باب آٹھ
برقی–مقناطیسی لہریں
(ELECTROMAGNETIC WAVE'S)
8.1 تعارف(INTRODUCTION)
باب 4میں ہم نے سیکھا تھا کہ ایک برقی کرنٹ،مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے اور دو کرنٹ بردار تار ایک دوسرے پر مقناطیسی قوت لگاتے ہیں۔مزید،باب6میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ ایک وقت کے ساتھ تبدیل ہوتاہوا مقناطیسی میدان،برقی میدان پیدا کرتا ہے۔کیا اس کا برعکس بھی درست ہے؟کیا ایک وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہوا برقی میدان،مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے؟جیمس کلارک میکسویل(1831–1879)نے دلیل پیش کی کہ یقیناایسا ہی ہے۔صرف برقی کرنٹ ہی نہیں بلکہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہوا برقی میدان بھی مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے۔ایک وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے کرنٹ سے جڑے ہوئے کیپسٹر کے باہر ایک نقطے پر مقناطیسی میدان معلوم کرنے کے لیے ایمپیر کا سرکٹی قانون استعمال کرتے ہوئے میکسویل نے ایمپیر کے سرکٹی قانون میں ایک تضاد محسوس کیا۔انھوں نے اس تضاد کو دور کرنے کے لیے ایک اور کرنٹ تجویز کیا جو نقل کرنٹ کہلاتاہے۔
میکسویل نے برقی اور مقناطیسی میدانوں اور ان کے وسیلوں،چارج اور کرنٹ کثافتوں پر مشتمل مساواتوں کا ایک سیٹ تشکیل دیا جو میکسویل کی مساواتیں کہلاتی ہیں۔لورینٹزقوت فارمولے(باب4)کے ساتھ یہ مساواتیں برق–مقناطیسیت کے تمام بنیادی قانونوں کا ریاضیاتی اظہار ہیں۔
میکسویل کی مساواتوں سے ظہور میں آنے والی سب سے اہم پیشن گوئی برق–مقناطیسی لہروںکاوجودہے جو وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے برقی ومقناطیسی (ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے)میدان ہیں جن کا فضامیںاشعاع ہوتاہے۔ان لہروں کی چال،ان مساواتوں کے مطابق،نوری تجربات سے معلوم کی گئی روشنی کی چال
(3×108m/s)
کے بہت نزدیک حاصل ہوتی ہے۔اس سے یہ ممتاز نتیجہ اخذکیا گیاکہ روشنی ایک برق–مقناطیسی لہر ہے۔اس طرح میکسویل کے کام نے برق،مقناطیسیت اور روشنی کے علاقوں کو یکجاکردیا۔ہرٹزنے1885میں برق–مقناطیسی لہروں کے وجود کا تجرباتی مظاہرہ کیا۔مارکونی اور دیگر افراد کے اس کے تکنیکی استعمال نے وقت کے ساتھ ترسیل کے میدان میں وہ انقلاب برپا کیا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

جیمس کلارک میکسویل (1831–1879)
ایڈنبرگ،اسکاٹ لینڈ میںپیدا ہوئے۔آپ کا شمار انیسویں صدی کے عظیم ترین طبیعات دانوں میںکیاجاتا ہے۔انھوں نے ایک گیس میں مالیکیولوں کا حرارتی رفتار بکھرائو(Thermal velocity distribution)مشتق کیا۔یہ سب سے پہلے شخص تھے جنھوں نے مالیکیولیائی مقداروں کا قابل بھروسہ مخمینہ،قابل پیمائش مقداروں،جیسے مزوجت(viscosity) وغیرہ،سے لگایا۔میکسویل کا سب سے بڑا کارنامہ برق اور مقناطیسیت کے قانونوں (کولمب، اورسٹیڈ،ایمپیر اور فیراڈے کے ذریعے دریافت کیے گئے) کومساواتوں کے ایک سازگارسیٹ میں یکجاکرنا ہے۔یہ مساواتیں اب میکسویل مساواتیں کہلاتی ہیں۔ان کی مدد سے یہ اس اہم ترین نتیجے پر پہنچے کہ روشنی ایک برق–مقناطیسی لہر ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ میکسویل اس نظریہ سے متفق نہیں تھے کہ برق اپنی طبع کے لحاظ سے ذراتی ہے۔ یہ نظریہ فیراڈے کے برق–پاشی کے قوانین کی بنیاد پر پر زرو طریقے سے تجویز کیاگیا تھا۔
اس باب میں پہلے ہم نقل کرنٹ کی ضرورت اور اس کے اثرات سے بحث کریںگے۔پھر ہم برق–مقناطیسی لہروں کا ایک بیانی جائزہ پیش کریں گے۔اس کے ساتھ برق–مقناطیسی لہروں کا وسیع طیف،جوgشعاعوں(
طولِ لہر)سے طویل ریڈیو لہروں106m~ طولِ لہر)تک پھیلاہوا ہے،بیان کیا گیا ہے۔ترسیل کے لیے برق–مقناطیسی لہریں کیسے بھیجی اوروصول کی جاتی ہیں،اس سے باب15میں بحث کی جائے گی۔
8.2نقل کرنٹ(Displacement Current)
ہم نے باب4میں پڑھا ہے کہ ایک برقی کرنٹ،اپنے گرد ایک مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے۔میکسویل نے ثابت کیا کہ منطقی ہم آہنگی کے لیے،ایک بدلتے ہوئے برقی میدان کو بھی ایک مقناطیسی میدان پیدا کرنا چاہیے۔یہ اثر بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ریڈیو لہروں،گاما لہروں اور بصری روشنی اس کے ساتھ ساتھ برق–مقناطیسی لہروں کی دیگرشکلوں کے وجود کی وضاحت کرتا ہے۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ ایک بدلتا ہوا برقی میدان ایک مقناطیسی میدان کیسے پیدا کرتا ہے،آئیے ہم کیپسٹر کے چارج کرنے کے عمل کو لیں اور (باب4)ایمپیر کا سرکٹی قانون جو دیاجاتا ہے:
(8.1)
کیپسٹر سے باہر ایک نقطے پر مقناطیسی میدان معلوم کرنے کے لیے استعمال کریں۔شکل8.1(a)میں ایک متوازی چادرکیپسٹر دکھایاگیا ہے جو اس سرکٹ کا حصہ ہے جس سے ایک تابع–وقت کرنٹi(t)بہتا ہے۔اب ہم متوازی چاردر کیسٹر کے علاقے سے باہر ایک نقطے،جیسےP،پر مقناطیسی میدان معلوم کرتے ہیں۔اس کے لیے ہم ایک مسطح دائری لوپ لیتے ہیں،جس کا نصف قطرrہے اور جس کا مستوی کرنٹ بردار تار کی سمت پر عمود ہے اور جو تار کی مناسبت سے متشاکل طورپر مرکوز ہے[شکل8.1(a)]۔تشاکل سے،مقناطیسی میدان دائری لوپ کے محیط کی سمت میں ہے اور لوپ کے ہر نقطہ پر اس کی عددی قدر مساوی ہے۔اس طرح،اگر میدان کی عددی قدرBہے،تو مساوات(8.1)کا دایاں بازوB(2pr)ہے۔اس طرح،ہمیں حاصل ہوتا ہے:
(8.2) (B (2πr) = µ0i(t

شکل8.1:سرکٹ کے حصے کے بطور ایک متوازی چادرکیپسٹرc،جس سے ایک تابع–وقت کرنٹi(t)بہہ رہا ہے۔
(a)نصف قطر rکا ایک لوپ،جو لوپ کے نقطےPپر مقناطیسی میدان معلوم کرنے کے لیے لیاگیا ہے۔
(b)ایک برتن کے شکل کی سطح جو کیپسٹر چادروں کی درمیانی جگہ سے گذررہی ہے اور(a)میں دکھایا گیا ہے لوپ اس کارم ہے۔(c)ناشتے دان کے ڈبے کی شکل کی سطح،دائری لوپ جس کا رم ہے اور جس کا چپٹا پینداSکیپسٹر چادروں کے درمیان ہے۔تیر کے نشان کیپسٹر کی چادروں کے درمیان ہموار میدان ظاہر کرتے ہیں۔
اب ایک مختلف سطح لیتے ہیں جس کا حدی خط(Boundary)یکساں ہے۔یہ ایک برتن جیسی سطح ہے [شکل8.1(b)]جو کرنٹ سے کہیں بھی تماس میں نہیں ہے لیکن اس کا پیندا کیپسٹر کی چادروں کے درمیان ہے،اوراس کا منہ اوپر بیان کیاگیا دائری لوپ ہے۔ایسی ہی ایک دوسری سطح کی شکل ناشتے دان کے ڈبے جیسی ہوسکتی ہے(بغیر ڈھکنے کے)[شکل8.1(c)]۔ایسی سطحوں پر ایمپیر کا سرکٹی قانون استعمال کرتے ہوئے،جن کا محیط(Perimeter) یکساں ہے،ہم پاتے ہیں کہ مساوات(8.1)کا بایاں بازو تبدیل نہیں ہوتالیکن دایاں بازوµοiنہیں بلکہ صفر ہے،کیونکہ شکل8.1(b)اور شکل8.1(c)کی سطح سے کوئی کرنٹ نہیں گذررہا ہے۔اس طرح ایک تضاد سامنے آتا ہے۔ایک طرح سے تحسیب کرنے پر،نقطہPپر ایک مقناطیسی میدان ہے اور دوسری طرح سے تحسیب کرنے پر،نقطہPپر مقناطیسی میدان صفر ہے۔
کیونکہ یہ تضادایمپیر کے سرکٹی قانون کو استعمال کرنے سے پیدا ہوتا ہے،اس لیے قانون میںیقینا کوئی چیز غائب ہے۔یہ غائب رکن ایسا ہونا چاہیے کہ نقطہPپر یکساں مقناطیسی میدان حاصل ہو چاہے کوئی بھی سطح استعمال کی جائے۔
ہم شکل8.1(c)کو اگر غور سے دیکھیں تو اس غائب رکن کا اندازہ کرسکتے ہیں۔کیا کیپسٹر کی چادروں کے درمیان سطحSسے کوئی چیز گذررہی ہے؟جی ہاں،بے شک،برقی میدان!اگر کیپسٹر کی چادروں کارقبہAہے اور ان پر کل چارجQہے،تو چادروں کے درمیان برقی میدانکی عددی قدر ہے:Q/A)1/ε0)[دیکھیے مساوات(2.41)]۔یہ میدان شکل8.1(c)کی سطحSپر عمود ہے۔کیپسٹر کی چادروں کے پورے رقبےAپر اس کی عددی قدر یکساں ہے،اور اس سے باہر یہ صفر ہے۔تو سطحSسے گذرنے والا برقی فلکسØEکیاہے؟گاس کا قانون استعمال کرنے پر،یہ ہے:
![]()
اب اگر کیپسٹر کی چادروں کا چارجQ،وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے تو پھر ایک کرنٹ: i = dQ/dt بہہ رہا ہے،اس طرح،مساوات(8.3)استعمال کرنے پر،ہمیںحاصل ہوتا ہے۔
dØE/dt = d / dt (Q/ε0) =1/ε0 dQ/dt
اس کا مطلب ہوا کہ ہم آہنگی کے لیے:
(8.4) ε0 (dØE / dt) = i
یہ ہے،ایمپیر کی سرکٹی قانون میں غائب رکن۔اگر ہم اس قانون کو اس طرح عمومی شکل دیں کہ موصلوں کے ذریعے سطح سے گذررہے کل کرنٹ میں ایک رکن اور شامل کرلیں،جوε0گنا،اسی سطح سے گذررہے برقی فلکس کی شرح وقت کے مساوی ہے،تو کل کرنٹ iکی تمام سطحوں کے لیے یکساں قدر ہوگی۔اگر ایسا کیاجائے تو عمومی ایمپیر کے قانون کو استعمال کرکے کہیں بھی حاصل ہونے والیBکی قدر میں کوئی تضاد نہیں رہتا۔نقطہPپرBغیر صفر ہے،چاہے اس کی تحسیب کے لیے کوئی بھی سطح استعمال کی جائے۔چادروں سے باہر ایک نقطہPپرBکی قدر[شکل8.1(a)]نقطہMپر،جو چادروں کے بس اندر ہے،Bکی قدر کے یکساں ہے،جیسا کہ ہونا چاہیے۔چارج کے بہائو کے وجہ سے موصلوں میںبہہ رہا کرنٹ ایصالی کرنٹ کہلاتا ہے۔مساوات(8.4)سے دیاجانے والی کرنٹ ایک نیا رکن(Term)ہے اور اس کے پیدا ہونے کی وجہ متبادل برقی میدان(یا برقی نقل–ایک پرانی اصطلاح جواب بھی کبھی کبھی استعمال ہوتی ہے)ہے۔یہ،اس لیے،نقل کرنٹ یا میکسویل کا نقل کرنٹ کہلاتا ہے۔شکل8.2میں اوپر بیان کیے گئے متوازی چادر کیپسٹر کے اندرپائے جانے والے برقی اور مقناطیسی میدان دکھائے گئے ہیں۔

شکل8.2:(a)کیپسٹر کی چادروں کے درمیان نقطہMپر برقی میدان
اور مقناطیسی میدان
(b)شکل(a)کا ایک تراشہ
اس طرح میکسویل کے ذریعے دی گئی عمومی شکل یہ ہے۔مقناطیسی میدان کا وسیلہ،بہتے ہوئے چارجوں کی وجہ سے پیدا ہونے والاایصالی برقی کرنٹ ہی نہیں ہے بلکہ برقی میدان کی تبدیلی کی شرح وقت بھی ہے۔زیادہ درست طورپر،کل کرنٹ
سے ظاہر کیے جانے والے ایصالی کرنٹ اور id = ε0 dØE / dt) id)سے ظاہر کیے جانے والے نقل کرنٹ کا حاصل جمع ہے۔اس لیے ہمارے پاس ہے:
(8.5) i = ic + id + ic + ε0 dØE / dt
واضح الفاظ میں،اس کا مطلب ہے کہ کیپسٹر کی چادروں کے باہر،صر ف ایصالی کرنٹ ہےic = i،اور کوئی نقل کرنٹ نہیں ہے،یعنی کہ،id = 0،دوسری طرف،کیپسٹر کے اندر،کوئی ایصالی کرنٹ نہیں ہے،یعنی کہ،اور صرف نقل کرنٹ ہے،اس طرح کہ
ایمپیر سرکٹی قانون کی عمومی(اور درست)شکل وہی ہے جو مساوات(8.1)سے دی جاتی ہے،لیکن ایک فرق کے ساتھ:کسی بھی اس سطح سے گذررہا کل کرنٹ،جس کا محیط بند لوپ ہے،ایصالی کرنٹ اور نقل کرنٹ کا حاصل جمع ہے۔قانون کی عمومی شکل ہے:
![]()
اور یہ ایمپیر –میکسویل قانون کہلاتا ہے۔
نقل کرنٹ کے بھی ہر اعتبار سے،وہی طبعی اثرات ہیں جو ایصالی کرنٹ کے ہیں۔کچھ صورتوں میں،جیسے ایک موصل تار میں برقی میدان کے لیے،نقل کرنٹ صفرہوسکتا ہے کیونکہ برقی میدان
وقت کے ساتھ تبدیل نہیںہوتا۔کچھ دوسری صورتوں میں،جیسے مندرجہ بالا چارج ہوتے ہوئے کیپسٹر میں،ایصالی کرنٹ اور نقل کرنٹ دونوں فضا کے الگ الگ علاقوں میں ہوسکتے ہیں۔زیادہ تر صورتوں میں،یہ دونوں فضا کے ایک ہی علاقے میں بھی پائے جاسکتے ہیں،کیونکہ کوئی بھی مثالی ایصالی یا مثالی حاجز واسطہ نہیںہوتا ۔سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فضا کے ایسے وسیع علاقے ہوسکتے ہیں جہاں کوئی ایصالی کرنٹ نہیں ہولیکن وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے برقی میدانوں کی وجہ سے صرف ایک نقل کرنٹ ہو۔ایک ایسے علاقے میں ہم مقناطیسی میدان کی توقع کرتے ہیں،حالانکہ اس علاقے کے قرب وجوار میں کوئی(ایصالی)کرنٹ کا وسیلہ نہیں ہے۔ایسے نقل کرنٹ کی موجودگی کی پیش گوئی کی تجربے کے ذریعے تصدیق کی جاسکتی ہے۔مثلا،شکل[8.2(a)]میںدکھائے گئے کیپسٹر کی چادروں کے درمیان مقناطیسی میدان (فرض کیجیے نقلہ Mپر)کی پیمائش کی جاسکتی ہے اور اس پیمائش سے یہ پتہ چلتا ہے کہMپر اس کی قدر،چادروں سے بس ذرا باہر (Pپر)مقناطیسی میدان کی قدر کے مساوی ہے۔
نقل کرنٹ کے بہت دوراثر نتائج ہیں۔ایک بات جو ہم فوراً ہی محسوس کرسکتے ہیں کہ اب برق اور مقناطیسیت کے قانون زیادہ متشاکل *(symmetrical)ہیں۔امالہ کے فیراڈے کے قانون کا بیان ہے کہ مقناطیسی فلکس کی تبدیلی کی شرح کے مساوی ایک امالہ شدہemfہوتی ہے۔اب کیونکہ دونقاط 1اور2کے درمیان emf،چارج کو1سے 2تک لے جانے میں کیاگیاکام فی اکائی چارج ہے،اس لیے ایک emfکی موجودگی کا مطلب ہے ایک برقی میدان کی موجودگی۔اس لیے ہم فیراڈے کے برق–مقناطیسی امالہ کے قانون کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کرسکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ بدلتا ہوا ایک مقناطیسی میدان ایک برقی میدان پیدا کرتا ہے۔پھر یہ حقیقت کہ ایک وقت کے ساتھ بدلتا ہوا برقی میدان ایک مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے ،اس کا متشاکل نصف ثانی ہے اور نقل کرنٹ کے مقناطیسی میدان کا وسیلہ ہونے کا منطقی نتیجہ ہے۔اس طرح،تابع وقت برقی اور مقناطیسی میدان ایک دوسرے کو پیدا کرتے ہیں۔فیراڈے کا برق–مقناطیسیت کا قانون اور ایمپیر–میکسویل قانون اس بیان کا مقداری اظہار ہیں،جہاں پر کرنٹ،کل کرنٹ ہے،جیسا مساوات(8.5)میں ہے۔
اس تشاکل کا ایک بہت ہی اہم منطقی نتیجہ،برق–مقناطیسی لہروں کا وجود ہے،جس سے ہم اگلے حصہ میںکیفیتی طورپر بحث کریں گے۔
میکسو یل کی مساواتیں
1 (برق کے لیے گاس کا قانون)
2 (مقناطیسیت کے لیے گاس کا قانون)
3 (فیراڈے کا قانون) 
4 (ایمپیر - میکسویل قانون)
ابھی بھی یہ دونوں مثالی (مکمل)طورپر متشاکل نہیںہیں،مقناطیسی میدان کے کوئی معلوم وسیلے نہیں ہیں(مقناطیسی یک قطب)جو برقی میدان کے وسیلے برقی چارج کے مشابہ ہوں۔
مثال8.1۔:1mنصف قطر کی دائری چادروں کے ایک متوازی چادرکیپسٹر کی صلاحیتInFہے۔t=0پر اسے چارج کرنے کے لیے،R=1MWکے مزاحمہ کے ساتھ سلسلہ وار طرز میں،ایک2Vبیٹری کے سروں کے درمیان جوڑا جاتا ہے (شکل8.3)۔نقطہPپرt =10-3sکے بعدمقناطیسی میدان کا حساب لگائیے۔نقطہPمرکز اور چادروں کے اندرونی محیط کے فاصلے کے نصف پر واقع ہے۔[وقتtپر،کیپسٹر پر چارج ہے:
(q (t) = CV [1- exp (- t /τ جہاں وقت مستقلہt،(CR)کے مساوی ہے۔
شکل8.3
حل:سرکٹ کا وقت مستقلہ ہے: τ = CR =10-3 s تب ہمارے پاس ہے۔
[(q (t) = CV [1 - exp ( -t/τ

وقت tپر چادروں کے درمیانی علاقے میں برقی میدان ہے:
چادروں کا رقبہ
= E = q(t) / ε0A = q/πε0 A = π(1)2 m2
اب ایک نصف قطر1/2mکا دائری لوپ لیجیے جو چادروں کے متوازی ہے اورPسے گذرتا ہے۔لوپ کے ہر نقطہ پر مقناطیسی میدان
کی سمت لوپ کے ساتھ ساتھ ہے اور اس کی عددی قدر بھی یکساں ہے۔
اس لوپ سے گذرنے والا فلکسØE:

نقل کرنٹ:
(id = ε0 dØE/dt = 1/4dq/dt = 0.5×10-6 exp(-1
(t = 10-3s پر)
اب لوپ پر،ایمپیر–میکسویل قانون لگانے پر:
(B ×2π× (1/2) = µ0 (ic id) = µ0 (0 + id) = 0.5×10-6 µ0 exp (-1
B = 0.74×10-13 T
8.3برقی–مقناطیسی لہریں(Electromagnetic Waves)
8.3.1برق–مقناطیسی لہروں کے وسیلے(Sources of electromagnetic waves)
برق–مقناطیسی لہریں کیسے پیدا ہوتی ہیں؟نہ ہی ساکن چارج اور نہ ہی یکساں حرکت کرتے ہوئے چارج (قائم کرنٹ)برق–مقناطیسی لہروں کے وسیلے ہوسکتے ہیں۔اول الذکر صرف برق–سکونی میدان پیدا کرتا ہے،جب کہ آخر الذکر ایسا مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے جو قت کے اتھ تبدیل نہیںہوتا۔میکسویل کے نظریہ کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ اسراع شدہ چارج،برق–مقناطیسی لہروں کا اشعاع کرتے ہیں۔اس بنیادی نتیجے کا ثبوت اس کتاب کے دائرہ کار سے باہر ہے لیکن ہم اسے ایک موٹے موٹے کیفیتی استدال کی بنا پر قبول کرسکتے ہیں۔ایک چارج تصور کیجیے جو کسی تعدد سے اہتراز کررہا ہے۔[ایک اہتراز کرتا ہواچارج،اسراع شدہ چارج کی ایک مثال ہے]یہ فضا میں ایک اہتراز کرتا ہوا برقی میدان پیدا کرتا ہے جو ایک اہتراز کرتا ہوا مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے اور یہ مقناطیسی میدان ایک اہتراز کرتے ہوئے برقی میدان کا وسیلہ ہے اور اسی طرح اور آگے بھی۔اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اہتراز کرتے ہوئے برقی میدان اور مقناطیسی میدان ایک دوسرے کو دوبارہ پیدا کرتے رہتے ہیں جب کہ لہر فضا میں سفر کرتی ہے۔برق–مقناطیسی لہر کا تعدد،قدرتی بات ہے کہ ،چارج کے اہترازات کے تعدد کے مساوی ہوتا ہے۔سفر کررہی لہر کے ساتھ منسلک توانائی،توانائی کے وسیلے۔اسراع شدہ چارج۔کی توانائی کے خرچ ہونے کی بنا پر ہوتی ہے۔
مندرجہ بالا بحث سے ہوسکتا ہے کہ یہ پیشین گوئی جانچنا آسان معلوم ہو کہ روشنی ایک برق–مقناطیسی لہر ہے۔آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں کہ ہمیں صرف اتنا کرنا ہوگا کہ ایک ایساacسرکٹ تیار کریں جو بصری روشنی،فرض کیا پیلی روشنی،کے تعدد کے ساتھ اہتراز کرتا ہو۔لیکن افسوس،یہ ممکن نہیں ہے۔پیلی روشنی کا تعدد تقریباً
ہے لیکن وہ تعدد جو ہم جدید الیکٹرونک سرکٹوں کی مدد سے حاصل کرسکتے ہیں،اس کی زیادہ سے زیادہ قدر
ہے۔اسی لیے برق–مقناطیسی لہروں کا تجرباتی مظاہرہ نچلے تعدد علاقے میںہی کیاجاسکتا تھا(ریڈیو تعدد کے علاقے میں)،جیسا کہ ہرٹز کے تجربے(1887)میںکیا گیا۔
ہرٹز کے ذریعے میکسویل کے نظریے کی کی گئی کامیاب تجرباتی جانچ نے ایک سنسنی پھیلادی اوراس میدان میںدوسرے اہم کام کیے جانے شروع ہوگئے۔ان میںسے دوکامیابیاں خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ہرٹز کے7سال بعد،کلکتہ(جواب کولکتہ ہے)میںکام کرتے ہوئے،جگدیش چندربوس نے اس سے کہیں کم طول موج(25mmسے5mm)کی برق–مقناطیسی لہروں کو پید کرنے اور ان کا مشاہدہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ان کے تجربات بھی،ہرٹز کے تجربات کی طرح تجربہ گاہ تک محدود رہے۔
تقریباً اسی زمانے میں،اٹلی میں گوگ لیلمو مارکونی نے ہرٹز کے کام کو آگے بڑھایا اور برق–مقناطیسی لہروں کی کئی کلومیٹر کے فاصلے تک ترسیل کرنے میںکامیابی حاصل کی۔مارکونی کے تجربات،برق–مقناطیسی لہروں کے استعمال کے ذریعے ترسیل کے میدان کی شروعات ہیں۔
8.3.2 برقی–مقناطیسی لہروں کی طبع
میکسویل کی مساواتوں سے یہ ظاہر کیاجاسکتاہے کہ ایک برق–مقناطیسی لہر میں برقی اور مقناطیسی میدان،ایک دوسرے پر عمود ہوتے ہیں اور اشاعت کی سمت پر بھی عمود ہوتے ہیں۔یہ قابل فہم معلوم ہوتا ہے،مثلاً ہماری نقل کرنٹ پر بحث سے بھی یہی نتیجہ اخذ کیاجاسکتا ہے۔شکل8.2دیکھیے۔کیپسٹر کی چادروں کے درمیان(اندر کی طرف)برقی میدان کی سمت چادروں پر عمود ہے۔یہ جس مقناطیسی میدان کو،نقل کرنٹ کے ذریعے،پیدا کرتا ہے وہ کیپسٹر کی چادروں کے متوازی ایک دائرہ کے محیط کی جانب ہے۔اس طرح اس صورت میں
ایک دوسرے پر عمود ہیں۔یہ ایک عمومی خاصیت ہے۔

ہینرک رڈولف ہرٹز(1857—1894)
جرمن طبیعات داں،جو ریڈیو لہروں کو نشر کرنے والے اور وصول کرنے والے پہلے شخص تھے۔انھوں نے برق–مقناطیسی لہریں پیدا کیں،انھیں فضا میں بھیجا اور ان کے طول موج اور ان کی رفتار کی پیمائش کی۔انھوں نے دکھایا کہ ان کے ارتعاش کی طبع،ان کا انعکاس اور انعطاف،روشنی اور حرارت کی لہروں جیسے ہی تھے،ار اس طرح پہلی بار ان کی شناخت کو تسلیم کروایا۔انھوں نے گیسوں میںسے برق کے ڈسچارج کی تحقیق میںبھی رہنمایانہ حصہ لیا اور نور–برقی اثر دریافت کیا۔
شکل 8.4میںایک مسطح برق–مقناطیسی لہر کی مخصوص مثال دکھائی گئی ہے،جو–zسمت میںحرکت کررہی ہے (میدانوں کو،ایک دیے ہوئے وقت zکو آرڈی نیٹ کے تفاعل کے بطور دکھایاگیا ہے)۔برقی میدان
محور کی سمت میں ہے اور ایک دیے ہوئے وقت پرzکے ساتھ سائن خم نما طورپر تبدیل ہوتا ہے۔مقناطیسی میدان
محور کی جانب ہے اور یہ بھیzکے ساتھ سائن خم نما طورپر تبدیل ہوتا ہے۔برقی اور مقناطیسی میدان
ایک دوسرے پر عمود ہیں اورلہر کی حرکت کرنے کی سمتzپر بھی عمود ہیں۔
ہمEx اور Byکو مندرجہ ذیل شکل میں لکھ سکتے ہیں:
(8.7) (Ex E0 sin (kz wt
(8.7) (By B0 sin (kz wt
یہاںkاور لہر کے طول موجlمیںرشتہ ہے:
(8.8) k = 2π / λ
اور(1) زاوایائی تعدد ہے۔k،لہر سمتیہ (یا اشاعت سمتیہ )
کی عددی قدر ہے۔اور اس کی سمت لہر کی اشاعت کی سمت بتاتی ہے۔لہر کی اشاعت کی چال(w/k)
ہے۔مساوات8.7(a)،مساوات 8.7(b)اور میکسویل کی مساواتوں کو استعمال کرکے،ہم حاصل کرسکتے ہیں:
(8.9) w = ck

رشتہw=ck،لہروں کے لیے ایک معیاری رشتہ ہے(مثال کے طورپر،درجہXIکی طبیعات کی درسی کتاب کا حصہ15.4دیکھیے)۔یہ رشتہ عام طورسے تعددw/2π)v =)اورطول لہر2π/k)λ =) کی شکل میں ایسے لکھاجاتا ہے:
(2πv = c (2π / λ
یا
vλ = c

شکل8.4:ایک خطی طورپر پر تقطیب شدہ برق مقناطیسی لہر جو اہتراز کرتے ہوئے برقی میدان(xسمت کی جانب)اور اہتراز کرتے ہوئے مقناطیسی میدان(–yسمت کی جانب)کے ساتھ–zسمت میں حرکت کررہی ہے۔
میکسویل کی مساواتوںسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک برق–مقناطیسی لہر میں برقی اور مقناطیسی میدانوں کی عددی قدروں کے مابین رشتہ ہے:
(8.10) (B0 = (E0/c
یہاں ہم برق–مقناطیسی لہروں کی اہم خاصیتوں پر کچھ تبصرہ کرتے ہیں۔یہ لہریں آزاد فضا یا خلا میںخود کو برقرار رکھ سکنے والے،برقی ومقناطیسی میدانوں کے،اہترازات ہیں۔یہ ان تمام لہروں سے،جن کا ہم اب تک مطالعہ کرچکے ہیں،اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ برقی ومقناطیسی میدانوں کے ارتعاشات (vibrations)میںکوئی واسطہ شامل نہیں ہے۔ہوا میںپیدا ہونے والی ’’آواز کی لہریں‘‘ داب(Compression) اور تلطیف(rarefaction) کی طولی لہریں ہیں۔عرضی لچکیلی (آواز)لہروں کی اشاعت ایک ٹھوس شے میں بھی ہوسکتی ہے جو کہ سخت ہوتی ہے اور تحریف کی مدافعت (مزاحمت،روک سکنا)کرسکتی ہے۔انیسویں صدی کے سائنسداں اس میکانیکی تصویر کے اتنے عادی ہو چکے تھے کہ انھوں نے سوچا کہ ایسا کوئی واسطہ ضرور ہونا چاہیے جو پوری فضا اور تمام مادے میں پھیلا ہوا ہو اور جو کہ برقی اور مقناطیسی میدانوں سے اسی طرح متاثر ہوتا ہو جیسے کہ کوئی بھی لچکیلا واسطہ ہوتا ہے۔انھوں نے اس واسطہ کو ایتھر(Ether)کا نام دیا۔انھیں اس واسطے کے حقیقی ہونے کا اتنا یقین تھا کہ سر آرتھر کونن ڈوئل (مشہور جاسوس شرلاک ہومز کے خالق)نے ’’دی پوائزن بیلٹ(the Poison belt)نام کا ایک ناول بھی لکھا جس میں شمسی نظام کو ایتھر کے زہریلے علاقے سے گذرتا ہوا تصور کیاگیا ہے۔اب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہے۔مائکلسن اور مورلے کے 1887میں کیے گئے مشہور تجربے نے ایتھر کے مفروضے کو قطعی طورپر غلط ثابت کردیا۔وقت اور فضا میں اہترازات کرتے ہوئے برقی ومقناطیسی میدان خلا میں ایک دوسرے کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
لیکن کیا ہوگا اگر ایک مادی واسطہ واقعی موجود ہو؟ہم جانتے ہیں کہ روشنی،جو ایک برق–مقناطیسی لہر ہے،شیشے میں سے گذرتی ہے۔ہم پہلے سیکھ چکے ہیں کہ ایک واسطے میںکل برقی اور مقناطیسی میدان برقی سرایت پذیری eاور مقناطیسی سرایت پذیریmکی شکل میں بیان کیے جاتے ہیں(یہ ان جز ضربی کو بیان کرتے ہیں جن سے کل میدان،باہری میدانوں سے مختلف ہوتے ہیں)۔یہ میکسویل مساواتوں کے ذریعے بیان کیے جانے والے برقی اور مقناطیسی میدانوں میں
اور
کی جگہ لے لیتے ہیں،جس کے نتیجے میں ایک برقی سرایت پذیریEاور مقناطیسی سرایت پذیر
کے واسطے کے لیے،روشنی کی رفتار ہوجاتی ہے:

اس لیے،روشنی کی رفتار،واسطے کی برقی اور مقناطیسی خاصیتوں پر منحصر ہے۔ہم اگلے باب میں پڑھیں گے کہ ایک واسطے کا دوسرے واسطے کی مناسبت سے انعطاف نما،دونوں واسطوں میںروشنی کی رفتاروں کی نسبت کے مساوی ہے۔
آزاد فضا یا خلامیں برق–مقناطیسی لہروں کی رفتار ایک اہم اساسی مستقلہ ہے۔مختلف طول موج کی برق–مقناطیسی لہروں پر کیے گئے تجربات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ رفتار یکساں ہے(طول موج کے تابع نہیں ہے)اور فرق اس کی قدر
میں چند میٹر فی سیکنڈ سے زیادہ نہیں ہے۔خلا میں برق–مقناطیسی لہروں کی مستقلیت،تجربات سے اتنی اچھی طرح ثابت ہوجاتی ہے اور اس کی اصل قدر اتنی درستی صحت کے ساتھ معلوم ہے کہ اسے لمبائی کے معیار کی تعریف کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔یعنی کہ،اب میٹر کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ میٹر وہ لمبائی ہے جو روشنی خلا میں سیکنڈ یعنی
سیکنڈ میں طے کرتی ہے۔ایسا مندرجہ ذیل وجہ سے کیاجاتا ہے۔وقت کی بنیادی اکائی کو کسی ایٹمی تعددیعنی کہ ایک خاص عمل میں ایک ایٹم سے خارج کی گئی روشنی کا تعدد،کی شکل میں بے حد درستی صحت کے ساتھ معرف کیاجاسکتا ہے۔لمبائی کی بنیادی اکائی کو براہِ راست طورپر اتنی درستی صحت کے ساتھ معرف کرپانا مقابلتاً مشکل ہے۔cکی تمام شروعاتی پیمائشوں میںcکی قدر
کے قریب ہی دریافت ہوئی۔کیونکہcاتنا زیادہ متعین عدد ہے،لمبائی کی اکائی کو cاور وقت کی اکائی کی شکل میں معرف کیاجاسکتا ہے۔
ہرٹز نے نہ صرف برق–مقناطیسی لہروں کے وجود کا تجرباتی مظاہرہ کیا،بلکہ اپنے تجربات سے یہ مظاہرہ بھی کردکھایا کہ وہ لہریں،جن کا طول موج،روشنی کے طول موج کا دس دس لاکھ گنا ہوتا ہے،ان کا انصراف(Diffraction) ، انعکاس(Reflection) اور تقطیب(Polarisation) بھی ممکن ہے۔اس طرح انھوں نے شعاعوں کی لہری طبع کو پورے طورپر ثابت کردیا۔مزید،یہ کہ انھوں نے ساکن برق–مقناطیسی لہریں پیدا کیںاوران کے دولگاتار نوڈوں کے درمیان فاصلہ معلوم کرکے ان کا طول لہریں معلوم کیا۔کیونکہ لہر کا تعدد معلوم تھا (کیونکہ یہ اہتراز کار کے تعدد کے مساوی ہے)،اس لیے فارمولہ:v=nlاستعمال کرکے انھوں نے لہروں کی چال معلوم کی اور یہ پایا کہ یہ لہریں اسی چال سے سفر کرتی ہیں جو روشنی کی چال ہے۔
یہ حقیقت کہ برق–مقناطیسی لہریں تقطیب شدہ ہوتی ہیں،ایک نقل پذیر (جس کو اٹھاکر لے جایاجاسکےPortable)AMریڈیو کے ایک ریڈیو اسٹیشن کے نشریے سے متاثر ہونے کے ذریعے بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔اگر ایکAMریڈیو میںایک دوربینی انٹینا لگاہوتا ہے تو یہ ریڈیو سگنل کے برقی جز سے متاثر ہوتا ہے۔انٹیناکو افقی سمت میں رکھا جاتا ہے تو سگنل بہت کم موصول ہوتے ہیں۔کچھ نقل پذیر ریڈیوسیٹوں میں افقی انٹینا لگے ہوتے ہیں (یہ عام طورسے ریڈیو کے کیس کے اندر ہوتے ہیں)،جو برق–مقناطیسی لہر کے مقناطیسی جز سے متاثر ہوتے ہیں ۔ایسے ریڈیو کو،سگنلوں کو وصول کرنے کے لیے افقی سمت میں رکھناضروری ہوجاتا ہے۔ایسی صورتوں میں،ریڈیو سے حاصل ہونے والی آواز،نشر کررہے اسٹیشن کی مناسبت سے ریڈیو سیٹ کی تشریق پر بھی منحصر ہوتی ہے۔
کیا دوسری لہروں کی طرح،برق–مقناطیسی لہرمیں بھی توانائی اور معیارِحرکت ہوتے ہیں؟جی ہاں،ہوتے ہیں۔ہم باب(2)میں سیکھ چکے ہیں کہ آزاد فضا کے اس علاقے میں،جہاں ہموار برقی میدان
ہے،وہاں ایک توانائی کثافتε0E2/2ہے۔اسی طرح باب6میں ہم نے سیکھا تھا کہ مقناطیسی میدان
سے منسلک مقناطیسی توانائی کثافت(B2/2µ0) ہے۔کیونکہ ایک برق–مقناطیسی لہر کے برقی اور مقناطیسی دونوں میدان ہوتے ہیں،اس لیے اس سے ایک غیر صفر توانائی کثافت منسلک ہے۔اب ایک برق–مقناطیسی لہر کی اشاعت کی سمت کے عمود ایک مستوی لیجیے(شکل8.4)اب اگر اس مستوی پر،برقی چارج ہیں تو برق–مقناطیسی لہروں کے برقی اور مقناطیسی میدان انھیں متحرک کردیں گے اور ان کی حرکت کو برقرار رکھیں گے۔اس طرح چارج،لہر سے توانائی اور معیار حرکت حاصل کرلیتے ہیں۔یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک برق–مقناطیسی لہر میں(دوسری لہروں کی طرح)توانائی اور معیارِحرکت ہوتے ہیں۔کیونکہ اس میں میعارِحرکت ہوتا ہے،اس لیے ایک برق–مقناطیسی لہر دبائو بھی ڈالتی ہے جو اشعاع دبائو کہلاتا ہے۔
اگر وقتtمیں ایک سطح کو منتقل ہوئی کل توانائی Uہے،تو یہ ثابت کیاجاسکتا ہے کہ اس سطح کو دی گئی،کل معیارِحرکت کی عددی قدر(مکمل جذبیت(absorption)کے لیے]ہے:
(8.12) P = U/c
جب آپ کے ہاتھ پر دھوپ پڑتی ہے تو آپ برق–مقناطیسی لہروں سے توانائی جذب ہوتی ہوئی محسوس کرتے ہیں(آپ کا ہاتھ گرم ہوجاتا ہے)۔برق–مقناطیسی لہریں آپ کے ہاتھ کو معیارِحرکت بھی منتقل کرتی ہیں،لیکن کیونکہcکی قدر بہت زیادہ ہے،منتقل ہونے والے معیار حرکت کی مقدا راتنی زیادہ قلیل ہوتی ہے کہ آپ دبائو محسوس نہیں کرتے۔1903میں،امریکن سائنس دانوں،نکولس اورہُل نے بصری روشنی کے اشعاع پر دبائو کو ناپنے میںکامیابی حاصل کی اور مساوات(8.2)کی تجرباتی تصدیق کی۔یہ
کے درجے کا پایاگیا۔اس لیے،10cm2کے ایک سطحی رقبہ پر،اشعاع کی وجہ سے قوت صرف تقریباً
ہے۔
برقی–مقناطیسی لہروں کی اتنی زیادہ تکنیکی اہمیت ان کی،ایک مقام سے دوسرے مقام تک توانائی لے جاسکنے کی اہلیت کی وجہ سے ہے۔ریڈیو اور ٹی۔وی۔ پروگرام نشر کرنے والے اسٹیشنوں سے بھیجے جانے والے سگنلوں میںتوانائی ہوتی ہے۔روشنی،سورج سے زمین تک توانائی پہنچاتی ہے اور اس طرح زمین پر زندگی کو ممکن بناتی ہے۔
مثال8.2:ایک مسطح برق–مقناطیسی لہر،جس کا تعدد25MHzہے،–xسمت میں آزاد فضا میں سفر کرتی ہے۔وقت اور فضا کے ایک خاص نقطے پر،
،اس نقطہ پر
کیاہے؟
حل:مساوات(8.10)استعمال کرتے ہوئے،
کی عددی قدر ہے:

سمت معلوم کرنے کے لیے،ہم نوٹ کرتے ہیں کہ
سمت میں ہے اور لہر–xسمت میں سفر کررہی ہے۔اس لیے
کو ایسی سمت میں ہونا چاہیے جو–xمحور اور–yمحور دونوں پر عمود ہو۔سمتیہ الجبرا استعمال کرتے ہوئے،
کو x–سمت میںہوناچاہے۔کیونکہ:
سمت میںہے۔اس لیے ،![]()
مثال8.3:ایک مسطح برق–مقناطیسی لہر کا مقناطیسی میدان دیاجاتا ہے:
![]()
(a)لہر کا طول لہر اور لہر کا تعدد معلوم کیجیے۔
(b)برقی میدان کے لیے ایک ریاضیاتی عبارت لکھیے۔
حل:(a)دی ہوئی مساوات کا مقابلہ،مندرجہ ذیل مساوات سے کرنے پر:

اور

برقی میدان جز اشعاع کی سمت اور مقناطیسی میدان کی سمت پر عمو دہے،اس لیے–zسمت میں برقی میدان جز حاصل ہوتا ہے:
Ez = 60 sin (0.5×103x+1.5×1011 t) V/m
مثال8.4:
توانائی فلکس کی روشنی ایک غیر انعکاسی سطح پر عمودی وقوع کے ساتھ پڑتی ہے۔اگر سطح کا رقبہ20cm2ہو تو 30منٹ کے وقفہ وقت میں سطح پر لگائی گئی اوسط قوت معلوم کیجیے۔
حل:سطح پر پڑرہی کل توانائی
(U = (18 W / cm2)× (20 cm2)× (30 × 60
6.48×105J =

اس لیے منتقل ہوا کل معیارِحرکت (مکمل انجذاب کے لیے)ہے:
![]()
سطح پر لگائی گئی اوسط قوت ہے:

آپ کے نتیجے میں کیا تبدیلی ہوگی اگر سطح مثالی انعکاس کار ہو۔
مثال8.5:100Wبلب سے نکل رہی شعاعوں کے ذریعے،3mفاصلے پر پیدا ہوئے برقی اور مقناطیسی میدان کاحساب لگائیے۔مان لیجیے کہ بلب کی استطاعت 2.5%ہے اور یہ ایک نقطہ وسیلہ ہے۔
حل:بلب،نقطہ وسیلہ ہوتے ہوئے،ہر سمت میں روشنی کا ہموار اشعاع کرتا ہے۔3mکے فاصلے پر،گھیرنے والے کرہ کا سطحی رقبہ ہے۔
A = 4πr2 = 4π(3)2=113m2
اس فاصلہ پر شدت(intensity)ہے:

اس شدت کا نصف برقی میدان مہیا کرتا ہے اور نصف مقناطیسی میدان۔

اوپر معلوم کی گئیEکی قدر،برقی میدان کی rmsقدرہے۔کیونکہ ایک روشنی کی بیم میں برقی میدان سائن خم ہوتا ہے،فراز برقی میدانE0ہے:

اس طرح آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ پڑھنے کے لیے جو روشنی استعمال کرتے ہیں،اس کے برقی میدان کی طاقت اچھی خاصی زیادہ ہوتی ہے۔اس کامقابلہTVیاFMلہروں کے برقی میدان کی طاقت سے کیجیے جو چند مائیکرو وولٹ فی میٹر کے درجہ کی ہوتی ہے۔
اب ہم مقناطیسی میدان کی طاقت کا حساب لگاتے ہیں:

پھر،کیونکہ روشنی کی بیم میں میدان سائن خم نما ہے، فراز مقناطیسی میدان ہے:
وٹ کریں کہ حالانکہ مقناطیسی میدان میں توانائی،برقی میدان میں توانائی کے مساوی ہوتی ہے،مقناطیسی میدان کی طاقت بظاہر بہت کمزور ہوتی ہے۔
8.4برقی–مقناطیسی طیف(Electromagnetic Spectrum)
جس وقت میکسویل نے برق–مقناطیسی لہروں کے وجود کی پیشین گوئی کی،اس وقت تک جن برق–مقناطیسی لہروں سے واقفیت حاصل تھی وہ صرف بصری روشنی لہریں ہی تھیں۔بالا بنقشئی اور زیریں سرخ(infrared)لہروں کی موجودگی کے بارے میں بس معلوم ہی ہوا تھا۔انیسویں صدی کے آخر تک،–xشعاعیںاور–gشعاعیں بھی دریافت کی جاچکی تھیں۔اب ہم جانتے ہیں کہ برق–مقناطیسی لہروں میں،بصری روشنی کی لہریں،–Xشعاعیں،گاما–شعاعیں،ریڈیو لہریں،مائیکرولہریں بالابنقشئی اور زیریں سرخ لہریں شامل ہیں۔تعدد کے لحاظ سے،برق–مقناطیسی لہروں کی درجہ بندی برق–مقناطیسی طیف ہے(شکل8.5)۔ایک قسم کی لہر اور اس کے بعد آنے والی لہر میںکوئی واضح تقسیم نہیں ہے۔یہ درجہ بندی موٹے طورسے اس پر مبنی ہے کہ لہریں کیسے پیدا ہوتی ہیں یا/اورکیسے شناخت کی جاتی ہیں۔

شکل8.5:برق–مقناطیسی طیف،اپنے مختلف حصوں کے عام ناموں کے ساتھ–مختلف علاقوں کی حدیں واضح نہیں ہیں۔
8.4.1
ریڈیو لہریں
ہم طول لہر کی نرولی ترتیب میں،برق مقناطیسی لہروں کی ان مختلف قسموں کو مختصراً بیان کرتے ہیں:8.4.1ریڈیو لہریں:
ریڈیو لہریں،ایصالی تاروں میںچارجوں کی اسراع پذیر حرکت سے پیدا ہوتی ہیں۔یہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو ترسیلی نظاموں میںاستعمال کی جاتی ہیں۔یہ عام طورسے 500KHzسے تقریباً1000MHzکی تعدد سعت میںہوتی ہیں۔AM(وسعت تلحسین(Amplitude Modulation)پٹی530KHzسے1710KHzتک ہوتی ہے۔اس سے زیادہ 54MHzتک،کے تعدد مختصرلہرپٹیوں(Short wave bands)کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔TVلہروں کی سعت 54MHzسے890MHzتک ہوتی ہے۔FM(تعدد تلحسینFrequency Modulation)ریڈیو پٹی88MHzسے108MHzتک پھیلی ہوتی ہے۔سیل فونوں میں،بالا اعلیٰ تعددپٹی میںآواز کی ترسیل کے لیے ریڈیو لہریں استعمال ہوتی ہیں۔یہ لہریں کیسے بھیجی اوروصول کی جاتی ہیں،اسے باب15میں بیان کیاگیا ہے۔
8.4.2مائیکرولہریں
مائیکرولہریں(مختصر طول لہرریڈیو لہریں)،جن کے تعدد گیگا ہر ٹز(GHz)کی سعت میںہوتے ہیں،مخصوص خلا کی ہوائی نلیوں[جو کلسٹران(Klystron)،میگنیٹران(Magnetron)اورگن ڈایوڈ(Gun Diode)کہلاتی ہیں]کے ذریعے پیدا کی جاتی ہیں۔اپنی مختصر طول لہر کی وجہ سے یہ ہوائی جہازرانی میں استعمال ہونے والے راڈار نظاموں کے لیے مناسب ہیں۔راڈار(Radar)،تیزرفتار گیندوں،ٹینس سروِس اور گاڑیوں کی رفتار معلوم کرنے والی اسپیڈگنوں کے لیے بھی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔مائیکروویواووِن (چولھے)ان لہروں کا دلچسپ گھریلو استعمال ہے۔ان چولھوں میں،مائیکرولہروں کا تعدد اس طرح منتخب کیاجاتا ہے کہ وہ پانی کے مالیکیولوں کے گمک تعد دسے میل کا ہوتاکہ لہروں سے توانائی،مالیکیولوں کی حرکی توانائی کو،استطاعت کے ساتھ،منتقل ہوسکے۔اس طرح ہراس خوردنی شے(کھانے کی چیز)کے درجہ حرارت میںاضافہ ہوجاتا ہے،جس میںپانی موجود ہوتا ہے۔

مائیکرو ویوچولھے(Microwave oven)
برق–مقناطیسی لہروں کے طیف میں ایک حصہ’’مائیکرو لہریں‘‘ کہلاتا ہے۔ان لہروں کا تعدد اورتوانائی،بصری روشنی سے کم ہوتے ہیں اور ان کی طول لہر،بصری روشنی سے زیادہ ہوتی ہے۔ایک مائیکروویو اوون کا اصول کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
ہمارا مقصد کھانا پکانا یا کھانا گرم کرنا ہے۔ہر کھانے کی شے،جیسے پھل،سبزیاں،گوشت،اناج وغیرہ میںپانی بطور جز ترکیبی شامل ہوتا ہے۔اب جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی شے پہلے سے زیادہ گرم ہوگئی ہے،تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟جب ایک شے کے درجہ حرارت میںاضافہ ہوتا ہے تو مالیکیولوں اور ایٹموں کی بالترتیب حرکت کی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے اور مالیکیول مقابلتاً زیادہ توانائی کے ساتھ حرکت کرنے یا ارتعاش کرنے یا گردش کرنے لگتے ہیں۔پانی کے مالیکیولوں کاگردشی تعدد تقریباً300کروڑ ہرٹز ہے،یعنی3گیگا ہرٹز(GHz)۔اگر پانی کو اس تعدد کی مائیکرو لہریں موصول ہوتی ہیں تو اس کے مالیکیول ان لہروں کو جذب کرلیتے ہیں،جو کہ پانی کو گرم کرنے کے مترادف ہے۔پانی کے مالیکیول اس توانائی کو اپنے پڑوسی غذا کے مالیکیولوں کے ساتھ بانٹتے ہیں،اور اس طرح کھانا گرم ہوجاتا ہے۔
ایک مائیکرو ویو اوون میں ہمیں پورسیلن کے برتن اس طورپر متاثر نہیں ہوتے اور ٹھنڈے بھی رہتے ہیں،کیونکہ ان کے مالیکیول بڑے ہونے کی وجہ سے برتن استعمال کرنے چاہئیں،دھاتوں کے برتن نہیں،کیونکہ اکٹھا ہوئے برقی چارج کی وجہ سے برقی جھٹکا لگنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔دھاتیں گرم کرنے پر پگھل بھی سکتی ہیں۔پورسلین سے کہیں کم تعداد کے ساتھ ارتعاش اور گردش کرتے ہیں،اس لیے مائیکرو لہروں کو جذب نہیں کرپاتے اور گرم نہیںہوتے ۔اس لیے ایک ’’مائیکرو وویو اوون‘‘کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جہاں اوون میںکھانا رکھاجاتا ہے،اسی علاقے میں مناسب تعدد کی مائیکرو وویو شعاعیں پیدا کی جائیں۔اس طرح سے برتن کو گرم کرنے میںتوانائی ضائع نہیں ہوتی۔گرم کرنے کے روایتی طریقے میںپہلے چولھے پر رکھا ہوا برتن گرم ہوتا ہے اور پھر برتن سے توانائی کھانے کی شے میں منتقل ہوتی ہے اور اسے گرم کرتی ہے ۔دوسری طرف،مائیکرو وویواوونوں میں توانائی پانی کے مالیکیولوں کو براہِ راست فراہم کی جاتی ہے جو پورے کھانے میں تقسیم ہوتی ہے۔
8.4.3زیریں سرخ لہریں(Infrared waves)
زیریں سرخ لہریں،گرم اجسام اور مالیکیول پیدا کرتے ہیں۔یہ پٹی(بینڈ)،بصری طیف کے کم تعدد یا طویل–طولِ موج والے سرے سے متصل ہوتا ہے۔زیریں سرخ شعاعوں کو کبھی کبھی حرارتی شعاعیں بھی کہاجاتا ہے۔ایسا اس لیے ہے،کیونکہ زیادہ تر مادی اشیا میں پائے جانے والے پانی کے مالیکیول بآسانی زیریں سرخ لہروں کو جذب کرلیتے ہیں (بہت سے دوسرے مالیکیول ،جیسے،NH3 ,CO2،بھی زیریں سرخ لہریں جذب کرتے ہیں)۔جذب کرنے کے بعد،ان کی حرارتی حرکت میں اضافہ ہوتا ہے،یعنی کہ وہ خود گرم ہوجاتے ہیں اور ارد گرد کے ماحول کو بھی گرم کرتے ہیں۔زیریں سرخ لیمپ طبعی طریقہ علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔زیریں سرخ شعاعیں،زمین کی گرمی یا اوسط درجہ حرارت کو،سبز گھر اثر کے ذریعے،برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔زمین پر آنے والی بصری روشنی(جو فضائی کرہ میں سے مقابلتاً آسانی سے گذرجاتی ہے)،زمین کی سطح کے ذریعے جذب کی جاتی ہے اور زیریں سرخ (مقابلتاً زیادہ طول لہر شعاعوں کی شکل میں اس کا دوبارہ اشعاع ہوتا ہے۔یہ شعاعیں سبز گھر گیسوں،جیسے کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی کے ابحزات کے ذریعے جذب کرلی جاتی ہیں۔زیریں سرخ شناس کاروں کا استعمال زمین کے سیارچوں میں،فوجی مقاصد اور فصل کی نشوونما کے مشاہدے ،دونوں کے لیے،کیاجاتا ہے۔الیکٹرانک الآت(مثلا نیم موصل روشنی مخروج ڈایوڈ بھی زیریں سرخ لہریں خارج کرتے ہیں اور گھریلو الیکٹرانک آلات جیسے TVسیٹ،ویڈیوریکارڈر اور ہائی–فائی نظاموںکے رِموٹ سوئچوں میں خوب استعمال ہوتے ہیں۔
8.4.4بصری شعاعیں(Visible rays)
یہ برق–مقناطیسی لہروں کی سب سے زیادہ جانی پہچانی شکل ہے۔یہ طیف کا وہ حصہ ہے،جسے انسانی آنکھ شناس کرسکتی ہے۔یہ تقریباً
سے تقریباً
تک یا طول موج سعت700–400 nmتک پھیلا ہوا ہے۔ہمارے اردگرد پائی جانے والی اشیاسے خارج کی گئی یامنعکس ہوئی بصری روشنی ہمیںدنیا کے بارے میںجانکاری فراہم کرتی ہے۔ہماری آنکھیں طول لہر کی اس سعت کے لیے حساس ہیں۔مختلف جانور،طول لہر کی مختلف سعتوں کے لیے حساس ہوتے ہیں۔مثلاً،سانپ زیریں سرخ لہروں کو شناس کرسکتے ہیںاور کئی کیڑوں کی ’’بصری سعت‘‘کی توسیع بالا بنقشی سعت میںکافی اندر تک ہوتی ہے۔
8.4.5بالا بنقشئی شعاعیں(Ultraviolet rays)
یہ تقریباً
(400nm)سے
تک کی سعت کا احاطہ کرتی ہیں۔بالا بنقشئی شعاعیں مخصوص لیمپوں یا بہت گرم اجسام کے ذریعے خارج کی جاتی ہیں۔سورج بالابنقشئی روشنی کا ایک اہم ماخذہے۔لیکن خوش قسمتی سے،اس کا زیادہ تر حصہ کرہ باد میں اوزون پرت،تقریباً40–50KMاونچائی پر،کے ذریعے جذب ہوجاتاہے۔UVروشنی کی زیادہ مقدار انسانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔UVشعاعوں کو جذب کرتے رہنے سے میلانن(Melanin)کا بننا شروع ہوجاتا ہے،جس سے کھال دغ جاتی ہے۔UVشعاعیں عام شیشہ جذب کرلیتا ہے۔اس لیے شیشہ کی کھڑکیوں سے ہم دباغت(Tanning)اور سورج سے جلنے کے داغوں (sun burns)سے بچ سکتے ہیں۔
ویلڈنگ کرنے والے اپنی آنکھوں کو،ویلڈنگ آرک کے ذریعے پید اہونے والی UVشعاعوں کی زیادہ مقدار،سے بچانے کے لیے مخصوص شیشوں سے بنے ہوئے چشمے یا مکھوٹے لگاتے ہیں۔اپنی مقابلتاً کم طول لہر کی بنا پر،UVشعاعوں کو بہت پتلی بیموں میںفوکس کیاجاسکتا ہے اور اس طرح جہاں بہت زیادہ درستی صحت درکار ہو،ان آلات میں بھی استعمال کیاجاسکتا ہے،جیسےLASIK (Laser Assisted in Situ Keratomileusis) آنکھوں کی جراحت– پانی صاف کرنے کے آلات میںUVلیمپ جراثیموں کو مارنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
کردہ باد میں اوزون کی پرت ایک حفاظتی کردار ادا کرتی ہے اور کلوروفلوروں کاربن(FCs)گیس (جیسے فریون)کے ذریعے،اس کی موٹائی میںکمی بین الاقوامی توجہ کی حامل ہے۔
8.4.6 –ایکس شعاعیں(X–rays)
برق–مقناطیسی طیف کے UVعلاقے کے آگے–Xشعاعوں کا علاقہ ہے۔ہم اس کے طبی استعمال کی وجہ سے–Xشعاعوں سے واقف ہیں۔یہ تقریباً
سے
تک کی طول لہر سعت کا احاطہ کرتی ہیں۔–Xشعاعیں پیدا کرنے کا ایک عام طریقہ یہ ہے کہ دھاتی نشانے پراعلیٰ توانائی الیکٹرانوں کی بمباری کی جائے۔طب میں–Xشعاعوں کا استعمال بطور تشخیصی آلے کے بھی ہوتا ہے اور کینسر کی کچھ قسموں میںعلاج کے بطور بھی۔کیونکہ–Xشعاعیں زندہ ٹِشو اور جانداروں کونقصان پہنچاسکتی ہیں یا انھیں فنا کرسکتی ہیں،اس لیے جب تک اور جتنا ضروری ہو،جسم پر ان کو پڑنے دینے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
8.4.7گاما–شعاعیں(Gamma rays)
یہ برق–مقناطیسی طیف کی بالائی تعدد سعت میں آتی ہیں اور ان کی طول لہرm
سے لے کر
سے کم تک ہوتی ہے۔یہ اعلیٰ تعدد شعاعیں،نیکوکلیائی تعاملات میںپیدا ہوتی ہیں اور تاب کار نیوکلیانوں سے بھی خارج ہوتی ہیں۔طب میں ان کا استعمال،کینسر سیلوں کو فنا کرنے کے لیے کیاجاتا ہے۔
جدول8.1میں مختلف قسم کی برق–مقناطیسی لہروں،ان کے پیدا کرنے اور شناس کرنے کے طریقوں کاخلاصہ پیش کیاگیاہے۔جیسا کہ پہلے بتایاجاچکا ہے،مختلف علاقوں کے درمیان حدیں واضح نہیں ہیں اور ہم پوشی(Overlap)بھی پائی جاتی ہے۔
جدول 8.1 مختلف قسم کی برق - مقناطیسی لہریں
| قسم | طول لہر سعت | پیدا کرنا | پیشناس کاری |
ریڈیو مائیکرو لہر زیریں سرخ روشنی شعاعیں-x گاما شعاعیں |
>0.1 m 1mm سے 0.1m 700 nmسے1mm 400 nmسے 700 nm 10-4 nmسے400 nm < 10-3 nm |
ایریل میں الیکٹرانوں کا تیزی سے اسراع اور ابطا کلیسٹران والوں یامیگنیٹران والوں ایٹموں اور مالیکیولوں کے ارتعاش جب ایک ایٹم میں الیکٹران ایک تونائی منزل سے ایک مقابلتا نچلی تونائی منزل تک حرکت کرتے ہیں تو روشنی خارج کرتے ہیں شعاع ٹیوب یا اندرونی شیل کے الیکٹران -x نیوکلیس کا تاب کاری زوال |
موصول کرنے والے ایریل نقطہ تماس ڈایوڈ تھرموپائل بولومیٹر زریں سرخ فوٹوگرافک فلم فوٹو فتافک فلم گیگر ٹیوب رواں سازی چیمبر رواں سازی چیمبر |
خلاصہ
1۔ میکسویل نے ایمپیر کے قانون میں ایک تضاد پایا اور اس تضاد کو دور کرنے کے لیے ایک دوسرے کرنٹ،جو نقل کرنٹ کہلاتا ہے،کی موجودگی تجویز کی۔یہ نقل کرنٹ،وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے برقی–میدان کی وجہ سے ہوتا ہے اور دیاجاتا ہے:
id = ε0 dØE/dt
اور بالکل اسی طرح مقناطیسی میدان کے وسیلے کے طورپر کام کرتا ہے،جس طرح ایصالی کرنٹ کرتا ہے۔
2۔ ایک اسراع پذیر چارج برق–مقناطیسی لہریں پیدا کرتا ہے۔ایک برقی چارج جو تعددnکے ساتھ ہارمونک طورپر اہتراز کررہا ہو،اسی تعددnکی برق–مقناطیسی لہریں پیدا کرتا ہے۔ایک برقی دوقطبیہ،برقی–مقناطیسی لہروں کا بنیادی وسیلہ ہے۔
3۔ ایسی برق–مقناطیسی لہریں،جن کاطول لہر چند میٹر کے درجے کا تھا،سب سے پہلے ہرٹزنے1887میں تجربہ گاہ میں پیدا کیں اور انھیں شناس کیا۔اس طرح ہرٹز نے میکسویل مساواتوں کی بنیادی پیشین گوئی کی تصدیق کردی۔
4۔ ایک برق–مقناطیسی لہر میں برقی اور مقناطیسی میدان،وقت اور فضا میں سائن خم نما طور پر اہتراز کرتے ہیں۔اہتراز پذیر برقی ومقناطیسی میدان،
ایک دوسرے پر عمود ہوتے ہیں اور برق–مقناطیسی لہر کے اشعاع کی سمت پربھی عمود ہوتے ہیں۔تعددn،طول لہرλکی ایک لہرکے لیے جو–zسمت میںحرکت کررہی ہے،ہمارے پاس ہے:

آپس میں،ان کا رشتہ ہے:E0/B0 = c
5۔ برق–مقناطیسی لہر کی خلا میں چالcکا
(آزاد فضا کی برقی سرایت پذیری اور مقناطیسی سرایت پذیری مستقلے)سے مندرجہ ذیل رشتہ ہے:
ی قدر نوری پیمائشوں کے ذریعے معلوم کی گئی روشنی کی چال کے مساوی ہے۔
روشنی ایک برق–مقناطیسی لہر ہے،اس لیےcروشنی کی چال بھی ہے۔روشنی کے علاوہ دیگر برق–مقناطیسی لہروں کی بھی خلامیں یکساں رفتارcہے۔ایک مادی واسطے میںروشنی یا برق–مقناطیسی لہروں کی چال دی جاتی ہے:
واسطے کی مقناطیسی سرایت پذیری اورeاس کی برقی سرایت پذیری ہے۔
6۔ برق–مقناطیسی لہریں فضا سے گذرتے ہوئے توانائی ساتھ لے جاتی ہیں اور یہ توانائی،برقی اور مقناطیسی میدانوں میں مساوی طورپر تقسیم ہوتی ہے۔
برق–مقناطیسی لہریں معیار حرکت بھی منتقل کرتی ہیں۔جب یہ لہریں ایک سطح سے ٹکراتی ہیں تو سطح پر ایک دبائو ڈالتی ہیں۔اگر وقتtمیں،سطح کو منتقل ہوئی کل توانائی Uہو تو اس سطح کو منتقل ہوا کل معیار حرکت ہے:
P = U/c
7۔ اصولی طورپر،برق–مقناطیسی لہروں کا طیف،طول لہر کی لامتناہی سعت پر پھیلا ہوا ہے۔مختلف علاقے مختلف ناموں سے جانے جاتے ہیں؛r –شعاعیں،–Xشعاعیں،بالابنقشی شعاعیں،بصری شعاعیں،زیریں سرخ شعاعیں،مائیکرو لہریں اور ریڈیو لہریں جو
تک کے بڑھتے ہوئے طول لہر کے درجے کی ہیں۔
یہ شعاعیں اپنے برقی اورمقناطیسی میدانوں کے ذریعے مادے کے ساتھ باہم عمل کرتی ہیں۔ان شعاعوں کے یہ میدان ہر مادے میں پائے جانے والے چارجوں میں اہتراز پیدا کرتے ہیں۔باہمی عمل کی تفصیل اور تجاذب،انتشار وغیرہ کا میکانزم،برق–مقناطیسی لہر کے طول لہر اور واسطے کے ایٹموں اور مالیکیولوں کی طبع پر منحصر ہے۔
قابل غور نکات
1۔ مختلف قسم کی برقی–مقناطیسی لہروں میں بنیادی فرق ان کے طول لہر یا تعدد کا ہے کیونکہ یہ سب خلامیںیکساں چال سے سفر کرتی ہیں۔نتیجتاً ان لہروں کے مادے سے باہمی عمل میں قابل لحاظ فرق پایاجاتا ہے۔
2۔ اسراع پذیر چارج شدہ ذرات برق–مقناطیسی لہروں کا اشعاع کرتے ہیں۔برقی–مقناطیسی لہر کے طول لہر کو اکثر اس نظام کے مخصوص سائز سے ہم رشتہ(Conrrelate) کیاجاتا ہے جو اشعاع کررہا ہے۔اس لیے،گاما–شعاعیں جن کا طول لہر
تک ہوتا ہے،خاص طورپر ایک ایٹمی نیوکلیس سے نکلتی ہیں۔–Xشعاعیں بھاری ایٹموں کے ذریعے خارج کی جاتی ہیں۔ریڈیو لہریں ایک سرکٹ میں اسراع پذیر الیکٹران پیدا کرتے ہیں۔ایک ترسیلی انٹینا،سب سے زیادہ استعداد کے ساتھ انھیں لہروں کا اشعاع کرسکتا ہے،جن کا طول لہر تقریباً انٹینا کے سائز کا ہو۔لیکن ایٹموں کے ذریعے خارج ہونے والی بصری شعاعوں کا طول لہر،ایٹموں کے سائز سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔
3۔ ایک برق–مقناطیسی لہر کے اہتراز پذیر میدان چارجوں میں اسراع پیدا کرسکتے ہیں اور اہتراز کرتے ہوئے کرنٹ پیدا کرسکتے ہیں۔اس لیے برق–مقناطیسی لہروں کو شناس کرنے کے لیے ڈیزائن کیاگیا آلہ اسی حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ہرٹز نے جو’’ریسور‘‘اپنے پہلے تجربے میں استعمال کیاتھا،وہ بالکل اسی طرح کا م کرتا تھا۔یہی بنیادی اصول آج کے تقریباً تمام جدید ریسونگ آلات میںاستعمال ہوتا ہے۔اعلیٰ تعدد برق–مقناطیسی لہریں دوسرے ذریعوں سے شناس کی جاتی ہیں جو ان کے مادے سے باہم عمل کے ذریعے پیدا ہونے والے طبعی اثرات پر مبنی ہیں۔
4۔ زیریں–سرخ لہریں،جن کے تعدد بصری روشنی سے کم ہوتے ہیں،صرف الیکٹرانوں میں ہی نہیں بلکہ ایک شے کے پورے ایٹم یا مالیکیول میںارتعاش پیدا کردیتی ہیں۔اس ارتعاش سے اندرونی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے اورنتیجتاً شے کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔اسی لیے زیریں سرخ لہریں اکثر حرارتی لہریں کہلاتی ہیں۔
5۔ ہماری آنکھوں کی حاسیت کا مرکز ،سورج کے طول لہر تقسیم کے مرکز پر منطبق ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی ارتقا اس طورپر ہوا ہے کہ بصارت سورج سے آرہی سب سے طاقت ور طول لہر کے لیے سب سے زیادہ حساس ہے۔
مشق
8.1 شکل8.6میں دو دائری چادروں سے بنا ایک کیپسٹر دکھایاگیا ہے۔ہر چادر کا نصف قطر12 cmہے اور ان کا درمیانی فاصلہ50cmہے۔کیپسٹر کو ایک باہری وسیلے کے ذریعے(شکل میں نہیں دکھایا گیا ہے)چارج کیاجارہا ہے۔چارج کرنے والا کرنٹ مستقلہ ہے اور 0.15Aکے مساوی ہے۔
(a) صلاحیت اور چادروں کے درمیان مضمر فرق کے چارج کرنے کی شرح کا حساب لگائیے۔
(b) چادروں کے سروں کے درمیان نقل کرنٹ حاصل کیجیے۔
(c) کیا کرچوف کا پہلا قاعدہ(جنکشن قاعدہ)کیپسٹر کی ہر چادر پر درست ہے؟وضاحت کیجیے۔

8.2 ایک متوازی چادرکیپسٹر(شکل8.7)دائری چادروں سے بنا ہے،اور اس کی ہر چادر کا نصف قطرR=6.0cmہے اور اس کی صلاحیتC=100pFہے۔کیپسٹر کو230V،acسپلائی سے جوڑاجاتا ہے،جس کا زاویائی تعدد
ہے۔
(a) ایصالی کرنٹ کیrmsقدر کیا ہے؟
(b) کیا ایصالی کرنٹ،نقل کرنٹ کے مساوی ہے۔
(c) چادروں کے درمیان محور سے3.0cmفاصلے پر ایک نقطے پر
کی وسعت معلوم کیجیے۔

8.3 10-10mطول لہر کی–Xشعاعوں،6800Aºطول لہر کی سرخ روشنی اور500mطول لہر کی ریڈیو لہر کے لیے کون سی طبعی مقدار یکساں ہے؟
8.4 ایک مسطح برقی–مقناطیسی لہر،–zسمت میں خلا میںسفر کرتی ہے،آپ اس کے برقی اور مقناطیسی میدانی سمتیوں کی سمتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟اگر لہر کا تعدد30MHzہے تو اس کا طول لہر کیا ہے؟
8.5 ایک ریڈیو7.5MHzسے12MHzکے بینڈ میں کسی بھی اسٹیشن پر لگایا جاسکتا ہے۔اس کا متطابق طول لہر بینڈ کیا ہے؟
8.6 ایک چارج شدہ ذرہ،
تعدد کے ساتھ،اوسط توازن مقام کے گرداہتراز کرتا ہے۔اس اہتراز کار سے پیدا ہوئی برق–مقناطیسی لہروں کا تعدد کیا ہے؟
8.7 ایک ہارمونی برق–مقناطیسی لہر کے مقناطیسی میدان جز کی خلا میں وسعتB0 = 510 nTہے۔لہرکے برقی میدان جز کی وسعت کیا ہے؟
8.8 فرض کیجیے کہ ایک برق–مقناطیسی لہر کے برقی میدان کی وسعتE0 = 120 N/Cہے اور اس کا تعدد
کے لیے ریاضیاتی عبارتیں معلوم کیجیے۔
8.9 برقی–مقناطیسی طیف کے مختلف حصوں کی اصطلاحات سبق میں دی ہوئی ہیں۔فارمولا:E=hnاستعمال کیجیے۔(شعاع کے ایک کوانٹم:فوٹان،کی توانائی کے لیے)اور طیف کے مختلف حصوں کے لیے فوٹان توانائی،evکی اکائیوں میںحاصل کیجیے۔فوٹان توانائیوں کے مختلف پیمانے،جوآپ نے حاصل کیے ہیں،کس طور پر برقی–مقناطیسی شعاعوں کے وسیلوں سے منسلک ہیں؟
8.10 ایک مسطح برقی–مقناطیسی لہرمیں،برقی میدان
وسعت کے ساتھ سائن خم نما طوپر اہتراز کرتا ہے۔
(a) لہر کا طول لہر کیا ہے؟
(b) اہتراز کرتے ہوئے مقناطیسی میدان کی وسعت کیا ہے؟
(c) دکھائیے کہ
میدان کی اوسط توانائی کثافت،
میدان کی اوسط توانائی کثافت کے مساوی ہے۔
اضافی مشق
8.11 فرض کیجیے ایک برقی–مقناطیسی لہر کا خلا میں برقی میدان جز ہے:
![]()
(a)اشعاع کی سمت کیا ہے؟(b)طول لہر
کیا ہے(c)تعددnکیا ہے۔(d)لہر کے مقناطیسی میدان جز کی وسعت کیا ہے؟(e)لہر کے مقناطیسی میدان جز کے لیے ریاضیاتی عبارت لکھیے۔
8.12 ایک100Wروشنی کے بلب کی تقریباً5%پاور بصری شعاعوں میں تبدیل ہوتی ہے۔بصری شعاعوں کی اوسط شدت کیا ہے(a)بلب سے 1mکے فاصلے پر ؟(b) 10m کے فاصلے پر؟
فرض کرلیں کہ شعاعیں ہم سمتی طور پر خارج ہوتی ہیں اور انعکاس کو نظر انداز کردیجیے۔
8.13 برقی–مقناطیسی طیف کے مختلف حصوں کی مخصوص درجہ حرارت سعتیں حاصل کرنے کے لیے فارمولہ:
استعمال کیجیے۔آپ جو اعداد حاصل کرتے ہیں،ان سے آپ کو کیا معلوم ہوتا ہے؟
8.14 نیچے طبیعات کے مختلف سیاق وسباق میں،برقی–مقناطیسی شعاعوں سے منسلک کچھ مشہور اعداد دیے گئے ہیں۔برقی–مقناطیسی طیف کے اس حصے کانام بتائیے،جس سے ان میںسے ہر ایک عدد تعلق رکھتا ہے۔
(a)۔ 21 cm(ایٹمی ہائیڈروجن کے ذریعے بین النجمی فضا میں خارج کی گئی طول لہر)
(b)۔ 1057 MHz، [ہائیڈروجن میں دونزدیکی توانائی منازل کے درمیان عبور سے پیدا ہونے والے اشعاع کا تعدد،جو لیمب شفٹ کہلاتا ہے]
(c)۔ 2.7 K[ ساری فضا میںپھیلے ہوئے ہم سمتی اشعاع سے منسلک درجہ حرارت–جسے کائنات بِگ بینگ کے ذریعے وجود میںآنے کا آثارِباقیہ سمجھاجاتا ہے۔
(d)۔ 5890Å–5896Å [سوڈیم کی دہری لائنیں]
(e)۔
نیوکلیس میں ایک مخصوص عبور کی توانائی جو ایک مشہور اعلیٰ تحلیل طیف پیمائی طریقے (موس بار طیف پیمائی )سے منسلک ہے]
8.15 مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے:
(a) طویل فاصلوں کے لیے ریڈیو نشریات میںمختصر لہر بینڈ استعمال ہوتے ہیں۔کیوں؟
(b) طویل فاصلاتی TVترسیل کے لیے سیارچوں کا استعمال ضروری ہے۔کیوں؟
(c) نوری اور ریڈیو دوربینیں زمین پر بنائی جاتی ہیں جب کہ–Xشعاع فلکیات زمین کے گرد چکر لگارہے سیاریوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔کیوں؟
(d) انسانی زندگی کی بقا کے لیے کرہ(Stratosphare)کے اوپر اوزون کی ایک پتلی پرت لازمی ہے ۔کیوں؟
(e) اگر زمین کا کوئی کرہ باد نہیںہوتا تو اس کا درجہ حرارت،موجودہ درجہ حرارت سے کم ہوتا یا زیادہ؟
(f) کچھ سائنس دانوں نے پیشین گوئی کی ہے کہ اگر عالمی نیوکلیائی جنگ ہوئی تو اس کے بعد سخت ’’نیوکلیائی جاڑا‘‘آئے گا،جو زمین پر زندگی کے وجود کو تہس نہس کردے گا۔اس پیشین گوئی کی بنیاد کیا ہوسکتی ہے؟