شکل13.4:توانائی–منزل ڈائیگرام،جس میں�نیوکلیس کے ذریعے بیٹا تنزل کے بعد ہونے والاgکرنوں کا اخراج دکھایاگیا ہے۔
13.6.4گاماتنزل:(Gamma decay)
جس طرح ایٹم میں توانائی منازل ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح نیوکلیس میں بھی توانائی منازل ہوتی ہیں۔ جب ایک نیوکلیس ایک مشتعل حالت میں ہوتا ہے تو وہ برق–مقناطیسی اشعاع کا اخراج کرکے مقابلتاً کم توانائی حالت میں عبور کرسکتا ہے۔کیونکہ ایک نیوکلیس کی توانائی منازل میں توانائی کے فرقMeVکے درجہ کے ہوتے ہیں،نیوکلیسوں سے خارج ہوئے فوٹانوں کی توانائی MeV توانائیاں ہوتی ہیں اورانھیں شعاعیں کہتے ہیں۔
زیادہ ترتاب کارنیوکلیائڈ الفاتنزل یا بیٹا تنزل کے بعد دختر نیوکلیس کو ایک مشتعل حالت میں چھوڑتے ہیں۔ دختر نیوکلیس،تحتی حالت میں پہنچنے کے لیے کبھی ایک عبور اورکبھی لگاتار عبورکرتا ہے جس میں وہ ایک کرن یا کئی خارج کرتا ہے۔اس طرح کے عمل کی ایک معروف مثال

کی ہے۔بیٹا–اخراج کے ذریعے

نیوکلیس

نیوکلیس میں تبدیل ہوتا ہے جو مشتعل حالت میں ہوتا ہے۔اس طرح تشکیل ہوا مشتعل

نیوکیس پھر1.17MeV اور1.33MeVکی g –کرنوں کے ترتیب وار اخراج کے ذریعے اپنی تحتی حالت میں غیر مشتعل ہوتا ہے۔ یہ عمل شکل13.4میںایک توانائی منزل ڈائیگرام کے ذریعے دکھایا گیاہے۔

شکل13.4:توانائی–منزل ڈائیگرام،جس میں نیوکلیس کے ذریعے بیٹا تنزل کے بعد ہونے والاgکرنوں کا اخراج دکھایاگیا ہے۔
13.7نیوکلیائی توانائی(Nuclear Energy)
شکل 13.1میں دیے ہوئے بندش توانائی فی نیوکلیون

منحنی میں ایک لمبا ہموار درمیانی علاقہ A = 30اور A =170کے درمیان پایاجاتا ہے۔ اس علاقے میں بندش توانائی فی نیوکلیون قریب قریب مستقلہ ہے، (8.0MeV)۔ مقابلتاً ہلکے نیوکلیائی علاقے 'A < 30'کے لیے اور مقابلتاً بھاری نیو کلیائی علاقے 'A >170'کے لیے بندش توانائی فی نیوکلیون 8.0 MeVسے کم ہے، جیسا کہ ہم پہلے بھی نوٹ کر چکے ہیں ۔ بندش توانائی منحنی کی اس خاصیت کا مطلب ہے کہ درمیانی علاقے

میں مرکز ے A < 30اور A > 170والے مرکزوں کے مقابلے میں زیادہ سختی سے بندھے ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر مقابلتاً کم مضبوطی سے بندھے ہوئے نیو کلیون کا مقابلتاًزیادہ مضبوطی سے بندھے ہوئے نیو کلیون میں تحول (Transmutation)کیا جا سکے تو توانائی باہر نکلے گی ۔ ایسے دو عمل ، جن کا ذکر ہم پہلے ہی کر چکے ہیں، انشقاق اور گداخت ہیں۔
توانائی کے عام ماخذوں جیسی کوئلہ یا پٹرولیم ، میں توانائی کیمیائی تعامل کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔ اس لیے شمول توانائیاں الیکٹران وولٹ فی ایٹم کے درجے کی ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ نیو کلیائی عملوں میں شامل توانائیاں اس سے دس لاکھ گنا (MeVفی نیوکلیون کی )زیادہ ہوتی ہیں ۔ اس کا مطلب ہوا کہ مادہ کی یکساں مقدار کے ساتھ ، نیوکلیائی ماخذ ، عام ماخذوں کے مقابلے میں دس لاکھ گنا زیادہ توانائی فراہم کریں گے۔ کوئلے کے ایک گرام کو جلانے پر توانائی حاصل ہوتی ہے، جبکہ یورینیم کے ایک کلو گرام سے ، جو انشقاق (Fission)کے عمل سے گذرتا ہے، اس کے انشقاق کے ذریعے توانائی کے J1014 پیدا ہوں گے ۔
13.7.1انشقاق (Fission)
چیڈوک کے ذریعے نیوٹران دریافت کیے جانے کے بعد جلد ہی اینر کوفرمی (Enrico Fermi)نے یہ معلوم کیا کہ جب مختلف عناصر پرنیو ٹرانوں کی بمباری کی جاتی ہے تو نئے تابکار عناصر پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن جب ایک یورینیم ہدف پر ایک نیوٹران سے بمباری کی گئی تو یورینیم نیو کلیس دو تقریباً مساوی جزوں میں ٹوٹ گیا اور ساتھ ہی توانائی کی بڑی مقدار رہا ہوئی۔ ایسے تعامل کی ایک مثال ہے۔
(13.26) n31/0 + Kr89/36 +Ba144/56→U236/92→U235/92+ 1/0n
انشقاق میں ہمیشہ بیریم اور کرپٹون ہی نہیں بنتے ہیں ۔ ایک مختلف جوڑا بھی پیدا ہو سکتا ہے، مثلاً
(13.27) n41/0 +Nb99/41 +Sb133/51→U236/92→U235/92 +n1/0
(13.28) n 21/0 + Sr94/38 + Xe140/54 → U235/92 +n1/0
انشقاق میں پیدا ہوئے اجزا مرکز ے بہت نیوٹران ۔ افزودہ (Neutran rich)ہوتے ہیں اور بہت زیادہ مستحکم ہوتے ہیں ۔ یہ تابکار ہوتے ہیں اور لگاتار بیٹا ذرات خارج کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہر ایک جز ایک مستحکم اختتامی ماحصل (end product)تک پہونچ جاتا ہے۔
یورینیم جیسے نیو کلیسوں کے انشقاق تعامل میں رہا ہونے والی توانائی (Qقدر)، 200MeVفی انشقاق پذیر نیو کلیس کے درجہ کی ہوتی ہے۔ اس کا تخمینہ مندرجہ ذیل طریقے سے لگایا جاتا ہے۔
ہم ایک نیو کلیس لیتے ہیں جس کا کمیت عدد A = 240ہے جو دو اجزاء میں ٹوٹتا ہے، ہر جز کا کمیت عددA =120 ہے ۔ تب
A = 240 نیو کلیس کے لیے

تقریباً 7.6 MeVہے۔
A = 120کے دو نیو کلیسوں کے لیے

تقریباً 8.5 MeV ہے۔
نیو کلیون کے لیے بندش توانائی کا حصول تقریباً 0.9 MeVہے۔
اس لیے بندش توانائی کا کل حصول 240 x 0.9یا 216 MeVہے۔
انشقاق وقوعات میں تکسیر توانائی (Disintegration energy)پہلے اجزا ء اور نیوٹرانوں کی حرکی توانائی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ آخرکار یہ آس پاس کے مادہ کو منتقل ہو جاتی ہے اور حرارت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ نیو کلیائی ری ایکٹرجو بجلی پیدا کرتے ہیں ،میں توانائی کا ماخذ نیو کلیائی انشقاق ہے۔ ایک ایٹم بم میں رہا ہونے والی توانائی کی بے کراں مقدار غیر قابو شدہ نیو کلیائی انشقاق سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ ہم اگلے حصے میں ایک نیو کلیائی ری ایکٹر کیسے کام کرتاہے، اس بارے میں کچھ تفصیلات سے بحث کریں گے۔
13.7.2نیو کلیائی ری ایکٹر (Nuclear Reactor)
جب ایک نیوٹران کی بمباری کے ذریعے ایک ( U235/92)کا انشقاق ہوتا ہے تو ساتھ ہی ایک زائد الیکٹران بھی رہا ہوتا ہے۔ یہ زائد الیکٹران اب ایک دوسرے (235/92 U)نیو کلیس کا انشقاق کرنے کے لیے دستیاب ہو جاتا ہے۔ دراصل اوسطاً 2½ نیوٹران فی یورینیم نیوکلیس انشقاق رہا ہوتے ہیں ۔یہ حقیقت کہ جتنے نیوٹران استعمال ہوتے ہیں اس سے زیادہ انشقاق میں پیدا ہوتے ہیں، ایک زنجیر عمل (chain reactor) کے امکانات میں اضافہ کر دیتی ہے۔ جس میں ہر پیدا ہونے والا نیوٹران ایک دوسرے انشقاق کے عمل کو شروع کر دیتا ہے۔ اینر یکو فرمی نے سب سے پہلے 1933میں اس طرح کا امکان تجویز کیا۔ زنجیر عمل یا تو غیر قابو شدہ اور بہت تیز رفتار (جیسے نیو کلیائی بم میں ) ہو سکتا ہے یا کنٹرول شدہ اور قایم (steady)ہو سکتا ہے (جیسے ایک نیو کلیائی ری ایکٹر میں )۔پہلے سے تباہی پھیلتی ہے اور دوسرے کو مناسب روک لگا کر برقی پاور پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیکن جلد ہی یہ دریافت ہو گیا کہ ایک یورینیم نیو کلیس کے انشقاق میں آزاد ہوئے نیوٹران اتنے توانا (energatic) ہوتے ہیں کہ وہ دوسرے انشقاق تعامل کو شروع کرنے کے بجائے باہر نکل جاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آہستہ (کم رفتار) نیوٹرانوں میں تیز رفتار نیوٹرانوں کے مقابلے میں (235/92 U) میں انشقاق پیدا کرنے کا داخلی امکان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
(235/92 U) کے انشقاق میں پیدا ہوئے ایک نیوٹران کی اوسط توانائی 2MeV ہے۔ ان نیوٹرانوں کو جب تک آہستہ رو نہ کیا جائے یہ یورینیم کے نیو کلیسوں سے باہمی عمل کرنے کے بجائے ری ایکٹر سے باہر نکل جاتے ہیں یا پھر زنجیر عمل کو برقرار رکھنے کے لیے قابل انشقاق مادے کہ بہت زیادہ مقدار استعمال کرنی پڑتی ہے۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ ہلکے نیو کلیسوں سے لچک دار تصادم کراکے ان تیز رفتار نیوٹرانوں کو آہستہ رو بنائیں۔ دراصل چاڈوک کے تجربات سے یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ ہائیڈروجن سے لچک دار تصادم کرنے کے بعد نیوٹران تقریباًحالت سکون میں آجاتا ہے اور پروٹان کو ساری توانائی مل جاتی ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جو ایک ماربل کے دوسرے متماثل ماربل سے ، جو حالت سکون میں ہو، براہ راست (Head-on) ٹکرانے میں ہوتی ہے ۔ اس لیے ری ایکٹروں میں قابل انشقاق نیو کلیسوں کے ساتھ ساتھ ہلکے نیو کلیس بھی، جو اعتدال کار کہلاتے ہیں، تیز رفتار نیو ٹرانوں کی رفتار کم کرنے کے لیے مہیا کیے جاتے ہیں ۔ عام طور سے استعمال ہونے والے اعتدال کار پانی ، بھاری پانی (D2O)اور گریفائٹ ہیں ۔ بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (BARC) ممبئی کے اپسرا ری ایکٹر میں پانی بہ طور اعتدال کار استعمال ہوتا ہے۔ دوسرے ہندوستانی ری ایکٹروں میں جو پاور پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اعتدال کار کے بہ طور بھاری پانی استعمال کیا جاتا ہے۔
اعتدال کار کے استعمال کرنے سے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ نیو ٹران کی دی ہوئی نسل کے ذریعے پیدا ہوئے انشقاق کی تعداد کی نیوٹرانوں کی اس سے پچھلی نسل کے ذریعے پیدا ہوئے انشقاق کی تعداد سے نسبت K 1,سے زیادہ ہوجائے۔ یہ نسبت ضر ب جز ضربیہ (Multipulication factor)کہلاتا ہے۔ یہ ری ایکٹر میں نیو ٹرانوں کی شرح نمود کی پیمائش ہے۔ K =1 کے لیے ری ایکٹر کی عمل کاری (Operation)فاصل (Critical)کہلاتی ہے۔ اور ہم قایم پاور عمل کاری کے لیے یہی چاہتے ہیں ۔ اگر K ایک سے زیادہ ہو جائے تو تعامل کی شرح اور ری ایکٹر پاور میں قوت نمائی طورپر اضافہ ہوتا ہے۔ جب تک کہ جز ضربی K کو 1 کے بے حد نزدیک نہ لایا جائے، ری ایکٹر اعلیٰ فاضل (Supercritical) ہو جائے گا اور وہ پھٹ بھی سکتا ہے۔ 1986میں ارکین (UKrain)میں چیرنوبائل (Chernobyl)ری ایکٹر کا دھماکہ اسی صدمے کی یاد دلاتا ہے کہ ایک نیو کلیائی ری ایکٹر بلائے ناگہانی بھی ہو سکتا ہے۔
تعامل کی شرح کو کنٹرول چھڑوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جو نیوٹران جاذب مادے ، جیسے کیڈمیم، کی بنی ہوتی ہیں ۔ کنٹرول چھڑوں کے علاوہ ری ایکٹروں میں حفاظتی چھڑیں بھی مہیا کی جاتی ہیں جو ضرورت پڑنے پر ری ایکٹر میں داخل کی جا سکتی ہیں اور K کو تیزی سے ایک سے کم کیا جا سکتا ہے۔
بہ کثر پایا جانے والا (235/92 U)ہم جا جس کا انشقاق نہیں ہوتا،ایک نیوٹران مقید کرکے پلوٹونیم بناتا ہے۔ اس میں شامل تعاملات کا سلسلہ ہے۔
e‾+v‾ + Np239/92 → U239/92→ n+ U238/92
(13.29)
پلو ٹونیم بہت زیادہ تابکار ہے اور آہستہ رو نیوٹرانوں کی بمباری کے ذریعے اس کا انشقاق کرایا جا سکتا ہے۔
کولینٹ
بھاپ ٹربائن کی جانب
حرارت کی تبدیل کرنے والا (بھاپ جنریٹر)
پانی تکثیف کار سے
ری ایکٹر
کور
کنٹرول جھڑیں
شکل 13.5:تھرمل نیوٹران انشقاق پر مبنی نیوکلیائی ری ایکٹر کے باہر ی خطوط
ہندوستان کا ایٹمی توانائی پروگرام
ہندوستان میں ایٹمی توانائی پروگرام کا آغاز آزادی حاصل ہونے کے بعدہی ہومی جے۔ بھابھا (1909-1966)کی سرکردگی میں ہو گیا تھا۔ ایک ابتدائی تاریخی کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب ہندوستان نے اپنا پہلا نیو کلیا ئی ری ایکٹر ( جس کا نام اپسرا رکھاگیا) ڈیزائن کیا اور بنایا جس نے 4؍ اگست 1956سے کام کرنا شروع کردیا ۔ اس ری ایکٹر میں افزودہ یورینیم (enriched Uranium) کوبہ طور ایندھن اور پانی کو بہ طور اعتدال کار (ماڈر یٹر Moderator) استعمال کیا گیا ۔ اس کے بعد دوسرا قابل ذکر اہم امتیازی نشان تھا: 1960میں CIRUS(کینڈا انڈیا ریسرچ یو ۔ ایس) ری ایکٹر کی تعمیر ۔ 40 MW کے اس ری ایکٹر میں قدرتی یورینیم کو بہ طور ایندھن اور بھاری پانی (Heavy Water) کو بہ طور اعتدال کار استعمال کیا گیا۔ اپسرا اور CIRUSنے نیو کلیائی سائنس کے بہت سے مختلف النوع بنیادی اور اطلاقی علاقوں میں ریسرچ کی حوصلہ افزائی کی۔ اس پر وگرام کی پہلی دو دہائیوں میں حاصل ہونے والا ایک اہم امتیاز ٹرامبے میں پہلے پلوٹونیم پلانٹ کا دیسی ڈیزائن تیار کرنا اور اس کی تعمیر تھا۔جس نے ہندوستان میں ایندھن کی باز عمل کاری (Reprocessing)کی ٹکنولوجی ]ایک ری ایکٹر کے استعمال شدہ ایندھن سے کار آمدقابل انشقاق (Fission) اور ذرخیز (Fertile) نیو کلیائی مادوں کو علیحدہ کرنا[ کا آغاز کیا۔اس کے بعدجو ریسرچ ری ایکٹر کمیشن کیے گئے ان میں ZERLINA DHRUVA, PURNIMA (1,2,3,), اور KAMINI شامل ہیں۔KAMINI ملک کا پہلا بڑا ریسرچ ری ایکٹر ہے جس میں U23بہ طور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ایک ریسرچ ری سیکٹر کا بنیادی مقصد پاور پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ نیو کلیائی سائنس اور ٹکنولوجی کے مختلف پہلوؤں پر ریسرچ کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ریسرچ ری ایکٹر ، مختلف قسم کے تابکار ہم جا تیار کرنے کے بھی بہترین وسیلے ہیں جن کا استعمال مختلف النوع میدانوں: صنعت ، ادویات ، ذراعت ، میں کیا جاتا ہے۔
ہندوستانی ایٹمی توانائی پروگرام کے خاص مقاصد ہیں : ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے محفوظ اور قابل بھروسہ برقی پاور مہیا کرنا اور نیو کلیائی ٹکنولوجی کے تمام پہلوؤں میں خود کفیل ہو سکنا۔ ہندوستان میں ایٹمی معدنیات کی تلاش کاری کے کام نے، جس کا آغاز بیسویں صدی کی پانچویں دہائی کے شروعاتی برسوں میں ہو گیا تھا، یہ نشاندہی کر دی ہے کہ ہندوستان میں یورینیم کے محدود ذخیرے ہیں۔ لیکن تھوریم کے ذخیرے اچھے خاصے ہیں۔ اس کے مطابق ہمارے ملک میں نیو کلیائی پاور پیدا کرنے کی تین مرحلوں پر مبنی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں یورینیم کو بہ طور ایندھن اور اس کے ساتھ بھاری پانی کو بہ طور اعتدال کار استعمال کرنا شامل ہے۔ پھر ری ایکٹروں کے خارج شدہ ایندھن کی باز عمل کاری سے حاصل ہوا پلوٹونیم 239–پھر دوسرے مرحلے میں تیز رفتار تخیلی ری ایکٹر (Breeder reactor) کے لیے بہ طور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ نام اس لیے ہے کہ کیونکہ ان میں زنجیر عمل کو قائم رکھنے کے لیے تیز رفتار نیوٹران استعمال کیے جاتے ہیں (اور اس لیے کسی اعتدال کار کی ضرورت نہیں پیش آتی) اور پاور پید اکرنے کے علاوہ یہ اس سے زیادہ قابل انشقاق انواع (پلوٹونیم) پیدا کرتے ہیں جتنی وہ استعمال کرتے ہیں۔ تیسرے مرحلے میں جو وسیع مدت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے تیز رفتار تخیلی ری ایکٹروں کو استعمال کر کے تھوریم 232- سے قابل انشقاق یورینیم 223-پیدا کرنا اور اس پر مبنی پاور ری ایکٹر تیار کرنا شامل ہیں۔
ہندوستان اس وقت پروگرام کے دوسرے مرحلے میں کافی حد تک داخل ہو چکا ہے اور تیسرے مرحلے کے لیے بھی قابل لحاظ کام کیا جا چکا ہے۔ یعنی کہ تھوریم کے استعمال کرنے کے مرحلے کے لیے ملک نے معدنیات کی تلاش کاری اور کان کنی (Mining) ایندھن سازی (Fuel Fabrication) بھاری پانی پیدا کرنا ، ری ایکٹر ڈیزائن ، اس کی تعمیر اور اسے استعمال کرنے، ایندھن کی باز عمل کاری وغیرہ کی پیچیدہ ٹکنولوجی پر عبور حاصل کرلیاہے۔ داب شدہ بھاری پانی ری ایکٹر [Pressurised Heavy Water Reactors (PHWRs)]ملک کے مختلف مقامات پر تعمیر کے جا چکے ہیں جو پہلے مرحلے کے بہ خوبی مکمل ہو نے کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ اب ہندوستان بھاری پانی میں پیداکرنے میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ ری ایکٹروں کے ڈیزائن اور ان کی عمل کاری کے لیے کیے گئے بہترین حفاظتی انتظامات اور شعایاتی تحفظ کے سخت معیاروں کی پابندی ہندوستانی ایٹمی توانائی پروگرام کے امتیاز ہیں ۔
داب شدہ ۔ پانی ری ایکٹر پر مبنی ایک مخصوص نیو کلیائی پاور پلانٹ کے موٹے موٹے بیرونی خطوط شکل 13.5میں دکھائے گئے ہیں ۔اس قسم کے ری ایکٹر میں پانی کو اعتدال کار اور حرارت منقلی واسطے ، دونوں کے بہ طور ، استعمال کیا جاتا ہے۔ ابتدائی حلقے میں پانی کو ری ایکٹر برتن میں گھمایا جاتاہے اور یہ اعلیٰ درجہ حرارت اور دباؤ پر بھاپ جنریٹر کو توانائی منتقل کر تا ہے۔(تقریباً 600kاور 150 atmپر )جو کہ ثانوی حلقے کا حصہ ہے۔ بھاپ جنریٹر میں تبنحیٖر (evaporation)کے ذریعے برقی جنریٹر کو چلانے والی ٹربائن کی عمل کاری کے لیے اعلیٰ داب بھاپ مہیا کی جاتی ہے۔ٹربائن سے نکلنے والی کم داب والی بھاپ کو ٹھنڈا کر کے اس کی پانی میں تکثیف (Condensed)کر لی جاتی ہے اور اسے بھاپ جنریٹر میں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
نیو کلیائی تعاملات میں رہا ہونے والی توانائی ، کیمیائی تعاملات میں رہا ہونے والی توانائی سے دس لاکھ گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے نیو کلیائی ری ایکٹروں کو درکار ایندھن کی مقدار ، اسی پاور گنجائش کے کیمیائی ری ایکٹروں کو درکار ایندھن کی مقدار کے مقابلے میں دس لاکھ گنا کم ہوتی ہے۔( U235/92)کا ایک کلو گرام مکمل انشقاق کے ذریعے تقریباً 3 × 104 MW پیدا کرتا ہے۔ لیکن نیو کلیائی تعاملات میں بہت زیادہ تاب کار عناصر لگاتا ر پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اس لیے ری ایکٹروں کی عمل کاری کی ایک ایسی خاصیت، جس سے بچنا ممکن نہیں ہے، تاب کار فضلے کا اکٹھا ہونا ہے، جس میں انشقاق ماحصل اور ورائے یورینیم، عناصر جیسے پلوٹونیم اور ایمر یکیم، دونوں شامل ہیں ۔
تاریخی اعتبار سے توانائی کیمیائی تعاملات استعمال کر کے پیدا کی جاتی رہی ہے جیسے کوئلے ،لکڑی، گیس اور پٹرولیم ماحصلات کو جلا کر ۔ ان سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی سنجیدہ مسائل پیدا کر رہی ہے۔ جیسے سبز گھر اثر جو عالمی گرماؤ (Golobal warming)کی جانب لے جارہا ہے۔ نیو کلیائی پاور اسٹیشن میں درپیش مسئلہ یہ ہے کہ استعمال شدہ ایندھن بہت زیادہ تابکار ہوتا ہے اور کرہ ارض پر پائے جانے والے تمام جانداروں کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ اس لیے ری ایکٹر کی عمل کاری اور استعمال شدہ ایندھن کو برتنے اور باز عمل کاری دونوں کے لیے تفصیلی حفاظتی انتظامات درکار ہیں ۔ یہ حفاظتی انتظامات ہندوستانی ایٹمی توانائی پروگرام کی امتیازی خاصیتیں ہیں ۔ تابکار فضلے (radioactive waste)کو مقابلتاً کم تابکاراور کم مدت تک باقی رہنے والے مادے میں تبدیل کرنے کے امکانات کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک مناسب منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔
13.7.3نیو کلیائی گداخت -تاروں میں توانائی کا پیدا ہونا
(Nuclear fusion -energy generator in stars)
شکل 13.1میں دکھائے گئے بندش توانائی منحنی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر دو ہلکے نیو کلیانوں کے اجتماع کے ذریعے ایک واحد مقابلتاً بڑا نیو کلیس تشکیل کیا جائے تو توانائی رہا ہو سکتی ہے، ایک عمل جو نیو کلیائی گداخت (Nuclear Fusion) کہلاتا ہے۔ ایسے توانائی آزاد کرنے والے تعاملات کی کچھ مثالیں ہیں۔

1/1H+1/1H→2/1H +
e + + v +0.42 Mev
[13.29(a)]
2/1H+2/1H→3/2He + n + 3.27 MeV
[13.29(b)]

2/1H + 2/1H → 3/1H + 1/1H + 4.03 MeV
[13.29(c)]
تعامل [13.29(a)]میں دو پروٹان مل کر ایک ڈیوٹران اورایک پوزی ٹران تشکیل دیتے ہیں اور ساتھ ہی 0.42MeV توانائی رہاہوتی ہے۔ تعامل [13.29(b)]میں دو ڈیو ٹرانوں کے اتحاد کے ذریعے ہیلیم کا ہلکا ہم جا تشکیل پاتا ہے۔ تعامل [13.29(c)]میں دو ڈیوٹران متحد ہو کر ایک ٹرائی ٹان اور ایک پروٹان تشکیل پاتے ہیں۔ ان تمام تعاملات میں ہم پاتے ہیں کہ دو مثبت چارج شدہ ذرات متحد ہو کر ایک مقابلتاً بڑا نیو کلیس تشکیل دیتے ہیں ۔ یہ ضرور دھیان رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے عمل میں کولمب دفاع ضرور رکاوٹ پید ا کر ے گا۔ کیونکہ کولمب دفاع دو مثبت چارج شدہ ذرات کو ایک دوسرے کے اتنے نزدیک آنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کششی نیو کلیائی قوتوں کی سعت کے اندر آجائیں اور ان کا گداخت ہو سکے ۔اس کو لمب بیریر (کولمب روک Coulomb barrier)کی اونچائی باہم عمل کرنے والے دونوں نیو کلیسوں کے چارج اور ان کے نصف قطرکے تابع ہے۔ یہ بہ آسانی دکھایا جا سکتا ہے کہ دو پروٹانوں کے لیے روک اونچائی ہے: ~400 keVزیادہ چارج شدہ نیو کلیسوں کے لیے روک اونچائی اور زیادہ ہوگی ۔ وہ درجہ حرارت جس پر ایک پروٹان گیس کے پروٹانوں میں اتنی توانائی ہوگی جو کولمب کی روک کو عبور کرنے کے لیے کافی ہو ، دیا جاتا ہے۔اور یہ تقریباً 3 × 109 Kہے۔
توانائی کی کارآمد مقدار پیداکرنے کیلیے،نیوکلیائی گداخت لازمی طورپر حجمی مادے میں ہونا چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مادہ کا درجہ حرارت اس حد تک بڑھایاجائے کہ ذرات میں اتنی توانائی ہو–صرف اپنی حرارتی حرکت کی وجہ سے ہی–کہ وہ کولمب روک کے اندر داخل ہوسکیں۔یہ عمل حرارتی نیوکلیائی گداخت کہلاتا ہے۔
سورج کے قالب کادرجہ حرارت بھی صرف تقریباً( K107×1.5)ہے۔ اس لیے سورج میں بھی گداخت کاعمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں وہ پروٹان شامل ہوں جن کی توانائی اوسط توانائی سے کہیں زیادہ ہو۔
اس لیے حرارتی نیوکلیائی گداخت کے ہوسکنے کے لیے درجہ حرارت اوردباؤ کی سخت شرائط کو پوراکیاجاناضروری ہے،جو درجہ حرارت اور دباؤ کی قدریں ستاروں(جس میں سورج بھی شامل ہے) کے اندرونی حصوں میں ہی دستیاب ہیں۔ ستاروں میں توانائی حرارتی نیوکلیائی گداخت کے ذریعے ہی پیداہوتی ہے۔
سورج میں ہونے والاگداخت تعامل ایک کثیر–قدم عمل ہے،جس میں ہائیڈروجن کے احتراق کے ذریعے ہیلیم بنتا ہے،ہائیڈروجن ایندھین ہوتا ہے اورہیلیم ’راکھ‘(ashes)۔پروٹان–پروٹان(P,P)دور جس کے ذریعے یہ عمل ہوتا ہے، مندرجہ ذیل مساواتوں کے سیٹ سے ظاہر کیاجاتا ہے:
(13.30)
چوتھے تعامل کے ہوسکنے کے لیے، پہلے تینوں تعاملات کا دودومرتبہ ہونا ضروری ہے،اس صورت میں دوہلکے ہیلیم مرکز ے متحد ہوکر عام ہیلیم یا ہیلیم نیوکلیس تشکیل دیتے ہیں۔ اگر ہم اجتماع:2(i) + 2(ii) + 2(iii) +(iv)لیں، تومجموعی اثر ہے:
MeV 26.7 +y 6 +v 2 +He4/2→ e2 +H41/1
یا
MeV 26.7 +y 6 + v2 + (2 + He4/2e‾)→(e‾4 + H4/11)

یا
(13.31)
اس طرح،چارج ہائیڈروجن ایٹم متحد ہو کر ایک

ایٹم تشکیل دیتے ہیں اور26.7MeVکی توانائی رہا ہوتی ہے۔
سورج کے قالب میں ہائیڈروجن کا احتراق ایک بڑے پیمانے پر اس لحاظ سے کیمیا(alchemy)ہے کہ ایک عنصر دوسرے عنصر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔یہ عمل تقریباً

سے جاری ہے اور تحسیبات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورج میں اب بھی اتنی ہائیڈروجن باقی ہے جو اس عمل کو تقریباً اتنی ہی مدت تک مستقبل میں جاری رکھنے کے لیے کافی ہوگی۔ لیکن تقریباً 50کھرب(5 billion)برسوں میں سورج کا قالب، جو اس وقت تک زیادہ تر ہیلیم ہوگا، ٹھنڈا ہونا شروع کردے گا اور سورج اپنی ہی مادی کشش کے زیر اثر ڈھیر ہوجائے گا۔ اس سے قالب کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا اور اس کی وجہ سے باہری لفافہ پھیلنا شروع کردے گا، اورآخر کار سورج ایک ’’سرخ دیو‘‘(red giant)کہی جانے والی شکل میں تبدیل ہوجائے گا۔
اگر قالب کا درجہ حرارت بڑھ کر دوبارہ (K 108)تک پہنچ جاتا ہے تو ایک بار پھر گداخت کے ذریعے توانائی پیدا کی جاسکتی ہے—اب ہیلیم کا کاربن میں احتراق کرکے۔ جیسے جیسے ایک ستارہ کا مزید ارتقاہوتا ہے اوروہ مزید گرم ہوتا جاتا ہے، دیگر گداخت تعاملوں کے ذریعے دوسرے عناصر تشکیل پاسکتے ہیں۔ لیکن شکل13.1میں دکھائے گئے بندش توانائی کے فراز کے نزدیک والے عناصر کی کمیت سے زیادہ کمیت والے عناصر مزید گداخت کے ذریعے نہیں پیداکیے جاسکتے۔
ستاروں میں توانائی،حرارتی–نیوکلیائی گداخت کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔
نیوکلیائی غارت گری
(Nuclear Holocaust)
ایک واحد یورنیم انشقاق میں تقریباً0.9×235 MeV (»200 MeV)توانائی آزادہوتی ہے۔ اگر تقریباً235 U 50کے ہر نیوکلیس کا انشقاق ہوتو اس عمل میں تقریباً(1015 × 4)توانائی کی مقدار شامل ہوگی۔ یہ توانائیTNTکے تقریباً20,000ٹن کے معادل ہے،جو کہ ایک اعلا دھماکے(super exposion)کے لیے کافی ہے۔نیوکلیائی توانائی کی بڑی مقدار کے بے قابو طورپر رہاہونے کو ایکایٹمی دھماکہ کہتے ہیں۔ 6اگست1945کو پہلی بار جنگ میںایٹمی آلہ استعمال کیاگیا۔ امریکا نے ہروشیما،جاپان پر ایک ایٹم بم گرایا۔یہ دھماکہ TNTکے 20,000ٹن کے معادل تھا۔ اس کے گرتے ہی تاب کار ماحصلات نے شہر کے10 Sq. Km.کو تباہ کردیا، جس میں3,43,000افراد کی آبادی تھی۔اس میں 66,000افراد مارے گئے اور69,000زخمی ہوئے،شہر کی تعمیرات میں سے67%سے زیادہ تباہ ہوگئیں۔
گداخت تعاملات کے لیے اعلیٰ درجہ حرارت کی صورتیں ایک انشقاق بم کے دھماکے کے ذریعے پیدا کی جا سکتی ہیں ۔ اعلیٰ دھماکوں کی جانچ جو TNTکے 10میگاٹنوں کی دھماکہ خیز پاور کے معادل تھے، 1954میں کی گئی ۔ ایسے بم جن میں ہائیڈروجن ، ڈیوٹیریم اور ٹراٹی یٹم کا گداخت شامل ہوتا ہے، ہائیڈروجن بم کہلاتے ہیں۔ یہ تخمینہ لگایاگیا ہے کہ اس وقت اتنا نیو کلیائی اسلحہ موجود ہے جو اس سیارے پر پائی جانے والی زندگی کی ہر قسم کو ختم کرنے کے لیے درکار اسلحہ سے کئی گنا زیادہ ہے اور جسے ایک بٹن کو دبا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی نیوکلیائی غارت گری نہ صرف یہ کہ اس زندگی کو ختم کردے گی جو اس وقت موجود ہے بلکہ ہمیشہ کے لیے اس زمین کو اس قا بل نہیں رہنے دے گی کہ اس پر کسی قسم کی زندگی پنپ سکے ۔ نظری تحسیبات پر مبنی منظرنامے ایک طویل نیو کلیائی سرما(Long Nuclear winter)کی پیشن گوئی کرتے ہیں،جب تاب کار فضلہ زمین کے کرہ باد میں بادل کی طرح چھا جائے گا اور سورج کی شعاعوں کو جذب کر لے گا۔
13.7.4کنٹرول حرارتی ۔ نیو کلیائی گداخت (Controlled thermonuclear fusion)
زمین پر پہلا حرارتی نیو کلیائی تعامل اپنی ویٹو اٹول (Eniwetok Atoll) میں 1؍ نومبر 1952میں ہوا جب امریکہ نے ایک گداخت آلے کا دھماکہ کیا، جس سے TNTکے 10ملین ٹن کے معادل توانائی پیدا ہوئی (TNTکے ایک ٹن کے پھٹنے سے 2.6 × 1022 MeV کی توانائی رہاہوتی ہے)۔
گداخت پاور حاصل کرنے کے ایک برقرار رکھا جاسکنے والا اور قابل کنٹرول وسیلے کا حصول کافی مشکل ہے ۔ دنیا بھر میں کئی ممالک میں (جن میں ہندوستان بھی شامل ہے) اس کی کوششیں ہورہی ہیں کیونکہ گداخت ری ایکٹر کو مستقبل کا پاور وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔
مثال 13.7: مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے:
(a) کیا نیوکلیائی تعاملات کی مساواتیں (جیسے حصہ 13.7میں دی گئی مساواتیں ) اسی طور پر متوازن ہیں جس طورپر ایک کیمیائی مسات (مثلاً H2O 2 → O2 + H22)متوازن ہوتی ہے ؟ اگر نہیں تو وہ دونوں جانب کسی طورپر متوازن ہیں؟
(b) اگر ہر نیوکلیائی تعامل میں پراٹانوں کی تعداد اور نیوٹرانوں کی تعداد ،دونوں کی بقا ہو توایک نیوکلیائی تعامل میں کمیت توانائی میں (اور اس کے برعکس بھی) کیسے تبدیل ہوگی؟
(c) ایک عام خیا ل یہ پایا جاتا ہے کہ کمیت توانائی کی باہمی منتقلی صرف نیو کلیائی تعامل میں ہوتی ہے اور کیمیائی تعامل میں کبھی نہیں ہوتی۔ بالکل درست طورپر کہیں تو یہ درست نہیں ہے۔ وضاحت کیجیے۔
حل
(a)
ایک کیمیائی تعامل اس لحاظ سے متوازن ہوتا ہے کہ مساوات کی دونوں جانب ہر عنصر کے ایٹموں کی تعداد یکساں ہوتی ہے۔ ایک کیمیائی تعامل صرف ایٹموں کے آغازی اتحاد کو تبدیل کرتا ہے ۔ ایک نیو کلیائی تعامل میں عناصر کا تحول (Transmutation)بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے ایک نیو کلیائی تعامل میں ضروری نہیں ہے کہ ہر عنصر کے ایٹموں کی تعداد کی بقاہو ۔ لیکن ایک نیو کلیائی تعامل میں پروٹانوں کی تعداد اور نیوٹرانوں کی تعداد دونوں کی الگ الگ تعداد کی بقا ہوتی ہے۔ ]دراصل یہ بھی بالکل درست طور پر بہت اعلیٰ توانائیوں کے لیے صادق نہیں آتا جس کی بالکل درست طور پر بقاہوتی ہے وہ ہے کل چارج اور کل بیریان عدد (Baryon Number)۔یہاں ہم اس معاملے سے مزید بحث نہیں کریں گے[نیوکلیائی تعاملات میں (مثلاً مساوات 13.26) مساوات کے دونوں جانب پروٹانوں کی تعداد اور نیوٹرانوں کی تعداد یکساں ہے۔
(b)
ہم جانتے ہیں کہ ایک نیو کلیس کی بندش توانائی نیوکلیس کی کمیت میں ایک منفی حصہ لیتی ہے۔ (کمیت کمی) اب کیونکہ ایک نیو کلیائی تعامل میں پروٹان عدد اور نیوٹران عدد کی بقا ہوتی ہے، نیوٹرانوں اور پروٹانوں کی کل سکونی کمیت ایک تعامل کی دونوں جانب یکساں ہوتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ بائیں جانب کے نیوکلیسوں کی کل بندش توانائی دائیں جانب کے نیو کلیسوں کی بندش توانائی کے مساوی ہو۔ ان بندش توانائیوں کے درمیان فرق ایک نیو کلیائی تعامل میں رہا ہوئی یا جذب ہوئی توانائی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ بندش توانائی کمیت میں حصہ لیتی ہے ہم کہتے ہیں کہ دونوں طرف نیو کلیسوں کی کل کمیت کا فرق توانائی میں تبدیل ہوتا ہے، یا اس کے برخلاف بھی۔ ان معنوں میں ایک نیو کلیائی تعامل کمیت – توانائی باہمی تبدیلی کی مثال ہے۔
(c)
کمیت– توانائی باہمی تبدیلی کے نظریہ سے ایک کیمیائی تعامل اصولی طور پر اور ایک نیو کلیائی تعامل یکساں ہیں ۔ ایک کیمیائی تعامل میں رہائی یا جذب ہوئی توانائی تعامل کے دونوں جانب ایٹموں اور مالیکیوں کی کیمیائی (نیو کلیائی ہیں) بندش توانائیوں کے فرق سے جوڑی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اگر بالکل درست طور پر کہا جائے توکیمیائی بندش توانائی کا بھی ایک ایٹم یا ایک مالیکیول کی کمیت میں منفی حصہ ہوتا ہے۔ ہم مساوی طور پر یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ ایک کیمیائی تعامل کے دونوں جانب ایٹموں یا مالیکیولوں کی کل کمیت کا فرق توانائی میں تبدیل ہوتا ہے یا اس کے بر خلاف بھی۔ لیکن ایک کیمیائی تعامل میں شامل کمیت کمی ایک نیو کلیائی تعامل میں شامل کمیت کمی سے تقریباً دس لاکھ گنا کم ہوتی ہے۔ یہی اس عام خیال کی وجہ ہے(جو درست نہیں ہے) کہ کمیت –توانائی باہمی تبدیلی ایک کیمیائی تعامل میں نہیں ہوتی۔
خلاصہ
1۔ ایک ایٹم میں ایک نیو کلیس ہوتا ہے۔ نیو کلیس مثبت چارج شدہ ہوتا ہے۔ نیو کلیس کا نصف قطر ، ایٹم کے نصف قطر سے 104کے جز ء ضربی سے کم ہوتا ہے۔ ایٹم کی تقریباً 99.9%کمیت نیو کلیس میں مرتکز ہوتی ہے۔
2۔ ایٹمی پیمانے پر کمیت کی پیمائش ایٹمی کمیت اکائیوں (u)میں کی جاتی ہے۔ تعریف کے مطابق 1ایٹمی کمیت12 C اکائی کے ایک ایٹم کی کمیت کا1/12ہوتی ہے:Iu = 1.660563 x 10–27 kg
3۔ ایک نیو کلیس میں ایک تعدیلی ذرہ ہوتا ہے جو نیوٹران کہلاتا ہے۔ اس کی کمیت پروٹان کی کمیت کے تقریباً مساوی ہوتی ہے۔
4۔ ایٹمی عدد Z ایک عنصر کے ایٹمی نیو کلیس میں پروٹانوں کی تعدا د ہے۔ کمیت عدد Aایک ایٹمی نیو کلیس میں پروٹانوں اور نیوٹرانوں کی کل تعداد ہے: A = Z + N،یہاں Nنیو کلیس میں نیو ٹرانوں کی تعداد ظاہر کرتا ہے۔
ایک نیو کلیائی نوع یا نیو کلیائڈ کو(A/ZX)سے ظاہر کیا جاتاہے۔ جہاں x نو ع کی کیمیائی علامت ہے۔
وہ نیو کلیائڈ جن کے ایٹمی عدد Z یکساں ہوتے ہیں لیکن نیوٹران عدد Nمختلف ہوتے ہیں ہم جا کہلاتے ہیں ۔ وہ نیو کلیائڈ جن کے Aیکساں ہوتے ہیں ہم بار ہیں اور وہ جن کے Nیکساں ہیں ہم صوت ہیں ۔
زیادہ تر عناصر دو یا دو سے زیادہ ہم جاؤں کے آمیزے ہوتے ہیں۔ ایک عنصر کی ایٹمی کمیت اس کے ہم جاؤں کی کمیتوں کا وزناتی اوسط ہوتی ہے۔ کمیتیں ہم جاؤں کی نسبتی کثرت ہیں۔
5۔ ایک نیو کلیس کو کروی مانا جاسکتا ہے اور اسے ایک نصف قطر دیا جا سکتا ہے۔ الیکٹران انشار تجربات کے ذریعے یہ نصف قطر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یہ معلوم ہے کہ نیو کلیسوں کے نصف قطر مندرجہ ذیل فارمولے کو مطمئن کرتے ہیں: R = R0 A 1/3
جہاں، = 1.2 fmایک مستقلہ R0 =،اس کا مطلب ہے کہ نیو کلیائی کثافت Aکے غیر تابع ہے۔ نیو کلیائی کثافت 1017 kg / m3کے درجے کی ہے۔
6۔ نیو ٹران اور پروٹان ایک نیو کلیس میں مختصر سعت طاقت ور نیو کلیائی قوت کے ذریعے بندھے ہوتے ہیں ۔ نیو کلیائی قوت ایک نیوٹران اور ایک پروٹان کے مابین فرق نہیں کرتی۔
7۔ نیو کلیائی کمیت Mاس کے اجزا ئے ترکیبی کی کل کمیت، Sm،سے ہمیشہ کم ہوتی ہے۔ ایک نیو کلیس کی کمیت اور اس کے اجزائے ترکیبی کی کل کمیت میں فرق کمیت کمی کہلاتی ہے۔
DM = (Z mp + (A – Z)mn) – M
آئن اسٹائن کا کمیت توانائی رشتہ استعمال کرتے ہوئے ہم اس کمیت فرق کو توانائی کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں
DEb = DM c2
توانائی DEbنیوکلیس کی بندش توانائی کو ظاہر کرتی ہے۔کمیت عدد سعت : A = 30 - 170میں بند ش توانائی فی نیوکلیون تقریباً مستقلہ ہے۔ تقریباً : 8MeVفی نیو کلیون
8۔ نیو کلیائی عملوں سے منسلک توانائی کیمیائی عملوں سے منسلک توانائی سے تقریباً 10لاکھ گنا زیادہ ہوتی ہے ۔
9۔ ایک نیو کلیائی عمل کی Qقدر ہے:
(ابتدائی حرکی توانائی -اختتامی حرکی توانائی ) = Q
کمیت ۔ توانائی کی بقا کی وجہ سے
c2(اختتامی کمیتوں کا حاصل جمع -ابتدائی کمیتوں کا حاصل جمع) Q =
10۔ تاب کاری وہ مظہر ہے جس میں ایک دی ہوئی نوع کے مرکزےaیا bیا gکرنیں خارج کرکے دوسری نوع کے مرکزوں میں تبدیل ہوتے ہیں ۔–aکرنیں ہیلیم کے مرکز ے ہیں ۔bکرنیں الیکٹران ہیں ۔gکرنیں ایسی برقی مقناطیس شعاعیں ہیں جن کا طول لہر xکرنوں کے طول لہر سے کم ہوتا ہے۔
11۔ تاب کار تنزل کا قانون:N (t) = N(0) e–lt
ایک ریڈیو نیوکلیائڈ کی نصف زندگی T1/2وہ مدت ہے جس میں N اپنی آغاز ی قدر کا نصف ہو جا تا ہے۔ اوسط–زندگی t وہ مدت ہے جس میںNاپنی آغازی قدر کاe-1 ہوجاتا ہے۔
λ / 1n2 = T 1/2 = τ 1n 2

12۔ جب مقابلتاً کم مضبوطی سے بندھے ہوئے نیوکلیسوں کی مقابلتاً زیادہ مضبوطی سے بندھے ہوئے نیو کلیسوں میں تحویل ہوتی ہے تو توانائی رہا ہوتی ہے۔ انشقاق میں( U 235/92 )جیسا ایک بھاری نیو کلیس دو مقابلتاً چھوٹے اجزاء میں ٹوٹتا ہے۔ مثلاً : n 41/0 + Nb99/41 + Sb133/51 →n 1/0 + U235/92
13۔ یہ حقیقت کہ ایک انشقاق میں اس سے زیادہ نیوٹران پیدا ہوتے ہیں جتنے استعمال ہوتے ہیں زنجیر–تعامل کا امکان پیدا کرتی ہے، جس میں ہر پیدا ہونے والا نیوٹران دوسرا انشقاق کر سکتا ہے۔ زنجیر تعامل ایک نیو کلیائی بم دھماکے میں غیر قابو شدہ اور بہت تیزی سے ہوتا ہے۔ ایک ری ایکٹر میں نیوٹران ضرب جز ضربی K کی قدر 1پر برقرار رکھی جاتی ہے۔
14۔ گداخت میں مقابلتاً ہلکے مرکزے متحد ہو کر ایک مقابلتاً بڑا نیوکلیس تشکیل دیتے ہیں۔ ہائیڈروجن نیو کلیسوں کا ہیلم نیو کلیسوں میں گداخت، تمام ستاروں کا بہ شمول سورج، توانائی کا وسیلہ ہے۔
| طبعی مقدار |
علامت |
البعاد |
اکائیاں |
ریمارکس |
| ایٹمی کمیت اکائی |
|
[M] |
u |
ایٹمی یا نیو کلیائی کمیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے کمیت کی اکائی ایک ایٹمی کمیت اکائی 12Cکی کمیت کے 1/12کے مساوی ہے۔ |
| تکسیر یا تنزل مستقلہ |
λ |
[T-1] |
s-1 |
|
| نصف زندگی |
T1/2 |
[T] |
S |
ایک تاب کا رنمونے میں پائے جانے والے نیو کلیوں کی آغازی تعداد کی نصف تعداد کے تنزل میں لگنے والا وقت |
| اوسط زندگی |
τ |
[T] |
s |
مدت جس میںنیو کلیوں کی تعداد کی آغازی تعداد کا e-1ہو جاتی ہے۔ |
| ایک تابکار نمونے کی فعالیت |
R |
[T-1] |
Bq |
ایک تابکار وسیلے کی فعالیت کا ناپ
|
قابل غور نکات
1۔ نیوکلیائی مادے کی کثافت نیوکلیس کے سائز کے غیر تابع ہے ۔ ایٹم کی کمیت کثافت اس قاعدے کی پابندی نہیں کرتی۔
2۔ الیکٹران انتشار کے ذریعے نیو کلیس کے نصف قطر کی معلوم کی گئی قدر، -aذرہ انتشار کے ذریعے معلوم کی گئی قدر سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکٹران انتشار ، نیوکلیس کی چارج تقسیم کو محسوس کرتا ہے ۔ جبکہ الفا اور اس جیسے دوسرے ذرات نیو کلیائی مادے کو محسوس کرتے ہیں۔
3۔ جب آئن اسٹائن نے کمیت ۔توانائی کی معدلیت E = mc2ثابت کردی تو ہم کمیت کی بقا اور توانائی کی بقا کے علیحدہ علیحدہ قوانین کی بات اب نہیں کر سکتے بلکہ اب ہمیں متحدہ قانون، کمیت اور توانائی کی بقا، کی بات کرنا ہوگی۔ اس بات کا سب سے زیادہ قابل قبول ثبوت کہ یہ اصول قدرت میں لاگو ہوتا ہے، نیوکلیائی طبیعیات میں ملتا ہے۔ یہ نیو کلیائی توانائی کی تفہیم اور پاور کے وسیلے کے طورپر نیو کلیائی توانائی کو قابل استعمال بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اس اصول کو استعمال کرتے ہوئے ایک نیو کلیائی عمل (تنزل یا تعامل) کی Qبھی آغازی اور اختتامی کمیتوں کی شکل میں ظاہر کی جاسکتی ہے۔
4۔ بندش توانائی فی نیو کلیوں منحنی کی طبع ظاہر کرتی ہے کہ حرارت زا(exothermic)نیو کلیائی تعاملات اس صورت میں ممکن ہیں جب دو ہلکے مرکزسے گداخت کرتے ہیں یا جب ایک بھاری نیو کلیس کا درمیان کمیتوں کے نیو کلیسوں میں انشقاق ہوتا ہے۔
5۔ گداخت کے لیے ہلکے مرکزوں میںکو لمب مضمر روک کو عبور کرنے کے لیے درکار توانائی ہونا لازمی ہے۔ اسی لیے گداخت کے لیے بہت اعلیٰ درجات ِ حرارت چاہیے ہوتے ہیں۔
6۔ حالانکہ بندش توانائی (فی نیو کلیوں) منحنیہموار ہوتا ہے اور آہستگی سے تبدیل ہوتا ہے، یہ 4He، 16Oوغیرہ جیسے نیو کلیائڈوں کے لیے فراز ظاہر کرتا ہے۔ اسے نیو کلیسوں میں ایٹم جیسی شیل ساخت کا ثبوت مانا جاتا ہے۔
7۔ الیکٹران اور پوزی ٹران ، ذرہ ۔ ضدذرہ جوڑا ہے۔ یہ کمیت کے لحاظ سے متماثل ہیں، ان کے چارج کی عددی قدریں مساوی ہیں لیکن نوع مخالف ہے ۔ (یہ دیکھا گیا ہے کہ جب ایک الیکٹران اور ایک پوزی ٹران ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو فنا کر دیتے ہیں اورr –کرن فوٹانوں کی شکل میں توانائی مہیا کرتے ہیں )۔
8۔ ایک تنزل میں (الیکٹران اخراج) الیکٹران کے ساتھ خارج ہونے والا ذرہ اینٹی نیو ٹرینو ہے دوسری طرف b+تنزل میں (پوزی ٹران اخراج) خارج ہونے والا ذرہ نیوٹرینو(n)ہے ۔ نیوٹرینواینٹی پروٹان کیا ہوگا جو پروٹان کا ضد–ذرہ ہے۔ اور اینٹی نیو ٹرینو بھی ذرہ ۔ضدذرہ جوڑا ہیں ۔ ہر ذرہ سے منسلک ضد ذرات ہوتے ہیں۔
9۔ ایک آزاد نیو ٹران غیر مستحکم ہے ۔( ‾n →P +e‾+ v)

لیکن یکساں آزاد پروٹان تنزل ممکن نہیں ہے، کیونکہ ایک پروٹان ایک نیوٹران سے (ذراسا) ہلکا ہوتا ہے۔
10۔ گاما اخراج عام طور سے الفا یا بیٹا اخراج کے بعد ہوتا ہے۔ ایک نیو کلیس ایک مشتعل حالت (اعلیٰ حالت) سے مقابلتاً نچلی حالت میں ایک گاما فوٹان خارج کرکے پہنچتا ہے۔ ایک الفا یا بیٹا اخراج کے بعد ایک نیو کلیس مشتعل حالت میں ہو سکتا ہے۔ اسی نیو کلیس سے اس کے بعد ایک ایک کر کے ہونے والے گاما کرنوں کے اخراج (جیسے 60Niمیں، شکل 13.4) اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نیو کلیسوں میں بھی ایٹموں کی طرح مجرد توانائی منازل ہوتی ہیں۔
11۔ تاب کاری نیو کلیسوں کے غیر استحکام کی علامت ہے۔ استحکام کے لیے نیوٹران– پروٹان نسبت 1کے قریب ہونا چاہیے۔ بھاری نیوکلیسوں کے لیے یہ نسبت بڑھ کر 3:2ہو جاتی ہے۔ (پروٹانوں کے درمیان دفع کے اثر پر قابو پانے کے لیے زیادہ نیوٹران درکار ہوتے ہیں۔) وہ مرکزے جو استحکام نسبت سے دور ہیں، یعنی کہ جن میں نیوٹرانوں یا پروٹرانوں کی زیادتی پائی جاتی ہے، غیر مستحکم ہوتے ہیں ۔ دراصل معلوم ہم جاؤں میں سے (تمام عناصر کے )صرف تقریباً 10%ہی مستحکم ہیں ۔ دیگر یا تو تجربہ گاہ میںa، p،d، nیا دوسرے ذات کی مستحکم نیو کلیائی انواع کے ہدف پر بمباری کر کے مصنوعی طور پر پیدا کیے گئے ہیں یا کائنات میں مادے کے فلکیاتیمشاہدے میں ان کی شناخت کی گئی ہے۔
مشق
آپ مندرجہ ذیل آنکڑوں کو مشقی سوالات حل کرنے میں کار آمد پائیں گے۔
| N = 6.023×1023 per mole |
e = 1.6×10–19C |
k = 1.381×10–23J K-1
|
1/(4pe0)= 9 × 109 N m2/C2) |
| MeV / c2 1 u = 931.5 |
1 MeV = 1.6×10-13J 1 year = 3.154×107 s
|
| mn = 1.008665 u |
mH= 1.007825 u |
| me = 0.00548 u |
4.002603 = (He 4/2) m
|
بورون کے دو مستحکم ہم جا( B10/5)اور( B 11/5)ہیں۔ ان کی بالترتیب کمیتیں 10.01294uاور 11.00931u ہیں، اور بورون کی ایٹمی کمیت 10.811 uہے۔( B10/5)اور ( B 11/5)کی کثرتیں معلوم کیجیے۔