باب 3
عالمی سیاست میں امریکہ کی بالادستی
اجمالی نظر
ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ سرد جنگ کے خاتمہ پر دنیا میں امریکہ کا کوئی رقیب باقی نہیں رہا ۔ اس کے بعد کے زمانے کوریاست ہائے متحدہ امریکہ کے غلبہ کا زمانہ یا ایک قطبی دنیا کہا جاتا ہے۔ اس باب میں ہم اس غلبہ کی نوعیت، وسعت اور حدود کا مطالعہ کریں گے۔ ہم نئے عالمی نظام کے نمود و فروغ کی کہانی بیان کریں گے ۔پہلی خلیجی جنگ سے لے کر، عراق پر امریکہ کی قیادت میں حملہ تک کا جائزہ لیںگے ۔ اس کے بعد ہم امریکی غلبہ کی نوعیت کو بالادستی کے تصور کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ امریکہ کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد امریکہ کی جانب ہندوستان کی پالیسی کی ترجیحات اور امکانی راہوں کا جائزہ لیں گے۔آخر میں یہ دیکھیں گے کہ کیا اس بالادستی کے سامنے کیا چیلنج ہیں اورآیا اس بالا دستی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
11ستمبر 2001 میں نیو یارک کے عالمی تجارتی مرکز کی جڑواں عمارتوں پر حملے کو عصری تاریخ میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
عائشہ، جابو اور آندرے
بغداد سے باہر ایک ہائی اسکول میں عائشہ کی پڑھائی بہت اچھی چل رہی تھی اور وہ یونیورسٹی میں ڈاکٹری پڑھنے کا پلان بنارہی تھی۔ 2003 میں جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک فضائی حملہ کی پناہ گاہ میں تھی اس کی ٹانگ ایک میزائل کی زد میں آگئی اور وہ ایک ٹانگ سے محروم ہوگئی۔ وہ اب پھر سے چلنا سیکھ رہی ہے، وہ اب بھی ڈاکٹر بننا چاہتی ہے لیکن تب ہی جب باہر سے آئی ہوئی فوجیں اس کے ملک کو چھوڑدیں۔
جابو ایک نوجوان باصلاحیت فن کار ہے جو ڈربن، جنوبی افریقہ میں رہتا ہے۔ اس کی مصوری روایتی قبائلی آرٹ سے بہت متاثر ہے ۔وہ ایک آرٹ اسکول میں داخلہ چاہتا ہے اور بعد میں خود اپنا اسٹوڈیو کھولنا چاہتا ہے۔ لیکن اس کے والد کے خیال میں اسے MBA کرنا چاہیے اورپھر خاندانی بزنس میں شرکت کرنی چاہیے۔ بزنس کی حالت اچھی نہیں ہے اور جابو کے والد کی رائے میں MBA کرنے کے بعد جابو بزنس کو منافع بخش بناسکتا ہے۔
آندرے بھی ایک نوجوان ہے جو پرتھ، آسٹریلیا میں رہتا ہے۔ اس کے والدین روس سے ہجرت کرکے یہاں آبسے ہیں۔ جب بھی آندرے نیلی جینز پہن کر کلیسا جاتا ہے تو اس کی ماں کو بہت غصہ آتا ہے،وہ چاہتی ہے کہ آندرے چرچ میں شریف نظر آئے۔ آندرے اپنی ماں کو بتاتا ہے کہ جینزاچھی لگتی ہیں اور ان میں وہ اپنے کو کھلا کھلا محسوس کرتا ہے۔ آندرے کا باپ اپنی بیوی کو یاد دلاتا ہے کہ جوانی میں لینن گراڈ میں وہ بھی جینز پہنتے تھے۔ اور کم و بیش انھیں اسباب کی و جہ سے جو اب ان کا بیٹا پیش کرتا ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ میں نے سائنس کے مضامین نہیں لیے ورنہ میں بھی امریکا کی قیادت کا ایک شکار ہوتا۔ کیا تم بتاسکتے ہو کیوں اور کیسے؟
آندرے کی اپنی ماں سے بحث ہوئی تھی۔ ممکن ہے کہ جابو وہ مضمون پڑھنے پر مجبور ہوجس میں اس کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے برعکس عائشہ اپنی ٹانگ سے تو محروم ہوگئی لیکن خوش قسمتی سے زندہ ہے۔ ان تینوں کے مسائل ہم ایک ہی طرح سے کیسے بیان کرسکتے ہیں۔ لیکن ہمیں ایسا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہم اس باب میں دیکھیں گے، یہ تینوں کسی نہ کسی طرح امریکہ کی بالادستی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہم عائشہ، جابو اور اندرے سے پھر ملاقات کریں گے۔ پہلے ہم امریکہ کی بالادستی کی شروعات اور آج کی دنیا میں اس کے طریقۂ کار کو سمجھ لیں۔
اس کے بعد ہم ریاست ہائے متحدہ کے لیے زیادہ مقبول لفظ ’امریکہ‘ استعمال کریں گے۔ یہ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے کو یہ یاددلاتے رہیں کہ لفظ امریکہ کے دراصل معنی دو براعظموں، شمالی اور جنوبی امریکہ کے ہیں۔ لہٰدا محض یونائیٹڈ اسٹیٹس کے لیے لفظ امریکہ کا استعمال خود اس کے بالادستی کی نشانی ہے اور یہی ہمارا موضوع ہے۔
نئے عالمی نظام کی ابتدا
سوویت یونین کے اچانک انتشار نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایک عظیم طاقت ختم ہوگئی لیکن دوسری اپنی تمام توانائیوں اور صلاحیتو ں کے ساتھ جوں کی توں رہی بلکہ اس کی طاقت میں مزید اضافہ ہی ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ کیبالادستی 1991 میں اس وقت ظاہر ہوئی جب بین الاقوامی منظر سے سوویت یونین غائب ہوگیا۔ یہ بات بہت بڑی حد تک صحیح ہے لیکن اس سلسلے میں ہمیں اس سے وابستہ دونکتوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔ پہلے تو یہ، جیسا کہ ہم اس باب میں دیکھیں گے کہ امریکہ کی بالادستی کے کچھ پہلو 1991 میں نہیں ابھرے بلکہ درحقیقت وہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ یعنی 1945 میں ہی سامنے آگئے تھے۔ دوسرے یہ کہ امریکہ نے فوراً 1991 سے ہی ایک واحد عالمی طاقت کی طرح سے برتائو نہیں شروع کردیا تھا۔ بلکہ یہ احساس دنیا کو کافی بعد میں ہوا کہ وہ ’بالادستی ‘ کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ یہ بالادستی کس طرح قائم ہوئی اس کو ہمیں بہت قریب سے دیکھنا ہوگا۔
ٹوٹی پھوٹی اور جلی ہوئی گاڑیوں کی یہ تصویر پہلی خلیجی جنگ کے دوران فروری 1991 میں لی گئی تھی۔ یہ کویت سے بصرہ جاتی ہوئی سڑک ’موت کی شاہراہ‘ کی تصویر ہے جس پر واپس ہوتی ہوئی عراقی افواج پر امریکی جہازوں نے بمباری کی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بمباری دانستہ کی گئی تھی حالانکہ عراقی فوجیں بھاگ رہی تھیں اور لڑائی کی صورتِ حال سے الگ عراقی سپاہی ایک ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے تھے۔ اس بمباری کے شکار کویتی قیدی اور یرغمالی اور فلسطینی پناہ گزین بنے۔ اکثر مشاہدین نے اس کو ایک ’جنگی جرم‘ کہا ہے اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا ہے۔
اگست 1990 میں عراق نے کویت پر حملہ کردیا اور بہت تیزی سے اس پر قبضہ کرتا چلا گیا اور بعد میں کویت کا الحاق خود سے کرلیا۔ جب عراق کو کویت سے ہٹانے کی سب سفارتی کوششیں ناکام ہوگئیں تو اقوام متحدہ نے کویت کی آزادی کے لیے قوت کا استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ سرد جنگ کے برسوں کے تعطل کے بعد اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ بہت ڈرامائی تھا۔ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے اس کا خیر مقدم ’ایک نئے عالمی نظام کا ظہور ‘ کہہ کرکیا۔
34 ممالک سے اکٹھی کی ہوئی 6,60,000 کی تعدادمیں زبردست فوج نے مل کر عراق کے خلاف جنگ چھیڑی اور اس کو شکست دے دی۔ یہ ’خلیج کی پہلی جنگ‘ کہلاتی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کا یہ حملہ جس کو ’طوفان دشت کی مہم‘ (Operation Desert Storm) کا نام دیا گیا تھاد رحقیقت زیادہ تر امریکی تھا۔ اقوام متحدہ کی فوجوں کی کمان ایک امریکی جنرل نارمن شوازکوف کے ہاتھوں میں تھی اور تقریباً 75 فیصد افواج ریاست ہائے متحدہ سے لی گئی تھیں۔ حالانکہ عراق کے صدر صدام حسین نے اس جنگ کو ’تمام جنگوں کی ماں‘کہا تھا لیکن عراقی فوجوں کی جلد ہی پسپائی ہوگئی اور ان کوکویت سے واپس ہونا پڑا۔
پہلی خلیجی جنگ نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور باقیممالک کے درمیان ٹکنالوجی کی صلاحیت میں فاصلے کو اچھی طرح سے واضح کردیا۔خوب تشہیر شدہ نام نہاد ’اسمارٹ بم‘ کی و جہ سے ،جو امریکہ نے اس جنگ میں استعمال کیے ، کچھ مبصرین نے اس کو ’کمپیوٹر کی جنگ‘ کہا۔ وسیع پیمانے پر ٹیلی ویژن پر دکھانے کی و جہ سے اس کو ’ویڈیو گیم کی جنگ‘ بھی کہا گیا۔ اپنے اپنے آرام دہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے ساری دنیا کے لوگوں نے عراقی افواج کی تباہی و بربادی کو دیکھا۔
ناقابل یقین طورپر اس جنگ سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے فائدہ اٹھایا۔بہت سی رپورٹوں کے مطابق ، جرمنی ، جاپان اور سعودی عرب سے جتنا پیسہ اس جنگ کے لیے امریکہ کو ملا اس سے کم خرچ ہوا۔
کیا یہ صحیح ہے کہ ریاست ہائے متحدہ نے آج تک کوئی جنگ اپنی سرزمین پر نہیں لڑی ہے کیا اس سے ریاست ہائے متحدہ کے کسی بھی فوجی تنازعہ میں کود پڑنا آسان نہیں ہوجاتاہے۔
کلنٹن کادور
پہلی خلیجی جنگ کی فتح کے باوجود جارج ڈبلیو بش 1992 کا امریکی صدارتی الیکشن ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار ولیم جیفر من (بل) کلنٹن سے ہار گئے جنھوںنے اپنی الیکشن کی مہم میں بجائے خارجہ پالیسی کے داخلی معاملات کو مسئلہ بنایا ۔ بل کلنٹن 1996 میں پھر الیکشن جیتے اور اس طرح وہ آٹھ سال تک امریکا کے صدر رہے۔ کلنٹن کے دورِ اقتدار میں کئی بار یہ محسوس ہوا کہ امریکہ اپنے داخلی معاملات میں زیادہ ملوث ہے اور اس کو دنیا کے سیاسی مسائل میں زیادہ دلچسپی نہیں رہ گئی ہے۔ خارجہ پالیسی میں کلنٹن حکومت نرم مسائل‘ جیسے جمہوریت کا فروغ ‘ ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی تجارت کی جانب زیادہ متوجہ تھی بہ نسبت فوجی طاقت اور تحفظ جیسے سخت مسائل کے۔
اس کے باوجود بھی خود کلنٹن کے زمانے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی ہے۔ جن میں سب سے زیادہ نمایاں واقعہ 1999 میں پیش آیا۔ جو یوگوسلاویہ کی ان حرکتوں کے جواب میں تھا جو اس نے اپنے البانی آبادی والے صوبہ کوسوو (Kosove)میں جاری کر رکھی تھیں۔ NATO کی افواج جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت کر رہی تھیں، دو ماہ تک یوگوسلاویہ کے نزدیکی ٹھکانوں پر بمباری کرتی رہیں۔ نتیجہ کے طور پر سلوباداں ملوزووچ کی حکومت گرگئی اور NATO افواج کو سووو میں رہیں۔
ایک اور اہم فوجی قدم جو کلنٹن کے زمانے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اٹھایا وہ نیروبی، کینیا اور دارالسلام، تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بمباری کے جواب میں 1998 میں تھا۔ ان بمباریوں کو القاعدہ سے منسوب کیا گیا جو ایک دہشت گرد تنظیم تھی اوراسلامی نظریات سے متاثر تھی۔ ان بمباریوں کے کچھ ہی دن بعد صدر کلنٹن نے Operation Infinite Reach کا حکم دے دیا۔ یہ القاعدہ دہشت گردوں کے افغانستان اور سوڈان کے ٹھکانوں پر بمباری تھا۔ اس معاملہ میں امریکہ نے نہ تواقوام متحدہ کی اجازت کی پرواہ کی اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کا لحاظ کیا۔ یہ کہا گیا کہ کچھ نشانے دراصل شہری مقامات تھے اور ان کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ماضی پر نظر ڈالیے تو یہ صرف شروعات تھی۔
9/11 اور دہشت گردی کے خلاف عالم گیرجنگ
11؍ستمبر2001کو عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے 19ہائی جیکرز نے 4امریکی تجارتی طیاروں پر ان کے اڑان بھرتے ہی قبضہ کرلیا اور ان کو لے جاکر امریکہ کی اہم عمارتوں سے ٹکرادیا۔ ایک ایک طیارہ عالمی تجارتی مرکز کے شمالی اور جنوبی ٹاور سے ٹکرایا۔ تیسرا طیارہ آرلنگٹن، ورجنیا میں پینٹاگن(Pentagon) کی عمارت سے ٹکرایا جہاںریاست ہائے متحدہ امریکہ کے محکمہ دفاع کا صدر دفتر ہے۔ چوتھا طیارہ ،جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی منزل امریکہ کی کانگریس کیپیٹل بلڈنگ تھی، پنسلوینیا (Pensylvania) کی ایک وادی میں گرکر تباہ ہوگیا۔ یہ حملے ’’9/11‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں (امریکہ میں طریقہ یہ ہے کہ مہینے کا نام یا نمبر پہلے لکھتے ہیں اس کے بعد تاریخ، اس لیے مختصراً اس کو 9/11 لکھتے ہیں بجائے 11/9 کے جیسا کہ ہم ہندوستان میں لکھتے ہیں)
یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ سری لنکا پیرس پر اس لیے میزائل چھوڑدے کیونکہ اس کو کچھ LTTE جنگجوئوں کے وہاں چھپے ہونے کا شبہ ہے؟
اس حملہ میں تقریباً تین ہزار لوگ مارے گئے۔ اس حملے نے امریکیوں کو جو صدمہ پہنچا یا،یااس سے جو جھٹکا لگا اس کا موازنہ 1814 کی واشنگٹن ڈی سی کی برطانوی آتش زنی یا 1941 میں پرل ہاربر پر جاپان کے حملے سے کیا جاسکتا ہے۔جانی نقصان کے اعتبا ر سے 9/11 ریاست ہائے متحدہ کے 1776 میں وجود میں آنے کے بعد اس کی سرزمین پر سب سے بڑا حملہ تھا۔
9/11 نیویارک ٹائمز نے دوسری صبح یہ خبر کس طرح پیش کی ، اس کی تصویر
فرض کیجیے کہ آپ امریکی وزیر خارجہ ہیں ۔اس صورت میں آپ ایک پریس کانفرنس میں ان کارٹونوں کے متعلق کیا رد عمل دکھائیں گے؟
9/11 پرریاست ہائے متحدہ کا رد عمل تیز اور سفّاک تھا۔ ریاست ہائے متحدہ کی کرسی ٔ صدارت اب بل کلنٹن کے بجائے ریپبلیکن پارٹی کے جارج ڈبلیو بش نے ، جو سابق صدر جارج ایچ۔ڈبلیوبش کے صاحب زادے تھے،نیسنبھالی۔ کلنٹن کے برعکس بش امریکی مفادات اور ان کو حاصل کرنے کے ذرائع کے بارے میں زیادہ سخت تھے۔ دہشت گردی کے خلاف عالم گیرجنگ کے منصوبے کے تحت امریکہ نے پائیدار آزادی کی مہم بالخصوص القاعدہ اور افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف چھیڑدی۔طالبان کی حکومت کو آسانی سے اکھاڑ پھینکا گیا لیکن طالبان اورالقاعدہ کا بچا کچا حصہ پھر بھی دم دار رہا جیسا کہ مغربی ٹھکانوں پر ان کے دہشت گرد حملوں کی تعداد سے ظاہر ہوتا ہے۔
امریکہ کی فوجوں نے دنیا بھر میں گرفتاریاں کیں اور قیدیوں کو ان کے ممالک سے باہر لاکر خفیہ قید خانوں میں رکھا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر گرفتار ہونے والوں کی حکومتوں کو خبر نہ تھی کہ کیا ہورہا ہے۔ ان میں سے کچھ کو Guantanamo Bay لایا گیا۔یہ کیوبامیںامریکہ کا ایک بحری اڈہ ہے جہاں قیدیوں کو نہ تو بین الاقوامی قانون،نہ اپنے ملک کے قانون اور نہ ہی امریکہ کے قانون کی سہولتیں حاصل تھیں۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے افسران بھی ان قیدیوں سے نہیں مل سکتے تھے۔
عراق پر حملہ
19؍مارچ 2003 کو امریکہ نے خفیہ ’ آپریشن آزادیِ عراق‘ (Operation Iraqi Freedom) کے تحت عراق پر حملہ کردیا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں چالیس سے زیادہ ملکوں نے Coalition of the willingیعنی ’رضامندوں کا مخلوط اتحاد ‘کے نام سے جماعت بنائی جب کہ اقوام متحدہ نے اس حملہ کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس حملے کے لیے ایک بنائوٹی بہانہ یہ تھا کہ عراق کو بڑی تباہی کے ہتھیاروں (Weapons of Mas Destruction WMD)کو جمع کرنے سے روکنا ہے۔ کیونکہ عراق میں WMDکا کوئی ثبوت نہیں ملا،لہذا یہی سمجھا گیا کہ اس حملے کے اصل محرکات کچھ اور تھے جیسے کہ عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ اورامریکہ کی پٹھو حکومت کا قیام۔
اگرچہ صدام حسین کی حکومت جلد ہی گرگئی لیکن امریکہ کی حکومت عراق کو ’زیر‘ نہیں کرسکی۔ عراق میں پورے پیمانے پر امریکہ کے قبضے کے خلاف بغاوت شروع ہوگی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے تقریباً تین ہزار فوجیوں نے جان سے ہاتھ دھوئے لیکن عراقیوں کی اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق حملے کے بعد سے اب تک 50,000 عراقی مارے جاچکے ہیں۔ اور اب یہ مانا جاتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ کی قیادت میں ہونے والا یہ حملہ سیاسی اور فوجی ناکامی تھی۔
آئیے اسے کریں
سرد جنگ کے بعد کے ان تنازعات کی فہرست بنائیں جن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے مخدوش کردار ادا کیا۔
بالادستی کا کیا مطلب ہے؟
سیاست، طاقت کے گرد گھومتی ہے ۔ جس طرح سے افراد طاقت حاصل کرکے اس کو باقی رکھنا چاہتے ہیں اسی طرح سے گروپ بھی طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کو باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ عالمی سیاست میں بھی کچھ ممالک یا ممالک کے گروپ ہر وقت طاقت ور بننے اور پھر اس طاقت کو اپنے پاس رکھنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ طاقت فوجی غلبہ، معاشی قوت، سیاسی اثر اور ثقافتی برتری کی شکل میں ہوتی ہے۔
عنوان: ’’ریاست ہائے متحدہ کے انگوٹھے کے نیچے‘‘۔ ہمیں عام فہم معنوں میں سرداری کا مطلب سمجھاتا ہے۔ کارٹون امریکی داداگیری کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ کارٹون بنانے والا دنیا کے کس حصے کی بات کرتا ہے؟
بالادستی جیسے مشکل الفاظ کیوں استعمال کیے جائیں ؟ میرے شہر میں لوگ اسے دادا گیری کہتے ہیں۔ کیا یہ بہتر لفظ نہیں ہے؟
لہٰذا اگر ہمیں دنیا کی سیاست کو سمجھنا ہے تو یہ لازمی ہے کہ ہم دنیا کے ممالک کے درمیان طاقت کی تقسیم کو سمجھیں ۔ مثال کے طور پر سرد جنگ (1945-91) کے زمانے میں طاقت مختلف ممالک کے دو گروپوں میں بٹی ہوئی تھی اورعالمی سیاست میں دونوں گروہوں کی نمائندگی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین کرتے تھے۔ سوویت یونین کے انتشار کے بعد دنیا میں ایک ہی طاقت رہ گئی۔ یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ۔ کبھی کبھی جب بین الاقوامی نظام میں صرف ایک ہی عظیم طاقت کا غلبہ ہو تو اس صورت ِحال کو ’ایک قطبی‘ نظام کہا جاتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ علم طبیعیات سے آئے ہوئے لفظ ’’قطب‘‘ کے استعمال سے زیادہ انصاف نہیں ہورہا ہے۔ لہٰذا یہ زیادہ مناسب ہوگا کہ ایک ایسا بین الاقوامی نظام جس میں طاقت صرف ایک مرکز پر سمٹ آئی ہو اس کو قیادت،بالادستی کی اصطلاح دی جائے۔
Hegemonyیا قیادت کیا ہے ہمیں اس بارے میں تین مختلف رائیں ملتی ہیں۔ ہم ان میں سے تینوں کا جائزہ لیں گے اوربالادستی،کے معنی کو ہم عصر سیاست سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ایک بے رحم اور صبر آزما طاقت کے طور پر
لفظ Hegemony کا ماخذ کلاسیکی یونانی زبان سے ہے اور اس لفظ کا مطلب ہے کہ کسی ایک ریاست کی برتری یا رہنمائی۔ اور سب سے پہلے اس کا استعمال یونان کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں ایتھنز (Athens) کی فوقیت اور برتری کے لیے ہوا۔ لہٰذا قیادت کے اوّلین معنی ریاستوں کے درمیان تعلقات، ان کی فوجی صلاحیتوں کے درمیان توازن اور انداز کے ہیں۔ اس معنی میں فوجی برتری کا تصور موجودہ صورتِ حال میں بین الاقوامی سیاست میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حیثیت مقررکرتا ہے۔ کیا آپ کو عائشہ یاد ہے جس نے امریکی میزائل حملے میں اپنی ایک ٹانگ کھودی تھی۔ یہ زبردست طاقت والی قیادت (Hard Power Hegemony) ہے جس نے عائشہ کو ٹانگ سے تو محروم کردیا لیکن ہمت و حوصلہ سے نہیں۔
ریاست ہائے متحدہ کی تمام قوت کا انحصار اس کی فوج کی بے پناہ برتری پر ہے۔ آج امریکا کا یہ فوجی تسلط اور غلبہ مکمل بھی ہے اور نسبتاً بہت زیادہ ہے۔ جہاں تکمکمل ہونے کا سوال ہے تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پاس وہ فوجی صلاحتیں موجود ہیں کہ اس سیارے پر جس وقت اور جب اور جتنے وقت میں چاہیں تباہی کے لیے پہنچ سکتے ہیں اور دشمن کو اپاہج بناسکتے ہیں جب کہ خود اس کی اپنی افواج جنگ کے خطروں سے زیادہ سے زیادہ اور محفوظ سے محفوظ ترین جگہوںمیں رہتی ہیں۔
لیکن اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کوئی دوسری ریاست ریاست ہائے متحدہ کی ان صلاحیتوں کو چھوکر بھی نہیں گزری۔ اپنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے ریاست ہائے متحدہ، اپنے سے نچلی 12 ریاستوں کے مجموعی دفاعی اخراجات ، سے زیادہ خرچ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ پینٹگن (Pentagon)یعنی امریکی محکمہ دفاع کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ فوجی تحقیق و ترقی میں چلاجاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ٹکنالوجی میں۔ اس کا مطلب ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا فوجی غلبہ محض فوجی اخراجات کا مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس کے اور دوسری ریاستوں کی ٹیکنالوجی اور کوالٹی میں جو فاصلہ اور فرق ہے فی الحال اس کو کوئی طاقت نہیں پاٹ سکتی۔
دنیا کی زیادہ تر افواج اپنے عمل کے دائرے کو مختلف ’’کمانڈ‘‘ میں تقسیم کرتی ہیں جو کہ مختلف کمانڈر کی زیر نگرانی ہوتے ہیں۔ اس نقشہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی پانچ ’کمانڈ‘ کے علاقے دکھائے گئے ہیں۔ یہ دکھاتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ کی کمانڈ کے علاقے صرف ریاست ہائے متحدہ تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں یہ نقشہ ہمیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی فوجی طاقت کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
آج کل ریاست ہائے متحدہ اپنے سے نچلی 12 ریاستوں کے مجموعی دفاعی اخراجات سے زیادہ خرچ کرتی ہے۔ جیسا کہ تم دیکھو گے کہ فوج پر زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک ریاست ہائے متحدہ کے دوست اور حلیف ہیں۔ لہٰذا طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی فی الحال ممکن نہیں۔
اس میں شک نہیں کہ عراق پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے حملے نے خود اسی کے کئی کمزور پہلو نمایاں کردیے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کسی طرح بھی عراقی عوام کو اس کی اپنی قیادت کے اتحادی فوجوں کو تسلیم کرنے پر مجبورنہیں کرسکی۔ لیکن امریکی کمزوری کی نوعیت کوصحیح طورپرسمجھنے کے لیے ہمیں تاریخی شعور کی ضرورت ہوگی۔ ماضی میں استعماری طاقتوں نے صرف چار مقاصد کے حصول کے لئے فوجی طاقت کا استعمال کیا:فتوحات، دفاع، تعزیری کارروائی اور ضبط و نظم کا قیام۔ عراقی حملے نے یہ ثابت کردیاکہ اول دو کاموں میں ریاست ہائے متحدہ کی صلاحیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ریاست ہائے متحدہ کی افواج نے جہاں کمزوری دکھائی ہے ، وہ ایک مقبوضہ علاقے میں نظم و ضبط کا قیام ہے۔
بالادستی ایک ساختی قوت کی حیثیت سے
(Hegemony as Structural Power)
بالادستی کے متعلق دوسری رائے پہلی رائے سے بالکل مختلف ہے۔ یہ رائے دنیا کی معیشت کی ایک مخصوص سمجھ سے ابھرتی ہے۔ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ دنیا میں آزاد معیشت اپنی تخلیق اوراپنے وجودکے لیے ایک عظیم قوت چاہتی ہے۔ جس کے پاس نظم کے کچھ عناصر قائم کرنے اور انھیں برقرار رکھنے کے لیے ارادہ اور صلاحیت دونوں موجود ہوں۔ قائد یہ کام عام طور سے اپنے فائدے کے لیے کرتا ہے لیکن، نقصان کے ساتھ بھی کیونکہ اس سے مقابلہ کرنے والے عالمی معیشت کی کشادگی کا فائدہ تو اٹھاتے ہیں لیکن اس کی برقراری کے لیے جو قیمت چکانی پڑتی ہے وہ نہیں چکاتے۔
بالادستی (Hegemony)اپنے دوسرے معنی میں امریکہ کے اس کردار میں دیکھی جاسکتی ہے جووہ عالمی پیمانے پر عوامی اشیابہم پہنچانے میں کرتا ہے۔عوامی اشیا یا Public Goodsسے ہماری مراد اس سامان سے ہے جو ایک شخص کسی دوسرے شخص کے لیے دستیاب سامان کو کم کیے بغیر استعمال کرتا ہے۔ تازہ ہوا اور سڑکیں عوامی اشیا کی مثالیں ہیں۔ عالمی معیشت کے پس منظر میں عوامی اشیا کی سب سے بہتر مثالیں مواصلات کے بحری قوانین (Sea-Laws of Communication) (SLOCs) ہیں یعنی وہ سمندری راستے جو تجارتی جہازوں کے استعمال میں رہتے ہیں۔ ایک کشادہ عالمی معیشت میںآزادانہ تجارت ان قوانینکے بغیر ناممکن ہے۔بالادست ملک کی بحری قوت ہی بحری قانون اور جہازوں کی بیمہ سازی وغیرہ کا کام کرتی ہے اور بین الاقوامی سمندروں میں سب کے لیے جہاز رانی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کی بحری طاقت کے زوال کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے یہ کردار ادا کیا۔
یہ ملک اتنادولت مند کیسے ہوسکتا ہے؟ میں تو یہاں اتنے غریب آدمیوں کو دیکھتی ہوں، ان میں زیادہ تر غیر سفید فام ہیں۔
عوامی سامان کی دوسری مثال انٹر نیٹ Internet ہے۔ اگرچہ اس کو عالمی ویب World Wide Web یعنی wwwکی دنیا کو ممکن بنانے والے کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انٹر نیٹ جو 1950میں شروع ہوئی ایک ریاست ہائے متحدہ فوج کی تحقیق کا براہ راست نتیجہ ہے۔ آج بھی انٹرنیٹ عالمی نیٹ ورک جن سیاروں پرمنحصرہے ان میں زیادہ تر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ملکیت ہیں۔
امریکی معیشت دنیا میں سب سے بڑی ہے۔ لیکن فوجی میدان کے برعکس اس کو یہاں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات زیادہ واضح ہوجائے گی اگر ہم Purchasing Power Parity(PPP) کے اصول پر عالمی معیشت پر غور کریں جیسے کہ مندرجہ بالا گرافک میں ہے۔ PPP سے مراد وہ سامان اور خدمات ہیں جو کسی ملک کو اس کی کرنسی کے عوض ملتی ہیں۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ دنیا میں ہر جگہ اور ہر معیشت اور ٹکنالوجی کے میدان میں موجود ہے دنیا کی معیشت میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا حصہ 28 فی صدہے ، جو کہ بہت بڑا حصہ ہے ۔
اگرعالمی تجارت کے اعداد و شمار میں ، یوروپ میں ہونے والی تجارت کو بھی ملادیا جائے تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا عالمی تجارت میں حصہ 15 فی صدہوجاتا ہے۔ دنیا کی معیشت کا کوئی بھی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں کوئی ایک امریکن کمپنی کا نام، چوٹی کی تین کمپنیوں میں نہ ہو۔
یہ یاد رکھنا بھی اہم ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا معاشی تسلط اس کی تعمیری قوت سے جدا نہیں کیاجاسکتا جو کہ دراصل عالمی معیشت کو کوئی بھی شکل دینے کی قوت ہے۔ آخر کار دوسری عالمی جنگ کے بعد Bretton Woodsکا جو نظام ریاست ہائے متحدہ نے بنایا وہ اب بھی دنیا کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ مانا جاتا ہے۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) امریکی قیادت کی ہی پیداوار ہیں۔
اگر میں نے سائنس کے مضامین کو اختیار کیا ہوتا تو مجھے میڈیکل اور انجینرنگ کالج کے داخلہ کے امتحان میں بیٹھنا پڑتا۔ اس کا مطلب بہت سارے لوگوں سے مقابلہ جو ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہتے ہیں تاکہ ریاست ہائے متحدہ جاسکیں۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تعمیری قوت کی ایک مستند مثال ایک تعلیمی ڈگری ہے جس کو Master's in Business Administration (MBA) کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ کہ تجارت ایک پیشہ یا فن ہے جس میں مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور جو کہ ایک یونیورسٹی میں سکھائی جاسکتی ہے، خالص امریکی نظریہ ہے۔ دنیا کا سب سے پہلا بزنس اسکول یا کالج امریکہ کی یونیورسٹی آف پنسلوینیا میں 1881ء میں قائم ہوا۔ MBA کا اولین نصاب 1900کے آس پاس اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے باہر 1950 میں شروع کیا گیا۔ آج دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں ہے جہاں MBAایک باوقار ڈگری نہ مانی جاتی ہو۔ اور یہ حقیقت ہمیں اپنے جنوبی افریقی دوست جابو کی طرف لے جاتی ہے۔ تعمیری قیادت یہ واضح کردیتی ہے کہ جابو کا باپ یہ اصرار کیوں کررہا ہے کہ اس کا بیٹا پینٹنگ چھوڑ کر MBA میں داخلہ لے۔
بالادستی ایک نرم طاقت کے طور پر
(Hegemony as Soft Power)
اگر ہم امریکی قیادت کو صرف فوجی اور معاشی طاقت کی طرح دیکھیں اور اس کی نظریاتی اور ثقافتی جہتوں پر غور نہ کریں تو یہ بڑی غلطی ہوگی۔ قیادت کے اس تیسرے نظریے کا پہلو دراصل رائے سازی کی اہلیتہے۔ اس کا مطلب ہے کسی طبقے کی سماجی، سیاسی اور خصوصاً نظریاتی میدان میں فوقیت اور برتری کا حصول۔ یہ بالادستی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ایک غالب طبقہ یا ملک ایک مغلوب طبقہ کی رضا مندی یا موافقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مغلوب طبقے کی دنیا کو ایسی نظر سے دیکھنے کے لیے قائل کرلیتا ہے جو غالب طبقہ کے لیے فائدے مند ہو۔ لہٰذا اگر اس نظریہ کی تطبیق عالمی سیاست سے کی جائے توبالادستیکے نظریے (hegemony) سے مراد ایک حاوی قوت،نہ صرف فوجی طاقت بلکہ نظریاتی ذرائع بھی، استعمال کرتی ہیں اور وہ چھوٹی قوتیں جو ان کے مقابل ہوں ان کی کردار سازی پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انھیںاپنے فائدے کے لیے استعمال کرتی ہیں خصوصاً اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے کہ ان کاغلبہ برقرار رہے۔ لہٰذا دوسرے الفاظ میںرضامندی یا اتفاق جبر و زبردستی کے ساتھ ساتھ تو چلتا ہے لیکن اکثر اس سے زیادہ موثر ہوتا ہے۔
آج دنیا میں ریاست ہائے متحدہ کی فوقیت فوجی طاقت اور معاشی مضبوطی کی و جہ سے ہی نہیں بلکہ ہر جگہ اس کی تہذیبی رسائی اور موجودگی میں بھی مضمر ہے۔ اور خواہ ہم تسلیم کریں یا نہ کریں حقیقت یہی ہے کہ بہتر زندگی اور انفرادی کامیابی کے تصورات، اور دنیا بھر کے سماجوں اور افراد کے خواب اُسی طرز زندگی سے نکلے ہیں جو بیسویں صدی کی امریکہ میں رائج ہیں۔ امریکہ اس وقت دنیا کی سب سیگمرہ کن اور سب سے زیادہ حاوی تہذیب ہے۔ اسی صلاحیت کو ’نرم طاقت‘لکھتے ہیں یعنی جبر کے بجائے ترغیب کی صلاحیت رفتہ رفتہ ہمیں اس کی عادت ہوجاتی ہے اور ہمیں اس کا خیال بھی نہیں آتا کہبالادستی ہم پر کہاں تک اثر انداز ہورہی ہے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم اپنے گرد پرندوں، دریائوں اور درختوں کو دیکھتے ہیں لیکن احساس نہیں ہوتا۔
یہ عجیب بات ہے ۔ میں جب اپنے لیے جینز خریدتی ہوں تو مجھے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا خیال بھی نہیں آتا۔ تو پھر میں کیسے ریاست ہائے متحدہ کی بالادستی کا شکار ہوسکتی ہوں؟
یہ تینوں تصویریں انڈونیشیا میں جکارتاکی ہیں۔ ہر تصویر میں وہ چیزیں تلاش کیجیے جو ریاست ہائے متحدہ کی بالادستی کی علامتیں ہوں۔ کیا آپ اسکول سے گھر کی واپسی کے راستے میں بھی ایسی علامتوں کی نشاندہی کرسکتے ہیں؟
تم یقینا آندرے اور اس کی Cool نیلی جینز کو نہیں بھولے ہوگے۔ جب اس کے والدین سوویت یونین میں جوان عمر کے تھے تو ان کی نسل کے لیے یہی نیلی جینز آزادی کی نشانی تھی۔ نوجوان مرد اور عورتیں کالے بازار میں باہر کے سیاحوں سے نیلی جینز خریدنے کے لیے اپنی ایک سال کی تنخواہ خرچ کردیتے تھے۔جیسے بھی ہوا لیکن حقیقت یہی ہے کہ سوویت یونین کی ایک پوری نسل کے لیے نیلی جینز اُس بہتر زندگی کی تمنائوں کی نمائندہ تھی جو ان کے اپنے ملک میں میسر نہیں تھی۔
سرد جنگ کے زمانے میں ریاست ہائے متحدہ کے لیے زبردست طاقت (Hard Power) کے میدان میں سوویت یونین کے اوپر فتح پانا مشکل کام تھا۔ لیکن اس نے تعمیری قوت اور نرم قوت (Structural and soft power) کے میدان میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کیں۔اگرچہ سوویت یونین کی مرکزی منصوبہ بند معیشت میں دنیا کے لیے ایک متبادل تھا لیکن سرد جنگ کے زمانے میں سرمایہ دارانہ معیشت ہی دنیا پر چھائی رہی۔ لیکن ’نرم طاقت‘ہی وہ میدان تھا جہاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو اصل فتح نصیب ہوئی۔ نیلی جینز کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک ثقافتی ایجاد کی مدد سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے سوویت یونین کے معاشرہ میں دو نسلوں کے درمیان تفریق پیدا کردی۔
امریکی طاقت پر بندشیں
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سلطنتوں کا زوال ان کی اپنی اندرونی کمزوریوں کے سبب ہوتا ہے۔ اسی طرح امریکی بالادستی پر سب سے زیادہ دبائو خود امریکی قیادت کے مرکز میں موجود ہیںہم امریکی قیادت پر تین دبائو کی نشان دہی کرسکتے ہیں۔ان تینوںدبائو میں سے کوئی بھی بندش یا دبائو ’’9/11 ‘‘ کے بعد کے سالوں میں متحرک نظر نہیں آتا۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تینوں دبائو پھر سے سرگرم ہورہے ہیں۔
سب سے پہلی بندش یادبائو خود ریاست ہائے متحدہ کے نظام کی ساخت ہے۔حکومت کی تین شاخوں (مقننہ ، منتظمہ اور عدلیہ) کے درمیان تقسیم اختیارات کی و جہ سے امریکی انتظامیہ کی فوج کی بے بندش اور غیر معتدل استعمال پر پابندی لگتی ہے۔
یہ دونوں تصویریں American Friends Service Committee کی ترتیب دی ہوئی ایک نمائش سے جس کا موضوع ’عراقی جنگ کی انسانی قیمت‘ تھا اور جو ڈیموکریٹک پارٹی کے 2004 کے قومی کنونشن میں دکھائی گئی تھی، سے لی گئی ہے۔ اس قسم کے مظاہرے کس حد تک حکومت پر بندشیں لگاسکتے ہیں؟
امریکی طاقت پر دوسری بندش داخلی نوعیت کیہے اورامریکی معاشرہ کی بے تعصبی اور وسیع النظری سے جنم لیتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کا عوامی میڈیا وقتاً فوقتاً کسی مسئلے پر کوئی خاص نقطئہ نظر حاوی کرنے یا متعارف کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے سیاسی ماحول میں حکومت کے مقاصد اور طریقۂ کار کے بارے میں عوام کے درمیان بہت گہرے شکوک و شبہات جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ ایک طویل مدت کے بعد یہ عنصر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی باہرکی فوجی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر ایک زبردست بندش کا کام کرتا ہے۔
لیکن دراصل تیسرا دباؤ امریکن طاقت پر سب سے بڑی بندشہے۔ بین الاقوامی سطح پر آج صرف ایک تنظیم ایسی ہے جو ریاست ہائے متحدہ کی طاقت کے استعمال کو اعتدال کے اندر لاسکتی ہے اور وہ ہے North Atlantic Treaty Organisation (NATO)۔ ظاہر ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ان جمہوری طاقتوں سے جو آزادانہ تجارت جاری رکھنا چاہتے ہیں، اتحاد و اتفاق سے بہت مفادات وابستہ ہیں اور اسی لیے یہ ممکن ہے کہ NATO کے حلیف ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بالادستی کے عمل کو اعتدال میں لائیں گے۔
ہندوستان اور ریاست ہائے متحدہ کے تعلقات
سرد جنگ کے دوران ہندوستان ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مقابل دوسری جانب کھڑا ہوا تھا۔ اس زمانے میں ہندوستان کا سب سے قریبی دوست سوویت یونین تھا۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد یکایک ہندوستان نے خود کو ایک مخالف بین الاقوامی ماحول میں تنہا پایا۔ بہرحال یہی وہ وقت تھا جب ہندوستان نے اپنی معیشت کو آزادبنانے اور عالمی معیشت سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان کی یہ پالیسی موجودہ برسوں میں اور اس کی حیرت انگیز طور پر بڑھتی ہو معاشی ترقی نے کئی ملکوں کو، جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے، ہندوستان جیسا ایک فائدے مند کاروبار ی ساتھی ملا۔
یہ بھی اہم ہے کہ ہم ان دو عناصر کو جو پچھلے چند سالوں سے ظہور میں آئے ہیں ہندوستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے تعلقات کی بحث میں نظر انداز نہ کریں ۔ ان عناصر کا تعلق ٹیکنالوجی اور ہندوستانی نژاد غیر مقیم امریکی یا پردیسی ہندوستانی تھے۔ درحقیقت یہ دونوں عناصر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ مندرجہ ذیل نکتوں پر غور کیجیے۔
¤ ہندوستان سوفٹ ویر (soft wear) کی کل پیداوار کا 65فیصد حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے درآمد کرتا ہے۔
¤ بوئنگ کمپنی کا 35 فیصدتکنیکی عملہ ہندوستانی نژاد ہے۔
¤ سلیکن وادی Silicon Valley میں تین لاکھ ہندوستانی کام کرتے ہیں۔
¤ اعلیٰ ٹکنالوجی کا 15 فیصد ہندوستانی Startup کے ہاتھوں میں ہے۔
جیسے ہی میں یہ کہتا ہوں کہ میں ہندوستان سے ہوں، وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا میں ایک کمپیوٹرانجینئرہوں۔ یہ اچھا لگتا ہے۔
آئیے اسے کریں
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان گزشتہ دنوں ہوئے سول نیوکلیر معاہدہ سے متعلق مضامین اور خبروں کے تراشے جمع کرو۔ اس معاہدے کے مخالفین اور موافقین کے نقطئہ نظر کاخلاصہ کرکے لکھو۔
دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس عالم گیر بالادستی کے دور میں اس کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے کس قسم کے تعلقات رکھنے ہیں۔ انتخاب اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے متعلق حکمت عملی اختیار کرنے کے بارے میں تین امکانات کے ارد گرد بحث ہورہی ہے۔
¤ وہ ہندوستانی تجزیہ نگار جو بین الاقوامی سیاست کو فوجی طاقت کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں، ہندوستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے خوف زدہ ہیں۔ ان کے خیال میں ہندوستان کو واشنگٹن سے اپنی دوری برقرار رکھنی چاہیے اور خود اپنی مکمل قومی طاقت کی ترقی پر نظر رکھنی چاہیے۔
¤ دوسرے تجزیہ نگار ہندوستان اور ریاست ہائے متحدہ کے درمیان بڑھتے ہوئے آپسی مفادات کو ایک تاریخی موقعہ سمجھتے ہیں۔ وہ ایک ایسی حکمت عملی کی وکالت کرتے ہیں جو ہندوستان کوامریکہ کی بالادستی کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کا موقعہ فراہم کرے اور یہ متفقہ ذہنی میلان ہندوستان کے لیے بہتر راستہ (option) پیدا کرے۔ ان کے خیال میں امریکہ کی مخالفت طویل مدت میںہندوستان کے مفادات کو مجرو ح کرے گی۔
¤ تجزیہ نگاروں کے ایک گروپ کا یہ ماننا ہے کہ ہندوستان کو ترقی پذیر ممالک کا ایک الگ اتحاد بنانا چاہیے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اشتراک زیادہ مضبوط ہوجائے گا اور ممکن ہے کہ موجودہ قیادت اس کے طور طریقے درست کرانے میں کامیاب ہوجائے۔
ہندوستان اور ریاست ہائے متحدہ کے تعلقات شاید اتنے پیچیدہ ہیں کہ ایک حکمت عملی ان کا احاطہ نہیں کرسکتی ہے۔ دراصل ہندوستان کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے تعلقات نبھانے اور قائم رکھنے کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں کئی قسم کی حکمت عملیکاامتزاج ہے۔
ہندوستان–امریکہ تعلقات پر لوک سبھا میں بحث
نیچے، ہندوستان اور ریاست ہائے متحدہ کے درمیان نیوکلیائی توانائی کے معاہدے پرلوک سبھا میں بحث کے دوران وزیر اعظم اور دو اپوزیشن رہنمائوں نے جو تقریریں کیں ان سے اقتباسات درج ہے۔ کیایہ تینوں اقتباسات ان تینوں طرز فکر سے مطابقت رکھتے ہیں جو اس باب میں بیان کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ، کانگریس
’’محترم ، میں بہت ادب کے ساتھ اس جلیل القدر ایوان سے گزارش کروں گا کہ وہ ہندوستان کی جانب دنیا کے بدلتے ہوئے مزاج کو تسلیم کریں۔ اس کہنے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ طاقت کی سیاست اب قصۂ پارینہ بن چکی۔ یا اب کوئی ہمارے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا۔ ہم تمام موجود خطروں سے اپنا تحفظ کریں گے۔ لیکن یہ بہت بڑی غلطی ہوگی اگر ہم افق پر طلوع ہوئے مواقع کا فائدہ نہ اٹھاسکیں۔ میں پوری نیک نیتی سے یہ یقین رکھتا ہوں کہ یہ ہمارے ملک کے حق میں ہے کہ بڑی طاقتوں سے اس کے تعلقات استوار ہوں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم ریاست ہائے متحدہ سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ ایک ممتاز عظیم قوت ہے‘‘
شری باسودیب اچاریہ، سی پی آئی (ایم)
’’آزادی سے لے کر ہم ایک آزاد خارجہ پالیسی پر عمل کرتے رہے کیونکہ یہ ہمارے قومی مفاد میں تھا۔ لیکن ہم نے ایران اور عراق کے سلسلے میں کیا دیکھا؟ ہم نے دیکھا کہ جولائی کے بیان کے بعد ، اور جس وقت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میںووٹنگ ہورہی تھی، ہم ریاست ہائے متحدہ کے دوش بدوش کھڑے تھے۔ ہم نے ریاست ہائے متحدہ اور P5 کی پیش کردہ قراردادوں کی حمایت کی۔ اور یہ اس سے پہلے متوقع نہیں تھا۔ جب ہم ایران سے ، براہ پاکستان، گیس لانے کی کوش کررہے تھے جس کی ہمیں ضرورت تھی تو ہم نے ایران سے متعلق امریکہ کے موقف کی حمایت کی۔ وہاں پر ہماری آزادانہ خارجہ پالیسی متاثر ہوئی ہے۔‘‘
میجر جنرل (سبکدوش) بی۔سی۔ کھنڈوری، بی جے پی
’’خواہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آج کی ایک قطبی دنیا میں صرف ریاست ہائے متحدہ ہی ایک عظیم طاقت ہے۔ لیکن ساتھ میں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خود ہندوستان ایک عالمی طاقت بلکہ عظیم طاقت کے روپ میں ابھر رہا ہے۔ لہٰذا ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر ریاست ہائے متحدہ سے ہمارے تعلقات اچھے ہونے چاہئیں، لیکن یہ ہماری سالمیت اور تحفظ کی قیمت پر نہ ہو۔‘‘
بالادستی) Hegemony (پر قابو کیسے پایا جاسکتا ہے؟
یہ بالادستی آخرکب تک جاری رہے گی؟ ہم اس بالا دستی سے کب نجات پائیں گے؟یہی ہمارے دور کے اہم سوال ہیں۔ تاریخ ہمیں اس کا جواب ڈھونڈنے کے کچھ دلفریب اشارے دیتی ہے۔ لیکن حال اور مستقبل میں کیا ہوگا؟ بین الاقوامی سیاست میں کسی بھی ملک کی فوجی مشقوں کو کم کرنے کے لیے رسمی طور سے بہت کم عناصر کام کرتے ہیں۔ ایک ملک کی حکومت کی طرح کوئی عالمی حکومت نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم چھٹے باب میں دیکھیں گے، بین الاقوامی تنظیم بین الاقوامی حکومت نہیں ہیں۔ لہٰذا بین الاقوامی سیاست دراصل ’’حکومت کے بغیر سیاست ‘‘ہے۔ہاں کچھ اصول اور معیار ضرور موجود ہیں وہ جنگ کو محدود تو کرتے ہیں لیکن جنگ سے منع نہیں کرتے ۔ اور نہ ہی اس سے روکتے ہیں لیکن بہت کم ملک ایسے ہوں گے جو اپنا تحفظ صرف بین الاقوامی قانون کے حوالے کردیں۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ اور بالادستی سے چھٹکارا نہیں ہو سکتا؟
مختصراً ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ کہیں بھی کوئی واحد طاقت ایسی نہیں ہے جو فوجی اعتبار سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قریب بھی آسکے۔ چین، ہندوستان اور روس وہ ممالک ہیں جو مجموعی طور سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کے آپسی اختلافات ایسا نہیں کرنے دیںگے۔ لہٰذا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بالادستی کے خلاف کوئی فوجی اتحاد بھی نہیں ہوسکتا۔
کچھ لوگوں کی دلیل ہے کہ دانش مندی اسی حکمت عملی میںہے کہ بالادستی کے اس نظام نے جو مواقع فراہم کیے ہیں ان کا فائدہ اٹھایا جائے۔ مثال کے طور پر ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے زیادہ سے زیادہ تجارت ، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور جو بالادست کی مخالفت کے بجائے اس کے ساتھ کام کرنے میں حاصل ہوں گے۔ لہٰذا یہی بہتر ہوگاکہ قیادت کی مخالفت کرنے کے بجائے ان فوائد کو حاصل کیا جائے جو بالادستی نظام میں رہنے اور عمل کرنے سے ملیں گے۔ اس کو کارواں کی حکمت عملی کہتے ہیں (یا لگے کی پالیسی کہہ سکتے ہیں)
سام ، تمہارے پندرہ منٹ تقریباً ختم ہوچکے ہیں۔
تمہارے خیال میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کتنی مدت تک عظیم طاقت بنی رہے گی، اگرآپ کو ایسی تصویر بنانی ہوتو آپ کس ملک کو انتظار کرتے ہوئے دکھائیں گے؟
ایک اور حکمت عملی جس پر ریاستیں عمل کرسکتی ہیں ’چھپنے‘ یا آنکھ مچولی کی پالیسی ہے۔ اس سے مراد ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے قائد طاقت سے زیادہ سے زیادہ بے تعلق رہاجائے۔ چین، روس اور یوروپی یونین کے ممالک اس طرز عمل کی بہترین مثال ہیں جو غیر ضروری طور سے منظرعام پر نہیں آتیں اور نہ ہی خوامخواہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو مخالفت پر اکساتی ہیں۔لیکن یہ طرز عمل دوسری صف کی بڑی طاقتوں کے لیے دیر پا نہیں ہوسکتا۔ چھوٹے ممالک کے لیے یہ ایک دیرپا اور پُرکشش پالیسی ہوسکتی ہے لیکن یہ تصور کرنا کہ چین، ہندوستان اور روس جیسی بڑی طاقتیں یا یورپین یونین جیسی مضبوط تنظیمیں ایک طویل مدت تک یہ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل سکتے ہیںممکن نہیں ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی بالادستی کی مزاحمت دوسری ریاستیں نہیں کرسکتیں، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ آج کے دور میں وہ مزاحمت کرنے سے قاصر ہیں، بلکہ یہ مزاحمت غیر ریاستی اداروں سے ابھرے گی۔ امریکی بالادستی کو اس مزاحمت کا سامنا معاشی اور تہذیبی محاذوں پر کرنا ہوگا۔ اور یہ مزاحمت غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) ، سماجی تحریکوں اور رائے عامہ کے ذریعے ہوگی۔ اور اس میں میڈیاکے حصے اوردانشور، فن کار اور ادیب شریک ہوں گے۔ اس عمل میں شامل یہ کردار قومی سرحدوں سے دور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں تاکہ امریکی پالیسیوں کو تنقیدکا نشانہ بنایا جائے اور ان کی مزاحمت کی جائے۔ اس عمل میں خود امریکیوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
آپ نے شاید سنا ہوگا کہ اب ہم ایک ’عالمی گائوں‘ میں رہتے ہیں۔ اور اس عالمی گائوں میں ہم سب گائوں کے چودھری کے پڑوسی ہیں۔ اگر چودھری کا برتائو برداشت کی حد سے باہر نکل جائے تو ہم گائوں چھوڑ کر تو نہیں جائیں گے کیونکہ ہماری دنیا تو یہی گائوں ہے۔ تو صرف مزاحمت کا راستہ ہی باقی رہتا ہے۔
مجھے تو یہ سب کچھ جلن اور حسد کا نتیجہ لگتا ہے۔ آخر ریاست ہائے متحدہ کی بالادستی میں کیا پریشانی ہے؟ صرف اس لیے کہ ہم وہاں پیدا نہیں ہوئے؟ یا کوئی اور بات ہے ؟
آئیے مل جل کریں
اقدام
¤ طلبا کو دنیا کے سیاسی، جغرافیائی علاقوں میں ریاست ہائے متحدہ کے فائدے کے نقطئہ نظر سے تقسیم کریں۔ (وسطی امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ، یوروپ، سابقہ سوویت یونین، جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا) بعد میں آپ طلباکو سرد جنگ کے بعد والے دور کے متنازعہ علاقوں میں، جس میں ریاست ہائے متحدہ ملوث تھا، تقسیم کرسکتے ہیں (جیسے افغانستان، عراق، اسرائیل، فلسطین یا کوسوو یا کوئی اور موجودہ متنازعہ جو یہ مضمون پڑھاتے وقت چل رہاہو)
¤ طلبا کو اوپر دیے ہوئے علاقوں کے نمبر کے اعتبار سے پھر سے برابر تعداد کے گروپ میں تقسیم کریں۔ ہر گروپ کو ان واقعات کا ایک ریکارڈ بنانا ہے جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اس علاقے میں عمل دخل سے واقع ہوئے۔ یہ فائل اس علاقے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے فائدے کو مد نظر رکھے۔ اس کی کارروائیاں اور وہاں کے عوام کی اس کے متعلق رائے کو بھی ریکارڈ کرے۔ طلباکو اجازت ہے کہ وہ کسی بھی ذریعہ سے حاصل کی ہوئی تصویریں اور کارٹون کو حاصل کرکے پیش کرسکتے ہیں۔
¤ ہر گروپ اپنی واقعات کی فائل کلاس کے سامنے پیش کرے گا۔
استاد کے لیے تجاویز:
* طلباکی تیار کردہ فائل کی معلومات کو پس منظر بناکر، استاد ایک بار پھر سے ان علاقوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مداخلت پر تبصرہ کریں کہ آیایہ مداخلت اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق تھی یا نہیں۔
* طلباکو علاقے کے مستقبل یا بیس سال پہلے کے تنازعہ پر غور کرنے کی دعوت دیجیے آخر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بالادستی کب تک قائم رہے گی؟ اس علاقے میں دوسری اور کون سی طاقت ہے جو اس کی قیادت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
بالادستی کے متعلق تاریخ ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
توازنِ طاقت کے نظریہ کو سامنے رکھتے ہوئے،بالادستی (hegemony) بین الاقوامی معاملات میں ایک غیر معمولی صورتِ حال ہے۔اور اس کا سبب سیدھا سادا ہے ۔ کسی عالمی حکومت کی عدم موجودگی میں، ہر ریاست اپنے تحفظ ، بلکہ خراب حالات میں اپنی بقاکے لیے خود ذمہ دار ہے۔ لہٰذاتمام ریاستیں بین الاقوامی سیاسی نظام میں طاقت کی تقسیم سے واقف ہیں، اور عام طورپروہ کسی واحد ریاست کو اتنا طاقت ور بننے کی اجازت نہیں دیں گی کہ وہ دوسری ریاستوں کے وجود کے لیے ایک خطرہ بن جائے۔
بین الاقوامی سیاست میں توازنِ طاقت کا نظریہ، جو اوپر بیان کیا گیاہے، تاریخ سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ 1648 وہ سال ہے جب ایک مقتدراور مخصوص و متعین حدود رکھنے والی ریاست عالمی سیاست میں ایک اہم کردار کی حیثیت سے ظاہر ہوئی ۔ اس کے ساڑھے تین سو سال کے بعد تک صرف دو مثالیں ایسی ملتی ہیں جب کوئی ایک ریاست ایسا غلبہ حاصل کرے، جو آج کی دنیا میں امریکہ کا ہے۔ پہلی مثال یوروپی براعظم کی سیاست کے پس منظر میں 1660 سے لے کر 1713 تک کے فرانس کی ہے۔ اور بالادستی کی دوسری مثال برطانیہ ہے جو 1860 سے 1910 تک دنیا پر بحری حکمرانی کرتا تھا۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بالادستی اپنے نقطئہ عروج پر بہت مضبوط اور ناقابلِ شکست دکھائی دیتی ہے لیکن یہ ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ اس کے برعکس توازنِ طاقت کی پالیسی وقتاً فوقتاً قائد یا سردار کی طاقت کم کرتی رہتی ہے۔ 1660میں شہنشاہ لوئی چہاردہم کے زمانے میں فرانس کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن 1713 میں برطانیہ، بیس برگ آسٹریا اور روس فرانس کی طاقت کو چیلنج کررہے تھے۔ 1860 میں ، جو کہ وکٹورین عہد کا نقطئہ عروج ہے، پر امن برطانیہ ہمیشہ کے لیے محفوظ نظر آتا تھا۔ 1910 میں یہ واضح ہوگیا تھا کہ جرمنی، جاپان اور امریکہ، برطانوی طاقت کے دعوے دار بن کر ابھر رہے ہیں۔ تو یہ ممکن ہے آج سے بیس سال بعد کوئی اور عظیم طاقت ، یا عظیم طاقتوں کا ایک اتحاد وجود میں آئے اور اسی وقت امریکہ کی صلاحیتوں اور اہلیت کو زنگ لگ رہا ہو۔
(کرسٹوفر لیون کے ایک مضمون پر مبنی : ’’ایک قطبیت کا فریب نظر: نئی عظیم طاقتیں کیوں ابھریں گی)
مشقیں
1۔ مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیان بالادستی کے بارے میں غلط ہے؟
(a) اس لفظ سے مراد ایک ریاست کا تسلط اور غلبہ ہے۔
(b) یہ قدیم یونان میں Athens کے غلبہ کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
(c) وہ ریاست جوبالادستی کررہی ہے بے پناہ فوجی قوت کی مالک ہوگی۔
(d) بالادست کی جگہ متعین اور جامد ہے۔ ایک بار ہونے کا مطلب ہمیشہ کے لیے قائد ہوناہے۔
2۔موجودہ عالمی نظام کے بارے میں نیچے دیے ہوئے جملوں میں کون سا غلط ہے؟
(a) عالمی حکومت کی عدم موجودگی کسی ریاست کے طرز عمل کو منضبط بناسکتی ہے۔
(b) عالمی معاملات میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا کردار سب سے زیادہ نمایاں ہے۔
(c) ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف طاقت کا استعمال کررہی ہیں۔
(d) وہ ریاستیں جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں، اقوام متحدہ ان کو سخت سزا دیتی ہے۔
3۔عراق کو آزاد کرانے کی مہم(Operation Iraqi Freedom) کے متعلق کون سا بیان غلط ہے؟
(a) ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی زیر قیادت چالیس سے زیادہ ملکوں نے ہم خیال ملکوں کا ایک اتحاد عراق پر حملے کے لیے بنایا ۔
(b) عراق پر حملے کا سبب یہ بتایا گیا تھا کہ اس کو عظیم تباہی کے ہتھیار (WMD) بنانے سے روکا جاسکے۔
(c) یہ اقدام اقوام متحدہ کی منظوری کے بعد کیاگیا۔
(d) ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے فوجی اتحاد کو عراقی افواج سے زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
4۔ اس باب میں جن تین قسم کی بالادستی کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے ہر ایک کی ایک ایک مثال دیں۔ کتاب میں دی ہوئی مثالوں کو دوبارہ نہ پیش کیجیے۔
5۔ وہ کون سے تین پہلو ہیں جن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا طرز عمل سرد جنگ میں ایک عظیم طاقت کی حیثیت سے اور اس کے بعد دنیا میں اس کے غلبہ سے مختلف ہے
6۔ مندرجہ ذیل کی جوڑی بنائیے
(i) لامحدود تحقیق کی مہم(Operation Infinite Research)
(ii) پائدار آزادی کی مہم(Operation Enduring Freedom)
(iii) مہم طوفان ریگستان(Operation Desert Storm)
(iv) عراق کی آزادی کی مہم(Operation Iraq Freedom)
(a)القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ
(b) ہم خیالوں کا اتحاد
(c) سوڈان پر میزائل کا حملہ
(d) پہلی خلیجی جنگ
7۔ آج کل امریکی بالادستی پر کون سے دبائو ہیں؟آپ کے خیال میں ان میں سے کون مستقبل میں زیادہ اہم ہوگا؟
8۔ اس باب میں ہندوستان ۔امریکہ کے مابین ایک معاہدہ پر لوک سبھا میں ہوئی بحث کے تینوں اقتباسات کو پڑھیے اور ان میں سے کسی ایک نقطئہ نظر کوہند–امریکی تعلقات کی مخصوص صورتِ حال کا دفاع کرتے ہوئے مضمون کی شکل میں پیش کیجیے۔
9۔ ’’اگر بڑی اور باوسائل ریاستیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بالادستی کی مزاحمت نہیں کرسکتیں تو چھوٹے اور کمزور غیر ریاستی اداروں سے بھی یہ توقع فضول ہے‘‘۔اس قول کا تجزیہ کیجیے اور اپنی رائے پیش کیجیے۔