Skip to content
Asrialamisiyasat-001

باب 5

دور حاضر کا جنوبی ایشیا

اجمالی تعارف

اب ہم اپنی نظردنیا میں سردجنگ کے بعد کے واقعات سے ہٹاکر اپنے علاقے کی طرف لاتے ہیں ۔ جب ہندوستان اورپاکستان نیوکلیائی طاقت بن گئے تواچانک یہ علاقہ دنیاکی توجہ کامرکزبن گیا۔ اوربلاشبہ خصوصی توجہ علاقے کے غیرتصفیہ شدہ جھگڑوں پررہی۔ مثال کے طور پرعلاقے کی ریاستوں کے درمیان سرحدی اختلافات اورپانی کے بٹوارے کے جھگڑوں کاکوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بغاوتوں اورانقلابوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے جھگڑے ،نسلی عداوت اوروسائل میں شرکت بھی ان ہی مسائل میں تھے ۔ ان سب نے علاقے کوبہت طوفانی سی شکل دے رکھی تھی۔ بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگراس علاقے کی ریاستیں ایک دوسرے سے تعاون کریں تویہ علاقہ ترقی اور خوش حالی میں پھل پھول سکتاہے۔ اس باب میں ہم اس علاقے کے ممالک کے باہمی اختلاف اورتعاون کی نوعیت جاننے کی کوشش کریں گے؛ کیونکہ ان سب کی جڑیں بہت گہرائی تک ملک کی داخلی سیاست تک پہنچ گئی ہیں۔اور اس سے متاثر ہوتی ہیں لہٰذا اس خطہ اور اس کے کچھ بڑے ممالک کی داخلی سیاست کے بارے میں بتائیں گے۔

1
ماخذ: 1830میں یوجین ڈیلارائکس کے ہاتھوں شبھاش رائے کی’’ آزادی لوگوں کی رہنمائی ‘‘ پر بنائی گئی پنٹنگ۔(ہمال ساؤتھ ایشین (جنوری 2007)، دی سائوتھ ایشیا ٹرسٹ، نیپال کے شکریے کے ساتھ)۔

جنوبی ایشیاکیاہے؟

ہم سب اس زبردست تنائوسے واقف ہیں جوہندوستان پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے وقت ہم سب کواپنی گرفت میں لے لیتاہے۔ہم نے اس نیک خواہشات اوردریادلی کوبھی دیکھاہے جس کاکرکٹ کے شائقین نے ہندوستان پاکستان کے میچوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے مظاہرہ کیا’ اوربہترین میزبانی کی مثال قائم کی ۔ جنوبی ایشیاکے دوسرے معاملات بھی اس نہج پرچلتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں امیداورمایوسی، نیک تمنائیں اورمقابلے ،شک اوراعتمادساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
ہم ابتدا بنیادی سوال سے کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیاکیاہے؟ عام طورسے جنوبی ایشیامیں بنگلہ دیش، بھوٹان،ہندوستان،جزائرمالدیپ،نیپال،پاکستان اور سری لنکاکوشامل کیا جاتاہے۔شمال کی سمت میں عظیم ہمالیہ اور وسیع وعریض بحرہند، بحرعرب اورخلیج بنگال بالترتیب اس کے جنوب، مغرب اورمشرق میں واقع ہیںجوکہ ایک قدرتی رکاوٹ کاکام کرتے ہیں اور برّصغیرکے لسانی،سماجی اورثقافتی امتیاز کے ذمے دار ہیں۔ اس علاقے کی سرحدیں مغرب اورمشرق میں اتنی واضح نہیں ہیں جتنی کہ شمال اورجنوب میں ۔ افغانستان اور میانمارکوبھی اکثراجلاس میں شامل کیاجاتاہے۔اور اگرچہ اس علاقہ میں چین کا اہم کردار ہے لیکن اس ملک کو جنوبی ایشیا میں شامل نہیں کیا جاتا ہے ۔ اس باب میں ہماری جنوبی ایشیا سے مطلب ان سات ملکوں سے ہوگی جن کانام اوپر لیا گیا ہے۔ اس طرح سے اگرچہ جنوبی ایشیامختلف رنگارنگی کا مجموعہ ہے لیکن پھربھی ایک سیاسی جغرافیائی اِکائی ہے۔
جنوبی ایشیاکے ملکوں کاسیاسی نظام یکساں نہیں ہے۔ بہت سی رکاوٹوں اورمسائل کے باوجود ہندوستان اورسری لنکا نے آزادی کے بعدسے اپنا جمہوری نظام باقی رکھاہے۔ ہندوستان میں آزادی کے بعدسیاست پرجوکتاب ہے ،آپ اس میں ہندوستان میں جمہوریت کی نشوونماپرمزیدمطالعہ کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں جمہوریت کی کئی کمزوریوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان آزادی کے بعدبہرحال ایک جمہوری ملک رہاہے۔ یہی بات بالکل اسی طرح سری لنکاکے بارے میں بھی درست ہے۔
آئیے اسے کریں
ان خصوصیات کو شمار کیجیے جوتمام جنوبی ایشیا کے ممالک میں مشترک ہیں لیکن مغربی ایشیا یا جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک سے مختلف ہیں۔

پاکستان اوربنگلہ دیش کوغیر فوجی اورفوجی دونوں حکومتوں کاتجربہ ہے۔ لیکن بنگلہ دیش سردجنگ کے بعدوالے زمانے میں ایک جمہوریت ہی رہاہے۔ پاکستان نے بھی سردجنگ کے بعدزمانے کی ابتدا  بے نظیربھٹواورنوازشریف کی جمہوری حکومتوں سے کی تھی لیکن1999میں ملک ایک فوجی بغاوت سے دوچارہو ا اوراس کے بعدسے اب تک یہاں فوجی حکومت چلی آرہی ہے۔2006تک نیپال بھی ایک دستوری بادشاہت تھا اورہمیشہ یہ خطرہ تھا کہ بادشاہ انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں نہ لے لے۔2006 میں ایک کامیاب بغاوت نے جمہوریت کوبحال کیا اور بادشاہ کومحض نام کا بادشاہ بنادیا۔ بنگلہ دیش اورنیپال کے تجربوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ جنوبی ایشیاکے پورے علاقے میں جمہوریت کوایک عام معیار وقدر کے طور پر قبول کرلیاگیاہے۔

2
کیا ان علاقوں کی کوئ مقررہ تعریف موجود ہے۔اگر ہے تو وہ کس نے بنائ ہے؟

اس علاقے کے دوسب سے چھوٹے ملکوں میں بھی ایسی ہی تبدیلیاں آرہی ہیں، بھوٹان میں اب بھی بادشاہت ہے لیکن بادشاہ نے کثیرالجماعتی جمہوریت کی منتقلی کی جانب پروگرام بنایاہے۔ دوسری جزائری ریاست مالدیپ 1968 تک ایک سلطنت تھی۔ پھریہ ایک عوامی جمہوریہ میں تبدیل ہوگئی جہاں پرصدارتی طرز حکومت اختیارکیاگیا۔ جون2005 میں مالدیپ کی پارلیمنٹ نے بغیرکسی اختلاف کے کثیرالجماعتی نظام کے حق میں ووٹ دیا۔ مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی (MDP)اس جزیرہ کے سیاسی افق پرچھائی ہوئی ہے۔2005 کے انتخابات میں کچھ مخالف پارٹیوں کوقانوناً جائزقراردیاگیاتواس سے جمہوریت کو مزیدتقویت ملی۔
سوائے پاکستان کے ہرجگہ جمہوریت کوآمریت پرفوقیت حاصل ہے۔
وہ جو ان بیانات میں سے ایک سے متفق ہوں۔

3
یہ دونوں گراف جنوبی ایشیاکے پانچ بڑے ملکوں کے 19,000 عام شہریوں کے انٹرویوپرمبنی ہیں۔
ماخذ: ایس ڈی ایس اے ٹیم، اسٹیٹ آف ڈیموکریسی ان ساؤتھ ایشیا، نئی دھلی؛اکسفورڈ یونیورسیٹی پریس،2007

4

اگرچہ ان ملکوں کے جمہوریت کے تجربات الگ الگ ہیں ،لیکن ایک بات مشترک ہے کہ جمہوریت کی تمناان ملکوں کے عوام کی امنگوں اورحوصلوں کاحصہ ہے۔ اس علاقہ کے پانچ بڑے ملکوں میں حال ہی میں ایک جائزہ لوگوں کے رحجان کے متعلق لیاگیاتھاجس سے معلوم ہواکہ ان سب ملکوں میں جمہوریت کے لئے وسیع پیمانے پرحمایت موجودہے۔ عام شہری خواہ وہ غریب ہویا امیر اور کسی بھی مذہب کاماننے والاہو ، جمہوریت کو ایک مثبت نظریہ قرار دیتا ہے اور وہ ادارے جوجمہوریت کی نمائندگی کرتے ہیں ان کی نظرمیں قابلِ قدر ہیں۔ وہ جمہوریت کوہرقسم کی طرزحکومت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اوراپنے ملک کے لیے اسی طرز حکومت کومناسب خیال کرتے ہیں ۔ جائزہ کے یہ نتائج بہت اہم ہیں کیونکہ اس سے پہلے یہ سمجھاجاتاتھاکہ جمہوریت کا پوداصرف دنیاکے خوش حال ملکوں میں ہی پروان چڑھ سکتاہے۔ اس طرح سے جنوبی ایشیاکے جمہوری تجربات نے جمہوریت کے عالمگیرتصورکواوروسعت دی ہے۔ اب ہم ہندوستان کے علاوہ اس علاقے کے بقیہ چاربڑے ملکوں میں جمہوریت کے تجربے پربحث کریں گے۔

پاکستان میں جمہوریت اورفوج

پاکستان کی پہلی دستورسازی کے بعدجنرل ایّوب خاں نے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی ،اورجلدہی خودکوانتخابات میں کامیاب کرالیا۔ جب ان کی حکومت کے خلاف عوام میں ایک عام بے اطمینانی پھیل گئی توان کویہ عہدہ چھوڑنا پڑا۔ لیکن اس بارپھرجنرل یحییٰ خان کے تحت فوج اقتدارمیں آگئی۔ یحییٰ خان کی فوجی حکومت کے زمانے میں بنگلہ دیش کابحران پیداہوااور1971 میں ہندوستان کے خلاف ایک جنگ کے بعدمشرقی پاکستان،پاکستان سے الگ ہوگیا اوربنگلہ دیش کے نام سے ایک نئی آزادریاست کاوجودہوا۔ اس کے بعد1971 سے 1977تک ذوالفقارعلی بھٹو کی قیاد ت میں ایک منتخب حکومت کام کرتی رہی ۔1977میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کوہٹادیا۔ لیکن 1982  کے بعدجنرل ضیاء الحق مستقل طورسے جمہوریت پسندتحریکوں کا سامنا کرتے رہے اوربالآخر1988میں بے نظیربھٹوکی قیادت میں ایک بارپھرمنتخب جمہوری حکومت اقتدارمیں آئی۔ اس کے بعدآنے والے سالوں میں‘پاکستانی سیاست بے نظیربھٹوکی پارٹی،پاکستان پیپلزپارٹی (PPP) اور مسلم لیگ کے درمیان مقابلے کے گرد گھومتی رہی۔ انتخابی جمہوریت کایہ زمانہ1999 تک رہاجب کہ فوج نے ایک بارپھرمداخلت کی اورجنرل مشرف نے وزیرِاعظم نوازشریف کوہٹاکرحکومت پرقبضہ کرلیا۔ 2001 میں جنرل مشرف نے خودکوصدرکی حیثیت سے منتخب کرالیا۔ اورپاکستان میں فوج کی حکمرانی برقرار رہی۔ اگرچہ فوجی حکمرانوں نے کچھ الیکشن بھی کرائے تاکہ حکومت میں کچھ جمہوری رنگ بھی آسکے۔
پاکستان میں ایک مستحکم جمہوریت کے قیام کی ناکامی میں کئی عوامل کارفرمارہے۔ فوجی اورمذہبی رہنمائوں اورجاگیرداروں کی سماجی فوقیت نے اکثرمنتخب حکومتوں کواکھاڑپھینکنے کے عمل میں مددکی ہے۔ پاکستان کی ہندوستان کے خلاف کشمکش نے بھی فوج یافوجی حکومت کے حامیوں کوزیادہ طاقت وربنایا۔ ان گروپوں کاکہناہے کہ خودغرض سیاسی پارٹیوں اوربے ترتیب جمہوریت سے پاکستان کے تحفظ کوخطرہ ہوگا اوراس لیے فوج کااقتدارمیں رہنابرحق ہے۔اگرچہ جمہوریت پاکستان میں کامیاب نہیں رہی لیکن اس کی حمایت میں ایک پرجوش جذبہ ہمیشہ موجودرہا۔ پاکستان کاپریس نسبتاً آزاد اورطاقت ورہے اورایک مضبوط انسانی حقوق کی تحریک بھی وہاں سرگرم عمل ہے۔

1947 کے بعد سے جنوبی ایشیاکاتاریخی نقشہ

1947 :  برطانوی تسلط سے ہندوستان اور پاکستان کی آزادی۔
1948 :  سری لنکا (اس وقت سیلون) کی آزادی،کشمیرپرہندوپاک تنازعہ۔
1954-55 :پاکستان کی سردجنگ کے فوجی بلاک میں شمولیت۔ وہ SEATO اور CENTO کاممبربنا۔
ستمبر1960 :سندھ پانی معاہدہIndus water Taeaty  پرہندوستان اور پاکستان کے دستخط۔
1962:  ہندوستان اورچین کے درمیان سرحدی تنازعہ۔
1965:  ہندوپاک جنگ۔اقوام متحدہ کاہندوستان اور پاکستان آبزرویشن مشن۔
1966: ہندوستان اور پاکستان کے تاشقندمعاہدے پردستخط۔مشرقی پاکستان کے زیادہ اختیارات کے لیے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات۔
مارچ1971  :بنگلہ دیش کے رہنماؤں کاآزادی کااعلان۔
اگست:  ہندروس دوستی معاہدہ بیس سال کے لیے۔
دسمبر: ہندوستان اور پاکستان جنگ۔بنگلہ دیش کی آزادی۔
جولائی1972  :ہندوستان اور پاکستان نے شملہ معاہدے پردستخط کیے۔
مئی1974 :  ہندوستان نے نیوکلیائی تجربہ کیا۔
1976:  پاکستان اوربنگلہ دیش میں سفارتی تعلقات کاقیام۔
دسمبر1985 : ڈھاکہ کی پہلی چوٹی کانفرنس میں جنوبی ایشیا کے رہنما ؤںکے SAARC منشور پردستخط۔
1987: ہندسری لنکاسمجھوتہ۔ہندوستانی امن فوج(IPKF)کی سری لنکا میں سرگرمیاں (1987-90)۔
1988 :  کرائے کے سپاہیوں کے ذریعے ایک بغاوت کوناکام بنانے کے لیے ہندوستانی فوج کامالدیپ میںداخلہ۔ہندوستان اورپاکستان کے درمیان ایک دوسرے کے نیوکلیائی ٹھکانوں پرحملہ نہ کرنے کامعاہدہ۔
1988-91 : پاکستان،بنگلہ دیش اورنیپال میں جمہوریت کی بحالی۔
دسمبر1996 :گنگا کے پانی میں حصّے داری پربنگلہ دیش اورہندوستان کے درمیان قرا رداد کے معاہد ے پردستخط۔
مئی1998 :  ہندوستان اورپاکستان نے نیوکلیائی تجربہ کیا۔
دسمبر:  ہندوستان اورسری لنکانے آزادانہ تجارت کے معاہدے(FTA) پردستخط کیے ۔
فروری 1999 :  ہندوستانی وزیرِ اعظم واجپئی کاایک امن معاہدے پردستخط کرنے کے لیے لاہورتک بس سے سفر۔
جون۔جولائی  :  ہندوستان پاکستان کے درمیان کرگل کاتنازعہ۔
جولائی2001 :واجپئی۔مشرف کی آگرہ چوٹی کانفرنس ناکام۔
جنوری 2004  : اسلام آبادمیں بار ھویںSAARC چوٹی  کانفرنس میں SAFTA  پردستخط۔





5
یہ کارٹون پاکستان کے حکمراں پرویز مشرف کے دوہرے رول پر نکتہ چینی کرتاہے۔ ملک کے صدر کی حیثیت سے اور فوجی جنرل کی حیثیت سے۔ توجہ سے ان سوالات کو پڑھیے اور اس کارٹون کا پیغام لکھیے۔
6
اگرجرمنی پھرسے متحد ہوسکتا ہے توکیاوجہ ہے کہ ہندوستانی اورپاکستانی عوام ایک دوسرے کے ملک میں زیادہ آسانی سے سفرنہ کریں؟

پاکستان میں جمہوریت کے لیے ایک بے لوث بین الاقوامی حمایت کی عدم موجودگی نے بھی فوج کے اقتدارمیں رہنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔یونائٹیڈ اسٹیٹس اوردوسرے مغربی ممالک نے اپنے مقاصدکی تکمیل کے لیے ماضی میں فوج کے جبرواستبدادکی حوصلہ افزائی کی۔مغربی ممالک کو بقول ’عالم گیراسلامی دہشت گردی‘ سے جو خطرہ ہے اورپاکستان کے نیوکلیائی ذخیرہ کے دہشت گردتنظیموں کے ہاتھ میں پڑ جانے کے اندیشے کی و جہ سے پاکستانی فوجی حکومت ان کومغربی اورجنوبی ایشیامیں اپنے مفادات کی محافظ نظرآتی ہے۔

بنگلہ دیش میں جمہوریت

1947سے 1971 تک بنگلہ دیش پاکستان کاحصہ تھا۔ یہ برٹش انڈیاکے تقسیم شدہ بنگال اورآسام پرمشتمل تھا۔ اس علاقہ کے لوگ مغربی پاکستان کے غلبہ اوراردو زبان کے زبردستی تھوپے جانے سے نالاں تھے۔ تقسیم کے فوراً بعدسے یہاں پر بنگالی زبان اورثقافت کے ساتھ غیر مساویانہ برتائو کے خلاف مظاہرے ہونے لگے۔ یہاں کی عوام نے انتظامیہ اور سیاسی قوت میں برابر کی نمائندگی کامطالبہ بھی کیا۔ شیخ مجیب الرحمن نے مغربی پاکستان کے غلبے کے خلاف عوامی تحریک کی رہنمائی کی۔ انھوں  نے مشرقی پاکستان کے لیے خودمختاری کادعویٰ کیا۔ 1970 کے الیکشن میں عوامی لیگ نے جس کی قیادت شیخ مجیب کے ہاتھ میں تھی، مشرقی پاکستان کی تمام سیٹیں جیت لیں۔ اور پورے پاکستان کی اسمبلی میں بھی اکثریت حاصل کرلی۔ لیکن مغربی پاکستانیوں کے زیراثر حکومت نے اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکارکردیا۔شیخ مجیب کوگرفتار کرلیا گیا۔ جنرل یحییٰ خاں کی فوجی حکومت کے تحت، پاکستانی مسلح افواج نے بنگالی عوام کی ملک گیر تحریک کوکچلنے کی کوشش کی۔ پاکستانی فوج نے ہزاروں کوموت کے گھاٹ اتاردیا۔ اس کی و جہ سے ہندوستان کی جانب بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی اور ہندوستان کوپناہ گزینوں کے زبردست مسئلے کا سامنا کرناپڑا۔ ہندوستانی حکومت نے مشرقی پاکستان کے عوام کی آزادی کے مطالبے کی حمایت کی اور ان کومالی اورفوجی امدادپہنچائی ۔اس کے نتیجے میں دسمبر 1971 میں ہندوستان اور پاکستان میں جنگ ہوئی۔ مشرقی پاکستان میں پاکستانی افواج نے ہتھیار ڈال دیے اور ایک آزاد ملک بنگلہ دیش وجودمیں آیا۔
بنگلہ دیش نے اپنے دستورمیں سیکولرزم ، جمہوریت اورسوشلزم پراپنے گہرے اعتمادکایقین دلایا۔ لیکن1975 میں شیخ مجیب نے دستورمیں ترمیم کی اور پارلیمینٹری طرزحکومت کے بجائے نئے صدارتی طرز حکومت کواختیار کیا۔ انھوں نے سوائے اپنی عوامی لیگ پارٹی کے دوسری تمام جماعتوں کوغیر قانونی قرار دے دیا۔ جس نے کئی جھگڑے اور تنائو پیدا کئے۔ اگست 1975میں ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میںوہ بہت ڈرامائی اورافسوس ناک طریقے سے مار ڈالے گئے۔ نئے صدر ضیاء الرحمن نے اپنی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی بنائی اور 1979 میں الیکشن میں کامیابی حاصل کی ۔لیکن بعدمیں ان کوبھی قتل کردیا گیا اور لیفٹیننٹ جنرل ایچ۔ایم ارشادکی رہنمائی میں فوج نے پھرحکومت کی باگ ڈورسنبھالی۔ لیکن بنگلہ دیش کی عوام جلدہی جمہوریت کے مطالبے کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوگئی۔ اورجنرل ارشادکومحدوددائرے میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے کے لیے مجبورہوناپڑا۔ بعدمیں وہ پانچ سال کے لیے صدرمنتخب ہوگئے۔ لیکن 1990 میں عوامی مظاہروں کے سامنے ان کوحکومت سے دست بردار ہونا پڑا ۔ 1991 میں الیکشن ہوئے ۔ اس کے بعدسے ایک کثیرالجماعتی نظام کے تحت بنگلہ دیش میں جمہوریت سرگرم عمل ہے۔

7
ڈھاکہ یونیورسٹی میں نورالحسن کی یادگارنقش بردیوار نورالحسن جنرل ارشادکے خلاف 1987 میں ہوئے جمہوریت حمایتی مظاہروں میں پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ اس کی پشت پرکندہ ہے ’جمہوریت کوآزادی دو‘‘ تصویر بشکریہ :شاہد العالم

آئیے اسے کریں

ہمیں بنگلہ دیش کے گرامین بینک، کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنی چاہیے۔ کیا ہم اس نظریے کو ہندوستان میں غریبی کم کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟

نیپال میں بادشاہت اورجمہوریت

گذرے زمانے میں نیپال ایک ہندوبادشاہت تھی اورآج کے جدیددورمیں یہ کئی سالوں سے محدود دستوری بادشاہت ہے۔ اس عرصہ میں نیپال کی عوام اورسیاسی جماعتیں ایک زیادہ فراخ اورنمائندہ طرزحکومت چاہتی تھیں۔ لیکن فوج کی حمایت اورپشت پناہی سے بادشاہ نے حکومت پرمکمل قابورکھا اورنیپال میں جمہوریت کی نموپرروک لگادی۔
جمہوریت کی بحالی کے لیے زبردست مظاہروں کی وجہ سے 1990 میں بادشاہ نے ایکجمہوری دستور کامطالبہ منظورکرلیا۔لیکن جمہوری حکومتوں کادور مختصراور پرُآشوب رہا۔ 1990 کی دہائی میں نیپال کے مائو نواز (Maoists) ملک کے کئی حصوں میں اپنااثرقائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ بادشاہ اورحکمراں دونوں کے خلاف مسلح سرگرمیوں پریقین رکھتے تھے۔ اس کے نتیجے میں بادشاہ کی فوجوں اورمائونوازگوریلائوں کے درمیان ایک خونی لڑائی شروع ہوگئی۔ کچھ عرصے کے لیے یہ جھگڑا شاہی فوج، جمہوریت پسند اور مائونواز گوریلا تینوں کے درمیان سہ رخی بنارہا۔ 2002 میں بادشاہ نے پارلیمنٹ کوکالعدم قراردے دیا، اورحکومت کوبرطرف کردیا۔اس طرح نیپال میں جمہوریت کے لیے جو کچھ امید تھی وہ بھی ختم گئی ۔
اپریل2006 میں جمہوریت کی حمایت میں ملک گیرپیمانے پرزبردست احتجاج اورمظاہرے ہوئے۔ جمہوریت پسندوں نے اس وقت بڑی کامیابی حاصل کی جب اپریل2002 میں کالعدم قراردی جانے والی پارلیمنٹ کوبحال کرنے کے لیے بادشاہ کومجبور ہو نا پڑا۔یہ غیرمتشددتحریک سات جماعتوں کے اتحاد (Seven Party Alliance)  (SPA)  یعنی مائو نوازوں اورسماجی کارکنوں پرمشتمل تھی۔
جمہوریت کی طرف نیپال کاسفرابھی مکمل نہیں ہواہے۔ فی الوقت ،نیپال اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دورسے گذررہاہے۔ کیونکہ وہ ایک دستورساز اسمبلی بنانے کے عمل میں ہے جونیپال کے لیے دستور تیار کرے گی۔ کچھ طبقوں کاخیال ہے کہ ماضی سے رشتہ جوڑے رکھنے کی بنا پرنیپال کے لیے ایک نام نہاد بادشاہت کاہوناضروری ہے۔ مائو نواز گروپ اپنی مسلح جدوجہدکوملتوی کرنے کے لیے راضی ہوگئے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ دستورمیں سماجی اورمعاشی ڈھانچے کی تعمیرنوکے لیے انقلابی اقدام اٹھائے جائیں ۔ شاید SPA کی تمام جماعتیں اس پروگرام پراتفاق نہ کریں۔ مائونواز اورکچھ اورسیاسی گروپ مستقبل کے نیپال میں ہندوستانی حکومت کے طرزعمل کی جانب سے سخت شکوک وشبہات میں مبتلاہیں۔

سری لنکا میں نسلی تنازعہ اورجمہوریت

آپ پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ 1948 میں اپنی آزادی کے بعدسے سری لنکا جمہوریت کی برقراری میں کامیاب رہاہے۔ لیکن اس کوبہت بڑے چیلنج کاسامنا کرنا پڑا ۔ یہ چیلنج بادشاہت یافوج کی طرف سے نہیں تھابلکہ نسلی جھگڑاتھاجس کی و جہ سے ایک علاقہ ملک سے الگ ہوناچاہتاہے۔
آزادی کے بعدسری لنکا(اس زمانے میں سیلون کہلاتاتھا) میں سیاست پر ان طاقتوں کاغلبہ ہوا جو اکثریت یعنی سنہالی قوم کے مفادات کی نمائندگی کرتی تھیں۔وہ تامل لوگوں سے عداوت رکھتے تھے جو کثیر تعدادمیں تھے اورہندوستان سے ہجرت کرکے سری لنکا میں بس گئے تھے۔ یہ ہجرت آزادی کے بعدبھی جاری رہی۔ سنہالی قوم پرستوں کے خیال میں سری لنکاکوتامل لوگوں کوکوئی مراعات نہ دینی چاہیے کیونکہ سری لنکاصرف سہنالی لوگوں کاہے ۔ تامل مفادات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے جنگجوتامل قوم پرستی نے جنم لیا۔ 1983 سے اب تک جنگجوقوم پرست تنظیم، Libaration Tigers of Tamil Eelam  یعنیLTTE ایک علاحدہ تامل ملک کامطالبہ کررہی ہے اورسری لنکا کی فوج سے مصروف پیکارہے۔ LTTE نے سری لنکا کے شمال مشرقی علاقے کوقبضہ میں لے رکھاہے۔

8
نیپال کتناجوش سے بھرا لگتا ہے ۔کاش میں نیپال میں ہوتی۔

9
10
جمہوری کارکن،درگاتھاپا1990 میں کٹھمنڈوکے ایک جمہوریت حمایتی مظاہرے میں شرکت کرتے ہوئے۔ دوسری تصویرجو2006  کی ہے اس میں بھی یہی درگاتھاپا، دوسری جمہوری تحریک کی کامیابی کاجشن منارہی ہے۔
فوٹو بشکریہمن:بجر اچاریہ

11
اس کارٹون میں سری لنکاکی قیادت کے اس تذبذب کودکھایاگیاہے جوشمالی شدت پسندوں یا ببرشیراورتامل شدت پسندوںیا شیرکے درمیان امن کے مذاکرات میں توازن قائم کرنے کے سلسلہ میں وہ در پیش ہے۔

سری لنکاکے مسئلے میںہندوستانی نژادلوگوں کادخل ہے۔ اورہندوستانی تامل لوگوں کاحکومت پرخاصادبائوہے کہ وہ سری لنکاکے تامل لوگوں کے مفادات کاتحفظ کرے۔ ہندوستان کی حکومت نے وقتاً فوقتاً اس مسئلے پرسری لنکاکی حکومت سے گفتگوکی ہے ۔ لیکن1987 میں ہندوستانی حکومت پہلی باراس تنازعہ میں براہِ راست ملوث ہوگئی۔ ہندوستان نے سری لنکا کے ساتھ ایک سمجھوتے پردستخط کیا اور امن وامان قائم رکھنے کے لیے اپنی فوجیں بھیجیں۔ کچھ واقعات ایسے ہوئے کہ ہندوستانی فوجیں اور LTTE کے درمیان جنگ ہونے لگی۔ ہندوستانی فوجوں کی موجودگی کوسری لنکا کے لوگوں نے بھی زیادہ پسندنہیں کیاتھا۔ انھوں نے اس کوسری لنکاکے داخلی معاملات میں دخل اندازی تصورکیا۔1989میں ہندوستانی امن فوج (IPKF) Indian Peace Keeping Force بغیراپنامقصدحاصل کیے سری لنکاسے واپس آگئی۔
سری لنکا کابحران پرتشددہی رہا۔ لیکن بین الاقوامی سطح پراسکینڈی نیوین ممالک جیسے آئس لینڈ اورناروے، دونوں جنگجوفریقوں کوگفت وشنیدکی طرف واپس لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان مذاکرات کے نتیجے  پراس جزیرے کامستقبل اٹکاہواہے۔
اس جنگی تنازعہ کے جاری رہنے کے باوجود  سری لنکاکی معاشی ترقی قابل قدرہے اورانسانی ترقی کے میدان میں بھی اس نے خاصاکام کیاہے۔ترقی پذیر ممالک میں سری لنکا پہلاملکتھاجس نے آبادی میں اضافے کی شرح کوکامیابی کے ساتھ قابومیں کیا۔ اپنی معیشت کوپابندیوں سے آزادکیا۔ اورخانہ جنگی کے باوجوداس کی  مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح فی کس سب سے زیادہ ہے۔ اوراپنے اندرونی جھگڑوں اوراختلافات کے باوجود اس نے جمہوریت کو برقرار رکھاہے۔

ہند–پاک تنازعات

اب ہمیں خانگی سیاست سے ہٹ کراس علاقے میں  بین الاقوامی تعلقات کی سطح پر رونماہونے والے اختلافات پرنظرڈالنی چاہیے۔سردجنگ کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس علاقے کے سارے جھگڑے اورکشیدگیاںبھی ختم ہوگئیں۔ ہم اندرونی جمہوریت اورنسلی عداوت کی بناپرپیداشدہ جھگڑوں پرنظرڈال چکے ہیں لیکن کچھ اختلافات جوبین الاقوامی نوعیت کے ہیں کافی اہم اورنازک ہیں۔ ہندوستان کے محل وقوع کے پیش نظران سب اختلافات میں وہ ملوث ہے۔
ان میں سب سے زیادہ وسیع اورنمایاں اختلاف ہندوستان اورپاکستان کے درمیان ہے۔ آزادی کے فوراً بعدہی دونوں ملکوں میں کشمیرکی قسمت کے بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ پاکستانی حکومت نے دعویٰ کیا کہ کشمیران کاہے۔ 1947-48 اور1965کی دونوں ملکوں کے درمیان جنگیں بھی یہ مسئلہ حل نہیں کرسکیں۔ 1947-48کی جنگ میں کشمیردوحصوں میں بٹ گیا۔  ایک توپاکستانی مقبوضہ کشمیراوردوسراہندوستانی جموں و کشمیرکاصوبہ۔ ان دونوں کے درمیان حدِ فاصل یعنی لائن آف کنٹرول(line of control)تھی۔ اگرچہ 1971کی جنگ میں ہندوستان نے پاکستان پر ایک فیصلہ کن فتح حاصل کی لیکن کشمیر کامسئلہ جوں کاتوں رہا۔
ہندوستان کاپاکستان سے اختلاف کچھ اورنازک مسائل پربھی ہے جیسے سیاچن گلیشیئرپرکنٹرول اوراسلحہ کے حصول کامعاملہ۔1990 کی دہائی میں اسلحہ کی دوڑ نے ایک نیارخ اختیارکرلیاجب دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے لیے نیوکلیائی اسلحہ اور میزائل حاصل کرناشروع کردیے۔ 1998میں ہندوستان نے پوکھران کے مقام پرنیوکلیائی تجربہ کیا۔ اس کاجواب پاکستان نے چندہی دنوں میں چگائی پہاڑیوں پرنیوکلیائی تجربہ کرکے دیا۔ اس کے بعدسے ہندوستان اور پاکستان میں کچھ ایسی فوجی اور سیاسی مفاہمت ہوئی کہ ایک مکمل جنگ کے امکانات کم ہوگئے ہیں ۔
لیکن دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے بارے میں شک وشبہے میں مبتلاہیں۔ہندوستانی حکومت کا الزام ہے کہ پاکستانی حکومت کشمیری جنگجوئوں کواسلحہ، تربیت، پیسہ اورپناہ دے کر ان کی ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں میں مددکرتی ہے اورایک نچلے پیمانے کے تشددکی پالیسی اختیارکیے ہوئے ہے۔ ہندوستانی حکومت کویہ بھی یقین ہے کہ 1985-95 کے درمیان خالصتان کے حمایتی جنگجوئوں کواسلحہ اور ہتھیارپاکستان نے فراہم کییتھے۔ اس کی خفیہ ایجنسی (ISI) Inter Services Intelligance پربھی یہ الزام ہے کہ وہ شمال مشرقی علاقے میں ہونے والی کئی ہندوستانی مخالف مہمات میں ملوث ہے اورخفیہ طورسے بنگلہ دیش اورنیپال سے اپنی کاروائیاں جاری رکھے  ہوئے ہے۔ دوسری جانب حکومت پاکستان کا خیال ہے کہ ہندوستانی حکومت اوراس کی سیکورٹی ایجنسیاں پاکستان کے سندھ اوربلوچستان میں ہونے والی شورشوں کے لیے ذمے دارہیں۔
ہند پاک تعلقات 
بَنکروں کی بھول بھلیوں سے مذاکرات کی میزوں کی جانب پیش قدمی۔
12
کیشو: دی ہندو
ہند پاک مذاکرات کے موجودہ دور کا ایک منظر 

13
کشمیر کے اوپربحث ومباحثہ سے یہ لگتاہے کہ یہ ہندوستان اورپاکستان کے حکمرانوں کے درمیان کسی جائدادکاجھگڑاہے۔اس بارے میں خودکشمیریوں کے کیااحساسات ہیں؟

دریاؤں کے پانی کی حصے داری پربھی دونوں ملک ایک دوسرے سے متفق نہیں ہیں۔1960تک سندھ وادی کے دریاؤں کے پانی کے استعمال پردونوں میں کافی تلخ بحث چلتی رہی۔ عالمی بینک کی مددسے دونوں ملکوں نے سندھ کے پانی کے معاہدے(Indus Water Treaty) پردستخط کیے اورجوکئی فوجی جنگ وجدل کے باوجودآج تک زیر عمل ہے۔ لیکن اب بھی سندھ پانی کے معاہدے اوردریائوں کے پانی کے استعمال سے متعلق کچھ چھوٹی چھوٹی وضاحتوں کی ضرورت ہے جس کی و جہ سے اختلافات باقی ہیں۔ رن آف کَچھ میں سرکریک (Sir Creek)کی سرحدوں کے بارے میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے سے متفق نہیں ہیں۔ اگرچہ یہ معاملہ چھوٹا ہے لیکن اصل فکریہ ہے کہ یہ معاملہ کیسے سلجھے گاکیونکہ سرکریک سے ملحق علاقہ میں جوسمندری وسائل ہیں ان پرقابوحاصل کرنے کیلیے اس تنازعہ کے فیصلے سے بڑااثرپڑے گا۔ہندوستان اورپاکستان ان تمام مسائل پرایک دوسرے سے گفتگو کررہے ہیں۔

14
ایساکیوں ہے کہ ہندوستان کی ہرپڑوسی کے ساتھ کوئی نہ کوئی الجھن موجودہے؟ ۔ کیایہ ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری ہے،یایہ ہمارے رقبہ کی وجہ ہے؟

ہندوستان اوردوسرے پڑوسی

ہندوستان اوربنگلہ دیش کے آپس میں کئی معاملات میں اختلافات ہیں جن میں گنگا اوربرہمپترا دریائوں کے پانی میں حصے داری کامسئلہ بھی شامل ہے،ہندوستانی حکومت کوبنگلہ دیش حکومت سے کئی شکایتیں ہیں۔ سب سے پہلے تو ہندوستان کی جانب اس کے عوام کی غیرقانونی ہجرت ہے، دوسرے اس کی ہندوستان مخالف اسلامی بنیادپرست گروہوں کی حمایت ہے، تیسرے اس کاہندوستان کے شمال مشرقی علاقے کے لیے ہندوستانی فوجوں کوملک کے اندرسے راستہ دینے سے انکارہے۔ اس کے علاوہ اس کاہندوستان کوقدرتی گیس فراہم کرنے سے انکاراورساتھ ہی ساتھ اپنی سرزمین سے مایانمارکی گیس کاہندوستان لے جانے کی اجازت سے انکارہے۔ بنگلہ دیش بھی ہندوستان سے آزردہ خاطر ہے۔ اس کے خیال میں پانی کی حصّے داری کے معاملے میں ہندوستان،داداگیری،سے کام لے رہاہے۔اور وہ چٹاکانگ کی پہاڑی علاقے میں باغیوں کی حوصلہ افزائی کررہاہے۔ اس کے قدرتی گیس کے ذخیرے پرہاتھ صاف کرناچاہتاہے اورتجارت میں ایماندارنہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں کی تعین کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔
ان اختلافات کے باوجوددونوں ممالک کئی دوسرے معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ پچھلے دس سال میں معاشی تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش ہندوستان کی مُشرق کی طرف دیکھو‘ پالیسی کا ایک اہم حصّہ ہے،جس میں وہ مایانمارکے راستہ سے جنوب مشرقی ایشیا سے رابطہ قائم کرناچاہتاہے۔ دونوں ملکوں نے تباہ کاریوں کے بعدراحت رسانی اورماحولیاتی مسائل پرایک دوسرے سے برابرتعاون کیاہے۔ اب یہ کوشش بھی جاری ہے کہ دونوں کوایک دوسرے کی ضروریات کے بارے میں زیادہ حساس کیاجائے اورمشترکہ خطروں کی شناخت کرکے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے میدان کووسیع تر کیاجائے۔
نیپال اورہندوستان کے تعلقات خصوصی نوعیت کے ہیں۔ ایسے تعلقات کی مثالیں دنیامیں شایدچند ہی ہوں۔ دونوں ملکوں کے درمیان دستخط شدہ ایک معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے شہری بغیرپاسپورٹ اور ویزا کے ایک دوسرے کے یہاں آجاسکتے ہیں اورکام کرسکتے ہیں۔ لیکن اس خصوصی تعلق کے باوجوددونوں ملکوں میں تجارت کے مسئلہ پرماضی میں غلط فہمیاں پائی جاتی رہی ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے نیپال اورچین کے بہت خوشگوارتعلقات،اورسندھ نیپال میں ہندوستان مخالف سرگرمیوں کی جانب نیپال حکومت کے نرم رویّے کی اکثرشکایت کی ہے ۔ اس کے علاوہ نیپال میں بڑھتی ہوئی مائونواز تحریک ہندوستان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے،کیونکہ یہ شمال میں بہاراورجنوب میں آندھراپردیش تک پھیلی ہوئی نکسلی تحریک کوتقویت دیتے ہیں۔ نیپال کے کچھ لیڈر اورشہریوں کاخیال ہے کہ ہندوستانی حکومت نیپال کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرتی ہے اوریہ کہ نیپال کے دریائوں اورپن بجلی یعنی ہائڈرو الیکٹرسٹی (Hydro-electricity) وسائل پراس کی نظرہے۔ مزید یہ کہ نیپال ایک ایساملک ہے جوچاروںطرف سے زمین سے گھراہواہے اور ہندوستانی حکومت اس کوسمندرتک رسائی کے لیے اپنی زمین سے راستہ دینے کے لییتیارنہیں ہے۔ ان سب کے باوجود ہندوستان اورنیپال کے تعلقات پرامن اور اچھے خاصے مستحکم ہیں۔ اوراختلافات کے باوجود، سائنسی تعاون، تجارت، مشترکہ قدرتی وسائل ،بجلی کی پیداواراورپانی کے باہم انتظام نے دونوں ملکوں کودوستی کے رشتے میں باندھ رکھاہے۔ یہ امیدہے کہ جمہوریت کے استحکام کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے تعلقات اور مضبوط ہوتے جائیں گے۔

آئیے مل جل کرکریں

اقدام

¤ کلاس کوسات گروپ (جتنے ممالک ہیں ان کی تعدادکے مطابق) میں تقسیم کیجیے۔ ہرگروپ میں طلباکی تعداد اس ملک کے رقبہ کے لحاظ سے ہوجس کی نمائندگی وہ کررہاہے۔
¤ ہرگروپ کوایک ملک کانام دیجیے اوراس ملک کے خاکے کی ایک فائل اس گروپ کودے دیجیے۔ بنیادی معلومات کے علاوہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے تنازعہ اورمسائل پرایک مختصر نوٹ بھی شامل کیجیے۔ یہ مسائل وہ بھی ہوسکتے ہیں جواس باب میں زیرِ بحث آئے ہیں یااس سے باہرکے مسائل۔
¤ طلبااپنی پسندکے مسائل چن سکتے ہیں۔ یہ مسائل دوملکوں کے بھی ہوسکتے ہیں اورکئی ملکوں کے مشترکہ بھی۔ (یہ مسئلہ ہندوستان بالخصوص علاقے کی جغرافیائی خصوصیات سے متعلق بھی ہوسکتا ہے)
¤ طلبایہ معلوم کریں کہ متعلقہ حکومتوں نے ان مسائل کے بارے میں کیااقدام کیے اوروہ کیااسباب تھے جن کی و جہ سے وہ ناکام ہوئیں۔
¤ طلباجس ملک کی نمائندگی کررہے ہیں اس کاکرداراداکریں اوراپنی اپنی معلومات کو ایک دوسرے سے ملائیں۔

استادکے لیے تجاویز

ایک سے مسائل رکھنے والے ملکوں کی جوڑی بنائیے۔ دوطرفہ مسئلوں میں یہ دوگروپ ہوسکتے ہیں اورکئی ملکوں سے متعلقہ مسائل میں کئی گروپ بھی ہوسکتے ہیں(دوطرفہ مسئلوں کی مثال میں ہندوستان کے درمیان جموں اورکشمیرکامسئلہ یاہندوستان اوربنگلہ دیش کے درمیان مہاجرین کامسئلہ۔کئی ملکوں کے مسئلے کی مثال آزادانہ تجارت کے علاقے کی تخلیق اوردہشت گردی سے نمٹنا)
یہ گروپ آپس میں پیش کش اورجوابی پیش کش پر ایک محدود وقت میں تبادلۂ خیال کریں۔ استادکواس تبادلئہ خیال کے نتیجے کونوٹ کرناچاہیے۔ زیادہ توجہ رضامندی اورغیررضامندی کے مقامات پرہونی چاہیے۔
تبادلئہ خیال کے بعدجونتیجہ نکلے اس کوجنوب ایشیاکے ممالک کی موجودہ حالت سے مقابلہ کیجیے۔کسی سیاسی مسئلہ پرگفت وشنیدمیں جومشکلات سامنے آتی ہیں ان کوبتائیے۔ اس بحث کاخاتمہ ایک پرامن باہمی بقا،جس میں ایک دوسرے کے مفادات کوجگہ دی گئی ہو،کی اہمیت بتاتے ہوئے کیجیے۔


ہندوستان اورسری لنکاکے تعلقات میں جو مشکلات درپیش ہیں وہ دراصل اس نسلی عداوت کے باعث ہیں جس نے سری لنکاکے جزیرے کواپنی لیپٹ میں لے رکھاہے۔ ہندوستانی رہنمائوں اورشہریوں کو اس وقت غیرجانبداررہناناممکن ہوجاتاہے جب تامل لوگ سیاسی طورسے ناخوش ہوں اوران کوقتل کیاجارہاہو۔1987 کی فوجی مداخلت کے بعد ہندوستانی حکومت کی پالیسی سری لنکا کے اندرونی معاملات کے بارے میں غیردخل اندازی اور دامن جھاڑنے کی رہی ہے۔ ہندوستان نے سری لنکا کے ساتھ ایک آزادانہ تجارت کامعاہدہ کیاجس سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر خوشگواراثرپڑا۔اس کے علاوہ سونامی طوفان کے بعدسری لنکا میں راحت رسانی کے لیے جومددہندوستان نے دی اس سے بھی دونوں ملک ایک دوسرے سے قریب آئے ہیں۔

15
اگرریاست ہائے متحدہ  امریکہ کے باب کاعنوان ’امریکہ کی بالادستی‘ ہوسکتا ہے تواس باب کاعنوان ہندوستان کی بالادستی،کیوں نہیں ہوسکتا؟

16
سریندر: دی ہندو
یہ کارٹون جنوب ایشیا کے علاقائی تعاون کے عمل میں ہندوستان اورپاکستان کے کردارکے بارے میں کیاکہتاہے؟

بھوٹان کے ساتھ ہندوستان کا ایک خاص رشتہ ہے اوردونوں کے درمیان کوئی قابلِ ذکر اختلاف نہیں ہے ۔ وہ جنگجواورگوریلے جوہندوستان کے شمال مشرق میں سرگرم عمل ہیں، اپنے  ملک میں ان کوختم کرنے کے لیے بادشاہ نے جوقابلِ قدر کوششیں کیں ان سے ہندوستان کوکافی مددملی۔ ہندوستان بھوٹان میں بڑے پن بجلی ہائیڈروالیکٹرک(hydroelectric) پروجیکٹ پر کام کررہاہے اورترقی کی امدادمیں اس ہمالیائی سلطنت کاسب سے بڑاذریعہ ہے۔مالدیپ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات دوستانہ اور خوشگوار ہیں۔ جب نومبر 1988میں کچھ تامل کرائیکے فوجیوں نے جو سری لنکا سے آئے تھے ، مالدیپ پر حملہ کیاتومالدیپ کی درخواست پرہندوستانی فضائیہ اوربحریہ فوری طور پر حرکت میں آئے اورحملہ کوناکام بنایا۔ ہندوستان نے مالدیپ کی معاشی ترقی، سیرو سیاحت اورمچھلی کی صنعت (fisheries) کے میدان میں بھی مددکی ہے ۔
آپ نے یہ دیکھاہوگاکہ ہندوستان کے چھوٹے پڑوسیوں سے کئی قسم کے اختلافات ہیں۔ ہندوستان کے رقبہ اورطاقت کے پیشِ نظر ان کا ہندوستان پر شک کرنا لازمی ہے۔ دوسری طرف ہندوستانی حکومت کویہ احساس ہوتاہے کہ اس کے پڑوسی اس سے ناجائزفائدہ اٹھارہے ہیں۔ ہندوستان ان ملکوں کی غیریقینی سیاسی صورت حال کوبھی ناپسند کرتاہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ اس طرح سے باہرکی طاقتیں اس علاقہ میں اپنااثرقائم کرسکتی ہیں۔ چھوٹی ریاستوں کو خطرہ ہے کہ ہندوستان علاقے کی ایک بڑی طاقت بنناچاہتاہے۔
جنوبی ایشیامیں سارے جھگڑے ہندوستان اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان ہی نہیں ہیں۔ ماضی میں نیپال اوربھوٹان کے درمیان نیپالیوں کے بھوٹان میں ہجرت کرنے پراوربنگلہ دیش اورمایانمارکے درمیان روہنگ یائوں کی مایانمارکی جانب ہجرت کرنے پر اختلافات برپاہوچکے ہیں۔بنگلہ دیش اورنیپال کے مابین بھی ہمالیائی دریائوں کے پانی پراختلاف ہوچکاہے ۔ لیکن بڑے جھگڑے اور اختلافات ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے درمیان ہیں۔ شایداس و جہ سے ہیںکہ جغرافیائی طورسے ہندوستان کی سرحدیں ہرملک سے ملتی ہیں اوراس طرح وہ ایک مرکزی حیثیت کاحامل ہے۔

17
کیشو: دی ہندو
پاکستان ٹریبون
دو کارٹون جن میں سے ایک ہندوستان کا اور دوسرا پاکستان کا ہے۔ ان دو اہم کھلاڑیوں کے کردار کی ترجمانی کرتے ہیں جو اس خطہ میں بھی دلچسپی لیتے ہیں ۔ کیا آپ ان کے تناظر میں کوئی مشابہت دیکھتے ہیں۔

18
ہرتنظیم کی بنیادتجارت پررکھی ہوئی لگتی ہے۔ کیاتجارت ’عوام سے عوام کے تعلقات ‘سے زیادہ اہم ہے؟

امن اورتعاون

کیاجنوبی ایشیاکی ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی ہیں؟ یاوہ صرف ایک دوسرے سے جھگڑا کرنا جانتی ہیں؟ اختلافات کے باوجود یہ ریاستیں ایک دوسرے سے بہترتعلقات اورتعاون کی اہمیت کوتسلیم کرتی ہیں۔ جنوبی ایشیا کی تنظیمبرائے علاقائی تعاون ، (SAARC) جنوب ایشیائی ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے کی جانب تعاون کے عمل میں ایک اہم پیش قدمی ہے۔ یہ سلسلہ1985 میں شروع ہوا۔ بدقسمتی سے مستقل سیاسی اختلافات کی و جہ سے SAARC کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ SAARC کے ممبروں نے جنوب ایشیائی آزاد تجارت (SAFTA)  کے معاہدے پردستخط کیے جس نے پورے جنوبی ایشیاکوایک آزاد تجارت کاعلاقہ تجویزکیا۔
جنوبی ایشیامیں امن وتعاون کاایک نیاباب کھل سکتاہے اگراس علاقے کے تمام ممالک سرحدوں کے پارآزادانہ تجارت کی اجازت دے دیں۔  SAFTA کے قیام کے پیچھے یہی جذبہ کارفرماہے۔ اس معاہدے پر 2004  میں دستخط ہوئے اوریکم جنوری 2006  سے اس پرعمل شروع ہوا۔ SAFTA کامقصد ہے کہ  جنوری 2007 تک وہ تجارتی محصول(Tarrif) کوبیس فیصدکم کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ لیکن ہمارے کچھ پڑوسیوں کاخیال ہے کہ SAFTA دراصل ان کی منڈیوں پریلغارکرنے اوران کی معاشرت اورسیاست پرتجارتی دائوپیچ سے دخل اندازی کرنے کی ایک چال ہے۔ ہندوستان کاخیال ہے کہ SAFTA سے ہرملک کوبہترمعاشی فوائد ہیں اوریہ کہ جس علاقے میں آزادانہ تجارت زیادہ ہوگی وہ سیاسی معاملات میں اتناہی زیادہ مددگارثابت ہوگی۔ کچھ کاخیال ہے کہ ہندوستان کو SAFTA کی اتنی ضرورت نہیں ہے کیونکہ  بھوٹان ، نیپال اورسری لنکاسے اس کے دوطرفہ تجارتی معاہدے موجود ہیں ۔
اگرچہ ہندوستان وپاکستان کے تعلقات کی کہانی تشددتنازعہ اوردشمنی کی لمبی داستان ہے اس کے باوجودتنائوکم کرنے اورامن کی فضاقائم کرنے کے لیے کافی کوششیں کی گئی ہیں۔ دونوں ملکوں نے جنگ کے خطرہ کوٹالنے کے لیے اعتماد سازی کے ذرائع استعمال کیے ہیں۔ سماجی کارکن اوردونوں ملکوں کی نمایاں ہستیوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اوربھائی چارہ کا ماحول بنانے میں ایک دوسرے کاساتھ دیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بسوں کے کئی راستے کھولے گئے ہیں، پنجاب کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت میں پہلے پانچ سال میں کافی خاصااضافہ ہوا۔ویزے اب آسانی سے ملنے لگے ہیں۔
کوئی بھی علاقہ خلامیں نہیں بستا۔ وہ باہری طاقتوں اورواقعات سے متاثرہوتاہے خواہ وہ ان سے علاحدہ رہنے کی کتنی ہی کوشش کرے۔ جنوبی ایشیامیں چین اورریاست ہائے متحدہ امریکہ دواہم کھلاڑی ہیں۔ پچھلے دس سال میں ہندچین تعلقات کافی بہترہوئے ہیں۔ لیکن چین کے ساتھ پاکستان کے فوجی اہمیت کے تعلقات الجھن میں ڈال دیتے ہیں۔ ترقی اورعالم گیریت کے مطالبے نے جنوبی ایشیاکے دونوں دیوزادوں کوایک دوسرے کے قریب کردیاہے اوران کے معاشی تعلقات 1991 سے بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔
سردجنگ کے بعدجنوبی ایشیامیں امریکہ کی دلچسپی کافی بڑھ گئی ہے۔ سردجنگ کے بعدریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ہندوستان اورپاکستان دونوں سے بہتر تعلقات رہے ہیں اور وہ ہندوپاک تعلقات میں ایک مشیرکارکاکردارنبھاتا ہے۔ امریکہ میں بکھرے ہوئے بڑی تعدادمیں جنوب ایشیائی باشندے، اورآبادی کی ایک بڑی تعداد اورعلاقے کی مارکیٹ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لیے اس علاقے میں مستقبل کے تحفظ اورسلامتی کے لیے اچھاموقعہ ہے۔
دیکھنایہ ہے کہ کیاجنوبی ایشیااختلافات اور تنازعات سے پُر علاقہ کے نام سے جانا جائے گایاایک علاقائی بلاک کی صورت میں ابھرے گا جس کی اپنی مشترکہ ثقافتی خصوصیات ہوں گی اورتجارتی مفادات کاانحصارعلاقہ کے عوام اورحکومتوں پرہوگانہ کہ کسی باہری طاقت پر۔

مشقیں

1 ۔ ملکوں کی شناخت کیجیے:
(a)  یہاں بادشاہت کے حامیوں، جمہوریت کے حامیوں اورانتہاپسندوں کی آپس کی جدوجہداورطاقت آزمائی نے سیاسی ناپائیداری کاماحول پیداکردیا۔
(b)  چاروں طرف زمین سے گھراہوا ایک کثیرالجماعتی مقابلے کاملک۔
(c)  جنوبی ایشیا میں پہلاملک جس نے آزادانہ تجارت کی راہ اختیارکی۔
(d)  اس ملک میں جمہوریت پسندطاقتوں اورفوج کے درمیان رسہ کشی میں بالآخرفوج کی بالادستی قائم ہوگئی۔
(e)  علاقے کے وسط میں واقع ہے اورجنوبی ایشیا کے زیادہ ترملکوں سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔
(f)  پہلے اس جزیرے کاسربراہ سلطان،کہلاتاتھا لیکن اب یہ عوامی جمہوریہ ہے۔
(g) چھوٹی بچت اوردیہی علاقوں میں قرض دینے والی امداد باہمی سوسائٹیوں اورسہولتوں نے غریبی کم کرنے میں مددکی ۔
(h) زمین سے گھراہوا ایک ملک جہاں بادشاہت کا نظام قائم ہے۔
جنوبی ایشیا کے متعلق ان میں سے کون سابیان غلط ہے؟
(a) جنوبی ایشیاکے تمام ممالک جمہوری ہیں۔
(b) بنگلہ دیش اورہندوستان نے دریائوں کے پانی کی حصّے داری کے معاہدے پردستخط کیے ہیں۔
(c) SAFTA  پردستخط اسلام آبادمیں  SAARC  کی بارھویں چوٹی کانفرنس میں ہوئے۔
(d) حزب ایشیا کی سیاست میں چین اورریاست ہائے متحدہ امریکہ اہم رول اداکررہے ہیں۔
بنگلہ دیش اورپاکستان کے اپنے اپنے جمہوری تجربوں میںکون سے مشترک اورمتضادعناصرہیں؟
4 ۔ نیپال میں جمہوریت کے سامنے کی تین بڑی رکاوٹوں کاذکرکیجیے۔
سری لنکاکے نسلی تنازعہ کے اہم فریقوں کے نام بتائیے۔ اس تنازعہ کے حل کرنے کے اقدام اوراسباب کاجائزہ لیجیے۔
ہندوستان وپاکستان کے درمیان طے ہوئے پچھلے چندمعاہدوں کے نام بتائیے۔ کیاہم یہ یقین کرسکتے ہیں کہ دونوں ملک اب دوستی کی راہ پرگامزن ہیں؟
ہندوستان اوربنگلہ دیش کے درمیان اختلاف اورتعاون کے بالترتیب دو دودائرۂ کار بیان کیجیے۔
جنوبی ایشیا کے کسی بھی دوملکوں کے باہمی تعلقات پرخارجی قوتیں کیسے اثراندازہوتی ہیں؟اپنی دلیل کی وضاحت کے لیے کسی بھی ملک کی مثال دے سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کے ملکوں کے درمیان معاشی تعاون کوفروغ دینے کے ایک مرکزکی حیثیت سےSAARC کے کردار اور حدودکے اوپرایک مختصرنوٹ لکھیے۔
10 ۔ ’’ہندوستان کے پڑوسی ملک اکثریہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت علاقے کے چھوٹے ممالک کے اندرونی معاملات پر حاوی ہونے اور دخل اندازی کرنے کی کوشش کرتی ہے اوران پراپنی بالادستی قائم کرناچاہتی ہے‘‘۔ کیایہ خیال صحیح ہے؟