Skip to content
12-Tabiyaat-I(Physics)-008



باب پانچ

مقناطیسیت اور مادہ

(MAGNETISM AND MATTER)


5.1تعارف(INTRODUCTION)

مقناطیسی مظاہر،اپنی طبع کے لحاظ سے آفاقی ہیں:بے کراں،ہم سے بے حد فاصلے پر پائی جانے والی گیلیکسیاں (Galxies) ہوں یا نہایت مختصر(سائز کے لحاظ سے)،دکھائی نہ دے سکنے والے ایٹم ہوں،انسان ہوں یا حیوان ہوں،سب کے سب مکمل طورپر ،مختلف النوع وسیلوں سے پیدا ہونے والے متعدد مقناطیسی میدانوں کے ذریعے مقناطیسی سرایت پذیر ہوتے ہیں۔زمین کی مقناطیسیت،انسانی ارتقا سے بھی پہلے سے موجود ہے۔لفظ میگنیٹ (مقناطیسMagnet)،یونان کے ایک جزیرے،جو میگنیٖشیا(Magnesia)کہلاتا ہے،سے اخذ کیا گیا ہے،جہاں مقناطیسی کچ دھات(Magnetic ore)کے ماخذ عرصہ دراز پہلے،600ق۔م۔ میں پائے گئے تھے۔اس جزیرے کے چرواہوں نے شکایت کی کہ کئی مرتبہ ان کے لکڑی کے جوتے،(جن میںلوہے کی کیلیں ٹھکی ہوتی تھیں)، زمین سے چپک جاتے ہیں۔ان کی لوہے کی نوک والی چھڑیں بھی اسی طرح متاثر ہوتی تھیں۔مقناطیسوں کی یہ کشش کرنے کی خاصیت ان کے چلنے پھرنے میں رکاوٹ پیدا کرتی تھی۔

مقناطیسوں کی سمتی خاصیت بھی زمانہ قدیم سے معلوم تھی۔مقناطیس کاایک پتلا لمباٹکڑا،آزادانہ طورپر لٹکائے جانے پر شمال–جنوب سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔اسی طرح کے اثر کا مشاہدہ جب بھی کیا گیا،جب اس مقناطیس کے ٹکڑے کو ایک کارک پر رکھ کر ٹھہرے ہوئے پانی میںتیرایا گیا۔نام،چمبک پتھر [(لوڈاسٹون(Lode Stone or Load Stone)]،ایک قدرتی طورپر پائے جانے والے لوہے کی کچ دھات،میگنیٹائٹ(Magnetite)کو اسی لیے دیاگیا،کیونکہ اس کا مطلب ہے راہ نمائی کرنے والا پتھر (Leading Stone)۔اس خاصیت کے تکنیکی استعمال کا اعزاز عام طورسے چینیوں کو دیا جاتا ہے۔400ق۔م۔زمانے کی چینی کتابوں میں جہازرانی میں مقناطیسی سوئیوں کے استعمال کا ذکر ملتا ہے۔

D1

شکل5.1:رتھ پر لگے ہوئے بت کے بازوہمیشہ جنوب کی طرف اشارہ کرتے تھے۔یہ ایک مصور کا بنایا ہوا،ہزاروں سال قبل کی ایک قدیم ترین مقناطیسی سوئی کا خاکہ ہے۔

ایک چینی روایت میں،تقریباً چار ہزار سال پہلے،شہنشاہ ہوانگ تائی(Huang Tai)کی فتح کا ایک قصہ بیان کیا گیا ہے،جس میں بادشاہ کی کامیابی کے اصل ذمہ داراس کے کاریگر(Craftsman)(جنھیں آپ آج کل کے انجینئر کہہ سکتے ہیں)تھے۔ان کاریگروں نے ایک ایسا رتھ (گاڑیChariot)بنایا جس پر انھوں نے ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے انسانی شکل کے مقناطیسی بت کو رکھ دیا۔شکل5.1میں ایک مصور کا اس گاڑی کا تصور پیش کیا گیا ہے۔گاڑی پر لگا ہوا یہ اسٹیچو (بت)ایک چول چھلے پر اس طرح گھومتا رہتا تھا کہ اس کی انگلی ہمیشہ جنوب کی سمت میں اشارہ کرتی تھی،اور اس طرح ہوانگ تائی کی فوجیں،گہرے کہرے کے باوجود دشمن فوجوں پر پیچھے سے حملہ کرکے فتح حاصل کرسکیں۔

پچھلے باب میں ہم سیکھ چکے ہیں کہ متحرک چارج یا برقی کرنٹ،مقناطیسی میدان پیدا کرتے ہیں۔اس دریافت کا سہرا،جو انیسویںصدی کے اوائل میںکی گئی ،جن افراد کے سر ہے ان میں اور سٹڈ،ایمپیر،بائٹ اور سیورٹ اور دیگر افراد شامل ہیں۔

اس باب میں ہم مقناطیسیت بہ طور ایک انفرادی مضمون پر نظرڈالیں گے۔مقناطیسیت سے متعلق کچھ معروف تصورات ہیں:

(i) زمین ایک مقناطیس کے بہ طوربرتائو کرتی ہے،جس کا مقناطیسی میدان،تقریباًجغرافیائی جنوب سے جغرافیائی شمال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

(ii) جب ایک چھڑمقناطیس آزادانہ طورپر لٹکائی جاتی ہے تو وہ شمال جنوب سمت میں اشارہ کرتی ہے۔وہ سرا جو جغرافیائی شمال کی جانب اشارہ کرتا ہے،مقناطیس کا شمالی قطب(North Pole)کہلاتا ہے اور جو سراجغرافیائی جنوب کی جانب اشارہ کرتا ہے مقناطیس کا جنوبی قطب(South Pole)کہلاتا ہے۔

(iii) جب دومقناطیسوں کے شمالی قطبین(یا جنوبی قطبین)کو ایک دوسرے کے نزدیک لایاجاتا ہے تو ایک دفاعی قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے برخلاف ایک مقناطیس کے شمالی قطب اور دوسرے مقناطیس کے جنوبی قطب کے درمیان کششی قوت ہوتی ہے۔

(iv) ہم ایک مقناطیس کے شمالی یا جنوبی قطب کو علاحدہ نہیں کرسکتے۔اگر ایک چھڑمقناطیس کو دونصف ٹکڑوں میں توڑدیاجائے ،تو ہمیں دو یکساں چھڑمقناطیس ملتے ہیں،جن کی مقناطیسی قوتیں پہلی چھڑ کے مقابلے میں کچھ کمزور ہوتی ہیں۔برقی چارجوں کے برخلاف،تنہامقناطیسی شمالی قطب یاجنوبی قطب جو یک قطب کہلاتے ہیں،نہیں پائے جاتے۔

D-1

شکل5.2:ایک مقناطیسی چھڑکے اردگرد لوہے کے برادے کی ترتیب۔نمونہ مقناطیسی میدانی خطوط کی نقالی کرتا ہے۔نمونہ تجویز کرتا ہے کہ چھڑمقناطیس ایک مقناطیسی دوقطبیہ ہے۔

(v) لوہے اور اس کے بھرتوں(alloys)سے مقناطیس بناسکنا ممکن ہے۔

ہم ایک چھڑمقناطیس اور اس کے ایک باہری مقناطیسی میدان میں برتائو کے بیان سے شروع کرتے ہیں۔ہم مقناطیسیت کا گاس کا قانون بیان کریں گے۔اس کے بعد ہم زمین کے مقناطیسی میدان کاتذکرہ کریں گے۔پھر ہم بیان کریں گے کہ مادی اشیا کو ان کی مقناطیسی خاصیتوں کی بنیاد پر کیسے درجہ بندکیا جاسکتا ہے۔ہم پُر– (Para)، عرض–(ڈایاDia–)اور لوہ–(فیروFerro–)مقناطیسیت بیان کریں گے۔ہم برقی–مقناطیس اور مستقل مقناطیس کے ایک حصہ کے ساتھ یہ باب ختم کریں گے۔

5.2چھڑمقناطیس(THE BAR MAGNET)

مشہور طبیعات داں،البرٹ آئن سٹائن کی سب سے بچپن کی ایک یاد یہ تھی کہ ان کے ایک رشتہ دارنے انھیں ایک مقناطیس،تحفہ کے طورپر،دیا تھا۔آئن سٹائن اس مقناطیس سے مسحور ہوگئے تھے اور اس سے مستقل کھیلتے رہتے تھے۔انھیں حیرت ہوتی تھی کہ ایک مقناطیس،اس سے دوررکھی ہوئی کیلوں اور سوئیوں کو کیسے متاثر کرتا ہے،جب کہ وہ کسی اسپرنگ یا ڈوری سے اس سے بندھی ہوئی نہیں ہیں۔

ایک چھوٹے چھڑ مقناطیس پر رکھی ہوئی ایک شیشے کی چادر پر چھڑکے ہوئے لوہے کے برادے کے مشاہدے سے ہم اپنے مطالعہ کا آغاز کرتے ہیں۔لوہے کے برادے کی ترتیب شکل5.2میں دکھائی گئی ہے۔

لوہے کے برادہ کا نمونہ(ڈیزائن)ظاہرکرتا ہے کہ ایک برقی دوقطبیہ کے مثبت اور منفی چارجوں کی طرح مقناطیس کے بھی دو قطب ہوتے ہیں۔جیسا کہ ہم تعارفی حصہ میں ذکر کرچکے ہیں،ایک قطب کو شمالی قطب اور دوسرے قطب کو جنوبی قطب کہاجاتا ہے۔جب مقناطیس کو آزادانہ طورپر لٹکایاجاتا ہے تو یہ قطب بالترتیب تقریباً جغرافیائی شمال اور جغرافیائی جنوب کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ایک کرنٹ بردار سولی نائڈ کے گرد بھی لوہے کا برادہ کے ایسا ہی نمونہ ملتا ہے۔

5.2.1مقناطیسی میدانی خطوط(The Magnetic Field Lines)

لوہے کے برادہ کا نمونہ (ڈیزائنPattern)،مقناطیسی میدانی خطوط(Magnetic Field Lines)کھینچنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ایک چھڑمقناطیس اور ایک کرنٹ بردارسولی نائڈ کے لیے یہ شکل5.3میں دکھایا گیا ہے۔مقابلہ کے لیے دیکھیے،باب1،شکل1.17 (d)۔ایک برقی دوقطبیہ کے برقی میدانی خطوط بھی شکل5.3(c)میں دکھائے گئے ہیں۔مقناطیسی میدانی خطوط،مقناطیسی میدان کے بصری(visual)اوراختراعی(intutive)مظہر ہیں۔ان کی خاصیتیں ہیں:

(iایک مقناطیس (ایک ایک سولی نائڈ)کے مقناطیسی میدانی خطوط مسلسل بندلوپ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ برقی دوقطبیہ کے برخلاف ہے،جہاں یہ میدانی خطوط ایک مثبت چارج سے شروع ہوتے ہیں اور ایک منفی چارج پر ختم ہوتے ہیںیا لاانتہاتک چلے جاتے ہیں۔

D-2

شکل5.3  (a)ایک چھڑمقناطیس(b)ایک کرنٹ بردار متناہی سولی نائڈ(iii)برقی دوقطبیہ کے میدانی خطوط–زیادہ فاصلوں پر میدانی خطوط بہت ملتے جلتے ہیں۔منحنی،جنھیں(1)اور(2)لیبل کیا گیاہے،بندگاسی سطحیں ہیں۔

(ii ایک دیے ہوئے نقطے پر ایک میدانی خط پر کھینچا گیا مماس،اس نقطے پر کل مقناطیسی میدان کی سمت ظاہر کرتا ہے۔

(iii) فی اکائی رقبہ سے گذرنے والے میدانی خطوط کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی،مقناطیسی میدانD-3کی عددی قدر بھی اتنی زیادہ ہوگی۔شکل5.3 (a)میں علاقے(i)کے مقابلے میں علاقہ (ii)میںD-3زیادہ طاقت ور ہے۔

(iv) مقناطیسی میدانی خطوط ایک دوسرے کو قطع نہیں کرتے،اگر وہ ایسا کریں تو نقطہ تقاطع(Point of Intersrction)پر مقناطیسی میدان کی سمت یکسا(uniqui)نہیںہوگی۔مقناطیسی میدانی خطوط مختلف طریقوں سے ترسیم(Plot)کیے جاسکتے ہیں۔ایک طریقہ یہ ہے کہ ایک چھوٹی مقناطیسی سوئی کو مختلف مقامات پر رکھاجائے اور اس کی تشریق(Orientation)نوٹ کی جائے۔اس سے ہمیں فضا میں مختلف نقاط پر مقناطیسی میدان کی سمت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

5.2.2چھڑمقناطیس بطور ایک معادل سولی نائڈ

پچھلے باب(حصہ4.10)میں ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ ایک کرنٹ لوپ کس طرح ایک مقناطیسی دوقطبیہ کے بطور کام کرتا ہے۔ہم نے ایمپیر کے مفروضے کا بھی ذکر کیاتھا،کہ ،تمام مقناطیسی مظاہر کی وضاحت دورانی کرنٹوں کی شکل میں کی جاسکتی ہے ۔یاد کریں کہ ایک کرنٹ لوپ سے منسلک مقناطیسی دو قطبی معیار حرکت کی تعریف اس طرح کی گئی تھی:D-4،جہاںNلوپ میں چکروں کی تعداد ہے،Iکرنٹ ہے اور رقبہ سمتیہ ہے(مساوات4.30)۔

ایک چھڑمقناطیس کے مقناطیسی میدانی خطوط اور ایک سولی نائڈ کے میدانی خطوط میں مشابہت یہ تجویز کرتی ہے کہ ایک چھڑ مقناطیس کو ایک سولی نائیڈ کے متماثل مانتے ہوئے،دورانی کرنٹوں کی ایک بڑی تعداد سمجھا جا سکتا ہے۔ایک چھڑمقناطیس کو دوبرابر حصوں میں کاٹنا،ایک سولی نائڈ کو کاٹنے جیسا ہی ہے۔ہمیں دومقابلتاً چھوٹے سولی نائڈ ملتے ہیں،جن کی مقناطیسی خاصیتیں مقابلتاً کمزور ہوتی ہیں۔میدانی خطوط اب بھی مسلسل رہتے ہیں،سولی نائڈ کے ایک رخ سے نکلتے ہیں اور دوسرے رخ میں داخل ہوتے ہیں۔ہم اس مماثلت کی جانچ ایک چھوٹی مقناطیسی سوئی کی مدد سے کرسکتے ہیں۔اس سوئی کو اگر ایک چھڑ مقناطیس کے آس پاس اور ایک کرنٹ بردار–متناہی۔سولی نائڈ کے آس پاس گھمایا جائے اور سوئی کے انفراجات نوٹ کیے جائیں،تو دونوں صورتوں میںسوئی کے یہ انفراجات یکساں ہوتے ہیں۔

D-5

شکل(a) 5.4 :ایک متناہی سولی نائڈ اور ایک چھڑمقناطیس میں یکسانیت دکھانے کے لیے،ایک متناہی سولی نائڈ کے محوری میدان کی تحسیب
(b) ہموار مقناطیسی میدان D-3میں ایک مقناطیسی سوئی یہ نظمD-3یا مقناطیسی سوئی کے مقناطیسی معیارِاثر کو معلوم کرنے کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے۔

اس مماثلت کو مزیدمضبوط بنانے کے لیے ہم شکل5.4 (a)میں دکھائے گئے متناہی سولی نائڈ کا محوری میدان تحسیب کرتے ہیں۔ہم دکھائیں گے کہ زیادہ فاصلوں پریہ محوری میدان ایک چھڑ مقناطیس کے میدان جیساہوتا ہے۔

فرض کیجیے کہ شکل5.4 (a)کاسولی نائڈ،nچکر فی اکائی لمبائی پر مشتمل ہے۔اس کی لمبائی2lاورنصف قطرrہے۔ہم ایک نقطہPپر محوری میدان تحسیب کرسکتے ہیں،جو کہ سولی نائڈ کے مرکزOسے فاصلہ rپر ہے۔اس تحسیب کے لیے،موٹائی dxکا سولی نائڈ کا ایک دائری جزلیجیے جو اس کے مرکز سے xفاصلے پر ہے۔یہ ndxچکروں پر مشتمل ہے۔فرض کیجیے کہ سولی نائڈ میں کرنٹIہے۔پچھلے باب کے حصہ4.6میں ہم نے دائری کرنٹ لوپ کے محور پر مقناطیسی میدان تحسیب کیاتھا۔مساوات(4.13)سے،دائری جز کی وجہ سے نقطہPپر میدان کی عددی قدر ہے:

کل میدان کی عددی قدر تمام جزوں پر جمع کرکے حاصل ہوگی–دوسرے لفظوں میںx = – l سے x = + l تک تکملہ کرکے۔اس لیے

D-6

یہ تکملہ،ٹرگنو میٹر یائی بدل کے ذریعے،کیاجاسکتا ہے۔لیکن ہمارے لیے یہ مشق ضروری نہیں ہے۔نوٹ کریں کہ xکی سعت–lسے+lتک ہے۔سولی نائڈ کا بہت دورمحوری میدان لیجیے،یعنی کہ:r >> aاورr >> l،اب نسب نما کو نزدیکی طورپر لکھا جاسکتا ہے

D-8

یہ ایک چھڑمقناطیس کا،بہت فاصلے پر،محوری میدان بھی ہے،جو تجربے کے ذریعے حاصل کیاجاسکتا ہے۔اس لیے ایک چھڑ مقناطیس اورگر ایک سولی نائڈ یکساں مقناطیسی میدان پیدا کرتے ہیں۔اس لیے ایک چھڑ مقناطیس کا مقناطیسی معیارِاثر اس معادل سولی نائڈ کے مقناطیسی معیار اثر کے مساوی ہے جو یکساں مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے۔

کچھ درسی کتابوں میں شمالی قطب کو ایک مقناطیسی چارج(جسے قطبی طاقت(Pole Strength)بھی کہاجاتا ہے)اور جنوبی قطب کو ایک مقناطیسی چارجD-9اورمقناطیسی معیارِاثرکوD-10تفویض کیا جا تا ہے۔اس سےrفاصلے پر،کی وجہ سے میدان طاقتD-11سے دی جاتی ہے۔پھر ایک چھڑمقناطیس کی وجہ سے پیدا ہونے والا برقی میدان،محوری اور استوائی(equatiorial)دونوںصورتوںمیں،ایک برقی دوقطبیہ کے مماثل طریقے سے،تحسیب کرلیاجاتا ہے۔(باب1)۔یہ طریقہ آسان اور موثر ہے۔لیکن مقناطیسی یک قطبین(Magnetic monopoles)نہیںپائے جاتے،اس لیے ہم نے یہ طریقہ استعمال نہیں کیاہے۔

5.2.3ایک ہموار مقناطیسی میدان میں دوقطبیہ

 (The dipole in a uniform magnetic field)

لوہے کے برادے کا نمونہ،یعنی کہ،مقناطیسی میدانی خطوط ہمیں مقناطیسی میدانbکاایک نزدیکی تصور دیتے ہیں۔اکثرہمیںbکی عددی قدر درستی صحت کے ساتھ معلوم کرنا ہوتی ہے۔ایسا کرنے کے لیے،ہم ایک معلوم مقناطیسی معیارِاثرmاور جمود گردشہIکی ایک چھوٹی مقناطیسی سوئی کو اس مقناطیسی میدان میں رکھتے ہیں اور مقناطیسی میدان میں احترازات کرنے دیتے ہیں۔یہ نظم شکل4.5 (b)میں دکھایاگیا ہے۔

سوئی پر لگ رہا قوت گردشہ ہے[دیکھیے مساوات(4.29)]

D-12

عددی قدر میں

D-13

یہاںD-14 ،بحالی قوت گردشہ(restoring torque)ہے D-15کے درمیان زاویہ ہے۔

اس لیے،حالت توازن میں

D-17کے ساتھ منفی علامت کا مطلب ہے کہ بحالی قوت گردشہ،انفراجی قوت گردشہ کے مخالف ہے۔ریڈین میںD-16کی چھوٹی قدروں کے لیےD-18،اور ہمیںحاصل ہوتا ہے:

D-19

یہ ایک سادہ ہارمونی حرکت(Simple harmonic motion)ظاہرکرتا ہے۔زاویائی تعدد کا مربع ہے:D-20اور دوری وقت ہے

D-21

برق–سکونی وضعی توانائی حاصل کرنے کے طریقے کو استعمال کرتے ہوئے مقناطیسی مضمر توانائی کی ریاضیاتی عبارت بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

مقناطیسی وضعی توانائی(Magnetic potential energy)D-22دی جاتی ہے:

D-23

ہم نے باب(2)میں اس بات پر زور دیاتھا کہ وضعی توانائی کا صفر ہم اپنی سہولت کے لحاظ سے متعین کرسکتے ہیں۔تکملہ مستقلہ(Constant of integration)کو صفر منتخب کرنے کا مطلب ہے کہ ہم وضعی توانائی کا صفرD-24پر متعین کررہے ہیں،یعنی کہ جب مقناطیسی سوئی میدان پر عمود ہے۔مساوات(5.6)سے ظاہرہوتا ہے کہ وضعی توانائی،D-25پرکم ترین(اقل ترینminimum)(= –mB)ہے(جوکہ سب سے زیادہ مستحکم مقام ہے) اورD-26(سب سے زیادہ غیر مستحکم مقام)پر اس کی قدرازحد(اعظم Maximum)ہے(= +mB)۔



مثال5.1:شکل5.4 (b)میں دکھائی گئی مقناطیسی سوئی کا مقناطیسی معیارِاثراگر   D-27ہو اور جمود گردشہ:D-28ہو اوروہ6.70sمیں 10مکمل احترازات کرتی ہو تو مقناطیسی میدان کی عددی قدرکیا ہے؟

حل:احتراز کا دوری وقت ہے:

T = 6.70 /10 = 0.67 s

مساوات (5.5) سے:

B = 4 π2 I /  mT2

11

مثال5.2:ایک چھوٹے چھڑ مقناطیس کو جب800 Gکے ایک باہری مقناطیسی میدان میں اس طرح رکھا جاتا ہے کہ اس کا محور اس باہری میدان سے30ºکا زاویہ بناتا ہے،تو چھڑمقناطیس پر0.016 Nmکا قوت گردشہ لگتا ہے۔(a)اس چھڑمقناطیس کا مقناطیسی معیارِاثرکیا ہے؟(b)اس چھڑمقناطیس کو اس کے ازحدمستحکم مقام(most stable position)سے ازحد غیرمستحکم مقام(most unstable position)تک لے جانے میں کتناکام کیاجائے گا؟(c)چھڑمقناطیس کو ایک سولی نائڈ سے بدل دیاجاتاہے،جس کا تراشی رقبہD-30ہے اورجس میں چکروں کی تعداد 1000ہے،لیکن اس کامقناطیسی معیارِاثر یکساں ہے۔سولی نائڈ میں بہنے والا کرنٹ معلوم کیجیے۔

حل:

(a) مساوات(5.3)سے:

D-32

D-33


مثال5.3

(a) کیاہوگا اگر ایک چھڑ مقناطیس کو دوحصوں میں کاٹ دیاجائے (i)اس کی لمبائی پر عرضی طرز میں(ii)اس کی لمبائی کی سمت میں۔

(b) ایک مقناطیس بنائی گئی سوئی پر،ایک ہموار مقناطیسی میدان میں ایک قوت گردشہ لگتا ہے،لیکن کوئی کل قوت نہیں لگتی۔لیکن ایک لوہے کی کیٖل کو اگر ایک چھڑمقناطیس کے نزدیک رکھاجائے تو وہ قوت گردشہ کے ساتھ ساتھ ایک قوت کشش بھی محسوس کرتی ہے۔کیوں؟

(c) کیا ہر مقناطیسی تشکیل میں ایک شمالی قطب اور ایک جنوبی قطب ہونا لازمی ہے؟ایک ٹورائڈ کے ذریعے پیدا ہوئے میدان کے بارے میں آپ کیا کہیںگے؟

(d) دوبظاہر متماثل نظرآنے والے چھڑ AاورBہیں،جس میں سے ایک یقینی طورپر مقنایا ہوا (Magnetised) ہے ۔ (ہمیںیہ نہیںمعلوم کون سا)ہم کیسے یہ معلوم کریں گے کہ دونوں مقنائے ہوئے ہیں یانہیں؟اگر صرف ایک ہی مقنایاہوا ہے تو ہم کیسے پتہ کریں گے کہ وہ کون سا ہے۔[کوئی اور چیز نہیں،صرف چھڑیںAاورBاستعمال کرنی ہیں)۔

حل:

(a) دونوںصورتوںمیں،ہمیں دومقناطیس حاصل ہوتے ہیں،جن میں سے ہر ایک میں ایک شمالی قطب اور ایک جنوبی قطب ہوتاہے۔

(b) اگر میدان ہموار ہے تو کوئی قوت نہیں لگے گی۔لوہے کی کیل پر چھڑ مقناطیس کی وجہ سے ایک غیر ہموار میدان پیدا ہوتا ہے۔کیل میں ایک امالہ کیا ہوا(induced)مقناطیسی معیارِاثر ہوتا ہے۔اس لیے ا س پر قوت اور قوت گردشہ دونوں لگتے ہیں۔کل قوت کششی ہے کیونکہ کیل میں امالہ شدہ جنوبی قطب(فرض کیا)مقناطیس کے شمالی قطب سے،امالہ شدہ شمالی قطب کے مقابلے میں،زیادہ نزدیک ہے۔

(c) ضروری نہیں ہے۔ییہ تب ہی درست ہوسکتا ہے،جب میدان کے وسیلہ(source)کا ایک غیر صفر مقناطیسی میعارِاثر ہو۔یہ ٹورائڈ میں نہیں ہوتا اور ایک مستقیم لامتناہی موصل میں بھی نہیںہوتا۔

(d) چھڑوں کے مختلف سروں کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے کی کوشش کریں۔اگر کچھ صورتوںمیں ایک دفاعی قوت محسوس ہو تو ثابت ہوجاتا ہے کہ دونوں مقنائے ہوئے ہیں۔اگر قوت ہمیشہ کششی رہتی ہے،تو ان میں سے ایک ہی مقنایاہوا ہے۔ایک چھڑمقناطیس میںمقناطیسی میدان کی شدت(Intensity) دونوں کناروں [سروں،(قطبین)Poles]پر سب سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔اوردرمیان میں سب سے زیادہ کمزور ہوتی ہے۔اس حقیقت کو استعمال کرکے ہم پتہ کرسکتے ہیں کہAمقناطیس ہے یا Bمقناطیس ہے۔اس صورت میں یہ دیکھنے(پتہ کرنے)کے لیے کہ دونوں چھڑوں میں سے مقناطیس کون سا ہے،کوئی ایک چھڑاٹھائیے (فرض کیاA)اور اس کا ایک کنارہ(سرا)نیچے لٹکائیے:پہلے دوسری چھڑ (فرض کیاB)کے ایک سرے پر اور پھرBکے درمیان میں۔اب اگر آپ دیکھتے کہ Bکے درمیان میںAپر کوئی قوت نہیں لگتی تو Bمقنایاہوا ہے۔اور اگر آپ کو Bکے سرے سے Bکے درمیان تک کوئی فرق محسو نہیںہوتاتوAمقنایاہوا ہے۔

 5.2.4   برق–سکونی مشابہہ(The electrostatic analog)

مساوات(5.2)،(5.3)اور(5.6)کا ان کی متطابق،برقی دو قطبیہ(باب1)کی مساواتوںسے مقابلہ تجویزکرتا ہے کہ ایکmمقناطیسی معیارِاثر کے چھڑمقناطیس کی وجہ سے،زیادہ فاصلوں پر،پید اہونے والا مقناطیسی میدان،دوقطبی معیارِاثرpکے ایک برقی دو قطبیہ کی برقی میدان کی مساوات سے،مندرجہ ذیل آپسی بدل کے ذریعے حاصل کیاجاسکتا ہے:

D-34

خاص طورپر،ہم ایک چھڑمقناطیس کا ،فاصلہrپر،D-35کے لیے،(جہاںl،مقناطیس کا سائز ہے)،استوائی میدان (equatorial field) لکھ سکتے ہیں:

D-36

اسی طرح،ایک چھڑمقناطیس کا محوری میدانD-37کے لیے،ہے:

D-38

مساوات(5.8)،مساوات(5.2)کی سمتیہ شکل ہی ہے۔جدول(5.1)میں برقی اورمقناطیسی دوقطبیوں کے درمیان مشابہت کا خلاصہ پیش کیا گیاہے۔

جدول 5.1  دو قطبیہ مشابہہ

مقناطیسیت برق  سکونیات
2
1
دو قطبی معیار اثر
ایک مختصر دو قطبیے کے لیے استوائی میدان
ایک مختصر دو قطبیے کے لیےمحوری میدان
ایک مختصر دو قطبیے کے لیےمحوری میدان
باہری میدان :قوت گردشتہ
باہری میدان : تونائی


مثال5.4 ایک5.0cmلمبائی کے چھڑمقناطیس کی وجہ سے اس کے اوسطی نقطے سے 50cmکے فاصلے ہر ہونے والے استوائی اورمحوری میدانوں کی عددی قدریں کیاہوںگی؟چھڑمقناطیس کا معیارِ اثرD-40،وہی جو حل:مساوات5.7سےD-41

D-42


مثال5.5:شکل5.5میں ایک چھوٹی مقنائی ہوئی سوئیPدکھائی گئی ہے،جو نقطہOپر رکھی ہے۔تیر کا نشان،اس کے مقناطیسی معیارِاثرکی سمت ظاہر کرتا ہے۔دوسرے تیروں کے نشان،ایک دوسری متماثل مقنائی ہوئی سوئیQکے مختلف مقامات(اور مقناطیسی معیارِاثر کی تشریق)دکھاتے ہیں۔

(a)کس تشکیل میں نظام،توازن میں نہیں ہے؟

(b)کس تشکیل میںنظام ہے(i)مستحکم توازن میں(ii)غیر مستحکم توازن میں

(c)  دکھائی گئی تشکیلوں میں سے کون سی تشکیل اقل ترین وضعی توانائی سے مطابقت رکھتی ہے؟

D-43

حل:

تشکیل کی وضعی توانائی،ایک دو قطبیہ(فرض کیاP)کی وجہ سے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان میں دوسرے دو قطبیہ (Q)کی وضعی توانائی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے،وہ نتائج استعمال کیجیے کہPکی وجہ سے پیدا ہونے والامیدان،ریاضیاتی عبارتوں[مساوات(5.7)اور مساوات(5.8)سے دیاجاتا ہے:

D-44

جہاںD-51،دو قطبیہ Pکا مقناطیسی معیارِاثر ہے۔

توازن اس وقت مستحکم ہوگا جب D-45کے متوازی ہے اور غیر مستحکم ہوگاجب یہD-46کے مخالف متوازی ہوگا۔مثلاً،تشکیلD-47دوقطبیہ Pکے عمودی ناصف پر ہے،D-48کا مقناطیسی معیارِاثر مقام3پرمقناطیسی میدان کے متوازی ہے۔اس لیےD-49مستحکم ہے۔

لہٰذا:

D-50

5.3مقناطیسیت اور گاس کا قانون(Magnetism and Gauss’s Law)

باب1میں،ہم نے برق سکونیات کے لیے گاس کے قانون کا مطالعہ کیا تھا۔شکل5.3 (c)میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ(i)کے ذریعے ظاہر کی گئی ایک بند سطح کے لیے،سطح سے باہر نکلنے والے خطوط کی تعداد،سطح میں داخل ہونے والے خطوط کی تعداد کے مساوی ہے۔یہ اس حقیقت سے سازگار ہے کہ سطح کے ذریعے کوئی کل چارج نہیںگھیرا گیا ہے۔لیکن،اسی شکل میں،بند سطح(ii)کے لیے ایک کل باہری فلکس ہے کیونکہ اس میں ایک کل(مثبت)چارج شامل ہے۔

مقناطیسی میدان کے لیے صورت بہت زیادہ مختلف ہے،کیونکہ یہ مسلسل ہوتے ہیں اور بند لوپ تشکیل دیتے ہیں۔(i)یا(ii)کے ذریعے شکل5.3 (a)یا5.3 (b)میں ظاہر کی گئی گاسی سطحوں کو دیکھیے۔دونوں صورتوں میں یہ بخوبی دیکھاجاسکتا ہے کہ سطح سے باہر نکلتے ہوئے مقناطیسی میدانی خطوط کی تعداد،اس میں داخل ہونے والے خطوط کی تعدادسے متوازن ہوجاتی ہے۔دونوںسطحوں کے لیے کل مقناطیسی فلکس صفر ہے۔

D-52


D-53

کارل فریڈرک گاس(1777–1855)

بچپن سے ہی غیر معمولی ذہین تھے اور کئی علوم میں خاص طورسے خداداد صلاحیت کے مالک تھے۔ جیسے: ریاضی،طبیعات ،انجینئرنگ، علم فلکیات اور سروے کے علم میں بھی۔انھیں اعداد کی خاصیتیں متحیر کرتی تھیں اور اپنے کام میں بعد میں ہونے والی ریاضی کی ترقی کا اندازہ لگالیا تھا۔ولہیم ویلسر کے ساتھ مل کر انھوں نے 1833 میں پہلا برقی ٹیلی گراف بنایا۔ان کے انحنائی سطوں کے نظریے نے بعد میں ریمن کے ذریعے کیے گئے کام کے لیے بنیاد فراہم کی۔

ایک بند سطح Sکا ایک مختصر سمتیہ رقبہ جزD-54لیجیے،جیسا کہ شکل5.6میں دکھایاگیا ہے۔D-54سے گذرتے ہوئے مقناطیسی فلکس کی تعریف کی جاتی ہے۔D-55پر میدان ہے۔ہمSکو بہت سارے مختصر جزوں میں تقسیم کرتے ہیں اور ہر جز میں سے گذررہے انفرادی فلکس کی تحسیب کرتے ہیں۔تب کل فلکسD-56ہے:

D-57

جہاں‘all’کا مطلب ہے تمام’’رقبہ اجزاDS‘‘۔اس کا مقابلہ برق سکونیات کے لیے گاس کے قانون سے کیجیے۔اس صورت میں ایک بند سطح سے گذرنے والا فلکس دیاجاتا ہے:

D-58

جہاںq،سطح سے گھرا ہوا چارج ہے۔

گاس کے مقناطیسیت کے قانون اور برق–سکونیات کے قانون میں پایا جانے والا فرق،اس حقیقت کا عکس ہے کہ جدا کیے ہوئے مقناطیسی قطبین(جو یک قطبین بھی کہلاتے ہیں)نہیں پائے گئے ہیں۔bکے کوئی وسیلے(ماخذsources)یا سنک (sink)نہیں ہیں،سادہ ترین مقناطیسی جز ایک دو قطبیہ یا ایک کرنٹ لوپ ہے۔تمام مقناطیسی مظاہر کی وضاحت دو قطبیوں یا/اورکرنٹ لوپوں کے نظم کی شکل میںکی جاسکتی ہے۔اس لیے،مقناطیسیت کے لیے،گاس کا قانون ہے:

کسی بھی بند سطح سے گذرنے والاکل مقناطیسی فلکس صفر ہے۔

مثال5.6:شکل5.7میں دکھائی گئی کئی ڈائیگراموں میں مقناطیسی میدانی خطوط غلط طور پر دکھائے گئے ہیں(شکل میں موٹے خطوط سے ظاہر کیے گئے ہیں)۔نشاندہی کیجیے کہ ان میں کیا غلطی ہے۔ان میں سے کچھ برق–سکونی میدانی خطوط کو درست طورپر بیان کرسکتی ہیں۔ان ڈائیگراموں کی نشاندہی کیجیے۔

D-59

D-60

حل:

(a) غلط،مقناطیسی میدانی خطوط کبھی بھی ایک نقطے سے نہیں نکل سکتے ہیں،جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔کسی بھی بند سطح پر،bکا کل فلکس صفر ہونا لازمی ہے،یعنی کہ،ڈائیگرام میں سطح میں اتنے ہی میدانی خطوط داخل ہوتے ہوئے دکھائے جانے چاہئیں،جتنے باہر نکلتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔دکھائے گئے میدانی خطوط،دراصل ایک لمبے مثبت چارج شدہ تار کے برقی میدان کو ظاہر کرتے ہیں۔درست مقناطیسی میدانی خطوط مستقیم موصل کے گرددائرہ بنانتے ہیں،جیسا کہ باب4میں بیان کیا گیا ہے۔

(b) غلط–مقناطیسی میدانی خطوط(برقی میدانی خطوط کی طرح ہی کبھی ایک دوسرے کو قطع نہیں کرسکتے،کیونکہ اگر ایساہوتو نقطہ تقاطع پر میدان کی سمت غیر واضح ہوگی۔اس ڈائیگرام میں ایک اور غلطی ہے۔مقناطیس–سکوتی میدانی خطوط کبھی خالی فضا کے گرد بند لوپ نہیںبناسکتے۔ایک مقناطیس–سکونی میدانی خطوط کے بند لوپ سے ایک ایسا علاقہ گھرا ہونا لازمی ہے،جس میں سے کرنٹ گذررہا ہو۔اس کے برخلاف،برق–سکونی میدانی خطوط کبھی بند لوپ نہیں تشکیل دے سکتے،نہ ہی خالی فضا میں اور نہ ہی جب لوپ سے ایک چارج گھر اہو۔

(c) درست۔مقناطیسی خطوط ایک ٹورائڈ کے اندر مکمل طورپر محدود ہوتے ہیں۔یہاں میدانی خطوط اگر بند لوپ بنارہے ہیں تو کچھ غلط نہیں ہے کیونکہ ہر لوپ سے ایک ایسا علاقہ گھرا ہوا ہے جس میں سے کرنٹ گذررہا ہے۔نوٹ کریں کہ شکل کو واضح کرنے کے لیے،ٹورائڈکے اندر چند میدانی خطوط ہی دکھائے گئے ہیں۔اصل میں لپیٹوں سے گھر ے ہوئے پورے علاقے میں مقناطیسی میدان ہوتا ہے۔

(d) غلط۔ایک سولی نائڈ کی وجہ سے پیدا ہونے والے میدان کے میدانی خطوط،اس کے کناروں پر اور اس سے باہر اتنے مکمل طورپر سیدھے(مستقیم خط)نہیںہوسکتے اور نہ ہی محدود ہوسکتے ہیں۔یہ بات ایمپیرکے قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے۔خطوط کو دونوں کناروں(سروں)پر باہر کی طرف مڑنا(انحنائی ہونا)چاہیے اور آخر کار اس طرح ملنا چاہیے کہ بند لوپ تشکیل ہوسکیں۔

(e) درست–یہ میدانی خطوط،ایک چھڑمقناطیس کے باہر اور اس کے اندر کے ہیں۔مقناطیس کے اندر میدانی خطوط کی سمت بغور نوٹ کریں۔تمام مقناطیسی خطوط ایک شمالی قطب سے ہی نہیں نکل رہے ہیں(اور نہ ایک ہی جنوبی قطب پر مرکوز(Converge)ہورہے ہیں)۔–Nقطب اور–Sقطب دونوں کے گرد،میدان کا کل فلکس صفر ہے۔

(f) غلط–زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ میدانی خطوط اوریک مقناطیسی میدان کو نہیںظاہر کرتے۔اوپری علاقہ دیکھیں تمام میدانی خطوط،سیاہ کی ہوئی چادر سے نکلتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔اس لیے سیاہ کی ہوئی چادر کو گھیرنے والی سطح سے گذرنے والا کل فلکس صفر نہیں ہے۔یہ ایک مقناطیسی میدان کے لیے ناممکن ہے۔دراصل،دکھائے گئے میدانی خطوط،ایک مثبت چارج شدہ اوپری چادر اور ایک منفی چارج شدہ نچلی چادر کے برق سکونی میدان کے خطوط ہیں۔شکل5.7 (e)اور شکل5.7 (f)کے فرق کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔

(g) غلط–دو قطبی ٹکڑوں کے درمیان مقناطیسی میدانی خطوط،سروں پر اتنے درست طورپر مستقیم (سیدھے)نہیں ہوسکتے۔ خطوط کا کچھ جھالر کی شکل میں لٹکنا(fringing)لازمی ہے۔ورنہ،ایمپیرکے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔یہ برقی میدانی خطوط کے لیے بھی درست ہے۔

 مثال5.7

(a)  مقناطیسی میدانی خطوط وہ سمت دکھاتے ہیں(ہر نقطے پر)،جس میں ایک چھوٹی مقنائی ہوئی سوئی اپنے آپ کو تشریق دیتی ہے(اس نقطے پر)۔کیا مقناطیسی میدانی خطوط ایک متحرک چارج شدہ ذرہ پر،ہر نقطہ پر،خطوطِ قوت بھی ظاہر کرتے ہیں؟

(b)   مقناطیسی میدانی خطوط کو مکمل طورپر ایک ٹورائڈ کے قالب کے اندر محدود کیاجاسکتا ہے،لیکن ایک مستقیم سولی نائڈ کے اندر نہیں–کیوں؟

(c)   اگر مقناطیسی یک قطبین موجود ہوتے ،تو مقناطیسیت کے گاس کے قانون میں کیا ترمیم کی جاتی؟

(d)   کیا ایک چھڑ مقناطیس خود اپنے میدان کی وجہ سے،خود پر ایک قوت گردشہ لگاتا ہے؟کیا ایک کرنٹ بردار تار کا ایک جز اسی تار کے دوسرے جزپر قوت لگاتا ہے؟

(e)   مقناطیسی میدان،متحرک چارجوں کی و جہ سے پیدا ہوتا ہے۔کیا ایک نظام کا مقناطیسی معیارِاثر ہوسکتا ہے،جب کہ اس کا کل چارج صفر ہو؟

حل:

(a)   نہیں–مقناطیسی قوت ہمیشہbپر عمودی ہوتی ہے۔[یادکریں:D-61مقناطیسی قوت]۔اس لیے مقناطیسی میدانی خطوط کو خطوط قوت کہنا درست نہیںہے۔

(b)   اگر میدانی خطوط ایک مستقیم سولی نائڈ کے دونوں کناروں کے درمیان مکمل طورپر محدود ہوں تو ہر کنارے پر ایک تراشی رقبے سے گذرنے والا فلکس غیر صفر ہوگا۔لیکنbمیدان کا‘کسی بھی بند سطح سے گذرنے والا،فلکس ہمیشہ صفر ہونا چاہیے۔ایک ٹورائڈ میں یہ دشواری اس لیے نہیں ہوتی،کیونکہ اس کا کوئی سرا(کنارہ)نہیں ہوتا۔

(c)   مقناطیسیت کے گاس کے قانون کا بیان ہے کہ کسی بھی بند سطح سے گذرنے والا ،bکا فلکس ہمیشہ صفر ہوتا ہے:D-62

      اگر یک قطبین موجود ہوتے ،تو دائیں سمت ،Sسے گھرے ہوئے یک قطب(مقناطیسی چارج)qmکے مساوی ہوتی۔[برق–سکونیت کے گاس کے قانون کے مشابہ،D-64سے گھرا ہوا(یک قطب)مقناطیسی چارج ہے]

(d)   نہیں–خود جز سے پیدا ہوئے میدان کی وجہ سے جز پر کوئی قوت یا قوت گردشہ نہیںلگتا۔لیکن ایک جز کی وجہ سے اسی تار کے دوسرے جز پر ایک قوت(یاقوت گردشہ)لگتی ہے۔[ایک مستقیم تار کی خصوصی صورت میں یہ قوت صفر ہے)۔

(e)   ہاں،ایک نظام میں اوسط چارج صفرہوسکتا ہے۔لیکن مختلف کرنٹ لوپوں کی وجہ سے پید اہونے والے مقناطیسی معیارِاثر کا اوسط پھر بھی ہوسکتا ہے صفر نہ ہو۔پارا مقناطیسی مادوں کے سلسلے میں ایسی مثالیں ہمارے سامنے آئیں گی جہاں ایٹموں کاکل دوقطبی معیارِاثرہوتا ہے،جب کہ ان کا کل چارج صفر ہوتا ہے۔

5.4زمین کی مقناطیسیت (THE EARTH'S MAGNETISM) 

ہم نے پہلے زمین کے مقناطیسی میدان کا ذکرکیاتھا۔زمین کے مقناطیسی میدان کی طاقت،سطح زمین پر ایک مقام سے دوسرے مقام پر تبدیل ہوتی رہتی ہے،اس کی قدرD-65کے درجے کی ہوتی ہے۔

زمین کے مقناطیسی میدان کے ہونے کی وجہ واضح نہیں ہے۔شروع میں یہ سمجھا جاتاتھا کہ زمین کا مقناطیسی میدان ایک بہت بڑے چھڑ مقناطیس کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو زمین کی گردش کے محور پر(تقریباً)،زمین میںبہت گہرائی پر رکھا ہوا ہے۔لیکن یہ سادہ تصویر ،ظاہر ہے کہ درست نہیں ہے۔اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مقناطیسی میدان ان برقی کرنٹوںکی و جہ سے پید اہوتا ہے جوزمین کے باہری قالب،دھاتی سیال(metallic fusid)[جو زیادہ تر پگھلے ہوئے لوہے اور نکل پر مشتمل ہوتا ہے]کی حملی اور(convective current)سے بنتے ہیں۔یہ ڈائی نمو اثر(Dynamo effect) کہلاتا ہے۔

زمین کے مقناطیسی میدانی خطوط،زمین کے مرکز پر رکھے ہوئے(فرضیhypothetical)مقناطیسی دوقطبیہ کے میدانی خطوط سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔اس دو قطبیہ کا محور،زمین کی گردش کے محور پر منطبق نہیں ہے بلکہ اس محور سے تقریباً11.3ºکے زاویہ پر جھکا ہوا ہے۔اگر ہم اس طرح سے زمین کی مقناطیسیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیںکہ مقناطیسی قطبین ان مقامات پر ہیں جہاں دو قطبیہ کے مقناطیسی میدانی خطوط زمین میں داخل ہوتے ہیں یا زمین سے باہر نکلتے ہیں۔ شمالی مقناطیسی قطب کا مقام،79.74º Nعرض البلد اور 71.8º Wطول البلد ہے،جو شمالی کناڈا میں ایک جگہ ہے۔مقناطیسی جنوبی قطب،79.74º Sاور108.22ºE،انٹارکٹیکا میں ہے۔

زمین کے جغرافیائی شمالی قطب کے نزدیک والا قطب،شمالی مقناطیسی قطب کہلاتا ہے۔اور اسی طرح جغرافیائی جنوبی قطب کے نزدیک والا قطب،جنوبی مقناطیس قطب کہلاتا ہے۔قطبین کے اس تسمیہ(nomen clature)میںکچھ مغالطہ ہوسکتا ہے۔اگر ہم زمین کے مقناطیسی میدانی خطوط دیکھیں(شکل5.8)،تو ایک چھڑ مقناطیسی کے میدانی خطوط کے برخلاف،یہاں،میدانی خطوط،شمالی مقناطیسی قطبD-66پرزمین میں جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،جب کہ جنوبی مقناطیسی قطبD-67سے باہر نکلتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔یہ قرارداد اس لیے منظور کی گئی کیونکہ مقناطیسی شمال اس سمت کو مانا گیا ،جس جانب ایک مقناطیسی سوئی کا شمالی قطب نشاندہی کرتاتھا،اور ایک مقناطیس کے شمالی قطب کو یہ نام اس لیے دیاگیا کیونکہ یہ وہ قطب تھا جو شمال کی طرف جانا چاہتا تھا۔اس لیے،دراصل،ایک شمالی مقناطیسی قطب اس طرح برتائو کرتا ہے۔جیسے کہ ایک زمین کے اندررکھے ہوئے چھڑ مقناطیس کا جنوبی قطب ہو،اور اس کے برخلاف بھی۔

D-68

شکل5.8زمین بطورایک ضخیم مقناطیسی دوقطبیہ


مثال5.8:خط استواپر زمین کا مقناطیسی میدان،تقریباً،0.49Gہے۔زمین کے دوقطبی معیارِاثرکاتخمینہ لگائیے۔

حل:مساوات(5.7)سے،استوائی مقناطیسی میدان ہے:

D-69


5.4.1مقناطیسی عدول اور میلان(Magnetic declination and dip)

سطح زمین پر ایک نقطہ لیجیے۔ایک ایسے نقطے پر،طول البلد(longitude)دائرہ کی سمت جغرافیائی شمال–جنوب سمت کا تعین کرتی ہے،شمالی قطب کی جانب،طول البلد کا خط،اصل شمال کی سمت ہے۔طول البلد دائرہ اور زمین کے گردشی محور دونوں جس راسی مستوی میں ہوتے ہیں وہ جغرافیائی میریڈین(نصف النہارMeridian)کہلاتاہے۔اسی طرح ہم ایک مقام کے مقناطیسی میریڈین کی تعریف کرسکتے ہیں:مقناطیسی میریڈین وہ راسی مستوی ہے جو مقناطیسی شمال اورمقناطیسی جنوب کو ملانے والے خیالی(فرضی)خط سے گذرتا ہے۔یہ مستوی،زمین کی سطح کو ایک طول البلدجیسے دائرہ میں قطع کرے گا۔ایسی مقناطیسی سوئی جو افقی طورپر احترازات کرنے کے لیے آزاد ہو،ایک مقناطیسی میریڈین میں ہوگی اور مقناطیسی سوئی کا شمالی قطب،مقناطیسی شمالی قطب کی جانب نشاندہی کرے گا۔کیونکہ مقناطیسی قطبین کو آپس میںملانے والا خط زمین کے جغرافیائی محورکی مناسبت سے جھکاہوا ہوتا ہے،اس لیے ایک نقطہ پر،مقناطیسی میریڈین،جغرافیائی میریڈین سے ایک زاویہ بناتا ہے۔یہ،پھر،اصل جغرافیائی شمال اور ایک قطب نماسوئی(Compass nedle)کے ذریعے ظاہر کیے گئے شمال کے درمیان زاویہ ہے۔یہ زاویہ مقناطیسی عدول(Magnetic Declination)یا صرف عدول(Declination)کہلاتاہے(شکل5.9)۔زیادہ عرض البلد(Latitude)پر عدول زیادہ ہوتا ہے اور خط استوا کے قریب مقابلتاً کم ہوتا ہے۔ہندوستان میں عدول کی قدر کم ہے،یہ دہلی پرD-71ہے۔اس لیے،ان دونوں مقامات پر مقناطیسی سوئی،اصل شمال کی نشاندہی خاصی درستگی صحت کے ساتھ کرتی ہے۔

D-70

شکل5.9:افقی مستوی میں آزادنہ حرکت کرسکنے والی ایک مقناطیسی سوئی،مقناطیسی شمال–جنوب کی سمت میںاشارہ کرتی ہے۔


6
شکل  5.11 زمین کا مقناطیسی میدان 3 اس کا افقی جز 4 اور اسی جز 5  ۔عدل  اور جھکاؤ یا زاویۂ میلان بھی دکھائے گئے ہیں

D-72
شکل 5.10 یہ دائرہ زمین سے گزرتا ہوا وہ قطبہ (تراشہ) ہے،جس میں مقناطیسی میریڈین ہے۔ 3 اور افقی جز 4 کے درمیان زاویہ، زاویہ میلان ہے۔ اصل شمال

ہماری دلچسپی کی ایک مقداراورہے۔اگر ایک مقناطیسی سوئی ایک افقی محور کے گرد مثالی توازن (Perfect Balance)میںہو،اور اس لیے مقناطیسی عدول کے ایک مستوی میں احتراز کرسکتی ہو،تو یہ سوئی افقی خط(horizontal)کے ساتھ ایک زاویہ بنائے گی(شکل5.10)—اسے زاویہ میلان (angle of dip)[اسے جھکاؤ(Inclination)بھی کہتے ہیں] کہتے ہیں۔اس لیے میلان،وہ زاویہ ہے جو زمین کا کل مقناطیسی میدانD-74،سطح زمین کے ساتھ بناتا ہے۔شکل5.11میں سطح زمین کے ایک نقطہPپر مقناطیسی میریڈین مستوی دکھایاگیا ہے۔یہ مستوی زمین سے گذررہا ایک قطعہ(تراشہSection)ہے۔Pپر کل مقناطیسی میدانی کو ایک +6 جزاور ایک راسی جزD-75میں تحلیل کیاجاسکتا ہے۔D-74جوزاویہD-75کے ساتھ بناتا ہے،وہی زاویۂ میلان،I،ہے۔

شمالی نصف کرہ کے زیادہ تر حصے میں،میلان سوئی کاشمالی قطب نیچے کی جانب جھکاہوتا ہے اور اسی طرح جنوبی نصف کرہ کے زیادہ تر حصے میں،میلان سوئی کا جنوبی قطب نیچے کی جانب جھکا ہوتا ہے۔سطح زمین کے ایک نقطہ پر زمین کے مقناطیسی میدان کو بیان کرنے کے لیے،ہمیں تین مقداروں کو معین کرنا ہوتا ہے۔یہ ہیں:عدولD،زاویہ میلان یا جھکائوI،اور زمین کے میدان کا افقی جز D-75۔یہ زمین کے مقناطیسی میدان کے اجز کہلاتے ہیں۔

D-76

قطبین پر میری قطب نما سوئی کے ساتھ کیاہوتا ہے؟

ایک قطب نما سوئی ،ایک مقناطیسی سوئی پر مشتمل ہوتی ہے جو ایک چولی نقطہ(pivotal point)پر گھومتی ہے۔جب قطب نما کو ہمواررکھاجاتا ہے،تو وہ اس مقام پر زمین کے مقناطیسی میدان کے افقی جز کی سمت میں اشارہ کرتا ہے۔اس لیے،قطب نما سوئی ،اس مقام کے مقناطیسی میریڈین کی جانب رہے گی۔زمین کے کچھ مقامات پرمقناطیسی معدنیات کے ذخیرے ہیں،جو قطب نما سوئی کو مقناطیسی میریڈین سے منحرف کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ایک مقام پر اگر ہمیں مقناطیسی عدول معلوم ہو،تو ہم قطب نما کی اس طور پر تصحیح کرسکتے ہیں کہ اصل شمال کی سمت معلوم ہوسکے۔

پھرکیاہوگا،اگرہم اپناقطب نما،مقناطیسی قطب پر لے جائیں؟قطبین پر،مقناطیسی میدانی خطوط راسی طورپر مرکوز (convergent)ہوتے ہیںیا غیرمرکوز(Divergent)ہوتے ہیںاور اس لیے افقی جز قابل نظراندازہوتا ہے۔اگر سوئی صرف ایک افقی مستوی میں ہی حرکت کرسکتی ہو،تو یہ کسی بھی سمت کی جانب اشارہ کرسکتی ہے،اور پھر یہ سوئی ایک سمت نشان گر کی حیثیت سے بے کارہوجائے گی۔ایسی صورت میں ہمیں دراصل ایک میلان سوئی(Dip needle)درکارہوتی ہے جو ایک ایسا قطب نما ہوتا ہے،جس کی چول اس طرح بٹھائی جاتی ہے کہ وہ اس راسی مستوی میں حرکت کرسکے جس میں زمین کامقناطیسی میدان ہو۔تب قطب نما کی سوئی وہ زاویہ ظاہرکرتی ہے جومقناطیسی میدان،راسی خط کے ساتھ بناتا ہے۔قطبین پرایسی سوئی سیدھے نیچے کی جانب اشارہ کرے گی۔

D-77


مثال5.9:کسی مقام کے مقناطیسی عدول میں،زمین کے مقناطیسی میدان کا افقی جز0.26Gہے اور زاویۂ میلان 60ºہے۔اس مقام پر زمین کا مقناطیسی میدان کیاہے؟

حل:یہ دیا ہوا ہے کہ:HE = 0.26 Gشکل 5.11سے ہمارے پاس ہے۔

D-79


زمین کا مقناطیسی میدان

یہ بالکل نہیں مان لینا چاہیے کہ زمین کے اندر بہت گہرائی پر کوئی اتنا ضخیم مقناطیس دفن ہے جو زمین کا مقناطیسی میدان پیداکررہاہے۔حالانکہ زمین میں بہت سے لوہے کے ذخیرے ہیں لیکن ایسا ہونا قرین قیاس نہیں ہے کہ لوہے کا ایک اتنا بڑا ٹھوس ٹکڑا ہو جو مقناطیسی شمالی قطب سے مقناطیسی جنوبی قطب تک پھیلا ہوا ہو۔زمین کا قالب(Core)بہت زیادہ گرم اور پگھلی ہوئی شکل میں ہے اور لوہے اور نکل کے آئن زمین کی مقناطیسیت کے لیے ذمہ دار ہیں۔یہ مفروضہ بڑی حد تک درست معلوم ہوتا ہے۔چاند،جس میںکوئی پگھلاہواقالب نہیںہے،اس کا کوئی مقناطیسی میدان بھی نہیں ہے،زہرہ(Venus)کی گردشی رفتار مقابلتاً کم ہے اور اس کا مقناطیسی میدان بھی مقابلتاً کمزور ہے،جب کہ مشتری(Jupiter)جس کی شرح گردش،تمام سیاروں میں سب سے زیادہ ہے،اس کا مقناطیسی میدان بھی خاصا طاقت ور ہے۔لیکن ان دورانی کرنٹوںکی درست وضع اور اور انھیں برقرار رکھنے کے لیے درکار توانائی،ابھی بھی اچھی طرح سے نہیں سمجھی جاسکی ہیں۔کئی سوال ایسے ہیں،جن کے جواب معلوم نہیںہیںاور وہ ابھی بھی تحقیق کے اہم موضوعات ہیں۔

زمین کے مقناطیسی میدان میں مقام کے ساتھ تبدیلی بھی مطالعہ کا ایک دلچسپ موضوع ہے۔سورج کے ذریعے خارج کیے گئے چارج شدہ ذرات،زمین کی طرف اور زمین سے آگے،بھی ایک چشمے کی شکل میں سفر کرتے ہیں جو شمسی باد(Solar wind)کہلاتی ہے۔ان ذرات کی حرکت،زمین کے مقناطیسی میدان سے متاثر ہوتی ہے اور یہ خود زمین کے مقناطیسی میدان کے نمونے پر اثرانداز ہوتے ہیں قطبین کے قریب،زمین کے مقناطیسی میدان کا نمونہ،زمین کے دوسرے علاقوں میں مقناطیسی میدان کے نمونے سے کافی مختلف ہوتا ہے۔

وقت کے ساتھ،زمین کے مقناطیسی میدان کی تبدیلی بھی کچھ کم تعجب خیز نہیں ہے۔کم مدت میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں،جو صدیوں میںہوجاتی ہیں اور کچھ وسیع مدتی تبدیلیاں ہیں،جن میں کئی دس لاکھ سالوں کا عرصہ لگتا ہے۔1580سے1820عیسوی تک،240برس کے عرصے میں،جن برسوں کے ریکارڈ دستیاب ہیں،لندن کے مقناطیسی عدول میں3.5ºکی تبدیلی معلوم کی گئی ہے،جس سے یہ تجویز ہوتا ہے کہ زمین کے اندر مقناطیسی قطبین،وقت کے ساتھ اپنا مقام تبدیل کرلیتے ہیں۔ایک دس لاکھ سال کے پیمانے پر،زمین کا مقناطیسی میدان اپنی سمت مخالف سمت میں تبدیل کرلیتا ہے۔بسالٹ(Basalt)میں لوہا ہوتا ہے اور آتش فشاں پھٹنے کے دوران بسالٹ خارج ہوتا ہے۔جب یہ بسالٹ ٹھنڈا ہوکر ٹھوس شکل اختیار کرلیتا ہے تو اس میں شامل چھوٹے چھوٹے لوہے کے مقناطیس اپنے آپ کو اس مقام پر پائے جانیو الے مقاطیسی میدان کی سمت کی متوازی سمت میں کرلیتے ہیں۔مقنایائے ہوئے علاقوں کے ایسے بسالٹ کے ٹکڑوں کے ارضیاتی مطالعے سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ماضی میں زمین کے مقناطیسی میدان کی سمت کئی بارتبدیل ہوچکی ہے۔

5.5مقنائو اور مقناطیسی شدت(Magnetisation and Magnetic Intensity)

زمین میں انواع واقسام کے عناصر اور مرکبات کی بہتات ہے۔اس کے علاوہ ہم نئے بھرت اور نئے مرکبات اور یہاں تک کہ نئے عناصر بھی تالیف کررہے ہیں۔ ہم ان مادی اشیا کی مقناطیسی خاصیتوں کی درجہ بندی کرنا چاہیں گے۔اس حصہ میں ہم کچھ ایسی اصطلاحات کی تعریف اور وضاحت کریںگے جو اس کا م میں مددگار ثابت ہوں گی۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک ایٹم میں دوران کررہے الیکٹران کا ایک مقناطیسی معیارِاثر ہوتا ہے۔ایک حجمی مادہ میںیہ معیارِاثر سمتی طورپر جمع ہوتے ہیںاور اس طرح حاصل ہونے والا کل مقناطیسی معیارِاثر غیرصفر بھی ہوسکتا ہے۔ہم ایک نمونے(Sample)کے مقنائو(Magnetisation)کی تعریف اس طرح کرتے ہیںکہ یہ کل مقناطیسی معیارِاثر فی اکائی حجم کے مساوی ہے۔

D-80

ایک سمتیہ ہے،جس کے ابعادD-81ہیںاور جو D-82کی اکائیوں میں ناپاجاتا ہے۔

ایک لمبا سولی نائڈ لیجیے،جس میں nچکر فی اکائی لمبائی ہیں اور کرنٹIہے۔سولی نائڈ کے اندرونی حصے میں مقناطیسی میدان،ہم دکھاچکے ہیں،ہوتا ہے:

D-83

اگر سولی نائڈ کا اندرونی حصہ ایسے مادے سے بھر دیاجائے ،جس کا مقنائو غیر صفر ہو،تو سولی نائڈ کے اندر مقناطیسی میدان کی قدرسے زیادہ ہوگی۔سولی نائڈکے اندرونی حصے میں کل مقناطیسی میدان b،دیاجاسکتا ہے:

D-84

جہاںمیدان کا وہ حصہ ہے جو مادی قالب کی وجہ سے ہے۔یہ پتہ چلا ہے کہ یہ اضافی میدانD-85،مادہ کے مقناؤکے راست متناسب ہے اور ظاہر کیاجاسکتا ہے:

D-86

جہاںوہی مستقلہ ہے(خلاء کی مقناطیسی سرایت پذیری)جو بائٹ–سیورٹ قانون میں شامل تھا۔ایک دوسرے سمتیہ میدان کو متعارف کرانے سے سہولت رہتی ہے،جو مقناطیسی شدت(Magnetic Intensity)کہلاتی ہے،اور جس کی تعریف کی جاتی ہے:

D-87

جہاں کے وہی ابعاد ہیں جوD-88کے ہیں اوD-89بھیD-90کی اکائیوں میں ناپی جاتی ہے۔اس لیے،کل مقناطیسی میدانbلکھاجاتا ہے۔

D-91

ہم اپنے معرف کرنے کے طریقے کو دہراتے ہیں۔ہم نے ایک نمونے کے اندر کل مقناطیسی میدان کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے:پہلا،باہری عوامل،جیسے سولی نائڈ میںسے گذررہے کرنٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والامیدان۔اسےD-92سے ظاہر کیاجاتا ہے۔دوسرا،مقناطیسی مادے کی مخصوص طبع کی وجہ سے پیدا ہونے والا میدان،یعنی۔آخرالذکر مقدار باہری عوامل کے ذریعے متاثر ہوسکتی ہے۔اس اثر کو ریاضیاتی شکل میں ایسے ظاہر کیاجاسکتا ہے:

D-93

جہاںc،ایک غیر ابعادی مقدار،بجاطورپر مقناطیسی میلانیت(magnetic susceptibility)کہلاتی ہے۔یہ اس چیزکا ناپ ہے کہ ایک مقناطیسی مادہ ایک باہری میدان سے کیسے متاثر ہوتاہے۔جدول5.2میںکچھ عناصر کیcکی قدریں درج فہرست کی گئی ہیں۔کچھ مادی اشیا کے لیے اس کی قدر چھوٹی اور مثبت ہے،جو پر مقناطیسی(پارا مقناطیسیPara magnetic)کہلاتی ہیں۔جن مادی اشیا کے لیے اس کی قدر چھوٹی اور منفی ہے وہ عرض مقناطیسی (ڈایا مقناطیسی Diamagnetic)کہلاتی ہیں۔آخرالذکر صورت میںD-94سمت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں۔مساوات(5.16)اور مساوات(5.17)سے ہمیں حاصل ہوتا ہے:

D-95

جہاںD-96،ایک غیر ابعادی مقدار ہے جومادی شے کی اضافی مقناطیسی سرایت پذیری کہلاتی ہے۔یہ برق– سکونیات کے دوبرقی مستقلہ(dielectric constant)کا مشابہ ہے۔مادی شے کی مقناطیسی سرایت پذیری (magnetic permeability)D-97ہے اور اس کے وہی ابعاد ہیں اوروہی اکائیاںہیںجوD-98کے ہیں۔

D-99

تینوں مقداریںD-100آپس میں ایک دوسرے سے رشتہ رکھتی ہیں اور ان میںسے صرف ایک ہی غیر تابع ہے۔ اگرتینوں میںسے ایک مقدار دی ہوئی ہو تو باقی دو با آسانی معلوم کی جاسکتی ہیں۔


جدول 5.2 :300k پر کچھ عناصر کی مقناطیسی میلانیت

x پارا مقناطیسی مادی اشیا x ڈایا مقناطیسی ماادی اشیا
2.3× 10-5 (Aluminium)المونیم -1.66 ×10-5
(Bismuth)بسمتھ
1.9 ×10-5
(Calcium)کیلثیم -9.8 ×10-6
(Copper)تانبہ
2.7× 10-4
(Chromium)کرومیم -2.2× 10-5
(Diamond)ہیرا
2.1 ×10-5
(Lithium)لیتھیم -3.6× 10-5
(Gold)سونا
1.2 ×10-5
(Megnesium)میگنیشیم -1.7× 10-5
(Lead)سیسہ
2.6 × 10-5
(Niobium)نیوبیم -2.9× 10-5
(Mercury)پارہ
2.1× 10-6
(Oxygen)آکسیجن -5.0 ×10-9
(Nitrogen)(STP)نائٹروجن
2.9× 10-4
(Platinum)پلیٹینم -2.6× 10-5
(Silver)چاندی
6.8 ×10-5
(Tungsten)ٹنگسٹن -4.2× 10-6
(Silicon)سلی کون


مثال5.10:ایک سولی نائڈ کا قالب ایسے مادے کا ہے جس کی اضافی سرایت پذیری400ہے۔سولی نائڈ کی لپیٹیں قالب سے حاجز کردی گئی ہیں اور ان میں2Aکرنٹ ہے۔اگر چکروں کی تعداد1000فی میٹر ہے تو حساب لگائیے D-104 مقنائی کرنٹD-103

حل: (a)میدانD-105،قالب کے مادے کے تابع نہیںہے،اوردیا جاتا ہے:

(H = nI = 1000 ×2.0 = 2×103  (A/M

(b) مقناطیسی میدانD-107دیاجاتا ہے:

B = µr µº H

D-108

(c) مقنائو دیاجاتا ہے:

D-109

(d) مقنائی کرنٹ(magnetising current)D-110وہ اضافی (additional)کرنٹ ہے جو قالب کی غیر موجودگی میں،سولی نائڈ سے گذارا جانا چاہیے تاکہBکی وہ قدر حاصل ہوسکے جو قالب کی موجودگی میں حاصل ہوتی۔

اس لیے:D-111استعمال کرنے پر،ہمیں حاصل ہوتا ہے:

IM = 794 A

5.6 مادی اشیاکی مقناطیسی خاصیتیں(Magnetic Properties of Materials)

پچھلے حصے میں دی گئی بحث کی مدد سے ہم مادی اشیاکو بطورڈایامقناطیسی،پیرا مقناطیسی یا لوہ مقناطیسی (ferromagnetic)درجہ بندکرسکتے ہیں۔میلانیتcکی شکل میں،ایک مادی شے ڈایا مقناطیسی ہوگی اگرcمنفی ہے،پارا،اگرcمثبت اور چھوٹی ہے،اور لوہ اگرcبڑی اور مثبت ہے۔

جدول5.3پرایک نظرڈالنے سے ہم ان مادی اشیاکا بہتر احساس کرسکتے ہیں۔یہاںeایک خفیف مثبت عدد ہے،جسے پارامقناطیسی مادوں کی مقدار کا تعین کرنے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔آگے،ہم ان مادوںکو کچھ تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔

جدول 5.3

لوہ مقناطیسی پارا مقناطیسی ڈایا مقناطیسی
x>> 1 0 ≤ x < ε -1 ≤ x < 0
µr >> 1 1 < µr < 1 + ε 0 ≤ µr < 1
µ >> µº
µ < µº µ < µº

5.6.1ڈایامقناطیسیت(Diamagnetism)

ڈایا مقناطیسی مادی اشیاوہ ہیں جن میں باہری مقناطیسی میدان کے طاقت ور علاقے سے مقابلتاً کمزور علاقے کی جانب حرکت کرنے کا رجحان پایاجاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں،ایک مقناطیس کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ دھاتوں،جیسے لوہا،کوکشش کرتا ہے،لیکن اس کے برخلاف ایک مقناطیس ڈایا مقناطیسی مادی اشیا کو دفع کرتاہے۔

شکل5.12 (a)میں ایک باہری مقناطیسی میدان میں رکھی ہوئی،ڈایامقناطیسی مادے کی بنی چھڑ دکھائی گئی ہے۔میدانی خطوط دفع کردیے یا باہر نکال دیے جاتے ہیں اور مادی شے کے اندر مقناطیسی میدان پہلے سے کمزور ہوجاتا ہے۔زیادہ تر صورتوں میں،جیسا کہ جدول5.2سے ظاہر ہوتا ہے،یہ کمی خفیف(بہت کم)ہوتی ہے،105میں ایک حصہ۔اگر ایک ڈایامقناطیسی مادے کی بنی چھڑ کو ایک غیر ہموار مقناطیسی میدان میں رکھا جائے،تو چھڑ میں طاقت ور میدان سے مقابلتاً کمزورمیدان کی جانب حرکت کرنے کا رجحان پایاجائے گا۔

D-115

شکل5.12:مقناطیسی میدانی خطوط کا برتائو

(a)ایک ڈایامقناطیسی مادے کی بنی شے کے نزدیک

(b)ایک پارا مقناطیسی مادے کی بنی شے کے نزدیک


ڈایا مقناطیسیت کی سب سے زیادہ سادہ وضاحت اس طورپر کی جاسکتی ہے:

ایٹم میں نیوکلیس کے گردمداری حرکت ہوئے الیکٹرانوں میں مداری زاویائی معیارِحرکت (orbital angular momentum)ہوتا ہے۔یہ مداری حرکت کرتے ہوئے الیکٹران اس لوپ کے معادل ہیں،جس میں سے کرنٹ گذررہا ہواور اس لیے ان میں مداری مقناطیسی معیارِاثر ہوتا ہے۔ڈایامقناطیسی مادے وہ ہیں جن میں ایک ایٹم کا ماحصل مقناطیسی معیارِاثر(Resultant magnetic moment)صفر ہوتا ہے۔جب مقناطیسی میدان لگایاجاتا ہے،تو وہ الیکٹران جن کے مداری مقناطیسی معیارِاثر کی سمت اورلگائے ہوئے میدان کی سمت یکساں ہوتی ہے،ان کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور جن الیکٹرانوں کے مداری مقناطیسی معیارِاثر کی سمت،لگائے ہوئے میدان کی سمت کے مخالف ہوتی ہے،ان کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ایسا لینزکے قانون(Lenz's Law)کے مطابق،امالہ شدہ کرنٹ کی وجہ سے ہوتا ہے،جس کا مطالعہ آپ باب6میں کریں گے۔اس لیے مادی شے میں لگائے ہوئے میدان کی مخالف سمت میںایک کل مقناطیسی معیارِاثر پیدا ہوجاتاہے اوراس لیے دفع ہوتا ہے۔کچھ ڈایامقناطیسی مادی اشیاہیں:بسمتھ(Bismuth)،تانبہ،سیسہ ،  سلی کون،نائٹروجن[STPپر]،پانی اور سوڈیم کلورائڈلیکن،زیادہ ترصورتوں میں یہ اثراتنا کم(کمزور)ہوتا ہے کہ دوسرے اثرات جیسے پارا مقناطیسیت یا لوہ مقناطیسیت اس پر حاوی آجاتے ہیں۔

سب سے زیادہ تعجب خیز ڈایامقناطیسی مادی اشیااعلیٰ موصل(Super Conductors)ہیں۔یہ وہ دھاتیں ہیں جنھیں بہت نچلے درجہ حرارت تک ٹھنڈا کیاجاتا ہے تو یہ مکمل ایصالیت(Perfect Conductivity)اور مکمل ڈایا مقناطیسیت،دونوں،کااظہار کرتی ہیں۔یہاں میدانی خطوط مادے سے بالکل باہر نکال دیے جاتے ہیں!c = –1اورD-116۔ایک اعلیٰ موصل ایک مقناطیس کو دفع کرتا ہے(نیوٹن کے تیسرے قانون کے مطابق)اور مقناطیس سے دفع ہوتا ہے۔اعلیٰ موصلوں میں مکمل ڈایا مقناطیسیت کا مظہر،اسے دریافت کرنے والے سائنس داں کے نام پر،میزنر اثر(Meissner Effect)کہلاتا ہے۔مکمل ایصالی مقناطیس سے،کئی مختلف حالات میں،بخوبی فائدہ اٹھایاجاسکتا ہے،مثال کے طورپر اعلیٰ رفتار سے چلنے والی مقناطیسی ہوائی رفتار ریل گاڑیوں میں۔

5.6.2پارا مقناطیسیت (Paramagnetism)

پارا مقناطیسی مادی اشیاوہ ہیں جوایک باہری مقناطیسی میدان میں رکھے جانے پر ہلکی سی مقناجاتی ہیں۔ان میں مقابلتاً کمزور مقناطیسی میدان کے علاقے سے مقابلتاً طاقت ورمقناطیسی میدان کی جانب حرکت کرنے کا رجحان پایاجاتاہے،یعنی کہ وہ مقناطیس سے،کمزور طورپر،کشش ہوتی ہیں۔

ایک پارا مقناطیسی مادے سے بنی شے کے انفرادی ایٹموں(آئنوں یا مالیکیولوں)میں ان کا اپنا ذاتی مستقل مقناطیسی دوقطبی معیارِاثر(permanent dipole moment)ہوتا ہے۔ایٹموں کی مستقل جاری رہنے والی،بے برتیب حرارتی حرکت کی وجہ سے،کوئی کل مقناطیسیت نہیں دکھائی دیتی۔ایک باہری میدانD-117کی موجودگی میں،جو کافی طاقت ور ہوتا ہے،اور کم درجات حرارت پر،انفرادی ایٹمی دوقطبی معیارات اثر کو اس طورپر ترتیب دیاجاسکتا ہے کہ ان سب کی سمت ایک ہی ہوجائے اور وہ سب اسی سمت کی نشاندہی کریں جس کیD-117کرتا ہے۔شکل5.12 (b)میں ایک پارا مقناطیسی مادے سے بنی چھڑ کو ایک باہری میدان میں رکھادکھایاگیا ہے۔میدانی خطوط مادے شے کے اندر مرتکز ہوجاتے ہیں اور شے کے اندر میدان میںاضافہ ہوجاتا ہے۔زیادہ تر صورتوں میں،جیسا کہ جدول5.2سے ظاہرہوتاہے،یہ اضافہ معمولی ہوتا ہے،105میں ایک حصہ–اگر پارا مقناطیسی مادے سے بنی چھڑ کو ایک غیر ہموار میدان میں رکھا جائے تو چھڑ میں مقابلتاً کمزور میدان سے مقابلتاً طاقت ور میدان کی جانب حرکت کرنے کا رجحان پایاجاتا ہے۔

کچھ پارا مقناطیسی مادی اشیا میں:المونیم،سوڈیم،کیلشیم،آکسیجن(STPپر)اور کوپر کلورائڈ–تجربہ سے ہم یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ ایک پارا مقناطیسی مادے شے کا مقنائو،مطلق درجہ حرارتTکے مقلوب کے معکوس متناسب ہوتا ہے۔

D-119

یا معادل شکل میں،مساوات(5.12)اور مساوات(5.17)استعمال کرتے ہوئے:

D-120

یہ اس قانون کو دریافت کرنے والے پیری کیوری(1859—1906)کے نام پر کیوری کا قانون کہلاتا ہے۔مستقلہCکیوری کا مستقلہ کہلاتا ہے۔اس لیے ایک پارا مقناطیسی مادی شے کے لیےD-121دونوں صرف شے کے مادے پر ہی نہیں،بلکہ (سادہ طورپر)نمونے کے درجہ حرارت کے بھی تابع ہیں۔جیسے جیسے میدان میں اضافہ کیاجاتا ہے یا درجہ حرارت کو کم کیاجاتاہے،مقنائو بڑھتا جاتا ہے،یہاں تک کہ وہ اپنی سیر شدگی قدر (Saturation Value) پر پہنچ جاتا ہے،جس نقطہ پر تمام دوقطبیے میدان کے ساتھ مکمل طورپر صف بند (aligned)ہوتے ہیں۔اس کے بعد(آگے)،کیوری کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

5.6.3لوہ مقناطیسیت(Ferromagnetism)

لوہ مقناطیسی(فیرومقناطیسی(Ferromagnetic))مادی اشیا وہ ہیں جو ایک باہری مقناطیسی میدان میں رکھے جانے پر طاقت ور طورپر مقناجاتی ہیں۔ان میں مقابلتاً کمزور مقناطیسی میدان کے علاقے سے مقابلتاً طاقت ور مقناطیسی میدان کی جانب حرکت کرنے کا بہت زیادہ رجحان پایاجاتا ہے،یعنی کہ،وہ ایک مقناطیسی سے بہت زیادہ کشش ہوتی ہیں۔ایک لوہ مقناطیسی مادی شے کے انفرادی ایٹموں(یاآئنوں یا مالیکیولوں)میں،ایک پارا مقناطیسی مادی شے کی طرح ہی،دو قطبی معیارِاثر ہوتا ہے۔لیکن وہ ایک دوسرے سے اس طور پر باہم عمل کرتے ہیں کہ ایک کلاں بینی حجم کے تمام ایٹم فوراً(ایک دم)ہی اپنے آپ کو ایک مشترک سمت میں صف بند کرلیتے ہیں۔ یہ کلاں بینی حجم’’ڈومین‘‘(علاقہDoman)کہلاتا ہے۔اس آپسی مدد کی وضاحت کے لیے کوانٹم میکانیات درکار ہے،جو اس کتاب کی وسعت سے باہر ہے۔ہر ڈومین کا ایک کل مقنائو ہوتا ہے۔ایک ڈومین کا خصوصی سائز 1mmہے اور ایک ڈومین میں تقریباًD-122ایٹم ہوتے ہیں۔شروعاتی لمحوں میں،مقنائو ہر ڈومین میں بے ترتیب انداز میں مختلف ہوتا ہے اور کوئی حجمی مقنائو نہیں ہوتا۔یہ شکل5.13.(a)میںدکھایاگیا ہے۔جب ہم ایک باہری مقناطیسی میدانD-123ہے کی جانب کرلیتی لگاتے ہیں،تو ہر ڈومین اپنی تشریقD-124 اور اسی کے ساتھD-123کی سمت میں تشریق شدہ ڈومین کے سائز میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ڈومینوں کی موجودگی اور D-123کی وجہ سے ان کا حرکت کرنامحض تصور نہیں ہیں۔اگر ہم لوہ مقناطیسی مادی شے کے نمونے کو پائوڈر کی شکل میںاور اسے پانی میں گھول کر اس طرح چھڑک دیں کہ وہ اوپر تیرتا رہے اور پھر خوردبین کی مدد سے دیکھیں تو ہم اس کا براہِ راست مشاہدہ کرسکتے ہیں۔شکل5.12.(b)میں وہ حالت دکھائی گئی ہے،جب ڈومین صف بند ہوچکی ہیںاوران کے آپس میں ملنے سے کر ایک واحد بڑی ڈومین تشکیل ہوگئی ہے۔

D-125

شکل5.13 :(a)بے ترتیب تشریق شدہ ڈومین(علاقے)(b)صف بند ڈومین(Aligned Domains)


اس لیے،ایک لوہ مقناطیسی مادی شے میںمیدانی خطوط بہت زیادہ مرتکز ہوتے ہیں۔ایک غیر ہموار مقناطیسی میدان میں یہ نمونہ مقابلتاً طاقت ور میدان کی جانب حرکت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہم شاید سوچ رہے ہوں کہ اگر باہری مقناطیسی میدان ہٹالیاجائے تو کیا ہوگا۔کچھ لوہ مقناطیسی مادی اشیا میں مقنائو برقرار رہتا ہے۔اسی مادی اشیا سخت مقناطیسی مادی اشیا یا سخت لوہ مقناطیس کہلاتی ہیں۔آل نکو(Alnico)،جو لوہے،المونیم،نکل اور کوبالٹ اور کوپر کا بھرت ہے،ایسی ہی ایک مادی شے ہے۔قدرتی طورپر پایاجانے والی چمبک پتھر(Loadstone)اس کی دوسری مثال ہے۔ایسی مادی اشیا مستقل مقناطیس تشکیل دیتی ہیں،جنھیں دوسرے کاموں کے علاوہ بطورقطب نما سوئی استعمال کیاجاسکتا ہے۔دوسری طرف،کچھ لوہ مقناطیسی مادی اشیا کی ایک قسم اور ہے،جن میں،باہری مقناطیسی میدان ہٹادینے سے،مقنائو بھی ختم ہوجاتا ہے۔نرم لوہا ایسی ہی ایک شے ہے۔اسی مناسبت سے ایسی مادی شیا،بجاطورپر،نرم لوہ مقناطیسی مادی اشیا کہلاتی ہیں۔کئی ایسے عناصر ہیں جو لوہ مقناطیسی ہیں:لوہا،کوبالٹ،نکل،گیڈولینیم وغیرہ۔اضافی مقناطیسی اثرپذیری1000سے زیادہ ہے۔

لوہ مقناطیسی خاصیت درجہ حرارت کے تابع ہے۔ایک کافی زیادہ درجہ حرارت پرایک لوہ مقناطیس ایک پارا مقناطیس بن جاتا ہے۔درجہ حرارت کے بڑھنے کے ساتھ ڈومین ساخت بگڑجاتی ہے۔درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ مقنائو کاکم ہوتے جانا بتدریج عمل ہے۔یہ ایک ہیئت عبور(Phase Transition)ہے جو ایک ٹھوس کرسٹل کے پگھلائو کی طرح ہوتا ہے۔لوہ مقناطیسی سے پارا مقناطیسی میں تبدیلی کادرجہ حرارت،کیوری درجہ حرارتD-126کہلاتا ہے۔جدول5.4میں کچھ لوہ مقناطیسوں کے کیوری درجاتِ حرارت کی فہرست دی گئی ہے۔کیوری درجہ حرارت سے اوپر،یعنی کہ،پارا مقناطیسی ہیئت میں،میلانیت بیان کی جاتی ہے:

5.21                     (x = C/T - Tc  (T > Tc

جدول 5.4 کچھ لوہ مقناطیسی مادی اشیا کے کیوری درجہ حرارت Tc

T (K) مادی شے
1394
1043
893
631
317
کوبالٹ
لوہا
Fe2 O3
نکل
گیڈولینیم


مثال5.11:ایک لوہ مقناطیسی لوہے میں ڈومین،1mmضلع کے مکعب کی شکل کی ہے۔ڈومین میں لوہے کے ایٹموں کی تعداد کا تخمینہ لگائیے اور ڈومین کے ازحد ممکن دوقطبی معیارِاثر اور مقنائو کا تخمینہ لگائیے۔لوہے کی مالیکیولیائی کمیت 55g/mole ہے اور اس کی کثافت7.9g/cm3ہے۔مان لیجیے کہ لوہے کے ہر ایٹم کا دوقطبی معیارِاثر D-130ہے۔

حل:مکعبی ڈومین کا حجم ہے:

V = (10-6 m)3 = 10-18 m3 = 10-12 cm3

اس کی کمیت ہے:

7.9g cm-3  ×10-12 cm3 = 7.9 × 10-12 g= کثافت×حجم=کمیت

یہ دیا ہوا ہے کہ ایووگیڈروعددD-133کے برابر،لوہے کے ایٹموں کی تعداد کی کمیت55gہے۔اس لیے ڈومین میں ایٹموں کی تعداد:

D-134

ازحد ممکنہ دوقطبی معیارِاثرmaxتب حاصل ہوتا ہے جب تمام ایٹمی معیارات اثر کامل طورپر صف بندہوں(جو حقیقی صورت نہیں ہے)۔اس لیے:

D-135

لوہ مقناطیسی مادوںمیںD-136کے درمیان رشتہ،پیچیدہ ہے۔یہ اکثر خطی نہیں ہوتا اور یہ نمونے کی مقناطیسی تاریخ کے تابع ہے۔شکل5.14میں لوہ مقناطیسی مادی شے کا برتائو دکھایا گیا ہے،جب کہ اسے مقنائو کے ایک سائیکل سے گذارا گیا ہے۔فرض کیجیے شروع میںمادی شے غیر مقناطیسی ہے۔ہم اسے ایک سولی نائڈ میں رکھ دیتے ہیں اور سولی نائڈ سے گذررہے کرنٹ میں اضافہ کرتے ہیں۔مادی شے میں مقناطیسی میدانD-137بڑھنے لگتا ہے اور پھر سیر شدہ حالت پر پہنچ جاتاہے،جیسا کہ منحنیOaسے دکھایا گیا ہے۔


D-138

شکل5.14مقناطیسی پسماندگی لوپ،لوہ مقناطیسی اشیا کے لیے،B–Hمنحنی ہے۔

یہ برتائو ڈومینوں کی ایسی صف بندی اور آپس میںضم ہونے کو ظاہر کرتا ہے،جس کے بعد کوئی اضافہ ممکن نہیں ہے۔اس لیے اس کے بعد کرنٹ (اور اس لیے مقناطیسی شدتH)میںاضافہ کرنا بے معنی ہے۔اس کے بعد،ہم Hکو کم کرنا شروع کرتے ہیں اور صفر تک لے آتے ہیں۔D-139،اسے منحنی abسے ظاہرکیاگیا ہے۔H=Oپر Bکی قدر امتساک(remanence)یاضبط(retentivity)کہلاتی ہے۔شکل5.14میں،D-140ہے،جہاں تحت علامت R،ضبط کوظاہر کرتی ہے۔حالانکہ باہری مقناطیسی میدان پورے طورپر ہٹالیاگیاہے،پھر بھی ڈومین مکمل طورپر بے ترتیب نہیں ہیں۔اس کے بعد سولی نائڈ میں کرنٹ کی سمت مخالف کردی جاتی ہے اور مقدارآہستہ آہستہ بڑھائی جاتی ہے۔کچھ ڈومین متاثر ہوتی ہیں،یہاں تک کہ اندر کی طرف کل میدان معدوم ہوجاتاہے۔اسے منحنی bcسے دکھایا گیا ہے۔Cپر Hکی قدر جبریت(coercivity)کہلاتی ہے۔شکل5.14میں،D-141،جیسے جیسے مخالف سمت میں کرنٹ کی عددی قدر میں اضافہ کیاجاتا ہے،ہم ایک بار پھر سیر شدگی حاصل کرلیتے ہیں۔منحنیcdاسے ظاہر کرتا ہے۔سیرشدہ مقناطیسی میدان:D-142،اس کے بعد کرنٹ پھر کم کیاجاتا ہے(منحنیde)اور پھر اس کی سمت مخالف کی جاتی ہے(منحنیea)۔یہ سائیکل اپنے آپ کو دہراتا ہے۔نوٹ کریں کہ Hکو کم کرنے پر منحنیOaاپنی راہ پر واپس نہیں لوٹتا۔Hکی ایک دی ہوئی قدرBکی کوئی یکتا(unique)قدر نہیں ہے،بلکہ یہ نمونے کی گذشتہ تاریخ کے تابع ہے۔یہ مظہر پسماندی(Hysterisis)کہلاتا ہے۔اس لفظ(hysterisis)کے لغوی معنی ہیں’’پیچھے رہ جانا‘‘(Lagging behind)(’’تاریخ‘‘نہیں)۔

5.7مستقل مقناطیس اور برقی مقناطیس(Permanent Magnets and Electromagnets) 

وہ مادی اشیا جو کمرہ درجہ حرارت پر اپنی لوہ مقناطیسی خاصیت لمبے عرصے تک برقرار رکھتی ہیں،مستقل مقناطیس کہلاتی ہیں۔مستقل مقناطیس مختلف طریقوں سے بنائے جاسکتے ہیں۔ہم ایک لوہے کی چھڑ کو شمال–جنوب سمت میںرکھ کر ہتھوڑے سے باربارٹھونک سکتے ہیں۔یہ طریقہ شکل5.15میں دکھایا گیا ہے۔یہ تصویر ایک400سال پرانی کتاب سے لی گئی ہے،جس سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ مستقل مقناطیس بنانا ایک قدیم فن ہے۔ایک مستقل مقناطیس بنانے کے لیے ہم یہ بھی کرسکتے ہیں کہ ایک فولاد کی چھڑ لیں اسے چھڑ مقناطیس کے کسی ایک سرے سے باربار رگڑیں۔یہ خیال رکھیں کہ رگڑنے کی سمت ہمیشہ یکساں رہے۔

D-143

شکل5.15:ایک لوہار،شمال–جنوب سمت میں رکھی ہوئی،سرخ–گرم،لوہے کی چھڑ کو ہتھوڑے سے پیٹ کر، مستقل مقناطیس بنارہا ہے۔یہ خاکہ،انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ کے درباری ڈاکٹر،ولیم گلبرٹ کی لکھی ہوئی کتاب ڈی میگنیٹے (De Magnete)میں چھپی تصویر کو دیکھ کر بنایا گیا ہے۔


مستقل مقناطیس بنانے کاایک موثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک لوہ مقناطیسی چھڑ کو سولی نائڈ میں رکھا جائے اور کرنٹ گذارا جائے۔سولی نائڈ کا برقی میدان،چھڑ کو مقنادیتا ہے۔

پس ماندگی منحنی(شکل5.14)کی مدد سے ہم مستقل مقناطیس بنانے کے لیے مناسب مادی اشیا کا انتخاب کرسکتے ہیں۔اس مادی شے کا ضبط(retentivity)زیادہ ہونا چاہیے تاکہ مقناطیس طاقت ور ہواور جبریت(coercivity)بھی زیادہ ہونی چاہیے تاکہ دیگر مقناطیسی میدانوں،درجہ حرارت کے معمولی تغیرات یا معمولی میکانیکی نقص،اس کے مقنائو کو ختم نہ کرسکیں۔مزید یہ کہ مادی شے کی مقناطیسی سرایت پذیری بھی زیادہ ہونا چاہیے۔فولاد ایک ترجیحی انتخاب ہے۔اس کا ضبط نرم لوہے کے مقابلے میں تھوڑا کم ہوتا ہے،لیکن نرم لوہے کی جبریت،فولاد سے بہت کم ہوتی ہے۔مستقل مقناطیس بنانے کے لیے دیگر مناسب مادی اشیاہیں:آل نکو،کوبالٹ فولاد،اور ٹکونال۔

D-144

شکل5.16:ایک سولی نائڈ میں نرم لوہے کا بنا قالب بطور برقی مقناطیس کام کرتا ہے۔


برقی مقناطیسوں کے قالب لوہ مقناطیسی مادی اشیاسے بنائے جاتے ہیں،جن کی مقناطیسی سرایت پذیری زیادہ ہوتی ہے اور ضبط کم ہوتا ہے۔برقی مقناطیس بنانے کے لیے نرم لوہا ایک مناسب مادی شے ہے۔ایک سولی نائڈ میں نرم لوہے کے چھڑ رکھ کر کرنٹ گذارنے سے،ہم سولی نائڈکی مقناطیسیت میں ہزار گنا اضافہ کردیتے ہیں۔جب ہم سولی نائڈ میں کرنٹ گذارنا بند(سوئچ آف)کرتے ہیں تو عملی طورپر مقناطیسیت بھی ختم(سوئچ آف)ہوجاتی ہے،کیونکہ نرم لوہے کے بنے قالب کا ضبط کم درجہ کا ہوتا ہے۔یہ ترتیب شکل5.16میںدکھائی گئی ہے۔

بعض استعمالات کے دوران،مادی شے،طویل مدت کے لیے مقنائو کے ایکa.c.سائیکل سے گذرتی ہے۔ایسی صورت ٹرانسفارمروںکے قالب اور ٹیلی فون ڈایفرام(telephone diaphragms)میں پائی جاتی ہے۔ایسی مادی اشیا کا پس ماندگی منحنی(hysteresis curve)پتلا(narrow)ہونالازمی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسراف شدہ توانائی(dissipated energy)اورپیداہوئی حرارت کم ہوگی۔مادی شے کی نوعی مزاحمت(resistivity)زیادہ ہونی چاہیے تاکہ بھنور کرنٹ خسارہ(eddy current loss)کم ہوسکے۔ آپ بھنور کرنٹ(ایڈی کرنٹ)کے بارے میں باب6میں پڑھیں گے۔

برقی مقناطیس،برقی گھنٹیوں،لائوڈاسپیکروں اور ٹیلی فونوں کے ڈائی فراموں میں استعمال ہوتے ہیں۔بہت بڑے سائز کے برقی مقناطیس،مشینوں اور لوہے اور فولاد کی وزنی مقداروں کو اٹھانے کے لیے استعمال ہونے والے کرینوں(Cranes)میں استعمال ہوتے ہیں۔


ہندوستانی کے مقناطیسی میدان کی نقشہ کشی

معدنی تفتیش،خبررسانی اور جہازرانی میںعملی استعمال کی وجہ سے،زیادہ ترممالک زمین کے مقناطیسی میدان کی نقشہ کشی اتنی ہی درستی صحت کے ساتھ کرتے ہیں،جتنی درستی صحت کے ساتھ جغرافیائی نقشہ کشی کرتے ہیں۔ہندوستان میں اس کام کے لیے تقریباً ایک درجن سے زیادہ مشاہدہ گاہیں ہیں جو جنوب میں تریوندرم(Trivandrum)[جواب تھری وونتھاپورم(Thrivuvnnathapuram)]کہلاتاہے سے شمال میں گلمرگ تک پھیلی ہوئی ہیں۔یہ مشاہدہ گاہیں،’انڈین انسٹیٹیوٹ آف جیومیگنیٹزم(IIG)کی سرپرستی میںکام کرتی ہیں جو کولابا،بمبئی میں واقع ہے۔IIG،کوبالا اور علی باغ کی مشاہدہ گاہوں کی ترقی یافتہ شکل ہے اور اسے1971میں قائم کیاگیا۔IIG،ارض مقناطیسی میدانوں(Geomagnetic Fields)اور زمین پر،سمندر کے اندراورفضا میں ہونے والے اتارچڑھائو کی نگرانی کرتا ہے(پورے ملک میں پھیلی ہوئی اپنی مشاہدہ گاہوں کے ذریعے)۔اس کی خدمات،’’آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن لمیٹڈ‘‘(ONGC)،’’نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنیوگرافی‘‘(NIO)اور’’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن‘‘(ISRO)کے ذریعے استعمال کی جاتی ہیں۔یہ پورے عالم میں پھیلے ہوئے اس نیٹ ورک کا حصہ ہے جو لگاتار ارض مقناطیسی آنکڑوں میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کے مطابق سدھارکرتارہتا ہے۔اب ہندوستان میں ایک مستقل اسٹیشن ہے جو گنگوتری کہلاتا ہے۔


خلاصہ

مقناطیسیت کی سائنس بہت قدیم ہے۔زمانہ قدیم سے یہ معلوم ہے کہ مقناطیسی مادی اشیا میں،شمال–جنوب کی سمت کی جانب نشاندہی کرنے کا رجحان پایاجاتا ہے،یکساں مقناطیسی قطب ایک دوسرے کو دفاع کرتے ہیں اور غیر یکساں کشش کرتے ہیں،اور ایک مقناطیسی چھڑ کودوحصوں میںکاٹ دینے سے دوچھوٹے مقناطیس حاصل ہوتے ہیں۔مقناطیسی قطبین کو علاحدہ نہیں کیاجاسکتا۔

جب ایک دوقطبی معیارِاثرmکے چھڑ مقناطیس کو ایک ہموار مقناطیسی میدان D-145میںرکھاجاتا ہے،تو:

(a) اس پر لگ رہی قت صفر ہوتی ہے(b)اس پر لگ رہا قوت گردشہD-146ہے۔(c)اس کی وضعی توانائیD-147–ہے۔جہاں ہم نے توانائی کاصفر اس تشریق پر منتخب کیاہے جبD-148پرعمود ہے۔

ایک سائزlاور مقناطیسی معیارِاثرD-149کا ایک چھڑ مقناطیس لیجیے۔اس کے وسطی نقطہ سےrفاصلے پر،جہاں  r >>l،اس چھڑ کی وجہ سے مقناطیسی میدانD-150ہے:

D-151

مقناطیسیت کے لیے گاس کے قانون کا بیان ہے کہ کسی بھی بند سطح سے گذرنے والا کل مقناطیسی فلکس صفر ہے۔

D-152

زمین کا مقناطیسی میدان اس مقناطیسی دوقطبیہ(فرضی)کے مشابہ ہے جو زمین کے مرکز پررکھاہے۔زمین کے جغرافیائی شمالی قطب کے نزدیک والاقطب،شمالی مقناطیسی قطب کہلاتا ہے۔اسی طرح جغرافیائی جنوبی قطب کے نزدیک والا قطب،جنوبی مقناطیسی قطب کہلاتا ہے۔اس دوقطبیہ کی صف بندی اس طرح ہے کہ یہ زمین کے گردشی محور سے ایک چھوٹا زاویہ بناتا ہے۔زمین کی سطح پر میدان کی قدرتقریباًD-153ہے۔

سطح زمین پر زمین کے مقناطیسی میدان کی عددی قدر کا تعین کرنے کے لیے تین مقداریں درکار ہوتی ہیں:افقی جز،مقناطیسی عدول اور مقناطیسی میلان۔یہ زمین کے مقناطیسی میدان کے اجزا(عناصر) کہلاتے ہیں۔

ایک باہری مقناطیسی میدانD-154میںرکھی ہوئی ایک مادی شے لیجیے۔مقناطیسی شدت کی تعریف کی جاتی ہے:

D-155

مادی شے کا مقنائوD-156،دوقطبی معیارِاثر فی اکائی حجم ہے۔مادی شے کے اندر مقناطیسی میدانD-157ہے:

D-158

ایک خطی مادی شے کے لیے:D-159 اورxمادی شے کی مقناطیسی میلانیت کہلاتی ہے۔تینوںD-160 مقداروں:c،اضافی مقناطیسی سرایت پذیری D-161اورمقناطیسی سرایت پذیری،میں مندرجہ ذیل رشتے ہیں:

D-162

مقناطیسی مادی اشیا کو ،موٹے طورپر ،اس طرح درجہ بند کیاجاتا ہے:ڈایامقناطیسی،پارا مقناطیسی اور لوہ مقناطیسی۔ڈایامقناطیسی مادی اشیا کے لیےcکی قدر منفی اور چھوٹی ہوتی ہے،پارامقناطیسی مادی اشیا کے لیے اس کی قدر مثبت اور چھوٹی ہوتی ہے۔لوہ مقناطیسی مادی اشیا کے لیے cکی قدر بڑی ہوتی ہے اور ان کی خاصیت یہ ہے کہ ان کے لیےD-163کے درمیان رشتہ غیرخطی ہوتا ہے۔

10۔وہ اشیا جو،کمرہ درجہ حرارت پر،اپنی لوہ مقناطیسی خاصیت کو لمبے عرصے تک برقرار رکھتی ہیں،مستقل مقناطیس کہلاتی ہیں۔


ریمارک اکائیاں ابعاد طبع علامت طبعی مقدار
10
9
8
عددیہ
سمتیہ
سمتیہ
عددیہ
سمتیہ

سمتیہ
عددیہ
عددیہ
7
خالا آواز فضا کی سرایت پذیری
مقناطیسی میدان مقناطیسی امالہ مقناطیسی فلکس کثافت
مقناطیسی معیار اثر
مقناطیسی فلکس
مقناؤ

مقناطیسی شدت مقناطیسی میدان کی طاقت 
مقناطیسی میلانیت
 اضافی مقناطیسی سرایت پذیری 
مقناطیسی سرایت پذیری


قابل غور نکات

مقناطیسی مظاہر کی ایک اطمینان بخش تفہیم،1800عیسوی کے بعد، متحرک چارجوں/کرنٹ کی شکل میں حاصل ہوسکی۔لیکن مقناطیسوں کی سمتی خاصیت کا استعمال اس تفہیم سے دوہزار سال قبل سے ہورہا ہے۔اس لیے سائنسی تفہیم،تکنیکی استعمالات کے لیے کوئی لازمی شرط نہیںہے۔مثالی صورت میں،سائنس اور انجینئرنگ ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ چلتے ہیں۔ہر ایک دوسرے کو راہ دکھاتا ہے اور اس کی مدد کرتاہے۔

مقناطیسی یک قطبیے نہیںپائے جاتے۔اگر آپ ایک مقناطیس کے دوٹکڑے کردیںتو آپ کو دوچھوٹے مقناطیس ملیں گے۔دوسری طرف،مثبت اور منفی برقی چارج علاحدہ علاحدہ ملتے ہیں۔برقی چارج کی ایک اقل ترین اکائی (Smallest unit)پائی جاتی ہے،مثلاً الیکٹران کا چارج،جس کی قدر ہے:D-165،باقی تمام چارج اس اقل ترین اکائی چارج کے صحیح اضعاف(integral multiples)ہیں۔دوسرے الفاظ میں،چارج کی کوانٹم سازی ہوتی ہے۔ہم یہ نہیں جانتے کہ مقناطیسی یک قطبین کیوں نہیںپائے جاتے اور برقی چارج کیوں کوانٹم شدہ ہے۔

مقناطیسی یک قطین کے نہ پائے جانے کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ مقناطیسی میدانی خطوط مسلسل ہوتے ہیں اور بندلوپ تشکیل دیتے ہیں۔اس کے برخلاف،برق–سکونی خطوط قوت ایک مثبت چارج سے شروع ہوتے ہیں اور منفی چارج پر ختم ہوتے ہیں[یا لاانتہاپر]۔

زمین کے مقناطیسی میدان کی وجہ،اس کے مرکز پر رکھا ہوا کوئی بہت بڑا چھڑ مقناطیس نہیں ہے۔زمین کا قالب گرم اور پگھلا ہوا ہے۔شاید قالب میں بہنے والے انتقالی کرنٹ،زمین کا مقناطیسی میدان پیدا کرنے کے ذمہ دارہیں۔کون سا’’ڈائی نیمواثر‘‘اس کرنٹ کو برقرار رکھتا ہے اور زمین تقریباً ہر دس لاکھ برس کے بعد اپنی قطبیت کیوں تبدیل کرلیتی ہے،ہم نہیں جانتے۔

مقناطیسی میلانیتcمیں ایک معمولی سافرق بالکل مختلف برتائو پیداکردیتا ہے:ڈایامقناطیسی برخلاف پارامقناطیسی ڈایامقناطیسی مادی اشیا کے لیے:x = 10-5،جب کہ پارا مقناطیسی مادی اشیا کے لیے،x = -10-5،

ایک کامل ڈایامقناطیس پایاجاتاہے،جس کا نام ہے اعلیٰ موصل(Super Conductor)۔یہ ایک دھات ہوتی ہے،جس کا درجہ حرارت بہت ہی کم ہوتا ہے۔اس صورت میں:x=1,µr = o, µ= oD-167باہری مقناطیسی میدان مکمل طورپر باہر دھکیل دیاجاتا ہے،ایسی مادی اشیا کامل موصل بھی ہوتی ہیں۔لیکن ایسا کوئی کلاسیکی نظریہ نہیں ہے جو ان دونوںخاصیتوں کو ایک ساتھ منسلک کرسکے۔بارڈین(Bardeen)، کوپر(Cooper)اورشری فر(Schrieffer)کاکوانٹم میکانیاتی نظریہ(BCSنظریہ)ان اثرات کی وضاحت کرتا ہے۔BCSنظریہ1957میں پیش کیاگیا اور آخر کار1970میں اس نظریہ کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے ان تینوں افراد کو نوبل انعام سے نوازاگیا۔

مقناطیسی پس ماندگی کا مظہر،مادی ایشا کی لچکیلی خاصیتوں کے ملتے جلتے برتائو کی طرح ہے۔ہوسکتا ہے،بگاڑ(Strain)ذرر(Stress)کے متناسب نہ ہو،یہاںD-168خطی رشتے میںمنسلک نہیں ہیں۔ذرر–بگاڑ منحنی،پس ماندگی ظاہر کرتا ہے اور اس کے ذریعے گھیراگیا رقبہ،اسراف شدہ توانائی فی اکائی حجم ظاہر کرتا ہے۔اسی طرحB–Hمقناطیسی پس ماندگی منحنی کی توضیح کی جاسکتی ہے۔

ڈایامقناطیسیت آفاقی ہے۔یہ ہرمادی شے میںپائی جاتی ہے۔لیکن اگر شے پارایا لوہ مقناطیسی ہو تو یہ بہت کمزور ہوتی ہے اور بہت مشکل سے پتہ کی جاسکتی ہے۔

ہم نے مادی اشیا کی درجہ بندی،بطورڈایا مقناطیسی،پارامقناطیسی اور لوہ مقناطیسی کی ہے۔لیکن مقناطیسی مادی اشیا کی دیگر قسمیں بھی پائی جاتی ہیں،جیسے فیری مقناطیسی،اینٹی لوہ مقناطیسی،اسپن گلاس وغیرہ جن کی خاصیتیں عجیب وغریب اور ناقابل فہم ہیں۔

مشق

5.1 زمین کی مقناطیسیت سے متعلق مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے:

    (a) ایک سمتیہ کو متعین کرنے کے لیے تین مقداریں درکار ہوتی ہیں۔ان تین غیر تابع مقداروں کے نام بتائیے جو زمین کے مقناطیسی میدان کا تعین کرنے کے لیے عام طورسے استعمال کی جاتی ہیں۔

    (b) جنوبی ہند کے ایک مقام پر زاویہ میلان(angle of dip)تقریباً18ºہے۔آپ کے خیال میں برطانیہ میں زاویہ میلان اس سے زیادہ ہوگا یا کم۔

    (c) اگر آپ ملبورن (آسٹریلیا)کے مقناطیسی میدانی خطوط کا نقشہ بنائیں تو میدانی خطوط زمین میں اندر جاتے ہوتے معلوم ہوں گے یا زمین سے باہر آتے ہوئے؟

    (d) ایسا قطب نما جو ایک راسی مستوی میں حرکت کرنے کے لیے آزاد ہو،کس سمت کی نشاندہی کرے گا،اگروہ ٹھیک ارض مقناطیسی شمالی یا جنوبی قطب پر ہو۔

    (e) یہ دعویٰ کیاجاتا ہے کہ زمین کا مقناطیی میدان،تقریباً اس دو قطبیہ کے مقناطیسی میدان کے برابر ہے،جس کا مقناطیسی معیارِاثرD-169ہے اور جو زمین کے مرکز پر واقع ہے۔کسی طورپر اس عدد کے عددی قدر کے درجے کی جانچ کیجیے۔

    (f) ماہرین ارضیات کا دعویٰ ہے کہ مخصوص مقناطیسیN–Sقطبین کے علاوہ سطح زمین پر کئی مقامی قطبین ہیں جن کی تشریق مختلف سمتوں میں ہے۔ایسی کوئی بات کس طرح ممکن ہے؟

5.2 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے:

    (a) زمین کا مقناطیسی میدان فضا میں ایک نقطے سے دوسرے نقطے پر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔کیایہ وقت کے ساتھ بھی تبدیل ہوتا ہے؟اگرہاں تو یہ قابل لحاظ حد تک وقت کے کس پیمانے پر تبدیل ہوتا ہے؟

     (b) یہ معلوم ہے کہ زمین کے قالب میںلوہاپایاجاتا ہے۔لیکن پھر بھی ماہرین ارضیات اسے زمین کی مقناطیسیت کا وسیلہ تسلیم نہیں کرتے۔کیوں؟

نوٹ: مشق5.2 آپ کے تجسس کو ابھارنے کے لیے دی گئی ہے۔ کچھ مندرجہ بالا سوالوں کے جواب آزمائشی یا نامعلوم ہیں۔ یہاں ممکن ہو سکا ہے، آخر میں مختصر جواب فراہم کیے گئے ہیں۔ تفصیل کے لیے آپ ارضی مقناطیسیت کی کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کر یں۔

     (c) یہ سمجھاجاتا ہے کہ زمین کے قالب کے باہری ایصالی علاقوں میںچارج کرنٹ زمین کی مقناطیسیت کے لیے ذمہ دارہیں۔ان کرنٹوں کو برقرار رکھنے کے لیے بیٹری (توانائی کا وسیلہ )کیا ہوسکتی ہے؟

     (d) پچھلے 4سے5ارب(billion)سالوں کی اپنی تاریخ میں زمین اپنے مقناطیسی میدان کی سمت کئی مرتبہ تبدیل (مخالف سمت میں)کرچکی ہے۔ماہرین ارضیات کو اتنا عرصہ پہلے کے زمین کے مقناطیسی میدان کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟

     (e) زمین کا مقناطیسی میدان،بڑے فاصلوں پر(30,000kmسے زیادہ)اپنی دو قطبی شکل سے کافی مختلف ہوتا ہے۔اس خرابی کی ذمہ دارکون سی ایجنسیاں ہیں؟

     (f) بین انجمی فضا میں،D-170کے درجہ کا بہت ہی کمزور مقناطیسی میدان پایاجاتا ہے۔کیا اتنے کمزور میدان کا بھی کوئی قابل لحاظ اثر پڑسکتا ہے؟وضاحت کیجیے۔

[نوٹ:مشق5.2خاص طورسے آپ کی جاننے کی خواہش کو بڑھاوادینے کے لیے دی گئی ہے۔اوپر دیے ہوئے کچھ سوالوں کے جواب غیر واضح ہیں یا معلوم نہیں ہیں۔جہاں ممکن ہے،مختصر جوابات کتاب کے آخر میں دیے گئے ہیں۔تفصیلات معلوم کرنے کے لیے آپ ارض مقناطیسیت کی کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کریں]

5.3 ایک مختصر چھڑ مقناطیس کو ایک 0.25Tکے یکساں باہری مقناطیسی میدان میں اس طرح رکھاگیا کہ اس کامحور میدان کی سمت سے30ºکا زاویہ بناتا ہے تو اس پرD-171قدر کا قوت گردشہ لگتا ہے۔مقناطیس کے مقناطیسی معیارِاثر کی عددی قدر کیا ہے؟

5.4 ایک مختصر چھڑ مقناطیس،جس کا مقناطیسی معیارِاثر D-172کے یکساں مقناطیسی میدان میں رکھا گیا ہے۔اگر چھڑ میدان کے مستوی میں گردش کرنے کے لیے آزاد ہے،تو کون سی تشریق متطابق ہوگی؟

    (a)اس کے مستحکم توازن سے (b)اس کے غیر مستحکم توازن سے(c)ان میں سے ہر صورت میںمقناطیس کی وضعی توانائی کیاہوگی؟

5.5   80چکروں اورD-173تراشی رقبہ کے نزدیکی لپیٹوں والے سولی نائڈ میں3.0Aکرنٹ بہہ رہا ہے۔اس دائری سمت کی وضاحت کیجیے،جس میں سولی نائڈ بطور چھڑ مقناطیس کام کرے گا۔اس سے منسلک مقناطیسی معیارِاثر کیاہے؟

5.6 اگر مشق5.5میں بیان کیا گیا سولی نائڈ اپنی راسی سمت کے گردگھوم سکتا ہے اور 0.25Tکا ایک ہموار افقی مقناطیسی میدان لگایا جاتا ہے۔جب سولی نائڈ کا محور،لگائے گئے میدان کی سمت سے30ºکا زاویہ بناتا ہے تو سولی نائڈ پر لگ رہے قوت گردشہ کی عددی قدر کیا ہوگی؟

5.7 D-174مقناطیسی معیارِاثر کا ایک چھڑ مقناطیس،0.22Tکے ہموار مقناطیسی میدان کی سمت سے صف بند ہے۔

    (a) ایک باہری قوت گردشہ کے ذریعے مقناطیس کو اس طرح گھمانے میں،کہ اس کا مقناطیسی معیارِاثر صف بند ہوجائے 

(i) میدان کے عمودی سمت میں(b)میدان کی سمت کے مخالف سمت میں،کیاگیاکام کتنا ہوگا؟

(b) صورت(i)اور(ii)میںمقناطیس پر لگ رہا قوت گردشہ کتنا ہوگا؟

5.8 2000 چکروں اورD-175تراشی رقبہ کے نزدیکی لپیٹوں والے سولی نائڈ میں4.0Aکرنٹ بہہ رہا ہے۔اسے اس کے مرکز سے اس طرح لٹکایا گیا ہے کہ وہ ایک افقی مستوی میں گھوم سکتا ہے۔

     (a) سولی نائڈ سے منسلک مقناطیسی میعارِاثر کیا ہے؟

    (b) اگرD-176کا ،سولی نائڈ کی محور سے30ºکا زاویہ بنا تاہواایک ہموار افقی مقناطیسی میدان لگایاجائے تو سولی نائڈ پر لگ رہی قوت اور کام کررہا قوت گردشہ کیا ہوں گے؟

5.9 ایک16چکروں اور10cmنصف قطرکے دائری لچھے میں0.75Aکرنٹ بہہ رہا ہے۔وہD-177عددی قدر کے باہری میدان میں اس طرح رکھاہوا ہے کہ اس کامستوی میدان پر عمودہے۔لچھا اپنے مستوی میں میدان کی سمت کی عمودی سمت میںایک محور کے گردگھوم سکتا ہے۔جب لچھے کو ہلکا ساگھماکرچھوڑدیاجاتا ہے تو وہD-178کے تعدد(Frequency)کے ساتھ اپنے مستحکم توازن کے گرداحتراز کرتا ہے۔اپنے گردشی محورکے گردلچھے کا جمود معیارِاثر کیا ہے؟

5.10 ایک مقناطیسی سوئی،جو مقناطیسی میریڈین کے متوازی راسی مستوی میں گردش کرنے کے لیے آزاد ہے،اس کی شمالی نوک افقی خط کے ساتھ22ºکا زاویہ بناتے ہوئے نیچے کی جانب نشاندہی کرتی ہے۔اس مقام پر زمین کے مقناطیسی میدان کا افقیجز 0.35Gہے۔اس مقام پر زمین کے مقناطیسی میدان کی عددی قدر معلوم کیجیے۔

5.11 افریقہ میں ایک مقام پر،ایک قطب نما،جغرافیائی شمال سے12ºمغرب کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ایک میلان دائرہ(Dip Circle)کی مقناطیسی سوئی کی شمالی نوک،مقناطیسی میریڈین کے مستوی میں رکھے جانے پر،افقی خط سے60ºاوپر کی جانب اشارہ کرتی ہے۔زمین کے مقناطیسی میدان کے افقی جز کی قدر0.16Gہے۔اس مقام پر زمین کے میدان کی سمت اور عددی قدر بتائیے۔

5.12 ایک مختصر مقناطیسی چھڑ کا مقناطیسی معیارِاثرD-179ہے۔مقناطیس سے(a)محور پر (b)مقناطیس کے استوائی خطوط(عمودی ناصف)پر،10cmکے فاصلے پر پیداہونے والے مقناطیسی میدان کی سمت اور عددی قدر بتائیے۔

5.13 ایک افقی مستوی میں رکھی ہوئی مختصر مقناطیسی چھڑ کا محور،مقناطیسی شمال–جنوب سمت میں ہے۔نل نقطے،مقناطیس کے محور پر،مقناطیس کے مرکز سے14cmکے فاصلے پر ملتے ہیں۔اس مقام پر زمین کا مقناطیسی میدان 0.36Gہے اور زاویہ میلان صفر ہے۔مقناطیس کے مرکز سے جتنے فاصلے پر نل نقطے ہیں(14cm)،مرکز سے اتنے ہی فاصلے پر عمودی ناصف پر کل مقناطیسی میدان کیا ہوگا؟(نل نقطوںپر،ایک مقناطیس کی وجہ سے پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان،زمین کے مقناطیسی میدان کے افقی جز کے مساوی اور مخالف ہوتا ہے)

5.14 اگر مشق5.13کے چھڑ مقناطیس کو180ºسے گھما دیاجائے تو نئے نل نقطے کس مقام پر ہوں گے؟

5.15 ایک مختصر مقناطیسی چھڑ کو اس طرح رکھاگیا ہے کہ اس کا محور زمین کے مقناطیسی میدان کی سمت پر عمود ہے۔چھڑ کا مقناطیسی معیارِاثرD-180ہے۔مقناطیس کے مرکز سے کس فاصلے پر،ماحصل میدان زمین کے میدان کے ساتھ45ºکے زاویے پر جھکا ہوا ہے(a)اس کے عمودی ناصف پر(b)اس کے محورپر–اس مقام پر زمین کے میدان کی عددی قدر0.42Gہے۔شامل فاصلوں کے مقابلے میں مقناطیس کی لمبائی نظرانداز کردیجیے۔

اضافی مشق

5.16 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے۔

    (a) ایک پارا مقناطیسی نمونہ مقابلتاً زیادہ مقنائو کیوں ظاہر کرتا ہے،جب اسے ٹھنڈا کیا جاتاہے؟(اسی مقناطیسی میدان کے لیے)۔

    (b) اس کے برخلاف،ڈایامقناطیسیت ،درجہ حرارت کے تقریباً غیر تابع ہے۔کیوں؟

    (c) اگر ایک ٹوائڈ میںبسمتھ بطورقالب استعمال کیاجاتا ہے تو قالب خالی ہونے کے مقابلے میں،قالب میں میدان زیادہ ہوگا(معمولی سا)یاکم ہوگا(معمولی سا)۔

    (d) کیا ایک لوہ مقناطیسی مادی شے کی مقناطیسی سرایت پذیری،مقناطیسی میدان کے غیر تابع ہے؟اگر نہیں،تو،مقابلتاً میدان کی زیادہ،قدر کے لیے یہ زیادہ ہوگی یاکم۔

    (e) مقناطیسی میدانی خطوط،ہمیشہ لوہ مقناطیس کی سطح کے ہر نقطے پر ،تقریباً عمودی ہوتے ہیں۔(یہ حقیقت اس کے مشابہ ہے کہ برق–سکونی میدانی خطوط ایک موصل کی سطح کے ہر نقطے پر عمودی ہوتے ہیں)کیوں؟

    (f) ایک پارا مقناطیسی نمونے کا ازحدممکنہ(Maximmum Possible)مقنائو اسی درجہ کا ہوسکتا ہے،جس درجہ کا ایک لوہ مقناطیسی نمونے کا مقنائو ہوتا ہے؟

5.17 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے۔

    (a) ایک لوہ مقناطیس کے مقنائو منحنی کی غیررجعت پذیری(irreversibility)کی کیفیتی وضاحت،ڈومین تصویر کی بنیادپر کیجیے۔

    (b) ایک نرم لوہے کے ٹکڑے کے پس ماندگی منحنی کا رقبہ،ایک کاربن–اسٹیل کے ٹکڑے کے پس ماندگی منحنی کے رقبے کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔اگر مادی شے کو باربار مقنائو سائیکلوں سے گذاراجائے تو کون ساٹکڑا حرارت کا اسراف زیادہ کرے گا؟

     (c) ’’ایک نظام جو ایک پس ماندگی لوپ ظاہر کرتا ہے،جیسے کہ ایک لوہ مقناطیس،یادداشت محفوظ کرنے کا ایک آلہ ہے۔‘‘اس بیان کے مطلب کی وضاحت کیجیے۔

     (d) ایک کیسٹ پلیئر میںمقناطیسی ٹیپوں پر پرت چڑھانے کے لیے یا ایک کمپیوٹر میں’’یادداشت اسٹور(Memory Store)بنانے کے لیے،کس قسم کا لوہ مقناطیسی مادہ استعمال کیاجاتا ہے؟

     (e) فضا کے کسی خاص علاقے کو مقناطیسی میدان سے سپرشدہ کرناہے۔ایک طریقہ تجویز کیجیے۔

5.18 ایک لمبے مستقیم افقی کیبل میں2.5Aکرنٹ ہے،جس کی سمت10º، مغرب کے جنوب سے10ºمشرق کے شمال کی جانب ہے۔اس مقام کا مقناطیسی میریڈین،جغرافیائی میریڈین کے 10ºمغرب میں ہے۔اس مقام پر زمین کامقناطیسی میدان0.33Gہے اور زاویہ میلان صفر ہے۔تعدیلی نقطوں کے خط کا مقام بتائیے۔(کیبل کی موٹائی نظرانداز کردیجیے)۔[تعدیلی نقطوںپر،ایک کرنٹ بردار کیبل کی وجہ سے پید اہونے والامقناطیسی میدان،زمین کے مقناطیسی میدان کے افقی جز کے مساوی اور مخالف ہوتا ہے]

5.19 ایک مقام پر،ایک ٹیلی فون کیبل میں چارلمبے مستقیم افقی تارہیں،جن میں1.0کرنٹ،یکساں سمت،مشرق سے مغرب،میں بہہ رہا ہے۔اس مقام پر زمین کا مقناطیسی میدان 0.39Gہے اور زاویہ میلان35ºہے مقناطیسی عدول تقریباً صفر ہے۔کیبل سے4cmنیچے نقاط پر ماحصل مقناطیسی میدان کیاہیں؟

5.20 ایک قطب نما سوئی جو ایک افقی مستوی میں آزادانہ گھوم سکتی ہے،ایک30چکروں اور 12cmنصف قطر کے دائری لچھے کے مرکز پر رکھی گئی ہے۔لچھاایک راسی مستوی میں ہے جومقناطیسی میریڈین سے 45ºکا زاویہ بناتا ہے۔جب لچھے میں0.35Aکرنٹ ہے تو سوئی مغرب سے مشرق کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

      (a) اس مقام پر زمین کے مقناطیسی میدان کا افقی جزمعلوم کیجیے۔

      (b) لچھے میں کرنٹ کی سمت مخالف کردی جاتی ہے اور لچھے کو اپنے راسی محور کے گرد،اوپر سے دیکھنے پر گھڑی مخالف سمت میں،90ºکے زاویہ سے گھمایا جاتا ہے۔سوئی کی سمت کی پیشین گوئی کیجیے۔اس مقام پر مقناطیسی عدول صفر مان لیجیے۔

5.21 ایک مقناطیسی دوقطبیہ پر دو مقناطیسی میدان لگ رہے ہیں۔میدانوں کی سمتوں کے مابین زاویہ 60ºہے اور ان میں سے ایک میدان کی عددی قدرD-181ہے۔اگر دوقطبیہ اس میدان کے ساتھ15ºزاویہ پر مستحکم توازن میں آجاتا ہے تو دوسرے میدان کی عددی قدر کیا ہے؟

5.22 ایک یک توانائی والی(monoenergetic)الیکٹران بیٖم(18kev)پر،جو شروع میں افقی سمت میں ہے،0.04Gکا افقی مقناطیسی میدان،اس کی آغازی سمت پر عمود سمت میں لگایا جاتا ہے۔30cmفاصلے کے درمیان،بیم کے اوپریانیچے کی جانب انفراج کا تخمینہ لگائیے۔

[نوٹ:اس مشق میں آنکڑے اس طرح منتخب کیے گئے ہیںکہ جواب سے آپ کو ایک الیکٹران گن سے ٹی۔وی۔سیٹ تک،الیکٹران بیم کے حرکت کرنے میں زمین کے مقناطیسی میدان کے اثر کا اندازہ ہوسکے۔]

5.23 ایک پارامقناطیسی نمک کے نمونے میںD-182ایٹمی دوقطبیے ہیں،جن میں سے ہر ایک کا دوقطبی معیارِاثرD-183ہے۔نمونے کو ایک 0.64Tکے متجانس(یکساں)مقناطیسی میدان میں رکھاجاتا ہے اورD-184درجہ حرارت تک ٹھنڈا کیاجاتا ہے۔حاصل ہوئی مقناطیسی سیر شدگی کا درجہ15%ہے۔0.98Tکے مقناطیسی میدان اور2.8Kدرجہ حرارت پر،نمونے کا کل دو قطبی معیارِاثر کیاہوگا؟(کیوری کا قانون مان لیجیے)۔

5.24 اوسط نصف قطر15cmکے رولینڈرنگ(Rwoland ring)میں ایک لوہ مقناطیسی قالب پر لپٹے ہوئے تار کے3500چکر ہیں۔لوہ مقناطیسی مادے کی اضافی مقناطیسی سرایت پذیری800ہے۔1.2Aکے کرنٹ کے لیے قالب میں مقناطیسی میدان کیا ہے؟

5.25 ایک الیکٹران کے مقناطیسی معیارِاثر سمتیوں،D-185،جو بالترتیب،اسپن زاویائی معیارِحرکت D-186اور مداری زاویائی معیارِحرکت D-187سے منسلک ہیں،کی پیشین گوئی کوانٹم نظریہ نے کی[اور تجربات سے ان کی تصدیق،بہت زیادہ درستگیٔ صحت کے ساتھ،ہوئی]۔یہ دیے جاتے ہیں:

D-188

ان میں سے کون سارشتہ،کلاسیکی نظریہ سے جس نتیجے کی امید کی جاسکتی ہے،اس سے مطابقت رکھتا ہے؟کلاسیکی نتیجے کو مشتق کرنے کے لیے خاکہ پیش کیجیے۔