Skip to content
12-Tabiyaat-II-001



باب دس

لہرنوریات

WAVE OPTICS 

10.1تعارف(introduction)


1637میں ڈسکارتیس(Descartes)نے روشنی کا ذریچہ(Corpuscular)ماڈل پیش کیا اور اسنیل کا قانون (Snell's law)مشتق کیا۔اس ماڈل کے ذریعے ایک باہمی رخ پر انعکاس اور انعطاف کے قوانین کی وضاحت کی جاسکی۔ذریچہ ماڈل کی پیشن گوئی تھی کہ اگر روشنی کی ایک کرن(انعطاف کے بعد)عماد کی جانب جھکتی ہے تو دوسرے واسطے(Medium)میں ر وشنی کی چال مقابلتاً زیادہ ہوگی۔ روشنی کے اس ذریچہ ماڈل کو نیوٹن نے اپنی مشہور کتاب آپٹکس(Optics)میں اور سدھارا۔نیوٹن کی اس کتاب کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ عام طور سے ذریچہ ماڈل کو نیوٹن کے نام سے منسوب کیاجاتا ہے۔
1678میں ڈچ طبیعات داں کرسٹان ہائی جینس(Christiaan Huygens)نے روشنی کا لہر نظریہ (Wave theory of Light)پیش کیا۔ یہی وہ روشنی کا لہر ماڈل ہے جس سے ہم اس باب میں بحث کریں گے۔جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ لہر ماڈل انعکاس اور انعطاف کے مظاہر کی اطمینان بخش وضاحت کرسکا، لیکن اس ماڈل کی پیشن گوئی یہ تھی کہ اگر لہر عماد کی جانب جھکتی ہے تو دوسرے واسطے میں روشنی کی چال مقابلتاً کم ہوگی۔اس پیشن گوئی اورروشنی کے ذریچہ ماڈل پر مبنی پیش گوئی میں تضاد پایا جاتا ہے۔کافی عرصے بعد تجربات سے یہ تصدیق ہوسکی کہ پانی میں روشنی کی چال،ہوا میں روشنی کی چال کے مقابلے میں کم ہوتی ہے اور اس طرح لہر ماڈل پر مبنی پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔اس تجربہ کو1850میں فوکالٹ(Foucault)نے کیا۔
لہر نظریہ کو فوری طورپر منظور نہیں کیاگیا۔اس کی بنیادی وجہ نیوٹن کی عظمت کا اثر تھا اور یہ وجہ بھی تھی کہ روشنی خلامیں سے بھی گذرسکتی ہے جب کہ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایک لہر کی ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک اشاعت (Propagation) کے لیے ایک واسطہ کا ہونالازمی ہے۔لیکن جب تھامس ینگ(Thomas Yang)نے اپنا مشہور تداخل تجربہ (interference experiment) 1801 میں کیا تو یہ مکمل طورپر ثابت ہوگیا کہ روشنی ایک لہر مظہر ہی ہے۔بصری روشنی(visible light)کی طول لہر(Wave Lenght)بھی ناپی گئی اور یہ پتہ چلا کہ یہ بہت خفیف (small)ہے:مثلاً پیلی روشنی کی طول لہر تقریباً 0.6 mmہے۔ بصری روشنی کی طول موج کے اتنے خفیف ہونے کی وجہ سے(خاص آئینوں اور لینسوں کے ابعاد کے مقابلے میں)روشنی کو تقریباً خط مستقیم میں سفر کرتا ہوا مانا جاسکتا ہے۔یہ جیومیٹریائی نوریات کا میدان ہے،جس سے ہم پچھلے باب میں بحث کرچکے ہیں۔دراصل نوریات کی وہ شاخ جس میں ہم طول لہر کی متناہیت(Finiteness)کو بالکل نظرانداز کردیتے ہیں جیومیٹریائی نوریات کہلاتی ہے اور ایک کرن کو اس طرح معرف کیاجاتا ہے کہ یہ توانائی کی اشاعت کا اس حد میں راستہ ہے جب کہ طول لہر سفر کی جانب ہو۔
1801میں کیے گئے ینگ کے تداخل تجربے کے بعد،اگلے40برسوں میں روشنی کی لہروں کے تداخل (Interference) اور انصراف(Diffraction)پر مبنی کئی تجربات کیے گئے،ان تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کی اطمینان بخش وضاحت صرف روشنی کے لہر ماڈل کو فرض کرکے ہی کرنا ممکن ہوسکی۔ اس لیے انیسویں صدی کے درمیان میں لہر نظریہ بڑی حد تک منظور کرلیاگیا۔صرف ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ اس وقت تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایک لہر کی اشاعت کے لیے واسطے کا ہونا لاز می ہے،تو پھر روشنی کی لہریں خلا میں سے کیسے گذرتی ہیں۔اس کی وضاحت بھی اس وقت ہوگئی،جب میکسویل(Maxwell)نے اپنا مشہور روشنی کا برق–مقناطیسیت نظریہ پیش کیا۔میکسویل نے مساوات کا ایک سیٹ تیار کیا جو برق اور مقناطیسیت کے قوانین کی وضاحت کرتا تھا اور ان مساوات کو استعمال کرکے اس نے وہ مساوات مشتق کی جو لہر مساوات(Wave equation)کہلاتی ہے اور جس کے ذریعے میکسویل نے برق مقناطیسی لہروں*کے وجود کی پیشن گوئی کی۔لہر مساوات کی مدد سے میکسویل نے آزاد فضا(خلا) میں روشنی کی رفتار کا حساب لگایا اور انھوں نے پایا کہ یہ نظری قدر،روشنی کی رفتار کے تجربے کے ذریعے معلوم کی گئی قدر کے بہت نزدیک تھی۔اس سے انھوں نے یہ تجویز کیا کہ روشنی کو یقینی طورپر برق–مقناطیسی لہر ہونا چاہیے۔اس لیےمیکسویل کے مطابق روشنی کی لہریں تبدیل ہوتے ہوئے برقی اور مقناطیسی میدانوں سے منسلک ہیں،بدلتا ہوا برقی میدان،وقت اور مقام(فضاSpace)کے لحاظ سے بدلتا ہوا مقناطیسی میدان پیداکرتا ہے اور بدلتا ہوا مقناطیسی میدان،وقت اور فضا کے لحاظ سے بدلتا ہوا برقی میدان پیدا کرتا ہے۔بدلتے ہوئے مقناطیسی اور برقی میدان کے نتیجے میں برق–مقناطیسی لہروں (یا روشنی کی لہروں) کی اشاعت خلا میں بھی ہوتی ہے۔
اس باب میں ہم پہلے ہائی جینس اصول کی ابتدائی ضابطہ سازی سے بحث کریں گے۔ انعکاس اور انعطاف کے قوانین کی مشق کریں گے۔حصہ10.4اورحصہ10.5میں ہم تداخل کے مظہر سے بحث کریں گے جو انطباق کے اصول پر مبنی ہے۔ حصہ10.6میں ہم انصراف کے مظہر سے بحث کریں گے جو ہائی جینس–فریزنیل اصول پر مبنی ہے۔آخر میں ہم حصہ 10.7میں 10.7میں تقطیٖب کے مظہر سے بحث کریں گے جو اس حقیقت پر مبنی ہے کہ روشنی کی لہریں عرضی برق–مقناطیسی لہریں ہیں۔

*  میکسویل نے برق–مقناطیسی لہروں کے وجود کی پیشن گوئی1855کے آس پاس کی تھی،کافی عرصے بعد(1890کے آس پاس) ہینرک ہرٹز نے تجربہ گاہ میں ریڈیو لہریں پیدا کیں۔جے۔سی۔بوس اور جی۔مارکونی نے ہرٹزی لہروںکااستعمال کیا۔

کیا روشنی ایک خط مستقیم میں سفر کرتی ہے؟

(Does Light Travel In a Straight Line)
درجہVIمیں روشنی خط مستقیم میں سفر کرتی ہے،درجہXIIاور اس کے آگے کے درجات میں یہ ایسا نہیں کرتی۔آپ کو حیرت ہوئی نا۔
اسکول میں آپ کو ایک تجربہ (مظاہرہ) دکھایاگیا ہوگا،جس میں آپ تین گتے کے ٹکڑے لیتے ہیں اوران ٹکڑوں کے بیچ میں ایک پن ہول(باریک سوراخ) ہوتا ہے،ایک طرف ایک موم بتی رکھتے ہیں اور دوسری طرف سے دیکھتے ہیں۔اگر موم بتی کی لو اور تینوں پن ہول ایک مستقیم خط میں ہوتے ہیں تو آپ مو م بتی دیکھ سکتے ہیں۔اگر ان میں سے ایک بھی ذرا ساہٹا ہوا ہو تو آپ موم بتی نہیں دیکھ سکتے۔پھر آپ کے استاد نے کہاہوگا کہ اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ روشنی ایک مستقیم خط میں سفر کرتی ہے۔
اس کتاب میں دولگاتار (ایک کے بعد ایک) باب ہیں:ایک کرن نوریات پر اور دوسرا لہر نوریات پر۔کرن نوریات روشنی کی خطی اشاعت پر مبنی ہے اور اس میں آئینوں،لینسوں،انعکاس،انعطاف وغیرہ کا مطالعہ کیاجاتا ہے۔پھر آپ لہر نوریات کے باب پر پہنچتے ہیں اور اب آپ کو بتایا جاتا ہے کہ روشنی ایک لہر کی شکل میں سفر کرتی ہے،یعنی کہ یہ اشیا کے گرد مڑ سکتی ہے،یہ منصرف ہوسکتی ہے اور اس سے تداخل ہوسکتا ہے۔
نوری علاقہ میں،روشنی کا طول موج تقریباً آدھے مائیکرومیٹر کا ہوتا ہے۔اگر روشنی کا سامناتقریباً اسی سائز کی رکاوٹ سے ہوتا ہے تو روشنی اس رکاوٹ کے گرد مڑ سکتی ہے ا ور دوسری طرف دیکھی جاسکتے ہے اس لیے ایک مائیکرومیٹر سائز کی رکاوٹ روشنی کو نہیں روک سکتی۔لیکن اگر رکاوٹ کا سائز ایک مائیکرومیٹر سے بہت زیادہ ہوتو پھر روشنی اس حد تک نہیں مڑسکتی اور پھر دوسری طرف نہیں دیکھی جاسکتی۔
یہ لہر کی ایک عمومی خاصیت ہے اور آواز کی لہروں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ہماری بات چیت کی آواز کی لہروں کا طول موج تقریباً50cmسے   1mتک ہوتا ہے۔اگر آواز کسی چند میٹر سائز کی رکاوٹ سے ٹکراتی ہے تویہ اس کے گرد مڑجاتی ہے ا ور رکاوٹ کے پیچھے کے نقطوں تک پہنچ جاتی ہے۔لیکن جب اس کے سامنے چند سو میٹروں کی بڑی رکاوٹیں آجاتی ہیں،جیسے ایک پہاڑی،تو اس کا زیادہ ترحصہ منعکس ہوجاتا ہے جو گونج کی شکل میں سنائی دیتاہے۔
اب ہم ابتدائی مدرسے میں کیے گئے تجربے کے بارے میں کیا کہیں؟وہاں دراصل ہوتا یہ ہے کہ جب ہم کسی بھی ایک گتے کو کھسکاتے ہیں تو یہ منتقلی چند ملی میٹر کے درجہ کی ہوتی ہے جو کہ روشنی کے طول لہر سے بہت زیادہ ہے۔اس لیے موم بتی نہیںدیکھی جاسکتی۔اگر ہم کسی ایک گتے کو ایک مائیکرومیٹر یا اس سے کم کھسکا ئیں تو روشنی منصرف ہوسکے گی اور موم بتی اب دیکھی جاسکے گی۔
ہم اس کتاب کے پہلے جملے میں یہ اضافہ کرسکتے ہیں:یہ جیسے جیسے بڑی ہوتی ہے،مڑنا سیکھ لیتی ہے۔

10.2ہائی جینس اصول(Huygens Principle)

پہلے ہم لہر محاذ(Wavefront)کی تعریف کریں گے: جب ہم ایک ساکن پانی کے تالا ب میں ایک چھوٹا پتھر ڈالتے ہیں تو ٹکرانے کے نقطہ سے لہریں پھیلنے لگتی ہیں۔سطح کا ہر نقطہ وقت کے ساتھ اہتراز کرنے لگتا ہے۔کسی بھی لمحہ وقت پر سطح کا لیا گیا فوٹو گراف دائری حلقے دکھائے گا جن پر خلل(Disturbance)سب سے زیادہ ہوگا۔ظاہر ہے کہ ایسے دائرہ کے تمام نقاط فیز میں اہتراز کررہے ہوں گے کیونکہ وہ سب ماخذ(وسیلہ Source)سے یکساں فاصلے پر ہیں۔ ایسے نقاط جو فیز میں اہتراز کرتے ہیں ان کا لوکس(Locus)ایک لہر محاظ(Wavefront)کہلاتا ہے۔اس لیے ایک لہر محاذ کی تعریف بطور ’’مستقلہ فیز کی سطح‘‘(Surface of constant phase)کی جاتی ہے۔وہ چال جس سے ایک لہر محاذ ماخذ سے باہر کی جانب(Outwords)حرکت کرتا ہے،لہر کی چال کہلاتی ہے۔لہر کی توانائی لہر محاذ کی عمودی سمت میں سفر کرتی ہے۔
اگر ہمارے پاس ایک نقطہ ماخذ(Point source)ہے جو ہموار طورپر تمام سمتوں میں لہریں خارج کررہا ہے،تو ان نقطوں کا لوکس جن کی وسعت (amplitude)یکساں ہے اور جو یکساں فیز میں ارتعاش(vibrate)کرتے ہیں،کرّے ہیں اور اس طرح ہمیں جو لہر حاصل ہوتی ہے اسے کروی لہر کہتے ہیں،جیسا کہ شکل10.1(a)میں دکھایا گیا ہے۔ماخذ سے زیادہ فاصلوں پر کرّہ کے ایک چھوٹے حصے کو ایک مستوی(Plane)مانا جاسکتا ہے اور اس طرح حاصل ہوئی لہر،مستوی لہر(Plane wave)کہلاتی ہے۔[شکل10.1(b)]
1
شکل10.1 (a):ایک نقطہ ماخذ سے باہر نکلتی ہوئی ایک غیر مرکوز کروی لہر–لہر محاذ کروی ہیں۔

اب اگر ہمیں t = 0پرایک لہر محاذ کی شکل معلوم ہے تو ہائی جینس کے اصول کے ذریعے ہم ایک بعد کے وقتt پر لہر محاذ کی شکل معلوم کرسکتے ہیں۔اس لیے ہائی جینس اصول بنیادی طورپر ایک جیومیٹر یائی ساخت ہے،جس کی مدد سے اگر ہمیں کسی بھی دیے ہوئے وقت پر لہر محاذ کی شکل دی ہوئی ہو تو بعد کے کسی بھی لمحہ وقت پر ہم لہر محاذ کی شکل معلوم کرسکتے ہیں۔ایک غیر مرکوزی لہر لیتے ہیں اور فرض کرتے ہیں کہF1 Fکروی لہر محاذ کے ایک حصہ کو،t=0پر،ظاہر کرتا ہے (شکل10.2)۔اب،ہائی جینس اصول کے مطابق،لہر محاذ کا ہر نقطہ ثانوی خلل(secondary disturbance)کا ماخذ ہوتا ہے۔اور ان نقطوں سے نکلنے والے لہر یچے(wavelets)،لہر کی رفتار سے،تمام سمتوں میں پھیل جاتے ہیں۔لہر محاذ سے شروع ہونے والے یہ لہر محاذ عام طور سے ثانوی لہریچے(secondary wavelets)کہلاتے ہیں اور اگر ہم ان سب کروں پر ایک مشترکہ مماس(common tangent)کھینچیں تو ہم ایک بعد کے وقت پر لہرمحاذ کا مقام حاصل کرلیتے ہیں۔
2
شکل10.1(b):ماخذ سے بہت زیادہ فاصلوں پر کروی لہر کے ایک چھوٹے حصہ کا تقرب ایک مسطح لہر سے کیاجاسکتا ہے۔

اس لیے اگر ہمt=tپر لہر محاذ کی شکل معلوم کرنا چاہتے ہیں تو ہم کروی لہر محاذ کے ہر نقطے سےt پہ نصف قطر کے کرے کھینچتے ہیں،جہاںu اس واسطے(medium)میں لہر کی چال کو ظاہر کرتا ہے۔اب اگر ہم ان تمام کروں پر ایک مشترک مماس کھینچیں تو ہمیںt=tپر لہر محاذ کا نیا مقام حاصل ہوتا ہے۔یہ نیا لہر محاذ بھی جو شکل10.2میں G1 G2  سے دکھایا گیا ہے،کروی ہوتا ہے،جس کا مرکز0ہے
3
شکل 10.2 :F1 F2,0=t  پر کروی لہر مجاذ (مرکز 0 کے ساتھ) ظاہر کرتا ہے۔1F2Fسے نکلنے والے ثانوی لہر یچوں کا غلاف آگے کی جانب حرکت کرنے والا لہر یچوں کا غلاف آگے کی جانب حرکت کرنے والا لہر مجاز  G1G2 پیدا کرتا ہے۔پچھلی لہر D1D2 کا وجود نہیں ہوتا۔

مندرجہ بالا ماڈل میں ایک خامی ہمیں اس ماڈل کے مطابق ایک پچھلی لہر بھی ملنا چاہیے،جسے شکل10.2میںD1 D2 سے دکھایاگیا ہے۔ہائی جینس نے دلیل پیش کی کہ ثانوی لہریچوں کی وسعت آگے کی سمت میں اعظم (Maximum)ہوتی ہے اور پیچھے کی سمت میں صفر ہوتی ہے،اس طرح اسی بات کے لیے مخصوص اس مفروضہ کے ذریعے ہائی جینس پچھلی لہر کی غیر موجودگی کی وضاحت کرسکے۔لیکن اس طرح ایک خاص مقصد کے لیے تجویز کیاگیا یہ مفروضہ اطمینان بخش نہیں ہے اور پچھلی لہر کی غیر موجودگی دراصل زیادہ دقیق لہر نظریہ کے ذریعے ثابت کی جاسکتی ہے۔
اسی طریقے سے ہم ایک واسطے سے گذرتی ہوئی مسطح لہر کے لیے بھی ہائی جینس اصول استعمال کرکے لہر محاذ کی شکل معلوم کرسکتے ہیں(شکل10.3)۔

4
شکل 10.3 : دائیں سمت میں جاتی ہوئی مسطح لہر کے لیے ہائی جینس جیومیٹریائی بناوٹ۔
F1F2= tپر مسطح لہر مجاذ ہے اور G1G2 ایک بعد کے وقت پر۔خطوط:.....A1A2,B1B2 وغیرہ F1F2 اورG1G2 دونوں پر عماد ہیں اور کرنوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

10.3  ہائی جینس اصول استعمال کرتے ہوئے مسطح لہروں کا انعطاف اور انعکاس

(Refraction and Reflection of Plane Waves using Huygens Principle)

10.3.1ایک مسطح لہر کا انعطاف(Refraction of a plane wave)


اب ہم ہائی جینس اصول کا استعمال انعطاف کے قوانین مشتق کرنے کے لیے کریں گے۔فرض کیجیے′PP واسطہ 1اورواسطہ2کو جدا کرنے والی سطح کوظاہر کرتا ہے،جیسا کہ شکل10.4میں دکھایا گیا ہے۔فرض u1 کیجیےu1 اور u2 ، بالترتیب،واسطہ1اورواسطہ2میں روشنی کی چالیں ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ ایک مسطح لہر محاذAB،جو سمتA′Aمیں آگے بڑھ رہا ہے،درمیانی رخ پر زاویہ i سے واقع ہے،جیسا کہ شکل میں دکھایاگیا ہے۔فرض کیجیے فاصلہBCطے کرنے میں لہر محاذ کے ذریعے لیاگیاوقت t ہے۔
 
BC = u1 t
11
شکل 10.4: ایک مسطح لہر 

10

کرسٹن ہائی جینس(1629–1695) 

کرسٹن ہائی جینس(1629–1695) ڈچ طبیعات داں،ماہر فلکیات،ماہر ریاضی اور روشنی کے لہر نظریہ کے بانی۔آپ کی کتاب ’’ٹریٹائزآن لائٹ‘‘(Treatise on light) آج بھی اپنے قارئین کے لیے نہایت پرکشش ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے انعکاس اور انعطاف کے علاوہ معدنی کیلسائٹ (mineral calcite) سے ظاہرہونے والے دہرے انعطاف (Double refraction) کی بھی نہایت عمدہ وضاحت پیش کی ہے۔ انھوں نے ہی سب سے پہلے دائری اورسادہ ہارمونی حرکت کا تجزیہ کیا اور بہتر گھڑیاں اور دوربینیں ڈیزائن کیں اور تیار کیں۔انھوں نے حلقاتِ زحل (saturn rings)کی درست جیومیٹری دریافت کی۔

منطعف لہرمحاذ کی شکل معلوم کرنے کے لیے،ہم دوسرے واسطے کے نقطہAکو مرکز مانتے ہوئے نصف قطرt u2  کا دائرہ کھینچتے ہیں (دوسرے واسطے میں لہر کی چالu2ہے)۔فرض کیجیےCE،کرہ پر نقطہCسے کھینچے گئے مماس مستوی(tangent plane)کو ظاہر کرتا ہے۔ تب، AE = t u2  اورCEمنعطف لہرمحاذ کو ظاہر کرے گا۔اب اگر ہم مثلث ABC اور مثلث AECلیں،تو ہم بہ آسانی حاصل کرسکتے ہیں:
(10.1)
sin i = BC/AC = v1r/AC
12
اور
sin r = AE/AC = v2 r /AC
(10.2) 13
جہاںiاورrبالترتیب زاویہ وقوع اور زاویہ انعطاف ہیں۔ اس لیے،ہمیں حاصل ہوتا ہے
sin i/sin r = v1/v2
(10.3) 14
مندرجہ بالا مساوات سے ہمیں یہ اہم نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اگرr<i (یعنی کہ،اگر کرن عماد کی جانب جھکتی ہے)،تو دوسرے واسطے میں روشنی کی چال (u2) پہلے واسطے میں روشنی کی چال(u1)سے کم ہوگی۔یہ پیشن گوئی روشنی کے ذریچہ ماڈل کی بنیاد پر کی گئی پیشن گوئی کے برخلاف ہے اور جیسا کہ بعد میں کیے گئے تجربات سے ظاہر ہوا،لہر نظریہ کی بنیاد پر کی گئی پیشن گوئی درست ہے۔اب اگرC،خلا میں روشنی کی چال کو ظاہر کرتی ہے،تب
(10.4)
n1 = c/v1 15
اور
(10.5)
n2 = c/v2 16
بالترتیب،واسطہ1اورواسطہ2کے انعطاف نما ہیں۔انعطاف نماؤں کی شکل میں مساوات(10.3)کو لکھاجاسکتا ہے:
(10.6) n1 sin  i = n2 sin r
یہ انعطاف کا اسنیل کا قانون ہے۔مزید،اگر18اور 17سے،بالترتیب،واسطہ1اورواسطہ2میںروشنی کی طول لہر کوظاہر کیاجائے اور اگر فاصلہBC، λکے مساوی ہے تو فاصلہAE ،17کے مساوی ہوگا(کیونکہ اگر وقتtمیںBسے فرازCپرپہنچتا ہے توAسے فراز کو اسی عرصہ وقتtمیں Eپر پہنچنا چاہیے)،اس لیے
λ1/λ2 = BC/AE = v1/v2
                       19
یا
v11 = v2/λ2
        20
(10.7)
مندرجہ بالا مساوات سے اخذ کیاجاسکتا ہے کہ جب ایک لہر مقابلتاً زیادہ کثافت کے واسطے 21میں منعطف ہوتی ہے تو اس کی اشاعت کی چال اور طول لہر کم ہوجاتے ہیں لیکن تعدد 22وہی رہتی ہے۔

10.3.2  مقابلتاً لطیف واسطے میں انعطاف (Refraction at a rarer medium)

اب ہم ایک مسطح لہر کا مقابلتاً کم کثیف(لطیف تر)واسطے میں انعطاف دیکھتے ہیں،یعنی کہ23،۔بالکل پہلے کے طریقے سے ہی آگے بڑھتے ہوئے ہم ایک منعطف لہر محاذ تشکیل کرسکتے ہیں،جیسے کہ شکل 10.5میں دکھایا گیا ہے۔اب زاویہ انعطاف،زاویہ وقوع سے بڑا ہوگا،لیکن اب بھی ہمیں 30حاصل ہوگا۔ہم مندرجہ ذیل مساوات کی مدد سے ایک زاویہic کی تعریف کرسکتے ہیں:
(10.8)
sin ic = n2/n1 31
اس لیے اگر i = ic ہو تو sin r = 1 اور r = 90°ہوگا۔ظاہر ہے کہ 32کے لیے کوئی منعطف کرن نہیںہوسکتی۔زاویہ ic کو فاصل زاویہ(critical angle)کہتے ہیں اوران تمام زاویہ وقوع کے لیے جو فاصل زاویہ سے بڑے ہیں،ہمیں کوئی منعطف کرن نہیں ملے گی اور لہر کا مکمل اندرونی انعکاس ہوگا۔مکمل اندرونی انعکاس کا مظہر اور اس کے استعمالات سے حصہ9.4میں بحث کی جاچکی ہے۔

26
شکل 10.5 : ایک مقابلتا لطیف واسطے پر واقع ایک مسطح لہر کا انعطاف،جس کے لیے  v2 <v1 ۔مسطح لہر عماد سے سور ہٹتی ہے۔

10.3.3ایک مسطح سطح سے ایک مسطح لہر کا انعکاس

(Reflection of a plane wave by a plane surface)

اب ہم ایک مسطح لہرABلیتے ہیں جو ایک انعکاسی سطحMNپر زاویہ پر واقع ہے۔اگر vسے واسطے میں لہر کی چال کو ظاہر کیاجاتا ہے اور لہر محاذ کو نقطہBسے نقطہCتک پہنچنے میں لگنے والے و قت کوtسے ظاہر کیاجاتا ہے تو فاصلہBCہوگا:
BC =  vt 
منعکس لہر محاذ تشکیل دینے کے لیے ہم نقطہAکو مرکز مانتے ہوئے vt نصف قطر کا ایک کرہ کھینچتے ہیں،جیسا کہ شکل10.6میں دکھایا گیا ہے۔فرض کیجیے کہCEکے ذریعے اس کرہ پر نقطہCسے کھینچے گئے مماس مستوی کو ظاہر کیاگیا ہے۔ظاہر ہے کہ:
AE = BC = vt
منعکس لہر مجاذ
واقع لہر مجاذ
28

شکل10.6:انعکاسی سطح MNکے ذریعے ایک مسطح لہرABکا انعکاس۔ABاورCEواقع اور منعکس لہر محاذوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

اب مثلثEACاورمثلثBACلیں توہم دیکھیں گے کہ وہ مماثل(Congruent)ہیں۔اس لیے زاویہiاورزاویہr(جیسا کہ شکل10.6میں دکھایاگیا ہے)مساوی ہوں گے۔یہ انعکاس کا قانون ہے۔

اب ایک دفعہ جب ہم نے انعکاس اور انعطاف کے قوانین حاصل کرلیے تو پرزموں،لینسو ںاور آئینوں کے برتاؤ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ان مظاہر سے باب9میں روشنی کی مستقیم اشاعت کی بنیادپر تفصیلی بحث کی گئی تھی۔یہاں ہم صرف لہر محاذوں کاوہ برتاؤ بیان کریں گے جو وہ منعکس یا منعطف ہوتے ہوئے ظاہر کرتے ہیں۔شکل10.7(a)میں ہم ایک پتلے پرزم سے گذرتی ہوئی ایک مسطح لہر لیتے ہیں۔واضح ہے کہ شیشے میں روشنی کی چال مقابلتاً کم ہوگی،اس لیے اندر آرہے لہر محاذ کا نچلا حصہ(جو شیشہ کی سب سے زیادہ موٹائی سے گذرتا ہے)پیچھے رہ جائے گا،جس کے نتیجے میں باہر آنے والے لہر محاذ میں ایک جھکاؤ آجائے گا،جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔شکل10.7(b)میں ہم ایک پتلے حدبی لینس پر واقع ایک مسطح لہر لیتے ہیں۔واقع مسطح لہر کا درمیانی حصہ لینس کے سب سے موٹے حصے سے گذرتا ہے اور اس لیے سب سے پیچھے رہ جاتا ہے۔اس لیے باہر آرہے لہر محاذ کے درمیانی حصے میں ایک زوال (Depression) ہوتا ہے اور اس لیے لہر محاذ کروی ہوجاتا ہے اور نقطہFپر مرکوز ہوتا ہے،جو کہ فوکس کہلاتا ہے۔شکل10.7(c)میں ایک مسطح لہر ایک جوفی آئینے پر واقع ہے اور انعکاس کے بعد ہمیں فوکس نقطہFپر مرکوز ہوتی ہوئی ایک کروی لہر ملتی ہے۔اسی طرح سے ہم جوفی لینسوں اور حدبی آئینوں کے ذریعے ہونے والے انعطاف اور انعکاس کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔
نصف قطر R کا جوفی آئینہ
نصف قطر  R/2 کا کروی لہر محاذ
واقع مسطح لہر
واقع مسطح لہر
نصف قطر f  کا کروی لہر مجاذ
واقع مسطح لہر
29

شکل10.7:(a) ایک پتلے پرزم(b)ایک حدبی لینس کے ذریعے ایک مسطح لہر کا انعطاف (c)ایک جوفی آئینے کے ذریعے ایک مسطح لہر کا انعکاس

مندرجہ بالا بحث سے یہ اخذ کیاجاسکتا ہے کہ شے کے ایک نقطہ سے،اس کے مطابق شبیہہ کے نقطے تک پہنچنے میں لیاگیا کل وقت کسی بھی کرن پر ناپے جانے پر یکساں ہوگا۔مثلا،جب ایک حدبی لینس حقیقی شبیہہ بنانے کے لیے روشنی کو فوکس کرتا ہے تو حالانکہ مرکز سے گذرنے والی کرن مقابلتاً کم راستہ طے کرتی ہے،لیکن کیونکہ شیشے میں اس کی چال مقابلتاً کم ہوتی ہے،لیا گیا وقت اتنا ہی ہوتا ہے جتنا کہ لینس کے کناروں کے نزدیک گذرنے والی کرنیں لیتی ہیں۔

10.3.4 ڈاپلر اثر(The Doppler effect)

یہاں ہمیں یہ بتادینا چاہیے کہ اگر ماخذ(Source)[یا مشاہد(observer)]حرکت کررہا ہو تو ہمیں لہر محاذ تشکیل کرتے وقت محطاط رہنا چاہیے۔مثلاً،اگر کوئی واسطہ نہیں ہے اور ماخذ مشاہد سے دور ہٹ رہا ہے،تو بعد میں آنے والے لہر محاذوں کو مشاہد تک پہنچنے کے لیے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑے گا اور اس لیے انھیں وقت بھی زیادہ لگے گا۔اس لیے دو لگاتار لہر محاذوں کے پہنچنے کا درمیانی وقفہ ماخذ کے مقابلے میںمشاہد کے لیے زیادہ ہوگا۔اس لیے جب ماخذ،مشاہد سے دور ہٹتا ہے تو ماخذ کے ذریعے ناپا گیا تعدد مقابلتاً کم ہوگا۔یہ ڈاپلر اثر کہلاتا ہے۔ماہرین فلکیات ڈاپلر اثر کی وجہ سے پید اہونے والے طول لہر میں اضافے کو سرخ منتقلی(Red shift)کہتے ہیں،کیونکہ طیف کے بصری علاقے کے درمیانی حصے میں طول لہر طیف کے سرخ سرے کی جانب منتقل ہوتی ہے۔جب ایک ایسے ماخذ سے لہریں موصول ہوتی ہیں جو مشاہد کی جانب حرکت کر رہا ہو تو طول لہر میں ایک ظاہری کمی آجاتی ہے،اسے نیلی منتقلی(blue shift)کہتے ہیں۔

آپ درجہXIکی درسی کتاب کے باب15میں آواز کی لہروں کے لیے ڈاپلر اثر کا مطالعہ کرچکے ہیں۔روشنی کی چال کے مقابلے میں خفیف رفتاروں کے لیے،ہم وہی فارمولا استعمال کرسکتے ہیں جو ہم آواز کی لہروں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تعدد میں آنے والی کسری تبدیلی 34 دی جاتی ہے35 جہاں نصف قطری v مشاہد کی مناسبت سے، مشاہد کو ماخذسے ملانے والے خط کی سمت میں،ماخذ کی رفتار کا جز ہے، نصف قطریvکو اس وقت مثبت لیاجاتا ہے جب ماخذ مشاہد سے دور ہٹ رہا ہو۔اس لیے،ڈاپلر منتقلی کو ظاہر کیاجاسکتا ہے:
(10.9)
∆ v/v = v    نصف قطری /c  
33
اوپر دیا ہوا فارمولا صرف اسی وقت درست ہے جب ماخذ کی چال،روشنی کی چال کے مقابلے میں خفیف ہو۔ڈاپلر اثر کے کے لیے ایک زیادہ درست فارمولا حاصل کرنے کے لیے،جو تبھی درست ہوتا ہے جب ماخذ کی چال،روشنی کی چال کے نزدیک ہوتی ہے،آئن سٹائن کے مخصوص نظریہ اضافت(special theory of relativity)کی ضرورت پڑتی ہے ۔علم فلکیات میں ڈاپلر اثر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ہم سے بہت طویل فاصلوں پر پائے جانے والی گیلیکسیوں کی نصف قطری رفتاروں کی پیمائش کی بنیاد یہی اثر ہے۔

مثال10.1 ہماری مناسبت سے ایک گیلیکسی کو کس چال سے حرکت کرنا چاہیے کہ589.0 nmپر حاصل ہونے والی سوڈیم لائن589.6 nmپر دکھائی دے۔
حل  
λاور v ) ∴ vλ = c, ∆v/v = - ∆λ/λ
36امیں خفیف تبدیلیوں کے لیے)

     Dl = 589.6 – 589.0 = + 0.6 nm     
کے لیے[مساوات(10.9)استعمال کرنے پر]ہمیں حاصل ہوتا ہے:
        ∆v/v = -  ∆λ/λ = - vنصف قطری/c
          38
vنصف قطری ≅ + c (0.6/589.0) = + 3.06 ×105 ms-1  
یا،

39
= 306 km/s

اس لیے،گیلیکسی ہم سے دور ہٹ رہی ہے۔

مثال10.2
(a) جب دو واسطوں کو الگ کرنے والی سطح پر ایک یک رنگی روشنی واقع ہوتی ہے،تو منعکس اور منعطف دونوں روشنیوں کا تعدد وہی ہوتا ہے جو واقع روشنی کا ہوتا ہے۔وضاحت کیجیے،کیوں؟
(b) جب روشنی ایک مقابلتاً لطیف واسطے سے ایک مقابلتاً کثیف واسطے میں جاتی ہے تو اس کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔کیا رفتار میں کمی آجانے سے یہ اخذ کیاجاسکتا ہے کہ روشنی کی لہر کے ذریعے لے جائی جانے والی توانائی میں بھی کمی ہوگی؟
(c) روشنی کے لہر نظریہ میں،روشنی کی شدت،لہر کی وسعت کے مربع سے دی جاتی ہے۔روشنی کے فوٹان نظریہ میں،روشنی کی شدت کس سے دی جاتی ہے؟
حل
(a) انعکاس اور انعطاف،واقع روشنی کے ماد ّے کے ایٹمی اجزا سے باہمی عمل کے ذریعے ہوتے ہیں۔ ایٹموں کو ایسے اہتراز کار سمجھا جاسکتا ہے جو اس باہری ایجنسی(روشنی)کے تعدد کو جذب کرلیتے ہیں جو جبری اہترازات(forced oscillations)پیدا کررہی ہے۔ ایک چارج شدہ اہترازکار سے خارج ہوئی روشنی کا تعدد اس کے اہترازات کے تعدد کے مساوی ہوتا ہے۔اس لیے،منتشر ہوئی روشنی کا تعدد،واقع روشنی کے تعدد کے مساوی ہوتا ہے۔
(b) نہیں،ایک لہر کے ذریعے لے جائی جارہی توانائی لہر کی وسعت کے تابع ہے،لہر کے اشعاع کی چال پر نہیں۔
(c) ایک دیے ہوئے تعدد کے لیے،فوٹان نظریہ میں روشنی کی شدت،ایک اکائی رقبہ سے،ایک اکائی وقت میں گذرنے والے فوٹانوں کی تعداد کے ذریعے دی جاتی ہے۔

10.4 لہروں کی مربوط اور غیر مربوط جمع

(Coherent and Incoherent Addition of Waves)

اس حصہ میں دولہروں کے انطباق کے ذریعے بننے والے تداخل نمونے(interference pattern)سے بحث کریں گے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ہم نے آپ کی درجہXIکی درسی کتاب کے باب 15میں انطباق کے اصول (superpostion principle) سے بحث کی تھی۔تداخل کا پورا میدان(مضمون) ہی انطباق کے اصول پر مبنی ہے،جس کے مطابق واسطے کے کسی مخصوص نقطے پر،کئی لہروں کے ذریعے پیدا کیا گیا ماحصل نقل،ہر لہر کے ذریعے پیداکیے گئے نقلوں کا سمتی حاصل جمع ہوتا ہے۔

40
شکل10.8:(a)دوسلائیاں جو پانی میںفیز میں اہتراز کررہی ہیں،دو مربوط ماخذوں کو ظاہر کرتی ہیں۔

دو سلائیاںS1 اورS2 ایک پانی سے بھرے برتن میںاوپر نیچے،دوری طورپر،ایسی حرکت کررہی ہیں جو ہر طرح سے ایک دوسرے کے متماثل ہے [شکل10.8(a)]۔وہ پانی کی دولہریں پیدا کرتی ہیں،اور ایک مخصوص نقطہ پر،ان لہروں میں سے ہر ایک کے ذریعے پیدا ہوئے نقلوں میں فیز فرق وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا۔جب ایسا ہوتا ہے تو دونوں ماخذ مربوط(coherent)کہلاتے ہیں۔شکل10.8(b)میں ایک دی ہوئی ساعت وقت پر فرازوں(crests)(ٹھوس دائرے) اور نشیبوں(troughs)(خط کشیدہ دائرے)کے مقامات دکھائے گئے ہیں۔ایک نقطہPلیجیے،جس کے لیے:
S1 P = S2 P
کیونکہ فاصلےS1 P اور S2 P مساوی ہیں،اس لیےS1 اورS2 سے نکلنے والی لہریں نقطہPتک پہنچنے میں یکساں وقت لیں گی اور S1 اورS2 سے جو لہریں فیز میں نکلتی ہیں وہ نقطہPپر بھی فیز میں پہنچیں گی۔
41
(b)ایک ساعت وقت پر پانی کے مالیکیولوں کے پانی کی سطح پر نقل کا نمونہ،جس میں نوڈل خطوط(کوئی نقل نہیں)'N'اور مخالف نوڈل خطوط(اعظم نقل)Aدکھائے گئے ہیں۔
اس لیے،اگر ماخذS1 سے نکلنے والی لہر کے ذریعے نقطہPپر پیدا ہوا نقل دیاجاتا ہے:
y1 = a cos wt
42
تب ماخذS2 سے نکلنے والی لہر کے ذریعے(نقطہPپر)پیدا ہوا نقل بھی دیاجائے گا:
y2 = a cos wt
43
اس لیےPپر ان نقلوں کا ماحصل دیاجائے گا:
y = y1 + y2 = 2 a cos wt
45
کیونکہ شدت،وسعت کے مربع کے متناسب ہے،اس لیے ماحصل شدت دی جائے گی:
I = 4 I°
46
جہاں Io ،ہر انفرادی لہر کے ذریعے پیدا ہوئی شدت کو ظاہر کرتا ہے، Io، 133کے متناسب ہے۔دراصل SI S2 کے عمودی ناصف پر کسی بھی نقطے پر،شدت 65وگی۔اب کہاجاتا ہے کہ دونوں ماخذ تعمیری طورپر (constructive) تداخل کررہے ہیں اور اس طرح ہمیں تعمیری تداخل (constructive interference)حاصل ہوتا ہے۔اب ہم ایک نقطہQلیتے ہیں[شکل10.9(a)]،جس کے لیے:

64
شکل10.9:(a)نقطہQپر تعمیری تداخل،جس کے لیے راہ فرق2lہے۔
(b)نقطہRپر تخریبی تداخل،جس کے لیے راہ فرق1342.5 ہے۔
S2 Q- S1 Q = 2λ
66
اب S1سے نکلنے والی لہریں،S2 سے نکلنے والی لہروں سے،بالکل درست طورپر،دوسائیکل پہلے پہنچیں گی اور اب بھی فیز میں ہوں گی[شکل10.9 (a)]۔اس لیے،اگرS1 سے پیداہونے والا نقل دیا جاتا ہے:
y1 = a cos wt
42
تبS2 سے پیدا ہونے نقل دیاجائے گا 
y2 = a cos (wt - 4) = a cos wt
49
جہاں،ہم نے یہ حقیقت استعمال کی ہے کہ135 کا راہ فرق 136 کے فیز فرق سے مطابقت رکھتا ہے۔دونوں نقل اب بھی فیز میں ہیں اور شدت،ایک بار پھر،ھ65  ہوگی،جس سے تعمیری مداخلت حاصل ہوگی۔مندرجہ بالا تجزیہ میں ہم نے یہ فرض کرلیا ہے کہ فاصلےS1QاورS2Qdسے بہت بڑے ہیں(S1d اورS2کے درمیانی فاصلے کو ظاہر کرتا ہے)،اس لیے حالانکہS1Q اورS2Q مساوی نہیں ہیں،ہر لہر سے پیدا ہوئے نقل کی وسعتیں قریب قریب یکساں ہیں۔
اس کے بعد ہم ایک نقطہR[شکل10.9 (b)] لیتے ہیں،جس کے لیے
S2R - S1R = - 2.5λ 
51
S1سے نکلنے والی لہریں،S2سے نکلنے والی لہروں کے،ڈھائی سائیکل(بالکل درست طورپر)بعد پہنچیں گی[شکل10.9(b)]۔اس لیے اگرS1کے ذریعے پید اہوا نقل دیاجاتاہے:
2 = a cos (wt + 5)y1 = a cos wt
52
توS2کے ذریعے پیداہوا نقل دیاجائے گا:
y2 = a cos (wt + 5π) = - a cos wt
137
جہاں ہم نے اس حقیقت کو استعمال کیا ہے کہ2.595کا راہ فرق505 کے فیز فرق کے مطابق ہے۔اب دونوں نقل ایک دوسرے سے فیز کے باہر ہیں اور دونوں نقل ایک دوسرے کی مکمل طورپر تنسیخ کردیتے ہیں اور صفر شدت حاصل ہوتی ہے۔اسے تخریبی تداخل(destructive interference)کہاجاتا ہے۔
خلاصہ کے طورپر:اگر ہمارے پاس دو مربوط ماخذS1 اورS2 ہیں جو فیز میں اہتراز کررہے ہیں،تو ایک اختیاری نقطہPکے لیے،جب بھی راہ فرق ہوگا،
(10.10)
S1P  ~ S2P = nλ   (n = 0, 1, 2, 3,......)                53
ہمیں تعمیری تداخل حاصل ہوگا اور ماحصل شدت65ہوگی،S1اورS2Pکے درمیان علامت~، S1P اورS2Pکے درمیان فرق کو ظاہر کرتی ہے۔دوسری طرف،اگر نقطہPایسا ہے کہ راستہ فرق ہے،
(10.11)
S1P   ~ S2P = nλ  = (n + 1/2)λ 54
تو ہمیں تخریبی تداخل حاصل ہوگا اور ماحصل شدت صفر ہوگی۔اب کسی بھی دوسرے اختیاری نقطہGکے لیے (شکل 10.10)،فرض کیجیے کہ دونوں نقلوں کے درمیان فیز فرقfہے۔اس لیے،اگر S1کے ذریعے پیدا ہوا نقل دیاجاتا ہے:
y1 = a cos wt
42
تب،S2کے ذریعے پیداہوا نقل ہوگا
y2 = a cos (wt + ∅)
56
57
شکل 10.10 ان نقاط کا لوکس (Locus) ،جن کے لیے S1P - S2P ،صفر   λ  2 ± ± λ کے مساوی ہے۔
اورماحصل نقل دیاجائے گا

y = y1 + y2
=  a [ cos wt + cos (wt +Φ )]
= 2 a cos (Φ/2) cos (wt + Φ/2)
[∴ cos A + cos B = 2 cos (A+B/2) cos (A - B/2)]
59

ماحصل نقل کی وسعت(2a cos (ø/2 ہے اور اس لیے اس نقطہ پر شدت ہوگی:
 
(10.12)
I = 4 I° cos2 (Φ/2)
         60
اگر61ومساوات(10.10)میں دی گئی شرط کے متطابق ہے،تو ہمیں تعمیری تداخل حاصل ہوگا،جس سے اعظم شدت ملے گی۔دوسری طرف،اگر: 62[جو مساوات (10.11)میں دی گئی شرط کے مطابق ہے] تو ہمیں تخریبی تداخل حاصل ہوگا،جس کے نتیجے میں صفر شدت ملے گی۔
اب اگر دو ماخذ مربوط ہیں(یعنی کہ،دونوں سلائیاں باقاعدہ طورپر اوپر نیچے حرکت کررہی ہیں)،تو کسی بھی نقطہ پر فیز فرق f،وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوگا اور ہمیں ایک مستحکم(stable)تداخل نمونہ(interference pattern) حاصل ہوگا،یعنی کہ،اعظم قدروں(Maximum)اور اقل ترین قدروں(Minimum)کے مقامات وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوں گے۔لیکن اگر دونوں سلائیاں ایک مستقلہ فیز فرق برقرار نہیںرکھتی ہیں تو تداخل نمونہ بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہے گا اور اگر فیز فرقø وقت کے ساتھ بہت تیزی سے تبدیل ہورہا ہو تو اعظم قدروں اور اقل ترین قدروں کے مقامات بھی وقت کے ساتھ بہت تیزی سے تبدیل ہوں گے اور ہمیں ایک’’وقت پر اوسط ہوئی‘‘(time averaged) شدت تقسیم دیکھنے کو ملے گی۔جب ایسا ہوتا ہے،تو ہم ایک اوسط شدت کا مشاہدہ کرتے ہی،جو دی جائے گی:


63
(10.13)  < cos 2(Φ/2)>= 41°<I>

جہاں زاویائی قوسین(angular brackets)وقت پر اوسط کرنے کے عمل کو ظاہر کرتے ہیں۔حصہ7.2میں ہم واضح طورپر دیکھ چکے ہیں کہ اگر(ø (t وقت کے ساتھ اختیاری طورپر(randomly)تبدیل ہوتا ہے،تو وقت پر اوسط کی گئی مقدار
<cos2 (Φ2)>
 70،1/2 ہوتی ہے۔یہ ہم ویسے بھی،سوچ سکتے ہیں،کیونکہ تفاعل
cos2 (Φ/2)
71کی قدر،اختیاری طورپر،0اور1کے درمیان تبدیل ہوگی اور اوسط قدر1/2ہوگی۔ تمام نقاط پر،ماحصل شدت دی جائے گی:
I = 2 I°
(10.14) 72
جب دواہتراز کرتے ہوئے ماخذوں کے درمیان فیز فرق،وقت کے ساتھ،تیزی سے تبدیل ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ دونوں ماخذ غیر مربوط(incoherent)ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے تو شدتیں صرف سادہ طورپر جمع ہوجاتی ہیں۔ بالکل ایساہی اس وقت ہوتا ہے جب دو علاحدہ علاحدہ ماخذوں سے روشنی ایک دیوار پر پڑتی ہے۔

10.5روشنی کی لہروں کا تداخل اور ینگ کا تجربہ

(Interference of Light Waves and Young’s Experiment)


 اب ہم روشنی کی لہروں کے ذریعے پیدا ہونے والے تداخل سے بحث کریں گے۔اگر ہم دو سوڈیم لیمپ استعمال کریں،جو دو پن ہولوں(سوئی چھیدوں)(pinholes)کو روشن کررہے ہوں(شکل10.11)تو ہمیں کوئی تداخل فرنجیں (interference fringes)نہیں دکھائی دیں گی۔ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ ایک عام ماخذ(جیسے سوڈیم لیمپ) سے خارج ہونے والی لہروں 10-10 میں،سیکنڈ کے درجہ کے اوقات میںیکایک اور بے ربط فیز تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے دو علاحدہ علاحدہ ماخذوں سے خارج ہورہی روشنی کی لہروں میں کوئی متعین فیز رشتہ نہیں ہوگا اور وہ غیر مربوط ہوں گی۔جب ایسا ہوتا ہے،تو جیسا کہ پچھلے حصے میں بحث کی جاچکی ہے،اسکرین پر شدتیں آپس میں جڑ جائیں گی۔

73
اسکرینscreen سوڈیم لیمپsodium lamp
شکل10.11:اگر دوسوڈیم لیمپ دو سوئی چھیدوںS1 اور  S2کو روشن کرتے ہیں تو شدتیں آپس میں جڑ جائیں گی اور پردہ پر کوئی تداخل فرنجیں نہیں دکھائی دیں گی۔


74

تھامس ینگ(1773–1829) انگریز طبیعیات داں،  طبّی ماہر اور ماہر مصریات–ینگ نے مختلف النوع سائنسی مسائل پر کام کیا،جو آنکھ کی بناوٹ اور بصارت کے میکانزم سے روسیٹا پتھر کی رموزی عبارت کو پڑھنے تک پھیلے ہوئے ہیں۔انھوں نے روشنی کے لہر نظریہ کو دوبارہ زندہ کیا اور یہ پہچان لیا کہ تداخل کا مظہر روشنی کی لہر خاصیتوں کا ثبوت  مہیا کرتا ہے۔



برطانوی طبعیات داں تھامس ینگ(Thomas young)نے، S1اورS2سے خارج ہورہی لہروں کے فیزوں کو’’تالا بند‘‘(Lock)کرنے کی ایک انوکھی حکمت عملی اختیار کی۔انھوں نے ایک غیر شفاف(Opaque)پردہ پر بہت قریب قریب دو سوئی چھید بنائے[شکل10.12(a)]۔ یہ ایک دوسرے سوئی چھید’S‘سے آرہی روشنی سے روشن کیے گئے جب کہ اس’S‘سوئی چھید پر روشنی ایک چمکدار ماخذ سے پڑرہی تھی۔روشنی کی لہریںSسے باہر کی طرف پھیلتی ہیں اورS1 اورS2 دو مربوط ماخذوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں کیونکہ S1اورS2 سے باہرآرہی روشنی کی کرنیں ایک ہی فیزمیں’’تالہ بند‘‘ہوجاتے ہیں،یعنی کہ،وہ ہماری پانی کی لہرمیں دو اہتراز کرتی ہوئی سلائیوں کی طرح[شکل10.8(a)]مربوط ہوں گے۔
91
شکل10.12:تداخل نمونہ بنانے کے لیے ینگ کی ترتیب

اس لیے، S1اورS2 سے نکلنے والی کروی لہریں،پردہ ′GG پر تداخل فرنجیں پیدا کریں گی،جیسا کہ شکل10.12 (b) میں دکھایاگیا ہے۔حصہ10.4میں دیے ہوئے تجزیہ کو استعمال کرکے شدتوں کی اعظم اور اقل قدروں کے مقامات کی تحسیب کی جاسکتی ہے۔حصہ10.4میں ہم دکھاچکے ہیں کہ خط ′GG پر ایک اختیاری نقطہ P [شکل10.12 (b)]کو اعظم قدر کے متطابق ہونے کے لیے،ضروری ہے کہ

(10.15)
S2P - S1P = nλ;      n = 0, 1, 2....
                   75
اب
(S2P)2 - (S1 P)2 = [D2 + (x + d/2)2] - [D2 + (x - d/2)2] = 2x d
         76
جہاں: 
OP = x اور S1 S2 = d
138،اس لیے
S2P - S1P = 2xd/S2P + S1P
(10.16) 78
اگر،x, d<<Dتو SP + S1 P سب نما میں)کو 2Dسے تبدیل کرنے سے اقل ترین سہو شامل ہوگا۔ مثلاً d = 0.1 cm, D = 100 cm, OP = 1 cm(جو روشنی کی لہروں کو استعمال کرتے ہوئے ایک تداخل تجربہ کے لیے مخصوص قدروں کے مطابق ہیں)۔ہمیں حاصل ہوتا ہے
S2P + S1 P = [(100)2 + (1.05)2]½ + [(100)2] + (0.95)2]½ 
  ≈ 200.01 cm 
139
اس لیے اگر ہم S1P + S2P کو2Dسے تبدیل کردیں تو اس میں شامل سہوتقریباً 0.005%ہے۔ اس تقربیت کے ساتھ مساوات(10.16)ہوجاتی ہے:
(10.17)
S2P - S1P ≈ xd/D 83
اس لیے ہمیں تعمیری تداخل کے نتیجے میں ایک چمکدار علاقہ ملے گا،جب 
(10.18)
x = xn = nλD /d ; n = 0, 1,±2,....84
دوسری طرف،ہمیں تخریبی تداخل کے نتیجے ایک سیاہ علاقہ ملے گا،یعنی جب 
x = xn = (n + 1/2)          
85
(10.19)
x = xn = (n + 1/2) λD/d ; n = 0, ±1,±2 87
اس لیے،اسکرین پر سیاہ اور روشن پٹیاں ظاہر ہوتی ہیں،جیسا کہ شکل(10.13)میںدکھایا گیا ہے۔یہ پٹیاں فرنجیں(Fringes)کہلاتی ہیں۔مساواتیں(10.18)اور (10.19)ظاہر کرتی ہیں کہ سیاہ اور چمکدار پٹیوں میں مساوی فاصلہ ہوتا ہے اور دو لگاتار سیاہ اور چمکدار پٹیوں کے درمیان فاصلہ دیاجاتا ہے:
β = xn+1 -xn
86
یا
                   β = λD/d88
(10.20)
جو کہ فرنج چوڑائی کی ریاضیاتی عبارت ہے۔ظاہر ہے کہ مرکزی نقطہO(شکل10.12میں)چمکدار ہوگا،کیونکہS1O = S2O اوریہn = 0کے مطابق ہوگا۔مساوات (10.18)اگر ہم کاغذ کے مستوی پر عمود اورOسے گذرتا ہوا خط لیں(یعنی کہ،–yمحورپر)تب اس خط کے تمام نقاط S1اورS2 سے ہم فاصلہ ہوں گے اورہمیں ایک چمکدار مرکزی فرنج حاصل ہوگی،جو کہ ایک مستقیم خط ہے،جیسا کہ شکل10.13میںدکھایا گیا ہے۔پردہ پربن رہے تداخل نمونے کی شکل معلوم کرنے کے لیے ہم نوٹ کرتے ہیں کہ ایک مخصوص فرنج ان تمام نقاط کے لوکس کے مطابق ہوگی جن کے لیے 140کی قدر مستقلہ ہے۔جب بھی یہ مستقلہ95 کا صحیح عدد ضعف(integral multiple)ہوگا،فرنج چمکدار ہوگی اور جب بھی یہ مستقلہ  l/2کا طاق صحیح عدد ضعف(odd integral multiple)ہوگا،فرنج سیاہ ہوگی۔ اب نقطہPکا لوکس جوx–yمستوی میں ہے،اس طرح کہ 94 ایک مستقلہ ہے،ایک زائد (hyperbola)ہے۔ اس لیے فرنج نمونہ،بالکل درست طورپر،ایک زائد ہوگا،لیکن اگر فاصلہD،فرنج چوڑائی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتو فرنجیں تقریباً تقریباًمستقیم خط ہوں گی،جیسا کہ شکل10.13میں دکھایا گیا ہے۔

90
شکل10.13:دونقطہ ماخذS1اورS2سے پیدا ہوا،کمپیوٹر کے ذریعے بنایاگیا،پردہGG¢پر،فرنج نمونہ(شکل 10.12):(a)اور(b)،بالترتیبd = 0.005 mm اور 0.025 mmکے مطابق ہیں(دونوں شکلیںD = 5 cmاور    cm -510×5= λسے مطابقت رکھتی ہیں)[(OPTICS)،آپٹکس،اے گھٹک،ٹاٹا میکگراہل پبلشنگ کمپنی لمیٹڈ،نئی دہلی2000سے ماخوذ]

96
دو–جھری(ڈبل سلٹ(Double slitتجربے میں،جو شکل10.12bمیں دکھایا گیا ہے،ہم نے دونوں سلٹوں کے عمودی ناصف پر ماخذ سوراخ’S‘لیا ہے،جسے خطSOسے دکھایا گیا ہے۔کیا ہوگا اگر ماخذS،عمودی ناصف سے تھوڑا ہٹا ہوا ہو۔مان لیجیے کہ ماخذ کو کسی نئے نقطے′Sپر لے جایا گیا ہے اور فرض کرلیجیے کہS1اورS2 کا وسطی نقطہ Qہے۔اگر زاویہS′QS141ہے تومرکزی چمکدار فرنج زاویہ(–ø) پر دوسری طرف،ملے گی۔اس لیے اگر ماخذ عمودی ناصف پر ہو تو مرکزی فرنجOپر بنتی ہے،جو خود بھی عمودی ناصف پر ہے۔اگر Sکو ایک زاویہ′ø سے نقطہ′Sپر منتقل کردیاجائے تو مرکزی فرنج،ایک زاویہ(–ø)پر،نقطہ′Oپر دکھائی دیتی ہے،جس کا مطلب ہے کہ یہ یکساں زاویہ سے،ناصف کی دوسری طرف منتقل ہوجاتی ہے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ماخذ′S،وسطی نقطہ Qاور مرکزی فرنج کا نقطہO¢،ایک مستقیم خط میں ہیں۔
ہم اس حصہ کو ڈینس گیبر*(Dennis Gabor)کے نوبل لکچر سے لیے گئے ایک اقتباس کے ساتھ ختم کرتے ہیں:
’’روشنی کی لہر–طبع کا تھامس ینگ نے1801میں،ایک تعجب خیز سادہ تجربہ کے ذریعے،سب سے پہلے،مظاہرہ کیا۔انھوں نے سورج کی ایک کرن کو ایک تاریک کمرے میں داخل ہونے دیا،اس کے سامنے ایک ایسا تاریک پردہ رکھا جس میں دو چھوٹے چھوٹے سوئی چھید تھے،اور اس کے پیچھے کچھ فاصلہ پر ایک سفید پردہ رکھا۔تب انھیں ایک چمکدار خط کے دونوں طرف ایک ایک سیاہ خط نظرآیا،جس سے انھیں اس تجربہ کو دہرانے کے لیے حوصلہ ملا۔اب انھوں نے بطور روشنی کے ماخذ ایک اسپرٹ لیمپ لیا اور اس میں تھوڑا سانمک شامل کردیا تاکہ چمکدار پیلی سوڈیم روشنی حاصل ہو سکے۔اب انھوں نے کئی سیاہ خطوط دیکھے،جن کے درمیان مساوی فاصلہ تھا۔یہ اس بات کا پہلا واضح ثبوت تھا کہ روشنی میں روشنی کو جمع کرنے سے تاریکی پیدا ہوسکتی ہے۔یہ مظہر تداخل کہلاتا ہے۔تھامس ینگ کو ایسی ہی امید بھی تھی کیونکہ وہ روشنی کے لہر نظریہ پر یقین رکھتے تھے۔‘‘
یہاں ہم یہ ذکر کرنا چاہیں گے کہ حالانکہ S1 اورS2 نقطہ ماخذ ہیں،فرنجیں مستقیم خط ہیں۔اگر نقطہ ماخذوں کی جگہ ہمارے پاس جھریاں(slits)ہوں(شکل10.14)،تو نقطوں کے ہر جوڑوں پرایک مستقیم خط فرنج بنے گی،جس کے نتیجے میں بڑھی ہوئی شدت کی مستقیم خط فرنجیں حاصل ہوں گی۔

پردہ جس پر فرنجیں بنی ہیں
دو سلٹیں
واحد سلٹ
راہ فرق
97
شکل10.14:ینگ کے دو–سلٹ تجربے کا فوٹو گراف اور شدت تقسیم کا گراف
*ہولو گرافی کے اصول دریافت کرنے کے لیے،1971میں ڈینس گیبر کو طبیعات کے نوبل انعام سے نوازاگیا۔


مثال10.3: دو سلٹیں ایک دوسرے سے1mmکے فاصلے پر بنائی گئیں اور رپردہ کو 1میٹر دور رکھا گیا۔ اگر500nm طولِ لہر کی ہری روشنی استعمال کی جائے تو فرنجوں کے درمیان فاصلہ کتنا ہوگا؟

حل:

Dλ/d = 1× 5 ×10-7/1 ×10-3 98

                         =دولگاتار فرنجوں کے بیچ کی دوری
   = 5 × 10-4 m = 0.5 mm    99


مثال10.4 مندرجہ ذیل میں سے ہر ایک عمل کا ،ایک ینگ کے دو–سلٹ تجربے میں بننے والی تداخل فرنجوںپر کیا اثر ہوگا؟
(a) پردہ کو سلٹوں کے مستوی سے دور ہٹا دیا جائے۔
(b) ماخذ(یک رنگے) کو مقابلتاً کم طول لہر کے ماخذ(یک رنگے)سے بدل دیاجائے۔
(c) دونوں سلٹوں کے درمیانی فاصلے کو بڑھا دیاجائے۔
(d) ماخذ سلٹ کو دو–سلٹ مستوی کے نزدیک لے آیا جائے۔
(e) ماخذ سلٹ کی چوڑائی کو بڑھا دیاجائے۔
(f) یک رنگے ماخذ کو سفید روشنی کے ماخذ سے تبدیل کردیاجائے۔
(ہر عمل کے دوران مان لیجیے کہ نشان زد کی گئی تبدیلی کے علاوہ باقی سب مقداریں غیر تبدیل شدہ رہتی ہیں)

حل

(a) فرنجوں کا زاویائی درمیانی فاصلہ
(= λ/d)
100مستقلہ رہتا ہے۔فرنجوں کے درمیان اصل فاصلہ،دونوں سلٹ کے مستوی سے پردہ کے فاصلے کی مناسبت میں،بڑھ جاتا ہے۔
(b) دولگاتارفرنجوں کے درمیان فاصلہ(اورزاویائی درمیانی فاصلہ بھی)کم ہوجاتا ہے۔پھر بھی،نیچے(d)میں دی ہوئی شرط دیکھیے۔
(c) دولگاتار فرنجوں کا درمیانی فاصلہ(اورزاویائی درمیانی فاصلہ بھی)کم ہوجاتاہے۔پھر بھی،نیچے(d)میں دی ہوئی شرط دیکھیے۔
(d) فرض کیجیے ماخذ کا سائزSہے اور ماخذ کا دونوں سلٹوں کے مستوی سے فاصلہSہے۔تداخل فرنجیں دکھائی دینے کے لیے،شرط:
s/S < λ/d:
101مطمئن ہونا ضروری ہے،ورنہ ماخذ کے مختلف حصوں سے بنے ہوئے تداخل نمونے ایک دوسرے کے اوپر منطبق ہوجاتے ہیں اور کوئی فرنج نہیں دکھائی دیتی۔اس لیے،جیسے جیسے Sکم ہوجاتا ہے (یعنی کہ،ماخذ سلٹ کو قریب لایا جاتاہے)،تو تداخل نمونہ بھی تبدریج کم واضح ہوتا جاتا ہے اور جب ماخذ کو اتنا قریب لے آیا جاتا ہے کہ یہ شرط مطمئن نہیں ہوتی توفرنجیں غائب ہوجاتی ہیں۔جب تک ایسا نہیں ہوتا،فرنج درمیانی دوری اتنی ہی رہتی ہے۔
(e) وہی جو(d)میں بتایا گیا ہے۔جیسے جیسے ماخذ سلٹ چوڑائی بڑھتی جاتی ہے،فرنج نمونہ بتدریج کم واضح ہوتا جاتا ہے۔جب ماخذ سلٹ اتنی چوڑی ہوجاتی ہے کہ شرط:
s/S< λ/d: 
102مطمئن نہیں ہوتی،تداخل نمونہ غائب ہوجاتا ہے۔
(f) سفید روشنی کے مختلف رنگین اجزا سے بننے والے تداخل نمونے ایک دوسرے پر منطبق ہوجاتے ہیں(غیر مربوط طورپر)۔مختلف رنگوں کی وجہ سے بننے والی مرکزی چمکدار فرنجیں ایک ہی مقام پر بنتی ہیں۔      اس  لیے مرکزی فرنج سفید ہوتی ہے۔ایک نقطہPکے لیے،جس کے لیے:
(≈ 4000 Å),λb ہاں S2P - S1P = λb/2
103ہاں  104نیلے رنگ کی طول لہر کو ظاہر کرتا ہے،نیلا جز غائب ہوگا اور فرنج لال رنگ کی دکھائی دے گی۔اس سے تھوڑی سی دور،جہاں
(≈ 8000 Å),λb      S2Q - S1Q = λb = λr/2
105، جہاں106لال رنگ کا طول لہر ہے،فرنج میں نیلا رنگ سب سے زیادہ ہوگا۔
اس لیے،مرکزی سفید فرنج کے دنوں طرف،سب سے نزدیک لال فرنج ہوگی اور اس مرکزی فرنج سے سب سے دور والی فرنج نیلی دکھائی دے گی۔چند فرنجوں کے بعد کوئی فرنج نمونہ دکھائی نہیں دے گا۔

10.6انصراف(Diffraction)]

اگر ہم ایک غیر شفاف شے کے ذریعے بنائی گئی پر چھائیں کو غور سے دیکھیں،تو جیومیٹریائی پر چھائیں کے علاقے کے نزدیک ہمیں متبادل سیاہ اور چمکدار علاقے نظر آئیں گے،جیسے تداخل میں نظرآتے ہیں۔یہ انصراف کے مظہر کی وجہ سے ہوتاہے۔انصراف ایک ایسی عمومی خاصیت ہے جس کا مظاہرہ ہر قسم کی لہر کرتی ہے،چاہے وہ آواز–لہر ہو،روشنی کی لہریں ہوں یا مادہ–لہریں ہوں۔کیونکہ روشنی کا طول لہر زیادہ تر رکاوٹوں کے سائز کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے،روشنی کا انصراف کا مظاہرہ روزمرہ کے مشاہدوں میں نہیں آتا ہے۔ لیکن ہماری آنکھوں یا نوری آلات(جیسے دوربنیں یا خوردبینیں)کا متناہی جز تجریہ (Resolution)، انصراف کی وجہ سے محدود ہوجاتا ہے۔آپ کو ایکCDکو دیکھتے وقت جو رنگ نظر آتے ہیں وہ بھی انصراف کے اثرات ہی ہیں۔اب ہم انصراف کے مظہر سے بحث کریں گے۔

10.6.1واحدسلٹ(The single slit)

ینگ کے تجربے سے بحث کے دوران ہم نے کہا تھا ایک واحد،باریک سلٹ،روشنی کے ایک نئے ماخذ کے طورپر کام کرتی ہے،جس سے روشنی باہر پھیلتی ہے۔ینگ سے پہلے کے ماہر تجربہ سائنس دانوں،جن میں نیوٹن بھی شامل ہیں،نے بھی یہ نوٹ کیاتھا کہ باریک سوراخوں اور سلٹوں سے روشنی باہر پھیلتی ہے۔یہ کونوں پر سے مڑتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ان علاقوں میں داخل ہوجاتی ہے جہاں ہم پر چھائیں کی امید کررہے ہوتے ہیں۔یہ اثرات جو انصراف کہلاتے ہیں،صرف لہر تصورات کے ذریعے ہی مناسب طورپر پر سمجھے جاسکتے ہیں۔ آخر آپ کو ایک دیوار کے کونے کے پیچھے کھڑے ہوئے شخص کی آواز سن کر توکوئی حیرت نہیں ہوتی۔
جب ینگ کے تجربے میں استعمال کی گئی دوسلٹوں کو ایک واحد باریک سلٹ سے تبدیل کردیا جاتا ہے(جسے ایک یک رنگے ماخذ سے روشن کیاجاتا ہے)تو ایک چوڑا نمونہ دکھائی دیتا ہے،جس کا مرکزی حصہ چمکدار ہوتا ہے۔دونوں طرف متبادل تاریک اور چمکدار علاقے نظرآتے ہیں۔مرکز سے جیسے جیسے دور جاتے ہیں،شدت کمزور ہوتی جاتی ہے(شکل10.16)۔اس کو سمجھنے کے لیے،شکل10.15دیکھیے،جس میں روشنی کی ایک متوازی شعاع کو چوڑائیaکی واحد سلٹLNپر عمادی پڑتے ہوئے دکھایاگیا ہے۔انصراف شدہ روشنی آگے جاکر ایک پردہ پر پڑتی ہے۔سلٹ کا وسطی نقطہMہے۔
Mسے گذرتا ہوا ایک مستقیم خط جو سلٹ کے مستوی پر عمود ہے،پردہ سےCپر ملتا ہے۔ ہم پردہ کے کسی بھی نقطہPپر شدت معلوم کرنا چاہتے ہیں۔پہلے کی طرح ہمPکو مختلف نقاط L,M,Nوغیرہ سے ملانے والے خطوط کو ایک دوسرے کے متوازی مان سکتے ہیں،جو عمادMCسے زاویہøبناتے ہیں۔
بنیادی تصور یہ ہے کہ سلٹ کو بہت چھوٹے چھوٹے حصوں میںتقسیم کیاجائے اور پھرPپر ان کے ذریعے پیدا کی گئی شدت کے حصوں کو مناسب فیز فرقوں کے ساتھ جمع کرلیاجائے۔ہم سلٹ پر لہر محاذ کے مختلف حصوں کو بطور ثانوی ماخذ(secondary sources)مان رہے ہیں۔کیونکہ آنے والا لہر محاذ سلٹ کے مستوی کے متوازی ہے،یہ سب ماخذ فیز میں ہیں۔
سلٹ کے دونوں کناروں کے درمیان راہ فرق:(NP – LP)کی بالکل درست طورپر تحسیب کی جاسکتی ہے،جیسے ینگ کے تجربے کے لیے کی گئی تھی۔شکل10.15سے 
NP - LP = NQ
= a sin θ
= a θ
107
اسی طرح،اگر سلٹ مستوی کے دونقاط M1 اورM2کا درمیانی فاصلہyہے تو:
M2P - M1P ≈  y θ0
 109  راہ فرق،اب ہمیں ماخذوں کی ایک بڑی تعداد میںسے ہر ایک کے ذریعے دیے گئے حصوںکو جمع کرنا ہے جو آپس میں مساوی ہیں،مربوط ہیں اور جن میں سے ہر ایک کے درمیان فیز فرق ہے۔یہ تحسیب فریسنیل(Fresnel)نے،تکملاتی احیا(integral calculus)استعمال کرکے،کی،اس لیے ہم یہاں اسے شامل نہیں کررہے ہیں۔انصراف نمونے کی اہم خاصیتیں سادہ دلیلوں کے ذریعے سمجھی جاسکتی ہیں۔

117
شکل10.15:ایک واحد سلٹ سے انصراف کے لیے راہ فرقوں کی جیومیٹری

پردہ پر مرکزی نقطہCپر،زاویہø صفر ہے۔تمام راہ فرق صفر ہوں گے اور اس لیے سلٹ کے ہر جز کے ذریعے دیاجانے والا حصہ فیز میں ہوگا۔اس لیےCپر اعظم شدت حاصل ہوتی ہے۔شکل10.15میں دکھائے گئے تجرباتی مشاہدات نشاندہی کرتے ہیں کہ شدت کا ø = 0 پر ایک مرکزی اعظم(Maximum)ہے اور
θ ≅ (n + 1/2)λ/a
 112 پر دوسرے ثانوی اعظمات ہیں،اور
θ ≅ nλ/a
 113 پر اقلیات(Maxima)ہیں(صفر شدت)،جہاں،114یہ سمجھنا آسان ہے کہ زاویہøکی ان قدروں پر اقلیات کیوں ہوتے ہیں۔پہلے زاویہø لیجیے،اس طرح کہ راہ فرقa ،ø 95ہے۔تب
θ ≅ λ/a
(10.22) 116
اب سلٹ کو دو مساوی نصف حصوں میں تقسیم کیجیے،جو فرض کیا LM اور MN ہیں اور ان میںسے ہر ایک کاسائزa/2ہے۔LMکے کسی بھی نقطہM1 کے لیے MN میں ایک مطابق نقطہM2 ہوگا،اس طرح کہ:
M
 M2 = a/2
 118، (منتخب کیے گئے زاویہ کے لیے)
P = M2P - M1 P = θ a/2 = λ/2
 119پر M1 اور M2 کے درمیان راہ فرق اس کا مطلب ہوا کہM1 اور M2 سے حاصل ہورہے حصے180ºسے فیز کے باہر ہیں اور سمت 120 میں ایک دوسرے کی تنسیخ کردیتے ہیں۔
یہ سمجھنا بھی آسان ہے کہ
θ (n + 1/2) λ/a
 121پر اعظمات کیوں ہوتے ہیں اور وہnمیںاضافہ کے ساتھ کمزور سے کمزور تر کیوں ہوتے جاتے ہیں۔ایک زاویہ:
θ = 3λ/2a
 123لیجیے جودو تاریک فرنجوں کے درمیان ہے۔سلٹ کو تین مساوی حصوں میں تقسیم کیجیے۔ اگرہم سلٹ کے پہلے دو تہائی حصے کو لیں،تو اس کے کناروں کے درمیان راہ فرق ہوگا
(10.23)

2/3 a ×θ = 2a/3 × 3λ/2a = λ124
اس لیے سلٹ کے پہلے دو تہائی حصے کو دو ایسے مساوی نصف حصوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے جن کے درمیان راہ فرق 125 ہو۔ ان دونوں نصف جزوں کے ذریعے حاصل ہوئے حصے اسی طرح ایک دوسرے کی تنسیخ کردیتے ہیں،جیسا کہ اوپر بیان کیاگیا ہے۔صرف سلٹ کا باقی بچاایک تہائی جز ہی دو اقلیات کے درمیان ایک نقطہ پر شدت میںحصہ دیتا ہے۔ واضح ہے کہ یہ مرکزی اعظم کے مقابلے میں بہت کمزور ہوگا(جہاں پوری سلٹ فیز میںحصہ لیتی ہے)۔اسی طرح ہم دکھاسکتے ہیں کہ
(n + 1/2) λ/a
126پراعظمات ہوں گے،جہاںn = 2, 3,....،یہnمیں اضافہ کے ساتھ ساتھ کمزور سے کمزور ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ان صورتوں میں سلٹ کا صرف پانچواں،ساتواں،وغیرہ جزہی حصہ لیتا ہے۔اس سے مطابقت رکھنے والا فوٹو گراف اورشدت–نمونہ شکل10.16میں دکھائے گئے ہیں۔

پردہ جس پر نمونہ دیکھ جا رہا ہے                    اندر آ رہی لہر
127
شکل 10.16:ایک واحد سلٹ کے ذریعے انصراف کی شدت–تقسیم اور فوٹوگراف

تداخل اور انصراف کے مابین فرق کے بارے میں،ان مظاہر کی دریافت سے ہی،سائنس دانوں کے درمیان طویل بحثیں ہوتی رہی ہیں۔اس تناظر میں یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہوگا کہ رچرڈ فائن مین* نے اپنی مشہور کتاب’’فائن مین لیکچرز‘‘میں لکھا ہے:

’’کوئی بھی تداخل اور انصراف کے مابین فرق کی تسلی بخش تعریف نہیںکرسکا ہے۔ یہ صرف موقعہ استعمال پر منحصر ہے اور ان کے درمیان کوئی مخصوص،اہم طبعی فرق نہیں ہے۔ہم موٹے طورپر زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب صرف چند ماخذ ہوتے ہیں،جیسے دو تداخل پذیر ماخذ،تو حاصل ہونے والا نتیجہ عام طورسے تداخل کہلاتا ہے لیکن اگر ماخذوں کی تعداد بہت زیادہ ہو،تو لگتا ہے کہ زیادہ تر انصراف کا لفظ استعمال کیاجاتا ہے۔‘‘

دو–سلٹ تجربے میں ہمیں یہ ضرورنوٹ کرنا چاہیے کہ پردہ پر نظر آنے والا نمونہ دراصل ہر واحد–سلٹ یا سوراخ سے ہورہے انصراف اور سلٹ تداخل نمونے کا انطباق ہے۔ اسے شکل10.17میں دکھایاگیا ہے۔اس میں ایک مقابلتاً چوڑا انصراف–فراز نظرآتا ہے،جس میں مقابلتاً کم چوڑائی کی،دو–سلٹ تداخل کی وجہ سے بننے والی کئی فرنجیں نظرآتی ہیں۔ایک چوڑے انصراف فراز میں پائی جانے والی تداخل فرنجوں کی تعداد،نسبت128 پر منحصر ہے،یعنی کہ دوسلٹوں کے درمیانی فاصلے کی سلٹ کی چوڑائی سے نسبت پر۔aکے بہت خفیف ہوجانے کی حد میں،انصراف نمونہ بہت چپٹا ہوجائے گا اور ہم دو–سلٹ تداخل دیکھیں گے۔ [دیکھیے شکل10.13 (b)]

129
شکل10.17:اصل دو–سلٹ تداخل نمونہ–لفافہ واحد سلٹ انصراف کو ظاہر کرتا ہے۔

* رچرڈ فائن مین ان میں سے ایک تھے جنھیں1965کے طبیعیات کے نوبل انعام سے نوازاگیا۔انھیں یہ اعزاز کوانٹم برق–حرکیات میں ان کے ذریعے کیے گئے بنیادی کام کے لیے دیا گیا۔ 

مثال10.5:مثال10.3میں ہر سلٹ کی چوڑائی کتنی ہونی چاہیے کہ واحد سلٹ نمونہ کے مرکزی اعظم کے اندر دو–سلٹ نمونے کے 10اعظمات حاصل ہوسکیں۔
حل:ہم جانتے ہیں کہ،
a θ = λ, θ = λ/a
10 λ/d = 2 /a = d/5 = 02 mm  

130

نوٹ کریں کہ روشنی کا طول لہر اورپردہ کا فاصلہ،aکی تحسیب میں شامل نہیں ہیں۔

شکل10.12کے دو–سلٹ تداخل تجربے میں کیاہوگا،اگر ہم ایک سلٹ بند کردیں؟آپ دیکھیں گے کہ اب یہ ایک واحد–سلٹ جیسی صورت ہے۔لیکن آپ کو نمونے میںہونے والی کچھ منتقلی(shift)کا دھیان رکھنا ہوگا۔اب ہمارے پاس Sپر ایک ماخذ ہے اور صرف ایک سراخ(یا سلٹ)S1 یا S2 ہے۔یہ پردے پر ایک واحد–سلٹ انصراف نمونہ بنائے گا۔مرکزی چمکدار فرنج کا مرکز اس نقطہ پر نظرآئے گا جو خطSSیا SS2 پرہے،جیسی صورت ہو اس کے مطابق۔
اب ہم ایک تداخل نمونے کا مقابلہ اور موازنہ اس نمونے سے کرتے ہیں جو ایک مربوط طورپر روشن واحد–سلٹ سے دکھائی دیتا ہے(جسے عام طورسے واحد–سلٹ انصراف نمونہ کہتے ہیں)

(i) تداخل نمونے میں مساوی فاصلوں پر کئی چمکدار اورتاریک پٹیاںہوتی ہیں۔انصراف نمونے میں ایک مرکزی چمکداراعظم ہوتا ہے جو دوسرے اعظمات کے مقابلے میں دگنا چوڑا ہوتا ہے۔ہم جیسے جیسے مرکز سے دونوں طرف زیادہ فاصلے کے لگاتار اعظمات پر جاتے ہیں،شدت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔
(ii) ہم دو باریک سلٹوں سے نکلنے والی دولہروں کو منطبق کرکے تداخل نمونے کی تحسیب کرتے ہیں۔انصراف نمونہ ایک واحد–سلٹ کے ہر نقطہ سے نکلنے والی لہروں کے لگاتار خاندان کا انطباق ہے۔
(iii) چوڑائیaکی ایک واحد سلٹ کے لیے،تداخل نمونے کا پہلاصفر
λ/a Null
(Null142 کے زاویہ پر ہوتا ہے۔a/λ142کے اسی زاویہ پر،دوباریک سلٹوں سے جن کا درمیانی فاصلہaہے،ہمیں ایک اعظم ملتا ہے(صفر نہیں)۔
ہمیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہیے کہdاورaدونوں کو کافی خفیف ہونا چاہیے،تب ہی ہم تداخل اور انصراف کے اچھے نمونے دیکھ سکیں گے۔مثلاً دوسلٹوں کا درمیانی فاصلہ ایک ملی میٹر کے درجہ کا یااس جتنا ہونا چاہیے۔ہر سلٹ کی چوڑائی a،اس سے بھی کم ہونا لازمی ہے،0.1 mmیا0.2 mmکے درجے کی۔

ہم نے ینگ کے تجربے اور واحد–سلٹ انصراف کی اپنی بحث میںیہ فرض کرلیا کہ وہ پردہ جس پر فرنجیں دیکھی جارہی ہیں،لمبے فاصلے پر ہے۔سلٹ سے پردہ تک کے دویا دو سے زیادہ راستوں کو متوازی لیاگیا تھا۔یہی صورت تب بھی پیدا ہوتی ہے جب ہم سلٹ کے بعد ایک مرکوز لینس رکھ دیتے ہیں اوراس کے فوکس پر پردہ رکھتے ہیں۔سلٹ سے متوازی راستے پردہ پر ایک واحد نقطہ پر مجتمع ہوتے ہیں۔نوٹ کریں کہ لینس ایک متوازی شعاع میں کوئی مزید راہ–فرق نہیں شامِل کرتا۔یہ ترتیب اکثر استعمال کی جاتی ہے کیونکہ اس سے پردہ کو بہت زیادہ فاصلے پر رکھنے کے مقابلے میں زیادہ شدت حاصل ہوتی ہے۔اگرf،لینس کا فوکس فاصلہ ہے،تو ہم بہ آسانی مرکزی چمکدار اعظم کے سائز کا حساب لگا سکتے ہیں۔  زاویوں کی شکل میں،مرکزی اعظم کا انصرافی نمونے کے پہلے صفر سے فاصلہ 142ہے۔اس لیے پردہ پر سائز 
143ہوگا۔ fλ/a

10.6.2  واحد–سلٹ انصراف نمونہ دیکھنا

(Seeing the single slit diffraction pattern)

ہم خود بہت آسانی کے ساتھ واحد–سلٹ انصراف نمونہ دیکھ سکتے ہیں۔اس کے لیے درکار تجرباتی سامان زیادہ تر گھروں میں بہ آسانی دستیاب ہے۔دو تیز دھاروالے بلیڈ اور ایک صاف شیشے کا بجلی کا بلب،بہتر ہوگا اگر بلب کا فلامنٹ سیدھا ہو۔ہمیں دونوں بلیڈوں کو اس طرح رکھنا ہوگا کہ ان کے کنارے متوازی ہوں اور ان کے درمیان ایک باریک سلٹ ہو۔ایسا انگوٹھے اور انگشت شہادت(انگوٹھے کے بعد والی انگلی)کے ذریعے بہ آسانی کیاجاسکتا ہے۔(شکل10.18)

144
شکل10.18:دوبلیڈوں کو اس طرح پکڑنا کہ ایک واحد–سلٹ بن جائے۔اگر اس میں سے ایک بلب کے فلامنٹ کو دیکھا جائے تو واضح انصراف پٹیاں نظرآتی ہیں۔

سلٹ کو آنکھ کے بالکل سامنے فلامنٹ کے متوازی رکھیے۔اگر آپ چشمہ لگاتے ہیں تو چشمہ استعمال کیجیے۔ سلٹ کی چوڑائی کو اورکناروں کی متوازنیت کو ذرا سا درست کرنے پر،تاریک اور چمکدار فرنجوں والا نمونہ آپ کو نظر آنا چاہیے۔کیونکہ تمام پٹیوں کے مقامات (مرکزی پٹی کے علاوہ)،طول لہر پر منحصر ہیں،ان میں کچھ رنگ نظرآئیں گے۔ لال یا نیلے کے لیے اگر فلٹر(Filter)استعمال کیا جائے تو فرنجیں اور زیادہ واضح ہوجائیں گی۔ اگر دونوں فلٹر دستیاب ہوں تو لال پٹیاں نیلی پٹیوں کے مقابلے میں زیادہ چوڑی نظرآئیں گی۔
اس تجربے میں،فلامنٹ،شکل10.6میں دکھائی گئی پہلی سلٹ کا رول ادا کرتا ہے۔آنکھ کا لینس پردے پر نمونے کو فوکس کرتا ہے(پردہ چشم پر)۔
تھوڑی سی کوشش سے آپ ایک المونیم کی پنی(foil)میں ایک بلیڈ کی مدد سے ایک دہری سلٹ کاٹ سکتے ہیں۔پہلے کی طرح بلب کے فلامنٹ کو دیکھا جاسکتا ہے اور ینگ کے تجربے کو دہرا یا جاسکتا ہے۔دن کے وقت ایک دوسرا مناسب روشن ماخذ بھی حاصل ہوسکتا ہے جو آنکھ پر ایک خفیف زاویہ بناتا ہے۔یہ کسی بھی چمکدار حدبی سطح(جیسے سائیکل کی گھنٹی)میں سورج کا انعکاس ہے۔براہِ راست سورج کی روشنی کے ساتھ تجربہ مت کیجیے۔ اس سے آنکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور پھر اس سے فرنجیں بھی نہیں بنیں گی کیونکہ سورج °(1/2)کا زاویہ بناتا ہے۔
تداخل اور انصراف میں،روشنی کی توانائی کی دوبارہ تقسیم ہوتی ہے۔اگر یہ ایک علاقے میں کم ہوتی ہے اور تاریک فرنج بناتی ہے تو دوسرے علاقے میں اس میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ایک چمکدار فرنج بنتی ہے۔توانائی کا کوئی نقصان یا حصول نہیں ہوتا جو کہ توانائی کی بقا کے اصول کے ساتھ ساز گارر ہے۔

10.6.3  نوری آلات کی جزتجزیاتی طاقت

(Resolving power of optical instruments)

باب9میں ہم نے دوربینوں کے تعلق سے بحث کی تھی۔ دوربین کا زاویائی جز تجزیہ (angular resolution)دوربین کے بینیہ(objective)پر منحصر ہے۔وہ تارے جن کی بینیہ سے بنی شبیہہ کے ذریعے جز تجزیہ نہیںہوپاتا،چشمیہ کے ذریعے بعد میں ہونے والے کسی تکبیر سے بھی ان کا جز تجزیہ نہیں ہوتا۔چشمیہ کا بنیادی مقصد(کام)، بینیہ کے ذریعے بنی ہوئی شبیہہ کی تکبیر کرنا ہے۔
روشنی کی ایک متوازی شعاع لیجیے جو ایک حدبی لینس پر پڑرہی ہے۔اگر لینس سے تمام فتور(aberrations)اچھی طرح دور کردیے گئے ہیں تو جیومیٹریائی نوریات سے ہم جانتے ہیں کہ شعاع ایک نقطہ پر فوکس ہوگی۔لیکن،انصراف کی وجہ سے،شعاع ایک نقطہ پر فوکس ہونے کے بجائے ایک متناہی رقبے کے دھبے (spot)کی شکل میں فوکس ہوتی ہے۔اس صورت میں،انصراف کے اثرات کا حساب لگانے کے لیے ہم ایک مسطح لہر لیتے ہیں جو ایک دائری روزن(circular aperture)پر واقع ہے اور اس کے آگے ایک حدبی لینس ہے(شکل10.19)۔اس کے مطابق حاصل ہونے والے انصراف نمونے کا تجزیہ کافی پیچیدہ ہے،لیکن پھر بھی،اصولی طورسے یہ اس تجزیہ جیسا ہی ہے جو واحد–سلٹ انصراف نمونے کو حاصل کرنے کے لیے کیاگیاتھا۔ انصراف کے اثرات کو شامل کرتے ہوئے،فوکل مستوی پر بنا نمونہ ایک مرکزی چمکدار علاقہ پر مشتمل ہوگا، جو ہم مرکز تاریک اور چمکدار حلقوں(rings)سے گھرا ہوگا(شکل10.19)۔تفصیلی تجزیہ سے حاصل ہوتا ہے کہ مرکزی چمکدار علاقے کا نصف قطر، نزدیکی طورپر،دیاجاتا ہے
(10.24)
   rο ≈ 1.22 λf/2a = 0.61λf/a
145
شکل 10.19: ایک حدبی لینس پر روشنی کی ایک متوازی شعاع واقع ہے۔انصراف اثرات کی وجہ سے،شعاع ایک دھبے پر فوکس ہوتی ہے جس کا نصف قطر rο ہے:
rο ≈0.61≈ λf/a
جہاںfلینس کا فوکس فاصلہ ہے اور 2aلینس کے دائری روزن کے قطر یا لینس کے قطر میں سے وہ لمبائی ہے جو مقابلتاً کم ہو۔مخصوص طورپر،اگر
 α ≈ 5 cm  اور λ ≈0.5 um, ≈20cm
146
ہمیں حاصل ہوتا ہے
rο≈ 1.2 um 
147
حالانکہ دھبے کا سائز بہت خفیف ہے،یہ ایک دوربین یا خوردبین جیسے نوری آلات کی جز تجزیہ کی حد معلوم کرنے میں اہم ادا کرتا ہے۔دوتاروں کا بس جز تجزیہ ہوسکے، اس کے لیے
f∆ θ≈rο ≈ 0.61λf/a  
148
نتیجتاً
(10.25) θ ≈0.61λ/a 149
اس لیے150چھوٹا ہوگا اگر بینیہ کا قطر زیادہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ دوربین کی جز تجزیاتی طاقت بہتر ہوگی اگرaبڑا ہو۔ اسی وجہ سے بہتر جز تجزیہ کے لیے ایک دوربین کے بینیہ کا قطر بڑاہونا چاہیے۔

مثال10.6 فرض کیجیے کہ ایک تارے سے6000Åطول لہر کی روشنی آرہی ہے۔اس دوربین کے جز تجزیہ کی حد کیاہوگی، جس کے بینیہ کا قطر100انچ ہے؟
حل  ایک100انچ دوربین کا مطلب ہے:
2a = 100 (انچ) = 254 cm
159 اس لیے،اگر
λ≈6000Å = 6×10-5 
151
تب
(ریڈین)
∆θ≈0.61×6×10-5/127≈ 2.9×10-7   152


ہم ایک خردبین کے بینیہ کے لیے بھی ایسی ہی دلیلیں پیش کرسکتے ہیں۔اس صورت میں،شے کوfسے ذرا سے فاصلے پر رکھاجاتا ہے تاکہ شبیہہ فاصلہvپر بنے[شکل10.20]۔شبیہہ سائز کی شے سائز سے نسبت–دی جاتی ہے:153 شکل10.20سے دیکھاجاسکتا ہے۔
(10.26)
D/f = 2 tan β 154
جہاں2B ،بینیہ کے قطر کے ذریعے خوردبین کے فوکس پر بنایاگیا زاویہ ہے۔

شبیہ 
شبیہ مستوی
شے
شے مستوی
بینیہ لینس
155
شکل10.20:خردبین کے بینیہ لینس کے ذریعے بنی اصلی شبیہہ

جب ایک خردبینی نمونے کے دونقاط کا درمیانی فاصلہ،روشنی کی طول موج 95کے مقابلے کا ہوتا ہے تو انصراف اثرات اہمیت اختیار کرلیتے ہیں۔اب بھی نقطہ شے کی شبیہہ ایک انصراف–نمونہ ہوگی، جس کا شبیہہ مستوی سائز ہوگا:
(10.27)
vθ = v (1.22λ/D)156
ایسی دو اشیا جن کی شبیہہیں اس فاصلہ سے زیادہ نزدیک ہیں،ان کا جز تجزیہ نہیں ہوسکے گا،اور وہ ایک ہی معلوم ہوں گی۔ اس کے مطابق،شے–مستوی میں اقل ترین درمیانی فاصلہ157دیاجاتا ہے:
             
dmin = [v (1.22λ/D)] /m
= 1.22λ/D.v/m
= 1.22 f λ/D
      158
(10.28)

آنکھ کی جزجزیاتی طاقت معلوم کیجیے

آپ ایک سادہ تجربہ کی مدد سے اپنی آنکھ کی جز جزیاتی طاقت کا تخمینہ لگاسکتے ہیں۔مساوی چوڑائی کی کالی پٹیاں بنائیے،جن کے درمیان میں سفید پٹیاں ہوں،نیچے دی ہوئی شکل دیکھیے۔تمام کالی پٹیاں مساوی چوڑائی کی ہونا چاہئیں، جب کہ درمیانی سفید پٹیوں کی چوڑائی،جب آپ بائیں سے دائیں سمت میں جائیں،بڑھتی جاناچاہیے۔ مثلاً فرض کیجیے کہ ہر کالی پٹی کی چوڑائی5mm ہے۔پہلی دو سفید پٹیوں میں سے ہر ایک کی چوڑائی0.5mm ہے،اس کے بعد کی دو سفید پٹیوں میں سے ہر ایک چوڑائی1mm ہے اور پھر اگلی دو سفید پٹیوں میں سے ہر ایک کی چوڑائی 1.5mmہے،وغیرہ۔ پٹیوں کے اس نمونے کو ایک کمرے یا تجربہ گاہ کی دیوار پر چسپاں کردیجیے۔ اتنی اونچائی پر چپکائیے کہ وہ آپ کی آنکھ کی سیدھ میں رہے۔

160

اب نمونے کو دیکھیے، بہتر ہوگا ایک آنکھ سے دیکھیں۔دیوار کے نزدیک اور دورجاجا کر اس نمونے کو دیکھتے ہوئے وہ مقام معلوم کیجیے جہاں سے آپ کو صرف دو علاحدہ علاحدہ کالی پٹیاں نظرآئیں۔اس پٹی کی بائیں طرف والی سب کالی پٹیاں ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں گی اور علاحدہ علاحدہ نہیں نظرآئیں گی۔دوسری طرف اس کے دائیں طرف کی کالی پٹیاں اور زیادہ واضح نظرآئیں گی۔اس سفید پٹی کی چوڑائی نوٹ کیجیے جو دوسیاہ علاقوں کو علاحدہ کرتی ہے اور اپنی آنکھ سے دیوار تک کافاصلہ ’D‘ناپیے۔تب d/D161آپ کی آنکھ کا جز تجزیہ ہے۔
آپ نے کھڑکی سے اندرآتی ہوئی سورج کی شعاع میں،ہوا میں تیرتے ہوئے،دھول کا چھوٹا ساغبار(دھول کادھبہ) دیکھاہوگا۔ جس دھبے کو آپ واضح طورپر دیکھ سکتے ہوں اور قریب والے دھبے سے الگ کرسکتے ہوں،اس کا فاصلہ نوٹ کیجیے۔اپنی آنکھ کا جز تجزیہ اور دھبے کا فاصلہ اب آپ کو معلوم ہے،دھول کے دھبے کے سائز کا تخمینہ لگائیے۔

اب مساوات(10.26)اورمساوات(10.28)کو ملانے پر،ہمیں حاصل ہوتا ہے:
dmin = 1.22λ/2 tan β 
         ≅ 1.22λ/2 sin β               
162
(10.29)
اگر شے اور بینیہ–لینس کا درمیانی واسطہ(Medium)ہوانہ ہو بلکہ انعطاف نماnکا ایک واسطہ ہو،تو مساوات(10.29)کی ترمیم شدہ شکل ہے:
(10.30)
dmin = 1.22λ/2 n sin β   163
حاصل ضربn sinB ،عددی روزن(numerical aperture)کہلاتا ہے اور اکثر بینیہ پر درج ہوتا ہے۔
ایک خوردبین کی جزتجزیاتی طاقت، ان دونقاط کے کم ترین فاصلے کے مقلوب سے دی جاتی ہے جو الگ الگ دیکھے جاسکتے ہوں۔مساوات(10.30)سے دیکھاجاسکتا ہے کہ مقابلتاً بڑی قدر والے انعطاف نما کا واسطہ منتخب کرکے ایک خوردبین کی جزتجزیاتی طاقت میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔عام طورسے ایک ایسا تیل استعمال کیاجاتا ہے جس کا انعطاف نما استعمال کیے جارہے بینیہ –شیشے کے انعطاف نما کے قریب ہو۔ایسی ترتیب کو’’تیل غریق بینیہ‘‘(oil immersion objective)کہتے ہیں۔نوٹ کریں کہsin bکو1سے زیادہ بڑا بنانا ممکن نہیں ہے۔اس لیے،ہم دیکھتے ہیں کہ ایک خوردبین کی جز تجزیاتی طاقت بنیادی طورپر استعمال کی جانے والی روشنی کے طول موج سے متعین ہوتی ہے۔

جز تجزیہ اور تکبیر کے درمیان کچھ مغالطہ ہوسکتا ہے،اسی طرح ایک دوربین اور ایک خوردبین کے رول میں ان مقداروں (parameters)کو برتنے میں بھی مغالطہ ہوسکتا ہے۔ایک دوربین ان اشیا کی شبیہہ ہماری آنکھ کے نزدیک بناتی ہے جو ہم سے بہت دور ہیں۔اس لیے وہ اشیا دور ہونے کی وجہ سے جن کا جز تجزیہ نہیں ہوپاتا، انھیں اگر ایک دوربین کے ذریعے دیکھاجائے توان کا جز تجزیہ کرسکنا ممکن ہے۔ایک خردبین،دوسری طرف،اشیا کی تکبیر کرتی ہے (جو ہمارے نزدیک ہیں) اور ان کی ایک بڑی شبیہہ بناتی ہے۔ہوسکتا ہے ہم ایک بہت دور کے سیارے کے دوسیارچوں کو یا دوستاروں کو دیکھ رہے ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم ایک جاندار سیل کے مختلف علاقوں کو دیکھ رہے ہوں۔اس تناظر میں یہ یادررکھنا بہتر ہے کہ ایک دوربین جز تجزیہ کرتی ہے اور ایک خردبین تکبیر کرتی ہے۔

10.6.4کرن نوریات کی معقولیت (درستگی صحت)(The validity of ray optics)

ایک متوازی شعاع سے روشن کیاگیا ایک روزن(یعنی کہ سلٹ یا سوراخ)،جس کا سائز aہے،ایک زاویے میںانصراف شدہ روشنی بھیجتا ہے جو تقربی طورپر، 164 ہے۔یہ چمکدار مرکزی اعظم کا زاویائی سائز ہے۔اس لیے ایک انصراف شدہ شعاع،فاصلہzطے کرنے میں،انصراف کی وجہ سے چوڑائی 165اختیار کرلیتی ہے۔یہ جاننا دلچسپی کا باعث ہوگا کہzکی کس قدر کے لیے انصراف کی وجہ سے پیدا ہونے والا پھیلاؤ(spreading)،روزن کے سائزaکے مقابلے کا ہوجاتا ہے۔اس لیے ہم 165کو تقربی طورپر aکے مساوی کرتے ہیں۔اس سے ہمیں وہ فاصلہ حاصل ہوتا ہے،جس سے زیادہ فاصلہ پر چوڑائی کی شعاع کی غیر مرکوزیت(divergence)قابل لحاظ ہوجاتی ہے۔اس لیے
(10.31)  z ≅ a2166
ہم ایک مقدارzکی تعریف مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعے کرتے ہیں جو ’’فریزنیل فاصلہ‘‘کہلاتی ہے۔
zF ≅ a2 / λ
167
مساوات(10.31)سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان فاصلوں کے لیے جو ZFکے مقابلے میں بہت کم ہیں، انصراف کی وجہ سے پیدا ہونے والا پھیلاؤ، بیم کے سائز کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ یہ بیم کے سائز کے مقابلے کا ہوجاتا ہے اگر فاصلہ تقریباً ZF ہو۔ ان فاصلوں کے لیے جوZF سے بہت زیادہ ہیں،انصراف کی وجہ سے پیدا ہونے والا پھیلاؤ،کرن نوریات کے پھیلاؤ (یعنی کہ روزن کا سائز a)پر غالب آجاتا ہے۔مساوات(10.31)سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ طول موج کے صفر کی جانب ہونے کی حد میں بھی کرن نوریات درست ہے۔
مثال10.7 اگر روزن3mmچوڑا ہو اور طول لہر500nmہوتو کرن نوریات کس فاصلے تک اچھی تقربیت ہے؟

حل

zF = a2/λ = (3 × 10-3)2/5 × 10-7 168

اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ روزن اگر چھوٹا ہو تو انصراف سے ہونے والے پھیلاؤ کو کئی میٹر لمبی لہروں کے لیے بھی نظرانداز کیاجاسکتا ہے۔اس لیے کرن نوریات کئی عام حالتوں میں درست ہے۔

10.7تقطیٖب(Polarisation) 


ایک لمبی ڈوری لیجیے اور اس کے ایک سرے کو کسی ٹھوس جامد شے(جیسے دیوار) میں نصف کردیجیے اور دوسرے سرے کو اس طرح پکڑیے کہ ڈوری افقی رہے۔اگر ہم اس سرے کو اوپر،نیچے دوری طورپرحرکت دیں تو ہم ایک لہر بنائیں گے جس کی اشاعتx+ سمت میں ہوگی(شکل10.22)۔ایسی لہر کو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعے بیان کیاجاسکتا ہے!

169
شکل10.21 (a) :منحنی183پر،بالترتیب،ایک ڈوری کے نقل کو ظاہر کرتے ہیں جب کہ ایک سائن خم نما لہر کی اشاعت x+ سمت میں ہورہی ہے۔
(b)منحنیx=0پرنقل کے وقت–تغیر کو ظاہرکرتا ہے جب کہ ایک سائن خم نمالہر x+ سمت میں اشعاع ہورہی ہے۔x=Dxپر،نقل کا وقت–تغیر ذراسا دائیں جانب ہٹا ہوا ہوگا۔
(10.32) 171
جہاںaاور172،بالترتیب، لہر کی وسعت اور اس کے زاویائی تعدد کوظاہر کرتے ہیں۔ مزید،
(10.33)
λ = 2π/k173
لہرسے منسلک طول لہر کو ظاہر کرتا ہے۔ہم ایسی لہروں کی اشاعت سے درجہXIکی درسی کتاب کے باب15میں بحث کرچکے ہیں۔ کیونکہ نقل(جو–yسمت کی جانب ہے)، لہر کی اشاعت کی سمت کے زاویہ قائمہ پر ہے،ہمیں وہ لہر حاصل ہوگی جو عرضی لہرکہلاتی ہے۔ مزید یہ کہ، کیونکہ نقل–yسمت میں ہے،اس لیے اسے اکثر–yتقطیب شدہ لہر کہاجاتا ہے۔ مزید،ڈوری ہمیشہ–xyمستوی میں مقید رہتی ہے اور اس لیے اسے مسطح تقطیب شدہ لہر بھی کہتے ہیں 
اسی طور پر ہمx–zمستوی میں بھی ڈوری کا ارتعاش لیسکتے ہیں،جس سےz–تقطیب شدہ لہر پیدا ہوگی،جس کا نقل دیا جائے گا:
(10.34)
 z(x,t) = α sin (kx - wt)174
یہاں یہ بتادینا چاہیے کہ خطی طورپر تقطیب شدہ لہریں[مساوات(10.33)] اور مساوات(10.34)سے بیان کی گئی ہیں]،سب عرضی لہریں ہیں،یعنی کہ ڈوری کے ہر نقطہ کا نقل ہمیشہ لہر کی اشاعت کی سمت سے زاویہ قائمہ پر ہے۔آخر میں،اگر ڈوری کے ارتعاش کی مستوی کو وقت کے بہت مختصر وقفوں میں بے ترتیب اختیاری طورپر تبدیل کیاجاتا رہے تو ہمیں وہ لہر حاصل ہوتی ہے جو غیر تقطیب شدہ لہر کہلاتی ہے۔اس لیے،ایک غیر تقطیب شدہ لہر کے لیے نقل وقت کے ساتھ اختیاری بے ترتیب طورپر تبدیل ہوتا رہے گا حالانکہ یہ اشاعت کی سمت پر ہمیشہ عمود ہوگا۔
روشنی کی لہریں اپنی طبع کے لحاظ سے عرضی ہیں،یعنی کہ،اشاعت کرتی ہوئی ایک روشنی کی لہر سے منسلک برقی میدان ہمیشہ لہر کی اشاعت کی سمت کے ساتھ زاویہ قائمہ پر ہوگا۔ ایک سادہ پولیرائڈ(polaroid)استعمال کرکے اس کا مظاہرہ کیاجاسکتا ہے۔ ایک پولیرائڈ ایسے مالیکیولیوں کی ایک لمبی زنجیر پر مشتمل ہوتا ہے، جن کی صف بندی ایک خاص سمت میںہوتی ہے۔برقی سمتیے(اشعاع ہورہی روشنی کی لہر سے منسلک)جن کی سمت،صف بند مالیکیولوں کی جانب ہوتی ہے،جذب ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اگر ایک غیر تقطیب شدہ، روشنی کی لہر ایک ایسے پولیرائڈ پر واقع ہو تو روشنی کی لہر خطی طورپر تقطیب شدہ ہوجائے گی،جس کے برقی سمتیے ایسی سمت میں اہتراز کررہے ہوں گے جو صف بند مالیکیولوں پر عمود ہے،یہ سمت پولیرائڈ کا پاس–محور(pass axis)کہلاتی ہے۔
اس لیے اگر ایک عام ماخذ(جیسے ایک سوڈیم لیمپ) سے آرہی روشنی ایک پولیرائڈ چادرP1 سے گذرتی ہے تو یہ مشاہدہ میںآتا ہے کہ اس کی شدت آدھی رہ جاتی ہے۔P1کو گھمانے سے خارج ہوئی شعاع پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور خارج ہوئی شدت مستقلہ رہتی ہے۔اب فرض کیجیے کہ ایک متماثل(identical)پولیرائڈ کا ٹکڑا P1،P2سے پہلے رکھ دیاگیا ہے۔جیسا کہ امید کی جاتی ہے کہ لیمپ سے آرہی روشنی کی شدت صرفP2 سے گذرنے پر کم ہوجائے گی۔ لیکن اب P1 کو گھمانے سے P2 سے آرہی روشنی پر ایک ڈرامائی اثر ہوتا ہے۔ ایک خاص حالت (مقام) پرP2 اورپھرP1 سے گذرچکنے والی شعاع کی شدت صفر ہوجاتی ہے۔اس حالت(مقام) سے90ºسے گھمادینے پر، P2، P1سے باہر آنے والی تقریباً تمام شدت خارج کرتا ہے (شکل10.22)

175
شکل(a) 10.22:181 اورP1 ،دوپولیرائڈوں سے روشنی کا گذرنا–جب ان کا درمیانی زاویہ0سے90ºکے درمیان تبدیل کیاجاتاہے تو خارج ہورہی کسر1سے صفر ہوجاتی ہے۔نوٹ کریں کہ ایک واحد پولیرائڈP1 سے دیکھی جارہی روشنی زاویہ کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی۔(b)جب روشنی دوپولیرائڈوں سے گذرتی ہے،تب برقی–سمتیہ کا برتاؤ–خارج ہوئی تقطیب وہ جز ہے جو پولیرائڈ–محور کے متوازی ہے۔دہرے تیٖربرقی سمیتے کے اہترازات ظاہر کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا تجربہ کو بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے،اگر ہم یہ مان لیں کہ پولیرائڈ P2 سے گذرنے والی روشنی، P2 کے پاس–محور کی سمت میں تقطیب شدہ ہوجاتی ہے۔اگرP2 کا پاس–محورP1 کے پاس–محور سے زاویہθ بناتا ہے،تو جب تقطیب شدہ شعاع پولیرائڈ P2سے گذرتی ہے،جزE socθ  ( 181کے پاس–محور کی سمت میں) P2 سے گذرے گا۔اس لیے جب ہم پولیرائڈ P1(یاP2)کو گھماتے ہیں تو شدت اس طورپر تبدیل ہوتی ہے
(10.35) 176
جہاںP1 Iºسے گذرنے کے بعد تقطیب شدہ روشنی کی شدت ہے۔یہ مالوس کاقانون (Malus' law)کہلاتا ہے۔ مندرجہ بالا بحث سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایک واحد پولیرائڈ سے باہر آرہی لہر کی شدت واقع لہر کی شدت کا نصف ہوتی ہے۔ایک دوسرا پولیرائڈ رکھ دینے پر شدت کو مزید کنٹرول کیاجاسکتا ہے اور دونوں پولیرائڈوں کے پاس محوروں کے درمیان زاویہ کو درست کرکے شدت کو واقع شدت کے%5سے صفر کے درمیان تبدیل کیاجاسکتا ہے۔
پولیرائڈ،دھوپ کے چشموں،کھڑکی کے شیشوں وغیرہ میں شدت کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔پولیرائڈ فوٹوگرافی کے کیمروں اور3Dمتحرک فلم کیمروں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

مثال10.8 جب دو کراس کیے ہوئے پولیرائڈوں کے درمیان ایک پولیرائڈ چادر کو گردش دی جاتی ہے تو خارج ہونے والی روشنی کی شدت سے بحث کیجیے۔
حل فرض کیجیے کہ پہلے تقطیب کارP1 سے گذرنے کے بعد تقطیب شدہ روشنی کی شدت Iο ہے۔تب دوسرے تقطیب کارP2 سے گذرنے کے بعد روشنی کی شدت ہوگی
I =Iο cos2 θ
177
جہاںP1 θ کے پاس–محور اور P2 کے پاس–محور کا درمیانی زاویہ ہے۔کیونکہ P1 اور P2 کراس کیے ہوئے ہیں، P2 کے پاس–محور اور P3کے پاس–محور کا درمیانی زاویہ178 ہوگا۔اس لیےP3 سے باہر آنے والی روشنی کی شدت ہوگی:
I = Iο cos2 θ cos2 (π/2 - θ)
= Iο cos2 θ sin2 θ = (Iο/4) sin2 2 θ
179
اس لیے باہر آرہی روشنی کی شدت اس وقت اعظم ہوگی جب:
 θ = π/4 180

10.7.1انتشار کے ذریعے تقطیب(Polarisation by scattering)

جب ہم ایک گھمائے جارہے پولیرائڈ سے آسمان کے صاف نیلے حصے سے آرہی روشنی کو دیکھتے ہیں تو اس کی شدت زیادہ اور کم ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔یہ اور کچھ نہیں بلکہ سورج کی روشنی ہے،جس نے زمین کی فضا کے مالیکیولوں سے ٹکرانے (ان سے منتشر ہونے) کی وجہ سے اپنی سمت تبدیل کرلی ہے۔جیسا کہ شکل(a) 10.23میں دکھایا گیا ہے،واقع سورج کی روشنی غیر تقطیب شدہ ہوتی ہے۔نقطے(ڈاٹDots)شکل کے مستوی کی عمودی سمت میں تقطیب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دہرے تیر کاغذ کے مستوی میں تقطیب کو ظاہر کرتے ہیں۔ (ایک غیر تقطیب شدہ روشنی میں ان دونوں میںکوئی فیز رشتہ نہیںہوتا)واقع لہر کے برقی میدان کے زیر اثر،مالیکیولوں کے الیکٹران ان دونوںسمتوں میں حرکت کے اجزااختیار کرلیتے ہیں۔ ہم نے شکل میں ایک ایسا مشاہد دکھایا ہے جو سورج کی سمت سے90ºکے زاویہ پر دیکھ رہا ہے۔ظاہر ہے وہ چارج جو دہرے تیروں کے متوازی اسراع کررہے ہیں،مشاہد کی جانب توانائی کا اشعاع نہیں کرتے،کیونکہ ان کے اسراع کا کوئی عرضی جز نہیں ہے۔اس لیے مالیکیولوں سے منتشر ہوئی شعاعیں ڈاٹ(Dot)کے ذریعے دکھائی گئی ہیں۔ یہ شکل کے مستوی کی عمودی سمت میں تقطیب شدہ ہیں۔ اس طرح آسمان سے آرہی منتشر شدہ روشنی کی تقطیب کی وضاحت ہوجاتی ہے۔
مالیکیولوں کے ذریعے روشنی کے انتشار کا،سی۔وی۔رمن اور ان کے ساتھیوں نے،1920کی دہائی میں کولکاتہ میں گہرا مطالعہ کیا۔رمن کو ان کے اس کام کے لیے1930کے طبیعیات کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
منعطف 
واقع 
ہوا 
منعکس
 واسطہ
واقع سورج کی روشنی(غیر تقطیب شدہ)
منتشر ہوئی روشنی (تقطیب شدہ)
مشاہد کی جانب

184
شکل(a) 10.23:آسمان سے آرہی نیلی منتشر ہوئی روشنی کی تقطیب–واقع سورج کی روشنی غیر تقطیب شدہ ہے(ڈاٹ اور تیر)۔ایک مخصوص مالیکیول دکھایا گیا ہے۔یہ روشنی کو90ºسے منتشر کردیتا ہے، جو کاغذ کے مستوی پر عماد سمت میں تقطیب شدہ ہے(صرف ڈاٹ)۔
 (b)اس روشنی کی تقطیب جو ایک شفاف واسطے سے بریوسٹر زاویے پر منعکس ہورہی ہے(منعکس کرن،منعطف کرن پر عمود ہے)۔

مکمل ترسیل کی ایک مخصوص صورت

(A SPECIAL CASE OF TOTAL TRANSMISSION)

جب روشنی دو واسطوں کے باہمی رخ پر واقع ہوتی ہے،تو یہ دیکھا گیا ہے کہ اس کا کچھ حصہ منعکس ہوجاتاہے اور کچھ حصہ ترسیل ہوجاتا ہے۔اسی سے متعلق ایک سوال لیجیے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کچھ شرائط کے ساتھ، روشنی کی ایک یک رنگی شعاع جو ایک سطح پر واقع ہو(جو عام طور سے انعکاس کرتی ہے)،بغیر کسی انعکاس کے مکمل طورپر ترسیل ہوجائے:آپ کو حیرت ہوگی،جواب ہے:’’جی ہاں‘‘۔
پرزم
لیرز
پردہ
تقطیب کار
185
آئیے ایک سادہ تجربہ کریں اور دیکھیں کیاہوتا ہے۔ ایک لیزر،ایک اچھے تقطیب کار،ایک پرزم اور ایک پردہ کو اس طرح ترتیب دیجیے،جیسے اوپر شکل میں دکھایا گیا ہے۔
فرض کیجیے کہ لیزر ماخذ سے خارج ہوئی روشنی تقطیب کار سے گذرتی ہوئی،پرزم کی سطح پر، بریوسٹر کے زاویہ وقوع iB پر،واقع ہے۔ اب احتیاط کے ساتھ تقطیب کار کو گھمائیے اور اب آپ دیکھیں گے کہ تقطیب کار کی ایک مخصوص صف بندی کے لیے،پرزم پر واقع روشنی، مکمل طورپر ترسیل ہوجاتی ہے اور پرزم کی سطح سے کوئی روشنی منعکس نہیں ہوتی۔منعکس دھبہ مکمل طورپر غائب ہوجائے گا۔

10.7.2انعکاس کے ذریعے تقطیب(Polarisation by reflection)

شکل10.23 (b)میں ایک شفاف واسطے، فرض کیجیے پانی،سے منعکس ہوتی ہوئی روشنی دکھائی گئی ہے۔پہلے کی طرح ڈاٹ اور تیر نشاندہی کرتے ہیں کہ واقع منعطف لہروں میںدونوں تقطیبیں موجود ہیں۔ ہم نے ایسی حالت،اس شکل میں دکھائی ہے،جس میں منعکس لہر ،منعطف لہر سے90ºکا زاویہ بناتی ہے۔پانی کے اہتراز کرتے ہوئے مالیکیول منعکس لہر پیدا کرتے ہیں۔ یہ دوسمتوں میں حرکت کرتی ہے جو واسطہ میںلہر ،یعنی کہ منعطف لہر،کی شعاعوں کی عرضی سمتیں ہیں۔ تیر منعکس لہر کی سمت کے متوازی ہیں۔اس سمت میں حرکت منعکس لہر میںحصہ نہیں لیتی۔ جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے، اس لیے منعکس روشنی،شکل کے مستوی کی عمودی سمت میں(ڈاٹ سے دکھائی گئی)خطی طورپر تقطیب شدہ ہوجاتی ہے۔ منعکس روشنی کو ایک تجزیہ کار(analyser)کے ذریعے دیکھ کر اس کی جانچ کی جاسکتی ہے۔جب تجزیہ کار کا محور کاغذ کے مستوی میں، یعنی کہ وقوع کے مستوی میں،ہوگا تو ترسیل ہوئی شدت صفر ہوگی۔
جب غیر تقطیب شدہ روشنی دوشفاف واسطوں کی درمیانی سرحد پر واقع ہوتی ہے تو منعکس روشنی کی تقطیب ہوجاتی ہے اور اس کا برقی سمتیہ مستوی وقوع پر عمود ہوتا ہے،اگر منعطف اور منعکس کرنیں ایک دوسرے کے ساتھ زاویہ قائمہ بناتی ہیں۔اس طرح ہم نے دیکھاکہ جب منعکس لہر،منعطف لہر پر عمود ہوتی ہے تو منعکس لہر ایک مکمل طورپر تقطیب شدہ لہر ہوتی ہے۔اس صورت میں زاویہ وقوع، بر یوسٹر کا زاویہ(Brewster's angle)کہلاتا ہے اور اسے  سے ظاہر کرتے ہیں۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہiB کا مقابلتاً کثیف واسطے کے انعطاف نما سے رشتہ ہے۔کیونکہ ہمارے پاس ہے: 186،اس لیے اسنیل کے قانون سے ہمیں حاصل ہوتا ہے:
u =vsin iB/sinr = sin iB / sin (π/2 - iB
= sin iB/cos iB = tan iB
187
(10.36)
یہ بریوسٹر کے قانون کے بطور جانا جاتا ہے۔

مثال10.9 ایک مسطح شیشہ کی سطح پر غیر تقطیب شدہ روشنی واقع ہے۔زاویہ وقوع کتنا ہونا چاہیے کہ منعکس اور منعطف کرنیں ایک دوسرے پر عمود ہوں؟
حل (i+r)کو2/π188کے مساوی ہونے کے لیے،ہمیں چاہیے:
tan iB = u = 1.5
189،اس سے حاصل ہوتا ہے:
iB = 57°
190، ہوا سے شیشہ کے باہمی رخ کے لیے یہ بریوسٹر کا زاویہ ہے۔

آسانی کے لیے ہم نے روشنی کے90ºسے انتشار اور بریوسٹیر کے زاویے پر انعکاس سے بحث کی ہے۔اس مخصوص صورت میں،برقی میدان کے دونوں عمودی اجزا میں سے ایک صفر ہوتا ہے۔دیگر زایوں پر دونوں اجزا موجود ہوتے ہیں لیکن ایک،دوسرے کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہوتا ہے۔ ان دونوں عمودی اجزا کے درمیان کوئی مستحکم فیز رشتہ نہیں ہوتا  کیونکہ یہ دونوں ایک غیر تقطیب شدہ شعاع کے عمودی اجزا سے مشتق کیے جاتے ہیں۔ جب ایسی روشنی کو ایک گردش کرتے ہوئے تجزیہ کار سے دیکھاجاتا ہے تو ہمیں شدت کا ایک اعظم اور ایک اقل دکھائی دیتا ہے،مکمل تاریکی نہیں۔اس قسم کی روشنی کو ’‘’جزوی طورپر تقطیب شدہ‘‘کہتے ہیں۔
آئیے اس صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کریں۔جب ایک غیر تقطیب شدہ روشنی کی شعاع دوواسطوں کے باہمی رخ پر،بریوسٹر کے زاویے پر واقع ہوتی ہے،تو صرف روشنی کا وہ حصہ منعکس ہوتا ہے جس کا برقی میدان سمتیہ وقوع کے مستوی پر عمود ہے۔ اب ایک اچھا تقطیب کار استعمال کر کے اگر ہم اس تمام روشنی کو ہٹادیں جس کا برقی سمتیہ وقوع کے مستوی پر عمودی ہے اور اس روشنی کو پرزم کی سطح پر،بریوسٹر کے زاویے پر واقع ہونے دیں، تو آپ کوکوئی انعکاس نظر نہیں آئے گا اور روشنی کی مکمل ترسیل ہوگی۔
ہم نے اس باب کا آغاز یہ نشاندہی کرتے ہوئے کیا تھا کہ کچھ مظاہر ایسے ہیں،جن کی وضاحت صرف لہر نظریہ کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہے۔ایک مناسب سمجھ پیدا کرنے کے لیے ہم نے پہلے کچھ ایسے مظاہر بیان کیے،جن کا مطالعہ ہم باب9 میں کرن نوریات کی بنیاد پر کرچکے تھے اور دکھایاکہ انھیں لہر نوریات کی بنیادپر کیسے سمجھاجاسکتا ہے۔اس طرح کے مظاہر کی مثالیں ہیں انعکاس اور انعطاف۔پھر ہم نے ینگ کا دہری–سلٹ تجربہ بیان کیا جو کہ نوریات کے مطالعہ میںایک نقطہ انقلاب تھا۔ آخر میں ہم نے کچھ منسلکہ نکات،جیسے انصراف، جز تجزیہ، تقطیب اور کرن نوریات کی درستگی صحت، بیان کیے۔ اگلے باب میں آپ دیکھیں گے کہ 1900صدی عیسوی کے قریب نئے تجربات نے کس طرح نئے نظریوں تک رہنمائی کی۔

خلاصہ

ہائی جینس کااصول ہمیں بتاتا ہے کہ لہر محاذ کا ہر نقطہ ثانوی لہروں کا ماخذ ہے،جو آپس میں جمع ہوکر ایک بعد کے وقت پرلہر محاذ دیتی ہیں۔
ہائی جینس کی تشکیل ہمیں بتاتی ہے کہ نیا لہر محاذ ثانوی لہروں کا آگے کی سمت میں ملفوف ہے۔جب روشنی کی چال سمت کے غیر تابع ہوتی ہے،ثانوی لہریں کروی ہوتی ہیں۔تب کرنیں دونوں لہرمحاذوں پر عمود ہوتی ہیں اور کسی بھی کرن پر ناپے جانے والا وقتِ سفر یکساں ہوتا ہے۔ یہ اصول، انعکاس اور انعطاف کے مشہور قوانین تک راہ نمائی کرتا ہے۔
لہروں کے انطباق کے اصول کا اطلاق ہر اس موقعہ پر ہوتا ہے جب دو یا دو سے زیادہ روشنی کے ماخذ ایک ہی نقطہ کو روشن کرتے ہیں۔ جب ہم دیے ہوئے نقطہ پر ان ماخذوں کی وجہ سے روشنی کی شدت کو لیتے ہیں تو انفرادی شدتوں کے حاصل جمع کے علاوہ ایک تداخل رکن بھی ہوتا ہے۔لیکن یہ رکن تب ہی اہمیت رکھتا ہے جب اس کا غیر صفر اوسط ہو۔ایسا صرف اسی وقت ہوتا ہے جب ماخذوں کا تعدد یکساں ہو اور ان کے درمیان مستحکم فیز فرق ہو۔
ینگ کی دو سلٹ سے، جب کہ سلٹوں کے درمیان فاصلہdہے،مساوی درمیانی فاصلے کی فرنجیں حاصل ہوتی ہیں، جن کا زاویائی درمیانی فاصلہ191ہوتا ہے۔ماخذ،سلٹوں کا وسطی نقطہ اور مرکزی چمکدار فرنج ایک خط مستقیم میںہوتے ہیں۔ایک توسیعی ماخذ (extended source)فرنجوں کو برباد کردے گا اگر وہ سلٹ پر191سے بڑا زاویہ بناتا ہے۔
چوڑائی ’a‘ کی واحد سلٹ سے جو انصراف نمونہ ملتا ہے اس میں مرکزی اعظم ہوتا ہے۔192  وغیرہ کے زاویوں پر شدت صفر ہوجاتی ہے،اور درمیان میں لگاتار کمزور ہوتے ہوئے ثانوی اعظمات ہوتے ہیں۔انصراف ایک دوربین کے زاویائی جز تجزیہ کو193 تک محدود کردیتا ہے،جہاںDقطر ہے۔دو تارے جو اس سے زیادہ نزدیک ہوں،ایک دوسرے پربہت زیادہ منطبق شبیہہیں بناتے ہیں۔ اسی طرح،اگر ایک خوردبین کا وہ بینیہ جو فوکس پر2Bزاویہ بناتا ہے اور ایک nانعطاف نما کے واسطے میںرکھاہوا ہے ایسی دو اشیا کو بس علاحدہ بھر کرے گا جن کے درمیان 194فاصلہ ہے،جو کہ خوردبین کی جز تجزیہ حد ہے۔انصراف سے روشنی کی کرنوں کے تصور کی حد متعین ہوتی ہے۔aچوڑائی کی ایک شعاع انصراف کی وجہ سے پھیلنا شروع کرنے سے پہلے فاصلہ195طے کرتی ہے،جسے فریزنیل فاصلہ کہتے ہیں۔
قدرتی روشنی،مثلاً سورج سے آرہی روشنی،غیر تقطیب شدہ ہوتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ پیمائش کے دوران، برقی سمتیہ،تیزی کے ساتھ بغیر کسی ترتیب کے عرضی مستوی میں تمام ممکنہ سمتیں اختیار کرتا ہے۔ ایک پولیرائڈ صرف ایک جز(مخصوص محور کے متوازی)کی ترسیل کرتا ہے۔اس طرح حاصل ہونے والی روشنی خطی طورپر تقطیب شدہ روشنی یا مسطح تقطیب شدہ روشنی کہلاتی ہے۔جب اس قسم کی روشنی کو ایک دوسرے ایسے پولیرائڈ سے دیکھاجاتا ہے،جس کا محور196سے گھومتا ہے،شدت کے دو اعظمات اور دواقلیات دکھائی دیتے ہیں۔ تقطیب شدہ روشنی ایک مخصوص زاویہ پر انعکاس کے ذریعے (جوبریوسٹر کا زاویہ کہلاتا ہے)اور زمین کی فضا میں197سے انتشار کے ذریعے پیدا کی جاسکتی ہے۔

قابل غور نکات

1۔ ایک نقطہ ماخذ سے لہریں تمام سمتوں میں پھیلتی ہیں۔سفید روشنی پتلی کرنوں کی شکل میں سفر کرتی دیکھی گئی ہے۔ہائی جینس،ینگ اور فریزنیل کے ادراک اور ان کے تجربات کے ذریعے ہی یہ سمجھا جاسکا کہ لہر نظریہ کس طرح روشنی کے برتاؤ کے تمام پہلوؤں کی وضاحت کرسکتا ہے۔
2۔  لہروں کی فیصلہ کن نئی خاصیت،مختلف ماخذوں سے آرہی روشنی کی لہروں کی وسعتوں کا تداخل ہے جو تعمیری اور تخریبی دونوں ہوسکتا ہے ،جیسا کہ ینگ کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے۔
3۔ ایک واحد سلٹ پر پڑرہی لہر کو بھی ماخذوں کی ایک بڑی تعداد سمجھنا چاہیے جو سامنے کی سمت میں(q =0)تعمیری طورپر تداخل کرتی ہیں اور دیگر سمتوں میں تخریبی طورپر۔
4۔ انصراف کا مظہر کرن نوریات کی حد متعین کرتا ہے۔بہت نزدیک کی اشیا میں فرق کرنے کی،خردبینوں اور دوربینوں کی صلاحیت کی حد،روشنی کے طولی لہر سے متعین ہوتی ہے۔
5۔ بیشتر تداخل اورانصراف اثرات طول لہروں، جیسے آواز کی لہروں،کے لیے بھی پائے جاتے ہیں۔ لیکن انصراف کا مظہر صرف عرضی لہروں، جیسے روشنی کی لہریں،کے لیے ہی مخصوص ہے۔

مشق

10.1    589nm طول لہر کی یک رنگی روشنی ہوا سے ہوتی ہوئی ایک پانی کی سطح پر واقع ہے۔طول لہر،تعدد اور چال کیا ہیں؟(a)منعکس روشنی کی(b)منعطف روشنی کی۔پانی کا انعطاف نما1.33ہے۔
10.2   مندرجہ ذیل میں سے ہر صورت میں لہر محاذ کی شکل کیا ہوگی؟
(a)  ایک نقطہ ماخذ سے غیر مرکوز ہوتی ہوئی روشنی
(b)  ایک حدبی لینس سے باہر آرہی روشنی،جب کہ اس کے فوکس پر ایک نقطہ ماخذ رکھا ہے۔
(c)  ایک بہت دور کے ستارے سے آرہی روشنی کے لہر محاذ کا وہ حصہ جسے زمین قطع کرتی ہے۔
10.3  (a)   شیشہ کا انعطاف نما1.5ہے۔شیشہ میں روشنی کی چال کیا ہے؟(خلا میں روشنی کی چال
3.0 × 108 m s-1
198ہے)۔

      (b)   کیا شیشہ میں روشنی کی چال،روشنی کے رنگ کے غیر تابع ہے؟اگر نہیں تو شیشہ کے پرزم میں لال اور اودے رنگوں میں سے کس کی چال مقابلتاً کم ہوگی؟
10.4 ایک ینگ دو–سلٹ تجربے میں،سلٹوں کے درمیان0.28mm فاصلہ ہے اور پردہ 1.4m دور رکھا ہوا ہے۔مرکزی چمکدار فرنج اور چوتھی چمکدار فرنج کے درمیان ناپا گیا فاصلہ1.2cm ہے۔تجربہ میں استعمال کی گئی روشنی کا طول لہر معلوم کیجیے۔
10.5 ایک ینگ دو–سلٹ تجربے میں،طول لہر199کی یک رنگی روشنی استعمال کی گئی۔ پردہ کے اس نقطہ پر جہاں راہ فرق 199ہے،شدتRاکائیاں ہے۔اس نقطہ پر روشنی کی شدت کیا ہوگی جہاں راہ فرق200ہے؟
10.6     روشنی کی ایک شعاع،جو دوطول لہر،650nmاور520nmپر مشتمل ہے،ایک ینگ دو–سلٹ تجربے میں تداخل فرنجیں حاصل کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔
(a)  650nmطول لہر کے لیے،پردہ پر بنی تیسری چمکدار فرنج کا مرکزی اعظم سے فاصلہ معلوم کیجیے۔
(b)   مرکزی اعظم سے اس مقام کا کم ترین فاصلہ کیا ہوگا جہاں دونوں طول لہر سے بن رہی چمکدار فرنجیں منطبق ہیں؟
10.7     ایک دو–سلٹ تجربے میں،1m دور رکھے ہوئے پردہ پر بن رہی ایک فرنج کی زاویائی چوڑائی 0.2ºناپی گئی۔استعمال کی گئی روشنی کا طول لہر600nmہے۔اگر پورے تجرباتی سامان کو پانی میں رکھ دیاجائے تو اس فرنج کی زاویائی چوڑائی کیاہوگی؟ پانی کا انعطاف نمالیجیے۔
10.8      ہوا سے شیشے میں منتقلی کے لیے بریوسٹر زاویہ کتنا ہوگا؟(1.5=شیشہ کا انعطاف نما)
10.9      5000 Åطول لہر کی روشنی ایک مسطح انعکاسی سطح پر پڑتی ہے۔منعکس روشنی کے طول لہر اور تعدد کیا ہیں؟ کس زاویہ وقوع کے لیے منعکس کرن،واقع کرن پر عماد ہوگی؟
10.10     اس فاصلہ کا تخمینہ لگائیے جس کے لیے4mmروزن اور400nmطول لہر کے لیے،کرن نوریات اچھی تقربیت ہے۔

مزید مشق

10.11 ایک تارے میں ہائیڈروجن سے خارج ہوئی6563 Å ،Haلائن کی15 Åسے سرخ منتقلی معلوم کی گئی۔ وہ چال معلوم کیجیے جس سے تارہ زمین سے دورجارہا ہے۔
10.12 وضاحت کیجیے کہ ذریچہ نظریہ کس طرح یہ پیشن گوئی کرتا ہے کہ روشنی کی چال خلا کے مقابلے میں ایک واسطے،جیسے پانی، میں زیادہ ہوگی۔کیااس پیشن گوئی کی تصدیق پانی میں روشنی کی چال معلوم کرنے کے لیے کیے گئے تجربہ سے ہوتی ہے؟ اگر نہیں، تو روشنی کی کون سی متبادل تصویر اس تجربہ سے سازگار ہے؟
10.13 آپ اس سبق میںسیکھ چکے ہیں کہ ہائی جینس کا اصول کس طورپر انعکاس اور انعطاف کے قوانین تک رہنمائی کرتا ہے۔اسی اصول کو استعمال کرکے براہِ راست طورپر اخذ کیجیے کہ ایک مسطح آئینے کے سامنے رکھّی ہوئی شے کی غیر حقیقی شبیہہ بنتی ہے اور شبیہہ کا آئینے سے فاصلہ، شے کے آئینے سے فاصلے کے مساوی ہوتا ہے۔
10.14 آئیے کچھ ایسے عوامل کی فہرست تیار کریں جو جو لہر کی اشاعت کی چال پر ممکن ہے اثرا نداز ہوسکتے ہوں۔
(i)  ماخذ کی طبع
(ii)  اشاعت کی سمت
(iii)  ماخذ اور/یامشاہد کی حرکت
(iv)  طول لہر 
(v)  لہر کی شدت
ان میں سے کن عوامل پر،اگر کوئی ہے،تابع ہے
(a)  خلا میں روشنی کی چال
(b)  واسطے (جیسے شیشہ یا پانی) میں روشنی کی چال

10.15    آواز کی لہروں کے لیے،تعدد منتقلی کے لیے ڈاپلر فارمولے میں مندرجہ ذیل دونوں صورتوں میں ذرا سا فرق ہے۔(i)ماخذ حالت سکون میں ہے، مشاہد حرکت کررہا ہے(ii)ماخذ حرکت کررہا ہے،مشاہد حالت سکون میں ہے۔لیکن خلا میں روشنی کی لہروں کے لیے بالکل درست ڈاپلر فارمولے ان دونوں صورتوں کے لیے بالکل متماثل ہیں۔ بتائیے کہ ایسا کیوں ہے؟کیا آپ امید کریں گے کہ ایک واسطے میں سے گذرتی ہوئی روشنی کے لیے بھی دونوں صورتوں میںیہ فارمولے بالکل متماثل ہوں گے؟
10.16    ایک دو –سلٹ تجربے میں،600nmطول لہر کی روشنی استعمال کرتے ہوئے،ایک فاصلے پر رکھے ہوئے پردہ پربن رہی ایک فرنج کی زاویائی چوڑائی0.1oناپی گئی۔ دونوں سلٹوں کی درمیانی فاصلہ کیا ہے؟
10.17 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے:
    (a) ایک واحد سلٹ انصراف تجربے میں،ایک سلٹ کی چوڑائی، آغازی چوڑائی کی دوگنی کردی گئی۔اس سے مرکزی انصراف پٹی کے سائز اور اس کی شدت پر کیا اثر پڑے گا؟
    (b) ہر ایک سلٹ سے انصراف کا ایک دو–سلٹ تجربے میں حاصل ہونے والے تداخل نمونے سے کیا رشتہ ہے؟
(c) جب ایک بہت دور رکھے ماخذ سے آرہی روشنی کے راستے میں ایک بہت مختصر دائری رکاوٹ رکھ دی جاتی ہے تو رکاوٹ کے سایہ کے مرکز پر ایک چمکدار دھبہ نظرآتا ہے۔وضاحت کیجیے کیوں؟
(d) ایک 10میٹر اونچے کمرے میں دو طلبا کو ایک7mاونچی تقسیم–دیوار کے ذریعے علاحدہ کردیا گیاہے۔اگر روشنی اور آواز دونوں کی لہریں رکاوٹوں پر مڑسکتی ہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ وہ طالب علم ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پاتے جب کہ وہ آسانی سے آپس میں بات چیت کرسکتے ہیں؟
(e) کرن نوریات اس مفروضے پر مبنی ہے کہ روشنی ایک مستقیم خط میں سفر کرتی ہے۔انصراف اثرات (جو روشنی کی پتلے روزن/سلٹ میں سے ترسیل یا بہت چھوٹی رکاوٹوں کے گرد ترسیل کے دوران دیکھے جاتے ہیں) اس مفروضہ کو غلط ثابت کرتے ہیں۔پھر بھی کرن نوریات کا مفروضہ،نوری آلات میں شبیہہات کے مقام اوران کی بہت سی دیگر خاصیتوں کو سمجھنے کے لیے اکثر وبیشتر استعمال کیاجاتا ہے۔اس کو کیسے حق بجانب مانا جاسکتا ہے۔
10.18    دوپہاڑیوں پر دو مینارہیں، جن کے درمیان40kmفاصلہ ہے۔ان کو ملانے والا خط،میناروں کے درمیان نصف دوری پر ایک پہاڑی سے50mاوپر سے گذرتا ہے۔ریڈیو لہروں کی سب سے زیادہ طول لہر کیا ہوسکتی ہے،جو ان دونوں میناروں کے درمیان، بغیر کسی قابل لحاظ انصراف اثر کے،بھیجی جاسکے؟
10.19     500nmطول لہر کی ایک متوازی،روشنی کی شعاع ایک پتلی سلٹ پر پڑتی ہے اور حاصل ہونے والا انصراف–نمونہ، 1mدوررکھے ہوئے پردہ پر دیکھا جاتا ہے۔یہ مشاہدہ کیاجاتاہے کہ پہلا اقل،پردہ کے مرکز سے 2.5mmکے فاصلے پر ہے۔سلٹ کی چوڑائی معلوم کیجیے۔
10.20 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے:
    (a)      جب ایک کم اونچائی پر اڑتا ہوا ہوائی جہاز ہمارے سرکے اوپر سے گذرتا ہے تو اکثر ہمیںTVکے پردہ پر تصویر کچھ ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اس کی ممکنہ وجہ تجویز کیجیے۔
(b) جیسا کہ آپ سبق میں پڑھ چکے ہیں کہ لہر نقل کے خطی انطباق کا اصول،انصراف اور تداخل نمونوں میں شدت–تقسیم کو سمجھنے میں بنیادی کردار اداکرتا ہے۔ اس اصول کے حق بجانب ہونے کی کیا دلیل ہے؟
10.21   واحد–سلٹ انصراف نمونہ مشتق کرنے میں،یہ کہا گیا تھا کہ201کے زاویوں پر شدت صفر ہے۔سلٹ کو مناسب طورپر تقسیم کرکے تنسیخ حاصل کرتے ہوئے اسے درست قراردیجیے۔