Skip to content
12-Tabiyaat-II-001


باب چودہ 

نیم موصل الکٹرانیات:مادّے،

آلات اور سادہ سرکٹ

SEMI CONDUCTOR ELECTRONICS: MATERIALS, DECVICES AND

IMPLECIRCUTS

14.1تعارف(INTRODUCTION) 

وہ آلات جن میں الیکٹرانوں کا قابوشدہ بہاؤ حاصل کیاجاسکتا ہے،تمام الیکٹرانک سرکٹوں کے بنیادی اجزائے ترکیبی ہیں۔1948میں ٹرانسسٹرکی ایجاد سے پہلے،ایسے آلات،زیادہ ترخلائی نلیاں(vacuum tubes) تھیں]جووالو(valves)بھی کہلاتی تھیں[جیسے خلائی ڈایوڈ،جس میں دوبرقیرہ ہوتے ہیں،یعنی کہ،مبثیرہ(جسے اکثرپلیٹ بھی کہاجاتا ہے)اورمنفیرہ،ٹرایوڈ،جس میں تین برقیرہ ہوتے ہیں—منفیرہ،پلیٹ اورگرڈ،ٹیٹروڈ اورپینٹوڈ (بالتریب4اور5برقیروں پر مشتمل)۔ایک خلائی نلی میں ایک گرم کیے گئے منفیرہ کے ذریعے الیکٹران مہیاکیے جاتے ہیں اوران الیکٹرانوں کاخلامیں قابوشدہ بہاؤ،اس کے مختلف برقیروں کے درمیان وولٹیج تبدیل کرکے حاصل کیاجاتا ہے۔برقیروں کی درمیانی جگہ میں خلا چاہیے ہوتاہے،ورنہ حرکت کرتے ہوئے الیکٹران اپنے رستے میںآنے والے ہواکے مالیکیولوں سے تصادم کرکے اپنی توانائی ضائع کرسکتے ہیں۔ان آلات میں،الیکٹران صرف منفیرہ سے مثبیرہ تک بہہ سکتے ہیں(یعنی کہ صرف ایک سمت میں)۔اسی لیے ایسے آلات کو عام طورسے والو بھی کہاجاتا ہے۔یہ خلائی نلی آلات،زیادہ جگہ گھیرنے والے ہوتے ہیں،زیادہ پاور استعمال کرتے ہیں،عام طورسے اونچی وولٹیجوں
(~100V)
پرکام کرتے ہیں اوران کی زندگی مختصر ہوتی ہے اور زیادہ قابل 
بھروسہ بھی نہیں ہوتے۔جدید ٹھوس–
1
حالت نیم موصل الیکٹرانیات کی بنیاد1930میں پڑی،جب پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ کچھ ٹھوس–حالت نیم موصل اوران کے جنکشن ان میں سے گذررہے چارج برداروں(Charge carriers)کی تعداد اوران کے بہاؤ کی سمت کو کنٹرول کرسکنے کاامکان مہیاکرتے ہیں۔سادے اشتعال گرجیسے روشنی،حرارت یاخفیف اطلاقی وولٹیج وغیرہ ایک نیم موصل میں متحرک چارجوں کی تعداد تبدیل کرسکتے ہیں۔نوٹ کریں کہ نیم موصل آلات میں چارج برداروں کی فراہمی اورچارج کابہاؤ خود ٹھوس کے اندر ہی ہوتا ہے،جب کہ پرانی خلانلیوں/والووں میں متحرک الیکٹران ایک گرم کیے گئے منفیرہ سے حاصل کیے جاتے تھے اورانھیں ایک خلا کی گئی جگہ یا خلامیں سے بہایاجاتا تھا۔ نیم موصل آلات کے لیے باہر سے حرارت مہیاکرنے یاخلا کی گئی بڑی جگہ فراہم کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی۔یہ سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں،مقابلتاً بہت کم پاور استعمال کرتے ہیں،ادنیٰ وولٹیج پر کام کرتے ہیں اور ان کی زندگی لمبی ہوتی ہے اور زیادہ قابل بھروسہ ہوتے ہیں۔ٹیلی ویژن اورکمپیوٹر مانیٹروں میں استعمال کی جانے والی منفیرہ کرن نلیاں[(کیتھوڈرے ٹیوبزCathode ray tubs)(CRT) ]کو بھی،جوخلائی نلیوں کے اصول پر کام کرتی ہیں،رقیق کرسٹل نمائش[ (liquid crystal display) (LCD) ] مانیٹروں سے، مددگار ٹھوس حالت الیکٹرانیات کے ساتھ،تبدیل کیاجارہا ہے۔نیم موصل آلات کی باقاعدہ اہمیت کااحساس کیے جانے سے بہت پہلے ہی،ایک قدرتی طورپر پائے جانے والے کرسٹل گیلینا(galena)(لیڈسلفائڈPbs)سے ایک دھاتی نقطہ تماس منسلک کرکے اسے ریڈیو لہروں کو شناخت کرنے کے لیے استعمال کیاگیا تھا۔ 
مندرجہ ذیل حصوں میں ہم نیم موصل طبیعات کے بنیادی تصورات کا تعارف پیش کریں گے اورکچھ نیم موصل آلات،جیسے جنکشن ڈایوڈ(ایک–2برقیرہ آلہ)اوردوقطبی جنکشن ٹرانسسٹر(ایک –3برقیرہ آلہ)،سے بحث کریں گے۔ ان کے اطلاق کی وضاحت کرنے والے چند سرکٹ بھی بیان کیے جائیں گے۔

14.2 دھاتوں،موصلوں اورنیم موصلوں کی درجہ بندی(Calssifications of Metals, Conductors and Semi Conductors)

ایصالیت کی بنیادپر:
برقی ایصالیتPic-183یامزاحمیت کی نسبتی قدروں کی بنیادپر ٹھوس اشیا کی موٹے طورپر درجہ بندی کی جاسکتی ہے:

(i)دھاتیں(Metals): ان کی مزاحمت بہت کم ہوتی ہے۔(یاایصالیت زیادہ ہوتی ہے)
p~10-2–10-8Ωm
σ~102– 10-8 ΩS m -1
(ii)نیم موصل(Semiconductors):ان کی مزاحمیت یا ایصالیت،دھاتوں اورحاجزوں کے درمیان ہوتی ہے۔
p~10-5–10+6 Pic-182m
σ~105– 10-6Pic-182S m -1
(iii)حاجز(Insulators):ان کی مزاحمیت بہت زیادہ ہوتی ہے(یاایصالیت بہت کم ہوتی ہے)
p~11-5–1019 Ω m
σ~10-11– 10-19 Ω S m -1

 p اور σکی مندرجہ بالاقدریں صرف ان کی عددی قدر کی نشان دہی کرتی ہیں اورکچھ اشیا کے لیے ان کی قدردی ہوئی سعت کے باہر بھی ہوسکتی ہے۔مزاحمیت کی نسبتی مقداریں ہی صرف دھاتوں،حاجزوں اورنیم موصلوں میں امتیاز کرنے کاواحد معیارنہیں ہیں۔کچھ دیگر فرق بھی ہیں،جو اس باب میںآگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوتے جائیں گے۔
اس باب میں ہماری دلچسپی ان نیم موصلوں کے مطالعے سے ہے جو ہوسکتے ہیں!
(i) عنصری نیم موصل:Si اور Ge
(ii) مرکب نیم موصل:مثالیں ہیں:
غیرنامیاتی
CdS, GaAs CdSe, InP,: (inorganic)
 وغیرہ
نامیاتی(organic):اینتھراسین،آمیزش شدہ(doped)پیتھالوسیانائنس وغیرہ
نامیاتی پولیمر:پولی پائی رول،پولی اینی لائن،پولی تھائیوفیٖن وغیرہ
آج کل جو نیم موصل دستیاب ہیں،ان میںسے زیادہ تر عنصری نیم موصلSiیاGiاورمرکب غیر نامیاتی نیم موصل ہیں۔لیکن1990کے بعد سے چند ایسے نیم موصل آلات تیار کیے گئے ہیں جن میں نامیاتی موصل اورنیم ایصالی پولیمر استعمال کیے گئے ہیں اوراس طرح پولیمر الیکٹرانیات اورمالیکیولی الیکٹرانیات کی شروعات ہوگئی ہے جو مستقبل کی ٹیکنالوجی کی نشان دہی کرتی ہیں۔ اس باب میں ہم غیرنامیاتی نیم موصل،خاص طورپر عنصری نیم موصل SiاورGeکے مطالعے تک محدودرہیں گے۔ یہاں عنصری نیم موصلوں سے بحث کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے عمومی تصورات کا اطلاق بڑی حد تک زیادہ ترمرکب نیم موصلوں پر بھی ہوتا ہے۔

توانائی بینڈ س کی بنیا دپر:

بوہر ایٹمی ماڈل کے مطابق، ایک جداایٹم میں،اس کے کسی بھی الیکٹران کی توانائی اس مدار سے متعین ہوتی ہے جس میںوہ طواف کرتا ہے۔لیکن جب ایٹم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ٹھوس شے تشکیل کرتے ہیں تووہ ایک دوسرے کے بہت نزدیک ہوتے ہیں۔اس لیے پڑوسی ایٹموں کے باہری مدار ایک دوسرے کے بہت زیادہ نزدیک ہوجاتے ہیں،یہاں تک کہ وہ ہم پوش(overlapping)بھی ہوسکتے ہیں۔اس طرح ایک ٹھوس شے میں الیکٹران کی حرکت، ایک جدا ایٹم میں الیکٹران کی حرکت سے بہت مختلف ہوجاتی ہے۔
ایک کرسٹل کے اندر ہر الیکٹران کا ایک یکتا(unique)مقام ہوتا ہے اورکن ہی دوالیکٹرانوں کے اردگرد چارجوں کا یکساں نمونہ نہیں پایاجاتا۔اس وجہ سے،ہر الیکٹران کی مختلف توانائی منزل ہوتی ہے۔ وہ توانائی منازل،جن میں توانائی کی مسلسل تبدیلی پائی جاتی ہے،توانائی بینڈ تشکیل دیتے ہیں۔ وہ توانائی بینڈجس میں گرفت الیکٹرانوں(valence electrons)کی توانائی منازل شامل ہوتی ہیں،گرفت بینڈکہلاتے ہیں۔گرفت بینڈکے اوپر کاتوانائی بینڈ،ایصالی بینڈ (conduction) band)کہلاتا ہے۔اگر کوئی خارجی توانائی مہیانہ ہوتو تمام گرفت الیکٹران،گرفت بینڈ میں رہیں گے۔اگر ایصالی بینڈ کی نچلی ترین منزل،گرفت بینڈکی سب سے اوپری منزل سے نیچے ہوتو گرفت بینڈ کے الیکٹران باآسانی ایصال بینڈ میں جاسکتے ہیں۔عام طورسے ایصال بینڈ خالی ہوتاہے۔لیکن جب وہ گرفت بینڈ سے ہم پوش ہوتا ہے تو الیکٹران باآسانی اس میں داخل ہوسکتے ہیں۔دھاتی موصلوں میں یہی  صورت ہوتی ہے۔
اگر ایصال بینڈ اورگرفت بینڈ کے درمیان کچھ فاصلہ(درمیانی خالی جگہgap)ہوتو گرفت بینڈ کے تمام الیکٹران بندھے رہتے ہیں اورایصال بینڈ میں کوئی آزاد الیکٹران نہیں دستیاب ہوتا۔اس طرح وہ مادی شے حاجز بن جاتی ہے۔لیکن گرفت بینڈ کے کچھ الیکٹران اتنی خارجی توانائی حاصل کرسکتے ہیں کہ ایصال بینڈ اورگرفت بینڈ کے درمیانی فاصلے کو پار کرسکیں۔تب یہ الیکٹران ایصال بینڈ میںداخل ہوجائیں گے۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ وہ گرفت بینڈ میں خالی توانائی منازل پیداکردیں گے جہاں دوسرے گرفت الیکٹران آسکتے ہیں۔اس طرح اس عمل سے ایصال بینڈ میں الیکٹرانوں کے ذریعے اورگرفت بینڈ میں خلو(vacancy)کے ذریعے ایصال کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔
آئیے دیکھیں کہ Nایٹموں کے ایکSiیاGiکرسٹل میںکیاہوتا ہے۔Siکے لیے سب سے باہری مدار تیسرامدار(n=3)ہے جب کہGeکے لیے یہ چوتھامدار(n=4)ہے۔سب سے باہری مدار میں الیکٹرانوں کی تعداد 4ہے(2s+6pالیکٹران)۔اس لیے 4Nگرفت الیکٹرانوں کے لیے8Nدستیاب توانائی حالتیں ہیں۔یہ 8Nمجرد توانائی منازل یاتو ایک مسلسل بینڈ تشکیل دے سکتے ہیں یا مختلف بینڈوں میں ان کے گروپ ہوسکتے ہیں،جس کاانحصار کرسٹل میںایٹموں کے درمیانی فاصلے پر ہے(ٹھوس اشیا کے بینڈ نظریہ پر باکس دیکھیے)
SiاورGeکی کرسٹل جالی(کرسٹل لیٹسcrystal lathice)میں ایٹموں کے درمیانی فاصلے پر ان8Nحالتوں کے توانائی بینڈ دوحصوں میں علاحدہ ہوجاتے ہیں،جن کے درمیان توانائی فصلEgہوتی ہے(شکل14.1)۔نچلا بینڈ جو مطلق صفر درجہ ٔ حرارت پر 4Nگرفت الیکٹرانوں کے ذریعے مکمل طورپر گھراہوتا ہے، گرفت بینڈ ہے۔ دوسرابینڈ،جو 4Nتوانائی 
حالتوں پر مشتمل ہوتا ہے اورایصال بینڈ کہلاتا ہے،مطلق صفر پر پوری طرح خالی ہوتا ہے۔


ٹھوس اشیا کا بینڈ نظریہ
(BAND THEORY OF SOLIDS)
مان لیجیے کہSiیاGeکرسٹل میںNایٹم ہیں۔ہرایٹم کے الیکٹرانوں کی مختلف مداروں میں مجرد توانائیاں ہوں گی۔ اگرتمام ایٹم جداجداہوں،یعنی ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر ہوں تو الیکٹران توانائی یکساں ہوگی۔ لیکن ایک کرسٹل میں،ایٹم ایک دوسرے کے نزدیک ہوتے ہیں(2Å یا 3Åفاصلہ )اس لیے الیکٹران ایک دوسرے سے اورپڑوسی ایٹمی قالبوں سے باہم عمل کرتے ہیں۔یہ ہم پوشی(overlap) ](یاباہم عمل)(or interaction) [ وہ الیکٹران زیادہ محسوس کرتے ہیں جو سب سے باہری مدار میں ہوتے ہیں،جب کہ اندرونی مداروں یا قالب کے الیکٹرانوں کی توانائیاں غیر متاثر رہ سکتی ہیں۔اس لیےSiیاGeکرسٹل میں الیکٹران توانائیوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف سب سے باہری مدار کے الیکٹرانوں کی توانائیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو ہی دیکھنے کی ضرورت ہے۔Siکے لیے سب سے باہری مدار،تیسرامدار ہے(n=3)،جب کہ Geکے لیے یہ چوتھامدار ہے(n=4)۔ سب سے باہری مدار میں الیکٹرانوں کی تعداد 4ہے (2sاور2p الیکٹران)اس لیے کرسٹل میں باہری الیکٹرانوں کی کل تعداد4Nہے۔ایک مدار میں باہری الیکٹرانوں کی ازحد ممکنہ تعداد8ہے۔ (2s+6pالیکٹران)۔اس لیے،4Nٓٓٓالیکٹرانوں میں سے،2Nالیکٹران،2N،–&حالتوں میں(l=0مدراچہ کوانٹم عدد) اور2Nالیکٹران،6N،–pحالتوں میں دستیاب ہیں۔ظاہر ہے کہ کچھ–pالیکٹران حالتیں خالی ہیں،جیساکہ شکل کے بالکل دائیں حصے میں دکھایا گیا ہے۔ یہ ایک دوسرے سے بخوبی الگ یاجدا ایٹموں کی صورت ہے]شکل کاAعلاقہ]
Pic-184
فرض کیجیے کہ یہ ایٹم ایک ٹھوس شے تشکیل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے نزدیک آنا شروع کردیتے ہیں۔سب سے باہری مدار میں ان الیکٹرانوں کی توانائیاں تبدیل ہوسکتی ہیں(بڑھ بھی سکتی ہیں اورکم بھی ہوسکتی ہیں)،جس کی وجہ مختلف ایٹموں کے الیکٹرانوں کے مابین باہمی عمل ہے۔l=1کے لیے6Nحالتیں،جن کی آغازی شکل میں،جداایٹموں میں متساوی توانائیاں تھیں،پھیل جاتی ہیں اورایک توانائی بینڈ تشکیل دیتی ہیں (شکل میں علاقہB)۔اسی طرحl=0کے لیے2Nحالتیں،جن کی جداایٹموں میں متساوی توانائیاں تھیں،ایک دوسرے بینڈ میں شامل ہوجاتی ہیں۔ (دھیان سے شکل کا علاقہBدیکھیے)،جو کہ پہلے بینڈ سے ایک توانائی فصل کے ذریعے علاحدہ ہوتا ہے۔
اس سے بھی کم درمیانی فاصلے پر،پھر بھی ایک ایساعلاقہ ہوتا ہے، جس میں بینڈ ایک دوسرے میں ضم (merge)ہوجاتے ہیں۔کم ترین توانائی حالت جو اوپری ایٹمی منزل سے علاحدہ ہوئی ہوتی ہے،مقابلتاًنچلی ایٹمی منزل کی بالائی حالت کے نیچے آجاتی ہے۔اس علاقے میں(شکل میں علاقہC)،ایسی کوئی توانائی فصل نہیں ہوتی اوریہاں اوپری اورنچلی توانائی حالتیں ایک دوسرے میں مل جاتی ہیں۔
آخر میں،اگر ایٹموں کادرمیانی فاصلہ مزید کم ہوجائے توتوانائی بینڈ پھر ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں اوران کے درمیان توانائی فصل آجاتی ہے(شکل میں علاقہD)۔دستیاب توانائی حالتوں کی کل تعداد8N،دونوں بینڈوں کے درمیان دوبارہ تقسیم ہوجاتی ہے(نچلے اوراوپری توانائی بینڈوں میں سے ہرایک میں4Nحالتیں)۔یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ نچلے بینڈ میں قطعی درست طورپر اتنی ہی حالتیں ہوتی ہیں(4N)،جتنے ایٹموں سے دستیاب گرفت الیکٹران ہوتے ہیں(4N)۔
اس لیے،یہ بینڈ(جوگرفت بینڈ کہلاتا ہے)مکمل طورپر بھراہوتا ہے،جب کہ اوپری بینڈ مکمل طورپر خالی ہوتا ہے۔یہ اوپری بینڈ ایصال بینڈ کہلاتا ہے۔

ایصال بینڈ میں کم ترین توانائی منزل کو بہ طور Ecدکھایا گیا ہے اور گرفت بینڈ میں اعظم ترین توانائی کو بہ طور Evدکھایا گیا ہے۔ Ec سے اوپر تعد Evسے نیچے ایک دوسرے کے بہت نزدیک نزدیک بڑی تعداد میں توانائی منازل ہیں، جیسا کہ شکل 14.7 میں دکھایا گیا ہے۔

7

حالتوں کی لامتناہی تعداد،جن میںسے ہر ایک حالت دوالیکٹرانوں سے گھری ہے۔

شکل14.1:نیم موصل میںOKپر توانائی بینڈمقامات–اوپری بینڈ،جوایصال بینڈ کہلاتا ہے،ایک دوسرے کے قریب قریب توانائی حالتوں کی لامتناہی تعداد پر مشتمل ہوتا ہے۔نچلا بینڈ،جو گرفت بینڈکہلاتا ہے،ایک دوسرے کے قریب قریب مکمل طورپر بھری ہوئی،توانائی حالتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

گرفت بینڈ کی اوپری سطح اورایصال بینڈ کی سب سے نچلی سطح کے درمیان فصل، توانائی بینڈ فصل(energy band gap) [توانائی فصلEg] کہلاتی ہے۔یہ بڑی بھی ہوسکتی ہے،خفیف بھی اورصفر بھی،جو کہ مادی شے پر منحصر ہے۔یہ مختلف صورتیں شکل14.2 میں دکھائی گئی ہیں اوران سے ذیل میں بحث کی گئی ہے۔

صورت1:یہ وہ صورت ہے جو شکل
14.2(a)
میں دکھائی گئی ہے۔ ہمیں ایک دھات اس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب یاتوایصال بینڈ جزوی طورپربھرا ہوا ہو اورگرفت بینڈ جزوی طورپر خالی ہو یا ایصال بینڈ اورگرفت بینڈ ہم پوش ہوں۔جب ہم پوشی پائی جاتی ہے توگرفت بینڈ سے الیکٹران باآسانی ایصال بینڈ میں جاسکتے ہیں۔ اس صورت میں برقی ایصال کے لیے الیکٹرانوں کی ایک بڑی تعداد مہیا ہوجاتی ہے۔جب گرفت بینڈ جزوی طورپر خالی ہوتا ہے تواس کی نچلی منزل سے الیکٹران مقابلتاًاوپری منزل میں جاسکتے ہیں اوراس طرح ایصالممکن ہوجاتا ہے۔اس لیے ایسی مادی اشیاء کی مزاحمت کم ہوتی ہے اورایصالیت کی قدراعلا ہوتی ہے۔
Pic-186
شکل14.2 :(a)دھاتوں(b)حاجزوں(c)نیم موصلوں کے توانائی بینڈوں کے درمیان فرق

الیکٹران توانائیاں الیکٹران توانائیاں

ہم پوش ایصال بینڈ ایصال بینڈ گرفت بینڈ گرفت بینڈ
(a) (i) الیکٹران توانائیاں الیکٹران توانائیاں
خالی ایصال بینڈ گرفت بینڈ (c) (b)

صورتII:اس صورت میں،جیسا کہ شکل
14.2(b)
میں دکھایا گیا ہے،ایک طویل بینڈ فصل Egپائی جاتی ہے۔(Eg>3eV)ایصال بینڈ میں کوئی الیکٹران نہیں ہوتا اور اس لیے ایصال بالکل ممکن نہیں ہوتا۔نوٹ کریں کہ توانائی اتنی بڑی ہے کہ الیکٹرانوں کوحرارتی اشتعال کے ذریعے گرفت بینڈ سے ایصال بینڈ میں مشتعل نہیں کیاجاتاسکتا۔یہ حاجزوں کی صورت ہے۔
صورتIII:
یہ صورت شکل
14.2 (c)
میں دکھائی گئی ہے۔ یہاں ایک متناہی لیکن خفیف فصل پائی جاتی ہے۔(Eg>3eV)اخفیف بینڈ فصل کی وجہ سے،کمرہ درجہ حرارت پر،گرفت بینڈ کے کچھ الیکٹران اتنی توانائی حاصل کرسکتے ہیں جو توانائی فصل کوعبور کرنے کے لیے کافی ہو اورایصال بینڈ میں داخل ہوسکتے ہیں۔یہ الیکٹران (حالانکہ ان کی تعداد کم ہوتی ہے)ایصالی بینڈ میں آسکتے ہیں۔اس لیے،نیم موصلوں کی مزاحمت اتنی زیادہ نہیں ہوتی جتنی حاجزوں کی ہوتی ہے۔
اس حصہ میں ہم نے دھاتوں،موصلوں اورنیم موصلوں کی موٹے طورپر درجہ بندی کی ہے۔اگلے حصے میں آپ نیم موصلوں میں ہونے والے ایصالی عمل کے بارے میں سیکھیں گے۔
8
شکل14.3:کاربن،سلی کون یاجرمنیم کے لیے سہ–ابعادی ہیرے–جیسی کرسٹل ساخت جس میں متطابق لیٹس درمیانی خالی جگہa، 3.56, 5.43اور5.66 Å

14.3ذاتی نیم موصل(INTRINSIC SEMICONDUCTOR)

ہمGeاورSiکی صورت لیتے ہیں،جوعام ترین صورت ہے اورجن کی لیٹس ساخت شکل 14.3میں دکھائی گئی ہے۔ یہ ساختیں،ہیرے جیسی ساختیں کہلاتی ہیں۔ہرایٹم چارقریب ترین پڑوسیوں سے گھراہوتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ SiاورGeمیں4گرفت الیکٹران ہوتے ہیں۔اس کی قلمی ساخت میں اس کا ہر ایٹم اپنے چاروں پڑوسی ایٹموں میں سے ہر ایک کو اپنے چاروں گرفت الیکٹرانوں میں سے ایک ایک الیکٹران بانٹتاہے اورہر پڑوسی ایٹم سے ایک ایک الیکٹران کاحصہ لیتا ہے۔ یہ ساجھا کیے ہوئے الیکٹران جوڑے ایک شریک گرفت بند بتاتے ہیں۔سادہ طورپر اسے گرفت بند بھی کہتے ہیں۔دونوں بانٹے گئے الیکٹرانوں کو ماناجاسکتا ہے کہ وہ جن ایٹموں سے منسلک ہیں ان میں ایک سے دوسرے ایٹم پر ٓتے جاتے رہتے ہیں اوراس طرح انھیں مضبوطی سے باندھے رکھتے ہیں۔شکل14.4میں شکل 14.3میں دکھائی گئی SiیاGeساخت کا –2ابعادی اظہار دکھایاگیا ہے،جو شریک گرفت بند کو ضرورت سے زیادہ پرزد طریقے سے پیش کرتی ہے۔ اس میں ایک مثالی تصویر دکھائی گئی ہے،جس میں کوئی بندٹوٹا نہیں ہے(اورتمام بند اپنی جگہ موجود ہیں)۔ایسی صورت نچلے درجات حرارت پرپیداہوتی ہے۔جیسے جیسے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتاجاتاہے،ان الیکٹرانوں کو حرارتی توانائی مہیاہوجاتی ہے اوران میں سے کچھ الیکٹران ٹوٹ کرباہر جاسکتے ہیں(آزاد الیکٹران بن سکتے ہیں اورایصال میں حصہ لے سکتے ہیں)۔حرارتی توانائی موثر طور پر قلمی لیٹس میں چندایٹموں کی ہی آئن سازی کرتی ہے اوربند میں ایک خلو(vacancy) پیداکرتی ہے،جیساکہ شکل4.5(a) میں دکھایاگیا ہے۔ وہ پڑوس(آس پاس کامقام)جہاں سے آزاد الیکٹران(جس کاچارج–qہے)باہر آیا ہے ایک خلوچھوڑتا ہے جس کاموثر چارج(+q)ہے۔یہ موثرمثبت الیکٹرانی چارج والا خلو،سوراخ (hole)کہلاتا ہے۔سوراخ اس طرح برتاؤ کرتا ہے جیسے کہ وہ موثر مثبت چارج کا بظاہر آزاد ذرہ ہے۔
ذاتی نیم موصلوں میں،آزاد الیکٹرانوں کی تعدادne،سوراخوں کی تعدادnhکے مساوی ہوتی ہے۔یعنی کہ
(14.1) ne=nh=ni
جہاںniذاتی حامل ارتکاز (intrinsic carrier concentration)کہلاتی ہے۔
نیم موصلوں کی ایک یکتاخاصیت یہ ہے کہ ان میں الیکٹرانوں کے علاوہ،سوراخ بھی حرکت کرتے ہیں۔فرض کیجیے کہ مقام1پر ایک سوراخ ہے،جیساکہ شکل14.5 (a) میںدکھایاگیا ہے۔ سوراخوں کی حرکت کا تصور ہم اس طورپر کرسکتے ہیں،جیسا کہ شکل14.5 (b)میں دکھایا گیا ہے۔ مقام2پر ایک شریک گرفت بند سے ایک الیکٹران خالی مقام1 (سوراخ)     پر کود کر پہنچ سکتا ہے۔اس طرح کی چھلانگ کے بعد اب مقام 2پر ایک سوراخ ہے اورمقام1پر اب ایک الیکٹران ہے۔اس لیے،بظاہر،سوراخ مقام1سے حرکت کرکے مقام2پر پہنچ گیاہے۔ نوٹ کریں کہ آغاز میں آزاد ہوا الیکٹران ]شکل14.5 (a) [ سوراخ کی حرکت کے اس عمل میں شامل نہیں ہے۔ آزاد الیکٹران،ایصال الیکٹران کے بطور مکمل طورپر آزادانہ حرکت کرتا ہے اورایک الیکٹران کرنٹ’Ie‘ایک لگائے گئے برقی میدان کے تحت،پیداکرتا ہے۔یادرکھیں کہ جب کرسٹل میں کہیں بھی کوئی خالی بند ہو توسوراخ کی حرکت صرف بندھے ہوئے الیکٹرانوں کی اصل حرکت کو بیان کرنے کا ایک سہل طریقہ ہے۔ایک برقی میدان کے زیرعمل یہ سوراخ منفی مضمر کی جانب حرکت کرتے ہیں اورسوراخ کرنٹIhدیتے ہیں۔اس لیے کل کرنٹI،الیکٹران کرنٹIeاورسوراخ کرنٹIhکاحاصل جمع ہے:
(14.2) I=Ie+Ih
نوٹ کیاجاسکتا ہے کہ ایصال الیکٹرانوں اورسوراخوں کے پیداہونے کے عمل کے علاوہ ایک ہمہ وقتی عمل’’باز ترکیب‘‘ (Re-Combination)بھی ہوتا ہے جس میںالیکٹران،سوراخ کے ساتھ دوبارہ مل جاتا ہے۔ حالت توازن میں،چارج حاملوں کی پیداہونے کی شرح،بازترکیب کی شرح کے مساوی ہوتی ہے۔ بازترکیب،ایک الیکٹران کے ایک سوراخ سے تصادم کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
9
شکل14.4:SiیاGeکی ساخت کادوابعادی اظہار،جس میں نچلے درجہ حرارت پر شریک گرفت بند دکھائے گئے ہیں(تمام بند برقرار ہیں)۔+4علامتSiیاGeکے اندرونی قالبوں کی نشان دہی کرتی ہے۔
1110
شکل14.5:(a)درمیانی درجات حرارت پر حرارتی توانائی کی وجہ سے مقام1پر سوراخ اورایصال الیکٹران بننے کا خاکہ ماڈل(b)ایک سوراخ کی ممکنہ حرارتی حرارت کا سادہ کیا ہوا اظہار–نچلی بائیں جانب کے شریک گرفت بند(مقام2)سے الیکٹران پچھلے سوراخ مقام1پر جاتا ہے،اوراپنے مقام پر ایک سوراخ چھوڑدیتا ہے جو مقام1سے مقام2پر سوراخ کی ظاہرہ حرکت کی نشان دہی کرتا ہے۔
12
شکل (a)
14.6:T=OKپر ایک ذاتی نیم موصل، حاجز کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔
 (b) 
 T>OKپر،حرارتی طریقے سے بنے چارالیکٹران– سوراخ جوڑے بھرے ہوئے دائرے– (*)الیکٹرانوں کی اورخالی دائرے(ο)سوراخوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ایک ذاتی نیم موصل، T=OKپر ایک حاجز کی طرح برتاؤ کرتا ہے، جیسا کہ شکل 14.6 (a)میںدکھایا گیا ہے۔ اعلا درجات حرارت پر (T>OK) حرارتی توانائی ہی ہے جو کچھ الیکٹرانوں کوگرفت بینڈ سے ایصال بینڈ میں منتقل کرتی ہے۔یہ حرارتی طورپرمشتعل الیکٹران،T>OKپر،ایصال بند کو جزوی طورپر بھرتے ہیں۔ اس لیے ایک ذاتی نیم موصل کی توانائی–بند ڈائیگرام شکل14.6 (b)میں دکھائی گئی ڈائیگرام ہوگی۔ یہاں،ایصال بینڈ میں کچھ الیکٹران دکھائے گئے ہیں۔یہ گرفت بینڈ سے آئے ہیں اوروہاں مساوی تعداد میں سوراخ چھوڑآئے ہیں۔

مثال14.1:
C،Si
اورGeکی لیٹس ساخت یکساں ہے۔پھرCحاجز کیوں ہے،جب کہ SiاورGe ذاتی نیم موصل ہیں؟
حل: C،SiاورGeکے4بندش الیکٹران،حسب ترتیب،دوسرے، تیسرے اورچوتھے مدار میں ہوتے ہیں۔اس لیے ان ایٹموں سے ایک الیکٹران باہر نکالنے کے لیے درکار توانائی (یعنی کہ،آئن کاری توانائیGe(Egکے لیے سب سے کم ہوگی،اس کے بعدSiکے لیے اورCکے لیے سب سے زیادہ ہوگی۔اس لیےGeاورSiمیں ایصال کے لیے دستیاب آزاد الیکٹرانوں کی تعداد قابل لحاظ ہوتی ہے جب کہCمیں قابل نظرانداز حد تک خفیف ہوتی ہے۔

14.4بیرونی نیم موصل(Extrinsic semiconductor)

ایک ذاتی نیم موصل کی ایصالیت اس کے درجہ حرارت کے تابع ہوتی ہے، لیکن کمرہ درجہ حرارت پر اس کی ایصالیت بہت ادنیٰ ہوتی ہے۔اس لیے ان نیم موصلوں کو براہِ راست استعمال کرکے کوئی اہم الیکٹرانک آلات نہیں تیار کیے جاسکتے۔اس لیے ان کی ایصالیت میں اضافہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔یہ ملاوٹوں(impurities)کواستعمال کرکے کیاجاسکتا ہے۔
جب ایک مناسب ملاوٹ کی بہت خفیف مقدار،فرض کیجیے فی دس لاکھ میں چند حصے،،ایک خالص نیم موصل میں ملائی جاتی ہے تو نیم موصل کی ایصالیت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایسے نیم موصلوں کو بیرونی نیم موصل یا ملاوٹ نیم موصل   (impurity semi conductor)کہتے ہیں۔ایک پسندیدہ ملاوٹ کاجان بوجھ کر ملایاجانا’’ڈوپنگ‘‘ (doping) (لفظی معنی:نشہ ملانا)کہلاتاہے اورملاوٹ کے ایٹم ڈوپنگ کار (Dopants)کہلاتے ہیں۔ایسی مادی شے کو ڈوپ شدہ نیم موصل (Doped Semi conductor)بھی کہتے ہیں۔ ڈوپنگ کارکو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ بنیادی اصلی نیم موصل لیٹس کو بگاڑنے نہیں۔یہ کرسٹل میں بنیادی نیم موصل کے ایٹموں کے بہت ہی کم مقامات کو گھیرتا ہے۔ ایسی صورت حاصل کرنے کے لیے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ ڈوپ کار اورنیم موصل کے ایٹموں کے سائز تقریباًیکساں ہونے چاہئیں۔
چوگرفتہ(tetravalent) Si یاGeمیںڈوپنگ کے لیے دوقسم کے ڈوپنگ کاراستعمال کیے جاتے ہیں:
(i)   پنچ گرفتہ (Pentavalent](گرفت [(5: جیسے آرسینک (As)، اینٹی منی (Sb) فوسفورس (P)وغیرہ 
(ii)  سہ گرفتہ ] trivalent(گرفت3)[:جیسے انڈیم(In)، بورن(B)، المونیم(Al)وغیرہ
اب ہم اس سے بحث کریں گے کہ ڈوپنگ کس طرح نیم موصلوں میں چارج حاملوں کی تعداد(اوراس طرح ان کی ایصالیت)تبدیل کردیتی ہے۔SiیاGeدوری جدول کے چوتھے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں،اس لیے ہم ڈوپنگ کارعنصر اس کے قریبی گروپ،پانچویں  یاتیسرے گروپ، سے منتخب کرتے ہیں اور اس طرح اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ڈوپنگ کارایٹم کاسائز،Siیا Geایٹم کے سائز کے تقریباً یکساں ہو۔دلچسپ بات یہ ہے کہ SiاورGeمیں پنچ گرفتی اورسہ گرفتی ڈوپنگ کارشامل کرنے سے دوبالکل مختلف قسم کے نیم موصل حاصل ہوتے ہیں،جیساکہ ذیل میں بحث کی گئی ہے۔
13
14
شکل(a)
14.7چوگرفتیSiیاGeکے لیے ڈوپ کیاگیا پنچ گرفتی عطاکار ایٹم(As،Sb،Pوغیرہ)،جس سےn –قسم نیم موصل حاصل ہوتا ہے۔اور
(b)
 n– قسم مادی شے کا عام طورسے استعمال کیاجانے والا خاکہ اظہار،جس میں صرف قائم مقام عطاکاروں کے غیر متحرک قالب ایک اضافی موثر مثبت چارج اوراس سے منسلک اضافی الیکٹران کے ساتھ دکھائے گئے ہیں۔

(n(i –قسم نیم موصل(n–type semi conductor)

فرض کیجیے ہمSiیاGeکو ایک پنچ گرفتی عنصر سے ڈوپ کرتے ہیں،جیساکہ شکل14.7میں دکھایا گیا ہے۔ جب ایک گرفت والے عنصر کاایٹم،Siکی کرسٹل لیٹس میں ایک ایٹم کی جگہ گھیرتا ہے،تو اس کے الیکٹرانوں میں سے چار الیکٹران توچار سلی کون پڑوسیوں سے بند بناتے ہیں جب کہ پانچواں الیکٹران اپنے موروثی ایٹم سے کمزور طورپر بندھارہتا ہے۔ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ بندبنانے میں حصہ لینے والے چاروں الیکٹرانوں کو یہ پانچواں الیکٹران ایٹم کے موثر قالب کے بطور لیتا ہے۔ نتیجتاً اس الیکٹران کو آزاد کرانے کے لیے درکار آئن کاری توانائی بہت خفیف ہوتی ہے اورکمرہ درجہ حرارت پر بھی یہ الیکٹران نیم موصل کی لیٹس میںحرکت کرنے کے لیے آزاد ہوتا ہے۔ مثلا،جرمینیم  کے لیے اس الیکٹران کو اس کے ایٹم سے علاحدہ کرنے کے لیے درکار توانائی
~ 0.01 eV:
ہے اورسلی کون کے لیے
0.05 eV  
جب کہ اس کے مقابلے میں،ممنوع بینڈکو عبورکرنے کے لیے درکار توانائی(جرمنیم کے لیے تقریباً
0.72 eV
اورسلی   کون کے لیے تقریباً
1.1 eV)،
کمرہ درجۂ حرارت پر،ذاتی نیم موصلوں میں کہیں زیادہ ہے۔ اس طرح،پنچ گرفتی ڈوپننگ کار،ایصال کے لیے ایک اضافی الیکٹران عطاکرتا ہے اوراس لیے اسے عطاکارملاوٹ (donor impurity)    کہتے ہیں۔ڈوپننگ کار ایٹموں کے ذریعے ایصال کے لیے مہیاکیے گئے الیکٹرانوں کی تعداد،ڈوپننگ سطح کے بہت زیادہ تابع ہے اورمحصور درجہ حرارت میں ہونے والے کسی بھی اضافے کے غیر تابع ہے۔دوسری طرف،Siایٹموں سے پیداہوئے آزادالیکٹرانوں کی تعداد(سوراخوں کی مساوی تعداد کے ساتھ)میں درجہ حرارت کے ساتھ معمولی سااضافہ ہوتا ہے۔
ایک ڈوپننگ شدہ نیم موصل میں ایصال الیکٹرانوں کی کل تعدادne،عطاکاروں کے ذریعے مہیاکیے گئے الیکٹران اورذاتی طورپر پیداہوئے الیکٹرانوں پر مشتمل ہوتی ہے جب کہ سوراخوں کی تعدادnhصرف ذاتی ماخذ(source)کی وجہ سے پیداہوئے سوراخوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن سوراخوں کے بازاتحادکی شرح میں،الیکٹرانوں کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے،اضافہ ہوجائے گا۔ نتیجتاً سوراخوں کی تعداد مزید کم ہوجائے گی۔
 اس لیے،ڈوپنگ کی مناسب سطح کے ساتھ،ایصالی الیکٹرانوں کی تعداد کو سوراخوں کی تعداد سے بہت زیادہ کیاجاسکتاہے۔اس لیے ایک بیرونی نیم موصل میں،جسے پنچ گرفتی ملاوٹ کے ساتھ ڈوپ کیاگیا ہو،الیکٹران اکثریتی حامل ہوجاتے ہیں اورسوراخ اقلیتی حامل۔اس لیے یہ نیم موصل،n–قسم نیم موصل کہلاتے ہیں۔–
nقسم نیم موصلوں کے لیے: 
(14.3) ne>>nh
16
17
شکل(a)
14.8 :چوگرفتی SiیاGeلیٹس میں ڈوپ کیاگیا سہ گرفتی قبول کار ایٹم(In, Al,B)وغیرہp-قسم نیم موصل فراہم کرتا ہے۔(p (b-قسم مادی شے کا عام طورسے استعمال ہونے والاخاکہ اظہار، جس میں صرف قائم مقام قبول کارکاغیرمتحرک قالب ایک موثراضافی منفی چارج اوراس سے منسلک سوراخ دکھائے گئے ہیں۔

(ii) 

p–قسم نیم موصل(p–type semi conductor)

یہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جبSiیاGeمیں ایک سہ گرفتی ملاوٹ،جیسےIn،B،AIوغیرہ،کی ڈوپننگ کی جاتی ہے۔ڈوپننگ کارمیںSiیاGeکے مقابلے میں ایک الیکٹران کم ہے،اس لیے یہ ایٹم اپنے تین پڑوسیSiایٹموں سے شریک گرفت بندبناسکتا ہے لیکن چوتھےSiایٹم کوپیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی الیکٹران نہیں ہے۔اس لیے چوتھے پڑوسی اورسہ گرفتی ایٹم کے درمیان بند میں ایک خلو یا سوراخ ہوتا ہے، جیسا کہ شکل 14.8میں دکھایا گیا ہے۔کیوں لیٹس میں پڑوسیSiایٹم کو سوراخ کی جگہ ایک الیکٹران چاہیے ہوتا ہے،اس لیے ایٹم کے باہری مدار سے ایک الیکٹران اس خلوکو پر کرنے کے لیے آسکتا ہے اورخود اپنے مقام پر ایک خلو یا سوراخ چھوڑسکتا ہے۔اس لیے سوراخ،ایصال کے لیے دستیاب ہے۔نوٹ کریں کہ سہ گرفتی بیرونی ایٹم،موثر طورپر منفی چارج شدہ ہوجاتا ہے جب وہ چوتھا الیکٹران پڑوسیSiایٹم سے بانٹتا ہے۔اس لیے–pقسم مادی شے کے ڈوپنگ کار ایٹم کو ایک منفی چارج کا قالب معہ اس سے منسلک سوراخ،ماناجاسکتا ہے،جیساکہ شکل14.8 (b)میں دکھایاگیا ہے۔یہ ظاہرہی ہے کہ ایک قبو ل کار (acceptor) ایٹم ایک سوراخ مہیاکرتا ہے۔یہ سوراخ ان سوراخوں کے علاوہ ہیں جو ذاتی طورپر پیداہوتے ہیں،جب کہ ایصال الیکٹرانوں کاماخذ صرف ذاتی پیداوار ہے۔اس لیے،اس طرح کی مادی شے کے لیے،سوراخ اکثریتی حامل ہیں اورالیکٹران اقلیتی حامل ہیں۔اس لیے سہ گرفتی ملاوٹ سے ڈوپ کیے گئے بیرونی نیم موصل،p-قسم نیم موصل کہلاتے ہیں۔p-قسم نیم موصلوں کے لیے، بازاتحاد کاعمل،ذاتی طورپر پیداہوئے الیکٹرانوں کی تعدادn1کو کم کرکےneکردیتا ہے۔p –قسم نیم موصلوں کے لیے
(14.4) nh>>ne
نوٹ کریں کہ کرسٹل مجموعی چارج معادلیت برقرار رکھتا ہے کیوںکہ اضافی چارج حاملوں کا چارج،لیٹس میں آئن شدہ قالبوں کے چارج کے بالکل مساوی اورمخالف ہوتا ہے۔
بیرونی نیم موصلوںمیں،اکثیریتی کرنٹ حاملوں کی زیادتی کی وجہ سے،حرّی طریقے سے پیداہوئے اقلیتی چارج حاملوں کے لیے اکثیریتی حاملوں سے مل سکنے کا اوراس طرح فنا ہوجانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔اس لیے،ڈوپنگ کارایک قسم کے کرنٹ حاملوں کی ایک بڑی تعداد مہیا کرکے،جو اکثریتی حامل بن جاتے ہیں،بالواسطہ طورپر اقلیتی حاملوں کے ذاتی ارتکاز کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
نیم موصل کی توانائی بینڈ ساخت ڈوپنگ سے متاثرہوتی ہے۔ بیرونی نیم موصلوں کی صورت میں،عطاکارملاوٹوں اورقبول کار ملاوٹوں کی وجہ سے اضافی توانائی حالتیں(بالترتیب،ED اورEA)بھی پائی جاتی ہیں۔n–قسمSi نیم موصل کی توانائی بینڈ ڈائیگرام میں،عطاکار توانائی منزلED،ایصال بینڈ کی تلی(ED(bottom،سے ذراسانیچے ہوتی ہے اوراس منزل سے الیکٹران، خفیف توانائی مہیاکیے جانے پر بھی،ایصال بینڈ میں چلے جاتے ہیں۔ کمرہ درجہ حرارت پرزیادہ ترعطاکار ایٹموں(1012~) کی آئن سازی ہوجاتی ہے۔ Siکے بہت ہی کم ایٹموں کی آین سازی ہوتی ہے۔ اس لیے ایصال بینڈ میں آنے والے زیادہ تر الیکٹران عطاکارملاوٹوں سے آتے ہیں،جیساکہ شکل14.9 (a)میں دکھایا گیا ہے۔اسی طرح،p–قسم نیم موصلوں کے لیے،قبول کارتوانائی منزلEA،گرفت بینڈ کی سب سے اوپری سطح EVسے ذرا سااوپر ہوتی ہے،جیساکہ شکل14.9(b)میں دکھایاگیاہے۔توانائی کی بہت خفیف مقدارفراہم کرنے پر گرفت بینڈ سے ایک الیکٹران،منزل EAپر پہنچ سکتا ہے اورقبول کار کی منفی آئن سازی کرسکتا ہے۔(متبادل طورپر، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ توانائی کی بہت خفیف مقدارفراہم کرنے پر،منزل EAسے سوراخ،نیچے ڈوب کرگرفت بینڈ میں آجاتاہے۔باہری توانائی حاصل کرنے پر الیکٹران اوپر اٹھ جاتے ہیں اورسوراخ نیچے گرجاتے ہیں)کمرہ درجہ حرارت پر زیادہ تر قبول کارایٹموں کی آئن سازی ہوجاتی ہے اوراس طرح گرفت بینڈ میں سوراخ رہ جاتے ہیں۔اس لیے،کمرہ درجہ حرارت پر،گرفت بینڈ میں سوراخوں کی کثافت،زیادہ تر بیرونی نیم موصل میں ملاوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک نیم موصل میں،حرارتی توازن کی حالت میں،الیکٹران اورسوراخ کے ارتکاز دیے جاتے ہیں۔
(14.5) ne  nh=n21

حالاں کہ مندرجہ بالا بیان بڑی حد تک تقربی ہے اور مفروضوں پر مبنی ہے،پھر بھی اس سے دھاتوں،حاجزوں اورنیم موصلوں (بیرونی اورذاتی)کے درمیان فرق کو سادہ طورپر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔C,SiاورGeکی مزاحمیت(resistivity) میں فرق ان کے ایصال بینڈ اورگرفت بینڈ کے درمیا ن توانائی فصل پر منحصر ہے۔C (ہیٖرا)،SiاورGeکے لیے یہ توانائی فصل،بالتریب،ہیں
1.1eV,5.4 eV
Sn,0.eVاور
بھی گروپIVعنصرہے لیکن یہ ایک دھات ہے،کیوں کہ اس میں توانائی فصلO eVہے۔
1918
ایک حرارتی طریقے سے پیدا ہوا ایک الیکٹران ۔ سراخ جوڑا+ عطا کارایٹموں سے حاصل ہوئے9 الیکٹٹران

شکل14.9:توانائی بینڈ
(a) 
T>OKپر–nقسم نیم موصل کے
(b)
 T>OK پر–pقسم نیم موصل کے

مثال14.2:فرض کیجیے ایک خالصSiکرسٹل میں5x1028ایٹم فی3–mہیں۔اسے پنچ گرفتیAsکے 1 ppmارتکاز سے ڈوپ کیاگیا ہے۔الیکٹرانوں اورسوراخوں کی تعداد کاحساب لگائیے۔
دیا ہے:n1=1.5x1016 m-3
حل:نوٹ کریں کہ حرارتی طریقے پر پیداہوئے الیکٹرانوں کی تعداد

(n1~1016 m-3)
ڈوپنگ کے ذریعے پیداہوئے الیکٹرانوں کی تعداد کے مقابلے میں قابل نظرانداز حد تک خفیف ہے۔اس لیے:
ne≈ND
ne nh = n12کیوں کہ،سوراخوں کی تعداد  
Pic-187
n.5x109 m-3~


14.5 پی ۔این جنکشن(p–n Junction)
ایک p–nجنکشن کئی نیم موصل آلات،جیسے ڈایوڈ،ٹرانسسٹر وغیرہ،کابنیادی جزترکیبی ہے۔جنکشن کے برتاؤ کاواضح فہم دیگر نیم موصل آلات کی کارکردگی کا تجزیہ کرسکنے کے لیے بہت اہم ہے۔ اب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ایک جنکشن کیسے تشکیل پاتا ہے اورباہری اطلاقی وولٹیج[جسے میلان(Bias)بھی کہتے ہیں]کے زیر اثر ایک جنکشن کیسے برتاؤ کرتا ہے۔

14.5.1 پی۔ این جنکشن کی تشکیل(p–n Junction formation)

ایک پتلاp –قسم سلی کون(p–Si)نیم موصل ورق(ویفرwafer)لیجیے۔پنچ گرفتی ملاوٹ کی ایک نہایت درست خفیف مقدارشامل کرکے،p–Siویفر کے ایک جز کوn–Siمیں تبدیل کیاجاسکتا ہے۔ایسے کئی طریقے ہیں جن کے ذریعے ایک نیم موصل تشکیل دیاجاسکتا ہے۔ویفر میں اب ایکp–علاقہ ہے اور ایک–nعلاقہ ہے اورp–اور–nعلاقوں کے درمیان ایک فلز کاری(metallurgical)جنکشن ہے۔
ایکp–nجنکشن کی تشکیل کے دوران دواہم عمل ہوتے ہیں:نفوذ(Diffusion)اوربادآوردگی(Drift)۔ہم جانتے ہیں کہ ایکn–قسم نیم موصل میں،الیکٹرانوں کا ارتکاز (الیکٹرانوں کی تعداد فی اکائی حجم)سوراخوں کے ارتکاز سے زیادہ ہوتا ہے۔اسی طرح ایکp–قسم نیم موصل میں سوراخوں کاارتکاز الیکٹرانوں کے اتکاز سے زیادہ ہوتا ہے۔ ایکp–nجنکشن کی تشکیل کے دوران،p–اورn–اطراف میں ارتکاز ڈھلان کی وجہ سے،سوراخp –جانب سےn–جانب(p→→n)نفوذ کرتے ہیں اورالیکٹرانn–جانب سے p–جانب نفوذ کرتے ہیں(n–p)۔چارج حاملوں کی اس حرکت کی وجہ سے جنکشن کے سروں کے درمیان ایک نفوذ کرنٹ پیداہوتا ہے۔
جب ایک الیکٹرانp→nنفوذ کرتا ہے تو یہ–nجانب ایک آئن شدہ عطاکار چھوڑآتا ہے۔ یہ آئن شدہ عطاکار(مثبت چارج) غیر متحرک ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ اپنے اردگرد کے ایٹموں سے بندھا ہوتا ہے ۔جیسے جیسے الیکٹرانn®Pنفوذکرنا جاری رکھتے ہیں،مثبت چارج کی ایک تہہ،(مثبت چارج–فضاعلاقہ)جنکشن کی–nجانب بنتی جاتی ہے۔
اسی طرح جبp→nایک سوراخ نفوذکرتا ہے،جس کی وجہ ارتکازڈھلان ہے،تو یہ اپنے پیچھے ایک آئن شدہ قبول کار(منفی چارج)چھوڑآتا ہے جو کہ غیر متحرک ہوتا ہے۔جیسے جیسے سوراخ نفوذ جاری رکھتے ہیں،منفی چارج کی ایک تہہ (یامنفی چارج–فضاعلاقہ)،جنکشن کیp –جانب بنتی جاتی ہے۔یہ فضا–چارج علاقہ،جو جنکشن کے دونوں جانب ہوتا ہے،مل کر عسرت علاقہ(Depletion region)کہلاتا ہے کیوں کہ جنکشن کے سروں کے درمیان آغازی حرکت میںحصہ لینے والے الیکٹران اورسوراخ اس علاقے کو اس کے آزاد چارجوں سے خالی کردیتے ہیں(شکل4.10)۔ عسرت علاقہ کی موٹائی ایک مائیکرومیٹر کے دسویں حصے کے درجے کی ہوتی ہے۔جنکشن کی–nجانب مثبت فضا–چارج علاقہ کی وجہ سے اورجنکشن کی –pجانب منفی فضا–چارج علاقے کی وجہ سے ایک برقی میدان پیداہوتا   ہے جس کی سمت مثبت چارج سے منفی چارج کی جانب ہوتی ہے۔ اس میدان کی وجہ سے جنکشن کیp–جانب کاالیکٹرانn–جانب حرکت کرتا ہے اورجنکشن کیn–جانب کا ایک سوراخ p– جانب حرکت کرتاہے۔ برقی میدان کی وجہ سے چارج حاملوں کی حرکت بادآوردگی (drift)کہلاتی ہے۔اس طرح ایک بادآوردگی کرنٹ،جوسمت میں نفوذ کرنٹ کے مخالف ہوتا ہے،بہنا شروع ہوجاتا ہے(شکل14.10)۔
شروعات میں،نفوذکرنٹ
ہوتا ہے اوربادآوردگی کرنٹ کم ہوتا ہے۔جیسے جیسے نفوذ کا عمل جاری رہتا ہے،فضا–چارج علاقے،جنکشن کے دونوں جانب،وسیع ہوتے جاتے ہیں،جس سے برقی میدان کی طاقت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اوراس لیے بادآوردگی کرنٹ بڑھتاجاتا ہے۔یہ عمل جاری رہتا ہے یہاں تک کہ بادآوردگی کرنٹ،نفوذ کرنٹ کے مساوی ہوجاتا ہے۔اس طرح ایکp–nجنکشن تشکیل پاتا ہے۔ایکp–nجنکشن میں،حالت توازن میں کوئی کرنٹ نہیں ہوتا۔
n–علاقے سے الیکٹرانوں کا زیاں اورp–علاقے میں الیکٹرانوں کے حصول کی وجہ سے دونوں علاقوں کے جنکشن کے سروں کے درمیان ایک مضمر فرق پیداہوجاتا ہے۔اس مضمر کی قطبیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ حاملوں کے مزید بہاؤکی مخالفت کرتی ہے تاکہ ایک توازن کی حالت رہ سکے۔شکل14.11میں حالت توازن میںp–nجنکشن اورجنکشن کے سروں کے درمیان مضمر دکھایاگیاہے۔n–مادی شے نے الیکٹران ضائع کیے ہیں جب کہp–مادی شے نے الیکٹران حاصل کیے ہیں۔ اس لیےp–مادی شے کی مناسبت سے–nمادی شے مثبت ہے۔کیوں کہ یہ مضمر n–علاقے سے–pعلاقے میں الیکٹرانوں کی حرکت روکنے کی کوشش کرتا ہے، اسے اکثر روک مضمر (Barrier Potential) کہتے ہیں۔

30
شکل14.10:p–nجنکشن تشکیل پانے کا عمل



29
شکل(a) 
14.11 :حالت توازن میں(v=0)ایک ڈایوڈ (b)بغیرکسی میلان کے تحت روک مضمر


مثال14.3:کیا ہم p–قسم نیم موصل کی ایک سل کو–nقسم نیم موصل کی ایک سل سے طبعی طورپر جوڑکر p–n جنکشن حاصل کرسکتے ہیں؟
حل: نہیں!کوئی بھی سل(slab)چاہے وہ کتنی چپٹی(flat)بھی کیوں نہ ہو،اس میں کرسٹل کے ایٹموں کی درمیانی خالی جگہ(~2 to 3 Å)سے زیادہ کھردراپن ہوگا اوراس لیے ایٹمی سطح پر مستقل تماس ممکن نہیں ہے۔بہہ رہے چارج حاملوں کے لیے جنکشن ایک عدم تسلسل  (Discontinuity) کے بطور برتاؤ کرے گا۔


14.6نیم موصل ڈایوڈ(semi conductor diode)
ایک نیم موصل ڈایوڈ]شکل(a) 
14.12 [بنیادی طورپر ایکp–nجنکشن ہے جس کے سروں پر بیرونی وولٹیج کااطلاق کرنے کے لیے دھاتی تماس کار لگے ہوتے ہیں۔یہ ایک دو–ٹرمینل آلہ ہے۔ ایک p–nجنکشن کوعلامتی طورپر ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے شکل14.12 (b)میں دکھایاگیا ہے۔
تیرکے نشانوں کی سمت کرنٹ کی قرارداد کے مطابق دی جانے والی (conventional)  سمت کو ظاہر کرتی ہیں (جب کہ ڈایوڈ پیش مائل ہے)۔حالت توازن مضمر کو ڈایوڈ کے سروں کے درمیان ایک بیرونی وولٹیج Vکا اطلاق کرکے تبدیل کیاجاسکتا ہے۔p–nجنکشن ڈایوڈ کی توازن حالت(بغیر میلان کے)شکل14.11 (a)اور (b)میں دکھائی گئی ہے۔

31
شکل14.12:(a)نیم موصل ڈایوڈ (b) p–n جنکشن ڈایوڈ کی علامت

14.6.1پیش مائلپی۔ این جنکشن ڈایوڈ

جب ایک نیم موصل ڈایوڈ کے سروں کے درمیان ایک بیرونی وولٹیج Vکا اطلاق اس طورپر کیاجاتا ہے کہ –pعلاقہ کو بیٹری کے مثبت ٹرمینل سے منسلک کیاجاتا ہے اور–nجانب کو منفی ٹرمینل سے(شکل14.13 (a)تو یہ پیش مائل کہلاتا ہے۔
اطلاقی وولٹیج کازیادہ ترحصہ عسرتی علاقے کے سروں کے درمیان ہوتا ہے اورجنکشن کے –pجانب اور–nجانب کے سروں کے درمیان یہ وولٹیج قابل نظرانداز ہوتی ہے۔(ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ عسرت علاقے–ایسا علاقہ جس میں کوئی چارج نہیں ہیں–کی مزاحمت،n–جانب اورp–جانب کی مزاحمت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے)اطلاقی وولٹیج کی سمت،اندرقائم ہوئے مضمرVοکی سمت کے مخالف ہوتی ہے۔نتیجتاً،عسرت علاقہ کی چوڑائی کم ہوجاتی ہے اوررکاوٹ کی اونچائی بھی کم ہوجاتی ہے[شکل 14.13 (b)]۔پیش میلان کے تحت موثر رکاوٹ اونچائی(Vο-V)ہے۔
اگر لگائی گئی وولٹیج کی قدر خفیف ہے،تو رکاوٹ مضمر بھی توازن قدر سے تھوڑا ساکم ہوگا اورمادی شے میں حاملوں کی صرف ایک خفیف تعداد—وہ حامل جو سب سے اوپری توانائی منزلوں میں ہوں گے– کی ہی اتنی توانائی ہوگی کہ وہ جنکشن کوعبور کرسکیں۔ اس لیے کرنٹ کی قدر بھی خفیف ہوگی۔اگر ہم لگائی گئی وولٹیج کی قدرمیں قابل لحاظ اضافہ کردیں تو رکاوٹ اونچائی کم ہوجائے گی اورزیادہ حاملوں کی توانائی درکار توانائی سے زیادہ ہوجائیگی۔ اس لیے کرنٹ میں اضافہ ہوجائے گا۔
لگائی گئی وولٹیج کی وجہ سے،n–جانب سے الیکٹران،عسرت–علاقہ کو عبور کرلیتے ہیں اور–pجانب پہنچ جاتے ہیں(جہاں وہ اقلیتی حامل ہیں)۔اسی طرحp–جانب سے سوراخ،جنکشن کو پار کرلیتے ہیں اور–nجانب پہنچ جاتے ہیں(جہاں وہ اقلیتی حامل ہیں)—پیش میلان کے تحت ہونے والا یہ عمل اقلیتی حامل داخل(minority carrier injection)کہلاتا ہے۔جنکشن حد پر(دونوں طرف)،اقلیتی حاملوں کا ارتکاز،جنکشن سے زیادہ فاصلوں کے مقامات پر ان کے ارتکاز کے مقابلے سے قابل لحاظ حد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس ارتکاز ڈھلان کی وجہ سے،p–جانب داخل کیے گئے الیکٹرانوں کا،p–جانب کے جنکشن کنارے سے p–جانب کے دوسرے سرے میں،نفوذ ہوجاتا ہے(شکل14.14)۔دونوں جانب چارج حاملوں کی اس حرکت سے کرنٹ پیداہوتا ہے۔کل ڈایوڈ پیش کرنٹ،سوراخ نفوذ کرنٹ اورالیکٹران نفوذ کی وجہ سے پیدا ہونے والے،قرارداد کے مطابق،کرنٹ کا حامل جمع ہوتا ہے۔اس کرنٹ کی عددی قدر عموماًmAکے درجہ کی ہوتی ہے۔
32
شکل14.13:(a)پیش میلان کے تحت p–nجنکشن(b)رکاوٹ مضمر(i)بیٹری کے بغیر (ii)قلیل بیٹری وولٹیج(iii)اعلا بیٹری وولٹیج
داخل کیے گئے سوراخ داخل کیے گئے الیکٹران
33 
شکل14.4:پیش میلان اقلیتی حامل داخلہ
34
شکل14.15:(a)پس میلان کے تحت ڈایوڈ (b)پس میلان کے تحت رکاوٹ مضمر

14.6.2پس مائل پی۔ این جنکشن ڈایوڈ

(p-n junction diode under reverse bias)

جب ایک بیرونی وولٹیج Vکا اطلاق اس طرح کیاجاتا ہے کہ ڈایوڈ کی–nجانب مثبت ہو اور–pجانب منفی ہوتو یہ پس مائل کہلاتا ہے]شکل[14.15 (a)۔لگائی گئی وولٹیج کا زیادہ ترحصہ عسرت علاقے کے سروں کے درمیان ہوتا ہے۔لگائی گئی وولٹیج کی سمت بھی وہی ہوتی ہے جو رکاوٹ مضمر کی سمت ہے۔نتیجتاً رکاوٹ اونچائی میں اضافہ ہوجاتا ہے اورعسرت علاقہ،برقی میدان میں تبدیلی کی وجہ سے،مزید چوڑا ہوجاتا ہے۔پس میلان کے تحت موثر رکاوٹ اونچائی(Vο+V)ہے[شکل14.15] (b)۔اس لیے،نفوذ کرنٹ،پیش میلان کے تحت ڈایوڈ کے مقابلے میں بہت کم ہوجاتا ہے۔
جنکشن کے برقی میدان کی سمت اس طرح ہوتی ہے کہ اگرp–جانب پر الیکٹران یاn–جانب پر سوراخ،اپنی بے ترتیب حرکت کے دوران جنکشن کے قریب آئیں تو وہ اس کے اکثریتی علاقے میں دھکیل دیے جائیں۔ حاملوں کی یہ بادآوردگی کرنٹ پیداکرتی ہے۔بادآوردگی کرنٹ چندmAکے درجہ کاہوتا ہے۔یہ بہت قلیل ہے کیوں کہ یہ حاملوں کی ان کی اقلیتی–جانب سے اکثریتی–جانب کی طرف جنکشن کے سروں کے درمیان حرکت کی وجہ سے ہے۔پیش میلان کے تحت بھی بادآوردگی کرنٹ ہوتا ہے،لیکن یہ قابل نظرانداز ہوتا ہے(mA)اگراس کا مقابلہ داخل کیے گئے حاملوں کی وجہ سے پیداہوئے کرنٹ سے کیاجائے جو عموماًmAمیںہوتا ہے۔
ڈایوڈ پس کرنٹ، لگائی گئی وولٹیج کے بہت زیادہ تابع نہیں ہوتا۔بہت قلیل وولٹیج بھی اقلیتی حاملوں کو جنکشن کی ایک جانب سے جنکشن کی دوسری جانب دھکیلنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ کرنٹ، لگائی گئی وولٹیج کی عددی قدر سے محدود نہیں ہوتا بلکہ جنکشن کے دونوں جانب اقلیتی حاملوں کے ارتکاز سے محدود ہوتا ہے۔
پس میلان کے تحت کرنٹ بنیادی طورپر،ایک فاصل پس میلان وولٹیج تک،وولٹیج کے غیر تابع ہوتا ہے،جو تعطلی وولٹیج
'V'br (Breakdown Voleage)
کہلاتی ہے۔جب,V=Vbrو ڈایوڈ پس کرنٹ بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔میلان وولٹیج میں ذراسا اضافہ بھی کرنٹ میں بڑی تبدیلی پیداکرتا ہے۔ اگر پس کرنٹ کی قدر کو شمار شدہ قدر  (Rated Value)(بنانے والے کے ذریعے متعین کی گئی) سے نیچے ایک بیرونی سرکٹ کے ذریعے محدود نہ رکھاجائے توp–nجنکشن خراب ہوجائے گا۔ جب یہ اپنی شمارشدہ قدر سے زیادہ ہوجاتا ہے توزیادہ گرم ہوجانے کی وجہ سے ڈایوڈ خراب ہوجاتا ہے۔ایسا پیش میلان کے تحت بھی ہوسکتا ہے اگر پیش کرنٹ اپنی شمار شدہ قدر سے زیادہ ہوجائے۔
36



35

37
شکل14.16:ایک p–nجنکشن ڈایوڈ کے مخصوص خم کا مطالعہ کرنے کے تجرباتی سرکٹ کی ترتیب
(a)پیش میلان میں(b)پس میلان میں(c)ایک سلی کون ڈایوڈ کا خاص مخصوص خم
ایک ڈایوڈ کےV–Iمخصوص خم(یعنی کہ،کرنٹ کی تبدیلی بطور تفاعل اطلاقی وولٹیج)کا مطالعہ کرنے کے لیے سرکٹ ترتیب شکل14.16 (a)اور14.16 (b) میںدکھائی گئی ہے۔بیٹری کو ڈایوڈ سے ایک پو ٹینشیومیٹر(یارہیوسٹیٹ)کے ذریعے منسلک کیاگیا ہے تاکہ ڈایوڈ پر لگائی گئی وولٹیج کو تبدیل کیاجاسکے۔وولٹیج کی مختلف قدروں کے لیے،کرنٹ کی قدریں نوٹ کی جاتی ہیں۔VاورIکے درمیان ایک گراف حاصل ہوتا ہے،جیساکہ شکل14.16 (c)میں دکھایا گیا ہے۔نوٹ کریں کہ پیش میلان پیمائش میں ہم ایک ملی ایم میٹر استعمال کرتے ہیں کیوں کہ کرنٹ کی متوقع قدر زیادہ ہوتی ہے(جیسا کہ پچھلے حصے میں وضاحت کی جاچکی ہے)،جب کہ پس میلان میںcکرنٹ کی پیمائش کے لیے ایک مائیکرومیٹر استعمال کیاجاتا ہے۔آپ شکل14.6 (c)میں دیکھ سکتے ہیں کہ پیش میلان میں کرنٹ پہلے بہت آہستہ آہستہ بڑھتا ہے،تقریباً قابل  نظرانداز حد تک،جب تک کہ ڈایوڈ کے سروں کے درمیان لگائی گئی وولٹیج ایک مخصوص قدر سے زیادہ نہیں ہوجاتی۔اس مخصوص وولٹیج کے بعد،ڈایوڈ کرنٹ میں قابل لحاظ اضافہ(قوت نمائی طورپر) ہوتا ہے،چاہے ڈایوڈ میلان وولٹیج میں بہت خفیف اضافہ بھی کیاجائے۔ اس وولٹیج کو دہلیز وولٹیج یا قاطع وولٹیج بھی کہتے ہیں۔(~0.2Vجرمنیم ڈایوڈ کے لیے اورo.7V~ سلی کون ڈایوڈ کے لیے)۔
جب ڈایوڈ پس میلان میں ہوتا ہے تو کرنٹ بہت خفیف ہوتا ہے(mA~) اورمیلان میں تبدیلی کے ساتھ تقریباً مستقلہ رہتا ہے۔اسے پس سیر شدگی کرنٹ(reverse saturation current)کہتے ہیں۔لیکن،کچھ خاص صورتوں میں،بہت زیادہ پس میلان پر(تعطلی وولٹیج)،کرنٹ میں اچانک اضافہ ہوتا ہے۔ ڈایوڈ کے اس خاص عمل سے آگے حصہ14.8میں بحث کی گئی ہے۔عام مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے والے ڈایوڈ،پس سیر شدگی کرنٹ علاقے سے باہر نہیں استعمال کیے جاتے۔
مندرجہ بالابحث سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہp–nجنکشن ڈایوڈ،بنیادی طورپر، ایک ہی سمت میں کرنٹ کابہاؤ ہونے دیتا ہے(پیش میلان)۔پس میلان مزاحمت کے مقابلے میں پیش میلان مزاحمت کی قدر کم ہوتی ہے۔ یہ خاصیتacوولٹیجوں کی سمت کاری (Rectification) میں استعمال کی جاتی ہے،جیسا کہ اگلے حصے میں بیان کیاگیا ہے۔ہم ڈایوڈ کے لیے ایک مقدار،جو حرکی مزاحمت کہلاتی ہے،کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ یہ وولٹیج میں خفیف تبدیلی ΔV کی کرنٹ میں خفیف تبدیلی ΔVسے نسبت ہے۔
(6.14) 40

مثال14.4:ایک سلی کون ڈایوڈ کاV–Iمخصوص خم شکل14.17میں دکھایاگیا ہے۔ڈایوڈ کی مزاحمت تحسیب کیجئے  
ID=15 mA (a)
ااور
DD = - 10V (b)
43
شکل14.17
حل: ڈایوڈمخصوص خم کو I = 10 mAسےI = 20 mA کے درمیان،مبدے سے گذرتا ہوا ایک مستقیم خط مانتے ہوئے،ہم اوم کاقانون استعمال کرکے مزاحمت تحسیب کرسکتے ہیں:
 I = 20 mA, V = 0.8 V; I = 10 mA, V = 0.7 V:منحنی سے (a)
44
:منحنی سے(b)
V=–10Vپر،I=–1mA،اس لیے
45


46

شکل14.18 (a):نصف–لہر سمت کار سرکٹ(b)سمت کار سرکٹ سے درآمدہ acوولٹیج اوربرآمدہ acوولٹیج کی  لہرشکلیں

47

شکل14.19:(a)ایک مکمل–لہر سمت کار سرکٹ(b)ڈایوڈD1کوAپر اورڈایوڈD2کوBپر دی گئیں درآمدہ لہر شکلیں(c)مکمل لہر سرکٹ میںجوڑے گئے لوڈRLکے سروں کے درمیان برآمدہ لہر شکل

14.7 جنکشن ڈایوڈ کا بطور سمت کار استعمال(Application of Junction Diode as a Rectifier)

جنکشن ڈایوڈ کےV–Iمخصوص خم سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کرنٹ کو صرف اسی وقت گذرنے دیتا ہے جب یہ پیش مائل ہوتا ہے۔اس لیے اگر ایک جنکشن ڈایوڈ کے سروں کے درمیان متبادل وولٹیج لگائی جائے توکرنٹ سائیکل کے صرف اس حصے میں بہتا ہے جب ڈایوڈ پیش مائل ہوتا ہے۔ اس خاصیت کا استعمال متبادل وولٹیجوں کی سمت کاری کے لیے کیاجاتا ہے اوراس مقصد کے لیے استعمال کیاجانے والا سرکٹ سمت کار کہلاتا ہے۔
اگر ڈایوڈ کے سروں کے درمیان،جو ایک لوڈ کے ساتھ سلسلہ وار طرز میں جڑا ہو،ایک متبادل وولٹیج لگائی جائے تو acدرآمدہ کے صرف نصف سائیکلوں کے دوران ہی لوڈ کے سروں کے درمیان ایک پلس وولٹیج ظاہر ہوگی۔ایسا اس دوران ہوگا جب ڈایوڈ پیش مائل ہوگا۔ایسا سمت کار سرکٹ،جو کہ شکل14.18میں دکھایاگیا ہے،نصف–لہر سمت کار کہلاتا ہے۔ایک ٹرانسفارمر کا ثانوی کوائل،A اور Bٹرمنلوں کے درمیان مطلوبہacوولٹیج مہیاکرتا ہے۔جبAپروولٹیج مثبت ہوتی ہے توڈایوڈ پیش مائل ہوتا ہے اورایصال کرتا ہے۔جبAمنفی ہوتاہے تو ڈایوڈ پس مائل ہوتا ہے اورایصال نہیں کرتا۔ڈایوڈ کا پس سیر شدگی کرنٹ ناقابل لحاظ ہوتا ہے اوراسے تمام عملی صورتوں میں صفر مانا جاسکتا ہے۔(ایک ڈایوڈ کی پس تعطل وولٹیج کو ٹرانسفارمر کے سیکنڈری کوائل پرacوولٹیج کی فرازقدرسے کافی زیادہ ہونا چاہیے تاکہ ڈایوڈ پس تعطل سے محفوظ رہ سکے۔
اس لیے،acکے مثبت نصف سائیکل میں،لوڈ مزاحمہRhمیں سے کرنٹ گذرتا ہے اورہمیں ایک برآمدہ وولٹیج ملتی ہے،جیسا کہ شکل14.18 (b)میں دکھایاگیا ہے،جب کہ منفی نصف سائیکل میں کوئی کرنٹ نہیں گذرتا۔اگلے مثبت نصف سائیکل میں ہمیں برآمدہ وولٹیج دوبارہ ملتی ہے۔ اس لیے،حالاں کہ برآمدہ وولٹیج اب بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن ایک سمت میں ہی محدود رہتی ہے اورسمتی(rectified)کہلاتی ہے۔کیوں کہ اس کرنٹ کاسمتی برآمدہ،درآمدہ acلہر کے صرف نصف حصے کے لیے حاصل ہوتا ہے،یہ نصف–لہر سمت کار کہلاتا ہے۔
وہ سرکٹ جس میں دوڈایوڈ استعمال کیے جاتے ہیں،جسے شکل14.19 (a)میں دکھایا گیا ہے،acسائیکل کے مثبت نصف اورمنفی نصف،دونوں،کے لیے برآمدہ سمتی وولٹیج دیتا ہے۔ اس لیے اسے مکمل–لہر نصف کار کہتے ہیں۔یہاں دونوں ڈایوڈ کیp–جانب کو ٹرانسفارمر کے سیکنڈری کے سروں سے منسلک کیاجاتا ہے۔دونوں ڈایوڈ کیn–جانب آپس میں جوڑدی جاتی ہیں اوربرآمدہ دونوں ڈایوڈ کے اس مشترک نقطے اورٹرانسفارمر کے سیکنڈری کوائل کے وسطی نقطے کے درمیان لیاجاتا ہے۔اس طرح ایک مکمل–لہر سمت کار کے لیے،ٹرانسفارمر کے سیکنڈری کوائل میں ایک مرکزی کھٹکا (Centre tapping) مہیاکیاجاتا ہے اراس لیے اسے مرکزی کھٹکا ٹرانسفارمر کہتے ہیں۔جیسا کہ شکل14.19 (c)سے دیکھاجاسکتا ہے،ہر ڈایوڈ سے سمتی ہوئی وولٹیج،کل سیکنڈری وولٹیج کا نصف ہوتی ہے۔ہر ڈایوڈ صرف نصف سائیکل کے لیے ہی سمت کاری کرتا ہے،لیکن دونوں ایسا متبادل سائیکلوں کے لیے کرتے ہیں۔اس لیے،ان کے مشترکہ ٹرمینل اورٹرانسفارمرکے مرکزی کھٹکے کے درمیان برآمدہ ایک مکمل–لہر سمت کار برآمدہ بن جاتا ہے۔[نوٹ کریں کہ مکمل لہر سمت کار کاایک اورسرکٹ بھی ہے،جس میں مرکزی کھٹکا ٹرانسفارمر استعمال نہیں ہوتا بلکہ چارڈایوڈ کی ضرورت پڑتی ہے۔)فرض کیاکہ Aپر درآمدہ وولٹیج،کسی بھی لمحہ وقت پر،مرکزی کھٹکے کی مناسبت سے مثبت ہے۔یہ ظاہر ہے کہ اس وقتBپر وولٹیج،فیز سے باہر ہونے کی وجہ سے،منفی ہوگی،جیسا کہ شکل14.19 (b)میں دکھایاگیاہے۔اس لیے ڈایوڈD1پیش مائل ہوجاتا ہے اورایصال کرتا ہے۔(جب کہ ڈایوڈD2،پس مائل ہونے کی وجہ سے ایصالی نہیں ہوتا)۔اس لیے ہمیں اس مثبت نصف سائیکل کے دوران ایک برآمدہ کرنٹ ملتاہے(اورلوڈ مزاحمت Rکے سروں کے درمیان ایک برآمدہ وولٹیج)،جیساکہ شکل14.19 (c)میں دکھایاگیا ہے۔acسائیکل کے دوران جبAپر وولٹیج مرکزی کھٹکے کی مناسبت سے منفی ہوجاتی ہے توBپر وولٹیج مثبت ہوگی۔سائیکل کے اس حصے میں ڈایوڈD1ایصال نہیں کرے گا،لیکن ڈایوڈD2کرے گا اورacدرآمدہ کے منفی نصف سائیکل کے دوران ایک برآمدہ کرنٹ اوربرآمدہ وولٹیج(RLکے سروں کے درمیان)دے گا۔اس لیے ہمیں سائیکل کے مثبت اورمنفی دونوں نصف حصوں کے دوران برآمدہ وولٹیج ملے گی۔ظاہر ہے کہ نصف لہر سمت کار کے مقابلے میں یہ سرکٹ،سمتی وولٹیج یا کرنٹ حاصل کرنے کے لیے،زیادہ مستعد(efficient)ہے۔
سمتی وولٹیج، نصف سائن خم نما کی شکل کی پلس کی  شکل میں ہوتی ہے۔ حالاں کہ یہ یک سمتی ہوتی ہے لیکن اس کی ایک قائم قدر نہیں ہوتی۔پلس کی شکل کی وولٹیج سے قائم dc برآمدہ حاصل کرنے  کے لیے، عام طور سے برآمدہ ٹرمنلوں کے درمیان ایک کیپسٹر(لوڈRLسے متوازی طرز میں) جوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ہمRLکے ساتھ، سلسلہ وار طرز میں ایک امالہ کار بھی  جوڑسکتے ہیں۔ کیوں کہ یہ اضافہ سرکٹacہلکورے[Ripple] کو چھانتے ہوئے معلوم ہوتےہیں اور ایک خالصdcوولٹیج دیتے ہیں،اس لیے انھیں فلٹر کہتے ہیں۔
اب ہم چھاننے کے عمل میںکیپسٹر کے رول سے بحث کریں گے۔جب کیپسٹر کے سروں کے درمیان وولٹیج بڑھ رہی ہوتی ہے تو یہ چارج ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی بیرونی لوڈ نہ ہو تو یہ سمتی بر آمدہ کی فراز وولیٹیج (Peak Voltage) پر چارج رہتا ہے۔ جب ایک لوڈ ہوتا ہے تو یہ لوڈ کے ذریعے ڈسچارج ہوتا ہے اور اس کے سروں کے درمیان وولٹیج کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ سمتی برآمدہ کے اگلے نصف سائیکل میں یہ دوبارہ فراز قدر تک چارج ہو جاتا ہے۔ (شکل14.20)۔کیپسٹر کے سروں کے درمیان وولٹیج کے کم ہونے کی شرح،کیپسٹر کی گنجائشCاورسرکٹ میں استعمال کیے گئے،مزاحمہ کی موثر مزاحمت RLکے حاصل ضرب کے مقلوب کے تابع ہوتی ہے اوراسے وقت مستقلہ کہتے ہیں۔وقت مستقلہ کوبڑابنانے کے لیےCکو بڑاہونا چاہیے۔اس لیے،کیپسٹر درآمدہ فلٹروں میں بڑے کیپسٹر استعمال کیے جاتے ہیں۔کیپسٹر درآمدہ فلٹروں کے استعمال کے ذریعے،حاصل ہوئی برآمدوولٹیج،سمتی وولٹیج کی فراز وولٹیج کے نزدیک ہوتی ہے۔ اس قسم کا فلٹر سب سے زیادہ پاورسپلائی میں استعمال ہوتاہے۔

5048
شکل14.20 (a)کیپسٹر فلٹر کے ساتھ ایک مکمل–لہر سمت کار(b) a میں دکھائے گئے سمت کار کی درآمدہ اوربرآمدہ وولٹیج
51

شکل14.21:زینر ڈایوڈ(a)علامت(b)
I-V مخصوص خم

53
شکل 14.22: زینر ڈایوڈ بہ طور ایک DC وولٹیج تعدیل کار

14.8مخصوص غایت پی۔ این جنکشن ڈایوڈ

(Special Purpose p-n Junction Diodes)

اس حصے میں ہم کچھ ایسے آلات سے بحث کریں گے جو بنیادی طورپر جنکشن ڈایوڈ ہیں لیکن مختلف استعمالات کے لیے بنائے گئے ہیں۔

14.8.1زینر ڈایوڈ(Zener diode)

یہ ایک مخصوص غایت نیم موصل ڈایوڈ ہے،جس کا نام اس کے موجد سی–زینر کے نام پر رکھاگیا ہے۔اسے تعطل علاقہ میں پس میلان کے تحت کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیاگیا ہے اوراسے بطور وولٹیج تعدیل کار(Voltage regulator) استعمال کیاجاتا ہے۔ زینر ڈایوڈ کی علامت شکل14.21 (a)میں دکھائی گئی ہے۔
زینر ڈایوڈ ایک جنکشن کی –pجانب اور n–جانب، دونوں، کو بہت زیادہ ڈوپ کرکے بنایا جاتا ہے۔ اس طرح عسرت علاقہ بہت پتلا
 (<10–6m) 
تشکیل ہوتا ہے اور جنکشن کا برقی میدان بہت خفیف پس میلان وولٹیج، تقریباً 5Vقدر کی، کے لیے بھی بہت زیادہ
 (~ 5×106 V/m)
 ہوتا ہے۔ ایک زینر ڈایوڈکا V–I مخصوص خم شکل 14.21 (b) میں دکھایا گیا ہے۔ یہ دکھایا گیا ہے کہ جب لگائی گئی پس مائل وولٹیج (V)، زیمر ڈایوڈ کی تعطل وولٹیج (Vz) تک پہنچتی ہے تو پس مائل وولٹیج میں تقریباً غیر قابل لحاظ تبدیلی کے ذریعے بھی کرنٹ میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، زینر وولٹیج مستقلہ رہتی ہے، حالانکہ زینر ڈایوڈ سے گذررہا کرنٹ بڑی سعت پر تبدیل ہوتا ہے۔ زینر ڈایوڈ کی یہ خاصیت سپلائی وولٹیجوں کی تعدیل کرنے کے لیے استعمال کی جا تی ہے، تاکہ وہ مستقلہ رہیں۔ 
آئیے یہ سمجھتے ہیں کہ تعطل وولٹیج پرپس کرنٹ اچانک کیوں بڑھ جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پس کرنٹ الیکٹرانوں (اقلیتی حاملوں) کے p→n اور سوراخوں کے n→pبہنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے پس مائل وولٹیج میں اضافہ کیا جاتا ہے، جنکشن پر برقی میدان قابل لحاظ ہوتا جاتا ہے۔ جب پس مائل وولٹیج
   Vz،(V)
کے مساوی ہو جاتی ہے۔ (V=Vz)، تو برقی میدان کی طاقت اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ میزبان ایٹموں سے گرفت الیکٹرانوں کو –p جانب کھینچ سکے جو کہی n– جانب اسراع پذیر تھے۔ یہ الیکٹران ہی تعطل پر مشاہدہ کیے گئے بڑے کرنٹ کی وجہ ہیں۔ میزبان ایٹموں سے، اعلیٰ برقی میدان کی وجہ سے ، لیکٹرانوں کا اخراج، اندرونی میدان اخراج یا میدان آین کاری کہلاتا ہے۔ میدان آئن کاری کے لیے درکار میدان
106 V/m 
کے درجہ کا ہوتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ جب ایک سمت کار کی ac درآ دہ وولٹیج غیر مستقل ہوتی ہے تو اس کا سمتی بر آمدہ بھی غیر مستقل ہوتی ہے۔ ایک سمت کار کی غیر تعدیل شدہ dc بر آمدہ سے ایک مستقل dc وولٹیج حاصل کرنے کے لیے ہم ایک زینر ڈایوڈ استعمال کرتے ہیں۔ زینر ڈایوڈ استعمال کرتے ہوئے ایک وولٹیج تعدیل کار کی سرکٹ ڈائیگرام شکل 14.22 میں دکھائی گئی ہے۔
غیر تعدیل شدہdcوولٹیج (ایک سمت کار کی فلٹر کی ہوئی برآمد)کوایک سلسلہ وارمزاحمہ Ssکے ذریعے زینرڈایوڈ سے اس طرح جوڑاجاتا ہے کہ زینر ڈایوڈ پس مائل ہو۔اگر درآمدوولٹیج بڑھتی ہے توRsاورزینر ڈایوڈ سے گذرنے والا کرنٹ بھی بڑھتا ہے۔اس سے زینر ڈایوڈ کے سروں کے درمیان وولٹیج میں بغیر کسی تبدیلی کےRsکے سروں کے درمیان وولٹیج بڑھ جاتا ہے۔ایسا اس لیے ہوتا ہے،کیوں کہ تعطل علاقہ میں،زینر وولٹیج مستقلہ رہتی ہے اورحالانکہ زینر ڈایوڈ سے گذررہا کرنٹ تبدیل ہوتا ہے۔ اسی طرح،اگر درآمد وولٹیج کم ہوتی ہے توRsاورزینر ڈایوڈ سے گذرنے والا کرنٹ بھی کم ہوجاتا ہے۔زینر ڈایوڈکے سروں کے درمیان وولٹیج فرق میں بغیر کسی تبدیلی کے Rs کے سروں کے درمیان وولٹیج کم ہو جاتا ہے اس لیے درآمد وولٹیج میںہوا کوئی اضافہ/کمی،زینر ڈایوڈ کے سروں کے درمیان وولٹیج میں بغیر کوئی تبدیلی کیے،Rsکے سروں کے درمیان وولٹیج فرق میں اضافہ/کمی کی شکل میںظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح زینر ڈایوڈ ایک وولٹیج تعدیل کار کی طرح کام کرتا ہے۔ہمیں زینر ڈایوڈ کو مطلوبہ برآمد وولٹیج کے مطا بق منتخب کرنا ہوتا ہے اوراسی لحاظ سے سلسلہ وار مزاحمت Rsکو بھی۔

مثال14.5: ایک زینر تعدیل شدہ پاورسپلائی میں تعدیل کاری کے لیے ایک زینر ڈایوڈVz=6.0Vکے ساتھ،استعمال کیاجاتا ہے۔لوڈ کرنٹ4.0 mAہوتا ہے اورغیر تعدیل شدہ درآمد10.0Vہے۔ سلسلہ وار مزاحمت Rsکی کیا قدرہونی چاہیے؟
حل:Rsکی قدرایسی ہونی چاہیے کہ زینر ڈایوڈ سے گذرنے والا کرنٹ،لوڈ کرنٹ سے بہت زیادہ ہو۔زینر کرنٹ کو لوڈ کرنٹ کا5گنا منتخب کرلیجیے،یعنی کہ:Iz=20 mA،اس لیےRsسے گذررہا کل کرنٹ24 mAہے۔Rsکے سروں کے درمیان وولٹیج فرق
10.0 – 6.0 = 4.0 V
ہے۔اس سے حاصل ہوتا ہے:Pic-188، کاربن مزاحمہ کی قریب ترین قدر
150 Ω
ہے۔اس لیے
150 Ω
 کا ایک سلسلہ وار مزاحمہ مناسب ہے۔ نوٹ کریں کہ مزاحمہ کی قدرمیں تھوڑی بہت تبدیلی سے فرق نہیں پڑتا،اہم بات یہ ہے کہ کرنٹ کوILسے کافی زیادہ ہونا چاہیے۔

57
شکل14.23:(a)پس میلان کے تحت،ایک روشن فوٹو ڈایوڈ(b)مختلف روشنی شدت
14>13>12>11

کے لیے ایک فوٹو ڈایوڈ کےI–Vمخصوص خم

14.8.2نوری الیکٹرانک جنکشن آلات

(Optoelectronic junction devices)

اب تک ہم نے یہ دیکھا کہ ایک نیم موصل ڈایوڈ،لگائی گئی برقی درآمد کے تحت کیسے برتاؤ کرتاہے۔ اس حصے میں ہم ایسے نیم موصل ڈایوڈ کے بارے میں سیکھیں گے جن میںحامل،فوٹانوں(فوٹو–اشتعال) کے ذریعے پیداکیے جاتے ہیں۔ایسے تمام آلات نوری الیکٹرانک آلات کہلاتے ہیں۔ہم مندرجہ ذیل نوری الیکٹرانک آلات کے کام کرنے کے طریقے کا مطالعہ کریں گے:
(i) فوٹوڈایوڈ جو نوری سگنل کو شناخت کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں(فوٹو شناخت کار)
(ii) روشنی خارج کرنے والے ڈایوڈ(LED)،جوبرقی توانائی کو روشنی میں تبدیل کرتے ہیں۔
(iii) فوٹو وولٹائی آلات جو نوری اشعاع کو برق میں تبدیلی کرتے ہیں(شمسی سیل)

(i)  فوٹو ڈایوڈ(Photodiode)

ایک فوٹوڈایوڈ بھی ایک مخصوص غایتp–nجنکشن ڈایوڈ ہے،جسے اس طرح بنایا جاتا ہے کہ اس میں ایک شفاف کھڑکی ہوتی ہے،جس سے روشنی ڈایوڈ پر پڑسکتی ہے۔ اسے پس میلان کے تحت چلایا جاتا ہے۔ جب فوٹو ڈایوڈ پر ایسی روشنی پڑتی ہے(فوٹان پڑتے ہیں)جس کی توانائی(hv)،نیم موصل کے توانائی فصل(Eg)سے زیادہ ہوتی ہے توفوٹانوں کے انجذاب کی وجہ سے الیکٹران–سوراخ جوڑے پیداہوتے ہیں۔ڈایوڈ کو اس طرح بنایاجاتا ہے کہe–hجوڑے،ڈایوڈ کے عسرت–علاقے میں یااس کے نزدیک،پیداہوں۔جنکشن کے برقی میدان کی وجہ سے،الیکٹران اورسوراخ،بازمتحدہونے سے پہلے ہی ایک دوسرے سے علاحدہ ہوجاتے ہیں۔برقی میدان کی سمت ایسی ہوتی ہے کہ الیکٹرانn–جانب پہنچتے ہیں اور سوراخp–جانب پہنچتے ہیں۔ الیکٹرانوں کو n–جانب وصول کرلیاجاتا ہے اورسوراخوں کوp–جانب،جس سے ایکemfپیداہوتی ہے۔جب ایک بیرونی لوڈ لگایاجاتا ہے تو کرنٹ بہتا ہے۔فوٹوکرنٹ کی عددی قدر،واقع روشنی کی شدت کے تابع ہے(فوٹو کرنٹ،واقع روشنی کی شدت کے متناسب ہے)
اگر ایک پس میلان لگایاجائے توروشنی کی شدت کے ساتھ کرنٹ میںتبدیلی کا مشاہدہ کرناآسان ہوجاتا ہے۔اس لیے ایک فوٹوڈایوڈ،نوری سگنلوں کو شناخت کرنے کے لیے بطور فوٹو شناخت کار استعمال کیاجاتا ہے۔ایک فوٹو ڈایوڈ کےI–Vمخصوص خم کی پیمائش کے لیے استعمال کی جانے والی سرکٹ ڈائیگرام شکل14.23 (a)میں دکھائی گئی ہے اورایک مخصوص،I–Vمخصوص خم شکل14.23 (b)میں دکھایا گیا ہے۔

مثال14.6:پیش میلان میں کرنٹ(mA~)پس میلان میں کرنٹ (uA~)سے زیادہ ہوتا ہے،یہ ہمیں معلوم ہے۔پھر فوٹو ڈایوڈ کوپس میلان میں چلانے کی وجہ کیا ہے؟
حل:ایک–nقسم نیم موصل لیجیے۔ظاہر ہے کہ اکثریت حامل کثافت(n)‘اقلیت حامل کثافت(p)سے بہت زیادہ ہے(یعنی کہ:n>>p)۔فرض کیجیے روشن کرنے پر،پیداہونے والے مزید الیکٹران اورسوراخ،بالترتیب،ΔnاورΔpہیں:
+'=n+Δn
p'=p+Δn
جہاں'nاور'pالیکٹرانوں اورسوراخوں کے،کسی بھی مخصوص روشنی پر،ارتکاز ہیں اورnاورpحاملوں کے ارتکاز اس وقت ہیں جب کوئی روشنی نہیں پڑرہی ہے ۔یاد رکھیے:
Δn=Δp
اور
n>>p،اس لیے اکثریت حاملوں میں کسری تبدیلی(یعنی کہ Pic-189، اقلیت حاملوں میں کسری تبدیلی (یعنی کہPic-190کے مقابلے میں بہت کم ہوگی۔ عمومی طورپر،ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقلیت حامل حاوی پس میلان کرنٹ میں نوری اثرات کی وجہ سے ہونے والی کسری تبدیلی،پیش میلان کرنٹ میں ہونے والی کسری تبدیلی کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے تاپی جاسکتی ہے۔اس لیے روشنی کی شدت ناپنے کے لیے فوٹو ڈایوڈ کو پس میلان میں استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔


نوٹ کریں کہ ایکe–hجوڑا بنانے کے لیے،ہم کچھ توانائی خرچ کرتے ہیں(فوٹو اشتعال،حرارتی اشتعال،وغیرہ)۔اس لیے جب ایک الیکٹران اورسوراخ دوبارہ متحدہوتے ہیں تو توانائی روشنی کی شکل میں(اشعاعی بازاتحاد)خارج ہوتی ہے یا حرارت کی شکل میں(غیر اشعاعی بازاتحاد) خارج ہوتی ہے۔یہ نیم موصل اورp–nجنکشن بنانے کے طریقے پر منحصر ہے۔LEDsبنانے کے لیے GaAs،GaAs–GP جیسے نیم موصل استعمال کیے جاتے ہیں جن میں اشعاعی اتحاد حاوی ہوتا ہے۔

(ii)روشنی خارج کرنے والا ڈایوڈ(Light emitting diode)

یہ بہت زیادہ ڈوپ کیاہواp–nجنکشن ہوتا ہے جوپیش میلان کے تحت ازخود اشعاع خارج کرتاہے۔ڈایوڈ پر ایک شفاف خول چڑھادیاجاتا ہے تاکہ خارج ہوئی روشنی باہر آسکے۔
جب ڈایوڈ پیش مائل ہوتا ہے تو الیکٹرانn→p(جہاں اقلیتی حامل ہیں)بھیجے جاتے ہیںاورسوراخ p→n(جہاں اقلیتی حامل ہیں)بھیجے جاتے ہیں۔جنکشن سرحد پر اقلیتی حاملوں کا ارتکاز،حالت توازن ارتکاز (یعنی کہ جب کوئی میلان نہ ہو)کے مقابلے میںبڑھ جاتا ہے۔اس لیے جنکشن کے دونوں طرف جنکشن سرحد پر زائد اقلیتی حامل ہوتے ہیں جو جنکشن کے نزدیک اکثریتی حاملوں سے بازاتحاد کرتے ہیں۔بازاتحاد ہونے پر، توانائی فوٹانوں کی شکل میں رہاہوتی ہے۔ ایسے فوٹان خارج ہوتے ہیں جن کی توانائی بینڈ فصل کے مساوی یا اس سے کچھ کم ہوتی ہے۔جب ڈایوڈ کا پیش کرنٹ خفیف ہوتا ہے،توخارج ہونے والی روشنی کی شدت بھی خفیف ہوتی ہے۔جیسے جیسے پیش کرنٹ میں اضافہ ہوتا ہے ،روشنی کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا ہے،یہاں تک کہ شدت اپنی اعظم قدر پر پہنچ جاتی ہے۔ پیش کرنٹ میں مزید اضافہ سے روشنی کی شدت میںکمی آتی ہے۔LEDsاس طرح مائل کیے جاتے ہیں کہ روشنی خارج کرنے کی استعداد اعظم ہو۔
ایکLEDکےV–Iمخصوص خم ایکSiجنکشن ڈایوڈ جیسے ہوتے ہیں۔لیکن دہلیز وولٹیجیں مقابلتاًبہت زیادہ ہوتی ہیں اورہررنگ کے لیے تھوڑی مختلف ہوتی ہیں۔LEDsکی پس تعطل وولٹیج بہت کم ہوتی ہیں،تقریباً5V،اس لیے یہ احتیاط رکھنی چاہیے کہ ان کے سروں کے درمیان اعلا پس وولٹیج نہ پیداہوں۔
ایسے LEDsجو لال،پیلی،نارنجی،ہری اورنیلی روشنی خارج کرسکتے ہیں،تجارتی پیمانے پر دستیاب ہیں۔ 
بصریLEDsتیار کرنے میں استعمال ہونے والے نیم موصلوں میں کم ازکم1.8evکابینڈفصل ہونالازمی ہے۔(بصری روشنی کی طیفی وسعت تقریباً
0.4 mm
سے
0.7 mm
ہے،یعنی کہ تقریباً
3 eVسے1.8 eVتک)مختلف رنگوں کےLEDsبنانے کے لیے مرکب نیم موصل گیلیم آرسینائڈ–فاسفائڈ 
(Ga As1-x Px) استعمال کیاجاتا ہے۔
GaAs0.6 P0.4 (Eg~ 1.9 eV)
 لال LEDکے لیے استعمال ہوتا ہے۔
(Eg~1.4 eV) Ga As 
زیریں سرخLEDبنانے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔انLEDsکاریموٹ کنٹرول،چوروں کے الارم نظاموں،نوری پیام رسائی وغیرہ میں بکثرت استعمال کیاجاتاہے۔سفیدLEDsتیارکرنے کے لیے وسیع پیمانے پرریسرچ کی جارہی ہے۔سفیدLEDs،تاباں لیمپ کی جگہ لے سکتے ہیں۔
LEDsکے عام تاباں کم پاورلیمپوں کے مقابلے میں مندرجہ ذیل فائدے ہیں:
(i) یہ کم وولٹیج اورکم پاور پر کام کرسکتے ہیں
(ii) تیزی سے عمل کرتے ہیں اورگرم ہونے کے لیے کوئی وقت نہیں لیتے
(iii) خارج ہوئی روشنی کی بینڈ چوڑائی
100 Åسے500 Åہے یا دوسرے لفظوں میں یہ تقریباً(لیکن بالکل درست طورپر نہیں)یک رنگی ہے۔
(iv) زیادہ لمبی عمر اورمضبوطی
(v) تیزی سے آن–آف ہونے کی صلاحیت
70
شکل14.24:(a)مخصوصp–nجنکشن شمسی سیل (b)تراشہ شکل
71
شکل14.25:(a)ایک مخصوص روشنp–nجنکشن سیل(b)ایک شمسی سیل کا مخصوص خم

(iii)شمسی سیل(Solar Cell)

ایک شمسی سیل بنیادی طورپر ایک ایساp–nجنکشن ہے،جس پر اگر شمسی شعاعیں پڑتی ہیں تو یہemfپیداکرتا ہے۔یہ اسی اصول(فوٹو وولٹائی اثر)پر کام کرتا ہے جس پر فوٹو ڈایوڈ کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس میں کوئی بیرونی میلان نہیں لگایاجاتااورجنکشن رقبہ کو کہیں زیادہ وسیع رکھاجاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شمسی شعاعیں واقع ہوسکیں،کیوں کہ ہم زیادہ پاور چاہتے ہیں۔
ایک سادہp–nجنکشن شمسی سیل شکل14.24میں دکھایا گیا ہے۔
تقریباً
300 mm
موٹائی کاایک P–Siورق(ویفرwafer)لیتے ہیں اوراس کے اوپر ایک طرف عمل نفوذ کے ذریعےn–Siکی ایک پتلی تہہ   
  (~0.3 mm)
جمائی جاتی ہے۔ P–Siکی دوسری جانب دھات (پچھلاتماس) کی پالش کردی جاتی ہے۔ n–Siتہہ کی اوپری سطح پر دھاتی انگلی نما برقیرہ(metal finger electrode)(یادھاتی گرڈ(metallic gridکی تہہ ہوتی ہے۔یہ سامنے کے تماس کے بطورکام کرتی ہے۔دھاتی گرڈ سیل کے رقبے کا بہت ہی چھوٹا جز گھیرتی ہے(<15%)تاکہ اوپر سے روشنی سیل پر واقع ہوسکے۔
روشنی پڑنے پر،ایک شمسی سیل کے ذریعےemfپیداہونے میںتین بنیادی عمل شامل ہیں:پیداہونا، علاحدہ ہونا اورجمع کیاجانا:(i)جنکشن کے نزدیک روشنی کی وجہ سے(hv>Egکےساتھ)e–h جوڑوں کا پیدا ہونا۔ (ii) عسرت– علاقہ کے برقی میدان کی وجہ سے الیکٹرانوں اور سوراخوں کا علیٰحدہ ہوجانا۔ الکٹران n جانب دھکیل دیے جاتے ہیں اورسوراخ–pجانب۔(iii) –nجانب پہنچنے والے الیکٹران سامنے کے تماس کے ذریعے اکٹھے کرلیے جاتے ہیں اور p–جانب پہنچنے والے سوراخ پچھلے تماس کے ذریعے۔اس لیےp–جانب مثبت ہوجاتی ہے اور–nجانب منفی اورفوٹو وولٹیج پیداہوتی ہے۔
جب ایک بیرونی لوڈ جوڑدیاجاتا ہے،جیساکہ شکل14.25 (a)میں دکھایا گیاہے، تو لوڈ سے ایک فوٹو کرنٹILبہتا ہے۔ایک شمسی سیل کا مخصوص خم شکل14.25 (b) میں دکھایاگیا ہے۔
نوٹ کریں کہ ایک شمسی سیل کامخصوص خم،کوآرڈی نیٹ محوروں کے چوتھے ربع(quadrant)میں کھینچا گیا ہے۔ ایسااس لیے ہے کیوں کہ شمسی سیل خود کرنٹ نہیں کھینچتا بلکہ لوڈ کو کرنٹ مہیاکرتا ہے۔
شمسی سیل بنانے کے لیے ایسے نیم موصل،جن کے توانائی فصل1.5 eVکے آس پاس ہوں،مثالی مادی اشیا ہیں۔شمسی سیل،
Ga As, (Eg=1.1 eV) Si 
(Eg=1.04 eV) CulnSe2, (Eg=1.45 eV) Cd T e, (Eg= 1.43 eV)
 وغیرہ جیسے نیم موصلوں سے بنائے جاتے ہیں۔شمسی سیل بنانے کے لیے منتخب کیے جانے والی مادی شے کی اہمیت خاصیتیں ہیں:(i)بینڈ فصل(~1.0سے 1.8 eV)،اعلا نوری انجذاب
 (~104 cm-1)
 (iii)برقی ایصالیت (iv)خام مادی شے کی فراہم اور(v)قیمت– نوٹ کریں کہ ایک شمسی سیل کے لیے ہمیشہ ہی سورج کی روشنی کی ضرورت نہیں ہوتی۔کوئی بھی روشنی،جس کی فوٹان توانائی بینڈ فصل سے زیادہ ہو،کام کرے گی۔شمسی سیل،خلائی گاڑیوں اورسیارچوں میں لگے الیکٹرانک آلات کو پاور مہیاکرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اورکچھ تحسیب کاروں(Calculators)میں بطور پاورسپلائی بھی استعمال ہوتے ہیں۔بڑے پیمانے پر،شمسی توانائی کے لیے کم قیمت فوٹو وولٹائی سیل تیار کرنا ریسرچ کا ایک موضوع ہے۔

مثال14.7:شمسی سیل بنانے کے لیےSiاورGaAsمادی اشیا کو ترجیح کیوں دی جاتی ہے؟
حل: ہمیں جو شمسی اشعاع طیف ملتا ہے،اسے شکل14.26میں دکھایا گیا ہے۔
78
اس کی اعظم قدر1.5 eVکے قریب ہے۔فوٹو اشتعال کے لیے hv<Eg اس لیے ایسا نیم موصل جس کا بینڈ فصل1.5eV ~یااس سے کم ہو،اس کی شمسی تبادلہ استعداد بہتر ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔سلی کون کے لیے توانائی فصل Eg~ 1.1 eV ہے اورGaAsکے لیے:~1.53 eVدراصل SiسےGaAsزیادہ بہتر ہے(اپنے توانائی فصل کے مقابلتاًزیادہ ہونے کے باوجود)کیوں کہ اس کا انجذاب ضربیہ مقابلتاً زیادہ ہے۔اگرCdSیاCdSe
(Eg~ 2.4 eV)
 منتخب کریں تو ہم نوری تبادلے کے لیے شمسی توانائی کااعلا توانائی جز ہی استعمال کرسکتے ہیں اورتوانائی کا ایک قابل لحاظ حصہ کام نہیں آسکے گا۔
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے:ہمPbS
(Eg~0.4 eV)
 جیسی مادی شے کیوں نہیں استعمال کرتے جو شمسی اشعاع کے متطابق،nکی اعظم قدر کے لیےhv>Eg کی شرط کو مطمئن کرتی ہے؟اگر ہم ایسا کریں تو شمسی شعاعوں کا زیادہ ترحصہ شمسی سیل کی بالائی سطح پر ہی جذب ہوجائے گا اورعسرت علاقہ میںایا اس کے نزدیک نہیں پہنچے گا۔ جنکشن میدان کی وجہ سے موثر الیکٹران–سوراخ علاحدگی کے لیے،ہم چاہتے ہیں کہ فوٹو–پیداوار صرف جنکشن علاقے میں ہی ہو۔

14.9ندسی الیکٹرانیات اورلوجک گیٹس(Digital Electronics and Logic Gates)
الیکٹرانیاتی سرکٹوں،جیسے افزائش کاروں،اہترازکاروں،میں،جن سے آپ کا پچھلے حصوں میںتعارف کیاگیاہے،سگنل (کرنٹ یاوولٹیج)کو،مسلسل،وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہوئی وولٹیج یاکرنٹ کی شکل میں لیاگیا تھا۔ایسے سگنلوں کو مسلسل یامشابہ(analogue)سگنل کہتے ہیں۔ ایک مخصوص مشابہ سگنل شکل14.34 (a)میں دکھایاگیا ہے۔شکل14.34 (b)  میںایک پلس لہر شکل(pulse wave form)دکھائی گئی ہے،جس میں وولٹیج کی صرف مجرد قدریں(discrete values)ہی دکھائی گئی ہیں۔ایسے سگنلوں کو ظاہر کرنے کے لیے ثنائی اعداد (binary numbers)استعمال کرنے سے سہولیت رہتی ہے۔ ایک ثنائی عدد میں صرف دوہند سے،’0‘(فرض کیجیےOV)اور’1‘(فرض کیجیے 5V)ہوتے ہیں۔ ہندسی الیکٹرانیات میں ہم وولٹیج کی صرف یہ دومنزلیں(levels)ہی استعمال کرتے ہیں،جیساکہ شکل14.34 (b)میں دکھایاگیا ہے۔ایسے سگنل،ہندسی سگنل کہلاتے ہیں۔ہندسی سرکٹوں میں درآمدہ اوربرآمدہ وولٹیجوں کی صرف دوقدریں (جو0اور1سے ظاہر کی جاتی ہیں)ہی استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
اس حصہ کو ہندسی الیکٹرانیات کی تفہیم میں پہلا قدم مہیاکرنے کی غرض سے لکھاگیا ہے۔ہم اپنے مطالعہ کو ہندسی الیکٹرانیات کے کچھ بنیادی تعمیراتی اجزا تک ہی محدود رکھیں گے(جو لوجک گیٹس کہلاتے ہیں)،جو ہندسی سگنلوں کو ایک خاص طریقے سے برتتے ہیں۔ لوجک گیٹس،تحسیب کاروں،ہندسی گھڑیوں،کمپیوٹروں،روبوٹوں،صنعتی کنٹرول نظاموں اورٹیلی پیام رسانی (Telecommunication)میں استعمال ہوتے ہیں۔
آپ کے گھر کا روشنی سوئچ ایک ہندسی سرکٹ کی مثال ہے۔روشنی یاتو آن ہوتی ہے یا آف،جو سوئچ کی حالت پر منحصر ہے۔جب روشنی آن ہے توبرآمدہ قدر’1‘ہے۔جب روشنی آف ہے توبرآمدہ قدر0ہے۔برآمدات،روشنی سوئچ کی حالتیں ہیں۔سوئچ کو onیاoff میں سے کسی ایک حالت میں رکھاجاتا ہے اوراس طرح روشنی کو فعال بنایاجاتاہے۔
chapter-14-1

شکل14.23:(a)مشابہ سگنل(b)ہندسی سگنل

14.9.1لوجک گیٹس(Logic gates)

ایک گیٹ ایسا ہندسی سرکٹ ہے جو درآمدہ اوربرآمدہ وولٹیجوں کے درمیان ایک منطقی رشتہ پر عمل کرتاہے۔ اس لیے انھیں عموماًلوجک گیٹس کہاجاتا ہے۔گیٹ اس لیے کیوں کہ یہ اطلاعات کے بہاؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ استعمال کیے جانے والے5عام گیٹ ہیں:NOT،AND،OR،NAND،NOR۔ہر لوجک گیٹ کی ایک علامت کے ذریعے نشان دہی کی جاتی ہے اوراس کی کارکردگی کی تعریف ایک صداقتی جدول کے ذریعے کی جاتی ہے جو تمام ممکنہ درٓامدہ لوجک منزل اجتماعات کو ان کے متطابق برآمدہ لوجک منازل کے ساتھ ظاہر کرتا ہے۔ صداقتی جدول لوجک گیٹوں کے برتاؤ کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔یہ لوجک گیٹ،نیم موصل آلات استعمال کرکے بنائے جاسکتے ہیں۔

(i) ناٹ گیٹ NOT Gate  

یہ سب سے بنیادی گیٹ ہے، جس میں ایک درآمدہ اورایک برآمدہ ہوتا ہے۔ جب درآمدہ  ’0‘ ہوتا ہے تو یہ ’1‘ برآمدہ دیتا ہے اور اس کے بر خلاف بھی۔ یعنی کہ یہ اپنے برآمدہ کے بطور درآمدہ کی ایک تقلیب شدہ(الٹی )شکل پیداکرتا ہے۔اسی لیے اسے تقلیب کار(inverter)بھی کہتے ہیں۔اس گیٹ کے لیے عام طورسے استعمال کی جانے والی علامت اوراس کا صداقتی جدول شکل14.35میںدکھایاگیا ہے۔

Pic-191

در آمدہ بر آمدہ
A 1
0 1
1 0
(b)

شکل14.28:NOT گیٹ(a)کی لوجک علامت(b)کا صداقتی جدول

(ii)   آرگیٹ OR Gate

 ایکORگیٹ میں دودرآمدات اورایک برآمدہ ہوتے ہیں۔ اس کی لوجک علامت اورصداقتی جدول شکل 14.36میںدکھائی گئی ہیں۔برآمدہY،1ہوتا ہے جب درآمدہAیادرآمدہBیادونوں1ہوں،یعنی کہ جب دونوں درآمدات میں سے کوئی بھی اعلا ہوتو برآمدہ اعلا ہوتا ہے۔

Pic-192

(a)

در آمدہ برآمدہ
A B Y
O O O
O 1 1
1 O 1
1 1 1

(b)


شکل14.29:OR گیٹ(a)کی لوجک علامت(b)کا صداقتی جدول
مندرجہ بالا ریاضیاتی لوجک عمل کرنے کے علاوہ یہ گیٹ پلس لہر شکل میںترمیم کرنے کے لیے بھی استعمال کیاجاسکتا ہے، جیساکہ مندرجہ ذیل مثال سے وضاحت کی گئی ہے۔

مثال14.8: شکل14.30میں دیے گئے ORگیٹ کے مندرجہ ذیل درآمداتAاورBکے لیے برآمدہ لہر شکل(Y)کو درست ثابت کیجیے۔
حل:مندرجہ ذیل نوٹ کیجیے:
t1  > ››پر، A = 0, B = 0؛ اس لیے Y = 0 
•t1  سے t2 تک کے لیے؛ A = 1, B = 0؛ اس لیے Y = 1
•t2  > سے t3تک کے لیے؛ A = 1, B = 1؛ اس لیےY = 1
•t3  سے t4تک کے لیے؛ A = 0, B = 1؛ اس لیے Y = 1
•t4  سے t5تک کے لیے؛ A = 0, B = 0؛ اس لیے Y = 0
•t5  سے t6 تک کے لیے؛ A = 1, B = 0؛ اس لیے Y = 1
• t6 ›‹›کے لیے؛ A = 0, B = 1؛ اس لیے Y = 1
اس لیے لہر شکل،شکل14.30میں دکھائی گئی جیسی ہوگی—

chapter-14-7
شکل14.30

(iii) اینڈ گیٹAND Gate 
 
ایکANDگیٹ میں دویااس سے زیادہ درآمدات ہوتے ہیں اورایک برآمدہ ہوتا ہے۔ ANDگیٹ کا برآمدہ Yصرف تب ہی1ہوتا ہے جب درآمدہ AاوردرآمدہBدونوں’1‘ہوں۔اس گیٹ کے لیے لوجک علامت اورصداقتی جدول شکل14.38میںدکھائے گئے ہیں۔

در آمدہ برآمدہ
A B Y
O O O
O 1 1
1 O 1
1 1 1
(b)


Pic-192
(a)
شکل14.31:AND گیٹ(a)کی لوجک علامت(b)کاصداقتی جدول


مثال14.9:مثال14.8سے مشابہ AاورBدرآمدہ لہر شکلیں لیجیے۔ANDگیٹ سے حاصل ہونے والی برآمدہ لہر شکل کا خاکہ کھینچئے۔
حل:
t ≤ t1 ؛ کے لیے؛ A = 0, B = 0؛ اس لیے  Y = 0
•  t1 سے t2 تک کے لیے؛ A = 1, B = 0؛ اس لیےY = 0
•  t2 سے t3تک کے لیے؛ A = 1, B = 1؛ اس لیے Y = 1
•  t3 سے t4تک کے لیے؛ A = 0, B = 1؛ اس لیے Y = 0
•  t4 سے t5تک کے لیے؛ A = 0, B = 0؛ اس لیے Y = 0
•  t5 سے t6 تک کے لیے A = 1, B = 0؛ اس لیے Y = 0
 t6 ›‹›کے لیے A = 0, B = 1؛ اس لیے Y = 0
مندرجہ بالا پر مبنی،ANDگیٹ کے لیے لہر شکل،نیچے دیے ہوئے طورپر کھینچی جاسکتی ہے۔
chapter-14-9


(iv)نانڈ گیٹGate

یہ ایکANDگیٹ ہے جس کے بعدNOTگیٹ ہے۔ اگر درآمداتAاورBدونوں’1‘ہیں تو برآمدہYنہیں ہے۔ اس کا نام اسNOT–AND(ANDنہیں)برتاؤ کی وجہ سے ہے۔شکل14.40میںNANDگیٹ کی علامت اورصداقت جدول دکھائے گئے ہیں۔ NANDگیٹ،کائناتی گیٹ بھی کہلاتے ہیں،کیوں کہ ان کو استعمال کرکے ہم یہ ایکANDگیٹ ہے جس کے بعدNOTگیٹ ہے۔ اگر درآمداتAاورBدونوں’1‘ہیں تو برآمدہYنہیں ہے۔ اس کا نام اسNOT–AND(ANDنہیں)برتاؤ کی وجہ سے ہے۔شکل14.40میںNANDگیٹ کی علامت اورصداقت جدول دکھائے گئے ہیں۔ NANDگیٹ،کائناتی گیٹ بھی کہلاتے ہیں،کیوں کہ ان کو استعمال کرکے ہم دوسرے بنیادی گیٹ جیسےOR،ANDاورNOT،حاصل کرسکتے ہیں(مشق14.12اور14.13)۔
Pic-192
(a)


در آمدہ برآمدہ
A B Y
O O O
O 1 1
1 O 1
1 1 1
(b)

شکل NAND:14.33گیٹ(a)کی لوجک علامت(b)کا صداقتی جدول

مثال14.10:مندرجہ ذیل درآمداتAاورBکے ساتھ ایکNANDگیٹ سے حاصل ہونے والے برآمدہYکا خاکہ کھینچیے۔
حل:
t<t1 کے لیے؛ A = 1, B = 1؛ اس لیے Y = 0
•  t1 سے t2 تک کے لیے؛ A = 0, B = 0؛ اس لیے Y = 1
t2 سے t3تک کے لیے؛ A = 0, B = 1؛ اس لیے Y = 1
t3 سے t4تک کے لیے؛ A = 1, B = 0؛ اس لیے Y = 1
t4 سے t5تک کے لیے؛ A = 1, B = 1؛ اس لیے Y = 0
t5 سے t6 تک کے لیے؛ A = 0, B = 0؛ اس لیے Y = 1
 t6 >‹t›کے لیے ؛ A = 0, B = 1 اس لیے Y = 1

chapter-14-11


(v) نار گیٹ NOR Gate  
اس میں دویا دوسے زیادہ درآمدات ہوتے ہیں اورایک برآمدہ ہوتا ہے۔ایکNOT۔عمل جوORگیٹ کے بعد لاگو کیاجاتاہے ایکNOT–ORگیٹ یا سادہ طورپرNORگیٹ دیتا ہے۔اس کا برآمدہYصرف تب ہی1ہوتا ہے جب دونوں درآمدات AاورBصفرہوں،یعنی کہ ایک درآمدہ اورنہ ہی دوسرا درآمدہ1ہو۔NORگیٹ کے لیے علامت اورصداقت جدول شکل14.35میں دیے گئے ہیں۔


Pic-192
(a)
در آمدہ برآمدہ
A B Y
O O 1
O 1 O
1 O O
1 1 O

شکل NOR:14.15گیٹ(a)کی لوجک علامت(b)کا صداقت جدول


NORگیٹوں کو کائناتی گیٹ ماناجاتا ہے کیوںکہAND،OR،NOTجیسے تمام گیٹ صرفNORگیٹ استعمال کرکے حاصل کیے جاسکتے ہیں(مشق14.14اورمشق14.15)

تیز سے تیز تر اورچھوٹے چھوٹے سے چھوٹا:کمپیوٹر ٹیکنالوجی کامستقبل
FASTER AND SMALLER: THE FUTURE OF COMPUTER TECHNOLOGY
اجمالی چپ(IC)تمام کمپیوٹرنظاموں کے قالب پر پیوست ہے۔دراصل ICsتقریباًتمام برقی آلات،جیسے موٹریں،ٹیلی ویژن،CDپلیئر،سیل فون وغیرہ،میں پائے جاتے ہیں۔ کوچک کاری (miniaturisation)جس نے جدید ذاتی کمپیوٹر کو ممکن بنایا،ICکے بغیر کبھی نہیں کی جاسکتی تھی۔ICsوہ الیکٹرانیاتی آلات ہیں جن میں کئی ٹرانسسٹر،مزاحمے،کیپسٹر،جوڑنے والے تار—سب ایک بنڈل (Package)میںہوتے ہیں۔آپ نے مائیکروپروسسرکے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ مائیکروپروسسر ایک ایساICہے جو ایک کمپیوٹر میں تمام اطلاعات پر عمل کاری کرتا ہے، جیسے کون سی کنجیاں دبائی گئی ہیں،کون سے پروگرام،کھیل وغیرہ چلائے جارہے ہیں،ان سب کا حساب رکھنا۔ICسب سے پہلے جیک کلکی نے  1958میں ٹیکساس انسٹرومنٹ میں ایجاد کیا۔اس ایجاد کے لیے انھیں2000میں نوبل انعام سے نوازاگیا۔ICsایک نیم موصل کرسٹل کے ٹکڑے  (یاچپ)پر،فوٹو سنگ کاری کہے جانے والے عمل کے ذریعے، بنائے جاتے ہیں۔اس لیے پوری اطلاعات ٹیکنالوجی (IT)نیم موصلوں پر ٹکی ہوئی ہے۔پچھلے برسوں میںICsکی پیچیدگی میں اضافہ ہوتاجارہا ہے جب کہ اس پر مبنی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے سائز میں کمی آتی جارہی ہے۔پچھلی پانچ دہائیوں میں،کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں جوڈرامائی کوچک کاری ہوئی ہے اس نے جدید کمپیوٹروں کو مزید تیز رفتار اورسائز میں اورچھوٹا بنادیا ہے۔1970کی دہائی میں،گورڈن مور ،INTELکے بانیوں میں سے ایک،نے یہ نشان دہی کی کہ ایک چپ(IC)کی یادداشت گنجائش ہر ڈیڑھ برس کے عرصے میں تقریباًدوگنی ہوتی جارہی ہے۔یہ عام طورسے مورکے قانون کے نام سے مقبول ہے۔ٹرانسسٹروں کی تعداد فی چپ میں قوت نمائی طورپر اضافہ ہواہے اورہر سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور کمپیوٹر بازار میں آجاتے ہیں اوران کی قیمت پچھلے سال والے کمپیوٹر کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ موجودہ رجحان کے پیش نظر کہاجاسکتا ہے کہ 2020میں کمپیوٹر40GHz (40,000 MHz)پرچلیں گے اورموجودہ کمپیوٹروں کے مقابلے میں زیادہ استعداد والے،کہیں چھوٹے اورکم مہنگے ہوں گے۔ نیم موصل صنعت اورکمپیوٹر ٹیکنالوجی میں ہونے والی دھماکہ خیز ترقی گورڈن مور کے اس قول سے بخوبی واضح ہوجاتی ہے:’’اگر موٹر گاڑیوں کی صنعت بھی اسی رفتار سے ترقی کرتی ہے، جس رفتار سے نیم موصل صنعت ترقی کررہی ہے تو ایک رولس رائس موٹر ایک گیلن میں پانچ لاکھ میل چل سکے گی اوراسے کہیں کھڑا کرنے کا کرایہ(پارکننگ)اس کی قیمت سے زیادہ ہوگا‘‘


خلاصہ

نیم موسل موجودہ ٹھوس حاصل الیکٹرانک آلات،جیسے ڈایوڈ،ٹرانسسٹرICsوغیرہ،میں استعمال ہونے والی بنیادی مادی اشیا ہیں۔
جز ترکیبی عناصر کی لیٹس ساخت اورایٹمی ساخت یہ متعین کرتی ہیں کہ ایک مخصوص مادی شے حاجز ہوگی،دھات ہوگی یا نیم موصل ہوگی۔
دھاتوں کی مزاحمیت خفیف ہوتی ہے۔
(10-2سے
10-8Ωm
تک)،حاجزوں کی مزاحمیت بہت اعلادرجے کی ہوتی ہے
(>10-8Ωm-1)
اورنیم موصلوں کی مزاحمیت کی قدریں ان کے درمیان ہوتی ہیں۔
نیم موصل عنصری بھی ہوتے ہیں(Si,Ge)اورمرکب بھی(Cds,GaAs
وغیرہ)۔
خالص نیم موصل’’ذاتی نیم موصل‘‘کہلاتے ہیں۔چارج حاملوں(الیکٹران اورسوراخ)کی موجودگی، مادی شے کی ایک ذاتی خاصیت ہے اوریہ حرارتی اشتعال کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔ذاتی موصلوں میں الیکٹرانوں کی تعداد(ne)،سوراخوں کی تعداد(nh)کے مساوی ہوتی ہے۔ سوراخ دراصل الیکٹران خلوہیں،جن کاایک موثر مثبت چارج ہوتا ہے۔
خالص نیم موصلوں میں ایک مناسب ملاوٹ کی ڈوپنگ کرکے چارج حاملوں کی تعداد تبدیل کی جاسکتی ہے۔ایسے نیم موصل،بیرونی نیم موصل کہلاتے ہیں۔ان کی دوقسمیں ہیں(n–قسم اورp–قسم)۔
ایکn–قسم نیم موصل میں ب کہ ایکp–قسم نیم موصل میں۔
n–قسم کےSiیاGeنیم موصل،پنچ گرفتی ایٹموں(عطاکاروں)جیسےAs،Sb،Pوغیرہ سے ڈوپنگ کرکے حاصل کیے جاتے ہیں،جب کہ–pقسم کے SiیاGeنیم موصل سہ گرفتی ایٹموں(حصول کاروں)جیسےAI،Bوغیرہ سے ڈوپنگ کرکے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
تمام صورتوں میں:ne nb=n21۔مزید مادی شے میں مجموعی طورپر چارج تعدیلیت پائی جاتی ہے۔
10۔ توانائیوں کے دوواضح بینڈ ہوتے ہیں(جو گرفت بینڈ اورایصال بینڈ کہلاتے ہیں)،جن میںایک مادی شے کے الیکٹران رہتے ہیں۔گرفت بینڈ کی توانائیاں،ایصال بینڈکی توانائیوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں،ایک گرفت بینڈکی تمام توانائی منازل بھری ہوتی ہیں جب کہ ایصال بینڈ میںتوانائی منازل مکمل طورپر خالی یاجزوی طورپر بھری ہوئی ہوسکتی ہیں۔ایصال بینڈمیں الیکٹران ٹھوس میںحرکت کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں اوریہ ایصالیت کے لیے ذمہ دارہیں۔ایصالیت کتنی ہوگی یہ گرفت بینڈ کی اوپری  سطح کی توانائی (Ev)اورایصال بینڈ کی نچلی سطح کی توانائیEcکے درمیان توانائی فصل(Eg)پر منحصر ہے۔گرفت بینڈ سے الیکٹرانوں کو حرارت،روشنی یابرقی توانائی کے ذریعے مشتعل کرکے ایصالی بینڈ میں پہنچایاجاسکتا ہے اوراس طرح ان کے ذریعے نیم موصل میں بہہ رہے کرنٹ کو تبدیل کیاجاسکتا ہے۔
11۔ حاجزوں کے لیے:Eg>3eV،نیم موصلوں کے لیے
0.2 eV,Eg
سے3.0eV تک ہے جب کہ دھاتوں کے لیے Eg=O
12۔ p-nجنکشن تمام نیم موصل آلات کی کنجی ہے۔ جب ایک ایسا جنکشن بنایا جاتا ہے تو ایک  عسرتی تہہ تشکیل پاتی ہے جوایسےغیر متحرک آئن۔ قالبوں پرمشتمل ہوتی ہے جو  اپنے ایکٹرانوں یا سوراخوں سے  عاری ہوتے ہیں۔ یہ جنکشن پوٹینشیل روک کے لیے ذمہ دار ہے۔
13-بیرونی اطلاقی وولٹیج کو تبدیل کرکے جنکشن روک کو تبدیل کیا  جاسکتا ہے۔ پیش میلان (n- جانب بیٹری کے منفی ٹرمینل سے منسلک ہے اور p-جانب مثبت ٹرمینل سے منسلک ہے) میں روک کم ہوجاتی ہے جب کہ پس میلان میں روک میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے پیش میلان کرنٹ زیادہ ہوتا ہے(mA) جب کہp-nجنکشن ڈایوڈ میں یہ بہت خفیف ہوتا ہے(uA)۔
 14۔ ڈایوڈ ایکacوولیٹج کو اک سمت میں محدود رکھنا) کےلیے استعمال کیےجاسکتے ہیں۔  ایک کیپسٹر یا  مناسب فلٹر کی مدد سے ایک  dcوولٹیج حاصل کی جاسکتی ہے۔
15۔ کچھ مخصوص غایت ڈایوڈ ہیں۔
16۔ زینرڈایوڈ ایک ایسا ہی مخصوص غایت ڈایوڈ ہے۔پس میلان میں،ایک زینر ڈایوڈ میں،ایک مخصوص وولٹیج (تعطل وولٹیج)کے بعد کرنٹ اچانک بڑھ جاتا ہے۔ یہ خاصیت وولٹیج تعدیل کاری میں استعمال کی جاتی ہے۔
17۔ p–nجنکشن ڈایوڈ کئی فوٹانک یانوری–الیکٹرانک آلات بنانے میں بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ایسے آلات جن میں حصہ لینے والی ایک شے’’فوٹان‘‘ہوتی ہے۔(a)فوٹان ڈایوڈ وہ ہوتے ہیں جن میں فوٹان اشتعال کے نتیجے میں پس سیری کرنٹ میں تبدیلی ہوتی ہے جو روشنی کی شدت کی پیمائش میں مددکرتی ہے۔(b)شمسی سیل،جو فوٹان توانائی کو برق میں تبدیل کرتے ہیں(c)روشنی خارج کرنے والے ڈایوڈ یاڈایوڈ لیزر،جن میں ایک میلان وولٹیج کے ذریعے الیکٹران اشتعال کے نتیجے میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔
18۔ ٹرانسسٹر ایکn–p–nیاp–n–pجنکشن آلہ ہے۔مرکزی بلاک(پتلا اورہلکاڈوپ کیاہوا)بنیاد کہلاتا ہے، جب کہ دیگر برقیرے مخروج اورجمع کار ہیں۔مخروج–بنیاد جنکشن پیش مائل ہوتا ہے جب کہ جمع کار–بنیاد جنکشن پس مائل ہوتا ہے۔
19۔ اہم ہندسی سرکٹ جو مخصوص لوجک عمل کرتے ہیں، لوجک گیٹ کہلاتے ہیں۔ یہ ہیںNAND,AND,OR اورNORگیٹ۔


قابل غور نکات

نیم مرصلوں میں توانائی فصل (Ecیا Ev)فضا غیر مرتکز (Space Delocalised)ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ٹھوس میں کسی ایک خاص مقام پر مرتکز نہیں ہوتے۔ یہ توانائیاں مجموعی اوسط ہیں۔ جب آپ کوئی ایسی تصویریں دیکھتے ہیں جن میں EcیاEv  خطِ مستقیم کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہوتا ہے، تب ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ، بالترتیب، ایصال بینڈ کی نچلی سطح اور گرفت بینڈ کی بالائی سطح کی توانائی منازل ہیں۔
عناصری نیم موصلوں (SiیاGe)میں ،n-قسم اور p-قسم کے نیم موصل، ڈوپ کاروں (dopants) کو بہ طور نقص شامل کرکے، حاصل کیے جاتے ہیں۔ مرکب نیمموصلوں میں ان کے عناصر کے آپسی تناسب پیمائی تناسبوں کو تبدیل کرکے بھی نیم موصل کی قسم کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً، ایک مثالی    Ga Asمیں Ga : Asتناسب 1 : 1ہوتا ہے، لیکن ایک زائد Gaیا زائدAs، Ga Asمیں یہ تناسب، بالترتیب، Ga1.1 As0.9یاGa0.9 As1.1بھی ہو سکتا ہے۔عمومی طورپر، نقائص کی موجودگی، نیم موصل کی خاصیتوں کو کئی طریقے سے کنٹرول کرتی ہے۔
ٹرانسٹروں میں، بنیاد علاقہ، پتلا اور ہلکا ڈوپ کیا ہوا ہوتا ہے۔ ورنہ در آمدہ جانب سے آر ہے الیکٹران یا سوراخ( جیسے CE۔ تشاکل میں مخروج ہے) جمع کار تک نہیں پہنچ پائیں گے۔
4- جدید دور کے سرکٹوں میں کئی لوجک گیٹوں یا سرکٹوں کو ایک واحد چپ پر اجمالی صورت میں لگا دیا جاتا ہے۔ یہ اجمالی سرکٹ(IC)کہلاتے ہیں۔



مشق
14.1۔ ایک -nقسم سلی کون کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیان درست ہے:
(a) الیکٹران اکثریتی حامل ہیں اور سہ گرفتی ایٹم ڈوپ کار ہیں۔
(b) الیکٹران اقلیتی حامل ہیں اور پنچ گرفتی ایٹم ڈوپ کار ہیں۔
(c) سوراخ اقلیتی حامل ہیں اور پنچ گرفتی ایٹم ڈوپ کار ہیں۔
(d) سوراخ اکثریتی حامل ہیں اور سہ گرفتی ایٹم ڈوپ کار ہیں۔
14.2۔ مشق 14.1میں دیے ہوئے بیانات میں سے کون سا بیان p-قسم نیم موصلوں کے لیے درست ہے۔
14.3۔ کاربن، سلی کون اور جرمینیم میں سے ہر ایک میں 4گرفت الیکٹران ہوتے ہیں۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ ان کے گرفت بینڈ اور ایصال بینڈ ایک دوسرے سے توانائی بینڈ فصل کے ذریعے علیحدہ ہوتے ہیں، جو بالترتیب
 (Eg)si، (Eg)e
اورEg)Ge)
کے مساوی ہوتے ہیں۔ مندرجہ ذیل بیانات میں سے کون سا بیان درست ہے:
a) (Eg)si < (Eg)Ge  < (Eg)c)
b) > (Eg)si < (Eg)Ge (Eg)c)
c) > (Eg)Ge > (Eg)si (Eg)c)
d) = (Eg)Ge = (Eg)si (Eg)c)
14.4۔ ایک غیر مائل p-nجنکشن میں، سوراخ p-علاقہ سے n-علاقہ کی جانب نفوذ کرتے ہیں، کیونکہ 
(a)
n-علاقے کے آزاد الیکٹران انھیں کشش کرتے ہیں۔
(b) وہ مضمر فرق کے ذریعے جنکشن سے گذرتے ہیں۔
(c)
n-علاقہ کے مقابلے میں -pعلاقہ میں سوراخوں کاارتکاز زیادہ ہوتا ہے۔
(d) اوپر دیے ہوئے تمام بیانات۔
14.5۔ جب ایک p-nجنکشن پر پیش میلان کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس سے 
(a) مضمر روک میں اضافہ ہوتا ہے۔
(b) اکثریتی حامل کرنٹ کم ہو کر صفر ہو جاتا ہے۔
(c) مضمر روک میں کمی آجاتی ہے۔
ٍ (d) مندرجہ بالا بیانات میں سے کوئی نہیں۔
14.6۔ نصف–لہر سمت کاری میں، بر آمدہ تعدد کیا ہوگا، اگر در آمدہ تعدد 50 Hzہے۔ یکساں درآمدہ تعدد کے لیے ایک مکمل–لہر سمت کار کا بر آمدہ تعدد کیا ہوگا؟

14.7۔ ایک p-nفوٹو ڈایوڈ ایک ایسے نیم موصل سے بنایا گیا ہے، جس کا بینڈ فصل 2.8 eVہے۔ کیا یہ 6000 nm   کی طویل لہر شناخت کر سکتا ہے؟


مزید مشق

14.8۔ سلی کون ایٹموں کی تعداد فی
5x1028,m3
 m3،5 ´ 1028ہے۔ اسے بہ یک وقت آرسینک کے
 5×1022
ایٹم فی m3اور انڈیم کے
 5×1022
ایٹم فی  m3سے ڈوپ کیا جاتا ہے۔ الیکٹرانوں اور سوراخوں کی تعداد کا حساب لگائیے۔
دیا ہے: ni = 1.5 ´ 1016 m–3، مادی شے p-قسم کی ہے یا n-قسم کی؟
14.9۔ ایک ذاتی نیم موصل میں، توانائی فصل 
1.2eV,Eg
ہے۔ اس کی سوراخ روانی، الیکٹران روانی کے مقابلے میں بہت کم ہے اور درجہ حرارت کے غیر تابع ہے۔ 600Kپر ایصالیت اور 300Kپر ایصالیت کے درمیان کیا نسبت ہوگی؟ فرض کر لیجیے کہ ذاتی حامل ارتکاز  ni کا درجہ حرارت انحصاردیا جاتا ہے۔
جہاںPic-193 n1=no expہاںnoایک مستقلہ ہے۔
14.10۔ ایک p-nجنکشن ڈایوڈ میں کرنٹ کو ظاہر کیا جا سکتا ہے:Pic-194I=Ioexpجہاں Io، پس سیری کرنٹ کہلاتا ہے، Vڈایوڈ کے سروں کے درمیان وولٹیج ہے، اور Iڈایوڈ میں سے گذرنے والا کرنٹ ہے، 14.14۔ ایک p-nجنکشن ڈایوڈ میں کرنٹ کو ظاہر کیا جا سکتا ہے: جہاں I0، پس سیری کرنٹ کہلاتا ہے، Vڈایوڈ کے سروں کے درمیان وولٹیج ہے، اور Iڈایوڈ میں سے گذرنے والا کرنٹ ہے، kB، بولٹزمین مستقلہ
(8.6×10–5 eV/K)
اور Tمطلق درجہ حرارت ہے۔ ایک دیے ہوئے ڈایوڈ کے لیے:
 اور T=300K، تبIo = 5 × 10–12 A
(a) پیش وولٹیج
 0.6 V
پر پیش کرنٹ کیا ہوگا؟
(b) اگر ڈایوڈ کے سروں کے درمیان وولٹیج بڑھاکر
0.7 V
کر دیا جائے تو کرنٹ میں کیا اضافہ ہوگا؟
(c) حرکی مزاحمت کیا ہے؟
(d) اگر پس میلان وولٹیج
1 V
سے بدل کر
2 V
کردی جائے تو کرنٹ کیا ہوگا؟
14.11۔ آپ کو دوسرکٹ دیے گئے ہیں، جیسا کہ شکل 14.44میں دکھایا گیا ہے۔ دکھائیے کہ سرکٹ (a)بطور ORگیٹ کام کرتا ہے اور سرکٹ AND(b)گیٹ کے بطور کام کرتا ہے۔
chapter-14-13
14.12۔ شکل 14.37میں دکھائے گئے طریقے سے جڑے ہوئے NANDگیٹ کے لیے صداقت جدول لکھیے۔
اور پھر اس سرکٹ کے ذریعے انجام دیے گئے لوجک عملوں کو درست طورپر شناخت کیجیے۔
chapter-14-14
14.13۔ آپ کو شکل 14.38میں دکھائے گئے دو سرکٹ دیے گئے ہیں، جو NANDگیٹوں پر مشتمل ہیں۔ دونوں سرکٹوں کے ذریعے انجام دیے جانے والے لوجک عملوں کی شناخت کیجیے۔
chapter-14-15

14.14۔ نیچے شکل 14.39میں دکھائے گئے سرکٹ کے لیے، صداقت جدول لکھیے، جو NORگیٹوں پر مشتمل ہے اور 
یہ سرکٹ جو لوجک عمل (OR، AND، (NOTانجام دے رہا ہے۔ انھیں شناخت کیجیے۔
chapter-14-16

اشارہ :B=1، A=Oتب دوسرے NORگیٹ کے Aاور Bدرآمدات 0ہوں گے اور اس لیے Y=1اسی طرح Aاور B کے دیگر اجتماعات کے لیے Y کی قدریں حاصل کیجیے۔ OR،AND، NOTگیٹوں کے صداقت جدول سے مقابلہ کیجیے اور درست گیٹ معلوم کیجیے۔
14.15۔ شکل 14.48میں دیے گئے سرکٹوں کے لیے صداقت جدول لکھیے، جوNORگیٹوں پر مشتمل ہیں۔ دونوں سرکٹوں کے ذریعے انجام دیے گئے لوجک عملوں OR)، AND، (NOTکی شناخت کیجیے۔
chapter-14-17

14.16۔ دو افزائش کار، ایک کے بعد ایک سلسلہ وار طرز میں جوڑے گئے ہیں (آبشار شدہ Cascaded)۔ پہلے افزائش کار کا وولٹیج اضافہ 10ہے اور دوسرے کا 20ہے۔ اگر درآمدہ سگنل 0.01Vہے تو بر آمدہ acسگنل کا حساب لگائیے۔