Skip to content
Asrialamisiyasat-001


باب2

دو قطبیت کا خاتمہ

اجمالی نظر

دیوارِ برلن، جوسرد جنگ کے نقطئہ عروج کے وقت تعمیر ہوئی تھی اورجواس کی سب سے بڑی علامت تھی، 1989 میں عوام نے گرادی۔ اس ڈرامائی واقعہ کے بعد ایسے ہی ڈرامائی واقعات کا یکے بعد دیگرے ایک سلسلہ چلا جس کا خاتمہ ’دوسری دنیا‘ کے زوال اور سرد جنگ کے خاتمہ پر ہوا۔ دوسری عالمی جنگ کے نتیجہ میں تقسیم شدہ جرمنی پھر سے یکجا ہوگیا۔ایک کے بعد ایک مشرقی یوروپ کے آٹھ ملکوں نے ، جو اس سے پہلے سوویت بلاک کا حصہ تھے، مقبول عوامی مظاہروں کی وجہ سے اپنی کمیونسٹ حکومتوں کو تبدیل کردیا۔سوویت یونین سرد جنگ کے خاتمہ کو ایک تماش بین کی طرح دیکھتا رہا۔سرد جنگ فوجی طریقۂ کارسے نہیں بلکہ عام مردوں اور عورتوں کے مجموعی عمل سے ختم ہوئی۔ انجام کار سوویت یونین خود بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ اس باب میں ہم ان اسباب ونتائج پر غور کریں گے جو ’دوسری دنیا‘ کے انتشارکا سبب بنے۔ ہم یہ بحث بھی کریں گے کہ کمیونسٹ حکومتوں کے زوال کے بعد ان علاقوں پر کیا گزری اور اب ہندوستان کے ان ممالک سے کیسے تعلقات ہیں۔

۱
دیوار برلن سرمایہ دارانہ اور کمیونسٹ دنیا کے درمیان تقسیم کی علامت تھی۔ یہ 1961 میں مشرقی برلن کو مغربی برلن سے علاحدہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔150 کلو میٹر لمبی یہ دیوار 28سال تک کھڑی رہی آخرکار 9نومبر 1989کو اِسے عوام نے گرادیا۔ یہیں سے دونوں جرمنی کی یکجائی ہوئی اور کمیونسٹ بلاک کے خاتمہ کی شروعات ۔ اوپر کی تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ:
عوام دیوار میں ایک چھوٹا سا سوراخ کررہے ہیں
دیوار کے ایک حصہ کو آزاد انہ آنے جانے کے لیے کھول دیا ہے
1989 سے پہلے کی دیوار برلن
کریڈٹ: 1 اور  2 فریڈرک ریم
www.remote.org/fredericulture/berlin
4   www cs.utah.edu-

سوویت یونین کے رہنما
2
ولادیمر لینن (1870-1924)
 بالشویک کمیونسٹ پارٹی کا بانی، 1917 کے روسی انقلاب کا رہنما اور انقلاب (1917-24) کے بعد کے سب سے مشکل وقت میں سوویت یونین کا بانی۔
مارکسی فلسفہ کاغیرمعمولی عالم باعمل اور دنیا کے تمام کمیونسٹوں کے لیے  ذریعۂ  تحریک

سوویت نظام کیا تھا؟

یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلکس (USSR) روس کے 1917 کے اشتراکی انقلاب کے بعد ظہور میں آئی ۔اس انقلاب کے محرک اشتراکیت اصول ، جو کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف تھے،ایک انصاف پسند معاشرے کی ضرورت کے حامی تھے۔ شاید انسانی تاریخ میں یہ سب سے بڑی کوشش تھی جب ذاتی ملکیت کے حقوق کو ضبط کرلیا گیا اور شعوری طور سے مساوات پر مبنی معاشرے کی تشکیل کی گئی۔ ایسا کرتے وقت سوویت نظام کے معماروں نے ریاست اورسیاسی جماعت کے ادارہ کو اوّلیت دی۔ سوویت سیاسی نظام کا محور کمیونسٹ پارٹی تھی اور اس میں کسی دوسری سیاسی پارٹی یاحزب اختلاف کو اجازت نہیں تھی معیشت کی منصوبہ بندتھی اوراس پرریاست کو مکمل اختیار تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد مشرقی یوروپ کے وہ ممالک جنھیں سوویت افواج نے فسطائی قبضہ سے نجات دلائی تھی USSR کے دائرہ اختیار میں آگئے۔ ان ملکوں کے سیاسی اور معاشی نظام USSR کی وضع پر بنائے گئے۔ ان ملکوں کے گروپ کو’دوسری دنیا‘ یا سوشلسٹ بلاک‘ کا نام دیا گیا۔ ان ملکوں کو ایک فوجی معاہدہ ’وارسا پیکٹ‘ نے باہم متحد کیا۔ اس بلاک کا رہنما  USSR تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت یونین ایک عظیم طاقت بن کر ابھری۔ اور اس وقت سوویت یونین کی معیشت سوائے ریاست ہائے متحدہ امریکاکے ساری دنیا سے بہتر تھی۔ اس کے پاس بہترین مواصلاتی نظام، توانائی کے وسیع ذخیرے،جس میں تیل، لوہا اور فولاد شامل تھے۔ مشینی پیداوار اور جدید وسائل نقل و حمل، جو اس کے دور دراز علاقوں کو مستعدی سے ایک دوسرے سے ملاسکتے تھے، موجودتھے۔ اس کی خانہ ساز صنعت میں سوئی سے لے کر کار تک ’ ہر چیز تیار کی جاتی تھی ہر چند کہ اس کا معیار مغربی ممالک میں بنے ہوئے سامان سے کمتر ہوتا تھا۔ سوویت یونین نے ہر شہری کے لیے رہن سہن کا کم سے کم ایک معیار مقرر کردیاتھا اور حکومت بنیادی ضرورتوں جیسے صحت، تعلیم، پرورش اطفال اور دوسری رفاہ عامہ کی اسکیموں پر خرچ کو کم کرنے کے لیے مالی امداد دیتی تھی۔ وہاں بے روزگاری نہیں تھی۔ریاستی ملکیت کی بالادستی تھی یعنی زمین اور پیداواری سرمایہ کی مالک سوویت ریاست تھی۔
پھر سوویت نظام میں آمریت اور نوکرشاہی کا دخل ہوگیا جس کی و جہ سے اس کے شہریوں کا جینا دوبھر ہوگیا۔ جمہوری طریقۂ کار کا فقدان اور اظہارِ رائے کی آزادی کے نہ ہونے سے لوگوں کی زبانبندی ہوگئی اور وہ اپنے تبصرے،تنقیدیامخالفت کو چٹکلوں، لطیفوںاور کارٹونوںمیں پیش کرنے لگے۔سوویت یونین کے زیادہ تر ادارے اصلاح طلب تھے۔ سوویت کمیونسٹ پارٹی سوویت یونین میں یکجماعتی نظام کی نمائندگی کرتی تھی اور ملک کے دوسرے تمام ادارے اس کے ماتحت تھے اور اس کا سب پر زبردست کنٹرول تھا۔ پارٹی عوام کو جواب دہ نہیں تھی۔ ان پندرہ ریاستوں میں جن سے مل کر سوویت یونین بنی تھی پارٹی نے عوام کی اس خواہش کو بھی ٹھکرادیا کہ وہ اپنے تہذیبی اور ذاتی معاملات خود ہی سنبھالیں۔ اگرچہ تحریری طور سے روس کی حیثیت پندرہ میں سے ایک ریاست کی تھی لیکن درحقیقت ہر ادارہ اور ہر چیز پر روسی غلبہ تھا اور دوسری ریاستوں کے عوام خود کو نظرانداز اور استحصال کا شکار محسوس کرتیتھے۔
اسلحہ کی دوڑ میں سوویت یونین ، امریکا کا مقابلہ کرتی رہی اور گاہے بگاہے برابر بھی رہی لیکن اس کے لیے اسے بھاری قیمت چکانی پڑی۔ سوویت یونین ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure) جیسے ٹرانسپورٹ اور بجلی وغیرہ میں مغرب سے بہت پیچھے تھا اور خاص طور سے اپنے عوام کی سیاسی اور معاشی توقعات کو پورا کرنے میں قطعی طور پر ناکام رہا۔ 1979 میں افغانستان پر سوویت حملے نے اس نظام کو مزید کمزور کردیا۔ اگرچہ آمدنی بڑھتی رہی لیکن پیداوار اور ٹیکنالوجی مغرب کے مقابلے میں قابل ذکر حد تک گرگئی۔ اس سے ضرورت کے سامان کی سخت کمی ہوگئی۔ ہر سال اشیائے خوردونوش کی درآمدمیں اضافہ ہوتا گیا۔1970 کی دہائی میں سوویت یونین کی معیشت ڈگمگارہی تھی بلکہ جامد ہوگئی تھی۔

گورباچیف اور انتشار

میخائل گورباچیف نے، جو 1985 میں سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری بنے، اس نظام میں اصلاحات کا بیڑہ اٹھایا۔ اگر سوویت یونین کو ان تبدیلیوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر چلنا تھا جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں مغرب میں ہورہی تھیں تو اصلاحات ناگزیر تھیں۔ بہر حال مغرب سے تعلقات استوار کرنے،سوویت یونین میں اصلاحات نافذکرنے اور جمہوریت کومتعارف کرانے کے گورباچیف کے فیصلے میں کچھ ایسے نتائج پوشیدہ تھے جن کا اندازہ نہ گورباچیف کو ہوا اور نہ ہی کسی اور کو۔ مشرقی یوروپ کے عوام، جو سوویت یونین بلاک کا ایک حصہ تھے،اپنی اپنی حکومتوںاورسوویت غلبہ کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ اور جب ہنگامے ہونے لگے تو ماضی کے برعکس اس بار گورباچیف کی قیادت میں سوویت یونین نے کوئی مداخلت نہیں کی اور یکے بعد دیگرے کمیونسٹ حکومتیں گرتی رہیں۔
ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ خود سوویت یونین میں بھی ایک بحران تیز رفتاری کے ساتھ آرہا تھا جس کی و جہ سے سوویت یونین کا جلد ہی انتشار ہوگیا۔ گورباچیف نے ملک کے اندر سیاسی اور معاشی اصلاحات نافذکیں اور جمہوریت کو متعارف کرایا۔ کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں نے ان اصلاحات کی مخالفت کی۔
سوویت یونین کے رہنما

3
جوزف اسٹالن
(Joseph Stalin)
 (1879-1953) 
 لینن کا جانشین سوویت یونین کے انضمامی سالوں (1924-53) کا رہنما۔ ایک تیز رفتار صنعت اور جبری اجتماعی زراعت کا نظام جاری کیا؛ دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کی فتح کا ذمہ دار؛
اس کے علاوہ  1930 کے ’عظیم خوف‘ کا ذمہ دار؛ اپنے مخالفین کو پارٹی سے ختم کردینا اور ایک آہنی ہاتھ سے حکومت اس کی خصوصیات تھیں۔



1991میں ایک بغاوت ہوئی جس کی تشدد پسند کمیونسٹ رہنمائوں نے حمایت کی۔ لیکن اس وقت تک لوگ آزادی کا ذائقہ چکھ چکے تھے اور کمیونسٹ پارٹی کے پرانے طرز کی حکومت نہیں چاہتے تھے۔ اس بغاوت کی مخالفت کرنے کی و جہ سے بوریس یلتسین (Boris Yeltsin)قومی ہیرو بن گئے۔ روسی جمہوریہ اپنے کاندھوں سے مرکزیت کا بوجھ اتارنے لگی۔ اسی جمہوریہ میں پلتسین نے الیکشن جیتا تھا۔ اقتدار سوویت مرکز سے ریاستوں کی طرف منتقل ہونے لگا خصوصاً سوویت یونین کے یوروپی علاقے میں جو خود کو ایک خود مختار ریاست سمجھنے لگے تھے۔ لیکن وسط ایشیا کی ریاستیں خود مختاری کی اتنی خواہش مند نہیں تھی اور سوویت یونین کے ساتھ ملحق رہنا چاہتی تھیں۔ دسمبر 1991 میں USSR کی تین خاص بڑی ریاستوں، روس، یوکرین اور بیلاروس نے بوریس پلتسین کی سرکردگی میں یہ اعلان کیا کہ سوویت یونین منتشر ہورہی ہے۔ سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی ممنوع قرار دے دی گئی۔ سرمایہ داری اور جمہوریت کو مستقبل کی سوویت ری پبلکس کے لیے بنیاد بنایاگیا۔
USSR کا شیرازہ بکھر جانے کا اعلان اور ایک آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ(Commonwealth of Independent States, CIS) کو قیام ایک اچانک خبر کی طرح دوسری ریاستوں،خصوصاً وسطی ایشیا کی ریاستوں کو پہنچا۔ ان ریاستوں کا الگ ہونا ایک مسئلہ تھا جس کو فوراً اس صورت میں حل کیا گیا کہ ان کو CIS کا بنیادی رکن بنالیا گیا۔ اب روس کو سوویت یونین کی جانشین ریاست تسلیم کرلیا گیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کرسی روس کے حصے میں آئی۔ روس نے سوویت یونین سے الگ کیے گئے تمام معاہدوں اور میشاق کو پورا کرنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ سوویت یونین کے بعد روس ہی واحد نیوکلیائی ریاست رہی اور اس نے یونائیٹڈ اسٹیٹس کے ساتھ مل کر تخفیف اسلحہ کا کچھ عملی کام بھی کیا۔ اور اس طرح پرانی سوویت یونین کاخاتمہ ہوگیا۔

ایک کمیونسٹ پارٹی کا ایک افسر ماسکو سے باہر اجتماعی زرعی فارم پر جاتا ہے تاکہ آلو کی فصل کا حال دیکھ سکے’’کامریڈ کاشتکار، اس سال کی فصل کیسی رہی؟‘‘افسر نے پوچھا

’’خدا کے فضل سے، آلوؤں کے پہاڑ ہوئے‘‘ کاشتکار نے جواب دیا

’’لیکن خدا تو ہے نہیں‘‘ افسر نے کہا

’’ہاں‘‘ کاشتکار نے کہا ’’اور آلووں کے پہاڑ بھی نہیں ہیں‘‘


سوویت یونین کے رہنما
4
نکیتاخروشچیف
(Nikita Khrushchev)
(1894-1971) سوویت یونین کا رہنما (1953-64)؛ اسٹالن کے طرز حکومت کی مذمت کی اور 1956 میںکچھ اصلاحات نافذ کیں۔
مغرب کے ساتھ ’’پُر امن بقا‘‘ کا تصور دیا؛  ہنگری میں ایک عوامی بغاوت کو کچلنے اور کیوبائی میزائل بحران میں ملوث رہے




5
مجھے حیرت ہے کہ دنیا میں اتنے بہت سے حساس لوگ کس طرح سے ایسے نظام کو پسند کرتے تھے؟

سوویت یونین کیوں منتشر ہوئی؟

دنیا کا دوسرا سب سے طاقتور ملک یک بیک کیسے بکھر گیا؟ یہ سوال پوچھنے کے لائق ہے، صرف اس لیے نہیں کہ اس سے سوویت یونین اور کمیونزم کے خاتمے کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ اس لیے بھی کہ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے اور شاید آخری بھی نہیں، کہ ایک سیاسی نظام اس طرح ریزہ ریزہ ہوگیا ہو۔ اس عمل میں کچھ اسباب صرف سوویت یونین کے ساتھ مخصوص ہوں گے لیکن اس اہم واقعہ سے کئی عام سبق بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سوویت کی سیاسی اور معاشی نظام کی داخلی کمزوریاں جو عوام کی امنگوں اور حوصلوں سے ہم آہنگ نہیں تھیں، اس زوال کا سبب بنیں۔ کئی برسوں کے معاشی انجماد اور ٹھہراؤ کی وجہ سے اشیائے صرف میں بے حد کمی آئی اور سوویت سماج کا ایک بڑا طبقہ اس نظام کی افادیت پر شک کرنے لگا اور اس پر کھل کر انگلیاں اٹھانے لگا۔
آخر یہ نظام اتنا کمزور کیسے ہوگیا اور معیشت منجمد کیوں ہوگئی؟ جواب کچھ کچھ واضح ہے۔ سوویت یونین نے اپنے زیادہ تر وسائل نیوکلیائی اور فوجی ذخیرہ اندوزی اور مشرقی یوروپ میں اپنی برائے نام آزاد ریاستوں کی بہبودی اور سوویت ریاستوں، خصوصاً پانچ وسط ایشیائی ریاستوں، میںخرچ کردیے۔یہ ایک ایسا مالی بوجھ تھا جس کو سوویت نظام سنبھال نہیں سکا۔ اسی کے ساتھ عوام کو مغرب کی معاشی خوش حالی اور ترقی کا بھی مزید علم ہوا۔ وہ دونوں نظاموں کے درمیان موجود فرق کو دیکھ سکتے تھے۔ سالہا سال تک یہ سننے کے بعد کہ سوویت نظام مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام سے بہتر ہے، جب اس کی پس ماندگی کی حقیقت معلوم ہوئی تو یہ ایک بہت بڑا سیاسی اور نفسیاتی جھٹکا ثابت ہوا۔
سوویت یونین سیاسی اور انتظامی پہلو سے بھی منجمد ہوچکی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی جس نے سوویت یونین پر 70 سال تک حکمرانی کی تھی عوام کو جواب دہ نہیں تھی۔ ایک وسیع خطّۂ ارض پر حاکمیت کا ایک چھوٹے سے مرکز میں سکڑجانا، حکومت کے معاملات میں شفافیت لانے سے انکار، اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی نااہلی، عام رشوت خوری اور ایک سست رفتار اور زباں بندی کرنے والی انتظامیہ کی و جہ سے عوام اس نظام سے بیزار ہوتے چلے گئے۔ اور اس سے بھی بڑی بات یہ ہوئی کہ پارٹی کے افسروں کو عام آدمی سے زیادہ مراعات دی گئیں۔ عوام سوویت نظام اور اس کے حکمرانوں کو اپنا محسوس کرتے تھے اور حکومت تیزی کے ساتھ عوامی حمایت کھو بیٹھی۔
گورباچیف کی اصلاحات نے ان خامیوں کو دور کرنے کا فیصلہ کیا۔ گورباچیف نے وعدہ کیا کہ وہ معیشت کو سدھاریں گے، انتظامیہ کو عوام کے اور قریب لائیں گے اور سوویت یونین کو مغرب کے برابر لاکر کھڑا کردیں گے۔ آپ کو شاید تعجب ہوگا کہ جب گوربا چیف نے مرض کا صحیح اندازہ لگالیا تھا اور اصلاحات بھی نافذ کی تھیں تو پھر سوویت یونین کازوال کیوں ہوا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں جواب متنازعہ ہوجاتا ہے اور بہتر رہبری کے لیے ہمیں مستقبل کے مورخ پر انحصار کرنا ہوگا۔
غالباّ اس کا ایک بنیادی جواب یہ ہے کہ جب گورباچیف نے اصلاحات نافذ کیں،اور انتظامیہ اور نظام پر سے پابندیاں ہٹائیں تو اس نے ان طاقتوں اور توقعات کو بھی متحرک کردیا جن کی پیشین گوئی چندہی لوگ کرسکتے تھے اور جن کا سنبھالنا تقریباً ناممکن تھا۔سماج کے کچھ حصوں کا خیال تھا کہ گورباچیف کو اور زیادہ تیز رفتاری سے کام لینا چاہیے تھا اور وہ اس کے طریقۂ کار سے مایوس ہوئے۔ ان کو وہ فائدہ نہیں ملا جس کی ان کو توقع تھی یا پھر بہت ہی دھیرے دھیرے ملا۔ دوسرے لوگ خصوصاً کمیونسٹ پارٹی کے ممبر اور وہ جن کو سوویت نظام سے فائدہ حاصل ہوتا تھا، ایک بالکل الگ رائے رکھتے تھے۔ ان کے خیال میں ان کی طاقت اور مراعات ختم ہورہی تھیں اور گوربا چیف تیز رفتار اقدامات کر رہے تھے۔ اس رسہ کشی میں گورباچیف کو کسی بھی گروپ کی حمایت حاصل نہ ہوسکی اور رائے عامہ منقسم رہی۔ یہاں تک کہ اب تک کے ان کے حمایتی بھی بہت مایوس ہوگئے جب انھوں نے دیکھا کہ گورباچیف اپنی ہی اصلاحات اور اقدام کا مناسب طریقہ سے دفاع نہیں کرپارہے ہیں۔

سوویت یونین کے رہنما
6
لیونڈ یرژنیف
(Leonid Brezhnev) (1906-82)؛ سوویت یونین کا لیڈر (1964-82) ؛ایشیائی مجموعی حفاظتی نظام پیش کیا، امریکا کے ساتھ مزاحمتی طریقۂ کار میں شریک رہا۔ چیکوسلواکیہ میں ایک عوامی بغاوت اور افغانستان پر حملہ کرنے میں ملوث رہا۔

لیکن یہ سب مل کر بھی غالباً سوویت یونین کے زوال کا سبب نہیں بن سکتے تھے ۔ لیکن ایک تبدیلی ایسی  بھی تھی جس نے باہر کے مشاہدین کو ہی نہیں بلکہ اندرونِ خانہ رازداروں کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔ روس اور دوسری بالٹک ریاستوں (ایسٹونیا، لیسٹویا اور لیتھونیا) جورجیا، یوکرین وغیرہ میں قومیت کا فروغ اور اقتدار اعلا کے حصول کی کوشش سوویت یونین کے منتشر ہونے کا فوری اور آخری سبب ہوسکتا ہے۔ اس بارے میں بھی متضادرائیں ہیں۔

سوویت یونین کے رہنما
7
میخائیل گورباچیف
(Mikhail Gorbachev) (پیدائش 1931) سوویت یونین کا آخری رہنما (1985-91)؛ ’’پیریستوریکا‘‘(نوساختگی)
اور’’گلیس نوت‘‘ (شفافیت)پالیسی کے تحت معاشی اور سیاسی اصلاحات نافذ کیں۔  امریکاکے ساتھ اسلحہ کی دوڑختم کی، سوویت فوجوں کو افغانستان اور مشرقی یوروپ سے واپس بلایا۔ جرمنی کی یکجائی میں مدد کی؛ سرد جنگ کو ختم کیا۔ سوویت یونین کے منتشر ہونے کا ذمے دار گردانا جاتا ہے۔



ایک نظریہ یہ ہے کہ علاقائی قومی امنگیں اور احساسات سوویت یونین کی تاریخ میں ہمیشہ سے موجود تھے اور خواہ اصلاحات نافذ کی جاتیں یا نہ کی جاتیں، سوویت یونین کے اندر ایک اندرونیجہدوجہد تھی۔ اگرچہ یہ تاریخ کا ’’اگر،مگر ‘‘ ہے لیکن پھر بھی سوویت یونین کی جسامت ،تنوع اور اس کے بڑھتے ہوئے اندرونی مسائل کے لحاظ سے کلی طور پر معقولیت سے خالی نہیں ہے ۔ کچھ کا خیال ہے کہ گورباچیف کی اصلاحات بہت تیز رفتار تھیں جس سے قوم پرست بہت غیر مطمئن ہوگئے، یہاں تک کہ حکومت اس پر قابو نہیں رکھ سکی۔
عجیب بات یہ ہے کہ سرد جنگ کے دوران یہ سمجھا جاتا تھا کہ کسی بھی قومی بحران کے وقت ، بقیہ سوویت سے اپنے مذہبی اور نسلی فرق اور بچھڑے ہونے کی وجہ سے ’وسط ایشیا کی ریاستوں میں بے اطمینانی سب سے زیادہ ہوگی لیکن ، جیسا کہ واقعات نے ثابت کیا یہ بے اطمینانی سب سے زیادہ ان ریاستوں میں ہوئی جو یورپین تھیں اور زیادہ ترقی یافتہ تھیں جیسے کہ روس، بالٹک ریاستیں، جورجیا اور یوکرین وغیرہ۔یہاں کے عوام وسط ایشیائی ریاستوں سے لاتعلق تھے اور وہ اس نکتے پر ہم خیال تھے کہ وہ غیر ترقی یافتہ علاقوں کو سوویت یونین میں شامل رکھنے کی بہت بڑی معاشی قیمت ادا کررہے ہیں۔

سوویت یونین کے منتشر ہونے کا نقشہ اوقات

مارچ 1985 : میخائیل گورباچیف سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ بوریس یالتسین کو ماسکو میں کمیونسٹ پارٹی کا سربراہ مقرر کیا۔ سوویت یونین میں اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔
1988 : لتھوینیا میں تحریک آزادی کی ابتدا ہوئی جو بعد میں ایسٹونیا اور لیسٹویا میں پھیل گئی۔
اکتوبر 1989 : سوویت یونین نے اعلان کیا کہ ’وارسا پیکٹ ‘کے ممبر اپنے مستقبل کافیصلہ خود کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ نومبر میں دیوارِ برلن کا سقوط
فروری  1990 : گورباچیف نے سوویت کمیونسٹ پارٹی کی 72سالہ اجارہ داری ختم کردی اور سوویت پارلیمنٹ (ڈوما) سے سفارش کی کہ کثیر الجماعتی سیاست کی اجازت دی جائے۔
مارچ 1990 : پندرہ سوویت ری پبلکس میں سے لتھوینیا پہلی ریاست بنی جس نے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔
جون1990: روس کی پارلیمنٹ نے سویت یونین سے اپنی آزادی کااعلان جاری کیا۔
جون 1991 : یالتسین ، جو اب کمیونسٹ پارٹی کے ممبر نہیں تھے، روس کے صدر بنے۔
اگست 1991: کمیونسٹ پارٹی کے متشدد ممبروں نے گورباچیف کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی۔
ستمبر1991: تین بالٹک ریاستیں، ایسٹوینا، لیسٹویا اور لتھوینیا اقوام متحدہ کی ممبر بن گئیں۔ (پھر مارچ 2004 میں انھوں نے NATO میں شمولیت کی)
دسمبر 1991 : روس، بیلاروس اور یوکرین نے 1922 کی Treaty on the Creation of USSR کو کالعدم قرار دیا اور خود مختار ملکوں کی دولت مشترکہ (CIS)  قائم کی۔ آرمینیا، آذربائجان، مولدوہ، قزاقستان، کرغستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبیکستان نے CIS میں شرکت کی (پھر 1993 میں جورجیا نے بھی شمولیت اختیار کی ) روس نے اقوام متحدہ میں سوویت یونین کی کرسی سنبھالی۔
25؍دسمبر1991 : سوویت یونین کے صدر کی حیثیت سے گورباچیف نے استعفیٰ پیش کیا۔ سوویت یونین کا خاتمہ ہو گیا۔

انتشار کے نتائج

سوویت یونین کی دوسری دنیا اور مشرقی یوروپ کے اشتراکی نظام کے سقوط نے دنیا کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ اس سقوط کی و جہ سے جو تین دیرپا تبدیلیاں آئیں ہم ان کا تذکرہ یہاں کریں گے اور ان تینوں کی و جہ سے خود بہت سے اثرات ہوئے جن کا تذکرہ ہم یہاں نہیں کرسکتے۔
سب سے پہلی بات تو یہ کہ اس انتشار کا مطلب سرد جنگ میں ہونے والے تمام جھگڑوں اور فساد کا خاتمہ تھا۔یہ نظریاتی تنازعہ کہ کیا سماج وادی نظام  سرمایہ دارانہ نظام سے بہتر ثا بت ہوگا؟ اب کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ کیونکہ اسی تنازعہ میں دونوں بلاک کی فوجیں بھی ملوث ہوگئی تھیں، اور اس کی و جہ سے اسلحہ کی ذخیرہ اندوزی کی ایک زبردست دوڑ شروع ہوگئی تھی اور فوجی بلاک بن گئے تھے لہٰذا اسی تنازعہ کیخاتمے سے ہتھیار کی دوڑ بھی ختم ہوئی اور نئے امن کا قیام ممکن لگنے لگا۔
دوسری بات یہ کہ سیاست کی دنیا میں جو تعلقات طاقت پر قائم تھے، بدل گئے اور نتیجہ کے طور پر نظریات اور اداروں کے اثر میں بھی تبدیلی آئی۔ سرد جنگ کے بعد دو ہی چیزیں ممکن تھیں یا تو باقی بچی ایک عظیم طاقت دنیا پر غلبہ حاصل کرلے اور ایک قطبی نظام عمل میں آئے یا پھر مختلف ممالک یا ان ممالک کے گروپ بین الاقوامی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے لگیں اور اس طرح سے ایک کثیر قطبی نظام وجود میں آئے جس میں کسی بھی طاقت کا غلبہ یا سرداری نہ ہو۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس واحد عظیم طاقت بن گیا۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس کی طاقت اور وقار کی پشت پناہی سے سرمایہ دارانہ نظام اب بین الاقوامی طور سے ایک بااثر معاشی نظام بن گیا۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالی فنڈجیسے ادارے ان ملکوں کے اہم مشیر بن گئے کیونکہ انھوں نے ان ممالک کو سرمایہ دارانہ نظام کو اپنانے تک کے عبوری دور کے لیے قرضے دیے۔سیاسی طورپرآزادجمہوریہ کا رجحان سیاسی زندگی کو منظم کرنے کے لیے بہتر طریقۂ کار مان لیا گیا۔

سوویت یونین کے رہنما
8
بورس یلتسین
(Boris Yeltsin) (-2007 1931) روس کا پہلا منتخب صدر (1991-1999) کمیونسٹ پارٹی میں طاقت ور بن کر ابھرا اور گورباچیف نے روس کا میئر(Mayor) بنایا۔ بعدمیں گورباچیف کا نکتہ چین بن کر کمیونسٹ پارٹی سے الگ ہوگیا۔ 1991 میں سوویت حکومت کے خلاف مظاہروں میں قیادت کی؛ سوویت یونین کے بکھرنے میں اہم رول ادا کیا۔ان کا ان پر الزام لگایا گیا جو روسیوں کو کمیونزم سے سرمایہ داری کی طرف جانے کے عبوری دور میں اٹھانی پڑیں۔




تیسری بات یہ کہ سوویت بلاک کے خاتمہ کا مطلب کئی اور ممالک کا ظہور تھا۔ ان تمام ملکوں کی اپنی اپنی آزاد امنگیں اور انتخاب تھے۔ ان میں سے کچھ، خاص طور سے بالٹک اور مشرقی ریاستیں، یورپین یونین (EU) میں شریک ہونا چاہتے تھے اور بعد میں انھوں نے North Atlantic Treaty Organisation یعنی NATO کی رکنیت حاصل کرلی۔ وسط ایشیا کے ممالک اپنی جغرافیائی حدود اور محل وقوع کا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے اور روس سے اپنے قریبی تعلقات کے ساتھ ساتھ مغرب ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، چین اور دوسرے ممالک سے بھی رشتے استوار رکھنا چاہتے تھے۔ اس طرح سے بین الاقوامی اسٹیج پر کئی کردار سامنے اُبھر کر آئے جن میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی شناخت، مفادات ، معاشی اور سیاسی مشکلات تھیں۔اگلے صفحوں میں ہم ان ہی مسائل پر بحث کریں گے۔

9
میں نے کسی کو کہتے سنا کہ ’سوویت یونین کے خاتمے کا مطلب اشتراکی نظام کا خاتمہ نہیں ہے‘۔ کیا یہ ممکن ہے؟

کمیونسٹ حکومتوں کے بعد کی حکومتوں میں صدمہ کا علاج 

ان ممالک کی کمیونزم کے زوال کے بعد، آمرانہ سماج وادی نظام سے جمہوری سرمایہ دارانہ نظام تک آنے میں ان ملکوںکو ایک تکلیف دہ عبوری عمل سے گزرنا پڑا۔ روس، وسط ایشیا اور مشرقی یوروپ میں یہ عبوری عمل بین الاقوامی مالی فنڈ (IMF) سے متاثر تھا اور اس عمل کو ’صدمہ کا علاج‘ یا Shock Therapy کا نام دیا گیا۔ ’صدمہ کا علاج‘ کی شدت اور زورسابقہ دوسری دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف درجوں میں تھا لیکن اس کی خصوصیات اور منزل ایک ہی تھیں۔

10
نقشہ : پروسط ایشائی جمہورتیوں کا محل وقوع دکھائیے۔

ان میں سے ہر ایک ملک سے یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ مکمل طور سے سرمایہ دارانہ نظام کو اپنائے گا جس کا مطلب تھا کہ سوویت زمانہ میں بنایا ہوا ہر معاشی ڈھانچہ اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ ملکیت کے مسئلہ میں ذاتی ملکیت یا جائداد سب سے زیادہ نمایاں جگہ حاصل کرے گی۔ ریاست کے اثاثوں کو ذاتی ملکیت میں تبدیل اور اجتماعی ملکیت ،کمپنیوں کی ملکیت(Corporate owership)کو جلد سے جلد نافذ کیا جاناتھا۔ اجتماعی زرعی نظام کی جگہ ذاتی کاشتکاری کو جگہ دی جانی تھی اور سرمایہ دارانہ زرعی نظام کو بروئے کار لانا تھا۔ اس عبوری دور میں کسی تیسرے راستے، کے لیے جگہ نہ تھی یا تو ریاست کے تحت اشتراکی نظام یا پھر سرمایہ دارانہ نظام۔
 صدمہ کا علاجShock Therapy  میں ان معیشتوں کی خارجی عمل میں زبردست تبدیلی ملوث تھی۔ ترقی ایک ہی راستہ یعنی زیادہ تجارت پر مبنی تھی۔ آزادانہ تجارت کی جانب ایک مکمل اور اچانک جست لازمی تھی۔ آزادتجارتی نظام اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری Foreign direct investment (FDI)  اس تبدیلی کے ذرائع تھے۔ اس میں خارجی سرمایہ کاری کے لیے کشادہ دلی، مالی آسانیاں اور پیسے یا کرنسی کی تبدیلی میں آسانی بھی شامل تھیں۔
آخر میں اس عمل میں سوویت بلاک کے ممالک میںباقی رہ گئے تجارتی معاہدوں سے قطع تعلق اور علاحدگی بھی شامل تھا۔ اس بلاک کی ہر ریاست کے اب مغرب سے براہ راست تعلق تھے نہ کہ اپنے علاقے میں ایک دوسرے سے۔ اس طرح سے یہ ریاستیں دھیرے دھیرے مغربی معاشی نظام میںجذب ہوتی گئیں۔ مغربی سرمایہ دارانہ ریاستیں اب رہنما بن گئیں اور مختلف تنظیموں اور ایجنسیوں کی مدد سے ان علاقو ں کی ترقی پر قابو رکھا اور اس کی رہنمائی کی۔

’صدمہ کے علاج‘ کے نتائج 

(Consequences of Shock Therapy)
1990 میں کیا ہوا ’صدمہ کا علاج‘ عوام کو بڑے پیمانے پر اشیاء کی خریداری اور استعمال کے وعدہ اور مثالی ریاست کی جانب لے جانے میں ناکام رہا۔ عام طور سے یہ پورے علاقے کی معیشتوں کے لیے بربادی اور عوام کے لیے تباہی لایا۔ روس میں سب سے بڑا سرکاری صنعتی نظام ختم ہوگیا۔ کیونکہ اس کے 90 فیصد کارخانے کمپنیوں کو بیچ دیے گئے یا انفرادی ملکیت بن گئے۔ اورچوں کہ صنعتی ڈھانچہ کی از سر نو تعمیر اب تجارتی طاقتوں کے ہاتھوں میں تھی اور حکومت کی تعمیر کردہ پالیسیوں کا ان میں کوئی دخل نہیں تھا، اس لیے ایک طرح سے صنعت کاری بالکل غا ئب ہوگئی۔ اس کو’ تاریخ کا سب سے بڑاgarage sale ‘ کا نام دیا گیا کیونکہ قیمتی کارخانے اور صنعتوں کے دام بہت کم لگائے گئے اور ان کو کباڑ کے داموں فروخت کردیا گیا۔ حالانکہ سارے شہریوں کو اس ’فروخت‘ میں شامل ہونے کے لیے واؤچر (voucher) دیے گئے تھے لیکن اکثر نے ان کو کالے بازار میں بیچ دیا کیونکہ انھیں پیسوں کی ضرورت تھی۔
روسی کرنسی، روبل کی شرح تبادلہ بہت زیادہ گرگئی۔ مہنگائی اس تیزی سے بڑھی کہ لوگوں نے اپنی ساری بچت گنوادی۔ اجتماعی زرعی نظام کے خاتمہ کی وجہ سے، اشیائے خوردونوش کی گارنٹی ختم ہوگئی اور روس کو سامانِ خوردونوش درآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔1999 میں روس کی مجموعی گھریلو پیداوار 1989,(GDP)کی پیداوار سے بہت کم تھی۔ پرانا تجارتی ڈھانچہ تو ٹوٹ گیا لیکن اس کا کوئی متبادل سردست موجود نہ تھا۔

11
مجھے صدمہ تو نظر آتا ہے مگر علاج کہاں ہے؟
آخر ہم اتنے حسن ادا سے کیوں بات کرتے ہیں؟

12
’صدمہ سے علاج‘
کے نتیجہ میں روس کے 1500 بینک کی آدھی تعداد اور دوسرے مالی ادارے دیوالیہ ہوگئے۔ اوپر کی تصویر روس کے دوسرے سب سے بڑے بینک Inkam bank کی ہے جو 1998 میں دیوالیہ ہوگیا۔ نتیجہ کے طور پر دس ہزار کمپنیوں اور نجی حصہ داروں کا پیسہ ڈوب گیا ساتھ میں بینک میں رکھا ہوا سرمایہ بھی۔

13
 علاحدگی پسندی اور قوم پرستی میں کیا فرق ہے۔اگر آپ کامیاب ہوجاتے ہیں تو آپ کو ایک قومی ہیرو کا اعزاز دیا جاتا ہے اور ناکامی کی صورت میں آپ کو علاحدگی پسندی کی سزا ملتی ہے۔


رفاہ عامہ کا پرانانظام یا طریقہ باقاعدہ تباہ کردیا گیا۔ سرکاری امداد کے ہٹائے جانے سے عوام کا ایک بڑا حصہ افلاس کے دہانے پر پہنچ گیا۔ متوسط طبقے سماج کے آخری کنارے پر آکھڑے ہوئے۔تعلیم یافتہ اور دانشور طبقہ یا تو بکھرگیا یا پھر اس نے ہجرت کرلی۔ ان میں سے اکثر ملکوں میں قانون شکنوں کی ایک جماعت (Mafia) کا ظہور ہوا اور وہ بہت سے معاشی سرگرمیوں کے نگراں اور کنٹرولر بن گئے۔ انفرادی یا ذاتی ملکیت نے نئی تفریقیں پیدا کردیں۔ سوویت یونین کے بعد والی حالت میں بہت سی ریاستیں خصوصاً روس، امیر اور غریب علاقوں میں بٹ گئی تھیں۔ اور پہلے کی حالت کے برعکس عوام میں معاشی عدم مساوات اب زیا دہ تھی۔
جمہوری اداروں کی تعمیر کو وہ توجہ اور ترجیح نصیب نہیں ہوئی جو معاشی تبدیلی کے مطالبہ کو ملی۔ ان تمام ملکوں کے دستوروں کے مسودے جلدی جلدی تیار کیے گئے تھے اور اکثریت ان دستوروں کی تھی جن میں ایک فعال اور منتظم صدر کے پاس زیادہ سے زیادہ ممکن اختیارات اور طاقت رکھی گئی تھی۔ جس کے باعث لوگوں کی منتخب کردہ پارلیمنٹ بے اثر ہوگئی۔ وسط ایشیا کے ملکوں میں صدر کے اختیارات بہت تھے اور بہت سے صدورنے اس کا آمرانہ استعمال کیا۔ مثال کے طورپر ازبکستان اور ترکمانستان کے صدور نے پہلے خودکو دس سال کے لیے صدر مقرر کیا اور پھر اس میں مزید دس سال کی توسیع کردی۔ ان کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ عدلیہ کی آزادی اورایک ’قانونی تہذیب‘‘ ان ملکوں میں ابھی آنا باقی تھی۔
ان میں اکثر ملکوں کی معیشتیں ، خصوصاً روس کی ،  2000 میںپھرسے سانس لینے کی کوشش کرنے لگیں یعنی آزادی کے دس سال بعد ان ملکوں کی معیشت کی نشاۃ ثانیہ میں تیل، گیس اور معدنیات جیسے قدرتی وسائل کی برآمدات کا ہاتھ تھا۔ آذربائجان، قزاقستان، روس، ترکمانستان اور ازبکستان تیل اور گیس کے پیداوار کرنے والے بڑے ملک ہیں۔دوسرے ملکوں کو اس سے یہ فائدہ پہنچا کہ وہ تیل کی اُن پائپلائنوں کا کرایہ وصول کرتی ہیں جو ان کے ملک کی زمین سے ہوکر گزرتی ہیں۔ صنعت گری کا کچھ کام بھی شروع ہوا ہے۔

کشیدگیاں اور تنازعات

زیادہ ترسابقہ سوویت ریاستیں تنازعہ میں الجھنے کی جانب مائل ہیں اور ان میں سے کچھ خانہ جنگی اور بغاوتوں کا شکار بھی ہوئی ہیں۔ خارجی طاقتوں کے ملوث ہونے سے معاملات اور پیچیدہ ہوگئے۔
روس میں داغستان اور چیچنیا کی دو ریاستیں بہت متشدد علاحدگی پسند تحریکوں کا میدان رہی ہیں۔ چیچنیاکے باغیوں سے حکومت کا سلوک اور اسی علاقہ پر غیر امتیازی طور سے بمباری کی ساتھ ساتھ روس نے انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی کی لیکن وہاں کے عوام کی آزادی کی امنگ کو دبانے میں ناکام رہا۔
وسط ایشیا میں تاجکستان خانہ جنگی کا دس سال تک شکار رہا یعنی 2001 تک۔ اس علاقے میں بہت سے طبقاتی یا مذہبی تنازعات ہیں۔ آذربائیجان کے ناگورنو۔ کا رابخ صوبے میںکچھ آرمینی، علاحدہ ہوکر آرمینیا سے مل جانا چاہتے تھے۔ جورجیا کے دو صوبے بھی علاحدہ ہونا چاہتے تھے جس کی وجہ سے خانہ جنگی ہوئی۔ یوکرین، کرغستان اور جورجیا کی موجودہ حکومتوں کے خلاف بھی تحریکات جاری ہیں۔ صوبوں اور ملکوں کے درمیان دریائوں کے پانی کے اوپر جنگ چل رہی ہے۔ ان سب نے مل کر علاقہ کو غیر مستحکم بنادیا ہے ، عام شہری زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔
وسط ایشیائی ریاستوں کے پاس کثیر مقدار میں ہائیڈروکاربن HYdrocarbon کے قدرتی وسائل ہیں جس کی و جہ سے ان کو معاشی فوائد حاصل ہیں۔ وسط ایشیا باہری طاقتوں اور تیل کی کمپنیوں کے لیے مقابلے کا میدان بن گیا ہے۔ یہ علاقہ روس، چین، افغانستان اور پاکستان سے گھرا ہوا ہے اور مغربی ایشیا کے نزدیک ہے۔11ستمبر2001 کے بعد یونائیٹڈ اسٹیٹس اس علاقے میں فوجی اڈے بنانا چاہتی تھی۔ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے درمیان یونائیٹڈ اسٹیٹس نے ساری وسط ایشیا ریاستوں کو ان کے اڈوں کو کرایہ پر لینے اور امریکی جہازوں کو ان کے ملکوں کے اوپر پرواز کرنے کی اجازت کے بدلے میں پیسہ دیا۔ بہرحال روس کا خیال ہے کہ یہ ریاستیں روس کا ’’قریب ترین پردیس‘‘ ہیں لہٰذا اسی کے زیر اثر رہنا چاہیے۔ تیل کی و جہ سے چین کا مفاد ان ممالک سے وابستہ ہے بلکہ چینی لوگ سرحدوں کے قریب آکر بسنے شروع ہوگئے ہیں اور تجارت کررہے ہیں۔
مشرقی یوروپ میں چیکوسلواکیہ پر امن طریقہ سے دو حصوں میں بٹ گیا اور دو ریاستیں، چک اور سلواک، عالم وجود میں آئیں۔ لیکن سب سے پر تشدد تنازعہ بلقانی ریاست یوگوسلاویہ میں ہوا۔ 1991 کے بعد یہ کئی صوبوں جیسے کروشیا، سلووینیا، بوزینا اور ہرزِگوینا، میں بٹ گئی اور ہر ایک نے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا۔ نسلی گروہ سرب (Serb) نے اس کی مخالفت کی اور غیر سرب بوزنین کا قتل عام ہوا۔ NATO کی مداخلت اور یوگوسلاویہ پر بمباری نے پھر ایک نسلی خانہ جنگی کی راہ دکھائی۔

آئیے اسے کریں

روس اور ہندوستان کے سیاسی اور معاشی نظریات میں یکساں باتوں کی ایک فہرست بنائیے۔
ہندوستان اور کمیونزم کے بعد کے ممالک


بالی وڈ، اُزبیک جذبات میں ہلچل مچاتا ہے

سوویت یونین کے سقوط کے سات سال بعد بھی ہندوستانی فلموں کے لیے ازبیک احساسات اب بھی وہی ہیں۔ کسی بھی نئی ہندوستانی فلم کی ریلیز کے مہینے بعد ہی اس فلم کی نقلی کاپیاں ازبیک راجدھانی تاشقند میں بک رہی ہوتی ہیں۔

تاشقند کی سب سے بڑی مارکیٹ کے قریب محمد شریف پیٹ کی دوکان ہے جہاں وہ ہندوستانی فلمیں بیچتے ہیں۔ وہ ایک افغان ہیں جو فلموں کے ویڈیو پاکستان کے سرحدی شہر پشاور سے لاتے ہیں۔ ’’یہاں پر ایسے بہت لوگ ہیں جو ہندوستانی فلمیںپسند کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تاشقند کے 70 فی صد لوگ انھیںخریدتے ہیں۔ ہم تقریباً 100 ویڈیو روزانہ فروخت کرتے ہیں، میں نے ابھی ابھی ایک ہزار مزید ویڈیو کا آرڈر دیا ہے۔ ازبیک وسط ایشیا سے ہیں وہ ایشیا کا حصہ ہیں ان کی ایک مشترک تہذیب ہے۔ اس لیے وہ ہندوستانی فلمیں پسند کرتے ہیں۔‘‘ محمد شریف پیٹ نے کہا

ایک مشترکہ تاریخ کے باوجود، بہت سے ان ہندوستانیوں کے لیے جو ازبکستان میں رہتے ہیں، ازبکوں کی ہندوستانی فلموں اور فلم اسٹاروں سے وابستگی ایک حیرت کی بات ہے۔ ہندوستانی سفارت خانے کے اشوک شرما کا کہنا ہے کہ ’’ہم جب بھی مقامی معزز لوگوں سے ملتے ہیں۔ خواہ وہ وزیر ہوں یا کابینہ کے وزیر۔ ہماری گفتگو میں فلموں کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ ہندوستانی فلم ، کلچر، سنگیت اور خصوصاً راج کپور کے نام یہاں گھر گھر سنائی دیتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہندوستانی گانے گاسکتے ہیں۔ ان کو گانے کے معنی تو نہیں معلوم ، لیکن ان کا تلفظ صحیح ہے اور وہ موسیقی سمجھتے ہیں۔ جب میں ازبیکستان آیا تو میں نے دیکھا کہ تقریباً تمام پڑوسی ہندی گانے گا سکتے ہیں اور بجاتے ہیں۔ میرے لیے یہ بڑی حیرت کی بات تھی‘‘۔

BBC  کے وسط ایشیا کے نمائندے LOuise HIdelgo کی ایک رپورٹ


آئیے مل جل کر کریں

مراحل

¤ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین کے سرد جنگ کے زمانے کے کوئی بھی پانچ پانچ حلیف ملک منتخب کیجیے۔

¤ اسی اعتبار سے کلاس کو تقسیم کیجیے (10گروپ) ۔ ہر گروپ کو ایک ملک دیجیے۔ ہر گروپ کا کام ہوگا کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں سیاسی سماجی اور معاشی خاکہ جو سرد جنگ کے زمانے سے متعلق ہو، تیار کرے ۔

¤ طالب علم اپنے اپنے ملک کا ایسا ہی ایک اور خاکہ کمیونزم کے زوال کے بعد کا تیار کریں اور بتائیں کہ دوسری دنیا کے انتشار نے ان ملکوں میں کیا فرق(اگر کوئی فرق ہے )پیدا کیا۔

¤ ہر گروپ اپنا تیار کردہ مواد پوری کلاس کے سامنے پیش کرے گا۔یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ طالب علم اس پر نظر رکھیں کہ اس ملک کے شہریوں نے خود اپنے بارے میں کیا محسوس کیا۔

استاد کے لیے ہدایتیں

* آپ طلباکی معلومات کو جمہوری اور کمیونسٹ نظام سے منسلک کرسکتے ہیں اور دونوں نظاموں کی خوبیوں اور خامیوں کو اجاگر کرسکتے ہیں۔

* آپ طلبا کی اس بحث کے شروع کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں کہ کیا کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کاکوئی متبادل دنیا کے پاس موجود ہے؟


ماضی کے جھروکے سے ہندوستان اور سوویت یونین

سرد جنگ کے دوران ہندوستان اور سوویت یونین کے خصوصی تعلقات تھے یہاں تک کہ کچھ نقادوں نے کہا کہ ہندوستان سوویت بلاک کا ہی حصہ ہے۔ درحقیقت یہ ایک کثیر جہتی تعلق تھا:

معاشی: سوویت یونین نے ہندوستان کی پبلک سیکٹر کمپنیوں کی اس وقت مدد کی جب یہ مدد کہیں اور سے ملنی مشکل تھی۔اس نے ہندوستان کے پھلائی ، بوکارو، وشاکھاپٹنم کے اسٹیل پلانٹ اور اسی طرح مشینری پلانٹ جیسے بھارت ہیوی الیکٹریکل لمیٹڈ وغیرہ کے لیے بھی ٹیکنیکل مدد فراہم کی۔ جب ہندوستان کے پاس زرمبادلہ کی کمی تھی تب سوویت یونین نے تجارت کے لیے ہندوستانی کرنسی وصول کرنے کی منظور دی۔

سیاسی: اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر سوویت یونین نے ہندوستان کے موقف کی حمایت کی۔ اس نے ہمیشہ بڑے متنازعوں کے وقت ہندوستان کا ساتھ دیا خصوصاً 1971 کی پاکستان کے ساتھ جنگ میں۔ ہندوستان نے بھی سوویت یونین کی خارجہ پالیسی کی تائید کی اور نازک وقت میں بالواسطہ طور سے اس کی حمایت کی۔

فوجی: ہندوستان نے اپنازیادہ تر فوجی دھاتی مال یا پکا سامان سوویت یونین سے حاصل کیا وہ بھی ایسے وقت میں جب چند ہی ممالک اپنی فوجی ٹیکنالوجی دوسروں کو دینے کے لیے تیار تھے۔ سوویت یونین نے ہندوستان کے ساتھ کئی معاہدے کیے تاکہ وہ مشترکہ طور سے فوجی سامان بناسکیں۔

ثقافتی: ہندوستانی فلم اور ہندوستانی کلچر سوویت یونین میں کافی مقبول تھے۔ ہندوستانی فن کاروں اور ادیبوں کی ایک بڑی تعداد نے سوویت یونین کا دورہ کیا۔

روس اور ہندوستان دونوں کے سامنے ایک کثیر قطبی عالمی نظام کا تصوریکساں ہے۔ کثیر قطبی عالمی نظام سے ان کی مراد بین الاقوامی سطح پر کئی طاقتوں کا باہمی وجود ، اجتماعی تحفظ ( جس کی رو سے ایک ملک پر حملہ سب پر حملے کے مترادف ہو اور ایک اجتماعی دفاع کا ضامن ہو)، زیادہ علاقائیت ، بین الاقوامی مسائل پر گفت و شنید سے تصفیہ، تمام ممالک کے لیے آزادانہ خارجی پالیسی اور اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کی فیصلہ سازی کو زیادہ مضبوط ، طاقتور اور جمہوری بنایا جائے۔ ہندوستان اور روس کے درمیان تقریباً 80 سے زیادہ دو طرفہ معاہدوں پر دستخط ہوچکے ہیں جو کہIndo-Russian Strategic Agreement of 2001کا حصہ ہیں۔
ہندوستان اور روس کے تعلقات سے ہندوستان کو کشمیر، توانائی کے حصول، بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق اطلاعات کا تبادلہ، وسط ایشیا تک رسائی اور اس کے چین سے تعلقات کا توازن قائم رکھنے جیسے مسائل میںحاصل ہے۔ روس کو اس تعلق سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہندوستان روس کے اسلحہ کی فروخت کی دوسری سب سے بڑی منڈی ہے۔ ہندوستانی فوج اپنی ضرورت کا سارا دھاتی مال اور پکا سامان (Hardware) روس سے حاصل کرتی ہے۔ چوںکہ ہندوستان ایک تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اس لیے روس ہندوستان کے لیے اہمیت رکھتا ہے اورتیل کے بحرانی دورمیںاس نے ہندوستان کی بارہامدد کی ہے۔ ہندوستان عنقریب روس اورقزاقستان اور ترکمانستان کی ریاستوںسے توانائی کی درآمد بڑھادے گا۔ ان ریاستوں سے تعاون میں ساجھے داری اور تیل کے کنوئوں میں سرمایہ کاری بھی ہے۔ روس ہندوستان کی نیوکلیائی توانائی اسکیموں کے لیے بھی اہم ہے۔ اس نے ہندوستان کی خلائی انڈسٹری کو ضرورت کے وقت Cryogenic راکٹ دیے۔ روس اور ہندوستان نے کئی سائنسی منصوبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

مشقیں

سوویت معاشی صورت حال کو بیان کرنے والے مندرجہ ذیل جملوں میں سے کون سا غلط ہے؟
سماج واد نمایاں نظریہ تھا
پیداوار کے عناصر پر ریاست کا قبضہ تھا
عوام کو معاشی آزادی حاصل تھی
معاشیات کا ہر پہلو ریاست کے ذریعہ منصوبہ بند اور زیر حکم تھا۔
مندرجہ ذیل کو تاریخی اعتبار سے ترتیب دیجیے:
افغانستان پر سوویت حملہ
دیوار برلن کاسقوط
سوویت یونین کا انتشار
روسی انقلاب
مندرجہ ذیل میں سے کون سا سوویت یونین کے انتشار کا نتیجہ نہیں ہے؟
امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان نظریاتی جنگ کا خاتمہ
CIS کا ظہور
عالمی سطح پر توازنِ طاقت کے نظام میں تبدیلی
مشرق وسطیٰ کے بحران
مندرجہ ذیل کو ملائیے:
(i) میخائیل گورباچیف a USSR کا جانشیں
(ii) جھٹکے کا علاج b فوجی معاہدہ
(iii) روس c اصلاحات نافذ کیں
(iv) بورس یالسیں d معاشی نمونہ
(v) وارسا e روس کا صدر
خالی جگہیں پُر کیجیے:
سوویت سیاسی نظام ………… کے نظریہ پر مبنی تھا۔
…………… ایک فوجی اتحادتھا جسے سوویت یونین نے شروع کیا تھا۔
…………… پارٹی کا سوویت سیاسی نظام پر غلبہ رہا۔
d۔  ……………1985میں سوویت یونین میں اصلاحات شروع کیں۔
……………کا سقوط سرد جنگ کے خاتمہ کی علامت ہے۔
تین ایسی خصوصیات بیان کیجیے جو سوویت معیشت کو کسی سرمایہ دار ملک جیسے کہ امریکہ کی معیشت سے ممتاز کرتی ہو۔
وہ کیا عوامل تھے جنھوں نے گورباچیف کو سوویت یونین میں اصلاحات نافذ کرنے پر مجبور کیا؟
سوویت انتشار سے دوسرے ملکوں جیسے کہ ہندوستان پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟
صدمہ سے علاج کیا تھا؟ کیا یہ کمیونزم سے سرمایہ داری تک آنے کا بہترین راستہ تھا؟
10۔ مندرجہ ذیل موضوع کی موافقت یا مخالفت میں ایک مضمون لکھیے:
’’دوسری دنیا کے انتشار کے بعد ہندوستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیے اور امریکہ کے ساتھ دوستی پر زیادہ توجہ دینی چاہیے نہ کہ روایتی دوستی پر جیسے کہ سوویت یونین کے ساتھ ہے۔