Skip to content
12-Tabiyaat-II-001


باب نو

کرن نوریات اور نوری آلے

(Ray Opticsand Optical Instruments)

9.1  تعارف (INTRODUCTION)

قدرت نے انسانی آنکھ کو برق مقناطیسی طیف کی ایک مختصر سعت کے اندر ہی برق-مقناطیسی لہروں کو شناس کرنے کی حساسیت بخشی ہے۔ طیف کے اس علاقہ سے تعلق رکھنے والا برق-مقناطیسی اشعاع ’’روشنی‘‘ کہلاتا ہے (400nm سے 750 nm تک طولِ لہر)۔ ہم اپنے اردگرد کی دنیاکو جاننے اور اس کی وضاحت کرنے میں روشنی کا ذریعہ اور بصارت کی حس ہی زیادہ تر استعمال کرتے ہیں۔
دو بیانات ہیں جو روشنی کے بارے میں عام تجربے سے دیے جاسکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ بہت تیز چال سے سفر کرتی ہے اور دوسرا یہ کہ یہ ایک مستقیم خط میں سفر کرتی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ روشنی کی رفتار متناہی (Finite) ہے اور ناپی جاسکتی ہے۔ خلا میں اس کی موجودہ منظور شدہ قدر ہے:s1،زیادہ تر صورتوں میںs2ینا کافی ہوتا ہے۔ خلا میں روشنی کی رفتار، وہ زیادہ سے زیادہ رفتار ہے جو قدرت میں پائی جانے والی کوئی بھی شے اختیار کرسکتی ہے۔

وجدانی تصور کہ روشنی ایک مستقیم خط میں سفر کرتی ہے اور ہم نے جو باب 8 میں پڑھا ہے کہ روشنی، طیف کے بصری حصے سے تعلق رکھنے والے طولِ موج کی برق-مقناطیسی لہر ہے، دونوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اس تضاد کو کیسے ختم کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا واسطہ جن اشیا سے عام طور پر پڑتا ہے، ان کے سائز کے مقابلے میں (جو عام طور سے چند سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ ہوتا ہے) روشنی کی طولِ لہر بہت چھوٹی ہے۔ ایسی صورت میں، جیسا کہ آپ باب 10 میں سیکھیں گے، کہ روشنی کی ایک لہر کو ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک، ان نقطوں کو ملانے والے مستقیم خط پر سفر کرتا ہوا سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ راستہ روشنی کی ایک کرن (ray) کہلاتا ہے اور ایسی کرنوں کا ایک بنڈل، روشنی کی ایک شعاع (بیم Beam) تشکیل دیتا ہے۔
اس باب میں، روشنی کی کرن تصویر لیتے ہوئے ہم انعکاس (Reflection)، انعطاف (Refraction) اور انکسار (Dispersion) کے مظاہر ملاحظہ کریں گے۔ انعکاس اور انعطاف کے بنیادی قوانین استعمال کرتے ہوئے، ہم مسطح اور کروی انعکاسی اور انعطافی سطحوں سے عکس کے تشکیل پانے کا مطالعہ کریں گے۔ اس کے بعد ہم کچھ اہم نوری آلات، جس میں انسانی آنکھ بھی شامل ہے، کی بناوٹ اور کام کرنے کے طریقے بیان کریں گے۔

روشنی کا ذاتی ماڈل

(PARTICAL MODEL OF LIGHT)

نیوٹن کے ریاضی، میکانیات اور مادی کشش کے بنیادی کاموں کی وجہ سے ہم اکثر ان کے روشنی کے عمیق (گہرے) تجرباتی مطالعہ کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ انھوں نے نوریات کے میدان میں بھی رہنمایانہ کام کیا۔ ڈیسکارٹیز (Descartes) کے تجویز کردہ، روشنی کے ذریچہ ماڈل (Corpuscular model) میں مزید سدھار کیا۔ اس ماڈل کا مفروضہ ہے کہ روشنی توانائی، چھوٹے چھوٹے ذرات، جو ذریچہ (Corpucule) کہلاتے ہیں، میں مرتکز ہوتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی فرض کیا کہ روشنی کے یہ ذریچہ بے کمیت لچکیلے ذرات (Massless elastic particles) ہوتے ہیں۔ اپنے میکانیات کے ادراک کی مدد سے وہ انعکاس اور انعطاف کا ایک سادہ ماڈل پیش کرسکے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ ایک چکنی مسطح سطح سے ٹکراکر واپس ہونے والی گیند، انعکاس کے قانونوں کی پابندی کرتی ہے۔ جب یہ ایک لچکیلا تصادم (elastic collision) ہوتا ہے تو رفتار کی عددی قدر یکساں رہتی ہے۔ کیونکہ سطح، ہموار (Smooth) ہے، سطح کے متوازی کوئی قوت نہیں کام کر رہی ہے، اس لیے اس سمت میں معیارِ حرکت (Momentum) کا جز بھی یکساں رہتا ہے۔ صرف سطح پر عمود جز، یعنی کہ معیارِ حرکت کا عمودی جز، انعکاس میں مخالف سمت میں ہوجاتا ہے۔ نیوٹن نے دلیل پیش کی کہ ہموار سطحیں، جیسے آئینے، ذریچوں کو اسی طرح منعکس کرتی ہیں۔
انعطاف کے مظہر کی وضاحت کرنے کے لیے، نیوٹن نے مفروضہ قائم کیا کہ ذریچوں کی چال ہوا کے مقابلے میں، پانی یا شیشے میں زیادہ ہوتی ہے۔ حالانکہ، بعد میں یہ دریافت ہوا کہ روشنی کی چال، ہوا کے مقابلے میں پانی یا شیشے میں کم ہوتی ہے۔
نوریات کے میدان میں، نیوٹن بہ طور تجرباتی سائنس داں، نیوٹن بہ طور نظری سائنس داں سے بڑے معلوم ہوتے ہیں۔ انھوں نے خود ایسے بہت سے مظاہر کا مشاہدہ کیا، جن کی وضاحت روشنی کی ذراتی طبع کی بنیاد پر کرنا مشکل تھا۔ مثلاً، پانی پر تیل کی پتلی فلم سے پیدا ہونے والے رنگوں کا مشاہدہ۔ روشنی کے جزوی انعکاس (Partial reflection) کی خاصیت ایسی دوسری مثال ہے۔ ہر وہ شخص جس نے تالاب کے پانی میں جھانکا ہے، اس نے اس میں اپنے چہرے کا عکس تو دیکھا ہی ہے، ساتھ ساتھ تالاب کی تلی (پیندا Bottom) بھی دیکھی ہے۔ نیوٹن نے دلیل پیش کی کہ پانی پر گرنے والے کچھ ذریچے منعکس ہوجاتے ہیں اور کچھ کی ترسیل ہوجاتی ہے۔ لیکن ذریچوں کی ان دو قسموں میں کون سی خاصیت فرق کرسکتی ہے؟ نیوٹن کو کوئی ایسا مظہر فرض کرنا پڑاجو اتفاق پر مبنی ہو اور جس کی پہلے سے پیشن گوئی نہ کی جاسکتی ہو، جس کی بنیاد پر یہ طے ہوسکے کہ ایک انفرادی ذریچہ منعکس ہوگا یا نہیں۔ دوسرے مظاہر کی وضاحت کرنے کے لیے، جب کہ یہ فرض کیا گیا کہ ذریچے اس طور پر برتاؤ کرتے ہیں، جیسے کہ وہ متماثل (Identical) ہیں۔ روشنی کی لہر تصویر میں ایسی کشمکش نہیں پیدا ہوتی۔ ایک آنے والی لہر پانی اور ہوا کی درمیانی سرحد پر دو مقابلتاً کمزور لہروں میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔



9.2 کروی آئینوں سے روشنی کا انعکاس

(Reflection of Light by Spherical Mirrors)

ہم انعکاس کے قوانین سے واقف ہیں۔ زاویہ انعکاس (یعنی کہ، منعکس کرن اور انعکاسی سطح یا آئینہ پر عماد کے درمیان زاویہ) زاویۂ وقوع (واقع کرن اور عماد کے درمیان زاویہ) کے مساوی ہوتا ہے اور واقع کرن (Incident ray)، منعکس کرن (Reflected ray) اور انعکاسی سطح پر، نقطۂ وقوع (Point of incidence) پر عماد ایک ہی مستوی میں ہوتے ہیں (شکل 9.1)۔ یہ قوانین کسی بھی انعکاسی سطح، چاہے وہ مسطح ہو یا کروی، کے ہر نقطہ پر درست ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم اپنی بحث کو خمیدہ سطحوں یعنی کہ کروی سطحوں کی مخصوص صورت تک محدود رکھیں گے۔ اس صورت میں عماد، نقطۂ وقوع پر سطح کے مماس (Tangent) پر عماد کو لیا جائے گا۔ یعنی کہ عماد، نصف قطر کی جانب ہے، یعنی کہ آئینے کے خمی مرکز (Centre of curvature) کو نقطۂ وقوع سے ملانے والے خط پر۔
ہم یہ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ایک کروی آئینے کا جیومیٹریائی مرکز اس کا قطب (Pole) کہلاتا ہے جب کہ ایک کروی عد سے (لینس Lens) کا جیومیٹریائی مرکز اس کا نوری مرکز (Optical Centre) کہلاتا ہے۔ ایک کروی آئینے کے قطب اور خمی مرکز کو ملانے والا خط خاص محور (Principal axis) کہلاتا ہے۔ کروی لینسوں میں خاص محور وہ خط ہے جو اس کے نوری مرکز کو خاص ماسکہ (Principal focus) سے ملاتا ہے، جیسا کہ آپ آگے سیکھیں گے۔

منعکس کرن Reflected ray
عماد (نارمل) Normal
واقع کرن Incident ray
آئینہ (شیشہ) Mirror
9.1

شکل 9.1: واقع کرن، منعکس کرن اور انعکاسی سطح پر عماد، ایک ہی مستوی میں ہیں

9.2.1 علامت قرارداد (Sign Convention)

کروی آئینوں سے انعکاس اور کروی لینسوں سے انعطاف کے لیے فارمولے اخذ کرنے کے لیے ہمیں فاصلوں کو ناپنے کے لیے ایک علامت قرار داد (Sign convention) ماننی ہوگی۔ اس کتاب میں ہم کارتیزی علامت قرارداد (Cartesian sign convention) پر عمل کریں گے۔ اس قرارداد کے مطابق، تمام فاصلے آئینے کے قطب یا لینس کے نوری مرکز سے ناپے جاتے ہیں۔ وہ فاصلے جو واقع روشنی کی سمت میں ہیں انھیں مثبت لیا جاتا ہے اور وہ فاصلے جو واقع روشنی کی سمت کی مخالف سمت میں ناپے جاتے ہیں، منفی لیے جاتے ہیں (شکل 9.2)۔ x-محور کے لحاظ سے اوپر کی جانب اور آئینے / لینس کے خاص محور (x-محور) پر عماد، ناپی گئی اونچائیاں مثبت لی جاتی ہیں (شکل 9.2) اور نیچے کی جانب ناپی گئی اونچائیاں منفی۔

2

واقع روشنی Incident light
آئینہ           Mirror
شے بائیں طرف   Object on lrft
x-محور x-axis
اوپر کی جانب اونچائیاں مثبت            Height upwards positive
نیچے کی جانب اونچائیاں منفی             Height downwards negative
واقع روشنی کے مخالف فاصلے منفی        Distances against incident light negative
واقع روشنی کی سمت میں فاصلے مثبت     Distances along incident light positive

weww

ایک مشترک طور پر منظور شدہ قرارداد کے ساتھ کروی آئینوں کے لیے ایک ایسا واحد فارمولا اور کروی لینسوں کے لیے ایک ایسا واحد فارمولا، حاصل ہوتا ہے جو تمام مختلف صورتوں کے لیے درست ہے۔

9.2.2 کروی آئینوں کا فوکس فاصلہ

(Focal length of spherical mirrors)

شکل (9.3) میں دکھایا گیا ہے کہ کیا ہوتا ہے جب روشنی کی ایک متوازی شعاع واقع ہوتی ہے (a) ایک جوفی آئینہ (Concave mirror) پر (b) ایک حدبی آئینہ (Convex mirror) پر۔ ہم مان لیتے ہیں کہ کرنیں آئینے کے قطب P کے نزدیکی نقاط پر واقع ہیں اور خاص طور سے چھوٹے زاویے بناتی ہیں (Paraxial متوازی المحور ہیں) منعکس کرنیں، جوفی آئینے کے خاص محور کے ایک نقطہ F پر مرکوز ہوتی ہیں (شکل 9.3(a))۔ ایک حدبی آئینے کے لیے، منعکس کرنیں اس کے خاص محورکے ایک نقطہ F سے غیر مرکوز ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ (شکل 9.3(b))۔ یہ نقطہ F، آئینہ کا خاص فوکس (خاص ماسکہ Principal focus) کہلاتا ہے۔ اگر آپس میں متوازی اور متوازی المحور (Paraxial) روشنی کی شعاعیں واقع ہوں جو خاص محورسے کچھ زاویہ بناتی ہوں تومنعکس کرنیں،خاص محورپرعماد،Fسےگزرتےہوئےایک مستوی کے ایک نقطے پر مرکوز ہوں گی (یاغیر مرکوز ہوتی ہوئی معلوم ہوں گی)۔ یہ آئینے کا فوکس مستوی (Focal plane) کہلاتا ہے (شکل )c)9.3)۔

3

فوکس مستوی Focal plane
(c) (b) (a)

شکل 9.3: ایک جوفی آئینے اور ایک حدبی آئینے کا فوکس

ایک آئینے کے فوکس F اور قطب P کے درمیان فاصلے کو آئینہ کا فوکس فاصلہ (Focal langth) کہتے ہیں اور اسے f سے ظاہر کرتے ہیں۔ اب ہم دکھائیں گے کہ :سسسس ،جہاں R آئینہ کا خمی نصف قطر (Radius of curvature) ہے۔ ایک واقع کرن کے انعکاس کی جیومیٹری شکل 9.4 میں دکھائی گئی ہے۔

4
شکل 9.4: (a) جوفی کروی آئینے پر، (b) حدبی کروی آئینے پر واقع کرن کے انعکاس کی جیومیٹری
فرض کیجیے کہC آئینہ کا خمی مرکز ہے۔ خاص محور کے متوازی ایک کرن لیجیے جو آئینہ سے M پر ٹکراتی ہے۔ فرض کیجیے کہCM زاویہ وقوع ہے اور MD، M سے خاص محورپر عمود ہے۔ تب

             اب,∠MFP =2θ    اور  ∠ MCP= 2θ
tan 2θ = MD  اور   tan θ  = MD 
                                           FD                     CD 
θ کی خفیف قدروں کے لیے، جو متوازی المحور کرنوں کے لیے درست ہے،
tan 2θ ≈ 2θ , tan θ ≈ θ
اس لیے، مساوات (9.1) سے حاصل ہوتا ہے:
MD   =2     MD
                          FD            CD 
یا
FD     =   CD
 2
(9.2)

اب θکی خفیف قدروں کے لیے، نقطہ D، نقطہ P کے بہت نزدیک ہوگا۔ اس لیے: FD=f اور CD=R اب مساوات (9.2) سے حاصل ہوتا ہے:

F = R
2
                                (9.3)

9.2.3 آئینہ مساوات (The mirror equation)

اگر ایک نقطے سے نکلنے والی کرنیں، انعکاس اور /یا انعطاف کے بعد ایک دوسرے نقطے پر درحقیقت ملتی ہیں تو یہ دوسرا نقطہ پہلے نقطہ کی شبیہہ کہلاتی ہے۔ یہ شبیہہ حقیقی (real) ہوگی اگر کرنیں اس نقطے پر واقعی مرکوز ہوتی ہوں اور غیر حقیقی (virtual) ہوگی اگر کرنیں واقعی نہیں ملتیں، لیکن اگر انھیں پیچھے کی جانب بڑھایا جائے تو اس نقطے سے غیر مرکوز ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ ایک شبیہہ (عکس Image)، انعکاس یا/اور انعطاف کے ذریعے شے سے قائم ہوئی نقطہ بہ نقطہ مطابقت ہے۔
اصولی طور پر ہم شے کے ایک نقطے سے نکلنے والی کوئی بھی دو کرنیں لے سکتے ہیں، ان کے ذریعے طے کیے گئے خط راہ پر سے گزرتے ہوئے ان کا نقطۂ تقاطع (Point of intersection) معلوم کرسکتے ہیں اور اس طرح ایک کروی آئینے پر ہوئے انعکاس کے ذریعے بنی نقطے کی شبیہہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن عملی صورت میں، مندرجہ ذیل میں سے کن ہی دو کرنوں کو منتخب کرنے سے سہولت رہتی ہے:
5

شکل 9.5: ایک جوفی آئینے سے شبیہہ کی تشکیل کے لیے کرن ڈائیگرام

(ii)     وہ کرن جو جوفی آئینے کے خمی مرکز سے گزر رہی ہے یا حدبی آئینے کے خمی مرکز سے گزرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ منعکس کرن اسی راستے پر واپس لوٹ جاتی ہے۔
(iii) جوفی آئینے کے فوکس سے گزرتی ہوئی (یا اس کی جانب جاتی ہوئی) یا حدبی آئینے کے فوکس سے گزرتی ہوئی (یا اس کی جانب جاتی ہوئی) معلوم ہوتی ہوئی کرن-منعکس کرن، خاص محورکے متوازی ہوگی۔
(iv) وہ کرن جو قطب پر کسی بھی زاویہ سے واقع ہے۔ منعکس کرن، انعکاس کے قوانین کی پابندی کرے گی۔
شکل 9.5 میں تین کرنوں کی مدد سے کرن ڈائیگرام بنائی گئی ہے۔ اس شکل میں ایک جوفی آئینے سے بنی ہوئی ایک شے AB کی شبیہہ  B' 'A(اس صورت میں حقیقی) دکھائی گئی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نقطہ A سے صرف تین کرنیں ہی نکلتی ہیں۔ کسی بھی وسیلہ(Soorce) سے کرنوں کی لامتناہی تعداد نکلتی ہے، جو ہر سمت میں جاتی ہیں۔ اس لیے'A، نقطہ A کا شبیہہ نقطہ جب ہی ہوگا اگر نقطہ A سے نکل کر جوفی آئینے پر پڑنے والی ہر کرن انعکاس کے بعد نقطہ'Aسے گزرے۔
اب ہم آئینہ مساوات یا، شے فاصلہ (u)، شبیہہ فاصلہ (v) اور فوکس فاصلہ (f ) میں رشتہ اخذ کرتے ہیں۔
شکل 9.5 سے دونوں قائم زاویہ مثلث
A'B'F
اور MPF مشابہ (Similar) ہیں۔ (متوازی المحور کرنوں کے لیے، MP کو CP پر عمود ایک خطِ مستقیم مانا جاسکتا ہے) اس لیے:
B'A'   =  B'F
 PM         FP
                      —               
یا
                                                      B' A'   =      B' F                                       
                                                          BA                FP                    (∴PM=AB)
                                                                   (9.4)
کیونکہ:
∠ APB = ∠A'B'P
, اس لیے قائم زاویہ مثلثs6اور ABP بھی مشابہ ہیں۔ اس لیے،

                                                       B'A'  =  B'P
BA        Bp
(9.5) s7
مساوات (9.4) اور مساوات (9.5) کا مقابلہ کرنے پر، ہمیں حاصل ہوتا ہے:
B'F  =  B'P - F P    =  B'P
  FP            FP             BP
(9.6) s8
مساوات (9.6) ایک ایسا رشتہ ہے، جس میں فاصلوں کی عددی قدریں شامل ہیں۔ اب ہم علامت قرارداد استعمال کرتے ہیں۔ نوٹ کیجیے کہ روشنی شے سے آئینے MPN کی جانب سفر کرتی ہے۔ اس لیے اسے مثبت سمت لیا جائے گا۔ قطب P سے شے AB تک، شبیہہs1تک اور فوکس F تک پہنچنے کے لیے ہمیں واقع روشنی کی سمت کے مخالف سمت میں جانا ہوگا۔ اس لیے ان تینوں کی علامتیں منفی ہوں گی۔ اس لیے
B' P = - v, FP = -f, BP = - u  
انھیں مساوات (9.6) میں رکھنے پرہم دیکھتے ہیں:

- v + f      =      -v
                                        -f                -u
v - f   =  v
                                f          u
  1 + 1 = 1
v    u    f
s10
یا

(9.7)
یہ رشتہ آئینہ مساوات کہلاتا ہے۔
شے کی مناسبت سے شبیہہ کا سائز ایک اور قابل لحاظ اہم مقدار ہے۔ ہم خطی تکبیر (Linear magnification) (m) کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ یہ شبیہہ کی اونچائیs11کی شے کی اونچائی (h) سے نسبت ہے:

(9.8)
 m = h'
h
s12
h اور('h)کو مثبت یا منفی، منظور شدہ علامتی قرار داد کے مطابق، مانا جائے گا۔ مثل
A'B'P
اور مثلث ABP سے ہمارے پاس ہے۔
B'A'   =  B'P
  BA          BP

s7
علامت قرارداد کے مطابق، یہ ہوجاتا ہے:
- h'  =  - v
 h       -u
s13
اس طرح
                         m = h'  = -  v
   h          u
(9.9) sss
یہاں ہم نے ایک جوفی آئینے کے ذریعے بنی، حقیقی، الٹی شبیہہ کے لیے آئینہ مساوات (مساوات 9.7) اور تکبیر فارمولا (مساوات 9.9) مشتق کیا ہے۔ علامت قرار داد کے مناسب استعمال کے ساتھ، یہ دونوں (مساوات 9.7 اور 9.9) ایک کروی آئینے (جوفی یا حدبی) سے انعکاس کی تمام صورتوں کے لیے درست ہیں، چاہے بننے والی شبیہہ حقیقی ہو یا غیر حقیقی۔ شکل 9.6 میں ایک جوفی اور ایک حدبی آئینے کے ذریعے بنی غیرحقیقی شبیہہ کے لیے کرن ڈائیگرام دکھائے گئے ہیں۔ آپ تصدیق کریں کہ ان صورتوں کے لیے بھی مساوات (9.7) اور مساوات (9.9) درست ہیں۔

6

(b)                                                                   (a)
شکل 9.6: (a) ایک جوفی آئینے کے ذریعہ شبیہہ کا بننا جبکہ شے P اور F کے درمیان ہے
(b) ایک حدبی آئینے کے ذریعہ شبیہہ کا بننا


مثال 9.1: فرض کیجیے کہ شکل9.5میںدکھائے گئے جوفی آئینے کی انعکاسی سطح کا نچلا نصف حصہ ایک غیر شفاف (opaque)[غیرانعکاسی(non–reflective)مادی شے سے ڈھک دیاگیا ہے۔آئینے کے سامنے رکھی ہوئی شے کی شبیہہ پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
حل: ہوسکتاہے آپ سوچ رہے ہوں کہ اب شبیہہ میں صرف نصف شے ہی نظرآئے گی،لیکن باقی آئینے(جوڈھکاہوا نہیں ہے)کے ہر نقطے پر انعکاس کے قوانین کو درست مانتے ہوئے عکس پوری شے کا ہوگا۔لیکن کیونکہ انعکاسی سطح کا رقبہ کم کردیا گیا ہے،شبیہہ کی شدت(intensity)کم ہوگی(اس صورت میں نصف)۔

مثال9.2: ایک موبائل فون ایک جوفی آئینے کے خاص محور پر رکھا ہوا ہے جیسا کہ شکل9.7میں دکھایا گیا ہے۔ایک مناسب ڈائیگرام کی مددسےشبیہہ کا بننا دکھائیے۔وضاحت کیجیے کہ تکبیر یکساں(uniform)کیوں نہیں ہے؟کیا شبیہہ میں پیداہونے والا بگاڑ،آئینے کی مناسبت سے فون کے مقام پر منحصر ہوگا؟

7

حل: فون کی شبیہہ بننے کی کرن ڈائیگرام شکل9.7میں دکھائی گئی ہے۔اس حصہ کی شبیہہ جو خاص محور پر عمودی مستوی میں ہے،اسی مستوی میں بنے گی۔یہ اسی سائز کی ہوگی یعنی B¢C = BC،آپ خودسمجھ سکتے ہیں کہ شبیہہ میں بگاڑ کیوں ہوگا۔

مثال9.3:
15cm خمی نصف قطر کے جوفی آئینے کے سامنے ایک شے5cm (ii) 10cm (i) ،کے فاصلے پر رکھی گئی ہے۔دونوں صورتوں میں شبیہہ کا مقام،طبع اور تکبیر معلوم کیجیے۔
حل:
f = - 15 cm = -7.5 cm
2                     
                                   فوکس فاصلہ
(i)
(i) u = –10 cmشے کا فاصلہ تب مساوات(9.7)سے
  1/v     +   1/ - 10   =    1/ -7.5         
      
s16
یا
 v  =  10 × 7.5  = - 30 cm
                         - 2.5                    
شبیہہ،آئینے سے30cmکے فاصلے پر،اسی طرف جس طرف شے ہے،بنے گی۔
m = - v/u = - (-30)/ (-10)      

3 s18 تکبیر
شبیہہ،تکبیر شدہ،حقیقی اورالٹی ہوگی۔
(ii)
(ii)  (ii) u = –5 cmشے کا فاصلہ مساوات(9.7)سے

1/v  +  1/-5  =   1 / -7.5

s20

یا
v  =5 × 7.5/(7.5 - 5) = 15 cm
            
s21
یہ شبیہہ 15cmپر آئینے کے پیچھے بنے گی۔یہ ایک غیر حقیقی شبیہہ ہے۔
m = - v/u = - 15/(-5) = 3
     
s22 تکبیر
شبیہہ تکبیرشدہ،غیر حقیقی اور سیدھی ہے۔

مثال9.4: فرض کیجیے کہ آپ ایک کھڑی ہوئی کار میں بیٹھے ہیں اورR=2mکے کار کے پیچھے دیکھنے کے آئینے میں سے آپ کو ایک شخص
5 m s -1
کی چال سے کار کی طرف دوڑ کرآتا ہوادکھائی دیتا ہے۔اگر آنے والا اسی چال سے دوڑتا رہے تو جب وہ کار سے9m (d) 19m (c) 29m (b) 39m (a)کے فاصلے پر ہوگا تو اس کی شبیہہ کس رفتار سے حرکت کرتی ہوئی معلوم ہوگی؟
حل: آئینہ مساوات(مساوات9.7)سے:
v =    fu / u - f 

s24
ایک حدبی آئینہ کے لیے،کیونکہR=2m ،f=1m ،اس لیے
u = - 39 m, v =  (-39)× 1 /-39 -1 = 39/40  m
u = -39 m, v = (-39) × 1 / -39 - 1 = 39 / 40 m
      
s25

کیونکہ دوڑنے والاs26کی مستقلہ چال سے حرکت کررہا ہے،اس لیے ایک سیکنڈبعد شبیہہ کا مقام
34 / 35 m: ہوگا (u = -39 + = - 34)
vs27ہوگا:s28
اس لیے ایک سیکنڈمیں شبیہہ کے مقام میں تبدیلی ہے:
39/40 - 34 / 35 = 1365 - 1360 / 1400 = 5 / 1400 = 1 / 280 m
s29
اس لیے جب دوڑنے والا آئینے سے39mاور34mکے درمیان ہے تواس کی اوسط چال
(1 / 280) m s -1
  s30ہے۔
اسی طرح یہ دیکھا جاسکتا ہے کہu = –29 m ،–19 mاور –9 mکے لیے،شبیہہ جس چال سے حرکت کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے،وہ ہے بالترتیب:
 1 /10 m s-1  1 /60 m s-1 , 1 / 150 m s-1

s31اور s32
حالانکہ دوڑنے والا مستقلہ چال سے حرکت کررہا ہے،جیسے جیسے وہ کارکے نزدیک آتا ہے اس کی شبیہہ کی چال میں قابل لحاظ اضافہ ہوتا ہوامعلوم ہوتا ہے۔اس مظہر کو کوئی بھی شخص جو رکی ہوئی کار یا بس میں بیٹھا ہومحسوس کرسکتا ہے۔حرکت کرتی ہوئی گاڑیوں کی صورت میں بھی ایسا ہی مظہر دیکھا جاسکتا ہے اگر پیچھے آنے والی گاڑی مستقلہ چال سے قریب آرہی ہو۔

9.3 انعطاف (Refraction)

جب ایک روشنی کی شعاع ایک دوسرے شفاف(Transparent)واسطے(medium)سے ٹکراتی ہے تو اس کا کچھ حصہ پہلے واسطے میں واپس منعکس ہوجاتا ہے اور کچھ دوسرے واسطے میں داخل ہوجاتا ہے۔روشنی کی ایک کرن ایک شعاع کی نمائندگی کرتی ہے۔ایک ترچھی واقع روشنی کی کرن جو دوسرے واسطے میں داخل ہوتی ہے،اس کے اشعاع کی سمت دونوں واسطوں کی درمیانی سرحد پر تبدیل ہوجاتی ہے۔یہ مظہر روشنی کا انعطاف(Refraction of Light)کہلاتا ہے۔اسنیل(Snell)نے انعطاف کے مندرجہ ذیل قوانین تجرباتی طورپر حاصل کیجیے:
(i) واقع کرن،منعطف کرن اور درمیانی رخ پر نقطۂ وقوع پر عماد،سب ایک ہی مستوی میں ہوتے ہیں۔
(ii) زاویۂ وقوع کے سائن (sine)اور زاویۂ انعطاف کے سائن کی نسبت مستقلہ ہے۔
یادرکھیے کہ زاویۂ وقوع(i)اورزاویۂ انعطاف(r)وہ زاویے ہیں جو واقع کرن اور اسکی منعطف کرن،بالترتیب عماد سے بناتی ہیں۔ہمارے پاس ہے:

منعکس کرنReflected ray
عمادNormal
واقع کرنIncident ray
منعطف کرنRefracted ray
انعکاسی سطحReflecting surface
شکل9.8:روشنی کا انعطاف اور انعکاس
picture 1
شکل 9.8 : روشنی کا انعطاف اور انعکاس
sin i / sin r = n21
(9.10) ss130
جہاں n21
ایک مستقلہ ہے،جو دوسرے واسطے کا،پہلے واسطے کا،پہلے واسطے کی مناسبت سے انعطاف نما (refractive index) کہلاتا ہے۔مساوات(9.10)،معروف اسنیل کا انعطاف کا قانون ہے۔ہم نوٹ کرسکتے ہیں کہn21واسطوں کے جوڑے کی خصوصیت ہے(اور روشنی کے طول لہر پر بھی منحصر ہے)لیکن زاویۂ وقوع کے غیر تابع ہے۔
مساوات(9.10)سے،اگر
 r < i , n21 > 1
rn21یعنی کہ منعطف کرن عماد کی جانب جھکتی ہے۔ایسی صورت میں واسطہ2 واسطہ 1سے مقابلتاً نوری طورپر کثیف(optically denser)یا صرف کثیف(denser)کہلاتا ہے۔ دوسری طرف اگرrinہو تومنعطف کرن عماد سے دوربنتی ہے۔یہ وہ صورت ہے جب ایک کثیف واسطے میں واقع کرن ایک مقابلتاًلطیف(rarer)واسطے میں منعطف ہوتی ہے۔
نوٹ: نوری کثافت اور کمیت کثافت میں مغالطہ نہیں ہوناچاہیے۔کمیت کثافت،کمیت فی اکائی حجم ہے۔ایسا ممکن ہے کہ ایک نوری طورپر مقابلتاً کثیف واسطے کی کمیت کثافت ایک نوری طورپر مقابلتاًلطیف واسطے کی کمیت کثافت سے کم ہو۔(نوری کثافت دونوں واسطوں میں روشنی کی چال کی نسبت ہے)۔مثلاً ٹرپین ٹائن اورپانی۔ٹرپین ٹائن کی کمیت کثافت پانی کی کمیت کثافت سے کم ہے لیکن اس کی نوری کثافت زیادہ ہے۔
اگر n21
n21n¹²،واسطہ1کی مناسبت سے واسطہ2کا انعطاف نما ہے اورn¹²واسطہ 2کی مناسبت سے واسطہ1کا انعطاف نما ہے،تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ:
n12 = 1 /n21
(9.11) n12 n21
یہ بھی اخذ کیاجاسکتا ہے کہ اگرn32n32،واسطہ2کی مناسبت سے واسطہ3کا انعطاف نما ہے، تب:
 n32 = n31 × n12
n32n12n31،جہاںn31n31واسطہ1کی مناسبت سے واسطہ 3کا انعطاف نما ہے۔
انعطاف کے قوانین پر مبنی کچھ بنیادی نتائج فوراً ہی اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ایک مستطیل نما سل(rectangular slab)میں انعطاف دودرمیانی رخوں(ہوا–شیشہ اور شیشہ–ہوا)پر ہوتا ہے۔

عرضی شفٹLateral Shift
واسطہ(شیشہ)Medium (glass)
واسطہ(ہوا)Medium (Air)


9.9
                                                                                   شکل9.9 ایک متوازی الاضلاع سل سے منعطف ہوئی ایک کرن کی عرضی شفٹ

شکل9.9سے یہ بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ:r2r1،یعنی کہ نمودی کرن(emergentray)واقع کرن (incident ray)کے متوازی ہے۔کوئی انحراف(deviation)نہیں ہے،لیکن نمودی کرن میں واقع کرن کی مناسبت سے عرضی نقل/شفٹ(Lateral displacement/shift)پیدا ہوتا ہے۔ایک اور مشاہدہ،جس سے عام واقفیت ہے،وہ یہ ہے کہ ایک پانی سے بھرے ہوئے تالاب کی تلی(پینداBottom)اٹھی ہوئی معلوم ہوتی ہے (شکل9.10)۔تقریباً عمادی سمت میں دیکھنے کے لیے،یہ ثابت کیاجاسکتا ہے کہ ظاہر گہرائی(apparent depth)h1اصل گہرائی (Real depth)h2کو واسطے پانی کے انعطاف سے تقسیم کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔


اصل گہرائیReal depth
ظاہرہ گہرائیApparent depth
مشاہدObserver
9.10
شکل9.10:(a) عمادی طورپر دیکھنے پر ظاہرہ گہرائی(b)ترچھا دیکھنے پر ظاہرہ گہرائی

کرہ باد(atmosphare)کے ذریعے روشنی کا انعطاف بہت سے دلچسپ مظاہر کے لیے ذمہ دار ہے۔مثلاً سورج،اصل طلوعِ آفتاب سے ذرا پہلے دکھائی دے جاتا ہے اوراصل غروب آفتاب کے تھوڑی دیر بعد تک نظرآتارہتا ہے۔ایسا کرہ باد سے روشنی کے انعطاف کی وجہ سے ہوتا ہے(شکل9.11)۔اصل طلوع آفتاب سے ہمارا مطلب ہے سورج کا افق(horizon)سے اصل میں گذرنا۔شکل(9.11)میں افق کی مناسبت سے سورج کے اصل اور ظاہری مقامات کو دکھایا گیا ہے۔شکل کو بہت زیادہ بڑا بنایا گیا ہے تاکہ اثر واضح ہوسکے۔خلا کی مناسبت سے ہوا کا انعطاف نما1.00029ہے۔اس وجہ سے،سورج کی سمت میں ظاہری شفٹ تقریباً نصف ڈگری ہوتی ہے اور اس کے مطابق اصل غروب آفتاب اور ظاہری غروب آفتاب میں وقت کا فرق تقریباً 2منٹ ہے (دیکھو مثال 9.5) غروب آفتاب اور طلوع آفتاب کے وقت سورج کا ظاہر چپٹا ہونا(بیضوی شکل)بھی اسی مظہر کی وجہ سے ہے۔

مشاہدobserver
سورج کا ظاہر مقام ظہورApparent position of the sun
فضا(کرہ باد)Atmosphare
زمینEarth
افقHorizon
9.11
شکل9.11:فضائی انعطاف کی وجہ سے طلوع آفتاب میں جلدی اور غروب آفتاب میں تاخیر

مثال9.5:زمین اپنے محور پر ایک چکر پورا کرنے میں24گھنٹے لیتی ہے۔زمین سے دیکھنے پر،سورج1ºشفٹ ہونے میں کتنا وقت لیتا ہے؟
حل:
360° = 24 h

36024hشفٹ میں لیاگیا وقت
1° 24/360 h = 4 min.

4min شفٹ میں لیا گیا وقت۔

ڈوبتا ہوابچہ،محافظ اور اسنیل کا قانون

(THE DROWNING CHILD,LIFEGUARD AND SNELL'S LAW)

ایک مستطیل نما سوئمنگ پولPQSRلیجیے،دیکھیے نیچے دی ہوئی شکل–پول کے باہرG پربیٹھا ہوا ایک محافظ دیکھتا ہے کہ ایک بچہ نقطہC پر ڈوب رہا ہے۔محافظ بچے تک کم سے کم ممکنہ وقت میں پہنچنا چاہتا ہے۔فرض کیجیےGاورCکے درمیان پول کا اضلاعSRہے۔کیا محافظ کوGاورCکے درمیان مستقیم خط راستہ GAC اختیار کرنا چاہیے یا راستہGBCاختیار کرنا چاہیے،جس میں پانی کے اندرراستہBCسب سے کم ہے یا کوئی اور راستہ اختیار کرنا چاہیے جیسےG×C؟محافظ جانتا ہے کہ زمین پر اس کے دوڑنے کی رفتارv1اس کی پانی میں تیرنے کی رفتارv2سے زیادہ ہے۔
فرض کیجیے محافظ پانی میں نقطہXپر داخل ہوتا ہے۔فرض کیجیے
GX = I1 ,اور XC = I2 gx1، اورxc1
تبGسےCتک پہنچنے میں لگنے والا وقت ہوگا:
t = I1 / v1 + I2 / v2

L2V2
اس وقت کو اقل ترین(minimum)کرنے کے لیے اس کا تفرق(differentiation)کرناہوگا(Xکے کوآرڈی نیٹ کی مناسبت سے)اور پھر جبtاقل ترین ہو تو نقطہXمعلوم کرنا ہوگا۔یہ سب الجبراحل کرنے کے بعد(جوہم یہاں چھوڑرہے ہیں)،ہم دیکھتے ہیں کہ محافظ کوپانی میں اس نقطے پر داخل ہونا چاہیے جہاں اسنیل کا قانون مطمئن ہوتا ہو۔اسے سمجھنے کے لیے،ضلعSRپر نقطہXپر ایک عمودLMکھینچیے۔فرضکیجیے:
∠ CXL = r  اور ∠ GXM = i
gxmLLLLLGXM =i اور CXL = rLLLLLتب یہ دیکھاجاسکتا ہے کہtاس وقت اقل ترین ہوگاجب:
sin i / sib r = v1 / v2
ط2
روشنی کے لیےv1 / v2، خلامیں روشنی کی رفتار کی واسطے میں روشنی کی رفتار سے نسبت،واسطہ کا انعطاف نماnہے۔
مختصراً یہ کہ،چاہے لہر ہو،ذرہ ہو یا ایک انسان ہو،جب بھی دو واسطے اور دو رفتاریں شامل ہوں،اگر ہم کم ترین وقت چاہتے ہیں تو اسنیل کے قانون کی پابندی لازمی ہے۔

9.4مکمل اندرونی انعکاس(Total Internal Reflection)

جب روشنی ایک مقابلتاً نوری کثیف واسطے سے مقابلتاً لطیف واسطے میں داخل ہوتی ہے تو درمیانی رخ پر اس کا جزایک اسی واسطے میں واپس منعکس ہوجاتا ہے اور ایک جز دوسرے واسطے میں منعطف ہوجاتا ہے۔یہ انعکاس،اندرونی انعکاس،کہلاتا ہے۔
جب روشنی کی ایک کرن ایک مقابلتاً کثیف واسطے سے ایک مقابلتاً لطیف واسطے میں داخل ہوتی ہے تو عماد سے دور ہٹتی ہے،مثلاً شکل9.12میں AO1Bکرن۔واقع کرنAO1جزوی طورپر منعکس ہوتی ہے،(O1Cاور جزوی طورپر منعطف ہوتی ہے O1B اس طرح کہ زاویہ انعطاف(r)زاویہ وقوع (i)سے بڑاہوتا ہے۔جیسے جیسے زاویہ وقوع بڑھتا ہے،زاویہ انعطاف بھی بڑھتا ہے،یہاں تک کہ کرنAO3کے لیے زاویہ انعطاف2/ π ہے۔منعطف کرن عماد سے اتنی دور ہٹ جاتی ہے کہ یہ دونوں واسطوں کے درمیانی رخ کی سطح کو چھونے لگتی ہے۔اسے شکل9.12میں کرنOA3Dکے ذریعے دکھایاگیا ہے۔اب اگر زاویہ وقوع میں مزید اضافہ کیاجائے(مثلاً،کرنAO4)،توانعطاف ممکن نہیں ہے اور واقع کرن مکمل طورپر منعکس ہوجاتی ہے۔یہ مکمل اندرونی انعکاس (Total Internal Reflection)کہلاتا ہے۔جب ایک سطح سے روشنی منعکس ہوتی ہے،تو عام طورسے اس کا کچھ حصہ ترسیل بھی ہوتا ہے۔اس لیے منعکس کرن کی شدت(intensity)ہمیشہ واقع کرن کی شدت سے کم ہوتی ہے،چاہے انعکاسی سطح کتنی بھی ہموار(چکنیsmooth)کیوں نہ ہو۔ لیکن دوسری طرف مکمل اندرونی انعکاس میں روشنی کی کوئی ترسیل نہیں ہوتی۔

مقابلتاًکثیف واسطہ(پانی)Denser medium (water)
پانی –ہوا درمیانی رخwater–air interface
مقابلتاً لطیف واسطہ(ہوا)Rarer medium (Air)
مکمل طورپر منعکس کرنTotally reflected ray
جزوی طورپر منعکس کرنیںPartially reflected rays
BAC

شکل9.12:ایک مقابلتاً کثیف واسطے(پانی )میں ایک نقطہAسے کرنوں کا انعطاف اوراندرونی انعکاس،جب کہ کرنیں ایک مقابلتاً لطیف واسطے (ہوا)کے ساتھ درمیانی رخ پر مختلف زایوں پر واقع ہیں۔

90ºزاویہ انعطاف کے مطابق زاویہ وقوع،فرض کیا AO3N∠،واسطوں کے دیے ہوئے جوڑے کے لیے، فاصل زاویہ(Critical angle)کہلاتا ہے،جسےicسے ظاہر کرتے ہیں۔ہم اسنیل کے قانون [مساوات(9.10)] سے دیکھ سکتے ہیں کہ اگر نسبتی انعطاف نما(relative refractive index)ایک سے کم ہے،تو کیونکہ sin rکی اعظم قدرایک ہے،اس لیےsin iکی قدر کے لیے ایک بالائی حد(upper limit)ہے،جس کے لیے قانون مطمئن ہوسکتا ہے،یعنی کہi=ic،اس طرح کہ
(9.12) sin ic =n21
بڑی iکی قدروں کے لیے،انعطاف کا اسنیل کا قانون مطمئن نہیں کیا جاسکتا اور اس لیے کوئی انعطاف ممکن نہیں ہے۔ 
مقابلتاً کثیف واسطے2کامقابلتاً لطیف واسطے1کی مناسبت سے،انعطاف نماہوگا:
کچھ مخصوص فاصل زاویوں کی فہرست جدول9.1میں دی گئی ہے۔

جدول9.1:کچھ شفاف واسطوں کے فاصل زاویے


فاصل زاویہ

انعطاف نما

واسطہ(مادی شے)

48.75°
41.14°
37.31°
24.41°

1.33
1.52
1.62
1.42
پانی
کراؤن شیشہ
کثیف فلنٹ شیشہ
ہیرا

مکمل اندرونی انعکاس کا ایک مظاہرہ

تمام نوری مظاہر کا ایک لیزرٹارچ(Laser Torch)کی مدد سے،جو آج کل بہ آسانی دستیاب ہے،بخوبی مظاہرہ کیا جاسکتا ہے۔ایک شیشہ کا بیکر لیجیے جس میں صاف پانی ہو۔اس میں دودھ یا کوئی اور معلق مادہ کی چند بوندیں ڈالیئے تاکہ یہ تھوڑا گدلا ہو جائے۔ایک لیزر ٹارچ لیجیے اوراس کی شعاع کو اس دھندلے پانی سے گذاریے۔آپ دیکھیں گے کہ پانی کے اندر شعاع کا راستہ خوب چمکتا ہے۔
بیکر کے نیچے سے اس طرح شعاع ڈالیے کہ وہ دوسرے سرے پر پانی کی سطح سے ٹکرائے۔کیا آپ دیکھتے ہیں کہ یہ شعاع جزوی طورپر منعکس ہوتی ہے(جو نیچے میز پر ایک دھبہ کی شکل میں دکھائی دیتاہے)اور جزوی طورپر منعطف ہوتی ہے[جو جز کہ ہوا میں باہر آتاہے اور چھت پر ایک دھبہ کی شکل میں دکھائی دیتا ہے،شکل9.13(a)]؟اب لیزرشعاع کو بیکر کے ایک طرف سے اس طرح ڈالیے کہ وہ پانی کی اوپری سطح پر اور زیادہ ترچھی پڑے[شکل9.13(b)]۔لیزر شعاع کی سمت کو اس طرح درست کیجیے کہ آپ کو وہ زاویہ مل جائے جس کے لیے پانی کی سطح کے اوپر انعطاف بالکل نہ ہو اور شعاع مکمل طورپر واپس پانی میں منعکس ہوجائے۔یہ مکمل اندرونی انعکاس کا سب سے سادہ مظاہرہ ہے۔
اب اس پانی کو ایک لمبی ٹیسٹ ٹیوب میں ڈال دیجیے اور لیزر کی شعاع اوپر سے ڈالیے،جیسا کہ شکل 9.13(c) میںدکھایا گیا ہے۔لیزر شعاع کی سمت کو اس طرح درست کیجیے کہ وہ جس مرتبہ بھی ٹیوب کی دیواروں سے ٹکرائے،ہر مرتبہ مکمل اندرونی انعکاس ہو۔یہ اس سے ملتی جلتی صورت ہے جو نوری ریشوں(Optical fibres)میں پائی جاتی ہے۔
یہ احتیاط رکھیں کہ لیزر شعاع کو براہِ راست نہ تو خود دیکھیں اور نہ ہی اسے کسی اور کے چہرے پر ڈالیں۔
ابچ

شکل9.13:ایک لیزر شعاع کے ساتھ پانی میں مکمل اندرونی انعکاس کا مشاہدہ کرنا(بیکر کے شیشے سے ہونے والا انعطاف نظرانداز کردیاگیا ہے،کیونکہ یہ شیشہ بہت پتلا ہوتا ہے)

9.4.1قدرت میں ہونے والا مکمل اندرونی انعکاس اور اس کے تکنیکی استعمال

(Total internet reflection in nature and its technological application)
(i) سراب(Mirage):موسم گرما کے گرم دنوں میں،زمین کے نزدیک ہوا،اوپری سطح کی ہوا کے مقابلے میں زیادہ گرم ہوجاتی ہے۔ہوا کا انعطاف نما اس کی کثافت کے ساتھ بڑھتا ہے۔مقابلتاً گرم ہوا کم کثیف ہوتی ہے اور مقابلتاً ٹھنڈی ہواسے اس کا انعطاف نما کم ہوتا ہے۔اگر ہوا رکی ہوئی ہو تو ہوا کی مختلف پرتوں(Layers)پر نوری کثافت بلندی کے ساتھ بڑھتی ہے۔اس کے نتیجے میں،ایک اونچی شے،جیسے درخت،سے آنے والی روشنی،ایسے واسطے سے گذرتی ہے جس کا انعطاف نما زمین کی جانب کم ہوتا جاتا ہے۔اس لیے ایسی شے سے آنے والی روشنی لگاتار عماد سے دور ہٹتی جاتی ہے اورجب زمین کے نزدیک والی ہوا کے لیے اس کا زاویہ وقوع،فاصل زاویہ سے زیادہ ہوجاتاہے تو اس کا مکمل اندرونی انعطاف ہوجاتا ہے۔یہ شکل9.14(b)میں دکھایا گیا ہے۔ایک فاصلے سے دیکھنے والے شخص کو یہ روشنی کہیں سطح زمین کے نیچے سے آتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔مشاہد ظاہر ہے یہ سمجھتا ہے کہ روشنی سطح زمین سے منعکس ہورہی ہے،جیسے کہ اونچی شے کے نزدیک پانی کے تالاب سے۔دور اونچی اشیا کی ایسی الٹی شبیہہ مشاہد کو نوری وہم(optical illusion)میں مبتلا کردیتی ہیں۔یہ مظہر سراب(Mirage)کہلاتا ہے۔اس طرح کا سراب گرم ریگستانوں میں خاص طورسے عام ہے۔آپ میں کچھ نے شاید کبھی محسوس کیا ہو کہ جب آپ موسم گرما کے کسی گرم دن ایک بس یا کار سے سفر کررہے ہوتے ہیں توخاص طورسے شاہراہ (High–way) پر سڑک کا ایک ٹکڑا دورسے گیلا نظرآتا ہے لیکن جب آپ اس کے پاس پہنچتے ہیں تو گیلے پن کا نام ونشان نہیں ہوتا۔ یہ بھی سراب کی و جہ سے ہوتا ہے۔

(a) روشنی 
یکساں درجہ حرارت پر ہوا
انعطاف نما مستقلہ
(b)
کم ہوتا ہوا انعطاف نما
سطح زمین کے قریب ہوا مقام بلتا گرم

roshni

شکل(a) 9.11ایک مشاہد ایک درخت کو اس کے مقام پر اس وقت دیکھتا ہے جب سطح زمین سے اوپر ہوا یکساں درجہ حرارت پر ہے۔(b)جب سطح زمین سے نزدیک ہوا کی پرتوں کے درجات حرارت مختلف ہیں اور زمین کے بالکل نزدیک سب سے گرم پرتیں ہیں،تو ایک دور کے پیڑ سے آتی ہوئی روشنی کا مکمل اندرونی انعکاس ہوسکتا ہے اور پیڑ کی ظاہرہ شبیہہ مشاہد کو اس وہم میں ڈال سکتی ہے کہ پیڑ پانی کے تالاب کے نزدیک ہے۔

(ii) ہیرا(Diamond): ہیرے اپنی تعجب خیز چمک کے لیے مشہور ہیں۔ان کی زیادہ تر چمک ان کے اندر ہونے والے روشنی کے مکمل اندرونی انعکاس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ہیرا–ہوا درمیانی رخ کے لیے فاصل زاویہ(@ 24.4°)بہت چھوٹا ہوتا ہے،اس لیے روشنی جب ایک بارہیرے کے اندر داخل ہوجاتی ہے تو اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ اس روشنی کا اندرونی طورپرمکمل انعکاس ہو۔قدرتی طورپر پائے جانے والے ہیروں میں وہ چمک شاذونادر ہی ہوتی ہے جس کے لیے وہ مشہور ہیں۔یہ ہیرا تراش کی تکنیکی صلاحیت ہے جو ہیروں کو اتنا چمکدار بناتی ہے۔ہیروں کو مناسب طورپر تراش کر،کثیر مکمل اندرونی انعکاس کرائے جاسکتے ہیں۔

(iii) منشور(Prism):روشنی کو90ºیا180ºسے موڑنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے منشور(پرزم)مکمل اندرونی انعکاس کا استعمال کرتے ہیں[شکل9.15(a)اور(b)]۔ایسے پرزم کو بغیر سائز تبدیل کیے،شبیہہ کو الٹا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے[شکل9.15(c)]۔پہلیدوصورتوں میں،پرزم کے مادے کے لیے فاصل زاویہ24.445ºسے کم ہونا لازمی ہے۔ہم جدول9.1میں دیکھ سکتے ہیں کہ کراؤن شیشہ(crown glass)اور کثیف فلنٹ شیشہ(Dense flint glass)دونوں کا فاصل زاویہ 45ºسے کم ہے۔

baba

شکل9.15:کرنوں کو90º اور180ºسے موڑنے یا بغیر سائز تبدیل کیے شبیہہ کو الٹا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے منشور مکمل اندرونی انعکاس کا استعمال کرتے ہیں۔

(iv) نوری ریشے(Optical fibres): آج کل آڈیو(سمعیAudio)اورویڈیو(بصارتیVideo)سگنلوں کی زیادہ لمبے فاصلوں پر ترسیل کے لیے نوری ریشے کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔نوری ریشے بھی مکمل اندرونی انعکاس کے مظہر کا استعمال کرتے ہیں۔نوری ریشے عمدہ کوالٹی کے کمپوزٹ شیشہ/کوارٹزریشوں سے بنائے جاتے ہیں۔ہر ریشہ ایک قالب اور ایک شاخ(cladding)پر مشتمل ہوتا ہے۔قالب کے مادے کا انعطاف نما،شاخ (cladding)کے مادے کے انعطاف نما سے زیادہ ہوتا ہے۔
جب روشنی کی شکل میں ایک سگنل،ریشے کے ایک سرے پر ایک مناسب زاویے پر واقع کیاجاتا ہے تو وہ ریشے کی لمبائی سے گذرتے ہوئے باربار مکمل اندرونی انعکاس سے گذرتا ہے اور آخر میں دوسرے سرے پر باہر آتا ہے (شکل9.16)۔
nn
زیادہ n
کم n
شکل9.16:روشنی جب ایک نوری ریشے سے گذرتی ہے تو لگاتار مکمل اندرونی انعکاس ہوتے ہیں۔

کیونکہ روشنی کا ہر مرحلے پر مکمل اندرونی انعکاس ہوتا ہے،روشنی کے سگنل کی شدت میں کوئی قابل لحاظ نقصان نہیںہوتا ۔نوری ریشے اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ اندرونی سطح کی ایک جانب سے منعکس ہوئی روشنی دوسرے جانب ایسے زاویے پر پڑے جو فاصل زاویہ سے زائد ہو۔اگر ریشہ خمیدہ(مڑا ہواbent)بھی ہو تب بھی روشنی اس کی لمبائی پر بہ آسانی سفر کرسکتی ہے۔اس طرح ایک نوری ریشے کو ایک نوری پائپ کی طرح استعمال کیاجاسکتا ہے۔
نوری ریشوں کے ایک بنڈل(Bundle)کے کئی استعمال ہیں۔نوری ریشے،برقی سگنلوں کو نشرکرنے اور وصول کرنے میں بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ان برقی سگنلوں کو مناسب بدل کاروں (ٹرانس ڈیوسر Transducers) کے ذریعے روشنی میں تبدیل کیاجاتا ہے۔ظاہر ہے کہ نوری ریشے،نوری سگنلوں کی ترسیل میں بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔مثلاً انھیں اندرونی اعضاجیسے غذاکی نالی(esophagus)،معدہ اورآنتوں وغیرہ کی بصارتی جانچ کے لیے بطور نوری پائپ استعمال کیاجاتا ہے۔آپ نے ایک عام دستیاب سجاوٹی لیمپ دیکھا ہوگا جس میں پلاسٹک کے ریشے ہوتے ہیں،جن کے آزاد سرے ایک فوارہ جیسی شکل بناتے ہیں۔ا ن ریشوں کا دوسرا کنارہ ایک برقی لیمپ سے جڑا ہوتا ہے۔جب لیمپ کو سوئچ آن کیاجاتا ہے تو روشنی ہر ریشے کے نچلے حصے سے اس کے آزاد سرے کی نوک تک ایک نقطے کی شکل میں جاتی ہے۔اس طرح کے سجاوٹی لیمپوںمیں استعمال کیے گئے ریشے نوری ریشے ہوتے ہیں۔
نوری ریشے بنانے کے لیے خاص ضروری شرط یہ ہے کہ روشنی جب ان میں سے،طویل فاصلوں تک،گذرے تو روشنی کا انجذاب(Absorption)بہت کم ہو۔ایسا کچھ خاص مادوں کی تیاری اور ان کو خالص بنانے کے ذریعے کیاجاسکتا ہے،جیسے کوارٹز–سلیکاگلاس ریشوں میں1kmکی ریشوں کی لمبائی پر روشنی کے 95%حصہ کی ترسیل کی جاسکتی ہے۔(اس کا مقابلہ عام کھڑکی کے 1کلومیٹر موٹے شیشے کے ٹکڑے سے کیجیے)۔

9.5کروی سطحوں پر اورعدسوں کے ذریعے انعطاف

(Refraction at Spherical Surfaces and by Lenses)

اب تک ہم نے مسطح درمیانی–رخ پر انعطاف کا مطالعہ کیا ہے۔اب ہم دو شفاف واسطوں کے درمیان،کروی درمیانی رخ پر انعطاف کا مطالعہ کریں گے۔ایک کروی سطح کے ایک لامتناہی خفیف(infinitesimal)حصے کو مسطح مانا جاسکتا ہے اور سطح کے ہر نقطہ پر انعطاف کے وہی قوانین استعمال کیے جاسکتے ہیں۔جیسا کہ ایک کروی آئینے کے ذریعے انعکاس میں ہوتا ہے،بالکل ویسے ہی انعطاف میں بھی نقطۂ وقوع پر کھینچا گیا عماد،کروی سطح پر اس نقطے پر مماسی مستوی پر عمود ہے اور اس لیے اس کے خمی مرکز سے گذرتا ہے۔ہم پہلے ایک واحد کروی سطح سے انعطاف کا مطالعہ کریں گے۔ایک پتلا لینس ایک شفاف نوری واسطہ ہے جو دوسطحوں سے محدود ہے،جن میں سے کم ازکم ایک سطح کروی ہونا چاہیے۔ایک واحد کروی سطح سے شبیہہ بننے کے فارمولے کو باری باری لینس کی دونوں سطحوں پر استعمال کرکے ہم لینس ساز کافارمولا اور پھر لینس فارمولا حاصل کریں گے۔

9.5.1 ایک کروی سطح پر انعطاف(Refraction at a spherical surface)

شکل9.17میں ایک خمی مرکزCاورخمی نصف قطرRکی ایک کروی سطح کے خاص محور پر رکھی ہوئی شےOکی شبیہہ Iبننے کی جیومیٹری دکھائی گئی ہے۔کرنیں،ایکn1انعطاف نما کے واسطے سےn2انعطاف نما کے واسطے پر واقع ہیں۔پہلے کی طرح ہم سطح کے روزن (aperture) [یاعرضی سائزlateral size]کو دوسرے شامل فاصلوں کے مقابلے میں بہت چھوٹا مان لیتے ہیں تاکہ چھوٹے زاویہ کا تقرب (approximation) استعمال کیاجاسکے۔خاص طورپر NMکو نقطہNسے خاص محور پر ڈالے گئے عمود کی لمبائی کے تقریباً برابر مانا جائے گا۔
 چھوٹے زاویے کے لیے ہمارے پاس ہے:
tan∠NOM = MN / OM
tan∠NCM = MN / MC
tan∠NIM = MN / MI
ابΔNOCکے لیےi باہری زاویہ(exterior angle)ہے،اس لیے:
i = ∠NOM  + ∠NCM

i= MN / OM + MN / MC
(9.13)
 
imnom
اسی طرح،
r = ∠NCM - ∠NIM
r = MN / MC - MN / MI
                                               (9.14)
اب،اسنیل کے قانون سے: rmnncm
                       n1 sib i = n2 sin r                             
n,nis
یا،چھوٹے زاویوں کے لیے

روشنی کے وسیلے اور فوٹو میٹری

یہ معلوم ہے کہ مطلق صفر(Absolute zero)سے اوپر ایک جسم برق–مقناطیسی شعاعیں خارج کرتا ہے۔ایک جسم کس طول لہر علاقے میں شعاعیں خارج کرے گا یہ اس کے مطلق درجۂ حرارت پر منحصر ہے۔ایک گرم جسم،جیسے ٹنگسٹن فلامنٹ لیمپ،جس کا درجۂ حرارت2850Kہوتا ہے،کے ذریعے خارج کی گئی شعاعیں،جزوی طورپرغیربصارتی (invisible)اور زیادہ تر زیریں سرخ(یا حرارت)علاقے میں ہوتی ہیں۔جیسے جیسے جسم کے درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے،اس کے ذریعے خارج کی گئی شعاعیں بصری علاقے میں آجاتی ہیں۔سورج،جس کا درجۂ حرارت 5500Kہے،ایسی شعاعیں خارج کرتا ہے،جن کا توانائی بمقابلہ طول موج گراف کا فراز تقریباً550nmپر ہوتا ہے جو ہری روشنی کسے مطابق ہے اور بصارتی علاقے کے تقریباً وسط میں ہے۔ایک دیے ہوئے جسم کےتوانائی بمقابلہ طول موج گراف کا فراز کسی ایک طول لہر پر حاصل ہوگا،جو اس جسم کے درجۂ حرارت کے مقلوب متناسب ہے۔
روشنی،جس طرح انسانی آنکھ محسوس کرتی ہے،کی پیمائش فوٹومیٹری کہلاتی ہے۔فوٹومیٹری ایک علم الاعضا کے(Physiological)مظہر کی پیمائش ہے،یعنی کہ روشنی کا مہیج(Stimulus)جس طرح انسانی آنکھ وصول کرتی ہے،نوری رگوں(Optic nerves)سے جیسے اس کی ترسیل ہوتی ہے اور پھر انسانی دماغ اس کا تجزیہ کرتا ہے۔فوٹومیٹری میں اہم طبعی مقداریں ہیں:(i)ماخذ(Source)کی درخشاں شدت (Luminous intensity) (ii) درخشاں فلکس(Luminous flux)یا ماخذ سے روشنی کا بہاؤ(iii)سطح کیروشنیت(Illuminance)–درخشاں شدت(I)کیSIاکائی کنڈیلا[Candela (cd)]ہے۔کنڈیلا،دی ہوئی سمت میں اس ماخذ کی درخشاں شدت ہے جو
1012×540 HS
  540hzتعدد کی یک رنگی (Monochromatic) شعاعیں خارج کرتا ہے اور جس کی اس سمت میں انتقامی شدت (Radiant Intensity)1/683 واٹ فی اسٹیریڈین (Watt per steradian)ہے۔اگر ایک روشنی کا ماخذ،ایک اسٹیریڈین کے ٹھوس زاویہ(Solid angle)میں ایک کنڈیلا درخشاں شدت خارج کرتا ہے تو اس ٹھوس زاویہ میں کل خارج ہوا درخشاں فلکس ایک لیومین[Lumen (lm)]ہے۔ایک 100واٹ کا معیاری تاباں(Incandescent)بلب تقریباً1700لیومین خارج کرتاہے۔
فوٹو میٹری میں،واحد مقدار(پیرامیٹرParameter)جو براہِ راست ناپی جاسکتی ہے،روشنیت ہے۔اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ ایک سطح پر فی اکائی رقبہ واقع درخشاں فلکس ہے
1m / m2]
im2mیا لکس]۔زیادہ تر روشنی کے میٹر اسی مقدار کو ناپتے ہیں۔درخشاں شدتIکے ماخذکے ذریعہ پیدا شدہ روشنیتE،دی جاتی ہے:
E = I / r2
e12rجہاںrسطح کا ماخذ سے عمادی فاصلہ ہے۔ایک مقدار،جو درخشانیت’L‘(luminance)کہلاتی ہے،خارج یا منعکس کرنے والی چپٹی سطحوں کی چمک مخصوص کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔اس کی اکائی(m2/cd)cdm2ہے[جسے صنعتی میدان میں نِٹ (nit)بھی کہتے ہیں]۔ایک اچھےLCDکمپیوٹر مانیٹرکی چمک تقریباً250 nitsہوتی ہے۔

n1i=n2r
مساوات(9.13)سے iاورمساوات(9.14)سےrکی قدر رکھنے پرہم دیکھتے ہیں
n1 / OM + n2 / MI = n2 - n1 / MC
(9.15) n1om
یہاںOM،MIاور MCفاصلوں کی عددی قدروں کو ظاہر کرتے ہیں۔کارتیزی علامت قرارداد استعمال کرتے ہوئے:
OM = –u, MI = +v, MC = +R

انھیں مساوات(9.15)میں رکھنے پر،ہم دیکھتے ہیں

(9.16)
n2 /v - n1/u = n2 - n1/R
n2v
مساوات(9.16)ہمیں شے اور شبیہہہ کے فاصلے کے درمیان واسطوں کے انعطاف نما اور کروی سطح کے خمی نصف قطر کی شکل میں رشتہ دیتی ہے۔یہ رشتہ کسی بھی خمی کروی سطح کے لیے درست ہے۔

مثال9.6:ہوا میں رکھے ہوئے ایک نقطہ وسیلے(Point source)سے روشنی ایک کروی شیشے کی سطح n = 1.5)،= 20 cmخمی نصف قطر(پر پڑتی ہے۔روشنی کے وسیلے کا شیشہ کی سطح سے فاصلہ 100cm ہے۔ شبیہہہ کس مقام پر بنے گی۔
حل: ہم مساوات(9.16)استعمال کرتے ہیں:یہاں
n2 = 1.5اور, n1 = 1 , R= + 20 cm, v = ? , u + - 100 cm
اب ہمیں ملتا ہے:
1.5/v + 1/100 = 0.5/20
1.5 v
یا v = +100 cm
شبیہہہ،شیشے کی سطح سے100cmکے فاصلے پر،واقع روشنی کی سمت میں،بنے گی۔

9.5.2 ایک لینس کے ذریعے انعطاف(Refraction by a lens)

شکل9.18(a)میں ایک دوہرے حدبی لینس(double convex lens)سے شبیہہہ بننے کی جیومیٹری دکھائی گئی ہے۔شبیہہہ بننے کے عمل کو دواقدامات میں دیکھاجاسکتا ہے:(i)پہلی انعطاف کرنے والی سطح شےOکی شبیہہہI1بناتی ہے۔ [شکل 9.18)b)] (ii) شبیہہہI1 دوسری سطح کے لیے ایک غیر حقیقی شے کی طرح کام کرتی ہے اور یہ سطح شبیہہہIبناتی ہے[شکل9.18(c)]۔پہلے درمیانی رخABCپر مساوات(9.15)استعمال کرتے ہوئے،ہمیں حاصل ہوتا ہے:
(9.17)
n1/OB + n2/BI1 = n2 - n1/BC1
ni ob
دوسرے درمیانی رخADC∗ پر یکساں طریقۂ کار سے:


*نوٹ کریں کہ اب ADCکے دائیں جانب والے واسطے کا انعطاف نماn1اور اس کے بائیں جانب والے واسطے کاn2ہے۔مزید یہ کہ DI1منفی ہے کیونکہ فاصلہ واقع روشنی کی مخالف سمت میں ناپاجارہا ہے۔
(9.18)
- n2/DI1 + n1/DI = n2 - n1/DC2
N2D1
ایک پتلے لینس کے لیے،
BI1 = DI1مساوات(9.17)اور مساوات (9.18)کو جمع کرنے پر
      n1/OB + n1/DI = (n2 - n1)  (1/BC1 + 1/DC2) (9.19)   
NOBD1
AN
شکل9.18 (a) ایک دوہرے حدبی لینس کے لیے شے اور شبیہہہہ کے مقام
(b)پہلی کروی سطح پر انعطاف
(c)دوسری کروی سطح پر انعطاف
(9.19)
فرض کیجیے کہ شے لاانتہا(infinity)پر ہے،یعنی کہ ∞→OB اور DI = f، مساوات(9.19)سے:

 n1/f = (n2 - n1)(1/BC1 + 1/DC2) (9.20)
n1f
لامتناہی فاصلے پر رکھی ہوئی شے کی شبیہہہ جس نقطے پر بنتی ہے وہ لینس کار فوکس Fکہلاتا ہے اور یہ فاصلہfاس کا فوکس فاصلہ(focal length) ہے۔ایک لینس کے دو فوکس ہوتے ہیں،FاورF¢،ایک لینس کے ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف(شکل9.19)–علامت قرارداد کے مطابق:
BC1 = + R1,
DC2 = - R2,
bc1 dc2
اس لیے مساوات(9.20)کو اس طرح لکھاجاسکتا ہے:
1/f = (n21 - 1) (1/R1 - 1/R2)  (∴n21 = n2/n1)
(9.21) 1f n1

مساوات (9.21)لینس ساز کا فارمولا کہلاتی ہے۔مطلوبہ فوکس لمبائی کے لینسوں کو ڈیزائن کرنے کے لیے مناسب خمی نصف قطروں کی سطحیں استعمال کرنا کارآمد ہے۔نوٹ کریں کہ فارمولا ایک جوفی لینس کے لیے بھی درست ہے۔اس صورت میںR1منفی ہے اورR2مثبت ہے،اس لیےfمنفی ہے۔ مساوات (9.19) اور مساوات (9.20) سے ہمیں حاصل ہوتا ہے:
n1/OB + n1/DI = n1/f
(9.22) n1 ob nf

کیونکہ پتلے لینس کے تقرب میںBاورDدونوں نوری مرکز کے بہت نزدیک ہیں۔علامتی قرارداد استعمال کرتے ہوئے:
BO = – u, DI = +v ہمیں حاصل ہوتا ہے:
1/v - 1/u =1/f
111uvf
مساوات(9.23)معروف ’’پتلا لینس فارمولا‘‘حدبی اور جوفی دونوں لینسوں کے لیے اور ساتھ ساتھ حقیقی اور غیر حقیقی دونوں قسم کی شبیہہہ کے لیے درست ہے۔
یہ بتادینا فائدہ مند ہوگا کہ ایک دوہرے حدبی یا دوہرے جوفی لینس کے دونوں فوکس،FاورF¢،نوری مرکز سے مساوی فاصلے پر ہوتے ہیں۔جو فوکس روشنی کے ماخذ (شروعاتیoriginal)کی جانب ہوتا ہے پہلا فوکس نقطہ کہلاتا ہے اور دوسرا فوکس،دوسرا فوکس نقطہ کہلاتا ہے۔
ایک شے کی ایک لینس کے ذریعے بننے والی شبیہہہ معلوم کرنے کے لیے،ہم اصولی طورپر تو شے کے ایک نقطے سے نکلنے والی کوئی بھی دو کرنیں لے کر،انعطاف کے قوانین کے مطابق ان کے ذریعے اختیار کیے گئے راستے پر سے گذرتے ہوئے وہ نقطہ معلوم کرسکتے ہیں،جہاں دونوں منعطف کرنیں ملتی ہیں(یا ملتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں)۔لیکن عملی صورتوں میں ،مندرجہ ذیل کرنوں میں سے کن ہی دوکومنتخب کرنے سے سہولت رہتی ہے۔
(i) شے سے،لینس کے خاص محور کے متوازی،نکلنے والی کرن انعطاف کے بعد دوسرے خاص فوکسF¢(ایک حدبی لینس میں)سے گذرتی ہے یا پہلے خاص فوکسFسے(ایک جوفی لینس میں)غیر مرتکز ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
(ii) روشنی کی وہ کرن جو لینس کے نوری مرکز سے گذرتی ہے،انعطاف کے بعد بغیر کسی انحراف کے گذرجاتی ہے۔
(a) روشنی کی وہ کرن جو ایک حدبی لینس (شکل9.19(a)) سے پہلے خاص فوکس سے گزر رہی ہو،انعطاف کے بعد خاص محور کے متوازی ہوجاتی ہے۔
(b) روشنی کی وہ کرن جو ایک جوفی لینس پر ابھرتی ہے ،انعطاف کے بعد ضمنی محور کےمتوازی ہو جاتی ہے۔(شکل9.19 (b))

شبیہہہہ image
شےsubject
imageشبیہہہہ
شےobject
b

شکل9.19:کرنوں کے ذریعے اختیار کیاگیا راستہ(a)حربی لینس ے گذرتے ہوئے
() حدبی لینس سے گزرتے ہوئے
(b)جوفی لینس سے گذرتے ہوئے

شکل(a) 9.19اور(b)میں ان قاعدوں کو،بالترتیب،ایک حدبی اور ایکجوفیلینس کے لیے دکھایا گیا ہے۔آپ لینس کے لحاظ سے شے کی مختلف مقامات کے لیے اسی طرح کی کرن ڈائیگرام کھینچنے کی مشق کریں اور یہ بھی تصدیق کریں کہ لینس فارمولا،مساوات(9.23)تمام صورتوں میں درست ہے۔
یہاں پر بھی یہ یادرکھنا چاہیے کہ شے کے ہر نقطے سے کرنوں کی لامتناہی تعداد نکلتی ہے۔یہ تمام کرنیں لینس سے منعطف ہونے کے بعد اسی شبیہہہ نقطے سے گذریں گی۔
ایک آئینے کی طرح ،ایک لینس سے پیدا ہونے والی تکبیر(Magnification)کی تعریف بھی،شبیہہہ کے سائز کی شے کے سائز سے نسبت،کی شکل میں کی جاتی ہے۔اگر ہم اسی طرح آگے بڑھیں،جیسے کروی آئینوں کی صورت میں بڑھے تھے،تو ہم بہ آسانی حاصل کرسکتے ہیں کہ ایک لینس کے لیے
(9.24)
                                      m = h'/h = v/u
mhhvu
جب ہم علامت قرار داد استعمال کرتے ہیں،تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک سیدھی(اور غیرحقیقی)شبیہہہ کے لیے،جو ایک جوفیلینس سے بنی ہو یا حدبی لینس سے،mمثبت ہے،جب کہ ایک الٹی(اورحقیقی)شبیہہہ کے لیےmمنفی ہے۔

مثال9.7: ایک جادوگر نے جادو دکھاتے ہوئے ایک رقیق سے بھرے برتن میں ایک شیشے کا لینس جس کا n = 1.47تھا،غائب کردیا۔اس رقیق کا انعطاف نما کیا ہے؟کیا وہ رقیق پانی ہوسکتا ہے؟

حل: لینس کے غائب ہوجانے کے لیے رقیق کا انعطاف نما بھی1.47ہونا چاہیے۔اس کا مطلب ہواn1=n2اس سے حاصل ہوتا ہے:1/f =0 یا f ∞ →،اس طرح رقیق کے اندر لینس،شیشے کے ایک مسطح ٹکڑے کی طرح برتاؤ کرے گا۔نہیں،رقیق پانی نہیں ہے۔یہ گلیسرین ہوسکتی ہے۔

9.5.3ایک لینس کی پاور (Power of a lens)

ایک لینس کی پاور اس مرکوزیت(convergence)یا غیر مرکوزیت(divergence)کا ناپ ہے جو لینس اس پر پڑرہی روشنی میں پیدا کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ ایک مقابلتاً کم فوکس فاصلہ کا لینس،مرکوز کرنے میں واقع روشنی کو زیادہ موڑتا ہے،اگر لینس حدبی ہے اور غیر مرکوزکرنے میں زیادہ موڑتا ہے اگر لینس جوفی ہے۔ایک لینس کی پاور Pکی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ اس زاویے کا ظل زاویہ (tangent)ہے،جس سے اپنے نوری مرکز سے اکائی فاصلے پر پڑرہی روشنی کی ایک شعاع کو وہ لینس مرکوز یا غیر مرکوز کرتا ہے۔
(شکل9.20)
9.20
شکل9.20:ایک لینس کی پاور
tan ℘ = 1/f  یا tan℘ = 1/f h = 1 اگر tan℘ = h/f ;

tan
dکی چھوٹی قدروں کے لیے:f/1 = ℘اس لیے
P = 1/f
(9.25) p1f

ایک لینس کی پاورکیSIاکائیdioptre(ڈائی آپٹر)(D)ہے:
1D = 1m-1
1d 1mIm فوکس فاصلے کے لینس کی پاورایک ڈائی آپٹر ہے۔ایک مرکوز لینس کی پاور مثبت ہوتی ہے اور ایک غیر مرکوز لینس کی منفی۔اس لیے جب ایک چشمہ ساز+2.5Dپاور کا لینس تجویز کرتا ہے تومطلوبہ لینس،فوکس فاصلہ+40cmکا ایک حدبی لینس ہوتا ہے۔(–4.0) Dپاور کے لینس کا مطلب ہے،فوکس دوری(–25 cm)کا جوفی لینس۔



مثال9.8: ایک شیشے کے لینس کی اگرf=0.5mہوتو لینس کی پاور کیا ہوگی؟(ii)ایک دوہرے حدبی لینس کے رخوں کے خمی نصف قطر10 cmاور15 cmہیں۔اس کا فوکس فاصلہ12 cmہے۔شیشہ کا انعطاف نما کیا ہے؟(iii)ایک حدبی لینس کا ہوا میں فوکس فاصلہ20cmہے۔اس کا پانی میں فوکس فاصلہ کیا ہوگا؟ (ہوا–پانی کا انعطاف نما1.33=،ہوا–شیشہ کا انعطاف نما1.5=)
حل:
(i) =+2 dioptreپاور
(ii) یہاں ہمارے پاس ہے:f=+12cm،
R2 = - 15 cm, R1 = + 10 cm , f = + 12 cm
r2 12cmہوا کے انعطاف نما کو1لیاجاتا ہے۔
ہم مساوات (9.22)کا فارمولا استعمال کرتے ہیں۔ f R1،اورR2کے لیے علامت قرارداد استعمال کرنا ہوگی۔ان کی قدروں کو مساوات(9.22)میں رکھنے پر،ہمیں حاصل ہوتا ہے:
1/12 = (n - 1) (1/10 - 1/ -15)
1 12
اس سے حاصل ہوتا ہے: n = 1.5
(iii) ہوا میں ایک شیشے کے لینس کے لیے:
f = +20 cm, n1 = 1, n2 = 1.5
F 1.5،اس لیے لینس فارمولے سے حاصل ہوتا ہے:
1/20 = 0.5 (1/R1 - 1/R2)
1.20
اسی شیشے کے لینس کے لیے،پانی میں
n1 = 1.33, n2 = 1.5
N1111111111111111111111111111111111اس لیے
(9.26)
1.33/f = (1.5 - 1.33) (1/R1 - 1/R2)
1.33 F
ان دونوں مساواتوں کو ملانے پر،ہمیں ملتا ہےf = + 78.2 cm

9.5.4 تماس میں آئے پتلے لینسوں کا اجتماع

(Combination of thin lenses in contact)

دو پتلے لینس AاورBلیجیے،جن کے فوکس فاصلے،بالترتیبf1ورf2ہیں اور جو ایک دوسرے کے ساتھ تماس (contact) میں ہیں۔فرض کیجیے شے ایک ایسے نقطہO پر رکھی ہوئی ہے جو پہلے لینس Aکے فوکس سے آگے ہے (شکل9.21)۔پہلا لینس ایکI1شبیہہہ پر بناتا ہے۔کیونکہ شبیہہI1حقیقی ہے،اس لیے یہ دوسرے لینسBکے لیے ایک غیر حقیقی شے کا کام کرتی ہےاور آخری شبیہہہIپر بنتی ہے۔لیکن یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پہلے لینس کے ذریعے شبیہہہ بننے کو صرف اس لیے فرض کیا جا رہا ہے تاکہ آخری شبیہہہ (Final Image) کے مقام کو معلوم کرنے میں سہولت رہے۔دراصل پہلے لینس سے باہر آنے والی کرنوں کی سمت وہ جس زاویے پر دوسرے لینس سے ٹکراتی ہیں،اس کے مطابق تبدیل ہوجاتی ہے۔کیونکہ دونوں لینس بہت پتلے ہیں،اس لیے ہم ان کے نوری مراکز کو ایک دوسرے پر منطبق(coincident)مان لیتے ہیں۔فرض کیجیے یہ مرکزی نقطہPسے ظاہر کیاجاتا ہے۔
AB
شکل9.21:ایک دوسرے کے تماس میں آئے دو پتلے لینسوں کے اجتماع سے شبیہہ بننا
پہلے لینسAکے ذریعے بنی شبیہہہ کے لیے،ہمیں حاصل ہوتا ہے:
1/v - 1/u = 1/f1
111ئف
(9.27)
دوسرے لینسBکے ذریعے بنی شبیہہہ کے لیے،ہمیں حاصل ہوتا ہے
       1/v - 1/v1 = 1/f2
(9.28) 111F2
مساوات(9.27)اور مساوات(9.28)کو جمع کرنے پر،حاصل ہوتا ہے
1/v - 1/u = 1/f1 + 1/f2
(9.29) 1111F2
اگردولینس–نظام کو فوکس دوریfکے ایک واحد لینس کے مرادف مانا جائے،تو ہمارے پاس ہے:
1/v - 1/u = 1/f
111VUF
اس لیے ہمیں حاصل ہوتا ہے:
1/f =1/f1 + 1/f2
(9.30) 111F2 1
مشتق کرنے کا یہ طریقہ،ایک دوسرے کے تماس میں آئے،پتلے لینسوں کی کسی بھی تعداد کے لیے درست ہے۔اگر فوکس فاصلے:1کے متعدد لینس ایک دوسرے سے تماس میں ہیں تو ان کے اجتماع کا موثر فوکس فاصلہ دیاجاتا ہے:
1/f =1/f1 + 1/f2 + 1/f3
(9.31) 2

پاور کی شکل میں، مساوات (9.31) لکھی جاسکتی ہے:
(9.32)
P = P1 + P2 + P3+ ......
p1
جہاں P لینسوں کے اجتماع کی کل پاور ہے۔ نوٹ کریں کہ مساوات (9.32) میں حاصل جمع، انفرادی پاوروں کا الجبریائی حاصل جمع ہے، اس لیے دائیں جانب کے کچھ ارکان مثبت ہوسکتے ہیں (حدبی لینسوں کے لیے) اور کچھ منفی (جوفی لینسوں کے لیے)۔ لینسوں کے اجتماع سے درکار تکبیر کے مرکوز اور غیرمرکوز لینس حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے شبیہہ کے نمایاں ہونے (Sharpness) میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلے لینس کے ذریعے بنی شبیہہ دوسرے لینس کے لیے شے بن جاتی ہے۔ مساوات (9.25) سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اجتماع کی کل تکبیر m، انفرادی لینسوں کی تکبیر(.....m1,m2,m3,)p2حاصل ضرب ہے۔

(9.33)
m = m1, m2,m3.....    
p3
لینسوں کے اجتماع کا ایسا نظام، کیمروں، خوردبینوں، دوربینوں اور دوسرے نوری آلات کے لینسوں کو ڈیزائن کرنے میں، عام طور سے استعمال کیا جاتا ہے۔

مثال 9.9: شکل 9.22 میں دکھائے گئے لینس۔ اجتماع کے ذریعے بنی شبیہہ کا مقام معلوم کیجیے۔
حل: پہلے لینس کے ذریعے بنی شبیہہ:
f = + 10, - 10         + 30 cm
p4
شکل 9.22

1/v1 - 1/u1 = 1/f1
1/u1 - 1/ -30 = 1/10
p5
یا
v1 = 15 cm
p6
پہلے لینس کے ذریعے بنی شبیہہ دوسرے لینس کے لیے شے کا کام کرتی ہے۔ یہ دوسرے لینس کے دائیں جانب اس سے
 (15 - 5) cm = 10 cm
p7کے فاصلے پر ہے۔ حالانکہ شبیہہ حقیقی ہے، یہ دوسرے لینس کے لیے ایک غیر حقیقی شے کا کام کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ دوسرے لینس کے لیے، اس سے کرنیں آتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔
1/v2 - 1/10 = 1/ -10
p8
یا
v2 = ∞
p9
غیرحقیقی شبیہہ، دوسرے لینس کے بائیں طرف، اس سے لامتناہی فاصلے پر بنتی ہے۔ یہ تیسرے لینس کے لیے ایک شے کا کام کرتی ہے۔
1/v3 - 1/u3 = 1/f3
p10
یا
1/v3 = 1/∞ + 1/30
p11
یا
v3 = 30 cm
p12
اختتامی شبیہہ، تیسرے لینس کے دائیں طرف، اس سے 30cm کے فاصلے پر بنتی ہے۔

9.6 ایک منشور سے انعطاف (Refraction through a Prism)

p16

شکل 9.23: ایک مثلث نما شیشے کے پرزم سے گزرتی ہوئی روشنی کی ایک کرن


شکل 9.23 میں ایک مثلث نما منشور (Trianglular prism) ABC سے روشنی کا گزرنا دکھایا گیا ہے۔ پہلے رخ AB پر شکل 9.23 میں ایک مثلث نما منشور (Trianglular prism) ABC سے روشنی کا گزرنا دکھایا گیا ہے۔ پہلے رخ AB پر زاویہ وقوع اور زاویہ انعطافi اور r1ہیں جب کہ دوسرے رخ AC پر زاویہ وقوع (شیشے سے ہوا میں) r2ہے اور زاویہ انعطاف یا زاویہ نمود (Emergence) eہے۔ نمودی کرن (Emergent ray) RS اور واقع کرن PQ کی سمت کے درمیان زاویہ، زاویہ انحراف dکہلاتا ہے۔
چار ضلعی (Quadrilateral) AQNR میں دو زاویے (Q اور R راسوں پر)، قائم زاویہ ہیں۔ اس لیے چار ضلعی کے باقی دوزاویوں کا حاصل جمع 180º ہے۔
∠A + ∠δNR = 180°
p13
مثلث QNR سے:
r1 +r2 + ∠δNR = 180°
p14
ان دونوں مساواتوں کا مقابلہ کرنے پر، ہمیں حاصل ہوتا ہے:
(9.34)
r1 +r2 =A
p15
کل انحراف8,دونوں رخوں پر پیدا ہوئے انحراف کا حاصل جمع ہے:
یعنی کہ
℘ = (i - r1) + (e - r2)
(9.35) p17

p18

شکل 9.23: ایک مثلث نما شیشے کے پرزم سے گزرتی ہوئی روشنی کی ایک کرن

اس لیے، زاویہ انحراف، زاویہ وقوع پر منحصر ہے۔ زاویہ انحراف اور زاویہ وقوع کے درمیان ایک گراف شکل 9.24 میں دکھایا گیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ، عموعی طور پر،8,کی کوئی بھی دی ہوئی قدر، سوائے i=eکے، i کی اور اس لیے e کی دو قدروں کےمطابق ہے۔ یہ، دراصل، مساوات (9.35) میں i اور e کے تشاکل سے، یعنی کہ، اگر i اور eکو آپس میں بدل دیا جائے تو8,وہی رہتا ہے،، امید بھی کی جاتی ہے۔ طبعی طور پر اس کا تعلق اس حقیقت سے ہے کہ شکل (9.23)میں دکھائےگئےکرن راستے کو واپس طے کیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں یکساں زاویہ انحراف حاصل ہوگا۔ اقل انحراف (minimum deviation) p23پر، پرزم کے اندر منعطف کرن پرزم کے قاعدہ (Base) کے متوازی ہوجاتی ہے۔
ہمارے پاس ہے:
,i = e ,℘ = Dm
p24، جس سے اخذ کیا جاسکتا ہے: r1= r2
مساوات (9.34) سے حاصل ہوتا ہے:
(9.36)
r = A/2 یا 2r = A
p19
اسی طرح، مساوات (9.35) سے حاصل ہوتا ہے:
i = A +D/2 یا Dm = 2i - A
(9.37) p20
پرزم کا انعطاف نما ہے:

(9.38)
n21 = n2/n1 = sin [(A + Dm)/21/sin [A/2]
p21
زاویہ Aاور زاویہp23جربے کے ذریعے ناپے جاسکتے ہیں۔ اس طرح مساوات (9.38) پرزم کے مادے کا انعطاف نما معلوم کرنے کا طریقہ فراہم کرتی ہے۔
ایک چھوٹے زاویے کے پرزم، یعنی کہ ایک پتلے پرزم کے لیےp23ھی بہت چھوٹا ہوگا اور ہمیں حاصل ہوتا ہے:
n21 = sin[ (A + Dm)/2 ]/sin [A/2] = (A + Dm)/2 /A/2

p22
اس کا مطلب ہوا کہ پتلے پرزم روشنی کو زیادہ منحرف نہیں کرتے۔

9.7 سورج کی روشنی کے کچھ قدرتی مظاہر

(Some Natural Phenomena due to Sunlight)

اب ہم جانتے ہیں کہ رنگ روشنی کی طولِ لہر سے منسلک ہے۔ بصارتی طیف میں، لال روشنی لمبے طولِ لہر سرے(nm 700 ~ )p25پر ہوتی ہے جب کہ اودی روشنی، مختصر طولِ لہر سرے(  nm400~)p26پر ہوتی ہے۔ انکسار اس لیے ہوتا ہے کیونکہ مختلف طولِ لہر (رنگوں) کے لیے واسطے کا انعطاف نما مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً، سفید روشنی کا لال جز سب سے کم مڑتا ہے جب کہ اودا جز سب سے زیادہ مڑتا ہے۔ مثال کے طور پر، شیشے کے پرزم میں لال روشنی، اودی روشنی سے زیادہ تیزی سے گزرتی ہے۔ جدول 9.2 میں کراؤن شیشہ اور فلنِٹ(Flint) شیشہ کے مختلف طولِ موج کے لیے انعطاف نما دیے گئے ہیں۔ موٹے لینسوں کو کئی پرزموں سے بنا ہوا مانا جاسکتا ہے، اس لیے موٹے لینسوں میں روشنی کے انکسار کی وجہ سے رنگی فتور (Chromatic aborration) پیدا ہوجاتا ہے۔ جب سفید روشنی موٹے لینسوں سے گزرتی ہے تو لال اور نیلے رنگ مختلف نقطوں پر فوکس ہوتے ہیں۔ یہ مظہر رنگی فطور کہلاتا ہے ۔

جدول 9.2: مختلف طولِ لہر کے لیے انعطاف نما

رنگ

طولِ لہر (nm)

کراؤن شیشہ

فلنٹ شیشہ

اودا
نیلا
پیلا
لال
396.9
486.1
589.3
656.3
1.533
1.523
1.517
1.515
1.669
1.639
1.627
1.622

طولِ موج کے ساتھ انعطاف نما کی تبدیلی کچھ واسطوں میں دوسرے واسطوں سے زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔ خلامیں، بے شک، روشنی کی شال طولِ لہر کے تابع نہیں ہے۔ اسی لیے خلا (یاتقربی طور پر ہوا) ایک غیر انکساری واسطہ (Non dispersive medium) ہے، جس میں تمام رنگ یکساں چال سے سفر کرتے ہیں۔ یہ اس حقیقت سے بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سورج کی روشنی ہم تک سفید روشنی کی شکل میں پہنچتی ہے، اس کے اجزا کی شکل میں نہیں۔ دوسری طرف، شیشہ ایک انکساری واسطہ ہے۔

روشنی اور ہمارے اردگرد کی اشیا کے باہم عمل سے کئی خوبصورت مظاہر سامنے آتے ہیں۔ ہم اپنے اردگرد ہر وقت جو رنگوں کی دنیا دیکھتے ہیں یہ صرف سورج کی روشنی کی وجہ سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ آسمان کی نیلاہٹ، سفید بادل، طلوعِ آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سرخی، دھنک، کچھ موتیوں، سیپوں اور پرندوں کے پروں کے چمکدار رنگ، ان قدرتی عجوبوں میں سے چند ہیں، جن کے ہم عادی ہوچکے ہیں۔ یہاں ہم ان میں سے کچھ کو طبیعیات کے نقطۂ نظر سے بیان کریں گے۔

9.7.1 دھنک

دھنک فضا میں پانی کے قطروں کے ذریعے سورج کی روشنی کے انکسار کی ایک مثال ہے۔ یہ ایک ایسا مظہر ہے جو بارش کے کروی قطروں کے ذریعے سورج کی روشنی کے انکسار،ا نعطاف اور انعکاس کے مجموعی اثرات کی وجہ سے رونما ہوتا ہے۔ ایک دھنک کے دکھائی دینے کے لیے شرائط ہیں کہ آسمان کے ایک حصے میں سورج چمک رہا ہو (فرض کیجیے مغربی افق کے نزدیک)، جب کہ آسمان کے مخالف حصے میں (فرض کیجیے مشرقی افق) میں بارش ہو رہی ہو۔ اس لیے ایک مشاہد صرف اسی وقت دھنک دیکھ سکتا ہے جب اس کی پیٹھ سورج کی جانب ہو۔

دھنک کے بننے کے عمل کو سمجھنے کے لیے شکل 9.25(a) دیکھیے۔ سورج کی روشنی جب بارش کے قطرے میں داخل ہوتی ہے تو پہلے منعطف ہوتی ہے، جس کی وجہ سے سفید روشنی کی مختلف طولِ لہر (رنگ) علاحدہ ہوجاتی ہیں۔ روشنی کی مقابلتاً لمبی طولِ لہر (لال) سب سے زیادہ مڑتی ہیں جب کہ مقابلتاً مختصر طولِ لہر (اودی) سب سے کم مڑتی ہیں۔ اس کے بعد کرن کے یہ جز پانی کے قطرے کی اندرونی سطح سے ٹکراتے ہیں اور اگر منعطف کرن اور قطرے کی سطح پر عماد کے درمیان زاویہ، فاصل زاویہ (اس صورت میں 48º) سے بڑا ہوتا ہے تو ان کا مکمل اندرونی انعطاف ہوتا ہے۔ منعکس روشنی جب قطرے سے باہر آتی ہے تو دوبارہ منعطف ہوتی ہے، جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ اندر آتی ہوئی سورج کی روشنی کی مناسبت سے اودی روشنی 40º کے زاویہ پر نمود ہوتی ہے اور لال روشنی 42º کے زاویہ پر۔ دوسرے رنگوں کے لیے زاویے ان دونوں قدروں کے درمیان ہوتے ہیں۔

شکل 9.25(b)، ابتدائی دھنک (Primary rainbow) کی تشکیل کی وضاحت کرتی ہے۔ اس شکل میں ہم دیکھتے ہیں کہ قطرہ 1 سے لال روشنی اور قطرہ 2 سے اودی روشنی مشاہد کی آنکھ تک پہنچتی ہیں۔ قطرہ 1 سے اودی روشنی اور قطرہ 2 سے لال روشنی، مشاہدہ کی سطح سے اوپر یا نیچے کی سمت میں ہیں۔ اس لیے مشاہد ایک ایسی دھنک دیکھتا ہے جس میں لال رنگسب سے اوپر اور اودا رنگ سب سے نیچے ہوتا ہے۔ ابتدائی دھنک، تین اقدام پر مشتمل عمل کا نتیجہ ہے، جو ہیں: انعطاف، انعکاس اور انعطاف۔

سورج کی روشنی
بارش کے قطرے
لال روشنی
بنفسی روشنی
مشاہد
بارش کا قطرہ
سورج کی روشنی

p27

شکل 9.25:دھنک: (a) پانی کے قطرے پر واقع سورج کی کرنیں ایک قطرے پر واقع سورج کی کرنیں ایک قطرے سے دو مرتبہ منعطف ہوتی ہیں اور اندرونی طور پر منعکس ہوتی ہیں(b)ایک ابتدائی دھنک میں، ایک قطرے کے اندر ایک روشنی کی کرن کے اندرونی انعکاس میں انعطاف کا تکبیر شدہ (Magnified)منظر (c)ثانوی دھنک وہ کرنیں تشکیل دیتی ہیں جن کا قطرے کے اندر دہ مرتبہ مکمل اندرونی انعکاس ہوتا ہے ۔

جب روشنی کی کرنیں قطرے کے اندر، ایک مرتبہ کی بجائے (جیسے پرائمری دھنک کی صورت میں تھا) دو مرتبہ اندرونی طور پر منعکس ہوتی ہیں تو ایک ثانوی دھنک بنتی ہے، جیسا کہ شکل 9.25(c) میں دکھایا گیا ہے۔ یہ چار اقدامات پر مشتمل عمل کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دوسرے انعکاس سے روشنی کی شدت کم ہوجاتی ہے، اس لیے ثانوی دھنک، ابتدائی دھنک کے مقابلے میں دھندلی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ رنگوں کی ترتیب بھی الٹ جاتی ہے، جیسا کہ شکل 9.25(c) میں واضح کیا گیا ہے۔

9.7.2 روشنی کاانتشار (Scattering of light)

جب سورج کی روشنی زمین کے کرہ باد (فضا Atmosphere) سے گزرتی ہے تویہ کرہ باد کے ذرات کے ذریعہ منتشر (Scattered) ہوجاتی ہے (یعنی کہ اپنی سمت تبدیل کرلیتی ہے)۔ مقابلتاً مختصر طول لہر کی روشنی مقابلتاً طویل طولِ لہر کی روشنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ منتشر ہوتی ہے۔]انتشار کی مقدار طولِ لہر کی چوتھی قوت کے مقلوب متناسب ہوتی ہے۔ یہ ریلے انتشار (Rayleigh Scattering) کہلاتا ہے[۔ اس لیے صاف آسمان میں نیلگوں رنگ سب سے زیادہ حاوی رہتا ہے کیونکہ نیلے رنگ کی طولِ لہر لال رنگ سے کم ہے اور یہ کہیں زیادہ منتشر ہوتا ہے۔ دراصل، اودا، نیلے سے بھی زیادہمنتشر ہوتا ہے کیونکہ اس کی طولِ لہر نیلے سے بھی کم ہے۔ لیکن کیونکہ ہماری آنکھیں اودے کے مقابلے میں نیلے رنگ کے لیے زیادہ حساس ہیں، اس لیے ہمیں آسمان نیلا نظر آتا ہے۔

بڑے ذرات، جیسے دھول کے ذرات اورپانی کے قطرے، جو کرہ باد میں موجود ہوتے ہیں، مختلف طور پر برتاؤ کرتے ہیں۔ یہاں پر بامعنی مقدار، روشنی کی طولِ موج اور انتشار کار کا نسبتی سائز ہے ]انتشار کار (Scatterer) کا مخصوص سائز فرض کیا a ہے[۔ λ >>a p29کے لیے ریلے انتشار ہوتا ہے جو4(λ/1)p30کے متناسب ہے۔p29کے لیے، یعنی کہ اانتشار کرنے والی بڑی اشیا کے لیے (مثلاً بارش کے قطرے، دھول یا برف کے بڑے ذرات) یہ درست نہیں ہے، ان سے تمام طولِ لہر تقریباً مساوی طور پر منتشر ہوتی ہیں۔ اس لیے بادل جن میں پانی کے ایسے قطرے ہوتے ہیں، جن کے لیے  λ >>ap29عام طور سے سفید ہوتے ہیں۔
غروبِ آفتاب اور طلوعِ آفتاب کے وقت سورج کی کرنوں کو فضا میں مقابلتاً زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے (شکل 9.26)۔ نیلی اور اس سے چھوٹی طولِ لہر کا زیادہ تر حصہ انتشار سے غائب ہوجاتا ہے۔ اس لیے سب سے کم منتشر ہوئی روشنی ہماری آنکھ تک پہنچتی ہے اور سورج لال نما معلوم ہوتا ہے۔ اس سے سورج کے اور افق کے قریب پورے چاند کے لال نظر آنے کی وضاحت ہوتی ہے۔

9.8 نوری آلے (Optical Instruments)

آئینوں، لینسوں اور منشوروں (پرزم) کی انعکاسی اور انعطافی خاصیتوں کو استعمال کرتے ہوئے بہت سے نوری آلات اور اوزار ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ پیرسکوپ (periscope)، اشکال نما (کلیڈ اسکوپ Kaleidoscope)، دوچشمی (بائنوکلر Binoculars)، دوربین (ٹیلسکوپ Telescope)، خوردبیٖن (مائیکرو اسکوپ Microscope) ان نوری آلات اور اوزاروں کی کچھ مثالیں ہیں جو عام طور سے استعمال ہوتے ہیں۔ ہماری آنکھ، بلاشبہ، ایک اہم ترین نوری آلہ ہے جو قدرت نے ہمیں عطا کیا ہے۔ آنکھ سے شروع کرتے ہوئے ہم خوردبین اور دوربین کے کام کرنے کے اصول بیان کریں گے۔

9.8.1 خورد بین(The microscope)

ایک سادہ تکبیر کار(magnifier)یا خوردبین(مائیکرواسکوپMicroscope)ایک کم فوکس فاصلہ کا مرکوز لینس ہے(شکل9.27)۔ایسے لینس کو ایک خوردبین کے بطور استعمال کرنے کے لیے لینس کو شے کے نزدیک رہ جاتا ہے،ایک فوکس فاصلہ دوری پر یا اس سے کم اور آنکھ کو لینس کی دوسری طرف لینس سے نزدیک رکھا جاتا ہے۔کوشش یہ ہے کہ ایک سیدھی،تکبیر شدہ اور غیر حقیقی شبیہہ اتنے فاصلے پر بنے کہ آرام سے دیکھی جاسکے،یعنی کہ25 cmیا اس سے زیادہ فاصلے پر۔اگر شے کی دوری fہے تو شبیہہ لامتناہی فاصلے پر بنے گی۔لیکن اگر شے لینس کے فوکس فاصلے سے کچھ ہی کم فاصلے پر رکھی جائے تو شبیہہ غیر حقیقی ہوگی اور اور بہت دور لیکن متناہی فاصلے پر بنے گی۔حالانکہ شبیہہ کو آرام سے دیکھنے کے لیے کم ترین فاصلہ وہ ہے جب شبیہہ نزدیکی نقطے(فاصلہ،p32پر بنے،لیکن پھر بھی اس نقطہ پر بنی شبیہہ کو دیکھنے میں آنکھ پر کچھ زور پڑتا ہے۔اس لیے لامتناہی فاصلے پر بنی شبیہہ کو سمجھاجاتا ہے کہ یہ آنکھ پر بغیر کوئی زور ڈالے،شبیہہ کو دیکھنے کے لیے،سب سے زیادہ مناسب ہے۔ہم نے یہ دونوں صورتیں دکھائی ہیں،پہلی شکل9.27 (a)میں اور دوسری شکل(b) 9.27 اورشکل9.27 (c)میں۔

لامتناہی فاصلے پر فوکس آنکھ
p31
نزدیکی نقطہ پر فوکس آنکھ

شکل9.27 ایک سادہ خوردبین(b)تکبیری لینس ایسے مقام پر رکھا گیا ہے کہ شبیہہ نزدیکی نقطہ پر بنے(b)شے کے ذریعے بنایا گیا زاویہ وہی ہے جونزدیکی نقطہ پر ہے(c)شے لینس کے فوکس نقطہ کے نزدیک ہے،شبیہہ بہت دور بن رہی ہے لیکن متناہی فاصلے پر۔

ایک سادہ خوردبین سے نزدیکی نقطےDپر بنی شبیہہ کے لیے خطی تکبیرm،مندرجہ ذیل رشتہ استعمال کرکے،معلوم کی جاسکتی ہے:
m = v/u = v (1/v - 1/f) = (1 - v/f)
p33
ہماری علامت قرارداد کے مطابق،v منفی ہے اور عددی قدر میںDکے مساوی ہے۔اس لیے تکبیر ہے:
m = (1 + D/f)
(9.39) p34
کیونکہ Dتقریباً 25 cmہے،اس لیے اگرتکبیر کی قدر6درکار ہوتوf=5 cmفوکس فاصلہ کا ایک حدبی لینس چاہیے ہوگا۔
نوٹ کریں کہ m = h′/h،جہاںhشے کا سائز ہے او ر h′شبیہہ کا سائز ہے۔یہ شبیہہ کے ذریعے بنائے گئے زاویہ کی شے کے ذریعے بنائے گئے زاویہ سے نسبت بھی ہے،جب کہ سہولت کے ساتھ دیکھنے کے لیے اسے Dپر کھا گیا ہو–[نوٹ کیجیے کہ یہ شے کے ذریعے آنکھے پر بنایاگیا اصل زاویہ نہیں ہے،جو کہ h/uہے۔]ایک واحد لینس سادہ تکبیر کار دراصل یہ کرتا ہے کہ شے کوDسے کم فاصلے پر لانے دیتا ہے۔اب ہم اس صورت میں تکبیر معلوم کریں گے جب کہ شبیہہ لامتناہی فاصلے پر بن رہی ہے۔اس صورت میں ہمیں زاویائی تکبیر معلوم کرنا ہوگی۔فرض کیجیے کہ شے کی اونچائیhہے۔وہ اعظم زاویہ،(maximum angle)جو یہ آنکھ پر بناسکتی ہے کہ واضح طورپر نظر آئے(بغیر لینس کے)،اس وقت بنے گا جب یہ قریبی نقطہ پر ہو،یعنی کہ،فاصلہDپر۔اس صورت میں بنا ہوا زاویہ ہوگا:

tan  θ° = (h/D) =   θ° 
p35
(9.40)

اب ہم شبیہہ کے ذریعے آنکھ پر بنا زاویہ معلوم کرتے ہیں،جب کہ شے uپر ہے۔مندرجہ ذیل رشتوں سے:
h'/h = m = v/u
p36
شبیہہ کے ذریعے بنایاگیا زاویہ حاصل ہوتا ہے: 
tan θt = h'/-v = h/-v. v/u = h/-u ≅θ 
p37شے کے ذریعے بنایاگیا زاویہ جب کہ شےu = – fپر ہے
θi = (h/f)
(9.41) p38
جیسا کہ شکل9.27 (c)سے واضح ہوجاتا ہے۔اس لیے زاویائی تکبیر ہے:
m = (θi°) = D/f
(9.42) p39
یہ اس تکبیر سے ایک کم ہے جو شبیہہ کے نزدیکی نقطہ پر بننے سے حاصل ہوتی ہے،لیکن دیکھنے میں کہیں زیادہ سہولت ہوتی ہے اور تکبیر میں فرق عام طورپر سے کم ہی ہوتا ہے۔نوری آلات سے آگے کی جانے والی بحث میں(خوردبین اور دوربین سے)ہم شبیہہ کو لامتناہی فاصلے پر مانیں گے۔
ایک سادہ مائیکروسکوپ(خوردبین)سے حاصل ہونے والی تکبیر،حقیقی فوکس لمبائیوں کے لیے محدود ہوتی ہے 999999999999999999999999۔ اس سے کہیں زیادہ تکبیر حاصل کرنے کے لیے ہم دولینس استعمال کرتے ہیں،جس میں ایک لینس دوسرے لینس کے اثر کو مرکب کرتا ہے۔اسے مرکب خوردبین کہتے ہیں۔ ایک مرکب خوردبین (Compound Microscope)کی ایک خاکہ ڈائیگرام شکل9.28میں دکھائی گئی ہے۔ وہ لینس جو شے سے سب سے قریب ہوتا ہے،بینیہ کہلاتا ہے۔ بینیہ (objective) شے کی ایک حقیقی،الٹی،تکبیر شدہ شبیہہ بناتا ہے۔یہ شبیہہ دوسرے لینس کے لیے،جو چشمیہ(eye piece)کہلاتا ہے،شے کا کام کرتی ہے۔چشمیہ جو ایک سادہ خوردبین یاتکبیرکار کی طرح کام کرتا ہے،آخری شبیہہ بناتا ہے جو بڑی(تکبیر شدہ)اور غیر حقیقی ہوتی ہے۔پہلی الٹی شبیہہ،اس لیے،چشمیہ(eye piece)کے فوکس مستوی کے نزدیک(فوکس مستوی پر یا اس کے اندر) بنتی ہے۔یہ ایسا فاصلہ ہوتا ہے جو لاانتہا پر آخری شبیہہ بننے کے لیے مناسب ہوتا ہے یا نزدیکی نقطے پر شبیہہ بننے کے لیے اس سے کچھ قریب ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ آخری شبیہہ،شے کی مناسبت سے الٹی ہوتی ہے۔

p40
شکل9.28: ایک مرکب خوردبین سے شبیہہ بننے کے لیے کرن ڈائیگرام

اب ہم ایک مرکب خوردبین سے حاصل ہونے والی تکبیر معلوم کرتے ہیں۔شکل9.28کی کرن ڈائیگرام سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ بینیہ کی وجہ سے تکبیر(خطی)،یعنی کہh′/h,مساوی ہے:
(9.43)
m° = h'/h = L/f°
p41
جہاں ہم نے مندرجہ ذیل نتیجہ استعمال کیا ہے:
  • tan ß = (h/f°) = (h'/L)
p42
جہاں ′hپہلی شبیہہ کا سائز ہے،شے کا سائز hہے اورf°p47بینیہ کا فوکس فاصلہ ہے۔پہلی شبیہہ، چشمیہ کے فوکس کے نزدیک بنتی ہے۔فاصلہL،یعنی کہ بینیہ کے دوسرے فوکس نقطہ اور چشمیہ(جس کا فوکس فاصلہfeہے)کے پہلے فوکس نقطہ کے درمیان فاصلہ،مرکب خوردبین کی نلی لمبائی(tube length)کہلاتی ہے۔
کیونکہ پہلی الٹی شبیہہ چشمیہ کے فوکس نقطہ کے قریب ہوتی ہے،ہم اس کے ذریعے پیدا ہوئی تکبیر(زاویائی meمعلوم کرنے کے لیے،سادہ مائیکروسکوپ کی اوپر دی ہوئی بحث کا نتیجہ استعمال کرتے ہیں[مساوات9.39]،جب آخری شبیہہ نزدیکی نقطے پر بنتی ہے

[9.44(a)]
me = (1 + D/fe)
p43
جب آخری شبیہہ لاانتہا پر بنتی ہے،تو چشمیہ کی وجہ سے زاویائی تکبیر ہے[مساوات9.42]:
me = (D/fe)
[9.44(b)] p45

اس لیے کل تکبیر[مساوات(9.33)کے مطابق]،جب کہ آخری شبیہہ لاانتہا پر ہے
(9.45)
m = m°me = (L/f°)  (D/fe)
p44
ظاہر ہے کہ اگر ایک چھوٹی شے کی بہت زیادہ تکبیر حاصل کرنا ہو(اسی لیے نام خوردبین دیاگیا ہے)،توبینیہ اور چشمیہ کے فوکس فاصلے چھوٹے ہونے چاہئیں۔عملی طورپر،1 cmسے بہت کم فوکس فاصلہ کا لینس بنانا بہت مشکل ہوتا ہے۔مزیدیہ کہ Lکو بڑا بنانے کے لیے بھی بڑے لینس چاہیے ہوتے ہیں۔
مثال کے طورپر،اگر ایک بینیہ کا فوکس فاصلہ
f° = 1.0 cm
99999999999999999و اور چشمیہ کا فوکس فاصلہ
fe = 2.0 cm
99999999ہو اور ٹیوب لمبائی20 cmہو،تو تکبیر ہوگی
m = m°me = (L/f°) (D/fe)
= 20/1 × 25/2 =250
p48
بہت سے دوسرے عوامل،جیسے شے کی روشنی(illumination)،شبیہہ کی کیفیت اور رویت(visibility)پر اثر ڈالتے ہیں۔جدید خوردبینوں میں مختلف بصری نقائص کو کم کرکے شبیہہ کی کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے،بینیہ اور چشمیہ دونوں کے لیے کثیر جزوی لینس(Multi–component lenses )استعمال کیے جاتے ہیں۔

9.8.2دوربین(Telescope)

دوربین فاصلہ پر رکھی اشیا کی زاویائی تکبیر حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے(شکل9.29)۔اس میں بھی ایک بینیہ اور ایک چشمیہ ہوتی ہے۔لیکن یہاں چشمیہ کے مقابلے میں بینیہ کا فوکس فاصلہ اور روزن(aperture)بہت زیادہ ہوتے ہیں۔بہت دور رکھی شے سے آرہی روشنی بینیہ میں داخل ہوتی ہے اور ٹیوب میں اس کے دوسرے فوکس نقطہ پر ایک حقیقی شبیہہ بنتی ہے۔چشمیہ اس شبیہہ کی تکبیر کرتا ہے اور ایک آخری الٹی شبیہہ بناتا ہے۔تکبیری پاورm،آخری شبیہہ کے ذریعے آنکھ پر بنائے گئے زاویہbکی،شے کے ذریعے لینس یا آنکھ پر بنائے گئے زاویہa،سے نسبت ہے۔اس لیے:
m ≈ β/α ≈ h/fe . f°/h = f°/fe
p49
(9.46)
اس صورت میں،خوردبین کی ٹیوب کی لمبائی
f° + fe
p50ہے۔
ارضی دوربینوں(Terrestrial telescopes) میں،آخری شبیہہ کو سیدھا بنانے کے لیے،ان کے علاوہ الٹا کرنے والے لینسوں(inverting lenses)کا ایک جوڑا اور ہوتا ہے۔انعطافی دوربینیں ارضی اور آفاقی دونوں مشاہدات کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔مثال کے طورپر ایک دوربین لیجیے،جس کے بینیہ کی فوکس دوری 100 cmہے اور چشمیہ کی فوکس دوری 1 cmہے۔ اس دوربین کی تکبیری پاور m = 100/1 = 100ہے
آئیے تاروں کا ایک جوڑا لیں،جن کے درمیان اصل فاصلہ1¢(قوس
کا ایک منٹ) ہے۔یہ معلوم ہوتا ہے کہ تارے زاویہ:100 × ′1 = ′100 =1.67ºسے ایک دوسرے سے علاحدہ ہیں۔
ایک آفاقی دوربین کے لیے خاص باتیں،جن کا لحاظ رکھنا ہوتا ہے،اس کی روشنی اکٹھا کرنے کی پاور اور اس کا جز تجزیہ(Resolution)یا جزتجزیاتی طاقت(Resolving power)ہیں۔بڑے قطروں کے لینسوں سے مقابلتاً دھندی (ہلکیfaint)اشیا کو دیکھاجاسکتا ہے۔جز تجزیاتی طاقت یا دو اشیا ،جو تقریباً ایک ہی سمت میں ہوں،کو علاحدہ علاحدہ واضح دیکھنے کی صلاحیت،بینیہ کے قطر پر بھی منحصر ہے۔اس لیے نوری دوربینوں کو بنانے میں کوشش یہ کی جاتی ہے کہ ان کے بینیہ کا قطر بڑا ہو۔آج کل استعمال ہونے والی دوربینوں میں جو سب سے بڑا بینیہ لینس لگا ہے،اس کا قطر 40انچ (~1.02 m)ہے۔یہ دوربین یر کس آبزرویٹری(Yerkes Observatory)،وس کن سن (Wisconsin)، امریکہ (USA)میں ہے۔اتنے بڑے لینس بہت زیادہ وزنی ہوجاتے ہیں،اس لیے انھیں بنانا اور کناروں پر سہارا دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔مزید یہ کہ اتنے بڑے سائز کے ایسے لینس بنانا جن سے بننے والی شبیہہ میں کوئی رنگین نقص یا گڑبڑی نہ ہو،بہت مشکل اور مہنگا ہوتا ہے۔

ان وجوہات سے،جدید دوربینوں میں بینیہ کے لیے لینس کی جگہ ایک جوفی آئینہ استعمال کیاجاتا ہے۔آئینہ بینیہ والی دوربیٖن انعکاسی دوربینیں(reflecting telescopes)کہلاتی ہیں۔میکانیکی سہارے کا مسئلہ بھی بہت کم ہوجاتاہے کیونکہ ایک آئینے کا وزن،مرادف نوری کوالٹی کے لینس کے وزن سے بہت کم ہوتا ہے اور اسے اس کی پوری پچھلی سطح پر سہارادیا جاسکتا ہے،جب کہ لینس کو صرف اس کے گھیرے(rim)پر ہی سہارا دیاجاسکتا ہے۔انعکاسی دوربین کے ساتھ ایک مسئلہ،ظاہر ہے،یہ ہے کہ بینیہ آئینہ دوربین کے اندر روشنی کو فوکس کرتا ہے۔اس لیے چشمیہ اور مشاہد کو وہیں پر ہی ہونا چاہیے،جس سے کچھ روشنی رک جاتی ہے(جو کہ مشاہدہ پنجرے(observer cageکے سائز پر منحصر ہے)۔بہت بڑی 200انچ(~5.08 m)قطر کی ماؤنٹ پیلومردوربین کیلیفورنیا(Mt. Palomar telescope, California) میں ایسا ہی کیاجاتا ہے۔مشاہد،ایک چھوٹے پنجرے میں آئینے کے فوکس نقطہ کے نزدیک بیٹھتا ہے۔اس مسئلہ کا دوسرا حل یہ ہے کہ فوکس کی جارہی روشنی کو ایک دوسرے آئینے کے ذریعے منفرج (deflect) کیاجائے۔ایسی ایک ترتیب(انتظامarrangement)،جس میں واقع روشنی کو فوکس کرنے کے لیے ایک ثانوی آئینہ استعمال کیاجاتا ہے،جب کہ یہ روشنی اب بینیہ ابتدائی آئینے میں بنے ایک سوراخ سے گذرتی ہے،شکل9.33 میںدکھائی گئی ہے۔اسے،اس کے موجد کے نام پر کیسیگرین دوربین(Cassegrain telescope)کہتے ہیں۔اس میں فائدہ یہ ہے کہ چھوٹی دوربین میں بڑا فوکس فاصلہ حاصل کیاجاسکتا ہے۔ہندوستان میں سب سے بڑی دوربین کا والور،تامل ناڈو(Kavalur, Tamil Nadu)میں ہے،یہ 2.34 mقطر کی انعکاسی دوربین ہے (کیسیگرین Cassegrain)–یہ (Indian Institute of Astrophysics, Bangalore)کے ذریعے لگائی گئی،پالش کی گئی اور استعمال کی جاتی ہے۔دنیا میں سب سے بڑی دوربینیں،ہوائی(Hawaii)،امریکہ(USA)میں کیک دوربینوں(Keck telescopes)کا ایک جوڑا ہے،جس کا انعکاس کار(Reflector)قطر میں10میٹر ہے۔

بینیہ آئینہ 
ثانوی آئینہ
چشمیہ
p55

شکل9.33:ایک انعکاسی دوربین کیسپگرین(Cassegrain)کا خاکہ ڈائیگرام

خلاصہ

1۔  انعکاس، مساوات :
∠i = ∠r'
 p56کے تحت ہوتا ہے اور انعطاف اسنیل کے قانونsini/sinr = nکے تحت ہوتا ہے اور واقع کرن،منعکس کرن،منعطف کرن اور عماد ایک ہی مستوی میںہوتے ہیں۔ زاویہ وقوع،زاویہ انعکاس اور زاویہ انعطاف،بالترتیب، i،r ¢اور rہیں۔
ایک ایسی کرن کے لیے جو ایک مقابلتاً کثیف واسطے سے مقابلتاً لطیف واسطے پر واقع ہے،وقوع کا فاصل زاویہ icوہ زاویہ ہے،جس کے لیے زاویہ انعطاف90ºہے۔
i > ic
p57کے لیے مکمل اندرونی انعکاس ہوتا ہے۔ہیرے میں کثیر اندرونی انعکاسات(Multiple internal reflections)
(ic = ≅ 24.4°)
p58مکمل انعکاسی پرزم(totally reflecting prisms)اور سراب (mirage) مکمل اندرونی انعکاس کی کچھ مثالیں ہیں۔نوری ریشے،ایسے شیشے کے ریشوں پر مشتمل ہوتے ہیں جن پر مقابلتاً کم انعطاف نما کے مادے کی تہہ چڑھی ہوتی ہے۔ایک سرے پر ایک زاویہ پر واقع روشنی،دوسرے سرے سے،کثیر اندرونی انعکاسات کے بعد،باہر آتی ہے،چاہے ریشہ مڑا ہوا بھی کیوں نہ ہو۔
کارتیزی علامت قرارداد:واقع روشنی کی سمت میں ناپے گئے فاصلے مثبت ہیں اور وہ فاصلے جو مخالف سمت میں ناپے گئے ہیں منفی ہیں۔تمام فاصلے،خاص محور پر،آئینے/لینس کے قطب/نوری مرکز سے ناپے جاتے ہیں۔–xمحورسے اوپرکی جانب ناپی گئی اور آئینہ/لینس کے خاص محور پر عمود اونچائیاں مثبت لی جاتی ہیں اور نیچے کی جانب ناپی گئی اونچائیاں منفی لی جاتی ہیں۔
آئینہ مساوات ہے:
1/v + 1/v = 1/f
p59
جہاںvاورu،بالترتیب،شبیہہ اور شے کے فاصلے ہیں اورfآئینے کا فوکس–فاصلہ ہے۔fخمی نصف قطرRکا نصف(تقریباً) ہوتا ہے۔جوفی آئینے کے لیےfمنفی ہے اور حدبی آئینے کے لیے مثبت ہے۔
ایک پرزم کے لیے،جس کا زاویہAہے، انعطاف نما n2ہے اور جو انعطاف نماn1کے واسطے میں رکھا ہے:
n21 = n2/n1 = sin[(A+Dm)/2] /sin (A/2)
p60
جہاںDm،اقل ترین انحراف کا زاویہ ہے۔
 

ایک کروی درمیانی رخ سے انعطاف کے لیے(n1نعطاف نما کے واسطے 1سےn2 انعطاف نما کے واسطے میں):
n2/v - n1/u = n2 - n1/R
p61
پتلے لینس کا فارمولا
1/v - 1/u = 1/f
p62
لینس ساز کا فارمولا
1/f = (n2 - n1)/n1  (1/R1 - 1/R2)
p63
R1اورR2لینس کی سطحوں کے خمی نصف قطر ہیں۔fایک مرتکز لینس کے لیے مثبت ہے اور ایک غیر مرتکز لینس کے لیےfمنفی ہے۔ایک لینس کی پاور ہے:
P = 1/f
p64
لینس کی پاور کے لیےSIاکائی ڈائی آپٹر(Dioptre)ہے:
: 1 D = 1 m-1(D)
p65اگر فوکس فاصلوں:
f1, f2, f3.....
p66کے کئی لینس تماس میں ہوں،تو ان کے اجتماع کا موثر فوکس فاصلہ دیا جاتا ہے
1/f =1/f1 + 1/f2 + 1/f3 + ...
p67
کئی لینسوں کے اجتماع کی کل پاور ہے
P = p1 + P2 + p3 + ....
p68
انکسار روشنی کا اس کے اجزائی رنگوں میںعلاحدہ ہونا ہے۔
ایک سادہ خوردبین کی تکبیری پاورmدی جاتی ہے:m = 1 + (D/f )،جہاں،D=25 cm،واضح بصارت کا کم ترین فاصلہ ہے اورfحدبی لینس کا فوکس فاصلہ ہے۔اگر شبیہہ لاانتہا پر ہے:m = D/f۔ایک مرکب خوردبین کے لیے،تکبیری پاور دی جاتی ہے:
me = 1 + (D/fe)  جہاں  m = me ×m°
p71چشمیہ کی وجہ سے تکبیر ہے اورmoبینیہ سے پیدا ہونے والی تکبیر ہے۔نزدیکی طورپر
m = L/f° ×  D/fe
p72
جہاں foاورfeبالترتیب بینیہ اور چشمیہ کے فوکس–فاصلے ہیں اورL ان کے فوکس–نقطوں کے درمیان فاصلہ ہے۔
ایک دوربین کی تکبیری پاور شبیہہ کے ذریعے آنکھ پر بنے زاویہbکی شے کے ذریعے آنکھ پر بنے زاویہaسے نسبت ہے۔
m = β/α = f°/fe
p75
جہاں foاور fe،بالترتیب،بینیہ اورچشمیہ کے فوکس فاصلے ہیں۔




قابل غور نکات

انعکاس اور انعطاف کے قوانین،نقطۂ وقوع پر،تمام سطحوں اورواسطوں کے تمام جوڑوں کے لیے درست ہیں۔
ایک حدبی لینس کے ذریعے بنی،fاور2fکے درمیان رکھی ایک شے کی،حقیقی شبیہہ کو شبیہہ کے مقام پر رکھے پردے پر دیکھا جاسکتا ہے۔اگر پردہ کو ہٹالیا جائے تو کیا شبیہہ اب بھی وہاں ہوگی؟یہ سوال بہت سے لوگوں کو الجھادیتا ہے کیونکہ اپنے ذہن کو بغیر پردے کے ہوا میں لٹکی شبیہہ کے تصور پر آمادہ کرنا مشکل ہے۔لیکن شبیہہ وہاں موجود ہوتی ہے۔شے کے ایک دیے ہوئے نقطے سے آرہی کرنیں ایک شبیہہ نقطہ پر خلا میں مرتکز ہورہی ہیں اور غیر مرتکز ہورہی ہیں۔پردہ صرف ان کرنوں کو دھندلا(Diffuse)کردیتا ہے اور ان میں سے کچھ ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہیں اور ہمیں شبیہہ نظرآتی ہے۔یہ ایک لیزر تماشے (Laser show)میں بن رہی شبیہہ کے ذریعے دیکھاجاسکتا ہے۔
شبیہہ بننے کے لیے باقاعدہ انعکاس/انعطاف چاہیے ہوتاہے۔اصولی طورپر،ایک نقطے سے آرہی تمام کرنوں کو یکساں شبیہہ نقطے پر پہنچنا چاہیے۔اسی لیے آپ ایک بے ترتیب(بے قاعدہ irregular) انعکاسی شے کے ذریعے،جیسے کتاب کا ایک صفحہ،اپنی شبیہہ نہیں دیکھ سکتے۔
موٹے لینس،انکسارکی وجہ سے،رنگین شبیہہ بناتے ہیں۔ہم اپنے آس پاس جو مختلف رنگ دیکھتے ہیں اس کی وجہ ان پر واقع روشنی کے اجزائی رنگ ہیں۔ایک یک رنگی(monochromatic)روشنی ایک شے کے رنگوں کا،سفید روشنی کے مقابلے میں،بالکل مختلف ادراک پیدا کرسکتی ہے۔
ایک سادہ خوردبین کے لیے،شے کا زاویائی سائز،شبیہہ کے زاویائی سائز کے مساوی ہوتا ہے۔لیکن پھر بھی اس سے تکبیر پیدا ہوتی ہے کیونکہ ہم چھوٹی اشیاکو آنکھ سے،25 cmسے کہیں کم فاصلے پر رکھ سکتے ہیں اور اس طرح اس سے ایک بڑا زاویہ بنواسکتے ہیں۔شبیہہ25 cmپر ہوگی جسے ہم دیکھ سکتے ہیں۔خوردبین کے بغیر چھوٹی شے کو ہمیں25 cmپر رکھنا ہوگا جو ایک بہت چھوٹا زاویہ بنائے گی۔


مشق

9.1  2.5 cmسائز کی ایک چھوٹی موم بتی،36 cmخمی نصف قطر کے جوفی آئینے کے سامنے،آئینے سے 27cmکے فاصلے پر رکھی گئی ہے۔آئینے سے کتنے فاصلے پر ایک پردہ رکھا جائے کہ پردہ پر ایک واضح شبیہہ بنے؟شبیہہ کی طبع اور سائز بتائیے۔اگر موم بتی کو آئینے کے اور قریب لایا جائے،تو اسکرین(پردے)کو کیسے ہٹانا ہوگا؟

9.2  4.5 cm کی ایک سوئی،15 cmفوکس فاصلے کے حدبی آئینے سے12 cmدور رکھی گئی ہے۔شبیہہ کا مقام اور تکبیر بتائیے۔بتائیے کیا ہوگا اگر سوئی کو آئینے سے اور دور ہٹایاجائے؟

9.3 ایک تالاب کو12.5 cmاونچائی تک پانی سے بھرا گیا۔تالاب کی تلی پرپڑی ایک سوئی کی ظاہرہ گہرائی ایک خوردبین سے ناپے جانے پر،9.4 cmہے۔پانی کا انعطاف نما کیا ہے؟اگر پانی کی جگہ انعطاف نما 1.63کا دوسرا رقیق اسی بلندی تک بھر دیاجائے،تو مائیکروسکوپ کو دوبارہ سوئی پر فوکس کرنے کے لیے کتنے فاصلے تک حرکت دینا ہوگی؟
9.4 شکل9.31 (a)اور9.31 (b)میں ایک کرن کا انعطاف دکھایاگیا ہے جو ہوا میں،عماد سے 60ºکے زاویے پر ایک شیشہ–ہوا اور پانی–ہوا درمیانی رخ پر واقع ہے۔شیشہ میں زاویہ انعطاف بتائیے،جب کہ پانی–شیشہ درمیانی رخ پر پانی میں زاویہ وقوع،نارمل سے45ºہے(شکل9.31 (c))۔

شیشہ
پانی 
ہوا
پانی
شیشہ
ہوا
p76
شکل 9.31

9.5 ایک چھوٹے بلب کو،80 cmگہرائی تک پانی سے بھرے تالاب کی تلی پر رکھاگیا۔پانی کی سطح کا وہ رقبہ کیا ہے جس سے بلب کی روشنی باہر نکل سکتی ہے؟پانی کا انعطاف نما1.33ہے۔(بلب کو ایک نقطہ ماخذ مانیے)
9.6 ایک پرزم نامعلوم انعطاف نما کے شیشے کا بنا ہوا ہے۔پرزم کے ایک رخ پر روشنی کی ایک متوازی شعاع واقع ہے۔کم ترین انحراف کا زاویہ40ºناپا گیا ہے۔پرزم کے مادے کا انعطاف نما کیا ہے؟پرزم کا انعطافی زاویہ60ºہے۔اگر پرزم کو پانی میں رکھ دیاجائے(انعطاف نما1.33)تو روشنی کی ایک متوازی شعاع کا نیا کم ترین انحراف کا زاویہ کیا ہوگا؟
9.7 انعطاف نما1.55کے شیشے سے ایسے دہرے عدسی لینس بنانے ہیں جن کے دونوں رخوں کے خمی نصف قطر یکساں ہوں۔اگر فوکس فاصلہ20 cmہو تو کیا خمی نصف قطر چاہیے ہوگا؟
9.8 ایک روشنی کی شعاع نقطہ Pپر مرکوز ہوتی ہے۔اب Pسے12 cmکے فاصلے پر،مرکوز بیم کے راستے میں ایک لینس رکھ دیا جاتا ہے۔اب شعاع کس نقطہ پر مرکوز ہوگی اگر(a)رکھا گیا لینس20 cmفوکس فاصلہ کا مرکوز لینس ہو۔(b)اگر رکھا گیا لینس16 cmفوکس دوری کا غیر مرکوز لینس ہو؟
9.9  3.0cm سائز کی ایک شے،21cmفوکس فاصلے کے ایک جوفی لینس کے سامنے،اس سے 14 cmکے فاصلے پر رکھی گئی ہے۔لینس کے ذریعے بنی شبیہہ بیان کیجیے۔کیا ہوگا اگر شے کو لینس سے اور دور کردیاجائے؟
9.10  30 cm فوکس فاصلے کا ایک مرکوز لینس،20 cmفوکس فاصلے کے ایک جوفی لینس سے تماس میں ہے۔اس نظام کا فوکس فاصلہ کیا ہوگا؟یہ نظام مرکوز لینس ہوگا یا غیر مرکوز لینس؟لینسوں کی موٹائی نظر انداز کردیجیے۔
9.11 ایک مرکب خوردبین،2.0 cmفوکس فاصلے کے ایک بینیہ اور6.25 cmفوکس فاصلے کے ایک چشمیہ پر مشتمل ہے اور ان دونوں کے درمیان فاصلہ15 cmہے۔بینیہ سے کتنے فاصلے پر ایک شے کو رکھاجائے کہ آخری شبیہہ حاصل ہو(a)واضح بصارت کے کم ترین فاصلہ(25 cm)پر؟(b)لامتناہی فاصلے پر؟دونوں صورتوں میں خوردبین کی تکبیری طاقت کیاہوگی؟
9.12 ایک شخص کا قریبی نقطہ نارمل ہے(25 cm)۔وہ ایک8.0 mmفوکس فاصلہ کے بینیہ اور2.5 cmفوکس فاصلے کے چشمیہ والی خوردبین کو استعمال کرتے ہوئے،بینیہ سے9.0 mmکے فاصلے پر رکھی شے کو واضح طورپر فوکس کرسکتا ہے۔بینیہ اور چشمیہ کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟مائیکرواسکوپ کی تکبیری طاقت کاحساب لگائیے۔
9.13 ایک چھوٹی دوربین کے بینیہ لینس کا فوکس فاصلہ144 cmاور چشمیہ لینس کا فوکس فاصلہ6.0 cmہے۔دوربین کی تکبیری پاور کیا ہے؟بینیہ اور چشمیہ کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟
9.14 (a) ایک مشاہدہ گاہ کی ایک بہت بڑی انعطافی دوربین کے بینیہ لینس کا فوکس فاصلہ15 cmہے۔اگر فوکس فاصلہ1.0 cmکا چشمیہ استعمال کیاجائے تو دوربین کی زاویائی تکبیر کیا ہوگی؟
(b) اگر اس دوربین کو چاند کو دیکھنے کے لیے استعمال کیا جائے تو بینیہ لینس کے ذریعے بنی چاند کی شبیہہ کا قطر کیا ہوگا؟چاند کا قطر
3.48 × 106 m
p77اورقمری مدارکا نصف قطر
3.8 × 106 m
p78ہے۔
9.15 آئینہ مساوات استعمال کرتے ہوئے اخذ کیجیے کہ:
(a) ایک جوفی آئینہ کےfاور2fکے در میان رکھی شے کی شبیہہ حقیقی بنتی ہے اور2fسے آگے بنتی ہے۔
(b) ایک حدبی آئینہ ہمیشہ ایک غیر حقیقی شبیہہ بناتا ہے چاہے شے کا مقام کوئی بھی ہو۔
(c) ایک حدبی آئینہ سے بنی غیر حقیقی شبیہہ ہمیشہ سائز میںچھوٹی ہوتی ہے اور فوکس اور قطب کے درمیان بنتی ہے۔
(d) ایک جوفی آئینے کے فوکس اور قطب کے درمیان رکھی شے کی شبیہہ غیر حقیقی اور تکبیر شدہ ہوتی ہے۔
9.16   ایک میز کی اوپری سطح پر نصب کی گئی چھوٹی سوئی کو اوپر سے50 cmکے فاصلے سے دیکھاجاتا ہے۔وہ سوئی کتنی اوپر اٹھی ہوئی معلوم ہوگی اگر اسے اسی نقطے سے ایک15 cmموٹی شیشے کی سل سے دیکھاجائے جو کہ میز کے متوازی رکھی گئی ہو؟شیشہ کا انعطاف نما1.5ہے۔کیا جواب سل کے مقام پر منحصر ہے؟
9.17 (a) شکل9.32میں ایک’’روشنی کے پائپ‘‘کا تراشہ دکھایاگیا ہے جو کہ1.68،انعطاف نما کے شیشے کے ریشوں سے بنا ہوا ہے۔پائپ کا باہری خول1.44انعطاف نما کے مادے سے بنا ہوا ہے۔پائپ کے محور سے بنے واقع شعاع کے زاویوں کی کس سعت کے لیے پائپ کے اندر مکمل انعکاس ہوں گے،جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے؟
(b) اگر پائپ پر کوئی باہری خول نہ چڑھا ہوتو جواب کیاہوگا؟

p79
شکل9.32

9.18 مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے:
(a)  آپ سیکھ چکے ہیں کہ مسطح اور حدبی آئینے اشیا کی غیر حقیقی شبیہہ بناتے ہیں۔کیا وہ کچھ صورتوں میں حقیقی شبیہہ بھی بناسکتے ہیں؟وضاحت کیجیے۔
(b) ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ایک غیر حقیقی شبیہہ کو پردے پر نہیں لیاجاسکتا۔لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک غیر حقیقی شبیہہ’’دیکھتے ہیں‘‘تو ظاہر ہے کہ ہم اسے اپنی آنکھ کے پردے(پردہ چشم) پرلیتے ہیں۔کیا اس میں کوئی تضاد ہے؟
(c) پانی کے اندر سے ایک غوطہ خور،ایک جھیل کے کنارے کھڑے ہوئے مچھیرے کو ترچھا (obliquely) دیکھتا ہے۔ مچھیرا جتنا لمبا ہے،غوطہ خور کو وہ اس سے کم لبا معلوم ہوگا یا زیادہ؟
(d) کیا ایک تالاب کی ظاہر گہرائی بدل جائے گی،اگر اسے ترچھا دیکھاجائے؟اگر ہاں تو ظاہر گہرائی کم ہوجائے گی یا زیادہ؟
(e) ہیرے کا انعطاف نما،عام شیشے سے بہت زیادہ ہے۔کیا اس حقیقت سے ہیرا تراش کوئی فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔
9.19 ایک کمرے کی دیوار پر لگے ہوئے ایک چھوٹے بلب کی شبیہہ سامنے والی دیورا پر،جو3mکے فاصلے پر ہے،ایک بڑے حدبی لینس کے ذریعے،حاصل کرنی ہے۔اس مقصد کے لیے استعمال کیے جاسکنے والے لینس کا فوکس فاصلہ زیادہ سے زیادہ کتنا ہوسکتا ہے؟
9.20 ایک شے سے90cmکے فاصلے پر ایک پردہ رکھاگیا ہے۔پردے پر،ایک حدبی لینس کے ذریعے،دو مختلف مقامات پر شے کی شبیہہ بنتی ہے،جن کے درمیان فاصلہ20cmہے۔لینس کا فوکس فاصلہ معلوم کیجیے۔
9.21  (a)  مشق9.10میں دیے گئے دولینسوں کے اجتماع کا موثر فوکس فاصلہ معلوم کیجیے اگر وہ اس طرح رکھے ہوں کہ ان کے خاص محور ایک دوسرے پر منطبق ہوں اور ان کے درمیان 8.0cmفاصلہ ہو۔کیا جواب اس پر منحصر ہے کہ متوازی روشنی کی شعاع اجتماع کے کس جانب واقع ہے؟کیا اس نظام کے موثر فوکس فاصلے کے تصور کی کچھ افادیت ہے بھی؟
(b)  1.5cmسائز کی ایک شے اس مندرجہ بالا ترتیب میں حدبی لینس کی جانب رکھی گئی ہے۔شے اور حدبی لینس کے درمیان فاصلہ40cmہے۔ دولینسوں کے اس نظام سے پیدا ہونے والی تکبیر معلوم کیجیے اور شبیہہ کا سائز معلوم کیجیے۔
9.22 انعطافی زاویہ60ºکے پرزم کے رخ پر ایک روشنی کی کرن کو کس زاویہ پر واقع ہونا چاہیے کہ دوسرے رخ پر اس کا بس مکمل اندرونی انعطاف ہو؟پرزم کے مادے کا انعطاف نما1.524ہے۔
9.23 ایک کارڈشیٹ کو 1mm2سائز کے مربعوں میں تقسیم کیاگیا ہے اوراسے ایک تکبیری شیشے(فوکس فاصلہ9 cmکا ایک مرکوزی لینس) کے ذریعے،9cmکے فاصلے سے دیکھاجاتا ہے اور تکبیری شیشے کو آنکھ کے نزدیک رکھاجاتا ہے۔
(a) لینس کے ذریعے پیدا کی گئی تکبیر کتنی ہے؟غیر حقیقی شبیہہ میں ہر مربع کا رقبہ کیا ہوگا؟
(b) لینس کی زاویائی تکبیر(تکبیری طاقت) کتنی ہے۔
(c) کیا(a)میںحاصل کی گئی تکبیر(b)کی تکبیری طاقت کے مساوی ہے؟وضاحت کیجیے۔
9.24  (a) مشق9.29میں مربعوں کو واضح طورپر اعظم ممکنہ تکبیری طاقت سے دیکھنے کے لیے لینس کو شکل سے کتنے فاصلے پر رکھنا چاہیے۔
(b) اس صورت میں تکبیر کیا ہے؟
(c) کیا اس صورت میں تکبیر،تکبیری پاور کے مساوی ہے؟وضاحت کیجیے۔
9.25  مشق 9.30 میں شے اور تکبیری شیشے کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے کہ شکل کے ہر مربع کی غیر حقیقی شبیہہ کا رقبہp80ہو۔کیاآپ اپنی آنکھوں کو تکبیرکار کے بہت نزدیک رکھ کر مربعوں کو واضح طورپر دیکھ سکیں گے؟(نوٹ : 9.23سے 9.25کی مشقیں آپ کو کسی شے کے مکمل سائز تکبیر اور زاویائی تکبیر کے درمیان فرق کی مکمل طور پر سمجھنے میں مدد کریں گی ۔ )
9.26 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے:
(a) ایک شے کے ذریعے آنکھ پر بنایا گیا زاویہ،اسی شے کی ایک تکبیری شیشے سے بنی غیر حقیقی شبیہہ کے ذریعے آنکھ پر بنائے گئے زاویے کے مساوی ہے۔تکبیری شیشہ کس لحاظ سے زاویائی تکبیر مہیا کرتا ہے؟
(b) ایک تکبیری شیشے سے دیکھتے وقت ہم عام طورسے اپنی آنکھوں کو شیشے کے بہت نزدیک رکھتے ہیں۔اگر آنکھ کو پیچھے کرلیاجائے تو کیا زاویائی تکبیربدل جائے گی؟
(c) ایک سادہ خوردبین کی تکبیری طاقت،لینس کے فوکس فاصلے کے مقلوب متناسب ہے۔توکم سے کم فوکس فاصلے کا لینس استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ تکبیری طاقت حاصل کرنے میںکیاچیز مانع آتی ہے؟
(d) ایک مرکب خوردبین کے بینیہ اورچشمیہ دونوں کا فوکس فاصلہ کم ہونا کیوں لازمی ہے؟
(e) ایک مرکب خوردبین سے دیکھتے وقت،بہترین طورپر دیکھنے کے لیے ہمیں اپنی آنکھیں چشمیہ پر رکھنے کی بجائے اس سے تھوڑے فاصلے پر رکھنا چاہئیں۔کیوں؟آنکھ اور چشمیہ کے درمیا ن وہ تھوڑا فاصلہ کتنا ہوناچاہیے؟
9.27  1.25 cm فوکس فاصلے کا بینیہ اور 5.0 cmکا چشمیہ استعمال کرتے ہوئے ہم30Xکی زاویائی تکبیر (تکبیری طاقت)چاہتے ہیں۔آپ مرکب خوردبین کو کیسے ترتیب دیں گے؟
9.28 ایک چھوٹی دوربین کے بینیہ لینس کا فوکس فاصلہ140cmہے اور چشمیہ کا فوکس فاصلہ5.0cm ہے۔ دوربین کی تکبیری طاقت، دور رکھی اشیا کو دیکھنے کے لیے کیاہوگی،جب کہ:
(a) دوربین عام طریقے سے درست کی گئی(adjust)ہے(یعنی کہ،آخری شبیہہ لامتناہی فاصلے پر بن رہی ہے)؟
(b) آخری شبیہہ،واضح بصارت کے کم ترین فاصلے(25cm)پر بن رہی ہے؟
9.29  (a)  مشق9.28 (a)میں بیان کی گئی دوربین کے لیے بینیہ–لینس اور چشمیہ کے درمیان فاصلہ کیا ہوگا؟
(b) اگر اس دوربین کو100kmاونچے مینار کو دیکھنے کے لیے استعمال کیاجائے جو3kmکے فاصلے پر ہے تو بینیہ–لینس سے بننے والی مینار کی شبیہہ کی اونچائی کیاہوگی؟
(c) اگر آخری شبیہہ25cmکے فاصلے پر بن رہی ہے تو مینار کی اس آخری شبیہہ کی اونچائی کیاہوگی؟
9.30 ایک کیسیگرین دوربین میں دوآئینے استعمال کیے جاتے ہیں،جیسا کہ شکل9.30میں دکھایاگیا ہے۔ایسی دوربین کو اس طرح بنایا جاتا ہے کہ آئینوں کا درمیانی فاصلہ20mmہو۔اگر بڑے آئینہ کا خمی نصف قطر220mmہے اور چھوٹے آئینہ کا 140mmہے،تو لامتناہی فاصلے پر رکھی ایک شے کی آخری شبیہہ کہاں بنے گی؟
9.31 ایک گیلوونومیٹر کوائل سے منسلک ایک مسطح آئینے پر واقع روشنی اسی راستے پر واپس لوٹ جاتی ہے جیسا کہ شکل9.33میں دکھایا گیا ہے۔کوائل میں بہہ رہا کرنٹ آئینے میں3.5ºکا انفراج پیدا کرتا ہے۔ 1.5m فاصلے پر رکھے ہوئے پردے پر منعکس ہوئے روشنی کے دھبے کا نقل کیاہوگا؟
p81
شکل9.33

9.32 شکل9.34میںایک مساوی–حدبی لینس دکھایاگیا ہے(انعطاف نما:1.50)،جو ایک مسطح آئینے کے اوپر بنی رقیق کی تہہ سے تماس میں ہے۔ایک چھوٹی سوئی کی نوک کو خاص–محور پر حرکت دی جاتی ہے،یہاں تک کہ ایک الٹی شبیہہ سوئی کے مقام پر حاصل ہوتی ہے۔سوئی کا لینس سے فاصلہ45.0cmناپا گیا ہے۔رقیقی کو ہٹادیاجاتا ہے اور تجربہ دہرایا جاتا ہے۔اب نیا فاصلہ30.0cmناپا جاتا ہے۔رقیق کا انعطاف نما کیا ہے؟

p82
شکل9.34