی صورتوں میں مقناطیسی میدان کی عددی قدروں کے درجے
| (کی عددی قدر ( ٹیسلا میں B | طبعی صورت |
| 108 | ایک نیوٹران ستارے کی سطح |
| 1 | تجربہ گاہ پیدا کیا جا سکنے والی مخصوص بڑا میدان |
| 10-2 | ایک چھوٹی مقناطیسی جھڑکے قریب |
| 10-5 | زبان میں سطح |
| 10-10 | (Human nerve fibre)انسانی |
| 10-12 | (Interstellar Space) بین النجمی فضا |
4.2.3ایک کرنٹ بردار موصل پر مقناطیسی قوت
(Magnetic force on a curent carrying conductor)
ہم ایک واحد متحرک چارج پر مقناطیسی میدان کی وجہ سے لگنے والی قوت کے تجزیہ کی توسیع ایک کرنٹ بردار مستقیم چھڑکے لیے کرسکتے ہیں۔ہموار تراشی رقبہAاور لمبائی Lکی ایک چھڑلیں۔ہم فرض کرتے ہیں کہ موصل کی طرح ایک ہی قسم کے رواں چارج بردار ہیں(یہاں الیکٹران)۔فرض کیجیے چھڑ میں رواں چارج برداروں کی عددی کثافتnہے۔اس ایصالی چھڑمیں قائم کرنٹIکے لیے،ہم فرض کرسکتے ہیں کہ ہر رواں چارج بردار کی اوسطاً بادآور رفتار
ہے(دیکھیے باب2)۔ایک باہری مقناطیسی میدان
کی موجودگی میں،ان چارج برداروں پر لگ رہی قوت ہے:
![]()
جہاںqایک چارج بردار پر چارج کی قدر ہے۔اب
کرنٹ Iہے(کرنٹ اور کرنٹ کثافت کی بحث کے لیے باب3دیکھیے)۔اس لیے:

جہاں
ایک عدد قدرl،چھڑ کی لمبائی،کا سمتیہ ہے اور جس کی سمت،کرنٹ
کی سمت کے متماثل ہے۔نوٹ کریں کہ کرنٹIایک سمتیہ نہیں ہے۔مساوات(4.4)تک پہنچنے کے آخری قدم میںہم نے سمتیہ علامت
پر منتقل کردی ہے۔
مساوات(4.4)ایک مستقیم چھڑ کے لیے درست ہے۔
باہری مقناطیسی میدان ہے۔یہ کرنٹ بردار چھڑ کے ذریعے پیداکیاگیا میدان نہیں ہے۔اگر تار کی کوئی بھی اختیاری شکل ہے تو ہم اسے خطی پٹیوں(Linear strips)
کا مجموعہ مان سکتے ہیں اور jپر جمع کرکے،اس پر لگ رہی لورینٹزقوت کی تحسیب کرسکتے ہیں:
![]()
زیادہ تر صورتوں میں اس جمع کے عمل کو تکملہ (Inteqral)سے بدلاجاسکتا ہے۔
برقی سرایت پذیری اور مقناطیسی سرایت پذیر ی
مثال 4.1
200gکمیت اور1.5mلمبائی کے ایک مستقیم تار میں2Aکرنٹ ہے۔یہ ایک ہموار افقی مقناطیسی میدانBکے ذریعے ہوا میں لٹکایا گیا ہے(شکل4.3)۔مقناطیسی میدان کی عددی قدر کیا ہے؟

شکل4.3
حل: مساوات(4.4)سے ہمیں حاصل ہوتا ہے کہ اوپر کی جانب ایک قوتFہے،جس کی عددی قدرIlBہے۔بیچ ہوا میں لٹکنے کے لیے،اس قوت کا مادی کشش قوت کے ذریعے متوازن ہونا لازمی ہے۔
mg = IlB
B = mg / ll
T 0.65 = 1.5 × 9.8/2×0.2 =
نوٹ کریں کہm/lکو متعین کرنا کافی ہوتا،یعنی تار کی کمیت فی اکائی لمبائی معلوم ہونا کافی تھا۔زمین کا مقناطیسی میدان تقریباً 105× 4ہے،جسے نظرانداز کردیاگیا ہے۔
مثال4.2اگر مقناطیسی میدان،مثبت—yمحور کے متوازی ہے اور چارج شدہ ذرہ مثبت—xپر حرکت کررہا ہے(شکل4.4)تو(a)ایک الیکٹران(منفی چارج)(b) ایک پروٹان (مثبت چارج)،کے لیے لورنیٹز قوت کس جانب ہوگی؟

اب ہم ذرا زیادہ تفصیل سے،ایک مقناطیسی میدان میںمتحرک ایک چارج کی حرکت کو بیان کریں گے۔ہم میکانیات میں سیکھ چکے ہیں(دیکھیے درجہXIدرسی کتاب ،باب6)ایک ذرہ پرقوت کے ذریعے تب ضرور کام ہوتا ہے جب قوت ایکجز ذرے کی حرکت کی سمت میں (یا اس کی مخالف سمت میں)ہو۔ایک مقناطیسی میدان میں ایک چارج کی حرکت کے معاملے میں،مقناطیسی قوت،ذرے کی رفتار پر عمود ہے۔اس لیے کوئی کام نہیں کیاجاتا اور رفتار کی عددی قدر میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا ہوتی(حالانکہ معیار حرکت کی سمت تبدیل ہوسکتی ہے)۔(نوٹ کریں کہ یہ ایک برقی میدان کی وجہ سے لگنے والی قوت
جیسا نہیں ہے،جس کا ایک جز حرکت کی سمت کے متوازی(یا اس کے مخالف متوازی)ہوسکتا ہے اور اس طرح وہ معیار حرکت کے علاوہ توانائی بھی منتقل کرسکتا ہے۔)


ہم ایک چارج شدہ ذرے کی ہموار مقناطیسی میدان میں حرکت کو لیتے ہیں۔پہلے وہ صورت لیجیے جس میں
پر عمود ہے۔عمودی قوت:
،بہ طور مرکزجو قوت(Centripetal force)کام کرتی ہے اور مقناطیسی میدان کی عمودی سمت میں ایک دائری حرکت پیدا کرتی ہے۔اگر
ایک دوسرے پر عمود ہیں تو ذرہ ایک دائرہ بنائے گا(شکل4.5)۔
اگر رفتار کا ایک جز
کی جانب ہے تو یہ جز غیر تبدیل شدہ رہتا ہے،کیونکہ مقناطیسی میدان کی سمت میں حرکت مقناطیسی میدان سے متاثر نہیںہوگی۔
پر عمود ایک مستوی میں حرکت،پہلے کی طرح ایک دائری حرکت ہوگی،اور اس طرح ایک مرغوبیحرکت(Helical Motion)پیداہوگی(شکل4.6)۔
آپ پچھلی جماعتوں میں(دیکھیے درجہXIدرسی کتاب ،باب 4)پہلے ہی سیکھ چکے ہیں کہ اگر ایک ذرہ کے دائری راستے کا نصف قطرrہے تو( mv2/r )
کی ایک قوت،راستے کی عمودی سمت میں دائرہ کے مرکز کی جانب لگتی ہے جو مرکز جو قوت کہلاتی ہے۔اگر فتار
،قناطیسی میدان
پر عمود ہے،تو مقناطیسی قوت
دونوں پر عمود ہے اور ایک مرکز جو قوت کی طرح کام کرتی ہے۔اس کی عددی قدر qvBہے۔مرکز جو قوت کی دونوں ریاضیاتی عبارتوں کو مساوی کرنے پر:
= (mv2/r)جس سے حاصل ہوتا ہے
![]()
جو چارج شدہ ذرے کے ذریعے بنائے گئے دائرہ کا نصف قطر ہے۔جتنا معیار حرکت زیادہ ہوگا،اتنا ہی نصف قطر زیادہ ہوگا اور بنایا ہوا دائرہ اتنا ہی بڑا ہوگا۔اگر
،زوپائی تعدد ہے،تب
،اس لیے:
![]()
جو کہ رفتار یا توانائی کے تابع نہیں ہے۔یہاں
گردش کا تعدد(frequency)ہے۔
کے توانائی کے غیر تابع ہونے کے سائیکلوٹران کے ڈیزائن کے لیے اہم مضمرات ہیں(دیکھیے حصہ4.42)۔
ایک چکر میں لگنے والا وقت ہے:
۔اب اگر رفتار کا ایک جز،مقناطیسی میدان کے متوازی ہے(جسے
سے ظاہر کرتے ہیں)،تو یہ جز ذرے کو میدان کی سمت میں حرکت دے گااور ذرہ کا راستہ مرغوبی(Helical)ہوگا(شکل4.6)۔ایک چکر میں مقناطیسی میدان کی سمت میں طے کیاگیا فاصلہ فصل(پچPitch)’P‘کہلاتا ہے۔مساوات[4.6(a)]استعمال کرتے ہوئے،ہمیں ملتا ہے:
![]()
حرکت کے دائری جز کا نصف قطر،مرغوبہ(helix)کا نصف قطرکہلاتا ہے۔
مثال4.3:ایک الیکٹران کے راستے کا نصف قطر کیا ہوگا(کمیت 9×10-31 kg ،چارج1.6×10-19) جو m107×3کی چال سے T10-4×6کے مقناطیسی میدان میں،جو اس پر عمود ہے،حرکت کرہا ہے؟اس کا تعدد کیا ہوگا؟Kevمیں اس کی توانائی تحسیب کیجیے۔
(1ev = 1.6 × 10 -19 J)
حل:مساوات(4.5)استعمال کرتے ہوئے،ہمیں حاصل ہوتا ہے۔

چارج شدہ ذرات کی مرغوبی حرکت اور اورورا بوریولس
(Helical motion of charged particles and aurora boriolis)
قطبی علاقوں،جیسے الاسکا اور شمالی کناڈا،میں آسمان میںرنگوں کا ایک نہایت خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہے۔ناچتی ہوئی ہری گلابی روشنیاں دلفریب بھی ہوتی ہیں اور تعجب خیز بھی۔اس قدرتی مظہر کی وضاحت اب اس طبیعات کے ذریعے کی جاسکتی ہے جو ہم سیکھ چکے ہیں۔
کمیتmاورچارجqکا ایک چارج شدہ ذرہ لیجیے،جو مقناطیسی میدان Bکے علاقے میں رفتار Vکے ساتھ داخل ہوتا ہے۔فرض کیجیے کہ اس رفتار کا ایک جزVpمقناطیسی میدان کے متوازی ہے اور ایک جز Vnاس پر عمود ہے۔ میدان کی سمت میں ، چارج شدہ ذرہ پر کوئی قوت نہیں ہے۔ اس لیے ذرہ میدان کی سمت میں رفتارVpسے حرکت جاری رکھتا ہے۔ذرہ کاعمودی جزVn،ایک لورینٹزقوت (Vn × B)پیدا کرتا ہے جو VnاورBدونوں پر عمود ہے۔جیسا کہ حصہ4.3.1میںدیکھا جاچکا ہے،اس لیے ذرہ میں مقناطیسی میدان پر عمود مستوی میں ایک دائری حرکت کرنے کا رجحان ہوگا۔جب یہ حرکت،میدان کے متوازی،رفتار سے منسلک ہوگی،تو اس کے نتیجے میں جوخط راہ حاصل ہوگا وہ مقناطیسی میدانی خط پر مرغول(Helix)ہوگا‘جیسا کہ یہاں شکل(a)میں دکھایاگیا ہے۔اگر میدانی خط مڑتا بھی ہے،تب بھی مرغوبی حرکت کرتا ہوا ذرہ گھر جاتا ہے اور میدانی خط کے گرد ہی حرکت کرسکتا ہے۔کیونکہ ہر نقطہ پر،لورنیٹنزقوت رفتار پر عمود ہے،میدان،ذرے پر کوئی کام نہیں کرتا اور رفتار کی عددی قدر وہی رہتی ہے۔

ایک شمسی بھڑک(solar flare)کے دوران،سورج سے الیکٹرانوں اور پروٹانوں کی ایک بڑی تعداد خارج ہوتی ہے۔ان میں سے کچھ زمین کے مقناطیسی میدان میں گھر جاتے ہیں اور میدانی خطوط پر مرغوبی راستوں میں حرکت کرتے ہیں۔مقناطیسی قطبوں کے نزدیک میدانی خطوط ایک دوسرے کے قریب ہوجاتے ہیں،دیکھیے شکل(b)۔اس لیے قطبین کے نزدیک چارجوں کی کثافت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔یہ ذرات فضا کے ایٹموں اور مالیکیولوں سے تصادم کرتے ہیں۔مشتعل (Excited)آکسیجن آیٹم ہری روشنی خارج کرتے ہیں اور مشتعل نائٹروجن ایٹم گلابی روشنی—طبیعات میں یہ مظہر اور ورا بووریولس کہلاتا ہے۔
4.4برقی اورمقناطیسی میدانوں کے اجتماع میں حرکت
(Motion in Combined Electric and Magnetic Fields)
4.4.1 رفتار انتخاب کار(Velocity Selector)
آپ جانتے ہیں کہ برقی اورمقناطیسی دونوں میدانوں کی موجودگی میں رفتار
سے حرکت کرتے ہوئے چارجqپر ایک قوت لگتی ہے جو مساوات(4.3)سے دی جاتی ہے،یعنی کہ،
![]()
ہم ایک سادہ صورت لیں گے،جس میں برقی اور مقناطیسی میدان ایک دوسرے پر عمود ہیں اور ذرہ کی رفتار پر بھی عمود ہیں،جیسا کہ شکل4.7میں دکھایاگیا ہے۔ہمارے پاس ہے:

اس لیے
![]()

اس لیے،برقی اور مقناطیسی قوتیں،ایک دوسرے کی مخالف سمتوں میں ہیں،جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔فرض کیجیے ہم
کی قدروں کو اس طرح درست کرتے ہیں کہ دونوں قوتوں کی عددی قدریں مساوی ہیں۔تب،چارج پر لگ رہی کل قوت صفر ہے اور چارج ان میدانوں میں بغیر منفرج ہوئے(undeflected)حرکت کرے گا۔ایسا تب ہوتا ہے،جب
qE = qvB
یا
(شکل 4.7)
v = E/B
ایک شعاع ،جس میں مختلف چالوں سے حرکت کرتے ہوئے ذرات شامل ہوں،اس میں سے ایک خاص رفتار کے چارج شدہ ذرات کو منتخب کرنے میں یہ شرط استعمال کی جاسکتی ہے (ان کے چارج اور ان کی کمیت کا لحاظ کیے بغیر)۔اس طرح ایک دوسرے کے مخالف اور مساویEاورBمیدان،رفتار انتخاب کار کا کام کرتے ہیں۔جس علاقے میںEاورBمیدان ایک دوسرے کے مخالف اور مساوی ہوتے ہیں،اس میں سے صرف
چال کے ذرات ہی بغیر منفرج ہوئے گذرسکتے ہیں۔یہ طریقہ جے۔جے۔تھامسن نے1877میں ایک الیکٹران کی چارج اور کمیت کی نسبت
کی پیمائش کرنے کے لیے استعمال کیاتھا۔یہ اصول کمیت طیف پیما(Massspectrometer)میں بھی استعمال کیاجاتا ہے،جو ایک ایسا آلہ ہے جو چارج شدہ ذرات (عام طورسے آئین)کو ان کی چارج اور کمیت کی نسبت کے مطابق علیحدہ کرتا ہے۔
4.4.2سائیکلوٹرون(Cyclotron)
سائیکلوٹرون ایک ایسی مشین ہے جس سے چارج شدہ ذرات یا آئنوں کو اونچی توانائیوں تک اسراع کرایا جاتا ہے۔اسے1934میںای۔او۔لارینس(E.O. Lawrence) اور ایم۔ایس لونگسٹن(M.S.Livingston) نے نیوکلیائی ساخت کی چھان بین کرنے کے لیے ایجاد کیا۔سائیکلوٹرون،برقی اور مقناطیسی دونوں میدانوں کے مجموعے کا استعمال،چارج شدہ ذرات کی توانائی میں اضافہ کرنے کے لیے کرتی ہے۔کیونکہ میدان ایک دوسرے پر عمود ہوتے ہیں،اس لیے انھیں کراس میدان(crossed fields)کہتے ہیں۔
سائیکلوٹرون میں اس حقیقت کا استعمال کیاجاتا ہے کہ ایک مقناطیسی میدان میں ایک چارج شدہ ذرے کے طواف کا تعدد(frequency of revolution)،اس کی توانائی کے تابع نہیں ہوتا۔ذرات زیادہ تروقت دو نصف دائری قرصوں(semi circular discs)جیسے دھاتی کنستروں (metal Containers)
کے اندر حرکت کرتے ہیں جو ڈی کہلاتے ہیں،کیونکہ ان کی شکل انگریزی حرفDجیسی ہوتی ہے۔شکل4.8سائیکلوٹرون کا ایک نقشہ پیش کرتی ہے۔دھاتی ڈبوں کے اندر ذرہ سپر شدہ(Shielded)ہوتا ہے اور اس پر برقی میدان کام نہیں کرتا۔لیکن مقناطیسی میدان پھر بھی ذرہ پر لگتا ہے اور اسے ڈی کے اندر ایک دائری راستے پر چکر کٹواتا ہے۔ہر مرتبہ جب ذرہ ایک ڈی سے دوسری ڈی میں حرکت کرتا ہے تو اس پر برقی میدان لگتا ہے۔برقی میدان کی علامت کو باری باری (متبادل طورپر(alternatively) )ذرہ کی دارئری حرکت کے مطابق،تبدیل کیاجاتا رہتا ہے۔اس طرح سے یہ یقنی ہوجاتا ہے کہ ذرہ برقی میدان کے ذریعے ہمیشہ اسراع حاصل کرتا ہے۔ہر بار اسراع،ذرہ کی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔جیسے جیسے توانائی میں اضافہ ہوتا ہے،دائری راستے کے نصف قطر میں اضافہ ہوتا ہے۔اس طرح راستہ چکری(Spiral)ہوتا ہے۔

شکل4.8:سائیکلوٹرون کا ایک خاکہ۔Pپر چارج شدہ ذرات یا آئنوں کا ایک وسیلہ ہے جو ہموار،عمودی مقناطیسی میدان Bکی وجہ سے ڈیسD1اورD2میں دائری طرز کی حرکت کرتا ہے۔ایک متبادل وولٹیج وسیلہ ان آئنوں کو اونچی چالوں تک اسراع پذیر کرتا ہے۔آخر میں آئن،باہر نکلنے کے مقام پرعلیحدہ کرلیے جاتے ہیں۔
آئنوں اور ہوا کے مالیکیولوں کے درمیان تصادم کی تعداد کو کم ازکم کرنے کے لیے پورے آلے میں سے ہوا باہر نکال دی جاتی ہے(خلاکردیاجاتا ہے)۔ڈیس(Dees)میں ایک اونچے تعدد(high friquency)کی متبادل وولٹیج(alternating voltage)لگائی جاتی ہے۔شکل4.8میں دکھائے گئے خاکے میں،مثبت آئن یا مثبت چارج شدہ ذرات (مثلاً پروٹان)،مرکزPپرچھوڑے جاتے ہیں۔یہ کسی ایک ڈی میں ایک نصف دائری راستے پر حرکت کرتے ہیں اور وقفہ وقت میں دونوں ڈی کے درمیان خالی جگہ(gap)میں پہنچ جاتے ہیں،جہاںT‘طواف کادور(Period of revolution) مساوات (4.6)سے دیاجاتا ہے،

یہ تعدد،سائیکلوٹرون تعدد کہلاتا ہے،جس کی وجہ ظاہرہی ہے۔اسے
سے ظاہر کیاجاتا ہے۔
لگائی گئی وولٹیج کے تعدد
کو اس طرح درست کیاجاتا ہے کہ ڈیس کی قطبیت اسی وقفہ وقت میں الٹی ہوتی ہے جتناوقت آئنوں کوطواف کا ایک نصف پورا کرنے میں لگتا ہے۔شرط:
،گمک شرط(resonance condition)کہلاتی ہے۔سپلائی کے فیز کو اس طرح درست کیاجاتا ہے کہ جب مثبت آئن
کے کنارے پر پہنچتا ہے تو
مقابلتاً کم مضمر پر ہوتی ہے اورآئن دونوںDsکے درمیان خالی جگہ میں اسراع پذیر ہوتے ہیں۔ڈیس کے اندر ذرات ایسے علاقے میں حرکت کرتے ہیں،جس میں برقی میدان نہیں ہوتا۔ہر مرتبہ جب وہ ایک Dسے دوسریDمیں جاتے ہیں تو ان کی حرکی توانائی میںqvکا اضافہ ہوتا ہے(V،اس وقت ڈیس پر لگائی گئی وولٹیج ہے)۔مساوات(4.5)سے یہ ظاہر ہے کہ ہر مرتبہ جب ان کی حرکی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کے راستے کا نصف قطر بھی بڑھتا جاتا ہے۔آئنوں کو بار بارDeesمیں سے گذار کر اسراع کرایا جاتا ہے،یہاں تک کہ ان کی توانائی وہ مطلوبہ توانائی ہوجاتی ہے کہ ان کے راستے کا نصف قطر،Dsکے نصف قطر کے تقریباً برابر ہوجائے۔پھر وہ مقناطیسی میدان کے ذریعے منفرج ہوجاتے ہیں اور ایک باہر نکلنے کی سلٹ(exit slit)سے ہوتے ہوئے نظام سے علاحدہ ہوجاتے ہیں۔مساوات (4.5)سے ہمارے پاس ہے:
(4.9)
v = qBR/ m
جہاں Rباہر نکلنے کے مقام پر خط راہ کا نصف قطر ہے اور جو ڈی کے نصف قطر کے مساوی ہے۔اس لیے،آئنوں کی حرکی توانائی ہے:
(4.10)
![]()
سائیکلوٹرون کی کارکردگی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ایک آئن کے ذریعے ایک طواف میںلیا گیا وقت اس کی چال یا اس کے مدار کے نصف قطر کے تابع نہیں ہوتا۔سائیکلوٹرون نیو کلیسوں پر توانائی والے ذرات کی بمباری کرنے کے لیے،ان ذرات کی جنھیںیہ اسراع فراہم کرتاہے،اوراس بمباریکے ذریعے ہونے والے نیوکلیائی تعاملات کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔یہ ٹھوس اشیا میں آئنوں کو ثبت کرنے(Implant)اور اس طرح ان کی خاصیتوں کو سدھارنے اور نئے مادوں کی تالیف(Synthesis)کرنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔یہ اسپتالوں میں تاب کار مادے پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے،جنھیں تشخیص اور علاج میں استعمال کیاجاتا ہے۔
مثال 4.5 : ایک سائیکلوٹرون کے احتراز کار تعداد 10 ہے۔ پراٹانوں کو اسراع کرناے کے لیے لگایا جانے والا مقناطیسی میدان کیا ہونا چاہیے؟اگر اس ڈیس () کا نصف قطر 60 ہے تو اسراع کار کے ذریعے پیدا کی گئی پراٹان بیم کی حرکی تونائی (میں) کیا ہوگی؟
(e =1.60 ×10-19 C, mP =1.67 ×10-27 kg, 1 MeV = 1.6 ×10-13 J)
حل: احتراز کار کا تعداد وہی ہوگا جو پراٹان کا سائیکلوٹران تعدد ہے۔
مساوات (4.5) اور مساوات () 4.6 استعمال کرتے ہوئے، حاصل ہوتا ہے

پروٹانوں کی اختتامی رفتار ہے
v = r ×2 r v= 0.6 m× 6.3× 107 = 3.78 ×107 m/s
E = 1/2 mv2 =1.67 ×10-27 ×14.3 × 1014
MeV7 = 10-13×1.6×2
ہندوستان میں اسراع کار
ہندوستان ان ملکوں میں سے ہے جو اسراع کارپر مبنی تحقیق میں شروع سے شامل رہے ہیں۔ڈاکٹر میگھ ناتھ سنہا کی بصیرت سے کلکتہ کے’’سنہا انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر فزکس‘‘میں،1953میں،37"سائیکلوٹرون بنا۔اس کے بعد جلد ہی کوک روفٹ—والٹن قسم کے اسراع کاروں کا ایک سلسلہ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ(TIFR)بمبئی،علی گڈھ مسلم یونیورسٹی علی گڈھ،بوس انسٹی ٹیوٹ،کلکتہ اور آندھر یونیورسٹی،والٹیر میں قائم ہوا۔
60کی دہائی میں وین۔ڈی۔گراف اسراع کاروں کی ایک اچھی تعداد تیار ہوئی:ایک5.5MV،ٹرمینل مشین،بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر(BARC)ممبئی میں(1963)،ایک2MVٹرمینل مشین،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(IIT)،کانپورمیں،ایک400KVٹرمینل مشین،بنارس ہندویونیورسٹی،(BHU)،بنارس میں اورپنجاب یونیورسٹی،پٹیالہ میں۔امریکہ کی روچسٹر یونیورسٹی نے ایک66cmسائیکلوٹرون پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڈھ میں لگایا۔ایک چھوٹا الیکٹران اسراع کار،یونیورسٹی آف پونہ،پونہ میں بھی لگایاگیا۔
70اور80کی دہائیوں میں جواہم اقدامات کیے گئے،ان میں ایک متغیرہ توانائی سائیکلوٹرون ،ہندوستانی ٹکنالوجی کے ذریعے ویریبل انرجی سائیکلوٹرون سینٹر(VECC)کلکتہ میں نصب کیاگیا،2MVٹنڈم وین۔ڈی گراف اسراع کار،بی۔اے۔آر۔سی۔(BARC)میں بنایااور لگایا گیا۔ایک14MVٹنڈم پیلیٹرون اسراع کارTIFRمیں لگایا گیا۔
اس کے فوراً بعد ہی ایک15MVٹنڈم پیلیٹرون،یونیورسٹی گرانٹس کمیشن(UGC) کے ذریعے بہ طورمرکزی سہولت انٹریونیورسٹی ایکسیلریٹر سینٹر(UAC)،نئی دہلی میں قائم ہوا،ایک3Mevٹنڈم پیلیٹرون،انسٹی ٹیوٹ آف فزکس،بھونیشور میں اوردو1.7MVٹنڈے ٹرون،اٹامک منیسرلس ڈائریکٹریٹ فار ریسرچ،حیدرآباد اور اندراگاندھی سینٹر فار اٹامک ریسرچ،کلپکم میں لگائے گئے۔TIFRاورIUACدونوں،آئنوں کو زیادہ اونچی توانائی تک اسراع پذیر کرنے کے لیے،اعلیٰ ایصالیLINACموڈیول کو شامل کرکے اپنی سہولیات میںاضافہ کررہے ہیں۔
ان آئنوں کے اسراع کاروں کے علاوہ،ڈپارٹمنٹ آف اٹامک انرجی(DAE)نے کئی الیکٹران اسراع کارتیار کیے ہیں۔ایک2Gev،سنکروٹران ریڈی ایشن سورس،راجارمن سینٹر فارایڈوانسڈ ٹیکنالوجیز اندور میں بنائی جارہی ہے۔
ڈپارٹمنٹ آف اٹامک انرجی،مستقبل میں پاور پیدا کرنے کے ذرائع کے بہ طور اور انشقاقی مادہ تخیلی(fissile material brceding)کے لیے اسراع کا رسے چلنے والے نظاموں پر غور کررہا ہے۔
4.5ایک کرنٹ جز کے ذریعے پیداہونے والا مقناطیسی میدان—بائیٹ—سیورٹ قانون
ہم جتنے بھی مقناطیسی میدانوں سے واقف ہیں،وہ سب کرنٹ(متحرک چارج)اور ذرات کے ذاتی مقناطیسی معیار اثر(intrinsic magnetic moments)کی وجہ سے پائے جاتے ہیں۔یہاں‘ہم کرنٹ اور وہ جو مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے،اس کے درمیان رشتہ کا مطالعہ کریں گے۔یہ بائیٹ سیورٹ قانون(Biot-Savart’s law)سے دیاجاتا ہے۔شکل4.9میں ایک متناہی موصلxyدکھایا گیا ہے،جس میں کرنٹIبہہ رہا ہے۔اس موصل کا لامتناہی قلیل عنصر(infinitesimal element) dlلیجیے۔اس عنصر کی وجہ سے ایک نقطہPپر،جو اس سےrفاصلہ پر ہے،پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان
معلوم کرنا ہے۔فرض کیجیے
اور نقل سمتیہ(displacement vector)
کے درمیان زاویہqہے۔بائیٹ—سیورٹ قانون کے مطابق،مقناطیسی میدان
کی عددی قدر،کرنٹIاور عنصر لمبائی
کے راست متناسب ہے اور فاصلہ rکے مربع کے مقلوب متناسب ہے۔اس کی سمت
دونوں جس مستوی میں ہیں،اس پر عمود ہے۔اس لیے سمتیہ علامت ہیں:


شکل4.9:بائیٹ—سیورٹ قانون کی وضاحت—کرنٹ جزIdlاصلہrپر ایک میدانdBپیدا کرناہے۔⊗علامت نشاندہی کرتی ہے کہ میدان اس صفحہ کے مستوی پر عمود ہے اور صفحہ کے اندر کی جانب ہے۔
جہاں
ایک متناسبیت کا مستقلہ ہے۔مندرجہ بالا ریاضیاتی عبارت اس وقت درست ہے،جب وسیلہ خلاء(vacuum)ہے۔
اس میدان کی عددی قدر ہے:
![]()
جہاں ہم نے کراس حاصل ضرب کی خاصیت استعمال کی ہے۔مساوات[4.11(a)]،مقناطیسی میدان کے لیے ہماری بنیادی مساوات ہے۔SIاکائیوں میں متناسبیت مستقلہ کی قطعی درست قدر ہے:
![]()
ہم
کو آزاد فضا(خلا)کی مقناطیسی سرایت پذیری(permeability)کہتے ہیں۔
مقناطیسی میدان کے لیے بائیٹ—سیورٹ قانون اور برق—سکونی میدان کے لیے کولمب کے قانون میں کچھ یکسانیتیں ہیں اور کچھ فرق ہیں۔ان میںسے کچھ ہیں:
(i) دونوں لمبی سعت(Long range)کے ہیں،کیونکہ دونوں وسیلہ سے دلچسپی کے نقطہ تک کے فاصلے کے مربع کے مقلوب طورپر تابع ہیں۔انطباق کا اصول دونوں میدانوں پر لاگو ہوتا ہے۔[اس سلسلے میں نوٹ کیجیے کہ مقناطیسی میدان اپنے وسیلے
میں خطی(Linear)ہے،جس طرح کہ برق—سکونی میدان اپنے وسیلے:برقی چارج،میں خطی ہے۔
(ii) برق—سکونی میدان،وسیلے اورمیدانی نقطہ کو ملانے والے نقل سمتیہ کی جانب ہوتا ہے۔مقناطیسی میدان اس مستوی پر عمود ہوتا ہے جس میں نقل سمتیہ
ہوتے ہیں۔
(iv) بائیٹ—سیورٹ قانون میں زاویہ پر بھی ایک انحصار ہے جو برق—سکونی صورت میں نہیں پایاجاتا۔شکل4.9میں،
کی سمت میں کسی بھی نقطہ پر(کشیدہ خطthe dashed line)مقناطیسی میدان صفر ہے۔ اس خط پر
سے،
آزاد فضا کی برقی سرایت پذیری
،آزاد فضا کی مقناطیسی سرایت پذیری
اورخلا میںروشنی کی چالCمیں ایک دلچسپ رشتہ ہے:

ہم اس رابطے سے برق—مقناطیسی لہروں کے باب 8میںمزید بحث کریں گے۔کیونکہ خلا میں روشنی کی رفتار مستقلہ ہے،اس لیے حاصل ضرب
کی عدد قدر متعین ہے۔اگر ہم
میں سے کسی ایک کی کوئی قدر منتخب کرلیں تو دوسرے کی قدر متعین ہوجاتی ہے۔SIاکائیوں میں
کی عددی قدر کو
کے مساوی متعین کیاجانا چاہیے۔
مثال4.6:ایک جز
بدے پر رکھاہے اور اس میں ایک بڑا کرنٹI=10Aبہہ رہا ہے (شکل4.10)—y—محور پر0.5mکے فاصلے پر مقناطیسی میدان کیا ہے؟

شکل 4.10
حل: (مساوات (4.11) استعمال کرتے ہوئے) ![]()


میدان کی سمت، z+سمت میں ہے ،ایسا اس لیے ہے،کیونکہ
![]()
ہم آپ کو کراس حاصل ضرب کی چکری (Cyclic) خاصیت یاد دلاتے ہیں:
![]()
نوٹ کریں کہ میدان کی عددی قدر کم ہے۔
اگلے حڈے میں ہم ایک ڈائری لوپ (circular Loop) کی وجہ سے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان کی تحسیب کرنے کے لیے،بائیٹ __ سیورٹ قانون استعمال کریں گے۔
4.6 ایک دائری کرنٹ لوپ کے محور پر مقناطیسی میدان
(Magnetic Field on the Axis of a Circular Current Loop)
اس حصہ میں ہم ایک دائری لچھے(circular coil)کی وجہ سے اس کے محور پر پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان کی قدر معلوم کریںگے۔اس قدر کے معلوم کرنے میں،پچھلے حصے میں بتایا گیا،لامتناہی قلیل کرنٹ اجزا(Idl)کے اثر کو جمع کیاجائے گا۔ہم فرض کرتے ہیں کہ کرنٹ قائم (Steady)ہے اور قدر آزاد فضا میں معلوم کی جارہی ہے(یعنی کہ خلا میں)۔
شکل4.11میں ایک دائری لوپ دکھایا گیاہے،جس میں ایک قائم کرنٹIبہہ رہا ہے۔لوپ کو y—zمستوی میں رکھا گیا ہے اور اس کا مرکز مبدہOپر ہے اور اس کا نصف قطرRہے۔—xمحور لوپ کا محور ہے۔ہم اس محور کے ایک نقطہPپر مقناطیسی میدان کی تحسیب کرنا چاہتے ہیں۔فرض کیجیے کہ لوپ کے مرکزO سےPکا فاصلہ xہے۔

شکل4.11:نصف قطرRکے کرنٹ بردار دائری لوپ کے محور پر مقناطیسی میدان—مقناطیسی میدانdB(خی جزdlکی وجہ سے پیدا ہونے والا)اور محور کے متوازی اورمحور پر عمود اس کے اجزا دکھائے گئے ہیں۔
لوپ کا ایک ایصالی جز
لیجیے۔ اسے شکل4.11میں دکھایا گیا ہے۔
کی وجہ سے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان
کی عددی قدر بائیٹ—سیورٹ قانون [مساوات 4.11(a) ] سے دی جاتی ہے:
![]()
اب،
،مزید یہ کہ لوپ کا کوئی بھی جز،جز سے محوری نقلے تک کے نقل سمتیہ پر عمود ہوگا۔مثلاً،شکل4.11میں جز
مستوی میںہے،جب کہ
سے محوری نقطہPتک نقل سمتیہ
مستوی میں ہے۔ اس لیے:
،اس لیے

کی سمت،شکل4.11میں دکھائی گئی ہے۔یہ
سے تشکیل دیے گئے مستوی پر عمود ہے۔اس کا ایک
ہے اور ایک جز،—xمحور پر عمود،
ہے۔جبx—محورپر سب اجزا کو جمع کیاجاتا ہے،تو وہ ایک دوسرے کی تنسیخ کردیتے ہیں اور ہمیں ایک نل(Null)نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔مثال کے طورپر،کی
وجہ سے پیدا ہونے والا
جز کی تنسیخ اس کے قطری طورپر مخالف (diametrically opposite)جز
کردیتا ہے،جسے شکل4.11میں دکھایا گیا ہے۔اس لیے صرف—xجز باقی رہتا ہے۔—xسمت میں کل مقناطیسی میدان،
کا پورے لوپ پر تکملہ کرکے حاصل کیاجاسکتا ہے۔شکل4.11کے لیے

اجزا
کوپورے لوپ پر جمع کرنے سے
حاصل ہوتا ہے،جولوپ کا محیط (circumference) ہے۔اس لیے پورے دائری لوپ کی وجہ سے نقطہPپر پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان ہے۔

مندرجہ بالا نتیجے کی ایک خصوصی صورت کے بطور،ہم لوپ کے مرکز پر میدان حاصل کرسکتے ہیں۔یہاں:x=0اورہمیں حاصل ہوتا ہے:
![]()

شکل4.12:ایک کرنٹ لوپ کے لیے مقناطیسی میدانی خطوط—میدان کی سمت حصہ4.6میں بیان کیے گئے دائیں ہاتھ—انگوٹھا قاعدے سے دی جاتی ہے۔لوپ کی اوپری جانب کو ایک مقناطیس کے بہ طور شمالی قطب اور نچلی جانب کو بہ طورجنوبی قطب سمجھاجاسکتا ہے۔
ایک دائری تار کی وجہ سے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدانی خطوط بند لوپ بناتے ہیں،جنھیں شکل 4.12میں دکھایا گیا ہے۔مقناطیسی میدان کی سمت ایک (دوسرے)دائیں۔ہاتھ انگوٹھا قاعدے کے ذریعے دی جاتی ہے،جسے ذیل میں بیان کیاگیا ہے:
اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائری تار کے گرد اس طرح موڑیے کہ انگلیاں کرنٹ کی سمت کی نشاندہی کریں۔دائیں ہاتھ کا انگوٹھا ،مقناطیسی میدان کی سمت بتا تا ہے۔
مثال4.7:ایک مستقیم تار کو،جس میں12Aکرنٹ بہہ رہا ہے‘2.0cmنصف قطر کے نصف دائری قوس (semi-circular arc)کی شکل میںموڑا گیا ہے،جیسا کہ شکل4.13(a)میں دکھایا گیا ہے۔قوس کے مرکز پر مقناطیسی میدان
لیجیے(a)مستقیم قطعات(straight segments)کی وجہ سے مقناطیسی میدان کیا ہے؟ (b)
میں نصف دائرہ کا حصہ ایک دائری لوپ کے حصے سے کس طور پر مختلف ہے اور کس طور پر یکساں ہے؟(c)کیا آپ کا جواب مختلف ہوگا،اگر تار کو یکساں نصف قطر کے نصف دائری قوس میں موڑاجائے،لیکن پہلے طریقے کے مخالف طریقے سے۔جیسا شکل4.13 (b)میں دکھایا گیاہے۔

شکل4.13
حل:
(a)مستقیم قطعات کے ہر ایک جز کے لیے
متوازی ہیں۔اس لیے:
مستقیم قطعات کا
میںکوئی حصہ نہیںہوتا۔
(b) نصف دائری قوس کے تمام قطعات کے لیے تمام
ایک دوسرے کے متوازی ہیں(کاغذ کے مستوی میں،اندر کی جانب)۔ان میں سے ہر ایک کا حصہ عددی مقدار میں جمع ہوجاتا ہے۔اس لیے ایک نصف دائری قوس کے لیے
کی سمت دائیں–ہاتھ قاعدے سے دی جاتی ہے اور عددی قدر دائریلوپ کی عددی قدر کی آدھی ہے۔اس لیے
ہے،جس کی سمت کا غذ کے مستوی پر عمود،اندر کی جانب ہے۔
(c)
کی یکساں عددی قدر لیکن سمت میں (b)کی سمت کے مخالف
مثال4.8:ایک10cmنصف قطر کا سختی سے لپیٹاگیا100چکروں کا لچھا(Coil)لیجیے،جس میں 1Aکرنٹ بہہ رہا ہے۔لچھے کے مرکز پر مقناطیسی میدان کی عددی قدر کیا ہے۔
حل:کیونکہ لچھا سختی سے لپٹاہوا ہے،اس لیے ہم ہردارئری جزکایکساںنصف قطر؛R =10 cm =0.1mمان سکتے ہیں۔چکروں کی تعداد:N = 100،مقناطیسی میدان کی عددی قدر ہے:
![]()
4.7ایمپیئر کا سرکٹی قانون(Ampere’s Circuital Law)
بائیٹ—سیورٹ قانون کو ظاہر کرنے کا ایک متبادل اور پسند آنے والا طریقہ بھی ہے۔ایمپیئر کا سرکٹی قانون ایک کھلی سطح(open surface)لیتاہے جس کی ایک سرحد(boundary)ہے۔ہم سرحد کو متعدد چھوٹے چھوٹے خطی اجزا سے بنا ہوا مان سکتے ہیں۔ایسا ایک جز لیجیے،جس کی لمبائیdlہے۔ہم اس جز پر مقناطیسی میدان
کے مماسی جز کی قدر لیتے ہیں اور اسے جز کی لمبائیdlسے ضرب کرتے ہیں[نوٹ کریں
]۔ایسے تمام حاصل ضرب کو جمع کیاجاتا ہے۔ہم وہ حد لیتے ہیں،جس میں اجزا کی لمبائیاں کم سے کم ہوتی جاتی ہیں اوران کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہوتی جاتی ہے۔تب یہ حاصل جمع،تکملہ ہوتا جاتاہے۔ایمپیئر کے سرکٹی قانون کا بیان ہے کہ یہ تکملہ،گنا،سطح سے گذرنے والے کل کرنٹ کے مساوی ہے۔یعنی کہ
![]()

جہاں Iسطح سے گذرنے والا کل کرنٹ ہے۔تکملہ سطح کی سرحدCپر منطبق بند لوپ پر لیاجاتا ہے۔اوپر دیے ہوئے رشتے میں ایک علامت۔قرارداد شامل ہے،جو دائیںہاتھ قاعدے سے دی جاتی ہے۔دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو اس چکری سمت(Sense)میںموڑیے،جس میںلوپ تکملہ
میںسرحد طے کی جاتی ہے۔تب انگوٹھے کی سمت وہ چکری سمت دے گی جس میںکرنٹ کو مثبت مانا جاتاہے۔
زیادہ تر استعمالات میں،مساوات[4.17(a)]کی ایک کہیں زیادہ سادہ شکل کافی ثابت ہوتی ہے۔ہم فرض کرتے ہیں کہ ان صورتوں میں،لوپ[جو ایمپیئری لوپ(Amperian Loop)کہلاتا ہے]کو اس طرح منتخب کرنا ممکن ہے کہ لوپ کا ہر نقطہ پریا تو
(i) لوپ پر مماسی ہے او رایک غیر صفر مستقلہBہے،یا
(ii) لوپ پر عمودی ہے یا
(iii) معدوم ہوجاتی ہے(صفر ہے)۔
اب فرض کیجیے کہ Lلوپ کی وہ لمبائی(حصہ)ہے،جسکے لیےBمماسی ہے۔فرض کیجیے
وہ کرنٹ ہے جو لوپ میں بند ہے۔تب مساوات(4.17)تحلیل ہوجاتی ہے:
![]()
جب ایک ایسا نظام ہوتا ہے،جس میںتشاکل (symmetry)پایاجاتا ہے،جیسے شکل4.15میںدکھایا گیا مستقیم،لامتناہی،کرنٹ بردار تار،تو ایمپئیر کے قانون کے ذریعے مقناطیسی میدان کی قدر معلوم کرنا آسان ہوجاتاہے،بالکل اسی طرح جیسے گاس کے قانون سے برقی میدان معلوم کرنا آسان ہوجاتاہے۔یہ ذیل میں مثال4.9کے ذریعے دکھایا گیاہے۔لوپ کی منتخب کی گئی سرحد ایک دائرہ ہے او ر مقناطیسی میدان،دائرہ کے حیطہ کے مماسی ہے۔مساوات [4.17 (b)]کی بائیں سمت کے لیے،اس قانون سے حاصل ہوتا ہے:B. 2pr،ہمیں حاصل ہوتا ہے کہ تارسے باہر کی سمت میں،rفاصلہ پر مقناطیسی میدان مماسی ہے اور دیاجاتا ہے:

لامتناہی تار کے لیے مندرجہ بالا نتیجہ کئی نظریوں سے دلچسپ ہے۔

اندرے ایمپیئر (Andre Ampere 1755—1836)
اندرے میری ایمپیئر(Andre Marie Ampere)ایک فرانسیسی طبیعات داں،ریاضی داں اور کیمیاداں تھے،جنھوں نے برقی حرکیات کے سائنس کی بنیاد رکھی۔ایمپئیر بچپن سے ہی غیر معمولی ذہین تھے اورانھوں نے 12برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اعلیٰ ریاضی پر عبور حاصل کرلیا۔ایمپیئر نے اورسٹیڈ کی دریافت کی اہمیت کو سمجھ لیا اور کرنٹ–برق اورمقناطیسیت کے درمیان رشتے کی چھان بین کرنے کے لیے بہت سے تجربات کیے۔’’صرف تجربات سے اخذ کیاگیا،برق–حرکی مظاہر کا ریاضیاتی نظریہ‘‘(Mathematical theory of Electrodynamic phenomena, Deduced solely from experiments") انھوں نے مفروضہ(hypo- thesised)قائم کیا کہ تمام مقناطیسی مظاہر،دورانی برقی کرنٹ کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ایمپئیر بہت منکسرالمزاج اور غائب دماغ تھے۔وہ ایک بارشہنشاہ نیپولین کی رات کے کھانے کی دعوت بھی بھول گئے۔61سال کی عمر میں ان کا انتقال نمونیہ کے مرض سے ہوا۔ان کے قبر کے پتھر پر یہ عبارت لکھی ہے:آخرکارخوش(Happy at last)
(i) اس سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ نصف قطر’r‘کے دائرہ (جب کے تارمحور پر ہے)کے ہر نقطہ پر میدان کی عددی قدر یکساں ہے۔دوسرے لفظوں میں،مقناطیسی میدان میں ایک اسطوانی تشاکل(cylindrical symmetry)پایا جاتا ہے۔میدان جو عام طورسے تین کو آرڈی نیٹوں کے تابع ہوتا ہے،صرف ایک:r‘کے تابع ہے۔جب بھی کوئی تشاکل پایا جاتا ہے،نتیجہ سادہ ہوجاتا ہے۔
(ii) اس دائرہ کے کسی بھی نقطہ پر،میدان کی سمت،دائرہ پر مماسی ہے۔اس لیے مقناطیسی میدان کے مستقلہ عددی قدر کے خطوط ہم مرکز(concentric)دائرے تشکیل کرتے ہیں۔اب دیکھیے، شکل4.1(c)میں لوہے کا برادہ ہم مرکز دائرے بنارہا ہے۔یہ خطوط،جو مقناطیسی میدان خطوط کہلاتے ہیں‘بند لوپ بناتے ہیں ۔یہ برق—سکونی میدانی خطوط سے مختلف ہیں جو مثبت طارج سے شروع ہوتے ہیں اور منفی چارج پر ختم ہوتے ہیں۔ایک مستقیم تار کے مقناطیسی میدان کی ریاضیاتی عبارت،اور سٹیڈ کے تجربات کا نظری جواز فراہم کرتی ہے۔
(iii) ایک نوٹ کرنے کے لائق دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ حالانکہ تار لامتناہی ہے،اس کی وجہ سے ایک غیر صفر فاصلہ پر پیدا ہونے ولا میدان لامتناہی نہیں ہے۔میدان،کرنٹ کے راست متناسب اور کرنٹ وسیلے (لامتناہی لمبے)سے فاصلے کے مقلوب متناسب ہے۔
(iv) ایک لمبے تار کے ذریعے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان کی سمت معلوم کرنے کا ایک سادہ قاعدہ ہے یہ قاعدہ،جو دایاں۔ہاتھ قاعدہ کہلاتا ہے،*ہے:
تار کو اپنے دائیں ہاتھ میں اس طرح پکڑیے کہ آپ کا باہر نکلا ہوا انگوٹھا کرنٹ کی سمت کی جانب اشارہ کرے۔آپ کی انگلیاں،مقناطیسی میدان کی سمت میں مڑیں گی۔
ایمپئیر کا سرکئی قانون،مواد کے لحاظ سے،بائیٹ—سیورٹ قانون سے نیا نہیں ہے۔دونوںقانون مقناطیسی میدان اورکرنٹ میں رشتہ دیتے ہیں اور دونوں ایک قائم برقی کرنٹ کے یکساں طبعی نتائج بیان کرتے ہیں۔ایمپیئر کاقانون ،بائیٹ—سیورٹ قانون کے لیے ویساہی ہے،جیسا گاس کا قانون،کولمب کے قانون کے لیے ہے۔ایمپئیر کا قانون اور گاس کا قانون دونوں،سرحد پر ایک طبعی مقدار(مقناطیسی یا برقی میدان)اور ایک دوسری طبعی مقدار،یعنی وسیلہ (کرنٹ یاچارج)میں اندرونی رشتہ دیتے ہیں۔ہم یہ بھی نوٹ کرسکتے ہیں کہ ایمپئیرکا سرکٹی قانون قائم کرنٹ کے لیے درست ہے،جو وقت کے ساتھ کم زیادہ نہیں ہوتا ۔مندرجہ ذیل مثال ہماری یہ سمجھنے میں مدد کرے گی کہ گھرے ہوئے(بندenclosed)کرنٹ سے کیا مطلب ہے۔
مثال4.9:شکل4.15میں ایک دائری تراشے(نصف قطرa)کا لمبا مستقیم تار دکھایا گیا ہے،جس میں قائم کرنٹI بہہ رہا ہے۔کرنٹIپورے تراشے پر ہموار طورپر تقسیم ہے۔علاقہr < aاورعلاقہr > aمیں مقناطیسی میدان کی تحسیب کیجیے۔

شکل4.15
حل:(a)صورتr > aلیجیے۔ایمپیئری لوپ،جسے2لیبل کیاگیاہے،تراشہ سے ہم مرکز ایک دائرہ ہے۔ اس لوپ کے لیے:
L = 2πr
I = لوپ سے گھرا ہوا کرنٹ =Ie
نتیجہ ،لمبے مستقیم تار کے لیے جانی پہچانی ریاضیاتی عبارت ہے

(b)
کی صورت لیجیے۔ایمپیئری لوپ ایک دائرہ ہے،جسے1لیبل کیاگیاہے۔اس لوپ کے لیے،دائرہ کا نصف قطرrمانتے ہوئے،
L= 2 π r
اب گھرا ہوا1کرنٹIe,Iنہیں ہے،بلکہ اس قدر سے کم ہے۔کیونکہ کرنٹ کی تقسیم ہموار ہے،اس لیے گھرا ہوا کرنٹ ہے:
![]()
ایمپئیر کا قانون استعمال کرتے ہوئے:

شکل4.16میں،
B کی عددی قدر کا تار کے مرکز سے فاصلے rکے ساتھ گراف دکھایا گیا ہے۔میدان کی سمت،متطابق دائری لوپ1) یا(2کے مماسی ہے اور پچھلے حصے میں بیان کیے گئے دایاں۔ہاتھ قاعدے سے دی جاتی ہے۔
اس مثال میں درکار تشاکل پایا جاتا ہے،اس لیے ایمپیئر کا قانون بہ آسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ ایمپئیر کا سرکٹی قانون حالانکہ کسی بھی لوپ کے لیے درست ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہر صورت میں اس سے مقناطیسی میدان کی قدر معلوم کرنے میں سہولت ہو۔مثال کے طورپر،حصہ 4.6میںبیان کیے گئے دائری لوپ کے لیے یہ لوپ کے مرکز پر میدان کے لیے سادہ ریاضیاتی عبارت:[مساوات(4.16)]حاصل کرنے کے لیے نہیں استعمال کیاجاسکتا ہے۔اگلے حصے میں ہم اس کا استعمال ،دوعام طورسے استعمال ہونے والے اور بہت کارآمد مقناطیسی نظاموں—سولی نوئڈ(solenoid)اورٹورائڈ(toroid)کے ذریعے پیدا کیے گئے مقناطیسی میدانوں کی تحسیب کے لیے کریں گے۔
4.8سولی نوئڈ اور ٹورائڈ(The Solenoid and the Toroid)
سولی نوئڈ اورٹورائڈ دو ایسے آلات کے حصے ہیں جن سے مقناطیسی میدان پیدا کیاجاتا ہے۔ٹیلی ویژن میں مطلوبہ مقناطیسی میدان پیدا کرنے کے لیے سولی نوئڈ استعمال کیاجاتا ہے۔ سِن کروٹران(synchrotron)میں مطلوبہ اونچے مقناطیسی میدان پیدا کرنے کے لیے دونوں کا مجموعہ استعمال ہوتا ہے۔سولی نوئڈ اور ٹورائڈ دونوں میں اعلیٰ تشاکل کی صورت پائی جاتی ہے،اس لیے ہم بہ آسانی ایمپئیر کا قانون استعمال کرسکتے ہیں۔
4.8.1سولی نوئڈ(The solenoid)
ہم ایک لمبے سولی نوئڈ کی بات کریں گے۔لمبے سولی نوئڈ سے ہمارا مطلب ہے کہ سولی نوئڈ کی لمبائی اس کے نصف قطر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔یہ ایک لمبے تار پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک مرغوبہ کی شکل میںلپٹا ہواہوتا ہے اور جس میں پڑوسی چکروں کے درمیا ن بہت کم جگہ ہوتی ہے۔اس طرح ہر چکر(Turn)کو ایک دائری لوپ ماناجاسکتا ہے۔کل مقناطیسی میدان،تمام چکروں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدانوں کا سمتیہ حاصل جمع ہوتا ہے۔لپیٹنے کے لیے انیمل کیے ہوئے(Enamelled)تار استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ چکر ایک دوسرے سے حاجز شدہ رہیں۔

شکل4.17 (a) سولی نوئڈ کے ایک تراشے کی وجہ سے پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان،تراشہ کو وضاحت کے لیے بڑا دکھایا گیا ہے۔صرف باہری نصف دائری حصہ دکھایا گیا ہے۔نوٹ کریں کہ پڑوسی چکروں کے مابین دائری لوپ کس طرح ایک دوسرے کی تنسیخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔(b)ایک متناہی سولی نوئڈ کا مقناطیسی میدان
شکل4.17میں ایک متناہی سولی نوئڈ کے لیے مقناطیسی میدانی خطوط دکھائے گئے ہیں۔ہم نے شکل4.17 (a) میں اس سولی نوئڈ کے ایک تراشے(section)کو بڑا کرکے دکھایا ہے۔شکل4.17 (a) میں،دائری لوپوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ دو پڑوسی چکروں کے درمیان میدان معدوم ہوجاتا ہے۔شکل4.17 (b)میں ہم دیکھتے ہیں کہ اندرونی وسطی نقطہP (interior mid-point)پر میدان،ہموار،طاقت ور اور سولی نوئڈ کے محور کی جانب ہے۔باہری وسطی نقطہQپر میدان کمزور ہے اور ساتھ ہی ساتھ سولی نوئڈ کے محور کی سمت میں ہے اور اس کا کوئی عمودی جز نہیں ہے۔جیسے جیسے سولی نوئڈ کو مزید لمبا بنایا جا تا ہے،یہ ایک لمبی اسطوانی دھاتی چادر جیسا نظرآنے لگتا ہے۔شکل4.18میں یہ مثالی تصویر دکھائی گئی ہے۔سولی نوئڈ کے باہر میدان صفر کے نزدیک ہوتا ہے۔ہم فرض کرلیتے ہیں کہ باہر میدان صفر ہے۔اندر ہر جگہ میدان محور کے متوازی ہوجاتا ہے۔

شکل4.18:ایک بہت لمبے سولی نوئڈ کا مقناطیسی میدان—ہم میدان معلوم کرنے کے لیے ایک مستطیل ایمپئیری لوپabcdلیتے ہیں۔
ایک مستطیل ایمپیئری لوپabcdلیجیے۔cdپر میدان صفر ہے،جیسا کہ پہلے وجہ بتائی جاچکی ہے۔عرضی حصوں bcاورadپر،میدان کا جز صفر ہے۔اس لیے یہ دونوں حصے میدان میںکوئی حصہ نہیں دیتے۔ فرض کیجیے کہ abپر میدانBہے۔اس لیے ایمپیئری لوپ کی قابل لحاظ لمبائی ہے:L=h

شکل(a) 4.19:ایک ٹورائڈ،جس میں کرنٹIبہہ رہا ہے(b)ٹورائڈ کا ایک تراشہ—ٹورائڈ کے مرکزOسے کسی بھی منتخب کیے گئے فاصلےrپر مقناطیسی میدان،امپیر سرکٹی قانون سے حاصل کیاجاسکتا ہے،1،2،3لیبل کیے گئے ڈیش(.......)خطوط،تین دائری ایمپیری لوپ ہیں۔
فرض کیجیے کہ n،چکروں کی تعداد فی اکائی لمبائی ہے،تب چکروں کی کل تعداد nhہے۔گھرا ہوا کرنٹ(enclosed current)ہے:(Ie= I (nhجہاںIسولی نوئڈ میںکرنٹ ہے۔ ایمپئیرسرکٹی قانون مساوات[4.17 (b)]ہے:![]()
![]()
میدان کی سمت دائیں۔ہاتھ قاعدہ سے دی جاتی ہے۔سولی نوئڈ عام طورسے ایک ہموار مقناطیسی میدان حاسل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ہم اگلے باب میں دیکھیں گے کہ سولی نوئڈ کے اندر ایک نرم لوہے کا قالب (soft iron core)رکھ کر بڑامیدان حاصل کرنا ممکن ہے۔
4.8.2ٹورائڈ:(The Toroid)
ٹورائڈ ایک کھوکھلا دائری چھلہ(hollow circular ring)ہوتا ہے،جس پر ایک تار کے بہت بڑی تعداد میں چکر قریب قریب لپیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔اس کو ایک ایسا سولی نوئیڈ مانا جاسکتا ہے جسے موڑ کر اس کے دونوں سرے ملادیے گئے ہیں اور اس طرح ایک دائری شکل دے دی گئی ہے۔اسے شکل4.19(a)میں دکھایا گیا ہے،اس میں کرنٹIبہہ رہا ہے۔ہم دیکھیں گے کہ ٹورائڈ کے اندر کھلی جگہ (نقطہP)اور ٹورائڈ سے باہرمقناطیسی میدان (نقطہQ)صفر ہے۔ایک قریب قریب لپٹے ہوئے چکروں کے مثالی ٹورائڈ کے لیے،اندر کی طرف مقناطیسی میدان(نقطہ
)کی عددی قدر مستقلہ ہے۔
شکل4.19(b)میں ٹورائڈ کا یک تراشہ دکھایا گیا ہے۔دائری لوپوں کے دایاں۔ہاتھ انگوٹھا قاعدے کے مطابق ٹورائڈ کے اندر،میدان کی سمت گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کی سمت میں ہوتی ہے۔ڈیش(.......)خطوط کے ذریعے تین دائری ایمپیری لوپ1،2،3دکھائے گئے ہیں۔تشاکل کے مطابق،مقناطیسی میدان،ان میں سے ہر ایک پر مماسی ہونا چاہیے اور ایک دیے ہوئے لوپ کے لیے اس کی عددی قدر مستقلہ ہونا چاہے۔لوپ2اورلوپ3،سے احاطہ کیے ہوئے(Bounded)دونوں دائری رقبے ٹورائڈ کو قطع کرتے ہیں،اس طرح کرنٹ بردار تار کا ہر چکر لوپ2کے ذریعے ایک مرتبہ اور لوپ3کے ذریعے 2مرتبہ قطع ہوتا ہے۔
فرض کیجیے لوپIپر مقناطیسی میدان کی عددی قدر
ہے۔تب ایمپیر کے سرکٹی قانون[مساوات4.17 (a)]میںL=2π r1لیکن لوپ سے گھرا ہوا کوئی کرنٹ نہیں ہے۔اس لیےIe=0،اس لیے
![]()
اس لیے ٹورائڈ کے اندر کھلی جگہ میں کسی بھی نقطہPپر مقناطیسی میدان صفر ہے۔
اب ہم دکھائیں گے کہ اسی طرحQپر بھی مقناطیسی میدان صفر ہے،فرض کیجیے کہ لوپ3پر مقناطیسی میدان کی عددی قدرB3ہے۔ایک بار پھر،ایمپیر کے قانون سے: L=2π r3لیکن تراشی قطعہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ کاغذ کے مستوی سے باہر آرہا کرنٹ،کاغذ کے مستوی میں اندر جارہے کرنٹ سے قطعی طورپر قطع ہوجاتاہے۔اس لیےIe = 0
B3 = 0
اب فرض کیجیے کہ ٹورائڈ کے اندر مقناطیسی میدانBہے۔اب ہم Sپر مقناطیسی میدان معلوم کرتے ہیں۔ایک بار پھر ہم مساوات[4.17(a)]کی شکل میں ایمپیر کا قانون استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں حاصل ہوتا ہے:L=2π rگھراہوا کرنٹ،(ٹورائڈ نمالچھے کے Nچکروں کے لیے)ہے:NI

اب ہم ٹورائڈ اور سولی نائڈ کے لیے حاصل کیے گئے دونوں نتائج کا مقابلہ کرتے ہیں۔ہم مساوات(4.21)کو دوسری شکل میںلکھتے ہیں تاکہ سولی نائڈ کے لیے مساوات(4.20)میں دیے گئے نتیجے سے مقابلہ کرنا آسان ہوسکے۔فرض کیجیےrٹورائڈ کا اوسط نصف قطر ہے اور N،چکروں کی تعداد فی اکائی لمبائی ہے۔تب
سولی نائڈ کا محیط (اوسط)![]()
×چکروں کی تعداد فی اکائی لمبائی
اور اس لیے
![]()
یعنی کہ،سولی نائڈ کے لیے حاصل کیاگیانتیجہ
ایک مثالی ٹورائڈ میں لچھے(Coils)دائری ہوتے ہیں۔اصلیت میں ٹورائڈ کے کوائل(لچھے)کے چکر ایک مرغولہ(helix)تشکیل دیتے ہیں اور ٹورائڈ سے باہر ہمیشہ ایک چھوٹابرقی میدان ہوتا ہے۔
مقناطیسی قید
ہم حصہ4.3میں دیکھ چکے ہیں(اس باب میں پہلے،بکس میں دیا ہوا،چارج شدہ ذرات کی مرغوبی حرکت پر مواد بھی دیکھیے)کہ چارج شدہ ذرات کے مدار مرغوبی ہوتے ہیں۔اگر مقناطیسی میدان غیر ہموار ہو،لیکن ایک دائری مدار کے دوران زیادہ تبدیل نہ ہوتاہو تو جب مرغولہ مقابلتاً زیادہ طاقت ورمقناطیسی میدان میں داخل ہوگا،اس کا نصف قطر کم ہوجائے گااور جب وہ مقابلتاً کم زور طاقت ور میدان میں داخل ہوگا تو نصف قطر بڑھ جائے گا۔ہم دوسولی نائڈ لیتے ہیںجو ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر ہیں اور ایک خلاکیے ہوئے برتن(evacuated container)میںبند ہیں(نیچے دی ہوئی شکل دیکھیے جہاں ہم نے برتن نہیں دکھایا ہے)۔دونوں سولی نائڈ کے درمیانی علاقے میں حرکت کرہے چارج شدہ ذرات ایک چھوٹے نصف قطر سے شروع کریں گے۔نصف قطر میں،جیسے جیسے میدان کم ہوگا،اضافہ ہوتا جائے گا اورنصف قطر پھر دوبارہ کم ہونے لگے گا،جب دوسرے سولی نائڈ کا میدان اثر انداز ہونے لگے گا۔سولی نائڈ ایک آئینے یا انعکاس کار کی طرح کام کرتے ہیں۔[جب ذرہ لچھے2 (Coil 2) کے نزدیک پہنچتا ہے تو شکل میں کی سمت دیکھیے۔اس کا ایک افقی جز ہے جو آگے کی سمت میں حرکت کے مخالف ہے]یہ ذرات کو سولی نائڈ پرپہنچنے پر مخالف سمت میں لوٹا دیتی ہے۔اس طرح کا انتظام ایک مقناطیسی بوتل یا مقناطیسی برتن کے بہ طور کام کرے گا۔ذرات کبھی بھی برتن کی دیواروں کو نہیں چھوسکیں گے۔ایسی مقناطیسی بوتلیں،اختلاط(فیوژنFusion)تجربات کے دوران،اعلیٰ توانائی پلازما(high energy plasma)کو مقید کرنے میں،بہت کارآمد ہیں۔پلازما اپنے بہت زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے،کسی بھی مادے کے بنے ہوئے برتن کو توڑدے گا۔ایک دوسرا کارآمد برتن ٹورائڈ ہے۔امید کی جاتی ہے کہ ٹورائڈ،’’ٹوکاماک‘‘(Tokamak)میں ایک کلیدی کردار نبھائیں گے۔ ٹوکاماک،فیوژن تجربات میں پلازمہ کو مقید کرنے کا ایک تجرباتی آلہ ہے۔ایک بین الاقوامی شراکت(International Collaboration)ہے جو بین الاقوامی حرارتی–نیوکلیائی تجرباتی ری ایکٹر(International Thermonuclear Experimental Reactor) (ITER)کہلاتا ہے،جو قابوشدہ فیوژن حاصل کرنے کے لیے فرانس میںلگایا جارہا ہے،ہندوستان بھی ان ملکوں میں سے ایک ہے جو اس میں شامل ہیں۔ITERشراکتپروجیکٹ کی تفصیل کے لیے آپ جاسکتے ہیں:
http://www.iter.org.

مثال4.10ایک 0.5mلمبائی کے سولی نائڈ کا نصف قطر1cmہے اور یہ 500چکروں کا بنا ہوا ہے۔اس میں5Aکرنٹ ہے۔سولی نائڈ کے اندر مقناطیسی میدان کی عددی قدر کیا ہے؟
حل:چکروں کی تعداد فی اکائی لمبائی ہے:
چکر میٹر n 500/ 0.5= 1000
![]()
اس لیے،ہم لبے سولی نائڈ کا فارمولا،یعنی مساوات(4.20)استعمال کرسکتے ہیں

4.9 دومتوازی کرنٹ کے درمیان قوت—ایمپیر
(Force between Two Parallel Currents,the Ampere)
ہم سیکھ چکے ہیں کہ ایک ایسے موصل کی وجہ سے،جس میں سے کرنٹ گذررہا ہو،مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے جو بائٹ—سیورٹ قانون کی پابندی کرتا ہے۔ہم نے یہ بھی سیکھا ہے کہ ایک باہری مقناطیسی میدان ایک کرنٹ بردار موصل پر ایک قوت لگائے گا۔یہ لورینٹز قوت فارمولے سے اخذ کیاجاسکتا ہے۔اس لیے یہ امید کرنا منطقی ہے کہ اگر دوکرنٹ بردار موصلوں کو ایک دوسرے کے پاس رکھ دیا جائے تو وہ ایک دوسرے پر قوتیں(مقناطیسی)لگائیں گے۔1820—25کے عرصے میںایمپیر نے اس قوت کی طبع اور کرنٹ کی مقدار پر کنڈکٹروں کی شکل اور ناپ پر اور موصلوں کے درمیانی فاصلے پر اس کے انحصار کا مطالعہ کیا۔اس حصہ میں ہم دومتوازی کرنٹ بردار موصلوں کی سادہ مثال لیں گے،جس سے شاید ہمیں ایمپیر کے دقت طلب کام کی اہمیت کا احساس ہوسکے۔

شکل4.20:دولمبے،مستقیم،متوازی موصل،جن میں قائم کرنٹIaاورIbبہہ رہے ہیں اور ان کا درمیانی فاصلہ dہے۔Ba موصل’a‘کے ذریعے موصل’b‘پر پیدا کیا گیا مقناطیسی میدان ہے۔
شکل4.20میں دولمبے،متوازی موصلaاور bدکھائے گئے ہیں،جن کے درمیان فاصلہdہے اور ان میں،بالترتیب،
کرنٹ (متوازی)بہہ رہے ہیں۔موصل’a‘موصل ’b‘کے تمام نقطوں پر یکساں مقناطیسی میدان
پیدا کرتا ہے۔دایاں۔ہاتھ قاعدہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس میدان کی سمت نیچے کی جانب(down wards)ہے(جب موصلوں کو افقی طرز میںرکھا جاتا ہے)۔اس کی عددی قدر مساوات[4.19(a)]یا ایمپیر کے سرکٹی قانون سے دی جاتی ہے:
![]()
موصلb،جس میں سے کرنٹ بہہ رہا ہے،میدان کی وجہ سے ایک قوت دائیں/بائیں(side ways)محسوس کرے گا۔اس قوت کی سمت موصل’a‘کی جانب ہوگی(اس کی تصدیق کیجیے(۔ہم اس قوت کولیبل کرتے ہیں—’b‘کے قطعہ Lپر،’a‘کی وجہ سے قوت۔اس قوت کی عددی قدر مساوات(4.4)سے دی جاتی ہے:

بے شک،’b‘کی وجہ سے’a‘پر لگ رہی قوت کی تحسیب بھی ممکن ہے۔اوپر دیے ہوئے طریقے سے ہم’b‘میںکرنٹ کی وجہ سے’a‘کے Lلمبائی کے قطعہ پر لگ رہی قوت معلوم کرسکتے ہیں۔یہ عددی قدر میں کے مساوی ہے اور bکی جانب ہے۔ اس لیے
![]()
نوٹ کریں کہ یہ نیوٹن کے تیسرے قانون سے ہم آہنگ ہے۔اس طرح ہم نے کم ازکم،متوازی موصلوں اور قائم کرنٹوں کے لیے تودکھادیا ہے کہ بائٹ—سیورٹ قانون اور لورینٹز قوت نیوٹن کے تیسرے قانون سے ہم آہنگ(Consistent)نتائج دیتے ہیں۔
ہم نے اوپر دیکھا کہ یکساں سمت میں بہہ رہے کرنٹ ایک دوسرے کشش کرتے ہیں۔ہم یہ بھی دکھاسکتے ہیں کہ مخالف سمتوں میں بہنے والے کرنٹ ایک دوسرے کودفع کرتے ہیں۔اس لیے متوازی کرنٹ کشش کرتے ہیں اور مخالف متوازی کرنٹ دفع کرتے ہیں۔
یہ قاعدہ اس قاعدہ کے مخالف ہے جو ہم نے برق—سکونیات میں سیکھا تھا۔یکساں(یکساں علامت)چارج ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں لیکن یکساں(متوازی)کرنٹ ایک دوسرے کوکشش کرتے ہیں۔
فرض کیجیے قوت فی اکائی لمبائی کی عددی قدرسے ظاہر کی جاتی ہے۔تب مساوات(4.23)سے:
![]()
مندرجہ بالا ریاضیاتی عبارت ایمپیر(A)کو معرف کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے،جو سات بنیادیSIاکائیوں میںسے ایک ہے۔
ایمپیر اس قائم کرنٹ کی قدر ہے،جسے اگر دوبہت لمبے،قائم،ناقابل لحاظ تراشی رقبے کے متوازی موصلوں میں سے ہر ایک میں برقراررکھا جائے اور ان موصلوں کو خلامیںایک دوسرے سے1mکے فاصلے پر رکھا جائے تو وہ ان موصلوں میںسے ہر ایک موصل پر
نیوٹن فی میٹر لمبائی کے مساوی قوت پیدا کرے۔
ایمپیر کی تعریف کو1946میں اختیار کیاگیا۔یہ ایک نظری تعریف ہے۔عملی صورت میں ہمیں زمین کے مقناطیسی میدان کے اثر کو لازمی طورپر زائل (خارج eliminate)کرنا ہوگااور مناسب جیومیٹری کے متعدد چکروں کے لچھوں سے بنے بہت سے لمبے تار لینے ہوں گے۔ایک آلہ،جسے کرنٹ ترازوکہتے ہیں،اس میکانیکی قوت کی پیمائش کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اب چارج کیSIاکائی ،کو لمب کو ایمپیر کی شکل میں معرف کیاجاسکتا ہے۔
جب ایک موصل میں ایک ایمپیر کا قائم کرنٹ برقرار رکھاجاتا ہے،تو اس کے تراشے سے ایک سیکنڈ میں بہنے والی چارج کی مقدار ایک کولمب(IC)ہے۔
متوازی کرنٹوں کے درمیان کشش کے لیے روگیٹ کاچکری
(Roget’s spiral for attraction between parallel currents)
مقناطیسی اثرات عام طورسے برقی اثرات کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں۔نتیجتاً کرنٹوں کے درمیان قوت،جز ضربیmکی چھوٹی قدر کی وجہ سے،کافی کمزور ہوتی ہے۔اس لیے کرنٹوں کے درمیان کشش یا دفع کا مظاہرہ کرنا مشکل ہے۔اس لیے اگر ہر تار میں،جو ایک دوسرے سے1cmفاصلے پرہیں،5Aکرنٹ ہے،تو قوت فی میٹر،
ہوگی جو تقریباً50 mg weightہے۔یہ اس طرح کی بات ہوگی جیسے کہ ایک تار کو ایسی رسی کے ذریعے کھینچا جائے،جو ایک گراری پر سے گذررہی ہے جس سے50 mg وزن لٹکاہے۔تار کا نقل بڑی حد تک قابل احساس نہیںہوگا۔
ہم ایک نرم اسپرنگ استعمال کرکے متوازی کرنٹ کی موثر لمبائی میںاضافہ کرسکتے ہیں اور پارہ استعمال کرکے،چند ملی میٹر کے نقل کو بھی ڈرمائی طورپر قابل مشاہدہ بناسکتے ہیں۔آپ کو ایک مستقلہ کرنٹ سپلائی بھی چاہیے ہوگی جو تقریباً 5Aکا مستقلہ کرنٹ مہیا کرسکے۔

ایک نرم اسپرنگ لیجیے،جس کے احترازات کا قدرتی دوری وقفہ تقریباً 0.5—1ہے۔اسے انتصابی طرز(vertically)میںلٹکائیے اور اس کے نچلے کنارے پر ایک نکیلی سوئی لگادیجیے۔ایک تشتری میں پارہ کی کچھ مقدار لیجیے اور اسپرنگ کو اس طرح درست کیجیے کہ سوئی کی نوک،پارہ کی سطح سے بالکل اوپر ہو۔ایکDCکرنٹ وسیلہ لیجیے اور اس کے ایک ٹرمنل کو اسپرنگ کے اوپری سرے سے جوڑدیجیے اور دوسرے ٹرمینل کو پارہ میں ڈبودیجیے۔اگر اسپرنگ کی نوک پارہ کو چھوتی ہے تو پارہ کے ذریعے سرکٹ پورا ہوجاتا ہے۔
شروع میںDCوسیلے کو آف کردیجیے۔نوک کو اس طرح درست کیجیے کہ وہ پارہ کی سطح کو بس چھونے لگے۔آپ مستقلہ کرنٹ سپلائی کو آن کردیجیے اور حیرت انگیز نتیجہ دیکھیے۔اسپرنگ ایک جھٹکے کے ساتھ سکٹرتا ہے،نوک پارہ سے باہر آجاتی ہے(بس تقریباً1mm)،سرکٹ ٹوٹ جاتا ہے،کرنٹ بہنا رک جاتا ہے،اسپرنگ پھیلتا ہے اور اپنی شروعاتی حالت میں آنے کی کوشش کرتا ہے،نوک پھر پارہ کو چھوتی ہے،جس سے سرکٹ میںدوبارہ کرنٹ بہنے لگتا ہے اور یہ دور ایک ٹک ،ٹک ٹک ٹک۔۔۔۔کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔شروع میںہوسکتا ہے کہ آپ کو موثر نتائج حاصل کرنے کے لیے کچھ تھوڑی سی درستگی کرنا پڑے۔
اپنے چہرے کو مرکری کے ابحزات سے دور رکھیے ،کیونکہ یہ زہریلے ہوتے ہیں۔پارہ کے ابحزات کو زیادہ ترسانس کے ساتھ اندرمت لے جائیے۔
مثال4.11:کسی خاص مقام پر زمین کے مقناطیسی میدان کا افقی جز
ہے اور میدان کی سمت جغرافیائی جنوب سے جغرافیائی شمال کی جانب ہے۔ایک بہت لمبے مستقیم موصل میں1Aکاقائم کرنٹ ہے۔جب اسے ایک افقی میز پر رکھاجائے گا اور کرنٹ کی سمت(a)مشرق سے مغرب(b)جنوب سے شمال ہوگی تو اس پر قوت فی اکائی لمبائی کیاہوگی؟

قوت فی اکائی لمبائی ہے
f = F/l = I B sin
(a)جب کرنٹ مشرق سے مغرب کی جانب بہہ رہا ہے
0 = 90º
![]()
اس لیے
f = I B

یہ ایمپیرکی تعریف میںدرج کی گئی قدر
سے زیادہ ہے۔اس لیے یہ اہم ہے کہ ایمپیر کو معیاری بناتے وقت زمین کے مقناطیسی میدان اوردوسرے ادھر ادھر کے میدانوں کے اثرات کو خارج کیاجائے۔
قوت کی سمت نیچے کی جانب ہے۔یہ سمت،کراس حاصل ضرب کی سمتی خاصیت سے ھاصل کی جاسکتی ہے۔
(b)جب کرنٹ جنوب سے شمال کی جانب بہہ رہا ہے:
0 = 0º
f = 0
اس لیے موصل پر کوئی قوت نہیں ہے۔
4.10کرنٹ لوپ پر قوت گردشہ—مقنا
طیسی دوقطبیہ
(Torque on Current Loop, Magnetic Dipole)
4.10.1ایک ہموار مقناطیسی میدان میںرکھے ایک مستطیل نما کرنٹ لوپ پر قوت گردشہ(Torq
ue on a rectangular current loop in a uniform magnetic field)
اب ہم دکھائیں گے کہ ایک مستطیل نما کرنٹ لوپ کو،جس میں قائم کرنٹIبہہ رہا ہو،اگر ایک ہموارمقناطیسی میدان میں رکھا جائے تو اس پر ایک قوت گردشہ لگتا ہے۔اس پر کوئی کل قوت نہیں لگتی۔یہ برتائو،ایک ہموار برقی میدان میں ایک برقی دوقطبیہ کے برتائو کے مماثل ہے۔(حصہ1.10)
ہم پہلے ایک سادہ صورت لیتے ہیں جب مستطیل نما لوپ اس طرح رکھا گیاہے کہ ہموار مقناطیسی میدان،لوپ کے مستوی میںہے۔اسے شکل4.21 (a) میں دکھایا گیا ہے۔

شکل(a) 4.21 ایک ہموار مقناطیسی میدان میں رکھامستطیل نما کرنٹ بردار لچھا۔مقناطیسی معیار حرکت
نیچے کی جانب ہے۔قوت گردشہtمحور کی جانب ہے اور لچھے کو گھڑی کی سوئیوں کی گردش کی مخالف سمت میں گھمانے کی کوشش کرتا ہے۔(b)لچھے پر لگ رہا جفت
میدان،لوپ کے دوبازئوںADاورBCپر کوئی قوت نہیں لگاتا۔یہ لوپ کے بازوABپر عمود ہے اور اس پر ایک قوت
لگاتا ہے،جو لوپ کے مستوی میںاندرکی جانب ہے۔اس کی عددی قدر ہے
![]()
اسی طرح،یہ ایک قوت،
ازوCDپر لگاتا ہے اور
کاغذ کے مستوی میں باہر کی جانب ہے:
![]()
اس طرح،لوپ پر کل قوت صفر ہے۔لوپ پر،قوتوں
اور
کے جوڑے کی وجہ سے ایک قوت گردشہ لگ رہا ہے۔شکل4.21 (b) میں لوپ کا ایک منظرADکنارے سے دکھایا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوپ پر لگ رہا قوت گردشہ اسے گھڑی کی سوئیوں کی گردش کی مخالف سمت میں گھمانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ قوت گردشہ(عددی قدر)ہے:

جہاں
مستطیل کارقبہ A = ab
اب ہم وہ صورت لیتے ہیں جب لوپ کا مستوی،مقناطیسی میدان پر نہیں ہے،بلکہ اس سے زاویہqبناتا ہے(پچھلی صورت
سے مطابقت رکھتی ہے)۔
شکل4.22میں یہ عمودی صورت دکھائی گئی ہے۔
بازوBCاوربازوDAپر لگ رہی قوتیں،مساوی اور مخالف ہیں اور لچھے کے محور کی جانب لگ رہی ہیں،جوBCاورBAکے کمیت مراکز(centres of mass)کوجوڑتا ہے۔محور پر ہم خط(collinear)ہونے کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی تنسیخ کردیتی ہیں،جس کے نتیجے میں کوئی کل قوت یا قوت گردشہ نہیں ہوتا۔بازوABاور بازوCDپر لگ رہی قوتیں
اور
ہیں۔یہ بھی مساوی اور مخالف ہیں،ان کی عددی قدر ہے:
F1 = F2 = I b B

شکل4.22 (a):لوپABCDکا رقبہ سمتیہ،مقناطیسی میدان کے ساتھ ایک اختیاری زاویہ
بناتا ہے ۔(b)اوپر سے نظرآنے والا لوپ کا منظر—بازورABاور بازوCDپر لگ رہی قوتوں
اور
کی نشاندہی کی گئی ہے۔
لیکن یہ ہم خط نہیں ہیں۔اس کے نتیجے میں پہلے کی طرح ایک جفت(Couple)کام کرتا ہے۔لیکن قوت گردشہ،پچھلی صورت،جس میں لوپ کا مستوی،مقناطیسی میدان کی جانب تھا،کے مقابلے میں کم ہے۔ایسا اس لیے ہے کیونکہ،جفت کی قوتوں کے درمیان عمودی فاصلہ کم ہوگیا ہے۔شکل4.22 (b)اس نظم کا ADکنارے سے ایک منظر ہے اور یہ جفت تشکیل دینے والی قوتوں کو واضح کرتا ہے۔
لوپ پر لگ رہے قوت گردشہ کی عددی قدر ہے:

جب
تو جفت کی قوتوں کے درمیان عمودی فاصلہ بھی صفر کے نزدیک ہوجاتاہے۔اس سے قوتیں ہم خط ہوجاتی ہیں اور کل قوت اور قوت گردشہ صفر—مساوات(4.26)اور مساوات(4.27)میں قوت گردشہ کو لچھے کے مقناطیسی معیار اثر اور مقناطیسی میدان کے سمتیہ حاصل ضرب کے بہ طور بھی ظاہر کیاجاسکتا ہے۔ہم کرنٹ لوپ کے مقناطیسی معیار ِاثر کی تعریف کرتے ہیں:
![]()
جہاں رقبہ سمتیہ
کی سمت دایاں—ہاتھ انگوٹھا قاعدہ سے دی جاتی ہے اور شکل4.21میں کاغذ کے مستوی میںاندر کی جانب ہے۔اب کیونکہ
ہے،مساوات(4.26)اور مساوات(4.27) ایک ریاضیاتی عبارت سے ظاہر کی جاسکتی ہیں:
![]()
یہ برقی—سکونی صورت کے مماثل ہے(دوقطبی معیار اثر
کا برقی دو قطبیہ،برقی میدان
میں)۔
![]()
جیسا کہ مساوات(4.28) سے واضح ہے،مقناطیسی میعار اثر کے ابعاد:
ہیں اور اس کی اکائیہے۔مساوات(4.29)سے ہم دیکھتے ہیں کہ جب
،مقناطیسی میدان
کے متوازی یا مخالف متوازی ہوتا ہے تو قوت گردشہ
معدوم ہوجاتا ہے۔یہ ایک توازن کی حالت کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ لچھے پر کوئی قوت گردشہ نہیں ہے (اس کا اطلاق ہر اس شے پر ہوتاہے،جس کا مقناطیسی معیارِاثر
ہے)۔جب
اور
متوازی ہیں تو توازن ایک مستحکم(Stable)توازن ہے۔لچھے کی کوئی خفیف گردش ایک قوت گردشہ پیدا کرتی ہے جو اسے واپس اصل حالت میں لے آتا ہے۔جب یہ مخالف متوازی ہوتے ہیں تو توازن غیر مستحکم ہوتا ہے،کیونکہ کوئی گردش جو قوت گردشہ پیدا کرتی ہے وہ گردش کی مقدار کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔اس قوت گردشہ کی موجودگی بھی اس کی ایک وجہ ہے کہ ایک چھوٹا مقناطیس یا کوئی مقناطیسی دو قطبیہ اپنے آپ کو باہری مقناطیسی میدان کی سمت میں کیوں کرلیتا ہے۔
اگر لوپ میںNقریب قریب لپٹے ہوئے چکرہوں، تو قوت گردشہ کے لیے ریاضیاتی عبارت،مساوات(4.29)پھر بھی درست ہوگی،اس طرح کہ
![]()
مثال4.12 ایک قریب قریب لپٹے ہوئے100چکروں کے،10cmنصف قطر کے دائری لچھے میں3.2Aکرنٹ ہے۔(a)لچھے کے مرکز پر کیا میدان ہے؟(b) اس لچھے کا مقناطیسی معیارِاثر کیا ہے؟
لچھے کو ایک انتصابی مستوی(vertical plane)میں رکھا گیا ہے اور وہ ایک افقی محور کے گرد،جو اس کے قطر پر منطبق(coincident)ہے،گردش کرنے کے لیے آزاد ہے۔2 Tکا ایک ہموار مقناطیسی میدان،افقی سمت میں پایاجاتا ہے،اس طرح کہ شروعات میں لچھے کا محور میدان کی سمت میں ہے۔مقناطیسی میدان کے زیر اثر لچھا90ºسے گھوم جاتا ہے۔(c)شروعاتی اور اختتامی حالت میں،لچھے پر قوت گردشہ کی عددی قدریں کیا ہیں؟(d)۔ 90ºسے گھومنے کے بعد لچھے کے ذریعے حاصل کی گئی زاویائی چال کیا ہے؟لچھے کا جمود گردشہ(moment of inertia)
ہے۔
حل:

سمت دایاں—ہاتھ انگوٹھا قاعدے سے دی جاتی ہے۔
(b) مقناطیسی معیار اثر مساوات(4.30)سے دیاجاتا ہے:
![]()
سمت ایک بار پھر دایاں—ہاتھ انگوٹھا قاعدے سے دی جاتی ہے۔

شروعات میں
آغازی قوت گردشہ

مثال 4.13
(a) ایک کرنٹ بردار دائری لوپ ایک ہموار افقی مستوی میں ہے۔کیا ایک مقناطیسی میدان اس طور پر پیدا کیاجاسکتا ہے کہ لوپ اپنے گرد گھوم جائے(یعنی انتصابی محور کے گردگھوم جائے)؟
(b) ایک کرنٹ بردار دائری لوپ ایک ہموار مقناطیسی میدان میں ہے۔اگر لوپ گھومنے کے لیے آزاد ہے تو مستحکم توازن کی تشریق(orientation)کیاہے؟دکھائیے کہ اس تشریق میں،کل میدان (باہری میدان+لوپ کے ذریعے پیدا کیا گیا میدان)کافلکس ازحد ہے۔
(c) ایک بے قاعدہ شکل کا کرنٹ بردار لوپ ایک باہری مقناطیسی میدان میں پایا جاتا ہے۔اگر تار لچک دار ہو،تو یہ ایک دائری شکل میں کیوں تبدیل ہوجاتا ہے؟
حل:
(a) نہیں،اس کے لیے چاہیے ہوگا کہ
انتصابی سمت میں ہو،لیکن
لیکن کیونکہ افقی لوپ کا
،انتصابی سمت میں ہے،کسی بھی
کے لیے
،لوپ کے مستوی میں ہوگا۔
(b) مستحکم توازن کی تشریق وہ ہے،جس میں لوپ کا رقبہ سمتیہ
باہری مقناطیسی میدان کی سمت میں ہو۔ ایسی تشریق میں،لوپ کے ذریعے پیدا کیے گئے مقناطیسی میدان کی سمت بھی وہی ہوگی جو باہری میدان کی ہے،دونوں لوپ کے مستوی پر عمود ہوں گی۔اس طرح کل میدان کا ازحد فلکس پیدا ہوگا۔
(c) یہ اپنے مستوی کو میدان پر عمود رکھتے ہوئے دائری شکل اس لیے اختیار کرلیتا ہے تاکہ فلکس کو ازحد کرسکے،کیونکہ ایک دیے ہوئے محیط(perimeter)کے لیے ایک دائرہ کسی بھی دوسری شکل سے زیادہ رقبہ گھیرتا ہے۔
4.10.2دائری کرنٹ لوپ بطور مقناطیسی دوقطبیہ
(Circular current loop as a magnetic dipole)
اس حصے میں ہم بنیادی مقناطیسی جز،ایک کرنٹ لوپ،لیں گے۔ہم دکھائیں گے کہ ایک دائری کرنٹ لوپ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان(زیادہ فاصلوں پر)کابرتائو ایک برقی دوقطبیہ کے برقی میدان سے کافی ملتا جلتا ہوتا ہے۔حصہ4.6میں ہم ایک نصف قطرRکے دائری لوپ کے محور پر 2مقناطیسی میدان کی قدر تحسیب کرچکے ہیں،جب کہ لوپ میںقائم کرنٹIہے۔اس میدان کی عددی قدر ہے[مساوات(4.15)]

اوراس کی سمت محور کی جانب ہے اور دائیں ہاتھ–انگوٹھا قانون سے دی جاتی ہے(شکل4.12)۔یہاںx،لوپ کے مزکز سے محور پر فاصلہ ہے۔x >> Rکے لیے ہم نسب نما میں
رکن نظرانداز کرسکتے ہیں:اس لیے
![]()
نوٹ کریں کہ لوپ کا رقبہ:
،اس لیے
![]()
پہلے کی طرح ہم مقناطیسی معیارِاثر
کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ اس کی عددی قدرIAہے۔
![]()
اس لیے

مساوات[4.31(a)]کی ریاضیاتی عبارت،ایک دوقطبیہ کی برقی میدان کے لیے،پہلے حاصل کی گئی ریاضیاتی عبارت کے بہت مشابہ ہے۔اس مشابہت کو دیکھاجاسکتا ہے،اگر ہم رکھیں۔

جو قطعی طورپر ایک برقی دو قطبیہ کااس کے کے محور کے ایک نقطہ پر میدان ہے، جو ہم نے باب1،حصہ1.10، [مساوات(1.20)]میں حاصل کیا تھا۔
یہ دکھایا جاسکتا ہے کہ مندرجہ بالا مماثلت کو مزید آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ہم نے باب1میںپایاتھا کہ ایک دو قطبیہ کے عمودی ناصف پر برقی میدان دیاجاتا ہے[دیکھیے مساوات(1.21)]:

جہاںxدوقطبیہ سے فاصلہ ہے۔اگر ہم بد ل دیں:
،تو مندرجہ بالا ریاضیاتی عبارت سے ہمیںلوپ کے مستوی میں،مرکز سے فاصلہxپر ایک نقطہ کے لیے مقناطیسی میدان
کے لیے نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ x >>Rکے لیے
![]()
مساوات[4.31(a)]اورمساوات[4.31(b)]سے دیے گئے نتائج ایک نقطہ مقناطیسی دوقطبیہ کے لیے قطعی درست ہوجاتے ہیں۔
یہ دکھایا جاسکتا ہے کہ اوپر حاصل کیے گئے نتائج کا اطلاق کسی بھی مسطح لوپ پر ہوسکتا ہے۔ایک مسطح کرنٹ لوپ،دوقطبیہ معیارِ اثر:
کے مقناطیسی دو قطبیہ کے مساوی ہے،جو کہ برقی بنیادی اکائیوں—چارجوں (یا برقی واحدقطبوں)سے مل کر بنتا ہے۔مقناطیسیت میں،ایک مقناطیسی دو قطبیہ(یا ایک کرنٹ لوپ)سب سے زیادہ بنیادی جز ہے۔برقی چارجوں کا معادل ،یعنی کہ مقناطیسی یک قطبین(Magnetic monopolles)نہیں پائے جاتے۔
ہم نے دکھایا ہے کہ ایک کرنٹ لوپ(i)ایک مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے(دیکھیے شکل4.12)اور زیادہ فاصلوں پر ایک مقناطیسی دو قطبیہ کی طرح برتائو کرتا ہے،اور(ii)ایک مقناطیسی سوئی کی طرح اس پر ایک قوت گردشہ لگتا ہے۔اس نے ایمپیر کو یہ تجویز پیش کرنے کی راہ دکھائی کہ تمام مقناطیسیت دوران کررہے کرنٹ(circulating currents)کی وجہ سے ہے۔یہ جزوی طورپر درست معلوم ہوتا ہے اور اب تک کوئی مقناطیسی یک قطبیہ نہیں دیکھا گیا ہے۔لیکن،بنیادی ذرات،جیسے ایک الیکٹران یا ایک پروٹان،میں ذاتی مقناطیسی معیار اثر(intrinsic magnetic moment)بھی ہوتا ہے،جس کی وضاحت دوران کررہے کرنٹوں سے نہیں کی جاسکتی۔
4.10.3 ایک طوافی الیکٹران کا مقناطیسی دوقطبیہ معیارِاثر
(The magnetic dipole moment of a revolving electron)
باب12میں ہم بوہر کے ہائیڈروجن ایٹم کے ماڈل کے بارے میںپڑھیں گے۔ہوسکتا ہے،آپ نے اس ماڈل کے بارے میںپڑھا ہوجسے ڈنمارک کے طبیعات داں نیلس بوہر(Niels Bohr)نے1911میں تجویز کیا اور جس نے ایک نئی قسم کی میکانیات،جس کا نام کو انٹیم میکانیات ہے،کے لیے راہ ہموار کی۔بوہر ماڈل میں،الیکٹران(ایک منفی چارج شدہ ذرہ)ایک مثبت چارج شدہ نیوکلیس کے گرد طواف کرتا ہے،تقریباً اسی طرح جیسے ایک سیارہ سورج کے گردطواف کرتا ہے۔پہلی صورت میں قوت،برق سکونی(کولمب قوت)ہے،جب کہ سیارے —سورج کی صورت کے لیے یہ مادی کشش کی قوت ہے۔ہم نے الیکٹران کی یہ بوہر—تصویر شکل4.23میں دکھائی ہے۔

شکل4.23:ہائیڈروجن۔جیسے ایٹموں کے بوہر ماڈل میں،منفی چارج شدہ الیکٹران،مرکز میں مقیم مثبت چارج شدہ (+Ze)نیوکلیس کے گرد یکساں چال سے طواف کررہا ہے۔الیکٹران کی یکساں دائری حرکت ایک کرنٹ تشکیل دیتی ہے۔مقناطیسی معیارِحرکت کی سمت،کاغذ کے مستوی میں اندر کی جانب ہے اور اس کی الگ سے نشاندہی،Äسے کی گئی ہے۔
چارج(–e)کاالیکٹران، چارج(+Ze)کے ایک ساکن وزنی نیوکلیس کے گرد یکساں دائری حرکت کرتا ہے۔اس سے کرنٹIتشکیل پاتا ہے،جہاں
![]()
اورTطواف کا دوری وقفہ ہے۔فرض کیجیے کہrالیکٹران کا مداری نصف قطر(orbital radius)ہے اور vاس کی مداری چال ہے۔
![]()
مساوات(4.32)میںرکھنے پر،
![]()
دوران کررہے کرنٹ سے منسلک ایک مقناطیسی معیارِاثر ہوگا،جسے عام طورسے
سے ظاہر کرتے ہیں۔
مساوات(4.28)سے،اس کی عددی قدر ہے:![]()
اس مقناطیسی معیارِاثر کی سمت،شکل4.23میں،کاغذ کے مستوی میں اندر کی جانب ہے۔[یہ پہلے یان کیے جاچکے دائیں۔ہاتھ انگوٹھا قاعدے اور اس حقیقت سے اخذ کیاجاسکتا ہے کہ منفی چارج شدہ الیکٹران گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کی مخالف سمت میںحرکت کررہاہے،جس سے کرنٹ،گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کی سمت میں ہے]مندرجہ بالا ریاضیاتی عبارت کی دائیںجانب کو
سے ضرب کرنے اور تقسیم کرنے پر،ہمیں ملتا ہے:

یہاںl،الیکٹران کے،مرکزی نیوکلیس کے گرد،زاویائی معیارِحرکت کی عددی قدر ہے(مداری زاویائی معیارِحرکت“orbital” angular momentum)۔سمتیہ شکل میں
![]()
منفی علامت نشاندہی کرتی ہے کہ الیکٹران کے زاویائی معیارِحرکت کی سمت،مقناطیسی معیارِاثر کی سمت کے مخالف ہے۔اگر ہم چارج(–e)کے الیکٹران کی جگہ ایک(+q)چارج کا ذرہ لیں ،توزاویائی معیارِحرکت اور مقناطیسی معیارِاثر یکساں سمت میںہوں گے۔نسبت:
![]()
جائرہ مقناطیسی نسبت(gyromagnetic ratio)کہلاتی ہے اور ایک مستقلہ ہے۔ایک الیکٹران کے لیے،اس کی قدر
ہے،جس کی تصدیق تجربات سے کی جاچکی ہے۔
یہ حقیقت کہ ایٹمی سطح پر بھی ایک مقناطیسی معیارِاثر ہوتا ہے ایمپیرکے ایٹمی مقناطیسی معیارِاثر کے مفروضے کو درست ثابت کرتی ہے۔ایمپیرکے مطابق،اس سے مادی اشیا کی مقناطیسی خاصیتوں کی وضاحت کرنے میں مدد ملے گی۔کیا ہم اس ایٹمی دو قطبی معیارِاثر کو کوئی قدر عطا کرسکتے ہیں؟جواب ہے ہاں۔بوہر ماڈل میں ایسا کیا جاسکتا ہے۔بوہر نے مفروضہ قائم کیا کہ زاویائی معیارِحرکت،قدروں کا مجرد سیٹ(discrete set)اختیار کرتا ہے۔یعنی کہ،

جہاںnایک طبعی عدد ہے:n = 1, 2, 3, .... ،اورhایک مستقلہ ہے جو میکس پلانک کے نام پر پلانک کا مستقلہ کہلاتاہے۔اس کی قدر
ہے۔یہ تجرد(discreteness)کی شرط،بوہر کی کوانٹم سازی کی شرط(Bohr quantisation condition)کہلاتی ہے۔ہم باب12میںاس سے تفصیلی بحث کریں گے۔یہاں ہمارا مقصد،صرف بنیادی دوقطبی معیارِاثر کی تحسیب میں اسے استعمال کرتا ہے۔n = 1قدرلیجیے،ہمیں مساوات(4.34)سے حاصل ہوتا ہے:

جہاں تحت علامت(subscript)،’min‘کم ازکم(minimum)کے لیے استعمال کی گئی ہے۔یہ قدر بوہر میگنیٹان(Bohr magneton)کہلاتی ہے۔
یکساں دائری حرکت کرتے ہوئے کسی بھی چارج کے ساتھ،مساوات(7.34)جیسی ریاضیاتی عبارت سے دیا جانے والا،مقناطیسی معیارِاثر منسلک ہوگا۔یہ دوقطبی معیارِاثر،مداری مقناطیسی معیارِاثر کے بطور لیبل کیاجاتا ہے۔اسی لیےمیں تحت علامت‘l’استعمال کی گئی ہے۔مداری معیارِاثر کے علاوہ،الیکٹران میںایک ذاتی مقناطیسی معیار اثر(intrinsic magnetic moment)بھی ہوتا ہے،جس کی عددی قدر وہی ہوتی ہے جو مساوات(4.37)میںدی گئی ہے۔اسے اسپین مقناطیسی معیارِاثر(spin magnetic moment)کہتے ہیں۔لیکن ہم فوراً ہی یہ بتانا چاہیں گے کہ ایسا نہیں ہے کہ الیکٹران اسپن کررہا ہے (گھوم رہا ہے)۔الیکٹران ایک بنیادی ذرہ ہے اور اس کا کوئی محور نہیں ہے،جس کے گرد وہ زمین یا لٹو کی طرح گھوم سکے۔لیکن پھر بھی اس میں یہ ذاتی مقناطیسی معیار اثر ہوتا ہے۔لوہے اور دوسری مادی اشیا میںمقناطیسیت کی خوردبینی جڑیں اس ذاتی اسپن معیار اثر میںتلاش کی جاسکتی ہیں۔
4.11متحرک کوائل گیلونومیٹر(The Moving Coil Galvanometer)
باب3میں ہم سرکٹ میںکرنٹ اور وولٹیج سے تفصیلی بحث کرچکے ہیں۔لیکن ہم انھیں ناپیں کیسے؟ہم کیسے کہتے ہیں کہ ایک سرکٹ میں کرنٹ 1.5Aہے یا ایک مزاحمہ پر وولٹیج ڈراپ 1.2Vہے؟شکل4.24میں اس کام کے لیے استعمال ہونے والا ایک بہت کارآمد آلہ دکھایا گیا ہے:
’’متحرک کوائل گیلوونومیٹر‘‘(MCG)۔یہ ایک ایسا آلہ ہے،جس کی کارکردگی کا اصول، حصہ4.10میں دی گئی بحث کی بنیاد پر سمجھا جاسکتاہے۔
ایک گیلوونومیٹر ایک ایسے لچھے(کوائل)پر مشتمل ہوتاہے جس میںبہت سے چکر ہوتے ہیں اور جو ایک ہموار نصف قطری مقناطیسی میدان میں،ایک متعین محور کے گردگھومنے کے لیے آزاد ہوتا ہے(شکل4.24)۔اس میں ایک استوانی،نرم لوہے کا قالب(core)ہوتا ہے جو نہ صرف میدان کو نصف قطری بناتا ہے بلکہ مقناطیسی میدان کی طاقت(Strenght)میں بھی اضافہ کرتا ہے۔جب کوائل میں سے کرنٹ بہتا ہے،تو اس پرایک قوت گردشہ لگتاہے۔یہ قوت گردشہ،مساوات(4.26)سے دیاجاتاہے،اور یہ ہے
τ = NI AB
جہاں علامتیں اپنے آپ عام معنی میں استعمال کی گئی ہیں۔کیونکہ میدان،ڈیزائن کے ذریعے،نصف قطری ہے،ہم نے قوت گردشہ کی مندرجہ بالا ریاضیاتی عبارت میں
لیاہے۔مقناطیسی قوت گردشہNIABکوائل کو گھمانے کی کوشش کرتا ہے۔ایک اسپرنگSpایک مخالف قوت گردشہkfمہیاکرتاہے جو مقناطیسی قوت گردشہ NIABکو متوازن کرتاہے،اور جس کے نتیجے میں قائم زاویائی انفراج(steady angular deflection)ملتا ہے۔
حالت توازن میں:
(4.38)
kØ= NI AB (NIAB)/ k J
قوسین(bracket)میں دی گئی مقدار،ایک دیے ہوئے گیلوونومیٹر کے لیے مستقلہ ہے۔
ایک گیلوونومیٹر کو کئی طریقوں سے استعمال کیاجاسکتا ہے۔اسے یہ جانچنے کے لیے کہ ایک سرکٹ میں کرنٹ بہہ رہا ہے یا نہیں،بطور شناخت کار(detector)استعمال کیاجاسکتا ہے۔گیلوونومیٹر کا یہ استعمال،ہم وہیٹ اسٹون برج میںدیکھ چکے ہیں۔اس استعمال میں،سوئی کا تعدیلی مقام(Neutral Position)[جب گیلوونومیٹر سے کوئی کرنٹ نہیں بہہ رہا ہے]،اسکیل کے وسطی نقطہ پر ہے اور بائیں سرے پر نہیں ہے،جیسا شکل4.24میںدکھایاگیا ہے۔کرنٹ کی سمت کے مطابق،سوئی کاانفراج یا تو دائیں جانب ہوتاہے یا بائیں جانب۔

شکل4.24:متحرک کوائل گیوونومیٹر—اس کے اجزا سبق میںبیان کیے گئے ہیں۔یہ آلہ بطور کرنٹ شناخت کار بھی استعمال کیاجاسکتا ہے اور کرنٹ کی قدر ناپنے (ایم میٹر)اور وولٹیج ناپنے (وولٹ میٹر)کے لیے بھی۔
گیلوونومیٹر کو ایسے ہی،ایک دیے ہوئے سرکٹ میںکرنٹ کی مقدار ناپنے کے لیے،بطور ایم میٹر استعمال نہیں کیاجاسکتا۔اس کی دووجوہات ہیں:(i)گیلوونومیٹر ایک بہت حساس آلہ ہے،اور یہ
درجہ کے کرنٹ کے لیے مکمل اسکیل انفراج دیتا ہے۔(ii)کرنٹ ناپنے کے لیے،اسے سلسلہ وار لگانا ہوگا اور کیونکہ اس کی مزاحمت بہت زیادہ ہوتی ہے،اس سے سرکٹ میںکرنٹ کی قدر تبدیل ہوجائے گی۔ان دشواریوں پر قابو پانے کے لیے،ہم گیلوونومیٹر کوائل کیء ساتھ متوازی طرز میں ایک چھوٹی مزاحمت لگادیتے ہیں،جسے شنٹ(Shunt)کہتے ہیں،اس طرح زیادہ ترکرنٹ اس شنٹ سے گذرجاتا ہے۔اس اجتماع کی مزاحمت ہے:
(اگر :RG >> rs)
اگر باقی سرکٹ کی مزاحمتReکے لحاظ سے
کی قدر چھوٹی ہے،تو آلہ پیمائش کو سرکٹ میں داخل کرنے کا اثر بھی کم ہوگا اور قابل نظرانداز ہوگا۔اسی ترتیب کا خاکہ شکل(4.25)میںدکھایا گیا ہے۔
اس ایم میٹر کے اسکیل کو پہلے پیمانہ بند(calibrated)کیاجاتا ہے،تاکہ اس سے بآسانی کرنٹ کی قدریں پڑھی جاسکیں۔ہم ایک گیلوونومیٹر کی کرنٹ حساسیت(current sensitivity)کی تعریف بطور انفراج فی اکائی کرنٹ کرتے ہیں۔مساوات(4.38)سے،یہ کرنٹ حساسیت ہے:
(4.39)
Ø/I = NAB / k
گیلوونومیٹر بنانے والوں کے لیے حساسیت میںاضافہ کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ چکروں کی تعداد’ N‘بڑھادی جائے۔ہم ایسے گیلوونومیٹر منتخب کرتے ہیں،جن کی حساسیت کی قدر،ہمارے تجربے کے لیے درکارقدر سے مطابقت رکھتی ہو۔

شکل4.25:متوازی طرزمیں،بہت چھوٹی قدر کی ایک شنٹ مزاحمت
داخل کرکے ایک گیلوونومیٹر(G)کی ایک ایم۔میٹر میںتبدیلی
گیلوونومیٹر ،سرکٹ کے کسی دیے ہوئے حصے کے سروں کے درمیا ن وولٹیج معلوم کرنے کے لیے،بطوروولٹ میٹر بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔اس کے لیے،گیلوونومیٹر کو سرکٹ کے اس دیے ہوئے حصے کے ساتھ متوازی طرز میںجوڑنا لازمی ہے۔مزید یہ کہ اس سے بہت کم کرنٹ گذرنا چاہیے ورنہ وولٹیج کی پیمائش اصل سرکٹ میں بہت زیادہ خلل انداز ہوگی۔عام طورسے ہم پیمائشی آلہ کے ذریعے پیدا ہوئے خلل کو ایک فی صدی سے کم رکھنا چاہتے ہیں۔اسے یقینی بنانے کے لیے،گیلوونومیٹر کے ساتھ ایک بڑی مزاحمتRسلسلہ وار طرز میںجوڑی جاتی ہے۔اس ترتیب کا خاکہ شکل(4.26)میں دکھایا گیا ہے۔نوٹ کریں کہ اب وولٹ میٹر کی مزاحمت ہے
(بہت بڑی) RG+ R≅ R
وولٹ میٹر کے اسکیل کو پیمانہ بند کردیا جاتا ہے،تاکہ وولٹیج کی قدر آسانی سے پڑھی جاسکے۔ہم وولٹیج حساسیت کی تعریف بطور انفراج فی اکائی وولٹیج کرتے ہیں۔مساوات(4.38)سے یہ وولٹیج حساسیت ہے:
(4.40)
Ø/ V=( NAB/ k) I/V (NAB/ k) I/R
ایک نوٹ کرنے لائق،دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ کرنٹ حساسیت میں اضافہ کرنے سے،وولٹیج حساسیت میں،ضروری نہیں ہے،اضافہ ہو۔آئیے،مساوات(4.39)لیتے ہیں،جو کرنٹ حساسیت کا ناپ مہیا کرتی ہے۔اگر، N →2Nیعنی ہم چکروں کی تعداد دوگنی کردیں،تب
Ø/ I→ 2 / I

شکل4.26:سلسلہ وار طرز میں،ایک بڑی قدر کی مزحمتRداخل کرکے ایک گیلوونومیٹر(G)کی وولٹ میٹر میں تبدیلی۔
اس لیے،کرنٹ حساسیت دوگنی ہوجاتی ہے۔لیکن چکروں کی تعداد دگنی کردینے سے،گیلوونومیٹر کی مزاحمت کے دگنے ہوجانے کا امکان ہے کیونکہ یہ تار کی لمبائی کے متناسب ہے۔مساوات(4.40)میں،
اس لیے وولٹیج حساسیت،
Ø/V→ Ø/ V
غیر تبدیل شدہ رہتی ہے۔اس لیے،عمومی طورپر،ایک گیلوونومیٹر کوایم۔میٹر میں تبدیل کرنے کے لیے جو سدھار درکار ہے وہ اسے وولٹ میٹر میں تبدیل کرنے کے لیے درکار سدھار سے مختلف ہوگا۔
مثال4.14:سرکٹ(شکل4.27)میں کرنٹ کی پیمائش کی جاتی ہے۔کرنٹ کی قدر کیا ہے؟اگر دکھایا گیا ایم۔میٹر ہے(a)ایک گیلوونومیٹر،جس کی مزاحمت RG = 60.00Ωہے(b) (a) میں بیان کیاگیا گیلوونومیٹر،لیکن اسے ایک شنٹ مزاحمتrs = 0.02Ωکے ذریعے ایم۔میٹر میںتبدیل کرلیاگیا ہے۔(c)ایک مثالی ایم۔میٹر،جس کی مزاحمت صفر ہے۔

شکل4.27
حل:(a)سرکٹ میں کل مزاحمت ہے:
I = 3/63 = 0.048 A RG + 3 = 63Ω
(b)ایم۔میٹر میںتبدیل کیے گئے گیلوونومیٹر کی مزاحمت ہے:
![]()
سرکٹ میں کل مزاحمت ہے:
0.02Ω + 3Ω = 3.02 Ω
اس لیے
I = 3/3.02 = 0.99 A
(c)صفر مزاحمت والے مثالی ایم۔میٹر کے لیے
I = 3/3 = 1.00 A
خلاصہ
1۔ مقناطیسی میدان
اور برقی میدان
کی موجودگی میں،رفتار
سے حرکت کرتے ہوئے ایک چارج پر لگ رہی کل قوت،لورینٹز قوت کہلاتی ہے۔یہ مندرجہ ذیل ریاضیاتی عبارت سے دی جاتی ہے:
![]()
مقناطیسی قوت
پر عمود ہے اور اس کے ذریعے کیاگیا کام صفر ہے۔
2۔ ایک،لمبائی lکامستقیم موصل،جس میں قائم کرنٹIبہہ رہا ہے،ایک ہموار مقناطیسی میدان
میں ایک قوت
محسوس کرتا ہے:
![]()
جہاں
کی سمت کرنٹ کی سمت سے دی جاتی ہے۔
3۔ ایک ہموار مقناطیسی میدان
میں،ایک چارجqایک دائری مدار بناتا ہے جو
پر عمود مستوی میںہوتا ہے۔ اس کا یکساں دائری حرکت کاتعدد،سائیکلوٹران تعداد کہلاتا ہے اور دیاجاتا ہے:
ve = qB / 2πm
یہ تصور ذرے کی رفتار اور نصف قطر کے تابع نہیں ہے۔اس حقیقت کا استعمال مشین،سائیکلوٹران میںکیاجاتاہے جو چارج شدہ ذرات کو اسراع پذیر کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔
4۔ بائیٹ—سیورٹ قانون کا بیان ہے کہ ایک کرنٹ جز
،جس میںقائم کرنٹ
ہے،کی وجہ سے،کرنٹ جز سے فاصلہ rپر ایک نقطہPپر،پیداہونے والا مقناطیسی میدان
ہے:

نقطPپر کل میدان حاصل کرنے کے لیے ہمیں اس سمتیہ عبارت کا موصل کی پوری لمبائی پر تکملہ کرنا ہوگا۔
5۔ نصف قطرRکے ایک دائری کوائل کی وجہ سے،جس میں کرنٹIہے،مرکز سے محوری فاصلےxپر،پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان کی عددی قدر ہے:
![]()
مرکزپر یہ تحلیل ہوجاتی ہے:
![]()
6۔ ایمپیر کا سرکٹ کاقانون:فرض کیجیے کہ ایک کھلی ہوئی سطح Sایک لوپ Cسے مقید شدہ(Bounded)ہے۔تب،ایمپیر کے قانون کا بیان ہے:
،جہاںI،Sمیںسے گذررہے کرنٹ کے لیے ہے۔Iکی علامت،دائیں۔ہاتھ قاعدے سے معلوم کی جاتی ہے۔ہم اس قانون کی ایک سادہ شکل بیان کرچکے ہیں۔اگر
کی سمت،ایک بندمنحنی کے محیط Lکے ہر نقطہ پر مماس کی جانب ہے اور
کی عددی قدر،محیط پر مستقلہ ہے،تب:
BL = µº Ie
جہاںIe،بندسرکٹ میںگھراہوا کرنٹ ہے۔
7۔ ایک لمبے مستقیم تار سےRفاصلہ پر،جس میں کرنٹIہے،مقناطیسی میدان کی عددی قدر،دی جاتی ہے:
میدانی خطوط،تار کے ساتھ ہم مرکز،دائرے ہیں۔ B= µº I / 2πR
8۔ ایک لمبے سولی نائڈ کے اندر کی جانب،جس میںکرنٹIہے،مقناطیسی میدان
کی عددی قدر ہے:
B= µº nI
جہاںn،چکروں کی تعداد فی اکائی لمبائی ہے۔ایک ٹورائڈ کے لیے،ہمیں حاصل ہوتا ہے:
B = µº NI / 2πr
جہاںn،چکروں کی کل تعداد ہے اورrاوسط نصف قطر ہے۔
9۔ متوازی کرنٹ کشش کرتے ہیں اور مخالف—متوازی کرنٹ دفع کرتے ہیں۔
10۔ ایک مسطح لوپ میں،جس میں کرنٹIہے اور Nنزدیک نزدیک لپٹے ہوئے چکر ہیں اور جس کا رقبہAہے،ایک مقناطیسی معیار اثر
ہوتا ہے۔جہاں:
![]()
اور
کی سمت دایاں ۔ہاتھ انگوٹھا قاعدہ سے دی جاتی ہے:اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو لوپ پر اس طرح موڑیے کہ انگلیاں کرنٹ کی سمت کی نشاندہی کریں۔باہر نکلا ہوا انگوٹھا،
کی (اور
کی)سمت بتاتا ہے۔
جب اس لوپ کو ایک ہموار مقناطیسی میدان
میںرکھاجاتاہے۔تو اس پر لگ رہی قوت ہےF=0اوراس پر لگ رہا قوت گردشہ ہے:
![]()
ایک متحرک کوائل گیلوونومیٹر میں،یہ قوت گردشہ،اسپرنگ کی وجہ سے لگ رہے مخالف قوت گردشہ سے متوازن ہوتا ہے۔اس سے حاصل ہوتا ہے:
k Ø = NI Ab
جہاںøتوازن انفراج ہے اورkاسپرنگ کا مروڑ مستقلہ(torsion constant)ہے۔
11۔ ایک مرکزی نیوکلیس کے گرد حرکت کرے ہوئے الیکٹران میں ایک مقناطیسی معیارِاثر
ہوتا ہے،جو دیاجاتاہے:
μ1 e/ 2m l
![]()
جہاںl،دوران کررہے الیکٹران کی،مرکزی نیوکلیس کے گرد،زاویائی معیارِحرکت کی عددی قدرہے
کی قلیل ترین قدر،بوہر میگناٹانµBکہلاتی ہے اور یہ ہے: ![]()
12۔ ایک متحرک کوائل گیلوونومیٹر کو،اس کے متوازی ایک کم قدر کی شنٹ مزاحمت rsداخل کرکے،ایک ایم۔میٹر میں تبدیل کیاجاسکتا ہے۔مزاحمت کی ایک بڑی قدر کو،سلسلہ وار طرز میں،داخل کرکے اسے ایک وولٹ میٹر میں تبدیل کیاجاسکتا ہے۔
| ریمارک | اکائیاں | ابعاد | طبع | مقدار | علامت طبعی |
| 4π×107 T m A-1 | T m A-1 | [MLT-2 A-2] | عددیہ | uº | آزاد فضا کی مقناطیسی سرایت پذیری |
| T (ٹیلا) | [MT-1 A-1] | سمتیہ | B | مقناطیسی میدان | |
| A m2 یا J/ T-1 | [L2 A] | سمتیہ | m | مقناطیسی معیار اثر | |
| متمرک کوائل گیلوونومیٹر میں ظاہر ہوتا ہے۔ | N m rad-1 | [ML2 T-2] | عددیہ | k | مروڑ مستقلہ |
قابل غور نکات
1۔ برق—سکونی میدان خطوط ایک مثبت چارج سے شروع ہوتے ہیں اور ایک منفی پر ختم ہوتے ہیں یا لاانتہا پر پھیکے پڑجاتے ہیں۔مقناطیسی میدانی خطوط ،ہمیشہ بند لوپ تشکیل دیتے ہیں۔
2۔ اس باب میں کی گئی بحث صرف قائم کرنٹ کے لیے درست ہے جو وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتے۔ جب کرنٹ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں،تونیوٹن کا تیسرا قانون صرف تب ہی جائز(درست)ہے جب برقی—مقناطیسی میدان کے معیارِحرکت کو بھی شامل کیاجائے۔
3۔ لورینٹرز قوت کی ریاضیاتی عبارت یاد کیجیے:
![]()
اس رفتار—تابع قوت نے کئی عظیم سائنسی مفکرین کی توجہ اپنی جانب کھینچی ہے۔اگر ہم ایسے فریم میں جائیں،جس کی لمحاتی رفتار(instantaneous velocity)
ہے،تو قوت کا مقناطیسی حصہ معدوم (صفر)ہوجاتا ہے۔تب چارج شدہ ذرہ کی حرکت کی وضاحت اس طرح کی جاتی ہے کہ نئے فریم میں ایک مناسب برقی میدان پایا جاتا ہے۔ہم اس میکانزم کی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔لیکن ہم یہ زور دے کر کہیں گے کہ اس معمہ کے حل سے اخذ کیاجاسکتا ہے کہ برق اور مقناطیسیت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے،(برق—مقناطیسیت)مظاہرہیں اور لورینٹز قوت کی عبارت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قدرت میں ایک آفاقی،ترجیحی(preferred)حوالہ فریم(preferred frame) ہے۔
ایمپیر کا سرکٹی قانون،بائیٹ—سیورٹ قانون سے الگ نہیں ہے۔اسے بائیٹ—سیورٹ قانون سے مشتق کیا جاسکتا ہے۔اس کا بائیٹ—سیورٹ قانون سے ویسا ہی رشتہ ہے،جیسا گاس کے قانون کا کولمب کے قانون سے ہے۔
مشق
4.1 تارکاایک دائری لچھا100چکروں پر مشتمل ہے،جس میں سے ہر ایک کانصف قطر8.0cmہے۔اس میں 0.40Aکرنٹ ہے۔لچھے کے مرکز پر مقناطیسی میدان
کی عددی قدر کیا ہے؟
4.2 ایک لمبے مستقیم تار میں35Aکرنٹ ہے۔تار سے20cmفاصلے پر ایک نقطہ پر میدان
کی عددی قدر کیا ہے؟
4.3 افقی مستوی میں،ایک لمبے مستقیم تار میں50Aکرنٹ ہے۔کرنٹ کی سمت شمال سے جنوب کی جانب ہے۔تار سے2.5mمیٹر مشرق کی جانب ایک نقطے پر
کی سمت اور عددی قدر بتائیے۔
4.4 ایک اوپر سے جارہی افقی پاورلائن میں90Aکرنٹ ہے،جس کی سمت مشرق سے مغرب کی جانب ہے۔لائن سے1.5mنیچے،کرنٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان کی سمت اور عددی قدر کیا ہے؟
4.5 ایک تار پر،جس میں 8Aکرنٹ ہے اور جو0.15Tکے ہموار مقناطیسی میدان کی سمت سے
کا زاویہ بناتا ہے،مقناطیسی قوت فی اکائی لمبائی کی عددی قدر کیا ہے؟
4.6 ایک3.0cmلمبے تار کو،جس میں10Aکرنٹ ہے،ایک سولی نائڈ کے اندر،اس کے محور کے عمودی رکھا جاتا ہے۔سولی نائڈ کے اندر مقناطیسی میدان0.27Tدیاہوا ہے۔تار پر مقناطیسی قوت کیا ہے؟
4.7 دولمبے اور متوازی مستقیم تارAاورBمیں8.0Aاور5.0Aکرنٹ یکساں سمت میں ہیں اور ان کے در میان 4.0cmفاصلہ ہے تار Aکے10cmحصے پر قوت کا تخمینہ لگائیے۔
4.8 ایک80cmلمبے،قریب قریب لپٹے ہوئے سولی نائڈ میںلپیٹوں کی 5تہیں ہیں،جن میں سے ہر ایک تہہ میں400چکر ہیں۔ سولی نائڈ کا قطر1.8cmہے۔اگر اس میں8.0Aکرنٹ ہے،تو سولی نائیڈ کے اندر اس کے مرکز کے قریب
کی عددی قدرکا تخمینہ لگائیے۔
4.9 10 cm ضلع کے ایک مربع کوائل میں20چکر ہیں اوراس میں12Aکرنٹ ہے۔کوائل کو انتصابی لٹکایاجاتا ہے اورکوائل کے مستوی پر عمود،0.80Tکے عددی قدر کے ایک ہموار افقی مقناطیسی میدان کی سمت سے30ºکا زاویہ بناتا ہے۔کوائل پر لگ رہے قوت گردشہ کی عددی قدر کیا ہے؟
4.10 دومتحرک کوائل میٹر M2 اور M1ہیں،جن کے خواص مندرجہ ذیل ہیں:
,R1= 10 Ω N1 = 30
A1 = 36 × 10-3 , m2 , B1 = 0.25 T
,R2 = 14 Ω N2 42
A2 = 1.8 × 10-3 m2 , B2 = 0.50 T
(دونوں میٹروں کے اسپرنگ مستقلے متماثل ہیں)
M2 اور M1کی(i)کرنٹ حساسیت اور(ii)وولٹیج حساسیت،کی نسبت معلوم کیجیے۔∑
4.11 ایک خانے(Chamber)میں6.5G
کا ہموار مقناطیسی میدان برقرار رکھاجاتا ہے۔ایک الیکٹران کو،میدان پر عمود
کی رفتار سے،میدان میں داخل کیاجاتا ہے۔وضاحت کیجیے کہ الیکٹران کا راستہ ایک دائرہ کیوں ہے؟دائری مدار کا نصف قطر معلوم کیجیے
![]()
4.12 مشق4.11میں،الیکٹران کے،اس کے دائری مدار میں،طواف کرنے کا تعدد معلوم کیجیے۔کیاجواب الیکٹران کی چال کے تابع ہے؟وضاحت کیجیے۔
(a)۔ 4.13 30 چکروں کا ایک دائری کوائل،جس کا نصف قطر8.0cmہے اور جس میں6.0Aکرنٹ ہے،1.0Tعددی قدر کے ایک ہموار افقی میدان میں انتصابی لٹکایا گیا ہے۔ میدانی خطوط،کوائل پر عمود سے 60ºکا زاویہ بناتے ہیں۔اس مخالف قوت گردشہ کی عددی قدر تحسیب کیجیے جو کوائل کو گھومنے سے روکنے کے لیے لگایا جانا ضروری ہے۔
(b) کیا آپ کا جواب مختلف ہوگا اگر(a)میں دیے گئے دائری کوائل کو کسی بے قاعدہ شکل کے مسطح کوائل سے تبدیل کردیاجائے جو اتنا ہی رقبہ گھیرتا ہو اور باقی سب خواص بھی غیر تبدیل شدہ ہوں۔
اضافی مشق
4.14 16cm اور12cm نصف قطروں کے دوہم مرکز دائری کوائل،بالترتیب،XاورY،شمال سے جنوب سمتوں کی جانب یکساں انتصابی مستوی میں رکھے ہیں۔کوائلXمیں20چکر ہیں اور اس میں16Aکرنٹ ہے۔کوائلY میں25چکر ہیں اور18Aکرنٹ ہے۔Xمیں کرنٹ گھڑی مخالف سمت میں اورYمیںگھڑی سمت میں،اس مشاہد کو نظر آتے ہیں جو اپنا منہ مغرب کی جانب کرکے کوائل دیکھتا ہے۔کوائلوں کے مراکز پر ان کی وجہ سے پیدا ہونے والے کل مقناطیسی میدانوں کی عددی قدر اور سمت معلوم کیجیے۔
4.15
کا ایک ایسا مقناطیسی میدان درکار ہے جو تقریباً10cmکے خطی ابعاد اور تقریباً
کے تراشی رقبے کے علاقے میں ہموار ہو۔ایک دیے ہوئے کوائل کی ازحد کرنٹ گنجائش(Current Capacity) 15Aہے اورایک قالب پر زیادہ سے زیادہ لپٹے جاسکنے والے چکروں کی تعداد فی اکائی لمبائی:
ہے۔اس مقصد کے لیے استعمال کیے جاسکنے والے سولی نوئڈ کے مناسب ڈیزائن خواص تجویز کیجیے۔مان لیجیے کہ قالب فیرومقناطیسی(ferromagnetic)نہیں ہے۔
4.16 نصف قطرRاور Nچکروں کے ایک دائری کوائل کے لیے،جس میںکرنٹIہے،اس کے مرکز سے xفاصلے پر اس کے محور کے ایک نقطہ پر،مقناطیسی میدان کی عددی قدردی جاتی ہے:
B= μº IR2N / 2 (x2+ R2) 3/2
(a) دکھائیے کہ یہ کوائل کے مرکز پر جانے پہچانے نتیجے میں تحلیل ہوجاتی ہے۔
(b) مساوی نصف قطرRاورمساوی چکروں کی تعداد Nکے دو متوازی۔ہم محور۔دائری تار لیجیے،جن میں یکساں کرنٹ ،یکساں سمت میں ہیں اور ان کا درمیانی فاصلہRہے دکھائیے کہ محور پر،کوائلوں کے درمیان،وسطی نقطہ کے اردگرد،ایسے فاصلوں پر جو Rکے مقابلے میں بہت کم ہیں،مقناطیسی میدان ہموار ہوتا ہے۔او ردیا جاتا ہے:
(تقریباً) B = 0.72 μº NI/ R
ایسی ترتیب،جو ایک محدود علاقے میںتقریباً ہموار مقناطیسی میدان پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے،ہیلم ہولٹز(Hebnhelitz)کوائل کہلاتی ہے۔
4.17 ایک ٹورائڈ میںاندرونی نصف قطر25cmاور باہری نصف قطر26cmکا ایک قالب ہے(غیر۔فیرومقناطیسی)جس کے گرد ایک تار کے3500چکر لپٹے ہوئے ہیں۔اگر تار میں11Aکرنٹ ہے،تو مقناطیسی میدان کیا ہے؟
(a)ٹورائڈ کے باہر(b)ٹورائڈ کے قالب کے اندر(c)ٹورائڈ سے گھری ہوئی خالی جگہ میں۔
4.18 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے۔
(a) ایک خانے میں ایک ایسا مقناطیسی میدان پیدا کیاگیا جس کی عددی قدر ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ پر تبدیل ہوجاتی ہے،لیکن سمت یکساں رہتی ہے(مشرق سے مغرب کی جانب)۔ایک چارج شدہ ذرہ اس خانے میں داخل ہوتا ہے اور مستقلہ چال سے ایک مستقیم راستے پر بغیر منفرج ہوئے گذرجاتا ہے۔آپ ذرہ کی آغازی رفتار کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔
(b) ایک چارج شدہ ذرہ ایسے علاقہ میںداخل ہوتاہے،جہاں ایک طاقت ور اور غیر ہموار مقناطیسی میدان پایاجاتاہے جو ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ پر عددی قدر اور سمت دونوں میں تبدیل ہورہا ہے۔پھر ذرہ اس علاقہ سے ایک پیچیدہ خط راہ اختیار کرتا ہوا باہر نکلتا ہے۔اگر اس علاقے میں اس کا کوئی تصادم نہیں ہوتا ہے،تو کیا اس کی آغازای اور اختتامی چال یکساں ہوں گی؟
(c) ایک الیکٹران،مغرب سے مشرق کی سمت جاتے ہوئے ایک خانے میں داخل ہوتا ہے،جس میںشمال سے جنوب کی جانب ایک ہموار برقی میدان ہے۔وہ سمت بتائیے،جس میں مقناطیسی میدان لگانے سے الیکٹران کو اپنے مستقیم خط راستے سے منفرج ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
4.19 ایک الیکٹران جو ایک گرم کیے گئے مبشیرہ(cathode)سے خارج ہوتا ہے اور 2.0kVمضمر فرق کے ذریعے اسراع پذیر کیاگیا ہے،ایسے علاقے میں داخل ہوتا ہے،جہاں0.15Tکا ہموار مقناطیسی میدان ہے۔الیکٹران کاخط راہ معلوم کیجیے اگر(a)میدان اس کی آغازی رفتار پر عرضی(transverse)ہے(b) میدان اس کی آغازی رفتارسے30ºکا زاویہ بناتا ہے۔
4.20 ہیلم ہولٹز کوائلوں(جنھیں مشق4.6میں بیان کیاگیا ہے)کے استعمال کے ذریعے قائم کیا گیا ایک مقناطیسی میدان ایک چھوٹے علاقے میں ہموار ہے اور اس کی عددی قدر0.75Tہے۔اسی علاقے میں ایک ہموار برق–سکونی میدان،کوائلوںکے محورکی عمودی سمت میں برقرار رکھاجاتا ہے۔ایک 15kVسے اسراع کرائے گئے چارج شدہ ذرات کی ایک پتلی شعاع(واحد نوع)اس علاقے میں داخل ہوتی ہے،جس کی سمت،کوائل کے محور اور برق—سکونی میدان دونوں پر عمود ہے۔اگر برقی میدان کی عددی قدر
ہونے پر شعاع غیر منفرج رہتی ہے تو اندازہ لگائیے کہ شعاع میں کیا شامل ہے۔جواب یکتا(ایک ہی)کیوں نہیں ہے؟
4.21 لمبائی0.45mاور کمیت60gکی ایک مستقیم،افقی،ایصالی چھڑ،اس کے کنارے پر لگے دو عمودی تاروںکے ذریعے لٹگائی گئی ہے۔تاروں کے ذریعے چھڑمیں 5.0Aکاایک کرنٹ قائم کیاجاتاہے۔
(a) تاروں میں مروڑ کو صفر رکھنے کے لیے،موصل پر عمود کیا مقناطیسی میدان قائم کرنا چاہیے؟
(b) تاروں میں کل مروڑ کیا ہوگا اگر مقناطیسی میدان کو پہلے جیسا رکھتے ہوئے،کرنٹ کی سمت کو مخالف کردیاجائے؟(تاروں کی کمیت نظرانداز کردیجیے)۔
4.22 ان تاروں میںجوایک گاڑی کی بیٹری کو چلانے والی موٹر سے جوڑتے ہیں،300Aکرنٹ ہے(ایک مختصر وقت کے لیے)۔اگر تار 70cmلمبے میں اور ان کے درمیان فاصلہ1.5cmہے،تو تاروں کے درمیان قوت فی اکائی لمبائی کتنی ہے؟یہ قوت دفاعی ہے یا کششی؟
4.23 10.0cm نصف قطر کے ایک استوانی علاقے میں،1.5Tکا ایک ہموار مقناطیسی میدان پایاجاتا ہے،جس کی سمت،محور کے متوازی،مشرق سے مغرب کی جانب ہے۔ایک تار جس میں شمال سے جنوب کی جانب سمت میں7.0Aکرنٹ ہے،اس علاقے سے گذرتا ہے۔تار پر لگ رہی قوت کی عددی قدر اور سمت کیاہوگی،اگر
(a) تار محور کو قطع کرتا ہے۔
(b) تارN—Sسے،شمال مغرب—شمال مشرق کی سمت میں گھوم جاتا ہے۔
(c) N—S سمت میں جوتار تھا وہ محور سے6.0cmفاصلے سے نیچے ہوجاتا ہے۔
4.24 مثبت–zسمت میں ایک 300Gکا ہموار مقناطیسی میدان قائم کیاجاتا ہے۔10cmاور5cmکے ایک مستطیل لوپ میں12Aکرنٹ ہے۔شکل4.28میں دکھائی گئی مختلف صورتوں میں لوپ پر کتنا قوت گردشہ لگے گا؟
ہر صورت میں قوت کیا ہوگی؟کون سی صورت مستحکم توازن سے مطابقت رکھتی ہے؟

4.25 20 چکروں اور10cmنصف قطر کا یک دائری کوائل،0.10Tکے ہموار مقناطیسی میدان میں کوائل کے مستوی پر عمود،رکھاگیا ہے۔اگر کوائل میں 5.0Aکرنٹ ہے۔
(a) کوائل پر کل قوت گردشہ کیا ہے؟(b)کوائل پر کل قوت کیا ہے؟(c)مقناطیسی میدان کی وجہ سے کوائل کے ہر الیکٹران پر اوسط قوت کیا ہے؟
(کوائل
تراشی رقبے کے تابنے کے تار سے بنا ہوا ہے لور تانبہ میں آزاد الیکٹران کثافت تقریباً
ہے)
4.26 60cm لمبے اور4.0cm نصف قطر کے سولی نائڈوںمیں،لپیٹوں کی تین تہیں ہیں،جن میں سے ہر ایک میں300چکر ہیں۔2.5gکمیت کا ایک2.0cmلمبا تار ،سولی نائڈ کے اندر(اس کے مرکز کے قریب)،اس کے محور پر عمود رکھاہوا ہے)تار اور سولی نائڈ کا محور دونوں افقی مستوی میں ہیں۔دوتاروں کے ذریعے اس تار کو ایک باہری بیٹری سے جوڑا جاتا ہے جو تار میں6.0Aکرنٹ مہیا کرتی ہے۔جوڑنے والے تار سولی نائڈ کے محور کے متوازی ہیں۔سولی نائیڈ کی لپیٹوں میں کرنٹ کی کیا مقدار(دوران کی مناسب سمت کے ساتھ)تار کے وزن کو سہارا دے سکتی ہے؟![]()
4.27 ایک گیلوونومیٹر کوائل کی مزاحمت
ہے اور میٹر 3mAکرنٹ کے لیے پورا اسکیل انفراج دکھاتا ہے۔ آپ اس میٹر کو0سے18Vکی سعت والے وولٹ میٹر میں کیسے تبدیل کریں گے؟
4.28 ایک گیلوونومیٹر کوائل کی مزاحمت15 Wہے اور میٹر 4mAکرنٹ کے لیے پورا اسکیل انفراج دکھاتاہے۔آپ اس میٹر کو0سے6Aکی سعت والے ایم۔میٹر میں کیسے تبدیل کریں گے؟