باب گیارہ
اشعاع اور مادے کی دوہری طبع
DUAL NATURE OF RADIATION AND MATTER
11.1 تعارف (INTRODUCTION)
برق مقناطیسیت کی میکسویل کی مساواتوں اور1887میں ہرٹزکے ذریعے کیے گئے برق–مقناطیسی لہروں کے پیداکرنے اور شناخت کرنے کے تجربات نے روشنی کی لہر طبع کو مستحکم بنیاد پر قائم کردیا۔ تقریباًاسی زمانے میں،انیسویں صدی کے خاتمہ کے قریب، ایک ڈسچارج ٹیوب میں لی گئی کم دباؤ والی گیسوں میں سے برق کی ایصالیت(برقی ڈسچارج) کی تجرباتی تحقیق نے کئی تاریخی دریافتوں کی راہ دکھائی۔1895میں رونٹجن(Roentgen)کے ذریعے کی گئی xکرنوں کی دریافت اور1897میں جے۔جے۔ تھامسن(J.J. Thomson)کی الیکٹران کی دریافت،ایٹمی شناخت کی تفہیم میں اہم سنگ میل تھیں۔ یہ معلوم ہوا کہ کافی کم دباؤ، تقریباً پارہ کالم کا0.001mm،پر ایک ڈسچارج ٹیوب میں بھری گیس پر برقی سطحسے دونوں برقیروں کے درمیان ایک ڈسچارج پیداہوتاہے۔ منفیرہ (cathode)کے سامنے لگے ہوئے شیشے پر ایک درخشاں دمک(fluorescent glow)دکھائی دیتی ہے۔شیشے پر پیدا ہونے والی دمک کا رنگ شیشے کی قسم پر منحصر ہے،سوڈا شیشے کے لیے یہ دمک پیلاہٹ لیے ہوئے ہرے رنگ کی ہوتی ہے۔اس درخشانیت کے پیدا کرنے کا ذمہ دار اس اشعاع (radiation)کو مانا گیا جو منفیرہ سے آتا ہوا معلوم ہورہا تھا۔یہ منفیرہ کرنیں(cathode rays) ولیم کروُکس (William Crookes)نے1870میں دریافت کیں۔انھوں نے ہی بعد میں،1879میں،تجویز کیا کہ یہ کرنیں تیزی سے حرکت کرتے ہوئے،منفی چارج شدہ ذرات کے دھاروں پر مشتمل ہیں۔برطانوی طبیعیات داں، جے۔جے۔تھامسن،نے اس فرضیہ(hypothesis)کی تصدیق کردی۔ڈسچارج ٹیوب کے سروں پر عمودی برقی اورمقناطیسی میدان لگا کر،جے۔جے۔تھامسن نے،سب سے پہلے،تجربہ کے ذریعے منفیرہ–کرنوں کے ذرات کی چال اور نوعی چارج(Specific Charge)[چارج کی کمیت سے نسبت(e/m)]کی قدریںمعلوم کیں۔یہ معلوم ہوا کہ یہ کرنیں روشنی کی چال
کی تقریباً0.1گناسے0.2گناتک کی چال سے سفر کرتی ہیں۔e/mکی موجودہ تسلیم شدہ قدر
ہے۔ مزید یہ معلوم ہوا کہ،(e/m)کی قدر منفیرہ (مخروجemitter) میں استعمال کیے گئے مادہ/دھات یا ڈسچارج ٹیوب میں بھری گئی گیس کی طبع کے غیر تابع ہے۔اس مشاہدہ سے منفیرہ کرن ذرات کی آفاقیت تجویز پائی۔
اسی زمانے میں،1887میں،یہ معلوم ہوا کہ کچھ دھاتیں،بالابنفشئی روشنی سے اشعاع شدہ ہونے پر منفی چارج شدہ ذرات خارج کرتی ہیں،جن کی رفتار خفیف ہوتی ہے۔ان ذرات کی(e/m)قدر، منفیرہ کرن ذرات کی(e/m) قدر کے یکساں تھی۔ان مشاہدات سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ تمام ذرات، حالانکہ مختلف صورتوں میں پیدا ہوتے ہیں،اپنی طبع کے لحاظ سے متماثل ہیں۔جے۔جے۔تھامسن نے1887میں ان ذرات کو’’الیکٹران(electron)‘‘کا نام دیا اورتجویز کیا کہ یہ ذرات مادے کے آفاقی،بنیادی اجزا ہیں۔گیسوں کے ذریعے برق کی ایصالیت پر کی گئی نظری اورتجرباتی تحقیق کے ذریعے کی گئی،جے۔جے۔تھامسن کی اس عصر آفریں دریافت کے لیے انھیں 1906کے طبیعیات کے نوبل انعام سے نوازاگیا۔1913میں،امریکن طبیعیات داں آر۔اے۔ملیکن(R.A. Millikan) (1868–1953) نے اپنا رہنمایانہ تیل–قطرہ(oil–drop)تجربہ کیا،جس کے ذریعے،انھوں نے ایک الیکٹران کے چارج کی،درستگی صحت کے ساتھ،پیمائش کی۔انھوں نے معلوم کیا کہ ایک تیل کے قطرے پر پایا جانے والا چارج ہمیشہ ایک بنیادی چارج،
کا صحیح عددی ضعف (integral multiple)ہوتا ہے۔ملیکن کے تجربے سے یہ ثابت ہوگیا کہ برقی چارج کوانٹم سازی شدہ (quantised)ہوتا ہے۔چارج(e)اورنوعی چارج(e/m)کی قدروں سے، الیکٹران کی کمیت(m)معلوم کی جاسکتی ہے۔
11.2 الیکٹران اخراج (Electron Emission)
ہم جانتے ہیں کہ دھاتوں میںآزاد الیکٹران ہوتے ہیں(منفی چارج شدہ ذرات) جو کہ ان کی ایصالیت کے ذمہ دار ہیں۔لیکن،یہ آزاد الیکٹران عام طور سے دھات کی سطح سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اگر ایک الیکٹران دھات سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو دھات کی سطح پر ایک مثبت چارج آجاتا ہے اور وہ الیکٹران کو واپس دھات میں کھینچ لیتا ہے۔اس طرح یہ آزاد الیکٹران آئنوں کی کششی قوت کی وجہ سے دھات کی سطح کے اندر ہی رکے رہتے ہیں۔نتیجتاً،یہ الیکٹران دھات کی سطح سے تب ہی باہر آسکتے ہیں جب ان کے پاس اتنی توانائی ہو جو اس کششی کھینچاؤپر قابو پانے کے لیے کافی ہو۔اس لیے ایک الیکٹران کو دھات سے باہر کھینچ سکنے کے لیے اسے توانائی کی ایک خاص کم ازکم مقدار مہیا کرانا ضروری ہے۔یہ کم ترین توانائی جو ایک الیکٹران کو دھات کی سطح سے باہر کھینچنے کے لیے الیکٹران کو دی جانا لازمی ہے،دھات کا کام فنکشن (work function) کہلاتی ہے۔ اسے عام طور سے
سے ظاہر کیا جاتا ہے اور eV (Electran volt) میں ناپا جاتا ہے۔ ایک الیکٹران وولٹ، الیکٹران کے ذریعے حاصل کی گئی وہ توانائی ہے جو وہ 1 volt کے مضمر فرق سے اسراع کرائے جانے پر حاصل کرتا ہے، اس طرح: 
توانائی کی یہ اکائی ایٹمی اور نیوکلیائی طبیعیات میں عام طور سے استعمال کی جاتی ہے۔ کام فنکشن
، دھات کی خاصیتوں اور سطح کی طبع کے تابع ہے۔ کچھ دھاتوں کے کام فنکشن کی قدریں جدول 11.1 میں دی گئی ہیں۔ یہ قدریں تقربی ہیں کیونکہ یہ سطح ملاوٹوں (surface impurities) کے لیے بہت حساس ہیں۔
جدول 11.1 سے نوٹ کریں کہ پلاٹنم کا ورک فنکشن سب سے زیادہ ہے
اور سیزیم (Cesium) کے لیے اس کی قدر سب سے کم ہے
۔
دھات کے سطح سے الیکٹران کے اخراج کے لیے درکار توانائی، آزاد الیکٹرانوں کو مندرجہ ذیل طریقوں میں سے کسی بھی طریقے کے ذریعے مہیا کی جاسکتی ہے:
جدول 11.1 کچھ دھاتوں کے ورک فنکشن
(Work Functions of Some Metals)
| دھات |
(eV) ∅º ورک فنکشن |
دھات |
(eV) ∅º ورک فنکشن |
Cs
K
Na
Ca
Mo
Pb
|
2.14
2.30
2.75
3.20
4.17
4.25
|
A1
Hg
Cu
Ag
Ni
Pt
|
4.28
4.49
4.65
4.70
5.15
5.65
|
(i) حربجلیائی اخراج (Thermionic emission): مناسب طور پر گرم کرنے کے ذریعے، آزاد الیکٹرانوں کو اتنی توانائی مہیا کی جاسکتی ہے جو ان کے دھات کی سطح سے باہر آسکنے کے لیے کافی ہو۔
(ii) فیلڈ اخراج (Field emission): ایک دھات پر بہت طاقت ور برقی میدان لگاکر (
کے درجہ کا)، الیکٹرانوں کو دھات سے باہر کھینچا جاسکتا ہے، جیسا کہ اسپارک پلگ (Spark plug) میں کیا جاتا ہے۔
(iii) نوری-برقی اخراج (Photo electric emission): جب ایک مناسب تعدد کی روشنی ایک دھات کی سطح کو روشن کرتی ہے، تو دھات کی سطح سے الیکٹرانوں کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ نور (روشنی) سے خارج ہوئے الیکٹران نوری الیکٹران (Photoelectron) کہلاتے ہیں۔
11.3 نوری- برقی اثر (Photoelectric Effect)
11.3.1 ہرٹز کے مشاہدات (Hertz’s observations)
نوری-برقی اخراج کا مظہر 1887 میں ہنرک ہرٹز (Heinrich Hertz) (1857-1894) نے دریافت کیا۔ اس کا مشاہدہ ہرٹز نے برق-مقناطیسی لہروں کے اپنے تجربات کے دوران کیا۔ ایک اسپارک ڈسچارج کے ذریعے برق-مقناطیسی لہروں کے پیدا کرنے کے لیے ہرٹز نے جو تجربات کیے، اس تجرباتی تحقیق کے دوران ہرٹز نے مشاہدہ کیا کہ جب ایک آرک لیمپ کی بالا بنفشئی روشنی کے ذریعے مخروج (Emitter) چادر کو روشن کیا جاتا ہے تو شناخت کار لوپ (Detector loop) کے گرد اعلیٰ وولٹیج اسپارک میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
دھات کی سطح پر روشنی ڈالنے سے کسی نہ کسی طور پر چارج شدہ ذرات، جنھیں اب ہم الیکٹران کے بہ طور جانتے ہیں، کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔ جب ایک دھات کی سطح پر روشنی پڑتی ہے تو سطح کے قریب کے کچھ الیکٹران واقع اشعاع سے اتنی توانائی جذب کرلیتے ہیں جو اس سطح کے مادے کے مثبت آئنوں کی کشش کی مخالفت کرسکنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اس طرح، واقع روشنی سے درکار توانائی حاصل کرلینے کے بعد الیکٹران دھات کے سطح سے باہر نکل کر اردگرد فضا میں چلے جاتے ہیں۔
11.3.2 ہال ویخس اور لینارڈ کے مشاہدات
1896-1902 کے دوران ولہیلم ہال ویخس (Wilhelm Hallwachs) اور فلپ لینارڈ (Philipp Lenard) نے نوری-برقی اخراج کے مظہر کی تفصیلی تحقیق کی۔
لینارڈ (1862-1947) نے مشاہدہ کیا کہ جب بالا بنفشئی شعاعوں کو ایک خلا کی ہوئی شیشے کی ٹیوب، جس میں دو برقیرہ (Electrodes) بند ہیں، کی مخروج چادر پر پڑنے دیا جاتا ہے تو سرکٹ میں کرنٹ بہنے لگتا ہے (شکل 11.1)۔ جیسے ہی بالا بنفشئی اشعاع کو روکا جاتا ہے، کرنٹ کا بہنا بھی فوراً ہی بند ہوجاتا ہے۔ یہ مشاہدات نشاندہی کرتے ہیں کہ جب بالا بنفشئی اشعاع مخروج چادر C پر پڑتا ہے تو اس سے الیکٹران خارج ہوتے ہیں جو مثبت، جمع کار چادر (Collector plate) A کی جانب، برقی میدان کے ذریعے، کشش ہوتے ہیں۔ اس طرح خلاکی ہوئی شیشے کی ٹیوب میں الیکٹرانوں کے بہنے سے کرنٹ بہنے لگتا ہے۔ اس لیے مخروج کی سطح پر پڑ رہی روشنی باہری سرکٹ میں کرنٹ بہنے کا سبب ہے۔ ہال ویخس اور لینارڈ نے مطالعہ کیا کہ یہ فوٹو کرنٹ جمع کار چادر کے مضمر اور واقع روشنی کے تعدد اور اس کی شدت کے ساتھ کس طور پر تبدیل ہوتا ہے۔
1888 میں ہال ویخس نے اس مطالعے کو مزید آگے بڑھایا اور ایک الیکٹرو سکوپ سے ایک منفی چارج شدہ زنک پلیٹ منسلک کی۔ انھوں نے مشاہدہ کیا کہ جب زنک کی پلیٹ کو بالا بنفشئی روشنی سے روشن کیا جاتا ہے تو وہ اپنا چارج ضائع کردیتی ہے۔ مزید یہ کہ جب ایک غیر چارج شدہ زنک پلیٹ پر بالا بنفشئی روشنی ڈالی جاتی ہے تو وہ مثبت چارج شدہ ہوجاتی ہے۔ مثبت چارج شدہ زنک پلیٹ کے مثبت چارج میں، اس پربالا بنفشئی روشنی ڈالنے سے، اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان مشاہدات سے انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بالا بنفشئی روشنی کے عمل پذیر ہونے سے زنک پلیٹ سے منفی چارج شدہ ذرات خارج ہوتے ہیں۔
1897 میں الیکٹران کی دریافت کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ واقع روشنی، مخروج پلیٹ سے الیکٹرانوں کا اخراج کرتی ہے۔ منفی چارج شدہ ہونے کی وجہ سے، خارج ہوئے یہ الیکٹران، برقی میدان کے ذریعے، جمع کارپلیٹ کی جانب کشش ہوتے ہیں۔ ہال ویخس اور لینارڈ نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ بالا بنفشی شعاعوں کے مخروج پلیٹ پر پڑنے سے اس وقت کوئی الیکٹران بھی خارج نہیں ہوتا جب واقع روشنی کا تعدد ایک خاص اقل ترین قدر سے کم ہوتا ہے، جو کہ دہلیز تعدد (Threshold frequency) کہلاتا ہے۔ یہ اقل ترین تعدد، مخروج پلیٹ کے مادہ کی طبع کے تابع ہے۔
یہ معلوم ہوا کہ کچھ خاص دھاتوں، جیسے زنک، کیڈمیم، میگنیشیم وغیرہ میں صرف بالا بنفشئی روشنی، جس کی طولِ موج مختصر ہوتی ہے، سے ہی سطح سے الیکٹران کا اخراج ہوتا ہے۔ لیکن کچھ کھار (alkali) دھاتوں، جیسے لیتھیم، سوڈیم، پوٹاشیم، سیزیم اور روبیڈیم وغیرہ میں بصری روشنی کے ذریعے بھی یہ اخراج ہوتا ہے۔ یہ تمام فوٹو حساس اشیا روشنی کے پڑنے پر الیکٹرانوں کا اخراج کرتے ہیں۔ الیکٹرانوں کی دریافت کے بعد، ان لیکٹرانوں کو ’’فوٹو الیکٹران‘‘ کہا جانے لگا۔ اس مظہر کو نوری-برقی اثر کہتے ہیں۔
11.4 نوری-برقی اثر کا تجرباتی مطالعہ
(Experimental Study of Photoelectric Effect)
شکل 11.1 میں نوری-برقی اثر کا تجرباتی مطالعہ کرنے کے لیے تجرباتی سامان کی ترتیب کا ایک خاکہ پیش کیاگیا ہے۔ یہ ایک خلا کی ہوئی شیشے / کوارٹز کی ٹیوب پر مشتمل ہے، جس میں ایک فوٹو حساس پلیٹ C اور ایک اور دھات کی پلیٹ A ہوتی ہے۔ ماخذ 'S' سے نکل رہی کافی کم طولِ موج کی یک رنگی روشنی کھڑکی W سے گزر کر فوٹو حساس پلیٹ C (مخروج) پر پڑتی ہے۔ شیشے کی ٹیوب میں کوارٹز کی بنی ہوئی ایک شفاف کھڑکی چسپاں کردی (مہربند طریقے سے) جاتی ہے، جس سے بالا بنفشی شعاعیں گزرسکتی ہیں اور فوٹو حساس پلیٹ، پر اشعاع کرسکتی ہیں۔ پلیٹ C سے الیکٹران خارج ہوتے ہیں، اور بیٹری کے ذریعے C اور A پلیٹوں کی قطبیت کو بدلا جاسکتا ہے۔ اس لیے پلیٹ A کو مخروج C کی مناسبت سے درکار مثبت یا منفی مضمر پر قائم رکھا جاسکتا ہے جب جمع کارپلیٹ A، مخروج پلیٹ C کی مناسبت سے مثبت ہوتی ہے تو الیکٹران اس کی جانب کشش ہوتے ہیں۔ الیکٹرانوں کا اخراج سرکٹ میں برقی کرنٹ کا بہاؤ پیدا کرتا ہے۔ مخروج اور جمع کار پلیٹوں کے درمیان مضمر فرق کو ایک وولٹ میٹر (V) کے ذریعے ناپا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سرکٹ میں بہنے والے فوٹو کرنٹ کو ایک مائیکرو ایم میٹر (uA) کے ذریعے ناپا جاتا ہے۔ جمع کارپلیٹ A کے مخروج پلیٹ C کی مناسبت سے، مضمر کو تبدیل کرکے برقی-نوری کرنٹ کو کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے۔ واقع روشنی کی شدت اور اس کے تعددکو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے اور مخروج C اور جمع کار A کے مابین مضمر فرق کو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
کوارٹز کی بنی کھڑکی
خلا کی ہوئی شیشے کی ٹیوب
فوٹو حساس پلیٹ
الیکٹڑان
کمپیوٹیٹر

شکل 11.1: نوری-برقی اثر کے مطالعہ کے لیے تجرباتی سامان کی ترتیب
ہم شکل 11.1 میں دکھائے گئے تجرباتی سامان کی ترتیب کے ذریعے (a) اشعاع کی شدت (b) واقع اشعاع کا تعدد (c) A اور C کے درمیان مضمر فرق (d) پلیٹ C کے مادہ کی طبع، کے ذریعے فوٹو کرنٹ میں ہونے والی تبدیلی کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ مخروج C پر پڑنے والی روشنی کے راستے میں رنگین فلٹر یا رنگین شیشہ رکھ کر مختلف تعدد کی روشنی استعمال کی جاسکتی ہے۔ روشنی کی شدت کو روشنی کے ماخذ کا مخروج سے فاصلہ تبدیل کرکے، تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
11.4.1 فوٹو کرنٹ پر روشنی کی شدت کا اثر
(Effect of intensity of light on photocurrent)
جمع کار A کو، مخروج C کی مناسبت سے، ایک مثبت مضمر پر قائم رکھا جاتا ہے تاکہ C سے خارج ہونے والے الیکٹران، جمع کار A کی جانب کشش ہوسکیں۔ واقع روشنی کے تعدداورمضمر کو معین رکھتے ہوئے، روشنی کی شدت کو تبدیل کیا جاتا ہے اور ہر بار اس کے نتیجے میں بہنے والے نوری-برقی کرنٹ کی پیمائش کی جاتی ہے۔ یہ دیکھا گیا کہ فوٹو کرنٹ میں واقع روشنی کی شدت کے ساتھ خطّی طور پر اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ شکل 11.2 میں گرافی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ فوٹو کرنٹ، فی سیکنڈ خارج ہونے والے فوٹو الیکٹرانوں کی تعداد کے راست مناسب ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ ایک سیکنڈ میں خارج ہونے والے فوٹو الیکٹرانوں کی تعداد، واقع روشنی کی شدت کے راست متناسب ہے۔
نوری - برقی کرنٹ
روشنی کی شدت

شکل 11.2: روشنی کی شدت کے ساتھ نوری-برقی کرنٹ کی تبدیلی
11.4.2 نوری -برقی کرنٹ پر مضمر کا اثر
(Effect of potential on photoelectric current)
ہم پہلے پلیٹ A کو پلیٹ C کی مناسبت سے کسی مثبت مضمر پر رکھتے ہیں اور پلیٹ C کو ایک معین تعدد "v" اور معین شدت I1 کی روشنی سے روشن کرتے ہیں۔ پھر ہم پلیٹ A کے مثبت مضمر کو بتدریج تبدیل کرتے ہیں اور ہر بار اس کے نتیجے میں بہنے والے فوٹو کرنٹ کی پیمائش کرتے ہیں۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ مثبت(اسراع کار) مضمر میں اضافہ کرنے سے نوری-برقی کرنٹ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک منزل پر پلیٹ A کے کسی مخصوص مثبت مضمر کے لیے، خارج ہوئے تمام الیکٹران پلیٹ A پر جمع ہوجاتے ہیں اور نوری-برقی کرنٹ اعظم یا سیرشدہ ہوجاتا ہے۔ اب اگر ہم پلیٹ A کے اسراع کار مضمر میں مزیداضافہ کریں تو فوٹو کرنٹ میں اضافہ نہیں ہوتا۔ نوری-برقی کرنٹ کی یہ اعظم قدر سیرشدگی کرنٹ (Saturation Current) کہلاتی ہے۔ سیرشدگی کرنٹ اس صورت سے مطابقت رکھتا ہے جب مخروج پلیٹ سے خارج ہونے والے تمام الیکٹران جمع کار پلیٹ A پر پہنچ جاتے ہیں۔
فوٹو کرنٹ
روکنے والا مضمر
جمع کا پلیٹ مضمر
ابطا کار مضمر

شکل 11.3: واقع اشعاع کی مختلف شدتوں کے لیے جمع کار پلیٹ مضمر کے ساتھ فوٹو کرنٹ کی تبدیلی
اب ہم پلیٹ A پر پلیٹ C کی مناسبت سے منفی (ابطاکار) مضمر لگاتے ہیں اور اسے بتدریج مزید منفی بناتے جاتے ہیں۔ جب قطبیت مخالف ہوجاتی ہے تو الیکٹران دفاع ہونے لگتے ہیں اور سب سے زیادہ توانائی والے الیکٹران ہی جمع کار A تک پہنچ پاتے ہیں۔ اب فوٹو کرنٹ تیزی سے کم ہونے لگتا ہے، یہاں تک کہ پلیٹ A پر منفی مضمر
کی، بہ خوبی معرف، فاصل قدر پر صفر ہوجاتا ہے۔ واقع اشعاع کے ایک مخصوص تعدد کے لیے پلیٹ A کا وہ کم ترین منفی (ابطاکار) مضمر
جس پر فوٹو کرنٹ رک جاتا ہے یا صفر ہوجاتا ہے قطع مضمر (Cutoff potential) یا روکنے والا مضمر (Stoppping potential) کہلاتا ہے۔
اس مشاہدہ کی فوٹو الیکٹرانوں کی شکل میں توضیح واضح ہے۔ دھات سے خارج ہونے والے تمام الیکٹرانوں کی توانائی یکساں نہیں ہوتی۔نوری-برقی کرنٹ اس وقت صفر ہوجاتا ہے جب روکنے والے مضمر کی قدر اتنی ہوتی ہے کہ سب سے زیادہ توانائی والے الیکٹران کو بھی دفع کرنے کے لیے کافی ہو، جس کی اعظم حرکی توانائی (Kmax)
ہے:
(11.1)
Kmax = e Vº
ہم اسی مشاہدہ کو واقع اشعاع کے یکساں تعدد لیکن مقابلتاً اعلیٰ شدت
کے لیے دہرا سکتے ہیں۔ اب ہم پاتے ہیں کہ سیرشدگی کرنٹ بھی مقابلتاً اعلیٰ قدروں پر حاصل ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقع اشعاع کی شدت کے راست متناسب ہونے کی وجہ سے فی سیکنڈ زیادہ الیکٹران خارج ہوتے ہیں۔ لیکن روکنے والا مضمر وہی رہتا ہے جو I1 شدت کے واقع اشعاع کے لیے تھا، جیسا کہ شکل 11.3 میں گرافی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ اس لیے، واقع اشعاع کے دیے ہوئے تعدد کے لیے، روکنے والا مضمر اس کی شدت کے غیر تابع ہے۔ دوسرے الفاظ میں، فوٹو الیکٹرانوں کی اعظم حرکی توانائی، روشنی کے ماخذ اور مخروج پلیٹ کے مادے کے تابع ہے لیکن واقع اشعاع کی شدت کے غیر تابع ہے۔
11.4.3 روکنے والے مضمر پر واقع اشعاع کے تعدد کا اثر
(Effect of frequency of incident radiation on stopping potential)
نوری - برقی کرنٹ
سیر شدگی کرنٹ
جمع کار مضمر
ابطا کار مضمر

شکل 11.4: واقع اشعاع کے مختلف تعدد کے لیے، جمع کار پلیٹ کے مضمر کے ساتھ نوری-برقی کرنٹ کی تبدیلی
اب ہم واقع اشعاع کے تعدد
اور روکنے والے مضمر
کے درمیان رشتے کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ہم مختلف تعددوں کی یکساں شدت کی روشنی کی شعاعوں کو مناسب طور پر ترتیب دیتے ہیں اور جمع کارپلیٹ کے مضمر کے ساتھ فوٹو کرنٹ کی تبدیلی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس طرح حاصل ہونے والی تبدیلی شکل 11.4 میں دکھائی گئی ہے۔ مختلف تعدد کے واقع اشعاع کے لیے ہمیں روکنے والے مضمر کی مختلف قدریں حاصل ہوتی ہیں لیکن سیرشدگی کرنٹ کی یکساں قدر حاصل ہوتی ہے۔ خارج ہونے والے الیکٹرانوں کی توانائی واقع اشعاع کے تعدد کے تابع ہے۔ واقع اشعاع کے مقابلتاً زیادہ تعدد کے لیے روکنے والا مضمر مقابلتاً زیادہ منفی ہوتا ہے۔ شکل 11.4 سے نوٹ کریں کہ روکنے والے مضمر کی ترتیب ہے:
اگر تعدد کی ترتیب:
ہو۔ اس کا مطلب ہوا واقع روشنی کا تعدد جتنا زیادہ ہوگا، فوٹو الیکٹرانوں کی حرکی توانائی بھی اتنی زیادہ ہوگی۔ نتیجتاً، انھیں مکمل طور پر روکنے کے لیے ہمیں زیادہ ابطائی مضمر درکار ہوگا۔ اگر ہم واقع اشعاع کے تعدد اور مختلف دھاتوں کے لیے اس کے متطابق روکنے والے مضمر کے مابین گراف کھینچیں تو ہمیں ایک مستقیم خط حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ شکل 11.5 میں دکھایا گیا ہے۔
روکنے والا مضمر
A دھات
B دھات
واقع اشعاع کا تعداد

شکل 11.5 : ایک دیے ہوئے فوٹو حساس مادے کے لیے، واقع اشعاع کے تعدد v کے ساتھ روکنے والے
مضمر کی تبدیلی
گراف سے ظاہر ہوتا ہے:
(i) ایک دیے ہوئے فوٹو حساس مادے کے لیے، روکنے والا مضمر
، واقع اشعاع کے تعدد کے ساتھ خطّی طور پر تبدیل ہوتا ہے۔
(ii) ایک ایسا اقل ترین قطع تعدد vO پایا جاتا ہے، جس کے لیے روکنے والا مضمر صفر ہے۔
ان مشاہدات سے دو باتیں اخذ کی جاسکتی ہیں:
(i) فوٹو الیکٹرانوں کی اعظم حرکی توانائی، واقع اشعاع کے تعدد کے ساتھ خطی طور پر تبدیل ہوتی ہے لیکن واقع اشعاع کی شدت کے غیر تابع ہے۔
(ii) واقع اشعاع کے اس تعدد v کے لیے، جو قطع تعدد
سے کم ہو، کوئی نوری- برقی اخراج ممکن نہیں ہے چاہے شدت بہت زیادہ بھی ہو۔
یہ اقل ترین، قطع تعدد
، دہلیز تعدد (threshold frequency) کہلاتا ہے۔ یہ مختلف مادوں کے لیے مختلف ہوتا ہے۔
مختلف فوٹو حساس مادے روشنی پڑنے پر مختلف ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔ سیلینیم (Selenium)، زِنک یا تانبہ (Copper) کے مقابلے میں زیادہ حساس ہے۔ ایک ہی فوٹو حساس مادہ، مختلف طولِ موج کی روشنیوں کے ساتھ مختلف قسم کا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ مثلاً تانبہ پر اگر بالا بنفشئی روشنی ڈالی جاتی ہے تو نوری-برقی اثر ظاہر ہوتا ہے لیکن تانبہ پر ہی اگر ہری یا سرخ روشنی ڈالی جاتی ہے تو یہ اثر نہیں ہوتا۔
نوٹ کریں کہ مندرجہ بالا تمام تجربوں سے، یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر واقع اشعاع کا تعدد، دہلیز تعدد سے زیادہ ہوتا ہے تو نوری-برقی اخراج فوراً بغیر کسی ظاہری پس وقت (Time lag) کے شروع ہوجاتا ہے، چاہے واقع اشعاع بہت ہی دھیما (کم شدت کا) ہو۔ اب ہم یہ جانتے ہیں کہ اخراج شروع ہونے میں
یا اس سے بھی کم درجہ کا وقت لگتا ہے۔
اب ہم اس حصہ میں بیان کیے گئے تجربات اور مشاہدات کی اہم خاصیتوں کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔
(i) ایک دیے ہوئے فوٹو حسّاس مادّے اور واقع اشعاع کے ایک تعدد کے لیے (تعدد دہلیز تعدد سے زیادہ ہو)، نوری-برقی کرنٹ، واقع روشنی کی شدت کے راست مناسب ہے (شکل 11.2)۔
(ii) ایک دیے ہوئے فوٹو حسّاس مادّے اور واقع اشعاع کے ایک دیے ہوئے تعدد کے لیے، سیرشدگی کرنٹ، واقع اشعاع کی شدت کے راست متناسب پایا گیا ہے جب کہ روکنے والے مضمر کو واقع اشعاع کی شدت کے غیر تابع پایا گیا ہے (شکل 11.3)۔
(iii) ایک دیے ہوئے فوٹو حسّاس مادّے کے لیے، واقع اشعاع کا ایک خاص اقل قطع تعدد (minimum cut off frequency) پایا جاتا ہے، جو دہلیز تعدد کہلاتا ہے، جس سے کم قدر کے تعدد کے لیے فوٹو الیکٹرانوں کا کوئی اخراج نہیں ہوتا، چاہے واقع روشنی کی شدت کتنی بھی زیادہ ہو۔ دہلیز تعدد سے زیادہ تعدد پر، روکنے والا مضمر یا مساوی طور پر، خارج ہوئے الیکٹرانوں کی اعظم حرکی توانائی (Maximum Kinetic energy)، واقع اشعاع کے تعدد کے ساتھ خطّی طور پر بڑھتی ہے لیکن واقع اشعاع کی شدت کے غیر تابع ہے۔(شکل 11.5)۔
(iv) نوری-برقی اخراج ایک فوری طور پر ہونے والا عمل ہے، جس میں کوئی ظاہری پس-وقت (Time lag) شامل نہیں ہوتا (
یا اس سے کم)، چاہے واقع اشعاع کی شدت کو بہت زیادہ کم بھی کردیا جائے۔
11.5 نوری-برقی اثر اور روشنی کا لہر نظریہ
(Photoelectric Effect and Wave Theory of Light)
انیسویں صدی کے اختتام تک روشنی کی لہری طبع بہ خوبی مسلّم ہوگئی تھی۔ تداخل، انصراف اور تقطیب کے مظاہر کی روشنی کی لہر تصویر کے ذریعے قدرتی طور پر اور اطمینان بخش وضاحت کی جاچکی تھی۔ اس تصویر کے مطابق، روشنی ایک برق-مقناطیسی لہر ہے جو برقی اور مقناطیسی میدانوں پر مشتمل ہے اور لہر فضا کے جتنے علاقے میں پھیلی ہوتی ہے، اس پورے علاقے پر توانائی کی یکساں تقسیم ہوتی ہے۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ روشنی کی یہ لہر تصویر، پچھلے حصہ میں بیان کیے گئے نوری-برقی اخراج کے مشاہدات کی وضاحت کرسکتی ہے یا نہیں۔
روشنی کی لہر تصویر کے مطابق، دھات کی سطح کے آزاد الیکٹران (جن پر اشعاع کی شعاع پڑتی ہے) اشعاع شدہ توانائی کو لگاتار جذب کرتے رہتے ہیں۔ اشعاع کی شدت جتنی زیادہ ہوگی، برقی اور مقناطیسی میدانوں کی وسعت (amplitude) اتنی زیادہ ہوگی۔ نتیجتاً، شدت جتنی زیادہ ہوگی، ہر الیکٹران کے ذریعے جذب کی گئی توانائی اتنی ہی زیادہ ہونی چاہیے۔ اس تصویر کے مطابق، سطح کے فوٹوالیکٹرانوں کی اعظم حرکی توانائی میں، شدت میں اضافہ کے ساتھ، اضافہ کی توقع کی جاتی ہے۔ مزید یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ اشعاع کا تعدد چاہے کچھ بھی ہو، اشعاع کی درکار شدت والی شعاع (اگر درکار وقت تک پڑتی رہے) کو الیکٹرانوں کو اتنی توانائی مہیا کردینی چاہیے کہ اس کی قدر دھات کی سطح سے باہر نکلنے کے لیے درکار اقل توانائی سے زیادہ ہو۔ اس لیے ایک، دہلیز تعدد نہیں پایا جانا چاہیے۔ لہر نظریہ پر مبنی یہ توقعات، حصہ 11.4.3 کے آخر میں دیے گئے مشاہدات (i)، (ii) اور (iii) کی تنسیخ کرتی ہیں۔
مزید، ہمیں یہ بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ لہر تصویر میں، الیکٹران کے ذریعے توانائی کا اجذاب (absorption) اشعاع کے پورے لہر محاذ پر لگاتار ہوتا ہے۔ کیونکہ الیکٹرانوں کی ایک بڑی تعداد توانائی جذب کرتی ہے اس لیے جذب شدہ توانائی فی الیکٹران فی اکائی وقت کی قدر بہت خفیف حاصل ہوتی ہے۔ واضح تحسیبات کے تخمینہ کے مطابق ایک واحد الیکٹران کو بھی اتنی توانائی جذب کرنے میں جو ورک فنکشن کا مقابلہ کرنے اور دھات سے باہر نکلنے کے لیے کافی ہو، کئی گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ لہر تصویر کی بنیاد پر اخذ کیا گیا یہ نتیجہ بھی، مشاہدہ (iv) کہ، نوری-برقی اخراج فوری (بغیر کسی پس وقت کے) ہوتا ہے، سے براہِ راست تضاد رکھتا ہے۔مختصراً یہ کہ لہری تصویر، نوری-برقی اخراج کی سب سے بنیادی خاصیتوں کی وضاحت کرنے میں ناکام ہے۔
11.6 آئنسٹائن کی نوری-برقی مساوات: اشعاع کا توانائی کوانٹم
(Einstein’s Photoelectric Equation: Energy Quantum of Radiation)

البرٹ آئن اسٹائن (1879-1955) آئن اسٹائن، آج تک کے عظیم ترین طبیعیات دانوں میں سے ایک ہیں، اُلم (Ulm) جرمنی میں پیدا ہوئے۔ 1905 میں انھوں نے تین، بالکل نئی راہ دکھانے والے، پرچے شائع کرائے۔ پہلے پرچے میں انھوں نے ’’روشنی کے کوانٹا‘‘ (جو اب فوٹان کہلاتے ہیں) کا نظریہ پیش کیا اور اس نظریہ کو نوری-برقی اثر کی خاصیتوں کی وضاحت کرنے کے لیے استعمال کیا۔ دوسرے پرچے میں انھوں نے براؤنی حرکت کے لیے ایک نظریہ پیش کیا، جس کی تجرباتی تصدیق چند سال بعدہوئی اور مادہ کی ایٹمی تصویر کے لیے ایک قابل قبول شہادت مہیا کی۔ تیسرے پرچے نے خصوصی اصافیت کے نظریہ کو جنم دیا۔ 1916 میں انھوں نے عمومی اضافیت کا نظریہ شائع کروایا۔ اس کے بعد کے آئن اسٹائن کے کچھ اہم کام ہیں: مہیج شدہ اخراج (Stimulated emission) کا نظریہ، جو پلانک کے سیاہ جسم اشعاع کے قانون کو متبادل طریقے سے مشتق کرنے میں شامل تھا، کائنات کا ساکن ماڈل، جس نے جدید تکونیات (Cosmology) کی ابتدا کی، بھاری بوسانوں کی گیس کی کوانٹم شماریات اور میکانیات کے بنیادی قوانین کا مبصرانہ تجزیہ 1921 میں انھیں ان کے نظری طبیعیات اور نوری-برقی اثر کے سلسلے میں کیے گئے کام کے لیے طبیعیات کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
1905 میں آئن اسٹائن (1879-1955)نے نوری-برقی اثر کی وضاحت کرنے کے لیے، برق-مقناطیسی اشعاع کی ایک بالکل انقلابی طور پر نئی تصویر تجویز کی۔ اس تصویر کے مطابق، نوری-برقی اخراج اشعاع سے توانائی کے لگاتار اجذاب کے ذریعے نہیں ہوتا۔ اشعاع توانائی (Radiation energy) مجرِّداکائیوں (Discrete units) پر مشتمل ہوتی ہے، جنھیں اشعاع کی توانائی کے کوانٹا (Quanta of energy of radiation) کہا جاتا ہے۔ اشعاع ہوئی توانائی کے ہر کوانٹم کی توانائی hn ہوتی ہے، جہاں h، پلانک کا مستقلہ ہے اور nروشنی کا تعدد ہے۔ اگر یہ جذب ہوا توانائی کا کوانٹم، دھات کی سطح سے الیکٹران کو باہر نکلنے کے لیے درکار کم ترین توانائی (ورک فنکشن
) سے زیادہ ہوتا ہے تو الیکٹران خارج ہوتا ہے اور اس کی اعظم حرکی توانائی ہوتی ہے:
(11.2)
Kmas = hv - ∅°
زیادہ سختی سے بندھے ہوئے الیکٹران اس اعظم قدر سے کم حرکی توانائی کے ساتھ نکلیں گے۔ نوٹ کریں کہ ایک دیے ہوئے تعدد کی روشنی کی شدت فی سیکنڈ واقع فوٹانوں کی تعداد سے متعین ہوتی ہے۔ شدت بڑھانے سے فی سیکنڈ خارج ہونے والے الیکٹرانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ لیکن، خارج ہوئے الیکٹرانوں کی اعظم حرکی توانائی ہر فوٹان کی توانائی سے متعین ہوگی۔
مساوات (11.2) ’’آئن اسٹائن کی نوری-برقی مساوات‘‘ کہلاتی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مساوات کتنے سادہ اور خوبصورت طریقے سے، تحت حصہ 11.4.3 کے آخر میں دیے گئے نوری-برقی اثر پر کیے گئے مشاہدات کی وضاحت کرتی ہے۔
مساوات (11.2) کے مطابق،
کے خطی طور پر تابع ہے اور اشعاع کی شدت کے غیر تابع ہے، جو کہ مشاہدے سے اتفاق کرتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ آئن اسٹائن کے ذریعے پیش کی گئی تصویر میں، نوری-برقی اثر کے ظاہر ہونے کی وجہ ایک واحد الیکٹران کے ذریعے اشعاع کے واحد کوانٹم کا جذب ہونا ہے۔ اشعاع کی شدت (جوکہ توانائی کوانٹا کی تعداد فی اکائی رقبہ فی اکائی وقت کے متناسب ہے) اس بنیادی عمل سے قطعی غیر متعلق ہے۔
کیونکہ
کو لازمی طور پر غیر منفی ہونا چاہیے، مساوات (11.2) سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ نوری-برقی اخراج صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب
hv>∅ο
یا
;v>vο 
،جہاں
(11.3) vο = ∅°/h
مساوات (11.3) ظاہر کرتی ہے کہ کام فنکشن
جتنا زیادہ ہوگا، فوٹو الیکٹران خارج کرنے کے لیے درکار اقل ترین یا دہلیز تعدد
بھی اتنا زیادہ ہوگا۔ اس لیے دھات کی سطح کے لیے ایک دہلیز تعدد
vο(= ∅°/h)
پایا جاتا ہے، جس سے کم تعدد کے اشعاع کے ذریعے نوری-برقی اخراج ہونا ممکن نہیں ہے، چاہے واقع اشعاع کی شدت کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو اور یہ اشعاع چاہے کتنی دیر بھی سطح پر پڑتی رہے۔
اس تصویر میں، اشعاع کی شدت، جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے، توانائی کوانٹا کی تعداد فی اکائی رقبہ فی اکائی وقت کے متناسب ہے۔ دستیاب توانائی کوانٹا کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی، توانائی کوانٹا کو جذب کرنے والے الیکٹرانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ ہوگی اور اس لیے دھات سے باہر نکلنے والے الیکٹرانوں کی تعداد بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی (
کے لیے)۔ اس طرح یہ وضاحت ہوجاتی ہے کہv<v
کے لیے نوری-برقی کرنٹ کیوں شدت کے متناسب ہے۔
l آئن اسٹائن کے ذریعے پیش کی گئی تصویر میں، نوری-برقی اثر میں شامل، بنیادی عمل، ایک الیکٹران کے ذریعے روشنی کے ایک کوانٹم کا جذب کیا جانا ہے۔ یہ ایک فوری عمل ہے۔ اس لیے، شدت چاہے کتنی بھی ہو، یعنی کہ اشعاع کے کوانٹا کی تعداد فی اکائی رقبہ فی اکائی سیکنڈ چاہے کچھ بھی ہو، نوری-برقی اخراج فوری عمل ہے۔ کم شدت کا مطلب اخراج میں دیر ہونا نہیں ہے، کیونکہ بنیادی طریقہ وہی ہے۔ شدت سے صرف یہ تعین ہوتا ہے کہ کتنے الیکٹران اس بنیادی عمل میں شامل ہوسکتے ہیں (ایک واحد الیکٹران کے ذریعے روشنی کے ایک کوانٹم کا جذب کیا جانا) اور اس لیے شدت صرف برقی-نوری کرنٹ کو متعین کرسکتی ہے۔
مساوات (11.1) استعمال کرتے ہوئے، نوری-برقی مساوات (11.2) کو لکھا جاسکتا ہے:
(
کے لیے)
eVο = hv - ∅ο 
یا
(11.4) Vο = (h/e) v - ∅0/e 
یہ ایک اہم نتیجہ ہے۔ یہ پیشن گوئی کرتا ہے کہ
برخلاف v منحنی ایک مستقیم خط ہوگا، جس کی ڈھلانh/e
ہوگی اور یہ مادے کی طبع کے غیر تابع ہوگا۔ 1906 سے 1916 کے درمیان میلیکن (Millikan) نے نوری-برقی اثر پر سلسلے وار تجربات کیے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ آئن اسٹائن کی نوری-برقی مساوات کو غلط ثابت کیا جاسکے۔ انھوں نے سوڈیم کے لیے حاصل کیے گئے خط، جو کہ شکل 11.5 میں دکھائے گئے خط جیسا تھا، کی ڈھلان کی پیمائش کی۔ e کی معلوم قدر استعمال کرتے ہوئے انھوں نے پلانک مستقلہ h کی قدر معلوم کی۔ ان کے ذریعے حاصل کی گئی h کی قدر، اس سے پہلے ایک بالکل مختلف تناظر میں معلوم کی گئی h کی قدر
( =6.626 ×10-34 J s)
کے نزدیک تھی۔ اس طرح 1916 میں میلیکن نے آئن اسٹائن کی نوری-برقی مساوات کو غلط ثابت کرنے کے بجائے درست ثابت کردیا۔
روشنی کے کوانٹا کا مفروضہ استعمال کرتے ہوئے نوری-برقی اثر کی کامیاب وضاحت کرسکنے اور h اورο∅
کی قدروں کی تجرباتی پیمائش سے ایسی قدریں حاصل کرنے جو دوسرے تجربات سے حاصل ہوئی ان قدروں سے اتفاق رکھتی تھیں، کی بناپر آئن اسٹائن کے ذریعے پیش کی گئی نوری-برقی اثر کی تصویر کو تسلیم کرلیا گیا۔ میلیکن نے بہت درستی صحت کے ساتھ، بہت سی کھار دھاتوں کے لیے، اشعاع تعدد کی ایک بڑی سعت پر، نوری-برقی مساوات کی تصدیق کی۔
11.7 روشنی کی ذراتی طبع: فوٹان
(Particle Nature of Light: The Photon)
اس طرح نوری-برقی اثر نے اس تعجب خیز حقیقت کا ثبوت فراہم کیا کہ روشنی، مادے کے ساتھ باہم عمل کے دوران اس طرح برتاؤ کرتی ہے کہ جیسے وہ توانائی کے کوانٹا یا پیکٹوں پر مشتمل ہو، جن میں سے ہر ایک کی توانائی hv ہو۔
کیا روشنی کے توانائی کے کوانٹم کو ایک ذرہ سے منسلک کیا جاسکتا ہے؟ آئن اسٹائن اس اہم نتیجے پر پہنچے کہ روشنی کوانٹم کو معیارِ حرکت
سے بھی منسلک کیا جاسکتا ہے۔ توانائی اور ساتھ ہی ساتھ معیارِ حرکت کی ایک متعین قدر اس بات کی مضبوط علامت ہے کہ روشنی کوانٹم کو ایک ذرے سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ روشنی کے ذرہ جیسے برتاؤ کی مزید تصدیق، 1924 میں، اے-ایچ-کومپٹن (A.H. Compton) (1892-1962) کے ذریعے، الیکٹرانوں سے x-کرنوں کے انتشار پر کیے گئے تجربات سے ہوئی۔ 1921 میں آئن اسٹائن کو ان کے نظری طبیعیات اور نوری-برقی اثر کے سلسلے میں کیے گئے تحقیقی کام کے لیے طبیعیات کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ 1923 میں ملیکین کو ان کے برق کے بنیادی چارج اور نوری-برقی اثر پر کیے گئے کام کے لیے طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا۔
ہم برق-مقناطیسی اشعاع کی فوٹان تصویر کا خلاصہ مندرجہ ذیل شکل میں پیش کرسکتے ہیں:
(i) اشعاع کے مادّہ کے ساتھ باہم عمل کے دوران، اشعاع اس طرح برتاؤ کرتا ہے، جیسے کہ وہ ذرّات کا بنا ہوا ہو، جو فوٹان کہلاتے ہیں۔
(ii) ہرفوٹان کی توانائی
ہوتی ہے اور معیارِ حرکت
P(= hv/c)
ہوتا ہے، جہاں C روشنی کی چال ہے۔
(iii) ایک مخصوص تعدد v یا طولِ لہر λ کی روشنی کے تمام فوٹانوں کی توانائی
E(hv = hc/λ)
یکساں ہوتی ہے اور معیارِ حرکت
P (= hv/c = h/λ)
بھی یکساں ہوتا ہے، چاہے اشعاع کی شدت کچھ بھی ہو۔ ایک دیے ہوئے طولِ لہر کی روشنی کی شدت میں اضافہ کرنے سے صرف ایک دیے ہوئے رقبے سے گزرنے والے فوٹانوں کی تعداد فی سیکنڈ اضافہ ہوتا ہے، جب کہ ہرفوٹان کی توانائی یکساں ہوتی ہے۔ اس لیے، فوٹان توانائی، اشعاع کی شدّت کے غیرتابع ہے۔
(iv) فوٹان برقی طور پر تعدیلی (نیوٹرل) ہوتے ہیں اور برقی اور مقناطیسی میدانوں سے منفرج نہیں ہوتے۔
(v) ایک فوٹان-ذرہ تصادم (Collision) میں (جیسے کہ فوٹان-الیکٹران تصادم)، کل توانائی اور کل معیارِ حرکت کی بقاہوتی ہے۔ لیکن ایک تصادم میں ہوسکتا ہے کہ فوٹانوں کی تعداد کی بقا نہ ہو۔ فوٹان جذب ہوسکتا ہے اور ایک نیا فوٹان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
مثال 11.1 ایک لینرر کے ذریعے
6.0 ×1014 Hz
تعدد کی ایک یک رنگی روشنی پیدا کی جاتی ہے۔ خارج ہوئی پاور
2.0 ×10-3
ہے۔ (a) روشنی کی شعاع میں ایک فوٹان کی توانائی کتنی ہے؟ (b) ماخذ کے ذریعے، اوسطاً، کتنے فوٹان فی سیکنڈ خارج کیے جارہے ہیں؟
حل
(a) ہرفوٹان کی توانائی E ہے:
E = h v = (6.63 ×10-34 J s) (6.0 ×1014 Hz)
(b) اگر ماخذ کے ذریعے ایک سیکنڈ میں خارج کیے گئے فوٹانوں کی تعداد N ہے، تو شعاع میں ترسیل ہوئی پاور P، N گنا توانائی فی فوٹان E کے مساوی ہوگی، اس طرح: P=NE، تب
N=P/E = 2.0×10-3 W/3.98 ×10-19 J
(فوٹان فی سیکنڈ)
= 5.0 × 1015
مثال 11.2 سینریم کا کام فنکشن 2.14eV ہے۔ معلوم کیجیے: (a) سینریم کے لیے دہلیز تعدد اور (b) واقع روشنی کی طولِ لہر، جب کہ فوٹو کرنٹ، ایک روکنے والے مضمر 0.60V کے ذریعے صفر ہوجاتا ہے۔
حل
(a) قطع یا دہلیز تعدد کے لیے، واقع اشعاع کی توانائیhvο
، کام فنکشنο∅
کے مساوی ہونا چاہیے:
v° = ∅ο/h = 2.14eV/6.63×10-34 Js = 5.16×1014 Hz
اس لیے ان تعدوں کے لیے جن کی قدر اس دہلیز تعدد سے کم ہے، کوئی فوٹو الیکٹران خارج نہیں ہوتا۔
(b) فوٹو کرنٹ اس وقت صفر ہوجاتا ہے جب خارج ہوئے الیکٹرانوں کی اعظم حرکی توانائی، ابطائی مضمرکاکے ذریعے وضعی توانائیeVο
کے مساوی ہوجاتی ہے۔ آئن اسٹائن کی نوری برقی مساوات ہے:
eVο = hv - ∅0 = hc/λ - ∅0
λ = hc/(eV0 + ∅0)
= (6.63 × 10-34 Js) × (3×108 m/s) /(0.60eV + 2.14eV)
= 19.89 × 10-26 Jm/(2.74eV)
λ = 19.89×10-26 Jm/2.74×1.6×10-19 J=454 nm

مثال 11.3 بصری علاقے میں روشنی کا طولِ لہر، بنفشئی (اودے) رنگ کے لیے تقریباً 390nm ہے اور پیلے –ہرے رنگ کے لیے تقریباً 550nm (اوسط طولِ لہر) ہے اور لال رنگ کے لیے تقریباً 760nm ہے۔
(a) فوٹانوں کی توانائیاں (eV میں) کیا ہیں بصری طیف کے (i) بنفشئی سرے پر (ii) پیلے-ہرے رنگ کے اوسط طولِ لہر کے لیے (iii) لال سرے پر؟
(1 eV =1.6×10-19 J h = 6.63×10-34 Js)

(b) جن کے کام فنکشن کی فہرست جدول 11.1 میں دی گئی ہے، ان میں سے کس فوٹو حساس مادے سے، (a) کے (i)، (ii) اور (iii) کے نتائج استعمال کرتے ہوئے، آپ ایک ایسا نوری-برقی آلہ بناسکتے ہیں جو بصری روشنی کے ذریعے کام کرتا ہو؟
حل:
(a) واقع فوٹان کی توانائی،
E = hv = hc/λ

E = (6.63×10-34 Js) (3× 108 m/s)/λ
= 1.989×10-25 Jm/λ

(i) بنفشئی روشنی کے لیے:
λ1 = 390 nm
(کم طولِ لہر والا سرا)
واقع فوٹان توانائی،
E1= 1.989 ×10-25 Jm/390×10-9 m

= 5.10 ×10-19 J
= 5.10× 10-19 J/1.6×10-19 J/eV
= 3.19 eV

(ii) پیلی -ہری روشنی کے لیے:
λ2 = 550 nm
(اوسط طولِ لہر)
واقع فوٹان توانائی،
E1 = 1.989 ×10-25 Jm/390×10-9 m

= 3.62×10-19 J = 2.26 eV 
(iii) لال روشنی کے لیے:
λ3 = 760 nm
(زیادہ طولِ لہر والا سرا)
واقع فوٹان توانائی،
E3 = 1.989×10-25 Jm/760×10-9 m 
= 2.62×10-19 J = 1.64 eV
(b) ایک نوری برقی آلے کے کام کرسکنے کے لیے ہمیں اتنی واقع روشنی توانائی درکار ہوگی جو آلے کے مادے کے کام فنکشن

کے مساوی ہو یا اس سے زیادہ ہو۔ اس لیے، بنفشئی روشنی (E=3.19eV کے ساتھ) کے ساتھ نوری برقی آلہ فوٹو حساس مادوں
(∅0 = 2.30 eV) K (∅0 = 2.75 eV) Na

اور
(∅0 = 2.75 eV) Cs

کے ساتھ کام کرے گا۔ یہ سینریم کے لیے پیلی-ہری روشنی (E=2.26 eV کے ساتھ) کے ساتھ بھی کام کرے گا لیکن یہ ان میں سے کسی بھی فوٹو حساس مادے کے لیے لال روشنی کے ساتھ کام نہیں کرے گا۔
11.8 مادے کی لہری طبع: (Wave Nature of Matter)
روشنی (عمومی طور پر، برق-مقناطیسی اشعاع) کی دوہری (لہری-ذراتی) طبع، ہم نے اب تک جو اس باب اور پچھلے ابواب میں سیکھا ہے، اس سے واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ روشنی کی لہری طبع، تداخل، انصراف اور تقطیب کے مظاہر میں ظاہر ہوتی ہے۔ دوسری طرف، نوری-برقی اثر اور کامپٹن اثر، جن میں توانائی اور معیارِ حرکت کا تبادلہ شامل ہے، اشعاع اس طور پر برتاؤ کرتا ہے جیسے کہ وہ ذرات کے گچھّے-فوٹانوں، کا بنا ہوا ہو۔ ایک تجربے کو سمجھنے کے لیے، ذراتی بیان زیادہ مناسب ہے یا لہری، یہ تجربہ کی طبع پر منحصر ہے۔ مثلاً، آنکھ کے ذریعے کسی شے کو دیکھنے کے جانے پہچانے مظہر میں دونوں بیانات اہم ہیں۔ آنکھ کے لینس کے ذریعے روشنی کو اکٹھا کرنے اور فوکس کرنے کے عمل لہری تصویر کے ذریعے بہ خوبی بیان کیے جاسکتے ہیں، لیکن چھڑوں اور مخروطوں (پردہ چشم کے) کے ذریعے روشنی کے انجذاب کے لیے روشنی کی فوٹان تصویر درکار ہوگی۔
قدرتی طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے: اگر اشعاع کی دوہری (لہری-ذراتی) طبع ہے، تو کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ قدرت کے بنیادی ذرات (الیکٹران، پروٹان وغیرہ) بھی لہر-جیسا کردار ظاہر کریں؟ 1924 میں فرانسیسی طبیعیات داں لوئس وِکٹر ڈی بروگ لی، (Louis Victor de Broglie)، جس کا تلفظ بروئے (Broy) ہے، (1892-1987) نے ایک پرعزم فرضیہ (Hypotesis) پیش کیا کہ متحرک ذرات کو مناسب صورتوں میں، لہر جیسی خصوصیات کا اظہار کرنا چاہیے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ قدرت متشاکل (Symmetrical) ہے اور دو بنیادی طبعی اشیا-مادہ اور توانائی- کا کردار بھی متشاکل ہی ہونا چاہیے۔ اگر اشعاع دہرے پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے، تو مادہ کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ڈی بروئے نے تجویز کیا کہ معیارِ حرکت p سے حرکت کرتے ہوئے ذرہ کے ساتھ منسلک طولِ لہر

دی جاتی ہے:
(11.5)
λ = h/P = h/mv

جہاں m ذرہ کی کمیت ہے اور v اس کی چال ہے۔ مساوات (11.5) ڈی بروئے رشتہ کہلاتی ہے اور مادی لہر کا طولِ لہر

، ڈی بروئے طولِ لہر کہلاتا ہے۔ مادے کا دوہرا رخ، ڈی بروئے رشتہ میں صاف طور سے ظاہر ہوتا ہے۔ مساوات (11.5) کی بائیں جانب،

ایک لہر کی خاصیت ہے جب کہ اس کی دائیں جانب معیارِ حرکت p ذرہ کی مخصوص خاصیت ہے۔ پلانک مستقلہ h ان دونوں خاصیتوں میں رشتہ قائم کرتا ہے۔
مادے کے ایک ذرہ کے لیے مساوات (11.5) بنیادی طور پر ایک فریضہ ہے جس کی درستگی صرف تجربے کے ذریعے ہی جانچی جاسکتی ہے۔ لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک فوٹان بھی اس رشتہ کو مطمئن کرتا ہے۔ ایک فوٹان کے لیے، جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں:
(11.6)
P = hv /c

اس لیے
(11.7)
h/P = c/v = λ

یعنی کہ مساوات(11.5)سے دی جانے والی ایک فوٹان کی ڈی۔برائے طولِ لہر،اس برق–مقناطیسی اشعاع کے طولِ لہر کے مساوی ہے جس کاوہ فوٹان،توانائی اورمعیارِحرکت کا کوانٹم ہے۔
مساوات (11.5)سے واضح ہے کہ،

مقابلتاً بھاری ذرہ کے لیے(بڑی کمیتm)یا مقابلتاً زیادہ توانائی والے ذرّے(بڑی v)کے لیے مقابلتاً خفیف ہوگی۔مثلاً0.12 kgکمیت کی، 20ms
-1کی چال سے حرکت کرتی ہوئی گیند کی ڈی برائے طول لہر کا آسانی سے حساب لگایاجاسکتا ہے:
فوٹوسیل (Photocell)
ایک فوٹوسیل،نوری برقی اثر کا تکنیکی استعمال ہے۔یہ ایسا آلہ ہے جس کی برقی خاصیتیں روشنی سے متاثر ہوتی ہے۔اسے کبھی کبھی’’برقی چشم‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ایک فوٹو سیل،نیم–استوانی فوٹو–حساس دھات کی بنی پلیٹ C(مخروج)اور ایک تار کے لوپA(جمع کار)پر مشتمل ہوتا ہے،جو ایک خلا کیے ہوئے شیشے یا کوارٹز کے بلب میں رکھے ہوتے ہیں۔اسے ایک باہری سرکٹ سے جوڑدیا جاتا ہے،جس میں ایک اعلاٹینشن بیٹریBاور ایک مائیکروایم میٹرلگاہوتا ہے،جیسا کہ شکل میں دکھایاگیاہے۔کبھی کبھی پلیٹCکے بجائے،بلب کے اندر کی طرف ایک فوٹو حساس مادے کی پتلی تہہ کا لیپ کردیاجاتا ہے۔بلب کے ایک حصے کو صاف رہنے دیاجاتا ہے تاکہ اس سے روشنی اندر داخل ہوسکے۔
جب ایک مناسب طول لہر کی روشنی مخروجCپر پڑتی ہے تو فوٹو الیکٹران خارج ہوتے ہیں۔یہ فوٹوالیکٹران جمع کارAکی جانب کھینچتے ہیں۔چند مائیکرو ایمپیر کے درجہ کا فوٹو کرنٹ،عام طور سے ایک فوٹو سیل سے حاصل کیاجاسکتا ہے۔
ایک فوٹو سیل،روشنی کی شدت میں تبدیلی کو فوٹو کرنٹ کی تبدیلی میں بدلتا ہے۔یہ کرنٹ کنٹرول نظاموں اور روشنی ناپنے والے آلات کو چلانے میں استعمال کیاجاسکتا ہے۔ لیڈسلفائڈ کا زیریں سرخ اشعاع کے لیے حساس ایک فوٹو سیل الیکٹرانک جلن سرکٹوں (electronic ignition circuits) میں استعمال کیاجاتا ہے۔
سائنسی کاموں میں فوٹو سیل تب استعمال کیے جاتے ہیں جب روشنی کی شدت کو ناپنا ہوتا ہے۔فوٹو گرافی کے کیمروں کے روشنی میٹروں میں واقع روشنی کی شدت ناپنے کے لیے فوٹو سیل کا استعمال کیاجاتا ہے۔ دروازے کی روشنی کے برقی سرکٹ میں لگے ہوئے فوٹوسیل خود کھلنے والے دروازوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ایک شخص جو دروازے کے نزدیک آرہا ہوتا ہے ایک روشنی کی اس شعاع کو روک سکتا ہے جو کہ ایک فوٹو سیل پر واقع ہوتی ہے۔فوٹو کرنٹ میں ہونے والی یہ یکایک تبدیلی ایک موٹر کو چلانے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے جو دروازہ کھولتا ہے یا الارم بجاتا ہے۔یہ اس شمار کرنے والے آلے کو کنٹرول کرنے میں بھی استعمال ہوتے ہیں جو روشنی کی شعاع کے راستے میں،شعاع سے گذررہے کسی بھی شخص یا شے کی وجہ سے آنے والی رکاوٹوں کو شمار کرتا ہے۔اس طرح فوٹو سیل ایک جلسہ گاہ میں داخل ہونے والے افراد کو شمار کرنے میں مدد کرتا ہے،بشرطیکہ وہ ایک ایک کرکے داخل ہورہے ہوں۔ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی شناخت کرنے میں بھی یہ سیل استعمال ہوتے ہیں۔جب بھی اشعاع (نہ دکھائی دینے والی)کی کوئی شعاع پکڑی جائے الارم بجایا جاسکتا ہے۔
چورالارموں میں(نہ دکھائی دینے والی)بالابنفشئی روشنی کو دروازے میں لگے ایک فوٹو سیل پر لگاتار ڈالاجاتا رہتا ہے۔جب کوئی شخص دروازے میں داخل ہوتا ہے تو وہ فوٹو سیل پرپڑرہی شعاع کے راستے میں حائل ہوتا ہے۔فوٹو کرنٹ میں ہونے والی اس اچانک تبدیلی کوایک برقی گھنٹی کو بجنا شروع کرنے کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے۔آگ۔الارم میں،عمارت کے مختلف مناسب مقامات پر کئی فوٹو سیل لگادیے جاتے ہیں۔آگ لگنے پر، روشنی کی شعاعیں ان فوٹو سیلوں پرپڑتی ہیں۔جس سے ایک برقی گھنٹی یاایک سائرن کا سرکٹ مکمل ہوجاتا ہے اور خطرے کا الارم بجنے لگتا ہے۔
متحرک تصویروں میں آواز کی بازپیدائش کے لیے اور ٹیلی ویژن کیمرہ میں اسپیکنگ یا ٹیلی کاسٹنگ کے لیے فوٹو سیل استعمال ہوتے ہیں۔ کارخانوں میں انھیں دھات کی چادروں میں معمولی خامیوں یاسوراخوں کو شناخت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
P = m v = 0.12 kg × 20 ms-1 = 2.40 kg ms-1
λ = h/P = 6.63 × 10-34 J s/2.40 kg m s-1 = 2.76 × 10-34 m
اشعاع اور مادے کی دوہری طبع
لوئس وکٹرڈی برائے(1892–1987)فرانسیسی طبیعیات داں تھے،جنھوں نے مادے کی لہری طبع کا انقلابی تصور پیش کیا۔ اس تصور کو اِرِوِن شروڈنگر نے کوانٹم میکانیات، جو لہر میکانیات بھی کہلاتی ہے،کی مکمل تھیوری کی شکل دی۔1929میں انھیں ان کی الیکٹران کی لہری طبع کی دریافت کے لیے نوبل انعام دیاگیا۔
یہ طولِ لہر اتنی خفیف ہے کہ اس کی پیمائش کسی طورپر بھی ممکن نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی کی کلاں بینی اشیا لہر جیسی خاصیتیں نہیں ظاہر کرتیں۔ لیکن دوسری طرف، تحت ایٹمی علاقے میں،ذرات کا لہری کردار اہمیت رکھتا ہے اور قابلِ پیمائش ہے۔
ایک الیکٹران لیجیے(کمیتm،چارجe)،جسے ایک مضمرVکے ذریعے حالتِ سکون سے اسراع کرایاگیا ہے۔الیکٹران کی حرکی توانائی K،برقی میدان کے ذریعے اس پر کیے گئے کام(eV)کے مساوی ہے:
(11.8) K = e V
اب
K= 1/2 m v
2 = P
2 /2m

یا
(11.9)
p = 2 m K = 2 m e V

اب الیکٹران کی ڈی برائے طول لہر ہے:
(11.10)
λ = 1.227/V nm

h،mاورeکی عددی قدریں رکھنے پر،ہمیں حاصل ہوتا ہے:
(11.11)
λ = 1.227/V nm

جہاںV،اسراع کارمضمر کی،وولٹ میں،عددی قدرہے۔120Vکے اسراع کار مضمر کے لیے ، مساوات nm0.112=λ

دیتی ہے۔یہ طول لہر اسی درجہ کا ہے جس درجہ کی کرسٹلوں میں ایٹمی مستویوں کے درمیان خالی جگہ ہوتی ہے۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایک الیکٹران سے منسلک مادی لہروں کی تصدیق–Xکرن انصراف کے مشابہ،کرسٹل انصراف تجربات کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ہم اگلے حصے میں ڈی برائے فریضہ کی تجرباتی تصدیق بیان کریں گے۔1929میں ڈی برائے کو،الیکٹرانوں کی لہری طبع دریافت کرنے کے لیے،طبیعیات کا نوبل انعام دیاگیا ہے۔
مادّہ–لہر تصویر نے ہائیزن برگ کے عدم یقینی کے قانون کو بھی بخوبی اپنے اندر شامل کرلیا۔اس اصول کے مطابق،ایک الیکٹران (یا کسی اورذرے)کے مقام اور معیارِحرکت کی ایک ہی وقت پر بالکل درست پیمائش کرسکنا ممکن نہیں ہے۔ہمیشہ مقام کو متعین کرنے میں کچھ عدم یقینی(x∆)اورمعیارِحرکت کو متعین کرنے میں کچھ عدم (p∆)ہوگی۔x∆ اور p∆ کا حاصل ضرب

کے درجہ کا ہوگا( p2/h=h)

یعنی کہ
(11.12)
∆x ∆p≈ h

مساوات(11.12)سے یہ امکان ہوسکتا ہے کہx∆ صفرہو،لیکن پھر p∆ کولاانتہائی ہونا لازمی ہے تاکہ حاصل ضرب غیر صفر ہو۔اسی طرح اگر p∆ صفر ہے تو x∆ لاانتہائی ہونا لازمی ہے۔عام طور سے، x∆ اور p∆ دونوںغیر صفر ہوتے ہیں،اس
طرح کہ ان کا حاصل ضرب

کے درجہ کا ہو۔
* ایک زیادہ دقیق تحسیب سے حاصل ہوتا ہے:
∆x ∆≥ h/2

اشعاع اور مادے کی دوہری طبع
شکل(a) 11.6: ایک الیکٹران کا لہر پیکٹ بیان–لہر پیکٹ ایک مرکزی طول لہر کے گرد طول لہرکی توسیع سے مطابقت رکھتا ہے (اور اس لیے ڈی برائے رشتے کے مطابق معیارحرکت میں توسیع سے مطابقت رکھتا ہے)۔نتیجتاً،اس سے مقام میں ایک عدم یقینی(x∆)اورمعیارحرکت میں ایک عدم یقینی(p∆)منسلک ہیں۔
(b) ایک الیکٹران کے معین معیارِحرکت سے مطابقت رکھنے والی مادی لہر کی پوری فضا میں توسیع ہوتی ہے۔ اس صورت میں
D x → ∞اور ∆π = 0

اب،اگر ایک الیکٹران کا معیارِحرکتpمتعین ہے(یعنی کہp=0∆)، ڈی۔برائے رشتہ کے ذریعے،اس کا طول موجlبھی متعین ہوگا۔متعین (واحد)طول لہر کی ایک لہر پوری فضا میںپھیل جاتی ہے۔بورن (Born)کی اغلبیت (امکان Probability) توضیح کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ الیکٹران فضا کے کسی متناہی علاقے میں مقام بند(localized) نہیں ہے۔یعنی کہ اس کی مقام عدم یقینی لامتناہی ہے،

جوکہ عدم یقینی اصول سے مطابقت رکھتا ہے۔
عمودمی طورپر،الیکٹران سے منسلک مادہ–لہر پوری فضا میں پھیلی ہوئی نہیں ہوتی۔یہ ایک لہر پیکٹ(wave packet)ہوتا ہے جو فضا کے کچھ متناہی علاقے میں پھیلاہوتا ہے۔ایسی صورت میں،Dxلامتناہی نہیں ہے بلکہ اس کی کچھ متناہی قدر ہے،جو کہ لہر پیکٹ کی توسیع پر منحصر ہے۔مزید،آپ کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک ایسا لہر پیکٹ جس کی متناہی توسیع ہو،اس کی واحد طول لہر نہیں ہوگی۔یہ پیکٹ ان طول لہر پر مشتمل ہوگا جو ایک مرکزی طول لہر کے گرد پھیلی ہوں گی۔
ڈی برائے رشتے کے مطابق،پھر ایک الیکٹران کے معیارِحرکت میں بھی کچھ پھیلاؤ ہوگا۔ایک عدم یقینی –Dpعدم یقینی اصول سے بھی ایسی ہی توقع کی جاتی ہے۔یہ دکھایا جاسکتا ہے کہ لہر بیان اور ڈی برائے رشتے کے ساتھ،بورن کی اغلباتی توضیح کے ذریعے ہائیزن برگ کے عدم یقنی اصول کو ہوبہو حاصل کیاجاسکتا ہے۔
باب12میں آپ دیکھیں گے کہ،ایک ایٹم میںالیکٹران کے زاویائی معیارِحرکت کی کوانٹم سازی کے بوہر کے مسلمات(poshlates)کو ڈی برائے رشتہ درست قرار دیتا معلوم ہوتاہے۔
شکل11.6میں ایک خاکہ ڈائیگرام دکھائی گئی ہے:(a)مقام بند لہر پیکٹ کی اور (b)معین طول لہر کی توسیعی لہر کی۔
مثال11.4 (a)
5.4 × 106 m/s (a)

کی چال سے حرکت کرتے ہوئے الیکٹران(b) 150gکمیت کی30.0 m/s سے حرکت کرتی ہوئی گیند،سے منسلک ڈی۔برائے طولِ لہر کیاہوگی؟
حل
(a) الیکٹران کے لیے
کمیت تبm = 9.11 × 10-31 kg, v = 5.4 ×106 m/s
معیار حرکتp = m v = 9.11×10-31 (kg) × 5.4 × 106 (m/s)
p = 4.92 × 10-24 kg m/s
ڈی برائے طول لہرλ = h/p
= 6.63 × 10-34 Js/4.92 ×10-24 kg m/s
λ = 0.135 nm
(b) گیند کے لیے
کمیت m1 = 0.150 kg , v' = 30.0 m/s
معیار حرکتp' = m' v' = 0.150 (kg) × 30.0 (m/s)
ڈی برائے طول لہرλ' = h/p'
= 6.63 × 10-34 J s/4.50 × kg m/s
λ = 1.47 × 10-34 m
الیکٹران کا ڈی برائے طول لہر،–Xکرنوں کے طول لہر کے درجہ کا ہے۔جب کہ گیند کا طول لہر پروٹان کے سائز کا بھی 10-19 گناہے،جو کسی طورپر بھی قابلِ پیمائش نہیں ہے۔
مثال11.5ایک الیکٹران،ایک–xذرہ اور ایک پروٹان کی حرکی توانائی یکساں ہے۔ان میں سے کس ذرہ کا ڈی برائے طول لہر سب سے کم ہوگا؟
حل
ایک ذرے کے لیے:
h/p = ⋋ڈی برائے طول لہر
= K = p2/2m

حرکی توانائی
تب
λ = h/2mK

یکساںحرکی توانائیKکے لیے،ذرہ سے منسلک ڈی برائے طول لہر اس کی کمیت کے مربع جذر کے مقلوب متناسب ہوگا۔ ایک پروٹان(1H)

کی کمیت الیکٹران کی کمیت کا 1836گنا ہوتی ہے اور ایک a- ذرہ ( 4He)

کی کمیت پروٹان کی کمیت کی چارگناہوتی ہے۔
اس لیے–aذرہ کا ڈی برائے طول لہر سب سے کم ہوگا۔
مادی لہروں کی احتمالی توضیح
یہاں کچھ دیر کے لیے یہ غور کرنا بہتر ہوگا کہ آخر ایک ذرہ،جیسے الیکٹران،سے منسلک مادی لہر کا مطلب کیا ہے۔ درحقیقت،مادے اور اشعاع کی دہری طبع کا مکمل طورپر اطمینان بخش طبعی ادراک ابھی تک نہیں حاصل ہوسکاہے۔کوانٹم میکانیات کے عظیم بانیان(نیلس بوہر،البرٹ آئن اسٹائن اور بہت سے دیگر افراد)اس تصور اور اس سے منسلک دیگر تصورات میں بہت عرصے تک الجھے رہے۔ابھی بھی،کوانٹم میکانیات کی گہری طبعی ادراک فعال تحقیق کا علاقہ ہے۔اس کے باوجود جدید کوانٹم میکانیات میں،مادی لہروں کاتصور،ریاضیاتی طورپر بہت کامیابی کے ساتھ شامل کیاجاچکا ہے۔اس تعلق سے ایک اہم سنگ میل اس وقت آیا جب میکس بورن(1882–1970)نے مادی لہروں کی وسعت(amplitude) کے لیے ایک احتمالی توضیح پیش کی۔ اس توضیح کے مطابق، ایک نقطہ ہر مادی لہر کی شدت (وسعت کا مربع)، اس نقطہ پر ذرہ کی احتمالی کثافت (Probability density)معین کرتی ہے۔ احتمالی کثافت کا مطلب ہے احتمالی فی اکائی حجم–اس لیے اگر ایک نقطہ پر لہر کی وسعتAہے،
|A|2∆V

اس کا احتمال ہے کہ وہ ذرہ اس نقطہ کے گرد ایک خفیف حجمV∆ میں پایاجائے گا۔اس لیے اگر کسی علاقے میں مادی لہر کی یہ شدت زیادہ ہو،تو اس علاقے میں ذرہ کے پائے جانے کا احتمال زیادہ ہے،بمقابلے اس علاقے کے جہاں شدت کم ہے۔
مثال11.6ایک ذرہ ایک الیکٹران کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیزی سے حرکت کررہا ہے۔اس ذرہ کے ڈی برائے طول لہر کی،الیکٹران کے طول لہر سے نسبت 4-10 × 1.813 ہے۔ذرہ کی کمیت معلوم کیجیے اورذرہ کی شناخت کیجیے۔
حل
ایک حرکت کرتے ہوئے ذرہ کا ڈی برائے طولِ لہر،جس کی کمیتmاور رفتارvہو،ہے:
λ = h/p = h/mv
کمیتm = h/λv
me = h/Ie ve
v/ve = 3 λ/λe = 1.813 ×10-4 :اب ہمیں دیا ہوا ہے
تب
ذرہ کی کمیتm = me (λe/λ) (ve/v)
m = (9.11×10-31 kg) ×(1/3)×(1/1.813×10-4)
m = 1.675 × 10-27 kg
اس لیے،اس کمیت والا ذرہ یا تو پروٹان ہوسکتا ہے یا نیوٹران۔
مثال11.7اس الیکٹران سے منسلک ڈی۔برائے طول لہر کیا ہوگا جسے100وولٹ کے مضمر فرق سے اسراع کرایاگیا ہے؟
حل
V=100V اسراع کارمضمر
λ = h/p = 1.227/V nm
ڈی برائے طولِ لہر
λ = 1.227/100 nm = 0.123 nm
اس صورت میں الیکٹران سے منسلک ڈی برائے طول لہر،–Xکرنوں کے طول لہر کے درجہ کا ہے۔
11.9ڈیویسن اورجرمر تجربہ(Davisson and Germer Experiment)
الیکٹران کی لہری طبع کی تجرباتی تصدقی سب سے پہلے سی۔جی۔ڈیویسن(C.G. Davisson)اور ایل۔ایچ۔جرمر نے1927میں کی اور پھر1928میں،انفرادی طورپر،جے۔جی۔تھامسن نے بھی کی،جنھوں نے کرسٹلوں کے ذریعے الیکٹرانوں کی شعاعوں کے منتشر ہونے میں انصراف اثرات کا مشاہدہ کیا۔ڈیویسن اور تھامسن کو کرسٹلوں کے ذریعے الیکٹرانوں کے انصراف کی دریافت کے لیے مشترکہ طورپر 1937کا طبیعیات کا نوبل انعام دیاگیا۔
ڈیویسن اورجرمر کے ذریعے استعمال کیے گئے تجرباتی سامان اور اس کی ترتیب کا خاکہ شکل11.7میں دکھایا گیا ہے۔یہ ایک الیکٹران گن پر مشتمل ہے جس میں بیریم آکسائڈ کی تہہ لگے ٹنگسٹن کا فلامنٹFشامل ہوتا ہے،جسے ایک کم وولٹیج پاور سپلائی سے گرم کیاجاتا ہے(L.T.یابیٹری)
فلامنٹ کے ذریعے خارج کیے گئے الیکٹرانوں کو ایک اعلا وولٹیج پاور سپلائی(H.T.یابیٹری)سے ایک مناسب مضمر/وولٹیج لگاکر درکار رفتارتک اسراع کرایاجاتا ہے۔انھیں ایک ایسے استوانے میں سے گزارا جاتا ہے جس کے محور پر باریک سوراخ ہوتے ہیں،اس طرح ایک باریک متوازیت شدہ(collimated)بیم حاصل ہوجاتی ہے۔بیم کو نکل کرسٹل کی سطح پر ڈالاجاتا ہے۔الیکٹران،کرسٹل کے ایٹموں کے ذریعے تمام ممکنہ سمتوں میں منتشر ہوجاتے ہیں۔ایک دی ہوئی سمت میں منتشر ہوئی الیکٹران بیم کی شدت،الیکٹران شناخت کار(جمع کار)کے ذریعے ناپی جاتی ہے۔شناخت کار کو ایک دائری پیمانے پر حرکت دی جاسکتی ہے اور اسے ایک حساس گلوونومیٹر سے جوڑدیاجاتا ہے جو کرنٹ ریکارڈ کرتا ہے۔گلوونومیٹر کا انفراج، جمع کار میں داخل ہورہی الیکٹران بیم کی شدت کے متناسب ہوتا ہے۔پورے تجرباتی سامان کو ایک خلا کیے ہوئے چیمبر میں بند کردیاجاتا ہے۔شناخت کار کو دائری پیمانے کے مختلف مقامات پر لے جاکر زاویہ انتشار(angle of scattering)کی مختلف قدروں کے لیے منتشر ہوئی الیکٹران شعاع کی شدت ناپی جاتی ہے۔زاویہ انتشارq،واقع اور منتشر ہوئی الیکٹران بیموں کے درمیان زاویہ ہے۔منتشر ہوئی الیکٹران بیموں کی شدت کی زاویہ انتشار کے ساتھ تبدیلی،مختلف اسراع کار وولٹیجوں کے لیے حاصل کی جاتی ہے۔
اس تجربہ میں اسراع کار کی وولٹیج44Vسے 68Vتک تبدیل کی گئی تھی۔(I) اسراع کار وولٹیج54Vکے لیے،زاویہ انتشار،q=50پر منتشر ہوئی الیکٹران بیم کی شدت(I)میں ایک مضبوط فراز (strong peak)دیکھاگیا۔
ایک خاص سمت میں فراز کے ظاہر ہونے کی وجہ کرسٹل کے،باقاعدہ فاصلوں پر قائم ایٹموں کی مختلف تہوں سے منتشر ہوئے الیکٹرانوں کا تعمیری تداخل ہے۔الیکٹران انصراف تجربے میں کی گئی پیمائشوں کے ذریعے مادی لہروں کے طول لہر کی قدر 0.165nmمعلوم کی گئی۔
V=54Vاستعمال کرتے ہوئے،مساوات(11.11)سے الیکٹرانوں سے منسلک ڈی برائے طول لہرl دی جاتی ہے:
λ = h/p = 1.227/V nm
λ = 1.227/54 nm = 0.167 nm
اس طرح، ڈی برائے طول لہر کی نظری قدر اور تجربے سے معلوم کی گئی قدرمیں بہترین اتفاق پایاجاتاہے۔اس لیے ڈیویسن–جرمرتجربہ سے الیکٹرانوں کی لہری طبع اور ڈی برائے رشتے کی بخوبی تصدیق ہوجاتی ہے۔اس سے 1989 میں،روشنی کی لہری طبع کو ظاہر کرنے والے تجربے جیسے ایک دہری–سلٹ تجربے کے ذریعے الیکٹرانوں کی بیم کی لہریں طبع کا تجرباتی مظاہرہ کیاجاچکاہے۔مزید،1994میں کیے گئے ایک تجربے میں آیوڈین مالیکیولوں کی بیم سے تداخل فرنجیں حاصل کی گئیں،جب کہ آیوڈین کے مالیکیول کی کمیت الیکٹرانوں کے مقابلے میں تقریباًدس لاکھ گنازیادہ ہوتی ہے۔
ڈی۔برائے فریضے نے کوانٹم میکانیات کی ارتقامیں بنیادی کردارادا کیاہے۔ اس نے الیکٹران نوریات کے میدان کی جانب بھی رہنمائی کی ہے۔الیکٹرانوں کی لہر خاصیتوں کا استعمال الیکٹران خوردبین ڈیزائن کرنے میں بھی کیاگیا ہے۔الیکٹران خوردبین کی تجزیاتی طاقت نوری خوردبین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
خلاصہ
1۔ ایک دھات کی سطح سے باہرآنے کے لیے الیکٹران کو درکار اقل توانائی،دھات کا کام فنکشن کہلاتی ہے۔ الیکٹران کے دھات کی سطح سے اخراج کے لیے درکار توانائی(ورک فنکشن سے زیادہ)مناسب طورپرگرم کرکے یا مضبوط برقی میدان لگا کر یا سطح پر مناسب تعدد کی روشنی کااشعاع کراکے مہیا کی جاسکتی ہے۔
2۔ نوری برق اثر،مناسب تعدد کی روشنی کا دھاتوں کی سطح پر اشعاع کراکے الیکٹرانوں کے خارج ہونے کا مظہر ہے۔کچھ دھاتیں بالابنفشئی روشنی سے ہی یہ اثر ظاہرکرتی ہیں اور کچھ دھاتوں میں بصری روشنی سے بھی یہ مظہر ظاہرہوتا ہے۔نوری–برقی اثر میں روشنی توانائی کی برقی توانائی میں تبدیلی شامل ہے۔ یہ تو توانائی کی بقاکے قانون کی پابندی کرتا ہے۔ نوری–برقی اخراج ایک فوری ہونے والا عمل ہے اور اس کی کچھ مخصوص خاصیتیں ہیں۔
3۔ نوری–برقی کرنٹ تابع ہے:(i)واقع روشنی کی شدت کے(ii)دونوں برقیروں کے درمیان لگائے گئے مضمر فرق کے(iii)مخروج کے مادہ کی طبع کے۔
4۔ روکنے والا مضمرV0تابع ہے۔(i)واقع روشنی کے تعدد کے اور(ii)مخروج کے مادہ کی طبع کے –واقع روشنی کے ایک دیے ہوئے تعدد کے لیے یہ اس کی شدت کے تابع نہیں ہے۔ روکنے والے مضمر کا خارج ہونے والے الیکٹرانوں کی اعظم حرکی توانائی سے سیدھارشتہ ہے:
eV0 = 1/2 m v2 max
5۔ ایک مخصوص تعدد(دہلیزتعدد)،جودھات کی خاصیت ہے،سے کم تعدد پر کوئی نوری–برقی اخراج نہیں ہوتا ،چاہے شدت کتنی بھی زیادہ ہو۔
6۔ کلاسیکی لہر نظریہ،نوری برقی اثر کی اہم خاصیتوں کی وضاحت نہیں کرسکا۔اس کلاسیکی نظریہ کی یہ تصویر کہ اشعاع سے لگاتار توانائی کااجذاب ہوتا ہے.کے اشعاع کی شدت کے غیر تابع ہونےV0کے پائے جانے اور اس عمل کے فوری ہونے کی طبع کی وضاحت نہیں کرسکی۔آئن اسٹائن نے ان خاصیتوں کی وضاحت، روشنی کی فوٹان تصویر کی بنیاد پرکی۔اس فوٹان تصویر کے مطابق،روشنی توانائی کے مجردپیکٹوں پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ کوانٹایا فوٹان کہلاتے ہیں۔ہر فوٹان میں توانائیE (=hn)ہوتی ہے اورمعیارِحرکت ہوتا ہے،جو کہ واقع روشنی کے تعدد کے تابع ہیں،اس کی شدت کے نہیں۔ایک دھات کی سطح سے نوری–برقی اخراج ایک الیکٹران کے ذریعے ایک فوٹان جذب کیے جانے سے ہوتا ہے۔
7۔ آئن اسٹائن کی نوری–برقی مساوات،ایک دھات کے الیکٹران کے ذریعے ایک فوٹان کے جذب کیے جانے پر،توانائی کے بقاکے قانون کے اطلاق کے مطابق ہے۔اعظم حرکی توانائی
(1/2)m v2max
،فوٹان توانائی(hn)نفی حدف دھات کے کام فنکشن( οhv=) کے مساوی ہے:
1/2 m v2 max = V0e = hv - ∅0 = h (v - v0)
یہ نوری–برقی مساوات،نوری–برقی اثرکی تمام خاصیتوں کی وضاحت کردیتی ہے۔میلیکن کے ذریعے کی گئی نہایت درست پیمائشوں نے نوری–برقی مساوات کی تصدیق کردی اور ان پیمائشوں سے پلانک مستقلہhکی ایک درست قدربھی معلوم کی جاسکی۔اس سے برق–مقناطیسی اشعاع کی طبع کے ذراتی یا فوٹان بیان،جسے آئن اسٹائن نے متعارف کرایاتھا،کے تسلیم کیے جانے کی راہیں ہموار ہوئیں۔
8۔ اشعاع کی دوہری طبع ہے:لہری اور ذراتی–تجربہ کی طبع سے یہ تعین کیاجاتا ہے کہ اس تجربے کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے ایک لہری بیان زیادہ مناسب ہے یا ذراتی بیان۔یہ دلیل پیش کرتے ہوئے کہ قدرت میں اشعاع اور مادہ کو طبع کے لحاظ سے متشاکل ہونا چاہیے،لوئی وکٹر ڈی برائے نے مادے (مادی ذرات)کے ساتھ ایک لہر جیسا کردار منسلک کیا۔متحرک مادی ذرات کے ساتھ منسلک لہریں،مادی لہریں یا ڈی برائے لہریں کہلاتی ہیں۔
9۔ ایک متحرک ذرہ سے منسلک ڈی برائے طول لہر(l)،اس کے معیارِحرکتpسے رشتہ رکھتا ہے:مادہ کی دوئی(dualism)،ڈی برائے رشتے کا جزولاینفک ہے،جس میں ایک لہری تصور(l)اورایک ذراتی تصور(p)شامل ہیں۔ڈی برائے طولِ لہر،مادہ کے ذرے کے چارج اور طبع کے غیر تابع ہے۔اس کی قابل لحاظ پیمائش (کرسٹلوں میں ایٹموں کے مستویوں کے درمیان کی دوری کے درجہ کی)صرف تحت ایٹمی ذرات،جیسے الیکٹران،پروٹان وغیرہ،کے لیے ہی ممکن ہے(ان کی کمیتوں اور اس لیے معیارِ حرکت کے خفیف ہونے کی بناپر)—لیکن ہمارا اپنی روزمرہ زندگی میں جن کلاںبینی اشیاسے واسطہ پڑتا ہے،ان کے لیے اس کی قدر بہت ہی خفیف ہے جو قابلِ پیمائش نہیں ہے۔
10۔ ڈیویسن اورجرمر،اور جی۔پی۔تھامسن کے ذریعے کیے گئے الیکٹران انصراف تجربات اوراس کے بعد کیے گئے کئی دوسرے تجربات نے الیکٹرانوں کی لہری–طبع کی تصدیق کردی ہے اور اسے تسلیم کروادیا ہے۔مادی ڈی لہروں کا برائے فریضہ،بوہرکے سکونی مداروں کے تصور کی حمایت کرتا ہے۔
| طبعی مقدار |
علامت |
ابعاد |
اکائی |
ریمارک |
پلانک کامستقلہ
روکنے والامضمر
کام فنکشن
دہلیزتعدد
ڈی۔برائے طولِ لہر
|
h
V0
0∅
v0
λ |
[ML2 T-1]
[ML2 T-3 A-1]
[ML2 T-2]
[T -1]
[L]
|
J s
V
J; ev
Hz
m
|
E = hn
eV0 = Kmax
Kmax = E - ∅0
v0 = ∅0 /h
λ = h/p
|
قابل ِ غورنکات
1۔ ایک دھات کے آزاد الیکٹران ان معنوں میںآزاد ہوتے ہیں کہ وہ ایک مستقلہ مضمر میں دھات کے اندر حرکت کرتے ہیں(یہ صرف ایک تقربیت ہے)۔وہ دھات سے باہر نکلنے کے لیے آزاد نہیںہیں۔انھیں دھات سے باہر نکلنے کے لیے توانائی چاہیے ہوتی ہے۔
2۔ ایک دھات کے تمام آزاد الیکٹرانوں کی توانائی یکساں نہیں ہوتی۔ایک جار میں بھری گیس کے مالیکیولوں کی طرح، ایک دیے ہوئے درجہ حرارت پر ان کی بھی ایک توانائی تقسیم ہوتی ہے۔یہ تقسیم اس میکسویل کی عام تقسیم سے مختلف ہے جو آپ نے گیسوں کے حرکی نظریہ کے مطالعے میں سیکھی ہے۔اس کے بارے میں آپ آئندہ درجات میں سیکھیں گے۔ لیکن یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ الیکٹران پالی کے استثنیٰ اصول کی پابندی کرتے ہیں۔
3۔ ایک دھات کے آزاد الیکٹرانوں کی توانائی تقسیم کی وجہ سے،مختلف الیکٹرانوں کو دھات سے باہر نکل سکنے کے لیے توانائی کی مختلف مقدار چاہیے ہوتی ہے۔زیادہ توانائی والے الیکٹرانوں کو دھات سے باہر نکلنے کے لیے مقابلتاً کم توانائی والے الیکٹرانوں کے مقابلے میں،کم اضافی توانائی چاہیے ہوتی ہے۔کام فنکشن وہ کم ترین درکار توانائی ہے جو کسی بھی الیکٹران کو دھات سے باہر نکلنے کےدرکار ہوگی۔
4۔ نوری–برقی اثرات کے مشاہدات سے یہ اخذ کیاجاسکتا ہے کہ مادہ–روشنی کے باہم عمل میں،توانائی کا انجذاب،hnکی مجرد اکائیوں میںہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ روشنی ایسے ذرات پر مشتمل ہے،جن میں سے ہر ایک کی توانائی hnہے۔
5۔ روکنے والے مضمر پر کیے گئے مشاہدات (اس کا شدت کے غیر تابع ہونا اور تعدد کے تابع ہونا)،نوری–برقی اثر کی لہری–تصویر اور فوٹان–تصویرمیں فرق کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔
6۔ h/p= λ
کے ذریعے دی جانے والے ایک مادی لہر کے طول لہر کی طبعی اہمیت ہے؛اس کی فیزرفتارکی کوئی طبعی اہمیت نہیں ہے۔لیکن مادی لہر کی گروپ رفتارطبعی طورپربامعنی ہے اور ذرہ کی رفتار کے مساوی ہے۔
مشق
11.1 معلوم کیجیے
(a) اعظم تعدد اور
(b)
30kevتوانائی کے الیکٹرانوں سے پیدا ہوئی –X شعاعوں کا اقل طول لہر
11.2 سینریم دھات کا کام تفاعل2.14 eVہے۔جب
6×1014 Hz
:تعدد کی روشنی دھات کی سطح پر واقع ہوتی ہے تو الیکٹرانوں کا فوٹو اخراج ہوتا ہے۔کیا ہے
(a) خارج ہوئے الیکٹرانوں کی اعظم حرکی توانائی ،
(b) روکنے والا مضمر،اور
(c) خارج ہونے والے فوٹو الیکٹرانوں کی اعظم چال؟
11.3 ایک تجربے میں نوری برقی قطع وولٹیج1.5 Vہے۔خارج ہوئے الیکٹرانوں کی اعظم حرکی توانائی کیا ہے؟
11.4 ایک ہبلیم– نیون لیزر سے 632.8nmکی یک رنگی روشنی پیدا کی جاتی ہے۔ خارج ہونے والی پاور 9.42 mW ہے۔
(a) روشنی کی بیم کے ہر فوٹان کی توانائی اور اس کا معیارِحرکت معلوم کیجیے۔
(b) اس شعاع سے اشعاع ہورہے حدف،اوسطاً،کتنے الیکٹران فی سیکنڈپہنچیں گے؟(مان لیجیے کہ شعاع کا تراشی رقبہ یکساں ہے جو حدف کے رقبے سے کم ہے)۔اور
(c) ایک ہائیڈروجن ایٹم کو کتنی رفتار سے حرکت کرنا پڑے گی کہ اس کا معیارِ حرکت اس فوٹان کے معیارِحرکت جتنا ہوجائے؟
11.5 زمین پر پہنچنے والی سورج کی روشنی کا توانائی فلکس
1.388 ×103 W/m2
ہے۔زمین پر کتنے فوٹان(تقریباً)فی مربع میٹر فی سیکنڈ واقع ہورہے ہیں؟مان لیجیے کہ سورج کی روشنی میں فوٹان کا اوسط طول لہر 550nmہے۔
11.6 نوری–برقی اثر کے ایک تجربے میں ،قطع وولٹیج برخلاف واقع روشنی کے طول لہر کے گراف کاڈھلان
4.12 × 10-15 V s
ہے۔پلانک کے مستقلہ کی قدر کا حساب لگائیے۔
11.7 ایک100Wکا سوڈیم لیمپ تمام سمتوں میں ہموار طورپر توانائی کا اشعاع کرتا ہے۔لیمپ ایک ایسے بڑے کُرے کے مرکز پر رکھاہوا ہے جو اس پر واقع تمام سوڈیم روشنی کو جذب کر لیتا ہے۔ سوڈیم روشنی کا طولِ لہر 589nmہے۔ (a)سوڈیم روشنی سے منسلک توانائی فی فوٹان کتنی ہے؟
(b) کرہ کو کس شرح سے فوٹان مہیا کیے جارہے ہیں؟
11.8 ایک دھات کے لیے دہلیز تعدد
3.3 ×1014 Hz
ہے۔اگر دھات پر
8.2 × 1014 Hz
تعدد کی روشنی واقع ہو تو نوری –برقی اخراج کے لیے قطع وولٹیج کی پیشن گوئی کیجیے۔
11.9 ایک دھات کا کام فنکشن4.2eVہے۔کیا اس دھات سے330nmکے واقع اشعاع کے لیے نوری–برقی اخراج ہوگا؟
11.10 ایک دھات کی سطح
7.21 × 1014 Hz
پرتعدد کی روشنی واقع ہے۔سطح سے
8.2 × 1014 Hz
اعظم چال کے الیکٹران خارج ہوتے ہیں۔الیکٹرانوں کے فوٹواخراج کے لیے دہلیز تعدد کیا ہے؟
11.11 ایک آرگون لیزر سے488 nmطولِ لہر کی روشنی پیدا ہوتی ہے جسے نوری–برقی اثر میں استعمال کیاجاتا ہے۔جب اس طیف خط سے روشنی مخروج پر واقع ہوتی ہے تو فوٹو الیکٹرانوں کا روکنے والا(قطع)مضمر0.38V ہے۔اس مادے کا کام فنکشن معلوم کیجیے جس سے مخروج بنایاگیا ہے۔
11.12 56 Vکے مضمرفرق کے ذریعے اسراع کرائے گئے الیکٹرانوں کا
(a) معیارِحرکت اور
(b) ڈی بروگل طول لہر معلوم کیجیے۔
11.13 ایک الیکٹران جس کی حرکی توانائی120 eVہے
(a) اس کا معیارِ حرکت
(b) اس کی چال
(c) اس کا ڈی برائے طول لہر کیا ہیں؟
11.14 سوڈیم کے طیفی اخراج خط سے حاصل ہوئی روشنی کا طول لہر 589 nmہے۔وہ حرکی توانائی معلوم کیجیے جس پر
(a) ایک الیکٹران اور
(b) ایک نیوٹران کے یکساں ڈی برائے طولِ لہر ہوں گے۔
11.15 ڈی برائے طول موج کیا ہے
(a) 0.040 kg کمیت کی ایک گولی کا جو1.0 km/sکی رفتار سے حرکت کررہی ہے؟
(b) 0.060 kg کمیت کی ایک گیند کا جو1.0 m/sکی رفتار سے حرکت کررہی ہے؟
(c) کمیت کے ایک دھول کے ذرے کا جو2.2 m/sکی رفتار سے حرکت کررہا ہے؟
11.16 ایک الیکٹران اور ایک فوٹان دونوں کا طول لہر 1.00 nmہے۔معلوم کیجیے:
(a) ان کے معیارحرکت
(b) فوٹان کی توانائی اور
(c) الیکٹران کی حرکی توانائی
11.17 (a) ایک نیوٹران کی کس حرکی توانائی کے لیے اس سے منسلک ڈی برائے طول لہر
1.40 × 10-10 m
ہوگا؟
(b) مادے کے ساتھ حرارتی توازن رکھنے والے ایک نیوٹران کی ڈی–برائے طول لہر بھی معلوم کیجیے،جس کی اوسط حرکی توانائی،300 Kدرجہ ٔ حرارت پر 3/2 KTہے۔
11.18 دکھائیے کہ برق–مقناطیسی اشعاع کا طول لہر اس کے کوانٹم(فوٹان)کے ڈی برائے طول لہر کے مساوی ہے۔
11.19 200 Kپر ہوامیں ایک نائیٹروجن کے مالیکیول کا ڈی برائے طولِ لہر کیا ہے؟مان لیجیے کہ مالیکیول،اس درجہ حرارت پر مالیکیولوں کی جذر–اوسط–مربع–رفتارسے حرکت کررہا ہے۔(نائیٹروجن کی ایٹمی کمیت 14.0076 uہے)۔
مزیدمشق
11.20 (a) اس چال کا تخمینہ لگائیے جس سے ایک خلا کی ہوئی ٹیوب کے گرم کیے ہوئے مخروج سے خارج ہوئے الیکٹران اس جمع کار سے ٹکراتے ہیں جسے مخروج کی مناسبت سے 500Vکے مضمر فرق پرر کھاگیا ہے۔الیکٹرانوں کی خفیف شروعاتی چالوں کو نظر انداز کردیجیے۔الیکٹرون کا نوعی چارج،یعنی کہ اس کیe/mنسبت،
1.76×1011 C kg-1
دی ہوئی ہے۔
(b) آپ نے(a)میں جوفارمولا استعمال کیا ہے اسی کو استعمال کرتے ہوئے10 MVکے جمع کار مضمر کے لیے الیکٹران کی چال حاصل کیجیے۔کیاآپ دیکھتے ہیں کہ کوئی غلطی ہے؟فارمولے میں کیا اصلاح کی جانی چاہیے؟
11.21 (a) ایک یک توانائی والی الیکٹران بیم پر، جس میں شامل الیکٹرانوں کی چال
5.20 ×106 m s-1
ہے، بیم رفتار کی عمودی سمت میں
1.30 × 10-4 T
کا مقناطیسی میدان لگایا گیا ہے۔بیم کے ذریعے بنائے گئے دائرے کا نصف قطر کیا ہوگاجب کہ الیکٹران کے لیے
1.76 × 1011 C kg-1 , e/m
کے مساوی ہے؟
(b) کیا آپ نے(a)میں جو فارمولا استعمال کیا ہے وہ فارمولا ایک20 MeVالیکٹران بیم کے راستے کے نصف قطر کا حساب لگانے کے لیے بھی درست ہوگا؟اگر نہیں،تو اس میں کیا اصلاح کی جائے؟
]نوٹ:مشق11.20 (b)اورمشق11.21 (b)آپ کو اضافیتی میکانیات میں لے جاتی ہیں،جو اس کتاب کے دائرہ سے باہر ہے۔ان کو یہاں صرف اس بات پر زور دینے کے لیے شامل کیا گیا ہے کہ آپ یہ سمجھ سکیں کہ جو فارمولے آپ حصہ(a)میں استعمال کرتے ہیں وہ بہت اعلیٰ چالوں یا توانائیوں پر درست نہیں ہیں۔ کتاب کے آخر میں دیے ہوئے جوابات دیکھیے تو آپ یہ جان سکیں گے کہ بہت اعلیٰ چال یا توانائی کا کیا مطلب ہے]
11.22 ایک الیکٹران گن،جس کا جماع کار100 Vمضمر پر ہے،ای کروی بلب پر الیکٹران فائر کرتی ہے۔بلب میں کم دباؤ(~پارے کےپر ہائیڈروجن گیس بھری ہوئی ہے۔کا ایک مقناطیسی میدان الیکٹرانوں کے راستے کو12.0 cmنصف قطر کے دائری مدار میں موڑدیتا ہے۔ (راستہ کو دیکھاجاسکتا ہے کیونکہ راستے پر گیس کے آئن الیکٹرانوں کو کشش کرکے بیم کو فوکس کرتے ہیں اور الیکٹرانوں کو اسیر بنا کر (capturing)روشنی خارج کرتے ہیں،اس طریقہ کو’’باریک بیم ٹیوب‘‘ طریقہ کہتے ہیں)ان آنکڑوں سےe/mمعلوم کیجیے۔
11.23 (X)- (a) کرن ٹیوب اشعاع کا لگاتار طیف پیداکرتی ہے،جس کا کم طول لہر سرا0.45 Å ہے۔اشعاع میں شامل فوٹان کی اعظم حرکی توانائی کتنی ہے؟
(b) اپنے(a)کے جواب سے اندازہ لگائیے کہ ایسی ٹیوب کے لیے کس درجے کی اسراع کاروولٹیج (الیکٹرانوں کے لیے)درکار ہوگی۔
11.24 الیکٹرانوں کے پوزی ٹرانوں کے ساتھ اعلیٰ–توانائی تصاد م کے ایک اسراع کار تجربے میں،ایک واقعہ کی وضاحت ایک10.2 BeVکل توانائی کے الیکٹران–پوزی ٹران جوڑے کی مساوی توانائی کی دوg-کرنوں میں فنا ہونے(annihilation)کے بطور کی جاتی ہے۔ہرg-کرن سے منسلک طولِ لہر کیا ہے؟( eV 109= 1BeV)
11.25 مندرجہ ذیل دو اعداد کا تخمینہ لگانا دلچسپی کا باعث ہوگا۔پہلا عدد آپ کو بتائے گا کہ ریڈیوانجینئریوں کو فوٹان کے بارے میں کیوں زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔دوسرے عدد سے آپ کو معلوم ہوگا کہ ہماری آنکھ کبھی بھی فوٹانوں کو شمار کیوں نہیں کرسکتی چاہے روشنی اتنی مدھم بھی کیوں نہ ہو کہ بمشکل شناخت کی جاسکے۔
(a) ایک10 KWپاور کے وسطی لہر ترسیل کار(Medium Wave Transmitter)کے ذریعے،جو500mطول لہرکی لہریں خارج کررہا ہے،فی سیکنڈخارج ہوئے فوٹانوں کی تعداد
(b) اس سفید روشنی کی کم ترین شدت سے مناسبت رکھنے والی ہماری آنکھ میں داخل ہونے والے فوٹان کی تعداد فی سکنڈ،جس کا انسانی آنکھ احساس کرسکتی ہے
( ~10-10 Wm-2)
۔دیدہ چشم کا رقبہ تقریباًcm2 4.0اور سفید روشنی کا اوسط تعدد
6 × 1014 Hz
تقریباًلیجیے۔
11.26 مولیبڈینم دھات کے بنے ہوئے ایک فوٹو سیل کا اشعاع،100 Wمرکری ماخذ سے آرہی2271 Åطول لہر کی بالابنفشئی روشنی کے ذریعے کرایاجاتا ہے۔اگر روکنے والامضمر–1.3 Vہے تو دھات کے کام فنکشن کا حساب لگائیے۔ایکHe–Neلیزر سے پیدا کی گئی6328 Åطول لہر کی سرخ روشنی،جس کی اعلیٰ شدت
(~ 105 W m-2)
ہو،کا فوٹو سیل پر کیااثر پڑے گا؟
11.27 ایک نیون لیمپ سے حاصل ہوئے،640.2 nm،(1 nm = 10-9 m)طول لہر کے یک رنگی اشعاع سے سینریم لگے ٹنگسٹن سے بنے فوٹو حساس مادے کو اشعاع کرایاجاتا ہے۔روکنے والی وولٹیج0.54 V ناپی گئی ہے۔اس ماخذ کو ایک لوہے کے بنے ماخذ سے بدل دیاجاتاہے اور اس کا 427.2 nmخط اسی فوٹو سیل کا اشعاع کرتا ہے۔نئے روکنے والی وولٹیج کی پیشن گوئی کیجیے۔
11.28 ایک مرکری لیمپ،نوری–برقی اخراج کے تعدد کے تابع ہونے کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک کارگر ماخذ ہے کیونکہ یہ طیفی خطوط کی بڑی تعداد مہیا کرتا ہے جن کی سعت بصری طیف کے UVسرے سے لال سرے تک ہوتی ہے۔روبیڈیم فوٹو سیل کے ساتھ کیے گئے ہمارے تجربے میں ایک مرکری ماخذ کے مندرجہ ذیل خطوط استعمال کیے گئے:
λ 1 = 3650 Å, λ2 = 4047 Å, λ3 = 4358 Å, λ4 =5461 Å, λ5 =6907 Å,
ان کے روکنے والے مضمرات،بالترتیب،ناپے گئے:
V01 = 1.28 V, V02 = 0.95 V , V03 = 0.74 V , V04 = 0.16 V, V05 =0 V
پلانک کے مستقلہ کی قدر اور اس مادّہ کے لیے دہلیز تعدد اورکام فنکشن معلوم کیجیے۔
[نوٹ:آپ محسوس کریں گے کہ ان آنکڑوں سے hکی قدر معلوم کرنے کے لیے،آپ کوeمعلوم ہونا چاہیے (جسے آپ لے سکتے ہیں)۔میلیکن نےNa،Li،Kوغیرہ پر اس طرح کے تجربات کیے۔میلیکن نے خودeکی قدر معلوم کی(تیل–قطرہ تجربے کے ذریعے)اور پھرhکی قدر حاصل کی۔اس طرح آئن اسٹائن کی نوری–برقی مساوات کی تجرباتی تصدیق بھی ہوگئی اور اس کے ساتھ ساتھ hکی قدر کا تخمینہ لگانے کا ایک نیا طریقہ بھی حاصل ہوگیا۔]
11.29 مندرجہ ذیل دھاتوں کے کام تفاعل دیے ہوئے ہیں:Na:2.75eV،K:2.30eV،Mo:4.17eV ، Ni:5.15eV ،ان میں سے کون سی دھات کا بنا فوٹو سیل اس1mکے فاصلے پر رکھےHe–Cdلیزر سے آرہے3300 Åطول لہر کے اشعاع سے نوری برقی اخراج نہیں کرے گا؟کیا ہوگااگر لیزر کو نزدیک لے آیا جائے اور سیل سے50 cmدور رکھاجائے؟
11.30 W m-210-5کی روشنی، cm 2 سطحی رقبہ کے سوڈیم فوٹو سیل پر پڑتی ہے۔یہ فرض کرتے ہوئے کہ سوڈیم کی اوپری پانچ سطحیں واقع توانائی جذب کرتی ہیں،اشعاع کی لہری تصویر کے مطابق نوری–برقی اخراج کے لیے درکار وقت کا تخمینہ لگائیے۔دھات کاکام فنکشن2 eVکے قریب دیا ہوا ہے۔آپ کے جواب کے کیا مضمرات ہیں؟
11.31 کرسٹل انصراف تجربات،–Xکرن یا مناسب وولٹیج کے ذریعے اسراع کرائے گئے الیکٹرانوں کو استعمال کرکے کیے جاسکتے ہیں۔کس پروب(Probe)کی توانائی مقابلتاً زیادہ ہے۔[مقداری مقابلے کے لیے، پروب کا طولِ لہر1 Åلے لیجیے جو ایک لیٹس(Lattice)میں ایٹموں کے مابین فاصلے کا درجہ ہے۔
(me = 9.11 × 10-31 kg)
11.32(a)
eV150 حرکی توانائی کے نیوٹران کا ڈی برائے طول لہر معلوم کیجیے۔جیسا کہ آپ مشق 11.31میں دیکھ چکے ہیں،یہ توانائی کرسٹل انصراف تجربات کے لیے مناسب ہے۔کیا یکساں توانائی کی ایک نیوٹران بیم بھی اتنی ہی مناسب ہوگی؟وضاحت کیجیے۔۔
(b) کمرہ درجۂ حرارت(27 ºC)پر حرّی نیوٹرانوں سے منسلک ڈی برائے طول لہر حاصل کیجیے۔پھر وضاحت کیجیے کہ ایک تیز رفتار نیوٹران بیم کو،نیوٹران انصراف تجربات کے لیے استعمال کے قابل بنانے کے لیے،پہلے ماحول کے ساتھ حرّی توازن میں لاناکیوں ضروری ہے؟
11.33 ایک الیکٹران خوردبین،50 kVوولٹیج کے ذریعے اسراع کرائے گئے الیکٹران استعمال کرتی ہے۔ان الیکٹرانوں سے منسلکڈی برائے طول لہر معلوم کیجیے۔اگر دیگر عوامل(جیسے عددی روزن وغیرہ) کو یکساں مان لیاجائے تو الیکٹران مائکرو سکوپ کی جز تجزیاتی طاقت اس نوری خوردبین کے مقابلے میں کیسی ہوگی جو پیلی روشنی استعمال کرتی ہے؟
11.34 ایک پروب کا طول لہر موٹے طور پر اس ساخت کے سائز کا ناپ ہے جس کی وہ کچھ تفصیل کے ساتھ چھان بین کرسکتاہے۔پروٹانوں اور نیوٹرانوں کی کوارک ساختm 15-10 یا اس سے کم کے لمبائی کے بے حد خفیف پیمانے پر ظاہر ہوتی ہے۔اس ساخت کی چھان بین سب سے پہلے 1970کے اوائل میں کی گئی،جس میں اسٹین فورڈ،امریکامیں لگے خطی اسراع کارسے پیدا کی گئی اعلاتوانائی الیکٹران بیم استعمال کی گئی تھیں۔ اندازہ لگائیے کہ ان الیکٹران بیموں کی توانائی کس درجے کی رہی ہوگی؟
(=0.511 MeVالیکٹران کی سکونی کمیت توانائی)۔
11.35 کمرہ درجہ حرارت(27 ºC)اور1 atmدباؤ پر ہیلم گیس کے Heایٹم سے منسلک مخصوص ڈی برائے طول لہر معلوم کیجیے اور انھیں شرائط کے ساتھ دوایٹموں کے درمیان اوسط فاصلے سے اس کا مقابلہ کیجیے۔
11.36 27 ºCپر ایک دھات کے ایک الیکٹران سے منسلک مخصوص ڈی برائے طول لہر کا حساب لگائیے اور ایک دھات میں دو الیکٹرانوں کے درمیان اوسط فاصلے سے اس کا مقابلہ کیجیے۔یہ اوسط فاصلہ تقریباً
2 × 10-10 m
دیاہوا ہے۔
[نوٹ:مشق11.35اورمشق11.36سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عام شرائط کے ساتھ،گیسی مالیکیولوں سے منسلک لہر پیکٹ غیر انطباقی ’غیر ہم پوش(non over lapping)ہوتے ہیں جب کہ ایک دھات میں الیکٹران لہر پیکٹ ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ ہم پوش ہوتے ہیں۔اس سے تجویز ہوتا ہے کہ جب کہ ایک گیس میں مالیکیولوں کو ایک دوسرے سے علاحدہ طورپر پہچانا جاسکتا ہے،ایک دھات کے الیکٹرانوں کو ایک دوسرے سے علاحدہ طورپر نہیں پہچاناجاسکتا۔یہ علاحدہ نہ پہچان سکنے کی خاصیت کے کئی بنیادی مضمرات ہیں جن کے بارے میں آپ زیادہ اعلیٰ طبیعیات کے نصاب میں سیکھیں گے]
11.37 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے:
(a) یہ سمجھاجاتا ہے کہ پروٹانوں اورنیوٹرانوں کے اندرکوارکوں کے کسری چارج ہوتے ہیں[(+2/3)e;(–1/3)e] تویہ میلیکن تیل قطرہ تجربے میں کیوں نہیںظاہرہوتے؟
(b) اجتماعe/mمیںکیا ایسی خاص بات ہے؟ہم سادہ طورپر eاورmکی الگ الگ بات کیوں نہیںکرتے؟
(c) گیس عام دباؤپر کیوں حاجزہوتی ہیں اور بہت کم دباؤ پر ایصال کرنا کیوں شروع کردیتی ہیں؟
(d) ہر دھات کا ایک معین کام فنکشن ہوتاہے۔اگر واقع اشعاع یک رنگی ہو تو سب فوٹوالیکٹران یکساں توانائی کے ساتھ باہر کیوں نہیں نکلتے؟فوٹوالیکٹرانوں کی ایک توانائی تقسیم کیوں پائی جاتی ہے؟
(e) ایک الیکٹران کی توانائی اور اس کے معیارِحرکت کے اس سے منسلک مادی لہر کے تعدد اور طول لہر سے مندرجہ ذیل رشتے ہیں:
E = h v , p = h/λ
لیکنλ کی قدرطبعی طورپر اہمیت رکھتی ہے،nکی قدر(اوراس لیے فیزچالn l کی قدر)کی کوئی طبعی اہمیت نہیں ہے۔کیوں؟
ضمیمہ(Appendix)
11.1 لہر –ذرہ قلابازی کی تاریخ(The history of wave-particle flip-flop)
روشنی کیا ہے؟یہ سوال بنی نوع انسان کو بہت عرصے سے پریشان کرتارہا ہے۔لیکن سائنسی اور صنعتی زمانے کے آغازسے ہی،تقریباًچارصدی پہلے سے سائنس دانوں نے منظم تجربات کرنے شروع کردیے تھے۔تقریباًاسی زمانے سے،روشنی کس چیز کی بنی ہوئی ہے،کے بارے میں نظریاتی ماڈل بھی بنائے گئے۔سائنس کی کسی بھی شاخ میں ایک ماڈل بناتے وقت یہ لازمی ہوتا ہے کہ یہ دیکھ لیاجائے کہ وہ اس وقت تک ہمارے تجرباتی طورپرمشاہدہ کیے گئے تمام حقائق کی وضاحت کرسکے۔اس لیے یہ مناسب ہوگا کہ روشنی کے بارے میں سترھویںصدی تک جو مشاہدات کیے گئے تھے ان کاخلاصہ پیش کیاجائے۔
روشنی کی جو خاصیتیں اس وقت تک معلوم ہوچکی تھیں،ان میں سے کچھ ہیں!(a)روشنی کی مستقیم اشاعت (b)مستوی اور کروی سطحوں سے انعکاس(c)دوواسطوں کی سرحد پر انعطاف(d)مختلف رنگوں میں انکسار(e)بہت اعلیٰ رفتار۔پہلے چار مظاہر کے لیے مناسب قوانین وضع کیے گئے تھے۔مثلاً،اسنیل نے اپنا انعطاف کا قانون1621میں وضع کیا۔گیلیلیوکے زمانے سے ہی کئی سائنسدانوں نے روشنی کی چال ناپنے کی کوششیں کی تھیں۔لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔انھوں نے صرف یہی نتیجہ اخذکیاکہ روشنی کی چال ان کے ذریعے کی جانی والی پیمائش کی حد سے زیادہ ہے۔
سترھویں صدی میں روشنی کے دوماڈل بھی تجویز کیے گئے۔سترھویںصدی کی شروع کی دہائیوں میںڈیسکارتیس نے تجویز کیاکہ روشنی ذرات پر مشتمل ہے جب کہ1650–60کے قریب ہائی جینس نے تجویز پیش کی کہ روشنی لہروں پر مشتمل ہے۔ڈیسکارتیس کی تجویز صرف ایک فلسفیانہ ماڈل تھی جو کسی تجربے یا سائنسی دلیل سے عاری تھی۔ اس کے فوراً بعد ہی، 1660–70کے قریب نیوٹن نے ڈیسکارتیس کے ذراتی ماڈل کی توسیع کی،جو ذریچہ نظریہ کہلاتا ہے۔نیوٹن نے ایک سائنسی نظریہ قائم کیا اور اس کے ذریعے روشنی کی مختلف خاصیتوں کی وضاحت کی۔یہ دونوں ماڈل،روشنی بطور لہریں اور روشنی بطور ذرات،ایک طرح سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔لیکن دونوں ماڈلوں کے ذریعے روشنی کی تمام اس قت تک معلوم،خاصیتوں کی وضاحت کی جاسکی۔ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔
اگلی چند صدیوں میں ان ماڈلوں کے ارتقا کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔1669میں بارتھولی نیس نے کچھ کرسٹلوں میں روشنی کے دوہرے انعکاس کو دریافت کیا اورہائی جینس نے،جلد ہی،1678میں روشنی کے لہری نظریہ کی بنیاد پر اس کی وضاحت پیش کردی۔اس کے باوجود،تقریباً اگلے سوسال تک نیوٹن کے ذراتی ماڈل پر اعتماد ظاہر کیا جاتارہا اور ذراتی ماڈل کولہری ماڈل پر ترجیح دی جاتی رہی۔اس کی ایک وجہ تو ذراتی ماڈل کی سادگی تھی اور ساتھ ہی ساتھ نیوٹن سے اس کے ہم عصر سائنس دانوں کا مرعوب ہوناتھا۔
پھر1801میں،ینگ نے اپنا دو–سلٹ تجربہ کیااورتداخل فرنجوں کا مشاہدہ کیا۔اس مظہرکی وضاحت صرف لہری نظریہ کی بنیاد پر ہی کی جاسکی۔ یہ احساس بھی ہوا کہ انصراف ایک دوسرا ایسا مظہر ہے،جس کی وضاحت صرف لہر ی نظریہ ہی کرسکتاہے۔دراصل، یہ روشنی کے راستے میں ہر نقطہ سے ثانوی لہریچوں کے نکلنے کے ہائی جینس کے تصور کا قدرتی نتیجہ تھا۔ان تجربات کی وضاحت کرنا،یہ فرض کرتے ہوئے ممکن نہیں تھا کہ روشنی ذرات پر مشتمل ہے۔1810کے قریب ایک اورمظہر،تقطیب،دریافت ہوا۔‘‘لہر نظریہ اس کی بھی وضاحت کرنے میں کامیاب رہا۔اس لیے ہائی جین کے لہر نظریہ نے مرکزی حیثیت اختیار کرلی اورنیوٹن کا ذراتی نظریہ پس پردہ چلا گیا۔ یہ صورت حال بھی تقریباً ایک صدی تک جاری رہی۔
انیسویں صدی میں روشنی کی رفتار معلوم کرنے کے لیے مزید بہتر تجربے کیے گئے۔مقابلتاًزیادہ درستی صحت کے ساتھ کیے گئے تجربوں کے ذریعے خلامیں روشنی کی چال کی قدر3X 108 M/S حاصل ہوئی۔1860کے آس پاس میکسویل نے اپنی برق–مقناطیسیت کی مساواتیں تجویز کیں۔اوریہ احساس ہوگیا کہ اس وقت تک معلوم ہوئے تمام برق–مقناطیسی مظاہر کی وضاحت میکسویل کی ان چارمساواتوں کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔جلد ہی میکسویل نے یہ بھی دکھایا کہ برقی اور مقناطیسی میدانوں کی اشاعت خالی فضا(خلا)میںبھی،برق–مقناطیسی لہروں کی شکل میں ہوسکتی ہے۔میکسویل نے ان لہروں کی چال کا حساب لگایااور2.998X 8M/S کی نظری قدر حاصل کی۔اس قدر کی تجرباتی قدر سے نزدیکی ہم آہنگی سے یہ تجویز کیاجاسکا کہ روشنی برق–مقناطیسی لہروں پر مشتمل ہے۔1887میں ہرٹز نے ان لہروں کو پیدا کرنے اور شناخت کرنے کا مظاہرہ کیا۔اس سے روشنی کا لہری نظریہ ایک مضبوط بنیاد پر قائم ہوگیا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب کہ18ویںصدی ذراتی ماڈل کی صدی تھی،انیسویںصدی روشنی کے لہر ی ماڈل کی صدی تھی۔
1850–1900تک کے دورمیں،طبیعیات کے ایک بالکل مختلف علاقے،حرارت اور اس سے متعلق مظاہر پر بہت سے تجربات کیے گئے۔حرکی نظریہ اور حرحرکیات جیسے نظریہ اور ماڈل پیش کیے گئے جنھوں نے ان مختلف مظاہر کی،سوائے ایک مظہر کے،کامیابی کے ساتھ وضاحت کی۔
ہر جسم،کسی بھی درجۂ حرارت پر،تمام طول لہر کا اشعاع خارج کرتا ہے۔وہ اس پر پڑرہے اشعاع کو جذب بھی کرتا ہے۔وہ جسم جو اس پر پڑرہے تمام اشعاع کو جذب کرلیتا ہے،ایک سیاہ جسم(Black body)کہلاتا ہے۔یہ طبیعیات میں ایک مثالی تصور ہے جیسے کہ نکتہ کمیت اور ہموار یکساں حرکت کے تصورات ہیں۔ایک جسم سے خارج ہونے والے اشعاع کی شدت کا برخلاف طول لہر گراف سیاہ جسم طیف کہلاتا ہے۔اس زمانے کا کوئی نظریہ بھی سیاہ جسم طیف کی مکمل وضاحت نہیںکرسکا۔
1900میں پلانک نے ایک انوکھا تصور پیش کیا۔انھوں نے کہا کہ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ اشعاع لہروں کی شکل میں لگاتار خارج ہوتے رہنے کے بجائے توانائی کے پیکٹوں کی شکل میں خارج ہوتا ہے تب ہم سیاہ جسم طیف کی وضاحت کرسکتے ہیں خود پلانک نے ان کوانٹاکو یاپیکٹوں کو اخراج یا اجذاب کی خاصیت سمجھا،روشنی کی خاصیت نہیں۔انھوں نے ایک فارمولا مشتق کیا جو پورے طیف سے ہم آہنگ تھا۔یہ لہری اورذراتی تصویروں کا ایک ایسا آمیزہ تھا جسے سمجھنا مشکل تھا—اشعاع ذرات کے بطورخارج ہوتا ہے،لہر کی شکل میں اس کی اشاعت ہوتی ہے اور پھر ذرات کی شکل میں جذب ہوتا ہے۔اس سے طبیعیات داں مشکل میں پھنس گئے۔کیا ہمیں صرف ایک مظہر کی وضاحت کرسکنے کے لیے،روشنی کی ذراتی تصویر کو دوبارہ قبول کرلینا چاہیے؟پھر تداخل اور انصراف کے مظاہر کا کیا ہوگا،ذراتی ماڈل کے ذریعے جن کی وضاحت نہیں کی جاسکتی؟
لیکن جلدہی،1905میں آئن اسٹائن نے روشنی کی ذراتی تصویر فرض کرتے ہوئے نوری–برقی اثر کی وضاحت کی۔1907میںدبائی(Debye)نے ایک قلمی(crystalling)ٹھوس کے لیٹس ارتعاشات(lattice Vibrations)کے لیے ذراتی تصویر استعمال کرتے ہوئے ٹھوس اشیا کی ادنیٰ(low)درجۂ حرارت پر نوعی حرارتوں کی وضاحت کی۔ان یہ دونوں مظاہر حالانکہ طبیعیات کے ایک دوسرے سے بالکل مختلف میدانوں سے تعلق رکھتے تھے،لیکن ان کی وضاحت صرف ذراتی ماڈل کے ذریعے ہی کی جاسکتی تھی،لہری ماڈل کے ذریعے نہیں۔1923میں،کامپٹن کے ذریعے کیے گئے ایٹموں سے–Xکرنوں کے انتشار کے تجربات بھی ذراتی–تصویرکے حق میں گئے۔اس سے یہ مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہوگیا۔
اس لیے1923تک طبیعیات دانوں کے سامنے مندرجہ ذیل سوالات تھے:(a)کچھ ایسے مظاہر ہیں،جیسے مستقیم اشاعت،انعکاس اور انعطاف،جن کی وضاحت ذراتی ماڈل سے بھی کی جاسکتی ہے اورلہر ماڈل سے بھی۔(b)کچھ ایسے مظاہر سامنے آئے تھے،جیسے تداخل اور انصراف،جن کی وضاحت صرف لہر ماڈل کے ذریعے ہوسکتی تھی اور ذراتی ماڈل ان کی وضاحت نہیں کرسکتا تھا۔(c)کچھ ایسے مظاہرسامنے آچکے تھے،جیسے سیاہ جسم اشعاع،نوری برقی اثر،کامپٹن انتشار،جن کی وضاحت صرف ذراتی ماڈل کے ذریعے کی جاسکتی تھی لیکن لہر ماڈل ان کی وضاحت میں ناکام تھا۔ان دنوں کسی نے اس صورت حال کو ان الفاظ میں بخوبی بیان کیا:روشنی،پیر،بدھ اور جمعہ کے دن ذرات کی طرح برتاؤ کرتی ہے اور منگل،جمعرات اور سنیچر کے دن لہر کی طرح اور اتوار کے دن ہم روشنی کی بات نہیں کرتے۔
1924میں،ڈی برائے نے اپنا لہر–ذرہ دوئی کا نظریہ تجویز کیا،جس میں انھوں نے کہا کہ صرف روشنی کے فوٹانوں کی ہی نہیں بلکہ مادے کے ذرات جیسے الیکٹرانوں اور ایٹموں کا بھی دہرا کردار ہوتا ہے،وہ بھی کبھی ذرہ کی طرح برتاؤ کرتے ہیں اور کبھی لہر کی طرح۔انھوں نے ایک فارمولا دیا،جس کے ذریعے ان کی کمیت،رفتار،معیارحرکت (ذرات کی خاصیتیں)اور طول لہر اور تعددکے(لہر کی خصوصیات)درمیان رشتہ قائم کیا۔1927میںتھامسن اور ڈیویسن اورجرمرنے علاحدہ علاحدہ کیے گئے تجربات کے ذریعے دکھایاکہ الیکٹران لہروں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں اور ان کی طول لہر،ڈی برائے کے فارمولے سے حاصل کی گئی طول لہر سے ہم آہنگ تھی۔ان کے تجربات قلمی ٹھوسوں سے الیکٹرانوں کے انصراف پر کیے گئے تھے،جن میں ایٹموں کی باضابطہ ترتیب ایک گریٹنگ کی طرح کام کرتی تھی۔جلد ہی،دوسرے ذرات جیسے پروٹانوں اور نیوٹرانوں پر بھی انصراف تجربات کیے گئے اور ان تجربات نے بھی ڈی–برائے فارمولے کی تصدیق کی۔اس طرح لہر–ذرہ دوئی کو طبیعیات کے ایک مسلمہ اصول کے طورپر منظور کرلیا گیا۔اب ایک ایسا اصول تھا،طبیعیات دانوں نے سوچا،جواوپر نشان دہی کیے گئے تمام مظاہر کی وضاحت کرسکتا تھا چاہے وہ روشنی سے متعلق مظاہر ہوں یا ذرّات کہی جانے والی اشیا سے متعلق ہوں۔
لیکن لہر–ذرہ دوئی کے لیے کوئی بنیادی نظری اساس نہیں تھی۔ڈی برائے کی تجویز صرف ایک کیفیتی دلیل تھی جو قدرت کے تشاکل پر مبنی تھی۔لہر–ذرہ دوئی،زیادہ سے زیادہ،ایک اصول تھا،ایک صحت مند بنیادی نظریہ کا نتیجہ نہیںتھا—یہ درست ہے کہ جو تجربات بھی کیے گئے ان کے نتائج ڈی برائے فارمولے سے ہم آہنگ تھے۔لیکن طبیعیات داں اس طرح کام نہیں کرتے۔ایک طرف تو تجویز کیے گئے ماڈلوں کی تجرباتی تصدیق ہونی چاہیے اور دوسری طرف ان کی ایک صحت مند نظری بنیاد بھی ہونا چاہیے۔یہ بنیاد اگلی دو دہائیوں میں فراہم ہوئی۔ڈِراک(Dirac)نے1928میں اپنااشعاع کا نظریہ پیش کیا اور1930تک ہائیزنبرگ اور پالی نے اسے مضبوط بنیادفراہم کی۔1940کی دہائی کے آخری برسوں میں تو موناگا،شوِنگر اور فائن مین نے اس نظریہ میںپائی گئی خامیوں کو دور کیا اور اسے اور نفیس شکل دی۔یہ تمام نظریات لہر–ذرہ دوئی کو ایک نظری اساس فراہم کرتے ہیں۔
حالانکہ یہ قصہ ابھی جاری ہے،یہ اور زیادہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے اور اس نوٹ کے دائرہ سے باہر ہے۔لیکن ابھی تک جو کچھ ہوا ہم نے اس تصویر کی اہم بناوٹ پیش کردی اور اس وقت ہمیں اسی سے مطمئن ہوجانا چاہیے۔اب طبیعیات کے موجودہ نظریات کا یہ قدرتی نتیجہ سمجھاجاتا ہے کہ اشعاع اور ساتھ ہی مادے کے ذرات بھی لہری اور ذراتی دونوں خاصیتیں ظاہر کرتے ہیں۔کسی تجربے میں کوئی ایک خاصیت ظاہرہوتی ہے اور اور دوسرے تجربے میں کوئی دوسری اور کبھی کبھی ایک ہی تجربے کے مختلف حصوں میں بھی مختلف خاصیت ظاہر ہوتی ہے۔