Skip to content
12-Tabiyaat-II-001

باب تیرہ

مرکزے  NUCLEI



13.1  تعارف  (INTRODUCTION) 


پچھلے باب میں ہم سیکھ چکے ہیں کہ ہر ایٹم میں مثبت چارج اور کمیت بہت زیادہ کثافت کے ساتھ ایٹم کے مرکز پر مرتکز ہوتے ہیں اور اس کا مرکزہ (نیوکلیس Nucleus) تشکیل دیتے ہیں۔ ایک نیوکلیس کے مجموعی البعاد ایک ایٹم کے متطابق البعاد سے بہت زیادہ خفیف ہوتے ہیں۔  a  ذرات کے انتشار پر کیے گئے تجربات نے یہ ظاہر کردیا کہ ایک نیوکلیس کا نصف قطر ایک ایٹم کے نصف قطر سے 104 کے جز ضربی سے کم ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ ایک نیوکلیس کا حجم ایک ایٹم کے حجم کا 12-10گنا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایٹم تقریباً خالی ہے۔ اگر ایٹم کو کمرہ جماعت جتنا بڑا کردیا جائے تو نیوکلیس ایک سوئی کی نوک کے سائز کاہوگا۔ پھر بھی نیوکلیس میں ایٹم کی زیادہ تر کمیت (99.9% سے زیادہ) سمائی ہوتی ہے۔
کیا جس طرح ایٹم کی ساخت ہوتی ہے، نیوکلیس کی بھی ساخت ہوتی ہے؟ اگر ہاں، تو نیوکلیس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ یہ آپس میں ایک ساتھ کیسے رکھے جاتے ہیں؟ اس باب میں ہم ایسے سوالات کے جواب تلاش کریں گے۔ ہم نیوکلیسوں کی مختلف خاصیتوں، جیسے ان کے سائز، کمیتیں، استحکام، سے بحث کریں گے اور ساتھ ہی ان سے جڑے ہوئے نیوکلیائی مظاہر جیسے تابکاری، انشقاق اور گداخت سے بھی بحث کریں گے۔

13.2  ایٹمی کمیتیں اور نیوکلیس کے اجزائے ترکیبی

 (Atomic Masses and Composition of Nucleus)

ایک ایٹم کی کمیت ایک کلوگرام کے مقابلے میں بہت خفیف ہے، مثلاً ایک کاربن ایٹم، 12C کی کمیت 26-10×1.992647ہے۔ اتنی خفیف مقداروں کی پیمائش کے لیے کلوگرام ایک مناسب اکائی نہیں ہے۔ اس لیے ایٹمی کمیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک مختلف کمیت اکائی استعمال کی جاتی ہے۔ یہ اکائی ’’ایٹمی کمیت اکائی‘‘ [atomic mass unit (u)] ہے، جس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے: یہ کاربن (12C) کی کمیت کی 1/12 ہے۔ اس تعریف کے مطابق:
 12 / ایک 12C ایٹم کی کمیت  = 1u
  12 /10-26 ×1.992647 = kg
                                                                                      10-27×1.660539
                                                                                  kg 
(13.1) 
مختلف عناصر کی ایٹمی کمیتیں جب ایٹمی اکائی (u) میں ظاہر کی جاتی ہیں تو وہ ایک ہائیڈروجن ایٹم کی کمیت کے صحیح عددی اضعاف کے نزدیک ہوتی ہیں۔ لیکن اس قاعدے کے کئی واضح استثنیٰ بھی ہیں۔ جیسے کلورین ایٹم کی ایٹمی کمیت 35.46 u  ہے۔
ایک کمیتوں کی درستی صحت کے ساتھ پیمائش ایک کمیت طیف پیما (mass spectrometer) کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ایٹمی کمیتوں کی پیمائش سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک ہی عنصر کے مختلف قسم کے ایٹموں کا وجود ہے جو یکساں کیمیائی خاصیتیں ظاہر کرتے ہیں لیکن ان کی کمیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ ایک ہی عنصر کی ایسی ایٹمی انواع (atomic species) جو کمیت کے لحاظ سے مختلف ہیں، ہم جا (isotopes) کہلاتی ہیں۔ ]یونانی زبان میں isotope کا مطلب ہے یکساں مقام، یعنی کہ یہ عناصر کے دوری جدول میں یکساں مقام پر ہوتے ہیں[۔ یہ معلوم ہوا کہ عملی شکل میں ہر عنصر ہی کئی ہم جاؤں کے آمیزہ کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ مختلف ہم جاؤں کی نسبتی افراط (relative abundance) ایک عنصر سے دوسرے عنصرمیں مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً کلورین کے دو ہم جا ہیں، جن کی کمیتیں 34.98 u اور 36.98 u ہیں،جو کہ ہائیڈروجن ایٹم کی کمیت کے تقریباً صحیح عددی اضعاف ہیں۔ ان ہم جاؤں کی نسبتی افراط 75.4 اور 24.6 فیصد، بالترتیب ہیں۔ اس لیے ایک کلورین ایٹم کی اوسط کمیت، دونوں ہم جاؤں کی کمیتوں کے وزنیاتی اوسط (weighted average) سے حاصل کی جاتی ہے۔ جو نکالا جاتا ہے:
    100 /36.98 ×24.6 +34.98×75.4=
               =  35.47 u
جو کلورین کی ایٹمی کمیت سے ہم آہنگ ہے۔
سب سے ہلکے عنصر، ہائیڈروجن کے بھی تین ہم جا ہیں، جن کی کمیتیں 1.0078 u، 2.0141 u  اور 3.0160 u ہیں۔ ہائیڈروجن کے سب سے ہلکے ایٹم کے نیوکلیس کو، جس کی نسبتی افراط 99.985% ہے، پروٹان کہتے ہیں۔ ایک پروٹان کی کمیت ہے:
(13.2) kg   10-27×167262 u = 1.00727  = mp 
یہ ایک ہائیڈروجن ایٹم کی کمیت (= 1.00783u) نفی ایک الیکٹران کی کمیت(u  0.00055=me) کے مساوی ہے۔ ہائیڈروجن کے دیگر دو ہم جا ڈیوٹیریم (deuterium) اور ٹرائی ٹیم (tritium) کہلاتے ہیں۔ ٹرائی ٹیم مرکزے (nuclei)، کیونکہ غیر مستحکم ہوتے ہیں، اس لیے قدرتی طور پر نہیں پائے جاتے اور مصنوعی طریقے سے تجربہ گاہ میں پیدا کیے جاتے ہیں۔
نیوکلیس میں مثبت چارج، پروٹانوں کا چارج ہوتا ہے۔ ایک پروٹان میں ایک اکائی مثبت چارج ہوتا ہے اور یہ مستحکم ہوتا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ نیوکلیس میں الیکٹران بھی ہوسکتے ہیں لیکن بعد میں کوانٹم نظریہ کے استدلال کو استعمال کرتے ہوئے اس امکان کو خارج کردیا گیا۔ ایک ایٹم کے تمام الیکٹران نیوکلیس کے باہر ہوتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نیوکلیس کے باہر پائے جانے والے ان الیکٹرانوں کی تعداد، ایٹمی عدد z ہے۔ اس لیے ایٹمی الیکٹرانوں کا کل چارج (–Ze) ہے اور کیونکہ ایٹم تعدیلی ہے، نیوکلیس کا چارج (+Ze) ہے۔ اس لیے ایٹم کے نیوکلیس میں پروٹانوں کی تعداد بھی بالکل درست طور پر، z ہے، یعنی کہ ایٹمی عدد۔

نیوٹران کی دریافت  (Discovery of Neutron)

کیونکہ ڈیوٹیریم اور ٹرائی ٹیم کے مرکزے (Nuclei)، ہائیڈروجن کے ہم جا ہیں، ان میں سے ہر ایک میں ایک ہی پروٹان ہونا لازمی ہے۔ لیکن ہائیڈروجن، ڈیوٹیریم اور ٹرائی ٹیم کی کمیتیں، 1:2:3 کی نسبت میں ہیں۔ اس لیے ڈیوٹیریم اور ٹرائی ٹیم کے نیوکلیسوں میں، پروٹان کے ساتھ ساتھ کچھ تعدیلی مادہ بھی ہونا چاہیے۔ ان ہم جاؤں کے نیوکلیسوں میں پائے جانے والے تعدیلی مادہ کی مقدار کو اگر پروٹان کی کمیت کی اکائیوں میں ظاہر کیا جائے تو وہ تقربی طور پر، بالترتیب، ایک اور دو ہوگی۔ یہ حقیقت اشارہ کرتی ہے کہ ایٹموں کے نیوکلیسوں میں پروٹانوں کے ساتھ ساتھ ایک بنیادی اکائی کے اضعاف میں تعدیلی مادہ بھی ہوتا ہے۔ اس فریضہ (hypothesis) کی تصدیق 1932 میں چاڈوِک نے کی جنھوں نے بیریلیم کے نیوکلیسوں پر  a ۔ ذرات کی بمباری کرکے (a -  ذرات ہیلیم کے مرکزے ہیں، جن سے بعد کے حصے میں بحث کی جائے گی)، تعدلی اشعاع کامشاہدہ کیا۔ یہ پایا گیا کہ یہ تعدیلی اشعاع ہلکے نیوکلیسوں، جیسے، ہیلیم، کاربن اور نائٹروجن کے نیوکلیس، میں سے پروٹان باہر نکال سکتے ہیں۔ اس وقت تک صرف ایک ہی تعدیلی اشعاع معلوم تھا جو فوٹان تھے (برق-مقناطیسی اشعاع)۔ توانائی اور معیارِ حرکت کی بقا کے اصولوں کے اطلاق نے یہ ظاہر کردیا کہ اگر تعدیلی اشعاع فوٹانوں پر مشتمل ہوتا تو فوٹانوں کی توانائی اس سے کہیں زیادہ ہوتی جو بیریلیم کے نیوکلیسوں کی  a - ذرات سے بمباری کرنے پر دستیاب کی گئی تھی۔ اس معمے کا حل یہ تھا جسے چاڈوِک نے حاصل کرلیا، کہ یہ فرض کرلیا جائے کہ تعدیلی اشعاع ایک نئے قسم کے تعدیلی ذرات پر مشتمل ہے، جنھیں نیوٹران کہا جاتا ہے۔ توانائی اور معیارِ حرکت کی بقا سے وہ اس نئے ذرے کی کمیت معلوم کرسکے جو کہ قریب قریب پروٹان کی کمیت کے مساوی تھی۔ 
اب ایک نیوٹران کی کمیت درستی صحت کی بہت زیادہ ڈگری کے ساتھ معلوم ہے۔ یہ ہے 
(13.3)       kg10-27×16749 = u1.00866= mn
چاڈوک کو نیوٹران دریافت کرنے کے لیے 1935 میں طبیعیات کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
ایک آزاد نیوٹران، ایک آزاد پروٹان کے برخلاف، غیر مستحکم ہے۔ یہ ایک پروٹان، ایک الیکٹران اور ایک اینٹی نیوٹرینو (ایک اور بنیادی ذرہ) میں تنزل پذیر ہوتا ہے اور اس کی اوسط زندگی تقریباً 1000s ہے۔ لیکن یہ نیوکلیس کے اندر مستحکم ہوتا ہے۔
اب نیوکلیس کی ترکیب (composition) مندرجہ ذیل اصطلاحات اور علامتیں استعمال کرکے بیان کی جاسکتی ہے۔
پروٹانوں کی تعداد  =  ایٹمی عدد        - Z
[(a)13.4]
نیوٹرانوں کی تعداد  =  نیوٹران عدد     -N
[(b)13.4]
            Z+N = کمیت عدد       -A
نیوٹرانوں اور پروٹانوں کی کل تعداد  =    [13.4(c)]
ایک پروٹان یا نیوٹران کے لیے اصطلاح نیوکلان بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس لیے ایک ایٹم میں نیوکلیانوں کی تعداد اس کا کمیت عدد ہے۔
نیوکلیائی انواع یا نیوکلائیڈوں (Nuclides) کو علامت AZX سے ظاہر کیا جاتا ہے، جہاں X نوع کی کمیائی علامت ہے۔ مثلاً سونے کے نیوکلیس کو 197Au سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس میں 197 نیوکلیون ہیں، جس میں سے 79 پروٹان ہیں اور باقی 118 نیوٹران ہیں۔
اب ایک عنصر کے ہم جاؤں کی ترکیب کی بہ آسانی وضاحت کی جاسکتی ہے۔ ایک دیے ہوئے عنصر کے ہم جاؤں کے نیوکلیسوں میں پروٹانوں کی تعداد یکساں ہوتی ہے، لیکن وہ ایک دوسرے سے نیوٹرانوں کی تعداد کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ڈیوٹیریم (2/1H)میں، جو کہ ہائیڈروجن کا ایک ہم جا ہے، ایک پروٹان اور ایک نیوٹران ہوتا ہے۔ اس کے دوسرے ہم جا ٹرائی ٹیم(3/1H)میں ایک پروٹان اور دو نیوٹران ہوتے ہیں۔ عنصر سونے کے 32 ہم جا ہیں، جن کی سعت A=173 سے A=204 تک ہے۔ ہم پہلے ہی بتاچکے ہیں کہ عناصر کی کیمیائی خاصیتیں ان کی الیکٹرانی ساخت (electronic structure) کے تابع ہیں۔ کیونکہ ہم جاؤں کے ایٹموں کی الیکٹرانی ساخت متماثل ہوتی ہے، اس لیے ان کا کیمیائی برتاؤ بھی متماثل ہوتا ہے اور انھیں دوری جدول میں یکساں مقام پر رکھا جاتا ہے۔
وہ تمام نیوکلیائڈ جن کے کمیت عدد یکساں ہوتے ہیں، ہم بار (isobar) کہلاتے ہیں، مثلاً نیوکلائیڈ31H اور ہم بار ہیں۔ ایسے نیوکلیائڈ جن کے نیوٹران عدد N یکساں ہوتے ہیں لیکن ایٹمی عدد Z مختلف ہوتے ہیں، جیسے اور( 197/79Au)، ہم طِناب (آئسوٹون isotone)کہلاتے ہیں۔

13.3  نیوکلیس کا سائز  (Size of the Nucleus)

جیسا کہ ہم باب 12 میں دیکھ چکے ہیں ردرفورڈ وہ رہنما تھے جنھوں نے ایٹمی نیوکلیس کی موجودگی کا دعویٰ کیا اور اسے ثابت کردکھایا۔ ردرفورڈ کی تجویز پر گیگر اور مارسڈین نے سونے کی پنّی سے  α - ذرات کے انتشار کا اپنا کلاسیکی تجربہ کیا۔ن کے تجربات نے یہ ظاہر کیا کہ ایک 5.5MeV حرکی توانائی کے –aذرہ کا ایک سونے کے نیوکلیس کے قریب ترین آنے کا فاصلہ تقریباً 14-10×4.0 mہے۔ سونے کی چادر کے ذریعے –aذرات کے انتشار کی ردرفورڈ نے اس طرح وضاحت کی کہ انھوں نے یہ فرض کیا کہ انتشار کے لیے صرف کولمب دفاعی قوت ہی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ مثبت چارج نیو کلیس ہی میں مرتکز ہے، اس لیے نیو کلیس کا حقیقی سائز 14-10×4.0 m سے کم ہونا لازمی ہے۔
اگر ہم 5.5MeV سے زیادہ توانائیوں کے –aذرات استعمال کریں تو –aذرہ کے نیوکلیس سے قریب ترین ہونے کا فاصلہ اور کم ہوگا اور کسی ایک نقطہ پر انتشار، مختصر سعتی نیوکلیائی قوتوں سے متناثر ہونا شروع کردے گا اور ردرفورڈ کی تحسیب سے مختلف ہوگا۔ ردرفورڈ کی تحسیب، –aذرات کے مثبت چارجوں اور سونے کے نیوکلیس کے درمیان خالص کولمب دفاغ پر مبنی ہے۔ جس فاصلے سے انحراف پایا جانا شروع ہوتا ہے، اس فاصلے سے نیوکلیر سائز اخذ کیا جاسکتا ہے۔
ایسے انتشار تجربوں کے ذریعے جن میں –aذرات کی جگہ تیز رفتار الیکٹرانوں کو بہ طور پروجیکٹائل مختلف عناصر سے بنے ہوئے ہدفوں پر بمباری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مختلف عناصر کے نیوکلیسوں کے سائزوں کی درستی صحت کے ساتھ پیمائش کی گئی ہے۔
یہ معلوم ہوا ہے کہ کمیت عدد A کے ایک نیوکلیس کا نصف قطر R ہوتا ہے:
(13.5)     R=R0 A1/3
جہاں
(  15m- 10 =fm1;1.2fm=)  
m10-15×1.2=R0
 اس کا مطلب ہوا کہ نیوکلیس کا حجم، جو 29کے متناسب ہے، تمام مرکزوں کے لیے A کے متناسب ہے۔ اس لیے نیوکلیس کی کثافت ایک مستقلہ ہے، A کے غیر تابع ہے ۔ مختلف مرکزے، مستقلہ کثافت کے مائع کے قطروں کی طرح ہیں۔ نیوکلیائی مادے کی کثافت، تقربی طور پر،( kg m-31017 ×2.3)ہے۔ عام مادے کی کثافت کے مقابلے میں یہ کثافت بہت زیادہ ہے۔ یہ قابل فہم ہے، کیونکہ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ ایٹم کا بیشتر حصہ خالی ہوتا ہے۔ عام مادہ میں، جو ایٹموں پر مشتمل ہے، خالی فضا کی مقدار بہت زیادہ ہے۔

مثال 13.1:  لوہے کے نیوکلیس کی کمیت 55.85 u  اور A=56 دیے ہوئے ہیں۔ نیوکلیائی کثافت معلوم کیجیے۔
حل:
55.85 =mFe
kg10-26×9.27=u
کمیت/   نیوکلیائی کثافت 15/1×3(15-10×1.2)(3 / 4)/ 10-26×9.27  =
 حجم 
                                                               kg m-31017 ×2.29   =
نیوٹران تاروں (فلکیاتی شے) میں مادے کی کثافت اس کثافت کے مقابلے کی ہوتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان اشیاء میں مادہ اتنا دبا ہوا ہے کہ وہ ایک بڑے نیوکلیس کے مشابہ ہیں۔

13.4  کمیت توانائی اور نیو کلیائی بندش توانائی

(MASS-ENERGY AND NUCLEAR BINDING ENERGY)

13.4.1  کمیت –توانائی  (Mass – Energy)

آئن اسٹائن نے اپنے خصوصی اضافیت کے نظریہ سے یہ دکھایا کہ کمیت کو توانائی کی ہی ایک دوسری شکل کے طور پر برتنا ضروری ہے۔ خصوصی اضافیت کے نظریہ کے پیش کیے جانے سے پہلے تک یہ فرض کرلیا جاتا تھا کہ ایک تعامل میں کمیت اور توانائی کی علیحدہ علیحدہ بقاہوتی ہے۔ لیکن آئن اسٹائن نے دکھایا کہ کمیت بھی توانائی کی ایک دوسری شکل ہے اور کمیت–توانائی کو توانائی کی دوسری شکلوں میں، جیسے حرکی توانائی میں، بدلا جاسکتا ہے اور اس کے برخلاف بھی۔
آئن اسٹائن نے مشہور کمیت–توانائی ترادف (mass-energy equivalence) رشتہ دیا:
(13.6)  E=mc2
یہاں کمیت m کا توانائی مرادف (energy equivalent) مندرجہ بالا مساوات سے ہم رشتہ ہے اور c روشنی کی خلا میں رفتار ہے جو تقریباًms-1 108 ×3 کے مساوی ہے۔

مثال 13.2:  ایک شے کے ایک گرام کے توانائی مرادف کا حساب لگائیے۔

حل:         
 توانائی،J  2(108×3)×3-10 = E
          J  1013×9= 1016×9×10-3=E
   
اسی لیے اگر ایک گرام کے مادے کو توانائی میں تبدیل کردیا جائے تو توانائی کی بہت بڑی مقدار نکلے گی۔

آئن اسٹائن کے کمیت–توانائی رشتے کی تجرباتی تصدیق، نیوکلیانوں، نیوکلیسوں، الیکٹرانوں اور حال ہی میں دریافت کیے گئے دیگر ذروں کے درمیان ہونے والے نیوکلیائی تعاملات کے مطالعوں کے ذریعے کی جاچکی ہے۔ توانائی کی بقا کے قانون کے بیان ہے کہ ایک تعامل میں آغازی توانائی اور اختتامی توانائی مساوی ہوں گی، بشرطیکہ کمیت سے منسلک توانائی کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ تصور نیوکلیائی کمیتوں اور نیوکلیسوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ہونے والے باہم عملوں کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ اگلے کچھ حصوں میں انہی سے بحث کی گئی ہے۔

13.4.2  نیوکلیائی بندش توانائی  (Nuclear binding energy)


حصہ 13.2 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ نیوکلیس نیوٹرانوں اور پروٹانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس لیے یہ امید کی جاتی ہے کہ نیوکلیس کی کمیت اس کے پروٹانوں اور نیوٹرانوں کی انفرادی کمیتوں کے حاصل جمع کے مساوی ہوگی۔ لیکن نیوکلیائی کمیت M ہمیشہ اس سے کم معلوم کی گئی ہے۔ مثلاً ہم (O 8/16) لیتے ہیں، اس نیوکلیس میں 8 نیوٹران اور 8 پروٹان ہیں۔
 ہمارے پاس ہے:
8  نیوٹرانوں کی کمیت = 8 × 1.00866 u
8   پروٹانوں کی کمیت = 8 × 1.00727 u
8  الیکٹرانوں کی کمیت = 8 × 0.00055 u
                                        
 اس لیے، u = 16.12744 u  = 8 × 2.01593   
( O8/16) نیوکلیس کی متوقع کمیت
کمیت طیف بینی (mass spectroscopy) تجربات کے ذریعہ ( O8/16) کی معلوم کی گئی کمیت 15.99493u ہے۔ اس میں سے 8 الیکٹرانوں کی کمیت (u0.00055×8) نفی کرنے پر ہمیں (8/16 O)نیوکلیس کی تجرباتی کمیت 15.99053u حاصل ہوتی ہے۔
اس طرح ہم پاتے ہیں کہ (O8/16) نیوکلیس کی کمیت، اس کے اجزائے ترکیبی کی کل کمیت سے  0.13691uکم ہے۔ ایک نیکوکلیس کی کمیت اور اس کے اجزائے ترکیبی کی کمیت کے مابین فرق DM کمیت کمی (mass defect) کہلاتی ہے اور یہ دیا جاتا ہے
(13.7) M- [mn(Z-A)+Zmp]=∆M
کمیت کمی کا مطلب کیا ہے؟ یہاں پر آئن اسٹائن کا کمیت اور توانائی کا ترادف اپناکردار ادا کرتا ہے۔ کیونکہ آکسیجن نیوکلیس کی کمیت اس کے اجزائے ترکیبی ] 8 پروٹان اور 8 نیوٹران، غیر مقید حالت (unbound state) میں[ کی کمیتوں سے کم ہے، آکسیجن نیوکلیس کی مرادف توانائی اس کے اجزائے ترکیبی کی مرادف توانائیوں کے حاصِل جمع سے کم ہے۔ اگر ہم آکسیجن نیوکلیس کو 8 پروٹانوں اور 8 نیوٹرانوں میں توڑنا چاہیں تو یہ زائد توانائیc2 M∆ مہیا کرنی ہوگی۔ اس درکار توانائیEb  کا کمیت کمی سے رشتہ ہے
(13.8)  M c2 ∆=Eb
مثال 13.3:  ایک ایٹمی کمیت اکائی کا توانائی مرادف پہلے جول اور پھر MeV میں معلوم کیجیے۔ اسے استعمال کرتے ہوئے( O8/16) کی کمیت کمی کوc2/ MeV میں ظاہر کیجیے۔

حل:  

 kg10-27×16605=1u 
اسے توانائی اکائیوں میں بدلنے کے لیے ہم اسے c2سے ضرب کرتے ہیں اور پاتے ہیں:
   2(108×2.9979)×27-10×1.6605= S2/kg  m2 توانائی مترادف
J10-10×1.4924= 
eV   10-19× 1.602  /10-10×1.4924=
eV  109×0.9315=
 MeV   931.5=
یا MeV   931.5=1u
( O8/16)کے لیے،  MeV/c2   931.5 ×0.13691= 013691=M∆
    MeV/c2   127.5=
(8/O16) کو اس کے اجزائے ترکیبی میں توڑنے کے لیے درکار توانائی، (8/O16) اس لیے،MeV/c2  127.5 ہے۔
اگر نیوٹرانوں اور پروٹانوں کی ایک مخصوص تعداد کو ایک دوسرے کے ساتھ لاکر ایک مخصوص چارج اور ایک مخصوص کمیت کا ایک نیوکلیس تشکیل دیاجائے تو اس عمل میں توانائی Ebباہر نکلے گی۔ توانائیEb نیوکلیس کی بندش توانائی (binding energy) کہلاتی ہے۔ اگر ہم ایک نیوکلیس کے اجزائے ترکیبی کو علیحدہ علیحدہ کرنا چاہیں تو ہمیں ان ذرات کو Eb کے مساوی کل توانائی مہیا کرنی ہوگی۔ حالانکہ ہم اس طرح سے ایک نیوکلیس کو توڑ نہیں سکتے، پھر بھی بندش توانائی اس بات کا ایک کارآمد ناپ ہے کہ ایک نیوکلیس کتنی اچھی طرح قائم ہے۔ نیوکلیس کے اجزائے ترکیبی کے مابین بندش کا ایک زیادہ کارآمد ناپ بندش توانائی فی نیوکلیون، Ebnہے جو کہ ایک نیوکلیس کی بندش توانائی اور اس نیوکلیس میں نیوکلیانوں کی تعداد 'A' کی نسبت ہے۔
(13.9)   A/Ebn=Eb

picture 1
شکل 13.1: بندش توانائی فی نیوکلیون بہ طور تفاعل کمیت عدد
ہم بندش توانائی فی نیوکلیون کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایک نیوکلیس کو اس کے انفرادی نیوکلیانوں میں علیحدہ کرنے کے لیے درکار، اوسط توانائی فی نیوکلیون ہے۔
61
شکل  13.1:  بندش توانائی فی نیوکلیون بہ طور تفاعلِ کمیت عدد
بندش توانائی فی نیوکلیسوںEbn برخلاف کمیت عدد A کا گراف ہے۔ ہم گراف کی مندرجہ ذیل اہم خاصیتیں نوٹ کرسکتے ہیں:
(i)     بندش توانائی فی نیوکلیونEbn ، عملی طور پر مستقلہ ہے، یعنی کہ درمیانی کمیت اعداد ( 30 < A < 170) کے نیوکلیسوں کے لیے عملی طور پر ان کے ایٹمی عدد کے غیر تابع ہے۔ اس منحنی کی اعظم قدر، تقریباً 8.75 MeV،  A=56  کے لیے ہے اور A=238 کے لیے اس کی قدر 7.6MeV ہے۔
(ii) 
  Ebnکی قدر ہلکے نیوکلیسوں (A<30) اور بھاری نیوکلیسوں (A>170) دونوں کے لیے مقابلتاً ادنیٰ ہے۔ 
ان دونوں مشاہدات سے ہم کچھ نتائج اخذ کرسکتے ہیں:
(i) لگ رہی قوت کششی ہے اور اتنی طاقت ور ہے کہ چند MeV فی نیوکلیون کی بندش توانائی پیدا کرسکنے کے لیے کافی ہو۔
(ii) سعت 30 < A < 170 میں بندش توانائی کا مستقلہ ہونا اس حقیقت کا نتیجہ ہے کہ نیوکلیائی قوت ایک قریب اثر (short-range) قوت ہے۔ کوئی ایک مخصوص نیوکلیون لیجیے جو ایک کافی بڑے نیوکلیس کے اندر ہے۔ اس کے اوپر صرف اس کے چند پڑوسی نیوکلیانوں کا ہی اثر پڑے گا جو کہ نیوکلیائی قوت کے اس قریب اثر فاصلے کے اندر ہوں گے۔اگر کوئی نیوکلیان، نیوکلیائی قوت کی سعت سے زیادہ فاصلے پر ہے تو وہ ملحوظ نظر نیوکلیون کی بندش توانائی پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔ اگر ایک نیوکلیون کے نیوکلیر قوت کی سعت کے اندر زیادہ سے زیادہ p پڑوسی نیوکلیان ہوسکتے ہوں تو اس کی بندش توانائی p کے متناسب ہوگی۔ فرض کیجیے کہ نیوکلیس کی بندش توانائی pk ہے، جہاں k ایک مستقلہ ہے جس کے ابعاد توانائی کے ابعاد ہیں۔ اگر ہم مزید نیوکلیان شامل کرکے A میں اضافہ کریں تو ان سے نیوکلیس کے اندر کے ایک نیوکلیان کی بندش توانائی تبدیل نہیں ہوگی۔ کیونکہ ایک بڑے نیوکلیس میں زیادہ تر نیوکلیان، نیوکلیس کے اندرونی حصے میں ہوتے ہیں، اس کی سطح پر نہیں، بندش توانائی فی نیوکلیون میں تبدیلی، خفیف ہوگی۔ بندش توانائی فی نیوکلیون ایک مستقلہ ہے اور تقربی طور پر pk کے مساوی ہے۔ یہ خاصیت کہ ایک دیا ہوا نیوکلیان صرف انہیں نیوکلیانوں کو متاثر کرتا ہے جو اس کے نزدیک ہوتے ہیں، نیوکلیائی قوت کی سیر شدگی خاصیت بھی کہلاتی ہے۔
(iii)   ایک بہت بھاری نیوکلیس، جیسے A=240، کی بندش توانائی فی نیوکلیون، A=120 کے نیوکلیس کی بندش توانائی فی نیوکلیون کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اس لیے اگر A=240 کا ایک نیوکلیس دو A=120 کے نیوکلیسوں میں ٹوٹ جائے تو نیوکلیانوں کی بندش زیادہ سخت ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ اس عمل میں توانائی باہر نکلے گی۔ اس کے انشقاق کے ذریعے توانائی پیدا کرنے میں بہت اہم مضمرات ہیں، جن سے بعد میں حصہ 13.7.1 میں بحث کی جائے گی۔
(iv)   دو بہت ہلکے نیوکلیسوں (10≤ A) کو لیجیے جو آپس میں مل کر ایک مقابلتاً بھاری نیوکلیس تشکیل دیتے ہیں۔ 
گداخت شدہ مقابلتاً بھاری نیوکلیس کی بندش توانائی فی نیوکلیون، مقابلتاً ہلکے نیوکلیسوں کی بندش توانائی فی نیوکلیان سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ اختتامی نظام میں آغازی نظام کے مقابلے میں بندش زیادہ سخت ہے۔ اب پھر اس گداخت (Fusion) کے عمل میں توانائی باہر نکلے گی۔ سورج کی توانائی کا یہی وسیلہ ہے، جس سے بعد میں حصہ 13.7.3 میں بحث کی جائے گی۔

013.5  نیوکلیائی قوت (Nuclear Force) 


وہ قوت جو ایٹمی الیکٹرانوں کی حرکت متعین کرتی ہے، جانی پہچانی کولمب قوت ہے۔ حصہ 13.4 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ اوسط کمیت کے نیوکلیسوں کے لیے، بندش توانائی فی نیوکلیون تقریباً 8MeV ہوتی ہے، جو کہ ایٹموں میں بندش توانائی سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے ایک نیوکلیس میں نیوکلیانوں کو ایک ساتھ بندھا رکھنے کے لیے بالکل مختلف قسم کی ایک طاقت ور کششی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ اسے اتنا طاقت ور ہونا چاہیے کہ پروٹانوں (مثبت چارج شدہ) کے درمیان دفع پر قابو پاسکے اور پروٹانوں اور نیوٹرانوں دونوں کو ایک مختصر نیوکلائی حجم میں بندھا رکھ سکے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ بندش توانائی فی نیوکلیون کی مستقلیت کو اس قوت کے قریب اثر ہونے کی شکل میں سمجھا جاسکتا ہے۔ نیوکلیائی بندش قوت کی کئی خاصیتوں کا خلاصہ ذیل میں پیش کیاجارہا ہے۔ یہ خاصیتں ان مختلف النوع تجربات کے نتائج سے حاصل ہوئی ہیں جو 1930 سے 1950 تک کیے گئے۔

picture 2

شکل 13.2:  دونیوکلیانوں کے جوڑے کی وضعی توانائی بہ طور ان کے درمیانی فاصلے کے تفاعل۔r0سے زیادہ درمیانی فاصلوں کے لیے قوت کششی ہے اور r0سے کم درمیانی فاصلوں کے لیے بہت زیادہ دفاعی ہے۔

(i)   نیوکلیائی قوت، چارجوں کے درمیان کام کر رہی کولمب یا کمیتوں کے درمیان کام کر رہی مادی کشش قوتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ نیوکلیس کے اندر، نیوکلیائی بندش قوت کو پروٹانوں کے درمیان کولمب دفع پر حاوی آنا ضروری ہے۔ ایسا صرف اس لیے ہوتا ہے کیونکہ نیوکلیائی قوت، کولمب قوت کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ مادی کشش قوت، کولمب قوت سے بھی بہت کمزور ہے۔
(ii)   دونیوکلیانوں کے درمیان نیوکلیائی قوت، ان کے درمیان چند فیمٹومیٹرں سے زیادہ فاصلے ہونے پر تیزی سے صفر ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ایک اوسط یا بڑے سائز کے نیوکلیسوں میں قوتوں کی سیرشدگی عمل میں آتی ہے، جو کہ بندش توانائی فی نیوکلیون کی مستقلیت کی وجہ ہے۔
دو نیوکلیسوں کے درمیان وضعی توانائی بہ طور ان کے درمیانی فاصلے کے تفاعل کا ایک گراف شکل 13.2 میں دکھایا گیا ہے۔ وضعی توانائی کی اقل ترین قدر تقریباً 0.8fm فاصلے66 پر حاصل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ قوت 0.8fm سے زیادہ کے فاصلوں کے لیے کششی ہے اور اگر نیوکلیانوں کے درمیان فاصلہ 0.8fm سے کم ہو تو یہ دفاعی ہے۔
(iii) نیوٹران-نیوٹران، نیوٹران-پروٹان اور پروٹان-پروٹان کے درمیان نیوکلائی قوت تقریباً یکساں ہے۔نیوکلیائی قوت برقی چارج کے تابع نہیں ہے۔
کولمب کے قانون اور مادی کشش کے نیوٹن کے قانون کے برخلاف، نیوکلیائی قوت کی کوئی سادہ ریاضیاتی شکل نہیں ہے۔

13.6  تابکاری  (Radioactivity)

اے–ایچ بیکیوریل (A. H. Becquerel) نے 1896 میں بالکل اتفاقی طور پر تابکاری کو دریافت کیا۔ مرکبات کو بصری روشنی سے اشعاع شدہ کرنے پر ثانوی درخشانی (fluorescence) اور خود درخشانی (phosphorescence) کا مطالعہ کرتے ہوئے بیکیوریل نے ایک دلچسپ مظہر کا مشاہدہ کیا۔ یورانیم–پوٹاشیم سلفیٹ کے کچھ ٹکڑوں پر بصری روشنی سے اشعاع کرنے کے بعد انھوں نے ان ٹکڑوں کو کالے کاغذ میں لپیٹ دیا اور درمیان میں ایک چاندی کا ٹکڑا رکھ کر ایک فوٹو گرافک پلیٹ رکھ دی۔ کئی گھنٹے کی اثر آشکاری (exposure) کے بعد جب فوٹو گرافک پلیٹ کو ڈیولپ (Develope) کیا گیا تو اس میں کچھ سیاہ رنگت دکھائی دی، جس کی وجہ کوئی ایسی شے ہی ہوسکتی تھی جو اس مرکب سے خارج ہوئی ہو اور چاندی اور کالے کاغذ دونوں میں سے گذر سکنے کے قابل ہو۔
اس کے بعد کیے گئے تجربات سے یہ معلوم ہوا کہ تابکاری ایک نیوکلیائی مظہر ہے، جس میں ایک غیر مستحکم نیوکلیس تنزل پذیر ہوتا ہے۔ اسے تابکار تنزل (radioactive decay) کہتے ہیں۔ قدرت میں تین قسم کے تابکار تنزل ہوتے ہیں:
(i)
α- تنزل، جس میں ایک ہیلیم نیوکلیس خارج ہوتا ہے۔
(ii)
 β-تنزل، جس میں الیکٹران یا پوزی ٹران (وہ ذرات جن کی کمیت الیکٹرانوں کی کمیت کے یکساں ہوتی ہے لیکن چارج، الیکٹران کے چارج کے بالکل مخالف ہوتا ہے) خارج ہوتے ہیں۔
(iii)
γ- تنزل، جس میں اعلیٰ توانائی (سینکڑوں keV یا اس سے زیادہ) کے فوٹان خارج ہوتے ہیں۔  

13.6.1  تابکار تنزل کا قانون (Law of radioactive decay)

کسی بھی تابکار نمونے میں، جو a، b یا  g  تنزل سے گزرتاہے، یہ پایا گیا ہے کہ اکائی وقت میں تنزل پذیر ہونے والے نیوکلیسوں کی تعداد نمونے میں نیوکلیسوں کی کل تعداد کے متناسب ہوتی ہے۔ اگر نمونے میں نیوکلیسوں کی تعداد N ہے اور DN، وقت Dt میں تنزل پذیر ہوتے ہیں تو
         N   t∆/N∆
یا
  N/t∆=λN∆
(13.10)
جہاں lتابکلا تنزل مستقلہ (Radioactive decay constant)یا تکسیر مستقلہ(Disintegration constant)
نمونے* میں نیوکلیسوں کی تعداد میں، وقت Dt میں تبدیلی ہے:  dN = – DN، اس لیے N کی تبدیلی کی شرح ہے (Dt ® 0 حد میں):
 λ N = dt /dN
  λdt یا= N/dN 
اب مندرجہ بالا مساوات کی دونوں اطراف کا تکملہ کرنے پر، ہمیں حاصل ہوتا ہے
(13.11)      λt∫to dt=N/N∫N0dN
یا
(13.12)  1n   N0=-γ(t-t0)1n N 

یہاںN0 دیے ہوئے نمونے میں، کسی اختیاری وقت پر تابکار نیوکلیسوں کی تعداد ہے اور N، اس کے بعد کے کسی وقت t پر تابکار نیوکلیسوں کی تعداد ہے۔ 0=t0
رکھنے پراور دوبارہ ترتیب دینے پر ہمیشہ مساوات (13.13)حاصل ہوتی ہے۔
(13.13)  N =-λt/ In    N 
جس سے حاصل ہوتا ہے:                      N0e-λt= (t)N 
نوٹ کریں، کہ مثال کے طور پر روشنی کے بلب کسی ایسے قوت نمائی قانون کی پابندی نہیں کرتے۔ اگر ہم 1000 بلبوں کی مدتِ زندگی (عرصہ وقت جس میں وہ خراب یا فیوز ہوجائیں گے) کی جانچ کریں تو ہم توقع کرتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک تقریباً یکساں وقت میں ہی تنزل پذیر ہوگا (یعنی کہ بیکار ہوجائے گا)۔ لیکن تابکار نیوکلیائڈوں کا تنزل ایک بڑی حدتک مختلف قانون کی پابندی کرتا ہے۔تابکار تنزل کا قانون مساوات (13.14) سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
ہمیں اکثر خود N سے زیادہ تنزل شرح R (dN /dt- =)میں دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ ایک اکائی وقت میں تنزل پذیر ہونے والے نیوکلیسوں کی تعداد بتاتا ہے۔ مثلاً، فرض کیجیے ہمارے پاس ایک تابکار شے کی کچھ مقدار ہے۔ ہمیں اس میں موجود نیوکلیسوں کی تعداد جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ہم ایک دیے گئے وقفہ وقت، جیسے 10 سیکنڈ یا 20 سیکنڈ میں a، b b یا g ذرات کے اخراج کی تعداد ناپ سکتے ہیں۔ فرض کیجیے ہم وقفہ وقت dt کے لیے یہ پیمائش کرتے ہیں اور اپنے آلے سے تنزل کا شمار DN   (–dN) حاصل کرتے ہیں، تب تنزل شرح R کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
dN/dt -  =R
مساوات(13.14)کا تفرق کرنے پر،ہمیں حاصل ہوتاہے:
 dN/dt =λN0e -λt - = R
یا
(13.15)                                                                                                 λt-R= R0e
جوتابکار تنزل کے قانون[مساوات(13.14]کی ایک متبادل شکل ہے۔یہاں80 ،وقتt = 0پرتابکار تنزل کی شرح ہے اورRبعد کے کسی بھی وقتtپر یہ شرح ہے۔اب ہم مساوات(13.10)کو نمونے کی تنزل شرح Rکی شکل میں ایسے لکھ سکتے ہیں:
(13.16) R  = λt-N
جہاںRکی قدر اور تاب کارنیوکلیسوں کی وہ تعداد جو ابھی تک تنزل پذیر نہیں ہوئی ہے،ان کی قدر یکساں لمحہ وقت پر معلوم کی جانی چاہیے۔
ایک یا ایک سے زیادہ تاب کار نیوکلیائڈوں کے نمونے کی کل تنزل شرح اس نمونے کی فعالیت (activity) کہلاتی ہے۔فعالیت کیSI اکائی بیکیوریل ہے جو تاب کاری دریافت کرنے والے سائنس داں ہنری بیکٹوریل کے نام پررکھی گئی ہے۔ اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
1تنزل فی سیکنڈ=1= 1Bqبیکیوریل(bacquerel)
ایک پرانی اکائی کیوری (Curie)ابھی بھی عام طور سے استعمال ہوتی ہے:
(تنزل فی سیکنڈ) 1 curie = 1 Ci = 3.7 × 1010 Bq
اس پیمائش کے کہ ایک دی ہوئی قسم کا ریڈیو نیوکلیائڈ کتنے عرصے تک باقی رہے گا،دوعام وقت ناپنے کے پیمانے ہیں۔ایک ناپ ہے ایک ریڈیو نیوکلیائڈ کی نصف زندگی(half life) 
2/T1 جو وہ عرصہ وقت ہے جس میںNاورRدونوں کی قدریں اپنی آغازی قدروں کا نصف ہوجاتی ہیں۔دوسراناپ ہے اوسط زندگی(mean life) t،جو وہ عرصہ وقت ہے جس میںNاورRدونوں کی قدریں اپنی آغازی قدروں کا 1-eہوجاتی ہیں۔
اورتکسیر مستقلہ(Disintegration constant) λt-میں رشتہ معلوم کرنے کے لیے،ہم اورT1/2=t مساوات(13.15)میں رکھ کرT1/2کے لیے حل کرتے ہیں:
 1n2/λt- = T1/2
(13.17)           λt-/0.693 =

میری سلکوڈ وسکا کیوری

(1867–1934)،پولینڈ میںپیداہوئیں۔آپ طبیعیات داں اور کیمیاداں دونوں کے بطور معروف ہیں۔ 1896 میں ہنری بیکوریل کے ذریعے کی گئی تابکاری کی دریافت نے میری اوران کے شوہر کیوری دونوں کو ان تحقیقات اورتجربات کی تحریک بخشی، جن سے ریڈیم اورپولو نیم عناصر علاحدہ کرنے کی راہیں ہموار ہوئیں۔وہ پہلی شخصیت تھیں جنھیں دونوبل انعام دیے گئے۔1903میںطبیعیات کے لیے اور 1911 میں کیمیا کے لیے۔



اوسط زندگی یا درمیانہ زندگیtبھی مساوات(13.14)سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ نیوکلیسوں کی وہ تعداد جوtسےt+∆t کے وقفہ وقت میں تنزل پذیرہوتی ہے:(γ N0e-γt∆t )=t∆(t)R ،ان میں سے ہر ایک نیوکلیس وقتtتک زندہ رہا ہے۔اس لیے ان تمام نیوکلیسوں کی کل زندگی
t - tγN0e∆ہے۔یہ واضح ہے کہ ان میں سے کچھ مرکزے کچھ کم وقت کے لیے زندہ رہے ہوں گے اورکچھ اس سے زیادہ۔ اس لیے اوسط زندگی معلوم کرنے کے لیے ہمیں اس عبارت کو0سے∞ تک جمع کرنا(یاتکملہ کرنا)ہوگا اورt=0پر نیوکلیسوں کی کل تعدادN0 سے تقسیم کرنا ہوگا۔ اس لیے
 γN0∫te-γt dt/N0=γ∫te-γtd=τ = 
اس تکملہ کو حل کرکے ہم دکھاسکتے ہیں کہ
γ/1=τ
ہم ان نتائج کا خلاصہ مندرجہ ذیل شکل میں لکھ سکتے ہیں:
13.18) τ =1n2/γ=T1/2 1n 2
یہ تابکار عناصر جن کی نصف زندگی،کائنات کی زندگی(کروڑ سال13.7)کے مقابلے میں کم ہے آج قدرت میں قابل مشاہدہ شکل نہیں میں پائے جاتے ۔لیکن پھر بھی انھیں تجربہ گاہ میں نیوکلیائی تعاملات میں دیکھاگیا ہے۔ ٹرائی ٹیم اور پلوٹونیم اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔

مثال13.4
a -تنزل سے گذرتے ہوئے( O92/238) کی نصف زندگی109×4.5 برس ہے۔(U 238/92) کے ایک گرام نمونے کی فعالیت کیا ہے؟ 
حل:
y 109 × 4.5 = T1/2
y×3.16 ×107 s/y    109 × 4.5=
 1017s ×14.2 =
کسی بھی آئسی ٹاپ کے ایکk molمیں ایووگیڈروعدد کے مساوی ایٹموں کی تعداد ہوتی ہے۔ اس لیے (U238/92) میں ایٹموں کی تعداد ہوگی:
   atoms/kmol          238 kmol ×6.025×1026/10-3
   1020×25.3=atmos
تنزل کی شرح R ہے:
λN=R
picture 3
 s-1 104×1.23=
Bq 104× 1.23=

مثال13.5
:b –تنزل سے گذرتے ہوئے ٹرائی ٹیم کی نصف زندگی12.5yہے۔25yسال بعد خالص ٹرائی ٹیم کی کتنی کسر بغیر تنزل ہوئے باقی بچے گی؟

حل: 

نصف زندگی کی تعریف کے مطابق آغازی نمونے کا نصف12.5yسال بعد بغیر تنزل پذیر ہوئے باقی بچے گا۔اگلے12.5yبرسوں میں ان میں سے نصف مرکزے تنزل پذیر ہوں گے۔ اس لیے آغازی خالص ٹرائی ٹیم کے نمونے کا ایک چوتھائی25سال بعد بغیر تنزل پذیر ہوئے باقی بچے گا۔

13.6.2الفا تنزل(Alpha Decay)

جب ایک نیوکلیس الفا تنزل سے گذرتا ہے تو وہ ایک الفاذرہ (ایک ہیلیم نیوکلیس،He4/2)خارج کرکے ایک مختلف نیوکلیس میںتبدیل ہوجاتا ہے۔مثلاًجب U(238/92)الفا–تنزل سے گذرتا ہے تووہ( Th234/90)میں تبدیل ہوجاتا ہے:

(13.19)  U →234/90Th+   238/92
اس عمل میں،یہ مشاہدہ کیاگیا ہے کہ کیونکہ4/2 Heمیں دوپروٹان اوردونیوٹران ہوتے ہیں،اس لیے دختر نیوکلیس(daughter nucleus)کے کمیت عدد اورایٹمی عدد میں،بالترتیب،4اور2کی کمی واقع ہوتی ہے۔اس لیے ایکA/ZXنیوکلیس کی109نیوکلیس میں تبدیلی کو ظاہرکیاجاسکتا ہے:
(13.20) A-4/Z-2 Y +4/2He→A/ZX
جہاںA/ZXمورث نیوکلیس(Parent nucleus)اورYA-4/ Z-2دختر نیوکلیس ہے۔
 U238/92کا الفا–تنزل ازخود(spontanceous)(بغیرکسی خارجی توانائی وسیلے کے)ہوسکتا ہے،کیونکہ تنزل ماحصلاتTh234/90اور4/2 Heکی کمیت سے کم ہے۔اس لیے تنزل ماحصلات(decay products)کی کل کمیت توانائی،آغازی نیوکلیائڈ کی کمیت توانائی سے کم ہے۔ آغازی کمیت توانائی اورتنزل ماحصلات کی اختتامی کمیت توانائی کے درمیان فرق کو عمل(process)کیQ –قدریا تکسیرتوانائی(disintegration energy)کہتے ہیں۔اس لیے ایک الفاتنزل کیQ –قدر کو ظاہر کیاجاسکتا ہے:

(13.21)   (mx-my - mHe)=Q
یہ توانائی دختر نیوکلیس YA-4/Z-2اورالفاذرہ He4/2کے درمیان حرکی توانائی کی شکل میں تقسیم ہوتی ہے۔الفا–تنزل،مساوات(13.14)اورمساوات(13.15)سے دیے جانے والے تاب کاری قانون کی پابندی کرتا ہے۔

مثال:13.6

ہمیں مندرجہ ذیل ایٹمی کمیتیں دی ہوئی ہیں:
238/92 U= 4.00260 u 4/2He= 238.05079 u
234/90 Th= 1.00783 u            1/1H= 234.04363 u
237/90 Pa= 237.05121 u
یہاں علامتPa،عنصرپروٹیکٹینیم (Protactinium) (Z=91) کے لیے ہے:
(a) 
238/92 Uکے الفا تنزل کے دوران باہر نکلنے والی توانائی کاحساب لگائیے۔
(b) دکھائیے کہ 23892 U ایک پروٹان ازخود نہیں خارج کرسکتا۔
حل:
(a)
238/92 Uکاالفا–تنزل مساوات(13.20)سے دیاجاتا ہے۔اس عمل میں باہر نکلنے والی توانائی ہوگی:
(mu - mTh - mHe) = Q 
دیے ہوئے آنکڑوں کے مطابق ایٹمی کمیتیں رکھنے پر،ہمیں حاصل ہوتا ہے:
u×c2 (4.00260 - 234.04363  - 238.05079) = Q
  c2(0.00456 u)=
(MeV/u  931.5) ( u0.004560) =
4.25 MeV =
(b) اگر(U 238/92) ایک پروٹان کو ازخود خارج کرتا ہے،توتنزل–عمل ہوگا:
 U→237/91Pa+1/1H       238/92
اس عمل کے ہونے کے لیےQقدر ہوگی:
c2(Mpa- MH  - Mu)=
u×c2 (1.00783 -237.05121 - 238.05079) =
c2(u 0.00825-) =
(931.5 MeV/u) (0.00825 u) - =
 MeV  7.68 - =
c2 (Mpa - MH - MU)=
 u×c2 (  1.00783 -237.05121 - 238.05079)=
c2 ( u 0.00825  -)=
(MeV / u 931.5) (u 0.00825) - =
Mev 768 - =
21
اس طرح اس عمل کیQقدر منفی ہے،اس لیے یہ ازخود نہیں ہوسکتا۔(238/92 U)کے ایک نیوکلیس سے ایک پروٹان خارج کرانے کے لیے ہمیں7.68 MeVتوانائی مہیاکرانی پڑے گی۔

13.6.3بیٖٹا تنزل:(Beta decay) 

ایک نیوکلیس جو ازخود طورپر ایک الیکٹران یا ایک پوزی ٹران خارج کرکے تنزل پذیر ہوتا ہے، اسے بیٹا تنزل کے عمل سے گذرنے والا کہاجاتا ہے۔ الفا–تنزل کی طرح، یہ بھی ایک ازخود عمل ہے۔الفا–تنزل کے طرح ہی،بیٹا تنزل بھی ایک شماریاتی عمل(statistical process)ہے،جومساوات(13.14)اورمساوات(13.15)کے تحت انجام پاتا ہے۔ بیٹا منفی (-β)تنزل میں، نیوکلیس سے ایک الیکٹران خارج ہوتا ہے۔جیسے P 32.15کے تنزل میں:
(13.22)  p → 32/16S+e- +v(T1/2 = 14.3d) 32/15
23
بیٹا مثبت (-β)تنزل میں،نیوکلیس سے ایک پوزی ٹران خارج ہوتا ہے، جیسے32/15 Pکے تنزل میں:
(13.23) 22/11  Ne + e++v    (T1/2 = 2.6y)22/10→Na

علامتیں29اور n ،بالترتیب،اینٹی نیوٹریٖنو(ضدنیوٹرینوanti neutrino)اورنیوٹرینو(neutrino)کوظاہر کرتی ہیں۔ دونوں تعدیلی ذرات ہیں،جن کی کمیت بہت ہی خفیف یانہیں کے مساوی ہوتی ہے۔تنزل کے عمل کے دوران یہ ذرات نیوکلیس سے الیکٹران یا پوزی ٹران کے ہمراہ خارج ہوتے ہیں۔نیوٹرینو مادہ کے ساتھ صرف بہت کمزور پر ہی باہم عمل کرتے ہیں۔وہ زمین سے بھی بغیر جذب ہوئے گذرسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انھیں شناخت کرنا بے حد مشکل ہے اور بہت عرصے تک ان کی موجودگی کا پتہ نہیں چل سکا۔
بیٹا–منفی تنزل میں، ایک ،نیوٹران، پروٹان میں تبدیل ہوتا ہے(نیوکلیس کے اندر)،اس طورپر۔
(13.24)  e‾ + v‾+   n→P

جب کہ بیٹا–مثبت تنزل میں،ایک پروٹان،نیوٹران میں تبدیل ہوتا ہے(نیوکلیس کے اندر)،اس طورپر۔
(13.25)   n+ e+ + v→P
31
ان عملوں سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ایک بیٹا–تنزل سے گذرنے والے نیوکلیائڈ کا کمیت عدد کیوں نہیں تبدیل ہوتا،اس کا ایک اجزائے ترکیبی نیوکلیونوں میں سے ایک صرف اپنی فطرت، مساوات (13.24) یا مساوات (13.25) کے مطابق،بدلتا ہے۔

شکل13.4:توانائی–منزل ڈائیگرام،جس میں�نیوکلیس کے ذریعے بیٹا تنزل کے بعد ہونے والاgکرنوں کا اخراج دکھایاگیا ہے۔

13.6.4گاماتنزل:(Gamma decay)

جس طرح ایٹم میں توانائی منازل ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح نیوکلیس میں بھی توانائی منازل ہوتی ہیں۔ جب ایک نیوکلیس ایک مشتعل حالت میں ہوتا ہے تو وہ برق–مقناطیسی اشعاع کا اخراج کرکے مقابلتاً کم توانائی حالت میں عبور کرسکتا ہے۔کیونکہ ایک نیوکلیس کی توانائی منازل میں توانائی کے فرقMeVکے درجہ کے ہوتے ہیں،نیوکلیسوں سے خارج ہوئے فوٹانوں کی توانائی MeV توانائیاں ہوتی ہیں اورانھیں شعاعیں کہتے ہیں۔
زیادہ ترتاب کارنیوکلیائڈ الفاتنزل یا بیٹا تنزل کے بعد دختر نیوکلیس کو ایک مشتعل حالت میں چھوڑتے ہیں۔ دختر نیوکلیس،تحتی حالت میں پہنچنے کے لیے کبھی ایک عبور اورکبھی لگاتار عبورکرتا ہے جس میں وہ ایک کرن یا کئی خارج کرتا ہے۔اس طرح کے عمل کی ایک معروف مثال 33کی ہے۔بیٹا–اخراج کے ذریعے 33نیوکلیس35نیوکلیس میں تبدیل ہوتا ہے جو مشتعل حالت میں ہوتا ہے۔اس طرح تشکیل ہوا مشتعل35نیوکیس پھر1.17MeV اور1.33MeVکی g –کرنوں کے ترتیب وار اخراج کے ذریعے اپنی تحتی حالت میں غیر مشتعل ہوتا ہے۔ یہ عمل شکل13.4میںایک توانائی منزل ڈائیگرام کے ذریعے دکھایا گیاہے۔
32

شکل13.4:توانائی–منزل ڈائیگرام،جس میں نیوکلیس کے ذریعے بیٹا تنزل کے بعد ہونے والاgکرنوں کا اخراج دکھایاگیا ہے۔

13.7نیوکلیائی توانائی(Nuclear Energy)

شکل 13.1میں دیے ہوئے بندش توانائی فی نیوکلیون36منحنی میں ایک لمبا ہموار درمیانی علاقہ A = 30اور   A =170کے درمیان پایاجاتا ہے۔ اس علاقے میں بندش توانائی فی نیوکلیون قریب قریب مستقلہ ہے، (8.0MeV)۔ مقابلتاً ہلکے نیوکلیائی علاقے 'A < 30'کے لیے اور مقابلتاً بھاری نیو کلیائی علاقے 'A >170'کے لیے بندش توانائی فی نیوکلیون 8.0 MeVسے کم ہے، جیسا کہ ہم پہلے بھی نوٹ کر چکے ہیں ۔ بندش توانائی منحنی کی اس خاصیت کا مطلب ہے کہ درمیانی علاقے37میں مرکز ے A < 30اور A > 170والے مرکزوں کے مقابلے میں زیادہ سختی سے بندھے ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر مقابلتاً کم مضبوطی سے بندھے ہوئے نیو کلیون کا مقابلتاًزیادہ مضبوطی سے بندھے ہوئے نیو کلیون میں تحول (Transmutation)کیا جا سکے تو توانائی باہر نکلے گی ۔ ایسے دو عمل ، جن کا ذکر ہم پہلے ہی کر چکے ہیں، انشقاق اور گداخت ہیں۔
توانائی کے عام ماخذوں جیسی کوئلہ یا پٹرولیم ، میں توانائی کیمیائی تعامل کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔ اس لیے شمول توانائیاں الیکٹران وولٹ فی ایٹم کے درجے کی ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ نیو کلیائی عملوں میں شامل توانائیاں اس سے دس لاکھ گنا (MeVفی نیوکلیون کی )زیادہ ہوتی ہیں ۔ اس کا مطلب ہوا کہ مادہ کی یکساں مقدار کے ساتھ ، نیوکلیائی ماخذ ، عام ماخذوں کے مقابلے میں دس لاکھ گنا زیادہ توانائی فراہم کریں گے۔ کوئلے کے ایک گرام کو جلانے پر توانائی حاصل ہوتی ہے، جبکہ یورینیم کے ایک کلو گرام سے ، جو انشقاق (Fission)کے عمل سے گذرتا ہے، اس کے انشقاق کے ذریعے توانائی کے  J1014 پیدا ہوں گے ۔

13.7.1انشقاق (Fission)

چیڈوک کے ذریعے نیوٹران دریافت کیے جانے کے بعد جلد ہی اینر کوفرمی (Enrico Fermi)نے یہ معلوم کیا کہ جب مختلف عناصر پرنیو ٹرانوں کی بمباری کی جاتی ہے تو نئے تابکار عناصر پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن جب ایک یورینیم ہدف پر ایک نیوٹران سے بمباری کی گئی تو یورینیم نیو کلیس دو تقریباً مساوی جزوں میں ٹوٹ گیا اور ساتھ ہی توانائی کی بڑی مقدار رہا ہوئی۔ ایسے تعامل کی ایک مثال ہے۔
(13.26)    n31/0 + Kr89/36 +Ba144/56→U236/92→U235/92+ 1/0n 
انشقاق میں ہمیشہ بیریم اور کرپٹون ہی نہیں بنتے ہیں ۔ ایک مختلف جوڑا بھی پیدا ہو سکتا ہے، مثلاً
(13.27)              n41/0 +Nb99/41 +Sb133/51→U236/92→U235/92 +n1/0
40
ایک اور مثال ہے۔
(13.28)        n 21/0 + Sr94/38 + Xe140/54 → U235/92 +n1/0
41
انشقاق میں پیدا ہوئے اجزا مرکز ے بہت نیوٹران ۔ افزودہ (Neutran rich)ہوتے ہیں اور بہت زیادہ مستحکم ہوتے ہیں ۔ یہ تابکار ہوتے ہیں اور لگاتار بیٹا ذرات خارج کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہر ایک جز ایک مستحکم اختتامی ماحصل (end product)تک پہونچ جاتا ہے۔
یورینیم جیسے نیو کلیسوں کے انشقاق تعامل میں رہا ہونے والی توانائی (Qقدر)، 200MeVفی انشقاق پذیر نیو کلیس کے درجہ کی ہوتی ہے۔ اس کا تخمینہ مندرجہ ذیل طریقے سے لگایا جاتا ہے۔
ہم ایک نیو کلیس لیتے ہیں جس کا کمیت عدد A = 240ہے جو دو اجزاء میں ٹوٹتا ہے، ہر جز کا کمیت عددA =120  ہے ۔ تب
A = 240 نیو کلیس کے لیے42تقریباً 7.6 MeVہے۔ 
A = 120کے دو نیو کلیسوں کے لیے42تقریباً 8.5 MeV ہے۔
نیو کلیون کے لیے بندش توانائی کا حصول تقریباً 0.9 MeVہے۔
اس لیے بندش توانائی کا کل حصول 240 x 0.9یا 216 MeVہے۔
انشقاق وقوعات میں تکسیر توانائی (Disintegration energy)پہلے اجزا ء اور نیوٹرانوں کی حرکی توانائی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ آخرکار یہ آس پاس کے مادہ کو منتقل ہو جاتی ہے اور حرارت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ نیو کلیائی ری ایکٹرجو بجلی پیدا کرتے ہیں ،میں توانائی کا ماخذ نیو کلیائی انشقاق ہے۔ ایک ایٹم بم میں رہا ہونے والی توانائی کی بے کراں مقدار غیر قابو شدہ نیو کلیائی انشقاق سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ ہم اگلے حصے میں ایک نیو کلیائی ری ایکٹر کیسے کام کرتاہے، اس بارے میں کچھ تفصیلات سے بحث کریں گے۔

13.7.2نیو کلیائی ری ایکٹر (Nuclear Reactor)

جب ایک نیوٹران کی بمباری کے ذریعے ایک ( U235/92)کا انشقاق ہوتا ہے تو ساتھ ہی ایک زائد الیکٹران بھی رہا ہوتا ہے۔ یہ زائد الیکٹران اب ایک دوسرے (235/92 U)نیو کلیس کا انشقاق کرنے کے لیے دستیاب ہو جاتا ہے۔ دراصل اوسطاً 2½ نیوٹران فی یورینیم نیوکلیس انشقاق رہا ہوتے ہیں ۔یہ حقیقت کہ جتنے نیوٹران استعمال ہوتے ہیں اس سے زیادہ انشقاق میں پیدا ہوتے ہیں، ایک زنجیر عمل (chain reactor) کے امکانات میں اضافہ کر دیتی ہے۔ جس میں ہر پیدا ہونے والا نیوٹران ایک دوسرے انشقاق کے عمل کو شروع کر دیتا ہے۔ اینر یکو فرمی نے سب سے پہلے 1933میں اس طرح کا امکان تجویز کیا۔ زنجیر عمل یا تو غیر قابو شدہ اور بہت تیز رفتار (جیسے نیو کلیائی بم میں ) ہو سکتا ہے یا کنٹرول شدہ اور قایم (steady)ہو سکتا ہے (جیسے ایک نیو کلیائی ری ایکٹر میں )۔پہلے سے تباہی پھیلتی ہے اور دوسرے کو مناسب روک لگا کر برقی پاور پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیکن جلد ہی یہ دریافت ہو گیا کہ ایک یورینیم نیو کلیس کے انشقاق میں آزاد ہوئے نیوٹران اتنے توانا (energatic) ہوتے ہیں کہ وہ دوسرے انشقاق تعامل کو شروع کرنے کے بجائے باہر نکل جاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آہستہ (کم رفتار) نیوٹرانوں میں تیز رفتار نیوٹرانوں کے مقابلے میں (235/92 U) میں انشقاق پیدا کرنے کا داخلی امکان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
(235/92 U) کے انشقاق میں پیدا ہوئے ایک نیوٹران کی اوسط توانائی 2MeV ہے۔ ان نیوٹرانوں کو جب تک آہستہ رو نہ کیا جائے یہ یورینیم کے نیو کلیسوں سے باہمی عمل کرنے کے بجائے ری ایکٹر سے باہر نکل جاتے ہیں یا پھر زنجیر عمل کو برقرار رکھنے کے لیے قابل انشقاق مادے کہ بہت زیادہ مقدار استعمال کرنی پڑتی ہے۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ ہلکے نیو کلیسوں سے لچک دار تصادم کراکے ان تیز رفتار نیوٹرانوں کو آہستہ رو بنائیں۔ دراصل چاڈوک کے تجربات سے یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ ہائیڈروجن سے لچک دار تصادم کرنے کے بعد نیوٹران تقریباًحالت سکون میں آجاتا ہے اور پروٹان کو ساری توانائی مل جاتی ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جو ایک ماربل کے دوسرے متماثل ماربل سے ، جو حالت سکون میں ہو، براہ راست (Head-on) ٹکرانے میں ہوتی ہے ۔ اس لیے ری ایکٹروں میں قابل انشقاق نیو کلیسوں کے ساتھ ساتھ ہلکے نیو کلیس بھی، جو اعتدال کار کہلاتے ہیں، تیز رفتار نیو ٹرانوں کی رفتار کم کرنے کے لیے مہیا کیے جاتے ہیں ۔ عام طور سے استعمال ہونے والے اعتدال کار پانی ، بھاری پانی (D2O)اور گریفائٹ ہیں ۔ بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (BARC) ممبئی کے اپسرا ری ایکٹر میں پانی بہ طور اعتدال کار استعمال ہوتا ہے۔ دوسرے ہندوستانی ری ایکٹروں میں جو پاور پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اعتدال کار کے بہ طور بھاری پانی استعمال کیا جاتا ہے۔
اعتدال کار کے استعمال کرنے سے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ نیو ٹران کی دی ہوئی نسل کے ذریعے پیدا ہوئے انشقاق کی تعداد کی نیوٹرانوں کی اس سے پچھلی نسل کے ذریعے پیدا ہوئے انشقاق کی تعداد سے نسبت K  1,سے زیادہ ہوجائے۔ یہ نسبت ضر ب جز ضربیہ (Multipulication factor)کہلاتا ہے۔ یہ ری ایکٹر میں نیو ٹرانوں کی شرح نمود کی پیمائش ہے۔ K =1 کے لیے ری ایکٹر کی عمل کاری (Operation)فاصل (Critical)کہلاتی ہے۔ اور ہم قایم پاور عمل کاری کے لیے یہی چاہتے ہیں ۔ اگر K ایک سے زیادہ ہو جائے تو تعامل کی شرح اور ری ایکٹر پاور میں قوت نمائی طورپر اضافہ ہوتا ہے۔ جب تک کہ جز ضربی K کو 1 کے بے حد نزدیک نہ لایا جائے، ری ایکٹر اعلیٰ فاضل (Supercritical) ہو جائے گا اور وہ پھٹ بھی سکتا ہے۔ 1986میں ارکین (UKrain)میں چیرنوبائل (Chernobyl)ری ایکٹر کا دھماکہ اسی صدمے کی یاد دلاتا ہے کہ ایک نیو کلیائی ری ایکٹر بلائے ناگہانی بھی ہو سکتا ہے۔
تعامل کی شرح کو کنٹرول چھڑوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جو نیوٹران جاذب مادے ، جیسے کیڈمیم، کی بنی ہوتی ہیں ۔ کنٹرول چھڑوں کے علاوہ ری ایکٹروں میں حفاظتی چھڑیں بھی مہیا کی جاتی ہیں جو ضرورت پڑنے پر ری ایکٹر میں داخل کی جا سکتی ہیں اور K کو تیزی سے ایک سے کم کیا جا سکتا ہے۔
بہ کثر پایا جانے والا (235/92 U)ہم جا جس کا انشقاق نہیں ہوتا،ایک نیوٹران مقید کرکے پلوٹونیم بناتا ہے۔ اس میں شامل تعاملات کا سلسلہ ہے۔
                                                           
                                                                                   e‾+v‾  + Np239/92 → U239/92→ n+ U238/92

46 

(13.29)
پلو ٹونیم بہت زیادہ تابکار ہے اور آہستہ رو نیوٹرانوں کی بمباری کے ذریعے اس کا انشقاق کرایا جا سکتا ہے۔ 
کولینٹ
بھاپ ٹربائن کی جانب
حرارت کی تبدیل کرنے والا (بھاپ جنریٹر)
پانی تکثیف کار سے
ری ایکٹر
کور
کنٹرول جھڑیں
47
شکل 13.5:تھرمل نیوٹران انشقاق پر مبنی نیوکلیائی ری ایکٹر کے باہر ی خطوط


ہندوستان کا ایٹمی توانائی پروگرام

ہندوستان میں ایٹمی توانائی پروگرام کا آغاز آزادی حاصل ہونے کے بعدہی ہومی جے۔ بھابھا (1909-1966)کی سرکردگی میں ہو گیا تھا۔ ایک ابتدائی تاریخی کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب ہندوستان نے اپنا پہلا نیو کلیا ئی ری ایکٹر   ( جس کا نام اپسرا رکھاگیا) ڈیزائن کیا اور بنایا جس نے 4؍ اگست 1956سے کام کرنا شروع کردیا ۔ اس ری ایکٹر میں افزودہ یورینیم (enriched Uranium) کوبہ طور ایندھن اور پانی کو بہ طور اعتدال کار (ماڈر یٹر Moderator) استعمال کیا گیا ۔ اس کے بعد دوسرا قابل ذکر اہم امتیازی نشان تھا: 1960میں  CIRUS(کینڈا انڈیا ریسرچ یو ۔ ایس)  ری ایکٹر کی تعمیر ۔ 40 MW کے اس ری ایکٹر میں قدرتی یورینیم کو بہ طور ایندھن اور بھاری پانی (Heavy Water) کو بہ طور اعتدال کار استعمال کیا گیا۔ اپسرا اور CIRUSنے نیو کلیائی سائنس کے بہت سے مختلف النوع بنیادی اور اطلاقی علاقوں میں ریسرچ کی حوصلہ افزائی کی۔ اس پر وگرام کی پہلی دو دہائیوں میں حاصل ہونے والا ایک اہم امتیاز ٹرامبے میں پہلے پلوٹونیم پلانٹ کا دیسی ڈیزائن تیار کرنا اور اس کی تعمیر تھا۔جس نے ہندوستان میں ایندھن کی باز عمل کاری (Reprocessing)کی ٹکنولوجی ]ایک ری ایکٹر کے استعمال شدہ ایندھن سے کار آمدقابل انشقاق (Fission) اور ذرخیز (Fertile) نیو کلیائی مادوں کو علیحدہ کرنا[ کا آغاز کیا۔اس کے بعدجو ریسرچ ری ایکٹر کمیشن کیے گئے ان میں ZERLINA DHRUVA, PURNIMA (1,2,3,), اور KAMINI شامل ہیں۔KAMINI ملک کا پہلا  بڑا ریسرچ ری ایکٹر ہے جس میں U23بہ طور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ایک ریسرچ ری سیکٹر کا بنیادی مقصد پاور پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ نیو کلیائی سائنس اور ٹکنولوجی کے مختلف پہلوؤں پر ریسرچ کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ریسرچ ری ایکٹر ، مختلف قسم کے تابکار ہم جا تیار کرنے کے بھی بہترین وسیلے ہیں جن کا استعمال مختلف النوع میدانوں:  صنعت ، ادویات ، ذراعت ، میں کیا جاتا ہے۔
ہندوستانی ایٹمی توانائی پروگرام کے خاص مقاصد ہیں : ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے محفوظ اور قابل بھروسہ برقی پاور مہیا کرنا اور نیو کلیائی ٹکنولوجی کے تمام پہلوؤں میں خود کفیل ہو سکنا۔ ہندوستان میں ایٹمی معدنیات کی تلاش کاری کے کام نے، جس کا آغاز بیسویں صدی کی پانچویں دہائی کے شروعاتی برسوں میں ہو گیا تھا، یہ نشاندہی کر دی ہے کہ ہندوستان میں یورینیم کے محدود ذخیرے ہیں۔ لیکن تھوریم کے ذخیرے اچھے خاصے ہیں۔ اس کے مطابق ہمارے ملک میں نیو کلیائی پاور پیدا کرنے کی تین مرحلوں پر مبنی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں یورینیم کو بہ طور ایندھن اور اس کے ساتھ بھاری پانی کو بہ طور اعتدال کار استعمال کرنا شامل ہے۔ پھر ری ایکٹروں کے خارج شدہ ایندھن کی باز عمل کاری سے حاصل ہوا پلوٹونیم 239–پھر دوسرے مرحلے میں تیز رفتار تخیلی ری ایکٹر (Breeder reactor) کے لیے بہ طور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ نام اس لیے ہے کہ کیونکہ ان میں زنجیر عمل کو قائم رکھنے کے لیے تیز رفتار نیوٹران استعمال کیے جاتے ہیں (اور اس لیے کسی اعتدال کار کی ضرورت نہیں پیش آتی) اور پاور پید اکرنے کے علاوہ یہ اس سے زیادہ قابل انشقاق انواع (پلوٹونیم) پیدا کرتے ہیں جتنی وہ استعمال کرتے ہیں۔ تیسرے مرحلے میں جو وسیع مدت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے تیز رفتار تخیلی ری ایکٹروں کو استعمال کر کے تھوریم 232- سے قابل انشقاق یورینیم 223-پیدا کرنا اور اس پر مبنی پاور ری ایکٹر تیار کرنا شامل ہیں۔ 
ہندوستان اس وقت پروگرام کے دوسرے مرحلے میں کافی حد تک داخل ہو چکا ہے اور تیسرے مرحلے کے لیے بھی قابل لحاظ کام کیا جا چکا ہے۔ یعنی کہ تھوریم کے استعمال کرنے کے مرحلے کے لیے ملک نے معدنیات کی تلاش کاری اور کان کنی (Mining) ایندھن سازی (Fuel Fabrication) بھاری پانی پیدا کرنا ، ری ایکٹر ڈیزائن ، اس کی تعمیر اور اسے استعمال کرنے، ایندھن کی باز عمل کاری وغیرہ کی پیچیدہ ٹکنولوجی پر عبور حاصل کرلیاہے۔ داب شدہ بھاری پانی ری ایکٹر [Pressurised Heavy Water Reactors (PHWRs)]ملک کے مختلف مقامات پر تعمیر کے جا چکے ہیں جو پہلے مرحلے کے بہ خوبی مکمل ہو نے کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ اب ہندوستان بھاری پانی میں پیداکرنے میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ ری ایکٹروں کے ڈیزائن اور ان کی عمل کاری کے لیے کیے گئے بہترین حفاظتی انتظامات اور شعایاتی تحفظ کے سخت معیاروں کی پابندی ہندوستانی ایٹمی توانائی پروگرام کے امتیاز ہیں ۔




داب شدہ ۔ پانی ری ایکٹر پر مبنی ایک مخصوص نیو کلیائی پاور پلانٹ کے موٹے موٹے بیرونی خطوط شکل 13.5میں دکھائے گئے ہیں ۔اس قسم کے ری ایکٹر میں پانی کو اعتدال کار اور حرارت منقلی واسطے ، دونوں کے بہ طور ، استعمال کیا جاتا ہے۔ ابتدائی حلقے میں پانی کو ری ایکٹر برتن میں گھمایا جاتاہے اور یہ اعلیٰ درجہ حرارت اور دباؤ پر بھاپ جنریٹر کو توانائی منتقل کر تا ہے۔(تقریباً 600kاور 150 atmپر )جو کہ ثانوی حلقے کا حصہ ہے۔ بھاپ جنریٹر میں تبنحیٖر (evaporation)کے ذریعے برقی جنریٹر کو چلانے والی ٹربائن کی عمل کاری کے لیے اعلیٰ داب بھاپ مہیا کی جاتی ہے۔ٹربائن سے نکلنے والی کم داب والی بھاپ کو ٹھنڈا کر کے اس کی پانی میں تکثیف (Condensed)کر لی جاتی ہے اور اسے بھاپ جنریٹر میں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
نیو کلیائی تعاملات میں رہا ہونے والی توانائی ، کیمیائی تعاملات میں رہا ہونے والی توانائی سے دس لاکھ گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے نیو کلیائی ری ایکٹروں کو درکار ایندھن کی مقدار ، اسی پاور گنجائش کے کیمیائی ری ایکٹروں کو درکار ایندھن کی مقدار کے مقابلے میں دس لاکھ گنا کم ہوتی ہے۔( U235/92)کا ایک کلو گرام مکمل انشقاق کے ذریعے تقریباً 3 × 104 MW  پیدا کرتا ہے۔ لیکن نیو کلیائی تعاملات میں بہت زیادہ تاب کار عناصر لگاتا ر پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اس لیے ری ایکٹروں کی عمل کاری کی ایک ایسی خاصیت، جس سے بچنا ممکن نہیں ہے، تاب کار فضلے کا اکٹھا ہونا ہے، جس میں انشقاق ماحصل اور ورائے یورینیم، عناصر جیسے پلوٹونیم اور ایمر یکیم، دونوں شامل ہیں ۔ 
تاریخی اعتبار سے توانائی کیمیائی تعاملات استعمال کر کے پیدا کی جاتی رہی ہے جیسے کوئلے ،لکڑی، گیس اور پٹرولیم ماحصلات کو جلا کر ۔ ان سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی سنجیدہ مسائل پیدا کر رہی ہے۔ جیسے سبز گھر اثر جو عالمی گرماؤ (Golobal warming)کی جانب لے جارہا ہے۔ نیو کلیائی پاور اسٹیشن میں درپیش مسئلہ یہ ہے کہ استعمال شدہ ایندھن بہت زیادہ تابکار ہوتا ہے اور کرہ ارض پر پائے جانے والے تمام جانداروں کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ اس لیے ری ایکٹر کی عمل کاری اور استعمال شدہ ایندھن کو برتنے اور باز عمل کاری دونوں کے لیے تفصیلی حفاظتی انتظامات درکار ہیں ۔ یہ حفاظتی انتظامات ہندوستانی ایٹمی توانائی پروگرام کی امتیازی خاصیتیں ہیں ۔ تابکار فضلے (radioactive waste)کو مقابلتاً کم تابکاراور کم مدت تک باقی رہنے والے مادے میں تبدیل کرنے کے امکانات کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک مناسب منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔

13.7.3نیو کلیائی گداخت -تاروں میں توانائی کا پیدا ہونا

(Nuclear fusion -energy generator in stars)

شکل 13.1میں دکھائے گئے بندش توانائی منحنی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر دو ہلکے نیو کلیانوں کے اجتماع کے ذریعے ایک واحد مقابلتاً بڑا نیو کلیس تشکیل کیا جائے تو توانائی رہا ہو سکتی ہے، ایک عمل جو نیو کلیائی گداخت (Nuclear Fusion) کہلاتا ہے۔ ایسے توانائی آزاد کرنے والے تعاملات کی کچھ مثالیں ہیں۔
                 
  49                                                             1/1H+1/1H→2/1H +e + + v +0.42 Mev [13.29(a)]
50                                                    2/1H+2/1H→3/2He + n + 3.27 MeV        [13.29(b)]
51                                                       2/1H +  2/1H → 3/1H + 1/1H + 4.03 MeV                                     [13.29(c)]


تعامل [13.29(a)]میں دو پروٹان مل کر ایک ڈیوٹران اورایک پوزی ٹران تشکیل دیتے ہیں اور ساتھ ہی 0.42MeV توانائی رہاہوتی ہے۔ تعامل [13.29(b)]میں دو ڈیو ٹرانوں کے اتحاد کے ذریعے ہیلیم کا ہلکا ہم جا تشکیل پاتا ہے۔ تعامل [13.29(c)]میں دو ڈیوٹران متحد ہو کر ایک ٹرائی ٹان اور ایک پروٹان تشکیل پاتے ہیں۔ ان تمام تعاملات میں ہم پاتے ہیں کہ دو مثبت چارج شدہ ذرات متحد ہو کر ایک مقابلتاً بڑا نیو کلیس تشکیل دیتے ہیں ۔ یہ ضرور دھیان رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے عمل میں کولمب دفاع ضرور رکاوٹ پید ا کر ے گا۔ کیونکہ کولمب دفاع دو مثبت چارج شدہ ذرات کو ایک دوسرے کے اتنے نزدیک آنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کششی نیو کلیائی قوتوں کی سعت کے اندر آجائیں اور ان کا گداخت ہو سکے ۔اس کو لمب بیریر (کولمب روک Coulomb barrier)کی اونچائی باہم عمل کرنے والے دونوں نیو کلیسوں کے چارج اور ان کے نصف قطرکے تابع ہے۔ یہ بہ آسانی دکھایا جا سکتا ہے کہ دو پروٹانوں کے لیے روک اونچائی ہے:       ~400 keVزیادہ چارج شدہ نیو کلیسوں کے لیے روک اونچائی اور زیادہ ہوگی ۔ وہ درجہ حرارت جس پر ایک پروٹان گیس کے پروٹانوں میں اتنی توانائی ہوگی جو کولمب کی روک کو عبور کرنے کے لیے کافی ہو ، دیا جاتا ہے۔اور یہ تقریباً 3 × 109 Kہے۔
توانائی کی کارآمد مقدار پیداکرنے کیلیے،نیوکلیائی گداخت لازمی طورپر حجمی مادے میں ہونا چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مادہ کا درجہ حرارت اس حد تک بڑھایاجائے کہ ذرات میں اتنی توانائی ہو–صرف اپنی حرارتی حرکت کی وجہ سے ہی–کہ وہ کولمب روک کے اندر داخل ہوسکیں۔یہ عمل حرارتی نیوکلیائی گداخت کہلاتا ہے۔
سورج کے قالب کادرجہ حرارت بھی صرف تقریباً( K107×1.5)ہے۔ اس لیے سورج میں بھی گداخت کاعمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں وہ پروٹان شامل ہوں جن کی توانائی اوسط توانائی سے کہیں زیادہ ہو۔
اس لیے حرارتی نیوکلیائی گداخت کے ہوسکنے کے لیے درجہ حرارت اوردباؤ کی سخت شرائط کو پوراکیاجاناضروری ہے،جو درجہ حرارت اور دباؤ کی قدریں ستاروں(جس میں سورج بھی شامل ہے) کے اندرونی حصوں میں ہی دستیاب ہیں۔ ستاروں میں توانائی حرارتی نیوکلیائی گداخت کے ذریعے ہی پیداہوتی ہے۔
سورج میں ہونے والاگداخت تعامل ایک کثیر–قدم عمل ہے،جس میں ہائیڈروجن کے احتراق کے ذریعے ہیلیم بنتا ہے،ہائیڈروجن ایندھین ہوتا ہے اورہیلیم ’راکھ‘(ashes)۔پروٹان–پروٹان(P,P)دور جس کے ذریعے یہ عمل ہوتا ہے، مندرجہ ذیل مساواتوں کے سیٹ سے ظاہر کیاجاتا ہے:

53
(13.30)
چوتھے تعامل کے ہوسکنے کے لیے، پہلے تینوں تعاملات کا دودومرتبہ ہونا ضروری ہے،اس صورت میں دوہلکے ہیلیم مرکز ے متحد ہوکر عام ہیلیم یا ہیلیم نیوکلیس تشکیل دیتے ہیں۔ اگر ہم اجتماع:2(i) + 2(ii) + 2(iii) +(iv)لیں، تومجموعی اثر ہے:
         MeV  26.7 +y 6 +v 2 +He4/2→ e2 +H41/1
                                         یا
MeV 26.7 +y 6 + v2 + (2 + He4/2e‾)→(e‾4 + H4/11)
54
یا
55
(13.31)
اس طرح،چارج ہائیڈروجن ایٹم متحد ہو کر ایک56ایٹم تشکیل دیتے ہیں اور26.7MeVکی توانائی رہا ہوتی ہے۔
سورج کے قالب میں ہائیڈروجن کا احتراق ایک بڑے پیمانے پر اس لحاظ سے کیمیا(alchemy)ہے کہ ایک عنصر دوسرے عنصر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔یہ عمل تقریباً57سے جاری ہے اور تحسیبات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورج میں اب بھی اتنی ہائیڈروجن باقی ہے جو اس عمل کو تقریباً اتنی ہی مدت تک مستقبل میں جاری رکھنے کے لیے کافی ہوگی۔ لیکن تقریباً 50کھرب(5 billion)برسوں میں سورج کا قالب، جو اس وقت تک زیادہ تر ہیلیم ہوگا، ٹھنڈا ہونا شروع کردے گا اور سورج اپنی ہی مادی کشش کے زیر اثر ڈھیر ہوجائے گا۔ اس سے قالب کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا اور اس کی وجہ سے باہری لفافہ پھیلنا شروع کردے گا، اورآخر کار سورج ایک ’’سرخ دیو‘‘(red giant)کہی جانے والی شکل میں تبدیل ہوجائے گا۔
اگر قالب کا درجہ حرارت بڑھ کر دوبارہ (K 108)تک پہنچ جاتا ہے تو ایک بار پھر گداخت کے ذریعے توانائی پیدا کی جاسکتی ہے—اب ہیلیم کا کاربن میں احتراق کرکے۔ جیسے جیسے ایک ستارہ کا مزید ارتقاہوتا ہے اوروہ مزید گرم ہوتا جاتا ہے، دیگر گداخت تعاملوں کے ذریعے دوسرے عناصر تشکیل پاسکتے ہیں۔ لیکن شکل13.1میں دکھائے گئے بندش توانائی کے فراز کے نزدیک والے عناصر کی کمیت سے زیادہ کمیت والے عناصر مزید گداخت کے ذریعے نہیں پیداکیے جاسکتے۔
ستاروں میں توانائی،حرارتی–نیوکلیائی گداخت کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔

نیوکلیائی غارت گری

(Nuclear Holocaust)

ایک واحد یورنیم انشقاق میں تقریباً0.9×235 MeV (»200 MeV)توانائی آزادہوتی ہے۔ اگر تقریباً235 U 50کے ہر نیوکلیس کا انشقاق ہوتو اس عمل میں تقریباً(1015 × 4)توانائی کی مقدار شامل ہوگی۔ یہ توانائیTNTکے تقریباً20,000ٹن کے معادل ہے،جو کہ ایک اعلا دھماکے(super exposion)کے لیے کافی ہے۔نیوکلیائی توانائی کی بڑی مقدار کے بے قابو طورپر رہاہونے کو ایکایٹمی دھماکہ کہتے ہیں۔ 6اگست1945کو پہلی بار جنگ میںایٹمی آلہ استعمال کیاگیا۔ امریکا نے ہروشیما،جاپان پر ایک ایٹم بم گرایا۔یہ دھماکہ TNTکے 20,000ٹن کے معادل تھا۔ اس کے گرتے ہی تاب کار ماحصلات نے شہر کے10 Sq. Km.کو تباہ کردیا، جس میں3,43,000افراد کی آبادی تھی۔اس میں 66,000افراد مارے گئے اور69,000زخمی ہوئے،شہر کی تعمیرات میں سے67%سے زیادہ تباہ ہوگئیں۔
گداخت تعاملات کے لیے اعلیٰ درجہ حرارت کی صورتیں ایک انشقاق بم کے دھماکے کے ذریعے پیدا کی جا سکتی ہیں ۔ اعلیٰ دھماکوں کی جانچ جو TNTکے 10میگاٹنوں کی دھماکہ خیز پاور کے معادل تھے، 1954میں کی گئی ۔ ایسے بم جن میں ہائیڈروجن ، ڈیوٹیریم اور ٹراٹی یٹم کا گداخت شامل ہوتا ہے، ہائیڈروجن بم کہلاتے ہیں۔ یہ تخمینہ لگایاگیا ہے کہ اس وقت اتنا نیو کلیائی اسلحہ موجود ہے جو اس سیارے پر پائی جانے والی زندگی کی ہر قسم کو ختم کرنے کے لیے درکار اسلحہ سے کئی گنا زیادہ ہے اور جسے ایک بٹن کو دبا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی نیوکلیائی غارت گری نہ صرف یہ کہ اس زندگی کو ختم کردے گی جو اس وقت موجود ہے بلکہ ہمیشہ کے لیے اس زمین کو اس قا بل نہیں رہنے دے گی کہ اس پر کسی قسم کی زندگی پنپ سکے ۔ نظری تحسیبات پر مبنی منظرنامے ایک طویل نیو کلیائی سرما(Long Nuclear winter)کی پیشن گوئی کرتے ہیں،جب تاب کار فضلہ زمین کے کرہ باد میں بادل کی طرح چھا جائے گا اور سورج کی شعاعوں کو جذب کر لے گا۔

13.7.4کنٹرول حرارتی ۔ نیو کلیائی گداخت (Controlled thermonuclear fusion)

زمین پر پہلا حرارتی نیو کلیائی تعامل اپنی ویٹو اٹول (Eniwetok Atoll) میں 1؍ نومبر 1952میں ہوا جب امریکہ نے ایک گداخت آلے کا دھماکہ کیا، جس سے TNTکے 10ملین ٹن کے معادل توانائی پیدا ہوئی (TNTکے ایک ٹن کے پھٹنے سے 2.6 × 1022 MeV کی توانائی رہاہوتی ہے)۔
گداخت پاور حاصل کرنے کے ایک برقرار رکھا جاسکنے والا اور قابل کنٹرول وسیلے کا حصول کافی مشکل ہے ۔ دنیا بھر میں کئی ممالک میں (جن میں ہندوستان بھی شامل ہے) اس کی کوششیں ہورہی ہیں کیونکہ گداخت ری ایکٹر کو مستقبل کا پاور وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔

مثال 13.7: مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے:

(a)   کیا نیوکلیائی تعاملات کی مساواتیں (جیسے حصہ 13.7میں دی گئی مساواتیں ) اسی طور پر متوازن ہیں جس طورپر ایک کیمیائی مسات (مثلاً  H2O 2 →  O2 + H22)متوازن ہوتی ہے ؟ اگر نہیں تو وہ دونوں جانب کسی طورپر متوازن ہیں؟
(b)  اگر ہر نیوکلیائی تعامل میں پراٹانوں کی تعداد اور نیوٹرانوں کی تعداد ،دونوں کی بقا ہو توایک نیوکلیائی تعامل میں کمیت توانائی میں (اور اس کے برعکس بھی) کیسے تبدیل ہوگی؟
(c)   ایک عام خیا ل یہ پایا جاتا ہے کہ کمیت توانائی کی باہمی منتقلی صرف نیو کلیائی تعامل میں ہوتی ہے اور کیمیائی تعامل میں کبھی نہیں ہوتی۔ بالکل درست طورپر کہیں تو یہ درست نہیں ہے۔ وضاحت کیجیے۔ 

حل

(a)
ایک کیمیائی تعامل اس لحاظ سے متوازن ہوتا ہے کہ مساوات کی دونوں جانب ہر عنصر کے ایٹموں کی تعداد یکساں ہوتی ہے۔ ایک کیمیائی تعامل صرف ایٹموں کے آغازی اتحاد کو تبدیل کرتا ہے ۔ ایک نیو کلیائی تعامل میں عناصر کا تحول (Transmutation)بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے ایک نیو کلیائی تعامل میں ضروری نہیں ہے کہ ہر عنصر کے ایٹموں کی تعداد کی بقاہو ۔ لیکن ایک نیو کلیائی تعامل میں پروٹانوں کی تعداد اور نیوٹرانوں کی تعداد دونوں کی الگ الگ تعداد کی بقا ہوتی ہے۔ ]دراصل یہ بھی بالکل درست طور پر بہت اعلیٰ توانائیوں کے لیے صادق نہیں آتا جس کی بالکل درست طور پر بقاہوتی ہے وہ ہے کل چارج اور کل بیریان عدد (Baryon Number)۔یہاں ہم اس معاملے سے مزید بحث نہیں کریں گے[نیوکلیائی تعاملات میں (مثلاً مساوات 13.26) مساوات کے دونوں جانب پروٹانوں کی تعداد اور نیوٹرانوں کی تعداد یکساں ہے۔

(b)

ہم جانتے ہیں کہ ایک نیو کلیس کی بندش توانائی نیوکلیس کی کمیت میں ایک منفی حصہ لیتی ہے۔ (کمیت کمی) اب کیونکہ ایک نیو کلیائی تعامل میں پروٹان عدد اور نیوٹران عدد کی بقا ہوتی ہے، نیوٹرانوں اور پروٹانوں کی کل سکونی کمیت ایک تعامل کی دونوں جانب یکساں ہوتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ بائیں جانب کے نیوکلیسوں کی کل بندش توانائی دائیں جانب کے نیو کلیسوں کی بندش توانائی کے مساوی ہو۔ ان بندش توانائیوں کے درمیان فرق ایک نیو کلیائی تعامل میں رہا ہوئی یا جذب ہوئی توانائی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ بندش توانائی کمیت میں حصہ لیتی ہے ہم کہتے ہیں کہ دونوں طرف نیو کلیسوں کی کل کمیت کا فرق توانائی میں تبدیل ہوتا ہے، یا اس کے برخلاف بھی۔ ان معنوں میں ایک نیو کلیائی تعامل کمیت – توانائی باہمی تبدیلی کی مثال ہے۔ 

(c)
کمیت– توانائی باہمی تبدیلی کے نظریہ سے ایک کیمیائی تعامل اصولی طور پر اور ایک نیو کلیائی تعامل یکساں ہیں ۔ ایک کیمیائی تعامل میں رہائی یا جذب ہوئی توانائی تعامل کے دونوں جانب ایٹموں اور مالیکیوں کی کیمیائی (نیو کلیائی ہیں) بندش توانائیوں کے فرق سے جوڑی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اگر بالکل درست طور پر کہا جائے توکیمیائی بندش توانائی کا بھی ایک ایٹم یا ایک مالیکیول کی کمیت میں منفی حصہ ہوتا ہے۔ ہم مساوی طور پر یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ ایک کیمیائی تعامل کے دونوں جانب ایٹموں یا مالیکیولوں کی کل کمیت کا فرق توانائی میں تبدیل ہوتا ہے یا اس کے بر خلاف بھی۔ لیکن ایک کیمیائی تعامل میں شامل کمیت کمی ایک نیو کلیائی تعامل میں شامل کمیت کمی سے تقریباً دس لاکھ گنا کم ہوتی ہے۔ یہی اس عام خیال کی وجہ ہے(جو درست نہیں ہے) کہ کمیت –توانائی باہمی تبدیلی ایک کیمیائی تعامل میں نہیں ہوتی۔

خلاصہ

ایک ایٹم میں ایک نیو کلیس ہوتا ہے۔ نیو کلیس مثبت چارج شدہ ہوتا ہے۔ نیو کلیس کا نصف قطر ، ایٹم کے نصف قطر سے 104کے جز ء ضربی سے کم ہوتا ہے۔ ایٹم کی تقریباً 99.9%کمیت نیو کلیس میں مرتکز ہوتی ہے۔
2۔  ایٹمی پیمانے پر کمیت کی پیمائش ایٹمی کمیت اکائیوں (u)میں کی جاتی ہے۔ تعریف کے مطابق 1ایٹمی کمیت12 C اکائی کے ایک ایٹم کی کمیت کا1/12ہوتی ہے:Iu = 1.660563 x 10–27 kg
 3۔  ایک نیو کلیس میں ایک تعدیلی ذرہ ہوتا ہے جو نیوٹران کہلاتا ہے۔ اس کی کمیت پروٹان کی کمیت کے تقریباً مساوی ہوتی ہے۔
4۔  ایٹمی عدد Z ایک عنصر کے ایٹمی نیو کلیس میں پروٹانوں کی تعدا د ہے۔ کمیت عدد Aایک ایٹمی نیو کلیس میں پروٹانوں اور نیوٹرانوں کی کل تعداد ہے: A = Z + N،یہاں Nنیو کلیس میں نیو ٹرانوں کی تعداد ظاہر کرتا ہے۔ ایک نیو کلیائی نوع یا نیو کلیائڈ کو(A/ZX)سے ظاہر کیا جاتاہے۔ جہاں x نو ع کی کیمیائی علامت ہے۔
وہ نیو کلیائڈ جن کے ایٹمی عدد Z یکساں ہوتے ہیں لیکن نیوٹران عدد Nمختلف ہوتے ہیں ہم جا کہلاتے ہیں ۔ وہ   نیو کلیائڈ جن کے Aیکساں ہوتے ہیں ہم بار ہیں اور وہ جن کے Nیکساں ہیں ہم صوت ہیں ۔
زیادہ تر عناصر دو یا دو سے زیادہ ہم جاؤں کے آمیزے ہوتے ہیں۔ ایک عنصر کی ایٹمی کمیت اس کے ہم جاؤں کی کمیتوں کا وزناتی اوسط ہوتی ہے۔ کمیتیں ہم جاؤں کی نسبتی کثرت ہیں۔
5۔   ایک نیو کلیس کو کروی مانا جاسکتا ہے اور اسے ایک نصف قطر دیا جا سکتا ہے۔ الیکٹران انشار تجربات کے ذریعے یہ نصف قطر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یہ معلوم ہے کہ نیو کلیسوں کے نصف قطر مندرجہ ذیل فارمولے کو مطمئن کرتے ہیں: R = R0 A 1/3 جہاں، = 1.2 fmایک مستقلہ R0 =،اس کا مطلب ہے کہ نیو کلیائی کثافت Aکے غیر تابع ہے۔ نیو کلیائی کثافت 1017 kg / m3کے درجے کی ہے۔
نیو ٹران اور پروٹان ایک نیو کلیس میں مختصر سعت طاقت ور نیو کلیائی قوت کے ذریعے بندھے ہوتے ہیں ۔ نیو کلیائی قوت ایک نیوٹران اور ایک پروٹان کے مابین فرق نہیں کرتی۔ 
7۔   نیو کلیائی کمیت Mاس کے اجزا ئے ترکیبی کی کل کمیت، Sm،سے ہمیشہ کم ہوتی ہے۔ ایک نیو کلیس کی کمیت اور اس کے اجزائے ترکیبی کی کل کمیت میں فرق کمیت کمی کہلاتی ہے۔
DM = (Z mp + (A – Z)mn) – M 
آئن اسٹائن کا کمیت توانائی رشتہ استعمال کرتے ہوئے ہم اس کمیت فرق کو توانائی کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں
  DEb = DM c2
توانائی DEbنیوکلیس کی بندش توانائی کو ظاہر کرتی ہے۔کمیت عدد سعت : A = 30 - 170میں بند ش توانائی فی نیوکلیون تقریباً مستقلہ ہے۔ تقریباً : 8MeVفی نیو کلیون
نیو کلیائی عملوں سے منسلک توانائی کیمیائی عملوں سے منسلک توانائی سے تقریباً 10لاکھ گنا زیادہ ہوتی ہے ۔
 
ایک نیو کلیائی عمل کی Qقدر ہے:
 
(ابتدائی حرکی توانائی -اختتامی حرکی توانائی ) = Q  
کمیت ۔ توانائی کی بقا کی وجہ سے
c2(اختتامی کمیتوں کا حاصل جمع -ابتدائی کمیتوں کا حاصل جمع) Q = 
10۔ تاب کاری وہ مظہر ہے جس میں ایک دی ہوئی نوع کے مرکزےaیا bیا gکرنیں خارج کرکے دوسری نوع کے مرکزوں میں تبدیل ہوتے ہیں ۔–aکرنیں ہیلیم کے مرکز ے ہیں ۔bکرنیں الیکٹران ہیں ۔gکرنیں ایسی برقی مقناطیس شعاعیں ہیں جن کا طول لہر xکرنوں کے طول لہر سے کم ہوتا ہے۔  
11۔ تاب کار تنزل کا قانون:N (t) = N(0) e–lt
جہاں l تنزل مستقلہ یا تکسیر مستقلہ ہے۔
ایک ریڈیو نیوکلیائڈ کی نصف زندگی T1/2وہ مدت ہے جس میں N اپنی آغاز ی قدر کا نصف ہو جا تا ہے۔ اوسط–زندگی  t وہ مدت ہے جس میںNاپنی آغازی قدر کاe-1 ہوجاتا ہے۔
λ / 1n2 = T 1/2 = τ 1n 2
65

12۔ جب مقابلتاً کم مضبوطی سے بندھے ہوئے نیوکلیسوں کی مقابلتاً زیادہ مضبوطی سے بندھے ہوئے نیو کلیسوں میں تحویل ہوتی ہے تو توانائی رہا ہوتی ہے۔ انشقاق میں( U 235/92 )جیسا ایک بھاری نیو کلیس دو مقابلتاً چھوٹے اجزاء میں ٹوٹتا ہے۔ مثلاً :      n 41/0 + Nb99/41 + Sb133/51 →n 1/0 + U235/92 
 67
13۔ یہ حقیقت کہ ایک انشقاق میں اس سے زیادہ نیوٹران پیدا ہوتے ہیں جتنے استعمال ہوتے ہیں زنجیر–تعامل کا امکان پیدا کرتی ہے، جس میں ہر پیدا ہونے والا نیوٹران دوسرا انشقاق کر سکتا ہے۔ زنجیر تعامل ایک نیو کلیائی بم دھماکے میں غیر قابو شدہ اور بہت تیزی سے ہوتا ہے۔ ایک ری ایکٹر میں نیوٹران ضرب جز ضربی K کی قدر 1پر برقرار رکھی جاتی ہے۔
14۔ گداخت میں مقابلتاً ہلکے مرکزے متحد ہو کر ایک مقابلتاً بڑا نیوکلیس تشکیل دیتے ہیں۔ ہائیڈروجن نیو کلیسوں کا ہیلم نیو کلیسوں میں گداخت، تمام ستاروں کا بہ شمول سورج، توانائی کا وسیلہ ہے۔



طبعی مقدار علامت البعاد اکائیاں ریمارکس
ایٹمی کمیت اکائی  [M] u ایٹمی یا نیو کلیائی کمیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے کمیت کی اکائی ایک ایٹمی کمیت اکائی 12Cکی کمیت کے 1/12کے مساوی ہے۔
تکسیر یا تنزل مستقلہ  λ [T-1] s-1
نصف زندگی T1/2 [T] S ایک تاب کا رنمونے میں پائے جانے والے نیو کلیوں کی آغازی تعداد کی نصف تعداد کے تنزل میں لگنے والا وقت
اوسط زندگی τ [T] s مدت جس میںنیو کلیوں کی تعداد کی آغازی تعداد کا e-1ہو جاتی ہے۔
ایک تابکار نمونے کی فعالیت R [T-1] Bq ایک تابکار وسیلے کی فعالیت کا ناپ

  قابل غور نکات
1۔   نیوکلیائی مادے کی کثافت نیوکلیس کے سائز کے غیر تابع ہے ۔ ایٹم کی کمیت کثافت اس قاعدے کی پابندی نہیں کرتی۔
2۔   الیکٹران انتشار کے ذریعے نیو کلیس کے نصف قطر کی معلوم کی گئی قدر، -aذرہ انتشار کے ذریعے معلوم کی گئی قدر سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکٹران انتشار ، نیوکلیس کی چارج تقسیم کو محسوس کرتا ہے ۔ جبکہ الفا اور اس جیسے دوسرے ذرات نیو کلیائی مادے کو محسوس کرتے ہیں۔
 3۔   جب آئن اسٹائن نے کمیت ۔توانائی کی معدلیت E = mc2ثابت کردی تو ہم کمیت کی بقا اور توانائی کی بقا کے علیحدہ علیحدہ قوانین کی بات اب نہیں کر سکتے بلکہ اب ہمیں متحدہ قانون، کمیت اور توانائی کی بقا، کی بات کرنا ہوگی۔ اس بات کا سب سے زیادہ قابل قبول ثبوت کہ یہ اصول قدرت میں لاگو ہوتا ہے، نیوکلیائی طبیعیات میں ملتا ہے۔ یہ نیو کلیائی توانائی کی تفہیم اور پاور کے وسیلے کے طورپر نیو کلیائی توانائی کو قابل استعمال بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اس اصول کو استعمال کرتے ہوئے ایک نیو کلیائی عمل (تنزل یا تعامل) کی Qبھی آغازی اور اختتامی کمیتوں کی شکل میں ظاہر کی جاسکتی ہے۔
4۔   بندش توانائی فی نیو کلیوں منحنی  کی طبع ظاہر کرتی ہے کہ حرارت زا(exothermic)نیو کلیائی تعاملات اس صورت میں ممکن ہیں جب دو ہلکے مرکزسے گداخت کرتے ہیں یا جب ایک بھاری نیو کلیس کا درمیان کمیتوں کے نیو کلیسوں میں انشقاق ہوتا ہے۔
5۔   گداخت کے لیے ہلکے مرکزوں میںکو لمب مضمر روک کو عبور کرنے کے لیے درکار توانائی ہونا لازمی ہے۔ اسی لیے گداخت کے لیے بہت اعلیٰ درجات ِ حرارت چاہیے ہوتے ہیں۔
6۔   حالانکہ بندش توانائی (فی نیو کلیوں) منحنیہموار ہوتا ہے اور آہستگی سے تبدیل ہوتا ہے، یہ 4He، 16Oوغیرہ جیسے نیو کلیائڈوں کے لیے فراز ظاہر کرتا ہے۔ اسے نیو کلیسوں میں ایٹم جیسی شیل ساخت کا ثبوت مانا جاتا ہے۔
7۔   الیکٹران اور پوزی ٹران ، ذرہ ۔ ضدذرہ جوڑا ہے۔ یہ کمیت کے لحاظ سے متماثل ہیں، ان کے چارج کی عددی قدریں مساوی ہیں لیکن نوع مخالف ہے ۔ (یہ دیکھا گیا ہے کہ جب ایک الیکٹران اور ایک پوزی ٹران ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو فنا کر دیتے ہیں اورr –کرن فوٹانوں کی شکل میں توانائی مہیا کرتے ہیں )۔
8۔   ایک تنزل میں (الیکٹران اخراج) الیکٹران کے ساتھ خارج ہونے والا ذرہ اینٹی نیو ٹرینو ہے دوسری طرف b+تنزل میں (پوزی ٹران اخراج) خارج ہونے والا ذرہ نیوٹرینو(n)ہے ۔ نیوٹرینواینٹی پروٹان کیا ہوگا جو پروٹان کا ضد–ذرہ ہے۔ اور اینٹی نیو ٹرینو بھی ذرہ ۔ضدذرہ جوڑا ہیں ۔ ہر ذرہ سے منسلک ضد ذرات ہوتے ہیں۔
9۔   ایک آزاد نیو ٹران غیر مستحکم ہے ۔(  ‾n →P +e‾+ v)70 لیکن یکساں آزاد پروٹان تنزل ممکن نہیں ہے، کیونکہ ایک پروٹان ایک نیوٹران سے (ذراسا) ہلکا ہوتا ہے۔
10۔    گاما اخراج عام طور سے الفا یا بیٹا اخراج کے بعد ہوتا ہے۔ ایک نیو کلیس ایک مشتعل حالت (اعلیٰ حالت) سے مقابلتاً نچلی حالت میں ایک گاما فوٹان خارج کرکے پہنچتا ہے۔ ایک الفا یا بیٹا اخراج کے بعد ایک نیو کلیس مشتعل حالت میں ہو سکتا ہے۔ اسی نیو کلیس سے اس کے بعد ایک ایک کر کے ہونے والے گاما کرنوں کے اخراج (جیسے 60Niمیں، شکل 13.4) اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نیو کلیسوں میں بھی ایٹموں کی طرح مجرد توانائی منازل ہوتی ہیں۔
11۔   تاب کاری نیو کلیسوں کے غیر استحکام کی علامت ہے۔ استحکام کے لیے نیوٹران– پروٹان نسبت 1کے قریب ہونا چاہیے۔ بھاری نیوکلیسوں کے لیے یہ نسبت بڑھ کر 3:2ہو جاتی ہے۔ (پروٹانوں کے درمیان دفع کے اثر پر قابو پانے کے لیے زیادہ نیوٹران درکار ہوتے ہیں۔) وہ مرکزے جو استحکام نسبت سے دور ہیں، یعنی کہ جن میں نیوٹرانوں یا پروٹرانوں کی زیادتی پائی جاتی ہے، غیر مستحکم ہوتے ہیں ۔ دراصل معلوم ہم جاؤں میں سے (تمام عناصر کے )صرف تقریباً 10%ہی مستحکم ہیں ۔ دیگر یا تو تجربہ گاہ میںa، p،d، nیا دوسرے ذات کی مستحکم نیو کلیائی انواع کے ہدف پر بمباری کر کے مصنوعی طور پر پیدا کیے گئے ہیں یا کائنات میں مادے کے فلکیاتیمشاہدے میں ان کی شناخت کی گئی ہے۔

مشق

آپ مندرجہ ذیل آنکڑوں کو مشقی سوالات حل کرنے میں کار آمد پائیں گے۔


N = 6.023×1023 per mole  e  = 1.6×10–19C
k = 1.381×10–23J K-1   
 1/(4pe0)= 9 × 109 N m2/C2
 MeV / c2    1 u = 931.5 1 MeV = 1.6×10-13
1 year = 3.154×107 s
mn = 1.008665 u mH= 1.007825 u
me = 0.00548 u 4.002603 = (He 4/2)  m


3.1  (a) لیتھیم کے دو مستحکم ہم جاؤں(Li 6/3)اور(Li 7/3)کے پائے جانے کی کثرتیں ، بالترتیب 7.5%اور 92.5%ہیں۔ ان ہم جاؤں کی کمیتں ، بالترتیب 6.01512u اور 7.01600uہیں ۔ لیتھیم کی ایٹمی کمیت معلوم کیجیے۔
 (b) بورون کے دو مستحکم ہم جا( B10/5)اور( B 11/5)ہیں۔ ان کی بالترتیب کمیتیں 10.01294uاور 11.00931u  ہیں، اور بورون کی ایٹمی کمیت 10.811 uہے۔( B10/5)اور ( B 11/5)کی کثرتیں معلوم کیجیے۔
13.2 نیو ن کے تین مستحکم ہم جاؤں :(Ne,,20/10 Ne 21/10)86،87اور88کی بالترتیب کثرتیں 90.51%،0.27% اور 9.22%ہیں ۔ تینوں ہم جاؤں کی ایٹمی کمتیں ، بالترتیب19.99u،20.99uاور21.99uہیں۔نیون کی اوسط ایٹمی کمیت حاصل کیجیے۔
 
13.3 ایک نائٹروجن نیو کلیس( N14/7)کی بندش توانائی (MeVمیں )حاصل کیجیے۔ دیا ہے: =14.00307u( N14/7)m 
13.4 مندرجہ ذیل آنکڑوں کی مدد سے نیو کلیسوں (Fb56/26)اور (Bi209/83)کی MeVاکائیوں میں ، بندش توانائی حاصل کیجیے۔
m(56/26 Fe) = 55.934939 u   ,   m(209/83 Bi) = 208.980388 u
13.5 ایک دیے ہوئے سکے کی کمیت 3.0 g ہے ۔ اس نیوکلیائی توانائی کا حساب لگائیے جو تمام نیوٹرانوں اور پروٹانوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کے لیے درکار ہوگی۔ آسانی کے لیے مان لیجیے کہ پورا سکہ صرف( 63/29Cu)ایٹموں کا بنا ہوا ہے۔( 63/29Cu) کی کمیت 62.92960 uہے)۔ 
13.6مندرجہ ذیل کے لیے نیو کلیائی تعامل لکھیے۔
 ()     256/88  Ra کا  -a تنزل                                      (ii)96کا -aتنزل
 (iii)97کا b-تنزل                                                   (iv)98کا b-تنزل
 (v)99کا b+تنزل                                                     (vi)100کاb+تنزل
 (vii) 101کی الیکٹران گرفت 
13.7   ایک تابکار ہم جا کی نصف زندگی T برس ہے،کتنا عرصہ لگے گا۔ اس کی فعالیت کو ہونے میں: (a)اس کی شروعاتی قدر کا 3.125 % (b)اس کی شروعاتی قدر کا1% 
13.8   ایسے جاندار مادے جن میں کاربن شامل ہوتا ہے، ان کی عام فعالیت تقریباً 15تنزل فی منٹ، کاربن کے ہرگرام کے لیے معلوم کی گئی ہے۔یہ فعالیت مستحکم کاربن ہم جا 102کے ساتھ تاب کار 103کی خفیف نسبت کی موجودگی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب وہ جاندار زندہ نہیں رہتا تو فضا سے اس کا باہم عمل رک جاتاہے (جو مندرجہ بالا توازن سرگرمی برقرار رکھتاہے)اور اس کی فعالیت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔104کی معلوم نصف زندگی (5730برس) اور ناپی گئی فعالیت سے نمونے کی عمر کا تقریبی تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ(Dating)کا اصول ہے جو علم آثار قدیمہ (Archaeology)میں استعمال ہوتا ہے۔ فرض کیجیے مہنجود ڑد سے حاصل کیے گئے ایک نمونے کی فعالیت 9تنزل فی منٹ فی گرام کاربن ہے۔ اندس گھاٹی تہذیب کی تقربی عمر کا تخمینہ لگائیے۔ 
13.9 8.0 mCiطاقت کا ایک تابکار و سیلہ مہیا کرنے کے لیے درکار(60/70Co)کی مقدار معلوم کیجیے۔( 60/27Co)کی نصف زندگی 5.3بر س ہے۔ 
13.10 (90/38Sr)کی نصف زندگی 28بر س ہے۔ اس ہم جا کے 15 mgکی تکسیر شرح کیا ہے۔
13.11 سونے کے ہم جا ( 197/79Au)کے نیو کلیائی نصف قطر کی نسبت ،چاندی کے ہم جا ( 107/47Ag)کے نیو کلیائی نصف قطر سے معلوم کیجیے۔
13.12 مندرجہ ذیل کے -aتنزل میں خارج ہوئے -aذرہ کی -Qقدر اور حرکی توانائی معلوم کیجیے۔
(a)
   ( 226/88Ra)
اور (b)
 ( 220/86Rn)       
دیا ہے:
               m(222/86 Rn) = 222.01750 u             m(226/88 Ra) = 226.02540 u
               m(216/84 Po) = 216.00189 u              m(222/86 Rn) =220.01137 u

13.13 ریڈیو نیو کلیائڈ11Cتنزل کرتا ہے:( ,e++ v  + 11/5B → 11/6C,T1/2=20.3min ):113
خارج ہوئے پوزی ٹران کی اعظم توانائی0.960MeVہے۔ مندرجہ ذیل کمیتیں دی ہوئی ہیں:
114 کا حساب لگائیے اور خارج ہوئے پوزی ٹران کی اعظم توانائی سے اس کا مقابلہ کیجیے۔
13.14 نیوکلیس115کا تنزل b-اخراج کے ذریعے ہوتا ہے۔ b-تنزل مساوات لکھیے اور خارج ہوئے الیکٹران کی اعظم توانائی معلوم کیجیے ۔ دیا ہوا ہے:
m(23/10 Ne) = 22.994466 u
m(23/11H) =22.089770 u

13.15  ایک نیو کلیائی تعامل: A + b ® C + dکی -Qقدر کی تعریف کی جاتی ہے: Q = [ mA + mb – mC – md]c2جہاں کمیتیں  حسب ترتیب نیو کلیسوں کی ہیں ۔ دیے ہوئے آنکڑوں سے مندرجہ ذیل تعاملات کی -Qقدر معلوم کیجیے اور بتائیے کہ تعامل حرارت زا ہے یا حرارت خور۔
(i)
     1/1H +3/1H→2/1H + 2/1H
(ii)
     12/6C + 12/6C→ 20/10 Ne + 4/2 He

ایٹمی کمیتیں دی ہوئی ہیں:
m(2/1H) = 2.014102 u
m(3/1H) =3.016049 u
m(12/6 C) = 12.000000 u
m(20/10H) =19.992439 u

13.16 فرض کیجیے کہ ہم  56/26Fe نیو کلیس کے دو مساوی جزوں 28/13 A1میں انشقاق کے بارے میں سوچتے ہیں۔ انشقاق توانائی کے لحاظ سے ممکن ہے؟ عمل کی Qمعلوم کر کے دلیل پیش کیجیے۔ دیا ہے:
   55.93594 = ( 56/26Fe)  اور 27.98191  = (A1  28/13) 
m(28/13 A1) = 27.98191 u     اور    m(56/26 Fe) = 55.91494 u
13.17    239/94Pu کی انشقاق خاصیتیں ،(  235/92U)کی انشقاق خاصیتوں سے بہت ملتی جلتی ہیں۔ فی انشقاق رہا ہونے والی اوسط توانائی 180 MeVہے۔اگر خالص  239/94Puکے 1کلو گرام کے تمام ایٹموں کا انشقاق ہوتا ہے تو MeVمیں کتنی توانائی رہا ہوگی؟
13.18 ایک 1000MWانشقاق ری ایکٹر اپنے ایندھن کا نصف 5.00 yمیں استعمال کرتاہے۔ تو آغاز میں اس میں کتنا (  235/92U)تھا؟ فرض کیجیے کہ ری ایکٹر 80%وقت چلتا رہتا ہے اور پیداہوئی ساری توانائی (  235/92U)کے انشقاق سے حاصل ہوتی ہے اور اس نیو کلیائڈ کا استعمال صرف انشقاق میں ہوتا ہے۔ 
13.19 2.0 kgڈیوٹیریم کے گداخت کے ذریعے 100 Wکے لمپ کو کتنی دیر روشن رکھا جا سکتا ہے؟گداخت تعامل ہے:
(2/1H + 2/1H → 3/2He + n + 3.27  MeV)
13.20 دو ڈیوٹرانوں کی آمنے سامنے کی سیدھی ٹکر (Head on Collision) کے لیے مضمر روک کی اونچائی معلوم کیجیے۔ اشارہ: مضمر روک کی اونچائی ، دو ڈیوٹرانوں کے درمیان کو لمب دفاع سے دی جاتی ہے، جب وہ ایک دوسرے سے بس تماس میں ہوں ۔ مان لیجیے کہ انھیں 2.0 fmنصف قطر کے سخت کرے سمجھا جا سکتا ہے)
13.21 رشتے R = R0A1/3 سے، جس میں R0ایک مستقلہ ہے اور Aایک نیو کلیس کا کمیت عدد ہے، دکھائیے کہ نیو کلیائی مادے کی کثافت تقریباً مستقلہ ہے (یعنی کہ Aکے غیر تابع ہے)
13.22 ایک نیو کلیس سے b+(پوزی ٹران)اخراج کے مقابلے کا ایک دوسرا عمل بھی ہے جو الیکٹران گرفٹ (electron capture)کہلاتا ہے۔]ایک اندرونی مدار ، جیسے -kشیل ، سے نیو کلیس ایک الیکٹران کی گرفت کر لیتاہے۔ اور ایک نیو ٹرینو خارج ہوتا ہے۔]
 (e+ A/ZX → A/Z-1Y+ v)
دکھائیے کہ اگر b++اخراج توانائی کے لحاظ سے ہونا ممکن ہے تو الیکٹران گرفت بھی یقینی طور پر ممکن ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف نہیں ۔

مزید مشق

13.23 ایک دوری جدول میں میگنیشیم کی اوسط ایٹمی کمیت 24.312uدی ہوئی ہے۔ اوسط قدر اس کے ہم جاؤں کی زمین پر قدرتی طور پر پائے جانے والے نسبتی کثرت پر مبنی ہے۔میگنیشیم کے تین ہم جا اور ان کی کمیتیں ہیں :71اور
کی قدرتی کثرت ، کمیت کے لحاظ سے 78.99%ہے۔ باقی دونوں ہم جاؤں کی کثرت معلوم کیجیے۔
13.24 نیوٹران علیحدگی توانائی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ نیو کلیس میں ایک نیو ٹران باہر نکالنے کے لیے درکار توانائی ہے۔ مندرجہ ذیل آنکڑوں کی مدد سے نیو کلیسوں 73اور 111کی نیو ٹران علیحدگی توانائی معلوم کیجیے:
m(40/20 Ca) = 39.96259 u
m(41/20 Ca) =40.962278 u
m(26/13 A1) = 25.986895 u
m(27/13 A1) =26.981541 u

13.25 ایک وسیلے میں دو فاسفورس ریڈیو نیو کلیائڈ ہیں :75اور76آغاز میں 10%تنزل 77سے ہوتے ہیں ۔ کتنی دیر بعد ایسا ہوگا کہ 90%تنزل ہونے لگیں؟
13.26 کچھ خاص حالات میں ایک نیو کلیس -aذرہ سے زیادہ کمیت کا ذرہ خارج کرکے تنزل پذیر ہو سکتا ہے۔ 
مندرجہ ذیل تنزل عملوں کو دیکھیے۔
81
ان تنزلوں کے لیے Q قدر تحسیب کیجیے اور معلوم کیجیے کہ دونوں توانائی کے لحاظ سے ممکن ہیں۔
13.27    238/92 U کا تیز رفتارنیو ٹرانوں کے ذریعے انشقاق لیجیے۔ ایک انشقاق وقوعہ میں کوئی نیوٹران نہیں خارج ہوا اور اختتامی آخری ماحصل ابتدائی اجزاء کے bتنزل کے بعد( 140/58Ce)79اور( 99/44 Ru)ہیں۔ اس انشقاق عمل کے لیے Qتحسیب کیجیے۔ متعلق ایٹمی اور ذراتی کمیتیں ہیں ۔
13.28 D-Tتعامل (ڈیوٹیریم ۔ ٹرائی ٹیم گداخت )لیجیے ۔
(a) مندرجہ ذیل آنکڑوں کی مدد سے اس تعامل میں رہا ہوئی توانائی ، MeVمیں معلوم کیجیے۔
m(2/1H) = 2.014102 u
m(3/1H) =3.016049 u
(b) ڈیوٹیریم اور ٹرائی ٹیم دونوں کا نصف قطر تقریباً2.0 fm لیجیے ۔ دونوں نیو کلیسوں کے درمیان کو لمب دفع پر قابو پانے کے لیے کتنی حرکی توانائی درکار ہوگی؟تعامل شروع کرنے کے لیے گیس کو کس درجہ حرارت تک گرم کرنا ضروری ہے ]اشارہ :ایک گداخت وقوعہ کے لیے درکار حرکی توانائی =باہمی عمل کرتے ہوئے ذرات کو دستیاب اوسط حرارتی حرکی توانائی 2(3kT/2)=، جہاں k، بولٹز مین کا مستقلہ ہے اور Tمطلق درجہ حرارت ہے۔]
13.29 شکل 13.6میں دکھائے گئے تنزل خاکے میں bذرات کی اعظم حرکی توانائی اور gتنزلوں کے اشعاع تعدد معلوم کیجیے۔ دیا ہوا ہے:
m(198Au) = 197.968233 u
m(198Hg) =197.966760 u

129
شکل:13.6
13.30 مندرجہ کے ذریعے رہا ہوئی توانائی کا حساب لگائیے اور مقابلہ کیجیے: (a) سورج کے بہت اندرونی حصے میں ہائیڈروجن کے 1.0 kgکا گداخت (b)ایک گداخت ری ایکٹر میں 235Uکے 1.0 kg کا گداخت
13.31 فرض کیجیے کہ ہندوستان کا نشانہ ہے کہ وہ 2020عیسوی تک 200,000MW برقی پاور پیدا کرسکے، جس میں سے 10%نیو کلیائی پاور پلانٹوں سے حاصل کی جاسکے ۔ فرض کیجیے ہمیں دیا ہوا ہے کہ ایک ری ایکٹر میں پیدا ہوئی حرارتی توانائی کے استعمال کی استعداد (برقی توانائی میں تبدیلی ) 25%ہے ۔ 2020تک ہمارے ملک کو قابل انشقاق یورینیم کی کتنی مقدار فی برس درکار ہوگی؟235Uکی حرارتی توانائی فی انشقاق تقریباًMeV MeV 200 لیجئے۔