Skip to content
Asrialamisiyasat-001

باب 6

بین الاقوامی تنظیمیں

اجمالی تعارف

اس باب میں ہم سوویت یونین کے زوال کے بعد بین الاقوامی تنظیموں کے کردار کے بارے میں بحث کریں گے۔ ہم تحقیق کریں گے کہ دنیا کی موجودہ صورتحال اور مسائل کے درمیان جس میںریاست ہائے متحدہ امریکہ کا اکیلی عظیم طاقت کے طور پر آنا بھی شامل ہے،     بین الاقوامی تنظیموں کے ڈھانچوں کو از سرِ نو تعمیر کرنے کے مطالبے سامنے آئے۔ تاکہ وہ ان مسائل کا مقابلہ کرنے کے لائق ہوسکیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا زیر نظر پروگرام اس حقیقت کا دلچسپ مظہر ہے کہ اصلاحات کے طریقہ کار میں کیا مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ہم اقوام متحدہ میں ہندوستان کی کارکردگی اور سلامتی کونسل میں اصلاحات کے بارے میں اس کے نظریہ پر بات کریں گے۔ باب کا خاتمہ اس بحث پر ہوگا کہ کیا ایک اکیلی عظیم طاقت کے غلبہ والی دنیا میں اقوام متحدہ کوئی کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ایسی ماورائے قوم تنظیموں کا ذکر بھی ہوگا جو دنیا میں اہم کردار نباہ رہی ہیں۔


1
یہ اقوام متحدہ کا نشان ہے۔ اس نشان پر دنیا کا نقشہ ہے جس کے چاروں طرف زیتون کی شاخ لپٹی ہوئی ہے جو عالمی امن کی  علامت ہے۔


بین الاقوامی تنظیمیں کیوں؟

نیچے دیئے ہوئے دنوں کارٹون کو ملاحظہ کیجیے۔ دونوں کارٹون اقوام متحدہ، جسے عام طور سے یو۔این (U.N.) کے نام سے یاد کیا جاتاہے، کی نااہلی اور غیر مؤثر ہونے پر طنز ہیں جب کہ 2006میں لبنان میں بحران پیدا ہوا۔ دونوں ہی کارٹون وہ رائے پیش کرتے ہیں جو ہم اکثر سنتے رہتے ہیں۔
دوسری جانب ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ اقوام متحدہ کو آج کی دنیا کی سب سے اہم بین الاقوامی تنظیم مانا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں اکثر لوگ یہ مانتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا وجود ناگزیر ہے اور یہ عالمی امن اور ترقی کی امید  کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہمیں پھر اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کی ضرورت کیوں ہے؟ چلیے دو گھر کے بھیدیوں کی بات سنتے ہیں۔


’’اقوام متحدہ کی تشکیل عالم انسانیت کو جنت میں لے جانے کے لیے نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کو دوزخ میں گرنے سے بچانے کے لیے ہے‘‘۔ ڈاگ ہیمرشولڈ، اقوام متحدہ کا دوسرا جنرل سکریٹری
’’باتوں کی دوکان؟ صحیح ہے۔ اقوام متحدہ میں بہت تقریریں اور میٹنگیں ہوتی ہیں خاص طور سے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقعہ پر۔ لیکن جیسا کہ چرچل نے کہا ہے کہ جنگ کرنے سے بکواس کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اور کیا واقعی یہ زیادہ بہترین ہے کہ دنیا میں ایک ایسا مرکزی مقام ہے جہاں دنیا کے سارے ملک ساتھ بیٹھ کر اپنی بکواس سے ایک دوسرے کو بور کریں بجائے اس کے کہ میدانِ جنگ میں ایک دوسرے کا گلاکاٹیں۔‘‘ ششی تھرور، سابق انڈر سکریٹری اقوام متحدہ برائے مواصلات و ابلاغ۔

2
یہی بات تو لوگ پارلیمنٹ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک باتیں بنانے کی دوکان ہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہمیں باتوں کی دوکان کی ضرورت ہے؟

3
جون 2006 میں جنگجو تنظیم حزب اللہ کو قابو میں لانے کے بہانے سے لبنان پر حملہ کردیا۔ اس حملہ میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوگی۔ اسرائیلی بمباری کی زد میں نہ صرف غیر فوجی عمارتیں آئیں بلکہ رہائشی عمارتیں بھی تباہ ہوئیں۔ اقوام متحدہ صرف اگست کے ماہ میں اس پر ایک قرارداد پاس کرنے کے قابل ہوئی اور پھر اکتوبر میں اسرائیلی فوجوں نے اس علاقہ کو خالی کرنا شروع کیا۔ یہ دونوں کارٹون اس واقعہ میں اقوام متحدہ اور اس کے سکریٹری جنرل کے کردار پر تبصرہ ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(IMF)
4
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے اور یہ ان مالیاتی اداروں اور اصولوں کی نگرانی کرتا ہے جو بین الاقوامی سطح سطح پر کام کرتے ہیں۔ IMF میں یوں تو 184 ممبر ہیں لیکن ہر ممبر مساوی حصہ نہیں رکھتا۔ چوٹی کے دس ممبر 55فیصد ووٹ کا حق رکھتے ہیں۔ یہ G-8کے ممبر ہیں (امریکہ ، جاپان، جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی ، کیناڈا اور روس) سعوعی عربیہ اور چین بھی شامل ہیں۔ اکیلے امریکہ کے ووٹنگ حقوق 17.4 فیصد ہیں۔

یہ دونوں اقتباسات کچھ اہم خبر دیتے ہیں۔   بین الاقوامی تنظیمیں دنیا کے ہر مسئلہ کا جواب نہیں ہیں لیکن بہت اہم ہیں۔ حالت امن اور جنگ میں بین الاقوامی تنظیمیں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ وہ ان ممالک کی مدد بھی کرتی ہیں جو ہماری زندگی کو بہتر بنانے میں تعاون کرتے ہیں۔
دنیا کے ممالک میں آپس میں جھگڑے اور اختلافات ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس نفرت کے معاملہ کی وجہ سے لازمی طور سے جنگ کریں۔ وہ حساس معاملات پر گفتگو کرکے مسئلہ کا ایک پُر امن حل تلاش کرسکتے ہیں۔بلکہ حقیقت یہی ہے کہ اگرچہ ایساکم ہی نظر آتا ہے کہ بیشتر جھگڑے اور اختلافات بغیر جنگ کے مل بیٹھ کر ہی حل کیے گئے ہیں۔ اس پس منظر میں ایک بین الاقوامی تنظیم کا کردار بہت اہم ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی بین الاقوامی تنظیم کوئی اعلیٰ ترین ریاست نہیں ہے جس کا حکم اپنے ممبروں پر چلتا ہے۔ ریاستیں ہی بین الاقوامی تنظیم کو تخلیق کرتی ہیں اور یہ انہی کو جوابدہ ہے۔ یہ اسی وقت وجود میں آتی ہے جب ریاستیں اس کی تخلیق پر متفق ہوجائیں۔ اگر ایک بار کسی تنظیم کی تشکیل ہوجائے تو یہ اپنے ممبرریاستوں کو پر امن طریقہ سے اپنے مسائل حل کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔
بین الاقوامی تنظیمیں ایک دوسرے طریقہ سے بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ایسے بہت سے کام ہیں جو ریاستوں یا ملکوں کو ساتھ ساتھ کرنا چاہئیں۔ ایسے کئی طاقتور مسائل اور چیلنج ہیں جن کا مقابلہ صرف اکٹھے ہوکر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس کی ایک مثال بیماری ہے۔ کچھ بیماریاں ایسی ہیں کہ وہ صرف اسی صورت میں ختم کی جاسکتی ہیں جب دنیا کے تمام ملک اپنی مکمل آبادی کو ان بیماریوں کے خلاف ٹیکے لگوائیں۔ یا عالمی حرارت (global warming) کے مسئلہ کو لیجیے۔ ایک کیمیاوی مرکب کلوروفلوروکاربنز (CFSc) کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ماحول کے درجہ حرارت میں اضافہ ہورہاہے اور یہ خطرہ ہے کہ سمندر کی سطح بھی بلند ہوجائے گی اور دنیا کے کئی ساحلی علاقے جن میں کہ بڑے بڑے شہر بھی شامل ہیں۔ پانی میں غرق ہوجائیں گے۔ یقینا ہر ملک عالمی حرارت کا حل اپنے اپنے مفاد کے مطابق سوچ سکتا ہے لیکن آخر میں ایک زیادہ مؤثر طریقہ کی ضرورت ہوگی۔اس کے لیے کم سے کم تمام بڑی صنعتی طاقتوں کا آپس میں تعاون ضرور ی ہے۔

آیئے اسے کریں

ان مسائل اور معاملات کی فہرست بنائیے جو کوئی ملک اکیلے حل نہیں کرسکتا اور ایک بین الاقوامی تنظیم کی اس کے لیے ضرورت ہے (اس فہرست میں وہ مسائل نہ شامل کیجیے گا جو اس باب میں زیر بحث آچکے ہیں)

بدقسمتی سے تعاون کی ضرورت محسوس کرنا اور عملی طریقوں سے واقعی تعاون کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ قومیں ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہیں لیکن اس پر اتفاق نہیں کرتیں کہ اس سلسلہ میں سب سے بہتر طریقہ کیا ہوسکتا ہے۔ اور تعاون کے فائدہ  کو کس طرح بانٹا جائے اور اس کی یقین دہانی کیسے کی جائے کہ تعاون کے فوائد منصفانہ طریقہ سے سب کو ملیں گے۔ مزید یہ کہ دھوکہ بازی کا سد باب کس طرح ہوگا۔ بین الاقوامی تنظیم تعاون کے بارے میں اطلاعات اور مطمح نظر فراہم کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔ یہ اصول و ضوابط ، انتظامی مشین اور دفتری ٹیم مہیا کرسکتی ہے جو ممبروں کو یہ اعتماد دلاسکتی ہے کہ تعاون کی قیمت مناسب طریقہ سے مانتی جائے گی اور فوائد میں شرکت بھی منصفانہ طریقہ سے ہوگی۔ مزید یہ کہ اگر کوئی ممبر کسی معاہدہ پر دستخط کرتا ہے تو وہ اس کو آخر تک نبا ہے گا۔
سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کو کچھ تھوڑا مختلف کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ  اور اس کے دوست ممالک فتحیاب ہوکر ابھرے تو دنیا کے اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ امریکی قیادت میں مغربی ممالک اتنے طاقتور بن جائیں گے کہ ان کی امنگوں اور تمنائوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ کیا اقوام متحدہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو کسی معاملہ میں گفتگو پر آمادہ کرسکتی ہے اور کیا یہ امریکی حکومت کے اختیارات کو محدود کرسکتی ہے؟ ہم اس سوال کا جواب اس باب کے آخر میں دیں گے۔

اقوام متحدہ کا ارتقاء

اگست 1941: امریکی صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ اور برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے اوقیانوس منثور (Atlantic Charter) پر دستخط
جنوری 1942:  26اتحادی قوموں نے جو محوری قوتوں کے خلاف جنگ میں مصروف تھیں، واشنگٹن ڈی سی میں Atlantic Charter کی حمایت میں ایک میٹنگ کی اور ’اقوام متحدہ کے اعلان ، پر دستخط کیے۔
دسمبر 1943 :  تین طاقتوں (ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، برطانیہ اور سوویت یونین) کا تہران کانفرنس کا اعلان
فروری 1945 :  تین بڑوں (روزویلٹ، چرچل اور اسٹالن) نے یالٹا کانفرنس میں متحدہ اقوام کی ایک کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا تاکہ اقوام متحدہ کی تشکیل کی جاسکے۔
اپریل اور مئی:  سان فرانسسکوں میں عالمی تنظیم کے اوپر دو ماہ طویل اقوام متحدہ کانفرنس
26 جون 1945 :  پچاس ملکوں نے اقوام متحدہ کے منشور پر دستخط کیے (پولینڈ نے 15 اکتوبر کو دستخط کیے۔ اس طرح سے اس کے تاسیسی ممبر 51 ہوگئے)
24 اکتوبر 1945 :  اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی (اور اسی لیے 24 اکتوبر کو یوم اقوام متحدہ منایا جاتا ہے)
30 اکتوبر 1945  :  ہندوستان نے اقوام متحدہ میں شامل ہوا۔

5

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے جنگی اطلاعات کے دفتر (Office of war Information) نے یہ پوسٹر 1942 کی متحدہ اقوام کے اعلان کے بعد جاری کیا تھا۔ پوسٹر میں ہر اتحادی ملک کے جھنڈے کی تصویر ہے۔ یہ تصویر اقوام متحدہ کے فوجی نقطہ آغاز کو ظاہر کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کا نظام 

خاص اعضاء

ذیلی ادارے 
◊ملٹری اسٹاف کمیٹی◊ بین الاقوامی کریمینل ٹریبونل ◊قیام امن کے لیے مہمات و مشن
متعلقہ تنظیمیں
بین الاقومی نیوکلیائی توانائی ایجنسی (IAEA) جو اپنی کارکردگی کے لیے جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے سامنے جوابدہ ہے
پروگرام اور فنڈ
-کانفرنس برائے تجارت و ترقی (UNCTAD) ◊ماحولیاتی پروگرام (UNEP) پروگرام برائے فروغ (UNDP)◊فنڈ برائے اطفال ◊(UNCEF) فنڈ برائے آبادی (UNFPA) ◊ہائی کمیشن برائے پناہ گزین کا دفتر (UNHCR) ◊عالمی پروگرام برائے خوراک ◊(WFP) فلسھینی مہاجرین کی راحت کاری کی تنظیم ◊(UNWRA) انسانی آبادی کاری کا پروگرام
عملی کمیشن
انسای حقوق منشیات◊پائیدار ترقی
    خواتین کی حیثیت◊
علاقائی کیشن
معاشی کمیشن برائے افریقہ◊ یوروپ ◊ لاطینی امریکہ اور کریبین اشیا اور بحر الاکاہل کے معاشی اور سماجی کمیشن◊ مغربی ایشیا
سلامتی کونسل
پندرہ ممبر۔ پانچ مستلق (ویٹو کے اختیار کے ساتھ ) بقیہ دس دوسال کی مدت کے لیے جنرل اسمبلی سے منتخب ۔ تمام اقوم متحدہ کے ممبر اس کے فیصلوں کے پابند ہیں
تحقیقی اور تربیتی ادارے
سماجی ترقی کا تحقیقی ادارہ (UNRISD)
جنرل اسمبلی
192 ممبر ریاستوں کے نمائندہ ۔ ہر ایک کا ایک ووٹ بڑے فیصلوں کے لیے دوتہائی اکثریت درکار ورنہ تو صرف اکثریت۔ امن کے فیصلوں کی پابدی ممبر ملکوں پر فرض نہیں ہے
ذیلی تنظیمیں
کمیٹیاں اور ایڈہاک ادارے
متعلقہ تنظیمیں
کیمیاوی اسلحہ کی ممالنعت کی تنظیم (OPCW)
سماجی اور معاشی کونسل
جنرل اسمبلی یکے بعد دیگرے تین سال کی مدت کے لیے 54 ممبر ریاستوں کا انتخاب کرتی ہے یہ انتخاب جغرافیائی نمائندگی پر مبنی ہوتے ہیں
متعلقہ تنظیم 
عالمی تجارتی تنظیم (WTO)
انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس۔ 
دی ہیگ۔
 جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی ایک مطلق اکثریت کے ذریعہ نو سال کی مدت کے لیے پندرہ منتخب شدہ جج
سکریٹریٹ
بین الاقوامی اسٹاف جو مختلف اداروں میں کام کرتا ہے۔ سکریٹریٹ کی باگ ڈور سکریٹری جنرل کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس کو جنرل اسمبلی سلامتی کونسل کی سفارش پر پانچ سال کی قابل تجدید مدت کے لیے مقرر کرتی ہے
دوسرے ادارے
nہائی کمیشن برائے پناہ گزیں کا دفتر nاقوام متحدہ یونیورسٹی (UNU) nایڈز (HIV/AIDS)  پر مشترکہ پروگرام
مخصوص ادارے(غیر ذیلی)
-بین الاقوامی مزدور تنظیم (ILO) ◊ بین الاقوامی تنظیم برائے زراعت و خوراک (FAO) ◊تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (UNESCO) ◊عالمی تنظیم برائے صحت (WHO) ◊عالمی بنک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)  ◊انٹر نیشنل ماری ٹائم آرگنائیزیشن ◊(IMO) بین الاقوامی موسمیاتی تنظیم ◊(WHO) بین الاقوامی مواصلاتی یونین (ITO)
ٹرسٹی شپ کونسل
پلائوکی آزادی کے بعد یکم نومبر 1994 سے اس کو معطل کردیا گیا ہے۔ کیونکہ پلائو ہی اقوام متحدہ کی آخری ٹرسٹ خطہ تھا
بلاواسطہ جوابدہی اور رشتہ کی طرف اشارہ
غیر ذیلی تعلق کی طر اشادہ
ویٹو کے اختیار سے کنٹرول
جگہ کی کمی کے باعث پوری فہرست نہیں جارہی ہے
WTO وہ اکیلا متعلقہ ادارہ ہے جس کا اقوام متحدہ سے کوئی قانونی رشتہ نہیں ہے۔





اقوام متحدہ کی نمو اور ارتقاء

پہلی عالمی جنگ نے دراصل متنازعہ مسئلوں کے حل کے لیے عالمی تنظیموں یا بین الاقوامی تنظیموں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی۔ اکثر کا خیال تھا کہ ایسی تنظیم جنگ کے ٹالنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ اس خیال کے تحت ’مجلس اقوام‘ (The League of Nations) کے قیام عمل میں آیا۔ اپنی ابتدائی کامیابیوں کے باوجود یہ دوسری عالمی جنگ (1939-45) روک نہیں سکی۔ اس جنگ میں پہلے سے کہیں زیادہ لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ، مجلس اقوام کی جانشین ہے اور یہ 1945 میں دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد قائم کی گئی۔ اکیاون ریاستوں نے اقوام متحدہ کے منشور پر دستخط کرکے اس تنظیم کو زندگی دی۔ دونوں عالمی جنگوں کے درمیان مجلس اقوام جہاں جہاں ناکام ہوئی تھی اقوام متحدہ نے انہی مقامات کو سرکرنے کا بیڑہ اٹھایا۔
اقوام متحدہ کا اولین مقصد بین الاقوامی تنازعات کو ختم کرنا اور مختلف ریاستوں کے درمیان تعاون کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ اسی امید کے ساتھ قائم کی گئی تھی کہ مختلف ممالک کے درمیان جھگڑے ختم کرے گی اور ان کو جنگ کی صورت میں تبدیل ہونے سے روکے گی اور اگ اتفاق سے جنگ چھڑ جائے تو دشمنوں کو حدود میں رکھنے کی کوشش کرے گی۔مزید برآں یہ کہ کیونکہ زیادہ تر اختلافات سماجی اور معاشی پسماندگی کے باث رونما ہوتے ہیں، اقوام متحدہ کا یہ فرض مانا گیا کہ وہ دنیا کے ممالک کو سماجی اور معاشی ترقی کی راہ دکھانے کے لیے ایک دوسرے کے قریب لائے گی۔
2011 میں اقوام متحدہ کے 193ممبر تھے۔ اس میں تقریباً سب ہی آزاد ممالک شامل تھے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہر ملک کا ایک ووٹ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبر ہیں۔ ان میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین شامل ہیں۔ ان کو مستقل ممبری کا درجہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد یہی سب سے طاقتور ملک تھے دوسرے یہ کہ عالمی جنگ کے اصل فاتح یہی تھے۔

آیئے اسے کریں

اس صفحہ پر اقوام متحدہ کی جن ذیلی اداروں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے متعلق کم سے کم ایک خبر کو تلاش کیجیے

اقوام متحدہ کی سب سے زیادہ نظر آنے والی شخصیت اور اس تنظیم کا نمائندہ سربراہ ، اس کا سکریٹری جنرل ہے۔ موجودہ سکریٹری جنرل این ٹونیو گُتریس ہیں۔ اور یہ اقوام متحدہ کے نویں سکریٹری جنرل ہیں۔
اقوام متحدہ کے اور بھی کئی ذیلی ادارے اور ایجنسیاں ہیں سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں دنیا کے ملکوں کے درمیان پھیلے ہوئے اختلافات اور امن اور جنگ پر بحث ہوتی ہے۔ سماجی اور معاشی مسائل پر غور و فکر کے لیے بھی کئی ادارے ہیں جیسے عالمی تنظیم صحت (WHO) ، اقوام متحدہ کا ترقی کا پروگرام (UNDP) اقوام متحدہ کونسل برائے انسانی حقوق(UNHRC)،اقوام متحدہ ہائی کمیشن برائے پناہ گزیں (UNHCR) ، اقوام متحدہ فنڈ برائے اطفال (UNICEF) اور اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (UNESCO)۔ اس کے علاوہ اور بھی ذیلی تنظیمیں ہیں جو غیر سیاسی معاملات کو دیکھتی ہیں۔

6
سرد جنگ ہو یا نہ ہو لیکن اصلاح کی ضرورت ہے۔ صرف عوامی رہنمائوں کو ہی اپنے ملک کی نمائندگی کاحق حاصل ہونا چاہیے۔ آخر ایک آمر (Dictator) اپنے ملک کی عوام کی نمائندگی میں کیسے بول سکتاہے؟

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل

7
ترگف لائی(1946-1952) ناروے۔ وکیل اور وزیر خارجہ کشمیر کے مسئلہ پر ہندوستان و پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی۔ کوریائی جنگ جلد ختم کرانے میں ناکامی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ۔ سوویت یونین نے ان کے اس عہدہ پر دوسری معیاد کی مخالفت کی۔ اس عہدہ سے استعفیٰ دیا۔
8
ڈاگ ہیمر شولڈ (1953-1961) سوئیڈن: وکیل اور ماہر معاشیات نہرسوئز کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کام کیا اور ساتھ میں افریقہ سے نو آادیاتی خاتمہ کے لیے بھی۔ کانگو کا بحران سلجھانے کے لیے جو کام کیا اس کے لیے انہیں ان کی موت کے بعد 1961میں نوبل امن  پرائز دیا گیا۔ سوویت یونین اور فرانس نے افریقہ میں ان کے کام پر نکتہ چینی کی۔
9
یوتھانٹ (1961-1971)برما (میانمار) مدرس اور سفارت کار۔ کانگو اور کیوبا کے میزائل کے بحران کو حل کرنے کے لیے کام کیا۔ قبرص میں اقوام متحدہ کی امن فوج کو اتارا۔ اور ویت نام میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ملوث ہونے پر اس کی نکتہ چینی کی۔
10
کرٹ والدھائم (1971-1981)آسٹریا،سفارت کار اور وزیر خارجہ، نمیبیا اور لبنان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کافی کوششیں کیں۔ بنگلہ دیش میں راحت کاری کے کام کی نگرانی کی۔ چین نے اس عہدہ پر تیسری مدت کے لیے ان کی کوششوں پر پانی پھیردیا۔

11
جیویرپیرزڈیسوئلر(1982-1991)پیرو: وکیل اور سفارت کار، قبرص، افغانستان اور السلواڈار میں امن کے قیام کے سلسلہ میں کام کیا۔ فاک لینڈ جنگ کے بعد برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان ثالث کا کام کیا۔نامیبیا کی آزادی کے لیے کوشش کی۔

12
بطرس بطرس غالی (1992-1996)مصر: سفارت کار، قانون داں، وزیر خارجہ An Agenda for peace کے نام سے ایک رپورٹ پیش کی۔ موزمبیق میں اقوام متحدہ کے مشن میں کامیابی حاصل کی لیکن بوسینیا، صومالیہ اور روانڈا میں ناکامیوں پر مورد الزام ٹھہرائے گئے۔ امریکی نے شدید اختلافات کی وجہ سے ان کی دوسری مدت کے مواقع ختم کردیے۔

13
کوفی ،اے، عنان (1997-2006)گھانا، اقوام متحدہ کے افسر، ملیریا، تپ دق اور AIDSسے مقابلہ کے لیے ایک عالمگیر فنڈ قائم کیا، عراق پر امریکی حملہ کو غیر قانونی قراردیا، 2005میں کونسل برائے حقوق انسانی اور امن کمیشن قائم کیا۔2001میں نوبل امن پرائز سے نوازے گئے۔

14
بان کی مون (2007-2016) ری پبلک آف کوریا(جنوبی کوریا)،سفارتکار اور وزیر خارجہ، 1971 کے بعد اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے ایشیائی، ماحولیاتی تبدیلی کو اجاگر کیا، صدی ترقی اہداف پر توجہ مرکوز کی، اقوام متحدہ خواتین کی تشکیل کے لیے کام کیا، تنازعات سے متعلق قرار داد اور ایٹمی ہتھیاروںکی کمی پر زور دیا۔
فوٹو: www.un.org 

سرد جنگ کے بعد اقوام متحدہ میں اصلاحات

بدلتے ہوئے ماحول میں کسی بھی تنظیم کے بقاء کے لیے اصلاح و ترقی کا عمل بنیادی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس عالمی تنظیم میں اصلاح کرنے کا مطالبہ کئی بار کیا گیا ہے۔ لیکن اصلاح کی نوعیت کے بارے میں نہ ہی اتفاق رائے ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت۔
اقوام متحدہ کی تنظیم میں دو بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اوّل تو اس کے تنظیمی ڈھانچہ اور طریقہ عمل میں، دوسرے وہ مسائل جو اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہوں۔ تقریباً سب ہی کا اس پر اتفاق ہے کہ اصلاح کے دونوں پہلو لازمی ہیں۔ لیکن جس پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے وہ یہ مسئلہ ہے کہ اس سلسلہ میں قطعی طور سے ٹھیک ٹھیک کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔
جہاں تک تنظیمی ڈھانچہ اور طریقہ کار میں اصلاح کا سوال ہے سب سے زیادہ بحث و مباحثہ سلامتی کونسل کی کارکردگی اور طریقہ کار پر ہوا ہے۔ اسی سے متعلق یہ مطالبہ ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل ممبروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہم عصر عالمی سیاست کے حقائق بہتر طور سے اس تنظیم کے ڈھانچہ میں ظاہر ہوسکیں۔ خصوصاً ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ سے ممبروں کو بڑھانے کا مطالبہ ہے۔ اس کے علاوہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور مغربی ممالک اس کے انتظام اور بجٹ کے طریقہ پر اصلاح چاہتے یں۔
رہے وہ مسائل جن کو ترجیح دینی چاہیے، یا اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار میں آنا چاہیں، کچھ ملکوں اور ماہرین کی خواہش ہے کہ اقوام متحدہ امن اور تحفظ کے معاملات میں ایک مؤثراور پہلے سے بڑا کردار ادا کرے۔جب کہ کچھ سمجھتے ہیں کہ یہ تنظیم محض ترقی اور انسانی مسائل کے امور تک ہی محدود رہے (صحت تعلیم، ماحولیات، آبادی پر روک، انسانی حقوق اور سماجی و صنفی انصاف)
ہم دونوں ہی اصلاحات کے مجموعہ پر نظر ڈالتے ہیں خصوصاً انتظامی ڈھانچہ اور ساخت سے متعلق اصلاحات پر۔
اقوام متحدہ 1945 میں دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے فوراً بعد قائم کی گئی اور جو اس کا طریقہ کار تھا وہ اس زمانے کی حقیقتوں کے مطابق تھا۔ لیکن سرد جنگ کے بعد حقیقتیں بدل چکی ہیں۔ مندرجہ ذیل وہ چند تبدیلیاں ہیں جو اس درمیان میں عمل میں آئیں:
سوویت یونین ختم ہوچکی ہے
ریاست ہائے متحدہ امریکہ سب سے مضبوط طاقت ہے
سوویت یونین کے جانشین روس اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تعلقات بہت بہتر ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
چین بہت تیزی سے ایک عظیم طاقت ہونے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان بھی تیز رفتاری سے ابھر رہا ہے۔
موجودہ ایشیائی معیشتوں کی ترقی کی رفتار کی مثال بھی پہلے نہیںملتی
بہت سے نئے ملکوں نے اقوام متحدہ میں شرکت کی ہے (یا تو یوروپ کی سابقہ کمیونسٹ ریاستیں یا وہ ممالک جنہوں نے سوویت یونین سے آزادی پائی)
اب دنیا کو بالکل نئے مسائل کا سامنا ہے   (نسل کشی، خانہ جنگی، نسلی تفریق، دہشت گردی، نیوکلیائی توسیع، تبدیلی آب و ہوا، ماحولیاتی آلودگی، وبائیں)
ایسی صورتحال میں، 1989 میں، جب کہ سرد جنگ ختم ہورہی تھی یہ سوال بھی دنیا کے سامنے آیا کہ کیا اقوام متحدہ کا کام کافیہے؟ کیا اس کے پاس ضروری وسائل موجود ہیں، اِسے کیا اور کیسے کرنا چاہیے؟ وہ کیا اصلاحات ہیں جس سے یہ بہتر طور پر کام کرسکتی ہے؟ پچھلے پندرہ سال سے ممبر ریاستیں ان سوالوں کے تسلی بخش اور قابل عمل جواب کو ڈھونڈنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔

15
قوام متحدہ 60 سال :تجدید کا وقت  www.un.org

طریقہ کار اور ڈھانچہ کی ترتیب میں اصلاحات

اگرچہ اصلاح کے معاملہ میں سب متفق ہیں لیکن سب کا اتفاق اس بات پر مشکل ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاح کے سلسلہ میں جو بحث ہوئی ہے سب سے پہلے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ 1992 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یک قرارداد منظور کی۔ اس قرارداد میں تین شکایتیں نمایاں تھیں:

سلامتی کونسل ہمعصر سیاسی حقیقتوں کی نمائندگی نہیں کرتی ہے
اس کے فیصلے صرف مغربی اقدار اور مفادات کے حق میں ہوتے ہیں جن پر چند طاقتوں کا غلبہ ہے
اس میں نمائندگی غیر مساوی ہے
ترتیب نو کے اس روز افزوں مطالبہ ک پیش نظر سکریٹری جنرل کوفی عنان نے یکم جنوری 1997 کو اس مسئلہ کی تحقیق شروع کی کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کیسے ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر سلامتی کونسل میں نئے ممبر کیسے منتخب کیے جائیں؟
تب سے اب تک کچھ ایسے اصول و ضوابط اور معیار بنائے گئے جن کی بنیاد پر سلامتی کونسل کے نئے مستقل یا غیر مستقل ممبر کا انتخاب ہوسکتا ہے۔یہ رائے بھی دی گئی ہے کہ نیا ممبر مندرجہ ذیل خصوصیات کا حامل ہو۔
ایک بڑی معاشی قو ت ہو۔

عالمی بینک

17
عالمی بنک دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ کے فوراً بعد 1945میں قائم کیا گیا۔ اس کی سرگرمیوں کا مرکز ترقی پذیر ممالک ہیں۔ اس کی کارکردگی میں فروغ انسانی کے مسائل (تعلیم و صحت)، زراعت اور دیہی ترقی (آبپاشی، دیہی خدمات) ، ماحولیاتی تحفظ (آلودگی میں افاقہ ، اصول اور ضابطوں کی تشکیل اور نفاذ)، لوازمات (سڑکیں، بجلی اور شہری ترقی) اور حکومتی طریقہ کار (اینٹی۔ کرپشن، قانونی اداروں کا فروغ) شامل ہیں۔ یہ ممبر ملکوں کو قرضے اور مدد فراہم کرتا ہے۔ اس طرح سے وہ ترقی پذیر ممالک کی معاشی پالیسی پر بہت بڑی طری سے اثر انداز ہوتاہے۔ اس پر یہ نکتہ چینی کی جاتی ہے کہ قرض کے ذریعہ یہ غربت قوموں کے معاشی پروگرام کو ترتیب دیتا ہے اور یہ شرطیں عائد کردیتا جن سے آزادانہ مارکیٹ کو فروغ حاصل ہو۔
2005میں اقوام متحدہ کے بجٹ میں چوٹی کے دس حصہ دار
16

ایک بڑی فوجی طاقت ہو۔
اقوام متحدہ کے بجٹ میں قابل ذکر حصہ داری ہو۔
آبادی کے لحاظ سے ایک بڑی قوم ہو۔
ایسی قوم جو انسانی حقوق اور جمہوریت کا احترام کرتی ہو۔
ایسا ملک جو جغرافیہ ، معاشی نظام اور تمدن کی رنگارنگی کے اعتبار سے سلامتی کونسل میں دنیا کی زیادہ سے زیادہ نمائندگی کرسکتا ہو۔
بظاہر ان میں سے ہر معیار میں کچھ نہ کچھ معقولیت ہے۔ حکومتیں اپنے اپنے حوصلوں اور مفادات کے پیش نظر کچھ کو نفع بخش سمجھتی ہیں اور کچھ کو غیر نفع بخش۔ اگرچہ کچھ ملکوں کو سلامتی کونسل کا ممبر بننے میں دلچسپی نہ ہو لیکن ان کو یہ معیار مشکوک اور ناقابل عمل نظر آتا ہے۔ آخر سلامتی کونسل کے ممبر ہونے کے لیے کتنی بڑی فوجی یا معاشی قوت ہونا چاہیے؟ اقوام متحدہ میں کسی بڑی حصہ داری کس ملک کے لیے سلامتی کونسل میں جانے کی راہ ہموار کرے گی؟ ایک ایسے ملک کے لیے جو دنیا میں ایک بہتر رول ادا کرنا چاہتا ہو وسیع آبادی ایک ذمہ داری ہے یا خوبی؟ اگر حقوق انسای اور جمہوریت کا احترام سلامتی کونسل میں داخلے کا معیار ہے تو صاف و شفاف ریکارڈ رکھنے والے ملک اس قطار میں لگ جائیں گے لیکن کیا وہ کونسل کے ممبر کی حیثیت سے موثر ثابت ہوسکیں گے؟
مزید یہ کہ نمائندگی کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ کیا جغرافیائی اعتبار سے برابری کا مطلب یہ ہے کہ افریقہ ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور کیربین کو ایک ایک سیٹ ملے گی؟ اور کیا دوسری جانب نمائندگی کا معیار بجائے براعظموں کے علاقے اور ذیلی علاقے ہوں گے؟ اور برابر نمائندگی کا مسئلہ جغرافیائی اعتبار ہی سے کیوں سلجھایا جائے اور معاشی ترقی کی سطح کے اعتبار سے کیوں نہ سلجھایا جائے؟ دوسرے الفاظ میں ترقی پذیر دنیا کے ممالک کو کیوں نہ زیادہ سیٹیں دی جائیں؟ لیکن یہاں بھی مشکلات ہیں۔ ترقی پذیر دنیا کے ممالک کے درمیان ترقی کی کئی سطحیں ہیں۔ پھر ثقافت و تمدن کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا مختلف ثقافت و تمدن اور ’تہذیب‘ کو ایک زیادہ متوازن طریقہ سے نمائندگی ملنی چاہیے؟ اور یہ کہ دنیا کو مختلف تہذیب و تمدن میں کیسے تقسیم کرسکتے ہیں جب کہ کئی تہذیبی دھارے ایک ہی ملک میں ساتھ ساتھ موجود ہیں؟
ایک متعلقہ حل یہ بھی تھا کہ ممبر شپ کی نوعیت ہی بدل دی جائے۔ مثال کے طور پر کچھ ملکوں کا اصرار ہے کہ مستقل ممبروں کا حق نامنظوری‘ (Veto Power) کو ختم کردیا جائے۔ اکثر کا خیال یی کہ ویٹو کا اختیار جمہوریت کی روح کے منافی ہے اور اس سے اقوام متحدہ میں ممبروں کی خود مختاری پر ضرب پڑتی ہے۔ عام طور سے یہی خیال ہے کہ ویٹو کا اختیار نہ اب صحیح ہے اور نہ ہی مناسب۔

آیئے مل جل کر کریں

اقدم 

٭ کلاس کو چھ گروپ میں تقسیم کردیجیے۔ ہر گروپ سلامتی کونسل میں مستقل ممبر شپ کے لیے ان چھ معیاروں میں سے، جو یہاں گنائے گئے ہیں، کسی ایک معیار (اور اگر زیادہ معیار ہیں تو ایک سے زیادہ ) کا مطالعہ کرے گا۔
٭ ہر گروپ اپنے معیار کے مطابق اپنے مستقل ممبروں کی فہرست بنائے گا (مثال کے طور پر آبادی والا گروپ، پانچ سب سے بڑی آبادی والے ممالک کی فہرست بنائے گا)
٭ ہر گروپ اپنی بنائی ہوئی فہرست کو پیش کرے اور اسباب بتائے کہ اس کے معیار کو کیوں قبول کیا جائے۔

استاد کے لیے ہدایات:

٭ طلباء کو اپنا گروپ اختیار کرنے کی آزادی دیجیے
٭ تمام فہرستوں کا موازنہ کیجیے اور دیکھیے کہ ایک نام کتنی فہرستوں میں مشترک ہے اور ہندوستان کا نام کتنی فہرستوں میں آتا ہے
٭ کچھ وقت کھلے بحث و مباحثہ کے لیے بھی رکھیے جس میں معیار کو پروئے کار لایا جاسکے۔

سلامتی کونسل کے اندر پانچ مستقل اور دس غیر مستقل ممبر ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور نے پانچ مستقل ممبروں کو یہ خصوصی درجہ دیا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں امن اور استحکام قائم رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ استقلال اور ویٹو کا حق پانچ مستقل ممبروں کی خصوصی مراعات ہیں۔ غیر مستقل ممبری کی مدت دو سال ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ جگہ انہیں نئے ممبروں کے لیے خالی کرنی پڑتی ہے۔ ایک ملک ایک مدت ختم کرنے کے فوراً بعد دوبارہ منتخب نہیں ہوسکتا۔ غیر مستقل ممبروں کے انتخاب کے طریقہ کار کے باعث دنیا کے تمام ملکوں کی نمائندگی ہوجاتی ہے۔

18
یہ بڑی ناانصافی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیر مستقل ممبروں کو ویٹو کا حق حاصل نہیں ہے۔ آخر ویٹو (Veto) ہے کیا؟ سلامتی کونسل میں فیصلے رائے شماری سے کیے جاتے ہیں۔ ہر ممبر ملک کا ایک ووٹ ہوتا ہے۔ لیکن مستقل ممبر اپنے ووٹ کا منفی استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ یعنی اگر تمام مستقل اور غیر مستقل ممبران ایک فیصلہ پر متفق ہوجائیں تب بھی ایک مستقل ممبر اپنے ووٹ کو منفی (Negative) طریقہ سے استعمال کرکے وہ فیصلہ ختم کرسکتا ہے۔ یہ منفی استعمال رائے ویٹو کہلاتا ہے۔
اگرچہ ویٹو کے حق کو ختم کرنے یا کم سے کم اس کے طریقہ کار میں ترمیم کے حق میں تحریک ہورہی ہے لیکن یہ حقیقت بھی اپنیجگہ مسلم ہے کہ مستقل ممبر اس اصلاح سے اتفاق نہیں کریں گے۔ دوسرے یہ کہ اگرچہ سرد جنگ ختم ہوچکی ہے پھر بھی دنیا ایسے انقلابی قدم کے لیے خود کو تیار نہیں پائے گی۔ بغیر ویٹو کے اختیار کے خطرہ یہ ہے کہ 1945کی طرح بڑی طاقتیں اس تنظیم سے کوئی دلچسپی نہیں رکھیں گے اور جو جی چاہے گا اس کے دائرہ اقتدار سے باہر رہ کر کریں گی اور ان کی مدد اور کارروائیوں میں حصہ داری کے بغیر یہ تنظیم غیر موثر ہوکر رہ جائے گی۔

آیئے اسے کریں

دیرپاترتی کے مقاصد کیا ہیں؟

اقوام متحدہ کا دائرہ کار

ممبر شپ کا سوال کافی سنجیدہ ہے۔ حالانکہ دنیا کے سامنے اس سے بھی زیادہ اہم مسائل ہیں۔ جب اقوام متحدہ نے اپنے ساٹھ سال پورے کرلیے تو تمام ممبر۔ ریاستوں کے سربراہ ستمبر 2005 میں یہ تقریب منانے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہوئے تمام سربراہان مملکت نے اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا کہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اقوام متحدہ کو زیادہ معتبر اور متعلقہ بنانے کے لیے مندرجہ ذیل اقوام لیے جانے چاہیں۔

19
امن کو پروان چڑھانے والے کمیشن کی تشکیل 
اگر قومی حکومتیں اپنے شہریوں کو جبروتشدد سے محفوظ نہ رکھ سکیں تو پھر یہ ذمہ داری بین الاقوامی برادری کو قبول کرنی پڑے گی۔
کونسل برائے حقوق انسانی کا قیام (یہ 19 جون 2006 سے کام کررہی ہے)
دیر پاترقی کے مقاصل کے حصول پر اتفاق رائے 
دہشت گردی کی ہر صورت اور ہر قسم کی مذمت
ڈیموکریسی فنڈ کی تشکیل
ٹرسٹی شپ کونسل (Trsteeship council) کو ختم کرنے پر اتفاق رائے۔
یہ دیکھنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ خود اقوام متحدہ کے لیے بھی یہ مسائل بہت حساس ہیں۔ ایک امن کو پروان چڑھانے والا کمیشن آخر کیا کرے گا؟ دنیا میں اتنے اختلافات اور جھگڑے ہیں تو یہ کمیشن کہاں دخل اندازی کرے گا؟ اور کیا یہ ممکن بلکہ کیا یہ مناسب ہوگا کمیشن ہر معاملہ میں دخل اندازی کرے؟اسی طرح سے جبر واستبداد کے مقابل بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری کیا ہے؟ انسانی حقوق کیا ہیں اور کس سطح تک پہنچنے میں ان کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ ان کی خلاف ورزی کی صورت میں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ یہ سب کون بتائے گا؟ ۔ ایسی صورت حال میں جب دنیا کے زادہ تر ممالک ترقی پذیر ہیں، اقوام متحدہ کے لیے یہ کہاں تک زیبا ہے کہ دیر پا ترقی مقاصد میں تحریر کردہ باحوصلہ اور باامنگ پروگرام کو مکمل کرنے میں وقت صرف کرے؟ کیا دہشت گردی کی تعریف پر اتفاق رائے ہوسکتا ہے۔ جمہوریت کی بڑھوتری کے لیے اقوام متحدہ پیسہ کس انداز میں خرچ کرے گی وغیرہ وغیرہ ۔

20

21

22
کیاہم پانچ بڑوں کی سرداری کی مخا لفت کرتے ہیں یا پھرہم ان میں سے ایک بننا چاہتے ہیں۔

ہندوستان اور اقوام متحدہ کی اصلاحات

اقوام متحدہ کی تنظیمی ڈھانچے کی از سر نو تشکیل کی ہندوستان کئی وجہ سے حمایت کرتا ہے۔ اس کے خیال میں ایک زیادہ طاقتور اور نئی روح والی اقوام متحدہ بدلتی ہوئی دنیا کے لیے زیادہ مناسب ہوگی۔ ہندوستان فروغ اور تعاون کی راہ پر اقوام متحدہ کے ایک وسیع تر کردار کی حمایت کرتا ہے جو وہ مختلف ریاستوں کے درمیان ادا کرے۔ ہندوستان کا یہ بھی خیال ہے کہ فروغ اور ترقی اقوام متحدہ کے ہر پروگرام کا مرکزی نقطہ نظر ہونا چاہیے اس لیے کہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے یہ پہلے سے ایک متعین شرط ہے۔

WTO

23

عالمی تجارتی تنظیم (The World Trade Organisation) ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو عالمگیر تجارت کے لیے قانون اور اصول وضع کرتی ہے۔ یہ تنظیم 1995میں قائم ہوئی۔ یہ دراصل معاہدہ عامہ برائے تجارت و محصول (GATT)کی جانشین ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد وجود میں آئی تھی۔29 جولائی 2016کے مطابق اس کے ممبروں کی تعداد 164ہے۔ سارے فیصلے مجموعی اتفاق رائے سے طے پاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی بڑی معاشی طاقتیں جیسے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، یوروپی یونین اور جاپان وغیرہ WTOکے اصول و ضوابط کو اپنے مفاد میں وضع کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اکثر غیر شفافیت کی شکایت کرتے ہیں اور یہ کہ بڑی طاقتیں اکثر ان کو دھکادے کر آگے نکل جاتی ہیں۔

لیکن ہندوستان کے اصل اندیشے سلامتی کونسل کی ساخت کے بارے میں ہیں جو جنرل اسمبلی کے ممبروں میں تعداد کے کافی اضافہ کے باوجود ساکن و جامد رہی ہے۔ ہندوستان کے خیال میں اس سے سلامتی کونسل کی نمائندہ نوعیت کو نقصان پہنچا ہے۔ ہندوستان یہ دلیل بھی سامنے لاتا ہے کہ ایک وسیع تر سلامتی کونسل جو زیادہ نمائندگی کی حامل ہو عالمی برادری کی حمایت اور قبولیت کی زیادہ اہل ہوگی۔
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ1965میں سلامتی کونسل کے ممبروں کی تعداد گیارہ سے بڑھاکر پندرہ کردی گئی تھی لیکن مستقل ممبروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ جب سے اب تک سلامتی کونسل کی جسامت جوں کی توں ہے۔ اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ اس وقت جنرل اسمبلی کے ممبروں میں اکثریت ترقی پذیر ممالک کی ہے۔ اس لیے ہندوستان کی دلیل یہ ہے کہ ان ترقی پذیر ممالک کو بھی سلامتی کونسل میں جگہ ملنی چاہیے تاکہ وہ ان فیصلوں پر جو ان کے بارے میں سلامتی کونسل میں کیے جائیں اثر انداز ہوںسکیں۔
ہندوستان مستقل اور غیر مستقل ممبروں کی تعداد میں اضافہ کا حامی ہے۔ہندوستانی نمائندوں کی دلیل یہ ہے کہ پچھلے چند سالوں میں سلامتی کی سرگرمیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔ سلامتی کونسل کی کارروائیوں کی کامیابی کا انحصار بین الاقوامی برادری کی سیاسی حمایت پر ہے۔ لہٰذا سلامتی کونسل کے ڈھانچہ میں تبدیلی لانے کا   کوئی بھی پروگرام وسیع بنیادوں پر رکھا جائے۔ مثال کے طور پر سلامتی کونسل کے اندر ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی زیادہ ہونی چاہیے۔
یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے ترمیم شدہ ڈھانچہ ہندوستان خود ایک مستقل ممبر کی حیثیت لینا چاہتا ہے۔ ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے اور دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ اس میں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ کی کم و بیش تمام سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قیام امن کی کوششوں میں اس کا ایک طویل اور قابل قدر حصہ ہے۔ اور عالمی سطح پر جس طرح سے ہندوستان ایک معاشی قوت بن کر سامنے آیا ہے اس نے ہندوستان کے سلامتی کونسل کے مستقل ممبر ہونے کے دعویٰ کو کافی تقویت پہنچائی ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے فنڈ میں ہندوستان اپنے حصہ کی رقم تسلسل کے ساتھ ادا کررہا ہے اور اس معاملہ میں کبھی لاپرواہی نہیں برتی۔ ہندوستان اس سے بھی باخبر ہے کہ سلامتی کونسل کی مستقل ممبر شپ ایک بری اہمیت کی علامت ہے، اس کا مطلب عالمی معاملات میں اُس ملک کے کردار اور سرگرمیوں کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اور یہ بڑھا ہوا درجہ کسی بھی ملک کے لیے اس کی خارجہ پالیسی کے نفاذ میں مددگار ثابت ہوگا اس لیے کہ طاقتور ہونے کی ساکھ موثر ہونے میں بھی مدد کرتی ہے۔
سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھنے والی طاقت بننے کی شدید خواہش کے باوجود کچھ ریاستیں ہندوستان کے داخلہ کی مخالف ہیں۔ اور اسی معاملہ میں پڑوسی ملک پاکستان ، جس کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات تکلیف دہ ہیں، کیلا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر کچھ ملکوں کو ہندوستان کی نیوکلیائی صلاحیتوں سے خطرہ ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہندوستان کی مشکلات اس کے مستقل ہوے کو غیر موثر کردے گی۔ کچھ کا خیال ہے کہ اگر ہندوستان کو سلامتی کونسل میں مستقل ممبر کی جگہ ملتی ہے تو دوسری ابھرتی ہوئی قوتوں جیسے کہ برازیل، جرمنی، جاپان یہاں تک کہ جنوبی افریقہ جس کی وہ مخالفت کرتے ہیں، کو بھی جگہ ملنی چاہیے۔ کچھ کا خیال ہے کہ کیونکہ جنوبی امریکہ اور افریقہ دو ایسے براعظم ہیں جن کی سلامتی کونسل میں کوئی مستقل ممبر شپ نہیں ہے لہٰذا ان کو نمائندگی ضرور ملنی چاہیے۔ مستقبل قریب میں ہندوستان یا کسی اور ملک کے لیے سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بننا اتنا آسان نہیں ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی IAEA-
24

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا IAEA قیام 1957میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد یونائیٹڈ اسٹیٹس کے صدر ڈیوٹ آئزن ہاور کی پیش کش، ایٹم امن کے لیے‘ کی تکمیل تھا جس کے مطابق نیوکلیائی طاقت کا استعمال پر امن مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے فوجی استعمال پر روک لگائی جائے گا۔ IAEA کی ٹیم مقررہ معیاد پر پوری دنیا کے نیوکلیائی تجربہ گاہوں کا معائنہ کرتی ہیں تاکہ کہیں بھی شہری ری ایکٹر  فوجی مقاصد کے لیے نہ استعمال ہوں۔

25
کیاہوگااگر اقوام متحدہ کسی کو نیویارک بلائے اور یونائیٹڈ اسٹیٹس اس کو ویزا دینے سے انکار کردے تو کیا ہوگا؟

26

ایمنسٹی انٹر نیشنل (Amnesty International)

27

اقوام متحدہ اور ایک قطبی دنیا


ایمنسٹی انٹر نیشنل ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو دنیا بھر میں حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔ ’’عالمی منشور برائے حقوق انسانی‘‘ میں جن انسانی حقوق کا تذکرہ ہے یہ ان کے احترام کو فروغ دیتی ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ تمام انسانی حقوق غیر منقسم اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ حقوق انسانی کی مختلف ملکوں میں حالت پر رپورٹ تیار کرتی ہے اور اس کو شائع کرتی ہے۔ اکثر حکومتیں ان رپورٹوں سے ناخوش ہیں کیونکہ ان رپورٹوں کا زیادہ تر حصہ سرکاری ذمہ داروں کی نااہلی اور غیر مناسب رویہ پر محیط ہوتا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ان رپورٹوں کا انسانی حقوق کی وکالت اور تفتیش میں بہت اہم کردار ہے۔

اقوام متحدہ کی اصلاحات اور تشکیل نو کے سلسلہ میں جو امیدیں لگائی جارہی ہیں اس میں کچھ ملکوں کی یہ تمنا بھی شامل ہے کہ اسی ایک قطبی دنیا جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہی بغیر کسی مقابل کے عظیم طاقت ہے، یہ اصلاحات اقوام متحدہ کو بہتر طریقہ سے کام کرنے کی قوت دیں گی۔ کیا اقوام متحدہ ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مقابلہ میں غلبہ کا توازن برقرار رکھ سکے گی؟ کیا یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور باقی دنیا کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری کرواسکتا ہے اور امریکہ کو اس کی من مانی کرنے سے روک سکتی ہے؟
 ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طاقت پر آسانی سے روک نہیں لگائی جاسکتی۔ سب سے پہلے بات تو یہ ہے کہ سوویت یونین کی عدم موجودگی میں امریکہ ہی عظیم طاقت رہ گئی ہے اور اپنی فوجی اور معاشی طاقت کے بل پر یہ اقوام متحدہ یا کسی بھی بین الاقوامی تنظیم کو نظر انداز کرسکتی ہے۔
دوسرے یہ کہ خود اقوام متحدہ کے اندر ریاست ہائے متحدہ امریکہ خاصا طاقتور اور موثر ہے۔ اور اقوام متحدہ کے بجٹ میں سب سے زیادہ پیسہ خرچ کرنے والے اکیلے ملک کی حیثیت سے اس کے مالی اثر کا بھی کوئی مقابلہ نہیں۔ پھر یہ حقیقت کہ اقوام متحدہ جسمانی طور سے امریکہ کی سرحدوں میں واقع ہے، واشنگٹن کے اثر و رسوخ کو ایک مزید ذریعہ مہیا کرتاہے۔ پھر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی شہریوں کے اچھی خاصی تعداد اقوام متحدہ کے دفتروں میں موجود ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا ویٹو کواختیار ہے جس کی مدد سے وہ کسی بھی ایسی تحریک یا اقدام کا خاتمہ کرسکتا ہے جواس کے لیے جھنجھلاہٹ کا باعث ہو یا اس کے اور اس کے حلیفوں کے مفاد سے ٹکراتا ہو۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا اقوام متحدہ کے اندر اثر اور ویٹو کے اختیار نے واشنگٹن کو سکریٹری جنرل کے انتخاب میں بھی کافی اختیار دے رکھاہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اپنے اسی اختیار (Veto) کا استعمال بقیہ دنیا کو ’بانٹنے‘ کے لیے استعمال کرسکتا ہے بلکہ کرتا ہے تاکہ اس کی پالیسیوں کی مخالفت کم سے کم تر ہوسکے۔

انسانی حقوق کے نگراں Human Rights Watch 
28
Human Rights Watch ایک اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم (NGO)ہے جو انسانی حقوق کے بارے میں تحقیق اوروکالت میں مصروف ہے۔ یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں حقوق انسانی کی سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے۔ یہ عالمی میڈیا کی توجہ حقوق انسانی کی پامالی کی جانب مبذول کراتی ہے۔ اس نے کئی بین الاقوامی تنظیموں کے بنانے میں مدد کی ہے جیسے کہ زمینی سرنگوں (Landmines)پر پابندی، بچہ سپاہی کا استعمال پر پابندی اور ایک  بین الاقوامی عدلیہ برائے جرائم کا قیام


اس طرح سے اقوام متحدہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طاقت کا متوازن یا ہم پلہ نہیں ہوسکتی۔ لیکن ان سب کے باوجود، ایک ایسی ایک قطبی دنیا جس میں  ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا غلبہ ہو، اقوام متحدہ  ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور بقیہ دنیا کو اکثر مسائل پر بحث و مباحثہ کے لیے ایک دوسرے کے سامنے بٹھاسکتی ہے بلکہ حقیقت میں بٹھایا ہے۔ خود ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے رہنما، جو اکثر اقوام متحدہ پر نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں، اس بات کے قائل ہیں کہ یہ تنظیم دنیا کی 193 قوموں کو کسی بھی تنازعہ یا سماجی اور معاشی فروغ کے مسئلہ پر منظم کرسکتی ہے۔ جہاں تک بقیہ دنیا کا سوال ہے تو ان کے لیے اقوام متحدہ ایسا میدان ہے جہاں  ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی پالیسیوں اور رجحانات میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ ایسی حالت میں جب کہ  ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مخالفت میں بقیہ دنیا شاید ہی کبھی ایک زبان ہوئی ہو، اور جب کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس طاقت کو متوازن کرنا قریب قریب ناممکن ہو، اقوام متحدہ یقینا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے خاص خاص رحجانات اور پالیسیوں کے خلاف دلیلیں سنی جاسکتی ہیں اور سمجھوتوں اور مراعات کی تشکیل کی جاسکتی ہے۔
اگرچہ اقوام متحدہ ایک غیرموثر ادارہ ہے لیکن اس کے بغیر دنیا اور خراب ہوجائے گی۔ معاشرہ اور مسائل کے درمیان بڑھتے ہوئے رشتے، جسے ہم عام طور پر ایک دوسرے پر انحصار کہتے ہیں، کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ دنیا کے سات ارب لوگ  اقوام متحدہ جیسی تنظیم کے بغیر کیسے زندہ رہیں گے؟ خود ٹیکنالوجی کا مطلب ایک برھتی ہوئی باہمی انحصار ہے لہٰذااقوام متحدہ کی اہمیت برقرار رہے گی۔ عوام اور حکومتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور دوسری بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت اس انداز میں کریں اور ایسے راستے اختیار کریں جو ان تنظیموں ار ان کے اپنے مفاد اور بہبود اور ایک بری سطح پر بین الاقوامی برادری کی فلاح کے مطابق ہوں۔

مشقیں

ویٹو اختیار کے حوالہ سے مندرجہ ذیل بیانات پر غلط اور صحیح کے نشان لگائیے۔
(a) سلامتی کونسل کے صرف مستقل ممبر ہی ویٹو کا حق رکھتے ہیں
(b) یہ منفی قوت کی ایک قسم ہے
(c) جب وہ کسی فیصلہ پر مطمئن نہیں ہوتا تو سکریٹری جنرل اسی حق کا استعمال کرتا ہے
(d) ایک ویٹو سلامتی کونسل کی قرار داد کو ختم کرسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے حوالہ سے مندرجہ ذیل بیانات پر غلط اور صحیح کے نشان لگائیے
(a) تحفظ اور امن کے سارے مسائل سلامتی کونسل میں زیر بحث لائے جاتے ہیں
(b) انسانی مسائل کی پالیسیوں کا نفاذاقوام متحدہ کے خاص اعضاء اور ماہر ایجنسیوں کے ذریعہ ہوتا ہے جو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں
(c) سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبروں کی متفقہ رائے سلامتی کے کسی بھی مسئلہ کے نفاذ کے لیے بہت ضروری ہے
(d) جنرل اسمبلی کے تمام ممبر خود بخود اقوام متحدہ کے خاص اعضاء اور ماہر ایجنسیوں کے ممبر بن جاتے ہیں
مندرجہ ذیل میں سے کون سی خوبی ہندوستان کے سلامتی کونسل میں مستقل ممبر شپ کے دعویٰ کو زیادہ وزن دے گی
(a) نیوکلیائی صلاحیت
(b) یہ اقوام متحدہ کے قیام سے ہی اس کا ممبر رہا ہے
(c) یہ ایشیا کے اندر ہے
(d) ہندوستان ایک بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور ایک مستحکم سیاسی نظام 
اقوام متحدہ کا وہ شعبہ جو نیوکلیائی ٹیکنالوجی کی حفاظت اور اس کے پُر امن استعمال سے متعلق ہے، کون سا ہے
(a) اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے ترک اسلحہ(The UN Committee for Disarmament)
(b) بین الاقوامی نیوکلیائی توانائی ایجنسی (International Atomic Energy Agency)
(c) یو این انٹر نیشنل سیف گارڈ کمیٹی(UN International Safe guard Committee) 
(d) کوئی بھی نہیں
عالمی تجارتی تنظیم (WTO) ان میں کس تنظیم کی جانشین کی حیثیت سے کام کررہی ہے
(a) معاہدہ عامہ برائے تجارت و محصول (GATT)
(b) انتظام عامہ برائے تجارت و محصوص (GATT)
(c) عالمی تنظیم صحت (WHO)
(d) اقوام متحدہ /ترقیاتی پروگرام (UNDP)
خالی جگہوں کو پُر کیجیے
(a) اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد ………… ہے
(b) اقوام متحدہ کا سب سے بڑا افسر ……… کہا جاتا ہے
(c) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ……… مستقل اور ………… غیر مستقل ممبر ہیں
(d) اقوام متحدہ کے موجودہ سکریٹری جنرل کا نام …………… ہے
مندرجہ ذیل فہرست میں سے اقوام متحدہ کے اداروں اور ان کی ذمہ داریوں کے مطابق جوڑی بنائیے
معاشی اور سماجی کونسل
انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹیس(International Court of Justice)
بین الاقوامی نیوکلیائی توانائی ایجنسی
سلامتی کونسل
اقوام متحدہ ہائی کمیشن برائے پناہ گزینUN High Commision for Refugees)
عالمی تنظیم برائے تجارت (WTO)
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(IMF)
جنرل اسمبلی
عالمی تنظیم برائے صحت(WHO)
10۔سکریٹریٹ
(a) عالمی مالیاتی نظام کی نگرانی کرتا ہے
(b) بین الاقوامی امن اور سلامتی کو قائم رکھتا ہے
(c) ممبر ملکوں کی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کی خبرگری کرتا ہے
(d) نیوکلیائی ٹیکنالوجی کا پر امن اور باحفاظت استعمال
(e) ممبر ملکوں کے درمیان جھگڑے اور تنازعہ کو حل کرتا ہے
(f) ہنگامی حالات میں پناہ اور طبی امداد فراہم کرتا ہے
(g) عالمگیر مسائل پر بحث و مباحثہ کرتا ہے
(h) اقوام متحدہ کی کاروائیوں اور انتظام میں رابطہ قائم رکھنا
(i) ہر ایک کے لیے صحت کی فراہمی
(j) ممبر ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارت کو آسان بنانا
سلامتی کونسل کے کیا فرائض ہیں؟
ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت سے تم سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل ممبرشپ کے دعویٰ کے حق میں کیا دلائل پیش کروگے؟ اپنے دعویٰ کو صحیح ثابت کیجیے۔
10۔ اقوام متحدہ کی تنظیم نو کے سلسلہ میں جن اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے ان کے نفاذ میں جو مشکلات پیش آرہی ہیں ان کا تنقیدی جائزہ لیجیے۔
11۔ حالانکہ اقوام متحدہ جنگوں کو روکنے اور اس سے متعلقہ تباہی سے دنیا کو بچانے میں ناکام رہی ہے، لیکن دنیا کی قومیں اِسے برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ آخر اقوام متحدہ کو ایک ناگزیر اور لازمی تنظیم بنانے میں کون سے عناصر کارفرماہیں۔
12۔ ’’اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطلب ہے سلامتی کونسل کا ای نیا ڈھانچہ‘‘ ۔ کیا تم اس بیان سے اتفاق رکھتے ہو؟ اس بیان کی موافقت یا مخالفت میں دلائل پیش کیجیے۔