باب1
سرد جنگ کا زمانہ
اجمالی نظر
یہ باب دراصل پوری کتاب کا نچوڑ ہے۔ عام طور سے سرد جنگ کے خاتمہ کو موجودہ دور کیعالمی سیاست جو کہ اس کتاب کا موضوع ہے کی ابتدا سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنی بحث کا آغاز سرد جنگ سے کریں۔ اس باب سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح دو بڑی طاقتوں یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین کا غلبہ سرد جنگ کا مرکزی نکتہ تھا۔ اور اس باب میں دنیا میں سرد جنگ کے دوسرے میدانوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یہ باب تحریک ناوابستگی(NAM)کو عظیم طاقتوں کے غلبہ کے لیے ایک چیلنج کی صورت میں دیکھتا ہے اوراسے جدید بین الاقوامی معاشی نظام(New International Economic Order)کے قیام کے سلسلہ میں ناوابستہ ملکوں کی کوششوں کو معاشی ترقی اور سیاسی خود مختاری حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔ آخرمیں یہ تحریک ناوابستگی میں ہندوستان کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئییہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہندوستان کے مفادات کے تحفظ میں ناوابستہ تحریک کس حد تک کامیاب رہی ہے۔
سرد جنگ کے خاتمہ پر دو بڑی مرکزی طاقتیں سامنے آئیں۔ اوپر کی دونو ںتصویریں دوسری عالمی جنگ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین کی فتح کی علامت ہیں
1۔ 23 فروی 1945کوایوجیما،جاپان کی جنگ کے درمیان امریکن فوجی US کا جھنڈا نصب کرتے ہوئے۔
کریڈٹ:ایو جیماپر پرچم کشائی
فوٹوگرافر: جو روزینتھل،دی ایسوسی ایٹیڈ پریس
2۔ مئی 1945 میں برلن میں ریشتاغ کی عمارت پر سوویت فوجی USSRجھنڈا نصب کرتے ہوئے
کریڈٹ: ریشاخ کا پرچم
فوٹوگرافر: یوگنی خالد،تاس
ہم دنیا کی سیر کررہے ہیں۔ تم سے مختلف ممالک میں ملاقات ہوگی۔ جہاں پر واقعات رونما ہوئے ہوں، ان جگہوں پر ہونا کتنا اچھا لگتا ہے۔
اس نقشہ میں کیوبا میں زیر تعمیر نیوکلیائی میزائیل کی مار کی حدود دکھائی گئیں ہیں۔ یہ نقشہ کیوبامیزائیل بحران کے درمیان ہونے والی خفیہ میٹنگوں میں استعمال کیا گیا۔
ماخذ: جان ایف کینڈی پریذیڈنشیل لائبریری اینڈ میوزیم۔
کیوبائی میزائل بحران
کیوبا ریاست ہائے متحدہ امریکا (USA) کے ساحل سے ملا ہوا، کمیونسٹوں کے زیر حکومت ایک جزیرہ ہے۔ اپریل1961 میں یونین آف سوویت ریپبلک سوشلسٹ (USSR) کے حکمرانوں کو یہ خطرہ تھا کہ USA کیوبا پر حملہ کرکے صدر فیڈل کاسٹرو کی کمیونسٹ حکومت کا تختہ پلٹ دے گا۔ کیوبا سوویت یونین کا حلیف تھا اور اس سے مالی اور سفارتی امداد حاصل کرتا تھا۔ سوویت رہنما نکیتا خروشچیف نے فیصلہ کیا کہ کیوبا کو روسی بحریہ کا ایک مرکز بنایا جائے۔1962 میں اس نے نیوکلیائی میزائیل کیوبا میں نصب کردیے۔ ان ہتھیاروں کی تنصیب کے سبب امریکہ پہلی بار بہت ہی نزدیک سے حملے کی زد میں آگیا۔ اور سوویت خطرے کی زد میں آنے والے امریکی شہروں اور بحری اڈوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہوگئی۔
تین ہفتوں بعد امریکہ کو کیوبا میں ان روسی تنصیبات کا علم ہوا۔ اگرچہ امریکی صدر جان ایف کینڈی اور ان کے صلاح کار کوئی ایسا قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی تھی جو دونوں ملکو ں کے درمیان ایک نیوکلیائی جنگ کا سبب بن جائے لیکن ان کا مصمم ارادہ تھا کہ وہ خروشچیف کو کیوبا سے میزائیل اور دوسرے نیوکلیائی ہتھیار ہٹانے پر مجبور کردیں گے۔ اپنی سنجیدگی کے اظہار اور تنبیہ کے لیے کینیڈی نے امریکی جنگی جہازوں کو حکم دیا کہ وہ کیوبا جانے والے ہر سوویت جہاز کا راستہ روک لیں۔ ایسا لگتا تھا کہ دونوں کا ٹکراؤ یقینی ہے اور یہی صورت حال بعد میں کیوبائی میزائیل بحران کے نام سے جانی گئی۔ اس ٹکرائو کے امکان کے باعث پوری دنیا گھبراہٹ کا شکا رہوگئی کیونکہ یہ ایک معمولی جنگ نہیں ہوتی۔آخر کار دنیا میں امن کی سلامتی کے لیے دونوں نے جنگ سے پرہیز کا فیصلہ کیا۔ سوویت جہازوں نے اپنی رفتار سست کی اور واپس چلے گئے۔
کیوبائی میزائیل بحران سرد جنگ کا نقطۂ عروج تھا۔ سرد جنگ کا مطلب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان مقابلہ ، تنائو اور دوسرے اختلافات و تضادات کا ایک سلسلہ تھا۔جس میں دونوں کو اپنے اپنے حلیفوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔ خوش قسمتی سے یہ کبھی ایکحقیقی جنگ میں تبدیل نہیں ہوئی یعنی سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان ایک مکمل جنگ نہیں ہوئی۔ اگرچہ دوسرے علاقوں میں لڑائیاں ہوئیں اور دونوں طاقتیں اور ان کے حلیف ان میں بر سر پیکار فریقوں کی مدد میں ملوث تھے لیکن پھر بھی کم سے کم دنیا ایک اور عالمی جنگ سے محفوظ رہی۔
سرد جنگ محض طاقت کے لیے حریفانہ کشمکش ، فوجی معاہدوں اور طاقت کے توازن کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اس کے ہمراہ حقیقی نظریاتی اختلافات بھی تھے یعنی کشا کش تھی کہ کون سا نظریہ دنیا کی سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کے لیے بہترین اور مناسب ہے۔ مغربی حلیفوں کی سربراہی امریکہ کررہا تھا جو ایک ایسے نظام کی نمائندگی کرتا تھا جس کا نظریہ آزاد جمہوریت اور سرمایہ داری پر مبنی تھا۔ اس کے برعکس مشرقی حلیفوں کی قیادت سوویت یونین کے ہاتھ میں تھی جو اشتراکی اور کمیونسٹ نظریہ رکھتے تھے۔ آپ ان نظریات کے بارے میں گیارھویں کلاس میں پڑھ چکے ہیں۔
سرد جنگ کیا ہے؟
موجودہ عالمی سیاست میں دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔1945میں اتحادی فوجوں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ سوویت یونین، برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں محوری طاقتوں یعنی جرمنی، اٹلی اور جاپان کو شکست دی اور دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کا خاتمہ ہوا۔ دنیا کی تقریباً سبھی بڑی طاقتیں اس جنگ میں شامل تھیںیہ جنگ یوروپ سے باہر بھی پھیل گئی تھی بشمول جنوب مشرقی ایشیا، چین، برما (جس کو اب میانمار کہتے ہیں) اور ہندوستان کے کچھ شمال مشرقی علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تھے۔ اس جنگ نے انسانی جانوں اور شہری املاک کو تباہ و برباد کردیاتھا۔اس سے قبل پہلی عالمی جنگ نے1914سے 1918 تک پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔
اتنے پاس پھر بھی اتنے دور!
مجھے یقین نہیں آتا کہ کیوبا اتنے لمبے عرصہ تک ایک کمیونسٹ ملک کی طرح قائم رہ سکتا ہے جب کہ وہ امریکہ سے اتنا قریب ہے: نقشہ کو دیکھیے۔
دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ سرد جنگ کی ابتدا بھی تھی۔ عالمی جنگ اس وقت ختم ہوئی جب اگست 1945 میں امریکہ نے جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر دو ایٹم بم گرائے جس نے جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا۔ بم گرانے کے امریکی فیصلے کے نکتہ چینوں کا خیال ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو علم تھا کہ جاپان ہتھیار ڈالنے جارہا ہے لہٰذا بم گرانا بالکل غیر ضروری تھا۔ ان کی رائے ہے کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس کا یہ عمل محض اس ارادہ سے کیا گیا تھا تاکہ سوویت یونین کو ایشیا میں سیاسی اور فوجی فائدے اٹھانے سے روکا جائے۔ مزید یہ کہ ماسکو کو معلوم ہوجائے کہ امریکہ ہی عظیم طاقت ہے۔ امریکہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بم گرانا اس لیے ضروری تھا تاکہ جنگ جلدی ختم ہو اور امریکہ اور اس کے حلیفوں کا مزید جانی نقصان نہ ہو۔ جو بھی مقاصد رہے ہوں لیکن دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ کے نتیجے کے طور پر عالمی سطح پر دو بڑی طاقتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ جرمنی اور جاپان کی شکست،یوروپ اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں تباہی و بربادی کے ساتھ یونائیٹڈ اسٹیٹس اور سوویت یونین دنیا کی دو بڑی طاقتیں بن گئیں اور ان میں یہ صلاحیت آگئی کہ کرّہ ارض پر ہونے والے ہر واقعے پر اثر انداز ہوسکیں۔
یہ تصویریں اس تباہی کی کہانی بیان کرتی ہیں جو امریکہ کے ہیرو شیما اور ناگاساکی پر بم گرانے کے باعث ہوئی تھی (ہیروشیما پر گرنے والے بم کا اشارتی نام ’’چھوٹا بچہ‘‘ (Little Boy)تھا اور ناگاساکی پر گرنے والے بم کااشارتی نام ’’موٹا آدمی‘‘ (Fat Man)تھا)اس کے باوجود بھی عظیم طاقتوں کے ذخیرہ میں پائے جانے والے ایٹم بموں کی ہلاکت اور تباہی کی صلاحیت کے سامنے یہ بم بہت چھوٹے تھے۔ ’’چھوٹا بچہ‘‘ اور موٹا آدمی‘‘ کی حاصل بالترتیب 15اور 21 کلوٹن تھا۔ 1950 کے شروع میں یونائیٹڈ اسٹیٹس اور سوویت یونین ایسے نیوکلیائی بم بنارہے تھے جن کا حاصل 10 سے15ہزار کلوٹن تھا۔دوسرے الفاظ میں یہ بم ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے ہوئے بموں سے ہزار گنا زیادہ طاقتور تھے ۔تمام سرد جنگ کے دوران دونوں عظیم طاقتوں کے قبضہ میں ایسے کئی ہتھیار تھے۔ بس اس تباہی اور بربادی کا تصور کیجیے جو یہ ہتھیار دنیا میں پھیلا سکتے تھے۔
حالانکہ سرد جنگ امریکہ اور سوویت یونین کی حریفانہ کشمکش کا نتیجہ تھی، لیکن اس کی جڑیں اس یقین میں بھی پوشیدہ تھیں کہ ایٹم بم کے ذریعہ لائی گئی تباہی کی قیمت کسی بھی ملک کی برداشت سے باہر ہے۔ یہ دلیل بظاہر سادہ مگر وزن دار ہے۔ جب دونوں حریفوں کے پاس وہ نیوکلیائی ہتھیار ہوں جو ایسی اموات اور تباہی کا باعث ہوسکتے ہیں جن کو دونوں میں سے کوئی قبول کرنے کو تیار نہ ہوتو، ایک مکمل جنگ کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔ اشتعال انگیزی کے باوجود کوئی بھی فریق جنگ کا خطرہ مول نہ لے گا کیونکہ کوئی بھی سیاسی منفعت اپنے سماج کی تباہی و بربادی کوجائز نہیں قرار دے سکتی۔
ایک نیوکلیائی جنگ کی صورت میں دونوں فریقوں کا اتنا زبردست نقصان ہوگا کہ کسی کو بھی فاتح قرار دینا ناممکن ہوگا۔ اگر ان میںسے ایک اپنے دوسرے حریف کے نیوکلیائی ہتھیاروں کو نشانہ بناتا ہے اور ان کو بے اثر کردیتا ہے تب بھی اس کے پاس اتنے نیوکلیائی ہتھیار باقی رہیں گے کہ وہ پہلے حریف کوغیر یقینی نقصان پہنچاسکے۔ اس کو ’مزاحمت‘ (deterrence) کی منطق کہتے ہیں۔ دونوں فریقوں میںحملے کی صورت میں جواب دینے کی پوری صلاحیت ہے اور اتنی تباہی پھیلاسکتے ہیں کہ دونوں میں سے کوئی بھی جنگ شروع کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ اس طرح سے اگرچہ سرد جنگ دو نوںطاقتوں کے درمیان زبردست کشمکش تھی ،یہ ایک سرد جنگ ہی رہی اور حقیقی جنگ نہ بن سکی۔ مزاحمتی طریقۂ کار اگرچہ جنگ ٹالتا رہتا ہے لیکن طاقتوں کے درمیان رقابت کو نہیں روک سکتا۔
سرد جنگ کی فوجی خصوصیات پر غور کیجیے۔دونوں حریف اور ان کے حمایتیوں سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ ذمہ داری اور معقولیت پسندی سے کام لیں گے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ ان خطرات سے آگاہ ہوں گے جو دونوں طاقتوں کے درمیان جنگ میں ظاہر ہوں گے۔ جب دونوں بڑی طاقتیں اور ان کی قیادت میں رہنے والے بلاک ’مزاحمت‘ کی حالت میں ہوں،ایسی حالت میں جنگ کی شروعات بہت تباہ کن ہوسکتی ہے۔
لہٰذا ذمہ داری کا تقاضہ یہ ہے کہ قوت برداشت سے کام لیا جائے اور ایک مزید عالمی جنگ کو ٹالا جائے۔ اس طرح سے سرد جنگ انسان کیبقا کے لیے ایک یقین دہانی تھی۔
طاقت کے دو گٹھ بندھنوں کا ظہور
دونوں عظیم طاقتیں دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنا اپنا دائرئہ اثر بڑھانے کے لیے کوشاں تھیں۔ دو حلیفوں میں واضح طور سے منقسم دنیا میں ایک ریاست سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنی حفاظتی عظیم طاقت کے ساتھ جڑی رہے گی تاکہ دوسری عظیم طاقت اور اس کے حلیفوں کا اثر محدود رہے۔
چھوٹی ریاستوں نے اپنے مفاد کی خاطر عظیم طاقتوں سے اپنی نسبت یا تعلق کو استعمال کیا۔ ان ریاستوں کو اپنے علاقائی اور پڑوسی حریفوں کے خلاف تحفظ کا وعدہ، ہتھیار اور معاشی امداد حاصل ہوئی۔ دونوں عظیم طاقتوں کے اس حلیفی نظام نے ساری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا خطرہ پیدا کردیا۔ اور یہ تقسیم پہلے یوروپ میں ہوئی۔ مغربی یوروپ کے اکثر ممالک ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ تھے اور مشرقی یوروپ کے ممالک نے سوویت یونین کا ساتھ دیا۔ اسی وجہ سے ان کو مغربی اور مشرقی اتحاد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
1۔ ہر حریف بلاک میں سے تین ممالک کی نشان دہی کیجیے۔
2۔ چوتھے باب میں یورپین یونین کے نقشے کو دیکھو اور ان ملکوں کی نشاندہی کیجییجو پہلے وارسامعاہدے کے ممبر تھے مگر اب یورپین یونین میں شامل ہیں۔
3۔ مندرجہ ذیل نقشے اور یورپین یونین کے نقشے کا موازنہ کرتے ہوئے تین ایسے ممالک کی نشاندہی کیجیے جو سرد جنگ کے بعد وجود میں آئے۔
سرد جنگ کے دوران یوروپ کے دو حریفوں میں منقسم ہونے کو ظاہر کرنے والا نقشہ
مندرجہ ذیل کالموں میں ان تین ممالک کے نام لکھیے جو بلاک کسی سے متعلق ہیں ۔
سرمایہ دارانہ بلاک ----------------------------------------------
کمیونسٹ بلاک -------------------------------------------------
ناوابستہ تحریک -------------------------------------------------
مغربی اتحاد کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی جواپریل 1949میںNorth Atlantic Treaty Organisation (NATO)کے نام سے وجود میں آئی۔ یہ بارہ ملکوں کی تنظیم تھی جس نے اعلان کیا کہ یوروپ یا شمالی امریکہ میں ان میں سے کسی پر بھی مسلح حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اور ایسی صورت میں ان میں سے ہر ملک دوسرے کی مددکرے گا۔ مشرقی اتحاد وارسا معاہدہ (Warsa Pact) کے نام سے جانا جاتا ہے جس کی رہنمائی سوویت یونین کے ہاتھوں میں تھی ۔ یہ 1955 میں قائم ہوئی اور اس کا خاص مقصد یوروپ میں NATO کی افواج کاتدارک کرنا تھا۔
سرد جنگ کے زمانے میں بین الاقوامی اتحاد عظیم طاقتوں کی اپنی ضروریات اور چھوٹی ریاستوں کے اپنے حالات کے جائزے پر مبنی تھا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ عظیم طاقتوں کے اختلاف کا میدان یوروپ تھا۔ کبھی یوں بھی ہوا کہ کچھ ممالک کو اپنے اتحادمیں لانے کے لیے عظیم طاقتوں نے فوجی طاقت کا استعمال کیا ۔ مشرقی یوروپ میں سوویت دخل اندازی اس کی ایک مثال ہے۔ مشرقی یوروپ میں اپنا دبدبہ قائم رکھنے کے لیے سوویت یونین نے وہاں پر اپنی افواج کی بڑی تعداد تعینات کی۔ اسی طرح امریکا نے مشرق اور جنوب مشرقی ایشیا، مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ ) میں ایک اتحاد (South East Asian Treaty Organisation) (SEATO) اور Central Treaty Organisation (CENTO) کی شکل میں قائم کیا۔ سوویت یونین اور کمیونسٹ چین نے اس کے جواب میں شمالی ویت نام ، شمالی کوریا اور عراق سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔
سرد جنگ کی و جہ سے دنیا کے دو فرقوں میں بٹ جانے کا خطرہ لاحق ہوگیا۔ ان حالات کے تحت بہت سے نوآزاد ممالک کو یہ خطرہ ہوا کہ وہ اپنے نوآبادیاتی آقائوں، جیسے برطانیہ اور فرانس سے آزادی پانے کے بعد فوراً ہی اپنی آزادی کھودیں گے۔ اسی و جہ سے اتحاد میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ کمیونسٹ چین نے سوویت یونین سے 1950 کی دہائی کے آخر میں قطع تعلق کرلیااور 1969 میں ان کے درمیان ایک زمینی تنازعہ کے باعث ایک مختصر جنگ بھی ہوئی۔اس دوران ایک دوسری اہم تبدیلی ناوابستہ تحریک Non-Aligned Movement (NAM)کا قیام ہوا، جس نے نو آزاد ریاستوں کو عظیم طاقتوں کے اتحاد سے الگ رہنے کی راہ دکھائی۔
آپ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ آخرکار عظیم طاقتوں کو کسی حلیف کی کیا ضرورت تھی جب کہ ان کی اپنی طاقت باقاعدہ افواج اور نیوکلیائی ہتھیار کی تعداد کے باعث، بہت سے افریقی، ایشیائی بلکہ یوروپ کی بھی چھوٹی ریاستوں کی مجموعی طاقت سے کہیں زیادہ تھی۔ دراصل چھوٹی ریاستیں بڑی طاقتوں کو درج ذیل آسانیاں فراہم کرنے میں مددگار ہوئیں:
(i) اہم وسائل جیسے تیل اور دوسرے معدنیات۔
(ii) ایسا علاقہ جہاں سے عظیم طاقتیں اپنے نیوکلیائی ہتھیار چھوڑ سکیں اور فوجیں رکھ سکیں۔
(iii) ایسے مقام جہاں سے وہ ایک دوسرے کی جاسوسی کرسکیں۔
(iv) مالی مدد۔ بہت سی چھوٹی ریاستیں مل کر فوجی اخراجات کی ادائیگی کرسکیں۔
اس کے علاوہ وہ نظریاتی اعتبار سے بھی بہت اہم تھیں۔ حلیفوں کی وفاداری کا مطلب تھا کہ خیالات کی جنگ میں فتح حاصل ہو رہی تھی اور یہ کہ جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام ، اشتراکیت اور کمیونسٹ نظام سے بہتر تھا یا اس کے برعکس ۔
سرد جنگ کے اکھاڑے
کیوبائی میزائیل بحران ، جو اس باب کے شروع میں زیر بحث آیا تھا،دراصل ان بہت سے بحرانوں میں سے ایک تھا جو سرد جنگ کے زمانے میں ظاہر ہوئے۔ سرد جنگ کے درمیان کئی مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان میں کوئی بھی تنازعہ عالمی جنگ کی سطح تک نہیں پہنچا۔ دونوں عظیم طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم کے کئی مواقع آئے جیسے کوریامیں (1950-53)، برلن (1958-62)، کانگو (1960کی ابتدائی دہائی)، اس کے علاوہ اور بھی کئی مقامات تھے۔ یہ بحران سنگین ہوتے چلے گئے کیونکہ کوئی بھی فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ جب ہم سرد جنگ کے میدانوں کی بات کرتے ہیں تو ان سے ہمارا مطلب وہ مقامات ہوتے ہیں جہاں پر بحران پیش آیا،یا جنگ ہوئی یا ان کے ہونے کا خطرہ تھا لیکن اتحادی نظام نے مخصوص حدوں سے تجاوز نہیں کیا۔ حالانکہ دنیا ایک عالم گیرجنگی صورتِ حال سے محفوظ رہی لیکن سرد جنگ کے ان میدانوں جیسے کوریا، ویت نام اور افغانستان میں بہت سی جانیں تلف ہوئیں۔ کئی جگہوں پر بہت بڑے فوجی انتظامات کی خبریں بھی ملیں۔لیکن دنیا نیوکلیئر جنگ اور عالمی تنازعات سے محفوظ رہی۔ ان میں اکثر موقعوں پر عظیم طاقتوں کے درمیان سفارتی رابطہ برقرار نہ رہ سکا اور غلط فہمیوں میں اضافے کا سبب ہوا۔ بعض اوقات اتحادی نظام سے باہر کے ممالک ، مثال کے طور ناوابستہ تحریک کے ممالک نے بھی سرد جنگ کے کچھ تنازعات اور بحران کو حل کرنے میں کردار ادا کیا۔NAM کے سرکردہ رہنما جواہر لعل نہرو نے دونوں کوریاؤں کے درمیان مصالحت کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بھی کانگو کے بحران میں مصالحتی کردار ادا کیا۔ایک عظیم طاقت کے اس ارادے نے کہ جنگ سے ہر حالت میں گریز کرنا چاہیے ،ان کو زیادہ قوت برداشت بخشی اور بین الاقوامی معاملات میں زیادہ ذمہ داری سے کام کرنے کا جذبہ دیا۔ جیسے جیسے سرد جنگ ایک میدان سے دوسرے کی جانب چلتی رہی برداشت کی منطق کی معقولیت زیادہ سے زیادہ ثابت ہونے لگی۔
ایسا کیوں ہے کہ دو کوریا اب بھی موجودہیں جب کہ سردجنگ کے ذریعے کی گئی دوسری تقسیم کاخاتمہ ہوچکا ہے؟کیا کوریائی عوام تقسیم کو جاری رکھناچاہتے ہیں؟
آئیے اسے کریںعالمی نقشے پرسرد جنگ کے نازک مرحلوں کی نشان دہی کیجیے۔
سرد جنگ کا نقشہ اوقات
1947 امریکی صدر ہیری ٹرومین کا کمیونزم کوروکنے کااصول
1947-52 مارشل پلان:مغربی یوروپ کی آبا دکاری اور تعمیر کے لیے ریاست ہائے امریکہ متحدہ(US) کی مدد
1948-49 سوویت یونین کی برلن کی ناکہ بندی اور مغربی برلن کے باشندوں کے لیے سامان خوردونوش کی فراہمی کے لیے ریاست ہائے امریکہ متحدہ(US) اور اس کے حلیفوں کی فضائیہ کی مدد
1950-53 کو ریاکی جنگ ، اڑتیسویںمتوازی کے ساتھ کوریا کی تقسیم
1954 ڈان بن فو میں ویت نامیوں کے ہاتھوں فرانسیسیوں کی شکست
جنیوا معاہدہ پر دستخط
17ویں خطِ استوا کے ساتھ ساتھ ویت نام کی تقسیم
سیٹو تنظیم کا قیام
1954-75 ویت نام میں امریکی دخل اندازی
1955 بغداد پیکٹ پر دستخط،ما بعد CENTO
1956 ہنگری میں سوویت دخل اندازی
1961 ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی رہنمائی میں خلیج پگس پر حملہ
دیواربرلنی کی تعمیر
1962 کیوبائی میزائل بحران
1965 ڈومینکن ری پبلکن میں امریکی دخل اندازی
1968 چیکو سلواکیہ میں سویت یونین کی دخل اندازی
1972 امریکی صدر ریچرڈنکسن کا دورۂ چین
1978-89 کمبوڈیا میں ویت نامی دخل اندازی
1979-89 افغانستان میں سوویت یونین کی دخل اندازی
1985 گورباچوف سوویت یونین کے صدر بنے۔ اصلاحات کا سلسلہ شروع ہوا
1989 سقوطِ دیوار برلن۔ مشرقی یوروپ میں حکومتوں کے خلاف شدید مظاہرے
1990 جرمنی کا اتحاد
1991 سوویت یونین کاانتشار
سرد جنگ کا خاتمہ
بہرحال ، کیونکہ سرد جنگ دو اتحادی فریقوں کے درمیان حریفانہ کشمکش ختم نہ کرسکی، باہمی شکوک و شبہات نے دونوں فریقوں کو ہر وقت جنگی حالت میں اور سر سے پائوں تک مسلح رہنے پر مجبور کیا۔ اسلحہ کے بڑے بڑے ذخیروں کو جنگ ختم کرنے کا ذریعہ سمجھا گیا۔
دونوں فریق یہ بھی سمجھتے تھے کہ ’برداشت‘ کے باوجود جنگ چھڑسکتی ہے ۔ کوئی بھی فریق دوسرے کے اسلحہ کے ذخیرہ کے بارے میں غلط اندازہ لگا سکتا ہے۔ دوسرے فریق کی نیت پر بھی شبہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی نیوکلیائی حادثہ کی صورت میں کیا ہوگا۔ یا اگر کوئی غلطی سے کسی نے نیوکلیائی ہتھیار کواستعمال کرلیا۔ یا اگر کوئی دھوکے باز فوجی دانستہ طور سے محض جنگ چھیڑنے کی خاطر نیوکلیائی ہتھیار چلادے؟ یا کسی نیوکلیائی ہتھیار کے ساتھ کوئی حادثہ ہوجائے۔ اس ملک کے رہنماؤں کو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ یہ حادثہ تھا یا دشمن کی تخریب کاری کا عمل یا یہ کہ ’دوسری جانب‘ سے میزائیل نہیں آیا؟
اسی خیال کے پیش نظر سوویت یونین اور یونائیٹڈ اسٹیٹس نے نیوکلیائی اور غیر نیوکلیائی ہتھیاروں کی کچھ قسموں کو محدود کرنے یا ختم کرنے کے سلسلہ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کافیصلہ کیا۔انھوں نے طیکیا کہ ہتھیاروں کا توازن اورحدقائم رکھی جاسکتی ہے۔ 1960کی دہائی سے شروعات کرتے ہوئے دونوں حریفوں نے ایک دہائی کے اندراندر تین اہم معاہدوں پر دستخط کیے اور یہ تینوں Limited Test Ban Treaty, اورNuclear Non-Proliferation Treaty, اور Anti-Ballistic Missile Treaty تھے۔ اس کے بعد عظیم طاقتوں نے کئی بار اسلحہ محدود کرنے کے موضوع پر گفتگو کی اور اس کو عمل میں لانے کے لیے کئی اور معاہدوں پر دستخط کیے۔
مشہور ہندوستانی کارٹونسٹ کُٹّی کے بنائے ہوئے یہ دوکارٹون سرد جنگ کے بارے میں ہندوستانی نظریہ پیش کرتے ہیں۔ پہلا کارٹون اس وقت بنایا گیا تھا جب سوویت یونین کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے امریکہ نے چین سے ایک خفیہ سمجھوتہ کیا۔ کارٹون میں دکھائے گئے دوسرے کرداروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے۔
دوسرے کارٹون میں ویت نام میں امریکہ کی مضحکہ خیز ناکامی کو ظاہر کیا گیا ہے۔
ویت نام جنگ کے بارے میں مزیدمعلومات حاصل کیجیے۔
NAM کے بانی
جوزف بروزٹیٹو(Josip Broz Tito) (1892- 1980) یوگوسلاویہ کے صدر (1945-80) دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف لڑنے والے۔ایک کمیونسٹ ، سوویت یونین سے ہمیشہ ایک فاصلہ بنائے رکھااور یوگوسلاویہ میں اتحاد کو بروئے کار لایا۔
جواہر لعل نہرو
(1889-1964) ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم- 1947-1964) (ایشیائی اتحاد ، نوآبا دی نظام کے خاتمہ اور نیوکلیائی تخفیف اسلحہ کے لیے کوشش کیں اور عالمی امن کے حصول کے لیے پرامن بقائے باہمی پر زور دیا۔
دوقطبیت کو چیلنج
ہم دیکھ چکے ہیں کہ سرد جنگ نے کس طرح دنیا کو دو حریف گروہوں/اتحادیوں میں تقسیم کردیا۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے نا وابستگی نے ایشیا،افریقہ اور جنوبی امریکا کے ملکوں کو تیسرا راستہ دکھایا۔ یعنی کسی بھی اتحاد میں نہ شامل ہوں۔
دراصل NAM کی جڑیں تین رہنمائوں کی دوستی میں مضمر ہیں۔ یہ تینوں یوگوسلاویہ کے جوزف بروز ٹیٹو، ہندوستان کے جواہر لعل نہرو اور مصر کے جمال عبدالناصر تھے۔ انھوں نے 1956 میں ایک میٹنگ کی۔ انڈونیشیا کے سوئیکارنو اور گھانا کے کوامے نکرومہ نے ان کی پرجوش حمایت کی۔ یہ پانچوں رہنما NAM کے پانچ بانیوں کی حیثیت سے جانے گئے۔ناوابستہ تحریک کی پہلی کانفرنس1961 میں بلگریڈ میں منعقد ہوئی۔ یہ کم سے کم تین عناصر کا نقطہ عروج تھی:
(i) ان پانچ ممالک کے مابین باہم تعاون
(ii) بڑھتی ہوئی سرد جنگ کے تنازعہ اور اس کے پھیلتے ہوئے میدان
(iii) نو آزاد افریقی ممالک کی بین الاقوامی سطح پر ڈرامائی آمد۔ 1960 تک اقوام متحدہ کے صرف 16 نئے افریقی ممبر تھے
پہلی چوٹی کانفرنس میں25 ممبرریاستوں نے شرکت کی۔ آنے والے سالوں کے دوران NAM کے اراکین کی تعداد کافی بڑھ گئی۔ NAMکی 18 ویں چوٹی کانفرنس 2019 میں اذربائیجان میں ہوئی تھی۔ اس میں 116 ریاستوں نے بحیثیت رکن اور 15 نے بحیثیت مشاہد شرکت کی۔
جوں جوں ناوابستہ تحریک بین الاقوامی سطح پر مقبول ہوتی گئی، مختلف سیاسی نظام اور مختلف مفادات کے ممالک بھی اس میں شامل ہوگئے۔ اس کی وجہ سے تحریک کی یک رنگی ختم ہوگئی اور بہت ہی واضح الفاظ میں اس کا تعارف بھی مشکل ہوگیا کہ اس کے اصل مقاصد کیا ہیں۔ شاید یہ بیان کرنا زیادہ آسان ہوگا کہ ناوابستگی (NAM) کا مقصد کیا نہیںتھا۔ اس کا مقصد کسی بھی اتحاد کا ممبر بننانہیں تھا۔
کسی بھی اتحاد کا رکن نہ بننے سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ علاحدگی پسند یا غیر جانبدار تنظیم تھی۔ NAM علاحدگی پسند تحریک نہیں تھی کیونکہ اس کا مطلب دنیاوی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی1787سے پہلی جنگ عظیم کی ابتداتک کی خارجہ پالیسی علاحدگی پسندی کی بہترین مثال ہے۔ اس کے برعکس ناوابستہ ممالک ، جن میں ہندوستان شامل ہے ’امن و استحکام کے راستے میں دونوں اتحادوں کے درمیا ن مصالحت کاکام کاانجام دیا ۔ ان کی قوت کا راز یکجہتی اور مستحکم ارادہ میں مضمر تھا اور یہ کہ وہ کسی بھی حالت میں دونوں میں سے کسی بھی اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے۔ حالانکہ عظیم طاقتوں نے یہ کوشش کئی بار کی۔
ناوابستگی غیر جانبداری کا نام بھی نہیں ہے۔ غیر جانبداری کا خاص مطلب ہے کہ جنگ میں حصہ نہ لینے کی پالیسی۔ غیر جانبدار ریاستوں سے جنگ کے خاتمہ کے لیے کوشش کرنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ وہ نہ جنگ میں حصہ لیتی ہیں اور اور نہ ہی کسی جنگ کے اخلاقی یا عقلی جواز کے متعلق کوئی رائے دیتی ہے۔ بشمول ہندوستان ناوابستہ ریاستیںکئی وجوہات کے باعث جنگ میں ملوث ہوئیں۔ لیکن انھوں نے مختلف ملکوں کے درمیان جنگ ٹالنے کے لیے بھی کام کیا اور جاری شدہ جنگوں کو روکنے کی کوشش کی۔
جدید بین الاقوامی معاشی نظام
سرد جنگ کے دوران ناوابستہ ممالک کی حیثیت ایک مصالحت کار سے کہیں زیادہ تھی۔ ان میں سے اکثر کو کم سے کم ترقی یافتہ ممالک (Least Developed Countries, LDCs) کے درجے میں رکھا گیا تھا۔ لہذاان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے عوام کو افلاس کی حالت سے اوپر اٹھاناتھا اور معاشی طور سے مزید ترقی یافتہ ہونا تھا۔ نوآزاد ممالک کے لیے معاشی ترقی ضروری تھی ۔ترقی کے تسلسل کے بغیر آزادی بے معنی تھی۔ اس صورت میں وہ مالدار ممالک کے دست نگر رہیں گے بلکہ نوآبادیاتی طاقتوں کے بھی جن سے انھوں نے آزادی حاصل کی تھی۔
اس حقیقت کے انکشاف سے جدید بین الاقوامی معاشی نظام (NIEO) کا تصور پیدا ہوا۔ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تجارت و ترقی (UNCTAD) نے 1972 میں ایک رپورٹ بعنوان ’’ترقی کے لیے ایک نئی تجارتی پالیسی کی جانب‘‘ شائع کی۔ اس رپورٹ نے عالمی تجارتی نظام کی اصلاح کی تجویز پیش کی تاکہ:
(i) LDCs کو ان کے قدرتی وسائل پر قبضہ دلایا جائے جس کا ترقی یافتہ مغربی ممالک استحصال کررہے ہیں۔
(ii) LDCs کی پہنچ مغربی منڈیوں تک کی جائے تاکہ وہ اپنا تیارمال وہاں فروخت کرسکیں اور تجارت غریب ممالک کے لیے زیادہ منافع بخش ثابت ہوسکے۔
(iii) مغربی ممالک سے درآمد کی گئی ٹیکنالوجی پر اخراجات کم کیے جائیں اور
(iv) بین الاقوامی مالی تنظیموں میں LDCs کو زیادہ اہم کردار ادا کرنے دیا جائے۔
رفتہ رفتہ ناوابستگی کی نوعیت بدل گئی اور یہ معاشی مسائل کو زیادہ اہمیت دینے لگی۔ 1961 کی پہلی چوٹی کانفرنس میںجو بلگریڈ میں منعقد ہوئی تھی معاشی مسائل زیادہ اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن 1970 کی دہائی کے وسط تک یہی مسائل سب سے زیادہ اہم ہوگئے تھے۔ نتیجہ کے طور پر NAM ایک معاشی دبائو ڈالنے والی جماعت (Economic Pressure group) بن گئی۔ بہرحال 1980کے آخری دہے تک NIEO کی اس تصویر کا رخ بھی پھیکا پڑگیا۔ خاص طور سے ترقی یافتہ ممالک کی شدید مخالفت کی و جہ سے جنھوں نے ایک متحدہ گروپ بنالیا۔ جب کہ ناوابستہ ممالک ان کی مخالفت کے مقابلے میں اپنا اتفاق و اتحاد برقرار رکھنے کی کوششیں کرتے رہے۔
NAM کے بانی
جمال عبدالناصر
(1918-1970) 1970 - 1952 تک مصر پر حکومت کی۔ عرب قومیت، اشتراکیت اورنوآبادیات مخالف نظریات کو پروان چڑھایا۔ نہر سوئزکوقو می ملکیت میں شامل کیاجس کی و جہ سے 1956 میں ایک بین الاقوامی تنازعہ پیدا ہوگیا۔
سوکارنو (1901-70)
انڈونیشیا کے پہلے صدر (1945-65) جدوجہد آزادی کی قیادت کی۔ اشتراکیت اورنو آبادیات مخالفت کے نظریات کو پروان چڑھایا۔ بنڈونگ نفرنس کا انعقاد کیا۔ ایک فوجی بغاوت میں ان کا تختہ الٹ گیا۔
ہندوستان اورسرد جنگ
NAM کے بانی
کو امے نکرومہ
(Kwame Nikrumah)
(1909-1972)
تو NIEO صرف ایک نظریہ تھا اور ایک نظام نہیں بن سکا۔ صحیح ہے نا؟
آئیے اسے کریں
دوسری عالمی جنگ کے بعد آزاد ہونے والے پانچ ملکوں کے نام بتائیے۔
گھانا کے پہلے وزیر اعظم (1952 -66) تحریک آزدی کی قیادت کی۔ سماج وادی اور افریقی اتحاد کی حمایت کی اور نئے نوآبادیاتی نظام کی مخالفت کی۔ ایک فوجی بغاوت میں ہٹادیے گئے۔
کی حیثیت سے سرد جنگ میں ہندوستان کا کردار دوہرا تھا۔دونوں اتحادیوں سے فاصلہ قائم رکھنے پر توجہ دی۔دوسری جانب اس نے نئی آزاد شدہ ریاستوں کے کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے کے خلاف آواز اٹھائی۔
ہندوستان کی پالیسی منفی یا بے تعلقی کی پالیسی نہیں تھی جب کہ نہرو نے دنیا کو یاد دلایا کہ ناوابستگی ’دامن چھڑانے ‘ کی پالیسی نہیں ہے۔اس کے برعکس ہندوستان سرد جنگ کی حریفانہ کشمکش کو نرم کرنے کے لیے دنیا کے معاملات میں شامل ہونے کو ہمیشہ تیار تھا۔ ہندوستان نے دونوں اتحادوں کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی اور اس طرح سے ان اختلافات کی و جہ سے عالمی جنگ کے خطرہ کو ٹالنے میں مدد کی۔ ہندوستانی رہنمائوں اور سفارت کاروں کو دونوں حریفوں کے درمیان مصالحت کار کی حیثیت سے استعمال کیا گیا جیسے 1950کی دہائی میں کوریائی جنگ کے معاملے میں۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ہندوستان نے اس عمل میں دوسرے ممالک کو بھی شامل کیا۔ سرد جنگ کے دوران ہندوستان نے ان علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کو متحرک کرنے کی کوشش کی جن کا سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت والے اتحادوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ نہرو ایک ’آزاد اور مددگار قوموں کی حقیقی دولت مشترکہ‘ پر بہت زیادہ بھروسہ کرتے تھے جو اگر سرد جنگ ختم نہ کرسکے تو کم سے کم اس کی شدت کو کم کرنے میں ایک مثبت کردار ادا کرسکے۔
اور ایسا بھی نہیں تھا، جیسا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہNAM ایک بلند و برتر بین الاقوامی مطمح نظر یا عقیدہ تھا جس کا ہندوستان کے حقیقی مفادات سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ ایک ناوابستہ پہلو ہندوستان کے مفادات کوکم سے کم دو طریقوں سے براہ راست پورا کرتا تھا :
◊ اوّل یہ کہ ناوابستگی نے ہندوستان کو بین الاقوامی فیصلے کرنے کا موقعہ دیا جس نے عظیم طاقتوں اور ان کے حلیفوں کے مفاد کے بجائے ہندوستان کے مفادکو پورا کیا۔
◊ دوسرے،اکثر ہندوستا ن دونوں عظیم طاقتوں کے درمیان ایک میزان کا کام کرتا تھا۔ اگر ہندوستان کو یہ محسوس ہوتا کہ ایک عظیم طاقت اس کو نظر انداز کررہی ہے یا غیر ضروری دبائو میں لارہی ہے تو وہ دوسری طرف جھک سکتا تھا۔ کوئی بھی اتحادی نظام نہ ہندوستان کے متعلق اپنی جانب سے کچھ منظورکرسکتا تھا اور نہ ہی اس کو دھونس دے سکتا تھا۔
ہندوستان کی ناوابستگی کی پالیسی کو کئی اسباب کی بناپر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں ہم صرف دو تنقیدوں کا ذکر کرتے ہیں۔
◊ پہلی، ہندوستان کی ناوابستگی کو بتایا گیا۔کیوںکہ ہندوستان نے اپنے فائدہ کے چکر میں اہم اور نازک بین الاقوامی مسائل کے معاملے میںاکثر مضبوط اور ٹھوس قدم اٹھانے سے انکارکردیاہے۔
◊ دوسری تنقید یہ ہے کہ ہندوستان غیر مستقل مزاج تھا اور اس نے متضاد رخ اختیار کیے۔ اس نے دوسروں پر اتحاد میں شامل ہونے پر تنقید کی لیکن خوداگست 1971 میںسوویت یونین کے ساتھ ایک دوستانہ معاہدہ (Treaty of Friendship) پر دستخط کیے جس کی مدت بیس سال تھی۔ باہر سے دیکھنے والوں کے لیے یہ درحقیقت سوویت اتحاد میں شامل ہونے کے برابر تھا۔ ہندوستانی حکومت کا نقطئہ نظر یہ تھا کہ بنگلہ دیش کے بحران کی و جہ سے ہندوستان کو فوجی اور سفارتی حمایت کی ضرورت تھی، دوسرے یہ کہ یہ معاہدہ ہندوستان کو اس سے نہیں روکتا کہ وہ دوسرے ممالک، بشمول ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے دوستانہ تعلقات رکھے۔
سرد جنگ کے پس منظر میں تحریک ناوابستگی ایک حکمت عملی کے طور پر ابھری۔ اور جیسا کہ ہم دوسرے باب میں دیکھیں گے کہ 1991 میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد اور ساتھ ساتھ سرد جنگ کے خاتمہ پر، ناوابستگی ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے ،یا بین الاقوامی تحریک کی حیثیت سے بہت حد تک اپنی شروع کی افادیت اور موزونیت کھوچکی تھی۔ لیکن ناوابستگی کچھ قدریں اور سخت جان نظریات رکھتی تھی۔ یہ اس اعتراف پر مبنی تھیں کہ نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارہ پانے والی ریاستیں تاریخی تعلق سے ایک دوسرے کی شریک تھیں اور اگر ان میں اتحاد ہوجائے تو وہ ایک موثر قوت بن سکتی ہیں۔ اس کا مطلب تھا کہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے اور غریب ممالک کو کسی بڑی طاقت کا حاشیہ بردار ہونے کی ضرورت نہیں اور وہ اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی وضع کرسکتی ہیں۔ اور یہ اس ارادہ پر بھی مبنی تھاکہ بین الاقوامی نظام کو جمہوری بنایا جائے اور ایک متبادل عالمی نظام پر غور کیا جائے جس کے ذریعہ موجودہ عدممساوات ختم ہو۔یہ اہم اور بنیادی نظریات سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد بھی موزوں رہے۔
آئیے، مل جُل کر کریں
مراحل
◊ کلاس کو برابر کی تعداد میں تین گروپ میں تقسیم کیجیے۔ ہر گروپ ایک مختلف دنیا کی نمائندگی کرے گا۔ پہلی دنیا یعنی سرمایہ دارانہ دنیا، دوسری دنیا یعنی کمیونسٹ دنیا اور تیسری دنیا یعنی ناوابستہ ممالک کی دنیا ۔
◊ استادکو سرد جنگ کے زمانے سے دو ایسے نازک اور اہم مسائل کاانتخاب کرناہے جو سرد جنگ کے دوران دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن گئے تھے (کوریا اور ویت نام کی جنگیں اس کی اچھی مثالیں ہیں)۔
◊ اب ہر گروپ اپنے اپنے گروپ کا ایک ’واقعہ کا منظر نامہ‘ تیار کرے اور اپنے بلاک/ گروپ کے نقطئہ نظر کے تحت اس کے اسباب اور اس مسئلہ کے حل کے لیے ترجیحی لائحہ عمل تیار کرے۔
◊ واقعہ کا یہ منظر نامہ ہر گروپ کلاس کے سامنے پیش کرے گا۔
استاد کے لیے ہدایتیں
◊ طلباکی توجہ ان نتائج کی جانب مبذول کرائیے جو ان ممالک میں اور بقیہ دنیا پر ان بحران کی وجہ سے ظاہر ہوئے۔ ان ممالک کی موجودہ حالت سے ربط پیدا کیجیے۔
◊ تیسری دنیا کے رہنمائوں اور اقوام متحدہ کی ان کوششوں کا ذکر کیجیے جو ان ممالک میں قیام امن کے سلسلہ میں کی گئیں ( کوریا اور ویت نام کے سلسلہ میںہندوستان کے طرزعمل اوراس کی شرکت کا حوالہ دیا جاسکتا ہے)۔
◊ سرد جنگ کے بعد اس قسم کے بحران کس طرح ٹالے جاسکتے ہیں،اس موضوع پر ایک مباحثہ منعقد کیجیے۔
تخفیف اسلحہ کے معاہدے
(LIMITED TEST BAN TREATY (LTBT
اس معاہدہ کی رو سے فضا، خلا اور زیر آب نیوکلیائی ہتھیاروں کا ٹسٹ ممنوع کردیا گیا۔ اس پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، برطانیہ اور سوویت یونین نے ماسکو میں 5اگست 1963 کو دستخط کیے
10 اکتوبر1963 سے اس کانفاذہوا۔
NUCLEAR NON-PROLIFERATION TREATY (NPT)
اس کی رو سے صرف پہلے سے نیوکلیائی ہتھیار رکھنے والے ملکوں کو نیوکلیائی ہتھیار رکھنے کی اجازت ہوگی اور دوسروں کو ان کے حصول کی اجازت نہیں۔ NPT کے مطابق ایک نیوکلیائی ہتھیار رکھنے والی ریاست وہ ہے جس نے یکم جنوری 1967سے پہلے کوئی نیوکلیائی ہتھیار بنایا ہو یا اس کا تجربہ کیا ہو یا کوئی نیوکلیائی صنعت گری کی ہو۔ اس طرح سے پانچ نیوکلیائی ریاستیں ہیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ، سوویت یونین (بعد میں روس) برطانیہ، فرانس اور چین۔
یکم جولائی 1968 کو ماسکو، لندن اور واشنگٹن میں دستخط ہوئے۔ 5 مارچ 1970 سے نفاذ ہوا۔ 1995 میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کردی گئی۔
STRATEGIC ARMS LIMITATION TALKS I (SALT I)
SALT I گفتگو کا پہلا دور نومبر 1969 میں شروع ہوا۔ سوویت لیڈر لیوناڈ برژنیف اور یونائیٹڈ اسٹیٹس کے صدر رچرڈ نکسن نے مندرجہ ذیل پر ماسکو میں 26 مئی 1972 میں دستخط کیے (1) Treaty on the Limitation of Anti Ballistic Missile system (ABM Treaty) اور (2) Interim Agreement on the Limitation of strategic offensive arms.
3 ؍ اکتوبر 1972 سے اس کا نفاذ ہوا۔
STRATEGIC ARMS LIMITATION TALKS II (SALT II)
نومبر 1972 میں دوسرا دور شروع ہوا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر جمی کارٹر اور سوویت لیڈر برژنیف نے 18؍جون 1979 کوویانا میں Treaty on the limitation of stratagic offinceive arms پر دستخط کیے ۔
STRATEGIC ARMS REDUCTION TREATY (START I)
یہ معاہدہ سوویت صدر میخائیل گورباچیف اور امریکی صدر جارج بش (سینئر) کے درمیان Strategic offensive arms کی تخفیف اور تحدید پر ویانامیں 31؍جولائی 1991 پر دستخط ہوئے۔
STRATEGIC ARMS REDUCTION TREATY (START II)
روسی صدر بورس یاتسین اور امریکی صدر جارج بش (سینیر) کے درمیان اس معاہدہ پر 3 جنوری 1993 کو ماسکومیں دستخط ہوئے۔ یہ بھی تخفیف و تحدید اسلحہ کے متعلق معاہدہ تھا۔
مشقیں
1۔ سرد جنگ کے متعلق ان میں سے کون سا بیان غلط ہے؟
(a) یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین اور ان کے حلیفوں کے درمیان ایک مقابلہ تھا۔
(b) یہ دو عظیم طاقتوں کے درمیان ایک نظریاتی جنگ تھی۔
(c) اس نے اسلحہ کی دوڑ شروع کی۔
(d) یونائیٹڈ اسٹیٹس اور سوویت یونین براہ راست جنگ میں ملوث ہوگئے۔
2۔ مندرجہ ذیل بیانوں میں سے کون سا NAM کے مقاصد کی ترجمانی نہیں کرتا
(a)نو آزاد ممالک کو آزادانہ پالیسیاں اختیار کرنے کے قابل بنانا۔
(b) کسی بھی فوجی اتحاد میں شریک ہونے سے انکار۔
(c) عالمی مسائل پر ایک غیر جانبدارانہ رویہ۔
(d)عالمی معاشی غیر مساوات ختم کرنے پر توجہ۔
3۔ عظیم طاقتوں کے بنائے ہوئے فوجی اتحاد کی خصوصیات کے بارے میں مندرجہ ذیل بیانات کے سامنے صحیح یا غلط کا نشان لگائیے۔
(a)اتحاد کے اراکین کو اپنی اپنی عظیم طاقتوں کے لیے اڈے بنانے کے لیے زمین فراہم کرنا ۔
(b)اتحاد کے اراکین کو اپنی اپنی عظیم طاقتوں کو نظریاتی اور فوجی اعتبار سے مدد دینا۔
(c)اگر اتحاد کے کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو وہ اتحاد کے تمام ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
(d)عظیم طاقتیں اپنے ہر حلیف کو نیوکلیائی ہتھیار بنانے میں مدد کریں گی۔
4۔ مندرجہ ذیل ممالک کے نام کے سامنے اس بلاک کا نام لکھیے جس سے یہ سرد جنگ کے دوران جُڑے ہوئے تھے:
ا۔ پولینڈ
ب۔ فرانس
ج۔ جاپان
د۔ نائیجریا
ہ۔ شمالی کوریا
و۔ سری لنکا
5۔ سرد جنگ نے سرد جنگ کے ساتھ ساتھ تخفیفِ اسلحہ کی دوڑ شروع کردی۔ ان دو اہم تبدیلیوں کے کیااسباب تھے؟
6- عظیم طاقتیں چھوٹے چھوٹے ملکوں سے فوجی معاہدہ کیوں کرتی تھیں؟ تین اسباب بیان کیجیے۔
7۔ کبھی کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ دراصل سرد جنگ طاقت کے حصول کی جہد وجہداور اس کا ’نظریہ‘ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ کم سے کم ایک مثال کے ذریعہ اپنے موقف کو سمجھائیں۔
8۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین اورریاست ہائے متحدہ امریکہ کے متعلق ہندوستان کی خارجہ پالیسی کیا تھی؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہندوستان کے مفادات میں مدد حاصل ہوئی؟
9۔ تیسری دنیا کے ممالک NAM کو ایک ’تیسری ترجیح‘ سمجھتے تھے۔ سرد جنگ کے نقطئہ عروج میں اس ’ترجیح‘ نے ان کی ترقی کو کیا فائدہ پہنچایا؟
10۔ آپ کے خیال میں یہ بیان کہاں تک درست ہے کہ NAM اب اپنی افادیت یا موزونیت کھو چکی ہے۔ اپنی رائے کے حق میں دلائل پیش کیجیے۔