
باب 4
طاقت کے متبادل مراکز
اجمالی نظر
1990 کی دہائی کے
شروع میں دو قطبی ڈھانچہ کے خاتمہ نے یہ بات واضح کردی کہ سیاسی اور معاشی طاقت کے متبادل مرکز ہی امریکی غلبہ پر روک لگا سکتے ہیں۔ اس طرح سے یوروپ میں یوروپین یونین اور ایشیا میں آسیان Association of South East Asian Nations(ASEAN) دو طاقتیں ابھریں جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان دونوں نے اپنے اپنے علاقوں کی تاریخی کمزوریوں اور ان کے حل کے ساتھ ساتھ ایسے ادارے اور روایات بنانے میں بھی حصہ لیا جو علاقے میں ایک زیادہ پر امن نظام میں مددگار ثابت ہوئے۔ اور علاقے کے ملکوں میں معاشی خوش حالی اور ترقی آئی ۔ چین کی ڈرامائی معاشی ترقی نے دنیا کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس باب میں ہم طاقت کے ابھرتے ہوئے متبادل مرکزوں پر نظر ڈالیں گے اور اس بارے میں ان کے ممکنہ کردار کا جائزہ لیں گے۔
اوپردی ہوئی دو تصویریں چین کی تاریخ کے دو مرحلوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ سرخ پوسٹر کا عنوان ہے ’’سماجی راستہ ہی وسیع ترین ہے‘‘۔ اور یہ اس نظریہ کی نمائندگی کرتا ہے جنھوں نے انقلاب کے بعد والے زمانے میں چین کی رہنمائی کی ۔ دوسری تصویر شنگھائی شہر کی ہے جو چین کی جدید معاشی طاقت کی علامت ہے۔
یوروپین یونین
دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ پر بہت سے یوروپی رہنما ’یوروپ کے سوال سے دست وگریباں تھے۔ سوال یہ تھا کہ کیایوروپ اپنی پرانی حریفانہ کشمکشوں کی جانب واپس لوٹ جائے یا بین الاقوامی تعلقات کے مثبت تصور کو مضبوط کرنے والے اداروں اور اصولوں پر اس کی نئی تشکیل ہو۔جن مفروضوں اور ڈھانچوں پر یوروپی ممالک کے آپسی تعلقات منحصر تھے ان میں سے اکثر دوسری عالمی جنگ کے ساتھ پاش پاش ہوگئے۔ 1945 میں یوروپی ممالک نے نہ صرف ایک تباہ شدہ معیشت کا سامنا کیا بلکہ وہ مفروضے اور ڈھانچے جن پر یوروپ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور جو اب ٹوٹ کر بکھرگئے تھے ان کے سامنے تھے۔
یوروپین یونین کا جھنڈا
سنہرے ستاروں کا دائرہ یوروپی عوام کے درمیان اتحاد و یگانگت کی علامت ہے۔ اس میں بارہ ستارے ہیں۔ بارہ کا عدد روایتی طور سے تکمیل اور اتحاد و اتفاق کی نشانی مانا جاتا ہے۔
ماخذ:http://europa .eu/abc/symbols/emblem/ind ex-en.htm
1945 کے بعد سرد جنگ نے یوروپ کے اتحاد میں اہم کردار ادا کیا۔’مارشل پلان ‘ کے تحت امریکہ نے یوروپی ممالک کو بے پناہ مالی امداد دی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے NATO کی شکل میں ایک اجتماعی دفاعی ڈھانچہ بھی تیار کیا۔ مارشل پلان کے تحت 1948 میں تنظیم برائے یوروپی معاشی تعاون (Organisation for European Economic Cooperation (OEEC) کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد مغربی یوروپی ریاستوں کو مدد پہنچانے میں ایک ’ذریعہ‘کا کام کرنا تھا۔ یہ ایک ایسا اسٹیج بن گیا جہاں مغربی یوروپی ممالک ایک دوسرے سے تجارت و معیشت کے معاملات میں تعاون کرتے تھے۔ سیاسی معاملات میں تعاون کے لیے 1949 میں یوروپین کونسل کا قیام بھی ایک اہم قدم تھا۔ یوروپ کے سرمایہ دارانہ ممالک کا معاشی اتحاد رفتہ رفتہ عمل میں آیا (دیکھو یوروپ کے اتحاد کا نقشہ تاریخ) جس کا نتیجہ آخرکار 1957 میں یوروپین اکونومک کمیونٹی یا یوروپی معاشی برادری کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یوروپین پارلیمنٹ کے وجود میں آجانے سے اس عمل نے ایک سیاسی جہت اختیار کرلی۔سوویت یونین کے زوال نے یوروپ کو تیز رفتاری کے راستہ پر لاکھڑا کیا اور 1992 میں یوروپین یونین کے ظہور کا سبب یہی تیز رفتاری تھی۔ اس طرح سے ایک مشترکہ خارجہ اور تحفظ کی پالیسی ، داخلی معاملات اور قانون کے نفاذ کی پالیسی کی بنیاد پڑی۔ اور ایک مشترکہ کرنسی (Currency) کا تصور ابھرا۔
زمانے کے ساتھ ساتھ یوروپین یونین ایک معاشی تنظیم کے دائرے سے باہر نکل کر ایک پروان چڑھتی ہوئی سیاسی تنظیم بن گئی۔ بلکہ یوروپین یونین اب ایک خود مختار ریاست(Nation State) کی حیثیت سے زیادہ سرگرمعمل ہے۔ اگرچہ یوروپین یونین کے لیے ایک مشترک دستور کی کوششیں بارآور نہ ہوسکیں لیکن پھر بھی اس کا اپنا جھنڈا، ترانہ، یومِ تاسیس اور کرنسی ہے۔ اور دوسرے ممالک سے تعلقات کے سلسلے میں اس کے پاس ایک ادھوری سی خارجہ اور تحفظ کی پالیسی کا نقشہ بھی موجود ہے۔نئے ممبروں کی شمولیت کے ذریعہ یوروپین یونین نے اپنا دائرۂ کار اور دائرۂ تعاون بھی بڑھانے کی کوشش کی ہے خصوصاً سابق سوویت بلاک کے ممالک کوشامل کرکے۔ لیکن یہ عمل آسان نہیں ہے۔ اس لیے کہ زیادہ تر ملکوں کے عوام اپنی حکومتوں کے اقتدار اور قوت کو یوروپین یونین کے ہاتھ میں دینے کے لیے زیادہ پر جوش نہیں ہیں۔ اور یوروپین یونین میں نئے ممالک کی شرکت کے مسئلے پر بھی کافی محتاط رحجان ہے۔
اوہ! اب میں سمجھی کہ شین جین ویزا (Shengen Visa) کا کیا مطلب ہے۔ شین جین معاہدے کے تحت اگر تم کو یوروپین یونین کے ایک ممبر ملک کا ویزا مل جاتا ہے تو تم یوروپین یونین کے اکثر ممالک میں داخل ہوسکتے ہو۔
یوروپین یونین معاشی، سیاسی، سفارتی اور فوجی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ یوروپین یونین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ 2005 میں اس کا GDP بارہ کھرب ڈالر تھا جو کہ ریاست ہائے متحدہ سے تھوڑا سا زیادہ تھا۔ اس کی کرنسی یورو (Euro) ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ڈالر کے غلبہ کے لیے ایک خطرہ بن سکتا ہے۔ دنیا کی تجارت میں اس کا حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے حصے سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس اضافہ کی و جہ سے چین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان تجارتی تنازعات میں یہ فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کی معاشی طاقت کی و جہ سے اس کے پڑوسی ممالک بھی اس کے زیر اثر رہتے ہیں اور ساتھ میں ایشیا اور افریقہ بھی۔ اور یہ دنیا کی بین الاقوامی معاشی تنظیموں میں جیسے ’عالمی تجارت کا مرکز (World Trade Centre (WTO) میں اہم بلاک کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔
یوروپی انضمام کا تاریخی نقشہ
اپریل 1951 :چھ مغربی یوروپی ممالک فرانس، مغربی جرمنی، اٹلی ، بلجیم، نیدر لینڈ اور لگزمبرگ نے معاہدۂ پیرس پر دستخط کیے جس کے نتیجے میں European Coal and Steel Community(ECSC) کا قیام عمل میں آیا۔
25مارچ 1957 :ان ہی چھ ممالک نے مزید دو معاہدوں کے ذریعے جن کو روم کے معاہدے کہا جاتا ہے ، یوروپی معاشی برادری European Economic Community (EEC) اور یوروپی نیوکلیائی توانائی برادری Europan Atomic Energy Community (Euratom) کا قیام عمل میں آیا۔
جنوری 1973 : ڈنمارک ، آئر لینڈ اور برطانیہ یوروپین کمیونٹی میں شامل ہوئے۔
جنوری 1981 :یونان یوروپین کمیونٹی میںشامل ہوا۔
جون 1979 : یوروپی پالیمنٹ کے لیے پہلی بار براہ راست انتخابات ہوئے۔
جون 1985 : شینجین معاہدے کے تحت یوروپی کیونٹی کے ممبر ممالک کے درمیان سرحدی پابندیاں ختم کردی گئیں۔
جنوری 1986 : اسپین اور پرتگال یوروپی کمیونٹی میں شامل ہوئے۔
اکتوبر 1990 : جرمنی کا اتحاد۔
7فروری 1992 :معاہدہ ماسٹرچٹ کے ذریعے یوروپین یونین کا قیام عمل میں آیا۔
جنوری 1993 : ایک مارکیٹ کی تخلیق۔
جنوری 1995 : یوروپین یونین میں آسٹریا، فن لینڈ اور سوئیڈن بھی شامل ہوئے۔
جنوری 2002 : بارہ یوروپین یونین کے ممبروں نے نئی کرنسی یورو (Euro) اختیار کی۔
مئی 2004 : قبرص، عوامی جمہوریہ چک، اسٹونیا، ہنگری، لیسٹویا، لیتھوینیا، مالٹا، پولینڈ ، سلواکیہ اور سلوینیا نے یوروپین یونین میں شمولیت کی۔
جنوری 2007 : بلغاریہ اور رومانیہ بھی یوروپین یونین میں شامل ہوئے۔ سلوینیا نے بھی یورو (Euro) اختیار کیا۔
یوروپین یونین کا سیاسی و سفارتی اثر ہے۔ برطانیہ اور فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی غیر دائمی یعنی عارضی رکنیت والے سلامتی کونسل کے ممبر بھی اس میں شامل ہیں۔ اس صورتِ حال میں یوروپین یونین نے اپنا اثر ریاست ہائے متحدہ کی اس موجودہ پالیسی پر استعمال کیا جو اس نے ایران کے نیوکلیائی توانائی کے پروگرام کے بارے میں اختیار کی ہے۔ یوروپین یونین نے جبر و زبردستی کے بجائے سفارتی ، معاشی سرمایہ کاری اور گفت و شنید کا رویہ اپنایا جو کارگر ثابت ہوا۔ یہی طرز عمل انسانی حقوق اور ماحولیاتی انحطاط کے بارے میں چین کی روش کے سلسلے میں اختیار کیا گیا۔
فوجی اعتبار سے یوروپین یونین کی فوجیں دنیا کی دوسری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ اس کے کل دفاعی اخراجات صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بعد آتے ہیں۔ یوروپین یونین کے دو اہم ممبرفرانس اور برطانیہ، نیوکلیائی ذخیروں کے مالک ہیں اور کم و بیش 550 جنگی ہتھیاروں (war heads) سے لیس ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا خلائی اور مواصلاتی ٹکنالوجی کا ذریعہ ہے۔
یہ کارٹون 2003 میں اس وقت سامنے آیا جب یوروپین یونین کی ایک مشترکہ دستور بنانے کے بارے میں تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ کارٹونسٹ نے یوروپین یونین کی نمائندگی کے لیے ’’ٹائی ٹینک‘‘ جہاز کو کیوں استعمال کیاہے؟
قومی سطح سے بلند تنظیم ہونے کی حیثیت سے یوروپین یونین معاشی ، سیاسی اور سماجی مسائل میں مداخلت کی اہلیت رکھتیہے۔ لیکن پھر بھی ایسے کئی مقامات اور مسائل ہیں جہاں یوروپین یونین کے ممبر ممالک اپنی الگ دفاعی پالیسی اور خارجی تعلقات رکھتے ہیں جو اکثر ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ کا وزیر اعظم ٹونی بلیر عراق کے حملے میں امریکہ کا ساتھی تھا یا یوروپین یونین کے اکثر نئے ممبر ’ہم خیال اور ہم ارادہ اتحادمیں‘ جس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں تھی،شامل تھے جب کہ فرانس اور جرمنی مستقل امریکی پالیسی کے خلاف تھے۔ پھر ایک پہلو ہے یوروپی تشکیک (Eurospepticism) کا جس کی جڑیں بہت گہری ہیںاور یہ خاص طور سے ’یوروپی اجتماعیت‘ کے پروگرام کے گرد گھومتا ہے۔ اسی لیے برطانیہ کی سابق وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے برطانیہ کو ’یوروپین مارکیٹ ‘ سے دور رکھا۔ ڈنمارک اور سوئیڈن نے ماسٹر چٹ معاہدہ اور euroکو اختیار کرنے کی مزاحمت کی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یوروپین یونین کے ممبر ممالک کے خارجی اور دفاعی معاملات میں عمل دخل پر زد پڑتی ہے۔
ذرا سوچو اگر یوروپین یونین کی ایک فٹ بال ٹیم ہوتی تو کیا ہوتا؟
جنوبی مشرقی ایشیائی قوموں کی تنظیم(ASEAN)
دنیا کے سیاسی نقشے پر نظر ڈالیں تو کون سے ممالک آپ کو ایشیا کے جنوب مشرقی علاقے میں نظر آئیں گے؟ دوسری عالمی جنگ سے پہلے اور اس کے درمیان اس علاقے کو متعدد بار، یوروپین اور جاپانی نوآبادیاتی تسلط کے نتائج بھگتنے پڑے ہیں۔ جنگ کے خاتمہ کے بعد اس علاقے کو غریبی کی ہولناکیاں، معاشی پسماندگی اور قومی تعمیر کے مسائل کے ساتھ ساتھ اس دبائو کا سامنا بھی کرنا پڑا جو سرد جنگ کے زمانے کا طرّۂ امتیاز تھا یعنی دو بلاکوں (امریکہ اور سوویت یونین) میں سے کسی ایک کے ساتھ ممبر ہونا۔ یہ نسخہ ایک دوسرے سے اختلاف کے لیے کافی تھا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک یہ بوجھ سہنے کے لائق نہیں تھے۔بنڈونگ کانفرنس اور ناوابستہ تحریک وہ کوششیں تھیں جن کے ذریعہ ایشیائی اور تیسری دنیا کے اتحاد کا خواب دیکھا گیا تھا۔ لیکن باہمی تعاون اور غیر رسمی تال میل قائم کرنے میں یہ کوششیں بھی غیرموثر ثابت ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک نے ایک متبادل تنظیم Association for South East Asian Nations (ASEAN) کے نام سے قائم کی۔
بشکریہ : ٹیکساس یونیورسٹی لائبریری ،یونیورسٹی آف ٹیکساس آف آسٹن
آئیے اسے کریں
ASEAN علاقائی فورم (ARF) کے کون کون سے ممالک ممبر ہیں؟
جنوبی مشرقی ایشیا کے علاقے کے پانچ ملکوں یعنی انڈونیشیا، ملائیشیا ، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ نے بنکاک قرار داد کے ذریعہ 1967 میں ASEANکے قیام کا اعلان کیا۔ آسیان (ASEAN) کے مقاصد میں بنیادی طور سے تو معاشی ترقی شامل تھی لیکن پھر اُسی کے وسیلے سے معاشرتی اور تمدنی ترقی کی راہ پر گامزن ہونا تھا۔ اس کا ایک ثانوی مقصد یہ بھی تھا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے مطابق علاقائی امن اور سلامتی کو بحال رکھا جائے۔ کچھ سالوں میں برونائی دارالسلام، ویت نام، لائوپی ڈی آر، میانمار اور کمبوڈیا کی شرکت سے اس کے اراکین کی تعداد دس ہوگئی۔
جھنڈا
ASEAN کا جھنڈا اس جھنڈے میں دھان کی دس گٹھر بالیاں ان دس جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو دوستی اور بھائی چارے میں ساتھ ساتھ بندھے ہیں۔ ’دائرہ‘ آسیان کے اتحاد کی نمائندگی کرتا ہے۔
یوروپین یونین کے برعکس ’آسیان‘ کے اندر ایک ماورائے قومی ڈھانچوں اور اداروں کی تمنا نہیں ہے ASEAN ممالک کا اپنا ایک غیر رسمی، ، غیر تنازعاتی اور باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے کا انداز ہے جس کو ’ایسیان انداز یاطریقۂ کار‘ (ASEAN Way) کہا جاتا ہے۔
اقتدار اعلاکے لیے احترام ’ایسیان‘ کی کارروائیوں کی ایک نمایاں خوبی ہے۔
دنیا کی کچھ تیز رفتار معیشتوں کے ساتھ، ’آسیان‘ نے بھی سماج اور معاشیات کے علاوہ اپنے مقاصد میں وسعت پیدا کی۔2003 میں’آسیان‘ نے بھی یوروپین یونین کی راہ پر چلتے ہوئے ASEAN برادری کے تین ستون قائم کیے ۔ پہلا ’آسیان‘ حفاظتی برادری، دوسرے ’آسیان معاشی برادری، اور تیسرا ستون ’آسیان معاشرتی اور تمدنی برادری‘ کا تھا۔
’آسیان حفاظتی برادری‘ کا ستون اس یقین پر قائم تھا کہ غیر تصفیہ شدہ سرحدی تنازعات اور جھگڑے جنگ کی حد تک نہ پہنچیں۔ 2003 تک ASEAN ممالک نے کئی معاہدوں کے ذریعے یہ طے کرلیا کہ امن، غیر جانبداری،تعاون،غیرمداخلت کاری، قومی اختلافات اور قومی اقتدار اعلا کے احترام کے اصولوں کا پاس رکھیں گے۔ آسیان علاقائی فارم (ARF) ہی وہ تنظیم ہے جو دفاعی اور خارجہ پالیسی کے لیے مختلف ممالک کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔
پہلے بھی اور اب بھی ’آسیان ‘ بنیادی طور سے ایک معاشی تنظیم ہے۔اگرچہ ریاست ہائے متحدہ، یوروپین یونین اور جاپان کے مقابلہ میں’آسیان ‘ ایک چھوٹا معاشی ادارہ ہے لیکن اس کی معاشی ترقی کی رفتار ان تینوں سے زیادہ ہے۔ اور اپنے علاقے میںاس کے باہر بھی اس کے بڑھتے ہوئے اثرات کی و جہ یہی ہے۔ ’آسیان‘ معاشی برادری،کے مقاصد میں مشترکہ مارکیٹ، ’آسیان‘ ممالک کے درمیان صنعتی مرکز کا قیام اور علاقے کی سماجی اور معاشی ترقی میں تعاون شامل ہیں۔ ’معاشی برادری، موجودہ مالی جھگڑوں کو جلدی نمٹانے کے لیے ASEAN Dispute Settlement Mechanism کے طریقۂ کار میں بہتری لانے کو پسند کرے گی۔ ’آسیان‘ کی توجہ ایک آزاد تجارتی علاقہ Free Trade Area (FTA) بنانے کا بھی ہے جو سرمایہ کاری، خدمات اور مزدوروں کے لیے وقف ہو۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ (US)اور چین نے FTA کے معاملے میں ’آسیان ‘ سے گفتگو کرنے میں کافی تیزی دکھائی۔
کیا ہندوستان جنوب مشرقی ایشیا کا حصہ نہیں ہے؟ اس کی شمالی مشرقی ریاستیں ASEAN ممالک سے کتنی نزدیک ہیں؟
کیشو، دی ہندو(The Hindu)
ہندوستان کا’ مشرق کی جانب دیکھو‘ پالیسی نے، جو 1991 سے چلی آرہی ہے، مشرقی ایشیائی ممالک (آسیان،چین،جاپان اورجنوبی کوریا)سے وسیع اور گہرے معاشی روابط اور رشتوں کی طرف رہنمائی کی۔
جہاں پر SAARC ناکام رہی وہاں ASEAN کی کامیابی کے کیا اسباب ہیں؟ کیا یہ اس لیے ہے کہ اس علاقے میں کوئی عظیم طاقت نہیں ہے؟
’آسیان‘ بہت تیز رفتاری سے ایک اہم علاقائی تنظیم بنتی جارہی ہے ۔ اس نے 2020 کے لیے منصوبہ بنائی ہے اس میں اپنے لییبین الاقوامی برادری میںایک وسیع النظر کردار متعین کیا ہے ۔اس کی بنیاد آسیان کی موجودہ پالیسی پر ہے جس کے مطابق اس خطہ میں تنازعات اور کش مکشبات چیت کے ذریعے طے کرنا ہے۔ لہٰذا ’آسیان‘ نے کمبوڈیا کے جھگڑے اور مشرقی تیمور کے بحران میں ثالث کا کام کیا اور اسی مقصد کے لیے سال میں ایک بار مشرقی ایشیا کے آپسی تعاون پر تبادلۂ خیال کے لیے مل کر بیٹھتی ہے۔
’آسیان‘ASEANکی موجودہ معاشی قوت، خاص طور سے ایشیا کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقتوں جیسے کہ ہندوستان اور چین کے ساتھ سرمایہ کاری میں اس کی شرکت،ایک دلکش منصوبہ اور تجویز ہے۔ سرد جنگ کے دوران ہندوستان کی خارجہ پالیسی نے’آسیان‘ ASEANکی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں کی۔ لیکن پچھلے سالوں میں ہندوستان نے اس کمیکوپورا کرنے کی کوشش کی ہے۔اس نے آسیان کے دو ممبروں سنگاپور اور تھائی لینڈ کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے (FTAS) پر دستخط کیے ہیں۔ بلکہ اب وہ خود ASEAN کے ساتھ ایسے معاہدے پر دستخط کے بارے میں سوچ رہاہے۔ لیکن اصل میں ’آسیان‘ کی قوت کا راز باہمی تال میل اور صلاح و مشورہ میں پوشیدہ ہے جو ممبر ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اور غیر علاقائی تنظیموں کے ساتھ بھی جاری رکھتے ہیں۔ یہ ایشیا کی واحد تنظیم ہے جو بڑی طاقتوں کے لیے اسٹیج فراہم کرتی ہے جہاں وہ سیاسی اور سلامتی کے مسائل پر بحث کرسکتے ہیں۔
آئیے اسے کریں
ASEAN رکن ممالک کو نقشے میں تلاش کیجیے اوراس تنظیم کے کی سکریٹریٹ کا محل وقوع معلوم کیجیے۔
چینی معیشت کا فروغ
اب ہم کو اپنی توجہ تیسرے متبادل طاقت کے مرکز کی جانب اپنے پڑوسی ملک چین کی طرف کرنا چاہیے۔ اگلے صفحے کا کارٹون چین کی ایک معاشی قوت بننے کی طرف پیش قدمی کے بارے میں دنیا کے طرز فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔1978 سے چین کی معاشی میدان میں نمایاں کامیابی کو اس کے ایک عظیم طاقت ہونے سے وابستہکیا جاتا ہے۔ جب سے یہاں اصلاحات شروع ہوئی ہیں چین کی معیشت بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ 2040میں یہ امریکہ کو مات دے کر دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بن جائے گی۔ معاشی میدان میں اپنے علاقے کو سمجھنے کی صلاحیت نے چین کو جنوب مشرق کی ترقی کا راہ نما بنادیا ہے اور اس طرح اس علاقے کے معاملات میں اس کو بے پناہ اثر حاصل ہے۔ اس کی معاشی قوت کے ساتھ ساتھ دوسرے عناصر جیسے آبادی، زمین کا رقبہ ، وسائل، علاقائی محل و قوع اور سیاسی اثر اس کی قوت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
جب 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کا قیام ’مائو‘ کی زیر قیادت عمل میں آیا تو اس کی معیشت سوویت یونین کے نمونے پر چلی۔ معاشی طور سے پس ماندہ کمیونسٹ چین نے سرمایہ دارانہ دنیا سے رشتے اور تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کے پاس صرف اپنے وسائل، یا کچھ وقت کے لیے سوویت مدد اوررہنمائی کی طرف لوٹنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ اس کا مقصد تھا کہ زراعت کی آمدنی سے بھاری صنعتیں قائم کی جائیں جو حکومت کی ملکیت ہوں۔ بین الاقوامی مارکیٹ سے ٹیکنالوجی اور سامان خریدنے کے لیے چین کے پاس زرِ مبادلہ کی کمی تھی لہٰذا اس نے درآمدات (Imports) ختم کرکے خانہ ساز سامان پر زیادہ بھروسہ کیا۔
ا س طریقۂ کار نے چین کو ایک صنعتی معیشت کی بنیاد ڈالنے میں اپنے وسائل کے استعمال کا موقع فراہم کیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر صنعتی معیشت کی تعمیر وترقی نہیں دیکھی گئی تھی۔جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ہر شہری کے لیے روزگار اور رفاہ عام کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اور اپنے شہریوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں چین اکثر ترقی پذیر ممالک سے آگے نکل گیا۔ اور معیشت پانچ سے چھ فی صدکی شرح ، جو خاصی قابلِ قدر ہے، سے آگے بڑھی۔ لیکن خود آبادی میں اضافے کی دو سے تین فی صدکی سالانہ شرح کا مطلب تھا کہ معیشت کی ترقی آبادی کے تناسب سے کم ہے اور اس کی ضرورتوں کو پورا نہیں کرپارہی ہے۔ زرعی پیداوار کی آمدنی صنعت کاری کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے لیے ناکافی تھی۔ ہم نے دوسرے باب میںسوویت یونین میں حکومت کے قبضے میں رہنے والی معیشت کے بحران کا تذکرہ کیا تھا۔ ایسا ہی ایک بحران چین میں بھی آنے والا تھا۔ اس کی صنعتی پیداوار کی رفتار سست تھی۔ بین الاقوامی تجارت کم سے کم تھی اور انفرادی آمدنی کی شرح بھی کافی کم ہوگئی تھی۔
عظیم دیوار اور اجگر (Dragon) ایسی دو علامتیں ہیں جو چین سے وابستہ ہیں۔ اس کارٹون میں یہ دونوں علامتیں چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کو دکھاتی ہیں۔آپ کے خیال میں اس کارٹون میں چھوٹا سا آدمی کون ہے؟ اور کیا یہ اس اجگر کو روک سکتا ہے؟
1970 کی دہائی میں چین کے رہنمائوں نے پالیسی بنانے میں کئی اہم فیصلے کیے۔ چین نے خود کو معاشی اکیلے پن سے آزاد کیا اور 1972 میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے تعلقات استوار کیے۔ 1973 میں وزیر اعظم چاؤ این لائی (Zhou Enlal)نے چار میدانوں (زراعت، صنعت، سائنساور ٹکنالوجی اور فوج) میں چار جدیدیت کا اعلان کیا اور 1978میں اس وقت کے چینی رہنماڈینگ زیاپنگ (Deng Xianping) نے معاشی اصلاحات اور ’کھلے دروازے‘کی پالیسی کا اعلان کیا۔ پالیسی یہ تھی کہبیرونی سرمایہ کاری اور ٹکنالوجی کے ذریعے پیداوار بہتر سے بہتر بنائی جائے۔
چین میں 6 خصوصی معاشی علاقے (SEZs) اور ہندوستان میں 200 سے زیادہ خصوصی معاشی علاقے ہیں ،کیا ہندوستان کے لیے یہ اچھی بات ہے؟
چینی بائیسکل
اس باب کے شروع کی تصاویر اور شکلوں کی طرح یہ پہلا کارٹون چین کی بدلتی ہوئی طرز فکر کو دکھاتا ہے۔ دوسرے کارٹون میں بائیسکل کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیاہے۔ چین میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ سائکلیں استعمال ہوتی ہیں۔ بائیسکل کو آج کی چین کی زندگی کے دوہرے پن کی نمائندگی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن یہ دوہرا پن کیا ہے ۔ کیا ہم اس کو تضاد کہہ سکتے ہیں؟
لیکن ایک آزاد معیشت یعنیMarket Economy میں چین نے اپنا الگ طریقۂ کاراپنایا۔ چینی رہنمائوں نے صدمے سے علاج (Shock Therapy) کو نہیں اپنایا بلکہ اس راہ پر ہر قدم دیکھ بھال کر رکھا۔ 1982 میں زراعت کو غیر ریاستی بنایا گیا اور 1998 میں صنعت بھی حکومت کے اثر سے آزاد ہوگئی۔ خصوصی معاشی علاقوں (SEZs)سے پابندیاں ہٹالی گئیں لیکن صرف وہاں جہاںبیرونی سرمایہ کار صنعتیں قائم کرسکیں۔چین میں حکومت نے آزاد معیشت Market Economyقائم کرنے میں اہم کردار نبھایا اور اب بھی نباہ رہی ہے۔
نئی معاشی پالیسیوں نے چینی معیشت کو جمود سے باہر لاکھڑا کیا۔زراعت کے غیر سرکاری ہوجانے کی و جہ سے پیداوارمیں اضافہ ہوا دیہی آمدنی بھی بڑھی۔ اضافی انفرادی بچت اور دیہی صنعت کاری کے بے پناہ فروغ میں مددگار ثابت ہوئی اور زراعت و صنعت میں ایک بہتر رفتار سے ترقی ہونے لگی۔ نئے معاشی قوانین اور خصوصی معاشی علاقوں (SEZ) کی تخلیق کے باعث غیر ملکی تجارت کو بے پناہ فائدہ ہوا۔ اور براہ ِراست سرمایہ کاری کے لیے چین دنیا کا سب سے اہم مقام بن گیا۔ اب اس کے پاس بڑی تعداد میں زر ِمبادلہ ہے جس سے وہ باہر کے ملکوں میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔ 2001 میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں چین کی شمولیت نے اس کے لیے مزید دروازے کھول دییے۔ مستقبل میں دنیا کے معاشی نظام کو بدلنا اور عالمی معیشت سے زیادہ سے زیادہ تال میل اب اس ملک کے پروگرام میں شامل ہے۔
اگرچہ چینی معیشت قابل تعریف رفتار سے ابھری ہے لیکن ہر چینی اس کے فائدے نہیں اٹھاسکا ۔ بے روزگاری اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ تقریباً دس کروڑ لوگ کام کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے یوروپ میں عورتوں کے روزگار اور کام کرنے کی شرائط کا جو عالم تھا کم و بیش وہی صورتِ حال اب چین میں ہے۔ ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے اور ساتھ میں رشوت خوری بھی۔ دیہی اور شہری علاقوں میں رہنے والوں کے درمیان اور ساحلی اور اندرونی صوبوں کے درمیان نابرابری کا فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔
خواہ کچھ ہو، علاقائی اور عالمی طور سے چین ایک ایسی معاشی قوت بن چکا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ چینی معیشت کا دنیا میں گھل مل جانا اور ملکوں کے باہمی انحصار نے چین کو اپنے تجارتی شریک کاروں پر اپنا اثر چھوڑنے کا اہل بنادیا ہے۔ لہٰذا ، اس کے جاپان روس، امریکہ اور آسیان، سے غیر تصفیہ شدہ اور پرانے مسائل میں معاشی دبائو کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ اسی صورت سے چین تائیوان سے اپنے اختلافات اس کو اپنی معیشت میں شامل کرکے ختم کرنا چاہتا ہے۔ 1997 کے مالی بحران میں اس نے ’آسیان‘ معیشت کو سدھارنے میں جو حصہ لیا اس سے اس کے ایک بڑھتی ہوئی طاقت کے خوف کو بھی آرام ملا۔ اس کی بیرونی سرمایہ کاری کا رجحان اور لاطینی امریکہ اور افریقہ میں امداد کی پالیسیاں ترقی پذیر معیشتوں کے ساتھ اس کو ایک اہم عالمی کردار کا حامل بنادیتی ہیں۔
ہند– چین تعلقات
مغربی سامراجیت سے پہلے ہندوستان اور چین ایشیا کی بڑی طاقتیں تھیں۔ چین اپنے سرحدی علاقوں پر موجود ریاستوں پر خاصا اثر رکھتا تھا۔ تبت، انڈوچائنا کے کچھ حصے، کوریا اور منگولیا، چین کی طویل شاہی تاریخ میں کسی نہ کسی زمانے میں اس کے اقتدار کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں۔ہندوستان کے بہت سے بادشاہوں نے بھی اپنا اثر سرحدوں کے پار بڑھایا۔ دونوں ملکوں کے معاملہ میں یہ اثر سیاسی، معاشی اور تمدنی تھا۔ لیکن ہندوستان اور چین دونوں کے اثر کے علاقے ایک دوسرے میں شامل تھے۔ لہٰذا دونو ںمیں کوئی سیاسی اور تہذیبی تال میل نہ بیٹھ سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کو اچھی طرح سے نہ جان سکا۔اور جب بیسویں صدی میں یہ دونوں ایک دوسرے کے مد مقابل آئے تو ایک دوسرے کے لیے ان کو اپنی خارجہ پالیسی بنانے میں کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
جب ہندوستان کوبرطانیہ سے آزادی حاصل ہوئی اور چین نے اپنی سرزمین سے غیروں کو نکال دیا تو یہ امید جاگی تھی کہ یہ دونوں مل کر ترقی پذیر دنیا ’بالخصوص ایشیا ‘کے مستقبل کی تعمیر کریں گے۔ ایک مختصرعرصہ کے لیے ’’ہندی چینی بھائی بھائی‘‘ کا نعرہ کافی مقبول رہا۔ لیکن ایک سرحدی تنازعہ میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی کارروائی نے اس امید کو ختم کردیا۔ آزادی کے فوراً بعد ہی دونوں ملکوں کے درمیان 1950 میں چین کے تبت پر قبضہ جمالینے اور ہند-چین سرحد کو آخری شکل دینے کے معاملے میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ لداخ کے اکسائی چن علاقے اور اروناچل پردیش کے حق ملکیت پر چین اور ہندوستان میں 1962 میں سرحد پر جنگ ہوئی۔
آئیے اسے کریں
چینی صدر ہو ژی جنپنگ نے 2006 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ ان دوروں کے دوران کن معاہدوں پر دستخط ہوئے؟ معلوم کیجیے۔
آئیے مل جل کر کریں
اقدام
¤ کلاس روم کو تین گروپوں میں بانٹ دیجیے
¤ ہر گروپ یوروپین یونین ، ایشین ASEAN اور SAARC میں سے ایک کے حقائق کی فائل مرتب کرے۔
¤ یہ حقائق کی فائلیںان تنظیموں کے مقاصد ، طریقئہ کار اور پچھلی کارروائیوں کے بارے میں ریکارڈ رکھے گی۔ ان کی چوٹی کانفرنسوں اور دوسری میٹنگ کی تصویریں جمع کی جاسکتی ہیں۔
¤ ہر گروپ اپنی فیکٹ فائل کلاس کے سامنے پیش کرے۔
استاد کے لیے تجاویز
* استاد کو ان تنظیموں کی کاروائیوں پر توجہ رکھنی چاہیے۔
* علاقائی تنظیموں کی کامیابی کی طرف طلباکی توجہ مبذول کرایے۔
* ممبر ممالک کی ترقی میں علاقائی تنظیموں کے کردار کی اہمیت کو واضح کیجیے۔
* طلباکو احسا س دلائیے کہ علاقائی معاشی تنظیمیں دنیا کی سلامتی اور امن کے لیے ایک متبادل راستہ ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے بازارمیں چینی سامان کی بھرمار ہوجائے گی ۔ لیکن وہ کہاں ہیں؟
1962 کی جنگ میں ہندوستان کا فوجی اعتبار سے کافی نقصان ہوا اور ہند چین تعلقات پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ 1976تک دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات مایوس کن رہے۔ اس کے بعد سے تعلقات آہستہ آہستہ بہتر ہونا شروع ہوئے۔ 1970 کی دہائی میں چین کی لیڈر شپ میں تبدیلی کی و جہ سے چین کی پالیسی نظریاتی کم اور عملی زیادہ ہوگئی۔ لہٰذاوہ اس بات کے لیے راضی ہوگیا کہ نازک معاملات کے حل کو دونوں ملکوں ۱کے درمیان تعلقات سدھرنے کے وقت تک ملتوی کردے۔ سرحدی معاملات کو حل کرنے کے لیے 1981سے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری کیا گیا۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ہند۔ چین تعلقات میں اہم تبدیلیاں آتی ہیں۔ اب ان کے تعلقات میں حکمت عملی اور معاشی سمتیں نظر آتی ہیں۔دونوں ہی عالمی سیاست میں خود کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت کی شکل میں دیکھتے ہیں اور دونوں ہی ایشیائی سیاست اور معیشت میں اہم کردار نبھانا چاہیں گے۔
دسمبر 1988 میں راجیو گاندھی کا دورۂ چین، ہندوستان و چین کے تعلقات کی بہتری کے لیے ایک زبردست محرک ثابت ہوا۔ اس وقت سے دونوں حکومتوں نے کوشش کی ہے کہ سرحد پر اختلافات کو قابو میں رکھا جائے اور امن و سلامتی کو فروغ دیا جائے۔ دونوں نے باہمی ثقافتی تبادلے ،سائنس اور ٹکنالوجی میں باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ تجارت کے لیے چار سرحدی چوکیوں کو کھول دیا گیا۔ ہند چین تجارت 1999 سے تیس فی صدکی سالانہ شرح سے بڑھ رہی ہے اور اس و جہ سے ہندچین تعلقات کا ایک مثبت منظر ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ ہند چین کی آپسی تجارت 1992 میں تین سو اٹھائیس ملین ڈالر تھی جو 2006 میں بڑھ کر اٹھارہ بیلین ڈالر ہوگئی ہے۔ ابھی حال ہی میں دونوں ملک اس بات پر بھی راضی ہوگئے ہیں کہ وہ ایسے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے جہاں اختلاف پیدا ہونے کا خطرہ ہو جیسے باہری ممالک میں توانائی کے مسودوں میں بولی لگانا۔ عالم گیر سطح پر ہندوستان اور چین کی پالیسیوں میں کافی یکسانیت ہے اور دونوں نے بین الاقوامی معاشی اداروں جیسے عالمی تجارتی تنظیم World Trade Organisation (WTO) کی جانب دونوں کا ایک ہی رجحان ہے۔
1998 میں ہندوستان نے جو نیوکلیائی تجربے کیے تھے، اور جن کو چینی نیوکلائی خطرے کے پیش نظر صحیح ثابت کیا جاتا ہے، نے بھی دونوں ملکوں کے آپسی تعلقات کو گہن نہیں لگایا۔ یہ درست ہے کہ چین پاکستان کے نیوکلیائی پروگرام کی نشوونما میں اس کی مدد کررہا ہے
اور چین کے بنگلہ دیش اور مایانمار سے فوجی تعلقات جنوبی ایشیا میں ہندوستانی مفادات کے خلاف پائے گئے۔ بہر حال ان میں سے کوئی بھی مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا سبب نہیں بن سکتا۔ اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے لییبات چیت برابر جاری رہی اوردونوں کا فوجی سطح پر باہمی تعاون بڑھ رہا ہے ۔ہندوستانی اور چینی رہنما اور افسران ایک دوسرے کے ملکوں میں زیادہ جلدی جلدی آجارہے ہیں۔ اور دونوں فریق اب ایک دوسرے سے مانوس ہوتے جارہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے نقل و حمل اور مواصلاتی رابطے، مشترکہ معاشی مفادات اور عالمی معاملات کی بدولت ایک زیادہ مثبت اور پائیدار رشتہ کی توقع ،دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ملکوں سے کی جاسکتی ہے۔
جاپان
آپ نے مشہور جاپانی برانڈ سونی، پیناسونک، کینن ، سوزوکی، ہونڈا، ٹویوٹا اورمازدا کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ان سب کے نام بہت سی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی ایجادات میں ہیں۔ جاپان کے پاس بہت کم قدرتی وسائل ہیں اور یہ زیادہ تر خام مال درآمد کرتا ہے۔ اس کے باوجود اس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد حیرت انگیز طور پر ترقی کی ہے۔ اب یہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ اور جی سات (G-7) میں یہ اکیلا ایشیائی ممبر ملک ہے اور آبادی میںیہ دنیا کے دسویں نمبر کا ملک ہے۔
جاپان ہی وہ واحد ملک ہے جس نے ایٹم بم سے ہونے والی تباہی کی تکلیف برداشت کی۔ اور اقوام متحدہ کے بجٹ میں مستقل طور پر سب سے زیادہ چندہ دینے والا یہ دوسرے نمبر کا ملک ہے۔ کم و بیش تمام بجٹ کا بیس فیصد جاپان دیتا ہے۔ جاپان کا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ 1951 سے دفاعی اتحاد ہے۔ جاپانی دستور کی دفعہ 9 کے تحت ’’جاپانی عوام ہمیشہ کے لیے کسی بھی قوم کا بنیادی حق ماننے اور بین الاقوامی معاملات کو سلجھانے کے لیے طاقت اور دھمکی کے استعمال کو غلط قرار دیتے ہیں‘‘ اور اگرچہ جاپان کے دفاعی اخراجات اس کی مجموعی گھریلو پیداوار GDP کا صرف ایک فیصد حصہ ہے پھر بھی یہ دنیا کے چوتھے نمبر پر ہے۔
ان سب کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جاپان ایک متبادل قوت کے مرکز کی حیثیت سے کام کرسکتا ہے؟ دسمبر 2006 میں ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورۂ جاپان کے وقت جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں ان کے متعلق معلومات حاصل کیجیے۔
جنوبی کوریا
دوسری جنگ عظیم کے بعد جزیرہ نما کوریا، 38 ویں خطِ متوازی کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا(ری پبلک آف کوریا)اور شمالی کوریا (جمہوری عوامی ری پبلک آف کوریا) کے درمیان تقسیم کر دیا گیا تھا۔ 1950-53 میں کوریائی جنگ کے درمیان اور سرد جنگ کے زمانہ کی محرکات نے دونوں جانب رقابتوں کو شدید تر کر دیا۔ آخر کار، دونوں کوریا17 ستمبر1991 میں اقوام متحدہ کے ممبر بن گئے۔
اس درمیان ایشیاء میں جنوبی کوریا طاقت کے مرکز کے طور پر ابھرا۔1960 اور 1980 کے درمیان اس نے تیزی کے ساتھ ایک معاشی طاقت کے طور پر ترقی کی جس کو ’دریائے ہین کے معجزہ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کی مجموعی ترقی کی وجہ سے 1996 میں اس ملک کو OECD کا ممبر بنا دیا گیا۔ 2016 میں، اس کی معیشت کا درجہ دنیا میں گیارھواں تھا اورفوجی اخراجات دسویں نمبر پر تھے۔
2016 کی انسان ترقی کی رپورٹ کے مطابق، انسانی ترقی کے میزان (HDI) پر جنوبی کوریا کا 18 واں نمبر ہے۔ اس کے اعلیٰ انسانی ترقی کے معیار کے لیے جوا ہم عناصر ذمہ دار ہیں وہ اس کی کامیاب زرعی اصلاحات، دیہی ترقی، وسیع تر انسانی وسائل کی ترقی اور تیز رفتار مساوی معاشی ترقی ہیں۔
دوسرے عناصر میں درآمدات کے اصول وضوابط، مضبوط تقسیم نو کی پالیسیاں، عوامی بنیادی ڈھانچوں کی ترقی، موثرادارے اور حکمرانی ہے۔
جنوبی کوریائی مصنوعات جیسے Samsung, LG, اور Hyundai اب ہندوستان میں بہت مقبول ہو گئی ہیں۔ ہندوستان اور جنوبی کوریا کے درمیان بہت سے معاہدے ہوئے۔
مشقیں
1۔ مندرجہ ذیل کو تاریخی اعتبار سے ترتیب دیجیے۔
a۔ چین کی WTO میں شمولیت
b۔ EEC کا قیام
c۔ یوروپین یونین کا قیام
d۔ ARF کی پیدائش
2۔ آسیان طریقۂ کار (The ASEAN Way) کا مطلب ہے:
a۔ یہ ASEAN ملکوں کی طرز زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔
b۔ ASEAN ممالک کے درمیان ایک قسم کا تال میل جو غیر رسمی اور باہمی تعاون پر مبنی ہے۔
c۔ وہ دفاعی پالیسی جو آسیانASEAN ممالک نے اختیار کی ہے۔
d۔ وہ راستہ جو تمام آسیان ASEAN ممالک کو ملاتا ہے۔
3۔ مندرجہ ذیل میں سے کس نے ’کھلے دروازہ‘ کی پالیسی اختیار کی؟
a۔ چین
b۔ یوروپین یونین
c۔ جاپان
d۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ
4۔ خالی جگہوں کو پُرکیجیے:
a۔ 1962 ہند-چین سرحدی تنازعہ بنیادی طور سے …… اور …… کے اوپر تھا۔
b ۔ ARF کو سن …… میں قائم کیا گیا تھا۔
c۔ چین نے 1972 میں ……… کے ساتھ (ایک بڑا ملک) دوطرفہ تعلقات قائم کیے۔
d۔ ……… پلان نے 1948 میں یوروپی معاشی اتحاد کی تنظیم کے لیے راہ ہموار کی۔
e۔ ……… ASEAN کی ایک تنظیم جو دفاعی معاملات کو دیکھتی ہے۔
5۔ علاقائی تنظیموں کے قیام کے پیش نظر کیا مقاصد ہیں۔
6۔ علاقائی تنظیموں کے قیام کے سلسلے میں جغرافیائی نزدیکیاں کہاں تک اثر انداز ہوتی ہیں؟
7۔ ASEAN Vision 2020 کے آسیا ن کے منصوبہ کے کیا اجزاہیں؟
8۔ آسیانASEAN برادری کے ستونوں اور مقاصد کو بیان کیجیے۔
9۔ موجودہ چینی معیشت کس طرح سے اپنی بنیادی معیشت سے مختلف ہے۔
10۔ عالمی جنگ کے بعد یوروپی ممالک نے اپنے اختلافات کس طرح ختم کیے؟ مختصر طور سے ان کوششوں کا تذکرہ کیجیے جن کے نتیجہ میں یوروپین یونین کا قیام عمل میں آیا۔
11۔ یوروپین یونین کو ایک بااثر علاقائی تنظیم بنانے میں کون سے عوامل کارفرماہیں؟
12۔ ’ہندوستان اور چین کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں دنیا کے ایک قطبی نظام کو چیلنج کرنے کی زبردست صلاحیت ہے‘ کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں؟ دلائل پیش کیجیے۔
13۔ دنیا کے ممالک کی سلامتی اور خوش حالی، علاقائی معاشی تنظیموں کے قیام اور ان کے مستحکم ہونے پر ہے‘ اس بیان کے حق میں دلائل دیجیے۔
14۔ ہندوستان اور چین کے درمیان نازک مسائل کی نشاندہی کیجیے۔ ایک بہتر اور زیادہ تعاون کی خاطر ان کو کس طرح حل کیا جاسکتا ہے۔ اپنی رائے پیش کیجیے۔