باب بارہ
ایٹم ATOMS
12.1 تعارف(INTRODUCTION)
انیسویں صدی تک مادے کے ایٹمی فریضے(atomic hypothesis)کے حق میں کافی مواد اکٹھاہوچکا تھا۔1897میں گیسوں سے برقی ڈسچارج پر انگریزطبیعیات داں جے۔جے۔تھامسن(1856–1940)کے ذریعے کیے گئے تجربات نے یہ انکشاف کیا کہ مختلف عناصر کے ایٹموں میں منفی چارج شدہ اجزائے ترکیبی (negatively charged constituents) ہوتے ہیں(الیکٹران) جو تمام ایٹموں کے لیے متماثل(Indentical)ہیں۔لیکن ایٹم مجموعی طورپر تعدیلی(بے برق Neutral)ہوتے ہیں اس لیے ایک ایٹم میں کچھ مثبت چارج ہونا لازمی ہے جو الیکٹرانوں کے منفی چارج کی تعدیل کرسکے۔ لیکن ایٹم کے اندر مثبت چارج اور الیکٹرانوں کی ترتیب(انتظام) کیسے ہوتی ہے؟دوسرے الفاظ میں ایٹم کی ساخت کیا ہے۔
ایٹم کا پہلا ماڈل جے۔جے۔تھامسن نے1898میں تجویز کیا۔اس ماڈل کے مطابق ایٹم کا مثبت چارج ایٹم کے پورے حجم پر ہموار طورپرپھیلاہوتا ہے اور منفی چارج شدہ الیکٹران اس میں اس طرح پیوست ہوتے ہیں جیسے ایک تربوزمیں بیج ہوتے ہیں۔ یہ ماڈل ایٹم کی جیسی تصویر پیش کرتا ہے اس مناسبت سے اسے ایٹم کا پلم پڈنگ(Plum pudding) (کشمشی کھیر)ماڈل کہاگیا۔لیکن ایٹموں کے اس کے بعد کیے گئے مطالعے سے،جیسا کہ اس باب میں بیان کیا گیا ہے، یہ واضح ہوا کہ ایٹم میں الیکٹرانوں اور مثبت چارج کی تقسیم اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے جیسی اس ماڈل نے تجویز کی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ تکثیف شدہ مادہ(condensed matter)(ٹھوس اوررقیق) اور کثیف گیسیں،ہر درجہ حرارت پر،برق مقناطیسی اشعاع خارج کرتی ہیں جس میں مختلف طولِ لہر کی مسلسل تقسیم پائی جاتی ہے حالانکہ ان کی شدت مختلف ہوتی ہیں۔ یہ سمجھاجاتا ہے کہ اس اشعاع کی وجہ ایٹموں اور مالیکیولوں کے اہترازات ہیں جو کہ ہر ایٹم یا مالیکیول کے اس کے پڑوسی ایٹموں یا مالیکیولوں سے باہمی عمل کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف لوپر گرم کی گئی لطیف گیسوں سے یا شعلہ ٹیوب میں برقی طریقے سے اشتعال شدہ گیسوں سے خارج ہوئی روشنی، جیسے جانی پہچانی نیون سائن کی روشنی میں یا پارہ ابحزات روشنی میں صرف کچھ مخصوص مجرد طولِ لہر ہی پائے جاتے ہیں۔طیف چمکدار خطوط کاایک سلسلہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسی گیسوں میں،ایٹموں کے درمیان اوسط فاصلہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ سمجھاجاسکتا ہے کہ خارج ہوا اشعاع انفرادی ایٹموں کی وجہ سے ہے اور ایٹموں اور مالیکیولوں کے درمیان باہم عمل کی وجہ سے نہیں ہے۔

رنسٹ ردرفورڈ(1871–1937)نیوزی لینڈ میں پیدا ہوئے۔ برطانوی طبیعیات داں،جنھوں نے ریڈیو ایکٹیو(تابکار) اشعاع پر رہ نمایانہ کام کیا۔انھوں نے الفا–کرنیں اور بیٖٹا– کرنیں دریافت کیں۔ فیرڈرک سوڈی کے ساتھ انھوں نے تابکاری کا جدید نظریہ پیش کیا۔انھوں نے تھوریم کے ظہور (emanation) کا مطالعہ کیااور ایک نئی اعلیٰ (noble)گیس،ریڈون کا ایک ہم جا (isotope)دریافت کیا،جواب تھورون (thoron)کہلاتی ہے۔ دھات کی پنّی(metal foil) سے ذرات کا انتشار کراکر انھوں نے ایٹمی نیوکلیس دریافت کیا اور ایٹم کا سیاری ماڈل تجویزکیا۔انھوں نے نیوکلیس کے تقربی سائز کا تخمینہ بھی لگایا۔
انیسویںصدی کے شروع میں ہی یہ بھی پورے وثوق کے ساتھ معلوم ہوگیا تھا کہ ہر عنصر کے ساتھ اشعاع کا ایک مخصوص طیف منسلک ہے،مثلاً ہائیڈروجن کے طیف میں ہمیشہ خطوط کا ایک سیٹ ملتا ہے جس میں خطوط کے درمیان ہمیشہ ایک متعین اضافی فاصلہ ہوتا ہے۔ اس حقیقت نے یہ تجویز کیا کہ ایک اٹیم کی اندرونی ساخت اور اس کے ذریعے خارج کیے گئے طیف میں ایک قریبی رشتہ ہے۔ 1885میں جوہن جیکب بالمر(Johann Jakob Balmer) (1825–1898)نے ایک سادہ آزمائش (Empirical)فارمولا دیا جس کے ذریعے ایٹمی ہائیڈروجن سے خارج ہوئے خطوط کے ایک گروپ کے طولِ لہر حاصل کیے جاسکتے تھے۔ کیونکہ ہائیڈروجن تمام ان عناصر میں جنھیں ہم جانتے ہیں، سب سے سادہ عنصر ہے،ہم اس باب میں ہائیڈروجن کے طیف کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔
ارنسٹ ردرفورڈ( 1871–1937) (Ernst Rutherford)،جو جے۔جے۔تھامسن کے ریسرچ طالب علم رہ چکے تھے، کچھ تاب کار عناصر سے خارج ہوئے ذرات کے ساتھ تجربات کرنے میں مشغول تھے۔1906میں انھوں نے ایٹمی ساخت کی چھان بین کرنے کے لیے،ان ذرات کے ایٹموں سے انتشار کا ایک کلاسیکی تجربہ تجویز کیا۔یہ تجربہ بعد میں،1911کے قریب ہنس گیگر[Hans Geiger (1882–1945)]اور ارنسٹ مارسڈین[Ernst Marsden (1899–1970)]نے کیا(ارنسٹ مارسڈین کی عمر اس وقت صرف20برس تھی اور ابھی انھوں نے بیچلرڈگری بھی حاصل نہیں کی تھی)۔اس تجربے کی تفصیل سے حصہ12.2میں بحث کی گئی ہے۔اس تجربے کے نتائج کی وضاحت سے ایٹم کے ردرفورڈ سیاری ماڈل(جو ایٹم کا نیوکلیائی ماڈل بھی کہلاتا ہے) کی بنیادپڑی۔اس ماڈل کے مطابق ایٹم کا تمام مثبت چارج اورایٹم کی کمیت کا زیادہ تر حصہ ایک خفیف حجم میں مرتکز ہوتا ہے، جو نیوکلیس کہلاتا ہے،اور الیکٹران نیوکلیس کے گرد اسی طرح طواف کرتے ہیں جیسے سیارے سورج کے گرد طواف کرتے ہیں۔
ردرفورڈ نیوکلیائی ماڈل اس جانب ایک اہم قدم تھا،جس طورپر ہم آج ایٹم کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اس ماڈل کے ذریعے یہ وضاحت نہیں کی جاسکی کہ ایٹم صرف مجرد طولِ لہر کی روشنی ہی کیوں خارج کرتے ہیں۔ہائیڈروجن جیسا سادہ ایٹم،جو صرف ایک الیکٹران اور ایک پروٹان پر مشتمل ہے، مخصوص طولِ لہر کا پیچیدہ طیف کیسے خارج کرسکتا ہے؟ ایٹم کی کلاسیکی تصویر میں الیکٹران نیوکلیس کے گرد بڑی حد تک اسی طرح طواف کرتے ہیں جیسے سیارے سورج کے گرد طواف کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی،ہم دیکھیں گے کہ اس ماڈل کو تسلیم کرنے میں کچھ بڑی دشواریاں ہیں۔
12.2الفا–ذرہ انتشار اور ردرفورڈ کا اٹیم نیوکلیائی ماڈل
(Alpha-particle Scattering and Rutherford’s Nuclear Model of Atom)

شکل12.1گیگر–مارسڈین کا انتشار تجربہ–پوراتجرباتی سامان ایک خلاکیے ہوئے چیمبر میں رکھاہوا ہے (شکل میں نہیں دکھایاگیا ہے)
1911میں، ارنسٹ ردرفورڈ کے تجویز کرنے پر ایچ۔گیگر اورای۔مارسڈین نے کچھ تجربات کیے۔ انھوں نے ایک تجربے میں،جیسا کہ شکل12.1میںدکھایاگیا ہے،تابکار ماخذ
سے خارج ہونے والے 5.5 Mev،ذرات کی شعاع کو سونے کی بنی پتلی دھاتی پنی پر ڈالا۔شکل12.2میں اس تجربے کا خاکہ ڈائیگرام دکھایا گیا ہے۔ تابکار ماخذ
سے خارج ہوئے ذرات کو سیسے کی اینٹوں کے درمیان سے گذارکر ایک پتلی شعاع میں متوازی کرلیاگیا تھا۔ شعاع کو
موٹائی کی سونے کی پتلی پنی پر ڈالاگیا۔منتشر ہوئے ذرات کا ایک گھمائے جاسکنے والے شناخت کار کے ذریعے مشاہدہ کیاگیا۔ یہ شناخت کار زنک سلفائڈ پردہ اور ایک خوردبین پر مشتمل تھا۔ منتشر ہوئے ذرات نے پردہ سے ٹکرانے پر روشنی کے مختصر شعلے پیدا کیے یا روشنی کی جھلک نظرآئی۔ ان شعلوں کو خوردبین کے ذریعے دیکھاجاسکتا ہے اور منتشر ہوئے ذرات کی تعداد کی تقسیم کابطور زاویہ انتشار کے تفاعل کے مطالعہ کیاجاسکتا ہے۔

شکل12.2:گیگر–مارسڈین کے تجربہ کا خاکہ ڈائیگرام
ایک دیے ہوئے وقفہ وقت میں مختلف زاویوں پر منتشر ہوئی –a ذرات کی کل تعداد کا یک مخصوص گراف شکل12.3میں دکھایاگیا ہے۔ اس شکل میں نقاط (dots)آنکڑوں کے نقطوں کوظاہر کرتے ہیں اور مسلسل منحنی (ٹھوس منحنیsolid curve) اس مفروضے پر مبنی نظری پیشین گوئی ہے کہ ہدف کے ایٹم میں ایک خفیف (small)، کثیف (dense)، مثبت چارج شدہ(positively charged)نیوکلیس ہے۔ بہت سے –aذرات سونے کی پنّی میں سے سیدھے گذرجاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کا کسی سے کوئی تصادم نہیں ہوتا۔واقع–aذرات میں سے صرف%0.14 ،1ºسے زیادہ منتشرہوتے ہیں اور تقریباً 8000میں سے1، 90ºسے زیادہ سے منحرف ہوتاہے۔ردرفورڈ نے دلیل پیش کی کہ–aذرہ کو پیچھے کی جانب منفرج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس پر ایک بڑی دفاعی قوت لگے۔یہ قوت مہیا ہوسکتی ہے اگر ایٹم کی کمیت کا بڑا حصہ اوراس کا مثبت چارج اس کے مرکز پر مضبوطی سے مرتکز ہو۔ تب ایک آنے والا –aذرہ، مثبت چارج کے بے حد قریب، بنا اس کے اندر داخل ہوئے،آسکتا ہے اور اتنا نزدیکی آمنا سامنا ایک بڑے انفراج کی شکل میں ظاہرہوگا۔یہ مطابقت نیوکلیائی ایٹم کے فریضے(hypothesis)کے حق میں تھی۔اسی وجہ سے ردرفورڈ کو نیوکلیس دریافت کرنے کا اعزاز دیاجاتا ہے۔

شکل12.3:نقطے(dots)ایک پتلی سونے کی پنی کے لیے–aذرہ انتشار کے آنکڑے ہیں جو گیگر اور مارسڈین نے شکل12.1اورشکل12.2میں دکھائے گئے تجربات سے حاصل کیے تھے۔ٹھوس منحنی(مسلسل خط منحنیsolid curve)اس مفروضے پر مبنی نظری پیشین گوئی ہے کہ ایٹم میں ایک خفیف،کثیف،مثبت چارج شدہ نیوکلیس ہوتا ہے۔
ایٹم کے ردرفورڈ کے نیوکلیس ماڈل میں ایٹم کا کل مثبت چارج اور ایٹم کی زیادہ ترکمیت نیوکلیس میں مرتکز ہوتے ہیں اور الیکٹران اس سے کچھ فاصلے پر ہوتے ہیں۔ الیکٹران نیوکلیس کے گرد اسی طرح مداروں میںحرکت کرتے ہیں جیسے سیارے سورج کے گرد حرکت کرتے ہیں۔ ردرفورڈ کے تجربے نے تجویز کیا کہ نیوکلیس کا سائز تقریباً
سے
تک ہے۔حرکی نظریہ(kinetic theory)کے مطابق ایٹم کا معلوم کیاگیا سائز
تھا جو نیوکلیس کے اِس سائز کا تقریباً10000سے100,000گنا زیادہ تھا(درجہXIکی طبیعیات کی درسی کتاب کا حصہ11.6باب11دیکھیے)۔اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹران نیوکلیس سے اتنے فاصلے پر ہوں گے جو خود نیوکلیس کے سائز کا 10,000سے100000گنا ہوگا۔ اس لیے ایٹم کا زیادہ تر حصہ خالی جگہ ہے،اس لیے یہ سمجھنا آسان ہے کہ زیادہ تر ذرات ایک پتلی دھات کی پنی سے سیدھے کیوں گذرگئے۔لیکن جب ایک ذرہ نیوکلیس کے قریب آجاتا ہے تو وہاں کاطاقت ور برقی میدان اسے ایک بڑے زاویے سے منتشر کردیتا ہے۔ ایٹمی الیکٹران کیونکہ بہت ہلکے(مقابلتاً بہت کم کمیت کے) ہوتے ہیں اس لیے وہ ذرہ پر کوئی قابل ِ لحا ظ اثر نہیں ڈالتے۔
شکل12.3میںدکھائے گئے انتشار آنکڑوں کا تجزیہ، ردرفورڈ کے ایٹم کے نیوکلیائی ماڈل کو استعمال کرکے،کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ سونے کی پنی بہت پتلی ہے یہ فرض کیاجاتا ہے کہ پنی میں سے گذرتے ہوئے ایک ذرہ ایک سے زیادہ مرتبہ منتشر نہیں ہوگا۔ اس لیے ایک ذرہ کے خط راہ کی تحسیب کے لیے اس کا ایک واحد نیوکلیس سے منتشر ہونے کو ہی لیاجانا کافی ہے۔ الفا ذرات،ہیلیم کے نیوکلیس ہیں،جن میں2اکائی،2e،مثبت چارج ہوتا ہے اور جن کی کمیت ہیلیم ایٹم کی کمیت ہوتی ہے۔سونے کے نیوکلیس کا چارجZeہے،جہاںZایٹم کا ایٹمی عدد ہے۔سونے کے لیےZ = 79،کیونکہ سونے کا نیوکلیس ایک ذرہ سے تقریباً50گنا زیادہ بھاری ہے،اس لیے یہ فرض کرلینا بڑی حدتک درست ہے کہ انتشار کے پورے عمل کے دوران یہ ساکن رہتا ہے۔ ان مفروضوں کے ساتھ، نیوٹن کا حرکت کا دوسراقانون اور ذرہ اورمثبت چارج شدہ نیوکلیس کے درمیان برق–سکونی دفاعی قوت کا کولمب کا قانون استعمال کرتے ہوئے ایک ذرہ کے خط راہ کی تحسیب کی جاسکتی ہے۔
اس قوت کی عددی قدر ہے:
(12.1) 
جہاںr، –aذرہ اورنیوکلیس کا درمیانی فاصلہ ہے۔قوت کی سمت، –aذرہ اور نیوکلیس کوملانے والے خط کی جانب ہے۔ایک –aذرہ جیسے جیسے نیوکلیس کے قریب پہنچتا ہے اور نیوکلیس سے دورہوتا ہے، –aذرہ پر لگ رہی قوت کی عددی قدر اور سمت لگاتار تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
12.2.1الفا–ذرہ کا خط راہ:(Alpha-particle trajectory)

12.4:حدف نیوکلیس کے کولمب میدان میں –aذرات کا خط راہ–ٹکڑ–پیرامیٹر bاور زاویہ انتشارqبھی دکھائے گئے ہیں۔
ایک –aذرہ کے ذریعے اختیار کیاگیا خط راہ تصادم کے ٹکر–پیرامیٹر(impact parameter) bکے تابع ہے۔ ٹکر–پیرامیٹر،نیوکلیس کے مرکز سے–a ذرہ کے آغازی رفتار سمتیہ کا عمودی فاصلہ ہے شکل(12.4)۔–aذرات کی ایک دی ہوئی شعاع میں ٹکر پیرا میٹروں bکی ایک تقسیم پائی جاتی ہے،اس طرح شعاع مختلف سمتوں میں مختلف احتمال کے ساتھ منتشر ہوتی ہے(شکل12.4)
(ایک شعاع میں تمام ذرات کی حرکی توانائی تقریباً یکساں ہوتی ہے)۔ یہ دیکھاگیا ہے کہ وہ –aذرہ جو نیوکلیس کے نزدیک ہوتا ہے(چھوٹا ٹکر پیرامیٹر) اس کا انتشار زیادہ ہوتا ہے۔بالکل سیدھے تصادم (سرسے سرٹکراناHead on collision)کی صورت میں،ٹکر–پیرا میٹر اقل ترین ہوتا ہے اور –aذرہ ٹکرا کر واپس پلٹ جاتا ہے
۔بڑے تصادم–پیرامیٹر کے لیے –aذرہ تقریباً بغیر منحرف ہوئے چلاجاتا ہے اور انفراج قلیل ہوتا ہے
۔
یہ حقیقت کہ واقع ذرات کی صرف ایک قلیل کسر ہی واپس پلٹتی ہے،اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایسے–a ذرات کی تعداد بہت کم ہے جن کا سیدھا تصادم ہورہا ہے۔اور اس سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ایٹم کی کمیت ایک قلیل حجم میںمرتکز ہے۔اس لیے ردر فورڈ انتشار، نیوکلیس کے سائز کی بالائی حد معلوم کرنے کا ایک زوردار طریقہ ہے۔
مثال12.1ایٹم کے ردر فورڈ کے نیوکلیائی ماڈل میں نیوکلیس(نصف قطر تقریباً
)،سورج کے متماثل ہے،جس کے گرد الیکٹران ایک مدار(
نصف قطر) میں حرکت کرتا ہے،جیسے زمین سورج کے گرد مدار میں گھومتی ہے۔اگر شمسی نظام کے ابعاد میں بھی وہی مناسبت ہوتی جو ایٹم کے ابعاد میں ہے توزمین اصل میں سورج سے جتنی دور ہے اس کے مقابلے میں کم دور ہوتی یا زیادہ؟ زمین کے مدار کا نصف قطر تقریباً
ہے۔ سورج کا نصف قطر
لیاجاتا ہے۔
حل الیکٹران کے مدار کے نصف قطر کی نیوکلیس کے نصف قطر سے نسبت ہے:
یعنی کہ الیکٹران کے مدار کا نصف قطر، نیوکلیس کے نصف قطر سے تقریباً 105 گنا بڑا ہے۔اگر سورج کے گرد زمین کے مدار کا نصف قطر، سورج کے نصف قطر کا 105گنا ہوتا،تو زمین کے مدار کا نصف قطر ہوتا:
،یہ زمین کے اصل مداری قطر کا تقریباً100گنا ہے۔ اس لیے زمین سورج سے بہت زیادہ دور ہوتی۔
اس کا مطلب ہے کہ ایک ایٹم میں خالی فضا کی کسر ہمارے شمسی نظام سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
مثال12.2 ایک گیگر–مارسڈین تجربہ میں7.7 MeVکے –aذرہ کا نیوکلیس سے قریب ترین نزدیکی فاصلہ(distance of closest approach)کیاہوگا، اس سے پہلے کہ وہ حالتِ سکون میں آئے اور اپنی سمت مخالف کرے۔
حل کلیدی تصور یہاں یہ ہے کہ انتشار کے پورے عمل کے دوران،ایک –aذرہ اورسونے کے نیوکلیس پر مشتمل نظام کی کل میکانیکی توانائی کی بقا ہوتی ہے۔نظام کی آغازی میکانیکی توانائی Eiہے،یعنی ذرہ اور نیوکلیس کے باہمی عمل کرنے سے پہلے، اور یہ اختتامی توانائی Efکے مساوی ہے جب کہ –aذرہ ایک لمحے کے لیے رکتا ہے۔ آغازی توانائی Ei،آنے والے –aذرہ کی حرکی توانائی ہی ہے۔اختتامی توانائی Ef،نظام کی برقی وضعی توانائیU ہی ہے۔ وضعی توانائی Uمساوات(12.1)سے تحسیب کی جاسکتی ہے۔
فرض کیجیے کہ –aذرہ اپنے رکنے کے نقطہ پر ہے تو ذرہ کے مرکز اور سونے کے نیوکلیس کے مرکز کے درمیان فاصلہdہے۔تب ہم توانائی کی بقا: Ei = Efکو لکھ سکتے ہیں۔
![]()
اس لیے قریب ترین نزدیکی فاصلہ dدیاجاتا ہے:
طبیعیات

قدرتی طورپر پیدا ہونے والے –aذرات کی اعظم حرکی توانائی
پائی گئی ہے۔ کیونکہ
، لیتے ہوئے

پنی کے مادے،سونے کاایٹمی عدد ہے:Z = 79،اس لیے
(یعنی کہ فرضی) ![]()
اس لیے سونے کے نیوکلیس کا نصف قطر
ہے۔ یہ تجربے سے حاصل کیے گئے نتائج سے ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ سونے کے نیوکلیس کا،اصل میں،نصف قطر 6 fmہے۔اس تناقص (discrepancy) کی وجہ یہ ہے کہ کم ترین نزدیکی کا فاصلہ، سونے کے نیوکلیس کے نصف قطر اور –aذرہ کے نصف قطر کے حاصل جمع سے،قابلِ لحاظ طورپر، زیادہ ہوتا ہے۔اس لیے –aذرہ سونے کے نیوکلیس کے کبھی بھی تماس میں نہیںآتا اور تماس میںآئے بغیر ہی اپنی سمت مخالف سمت میں کرلیتا ہے۔
12.2.2الیکٹران مدار(Electron orbits)
ردرفورڈ کا ایٹم کا نیوکلیائی ماڈل، جس میں کلاسیکی تصورات شامل ہیں،ایٹم کی تصویر ایک ایسے برقی طورپر تعدیلی کرّے کی شکل میں پیش کرتا ہے جس کے مرکز پر بہت خفیف،بھاری کمیت والا اور مثبت چارج شدہ نیوکلیس ہے اور اس نیوکلیس کے گرد اپنے اپنے حرکی طورپر مستحکم مداروں میں الیکٹران طواف کررہے ہیں۔ طواف کرتے ہوئے الیکٹرانوں اور نیوکلیس کے درمیان کام کرہی کشش کی برق–سکونی قوت، انھیں ان کے مداروں میں قائم رکھنے کے لیے درکار مرکز جو قوت
مہیاکرتی ہے۔ اس لیے ایک ہائیڈروجن ایٹم میں حرکی طورپر مستحکم مدار کے لیے
(12.2) 
اس لیے، مدار کے نصف قطر اور الیکٹران کی رفتار میںرشتہ ہے:
(12.3) 
ہائیڈروجن ایٹم میں الیکٹران کی حرکی توانائی(K)اور برقی سکونی وضعی توانائی(U)ہیں:

(Uکی منفی علامت ظاہر کرتی ہے کہ برق سکونی قوت–rسمت میں ہے)۔اس لیے ہائیڈروجن ایٹم میں الیکٹران کی کل توانائی Eہے:

(12.4) 
الیکٹران کی کل توانائی منفی ہے۔ اس کامطلب ہے کہ الیکٹران نیوکلیس سے بندھا ہوا ہے۔اگر Eمثبت ہوتی تو الیکٹران نیوکلیس کے گرد ایک بند مدار میں گردش نہیں کرتا۔
مثال12.3 تجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایک ہائیڈروجن ایٹم کو ایک الیکٹران اور ایک پروٹان میں علاحدہ کرنے کے لیے13.6 eVتوانائی درکار ہے۔ایک ہائیڈروجن ایٹم میں ایک الیکٹران کے مدار کے نصف قطر اور الیکٹران کی رفتار کا حساب لگائیے۔
حل ہائیڈروجن ایٹم میں الیکٹران کی کل توانائی ہے:

اس سے مدار کا نصف قطر ملتا ہے:

رکھتے ہوئے،مساوات(12.3)سے طواف کرتے ہوئے الیکٹران کی رفتار کا حساب لگایا جاسکتا ہے۔

12.3ایٹمی طیف(Atomic Spectra)

شکل12.5:ہائیڈروجن کے طیف میںاخراجی خطوط
جیسا کہ حصہ12.1میںنشاندہی کی جاچکی ہے،ہر عنصر کا اپنا ایک خاص اس اشعاع کا طیف ہوتا ہے جو وہ خارج کرتا ہے۔ جب ایک ایٹمی گیس یا ابخرات کو کم دباؤ پر مشتعل کیاجاتا ہے، عام طور سے اس میں سے ایک برقی کرنٹ گزار کے، خارج ہوئے اشعاع کا ایک طیف حاصل ہوتا ہے جس میں کچھ خاص طولِ لہر ہی شامل ہوتے ہیں۔اس قسم کے طیف کو اخراجی خطی طیف کہتے ہیں اوریہ ایک گہرے پس منظر میں چمکدار خطوط پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایٹمی ہائیڈروجن کے ذریعے خارج کیاگیا طیف شکل12.5میںدکھایا گیا ہے۔ اس لیے ایک مادہ کے اخراجی خطی طیف(emission line spectrum)کا مطالعہ ایک گیس کو شناخت کرنے کے لیے بطور انگلیوں کے نقوش(fingerprint)کام کرتا ہے۔ جب ایک گیس سے سفید روشنی گذرتی ہے اور ہم ایک طیف پیما استعمال کرتے ہوئے ترسیل شدہ روشنی کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں طیف میں کچھ گہرے (سیاہ) خطوط ملتے ہیں۔یہ سیاہ خطوط، درستی صحت کے ساتھ ان طولِ لہر سے مطابقت رکھتے ہیں جو گیس کے اخراجی خطی طیف میں پائے گئے تھے۔یہ گیس کے مادہ کاانجذاب طیف(absorption spectrum) کہلاتا ہے۔
12.3.1طیفی سلسلہ(Spectral series)

ہم امید کرسکتے ہیں کہ ایک خاص عنصر کے ذریعے خارج کی گئی روشنی کے تعددوں میں کوئی باقاعدہ نمونہ ہوگا۔ ہائیڈروجن سادہ ترین ایٹم ہے،اس لیے اس کا طیف بھی سب سے زیادہ سادہ ہوتا ہے۔ لیکن مشاہدہ کیے گئے طیف میں پہلی نظر میں طیفی خطوط میں کسی ترتیب یا باقاعدگی کی جھلک نظر نہیں آتی۔لیکن ہائیڈروجن طیف کے کچھ خاص سیٹوں کے خطوط کا درمیانی فاصلہ ایک باقاعدہ طریقے سے کم ہوتا ہے(شکل12.5)۔ان میں سے ہر ایک سیٹ ایک طیفی سلسلہ کہلاتا ہے۔1885میں،ایسے پہلے سلسلے کا مشاہدہ ایک سوئیڈن کے اسکول کے استاد جوہن جیکب بالمر(1825–1898)نے کیا۔ یہ سلسلہ ہائیڈروجن ایٹم کے بصری علاقے(visible region)میں تھا۔ یہ سلسلہ بالمر سلسلہ کہلاتا ہے (شکل12.6)۔سب سے زیادہ طولِ لہر والے خط کا طولِ لہر656.3 nmتھا جو سرخ علاقے میں تھا اور یہ خط Haکہلاتا ہے،اس کے بعدوالاخط، جس کاطول لہر نیلے علاقے میں486.1nmتھا، Haکہلاتا ہے،تیسراخط،طول لہر434.1nm،اودے علاقے میں، Haکہلاتا ہے اور اسی طرح اور بھی۔جیسے جیسے طول لہر کم ہوتا جاتا ہے خطوط ایک دوسرے کے زیادہ نزدیک معلوم ہوتے ہیں اور ان کی شدت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔بالمرنے مشاہدہ کی گئی طول لہر کے لیے ایک سادہ آزمائشی فارمولا معلوم کیا:
(12.5) 
جہاں λ ،طولِ لہر ہے،Rایک مستقلہ ہے جو رڈبرگ مستقلہ کہلاتا ہے اورnکی کوئی صحیح عددی قدر،جیسے3،4،5وغیرہ ہوسکتی ہے۔Rکی قدر
ہے۔یہ مساوات بالمر فارمولا بھی کہلاتی ہے۔
مساوات(12.5)میںn=3لیتے ہوئے،ہم
خط کا طولِ لہر حاصل کرتے ہیں:

n = 4کے لیے
خط کا طول لہر حاصل کیاجاسکتا ہے اور اسی طرح آگے بھی۔
کے لیے حاصل سلسلے کی حد
پر حاصل ہوتی ہے۔ یہ بالمر سلسلے میں سب سے کم طولِ لہر ہے۔اس حد کے آگے کوئی واضح خط نہیں دکھائی دیتا اور صرف ایک دھندلا مسلسل طیف دکھائی دیتا ہے۔
ہائیڈروجن کے طیف کے دیگر سلسلے اس کے بعد دریافت ہوئے۔یہ اپنے دریافت کرنے والوں کے نام پر لیمن،پاسچن،بریکٹ اور پی فنڈ سلسلے کہلاتے ہیں۔ یہ ان فارمولوں سے ظاہر کیے جاتے ہیں:
لیمن سلسلہ
(12.6) 
پاسچن سلسلہ
(12.7) ![]()
بریکٹ سلسلہ
(12.8) 
پی فنڈ سلسلہ
(12.9) 
لیمن سلسہ بالابنفشئی علاقے میں ہے اور پاسچن اور بریکٹ سلسلے زیریں سرخ علاقے میں ہیں۔بالمر فارمولا، مساوات(12.5)،روشنی کے تعدد کی شکل میں بھی لکھاجاسکتا ہے۔یادکریں

اس لیے مساوات (12.5)ہوجاتی ہے:
(12.10) ![]()
صرف چند عناصر(ہائیڈروجن، ایک بار آئن شدہ ہیلیم یادہرہ آئن شدہ لیتھیم) ہی ایسے ہیں، جن کے طیف مساوات(12.5)تامساوات(12.9)جیسے سادہ فارمولوں سے ظاہر کیے جاسکتے ہیں۔
مساواتیں 12.5تا12.9اس لیے کارآمد ہیں کیونکہ ان سے وہ طول لہر حاصل کیے جاسکتے ہیں جو ہائیڈروجن ایٹم خارج کرتے ہیں یاجذب کرتے ہیں۔لیکن یہ نتائج آزمائشی ہیں اور ایسی کوئی وجہ ان سے نہیں معلوم ہوتی کہ ہائیڈروجن طیف میں صرف کچھ مخصوص تعدد ہی کیوں مشاہدے میں آتے ہیں۔
12.4ہائیڈروجن ایٹم کابوہرماڈل(Bohr Model of the Hydrogen Atom)

نیلس ہنرک ڈیوڈ بوہر(1885 – 1962) (Niels Henrik David Bohr) ڈنمارک کے طبیعیات داں تھے جنھوں نے ہائیڈروجن ایٹم کے طیف کی،کوانٹم تصورات پر مبنی، وضاحت کی۔انھوں نے نیوکلیائی انشقاق کا ایک نظریہ پیش کیا جو نیوکلیس کے آب–قطرہ ماڈل پر مبنی تھا۔ بوہر نے کوانٹم میکانیات کے تصوراتی مسائل کی وضاحت کرنے میں بھی مددکی،خاص طورپر اتمامی اصول(complementary principle) تجویزکیے۔
ردر فورڈ کے تجویز کردہ ایٹم ماڈل میں یہ فرض کیاجاتا ہے کہ ایٹم جو ایک مرکزی نیوکلیس اورطواف کرتے ہوئے الیکٹرانوں پر مشتمل ہے،مستحکم ہے بالکل سورج–سیارہ نظام کی طرح،جس کی یہ تقلید کرتا ہے۔ لیکن ان دونوں صورتوں میں کچھ بنیادی اختلافات ہیں۔سیاری نظام تو مادی کششی قوت کے ذریعے قائم رہتا ہے جب کہ نیوکلیس–الیکٹران نظام میں، چارج شدہ اشیا پر مشتمل ہونے کی وجہ سے قوت کے کولمب کے قانون کے ذریعے باہم عمل ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک شے جو ایک دائرہ میں حرکت کررہی ہوتی ہے مسلسل اسراع پذیرہوتی ہے۔اسراع کی طبع مرکز جو ہوتی ہے۔ کلاسیکی برق–مقناطیسی نظریہ کے مطابق ایک اسراع پذیر چارج شدہ ذرہ برق–مقناطیسی لہروں کی شکل میں اشعاع خارج کرتا ہے۔ اس لیے ایک اسراع پذیر الیکٹران کی توانائی مسلسل کم ہوتی رہنی چاہیے۔ الیکٹران اندر کی جانب چکری(spiral)راستہ اختیار کرے گااور بالاخر نیوکلیس میں گرجائے گا(شکل12.7)۔اس لیے،ایسا ایٹم مستحکم نہیں ہوسکتا۔مزید،کلاسیکی برق–مقناطیسی نظریہ کے مطابق، طواف کرتے ہوئے الیکٹرانوں کے ذریعے خارج کی گئی برق–مقناطیسی لہروں کا تعدد طواف کے تعدد کے مساوی ہے۔ جیسے جیسے الیکٹران اندر کی جانب چکری راستے پر آگے بڑھیں گے،ان کی زاویائی رفتاریں اوراس لیے ان کے تعدد بھی مسلسل تبدیل ہوتے رہیں گے اور خارج ہوئی روشنی کا تعدد بھی تبدیل ہوگا۔اس لیے انھیں ایک مسلسل طیف خارج کرنا چاہیے، جو کہ اصل مشاہدہ کیے گئے خطی طیف سے تضاد ہے۔صاف ظاہر ہے کہ ردرفورڈ کا ماڈل اس کہانی کا صرف ایک حصہ ہی بیان کرتا ہے،جس سے اخذ کیاجاسکتا ہے کہ کلاسیکی تصورات ایٹمی ساخت کی وضاحت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

شکل12.7:ایک اسراع پذیر الیکٹران کو چکری راستہ اختیار کرتے ہوئے،لازمی طورپر، نیوکلیس میں پہنچ جانا چاہیے کیونکہ وہ مسلسل توانائی کا زیاں کرتا ہے۔
مثال12.4 کلاسیکی برق–مقناطیسی نظریہ کے مطابق، ایک ہائیڈروجن ایٹم میں طواف کرتے ہوئے الیکٹران کے ذریعے خارج کی گئی روشنی کا آغازی تعدد تحسیب کیجیے۔
حل مثال12.3سے ہم جانتے ہیں کہ ایک ہائیڈروجن ایٹم میں ایک پروٹان کے گرد
نصف قطر کے مدار میں حرکت کرتے ہوئے الیکٹران کی رفتار
ہے۔اس لیے پروٹان کے گرد حرکت کرتے ہوئے الیکٹران کا تعدد ہے:

کلاسیکی برق–مقناطیسی نظریہ کے مطابق ہم جانتے ہیں کہ طواف کرتے ہوئے الیکٹران کے ذریعے خارج کی گئی برق–مقناطیسی لہروں کا تعدد،اس کے نیوکلیس کے گرد طواف کے تعدد مساوی ہے۔اس لیے خارج ہوئی روشنی کا آغازی تعدد
ہے۔
یہ نیلس بوہر(1885–1962)تھے جنھوں نے اس ماڈل میں کچھ ترمیم کی۔انھوں نے اس میں اس وقت نئے تشکیل پارہے
کوانٹم فریضے کے کچھ تصورات شامل کیے۔ نیلس بوہرنے1912میں کئی مہینے تک ردرفورڈ کی تجربہ گاہ میں تعلیم حاصل کی اور انھیں ردرفورڈ کے نیوکلیائی ماڈل کے درست ہونے کا پورایقین ہوگیا۔ اس کش مکش کے سامنے آنے پر،جسے اوپر بیان کیاگیا ہے،بوہر نے1913میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ باوجود اس کے کہ برق–مقناطیسی نظریہ بڑے پیمانے کے مظاہر کی وضاحت کرنے میں کامیاب ہے،ایٹمی پیمانے کے عملوں پر اس کا اطلاق نہیں کیاجاسکتا ۔یہ واضح ہوگیا کہ ایٹموں کی ساخت اور ایٹموں کی ساخت کے ایٹمی طیف سے رشتے کو سمجھنے کے لیے کلاسیکی میکانیات اور برق–مقناطیسیت کے اصلولوں سے بڑی حد تک انقلابی انحراف کی ضرورت ہوگی۔بوہر نے کلاسیکی اور شروعاتی کوانٹم نظریات کو مجتمع کیااور تین دعوؤں(postulates)کی شکل میں اپنا نظریہ پیش کیا،یہ ہیں:
(i) بوہر کا پہلا دعویٰ تھا کہ ایک ایٹم میں ایک الیکٹران کچھ مخصوص مستحکم مداروں میں بغیر اشعاعی توانائی کا اخراج کیے، گردش کرے گا،جو کہ برق–مقناطیسی نظریہ سے تضاد تھا۔ اس دعوے کے مطابق،ہر ایٹم کے لیے کچھ معین مستحکم حالتیں ہیں جن میں وہ رہ سکتا ہے۔اور ایسی ہر ممکنہ حالت کی ایک معین کل توانائی ہے۔یہ ایٹم کی سکونی حالتیں کہلاتی ہیں۔
(ii) بوہر کا دوسرا دعویٰ ان مستحکم مداروں کی تعریف کرتا ہے۔ اس دعوے کا بیان ہے کہ الیکٹران صرف انھیں مداروں میں نیوکلیس کے گرد طواف کرتے ہیں جن کا زاویائی معیارِ حرکت،
کاکوئی صحیح عددی ضعف ہوتا ہے،جہاں h
پلانک کا مستقلہ ہے۔ اس لیے طواف کررہے الیکٹران کا زاویائی معیارِ حرکت (L)کوانٹمیایاہوا ہے۔ یعنی کہ:
(12.11)
(iii) بوہرکے تیسرے دعوے نے پلانک او رآئن اسٹائن کے ذریعے تشکیل دیے گئے شروعاتی کوانٹم تصورات کو ایٹمی نظریہ میں شامل کیا۔اس کا بیان ہے کہ الیکٹران اپنے مخصوص معین غیر اشعاعی مداروں میں زیادہ توانائی والے مدار سے مقابلتاً کم توانائی والے مدار میں منتقل ہوسکتا ہے۔جب وہ ایساکرتا ہے تو ایک فوٹان خارج ہوتا ہے جس کی توانائی، آغازی اور اختتامی حالتوں کے توانائی فرق کے مساوی ہوتی ہے۔اس لیے خارج ہوئے فوٹان کا تعدد دیاجاتا ہے:
(12.12) ![]()
جہاں Eiآغازی حالت کی توانائی اور Efاختتامی حالت کی توانائی ہے اور Ei >Ef
ایک ہائیڈروجن ایٹم کے لیے،مساوات(12.4)مختلف توانائی حالتوں(energy states)کی توانائیاں معلوم کرنے کے لیے ریاضیاتی عبارت مہیاکرتی ہے۔لیکن اس مساوات میں الیکٹران کے مدار کا نصف قطرrچاہیے۔rکا حساب لگانے کے لیے،الیکٹران کے زاویائی معیارِحرکت کے بارے میں بوہر کا دوسرا دعویٰ—کوانٹمیانے کی شرط—استعمال کی جاتی ہے۔زاویائی معیارِحرکت Lدیاجاتا ہے:
L = mvr
کوانٹمیانے کا بوہر کا دوسرا دعویٰ[مساوات(12.11]بتاتا ہے کہ زاویائی معیارِحرکت کی تسلیم شدہ قدریں
کی صحیح عددی اضعاف ہیں۔
(12.13) ![]()
جہاں n ایک صحیح عدد ہے، rnممکنہ nthمدارکا نصف قطر ہے اور
مدار میں الیکٹران کے حرکت کرنے کی چال ہے۔تسلیم شدہ مداروں سے nکی قدر کے مطابق1,2,3...عدد منسلک کیے جاسکتے ہیں،جسے مدار کا خاص کوانٹم عدد (principal quantum number)کہتے ہیں۔
مساوات(12.13)سے، vnاور rnمیں رشتہ ہے:
![]()
اسے مساوات(12.13)کے ساتھ ملانے پر ہمیں vnاور rnکے لیے مندرجہ ذیل ریاضیاتی عبارتیں حاصل ہوتی ہیں:
(12.14) ![]()
(12.15) ![]()
مساوات(12.14)ظاہرکرتی ہے کہ nthمدارمیں مداری چالnکے ضریب سے کم ہوجاتی ہے۔ مساوات (12.15) استعمال کرکے اندرونی ترین مدار(n=1)کا سائز حاصل کیا جاسکتا ہے:

یہ بوہر نصف قطر کہلاتاہے اور اسے
سے ظاہر کرتے ہیں۔اس لیے:
(12.16) ![]()
اورeکی قدریں رکھنے پر،حاصل ہوتا ہے: ![]()
مساوات(12.15)سے یہ بھی دیکھاجاسکتا ہے کہ مداروں کے نصف قطر n2سے بڑھتے ہیں۔
ہائیڈروجن ایٹم کی سکونی حالتوں میں الیکٹران کی کل توانائی،مساوات(12.4)میں مداری نصف قطر کی قدر رکھ کر حاصل کی جاسکتی ہے:
![]()
یا
(12.17) ![]()
عددی قدریں رکھنے پر،حاصل ہوتا ہے:
(12.18) ![]()
ایٹمی توانائیاں اکثر جول کے بجائے الیکٹران وولٹ(eV)میں ظاہر کی جاتی ہیں۔کیونکہ
اس لیے مساوات(12.18)لکھی جاسکتی ہے:
(12.19) ![]()
ایک مدار میں حرکت کرتے ہوئے الیکٹران کی کل توانائی کی منفی علامت کا مطلب ہے کہ الیکٹران نیوکلیس سے بندھا ہوا ہے۔اس لیے ہائیڈروجن ایٹم کے الیکٹران کو اس کے نیوکلیس (یاہائیڈروجن ایٹم میں پروٹان) سے لامتناہی فاصلے پر لے جانے کے لیے توانائی درکار ہوگی۔
مساوات(12.17)تامساوات(12.19)مشتق کرنے میں یہ مفروضہ استعمال کیاگیا ہے کہ الیکٹرانی مدار دائری ہوتے ہیں،حالانکہ وہ مدار جو مربع مقلوب قوت کے تحت آتے ہیں،عمومی طورپر بیضوی(elliptical)ہوتے ہیں۔ (سیارے،سورج کی مربع مقلوب مادی کششی قوت کے تحت بیضوی مداروں میں حرکت کرتے ہیں) لیکن جرمن طبیعیات داں آرنالڈ سمر فیلڈ(Arnold Sommerfeld) (1868–1951) نے یہ دکھایا کہ جب دائری مدار کی پابندی ہٹادی جاتی ہے،تب بھی یہ مساواتیں بیضوی مداروں کے لیے بھی درست رہتی ہیں۔
ایک ایٹم میں الیکٹران کا مداربہ مقابلہ الیکٹران کی حالت(مدارچہ تصویر)
طبیعیات کے نصاب میں کبھی نہ کبھی ہم ایٹم کے بوہر ماڈل سے ضرور متعارف ہوتے ہیں۔اس ماڈل کا کوانٹم میکانیات کی تاریخ میں ایک مقام حاصل ہے اور خاص طورپر ایک ایٹم کی ساخت کی وضاحت کرنے میں یہ بہت اہم ہے۔الیکٹرانوں کے لیے،جب بوہر نے،معین توانائی مداروں کا انقلابی تصور پیش کیاجو کہ اسراع پذیر ذرے کے لیے اشعاع کرنے کو لازمی قرار دینے والی کلاسیکی تصویر سے تضاد تھا،تب سے بوہر کا یہ تصور ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔بوہر نے معین مداروں میں حرکت کرتے ہوئے الیکٹرانوں کے معیارِحرکت کے کوانٹمیانے کاتصور بھی پیش کیا۔اس طرح یہ ماڈل ایٹم کی ساخت کی ایک نیم کلاسیکی تصویر تھی۔
اب کوانٹم میکانیات کے ارتقاکے ساتھ ہم ایٹم کی ساخت کو بہتر طورپر سمجھ سکتے ہیں۔شروڈِ نگر لہر مساوات کے حل،ایک ایٹم میں،پروٹانوں کی کششی قوتوں کی وجہ سے،بندھے ہوئے الیکٹرانوں کے ساتھ ایک لہر–جیسابیان منسلک کرتے ہیں۔
بوہر ماڈل میں الیکٹران کا ایک مدار، ایک الیکٹران کے نیوکلیس کے گرد حرکت کرنے کا دائری راستہ ہے۔ لیکن کوانٹم میکانیات کے مطابق، ایک ایٹم میں الیکٹرانوں کی حرکت سے ہم کوئی متعین رستہ منسلک نہیں کرسکتے۔ ہم صرف نیوکلیس کے گرد فضا کے کسی خاص علاقے میں الیکٹران کے پائے جانے کے احتمال کی بات کرسکتے ہیں۔یہ احتمال،ایک–الیکٹران لہر تفاعل سے اخذ کی جاسکتی ہے، جسے مدارچہ(orbital)کہتے ہیں۔یہ تفاعل صرف الیکٹران کے کوآرڈی نیٹس کے تابع ہے۔
اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم دونوں ماڈلوں کے درمیان باریک فرق کو سمجھ سکیں۔
- بوہر کا ماڈل صرف ایک–الیکٹران ایٹموں/آئنوں کے لیے درست ہے،ہر مدار کو دی گئی ایک توانائی کی قدر،اس ماڈل میں،صرف خاص کوانٹم عددnکے تابع ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ایک الیکٹران کی ساکن حالت سے منسلک توانائی صرف ایک–الیکٹران ایٹموں/آئنوں کے لیے ہی صرفnکے تابع ہوتی ہے کثیر الیکٹران ایٹموں/آئنوں کے لیے یہ درست نہیں ہے۔
- ہائیڈروجن–جیسے ایٹموں/آئنوں کے لیے شروڈ نگر لہر مساوات کا حاصل کیاگیا حل، جو لہر تفاعل کہلاتا ہے،نیوکلیس کے گرد مختلف علاقوں میں الیکٹران کے پائے جانے کے احتمال کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتا ہے۔یہ مدارچہ، بوہر ماڈل میں ایک الیکٹران کے لیے معرف کیے گئے مدار سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا۔
حلمساوات(12.3)سے ہمارے پاس ہے:
![]()
یہاں
،دائری چکر لگاتے ہوئے سیارچے کا دوری وقت T،2h ہے۔ یعنی کہT = 7200 s
اس لیے رفتار ![]()
سیارچے کے مدار کا کوانٹم عددn:
![]()
قدریںرکھنے پر

نوٹ کریں کہ سیارچے کی حرکت کے لیے کوانٹم عدد بہت زیادہ بڑا ہے۔ دراصل اتنے بڑے کوانٹم اعداد کے لیے کوانٹمیانے کی شرائط کے نتائج کلاسیکی طبیعیات کے نتائج جیسے ہوتے ہیں۔
12.4.1توانائی منازل(Energy levels)

شکل12.8:ہائیڈروجن ایٹم کے لیے توانائی منزل ڈائیگرام–ایک ہائیڈروجن ایٹم میں،کمرہ درجہ حرارت پر،الیکٹران اپنا زیادہ تر وقت تحت حالت میں گذارتا ہے۔ایک ہائیڈروجن ایٹم میں تحت حالت الیکٹران کی آئن کاری کرنے کے لیے13.6 eVتوانائی مہیاکرنا ضروری ہے۔(افقی خطوط منظورشدہ توانائی حالتوں کو معین کرتے ہیں)۔
ایک ایٹم کی توانائی سب سے کم (سب سے بڑی منفی قدر) اس وقت ہوتی ہے جب الیکٹران اس مدار میں طواف کررہا ہوتا ہے جو نیوکلیس سے سب سے زیادہ نزدیک ہے،یعنی کہ،وہ مدار جس کے لیےn = 1ہے۔n = 2,3,...کے لیے توانائیEکی مطلق قدر مقابلتاً خفیف ہوتی ہے،اس لیے باہری مداروں میں توانائی بتدریج زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ایٹم کی سب سے نچلی حالت، جو تحتی حالت (ground state)کہلاتی ہے،وہ ہے جو کم ترین توانائی کی ہے،جس میں الیکٹران سب سے کم نصف قطر کے مدار میں طواف کررہا ہوتا ہے اور یہ نصف قطر،بوہر نصف قطر
ہے۔اس حالت(n = 1)کی توانائی،–13.6 eVہے۔اس لیے ہائیڈروجن ایٹم کی تحت حالت سے ایک الیکٹران کو آزاد کرانے کے لیے درکار کم ترین توانائی+13.6eVہے۔یہ ہائیڈروجن ایٹم کی آئن کاری توانائی کہلاتی ہے۔بوہرماڈل کی یہ پیشین گوئی،آئن کاری کی تجرباتی قدر سے بخوبی ہم آہنگ ہے۔
کمرہ درجہ حرارت پر،زیادہ تر ہائیڈروجن ایٹم تحت حالت میں ہوتے ہیں۔ جب ایک ہائیڈروجن ایٹم کو توانائی ملتی ہے،الیکٹرانوں کے آپسی تصادم جیسے عملوں کے ذریعے، توہوسکتا ہے ایٹم کو اتنی توانائی حاصل ہوجائے جو الیکٹران کو مقابلتاً اعلیٰ توانائی حالتوں میں پہنچانے کے لیے کافی ہو۔تب کہاجاتاہے کہ ایٹم ایک مشتعل حالت (excited state) میں ہے۔ مساوات(12.19)سے،n = 2کے لیے،توانائی
، –3.40 eV ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ہائیڈروجن ایٹم میں الیکٹران کو اس کی پہلی مشتعل حالت میں مشتعل کرنے کے لیے درکار توانائی مساوی ہے
اسی طرح
یا ہائیڈروجن ایٹم کو اس کی تحت حالت(n = 1)سے دوسری مشتعل حالت(n = 3)میں مشتعل کرنے کے لیے12.09 eVتوانائی درکار ہوگی اور اسی طرح اور آگے بھی۔ان مشتعل حالتوں سے الیکٹران ایک مقابلتاً کم توانائی کی حالت میں دوبارہ واپس گرسکتاہے،اور اس عمل کے دوران وہ ایک فوٹان خارج کرتا ہے۔اس لیے جیسے جیسے ہائیڈروجن ایٹم کے اشتعال میں اضافہ ہوتا ہے(یعنی کہnمیں اضافہ ہوتا ہے)، مشتعل ایٹم سے الیکٹران کو آزاد کرانے کے لیے درکار کم ترین توانائی کم ہوتی جاتی ہے۔
ایک ہائیڈروجن ایٹم کی ساکن حالتوں کے لیے ،مساوات(12.19)سے تحسیب کی گئی،توانائی منزل ڈائیگرام * شکل(12.8)میں دکھائی گئی ہے۔خاص کوانٹم عددn، ساکن حالتوں کو،توانائی کی عروجی ترتیب (ascending order)میںلیبل کرتا ہے۔اس ڈائیگرام میں،سب سے اعلا توانائی حالت،مساوات
کے مطابق ہے اوراس کی توانائیO eVہے۔یہ ایٹم کی اس وقت کی توانائی ہے جب الیکٹران نیوکلیس مکمل طورپر ہٹالیا گیا ہے
اورحالتِ سکون میں ہے۔ مشاہدہ کیجیے کہ جیسے جیسےnمیں اضافہ ہوتا جاتاہے،مستقل حالتیں کیسے ایک دوسرے سے نزدیک تر ہوتی جاتی ہیں۔
12.5ہائیڈروجن ایٹم کے خطی طیف
(The Line Spectra of the Hydrogen Atom)
بوہر کے ماڈل کے تیسرے دعویٰ کے مطابق جب ایک ایٹم مقابلتاً اعلا توانائی حالت سے،جس کا کوانٹم عدد ni ہے،مقابلتاً ادنیٰ توانائی حالت میں،جس کا کوانٹم عدد
ہے،عبور(transition)کرتا ہے توتوانائی کا فرق، تعدد
کا ایک فوٹان لے جاتا ہے، اس طرح کہ:
(12.20) ![]()
کے لیے مساوات(12.16)استعمال کرنے پر حاصل ہوتا ہے:
(12.21) 
یا
(12.22)
مساوات(12.21)،ہائیڈروجن ایٹم کے طیف کے لیے رڈبرگ فارمولا ہے۔اس رشتے میں اگر ہم
اور
لیں تویہ بالمر سلسلے کے لیے حاصل کی گئی مساوات(12.10)جیسی شکل میں تحلیل ہوجاتا ہے۔رڈبرگ مستقلہ کو بہ آسانی شناخت کیاجاسکتا ہے:
* E = 0 eVسے اوپر،ایک الیکٹران کی کل توانائی کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ایسی صورتوں میں الیکٹران آزاد ہوتا ہے۔ اس لیےE = 0 eVسے اوپر توانائی حالتوں کا ایک تسلسل(continuum)ہوتا ہے،جیساکہ شکل12.8میں دکھایاگیا ہے۔
فرینک–ہرٹز تجربہ


اگر ہم مساوات(12.23)میں مختلف مستقلوں کی قدریں رکھیں،تو حاصل ہوتا ہے
![]()
یہ قدر،آزمائشی بالمر فارمولے سے حاصل کی گئی قدر
کے بہت نزدیک ہے۔رڈبرگ مستقلہ کی نظری اورتجرباتی قدروں کی اس ہم آہنگی نے بوہر ماڈل کی ایک تصدیق فراہم کردی۔
کیونکہ nfاور ni دونوں صحیح اعداد ہیں،اس لیے یہ فوراً ہی ظاہرہوجاتا ہے کہ روشنی کا اشعاع مختلف مجردِ تعددوں میں ہوتا ہے۔ہائیڈروجن طیف میں بالمر سلسلہ
سے مطابقت رکھتا ہے۔بوہر ماڈل سے حاصل ہونے والے نتائج نے ہائیڈروجن ایٹم کے طیف میں دوسرے سلسلوں کی موجودگی تجویز کی جواِن عبوروں کے مطابق ہیں:
اور
وغیرہ اوراسی طرح اورآگے بھی۔یہ سلسلے طیفی تحقیقات کے دوران شناخت کرلیے گئے اورلیمن،بالمر،پاسچن،بریکٹ اورپی فنڈ سلسلے کہلاتے ہیں۔ان سلسلوں سے مطابقت رکھنے والے الیکٹرانی عبور شکل 12.9 میں دکھائے گئے ہیں۔
e
شکل12.9:خطی طیف، توانائی منازل کے درمیان عبوروں سے پیداہوتے ہیں۔
ایٹمی طیفوںمیں مختلف خطوط تب پیدا ہوتے ہیں جب الیکٹران ایک مقابلتاً اعلیٰ توانائی حالت سے مقابلتاً ادنیٰ توانائی حالت میں کودتے ہیں اور فوٹان خارج ہوتے ہیں۔لیکن جب ایک ایٹم ایسا فوٹان خارج ہوتے ہیں۔ لیکن جب ایک ایٹم ایسا فوٹان جذب کرتا ہے جس کی توانائی،بالکل درست طورپر،اتنی ہے جتنی ایک مقابلتاً ادنیٰ توانائی کے الیکٹران کو ایک مقابلتاً اعلیٰ توانائی حالت میں عبور کرنے کے لیے درکار ہے،تویہ عمل انجذاب کہلاتا ہے۔اس لیے اگر تعددوں کے ایک لگاتار سلسلے کے فوٹانوں کو ایک لطیف کی گئی(rarefied)گیس سے گذاراجائے اور پھر ایک طیف پیما کے ذریعے تجزیہ کیاجائے تو مسلسل طیف میں گہرے انجذابی خطوط کا سلسلہ نظرآتا ہے۔یہ گہرے خطوط ان تعددوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو گیس کے ایٹموں نے جذب کی ہیں۔
ہائیڈروجن ایٹم طیف کی،بوہر کے ماڈل کے ذریعے مہیا کی گئی وضاحت ایک شاندار کامیابی تھی،جس نے جدید کوانٹم نظریے کی جانب حوصلہ افزائی کی۔1922میں بوہر کو طبیعیات کا نوبل انعام دیاگیا۔
مثال12.6 رڈبرگ فارمولا استعمال کرتے ہوئے،ہائیڈروجن طیف کے لیمن سلسلے کے پہلے چار طیفی خطوط کے طول لہر کا حساب لگائیے۔
حل رڈبرگ فارمولا ہے:

لیمن سلسلے کے پہلے چار خطوط کے طولِ لہر،
پر عبور سے مطابقت رکھتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ

اس لیے

رکھنے پر حاصل ہوتاہے
![]()
12.6کوانٹمیانے کے بوہر کے دوسرے دعویٰ کی ڈی برائے کی وضاحت
(De Broglie’s Explanation of Bohr’s Second Postulate of Quantisation)
بوہر نے اپنے ایٹم کے ماڈل میں جتنے دعوے کیے، شاید ان میں سب سے زیادہ حیرت میں ڈالنے والا ان کا دوسرادعویٰ ہے۔اس کا بیان ہے کہ نیوکلیس کے گردمدار میں چکر لگانے والے الیکٹران کا زوایائی معیارِحرکت کوانٹمیایاہوا ہے۔(یعنی کہ:
۔زاویائی معیارِحرکت کی صرف ایسی ہی قدریں کیوں ممکن ہیں جو
کی صحیح عددی اضعاف ہیں؟فرانسیسی طبیعیات داں لوئی ڈی برائے نے،بوہر کے ذریعے یہ ماڈل تجویز کیے جانے کے 10سال بعد1923میں،اس معمے کو حل کیا۔

شکل12.10:ایک دائری مدار پر ایک مقیم لہر دکھائی گئی ہے جہاں چارڈی برائے طولِ لہر مدار کے محیط پر پوری طرح سماتے ہیں۔
ہم نے باب11میں ڈی برائے فریضہ کے بارے یں مطالعہ کیا ہے کہ مادی ذرات،جیسے الیکٹرانوں کی،لہری طبع بھی ہوتی ہے۔سی۔جے۔ڈیویسن اور ایل۔ایچ۔جرمرنے بعد میں،1927میں،الیکٹرانوں کی لہری طبع کی تجرباتی تصدیق کی۔لوئی ڈی برائے نے دلیل پیش کی کہ الیکٹران کو،اس کے دائری مدار میں،جیساکہ بوہر نے تجویز کیا ہے، ایک ذرہ–لہر کی شکل میں سمجھناچاہیے۔ ایک ڈوری پر سفر کرتی ہوئی لہروں کی مماثلت سے،ذراتی–لہریں بھی گمک شرائط کے ساتھ مقیم لہریں بناسکتی ہیں۔درجہXIکی طبیعیات کی درسی کتاب کے باب15میں ہم سیکھ چکے ہیں کہ جب ایک تنی ہوئی ڈوری کے کسی درمیانی نقطے پر ضرب لگائی جاتی ہے تو بہت سے طولِ لہر مشتعل ہوتے ہیں۔لیکن صرف وہی طولِ لہر باقی رہ پاتے ہیں جن کے نوڈ سروں پر ہوتے ہیں اور جو ڈوری میں مقیم لہریں تشکیل دیتے ہیں۔اس کا مطلب ہوا کہ ایک ڈوری میں مقیم لہریں تب ہی تشکیل پاتی ہیں جب ایک لہر کے ذریعے ڈوری کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانے اور پھر پہلے سرے پر واپس آنے میں طے کیا گیا کل فاصلہ ایک طول لہر یا دوطول لہر یا طول لہر کا کوئی صحیح عددی ضعف ہوتا ہے۔ دیگر طول لہر والی لہریں منعکس ہونے پر آپس میں تداخل کرتی ہیں اور جلد ہی ان کی وسعت صفر ہوجاتی ہے۔ایک الیکٹران جو نصف قطر rnکے nthدائری مدار میں حرکت کررہا ہے،اس کے ذریعے طے کیاگیا کل فاصلہ مدار کا محیط،
ہے۔اس لیے
(12.24) ![]()
شکل12.10میںn = 4کے لیے ایک دائری مدار میں مقیم ذراتی–لہر دکھائی گئی ہے۔ کیونکہn = 4،اس لیے
،جہاں
مدار میں حرکت کرتے ہوئے الیکٹران کا ڈی برائے طولِ لہر ہے۔باب11سے، ہم جانتے ہیں:
،جہاںP الیکٹران کے معیارِ حرکت کی عددی قدر ہے۔اگر الیکٹران کی چال،روشنی کی چال کے مقابلے میں بہت کم ہے،تو معیارِحرکت mvnہے۔ اس لیے؛
،مساوات(12.24)سے حاصل ہوتا ہے۔
![]()
یہ وہ کوانٹم شرط ہے جو بوہر نے الیکٹران کے زاویائی معیارِحرکت کے لیے تجویز کی تھی [مساوات (12.13)]۔ حصہ 12.5میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ مساوات ہائیڈروجن ایٹم کے مجرد مداروں اور توانائی منازل کی وضاحت کی بنیاد ہے۔ اس طرح ڈی–برائے فریضہ نے مدار میں چکر لگاتے ہوئے الیکٹران کے زاویائی معیارِحرکت کے کوانٹمیانے کے بوہر کے دوسرے دعویٰ کی وضاحت فراہم کی۔کوانٹمیائے ہوئے الیکٹران مدار اورتوانائی حالتیں،الیکٹران کی لہری طبع کی وجہ سے ہیں اورصرف گمک دار مقیم لہریں ہی باقی رہ سکتی ہیں۔
بوہر کا ماڈل،جس میں کلاسیکی خط راہ تصویر(سیارے کی طرح الیکٹران کا نیوکلیس کے گرد مدار میں حرکت کرنا)شامل ہے،ہائیڈروجن جیسی ساخت والے(Hydrogenic)*ایٹموں کی موٹی موٹی خاصیتوں کی درست پیشین گوئی کرتا ہے،خاص طورپر خارج ہونے والے اشعاع یا منتخب کردہ جذب ہونے والے اشعاع کے تعدد کی۔لیکن ماڈل کی کئی خامیاں بھی ہیں۔ان میں سے کچھ ہیں:
(i) بوہر کے ماڈل کا اطلاق صرف ہائیڈروجن جیسی ساخت والے ایٹموں پر ہی کیاجاسکتا ہے۔اس کی توسیع صرف دوالیکٹرانوں والے ایٹموں،جیسے ہیلیم، کے لیے بھی نہیں کی جاسکتی ۔دوسے زیادہ الیکٹرانوں والے ایٹموں کا تجزیہ کرنے کی کوشش،بوہر کے ہائیڈروجن جیسے ایٹموں کے خطوط پر،کی گئی مگر کوئی کامیابی نہیں حاصل ہوسکی۔ دراصل دشواری یہ ہے کہ ہر ایک الیکٹران نہ صرف مثبت چارج شدہ نیوکلیس سے باہم عمل کرتا ہے بلکہ دوسرے الیکٹرانوں سے بھی باہم عمل کرتا ہے۔بوہر ماڈل کی تشکیل میں مثبت چارج شدہ نیوکلیس اور الیکٹران کے مابین برقی قوتیں توشامل کی گئی ہیں لیکن الیکٹرا نوں کے درمیان برقی قوتیں شامل نہیں ہیں جو کثیر–الیکٹران ایٹموں میں لازمی طورپر پائی جاتی ہیں۔
* ہائیڈروجن جیسی ساخت والے(Hydrogenic)ایٹم وہ ایٹم ہیں جو+ Zeمثبت چارج کے ایک نیوکلیس اور ایک واحد الیکٹران پر مشتمل ہوتے ہیں،جہاںZپروٹان عدد ہے۔اس کی مثالیں ہیں ہائیڈروجن ایٹم،یک آئن شدہ ہیلیم ایٹم،دوہرا آئن شدہ لیتھیم اور ایسی ہے آگے بھی۔ان ایٹموں میں مقابلتاً زیادہ پیچیدہ الیکٹران–الیکٹران باہم عمل نہیں پائے جاتے۔
ایٹم
(ii) حالانکہ بوہر کا ماڈل ہائیڈروجن جیسی ساخت والے ایٹموں کے ذریعے خارج کی گئی روشنی کے تعددوں کی درست پیشین گوئی کرتا ہے،لیکن ماڈل طیف میں ان تعددوں کی نسبتی شدتوں کی وضاحت کرنے میں ناکام ہے۔ہائیڈروجن کے اخراجی طیف میں دکھائی دینے والے کچھ تعددوں کی شدت کمزور ہوتی ہے اور کچھ کی مضبوط–کیوں؟تجرباتی مشاہدات ظاہر کرتے ہیں کہ کچھ عبوردوسروں کے مقابلے میں فوقیت رکھتے ہیں۔بوہر کا ماڈل شدت کی تبدیلیوں کی وضاحت نہیں کرسکا۔
بوہر کاماڈل ایٹم کی ایک نفیس تصویر پیش کرتا ہے اور ملتف ]پیچیدہ [(Complex)ایٹموں کے لیے اسے عمومی شکل نہیں دی جاسکتی۔ملتف ایٹموں کے لیے ہمیں کوانٹم میکانیات پر مبنی ایک نیا انقلابی نظریہ استعمال کرناہوگا، جو ایٹمی ساخت کی زیادہ مکمل تصویرمہیاکرتا ہے۔
لیزرروشنی
ایک بھیڑبھاڑوالا بازار یا ریلوے پلیٹ فارم تصور کیجیے جہاں لوگ ایک دروازے سے داخل ہوتے ہیں اور پھر ہر سمت میں پھیل جاتے ہیں۔ان کے قدموں میں کوئی ترتیب نہیں پائی جاتی اور ان کے درمیان کوئی فیز ہم رشتگی نہیںہوتی۔دوسری طرف سپاہیوں کی ایسی بڑی تعداد تصورکیجیے جوباقاعدہ قواعد(پریڈ)کررہے ہیں۔ان کے قدموں میں عمدہ ہم رشتگی ہے۔نیچے دی ہوئی شکل دیکھیے

یہ فرق ویسا ہی ہے جیساکہ ایک عام روشنی کے ماخذ، جیسے موم بتی یا بلب، سے آرہی روشنی اورلیزر سے خارج ہورہی روشنی میں ہوتا ہے۔مخففLASERکی مکمل شکل ہے۔(Light Amplification by Stimulated Emission of Radiation)(اشعاع کے مہیج شدہ اخراج کے ذریعے روشنی کی افزائش)۔1960میں،جب سے اسے بنایا گیا ہے یہ سائنس اورٹکنالوجی کے تمام علاقوں میں داخل ہوچکا ہے۔اس کا استعمال طبیعیات،کیمسٹری،حیاتی سائنس،علم ادویات،علم جراحی،انجینئرنگ وغیرہ میں کیا جارہاہے۔ کچھ ادنیٰ پاور،جیسے0.5 mWکے لیزر بھی ہیں،جو پنسل لیزرکہلاتے ہیں اور جو نشان دہ (pointers)کے بطوراستعمال ہوتے ہیں۔مختلف پاوروالے لیزربھی ہیں جو آنکھ یا معدے کے غدود کی نازک جراحی کے لیے مناسب ہیں۔ اور پھر ایسے لیزر بھی ہیں جو لوہے کو کاٹ سکتے ہیں اور اسے ویلڈ(weld)کرسکتے ہیں۔
روشنی ایک ماخذ سے لہروں کے پیکٹوں کی شکل میں خارج ہوتی ہے۔ایک عام ماخذ سے نکل رہی روشنی میں کئی طول لہر کا آمیزہ ہوتا ہے۔ مختلف لہروں میں کوئی فیزرشتہ نہیں ہوتا۔ اس لیے ایسی روشنی،اگر اسے ایک روزون سے بھی گذاردیاجائے پھر بھی،بہت تیزی سے پھیل جاتی ہے اورفاصلہ کے ساتھ شعاع کا سائز بہت تیزی سے بڑھتا جاتاہے۔ لیزرروشنی کی صورت میں،ہرپیکٹ کا طولِ لہر تقریباً یکساں ہوتا ہے۔ اور لہروں کے پیکٹ کی اوسط لمبائی بھی مقابلتاً بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مقابلتاً زیادہ وقفہ وقت تک بہتر فیز ہم رشتگی قائم رہتی ہے۔اس کے نتیجے میں لیزر بیم کی غیر مرکوزیت میں قابلِ لحاظ کمی آجاتی ہے۔
اگر ایک ماخذ میںNایٹم ہیں اور ہر ایک شدتIکی روشنی خارج کررہا ہے تو ایک عام ماخذ سے پیداہوئی روشنی کی کل شدتNIکے متناسب ہوگی۔جب کہ ایک لیزر ماخذ میں یہ N21کے متناسب ہے۔یہ مانتے ہوئے کہNبہت بڑا ہے،ہم دیکھتے ہیں کہ ایک لیزر سے خارج ہوئی روشنی ایک عام ماخذ سے خارج ہوئی روشنی کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقت ور ہوسکتی ہے۔
جب اپولومشن کے خلابازچاند پر گئے تو انھوں نے چاند کی سطح پر ایک آئینہ رکھ دیا،جس کا منہ زمین کی جانب تھا۔ تب زمین کے سائنس دانوں نے ایک طاقت ور لیزر بیم بھیجی جو چاند پر رکھے آئینے سے منعکس ہوکرزمین پرواپس پہنچی۔منعکس ہوئی لیزر بیم کے سائز اور زمین سے چاند پر جانے اور پھر زمین پر واپس آنے میں لگنے والے کل وقت کی پیمائش کی گئی۔ اس سے مندرجہ ذیل بے حد درست پیمائش کی جاسکیں: (a)ایک لیزربیم کی بے حد خفیف غیر مرکوزیت(b)چاند کا زمین سے فاصلہ۔
1۔ ایٹم کلی طورپربرقی اعتبارسے تعدیلی ہوتا ہے اور اس لیے اس میں مثبت اور منفی چارج کی مساوی مقدارہوتی ہے۔
2۔ تھامسن کے ماڈل میں،ایٹم مثبت چارجوں کا ایک کڑوی بادل ہے جس میںالیکٹران پیوست ہوتے ہیں۔
3۔ ردرفورڈ کے ماڈل میں،ایٹم کی زیادہ ترکمیت اور اس کا تمام مثبت چارج ایک بہت چھوٹے(مخصوص طورپر ایک ایٹم کے سائز کا دس ہزارواں حصہ)نیوکلیس میں مرتکز ہوتا ہے اور الیکٹران اس کے گرد طواف کرتے ہیں۔
4۔ ردرفورڈ کے ماڈل کے ساتھ، ایٹم کی ساخت کی وضاحت کرنے میں،دوخاص دشواریاں ہیں:(a)اس کی پیشین گوئی ہے کہ ایٹم غیر مستحکم ہے کیونکہ نیوکلیس کے گرد طواف کرتے ہوئے اسراع پذیرالیکٹرانوں کو ایک چکری راستہ اختیار کرتے ہوئے نیوکلیس میں گرجانا چاہیے ۔ یہ مادہ کے استحکام سے تضاد ہے۔ (b)یہ مختلف عناصر کے ایٹموں کے مخصوص خطی طیفوں کی وضاحت نہیںکرسکتا۔
5۔ ہر عنصر کے ایٹم مستحکم ہوتے ہیں اوراپنا خصوصی طیف خارج کرتے ہیں۔ یہ طیف علاحدہ علاحدہ متوازی خطوط کے ایک سیٹ پر مشتمل ہوتا ہے اور خطی طیف کہلاتا ہے۔یہ ایٹمی ساخت کے بارے میں کارآمد معلومات مہیاکرتا ہے۔
6۔ ایٹمی ہائیڈروجن مختلف سلسلوں پر مشتمل خطی طیف خارج کرتی ہے۔ ایک سلسلے کے کسی بھی خط کے تعدد کو دوارکان کے حاصل تفریق کے ذریعے ظاہر کیاجاسکتا ہے۔
لیمن سلسلہ: ![]()
بالمرسلسلہ: ![]()
پاسچن سلسلہ: ![]()
بریکٹ سلسلہ: ![]()
پی فنڈ سلسلہ: ![]()
7۔ ایٹموں کے ذریعے خارج کیے گئے خطی طیف اورایٹموں کے استحکام کی وضاحت کرنے کے لیے،نیلس بوہر نے ہائیڈروجن جیسی ساخت والے(واحد الیکٹران)ایٹموں کے لیے ایک ماڈل تجویز کیا۔انھوں نے تین دعوے پیش کیے اورکوانٹم میکانیات کی بنیاد ڈالی۔
(a) ایک ہائیڈروجن ایٹم میں،ایک الیکٹران، مخصوص مستحکم مداروں (جوساکن مدار کہلاتے ہیں) میںطواف کرتا ہے اوراس دوران اشعاعی توانائی کااخراج نہیں کرتا۔
(b) ساکن مدار وہ ہیں جن کے لیے زاویائی معیارِحرکت،
کا ایک صحیح عددی ضعف ہے(بوہر کی کو انٹمیانے کی شرط)۔یعنی کہ،
،جہاںnایک صحیح عدد ہے جو خاص کوانٹم عدد کہلاتا ہے۔
(c) تیسرے دعویٰ کا بیان ہے کہ الیکٹران اپنے متعین غیر اشعاعی مداروں میںسے کسی ایک مدار سے اس سے ادنیٰ توانائی کے کسی دوسرے مدار میں عبورکرسکتا ہے۔جب وہ ایساکرتا ہے تو ایک فوٹان خارج ہوتاہے،جس کی توانائی آغازی اور اختتامی حالتوں کی توانائیوں کے مابین فرق کے مساوی ہوتی ہے۔ تب خارج ہوئے فوٹان کاتعدد(n)دیاجاتا ہے:
![]()
ایک ایٹم جس تعدد کا اشعاع خارج کرتا ہے اسی یکساں تعدد کا اشعاع جذب بھی کرتا ہے،ایسی صورت میں الیکٹرانnکی مقابلتاً زیادہ قدروالے مدار میں منتقل ہوجاتا ہے۔

8۔ زاویائی معیارِحرکت کے کوانٹمیانے کی شرط کے نتیجے میں،الیکٹران نیوکلیس کے گرد کچھ مخصوص نصف قطر کے مداروں میں ہی چکر لگاتا ہے۔ہائیڈروجن ایٹم کے لیے یہ نصف قطر ہیں:

کل توانائی بھی کوانٹم شدہ ہوتی ہے

n = 1حالت، تحتی حالت کہلاتی ہے۔ہائیڈروجن ایٹم میں تحتی حالت توانائی–13.6 eVہے۔ nکی مقابلتاًبڑی قدریں(n > 1)،مشتعل حالتوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ایٹم ان مقابلتاً اعلا حالتوں میں دوسرے ایٹموں یا الیکٹرانوں سے تصادم کے ذریعے یاایک مناسب تعدد کے فوٹان کے اجذاب کے ذریعے مشتعل ہوتے ہیں۔
9۔ ڈی برائے کے مفروضے نے،کہ الیکٹرانوں کا طول لہر
ہوتا ہے،بوہر کے کوانٹم شدہ مداروں کی وضاحت فراہم کی،جس میں لہر–ذرہ دوئی کو شامل کیا گیا۔مدار،دائری مقیم لہروں سے مطابقت رکھتے ہیں،جن میں مدار کا محیط، طولِ لہر کے مکمل عدد کے مساوی ہوتا ہے۔
10۔ بوہر ماڈل کا اطلاق صرف ہائیڈروجن جیسی ساخت والے ایٹموں پر کیا جاسکتا ہے(واحد الیکٹران ایٹموں پر)۔اس کی توسیع دوالیکٹران والے ایٹموں،جیسے ہیلیم، کے لیے بھی نہیں کیاجاسکتی۔یہ ماڈل ہائیڈروجن ایٹموں سے خارج ہوئے تعددوں کی نسبتی شدتوں کی وضاحت کرنے میں بھی ناکام ہے۔
قابل غور نکات
1۔ تھامسن اورردرفورڈ، دونوں کے ماڈل ایک غیر مستحکم ایٹم تشکیل دیتے ہیں۔ تھامسن کا ماڈل برق–سکونی اعتبار سے غیر مستحکم ہے،جب کہ ردرفورڈ کاماڈل مدار میں چکر لگارہے الیکٹران کے برق–مقناطیسی اشعاع کی وجہ سے غیر مستحکم ہے۔
2۔ بوہر نے زاویائی معیارِحرکت کی کیوں کوانٹم سازی کی (دوسرا دعویٰ) اور کسی مقدار کی کیوں نہیں؟نوٹ کریں،hکے ابعاد،زاویائی معیارِحرکت کے ابعاد ہیں اور دائری مداروں کے لیے زاویائی معیارِحرکت ایک نہایت موزوں مقدار ہے۔اب دوسرا دعویٰ کتنا قدرتی ہے۔
3۔ ہائیڈروجن اٹیم کے بوہر کے ماڈل میں مداری تصویر،عدم یقینی کے اصول سے ہم آہنگ نہیں تھی۔ اس کو جدید کوانٹم میکانیات سے تبدیل کردیا گیا، جہاں بوہر کے مدار وہ علاقے ہیں جن میں الیکٹرانوں کے پائے جانے کا احتمال زیادہ ہے۔
4۔ شمسی نظام میں پائی جانے والی صورت میںسیارہ–سیارہ مادی کشش قوتیں، سورج کے ذریعے سیارہ پر لگ رہی امدی کشش قوت کے مقابلے میں بہت خفیف ہوتی ہیں(کیونکہ سورج کی کمیت،کسی بھی سیارے کی کمیت سے بہت زیادہ ہے)۔اس کے برخلاف الیکٹران–الیکٹران،برقی قوت باہم عمل کی عددی قدر الیکٹران–نیوکلیس برقی قوت کے مقابلے کی ہوتی ہے،کیونکہ چارج اور فاصلے یکساں عددی قدر کے درجے کے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بوہر کے سیارہ جیسے الیکٹران والے ماڈل کا اطلاق کثیر الیکٹران ایٹموں پر نہیںکیاجاسکتا ۔
5۔ بوہر نے ایسے مخصوص مداروں کا دعویٰ پیش کرکے جن میں الیکٹران اشعاع نہیں کرتے، کوانٹم نظریہ کی بنیاد ڈالی۔ بوہر کے ماڈل میں صرف ایک کوانٹم عددnشامل ہے۔نیا نظریہ جو کوانٹم میکانیات کہلاتا ہے، بوہر کے دعویٰ کے حق میں ہے۔لیکن کوانٹم میکانیات میں(زیادہ عمومی شکل میںمنظورشدہ)،ایک دی ہوئی توانائی منزل ہوسکتا ہے صرف ایک ہی کوانٹم حالت کے متطابق نہ ہو۔مثلاً ایک حالت چار کوانٹم اعداد(n،l،mاورs)سے متعین ہوتی ہے،لیکن خالص کولمب مضمر کے لیے(جیسے کہ ہائیڈروجن ایٹم میں)،توانائی صرفnکے تابع ہے۔
6۔ عام کلاسیکی توقع کے برخلاف، بوہر ماڈل میں اپنے مدار میں طواف کرنے کا الیکٹران کاتعدد، طیفی خط کے تعدد سے منسلک نہیں ہے۔آخر الذکر دومداری توانائیوں کے فرق کاhسے حاصل ِ تقسیم ہے۔بڑے کو انٹم اعداد کے مابین(nسےn–1،nبہت بڑا)عبوروں کے لیے دونوں منطبق ہوجاتے ہیں،جیسا کہ امید تھی۔
7۔ بوہر کا نیم کلاسیکی ماڈل،جو کلاسیکی طبیعیات کے کچھ پہلوؤں اور جدید طبیعیات کے کچھ پہلوؤں پر مشتمل تھا، سادہ ترین ہائیڈروجن ایٹموں کی بھی حقیقی تصویر نہیں پیش کرتا۔ حقیقی تصویر کوانٹم میکانیاتی معاملہ ہے جو بوہر کے ماڈل سے کئی بنیادی اختلاف رکھتی ہے۔لیکن اگر بوہر کاماڈل بالکل صحیح طورپر درست نہیں ہے تو ہم اس کی بات ہی کیوں کرتے ہیں؟بوہر ماڈل کے پھر بھی کارآمد ہونے کی وجوہات ہیں:
(i) ماڈل صرف تین دعوؤں پر مبنی ہے لیکن ہائیڈروجن طیف کی تقریباً تمام عمومی خاصیتوں کی وضاحت کردیتا ہے۔
(ii) ماڈل ایسے کئی تصورات پر مشتمل ہے،جنھیں ہم کلاسیکی طبیعیات میں سیکھ چکے ہیں۔
(iii) ماڈل یہ مظاہر کرتا ہے کہ ایک نظری طبیعیات داں کو کس طرح راہ میں پیش آنے والے کچھ مسائل کو پوری طرح انداز کرتے ہوئے اس امیدمیں آگے بڑھناچاہیے کہ وہ کچھ پیش گوئیاں کرسکے ۔اگر نظریہ یا ماڈل کی بنیاد پر کی گئی پیشین گوئیوں کی تصدیق تجربات سے ہوجاتی ہے تو ایک نظری سائنس داں کو یہ امید رکھنا چاہیے کہ اس نے راہ میں آنے والے جن مسائل کو نظرانداز کردیاتھا ان کی وضاحت ہوجائے گی یا ان کی عقلی توجیہ کی جاسکے گی۔
مشق
12.1 ہر بیان کے آخر میں جواشارے دیے گئے ہیں،ان میں سے درست متبادل منتخب کیجیے:
(a) تھامسن ماڈل میں ایٹم کا سائز، ردرفورڈ ماڈل میں ایٹمی سائز سے………ہے۔ (بہت زیادہ بڑا/کچھ مختلف نہیں/بہت کم)
(b) ………کی تحتی حالت میں الیکٹران مستحکم توازن میں ہوتے ہیں،جب کہ………میں الیکٹران ہمیشہ ایک کل قوت محسوس کرتے ہیں۔ (تھامسن کے ماڈل/ردرفورڈ کے ماڈل)
(c) ………پر مبنی کلاسیکی ایٹم یقینی طورپر دفعتہ ڈھے جائے گا۔ (تھامسن ماڈل/ردرفورڈ ماڈل)
(d) ایک………میں ایٹم کی تقریباً مسلسل کمیت تقسیم پائی جاتی ہے،جب کہ ایک………میں بہت زیادہ غیر ہموار کمیت تقسیم پائی جاتی ہے۔ (تھامسن ماڈل/ردرفورڈ ماڈل)
(e) ………میںایٹم کے مثبت چارج شدہ حصے میں زیادہ ترکمیت ہوتی ہے۔ (ردرفورڈ ماڈل/دونوں ماڈلوں)
12.2 فرض کیجیے کہ آپ کو–aذرہ انتشار تجربے کو،سونے کی پنی کی جگہ ٹھوس ہائیڈروجن کی چادر استعمال کرتے ہوئے دہرانے کا موقع ملتا ہے۔(ہائیڈروجن 14Kسے نیچے کے درجات حرارت پر ٹھوس ہوتی ہے)۔ آپ کن نتائج کی امید کرتے ہیں؟
12.3 طیفی خطوط کے پاسچن سلسلے میں پائے جانے والا سب سے کم طولِ لہر کیاہے؟
12.4 ایک ایٹم میں دوتوانائی منازل کو علاحدہ کرنے والا فرق2.3 eVہے۔جب ایٹم بالائی منزل سے نچلی منزل میں عبورکرتا ہے توخارج ہونے والے اشعاع کا تعدد کیاہوگا؟
12.5 ہائیدروجن ایٹم کی تحتی حالت توانائی–13.6 eVہے۔اس حالت میں الیکٹران کی حرکی اوروضعی توانائیاں کیا ہیں؟
12.6 ایک ہائیڈروجن ایٹم جو آغازی حالت میں تحتی منزل پر ہے،ایک فوٹان جذب کرتا ہے، جو اسےn = 4منزل تک مشتعل کردیتا ہے۔فوٹان کا طولِ لہر اورتعدد معلوم کیجیے۔
12.7 (a)بوہر ماڈل استعمال کرتے ہوئے ایک ہائیڈروجن ایٹم میں،n = 1,2,3منازل میں الیکٹران کی چال کا حساب لگائیے۔(b)ان میں سے ہر ایک منزل میں مداری دورکا حساب لگائیے۔
12.8 ایک ہائیڈروجن ایٹم کے سب سے اندرونی الیکٹران مدار کا نصف قطر
ہے۔n = 2اور n = 3مداروں کے نصف قطر کیا ہیں؟
12.9 ایک 12.5 eVالیکٹران بیم کو، کمرہ درجہ حرارت پر گیسی ہائیڈروجن پر،بمباری کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ طولِ لہر کے کون سے سلسلے خارج ہوں گے؟
12.10 بوہر ماڈل کے مطابق، وہ کوانٹم عدد معلوم کیجیے جو سورج کے گرد،ایک
نصف قطر کے مدار میں،
کی مداری چال کے ساتھ، زمین کے طواف کو معین کرتا ہے۔
(
زمین کی کمیت)۔
مزید مشق
12.11 مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے۔ان سے آپ کو تھامسن ماڈل اور ردرفورڈ ماڈل کے مابین فرق کو بہتر طورپر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
(a) ایک پتلی سونے کی پنی سے منتشر ہوئے–aذرات کے اوسط زاویہ انفراج کی تھامسن ماڈل کے ذریعے پیشین گوئی کی گئی قدر،ردرفورڈ ماڈل کے ذریعے پیشین گوئی کی گئی قدر سے بہت کم ہوگی،تقریباً اتنی ہی ہوگی یابہت زیادہ ہوگی؟
(b) کیا تھامسن ماڈل کے ذریعے پیشین گوئی کی گئی الٹی سمت میں انتشار کے احتمال کی قدر،ردرفورڈ ماڈل کے ذریعے پیشین گوئی کی گئی اس قدر سے بہت کم ہوگی، تقریباً اتنی ہی ہوگی یابہت زیادہ ہوگی؟
(c) اگر دیگر عوامل کو معین رکھاجائے توتجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ خفیف موٹائیtکے لیے،درمیانی زاویوں پر منتشرہوئے–aذرات کی تعدادtکے متناسب ہوتی ہے۔tپراس خطی انحصار سے کیااشارہ ملتا ہے؟
(d) کس ماڈل میں، ایک پتلی پنی سے–aذرہ کے انتشار میں اوسط زاویہ انتشار کا حساب لگانے میں کثیر انتشار(multiple scattering)کونظرانداز کرنا سراسر غلط ہے؟
12.12 ہائیڈروجن ایٹم میں الیکٹران اور پروٹان کے مابین مادی کشش،ان کے درمیان کولمب کشش کے مقابلے میں،تقریباً
کے ضریب سے، کمزور ہے۔اس حقیقت کو سمجھنے کا ایک متبادل طریقہ یہ ہے کہ الیکٹران اور پروٹان کو مادی کشش سے بندھا ہوا تصور کرتے ہوئے ایک ہائیڈروجن ایٹم کے پہلے مدار کے نصف قطر کا تخمینہ لگایا جائے آپ کو جواب دلچسپ معلوم ہوگا۔
12.13 جب ایک ہائیڈروجن ایٹمnمنزل سےn–1منزل میں غیرمشتعل ہوتا ہے تو خارج ہوئے اشعاع کے تعدد کے لیے ایک ریاضیاتی عبارت حاصل کیجیے۔nکی بڑی قدر کے لیے دکھائیے کہ تعدد،مدار میں الیکٹران کے طواف کرنے کے کلاسیکی تعدد کے مساوی ہے۔
12.14 کلاسیکی طور پر،ایک الیکٹران ایک ایٹم کے کسی بھی مدار میں نیوکلیس کے گرد چکر لگاسکتا ہے۔ پھر ایٹم کا مخصوص سائز کس سے متعین ہوتا ہے؟ایک ایٹم اپنے مخصوص سائز کے مقابلے میں ایک ہزار گنا بڑا کیوں نہیں ہے؟ اس سوال نے بوہر کو اس وقت تک کافی پریشان کیا،جب تک وہ اپنے مشہور ماڈل تک نہیں پہنچے تھے اور جس کے بارے میں آپ اس باب میں سیکھ چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی دریافت پر پہنچنے سے پہلے جو کیا ہوگااس کی تمثیلی شکل میں آئیے ہم قدرت کے بنیادی مستقلوں سے مندرجہ ذیل طریقے سے کھیلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیاہم کوئی ایسی مقدار حاصل کرسکتے ہیں جس کی لمبائی کے ابعاد ایٹم کے معلوم سائز
کے موٹے طورپر مساوی ہوں۔
(a) اساسی مستقلوں،
اورcسے ایک لمبائی کے ابعاد کی مقدارتشکیل کیجیے۔ اس کی عددی قدر معلوم کیجیے۔
(b) آپ دیکھیں گے کہ(a)میں حاصل ہوئی لمبائی ایٹمی سائز سے عددی قدر کے کئی درجے کم ہے۔ مزید یہ کہ اس میںcشامل ہے۔لیکن ایٹموں کی توانائیاں زیادہ ترغیراضافیتی علاقے میں ہوتی ہیں جہاںcکے کوئی کردار ادا کرنے کی امید نہیں کی جاتی۔ ہوسکتا ہے اسی وجہ سے بوہر نے سوچا ہو کہ cکو خارج کردیاجائے اور صحیح ایٹمی سائز حاصل کرنے کے لیے کسی اورمقدار کو تلاش کیاجائے۔ اب،پلانک مستقلہ کہیں اور پہلے ہی ظاہر ہوچکا تھا۔بوہر کی بہترین ادراکی صلاحیت اس میں مضمر ہے کہ انھوں نے یہ پہچان لیا کہ
اورeصحیح ایٹمی سائز دیں گے۔
اورeسے لمبائی کے ابعاد کی ایک مقدار تشکیل کیجیے اور تصدیق کیجیے کہ اس کی عددی قدر،درست عددی قدرکے درجے کی ہے۔
12.15 ہائیڈروجن انیم کی پہلی مشتعل حالت میں ایک الیکٹران کی کل توانائی–3.4 eVہے۔
(a) اس حالت میں الیکٹران کی حرکی توانائی کیا ہے؟
(b) اس حالت میں الیکٹران کی وضعی توانائی کیا ہے؟
(c) اگر وضعی توانائی کے صفر کے انتخاب کو بدل دیاجائے تومندرجہ بالا جوابوں میں سے کون ساجواب بدل جائے گا؟
12.16 اگر بوہر کا کوایٹم سازی کا دعویٰ(
زاویائی معیارِحرکت)قدرت کا ایک بنیادی قانون ہے تو اسے سیاری حرکت کے لیے بھی اتنا ہی درست ہونا چاہیے۔ پھر ہم کیوں سورج کے گردسیاروں کے مداروں کی کوانٹم سازی کی بات کبھی نہیں کرتے؟
12.17 ایک میونی ہائیڈروجن ایٹم (muonic hydrogen atom)(یعنی ایسا ایٹم جس میں تقریباً
کمیت کا ایک منفی چارج شدہ میوآن(m)، پروٹان کے گردمدار میں چکرلگاتا ہے)کا پہلا بوہر نصف قطر اوراس کی تحتی حالت توانائی حاصل کیجیے۔