Skip to content
12-Tabiyaat-I(Physics)-008



باب چھ 

برق–مقناطیسی امالہ

 (ELECTROMAGNETIC INDUCTION) 

6.1تعارف(INTRODUCTION) 

ؓبہت عرصے تک برق اور مقناطیسیت کو ایک دوسرے سے جدا اور غیر متعلق مضامین سمجھا جاتارہا۔انیسویں صدی کی شروع کی دہائیوں میں،اورسٹیڈ،ایمپیر اور کچھ دیگر افراد کے ذریعے برقی کرنٹ پر کیے گئے تجربات سے یہ حقیقت تسلیم ہوئی کہ برق اور مقناطیسیت باہم رشتہ میںمنسلک ہیں۔ان سائنسدانوں نے معلوم کیا کہ متحرک برقی چارج،مقناطیسی میدان پیدا کرتے ہیں۔مثلاً،ایک برقی کرنٹ اپنے نزدیک رکھی ہوئی مقناطیسی سوئی کی منفرج کرتا ہے۔اس مشاہدہ سے قدرتی طورپر کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں۔جیسے!کیا اس کا برعکس اثر ہونا ممکن ہے؟کیا متحرک مقناطیس برقی کرنٹ پیدا کرتے ہیں؟کیا قدرت برق اور مقناطیسیت کے درمیان ایسے رشتے کی اجازت دیتی ہے؟ جواب،پرزور’’ہاں‘‘ہے۔ 1830کے قریب،انگلستان میں مائیکل فیراڈے اور امریکامیں جوزف ہنری کے ذریعے کیے گئے تجربات نے قطعی طورپر مظاہرہ کرکے ثابت کردیا کہ جب بند لچھوں پر تبدیل ہوتا ہوا مقناطیسی میدان لگایا گیا تو ان میں برقی کرنٹوں کا امالہ ہوا۔اس باب میںہم تبدیل ہوئے مقناطیسی میدان سے منسلک مظاہر کا مطالعہ کریں گے اور ان کے اصول سمجھیں گے۔وہ مظہر جس میں برقی کرنٹ،مقناطیسی میدان کے تغیر کے ذریعے پیدا ہوتا ہے،بجاطورپر،برق–مقناطیسی امالہ (Electromagnetic Induction)کہلاتا ہے۔
جب فیراڈے نے اپنی اس دریافت کو سب سے پہلے عوام کے سامنے پیش کیا کہ ایک چھڑ مقناطیس اور ایک تارکے لوپ کے درمیان اضافی حرکت،آخرالذکر میں ایک خفیف کرنٹ پیدا کرتی ہے تو ان سے پوچھا گیا کہ ’’اس کا استعمال کیاہے؟‘‘ان کا جواب تھا:’’ایک نومولود بچے کا کیا استعمال ہے؟‘‘برق–مقناطیسی امالہ کا مظہر صرف نظری یا علمی دلچسپی کا باعث ہی نہیں ہے بلکہ اس کے بہت سے عملی استعمال ہیں۔ایسی دنیا کا تصور کیجیے،جس میں بجلی نہیں ہے،کوئی بجلی سے حاصل ہونے والی روشنی نہیں ہے،ریل گاڑیاں نہیں ہیں،ٹیلی فون نہیں ہیں،اور کوئی ذاتی کمپیوٹر نہیں ہے۔فیراڈے اور ہنری کے رہنمایانہ تجربات نے جدید دور کے جنریٹراور ٹرانسفارمر تیار کرنے کی براہِ راست راہ دکھائی۔آج کی جدید تہذیب اپنی ترقی کے لیے بڑی حد تک برق–مقناطیسی امالہ کی دریافت کی مرہون منت ہے۔


E-1
جوزف ہنری (1797 - 1978)امریکی تجرباتی طبیعات داں تھے ،جو پرنسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر تھے اور اسمتھ سیونین انسٹی ٹیوٹ کے پہلے ڈائریکٹر تھے ۔انھوں نے برقی مقناطیسوں میں اہم سدھار کیے ۔آپ نے حاجز کیے ہوئے تاروں کے لچھوں کو لوہے کے قطبی ٹکڑوں پر لپیٹا اور ایک برق ۔مقناطیسی موٹر ایجاد کیا ۔ آپ نے ایک نیا بہتر کارکردگی والا ٹیلی گراف بھی ایجاد کیا ۔آپ نے   خود امالیت دریافت کی اور تحقیق کی کہ ایک سرکٹ کے کرنٹ دوسرے سرکٹ میں کس طرح کرنٹ کا امالہ کرتے ہیں ۔


6.2فیراڈے اور ہنری کے تجربات

THE EXPERIMENTS OF FARADAY AND HENRY)

برق–مقناطیسی امالہ کی تفہیم اور دریافت،فیراڈے اور ہنری کے ذریعے کیے گئے تجربات کے ایک لمبے سلسلے پر مبنی ہے۔اب ہم،ان میں سے کچھ تجربات بیان کریں گے۔

تجربہ6.1

شکل6.1میں ایک کوائل 'C'دکھایا گیا ہے جو ایک گیلوونومیٹر سے جڑا ہوا ہے۔جب ایک چھڑ مقناطیس کے شمالی قطب کوکوائل کی جانب دھکیلا جاتا ہے،تو گیلوونومیٹر کی سوئی منفرج ہوجاتی ہے اور کوائل میںبرقی کرنٹ کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہے۔انفراج اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک چھڑ مقناطیس حرکت میںرہتا ہے۔گیلوونومیٹر اس وقت کوئی انفراج نہیں دکھاتاجب چھڑ مقناطیس ساکن رکھا جاتا ہے۔
E-2
شکل6.1جب چھڑ مقناطیس کو کوائل کی جانب دھکیلاجاتا ہے،تو گیلوونومیٹرGکی سوئی منفرجہوجاتی ہے۔


جب مقناطیس کو کوائل سے دور ہٹایا جاتا ہے،تو گیلوونومیٹر مخالف سمت میں انفراد دکھاتا ہے،جس سے کرنٹ کی سمت کی تبدیلی کی نشاندہی ہوتی ہے۔مزید یہ کہ جب چھڑ مقناطیس کے جنوبی قطب کو کوائل کے نزدیک یا کوائل سے دورلے جایاجاتا ہے،تو گیلوونومیٹر میں انفراج ان سمتوں کی مخالف سمتوں میں ہوتے ہیں،جن میں شمالی قطب کی یکساں حرکت سے ہوئے تھے۔مزید یہ کہ انفراج(اور اس لیے کرنٹ)اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب مقناطیس کو کوائل کے نزدیک یا اس سے دور زیادہ تیزی سے لایا یا دھکیلا جاتا ہے۔مزید یہ کہ اگر چھڑ مقناطیس کو اپنی جگہ قائم رکھاجائے اور کوائل کو مقناطیس کے نزدیک لایاجائے یا مقناطیس سے دورلے جایا جائے تو بھی یکساں مشاہدات ہوتے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقناطیس اور کوائل کے درمیان نسبتی(اضافی Relative) حرکت، دراصل‘ کوائل میں برقی کرنٹ پیدا کرنے(امالہ کرنے)کے لیے ذمہ دارہے۔
E-۳
شکل6.2کرنٹ بردار کوائلC2کے حرکت کرنے کی وجہ سے کوائلC1میں کرنٹ کا امالہ ہوتا ہے۔

تجربہ 6.2:

شکل6.2میں چھڑمقناطیس کی جگہ ایک دوسرا کوائل C2لیاگیا ہے جو ایک بیڑی سے جڑا ہوا ہے۔کوائلC2میں ایک قائم کرنٹ بہنے سے ایک قائم مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے۔جب کوائل C2کو کوائل C1کی جانب حرکت دی جاتی ہے،تو گیلوونومیٹر میں انفراج ظاہر ہوتا ہے۔یہ انفراج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کوائلC1میں برقی کرنٹ کا امالہ ہوا ہے۔جب C2کو دورہٹایاجاتا ہے تو گیلوونومیٹر میں دوبارہ انفراج ظاہرہوتا ہے،لیکن اس مرتبہ یہ مخالف سمت میں ہوتا ہے۔انفراج اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کوائلC2حرکت کرتا رہتا ہے۔جب کوائلC2کو اپنی جگہ قائم رکھاجاتا ہے اورC1کو حرکت دی جاتی ہے،تب بھی یہی مشاہدات ہوتے ہیں۔یعنی کہ یہ کوائلوں کے درمیان نسبتی(اضافی Relative)حرکت ہے جو برقی کرنٹ کا امالہ کررہی ہے۔

تجربہ 6.3

دونوں،مندرجہ بالا،تجربات میں،بالترتیب،ایک کوائل اور مقناطیس کے درمیان نسبتی حرکت اور دونوں کوائلوں کے درمیان نسبتی حرکت شامل تھیں۔ایک دوسرے کے تجربے کے ذریعے فیراڈے نے دکھایا کہ یہ ’’نسبتی حرکت‘‘کوئی لازمی شرط نہیں ہے۔شکل6.3میں دوکوائC1اورC2دکھائے گئے ہیں۔یہ دونوں کوائل حالت سکون میں رکھے گئے ہیں۔کوائلC1کو ایک گیلوونومیٹر Gسے جوڑا جاتا ہے جب کہ کوائلC2کو ایک ٹیپنگ کی(tapping Key)کے ذریعے ایک بیٹری سے جوڑاگیا ہے۔

E-6
یہ مشاہدہ کیا گیا کہ جب ٹیپنگ کی کودبایاجاتا ہے تو گیلوونومیٹر میں ایک لمحے کے لیے انفراج ہوتا ہے،اور پھر گلوونومیٹر کی سوئی فوراً ہی صفر پر واپس آجاتی ہے۔اگر کی کو لگاتار دبائے رکھاجائے ،تو گیلوونومیٹر میں کوئی انفراج نہیں ہوتا۔جب کی کو چھوڑا جاتا ہے،تو پھر ایک لمحے کے لیے انفراج دوبارہ دکھائی دیتا ہے،لیکن اب یہ مخالف سمت میں ہوتا ہے۔یہ بھی دیکھاگیا کہ اگر کوائلوں کے محور کی سمت میں ایک لوہے کی چھڑ لگادی جائے تو انفراج بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

6.3 مقناطیسی فلکس(MAGETIC FLUX)

ٖفیراڈے کے اِدراک کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انھوں نے جو برق–مقناطیسی امالیت پر سلسلہ وار تجربات کیے،ان سب کی وضاحت کرنے کے لیے ایک سادہ ریاضیاتی رشتہ دریافت کیا۔لیکن اس سے پہلے کہ ہم ان کے قانون بیان کریں اور ان قوانین کی اہمیت سمجھیں،ہمیں مقناطیسی فلکس 'ØB'کے تصور سے واقفیت ضرور حاصل کرلینا چاہیے۔مقناطیسی فلکس کی تعریف بھی اسی طرح کی جاتی ہے،جس طرح باب1میں برقی فلکس کی تعریف کی گئی تھی۔ایک رقبہAکے مستوی سے،جوہموار مقناطیسی میدان میں رکھاہے،گذرنے والا مقناطیسی فلکس(شکل6.4)لکھاجاسکتا ہے۔
E-8
E-10
شکل 6.4 ایک ہموار مقناچیسی میدان B میں رکھا ہوا سطحی رقبہ A کا ایک مستوری

جہاںE-11کے درمیان زاویہ ہے۔رقبہ بطور سمتیہ مقدار کے تصورسے باب1میںپہلے ہی بحث کی جاچکنی ہے۔مساوات 6.1کی توسیع کردی سطحوں اور غیر ہموار میدانوں کے لیے کی جاسکتی ہے۔
اگر مقناطیسی میدان کی عددی قدریںا ور سمتیں،سطح کے مختلف حصوں پر ،مختلف ہیں،جیسا کہ شکل6.5میں دکھایا گیا ہے،تو سطح سے گذرنے والا مقناطیسی فلکس ہے:
E-12
جہاں’all‘کا مطلب ہے ان تمام رقبہ اجزا(Area elements)پر جمع،جن پر سطح مشتمل ہے اورE-13،رقبہ جز پر مقناطیسی میدان ہے۔مقناطیسی فلکس کیSIاکائی ویبر[Weber (Wb)]یا ٹیسلا مربع میٹر[Tesla meter E-14 quard ہے۔مقناطیسی فلکس ایک عددیہ مقدار ہے۔
E-15
شکل 6.5 ith رقبہ جز پر مقناطیسی میدان 2 ith رقبہ جز کے رقبہ سمتیہ کو ظاہر کرتا ہے۔

6.4فیراڈے کا امالہ کا قانون(Faraday’s Law of Induction)

تجرباتی مشاہدات کے ذریعے،فیراڈے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک کوائل میں ا س وقت ایکemfکا امالہ ہوتا ہے جب کوائل میں سے گذرنے والا مقناطیسی فلکس،وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔حصہ6.2میں جوتجرباتی مشاہدات بیان کیے گئے ہیں،یہ تصور ان سب کی وضاحت کرسکتا ہے۔
تجربہ6.1میں ایک مقناطیس کو کوائلC1کے نزدیک لے جانے یا اس سے دور لے جانے سے اور تجربہ6.2میں ایک کرنٹ بردار کوائلC2کو دوسرے کوائلC1کے نزدیک یا اس سے دور لے جانے سے،کوائل C1سے منسلک مقناطیسی فلکس تبدیل ہوتا ہے۔مقناطیسی فلکس میں تبدیلی،کوائلC1میںemfکا امالہ کرتی ہے۔اور یہ امالہ ہوئی یہی emfتھی جس کی وجہ سے کوائلC1اور گیلوونومیٹر میں سے کرنٹ گذرا۔تجربہ6.3میںکیے گئے مشاہدات کی ایک ممکنہ توضیح مندرجہ ذیل ہے۔جب ٹیپنگ کی کودبایاجاتا ہے تو کوائلC2میں کرنٹ (اور اس کے نتیجے میں پیداہونے والامقناطیسی میدان)ایک مختصر وقفے میں،صفر سے بڑھ کر اپنی اعظم قدر(Maximum Value)تک پہنچ جاتا ہے۔اس کے نتیجے میں،اس کے قریب رکھے ہوئے کوائلC1میں سے گذرنے والا مقناطیسی فلکس بھی بڑھتا ہے۔اور کوائلC1میں سے گذرنے والے فلکس کی یہ تبدیلی ہی کوائلC2میں ایک امالیemfپیدا کرتی ہے۔جب کی کودبائے رکھا جاتا ہے تو کوائلC2میں کرنٹ کی مقدار مستقلہ رہتی ہے۔اس لیے،C1میں کرنٹ صفر پر پہنچ جاتا ہے۔جب کی کوچھوڑاجاتا ہے،توC2میں کرنٹ اور اس سے پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان کی قدر،ایک مختصر وقفے میں،اپنی اعظم قدر سے کم ہو کر صفر ہوجاتی ہے۔اس کے نتیجے میںکوائلC1میں پھر ایک بر قی کرنٹ کا امالہ ہوتا ہے۔ان تمام مشاہدات میں مشترک نکتہ یہ ہے کہ ایک سرکٹ سے گذرنے والے مقناطیسی فلکس کی تبدیلی کی شرح وقت اس سرکٹ میں کرنٹ کا امالہ کرتی ہے۔فیراڈے نے ان تجرباتی مشاہدات کو ایک قانون کی شکل میں بیان کیا،جو فیراڈے کا برق–مقناطیسی امالہ کا قانون کہلاتا ہے۔اس قانون کا بیان ہے:ایک سرکٹ میں امالہ ہوئیemfکی عددی قدر،اس سرکٹ سے گذررہے مقناطیسی فلکس کی تبدیلی شرح وقت،کے مساوی ہوتی ہے۔


E-16
مائیکل فیراڈے(1791—1867) فیراڈے نے سائنس میں کئی اہم ایجادات اور دریافتیں کیں:برقی ومقناطیسی امالہ کی دریافت،برق–پاشی کے قوانین،بینزین اور یہ رازدریافت کرنا کہ ایک برقی میدان میں تقطیب کا مستوی گھوم جاتا ہے۔برقی موٹر برقی جنریٹر اور ٹرانسفارمر کی ایجادات کاسہرا بھی انھیں کے سر ہے۔انھیں زیادہ تر لوگ انیسویںصدی کا سب سے عظیم سائنسداں مانتے ہیں۔


ریاضیاتی شکل میں،امالیاتیemfدی جاتی ہے:
(6.3)       ε = -  dØB / dt
منفی علامت،εکی سمت اور اس لیے ایک بند لوپ میں کرنٹ کی سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔اگلے حصے میں اس سے تفصیلی بحث کی جائے گی۔
قریب قریب لپٹے ہوئےNچکروں کے کوائل کے لیے،ہر چکر سے منسلک فلکس کی تبدیلی یکساں ہے۔اس لیے،کل امالیاتی emfکے لیے ریاضیاتی عبارت ہوگی:
(6.4)       ε = -  N  dØB / dt
ایک بند کوائل میں،چکروں کی تعدادNمیں اضافہ کرکے،امالیاتیemfمیں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔
مساوات(6.1)اور مساوات(6.2)سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ فلکسE-19اورq میں سے کسی ایک رکن یا ایک سے زیادہ رکن میں تبدیلی کرنے سے،تبدیل کیاجاسکتا ہے۔حصہ6.2میں بیان کیے گئے تجربات6.1اور6.2میں،فلکس،E-20کو بدل کر،تبدیل کیاگیا ہے۔ایک مقناطیسی میدان میں ایک کوائل کی شکل(shape)میں تبدیلی کرکے (یعنی اسے سیکٹر کریا پھیلاکر)بھی یا ایک کوائل کو مقناطیسی میدان میں اس طرح گھماکر بھی کہE-21کا درمیانی زاویہ تبدیل ہوجائے،ہم فلکس کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ان صورتوں میں بھی مناسبت رکھنے والے کوائلوں میں ایک emfکا امالہ ہوتا ہے۔

مثال6.1  تجربہ 6.2پر غورکیجیے:(a)آپ گیلوونومیٹر میں بڑا انفراج حاصل کرنے کے لیے کیاکریں گے؟(b)ایک گیلوونومیٹر کی غیر موجودگی میں آپ امالیاتی کرنٹ کی موجودگی کا مظاہرہ کیسے کریں گے؟

حل:

(a)   مقابلتاً زیادہ انفراج حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات میں سے کوئی ایک قدم یا ایک سے زیادہ اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں:(i)کوائلC2کے اندر نرم لوہے سے بنی چھڑاستعمال کیجیے(ii)کوائل کو ایک زیادہ طاقت ور بیٹری سے جوڑیے(iii)جانچ کوائلC1کی جانب دوسرے کوائل کو تیزی سے حرکت دیں ۔
(b)   گیلوونومیٹر کی جگہ ایک چھوٹا بلب استعمال کریں،جیسا بلب ایک چھوٹی ٹارچ میں استعمال ہوتا ہے۔دونوں کوائلوں کے درمیان نسبتی حرکت بلب کو روشن کردے گی اور اس طرح امالیاتی کرنٹ کی موجودگی کا مظاہرہ ہوجائے گا۔

مثال6.2- :10cmضلع اور 0.5Ω مزاحمت کا ایک مربع لوپ،مشرق-مغرب مستوی میں راسی طورپر رکھاگیا ہے۔0.10 Tکاایک ہموار مقناطیسی میدان،شمال-مشرق سمت میں مستوی پر لگایاگیا ہے۔مقناطیسی میدان کو ایک قائم شرح سے،0.70 sمیں،کم کرکے صفر کردیاگیا۔اس وقفہ وقت کے دوران پید اہونے والی امالیاتیemfاور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے امالیاتی کرنٹ کی عددی قدریں معلوم کیجیے۔
حل: لوپ کے رقبہ سمتیہ کے ذریعے مقناطیسی میدان سے بنایاگیا زاویہE-25ہے۔مساوات(6.1)سے آغازی مقناطیسی فلکسΦہے:
E-27
فلکس میں یہ تبدیلی0.70 sمیں کی گئی ہے۔مساوات(6.3)سے،امالیاتیemfکی عددی قدر،دی جاتی ہے:
E-28
اورکرنٹ کی عددی قدر ہے:
E-29
نوٹ کریں کہ زمین کے مقناطیسی میدان کی وجہ سے بھی لوپ میں سے ایک فلکس گذرتا ہے۔لیکن یہ ایک قائم میدان ہے(جوتجربہ میں لگنے والے وقت کے دوران تبدیل نہیں ہوتا)‘ اس لیے کسیemfکا امالہ نہیں کرتا۔
مثال6.3:نصف قطر10 cm، 500چکروں اور  2 Wمزاحمت والے ایک دائری کوائل کو اس طرح رکھاگیا ہے کہ اس کا مستوی،زمین کے مقناطیسی میدان کے افقی جز پر،عمود ہے۔اسے0.25 sمیں،اس کے راسی قطر کے گرد،180ºسے گھمایاجاتا ہے۔کوائل میں امالہ ہوئیemfاور اس کے ساتھ امالہ ہوئے کرنٹ کی عددی قدریں معلوم کیجیے۔اس مقام پر زمین کے مقناطیسی میدان کے افقی جز کی قدرE-30ہے۔
حل: کوائل میں سے گذرنے والا آغازی فلکس
3
گھمانے کے بعد اختتامی فلکس
4
اس لیے امالیاتی emf کی عددی قدر کا تخمینہ ہے:
5
نوٹ کریں ،کہeاورIکی یہ عددی قدریں،قدروں کا تخمینہ ہیں۔ان کی لمحاتی قدریں(Instantaneous Values)مختلف ہیں اورایک مخصوص لمحہ پر گردش کی رفتار کے تابع ہیں۔

6.5لینز کا قانون اور توانائی کاتحفظ

 (Lenz’s Law and Conservation of Energy)

1834میں،جرمن طبیعات داں،ہینرک فریڈرک لینز(Heinrich Friedrich Lenz)نے ایک قاعدہ اخذ کیا،جو لینز کا قانون(Lenz's Law)کہلاتا ہے۔یہ قانون امالہ شدہ emfکی قطبیت (Polarity)واضح اور ٹھوس شکل میں بتاتا ہے۔قانون کا بیان ہے:
امالہ ہوئیemfکی قطبیت اس طرح ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسا کرنٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے جو اس مقناطیسی فلکس میں تبدیلی کی مخالفت کرتا ہے،جس کی تبدیلی کی وجہ سے emfپید اہوئی ہے۔
E-32
شکل 6.6 لینز کے قانون کا تصویری اظہار

مساوات(6.3)میں دکھائی گئی منفی علامت یہی اثر ظاہر کرتی ہے۔ہم حصہ6.2.1میں دیے گئے تجربہ6.1کی جانچ کی مدد سے لینز کے قانون کو سمجھ سکتے ہیں۔شکل6.1میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک چھڑ مقناطیس کا شمالی قطب بند کوائل کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔جیسے جیسے چھڑ مقناطیس کا شمالی قطب کوائل کی جانب حرکت کرتا ہے،کوائل میں سے گذرنے والا مقناطیسی فلکس بڑھتا جاتا ہے۔اس لیے کوائل میں کرنٹ کا امالہ ایسی سمت میں ہوتا ہے کہ یہ فلکس میں اضافہ کی مخالفت کرتا ہے۔یہ اسی وقت ممکن ہے اگر کوائل میں کرنٹ،اس مشاہد کی مناسبت سے جو مقناطیس کی جانب کھڑا ہے،گھڑی مخالف سمت میں ہو۔نوٹ کریں کہ اس کرنٹ سے منسلک مقناطیسی معیارِاثر کی شمالی-قطبیت ہے۔اسی طرح،اگر مقناطیس کے شمالی قطب کوکوائل سے دور لے جایا جائے تو کوائل سے گذرنے والامقناطیسی فلکس کم ہوگا۔مقناطیسی فلکس میںہونے والی اس کمی کو پوار کرنے کے لیے،کوائل میں پیدا ہونے والا امالیاتی کرنٹ گھڑی کی سوئیوں کی سمت میں بہتاہے اور اس کا جنوبی قطب،چھڑ مقناطیسی کے دور ہوتے ہوئے شمالی قطب کے سامنے ہوتا ہے۔اس کے نتیجے میں ایک کششی قوت پیدا ہوگی جو مقناطیس کی حرکت اور اس کے متطابق فلکس میں ہونے والی کمی کی مخالفت کرے گی۔
 مندرجہ بالا مثال میں ایک بند لوپ کی جگہ اگر ایک کھلا سرکٹ استعمال کیاجائے ،تو کیاہوگا؟اس صورت میں بھی،سرکٹ کے کھلے سروں کے درمیان ایکemfکا امالہ ہوتا ہے۔امالہ ہوئیemfکی سمت،لینز کا قانون استعمال کرکے معلوم کی جاسکتی ہے۔شکلیں6.6(a)اور6.6(b)دیکھیے۔ان کی مدد سے امالہ ہوئے کرنٹ کی سمت کو زیادہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔نوٹ کریں کہE-33کے ذریعے امالہ ہوئے کرنٹوں کی سمتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اگر ہم اس معاملے پر ذرا ساغور کریں تو ہم لینز کے قانون کی درستگی صحت سے مطمئن ہوجائیں گے۔فرض کیجیے کہ امالہ ہوئے کرنٹ کی سمت،شکل6.6(a)میں دکھائی گئی سمت کے مخالف تھی۔اس صورت میں امالہ ہوئے کرنٹ کی وجہ سے بنا جنوبی قطب،مقناطیس کے نزدیک آتے شمالی قطب کے سامنے ہوگا۔تب چھڑمقناطیس،کوائل کی جانب،مستقل بڑھتے ہوئے اسراع کے ساتھ،کشش ہوگا۔مقناطیس کو اگر ایک ہلکا سا دھکا دے دیا جائے تو یہ عمل شروع ہوجائے گا اور مقناطیس کی رفتار اور حرکی توانائی،بنا کوئی توانائی خرچ کیے،لگاتار بڑھتی جائیں گی۔اگر ایسا ہونا ممکن ہوتا تو مناسب ترتیب کے ذریعے ایک دوامی حرکت(perpetual motion) مشین بنائی جاسکتی تھی۔یہ توانائی کی بقا کے قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس لیے ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔
اب وہ درست صورت دیکھیے جو شکل6.6(a)میں دکھائی گئی ہے۔اس صورت میں چھڑ مقناطیس، امالہ ہوئے کرنٹ کی وجہ سے ایک دفاعی قوت محسوس کرتا ہے۔اس لیے مقناطیس کو حرکت دینے والے شخص کو حرکت دینے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے۔اس شخص کے ذریعے صرف کی گئی توانائی کہاں جاتی ہے؟یہ توانائی،امالہ ہوئے کرنٹ کی وجہ سے پیدا ہوئی جول حرارت کے ذریعے سرف ہوجاتی ہے۔

مثال6.4

شکل6.7میں مختلف شکلوں کے مسطح لوپ(Planar Loops)،ایک ایسے میدان کے علاقے میں داخل ہوتے یا اس سے باہر جاتے دکھائے گئے ہیں،جس کی سمت لوپ کے مستوی پر عمود،قاری سے دور کی جانب ہے۔لینز کا قانون استعمال کرتے ہوئے ہر لوپ میں امالہ ہوئے کرنٹ کی سمت معلوم کیجیے۔
E-34

حل:

(i) مقناطیسی میدان کے علاقے میں اندرداخل ہونے کی حرکت کی وجہ سے مستطیل نما لوپ abcdمیں سے گذرنے والے مقناطیسی فلکس میں اضافہ ہوتا ہے۔اس لیے امالہ ہوئے کرنٹ کو راستہbcdabپر بہنا لازمی ہے تاکہ یہ بڑھتے ہوئے فلکس کی مخالفت کرسکے۔
(ii)  باہری سمت میں حرکت کرنے کی وجہ سے،مثلث نما لوپabcمیں سے گذرنے والا فلکس کم ہوتا ہے،جس کی وجہ سے امالہ ہوا کرنٹbacbپر بہتا ہے تاکہ فلکس میں تبدیلی کی مخالفت کرسکے۔
(iii) کیونکہ بے قاعدہ شکل والے لوپ میں سے گذرنے والا فلکس،لوپabcdکے مقناطیسی میدان کے علاقے سے باہر کی جانب حرکت کرنے کی وجہ سے،کم ہوتا ہے،امالہ ہوا کرنٹcdabcکی سمت میں بہتا ہے تاکہ فلکس میں تبدیلی کی مخالفت کرسکے۔
نوٹ کریں کہ لوپ جب تک مکمل طورپر مقناطیس میدان کے علاقے کے اندریا باہر ہیں،اس وقت تک کسی کرنٹ کا امالہ نہیں ہوگا۔

مثال6.5

(a) دو اپنی جگہ قائم رکھے گئے مستقل مقناطیسوں کے شمالی اور جنوبی قطبین کے درمیان،مقناطیسی میدان میں ایک بند لوپ کو ساکن رکھاجاتا ہے۔کیا ہم بہت زیادہ طاقت ور مقناطیس استعمال کرکے لوپ میں کرنٹ پیدا کرسکنے کی امید کرسکتے ہیں؟
(b) ایک بڑے کیپسٹر کی چادروں کے درمیان مستقل برقی میدان کی عمودی سمت میں ایک بند لوپ حرکت کرتا ہے۔کیا لوپ میںکسی کرنٹ کا امالہ ہوگا(i)جب یہ لوپ مکمل طورپر کیپسٹر کی چادروںکے درمیانی علاقہ میں ہے(ii)جب یہ لوپ جزوی طورپر کیپسٹر کی چادروں کے باہرہے؟برقی میدان،لوپ کے مستوی پر عمود ہے۔
(c) ایک مستطیل نما لوپ اور ایک دائری لوپ،ایک ہموار مقناطیسی میدان کے علاقے سے(شکل6.8)ایک میدان–آزاد علاقے کی طرف،مستقلہ رفتارE-35کے ساتھ حرکت کررہے ہیں۔آپ کس لوپ میں امید کرتے ہیں کہ میدان کے علاقے سے گذرنے کے دوران،امالہ ہوئیemfمستقلہ ہوگی؟میدان لوپ پر عمود ہے۔
E-36
(d) شکل6.9میں دکھائی گئی صورت میں کیپسٹر کی قطبیت کی پیشین گوئی کیجیے۔
E-37

حل:

(a)   نہیں-مقناطیس چاہے کتنا بھی طاقت ور ہو،کرنٹ صرف لوپ سے گذرنے والے مقناطیسی فلکس کو تبدیل کرکے ہی امالہ کیا جاسکتا ہے۔
(b)   دونوں صورتوں میں سے کسی میں بھی کرنٹ کا امالہ نہیں ہوتا۔کرنٹ کا امالہ ،برقی فلکس تبدیل کرکے نہیں کیا جاسکتا ہے۔
(c)  صرف مستطیل نما لوپ کے لیے امالہ ہوئیemfکے مستقلہ ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔دائری لوپ کے لیے،میدان کے علاقے سے باہر نکلنے کے دوران،لوپ کے رقبہ کی تبدیلی کی شرح مستقلہ نہیں ہے،اس لیے امالہ شدہemfبھی اس کے مطابق تبدیل ہوتی رہے گی۔
(d)   کیپسٹر میں چادرBکی مناسبت سے چادرAکی قطبیت مثبت ہوگی۔

6.6حرکتی برق محرک قوت  (Motional Electromotive Force)

ایک مستقیم موصل لیجیے جو ایک ہموار اور وقت-غیر تابع مقناطیسی میدان میں حرکت کررہا ہے۔شکل6.10میں ایک مستطیل نما موصلPQRSدکھایاگیا ہے،جس میں موصلPQحرکت کرسکتا ہے۔چھڑPQکو بائیں جانب مستقلہ رفتارE-40سے حرکت دی جاتی ہے،جیسا کہ شکل میں دکھاگیا گیا ہے۔یہ مان لیجیے کہ رگڑکی وجہ سے توانائی ضائع نہیں ہورہی ہے۔PQRSایک بند سرکٹ تشکیل دیتا ہے،جس سے گھرا رقبہ،PQکے حرکت کرنے کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔اسے ایک ہموار مقناطیسی میدان میں رکھا گیا ہے،جو کہ اس نظام کے مستوی پر عمود ہے۔اگرلمبائی:E-41،تو لوپPQRSسے گھرا مقناطیسی فلکسΦBہوگا۔

E-43
شکل : 6.10بازوPQکو بائیں جانب حرکت کر دی جاتی ہے، جس سے مستطیل نما لوپ کا رقبہ کم ہو جاتا ہے ۔ اس حرکت سے کرنٹ Iکا امالہ ہوتا ہے


شکل6.10بازوPQکو بائیں جانب حرکت دی جاتی ہے،جس سے مستطیل نما لوپ کا رقبہ کم ہوجاتا ہے۔اس حرکت سے کرنٹIکا امالہ ہوتا ہے۔

کیونکہx،وقت کے ساتھ تبدیل ہورہا ہے،اس لیے فلکسΦBکی تبدیلی کی شرح ایک emfکاامالہ کرے گی،جو دی جائے گی:
(ε = - dØB / dt =  - d / dt  (Blx
 (6.5)  Bl dx / dt = Blv -

جہاں ہم نےdx/dt = - v استعمال کیاہے،جو موصلPQکی چال ہے۔امالہ شدہemf،Bluحرکتی emf (Motional emf)کہلاتی ہے۔اس طرح ہم مقناطیسی میدان کو تبدیل کرنے کے بجائے ایک موصل کو حرکت دے کر بھی امالہ شدہemfپیدا کرسکتے ہیں،یعنی کہ سرکٹ سے گھرے ہوئے مقناطیسی فلکس کو تبدیل کرکے۔
مساوات(6.5)میں حرکتیemfکی ریاضیاتی عبارت کو موصلPQکے آزاد چارج برداروں پر لگ رہی لورینٹز قوت کا استعمال کرکے بھی سمجھاجاسکتا ہے۔موصلPQمیںکوئی بھی اختیاری چارجqلیجیے۔جب چھڑ چال v کے ساتھ حرکت کرتی ہے،تو چارج بھی،مقناطیسی میدانBمیں،چالUکے ساتھ حرکت کررہا ہوگا۔اس چارج پر لگ رہی لورینٹز قوت کی عددی قدرqvBہوگی اوراس کی سمتQکی جانب ہوگی۔تمام چارجوں پر یکساں قوت لگتی ہے،عددی قدر اور سمت دونوں کے لحاظ سے ،چاہے چھڑPQمیں ان کا مقام کوئی بھی ہو۔ اس لیے،چارج کوPسےQتک حرکت دینے میں کیا گیا کام ہے:
W = qvBl
کیونکہemf،کیا گیا کام فی اکائی چارج ہے،
ε = w/q
Blv =
یہ مساوات چھڑPQپر امالہ شدemfدیتی ہے اور مساوات(6.5)کے متماثل ہے۔ہم زور دے کر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہماری پیش کش مکمل طورپر پختہ نہیں ہے۔لیکن اس کی مدد سے،جب ایک موصل ایک ہموار اور وقت-غیر تابع مقناطیسی میدان میں حرکت کررہا ہو تو فیراڈے کے قانون کی بنیاد کو سمجھاجاسکتا ہے۔
دوسری طرف،یہ واضح نہیں ہے کہ جب موصل ساکن ہوتا ہے ا ور مقناطیسی میدان تبدیل ہورہا ہوتا ہے تو ایکemfکا امالہ کیسے ہوتا ہے،جس حقیقت کی تصدیق فیراڈے نے اپنے کئی تجربات کے ذریعے کی۔ایک ساکن موصل کے لیے،اس کے چارجوں پر لگ رہی قوت ہے:
E-48
کیونکہE-49،اس لیے چارج پر لگ رہی کوئی بھی قوت،صرف برقی میدان رکن سے ہی پیدا ہونی چاہیے۔اس لیے امالہ شدہemfیا امالہ شدہ کرنٹ کی موجودگی کی وضاحت کرنے کے لیے یہ فرض کرنا لازمی ہوگا کہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہوا مقناطیسی میدان،ایک برقی میدان پید اکرتا ہے۔لیکن یہاں ہم یہ اضافہ فوراً ہی کرنا چاہیں گے کہ ساکن برقی چارجوں کے ذریعے پیدا ہوئے برقی میدانوں کی خاصیتیں،وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے مقناطیسی میدانوں کے ذریعے پید اہوئے برقی میدانوں سے مختلف ہوتی ہیں۔باب4میں ہم نے پڑھا تھا کہ متحرک چارج(کرنٹ)ایک ساکن مقناطیس پر قوت/قوت گردشہ لگاسکتے ہیں۔اس کے برعکس،ایک حرکت کرتا ہوا چھڑ مقناطیس (یا زیادہ عمومی شکل میں،ایک بدلتا ہوا مقناطیسی میدان)ایک ساکن چارج پر قوت لگاسکتا ہے۔یہ فیراڈے کی دریافت کی بنیادی اہمیت ہے۔برق اور مقناطیسیت میں آپسی رشتہ ہے۔

مثال6.6-:1mلمبی ایک دھاتی چھڑ ہے،جس کا ایک سرا،1mنصف قطر کے دائری دھاتی چھلے کے مرکز پر اور دوسرا سرا اس چھلے کے محیط پر لگاہے۔اس چھڑ کو چھلے کے مرکز سے گذرتے ہوئے اور چھلے کے مستوی پر عمود محور کے گرد50rev/sکے تعدد(Frequency)سے گھمایا گیا(شکل6.11)۔محور کے متوازی،ITکا مقناطیسی میدان ہر جگہ موجود ہے۔مرکز اور دھاتی چھلے کے درمیانemfکیا ہے؟

حل:

طریقہ1:
جب چھڑ کو گھمایا جاتا ہے،تو چھڑ کے آزاد الیکٹران،لورینٹزقوت کی وجہ سے،باہری سرے کی جانب حرکت کرتے ہیںاور چھلے پر تقسیم ہوجاتے ہیں۔اس طرح چارجوں میںپیداہوئی دوری چھڑکے سروں کے درمیان ایک emfپیدا کرتی ہے۔emfکی ایک مخصوص قدر

E-50

 پر،الیکٹرانوں کا مزید بہائو نہیں ہوتااور ایک قائم حالت (steady state)حاصل ہوتی ہے۔مساوات(6.5)استعمال کرتے ہوئے،چھڑ کی لمبائیdrپرپیداہوئیemfکی عددی قدر،جب کہ چھڑ مقناطیسی میدان سے قائم زاویہ بناتے ہوئے حرکت کرتی ہے،دی جاتی ہے:
E-51

طریقہII

emf کا حساب لگانے کے لیے ہم ایک بند وپOPQتصور کرسکتے ہیں،جس میں نقطہOاورنقطہPایک مزاحمہ Rسے جڑے ہوئے ہیں اورOQایک گھومنے والی چھڑ ہے۔پھر مزاحمہ کے سروں کے درمیان مضمر فرق،امالہ شدemfکے مساوی ہے جو(لوپ کے رقبے کی تبدیلی کی شرح)E-52کے مساوی ہے۔اگر چھڑاور وقتtپر دائرہ کے نصف قطر کے نقطہ Pکے درمیان زاویہ qہے،تو قطعہ(سیکٹرSector)OPQکا رقبہ ہے:
π R2 θ 2π = 1/2 R2θ
جہاںR،دائرہ کا نصف قطرہے۔اس لیے امالہ شدہemfہے:
ε = B× d/ dt [1/2 R2]=1/2 BR2 dθ / dt = BwR2 / 2
[نوٹ کریں: dθ / dt = w = 2π v]]
یہ ریاضیاتی عبارت،طریقہ1سے حاصل کی گئی ریاضیاتی عبارت کے متماثل ہے اور ہمیں eکی یکساں قدر حاصل ہوتی ہے۔

مثال6.7

ایک پہیہ،جس میں 10دھاتی کیلیں لگی ہوئی ہیں اور ہر کیل کی لمبائی0.5mہے،120rev/minکی چال سے،زمین کے مقناطیسی میدان کے افقی جزHEکی عمودی سمت میں،گھمایا جاتا ہے۔اگر اس مقام پرHE = 0.4 G ،توپہیے کے رِم اور دھرے کے درمیان امالہ شدہ emfکیاہے؟نوٹ کریں: 1G = 10-4 T

حل: 

E-59
کیلوں کی تعداد بے معنی ہے،کیونکہ کیلوں پرemfsمتوازی ہیں۔

6.7 توانائی کی بقا:ایک مقداری مطالعہ

(Energy Consideration: A Quantitative Study)

حصہ 6.5میں ہم نے کیفیتی طورپر بحث کی تھی کہ لینزکا قانون،توانائی کی بقا کے قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔اب ہم ایک ٹھوس مثال کی مدد سے اس پہلو کی مزید تحقیق کریں گے۔
فرض کیجیے شکل6.10میں دکھائے گئے حرکت کرسکنے والے مستطیل نما موصل کے بازوPQکی مزاحمت ’r‘ہے۔ہم فرض کرلیتے ہیں کہ دیگر بازوئوں:QR،RSاور SPکی مزاحمتیں،rکے مقابلے میں نظرانداز کی جاسکتی ہیں۔اس لیے مستطیل نما لوپ کی مجموعی مزاحمتrہے اورPQکے حرکت کرنے سے یہ تبدیل نہیں ہوتی۔لوپ میں بہہ رہا کرنٹIہے:
I = ε/r
(6.7)  Blv/r = 
مقناطیسی میدان کی موجودگی کی وجہ سے،بازوPQپر ایک قوت لگے گی۔یہ قوتE-61باہر کی جانب،چھڑکی رفتار کی مخالف سمت میں ہے۔اس قوت کی عددی قدر ہے:
F = I l B = B2l2v/r
جہاںہم نے مساوات(6.7)استعمال کی ہے۔نوٹ کریں کہ یہ قوت چھڑ پر چارجوں کی بادآور رفتار(Drift Velocity)(کرنٹ کے لیے ذمہ دار)اور اس کے نتیجے میںان پر لگ رہی لورینٹز قوت سے پیدا ہوتی ہے۔
متبادل طورپر،بازوPQ،ایک مستقلہ چالvسے دھکیلی جارہی ہے۔ایسا کرنے کے لیے درکار پاور ہے:
P = Fv 
(6.8)  B2l2v2/r =
وہ ایجنٹ جو یہ کام کرتا ہے،میکانیکی ہے۔یہ میکانیکی توانائی کہاں چلی جاتی ہے؟جواب ہے :یہ جول حرارت کے بطور اسراف شدہ توانائی(Dissipated energy)ہے،اور یہ دی جاتی ہے:
E-64
جو مساوات(6.8)کے متماثل ہے۔
اس لیے،وہ میکانیکی توانائی جو بازوPQکو حرکت دینے کے لیے درکار تھی،برقی توانائی(امالہ شدہemf)میں تبدیل ہوجاتی ہے اور پھر حرارتی توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
سرکٹ میں چارج کے بہائو اور مقناطیسی فلکس میں تبدیلی کے مابین ایک دلچسپ رشتہ ہے۔فیراڈے کے قانون سے،ہم سیکھ چکے ہیں کہ امالہ شدہ emfکی عددی قدر ہے:
E-65

مثال6.8:شکل6.12 (10)دیکھیے۔مستطیل نما موصل کے بازوPQکو،x=oسے باہر کی جانب حرکت دی گئی ہے۔ہموار مقناطیسی میدان،مستوی پر عمود ہے اورx=0سےx=bتک پھیلاہوا ہے اور x >bکے لیے صفر ہے۔صرف بازوPQمیں قابل لحاظ مزاحمت rہے۔وہ صورت لیجیے جب بازوPQکو چالvسے،x=0سےx=2bتک باہر کی جانب کھینچا گیا ہے اور پھرx=0پر واپس لایا گیا ہے۔فلکس،امالہ شدہemf،بازو کو کھینچنے کے لیے درکار قوت اور جول حرارت کے بطور اسراف شدہ توانائی کے لیے ریاضیاتی عبارتیں حاصل کیجیے۔فاصلہ کے ساتھ ان مقداروں کی تبدیلی کا نقشہ کھینچئے۔

E-66
حل:پہلے ہم آگے کی جانبx=oسےx=2bتک حرکت لیتے ہیں۔
سرکٹSPQRسے منسلک فلکسΦBہے۔
ØB = Blx           0≤ x< b
Blb              b≤ x< 2b =
امالہ شدہ emf ہے
ε = - dØB /dt
Blv       0≤ x<  b - =
 b≤ x < 2b           =
جب امالہ شدہemfغیر صفر ہے،تو کرنٹI(عددی قدر)ہے:
I = Blv / r
بازو PQکو لگاتار حرکت میں رکھنے لیے درکار قوتIlBہے۔اس کی سمت بائیں جانب ہے۔عددی قدر میں،
F = B2l2v / r     0 ≤ x < b
0    b ≤ x < 2b  =
جول حرارتی نقصان ہے
PJ  I2r
B2l2v2  / r   0 ≤x < b =
0b ≤ x < 2b =



E-72
x=2bسےx=0تک کی اندر کی جانب حرکت کے لیے بھی یکساں ریاضیاتی عبارتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔
شکل6.12(b)میں دکھائے گئے نقشے   کو دیکھ کر پورے عمل کو سمجھا جاسکتا ہے۔

6.8  ایڈی کرنٹ(Eddy Currents)

اب تک ہم نے ان برقی کرنٹوں کا مطالعہ کیاہے جو دائری لوپ جیسے موصلوں میں،بخوبی معروف راستوں میں امالہ ہوتے ہیں۔جب موصلوں کے حجمی ٹکڑوں پر بھی تبدیل ہوتے ہوئے مقناطیسی فلکس اثر انداز ہوتے ہیں،تب ان میں بھی امالہ شدہ کرنٹ پیدا ہوتے ہیں۔لیکن ان کے بہائو کا انداز پانی میں چکراتے ہوئے گرداب(بھنورeddies)جیسا ہوتا ہے۔یہ اثر طبیعات داں فوکالٹ(Foucault [1819—1868]) نے دریافت کیااور یہ کرنٹ گردابی کرنٹ(ایڈی کرنٹeddy currents)کہلاتے ہیں۔
شکل6.13میں دکھائے گئے تجرباتی سامان(Apparatus)کودیکھیے۔ایک تانبہ کی چادر کو ایک طاقت ور مقناطیس کے قطبین کے درمیان ایک سادہ پینڈولم کی طرح جھولنے دیاجاتا ہے۔یہ پتہ چلا ہے کہ چادر کی یہ حرکت قعری(Damped)ہوتی ہے اور کچھ ہی دیر میں چادر مقناطیسی میدان میں رک جاتی ہے۔ہم اس مظہر کی،برق–مقناطیسی امالہ کی بنیاد پر،وضاحت کرسکتے ہیں۔جیسے جیسے چادر مقناطیسی قطبین کے درمیانی علاقے میں اندر داخل ہوتی ہے اور اس علاقے سے باہر حرکت کرتی ہے،چادر سے منسلک مقناطیسی فلکس تبدیل ہوتارہتا ہے۔فلکس کی یہ تبدیلی چادر میں ایڈی کرنٹ کا امالہ کرتی ہے۔جب چادر قطبین کے درمیانی علاقے میں داخل ہوتی ہے اور جب وہ اس علاقے سے باہر نکلتی ہے تو ایڈی کرنٹوں کی سمتیں مخالف ہوتی ہیں۔

E-73
شکل6.13مقناطیسی میدان کے علاقے میں داخل ہوتے ہوئے اور اس علاقے سے باہر نکلتے ہوئے،تانبہ کی چادر میں ایڈی کرنٹ پیدا ہوتے ہیں۔


جیسا کہ شکل6.14میں دکھایا گیا ہے،اگر تانبہ کی چادرمیں مستطیل نماکھانچے(Slots)بنادیے جائیں تو ایڈی کرنٹوں کے بہنے کے لیے موجود رقبہ کم ہوجاتا ہے۔اس لیے سوراخوں یا کھانچوں والی پینڈولم چادر برق–مقناطیسی قعر(Electromagnetic damping)کو کم کردیتی ہے اور چادر زیادہ آزادانہ طورپر جھولنے لگتی ہے۔نوٹ کریں کہ امالہ شدہ کرنٹ کے مقناطیسی معیارِاثر (جو حرکت کی مخالفت کرتے ہیں)کرنٹوں سے گھرے ہوئے رقبے کے تابع ہیں[یادکریں،مساوات:E-74(باب4)]۔
ایسے آلات میں،جن میں ایک دھاتی قالب پر کوائل لپیٹا جاتا ہے،جیسے برقی موٹر،ٹرانسفارمر وغیرہ، یہ طریقہ ان کے دھاتی قالب میں ایڈی کرنٹوں کو کم کرنے میں مدد گار ہے۔ایڈی کرنٹ ناپسندیدہ ہیں،کیونکہ وہ قالب کو گرم کردیتے ہیں اور برقی توانائی کا حرارتی توانائی کی شکل میں اسراف کرتے ہیں۔ایڈی کرنٹوں کو کم ترین کرنے کے لیے،دھاتی قالب،دھات کے ورقوں کو استعمال کرکے بنایا جاتا ہے۔ان ورقوں کو ایک حاجز مادے جیسے لیکر(Lacquer) کے ذریعے ایک دوسرے سے علاحدہ کیاجاتا ہے۔ان ورقوں کے مستوی کو مقناطیسی میدان کے متوازی رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ ایڈی کرنٹوں کے راستوں کو قطع کرسکیں۔اس طرح کے انتظام سے ایڈی کرنٹوں کی طاقت کم ہوجاتی ہے۔کیونکہ برقی توانائی کا حرارت میںا سراف،برقی کرنٹ کی شدت کے مربع کے تابع ہے،حرارتی زیاں قابل لحاظ حد تک کم ہوجاتا ہے۔کچھ استعمالوں میں ایڈی کرنٹوں سے فائدہ بھی اٹھایا جاتا ہے،جیسے:

E-75
شکل6.14تانبہ کی چادر میں کھانچے(Slots)بنادینے سے ایڈی کرنٹ کا اثر کم ہوجاتا ہے۔


(i) ریل گاڑیوں میں مقناطیسی بریک:کچھ بجلی سے چلنے والی ریل گاڑیوں میں پٹریوں کے اوپر طاقت ور برقی مقناطیس لگائے جاتے ہیں۔جب برقی مقناطیسوں کو فعال کیاجاتا ہے،تو پٹریوں میں امالہ شدہ ایڈی کرنٹ،ریل گاڑی کی حرکت کی مخالفت کرتے ہیں۔کیونکہ یہاں کوئی میکانیکی واسطے نہیں ہیں،اس لیے بریک لگنے کا اثر ہموار ہوتا ہے اور جھٹکے نہیں محسوس ہوتے۔
(ii) برق–مقناطیسی قعر:بعض گیلوونومیٹروں میںایک جامد قالب ہوتا ہے جو غیر مقناطیسی دھاتی مادی شے کا بنا ہوتا ہے۔جب کوائل احتراز کرتا ہے توقالب میں پیداہوئے ایڈی کرنٹ اس حرکت کی مخالفت کرتے ہیں اور کوائل کو تیزی سے حالت سکون میں لے آتے ہیں۔
(iii) امالہ بھٹی:امالہ بھٹی(Induction furnace)بہت زیادہ درجہ حرارت پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے اور اس میں اجزا ترکیبی دھاتوں کو پگھلا کر بھرت تیار کیے جاتے سکتے ہیں۔جن دھاتوں کو پگھلانا ہے ان کے گرد لگائے گئے کوائل میں سے اونچے تعدد(High Frequency)کا متبادل کرنٹ گذاراجاتا ہے۔دھاتوں میں پیدا ہوئے ایڈی کرنٹ اتنا زیادہ درجہ حرارت پیدا کردیتے ہیں ،جو انھیں پگھلانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
(iv) برقی پاور میٹر:برقی پاور میٹر میں چمکتی ہوئی دھاتی قرص(Disc)(اینالوگ ٹائپ)ایڈی کرنٹ کی وجہ سے ہی گھومتی ہے۔ایک کوائل میں سائن خم نما تبدیل ہوتے ہوئے کرنٹوں کے ذریعے پیدا ہوئے مقناطیسی میدان سے قرص میں برقی کرنٹوں کا امالہ ہوتا ہے۔
آپ اپنے گھر کے پاور میٹر میںگھومتی ہوئی چمکدار ڈسک کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔

برق–مقناطیسی قعر 

مساوی اندرونی قطر کے دو کھوکھلے پتلے استوانی پائپ لیجیے،جن میں ایک المونیم کا بنا ہواور دوسرا PVCکا۔انھیں ایک اسٹینڈ پر کلیمپ(Clamp)کی مدد سے لگادیجیے۔ایک چھوٹا استوانی مقناطیس لیجیے،جس کا قطر پائپوں کے اندرونی قطرسے ذرا کم ہو اور اسے ہر پائپ میں سے اس طرح گرائیے کہ مقناطیس گرنے کے دوران پائپ کی دیواروں کو نہ چھوئے۔آپ دیکھیں گے کہ PVCپائپ میں سے گرائے جانے پر پائپ سے باہر آنے میںمقناطیس اتنا ہی وقت لیتا ہے،جتنا وہ اتنی ہی اونچائی سے بغیر پائپ سے گذرے نیچے آنے میں لیتا۔دونوں پائپوں میں سے گذرنے میںمقناطیس کو جتناوقت لگتا ہے اسے نوٹ کرلیجیے۔آپ دیکھیں گے کہ المونیم پائپ میں سے گذرنے میں مقناطیس کو مقابلتاً کہیں زیادہ وقت لگتا ہے۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟یہ ان ایڈی کرنٹوں کی وجہ سے ہے،جو المونیم پائپ میں پیدا ہوتے ہیں اور مقناطیسی فلکس میں تبدیلی ،یعنی کہ،مقناطیس کی حرکت،کی مخالفت کرتے ہیں۔ایڈی کرنٹ کی وجہ سے لگنے والی ابطائی قوت مقناطیس کی حرکت کو روکتی ہے۔ایسے مظاہر برق–مقناطیسی قعر کہلاتے ہیں۔نوٹ کریں کہ PVCپائپ میں ایڈی کرنٹ نہیں پیداہوتے کیونکہPVCایک حاجز مادی شے ہے جب کہ المونیم ایک موصل ہے۔


6.9امالیت(Inductance)

ایک کوائل میں برقی کرنٹ کا امالہ،ایک اس کے قریب رکھے دوسرے کوائل کے ذریعے پیدا کی گئی فلکس تبدیلی سے اور اسی کوائل کے ذریعے پیدا کی گئی فلکس تبدیلی سے،کیا جاسکتا ہے۔یہ دونوں حالیتیں اگلے دوحصوں میں علاحدہ علاحدہ بیان کی گئی ہیں۔لیکن،ان دونوں صورتوں میں،ایک کوائل سے گذرنے والا فلکس ،کرنٹ کے متناسب ہے۔یعنی کہ،ΦB α I
اگر کوائل کی جیومیٹری وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہورہی ہے تو
(dØB/ dt ∝ dI /dt)

ایک قریب قریب لپٹے ہوئے Nچکروں کے کوائل کے لیے،ہر چکر سے یکساں مقناطیسی فلکس منسلک ہوتا ہے۔جب کوائل سے گذررہا فلکسØBتبدیل ہوتا ہے تو ہر چکر امالہ شدہemfمیں حصہ لیتا ہے۔اس لیے ایک اصطلاح’’فلکس بندھن‘‘(Flux Linkage)استعمال کی جاتی ہے جو ایک قریب قریب لپیٹوں والے کوائل کے لیےNØBکے مساوی ہے،اور ایسی صورت میں:
NØB ∝  I

اس رشتہ میں متناسبیت کا مستقلہ’’امالیت‘‘کہلاتا ہے۔ہم دیکھیںگے کہ امالیت صرف کوائل کی جیومیٹری اور ذاتی مادی خصوصیات کے تابع ہے۔یہ پہلو صلاحیت سے ملتا جلتا ہے جو ایک متوازی چادرکیپسٹر میں چادر کے رقبے اور چادروں کے درمیان دوری(جیومیٹری )اور درمیانی واسطے کے ڈائی الیکٹرک مستقلہK(ذاتی مادی خاصیت)کے تابع ہے۔
امالیت ایک عددیہ مقدار ہے۔اس کے ابعادE-81ہیں جو فلکس کے ابعاد کو کرنٹ کے ابعاد سے تقسیم کرنے پر حاصل ہوتے ہیں۔امالیت کیSIاکائی ہینری(henry)ہے اور اسے Hسے ظاہر کرتے ہیں۔یہ نام جوزف ہنری کے اعزاز میں رکھاگیا ہے،جنھوں نے امریکہ میں برق–مقناطیسی امالہ دریافت کیاتھا۔ہنری اور فیراڈے نے یہ دریافت ایک دوسرے سے الگ الگ رہ کرکی۔فیراڈے نے انگلینڈ میں اور ہنری نے امریکہ میں۔

6.9.1  باہمی امالیت(Mutual inductance)

شکل6.15دیکھیے،جس میں دوہم محور لمبے سولی نائڈ دکھائے گئے ہیں۔ہر سولی نائڈ کی لمبائیlہے۔ہم اندرونی سولی نائڈs1کے نصف قطر کوr1اور چکروں کی تعداد فی اکائی لمبائی کوn1سے ظاہر کرتے ہیں۔باہری سولی نائڈS2کے لیے متطابق مقداریںr2اورn2ہیں۔فرض کیجیےn1اورn2،بالترتیب،کوائلS1اورکوائلS2میں چکروں کی کل تعداد ہے۔

E-85
جبS2میں سے ایک کرنٹE-82گذاراجاتا ہے تو یہS1میں ایک مقناطیسی فلکس پیدا کرتا ہے۔ہم اسےØ1سے ظاہر کرتے ہیں۔سولی نائڈS1کے ساتھ متطابق فلکس بندھن ہے:
 (6.9)  N1Ø1 =  M12  I2
M12سولی نائڈS2کی مناسبت سے،سولی نائڈS1کی باہمی امالیت کہلاتی ہے۔اسے باہمی امالہ کا ضریب بھی کہتے ہیں۔
N1  turns   N1      N2 turns       
E-87

ان سادہ ہم محور سولی نائڈوں کے لیےM12کاحساب لگایاجاسکتا ہے۔S2میں کرنٹ I2کی وجہ سے مقناطیسی میدان µºn2 I2 E-90ہے۔اس کے نتیجے میں کوائل S1کے ساتھ فلکس بندھن ہے:
(N1 Øl = 1l)(πr12) (µºn2I2
µο n1 n2 πr1 l I2 =
E-91
جہاںn1 l،سولی نائڈs1میں چکروں کی کل تعداد ہے۔اس لیے مساوات(6.9)اور مساوات(6.10)سے 
(6.11)    M12  = µοn1 n2 πr12 l
نوٹ کریں کہ ہم نے کنارہ اثر(edge effect)کو نظرانداز کردیاہے اور مقناطیسی میدانµºn2I2  E-94کو سولی نائڈکی پوری لمبائی،چوڑائی پر یکساں ماناہے۔یہ تقربیت(approximation)اس لحاظ سے درست ہے کہ سولی نائڈ کی لمبائی بہت زیادہ ہے،یعنی کہ،
اب ہم اس کی مخالف صورت لیتے ہیں۔سولی نائڈ S1میں سے ایک کرنٹ11گذاراجاتا ہے اور کوائلS2کے ساتھ فلکس بندھن ہے:
N2 Ø2 = M21  I1
M12 سولی نائڈ کی مناسبت سے سولی نائڈ S2کی باہمی امالیت کہلاتی ہے۔
S1میں کرنٹ I1 کی وجہ سے فلکس کو فرض کیا جا سکتا ہے کہ وہ مکمل طور پر S1کے اندر ہی مقید ہے کیوں سولی نائڈ بہت
لمبے ہیں۔ اس لیے سولی نائڈ S2 کت ساتھ فلکد بندھن ہے
(N2 Ø2 = (n2 l) (πr12 )  (µοn1 I1
جہاں S2, n2 l کے چکروں کی کل تعداد ہے۔ مساوات سے 
M21 = µο nnπr12 l
مساوات (6.11) اور مساوات(6.13) استعمال کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے
(6.14)   (فرض کیا)  M21 = M21 =  M

ہم نے لمبے ہم محور سولی نائڈوں کے لیے اس مساوات کا مظاہرہ کیا ہے۔لیکن یہ رشتہ،اس سے کہیں زیادہ عمومی ہے۔نوٹ کریں کہ اگر اندروالا سولی نائڈ باہر والے سولی نائڈ کے مقابلے میں بہت چھوٹاہو (اور اسے باہر والے سولی نائڈ کے بالکل اندر رکھا جائے)تب بھی ہم فلکس بندھنN1Ø1کا حساب لگاسکتے ہیں،کیونکہ اندر والا سولی نائڈ،باہری سولی نائڈ کی وجہ سے پیدا ہونے والے ہموار مقناطیسی میدان میں ڈوبا ہوا ہے۔اس صورت میں،M12کا حساب لگاناآسان ہوگا۔لیکن،باہری سولی نائڈ کے فلکس بندھن کا حساب لگانا بہت مشکل ہوگا کیونکہ اندرونی سولی نائڈ کی وجہ سے پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان،باہری سولی نائڈ کی لمبائی اور ساتھ ہی ساتھ تراشی رقبے پر تبدیل ہوتا رہے گا۔اس لیے اس صورت میں M21کا حساب لگانا بہت مشکل ہوگا۔ مساواتM12 = M21 ایسی صورتوں میں بہت کارآمدہے۔
ہم نے مندرجہ بالا مثال کی وضاحت،سولی نائڈ میں واسطہ’’ہوا‘‘کے لیے کی تھی۔اس کی جگہ اگر اضافی مقناطیسی سرایت پذیری E-101کا کوئی واسطہ ہوتو باہمی امالیت ہوگی: M = µr µο n1 n2 π r21 l
یہ جاننا بھی اہم ہے کہ کوائلوں ،سولی نائڈوں وغیرہ کے ایک جوڑے کی باہمی امالیت ان کی درمیانی دوری اور ان کی نسبتی تشریق کے بھی تابع ہے۔


مثال6.9:دوہم مرکز دائری کوائل،جن میں سے ایک کم نصف قطرr1کا ہے اور دوسرا زیادہ نصف قطرr2کا ہے،اس طرح کہr1 >> r2،ہم محور طورپر رکھے گئے ہیں اور ان کے مراکز ایک دوسرے پر منطبق ہیں۔اس ترتیب کی باہمی امالیت معلوم کیجیے۔
حل:فرض کیجیے کہ باہری دائری کوائل میںایک کرنٹI2بہتا ہے۔کوائل کے مرکز پر میدان: B2 = µο I2 2r2ہے۔کیونکہ دوسرے،ہم محور طرزمیں رکھے ہوئے کوائل کا نصف قطربہت خفیف ہے،B2کو اس کے تراشی رقبہ پر مستقلہ مانا جاسکتا ہے۔اس لیے
E-107
نوٹ کریں کہ ہم نےM12کا حساب،E-109کی ایک تقربی قدر کی مدد سے لگایاہے،جہاں ہم نے مان لیا ہے کہ مقناطیسی میدان π r12 رقبہ ،B2E-110پرہموار ہے۔لیکن ہم اس قدر کو تسلیم کرسکتے ہیں،کیونکہ r1 >> r2

اب ہم حصہ6.2میں بیان کیے گئے تجربہ6.3کو یاد کرتے ہیں۔اس تجربہ میں جب بھی کوائلC2میں سے گزررہے کرنٹ میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے،کوائلC1میں ایک emfکا امالہ ہوتا ہے۔فرض کیجیے کہ کوائلc1میں سے گذررہا فلکسØ1ہے(مان لیجیے اس میں چکروں کی تعدادn1ہے)،جب کہ کوائلC2میں کرنٹI2ہے۔
تب،مساوات(6.9)سے ہمارے پاس ہے:
N1 Ø1   M I2
وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے کرنٹوں کے لیے
(d / dt (NØ1) = d / dt (MI2
کیونکہ کوائل  C1 میں امالہ ہوئی emf دی جاتی ہے:
1 = - d / dt (N1 Φ1  
ہمیں حاصل ہوتا ہے:
ε1 = - M dI2 / dt
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک کوائل میں کرنٹ تبدیل کرنے سے،اس کے نزدیکی کوائل میںemfکاامالہ ہوسکتا ہے۔امالہ شدہemfکی عددی قدر،کرنٹ کی تبدیلی کی شرح اور دونوں کوائلوں کی باہمی امالیت کے تابع ہے۔

6.9.2  خودامالیت(Self-inductance)

پچھلے تحت حصے میں ہم نے ایک سولی نائڈ میں فلکس ،دوسرے سولی نائڈ میں کرنٹ کی وجہ سے دیکھا تھا۔یہ بھی ممکن ہے کہ ایک واحد جدا کیے ہوئے کوائل میں emfکا امالہ ہو،جس کی وجہ اسی کوائل میں سے گذررہے کرنٹ کی تبدیلی کے ذریعے اس کوائل میں فلکس کی تبدیلی ہو۔یہ مظہر خود امالہ کہلاتا ہے۔اس صورت میں ایک–Nچکروں کے کوائل سے فلکس–بندھن،کوائل میں سے گذررہے کرنٹ کے متناسب ہے اور ظاہر کیاجاتا ہے:
B ∝ I
 (6.15)      NØB = LI

جہاں متناسبیت کا مستقلہ’L‘کوائل کی خود–امالیت کہلاتی ہے۔اسے کوائل کے خودامالہ کا ضریب بھی کہتے ہیں۔جب کرنٹ کو تبدیل کیاجاتا ہے تو کوائل سے منسلک (بندھا ہوا)فلکس بھی تبدیل ہوتا ہے اور کوائل میں ایکemfکا امالہ ہوتا ہے۔مساوات(6.15)استعمال کرتے ہوئے،امالہ ہوئیemfدی جاتی ہے:
ε = -  d (NØB) / dt
 (6.16)  ε = - L dI / dt

اس لیے خود–امالہ شدہemf،ہمیشہ کوائل میں سے گذررہے کرنٹ کی کسی بھی تبدیلی(اضافہ یا کمی)کی مخالفت کرتی ہے۔
سادہ جیومیٹریوں والے سرکٹوں کی خود–امالیت کا حساب لگایاجاسکتا ہے۔ہم ایک ایسے لمبے سولی نائڈ کی خود–امالیت کا حساب لگاتے ہیں،جس کا تراشی رقبہAہے،لمبائی lہے اور جس میںnچکر فی اکائی لمبائی ہیں۔سولی نائڈ میں بہہ رہے کرنٹIکی وجہ سے پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان ہے: B = µο n I(پہلے کی طرح کنارہ–اثرات نظرانداز کرتے ہوئے)۔سولی نائڈ سے بندھا ہوا کل فلکس ہے:
(N ØB = (n1) (µο nI)  (A
µ0 n2 A1   I =
جہاںnl،چکروں کی کل تعداد ہے۔اس لیے،خودامالیت ہے:
               L = NØB / I 
(6.17)  
                 µ0 n2 Al = 
اگر ہم سولی نائڈ کے اندرونی حصے کو اضافی مقناطیسی سرایت پذیریµrکی ایک مادی شے(مثلاً نرم لوہا،جس کی اضافی مقناطیسی سرایت پذیر کی قدر اونچی ہے)سے بھر دیں،تب
 (6.18)      L = µr µ0 n2 Al
کوائل کی خود–امالیت،اس کی جیومیٹری اور واسطے کی مقناطیسی سرایت پذیر ی کے تابع ہے۔
خود امالہ–شدہemf،الٹیemf (back emf) بھی کہلاتی ہے،کیونکہ یہ سرکٹ میں کرنٹ کی کسی بھی تبدیلی کی مخالفت کرتی ہے۔طبعی طورپر سے،خود–امالیت،جمود(Inertia)کاکردار ادا کرتی ہے۔یہ میکانیات میں کمیت کا برق–مقناطیسی مشابہ ہے۔اس لیے،ایک سرکٹ میں کرنٹ قائم کرنے کے لیے الٹیemf) (  (e)کے خلاف کام کرنا پڑے گا۔یہ کیا گیا کام،مقناطیسی وضعی توانائی کے بطور ذخیرہ ہوجاتا ہے۔کسی لمحے پر سرکٹ میں کرنٹIکے لیے،کیے گئے کام کی شرح ہے:
dw / dt =   /ε/ I
اگر ہم مزاحمتی نقصانوں(Resistive Losses)کو نظرانداز کردیں اور صرف امالی اثر دیکھیں،تو مساوات(6.16)استعمال کرنے پر
dW / dt =  L I  dI / dt
کرنٹIقائم کرنے میں،کیے گئے کام کی کل مقدار ہے:
E-122
اس لیے کرنٹIقائم کرنے کے لیے درکارتوانائی ہے:
(6.19)   w = 1/2  LI2
یہ ریاضیاتی عبارت ہمیں ایک mکمیت کے ذرے کی (میکانیکی)حرکی توانائیmv2 / 2کی یاددلاتی ہے،اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ L،mکے مشابہ ہے(یعنی کہL،برقی جمود ہے اور سرکٹ میں کرنٹ کے برھنے یا کم ہونے کی مخالفت کرتاہے)۔
وہ عمومی صورت لیجیے،جس میں قریب قریب رکھے دو کوائلوں میں ہمہ وقت کرنٹ بہہ رہا ہے۔ایک کوائل سے منسلک فلکس،دو فلکسوں کا حاصل جمع ہوگا،جو ایک دوسرے سے آزادانہ طورپر پائے جاتے ہیں۔مساوات(6.9)کی تبدیل شدہ شکل ہوگی:
NI Ø1 = M11  I1 + M12  I2
جہاں،اسی کوائل کی وجہ سے امالیت کو ظاہر کرتی ہے۔
اس لیے،فیراڈے کا قانون استعمال کرتے ہوئے:
ε1 = - M11 dI1 / dt - M12 dI2 / dt
خود–امالیت ہے اور اسے L1لکھاجاتا ہے۔اس لیے:
ε1 = - L1 dI1 / dt - M12 dI2 / dt

مثال6.10 (a) ایک سولی نائڈ میں ذخیرہ ہوئی توانائی کی ریاضیاتی عبارت،مقناطیسی میدانE-128،رقبہAاور سولی نائڈ کی لمبائیlکی شکل میںحاصل کیجیے۔(b)اس مقناطیسی توانائی کا مقابلہ ایک کیپسٹر میں ذخیرہ ہوئی برق–سکونی توانائی سے کیجیے۔

حل:

(a)مساوات(6.19)سے،مقناطیسی توانائی ہے:
E-129
ہم ایک متوازی چادر کیپسٹر میںذخیرہ ہوئی برق–سکونی توانائی فی اکائی حجم کے لیے رشہ پہلے ہی حاصل کرچکے ہیں(دیکھیے باب2،مساوات2.77)
      (2.77)            uE = 1/2 ε0 E2 
دونوں صورتوں میں،توانائی،میدان کی طاقت کے مربع کے متناسب ہے۔مساوات(6.20)اور مساوات(2.77)مخصوص صورتوں کے لیے مشتق کی گئی ہیں؛بالترتیب،ایک سولی نائڈ اور ایک متوازی چادرکیپسٹر کے لیے۔لیکن یہ عمومی ہیں اور فضا کے ہر اس علاقے کے لیے درست ہیںجس میںایک مقناطیسی میدان یا/اوربرقی میدان موجود ہیں۔

6.10   اے سی جنریٹر(AC Generator)

برق–مقناطیسی امالہ کے مظہر کا تکنیکی استعمال کئی طریقوں سے کیا گیا ہے۔ایک مخصوص اہمیت کا حامل استعمالacکرنٹ پیدا کرنا ہے۔جدیدacجنریٹر،جس کی مخصوص برآمدہ گنجائش100MWہوتی ہے،ایک بہت ترقی یافتہ مشین ہے۔اس حصہ میں ہم اس مشین کی کارگردگی کے پیچھے کارفرما بنیادی اصول بیان کریں گے۔یوگوسلاویہ کے موجد نکولا ٹیسلا کو اس مشین کو تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔جیسا کہ حصہ6.3میں یبان کیا جا چکا ہے کہ ایک لوپ میںemfیا کرنٹ امالہ کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ لوپ کی تشریق میں یا لوپ کے موثررقبے میں تبدیلی کی جائے۔جب کوائل ایک مقناطیسی میدانE-131میں گھومتا ہے تو لوپ کا موثر رقبہ(میدان پر عمود رخ)،A cos qہے،جہاںE-132کے درمیان زاویہ ہے۔فلکس میں تبدیلی پیدا کرنے کا یہ طریقہ ایک سادہ acجنریٹر کے کام کرنے کا اصول ہے۔ایک acجنریٹر میکانیکی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔
ایک acجنریٹر کے بنیادی اجزا شکل6.16میں دکھائے گئے ہیں۔یہ ایک ایسے کوائل پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک روٹر شیفٹ(Rotor shaft)پر لگا ہوتا ہے۔کوائل کے گردش کرنے کا محور،مقناطیسی میدان کی سمت پر عمود ہوتا ہے۔کوائل [جسے آرمیچر(Armature)کہتے ہیں]کو کسی باہری میکانیکی ذریعے سے ہموار مقناطیسی میدان میں گھمایا جاتا ہے۔کوائل کی گردش،اس میں سے گذررہے مقناطیسی فلکس کو تبدیل کردیتی ہے اور اس طرح کوائل میں ایکemfکا امالہ ہوتا ہے۔کوائل کے سرے،سلپ رنگ(slip rings)اوربرش(Brushes)کے ذریعے ایک باہری سرکٹ سے جڑے ہوتے ہیں۔
E-133

جب کوائل کو ایک مستقلہ زاویائی چالwکے ساتھ گھمایا جاتا ہے،تو ایک لمحہ وقت tپر،مقناطیسی میدان سمتیہE-131اور کوائل کے رقبہ سمتیہE-134کے درمیان زاویہE-135(یہ فرض کرتے ہوئے کہE-136۔اس کے نتیجے میں کوائل کا وہ موثر رقبہ جس میں سے مقناطیسی میدان خطوط گذرسکتے ہیں،وقت کے ساتھ تبدیل ہوجاتا ہے،اور مساوات(6.1)سے،ایک وقتtپر،فلکس ہے:
ΦB  BA cos θ = BA cos wt
فیراڈے کے قانون کے مطابق،Nچکروں والے،گردش کرتے ہوئے کوائل کے لیے،امالہ شدہemfہے:
(ε = - N dØB / dt = - NBA d / dt  (cos wt
اس لیے،emfکی لمحاتی قدر(Instantaneous Value)ہے:
 (6.21)    ε = NBA w sin wt 
جہاں(NBAw)،emfکی اعظم قدر(Maximum Value)ہے،جو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب:(sin wt= ±1)۔اگر ہم(NBAw)کوεοسے ظاہر کریں تو
 (6.22)     ε = εο  sin wt 
کیونکہ سائن تفاعل کی قدر+1اور–1کے درمیان تبدیل ہوتی رہتی ہے،اس لیےemfکی علامت یا قطبیت،وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔شکل6.17سے نوٹ کریں کہ emfاپنی انتہائی قدر(extreme value)اس وقت حاصل کرتی ہے جبE-142،کیونکہ ان نقاط پر فلکس کی تبدیلی سب سے زیاہ ہوتی ہے۔
کیونکہ کرنٹ کی سمت دوری طور(Periodically)پر تبدیل ہوتی ہے،اس لیے یہ کرنٹ،متبادل کرنٹ[(ac) (alternating current)]کہلاتا ہے۔کیونکہ،w = 2pn،مساوات(6.22)لکھی جاسکتی ہے:
(6.23)    ε = εο sin  2π v t 
جہاںv،جنریٹر کے کوائل کے طواف کا تعدد(Frequency of revolution)ہے۔
نوٹ کریں کہ مساوات(6.22)اورمساوات(6.23)،emfکی لمحاتی قدر دیتی ہیں اور,εο+ اورεο ,ε- کے درمیان دوری طورپر تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ہم متبادل وولٹیج اور متبادل کرنٹ کی وقت پر اوسط کی گئی(Time averaged)قدر معلوم کرنے کا طریقہ اگلے باب میں سیکھیں گے۔
کاروباری/تجارتی جنریٹروں میں آرمیچر کو گردش دینے کے لیے مطلوبہ توانائی،اونچائی سے گرتے ہوئے پانی کے ذریعے مہیا کی جاتی ہے مثلاً بندھ(Dam)سے۔یہ ٓابی–برقی جنریٹر(Hydro–electric generator)کہلاتے ہیں۔متبادل طریقے کے بطور،پانی کو کوئلے یا دوسرے وسیلوں کے ذریعے گرم کرکے بھاپ بنائی جاتی ہے۔زیادہ دبائو پر یہ بھاپ آرمیچر میں گردش پیدا کرتی ہے۔یہ حرارتی جنریٹر کہلاتے ہیں۔اگر کوئلے کی جگہ نیوکلیائی ایندھن استعمال کیاجائے تو نیوکلیائی پاور جنریٹر حاصل ہوتے ہیں۔جدید دور کے جنریٹر 500MWتک کی برقی پاور پیدا کرتے ہیں،یعنی کہ اتنی پاور جس سے100Wکے50لاکھ بلب روشن کیے جاسکتے ہیں۔زیادہ تر جنریٹروں میں کوائل کو ساکن رکھاجاتا ہے اور برقی–مقناطیسوں کو گردش دی جاتی ہے۔ہندوستان میں گردش کا تعدد(frequency of rotation)،50Hz ہے۔بعض ملکوں،جیسے امریکہ،میں یہ60Hzہے۔
E-145

مثال6.11:کملا ایک ساکن سائیکل کے پیڈل گھماتی ہے۔سائیکل کے پیڈل،E-146رقبہ اور 100چکروں والے ایک کوائل سے جڑے ہوئے ہیں۔کوائل،آدھا طواف فی سیکنڈ سے چکر لگاتا ہے اور 0.01 Tکے ہموار مقناطیسی میدان میں رکھاہوا ہے۔میدان کی سمت،کوائل کے گردشی محور پر عمود ہے۔کوائل میں پیداہوئی اعظم وولٹیج کیا ہے؟
حل: یہاں:
B = 0.01 T   = 0.5 Hz;  N = 100, A = 0.1 m2
مساوات (6.21) استعمال کرتے ہوئے
ο = NBA  (2 π v
6
0.314V =
اعظم وولٹیج0.314 Vہے۔
ہم پاور پیدا کرنے کی ایسی متبادل صورتیں تلاش کرنے کے لیے آپ کی ہمت افزائی کرتے ہیں۔


پرندوں کی ہجرت

پرندوں کی حجرت کا طریقہ آج بھی حیاتی علم ،بلکہ تمام سائنسی علوم کے لیے ایک معمہ ہے۔مثلاً،ہر جاڑے میں،بلاناغہ سائبیریا سے پرندے برصغیر ہند کے آبی مقامات کی طرف پرواز کرتے ہیں۔ایک تجویز یہ بھی پیش کی گئی ہے کہ برق–مقناطیسی امالہ شاید اس ہجرت کے رازسے پردہ اٹھانے میں مدد کرسکتا ہے۔زمین کا مقناطیسی میدان،ارتقائی تاریخ کے ہر دور میںموجود رہا ہے۔مہاجرپرندوں کے لیے اس میدان کو سمت معلوم کرنے کے لیے استعمال کرنا بہت مفید ہوگا۔جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے،پرندوں میں کوئی لوہ مقناطیسی مادی شے نہیں ہوتی۔اس لیے برق–مقناطیسی امالہ ہی،سمت معلوم کرنے کے لیے واحد قابل فہم میکانزم معلوم ہوتا ہے۔وہ مناسب ترین صورت لیجیے جب مقناطیسی میدانBپرندے کی رفتارvاوراس کے جسم کے کوئی دونقلے جو ایک دوسرے سےlفاصلہ پر ہیں،تینوں باہم عمود ہیں۔حرکتیemfکے فارمولے،مساوات(6.5)سے

E-148
اس بے حد قلیل مضمر فرق سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا مفروضہ درستگی صحت کے لحاظ سے مشکوک ہے۔کچھ مچھلیوں کی قسموں میں قلیل مضمر فرق کو محسو س کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔اس مچھلیوں میں کچھ مخصوص سیل شناخت کیے گئے ہیں جو اتنے قلیل مضمر فرق کو شناس(Detect)کرسکتے ہیں۔پرندوں میں ایسے کوئی سیل شناخت نہیں کیے جاسکے ہیں۔اس لیے،پرندوں کی ہجرت کا طریقہ ابھی بھی ایک معمہ ہے۔

خلاصہ

ایک ہموار مقناطیسی میدانE-149میں رکھی ہوئی،رقبہE-150کی ایک سطح سے گذرنے والے مقناطیسی فلکس کی تعریف ہے:
E-151
جہاںE-152کے مابین زاویہ ہے۔
فیراڈے کے امالہ کے قوانین سے اخذ کیاجاسکتا ہے کہNچکروں کے ایک کوائل میں امالہ ہوئیemf،اس کوائل سے گذررہے فلکس کی تبدیلی کی شرح سے راست رشتہ رکھتی ہے
ε = - N dØB / dt
یہاںΦB،کوائل کے ایک چکر سے منسلک فلکس ہے۔اگر سرکٹ بند(پورا)ہوتو اس میں ایک کرنٹ:I=ε/Rقائم ہوجاتا ہے،جہاںR،سرکٹ کی مزاحمت ہے۔
لینز کے قانون کا بیان ہے کہ امالہ شدہemfکی قطبیت اس طورپر ہوتی ہے کہ وہ اس سمت میں کرنٹ پیدا کرنے کی کوشش کرے جو اس مقناطیسی فلکس کی تبدیلی کی مخالفت کرے،جس نےemfکامالہ کیا ہے۔فیراڈے کے قانون کی ریاضیاتی عبارت میں منفی علامت اسی حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے۔
جب لمبائیlکی ایک دھاتی چھڑ کو ایک ہموار مقناطیسی میدانE-156کی عمودی سمت میں رکھاجاتاہے اور اسے میدان پر عمودE-157رفتار سے حرکت دی جاتی ہے،تو اس کے سروں کے درمیان امالہ ہوئیemf(جوحرکتی emfکہلاتی ہے)ہے:E-158  
بدلتے ہوئے مقناطیسی میدان،قریب رکھے ہوئے دھاتی اجسام (کسی موصل)میں کرنٹ لوپ قائم کرسکتے ہیں۔یہ برقی توانائی کا بطور حرارت اسراف کرتے ہیں۔یہ کرنٹ ایڈی کرنٹ کہلاتے ہیں۔
امالیت،فلکس تبدیلی کی کرنٹ سے نسبت ہے۔یہNØ/Iکے مساوی ہے۔
ایک کوائل(کوائل2)میں تبدیل ہوتا ہوا کرنٹ،ایک نزدیک رکھے ہوئے کوائل(کوائل1)میں ایک emfکا امالہ کرسکتا ہے۔یہ رشتہ دیاجاتا ہے:
ε1 = - M12 dI2/ dt
مقدار،M12وائل2کی مناسبت سے کوائل1کی باہمی امالیت کہلاتی ہے۔ایک عمومی مساواتM12 = M21
جب ایک کوائل میں کرنٹ تبدیل ہوتا ہے،تو وہ اسی کوائل میں ایک الٹیemfکاامالہ کرتا ہے۔یہ خود–امالہ شدہ emfدی جاتی ہے:
ε = - L dI/ dt
L،کوائل کی خود–امالیت ہے۔یہ اس میں سے گذررہے کرنٹ کی تبدیلی کے خلاف کوائل کے جمود کا ناپ ہے۔
ایک لمبے سولی نائڈ کی خود–امالیت ،جس کا قالب،مقناطیسی سرایت پذیریµrکے مقناطیسی مادے سے بنا ہواہے،دی جاتی ہے:
L = µr µ0 n2 Al
جہاںA،سولی نائڈ کا تراشی رقبہ ہے،lاس کی لمبائی ہے اور nچکروں کی تعداد فی اکائی لمبائی ہے۔
10۔  ایکacجنریٹر میں،برق–مقناطیسی امالہ کے ذریعے،میکانیکی توانائی،برقی توانائی میں تبدیل کی جاتی ہے۔اگرNچکروںاوررقبہAکے ایک کوائل کو ایک ہموار مقناطیسی میدانE-156میںnطواف فی سیکنڈکے ساتھ گھمایا جاتا ہے،تو پیدا ہوئی حرکتیemfہے:e = NBA (2pn) sin (2pnt)،جہاں ہم نے مان لیا ہے کہ t = 0 sپر کوائل،میدان پر عمود ہے۔



مقدر علامت اکائیاں ابعاد مساواتیں
مقناطیسی فلکس
EMF
باہمی امالیت
خود امالیت
ØB
ε
M
L
(ویبر)Wb
(وولٹ)V
(ہنری)H
(ہنری)H
[M L2 T-2 A-1]
[M L2 T-3 A-1]
[M L2 T-2 A-2]
[M L2 T-2 A-2]
1


قابل غور نکات

برق اورمقناطیسیت میںنزدیکی آپسی رشتہ ہے۔انیسویں صدی کے شروعاتی دور میں،اورسٹیڈ،ایمپیر اور دیگر افراد کے ذریعے کیے گئے تجربات نے یہ ثابت کردیا کہ متحرک چارج(کرنٹ)ایک مقناطیسی میدان پیداکرتے ہیں۔کچھ عرصہ بعد،1830کے قریب،فیراڈے اور ہنری کے تجربات نے ظاہر کردیا کہ ایک متحرک مقناطیس،برقی کرنٹ کا املہ کرسکتا ہے۔
ایک بند سرکٹ میں،برقی کرنٹ کاامالہ اس طورپر ہوتا ہے کہ بدلتے ہوئے مقناطیسی فلکس کی مخالفت کی جاسکے۔یہ توانائی کی بقا کے قانون کے مطابق ہے۔لیکن،ایک کھلے ہوئے سرکٹ میں،اس کے سروں کے درمیان ایک emfکا امالہ ہوتا ہے۔یہ فلکس تبدیلی سے کیسے متعلق ہے؟
حصہ6.5میں بیان کی گئی حرکتیemfکی وضاحت متحرک چارجوں پر لگنے والی لورینٹز قوت استعمال کرکے،فیراڈے کے قانون کے ذریعے بھی کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر چارج ساکن بھی ہوں[اور لورینٹز قوت کا E-167رکن لاگو نہ بھی ہو]،وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے مقناطیسی میدان کی موجودگی میں،پھر بھی ایکemfکا امالہ ہوتا ہے۔اس لیے فیراڈے کے قانون کے لیے،ایک ساکن میدان میں متحرک چارج،اور وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے میدان میں ساکن چارج،متشاکل صورتیں معلوم ہوتی ہیں۔اس سے فیراڈے کے قانون کے لیے نظریہ اضافیت کے اصول کی اہمیت کا صریح اشارہ ملتا ہے۔
جب ایک تانبہ کی چادر کو مقناطیسی قطبین کے درمیان احترازات کرنے دئے جاتے ہیں تو اس کی حرکت قعری ہوتی ہے۔ایڈی کرنٹوں کے ذریعے قعری قوت کیسے پیدا ہوتی ہے؟

مشق

6.1   شکلوں6.18(a)سے6.18(f)تک میں دکھائی گئی حالتوں میں امالہ شدہ کرنٹ کی سمت کی پیشین گوئی کیجیے۔
E-168



6.2  شکل6.19میں دکھائی گئی حالتوں میں،لینز کا قانون استعمال کرکے امالہ شدہ کرنٹ کی سمت معلوم کیجیے۔
(a)    ایک بے ترتیب شکل کا تار ایک دائری شکل اختیار کررہا ہے۔
(b)    ایک دائری لوپ کی ایک پتلے مستقیم تار میں تخریب کی جارہی ہے۔

E-169

6.3 15 چکر فی سینٹی میٹر والے لمبے سولی نائڈ کے اندر،2.0cm2رقبہ کا ایک چھوٹا لوپ،اس کے محور کے عمودی رکھاگیا ہے۔اگر سولی نائڈ میں بہہ رہا کرنٹ0.1sمیں،قائم طورپر تبدیل ہوتے ہوئے،2.0Aسے4.0Aہوجاتا ہے،تو کرنٹ کے تبدیل ہونے کے دوران لوپ میں امالہ شدہemfکیا ہے؟
6.4 اضلاع8cmاور2cmکا ایک مستطیل نما لوپ،جس میں ایک چھوٹا سا تراشہ لگا ہے،0.3Tعددی قدرکے ہموار مقناطیسی میدان کے علاقے سے باہر نکل رہا ہے۔مقناطیسی میدان کی سمت لوپ پر عمو دہے۔اس تراشہ کے سروں کے درمیان پیدا ہوئیemfکیاہوگی،اگر لوپ کی رفتار کی عددی قدر1cm s-1ہے،اور سمت(a)لوپ کے مقابلتاً بڑے ضلع کی عمودی سمت میں ہے (b)لوپ کے مقابلتاً چھوٹے ضلع کی عمودی سمت میں ہے؟ہر صورت میں،امالہ شدہ وولٹیج کتنی دیر برقرار رہتی ہے؟
6.5   1.0m لمبی دھاتی چھڑکو400rad s-1کے زاویائی تعدد کے ساتھ،اس کے ایک سرے سے گذرتے ہوئے اور چھڑپر عمود،محور کے گرد گھمایاجاتا ہے۔چھڑکا دوسرا سرا ایک دائری دھاتی چھلے کے ساتھ تماس میں ہے۔0.5Tکا ایک مستقلہ،ہموار مقناطیسی میدان،محور کے متوازی ہے،ہر جگہ موجودہے۔مرکز اور چھلے کے درمیان پیدا ہوئیemfکا حساب لگائیے۔
6.6   8.0cm نصف قطر اور20چکروں کے ایک دائری کوائل کو اس کے راسی قطر(Vertical diameter)کے گرد،E-173کی زاویائی چال کے ساتھ،E-174عددی قدر کے ہموار افقی مقناطیسی میدان میں گھمایا گیا ۔کوائل میں امالہ ہوئی اعظم اور اوسطemfمعلوم کیجیے۔اگر کوائل 10Wمزاحمت کا ایک بند لوپ تشکیل دیتا ہے،تو کوائل میں کرنٹ کی اعظم قدر معلوم کیجیے۔جول حرارت کی شکل میں ہونے والے اوسط پاور نقصان کا حساب لگائیے۔یہ پاور کہاں سے آتی ہے؟
6.7 ایک 10mلمباافقی مستقیم تار،جو مشرق سے مغرب کی جانب کھنچاہوا ہے،5.0ms-1کی رفتار سے نیچے گررہا ہے۔اس کے گرنے کی سمت زمین کے مقناطیسی میدان کے افقی جز سے زاویہ قائمہ بناتی ہے۔اس افقی جز کی عددی قدرE-176ہے۔
(a) تار میں امالہ ہوئیemfکی لمحاتی قدر کیا ہے؟
(b) اسemfکی سمت کیا ہے؟
(c) تار کا کون سا سرا مقابلتاً زیادہ مضمر پر ہے؟
6.8    ایک سرکٹ میں کرنٹ،0.1sمیں5.0Aسے کم ہو کر0.0Aہوجاتا ہے۔اگر200Vکی اوسطemfکا امالہ ہوتا ہے تو سرکٹ کی خود–امالیت کا تخمینہ لگائیے۔
6.9    متصلہ کوائلوں کے ایک جوڑے کی باہمی–امالیت1.5Hہے۔اگر ایک کوائل میں کرنٹ0.1sمیں0سے تبدیل ہوکر20Aہوجاتا ہے،تو دوسرے کوائل کے ساتھ فلکس بندھن میں کیا تبدیلی ہوگی؟
6.10 ایک جیٹ ہوائی جہاز1800 KM/hکی چال سے مغرب کی جانب پرواز کررہاہے۔اس کے پر وں کے سروں کے درمیان پیدا ہواوولٹیج فرق کیا ہوگا؟پرکی لمبائی25mہے۔اس مقام پر زمین کے مقناطیسی میدان کی عددی قدرE-177ہے اور زاویہ میلان30ºہے۔

اضافی مشق

6.11 فرض کیجیے کہ مشق6.4میں لوپ ساکن ہے لیکن مقناطیسی میدان پیدا کرنے والے برقی–مقناطیس کودیے جارہے کرنٹ میں اس طرح بتدریج کمی جاتی ہے کہ میدان اپنی آغازی قدر0.3Tسے0.02Ts-1 E-178کی شرح سے کم ہوتا ہے۔اگر تراش کو جوڑدیاجائے اور لوپ کی مزاحمت1.6Wہوتو لوپ کے ذریعے حرارت کی شکل میں کتنی پاور کا اسراف ہوگا؟اس پاور کا وسیلہ کیا ہے؟
6.12   12cmضلع کے ایک مربع لوپ کو،جس کے اضلاعxاورyمحوروں کے متوازی ہیں،8cm s-1کی رفتار سے مثبتxسمت میں ایسے ماحول میں حرکت دی گئی،جس میں مقناطیسی میدان،مثبت–zسمت میں ہے۔یہ میدان نہ تو فضا میں یکساں ہے اور نہ ہی وقت کے ساتھ مستقلہ ہے۔منفی–x سمت میں اس کا ڈھلانE-180ہے(یعنی کہ جب منفی–xسمت میں حرکت کرتے ہیں تو یہ E-181سے بڑھتا ہے)اور یہ وقت کے ساتھ E-182کی شرح سے کم ہورہا ہے۔تو لوپ میں امالہ ہوئے کرنٹ کی عددی قدر اور سمت معلوم کیجیے۔لوپ کی مزاحمت4.50 mWہے۔
6.13 ایک طاقتور لاؤڈاسپیکر کے مقناطیس کے قطبین کے درمیان میدان کی عددی قدر کی پیمائش کرنا ہے۔ایک چھوٹا چپٹا کوائل جس کا رقبہ2cm2ہے اور جس میں قریب قریب لپٹے ہوئے25چکر ہیں،میدان کی سمت کے عمودی رکھا گیا اور پھر فوراً ہی اسے تیزی سے میدان کے علاقے سے باہر کھینچ لیاگیا۔(متبادل طورپر،اسے جلدی سے90ºکے زاویہ سے گھمایا جاسکتا ہے تاکہ اس کا مستوی میدان کی سمت کے متوازی ہوجائے)۔کوائل میں بہنے والا کل چارج(کوائل سے منسلک بیلاسٹک گیلوونومیٹر کے ذریعے ناپاگیا)7.5mCہے۔کوائل اور گیلوونومیٹر کی مجموعی مزاحمت0.50Wہے۔مقناطیس کی میدانی طاقت معلوم کیجیے۔
6.14 شکل6.20میں ایک چھڑPQدکھائی گئی ہے جو ہموار پٹریوںABپر رکھی ہے اور ایک مستقل مقناطیس کے قطبین کے درمیان ہے۔پٹریاں،چھڑ اور مقناطیسی میدان،تین باہم عمودی سمتوں میں ہیں۔ایک گیلوونومیٹرGایک سوئچKسے ہوتا ہوا پٹریوں کو جوڑتا ہے۔چھڑ کی لمبائی 15cmہے،B=0.50 Tہے اور جس بند لوپ میں چھڑ ہے اس کی مزاحمت9.0mWہے۔میدان کو ہموار مان لیجیے۔

E-194

(a)    فرض کیجیےKکھلی ہوئی ہے اور چھڑ کو دکھائی گئی سمت میں12cm s-1کی چال سے حرکت دی جاتی ہے۔امالہ شدہ emfکی قطبیت اور عددی قدر بتائیے۔
(b) جب Kکھلی ہے تو کیا اس وقت چھڑوں کے سروں پر کچھ اضافی چارج جمع ہوگا؟کیا ہوگا،اگرKبند ہو؟
(c)       اگرKکھلی ہو اور چھڑ ہموارطورپرحرکت کررہی ہو توچھڑPQکے الیکٹرانوں پر کوئی کل قوت نہیں لگے گی حالانکہ وہ چھڑکی حرکت کی وجہ سے مقناطیسی قوت محسوس کریں گے۔وضاحت کیجیے۔
(d) جبKبندہے تو چھڑ پر ابطائی قوت کیا ہے؟
(e) جبKبند ہے تو ایک باہری ایجنٹ کو چھڑ کو اسی چالE-196سے حرکت کرتا رکھنے کے لیے کتنی پاور چاہیے ہوگی؟کتنی پاور چاہیے ہوگی،اگر Kکھلی ہو؟
(f) بند سرکٹ میں کتنی پاور کا اسراف حرارت کی شکل میں ہوگا؟اس پاور کا وسیلہ کیا ہے؟
(g) حرکت کرتی ہوئی چھڑ میں امالہ شدہemfکیاہوگی،اگر مقناطیسی میدان پٹریوں پر عمودی ہونے کے بجائے،پٹریوں کے متوازی ہو۔
6.15 ایک سولی نائڈ کا قالب ہوا ہے،لمبائی30cmاور تراشی رقبہE-197ہے،چکروں کی تعداد500ہے اور اس میں2.5Aکرنٹ بہہ رہا ہے۔کرنٹ کوE-198کے قلیل عرصے میں اچانک سوئچ آف کردیا جاتا ہے۔سرکٹ میں اوپن سوئچ کے سروں کے درمیان امالہ ہوئی اوسط الٹیemfکیاہوگی؟سولی نائڈ کے سروں کے نزدیک مقناطیسی میدان کی تبدیلی نظرانداز کردیجیے۔
6.16    (a) شکل6.21میں دکھائے گئے ایک لمبے مستقیم تار اور ضلعaکے مربع لوپ کے درمیان باہمی–امالیت کے لیے ریاضیاتی عبارت حاصل کیجیے۔
    (b) اب فرض کیجیے کہ مستقیم تار میں50Aکرنٹ ہے اورلوپ کو مستقل رفتار،v=10m/sکے ساتھ دائیں جانب حرکت دی جاتی ہے۔جس لمحےx=0.2mہے،اس وقت لوپ میں امالہ ہوئیemfکا حساب لگائیے۔a=0.1mلیجیے اور مان لیجیے کہ لوپ کی مزاحمت بہت زیادہ ہے۔
E-199

 6.17 ایک خطی چارجlفی اکائی لمبائی کو نصف قطرRاور کمیتMکے پہئے کے رِم پر ہموارطورپر پھیلایاجاتا ہے۔پہئے میں ہلکی غیر موصل کیلیں ہیں اور وہ اپنے محور کے گرد بغیر رگڑکے حرکت کرسکتا ہے(شکل6.22)۔ایک ہموار مقناطیسی میدان رِم کے اندر دائری علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔یہ دیاجاتا ہے:
E-200
(اس کے علاوہ)0 =
اگر میدان کو اچانک سوئچ آف کردیاجائے تو پہئے کی زاویائی رفتار کیاہوگی؟


E-201
شکل 6.22